Hadith Explorer em português مكتشف الحديث باللغة الإنجليزية
 
Hadith   1815   الحديث
الأهمية: لا تسبوا أصحابي، فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد، ذهبًا ما بلغ مد أحدهم، ولا نصيفه


Tema:

تم لوگ میرے صحابہ کو گالی مت دو، کیوں کہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے، تب بھی ان میں کسی کے ایک مد یا آدھا مد خرچ کرنے کے برابر ثواب حاصل نہیں کر سکتا

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- قال: قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «لا تَسُبُّوا أصحابي، فلو أنَّ أحدَكم أَنْفَقَ مثل أُحُد، ذهَبًا ما بَلَغَ مُدَّ أحدهم، ولا نَصِيفَه».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "تم لوگ میرے صحابہ کو گالی مت دو، اس لیے کہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے، تب بھی ان میں سے کسی کے ایک مد یا آدھا مد خرچ کرنے کے برابر ثواب حاصل نہیں کر سکتا"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نهى النبي -صلى الله عليه وسلم عن سب أي أحد من الصحابة، وأخبر أنه لو أنفق أَحد الناس مثل جبل أُحد ذهبًا ما بلغ ثوابه في ذلك ثواب نفقة أحد الصحابة بملأ كفيه طعامًا ولا نصف ذلك؛ وذلك لأن الصحابة كلهم أفضل من جميع من جاء بعدهم، وسبب تفضيل نفقتهم أنها كانت في وقت الضرورة وضيق الحال، ولأن إنفاقهم كان في نصرته -صلى الله عليه وسلم- وحمايته وذلك معدوم بعده وكذا جهادهم وسائر طاعتهم، مع ما كان في أنفسهم من الشفقة والتودد والخشوع والتواضع والإيثار والجهاد في الله حق جهاده، وفضيلة الصحبة ولو لحظة لا يوازيها عمل، والفضائل لا تؤخذ بقياس، ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی صحابی کو گالی دینے سے منع کیا ہے اور بتایا ہے کہ کوئی دوسرا انسان اگر احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے، تو اس سے اسے اتنا ثواب نہیں ملے گا، جتنا کسی صحابی کو لپ بھر یا اس کا آدھا کھانے کا سامان خرچ کرنے پر ملتا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ اپنے بعد آنے والے تمام لوگوں سے افضل تھے۔ ان کے ذریعے خرچ کیے ہوئے مال کی اس قدر اہمیت کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے ضرورت اور تنگ حالی کے وقت خرچ کیا تھا۔ ساتھ ہی انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت اور حمایت میں خرچ کیا تھا اور یہ ایسی سعادت ہے جو بعد کے لوگوں کو حاصل نہيں ہو سکتی۔ یہی حال ان کے جہاد اور سارے نیکی کے کاموں کا ہے۔ ساتھ ہی ان کے اندر شفقت، مودت، خشوع، تواضع، ایثار اور اللہ کے راستے میں کماحقہ جہاد کا بھر پور جذبہ موجود تھا۔ نیز انھیں آپ کی صحبت، چاہے ایک لحظے کے لیے ہی کیوں نہ ہو، کی سعادت حاصل تھی، جس کی برابری انسان کا کوئی عمل نہيں کر سکتا اور فضیلتیں قیاس سے حاصل نہيں کی جا سکتیں۔ یہ اللہ کا فضل و کرم ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11000

 
 
Hadith   1816   الحديث
الأهمية: لن يدخل النار رجل شهد بدرًا والحديبية


Tema:

ایسا شخص ہرگز جہنم میں داخل نہيں ہو سکتا، جو بدر اور حدیبیہ میں شریک رہا ہو

عن جابر -رضي الله عنهما- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لن يدخلَ النارَ رجلٌ شَهِد بدرًا والحُدَيْبِيَة».

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "ایسا شخص ہرگز جہنم میں داخل نہيں ہو سکتا، جو بدر اور حدیبیہ میں شریک رہا ہو"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث أنه لن يدخل النار رجل حضر غزوة بدر وصلح الحديبية مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وهذه بشارة عظيمة لهم -رضي الله عنهم-.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر اور حدیبیہ میں شریک رہا ہو، کبھی جہنم میں داخل نہیں ہو سکتا۔ یہ ان دونوں موقعوں پر حاضر رہنے والے صحابہ کے لیے بہت بڑی خرش خبری ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11148

 
 
Hadith   1817   الحديث
الأهمية: اللهم اغفر للأنصار، ولأبناء الأنصار، وأبناء أبناء الأنصار


Tema:

اے اللہ! انصار کو بخش دے، انصار کے بیٹوں کو بخش دے اور انصار کے بیٹوں کے بیٹوں کو بخش دے

عن زيد بن أرقم -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «اللهمَّ اغفِرْ للأنصار، ولأبناءِ الأنصار، وأبناءِ أبناءِ الأنصار».

زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اے اللہ! انصار کو بخش دے، انصار کے بیٹوں کو بخش دے اور انصار کے بیٹوں کے بیٹوں کو بخش دے"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث دعا النبي -صلى الله عليه وسلم- للأنصار بأن يغفر الله -تعالى- لهم ولأبنائهم ولأبناء أبنائهم, وفي ذلك فضيلة ظاهرة لهم ولذريتهم من بعدهم.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انصار کے لیے یہ دعا کی ہے کہ اللہ ان کو بخش دے، ان کے بیٹوں کو بخش دے اور ان کے بیٹوں کے بیٹوں کو بخش دے۔ دراصل اس حدیث میں انصار اور ان کے بعد ان کی آنے والی نسلوں کی ایک نمایاں فضیلت موجود ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11152

 
 
Hadith   1818   الحديث
الأهمية: سألت عبد الله بن عمرو عن أشد ما صنع المشركون برسول الله -صلى الله عليه وسلم-، قال: رأيت عقبة بن أبي معيط، جاء إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- وهو يصلي، فوضع رداءه في عنقه فخنقه به خنقًا شديدًا


Tema:

میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مشرکین مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا، جو انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کی تھی، تو انھوں نے بتلایا: میں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ اس بدبخت نے اپنی چادر آپ کی گردن مبارک میں ڈالی اور اس کے ذریعے آپ ﷺ کا گلا سختی سے گھونٹنے لگا۔

عن عُروة بن الزبير، قال: سألتُ عبد الله بن عمرو عن أشد ما صنع المشركون برسول الله -صلى الله عليه وسلم-، قال: رأيتُ عُقبة بن أبي مُعَيْط جاء إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- وهو يصلي، فوضع رداءه في عنقه فخنقه به خنقًا شديدًا، فجاء أبو بكر حتى دفعه عنه، فقال: {أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ} [غافر: 28].

عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مشرکین مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا، جو انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کی تھی، تو انھوں نے بتلایا: میں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ اس بدبخت نے اپنی چادر آپ کی گردن مبارک میں ڈالی اور اس کے ذریعے آپ ﷺ کا گلا گھونٹنے لگا۔ اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، اس بدبخت کو ہٹایا اور کہا: ﴿أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ ”کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو، جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمھارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سےکھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے؟“۔ (سورہ غافر: 28)

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سأل عروةُ بن الزبير بن العوام -رحمه الله- عبدَ الله بن عمرو بن العاص -رضي الله عنهما- عن أشد ما صنع المشركون برسول الله -صلى الله عليه وسلم- من العذاب والأذى، فأخبره أنه رأى عقبة بن أبي معيط جاء إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- وهو يصلي في حجر الكعبة، فوضع ثوبه أو ثوب النبي -صلى الله عليه وسلم- في عنقه الشريف، فخنقه به خنقًا شديدًا، فجاء أبو بكر فدفع بيده عقبة عن النبي  -صلى الله عليه وسلم- وهو يبكي ويقول: {أتقتلون رجلا أن يقول ربي الله وقد جاءكم بالبينات من ربكم} [غافر: 28].
هذا أشد ما رآه عبد الله -رضي الله عنه-، وقد وقف عروة على ما هو أشد منه إذ أخبر عروة أن عائشة -رضي الله عنها- زوج النبي -صلى الله عليه وسلم- حدثته أنها قالت للنبي -صلى الله عليه وسلم-: هل أتى عليك يوم كان أشد من يوم أحد، قال: "لقد لقيت من قومك ما لقيت، وكان أشد ما لقيت منهم يوم العقبة، إذ عرضت نفسي على ابن عبد ياليل بن عبد كُلال، فلم يجبني إلى ما أردت، فانطلقت وأنا مهموم على وجهي، فلم أستفق إلا وأنا بقرن الثعالب فرفعت رأسي، فإذا أنا بسحابة قد أظلتني، فنظرت فإذا فيها جبريل، فناداني فقال: إن الله قد سمع قول قومك لك، وما ردوا عليك، وقد بعث إليك ملك الجبال لتأمره بما شئت فيهم، فناداني ملك الجبال فسلم علي، ثم قال: يا محمد، فقال: ذلك فيما شئت، إن شئت أن أطبق عليهم الأخشبين؟ فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: بل أرجو أن يخرج الله من أصلابهم من يعبد الله وحده، لا يشرك به شيئًا" متفق عليه.
593;روہ بن زبیر بن عوام رحمہ اللہ نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ ﷺکی تکلیف واذیت کے متعلق مشرکینِ مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے بتلایا کہ انھوں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ اس وقت حجر کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ اس بدبخت نےاپنا کپڑا یا خود نبی ﷺ کا کپڑا آپ کی گردن مبارک میں ڈال دیا اور اسے بڑی سختی کے ساتھ گھونٹا۔ اتنے میں ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور عقبہ کو نبی ﷺ سے دفع کیا۔ وہ روتے ہوئےکہہ رہے تھے: ”کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو، جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمھارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیلیں بھی لے کرآیا ہے؟“ ( سورہ غافر:
۲۸)
یہ سب سے سخت تکلیف تھی، جسے عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تھا؛ جب کہ عروہ اس سے زیادہ تکلیف دہ حرکت سے با خبر تھے۔ ان کا بیان ہے کہ نبیﷺکی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انھوں نے نبی ﷺسے پوچھا کہ کیا آپ پر کوئی دن اُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت گزرا ہے؟ آپﷺ نے اس پر فرمایا: ”تمھاری قوم (قریش) کی طرف سے میں نے کتنی ہی مصیبتیں اٹھائی ہیں، لیکن اس سارے دور میں عقبہ کا دن مجھ پر سب سے زیادہ سخت تھا۔ یہ وہ موقع تھا، جب میں نے (طائف کے سردار) کنانہ بن عبد یا لیل بن عبد کُلال کے ہاں اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔ لیکن اس نے (اسلام قبول نہیں کیا اور) میری دعوت کو رد کر دیا۔ میں وہاں سے انتہائی رنجیدہ (اور زخموں سے چور) ہو کر واپس ہوا۔ جب میں قرن الثعالب پہنچا، تب مجھے کچھ ہوش آیا۔ میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بدلی کا ایک ٹکڑا میرے اوپر سایہ کئے ہوئے ہے اور میں نے دیکھا کہ جبریل علیہ السلام اس میں موجود ہیں۔ انھوں نے مجھے آوازدی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں آپ کی قوم کی باتیں اور ان کا جواب سن چکا ہے۔ آپ کے پاس اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے۔ آپ ان کے بارے میں جو چاہیں، حکم دے دیں۔ اس کے بعد مجھے پہاڑوں کے فرشتے نےآوازدی۔ انھوں نے مجھے سلام کیا اور کہا کہ اے محمد (ﷺ)! پھر انھوں نے بھی وہی بات کہی؛ آپ جو چاہیں (اس کا مجھے حکم فرمائیں)، اگر آپ چاہیں تو میں دونوں طرف کے پہاڑ ان پر لا کر ملا دوں، (جن سے وہ چکنا چور ہو جائیں) ایسے موقعے پر نبیﷺ نے فرمایا: ”مجھے تو اس کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسی اولاد پیدا کرے گا، جو اکیلے اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائے گی“۔ (متفق علیہ)

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11159

 
 
Hadith   1819   الحديث
الأهمية: هذان سيدا كهول أهل الجنة من الأولين والآخرين إلا النبيين والمرسلين


Tema:

یہ دونوں نبیوں اور رسولوں کے علاوہ, اگلوں اور پچھلوں میں سے تمام ادھیڑ عمر جنتیوں کے سردار ہیں

عن أنس -رضي الله عنه-، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لأبي بكر وعمر: «هذان سَيِّدا كُهُول أهل الجنة من الأوَّلِين والآخِرين إلا النبيِّين والمرسلين».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا : "یہ دونوں نبیوں اور رسولوں کے علاوہ اگلوں اور پچھلوں میں سے تمام ادھیڑ عمر جنتیوں کے سردار ہیں"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن أبا بكر وعمر -رضي الله عنهما- هما سيِّدا كُهُول أهل الجنة، والمقصود كل من دخل الجنة إلا النبيين والمرسلين، ما قال الشراح، والكهول جمع الكهل وهو من جاوز الثلاثين أو أربعًا وثلاثين إلى إحدى وخمسين سنة، فاعتبر ما كانوا عليه في الدنيا حال هذا الحديث، وإلا فإنه ليس في الجنة كهل، بل من يدخلها ابن ثلاث وثلاثين سنة.
575;س حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما نبیوں اور رسولوں کو چھوڑ کر جنت میں داخل ہونے والے تمام ادھیڑ لوگوں کے سردار ہیں۔ اس حدیث میں آئے ہوئے لفظ 'الكهول' 'الكهل' کی جمع ہے، جس کے معنی 30 یا 34 سال سے لے کر 51 سال کے بیچ کے لوگ ہیں۔ یہاں یہ یاد رہے کہ عمر کی یہ تحدید دنیا میں لوگوں کی عمر سے متعلق ہے، ورنہ جنت میں کوئی ادھیڑ نہیں ہوگا اور اس میں داخل ہونے والے سارے لوگ 33 سال کے ہوں گے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11161

 
 
Hadith   1820   الحديث
الأهمية: فاطمة بضعة مني، فمن أغضبها أغضبني


Tema:

فاطمہ (رضی اللہ عنہا) میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔

عن المسور بن مخرمة -رضي الله عنهما- مرفوعًا: «فاطمة بَضْعة مني، فمَن أغضبها أغضبني».

مِسوَر بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ (رضی اللہ عنہا) میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن ابنته فاطمة جزءٌ منه، فمن أغضبها فكأنه أغضبه -صلى الله عليه وسلم-.
606;بی کریم ﷺ یہ خبر دے رہے ہیں کہ ان کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کا حصہ ہے لہذا جس نے انھیں ناراض کیا گویا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو ناراض کیا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11168

 
 
Hadith   1821   الحديث
الأهمية: الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة


Tema:

حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «الحَسَن والحُسَيْن سَيِّدا شَباب أهْل الجنة».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحسن والحسين ابنا فاطمة بنت النبي -صلى الله عليه وسلم- هما أفضل شباب أصحاب الجنة، أو أنهما سيدا أهل الجنة سوى الأنبياء والخلفاء الراشدين، وذلك لأن أهل الجنة كلهم في سن واحد وهو الشباب, ويمكن أن يراد أنهما سيدا كل من مات شابا ودخل الجنة.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دونوں بیٹے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما جنت کے سب سے افضل جوان ہیں یا دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ نبیوں اور خلفائے راشدین کے علاوہ تمام جنتیوں کے سردار ہیں، کیونکہ تمام جنتی ایک ہی عمر کے یعنی جوان ہوں گے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں ایسے تمام لوگوں کے سردار ہوں گے جو جوانی میں مر جائیں اور جنت میں داخل ہوں۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11169

 
 
Hadith   1822   الحديث
الأهمية: انظروا إلى هذا، يسألني عن دم البعوض، وقد قتلوا ابن النبي -صلى الله عليه وسلم-، وسمعت النبي -صلى الله عليه وسلم- يقول: هما ريحانتاي من الدنيا


Tema:

اس شخص کو دیکھو! مچھر کی جان لینے کے تاوان کا مسئلہ پوچھتا ہے، حالاں کہ اس کے ملک والوں نے رسول اللہ ﷺ کے نواسہ کو قتل کر ڈالا۔ اور میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ: یہ دونوں (حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔

عن ابن أبي نعم، قال: كنتُ شاهدا لابن عمر، وسأله رجل عن دم البَعُوض، فقال: ممن أنت؟ فقال: من أهل العراق، قال: انظروا إلى هذا، يسألني عن دم البَعُوض، وقد قتلوا ابن النبي صلى الله عليه وسلم، وسمعتُ النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «هما رَيْحَانَتاي من الدنيا».

ابو نعیم فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں موجود تھا ان سے ایک شخص نے (حالتِ احرام میں) مچھر مارنے کے متعلق پوچھا (کہ اس کا کیا کفارہ ہوگا) ابن عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا کہ تم کہاں کے ہو ؟ اس نے بتایا کہ عراق سے، فرمایا: اس شخص کو دیکھو! مچھر کی جان لینے کے تاوان کا مسئلہ پوچھتا ہے، حالانکہ اس کے ملک والوں نے رسول اللہ ﷺ کے نواسہ کو قتل کر ڈالا۔ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ: ”یہ دونوں (حسن اور حسین رضی اللہ عنہما) دنیا میں میرے دو پھول ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن رجلاً من أهل العراق سأل ابن عمر -رضي الله عنهما-: هل يجوز للرجل إذا كان محرماً أن يقتل الحشرات الصغيرة الضارة مثل البعوض أم لا؟ فقال متعجباً مستغرباً من اهتمام أمثال هذا الرجل بتوافه الأمور، مع جرأتهم على ارتكاب الكبائر، فقال: «انظروا إلى هذا، يسألني عن دم البَعُوض، وقد قتلوا ابن النبي -صلى الله عليه وسلم-!» أي: يرتكبون الموبقات ويجرؤون على قتل حفيد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم بعد ذلك يظهرون كمال التقوى والورع في نسكهم، فيسألون عن قتل البعوض، ثم قال: قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «هما ريحانتاي من الدنيا» أي: أنهما أولادي أشمهما وأقبلهما، فكأنهما من جملة الرياحين الطيبة التي يشمها الناس.
575;ہل عراق میں سے ایک شخص نے عبداللہ بن عمر سے سوال کیا کہ حالت احرام میں چھوٹے چھوٹے حشرات جو تکلیف پہنچاتے ہیں جیسا کہ مچھر وغیرہ کیا ان کو مارا جا سکتا ہے یا نہیں؟تو انہوں نے تعجب اور حیرت کے ساتھ اس مثال کو استعمال کرتے ہوئے ان کے معاملا ت اور کبائر کے ارتکاب پر جرات کو بیان کیا۔فرمایا: اس شخص کو دیکھو! مچھر کی جان لینے کے تاوان کا مسئلہ پوچھتا ہے، حالانکہ اس کے ملک والوں نے رسول اللہ ﷺ کے نواسہ کو قتل کر ڈالا۔یعنی تباہی اور نواسہ رسول کو قتل کاارتکاب کرنے والے اب مناسک کی ادائیگی میں کمال تقویٰ اور خوف کا اظہار کرتے ہیں اور مچھر کے مارنے کا سوال کرتے ہیں۔پھر کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : یہ دونوں (حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ یعنی یہ میری اولاد ہیں جن کو میں سونگھتا اور بوسہ دیتا ہوں گویا کہ سب کے لیے پاکیزہ پھول ہیں جن سے لوگ خوشبو لیں گے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11170

 
 
Hadith   1823   الحديث
الأهمية: اللهم إني أحبه فأحبه، وأحب من يحبه


Tema:

اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر، جو اس سے محبت کرے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: كنتُ مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في سوق من أسواق المدينة، فانصرف فانصرفتُ، فقال: «أين لُكَعُ -ثلاثا- ادعُ الحسن بن علي». فقام الحسن بن علي يمشي وفي عنقه السِّخَاب، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم- بيده هكذا، فقال الحسن بيده هكذا، فالتزمه فقال: «اللهم إني أُحبه فأَحبَّه، وأَحبَّ من يحبه». وقال أبو هريرة: فما كان أحد أحب إليَّ من الحسن بن علي، بعد ما قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ما قال.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مدینے کے بازاروں میں سے ایک بازار میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔ آں حضرت ﷺ واپس ہوئے، تو میں آ پ کے ساتھ واپس ہوا۔ پھر آپ نے فرمایا: بچہ کہاں ہے؟ -یہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا- حسن بن علی کو بلاؤ۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہما آرہے تھے اور ان کی گردن میں ہار تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ اس طرح پھیلا یا ( آپ حسن رضی اللہ عنہ کو گلے سے لگانے کے لیے)، حسن رضی اللہ عنہ نے بھی اپنا ہاتھ پھیلایا اور وہ آں حضرت ﷺ سے لپٹ گئے۔ پھر آپ ﷺنے فرمایا: اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کر اور ان سے بھی محبت کر، جو اس سے محبت رکھیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کے بعد کوئی بھی شخص حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ مجھے پیارا نہیں تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان أبو هريرة -رضي الله عنه- مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في سوق من أسواق المدينة، فانصرف -عليه الصلاة والسلام- من السوق وانصرف معه أبو هريرة، فأتى -صلى الله عليه وسلم-  إلى بيت فاطمة -رضي الله عنها- فسأل عن الحسن -رضي الله عنه- فقال: «أين لُكَع» يعني: أين الطفل الصغير؟ ادعوه لي، فقام الحسن بن علي يمشي وفي عنقه قلادة فمد النبي -صلى الله عليه وسلم- يده ليعانق الحسن، ومد الحسن يده فاعتنقا، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: اللهم إني أحب الحسن فأحبه، وأحب كل من يحبه. قال أبو هريرة: فما كان أحد أحب إلي من الحسن بن علي -رضي الله عنهما- بعدما قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ما قال.
575;بو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینے کے کسی بازار میں تھے، آپ بازار سے واپس ہوئے تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ میں لوٹ آئے۔ رسول اللہ ﷺ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئے اور ان سے حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھتے ہوئے فرمایا: «أين لكع» یعنی چھوٹا بچہ کہاں ہے؟ میرے پاس لاؤ۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور چلنا شروع کر دیا۔ ان کے گلے میں ایک ہار تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ پھیلائے تاکہ حسن رضی اللہ عنہ کو گلے لگائیں اور حسن رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے ہاتھ پھیلادیے۔ دونوں نے معانقہ کیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے اللہ ! میں حسن (رضی اللہ عنہ) سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کر اور جو اس سے محبت کر ے، اس سے بھی محبت فرما! ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کے بعد کوئی شخص بھی حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ مجھے پیارا نہیں تھا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11171

 
 
Hadith   1824   الحديث
الأهمية: أخرج النبي -صلى الله عليه وسلم- ذات يوم الحسن، فصعد به على المنبر، فقال: ابني هذا سيد، ولعل الله أن يصلح به بين فئتين من المسلمين


Tema:

ایک دن نبی کریم ﷺ حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے کر باہر نکلے اور ان کو لے کر منبر پر چڑھ گئے ،پھر فرمایا:میرا یہ بیٹا سید ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا۔

عن أبي بكرة -رضي الله عنه- قال: أخرج النبي -صلى الله عليه وسلم- ذات يوم الحسن، فصعد به على المنبر، فقال: «ابني هذا سيِّد، ولعلَّ اللهَ أن يُصلحَ به بين فئتين من المسلمين».

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے کر باہر نکلے اور ان کو لے کر منبر پر چڑھ گیے، پھر فرمایا: ”میرا یہ بیٹا سید (سردار) ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخرج النبي -صلى الله عليه وسلم- ذات يوم الحسن معه إلى المسجد وهو غلام صغير، فصعد به على منبر مسجده الشريف، وأخبر الناس أن ابنه الحسن سيد، كريم الأصل، شريف النسب، ينتمى إلى أشرف بيت وُجد على وجه الأرض، وأن الله -سبحانه- سيصلح به بين جماعتين متخاصمتين متقاتلتين من المسلمين، فيجمع الله به بين تلك الجماعتين خاصة، ويلتئم بذلك شمل المسلمين عامة.
ولا شك أن في هذا الحديث الشريف علامة من علامات نبوته -صلى الله عليه وسلم- حيث أخبر فيه -صلى الله عليه وسلم- على ما يقوم به هذا السيد الكريم الحسن بن علي -رضي الله عنهما- من جمع كلمة المسلمين، والإِصلاح بينهم، ورفع النزاع بين الطائفتين، ووقع ذلك بتنازله عن الخلافة لمعاوية، مما أدى إلى التئام الشمل، وحقن الدماء، وذلك في عام الجماعة سنة 40 أو 41.
575;یک دن رسول اللہ ﷺ حسن رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر مسجد کی طرف نکلے اور حسن رضی اللہ عنہ اس وقت چھوٹے سے بچے تھے۔ رسول اللہ ﷺ مسجد میں منبر پر چڑھے اور لوگوں کو بتایا کہ ان کا یہ بیٹا سردار، باعزت خاندانی اور شریف النسب ہے اور روئے زمین پر پائے جانے والے سب سے معزز گھرانے سے اس کا تعلق ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی ایسی دو جماعتیں جو آپس میں لڑائی جھگڑا اور قتال کر رہی ہوں گی اُن کے مابین صلح کرائے گا اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے خاص طور پر ان دو جماعتوں کو آپس میں ملا دے گا اور اس میں عام مسلمان بھی ہوں گے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حدیث رسول اللہﷺ کی نبوت کی علامات میں سے ایک علامت ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے معزز شہزادے حسن بن علی - رضی اللہ عنہما - کے بارے میں بتایا کہ وہ مسلمانوں کو ایک کلمہ پر جمع کر دیں گے اور ان کے مابین صلح کراکے دونوں جماعتوں کے نزاع کو ختم کر دیں گے۔ اور یہ معاویہ - رضی اللہ عنہ- کے حق میں خلافت سے دستبرادری کے ذریعہ ہوا، جس سے کلمہ متحد ہوگیا، اورلوگوں کا خون محفوظ رہا، اور ایسا سنہ 40، یا 41 ہجری کے سال ہوا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11172

 
 
Hadith   1825   الحديث
الأهمية: من أحب الحسن والحسين فقد أحبني، ومن أبغضهما فقد أبغضني


Tema:

جو حسن و حسین (رضی اللہ عنہما) سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرے گا اور جس نے ان کو ناراض کیا گویا اس نے مجھے ناراض کیا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «مَن أحبَّ الحسن والحُسين فقد أحبَّني، ومَن أبغضهما فقد أبغضني».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے حسن و حسین (رضی اللہ عنہما) سے محبت کی اُس نےمجھ سے محبت کی اور جس نے ان کو ناراض کیا گویا اس نے مجھے ناراض کیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من أحب الحسن والحسين سبطي النبي -صلى الله عليه وسلم- فقد أحب النبي -صلى الله عليه وسلم-، ومن كرههما فقد كره النبي -صلى الله عليه وسلم-، وهذا دليل على مكانتهما.
585;سول اللہ ﷺ کے نواسے حسن اور حسین جو محبت رکھتا ہے گویاہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتا ہے۔ اور جو ان کو ناپسند کرتا ہے گویا وہ رسول اللہﷺ سے نفرت کرتا ہے۔یہ بات ان کے مقام و مرتبہ کی دلیل ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11173

 
 
Hadith   1826   الحديث
الأهمية: خيركم خيركم لأهلي من بعدي، قال: فباع عبد الرحمن بن عوف حديقة بأربع مائة ألف، فقسمها في أزواج النبي -صلى الله عليه وسلم-


Tema:

تم میں بہترین شخص وہ ہے جو میرے بعد میرے اہل خانہ کے ساتھ اچھاسلوک کرنے والا ہو۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف نے اپنا ایک باغ چار لاکھ میں فروخت کیا اور اس کی رقم نبی کریم ﷺ کی بیویوں میں تقسیم کر دی۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «خيرُكم خيركم لأهلي مِن بعدي». قال: فباع عبد الرحمن بن عوف حديقةً بأربع مائة ألف، فقسَّمها في أزواج النبي -صلى الله عليه وسلم-.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں بہترین شخص وہ ہے جو میرے بعد میرے اہل خانہ کے ساتھ اچھاسلوک کرنے والا ہو“۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف نے اپنا ایک باغ چار لاکھ میں فروخت کیا اور اس کی رقم نبی کریم ﷺ کی بیویوں میں تقسیم کر دی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
خيركم أيها الصحابة خيركم لأهلي: زوجاتي وعيالي وأقاربي من بعد وفاتي.
وقد قبل الصحابة وصيته -صلى الله عليه وسلم- فقابلوهم بالإكرام والاحترام، فمن ذلك أن عبد الرحمن بن عوف -رضي الله عنه- باع حديقة بأربع مائة ألف، فقسَّمها بين أزواج النبي -صلى الله عليه وسلم-.
605;یرے صحابہ! تم میں بہترین شخص وہ ہے جو میرے اہل کے لیے بہتر ہے یعنی میری وفات کے بعد میری بیویوں میرے بچوں اور میرے عزیز واقارب کے ساتھ (اچھا سلوک کرے)۔صحابہ آپ ﷺ کی وصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ ﷺ کے اہل خانہ کے ساتھ ہمیشہ عزت و احترام سے پیش آتے تھے۔اسی قبیل سے یہ واقعہ ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنا ایک باغ چار لاکھ میں فروخت کرنے کے بعد اس کی رقم امہات المؤمنین میں تقسیم کر دیا۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11174

 
 
Hadith   1827   الحديث
الأهمية: ما غرت على نساء النبي -صلى الله عليه وسلم-، إلا على خديجة، وإني لم أدركها، قالت: وكان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا ذبح الشاة، فيقول: أرسلوا بها إلى أصدقاء خديجة


Tema:

میں نے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی پر رشک نہیں کیا سوائے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے حالانکہ میں نے ان کو نہیں پایا۔ ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بکری ذبح کرتے تھے تو آپ ﷺ فرماتے کہ اس کا گوشت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو بھیج دو۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: ما غِرْتُ على نساء النبي -صلى الله عليه وسلم- إلا على خديجة، وإني لم أُدركها، قالت: وكان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا ذبح الشاة، فيقول: «أرسلوا بها إلى أصدقاء خديجة»، قالت: فأغضبتُه يوما، فقلتُ: خديجة، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إني قد رُزِقْتُ حُبَّها».

اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی پر رشک نہیں کیا سوائے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے حالانکہ میں نے ان کو نہیں پایا۔ اُمّ المؤمنین فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بکری ذبح کرتے تھے تو آپ ﷺ فرماتے: ”اس کا گوشت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو بھیج دو“۔ اُم المؤمنین فرماتی ہیں کہ میں ایک دن غصہ میں آگئی اور میں نے کہا خدیجہ خدیجہ ہی ہو رہی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے دل میں ان کی محبت ڈالی جا چکی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر عائشة -رضي الله عنها- أنها ما غارت على أحد من نساء النبي -صلى الله عليه وسلم- إلا على خديجة -رضي الله عنها-، مع أن خديجة ماتت قبل أن تتزوج عائشة من النبي -صلى الله عليه وسلم-، وكان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا ذبح الشاة أرسل بها إلى صديقات خديجة، فأغضبت عائشةُ النبي -صلى الله عليه وسلم- يومًا، وقالت له إنه يكثر من ذكر خديجة، فأخبرها رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن الله قد رزقه حبها.
593;ائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ میں نے آپ ﷺ کی ازواج میں سے کسی پر غیرت نہیں کھائی، سوائے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے، حالانکہ وہ آپ ﷺ کی مجھ سے شادی کرنے سے پہلے ہی فوت ہوگئی تھی۔ آپ ﷺ جب بکری ذبح کرتے تو اسے خدیجہ کی سہیلیوں کے پاس بھیجتے تھے۔ ایک دن عائشہ رضی اللہ عنہا غصہ ہوئیں اور فرمایا کہ آپ خدیجہ کا ذکر بہت زیادہ کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ نے میرے دل میں ان کی محبت ڈالی ہے“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11175

 
 
Hadith   1828   الحديث
الأهمية: لم يتزوج النبي -صلى الله عليه وسلم- على خديجة حتى ماتت


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں کسی اور سے شادی نہیں کی حتی کہ آپ - رضی اللہ عنہا- فوت ہو گئیں۔

عن عائشة -رضي الله عنها-، قالت: «لم يتزوج النبي -صلى الله عليه وسلم- على خديجة حتى ماتت».

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں کسی اور سے شادی نہیں کی حتی کہ آپ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لم يتزوج النبي -صلى الله عليه وسلم- على خديجة بنت خويلد -رضي الله عنها- حتى ماتت, وهذا يدل على مكانة خديجة عند النبي -صلى الله عليه وسلم-، وهي أولى زوجاته.
585;سول اللہ ﷺ نے خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں (دوسری) شادی نہیں کی یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا، اور اس س نبیﷺ کے نزدیک خدیجہ کے مقام و مرتبے کا پتہ چلتا ہے اور وہ آپﷺ کی پہلی بیوی تھیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11176

 
 
Hadith   1829   الحديث
الأهمية: أن جبريل جاء بصورة عائشة في خرقة حرير خضراء إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-، فقال: هذه زوجتك في الدنيا والآخرة


Tema:

جبریل علیہ السلام ریشم کے سبز ٹکڑے میں عائشہ رضٰی اللہ عنہا کی تصویر لے کر نبیﷺ کی خدمت میں آئے اور فرمایا: یہ دنیا اور آخرت میں آپ کی بیوی ہیں۔

عن عائشة -رضي الله عنها-، أنَّ جبريل جاء بصورتها في خِرْقَة حَرير خضراء إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-، فقال: «هذه زوجتُك في الدنيا والآخرة».

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام ریشم کے سبز ٹکڑے میں ان (عائشہ رضی اللہ عنہا) کی تصویر لے کر نبیﷺ کی خدمت میں آئے اور فرمایا: یہ دنیا اور آخرت میں آپ کی بیوی ہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء جبريل في المنام إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- بعائشة -رضي الله عنها- في قطعة حرير خضراء، والمراد إتيان منامي وليس في الحقيقة، فقال للنبي -صلى الله عليه وسلم-: هذه المرأة هي زوجتك في الدنيا والآخرة.
580;بریل علیہ السلام خواب میں نبی ﷺ کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ سبز رنگ کے ریشمی کپڑے کے ٹکڑے میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی تصویر تھی۔ یہاں مراد خواب میں آنا ہی ہے؛ حقیقت میں نہیں۔ جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ سے کہا کہ یہ وہ عورت ہے جو دنیا و آخرت میں آپ کی زوجہ ہوگی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11177

 
 
Hadith   1830   الحديث
الأهمية: «يا عائش، هذا جبريل يقرئك السلام» فقلت: وعليه السلام ورحمة الله وبركاته، ترى ما لا أرى


Tema:

اے عائش! یہ جبریل ہیں، جو تم کو سلام کہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا: ان پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ میں جو نہیں دیکھ پاتی آپ اسے دیکھتے ہیں

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يومًا: «يا عائش، هذا جبريل يُقرِئك السلام» فقلت: وعليه السلام ورحمة الله وبركاته، تَرى ما لا أَرى. تريد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اے عائشہ یہ جبریل ہیں، جو تم کو سلام کہہ رہے ہیں"۔ میں نے کہا: ان پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ میں جو نہیں دیکھ پاتی آپ اسے دیکھتے ہیں۔ ایسا کہتے ہوئے عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے تھی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- عائشة أن جبريل يُسلم عليها. فقالت: وعليه السلام ورحمة الله وبركاته، إنك ترى يا رسول الله ما لا أرى، تريد أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يرى جبريل وهي لا تراه.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ جبریل علیہ السلام تم کو سلام کر رہے ہیں، تو انھوں نے کہا : ان پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ اے اللہ کے رسول! میں جو نہیں دیکھ پاتی آپ اسے دیکھتے ہیں۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ آپ تو جبریل کو دیکھ لیتے ہیں اور وہ ان کو دیکھ نہیں پاتیں۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11178

 
 
Hadith   1831   الحديث
الأهمية: كَمُلَ من الرجال كثير، ولم يكمل من النساء: إلا آسية امرأة فرعون، ومريم بنت عمران، وإن فضل عائشة على النساء كفضل الثريد على سائر الطعام


Tema:

مردوں میں سے بہت سے لوگ مرتبۂ کمال تک پہنچے، لیکن عورتوں میں سے صرف فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران ہی مرتبۂ کمال تک پہنچیں اور عائشہ کو عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے، جو فضیلت ثرید کو سارے کھانوں پر حاصل ہے

عن أبي موسى -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «كَمُل من الرجال كثير، ولم يَكمُل من النساء: إلا آسية امرأة فرعون، ومريم بنت عِمران، وإنَّ فضلَ عائشة على النساء كفضل الثَّرِيد على سائر الطعام».

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مردوں میں سے بہت سے لوگ مرتبۂ کمال تک پہنچے، لیکن عورتوں میں سے صرف فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران ہی مرتبۂ کمال تک پہنچیں اور عائشہ کو عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے، جو فضیلت ثرید کو سارے کھانوں پر حاصل ہے"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن الذين بلغوا مرتبة الكمال في الفضائل الدينية والأخلاقية من الرجال كثيرون، منهم من بلغ مرتبة الكمال العادي كالعلماء والصلحاء والأولياء، ومنهم من بلغ أسمى مراتب الكمال كالأنبياء، أما اللواتي كملن من النساء فهن قليلات جداً، وعلى رأسهن آسية امرأة فرعون، وهي آسية بنت مزاحم التي ضرب الله بها المثل في كمال الإِيمان، فقال: {وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ} وذلك لأنها آمنت بموسى حين تغلب على سحرة فرعون، فلما علم فرعون بإيمانها عذبها عذابًا شديدًا إلى أن ماتت متمسكة بإيمانها. وأما الثانية: فهي مريم بنت عمران التي ضرب الله بها المثل في حصانتها لنفسها، وكمال عبادتها. ثم قال -صلى الله عليه وسلم-: «وإن فضل عائشة على النساء كفضل الثريد على سائر الطعام» فالثريد أشهى الأطعمة عند العرب وهو يتخذ من خبز ولحم، فعائشة في فضلها على النساء كفضل هذا الثريد الذي هو أشهى الأطعمة على جميع الأطعمة.
575;یسے مرد جو دینی اور اخلاقی فضیلتوں میں مرتبۂ کمال کو پہنچے، بہت ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ تو عام مرتبۂ کمال کو پہنچے، جیسے علما، صالحین اور اولیا۔ جب کہ کچھ لوگ کمال کے سب سے اونچے مرتبے پر فائز ہوئے، جیسے انبیاے کرام۔ لیکن اس کے بالمقابل ایسی عورتیں جو مرتبۂ کمال کو پہنچیں، بہت کم ہیں۔ جن میں سر فہرست دو عورتیں ہیں: ایک فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم، جن کے کامل ایمان کی مثال اللہ نے دی ہے۔ ارشاد ہے : {وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ} (اور اللہ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال دی ہے۔) در اصل جب موسی علیہ السلام فرعون کے جادوگروں پر غالب آگئے، تو وہ ان پر ایمان لے آئیں اور جب فرعون کو ان کے ایمان کی خبر ہوئی، تو اس نے ان کو اتنی اذیتیں دیں کہ وہ دنیا سے سدھار گئیں۔ لیکن ہاں! ایمان کی دولت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ جب کہ دوسری عورت مریم بنت عمران ہیں، جن کی پاک بازی اور کمال عبادت کی اللہ نے مثال دی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آگے فرمایا : "عائشہ کو عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے، جو فضیلت ثرید کو سارے کھانوں پر حاصل ہے"۔ ثرید جو روٹی اور گوشت سے بنتا ہے، عربوں کا سب سے پسندیدہ پکوان ہے اور تمام عورتوں میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت بھی کچھ اسی طرح ہے, جیسے کہ سب سے زیادہ پسندیدہ کھانے ثرید کو تمام کھانوں فضیلت حاصل ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11179

 
 
Hadith   1832   الحديث
الأهمية: إني لأعلم إذا كنت عني راضية، وإذا كنت علي غضبى


Tema:

مجھے بخوبی پتہ چل جاتا ہے، جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: قال لي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إنِّي لأعلمُ إذا كنتِ عنِّي راضيةً، وإذا كنتِ عليَّ غَضْبَى». قالت: فقلتُ: مِن أين تَعْرف ذلك؟ فقال: «أمَّا إذا كنتِ عني راضيةً، فإنكِ تقولين: لا وربِّ محمد، وإذا كنتِ علي غَضبى، قلتِ: لا وربِّ إبراهيم». قالت: قلتُ: أجل والله يا رسول الله، ما أهْجُرُ إلَّا اسمَك.

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "مجھے بخوبی پتہ چل جاتا ہے، جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو"۔ میں نے کہا: بھلا آپ کو یہ کیسے پتہ چل جاتا ہے؟ تو فرمایا : "جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو، تو کہتی ہو : نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو، تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم!" عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: یہ ٹھیک ہے، لیکن اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں صرف آپ کا نام بھر لینے سے بھی گریز کرتی ہوں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قالت عائشة -رضي الله عنها-: قال لي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: إني لأعلم متى تكونين راضية عني، ومتى تكونين غضبانة علي. فقالت له: من أين تعرف ذلك؟ فقال -صلى الله عليه وسلم-: إذا كنت راضية عني فإنك تقولين: لا ورب محمد، فتذكرين اسمي في قسمك، وإذا كنت غضبانة علي من وجه من الوجوه الدنيوية المتعلقة بالمعاشرة الزوجية قلت في قسمك: لا ورب إبراهيم، فتعدلين عن اسمي إلى اسم إبراهيم. قالت: نعم والله يا رسول الله، ما أترك إلا ذكر اسمك عن لساني مدة غضبي، ولكن المحبة ثابتة دائمًا في قلبي.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : مجھے پتہ ہو جاتا ہے کہ کب تم مجھ سے خوش رہتی ہو اور کب ناخوش۔ انھوں نے عرض کیا کہ وہ کیسے؟ تو فرمایا : جب مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم۔ یعنی قسم میں میرا نام لیتی ہو۔ لیکن جب ازدواجی زندگی سے متعلق کسی بھی دنیوی سبب کی بنا پر مجھ سے ناخوش رہتی ہو، تو قسم کھاتے وقت کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم۔ یعنی میرے بجائے ابراہیم علیہ السلام کا نام لیتی ہو۔ انھوں نے کہا: ہاں، ایسا تو ہے۔ لیکن اے اللہ کے رسول! سچائی یہ ہے کہ میں ناراضگی کے دوران محض زبان سے آپ کا نام لینے سے گریز کرتی ہوں اور آپ کی محبت میرے دل کی گہرائیوں میں پیوست رہتی ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11180

 
 
Hadith   1833   الحديث
الأهمية: إن إبراهيم ابني وإنه مات في الثدي، وإن له لظئرين تكملان رضاعه في الجنة


Tema:

ابراہیم میرا بیٹا ہے، وہ شیرخوارگی کی حالت میں فوت ہوا، اس کے لیے دو دایہ متعین کی گئی ہیں جو جنت میں اس کی مدتِ شِیر خوارگی کو پورا کررہی ہیں۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال: «ما رأيتُ أحدا كان أرحم بالعِيال من رسول الله -صلى الله عليه وسلم-»، قال: «كان إبراهيم مُسْتَرضَعًا له في عَوَالي المدينة، فكان ينطلق ونحن معه، فيدخل البيت وإنه ليُدَخَّن، وكان ظِئْره قَيْنًا، فيأخذه فيُقبِّله، ثم يرجع».
قال عمرو: فلما تُوفي إبراهيم قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إن إبراهيم ابني، وإنه مات في الثَّدي، وإن له لظِئْرين تُكمِلان رضاعه في الجنة».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو اپنے اہل وعیال پر مہربان اور شفیق نہیں دیکھا۔ انس رضی اللہ عنہ مزید بیان کرتے ہیں کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ مدینہ کے بالائی حصے میں دودھ پلانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ آپ ﷺ وہاں جایا کرتے تھے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے۔ آپ ﷺ گھر میں داخل ہو جاتے جو دھویں سے بھرا ہوتا کیونکہ دایہ کا شوہر لوہار تھا۔ پھر آپ ﷺ اپنے بیٹے کو لے کر اسے چومتے اور واپس لوٹ آتے۔
عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابراہیم میرا بیٹا ہے اور وہ شیرخوارگی کی حالت میں فوت ہوا ہے، اس کے لیے دو دایہ مقرر ہیں جو جنت میں اس کی مدتِ رضاعت کو پورا کر رہی ہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أنس بن مالك -رضي الله عنه- أنه ما رأى أحدا كان أرحم بالعِيال والأطفال الصغار من رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وكان إبراهيم ابن النبي -صلى الله عليه وسلم- ترضعه مرضعة في قرى عند المدينة، فكان -صلى الله عليه وسلم- يذهب وبعض الصحابة معه ليزوره، فيدخل البيت فيجد البيت يدخن؛ وذلك لأن زوج مرضعته كان حدادًا، فكان النبي -صلى الله عليه وسلم- يأخذ إبراهيم فيُقبِّله ثم يرجع، فلما تُوفي إبراهيم قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: إن إبراهيم ابني، وإنه مات وهو في سن الرضاع، وإن له مرضعتين تتمان رضاعه في الجنة حتى يتم السنتين؛ وذلك لأن إبراهيم توفي وله ستة عشر شهرا أو سبعة عشر شهرا، فترضعانه بقية السنتين فإنه تمام الرضاعة بنص القرآن، وهذا كرامة له ولأبيه -صلى الله عليه وسلم-.
575;نس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو اپنے اہل و عیال اور چھوٹے بچوں پر رسول اللہ ﷺ سے زیادہ شفیق اور مہربان ہو۔ نبی ﷺ کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو مدینہ کے قریب آباد ایک بستی کی دایہ دودھ پلایا کرتی تھی۔ نبی ﷺ ابراہیم کی زیارت کے لیے وہاں جایا کرتے اور آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے کچھ صحابہ بھی ہوتے۔ آپ ﷺ گھر میں داخل ہوتے تو گھر دھویں سے بھرا ہوتا تھا کیونکہ دایہ کا شوہر لوہار تھا۔ نبی ﷺ ابراہیم رضی اللہ عنہ کو اٹھاتے، انہیں پیار کرتے اور واپس لوٹ آتے۔جب ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابراہیم میرا بیٹا ہے، وہ شِیرْخوارگی کی حالت میں فوت ہو گیا ہے، جنت میں دو دایہ اس کی مدت رضاعت پورا کرنے کے لیے اسے دودھ پلا رہی ہیں تاکہ دو سال مکمل ہو جائیں۔ کیونکہ ابراہیم رضی اللہ عنہ جب فوت ہوئے تو ان کی عمر سولہ یا سترہ ماہ تھی۔ دو سال میں سے جو مدت باقی رہ گئی اسے پورا کرنے کے لیے وہ دونوں دایہ انہیں دودھ پلا رہی تھیں کیونکہ قرآن کی رو سے مدت رضاعت دو سال ہے۔ یہ ابراہیم رضی اللہ عنہ اور ان کے والد ﷺ کے لیے اللہ کی طرف سے بطورِ اکرام تھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11188

 
 
Hadith   1834   الحديث
الأهمية: لما توفي إبراهيم -عليه السلام-، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: إن له مرضعًا في الجنة


Tema:

جب سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی ہے۔

عن البراء -رضي الله عنه- قال: لما تُوفِّي إبراهيم -عليه السلام-، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إنَّ له مُرْضِعًا في الجنة».

براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی وفات ہوئی، تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”ان کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
توفي إبراهيم ابن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- من مارية القبطية، وهو ابن ثمانية عشر شهراً، فأخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن الله -تعالى- قد أعد له في الجنة من يقوم بإرضاعه حتى يتم رضاعته.
585;سول اللہ ﷺ کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا جو کہ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھے، وفات کے وقت ان کی عمر اٹھارہ ماہ کی تھی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں ان کے لیے ایک دودھ پلانے والی کو مقرر کر رکھا ہے، جو انہیں دودھ پلائے گی اور ان کے ایامِ رضاعت کو پورا کرے گی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11189

 
 
Hadith   1835   الحديث
الأهمية: إن لكل أمة أمينا، وإن أميننا -أيتها الأمة- أبو عبيدة بن الجراح


Tema:

ہر اُمت کا ایک امین ہوتا ہے اور اے میری امت! ہمارے امین ابو عبیدہ بن الجراح ہیں۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- مرفوعًا: «إنَّ لكل أُمَّة أمِينًا، وإنَّ أمِيننا -أيتُها الأمة- أبو عُبيدة بن الجَرَّاح».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر اُمت کا ایک امین ہوتا ہے اور اے میری امت! ہمارے امین ابو عبیدہ بن الجراح ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في كل أمة من الأمم رجل أمين اشتهر بالأمانة أكثر من غيره، وأشهر هذه الأمة بالأمانة أبو عبيدة عامر بن الجراح -رضي الله عنه-، فإنه وإن كانت الأمانة صفة مشتركة بينه وبين الصحابة -عليهم الرضوان-، لكن سياق الحديث يشعر بأنه يزيد عليهم في ذلك.
578;مام امتوں میں سے ہر امت میں ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو امانت میں دوسروں سے زیادہ معروف ہوتا ہے۔ امانت کے لحاظ سے اس امت کے سب سے زیادہ مشہور شخص ابو عبیدہ عامر بن الجراح رضی اللہ عنہ ہیں۔ اگرچہ ان میں اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں صفتِ امانت ایک مشترک صفت تھی تاہم حدیث کے سیاق سے یہ پتا چلتا ہے کہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اس صفت میں دوسروں سے بڑھ کر تھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11190

 
 
Hadith   1836   الحديث
الأهمية: كان على النبي -صلى الله عليه وسلم- درعان يوم أحد، فنهض إلى الصخرة، فلم يستطع، فأقعد طلحة تحته، فصعد النبي -صلى الله عليه وسلم- عليه حتى استوى على الصخرة، فقال: سمعت النبي -صلى الله عليه وسلم- يقول: أوجب طلحة


Tema:

اُحد کے دن رسول اللہ ﷺ دو زرہیں پہنے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ ایک چٹان پر چڑھنے لگے، لیکن چڑھ نہ سکے تو آپ ﷺ نے اپنے نیچے طلحہ رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور اوپر چڑھنے لگے، یہاں تک کہ چٹان پرسیدھے کھڑے ہوگئے۔ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: طلحہ نے اپنے لیے (جنت) واجب کرلی۔

عن الزُّبير بن العَوَّام -رضي الله عنه- قال: كان على النبي -صلى الله عليه وسلم- دِرْعان يوم أحد، فنهض إلى الصَّخرة فلم يستطع، فأَقعد طلحة تحته، فصعد النبي -صلى الله عليه وسلم عليه- حتى استوى على الصخرة، فقال: سمعتُ النبي -صلى الله عليه وسلم- يقول: «أَوْجِبْ طلحة».

زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُحد کے دن رسول اللہ ﷺ دو زرہیں پہنے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ ایک چٹان پر چڑھنے لگے، لیکن چڑھ نہ سکے تو آپ ﷺ نے اپنے نیچے طلحہ رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور اوپر چڑھنے لگے، یہاں تک کہ چٹان پرسیدھے کھڑے ہوگئے۔ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: طلحہ نے اپنے لیے (جنت) واجب کرلی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يلبس قميصين من حديد؛ لحمايته من طعنات الأعداء في غزوة أحد، فقام متوجها لصخرة؛ ليصعد عليها فلم يستطع، فجاء طلحة -رضي الله عنه- فقعد تحت النبي -صلى الله عليه وسلم- فصعد عليه حتى صعد على الصخرة، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «أوجب طلحة»؛ أي: أن طلحة قد أثبت لنفسه بعمله هذا أو بما فعل في ذلك اليوم الجنة، واستحقها بما عمل.
606;بی ﷺ نے غزوۂ احد کے دن دشمنوں کے نیزوں اور تیروں سے بچنے کے لیے لوہے سے بنی دو قمیصیں پہن رکھی تھیں۔ آپ ﷺ ایک چٹان کی طرف جانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ اس پر چڑھنا چاہتے تھے، لیکن نہیں پا رہے تھے۔ اس پر طلحہ رضی اللہ عنہ آکر نبی ﷺ کے نیچے بیٹھ گئے۔ نبی ﷺ ان پر سوار ہو کر چٹان پرچڑھ گئے اور آپ ﷺ نے فرمایا: "طلحہ نے واجب کر لی۔" یعنی طلحہ نے اپنے اس عمل کی وجہ سے یا غزوۂ احد میں انھوں نے جو کچھ کیا، اس کی وجہ سے اپنے لیےجنت واجب کر لی اور اپنے عمل کی وجہ سے اس کے حق دار ہو گئے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11191

 
 
Hadith   1837   الحديث
الأهمية: إن لكل نبي حواريا، وحواري الزبير


Tema:

ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حواری ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر (رضی اللہ عنہ) ہیں۔

عن جابر -رضي الله عنهما- قال: قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «مَن يأتيني بخبر القوم؟» يوم الأحزاب. قال الزُّبير: أنا، ثم قال: «مَن يأتيني بخبر القوم؟»، قال الزُّبير: أنا، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «إنَّ لكل نبي حَوَاريًّا، وحَوَاريِّ الزُّبير».

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ احزاب کے دن فرمایا: کون ہے جو دشمن کی خبر لائے گا؟، زبیر نے فرمایا کہ میں۔ پھر آپﷺ نے فرمایا:کون ہے جو دشمن کی خبر لائے گا۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حواری ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر (بن عوام) ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لما كانت غزوة الأحزاب وجاءت قريش وغيرهم إلى المدينة؛ ليقاتلوا المسلمين، وحفر النبي صلى الله عليه وسلم الخندق، بلغ المسلمين أن بني قريظة من اليهود نقضوا العهد الذي كان بينهم وبين المسلمين، ووافقوا قريشا على حرب المسلمين، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: من يأتيني بخبر بني قريظة؟ فقال الزبير بن العوام: أنا آتيك بخبرهم، ثم قال عليه الصلاة والسلام مرة أخرى: من يأتيني بخبر بني قريظة؟ فقال الزبير: أنا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم حينئذ: إن لكل نبي ناصرًا، وناصري هو الزبير.
580;ب غزوۂ احزاب ہوا اور قریش و دیگر قبائل مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے آئے اور رسول اللہ ﷺ نے خندق کھدوائی تو اس وقت مسلمانوں کو یہ اطلاع ملی کہ یہود کے قبیلہ بنوقریظہ نے عہد شکنی کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف قریش کے ساتھ اتحاد کر لیا ہے۔ اس وقت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو بنو قریظہ کی خبر لائے گا؟ تو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں آپ ﷺ تک ان کی خبریں پہنچاؤں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے پھر دوسری مرتبہ پوچھا کہ میرے پاس بنو قریظہ کی خبر کون لائے گا؟ تو زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں لاؤں گا۔ اس وقت نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کا کوئی نہ کوئی ناصر (مدد گار یا حواری) ہوتا ہے اور میرے مددگار زبیر ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11192

 
 
Hadith   1838   الحديث
الأهمية: الزبير ابن عمتي، وحواري من أمتي


Tema:

زبیر میری پھوپھی کا بیٹا ہے اور میری امت میں سے میرا حواری ہے۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنه- مرفوعًا: «الزُّبير ابن عَمَّتي، وحَوَاريِّ من أُمَّتي».

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زبیر میری پھوپھی کا بیٹا ہے اور میری امت میں سے میرا حواری ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن الزبير بن العوام -رضي الله عنه- هو ابن عمته صفية بنت عبد المطلب -رضي الله عنها-، وأنه ناصره من أمته.
606;بی کریم ﷺ بتا رہے ہیں کہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی پھوپھی صفیہ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنہا کے بیٹے اور آپ ﷺ کی امت میں آپ ﷺ کے مدد گار ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11193

 
 
Hadith   1839   الحديث
الأهمية: أقبل سعد، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: هذا خالي فليرني امرؤ خاله


Tema:

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: یہ میرے ماموں ہیں، اگر کوئی شخص ایسا ماموں رکھتا ہے تو وہ مجھے دکھائے۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما-، قال: أقبل سعد، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «هذا خالي فليُرِني امرؤٌ خالَه».

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرے ماموں ہیں، اگر کوئی شخص ایسا ماموں رکھتا ہے تو وہ مجھے دکھائے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أقبل سعد بن أبي وقاص -رضي الله عنه- إلى مجلس النبي -صلى الله عليه وسلم- فلما رآه النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: هذا خالي أتباهى به، فليُرني أي إنسان خاله؛ ليظهر حينئذ أنه ليس لأحد خال مثل خالي، وكان سعد من بني زهرة، وكانت أم النبي -صلى الله عليه وسلم- آمنة من بني زهرة أيضًا، فهو قريب آمنة، وأقارب الأم أخوال.
587;عد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی مجلس مبارک کی طرف آ رہے تھے۔ جب نبی ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا: یہ میرے ماموں ہیں جن پر مجھ فخر ہے۔ کوئی مجھے اپنا ماموں دکھائے تاکہ معلوم ہوجائے کہ میرے ماموں جیسا کوئی ماموں نہیں ہے۔ سعد بن وقاصرضی اللہ عنہ قبیلہ بنی زھرہ میں سے تھے اور نبی ﷺ کی والدہ بی بی آمنہ بھی بنی زھرہ سے تھیں۔ سعد رضی اللہ عنہ بی بی آمنہ کے رشتہ دار تھے اور ماں کی طرف کے رشتہ دار ماموں ہوا کرتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11194

 
 
Hadith   1840   الحديث
الأهمية: ما رأيت النبي -صلى الله عليه وسلم- يفدي رجلا بعد سعد، سمعته يقول: ارم فداك أبي وأمي


Tema:

میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بعد کسی شخص کو نہیں دیکھا جس کے متعلق نبی کریمﷺنے فرمایا ہو کہ میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں۔ میں نے آپ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا: تیرمارنا جاری رکھ، میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں۔

عن علي -رضي الله عنه- قال: ما رأيتُ النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- يُفَدِّي رجلًا بعد سعد سمعتُه يقول: «ارم فداك أبي وأمي».

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بعد کسی شخص کو نہیں دیکھا، جس کے متعلق نبی کریمﷺنے فرمایا ہو کہ میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں۔ میں نے آپ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا: تیر مارنا جاری رکھ، میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر علي -رضي الله عنه- أنه ما رأى النبي -صلى الله عليه وسلم- يُفدِّي رجلًا بعد سعد بن أبي وقاص -رضي الله عنه-، حيث سمع النبي -صلى الله عليه وسلم- يقول له في غزوة أحد: ارم الكفار بالنبال، أفديك بأبي وأمي. أي: أقدم أبوي؛ ليكونا فداء لك وتسلم، وقد ثبت في الحديث الصحيح أن النبي -صلى الله عليه وسلم- فدَّى الزبير -رضي الله عنه- بأبويه في غزوة الخندق، ويجمع بينهما باحتمال أن يكون علي -رضي الله عنه- لم يطلع على ذلك، أو مراده ذلك بقيد غزوة أحد.
593;لی رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ انھوں نے نبیﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بعد کسی کے لیے یہ کہا ہو کہ میرے ماں باپ تجھ پر قربان! علی رضی اللہ عنہ نے نبیﷺ کو غزوۂ احد میں یہ کہتے سنا کہ کفار پر تیر اندازی کرتے رہو، میرے ماں باپ تجھ پر قربان!۔ یعنی میں اپنے ماں باپ کو پیش کرتا ہوں کہ وہ تیرے اوپر فدا ہوں اور تو محفوظ رہے۔ البتہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے غزوۂ خندق کے موقع زبیر رضی اللہ عنہ کے لیے بھی اپنے والدین کے فدا ہونے کی بات کہی۔ ان دونوں احادیث کی تطبیق اس احتمال کے ساتھ ہوتی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کو اس کا علم نہ ہو یا پھر ان کی مراد بطور خاص غزوۂ احد کے موقع پر ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11195

 
 
Hadith   1841   الحديث
الأهمية: إن أمركن لمما يهمني بعدي، ولن يصبر عليكن إلا الصابرون


Tema:

میرے بعد تمھارا (ازواج مطہرات کا) معاملہ کچھ ایسا ہے، جو مجھے فکرمند رکھتا ہے۔ تمھارا خرچ وہی اٹھائیں گے، جو صابر لوگ ہیں۔

عن عائشة -رضي الله عنها- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان يقول: «إنَّ أمركنَّ لمِمَّا يُهِمُّني بعدي، ولن يصبر عليكن إلا الصابرون». قال: ثم تقول عائشة، فسقى الله أباك من سَلْسَبيل الجنة، تريد عبد الرحمن بن عوف، وقد كان وَصَل أزواج النبي -صلى الله عليه وسلم- بمال، يقال: بيعت بأربعين ألفا.

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (اپنی بیویوں سے) فرمایا کرتے تھے: ”میرے بعد تمھارا معاملہ کچھ ایسا ہے، جو مجھے فکرمند رکھتا ہے۔ تمھارا خرچ وہی اٹھائیں گے، جو صابر لوگ ہیں“۔ راوی حدیث کہتے ہیں کہ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ تمھارے باپ کو جنت کے چشمۂ سلسبیل سے سیراب فرمائے۔ اس سے ان کی مراد عبد الرحمن بن عوف تھے۔ انھوں نے آپ ﷺ کی بیویوں کے ساتھ ایک ایسے مال کے ذریعہ جو -کہا جاتا ہے کہ- چالیس ہزار (دینار) میں بکا، اچھے سلوک کا مظاہرہ کیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يحكي أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف -رحمه الله- أن أم المؤمنين عائشة -رضي الله عنها- قالت: إن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- خاطب أزواجه قائلا: إنه ليحزنني شأنكن ومعيشتكن بعد وفاتي، حيث لم أترك لكن ميراثا، وإنه لن يصبر على تحمل الإنفاق عليكن إلا الصابرون. ثم قالت عائشة لأبي سلمة: سقى الله أباك عبد الرحمن بن عوف من عين الجنة التي تسمى سلسبيلا، وقد كان عبد الرحمن بن عوف قد تصدق على أزواج النبي -صلى الله عليه وسلم- بحديقة بيعت بأربعين ألف دينار.
575;بو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رحمہ اللہ بیان کر رہے ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ یہ کہتے ہوئے اپنی ازواجِ مطہرات سے مخاطب ہوئے کہ مجھے اپنی وفات کے بعد تمھارے معاملے اور تمھارے گزر بسر کے بارے فکر لاحق ہے؛ کیوں کہ میں نے تمھارے لیے کوئی میراث نہیں چھوڑی اور تمھارے اوپر خرچ کرنے کا بار صرف صبر کرنے والے لوگ ہی برداشت کریں گے۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے ابو سلمہ رحمہ اللہ سے کہا کہ اللہ تیرے باپ عبد الرحمن بن عوف کو جنت کے اس چشمے سے سیراب کرے، جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ نے ازواج رسول ﷺ کے لیے ایک باغ بطور صدقہ دے دیا تھا، جو چالیس ہزار دینار میں فروخت ہوا تھا۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11196

 
 
Hadith   1842   الحديث
الأهمية: اللهم اجعله هاديًا مهديًّا واهد به


Tema:

اے اللہ ! تو ان کو ہدایت دے، انھیں ہدایت یافتہ بنا، او ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے۔

عن عبد الرحمن بن أبي عميرة وكان من أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال لمعاوية: «اللهم اجعله هاديًا مَهْديًّا واهدِ به».

عبدالرحمن بن ابی عُمیرہ جو کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے تھے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ ! تو ان کو ہدایت دے، انھیں ہدایت یافتہ بنا اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دعا النبي -صلى الله عليه وسلم- لمعاوية بن أبي سفيان بأن يجعله الله -تعالى- دالًّا على الخير، وأن يجعله مهتديًا في نفسه، وأن يهد به الناس.
606;بی کریم ﷺ نے معاویہ بن ابی سفیان کے لیے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ انھیں خیر کا راستہ دکھانے والا بنائے، ان کو اپنی ذات کے اعتبار سے ہدایت یافتہ بنائے اور ان کے ذریعے دوسرے لوگوں کو ہدایت بھی دے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11197

 
 
Hadith   1843   الحديث
الأهمية: إذا أراد الله قبض عبد بأرض جعل له بها حاجة


Tema:

جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت پیدا کر دیتا ہے۔

عن أبي عزة الهذلي رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله وسلم: «إذا أراد اللهُ قَبْضَ عبد بأرض جعلَ له بها حاجة».

ابو عزۃ الھذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت پیدا کر دیتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا أراد الله -تعالى- لعبد من عباده أن يموت بأرض محددة، وليس هو فيها؛ جعل له إلى هذه الأرض حاجة، فإذا ذهب إلى حاجته في هذه الأرض توفاه الله تعالى، وما قدره الله -عز وجل- وكتبه لا بد أن يقع كما قدره، وهذا من الإيمان بالقضاء والقدر.
580;ب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی مخصوص زمین میں نکالنے کا ارادہ کر لے اور بندہ اس جگہ نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اس جگہ اس کی کوئی ضرورت پیدا کر دیتا ہے۔ جب بندہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس جگہ جاتا ہے تو اللہ اسے وہاں موت دے دیتا ہے۔ جو کچھ اللہ تعالی نے بندے کے حق میں مقدر اور لکھ کر رکھا ہے وہ ویسے ہی ہو کر رہے گا، یہ قضاء و قدر پر ایمان رکھنے کا حصہ ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے ابو داؤد الطیالسی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11202

 
 
Hadith   1844   الحديث
الأهمية: إذا أراد الله بعبد خيرا استعمله قبل موته


Tema:

جب اللہ تعالی کسی بندے کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اسے اس کی موت سے پہلے استعمال کرتا ہے۔

عن عمر الجمعي -رضي الله عنه-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «إذا أراد اللهُ بعبدٍ خيرًا استعملَه قبل موتِه» فسأله رجلٌ من القوم: ما استعملَه؟ قال: «يهديه اللهُ عزَّ وجلَّ إلى العمل الصالح قبل موتِه، ثم يقبضه على ذلك».

عمر جمعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب اللہ تعالی کسی بندہ کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اسے اس کی موت سے پہلے استعمال کرتا ہے“ کسی نے پوچھا کہ استعمال سے کیا مراد ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ عزّ وجلّ اس کے مرنے سے پہلے اسے نیک عمل کی توفیق دے دیتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن الله -تعالى- إذا أراد بعبد من عباده خيرا وفقه لعمل صالح قبل موته حتى يموت على ذلك العمل، فتحصل له حسن الخاتمة، فيدخل الجنة.
576;ے شک اللہ تعالی جب کسی بندہ کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اسے اس کی موت سے پہلے نیک عمل کی توفیق دے دیتا ہے تاکہ اس کی وفات اس عمل پر ہو اور اسے حسنِ خاتمہ نصیب ہو جائے اور وہ انجامِ کار کے طور پر جنت میں داخل ہوجائے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11203

 
 
Hadith   1845   الحديث
الأهمية: إن القبر أول منزل من منازل الآخرة، فإن نجا منه فما بعده أيسر منه، وإن لم ينج منه فما بعده أشد منه


Tema:

قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، اگر بندہ اس سے نجات پاگیا تو آگے کی منزلیں اس سے زیادہ آسان ہوں گی اور اگر اس منزل سے نجات نہ پاسکا تو بعد کی منزلیں اس سے زیادہ سخت ہوں گی۔

عن هانئ مولى عثمان قال: كان عثمان إذا وقف على قبر بَكى حتى يَبُلَّ لحيته، فقيل له: تَذْكُر الجنة والنار فلا تَبكي وتبكي مِن هذا؟ فقال: إن رسول الله - صلى الله عليه وسلم- قال: «إنَّ القبرَ أولُ مَنْزِل من منازل الآخرة، فإنْ نجا منه فما بعده أيسر منه، وإنْ لم ينجُ منه فما بعده أشد منه».

عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہانئ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو بہت روتے یہاں تک کہ (آنسوؤں سے) اپنی داڑھی کو ترکر لیتے۔ ان سے عرض کیا گیا کہ کیا بات ہے کہ آپ جنت و دوزخ کے تذکرہ پر نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر اس قدر روتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، اگر بندہ اس سے نجات پاگیا تو آگے کی منزلیں اس سے زیادہ آسان ہوں گی اور اگر اس منزل سے نجات نہ پاسکا تو بعد کی منزلیں اس سے زیادہ سخت ہوں گی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان عثمان بن عفان -رضي الله عنه- إذا وقف على قبر بكى حتى تبل دموعه لحيته، فقيل له: تذكر الجنة والنار فلا تبكي وتبكي من القبر؟ فأخبرهم أنه يبكي لأنه سمع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يخبر أن القبر أول منزل من منازل الآخرة، فإن نجا الإنسان من القبر وما فيه من امتحان وشدة وعذاب فما بعده أسهل منه؛ لأنه لو كان عليه ذنب لكُفِّر بعذاب القبر، وإن لم ينج منه، ولم يتخلص من عذاب القبر ولم يكفر ذنوبه به وبقي عليه شيء مما يستحق العذاب به فما بعده أشد منه؛ لأن عذاب النار أشد.
593;ثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے کہ آنسوؤں سے ان کی داڑھی تر ہو جاتی۔ آپ سے پوچھا گیا کہ جنت اور دوزخ کا ذکر ہوتا ہے تو آپ نہیں روتے جب کہ قبر کو دیکھ کر آپ اس قدر روتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے اولین منزل ہے۔ اگر انسان قبر اور اس کےامتحان، سختی اور عذاب سے نجات پا گیا تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے آسان ہوں گی کیوں کہ اگر اس پر کوئی گناہ ہوا تو عذاب قبر کی وجہ سے وہ معاف ہو جائے گا اور اگر وہ قبر سے نجات نہ پا سکا اور عذابِ قبر سے اس کی خلاصی نہ ہوئی اور اس کی وجہ سے اس کے گناہ معاف نہ ہو ئے اور اس کے ذمہ ایسی چیزیں باقی رہیں جن کی وجہ سے وہ عذاب کا حق دار ہوا تو پھر اس کے بعد آنے والی منزلیں اس سے زیادہ سخت ہوں گی کیوں کہ دوزخ کا عذاب تو بہت ہی شدید ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11205

 
 
Hadith   1846   الحديث
الأهمية: صدقتا، إنهم يعذبون عذابا تسمعه البهائم كلها


Tema:

ان دونوں نے سچ کہا تھا۔ ان کو ایسا عذاب ہوتا ہے کہ اسےسب مویشی بھی سنتے ہیں.

عن عائشة -رضي الله عنها- ، قالت: دخلت عليَّ عجوزان من عُجُز يهود المدينة، فَقَالَتا لي: إنَّ أهلَ القبور يُعذَّبون في قبورهم، فكذَّبتُهما، ولم أُنْعِم أنْ أُصَدِّقهما، فَخَرَجَتَا، ودخل عليَّ النبي -صلى الله عليه وسلم-، فقلت له: يا رسول الله، إنَّ عجوزين، وذكرتُ له، فقال: «صَدَقَتَا، إنَّهم يُعذَّبون عذابًا تَسْمَعُه البهائم كلُّها» فما رأيتُه بعْدُ في صلاة إلا تعوَّذ من عذاب القبر.

عائشہرضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ مدینے کی یہودی بوڑھی عورتوں میں سے دو بوڑھیاں میرے گھر آئیں اور انھوں نے کہا: قبروالوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ میں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور ان کی تصدیق کے لیے ہاں تک کہنا گوارانہ کیا، وہ چلی گئیں اور رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے آپ سے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس مدینے کی یہودی عورتوں میں سے دو بوڑھیاں آئی تھیں، ان کا خیال تھا کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا : ”ان دونوں نے سچ کہا تھا۔ ان کو ایسا عذاب ہوتا ہے کہ اسےسب مویشی سنتے ہیں“۔ اس کے بعد میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ ہر نماز میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دخل على عائشة امرأتان عجوزان من يهود المدينة، فقالتا لها: إن الأموات يعذَّبون في قبورهم، فكذبتهما ولم ترضَ أن تصدقهما؛ لأنها لم تطب نفسها بذلك؛ لظهور كذب اليهود، وافترائهم في الدين، وتحريفهم الكتاب، فخرجتا من عند عائشة، ودخل عليها النبي -صلى الله عليه وسلم- فأخبرته بما قالته المرأتان اليهوديتان، فقال -صلى الله عليه وسلم-: صدقتا إن الأموات يعذبون عذابًا تسمعه البهائم كلها، فتخبر عائشة أنها لم تر النبي -عليه الصلاة والسلام- صلى صلاة بعد ذلك إلا تعوذ من عذاب القبر.
605;دینے کی دو یہودی بوڑھی عورتیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا نے ان دونوں کو جھٹلادیا اور ان کی تصدیق کرنا گوارانہ کیا؛ کیوں کہ یہودیوں کےجھوٹ، دین میں افتراپردازی اورکتاب میں تحریف کی وجہ سے ان کا دل مطمئن نہ ہو سکا۔ وہ ان کے پاس سے چلی گئیں۔ جب رسول اللہﷺ ان کے پاس تشریف لائے، تو ان یہودی عورتوں کی بات بتائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں نے سچ کہا! بے شک مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے، جسے تمام جانور سنتے ہیں! عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی کوئی ایسی نماز نہیں دیکھی، جس میں آپ نے عذاب قبر سے پناہ نہ مانگی ہو۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11206

 
 
Hadith   1847   الحديث
الأهمية: قد أوحي إلي أنكم تفتنون في القبور قريبًا من فتنة الدجال


Tema:

مجھے وحی آئی ہے کہ تم قبروں میں آزمائش میں ڈالے جاؤگے، مسیح دجال کی آزمائش کی مانند۔

عن أسماء بنت أبي بكر-رضي الله عنها- قالت: قام رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ الفتنةَ التي يُفتن بها المرء في قبره، فلما ذكر ذلك ضَجَّ المسلمون ضَجَّةً حالت بيني وبين أن أفهم كلامَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فلما سَكَنَت ضَجَّتُهم قلتُ لرجل قريب مني: أيْ -بارك الله لك- ماذا قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في آخر قوله؟ قال: «قد أُوحِيَ إليَّ أنكم تُفتَنون في القبور قريبًا من فتنة الدَّجَّال».

اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور اس فتنے کا ذکر فرمایا: جس کے ذریعے آدمی کی اس کی قبر میں آزمائش ہو گی۔ نبی ﷺ نے جب اس کا ذکر کیا، تو مسلمانوں نے اونچی آواز سے گریہ شروع کر دیا، جس کی وجہ سے میں رسول اللہ ﷺ کی بات نہ سن سکی۔ جب ان کے رونے کی آواز تھمی، تو میں نے اپنے قریب موجود ایک شخص سے پوچھا کہ اے فلاں! اللہ تجھے برکت دے، رسول اللہ ﷺ نے اپنی گفتگو کے آخر میں کیا فرمایا تھا؟ اس نے کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وحی آئی ہے کہ تم قبروں میں آزمائش میں ڈالے جاؤگے، مسیح دجال کی آزمائش کی مانند“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر أسماء بنت أبي بكر الصديق أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وقف يوماً يخطب في الناس ويعظهم ويذكرهم الدّار الآخرة، حتى تطرّق إلى القبر وأحواله، وذكر فتنة القبر، والمراد بفتنة القبر: سؤال الملكين منكر ونكير للعبد عن ربه ونبيّه ودينه، وسمي بذلك؛ لأنه فتنة عظيمة يختبر بها إيمان العبد ويقينه، فمن وُفِّق في هذا الاختبار فاز، ومن فشل هلك. فلما ذكر ذلك صاح المسلمون صيحة عظيمة؛ خوفاً من فتنة القبر، فمنعت هذه الصيحة أسماء من أن تسمع كلام رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فلما هدأ الصوت، قالت أسماء لرجل قريب منها: -بارك الله لك- ماذا قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في آخر قوله؟ فأخبرها أنه -صلى الله عليه وسلم- قال: إن الله -تعالى- أوحى إليه أن الناس يُفتنون ويُمتحنون في القبور قريبًا من فتنة المسيح الدَّجَّال؛ فإن فتنة الدجال شديدة صعبة وكذلك فتنة القبر.
575;سما بنت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ انھیں نصیحت فرما رہے تھے اور آخرت کے دن کی یاد دہانی کرا رہے تھے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے قبر اور اس کے احوال کا ذکر شروع فرما دیا۔ آپ ﷺ نے قبر کے امتحان کے فتنہ کا بھی ذکر کیا۔ قبرکے فتنے سے مراد دو فرشتوں یعنی منکر اور نکیر کا بندے سے اس کے رب، اس کے نبی اور اس کے دین کے بارے پوچھنا ہے۔ اس سوال و جواب کو فتنے کا نام اس لیےدیا گیا، کیونکہ یہ ایک بڑا آزمائش ہوگی، جس سے بندے کے ایمان اور یقین کا امتحان لیا جائے گا۔ جسے اس امتحان میں صحیح جواب دینے کی توفیق مل گئی، وہ کامیاب ہو گیا اور جو ناکام رہا وہ ہلاک ہوگیا۔ جب آپ ﷺ نے اس بات کا ذکر فرمایا، تو مسلمان قبر کے اس فتنے کے خوف سے چیخ اٹھے۔ اس شور کی وجہ سے اسما رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جب آواز تھمی، تو اسما رضی اللہ عنہا نے اپنے قریب بیٹھے ایک شخص سے دریافت کیا کہ اے فلاں! بارک اللہ لک، رسول اللہ ﷺ نے اپنی گفتگو کے آخر میں کیا فرمایا تھا؟ اس شخص نے آپ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی طرف وحی کی ہے کہ عنقریب لوگوں کی قبروں کے اندر آزمائش ہو گی، دجال کی آزمائش کی طرح۔ یعنی جس طرح دجال کا فتنہ بڑا سخت اور مشکل ہو گا، اسی طرح قبر کا فتنہ بھی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11207

 
 
Hadith   1848   الحديث
الأهمية: إن هذه الأمة تُبتلى في قبورها، فلولا أن لا تدافنوا لدعوت الله أن يسمعكم من عذاب القبر الذي أسمع منه


Tema:

اس امت کے افراد کی ان کی قبروں میں آزمائش ہوتی ہے۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں بھی وہ عذاب قبر سنوائے جو میں سنتا ہوں۔

عن أبي سعيد -رضي الله عنه- قال: ولم أشهده من النبي -صلى الله عليه وسلم-، ولكن حدَّثنيه زيد بن ثابت، قال: بينما النبي -صلى الله عليه وسلم- في حائط لبني النَّجَّار، على بَغْلة له ونحن معه، إذ حادَت به فكادت تُلْقيه، وإذا أقبُر ستة أو خمسة أو أربعة -قال: كذا كان يقول الجريري- فقال: «مَن يعرف أصحاب هذه الأقبُر؟» فقال رجل: أنا، قال: فمتى مات هؤلاء؟ قال: ماتوا في الإشراك، فقال: «إن هذه الأمة تُبْتَلى في قبورها، فلولا أن لا تَدَافنوا لدعوتُ اللهَ أنْ يُسْمِعَكم من عذاب القبر الذي أسمع منه» ثم أقبل علينا بوجهه، فقال: «تعوَّذوا بالله من عذاب النار» قالوا: نعوذ بالله من عذاب النار، فقال: «تعوَّذوا بالله من عذاب القبر» قالوا: نعوذ بالله من عذاب القبر، قال: «تعوَّذوا بالله من الفتن، ما ظهر منها وما بَطَن» قالوا: نعوذ بالله من الفتن ما ظهر منها وما بَطَن، قال: «تعوَّذوا بالله من فتنة الدَّجَّال» قالوا: نعوذ بالله من فتنة الدَّجَّال.

ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں خود تو اس موقع پر موجود نہیں تھا، تاہم مجھے زید بن ثابت نے بتایا کہ نبی ﷺ بنی نجار کے باغ میں اپنے ایک خچر پر جا رہے تھے اور ہم آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ اتنے میں وہ خچر بدکا اور قریب تھا کہ آپ ﷺ کو گرا ہی دیتا۔ ناگاہ وہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں نظر آئیں-راوی کہتے ہیں کہ جریری اسی طرح کہا کرتے تھے- آپ ﷺ نے پوچھا کہ کوئی جانتا ہے کہ یہ قبریں کن کی ہیں؟
ایک شخص بولا کہ میں جانتا ہوں۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ یہ لوگ کب مرے؟ وہ شخص بولا کہ شرک کے زمانہ میں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس امت کے افراد کی ان کی قبروں میں آزمائش ہوتی ہے۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں بھی وہ عذاب قبر سنوائے جو میں سنتا ہوں“۔ پھر آپ نے اپنا چہرہ انور کا رخ ہماری طرف کر کے فرمایا: آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ لوگوں نے کہا: ہم آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ لوگوں نے کہا: ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ظاہر و پوشیدہ فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگو۔ اس پر لوگوں نے کہا: ہم ظاہر و پوشیدہ فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: دجال کے فنتے سے اللہ کی پناہ مانگو۔ لوگوں نے کہا: ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يحكي زيد بن ثابت أنهم بينما هم مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في بستان لقبيلة من الأنصار، تُسمى بني النجار، وكان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يركب على بغلة له، وفجأة مالت بغلته عن الطريق ونفرت به، فكادت أن تسقطه وترميه عن ظهرها، وفي هذا المكان أربعة قبور أو خمسة أو ستة، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: من يعرف أصحاب هذه القبور؟ فقال رجل: أنا أعرفهم، فقال -صلى الله عليه وسلم-: إذا كنت تعرفهم فمتى ماتوا؟ قال: ماتوا في زمن الشرك، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: إن هذه الأمة تُمتحن في قبورها، ثم تُنعَّم أو تُعذَّب، فلولا مخافة أن لا تدفنوا أمواتكم؛ لدعوت الله أن يُسمعكم من عذاب القبر الذي أسمعه، فإنكم لو سمعتم ذلك تركتم التدافن من خوف قلع صياح الموتى أفئدتكم، أو خوف الفضيحة في القرائب؛ لئلا يُطَّلع على أحوالهم، ثم أقبل على أصحابه بوجهه فقال -صلى الله عليه وسلم-: اطلبوا من الله -تعالى- أن يدفع عنكم عذاب النار، فقالوا: نعتصم بالله من عذاب النار، قال -صلى الله عليه وسلم-: اطلبوا من الله -تعالى- أن يدفع عنكم عذاب القبر، قالوا: نعتصم بالله ونلتجئ إليه من أن يصيبنا عذاب القبر، ثم قال -صلى الله عليه وسلم-: اطلبوا من الله -تعالى- أن يدفع عنكم الفتن ما ظهر وبان واتضح منها وما خفي، قالوا: نعتصم بالله من الفتن ما ظهر منها وما خفي، فقال: اطلبوا من الله -تعالى- أن يدفع عنكم فتنة المسيح الدجال؛ فإنه أكبر الفتن حيث يؤدي إلى الكفر المفضي إلى العذاب المخلد في النار، فقالوا: نعتصم بالله من فتنة الدجال.
586;ید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ ساتھ انصار کے ایک قبیلے بنی نجار کے باغ سے گزر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے ایک خچر پر سوار تھے۔ اچانک خچر راستے سے ہٹا اور بدک گیا۔ قریب ہی تھا کہ وہ نبی ﷺ کو اپنی پیٹھ سے گرا دیتا۔ اس جگہ چار یا پانچ یا چھے قبریں تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ان قبروں میں مدفون لوگوں سے کون واقف ہے؟۔ ایک شخص نے کہا کہ میں جانتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہیں معلوم ہے تو یہ بتاؤ کہ ان کی موت کب واقع ہوئی تھی؟۔ اس نے جواب دیا کہ یہ سب زمانہ جاہلیت میں مرے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس امت کی ان کی قبروں میں آزمائش ہوتی ہے اور پھر یا تو ان پر نعمتوں کا نزول ہوتا ہے یا عذاب کا۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم اپنے مردوں کو دفنانا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالی سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں بھی قبر کا عذاب سنائے جو میں سنتا ہوں۔ اگر تم یہ سن لو تو تم اس خوف کی وجہ سے کہ مردوں کی چیخ و پکار تمہارے دل پھاڑ دے گی یا پھر قریبی رشتہ داروں میں فضیحت کے خوف سے کہ وہ میتوں کے احوال پر مطلع نہ ہوجائیں، تم ایک دوسرے کو دفنانا ہی چھوڑ دو۔ پھر آپ ﷺ اپنے صحابہ کر طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اللہ سے دعا کرو کہ وہ جہنم کے عذاب کو تم سے دور رکھے۔ انہوں نے کہا: ہم جہنم کے عذاب سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے دعا کرو کہ وہ تم سے عذاب قبر کو دور رکھے۔ انہوں نے کہا: ہم عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اور اس کی حفاظت کے طلب گار ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا؛ اللہ تعالی سے دعا کرو کہ وہ ظاہر و مخفی فتنوں سے تمہیں محفوظ رکھے۔ انہوں نے کہا: ہم ظاہر و مخفی فتنوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے دعا کرو کہ وہ تم سے مسیح دجال کے فتنے کو دور رکھے۔ یہ سب سے بڑا فتنہ ہے جو ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب تک پہنچا دینے والے کفر کا سبب ہو گا۔ انہوں ںے کہا: ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11208

 
 
Hadith   1849   الحديث
الأهمية: خرج النبي -صلى الله عليه وسلم- وقد وجبت الشمس، فسمع صوتا فقال: يهود تعذب في قبورها


Tema:

ایک (دفعہ) رسول اللہ ﷺ غروبِ آفتاب کے وقت باہر نکلے تو ایک آواز سنی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ یہود کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔

عن أبي أيوب رضي الله عنه، قال: خرج النبي -صلى الله عليه وسلم- وقد وَجَبَت الشمس، فسمع صوتا فقال: «يهودُ تُعذَّب في قبورها».

ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ غروبِ آفتاب کے وقت باہر نکلے تو ایک آواز سنی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ یہود کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
خرج النبي -صلى الله عليه وسلم- وقد غربت الشمس، فسمع صوتا لليهود وهم يُعذَّبون، فقال: اليهود يُعذبون في قبورهم.
575;یک (دفعہ) رسول اللہ ﷺ غروبِ آفتاب کے وقت باہر نکلے تو یہودیوں کی ایک آواز سنی کہ انھیں قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ یہود کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11209

 
 
Hadith   1850   الحديث
الأهمية: إن أحدكم إذا مات عرض عليه مقعده بالغداة والعشي، إن كان من أهل الجنة فمن أهل الجنة، وإن كان من أهل النار فمن أهل النار


Tema:

جب تم میں سے کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کا ٹھکانا اسے صبح وشام دکھایا جاتا ہے۔ اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں میں اور اگر دوزخی ہے تو دوزخ والوں میں۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «إنَّ أحدَكم إذا مات عُرِض عليه مقعدُه بالغَدَاة والعَشِي، إن كان من أهل الجنة فمِن أهل الجنة، وإن كان من أهل النار فمِن أهل النار، فيُقال: هذا مقعدُك حتى يبعثك الله يوم القيامة».

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کا ٹھکانا اسے صبح وشام دکھایا جاتا ہے۔ اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں میں اور اگر دوزخی ہے تو دوزخ والوں میں۔ پھر کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تجھ کو (دوبارہ)اٹھائے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا مات الإنسان عُرض عليه مكانه ومقعده من الجنة أو النار كل صباح ومساء، فإن كان الميت من أهل الجنة فمقعده من مقاعد أهل الجنة يُعرض عليه، وإن كان الميت من أهل النار فمقعده من مقاعد أهل النار يُعرض عليه، وفي هذا العرض تبشير للمؤمن وتخويف للكافر حيث يقال له: هذا مقعدك لا تصل إليه حتى يبعثك الله.
580;ب انسان مر جاتا ہے تو روزانہ صبح و شام اس کو جنت یا جہنم میں اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے۔ اگر مرنے والا اہل جنت میں سے ہے تو اس کو جنت میں جو اس کا ٹھکانہ ہے وہ دکھایا جاتا ہے اور اگر وہ جہنمی ہے تو اس کو جہنم میں اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے۔ اور یہ ٹھکانہ دکھانا دراصل مومن کے لیے خوش خبری اور کافر کے لیے خوف بن جاتا ہے اور اسے یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے اور جب تک اللہ دوبارہ اٹھا نہیں لیتا تم اُس تک نہیں پہنچ سکتے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11210

 
 
Hadith   1851   الحديث
الأهمية: وصف بعض نعيم القبر وعذابه


Tema:

قبر کی بعض نعمتوں اور اس کے عذاب کا بیان

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: إذا قُبِر الميت -أو قال: أحدكم- أتاه ملكان أسودان أزرقان، يقال لأحدهما: المُنكَر، وللآخر: النَّكِير، فيقولان: ما كنتَ تقول في هذا الرجل؟ فيقول: ما كان يقول: هو عبد الله ورسوله، أشهد أن لا إله إلا الله، وأن محمدا عبده ورسوله، فيقولان: قد كنا نعلم أنك تقول هذا، ثم يُفْسَح له في قبره سبعون ذِراعا في سبعين، ثم يُنَوَّر له فيه، ثم يقال له: نم، فيقول: أرجع إلى أهلي فأخبرهم، فيقولان: نم كنومة العروس الذي لا يوقِظه إلا أحب أهله إليه، حتى يبعثه الله من مَضْجعه ذلك، وإن كان منافقا قال: سمعتُ الناس يقولون، فقلت مثله، لا أدري، فيقولان: قد كنا نعلم أنك تقول ذلك، فيقال للأرض: التَئِمي عليه، فتَلْتَئِم عليه، فتختلف فيها أضلاعه، فلا يزال فيها مُعذَّبا حتى يبعثه الله من مَضْجعه ذلك.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب میت کو یا تم میں سے کسی کو دفنایا جاتا ہے، تو اس کے پاس سیاہ رنگ کے، نیلی آنکھ والے دو فرشتے آتے ہیں۔ ان میں سے ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے۔ وہ دونوں میت سے پوچھتے ہیں تم اس شخص (یعنی محمد ﷺ) کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے؟۔
پس (مومن) وہی کہتا ہے جو وہ دنیا میں کہا کرتا تھا۔ یعنی یہ کہ وہ ﷲ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور بے شک محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں: ہمیں علم تھا کہ تو یہی کہے گا۔ پھر اس کے لیے اس کی قبر چاروں طرف سے ستر، ستر گز تک وسیع کر دی جاتی ہے۔ پھر اس کو اس کے لیے روشن کر دیا جاتا ہے۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے :سو جا۔ وہ کہتا ہے :میں اپنے گھر والوں کی طرف لوٹنا چاہتا ہوں؛ تاکہ انہیں اپنے حالات سے آگاہ کر دوں۔ وہ دونوں اس سے کہتے ہیں : تو اس پہلی رات کی دلہن کی طرح سو جا جسے اس کے گھر والوں میں سے صرف اس کا محبوب ترین شخص ہی جگاتا ہے۔ (وہ اسی حال میں رہے گا) یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ روزِ قیامت اسے اسی حال میں اس کی قبر سے اٹھاے گا۔
اور اگر وہ منافق ہو تو کہتا ہے : میں نہیں جانتا میں نے وہی کہا جو میں نے لوگوں کو کہتے سنا۔ دونوں فرشتے اسے کہتے ہیں : ہم جانتے تھے کہ تو یہی کہے گا۔ پھر زمین سے کہا جاتا ہے کہ اس کے لیے سکڑ جا۔ پس زمین اس کے لیے سکڑ جاتی ہے اور اس کے دونوں پہلو ایک دوسرے میں دھنس جاتے ہیں۔ پس وہ اسی عذاب میں مبتلا رہے گا، یہاں تک کہ ﷲ تعالیٰ روزِ قیامت اسے اس کی قبر سے اٹھاے گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا دُفن الميت أتاه ملكان أسودان أزرقان، اسم أحدهما: المنكر، والآخر: النكير، فيقولان له: ما كنت تقول في هذا الرجل؟ يريدان النبي -عليه الصلاة والسلام-، فيقول: هو عبد الله ورسوله، أشهد أن لا إله إلا الله، وأن محمدا عبده ورسوله، فيقولان: قد كنا نعلم أنك تقول هذا؟ ثم يوسع له في قبره سبعون ذراعا في سبعين ذراعا، ثم ينوَّر له في قبره، ثم يقال له: نم. فيقول: أريد الرجوع إلى أهلي، فأخبرهم بأن حالي طيب؛ فيفرحوا بذلك ولا يحزنوا عليَّ. فيقولان له: نم كنومة العروس الذي لا يوقظه من نومه إلا أحب أهله إليه، فينام نومًا طيبا حتى يبعثه الله يوم القيامة، وإن كان منافقا قال: سمعتُ الناس يقولون قولا، وهو أن محمدا رسول الله، فقلت مثل قولهم، ولا أدري أنه نبي في الحقيقة أم لا، فيقولان: قد كنا نعلم أنك تقول ذلك، فيقال للأرض: انضمي واجتمعي عليه وضيقي عليه، فتجتمع أجزاؤها عليه، حتى تزول أضلاعه عن الهيئة المستوية التي كانت عليها، من شدة انضمامها عليه، وشدة الضغطة وانعصار أعضائه، وتجاوز جنبيه من كل جنب إلى جنب آخر، فلا يزال في تلك الحالة معذبا حتى يبعثه الله -عز وجل- يوم القيامة.
580;ب میت کو دفنایا جاتا ہے تو دو سیاہ رنگ کے نیلی آنکھوں والے فرشتے آتے ہیں۔ ان میں سے ایک کا نام منکر اور دوسرے کا نام نکیر ہے۔ وہ اسے کہتے ہیں: اس شخص کے بارے تو کیا کہا کرتا تھا؟ در اصل ان کی مراد نبی ﷺ ہوتے ہیں۔ وہ شخص کہتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس پر وہ کہتے ہیں کہ ہمیں علم تھا کہ تو ایسا ہی کہے گا۔ پھر اس کی قبر ہر طرف سے ستر سترگز کشادہ کر دی جاتی ہے اور اسے منور کر دیا جاتا ہے۔ پھر اسے کہا جاتا ہے کہ سوجا۔ وہ کہتا ہے: میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس واپس جا کر انہیں اپنی اس خوش حالی کی خبر دے دوں؛ تاکہ وہ اس سے خوش ہوجائیں اور میرے سلسلے میں کوئ غم نہ کریں۔ اس پر وہ کہیں گے: ایسے سو جا جیسے دلہن سوتی ہے اور اس کے گھر والوں میں سے اس کا محبوب ترین شخص ہی اسے جگاتا ہے۔ اس پر وہ میٹھی نیند سو جاتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالی اسے اٹھائیں گے۔ اور اگر وہ شخص منافق ہو تو (دونوں فرشتوں کے سوال کے جواب میں) کہتا ہے: میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا یعنی یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ تو میں نے بھی انہیں کی جیسی بات کہہ دی، میں نہیں جانتا کہ آیا یہ واقعی نبی ہیں یا نہیں۔ اس پر وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ تھا کہ تو ایسا ہی کہے گا۔ پھر زمین کو حکم ہو تا ہے کہ آپس میں مل کر اس پر اکٹھی ہو جا اور اس پر تنگ ہو جا۔ اس کے اعضا اکھٹے ہو کراس کے اندر گھس جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ سختی کے ساتھ بھینچے جانے اور زور سے دباے جانے اور اس کے اعضا کے نچڑ جانے اور ایک پہلو کے دوسرے پہلو تک پہنچ جانے کی وجہ سے اس کی پسلیوں کی ہیئت ہی خراب ہو جاتی ہے۔ یہ اسی طرح عذاب میں مبتلا رہتا ہے، یہاں تک کہ روز قیامت اللہ تعالی اسے اس کی قبر سے اٹھائیں گے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11211

 
 
Hadith   1852   الحديث
الأهمية: ذكر نعيم القبر وعذابه في حديث البراء بن عازب -رضي الله عنهما-


Tema:

براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں قبر کی نعمتوں اور عذاب کا ذکر

عن البراء بن عازب -رضي الله عنه-، قال: خرجنا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في جنازة رجل من الأنصار، فانتهينا إلى القبر ولمَّا يُلْحَد، فجلس رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وجلسنا حوله كأنما على رءوسنا الطير، وفي يده عود يَنكتُ به في الأرض، فرفع رأسه، فقال: «استعيذوا بالله من عذاب القبر» مرتين، أو ثلاثا، زاد في رواية: "وإنه ليسمع خَفْقَ نعالهم إذا وَلَّوا مُدْبِرين حين يقال له: يا هذا، من ربك؟ وما دينك؟ ومن نبيك؟" قال هناد: قال: "ويأتيه ملكان فيُجلِسانه فيقولان له: من ربك؟ فيقول: ربي الله، فيقولان له: ما دينك؟ فيقول: ديني الإسلام، فيقولان له: ما هذا الرجل الذي بُعث فيكم؟" قال: "فيقول: هو رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فيقولان: وما يُدريك؟ فيقول: قرأتُ كتاب الله فآمنت به وصدقت، «زاد في حديث جرير» فذلك قول الله -عز وجل- {يُثَبِّتُ اللهُ الذين آمنوا} [إبراهيم: 27]" الآية -ثم اتفقا- قال: "فينادي مُناد من السماء: أن قد صدق عبدي، فأفرشوه من الجنة، وافتحوا له بابا إلى الجنة، وألبسوه من الجنة" قال: «فيأتيه من رَوْحها وطِيبها» قال: «ويُفتَح له فيها مدَّ بصره» قال: «وإن الكافر» فذكر موته قال: "وتُعاد روحه في جسده، ويأتيه ملكان فيُجلسانه فيقولان: له من ربُّك؟ فيقول: هَاهْ هَاهْ هَاهْ، لا أدري، فيقولان له: ما دينك؟ فيقول: هَاهْ هَاهْ، لا أدري، فيقولان: ما هذا الرجل الذي بُعث فيكم؟ فيقول: هَاهْ هَاهْ، لا أدري، فينادي مناد من السماء: أن كذب، فأفرشوه من النار، وألبسوه من النار، وافتحوا له بابا إلى النار" قال: «فيأتيه من حَرِّها وسَمُومها» قال: «ويُضيَّق عليه قبره حتى تختلف فيه أضلاعه» زاد في حديث جرير قال: «ثم يُقَيَّض له أعمى أَبْكَم معه مِرْزَبّة من حديد، لو ضُرب بها جبل لصار ترابا» قال: «فيضربه بها ضربة يسمعها ما بين المشرق والمغرب إلا الثَّقَلين، فيصير ترابا» قال: «ثم تُعاد فيه الروح».

براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ انصار کے ایک شخص کے جنازے میں نکلے، ہم قبر کے پاس پہنچے، وہ ابھی تک تیار نہ تھی، تو رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہیں، آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، جس سے آپ زمین کرید رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور فرمایا: ”قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو“ اسے دو بار یا تین بار فرمایا، ایک روایت میں اتنا اضافہ ہے: ”اور وہ (میت) ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹتے ہیں، اس وقت اس سے پوچھا جاتا ہے: اے فلاں! تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ اور تمہارا نبی کون ہے؟“ ہناد کی روایت کے الفاظ ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا رب کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے۔ پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: یہ کون ہے جو تم میں بھیجے گئے تھے؟ وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ پھر وہ دونوں اس سے کہتے ہیں: تمہیں یہ کہاں سے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اور اس پر ایمان لایا اور اس کو سچ سمجھا“ جریر کی روایت میں یہاں پر یہ اضافہ ہے: ”اللہ تعالیٰ کے قول «يثبت الله الذين آمنوا» سے یہی مراد ہے“ (پھر دونوں کی روایتوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ایک پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا لہٰذا تم اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھا دو، اور اس کے لیے جنت کی طرف کا ایک دروازہ کھول دو، اور اسے جنت کا لباس پہنا دو“ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”پھر جنت کی ہوا اور اس کی خوشبو آنے لگتی ہے، اور تا حد نگاہ اس کے لیے قبر کشادہ کر دی جاتی ہے“۔ اور رہا کافر تو آپ ﷺ نے اس کی موت کا ذکر کیا اور فرمایا: ”اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے اٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تمہارا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: یہ آدمی کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! مجھے نہیں معلوم، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! مجھے نہیں معلوم، تو پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: اس نے جھوٹ کہا، اس کے لیے جہنم کا بچھونا بچھا دو اور جہنم کا لباس پہنا دو، اور اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو، تو اس کی تپش اور اس کی زہریلی ہوا (لو) آنے لگتی ہے اور اس کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر ہو جاتی ہیں“ جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”پھر اس پر ایک اندھا گونگا (فرشتہ) مقرر کر دیا جاتا ہے، اس کے ساتھ لوہے کا ایک گرز ہوتا ہے اگر وہ اسے کسی پہاڑ پر بھی مارے تو وہ بھی خاک ہو جائے، چنانچہ وہ اسے اس کی ایک ضرب لگاتا ہے جس کو مشرق و مغرب کے درمیان کی ساری مخلوق سوائے آدمی و جن کے سنتی ہے اور وہ مٹی ہو جاتا ہے“ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”پھر اس میں روح لوٹا دی جاتی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يحكي البراء بن عازب أنهم خرجوا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في جنازة رجل من الأنصار، فوصلوا إلى القبر قبل أن يُدفن، فجلس رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وجلسوا حوله صامتين، لا يتكلمون من هيبته -صلى الله عليه وسلم-، وفي يده -صلى الله عليه وسلم- عود يضرب به في الأرض كما يفعل المتفكر المهموم، فرفع رأسه فقال: اطلبوا من الله أن يجنِّبكم ويخلصكم من عذاب القبر، قال ذلك مرتين أو ثلاث مرات، ثم أخبرهم أن الميت يسمع صوت نعال مشيعيه إذا انصرفوا عنه، وأنه في هذا الوقت يأتيه ملكان فيجلسانه، فيقولان له: من ربك؟ فيقول: ربي الله. فيقولان له: ما دينك؟ فيقول: ديني الإسلام. فيقولان له: ما هذا الرجل الذي بُعث فيكم؟ فيقول: هو رسول الله -صلى الله عليه وسلم-. فيقولان له: وما يدريك بذلك؟ فيقول: قرأت كتاب الله فآمنت به وصدقت به. وجريان لسانه بالجواب المذكور هو التثبيت الذي تضمنه قوله -تعالى-: {يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت} [إبراهيم: 27] الآية. ثم قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: فينادي مناد من السماء: أن صدق عبدي فيما يقول، فإنه كان في الدنيا على هذا الاعتقاد؛ فهو مستحق للإكرام، فاجعلوا له فرشا من فرش الجنة، وألبسوه من ثياب أهل الجنة، وافتحوا له بابا إلى الجنة، فيُفتح له فيأتيه من نسيمها ورائحتها الطيبة، ويوسع له في قبره مسافة ما يمتد إليه بصره.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
وأما الكافر فذكر -صلى الله عليه وسلم- حال موته وشدته، وأنه تعاد روحه بعد الدفن في جسده، ويأتيه ملكان، فيجلسانه فيقولان له: من ربك؟ فيقول متحيرا: هاه هاه لا أدري، فيقولان له: ما دينك؟ فيقول: هاه هاه لا أدري، فيقولان له: ما تقول في حق هذا الرجل الذي بُعث فيكم أنبي أم لا؟ فيقول: هاه هاه لا أدري، فينادي مناد من السماء: أن كذب هذا الكافر؛ لعدم إيمانه وجحوده الذي كان سببًا في قوله هذا؛ ولأن دين الله -تعالى- ونبوة محمد -صلى الله عليه وسلم- كان ظاهرا في مشارق الأرض ومغاربها، فاجعلوا له فرشا من فرش النار، وألبسوه من ثياب أهل النار، وافتحوا له بابا إلى النار، فيأتيه من حر النار، ويضيق عليه قبره حتى تتداخل أضلاعه، وتزول عن هيئتها المستوية التي كانت عليها، ثم يُسلَّط عليه ملك أعمى أخرس لا يتكلم، معه مطرقة كبيرة من حديد، لو ضُرب بها جبل لصار ترابا، فيضربه بها ضربة يسمعها كل ما بين المشرق والمغرب إلا الجن والإنس، فيصير ترابا، ثم يعاد فيه الروح؛ ليذوق العذاب، ويستمر العذاب عليه في قبره.
576;راء بن عازب رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ ایک انصاری شخص کے جنازے میں نکلے، دفن سے پہلے وہ قبر پر پہنچے۔ آپ ﷺ بیٹھ گئے اور صحابہ بھی آپﷺ کے ارد کے گرد خاموش بیٹھ گئے، آپ ﷺ کی ہیبت کی وجہ سے وہ باتیں نہیں کرتے تھے، آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس کے ذریعے آپ زمین کُرید رہے تھے جیسے ایک مہموم اور فکر مند آدمی کرتا ہے۔ آپ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا تم اللہ تعالیٰ سے قبر کے عذاب سے بچاؤ اور چھٹکارا مانگو، آپ نے یہ دو یا تین مرتبہ فرمایا، پھر آپ ﷺ نے بتایا کہ مُردہ جنازا خوان کی قدموں کی آہٹ سنتا ہے جب وہ واپس لوٹتے ہیں۔ اس وقت اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بٹھا دیتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں تمہارا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے اللہ میرا رب ہے۔ فرشتے کہتے ہیں تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے۔ فرشتے کہتے ہیں یہ شخص کون ہے جسے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے؟ وہ کہتا ہے وہ اللہ کے رسول ہیں، فرشتے کہتے ہیں تم اس کے بارے میں کیسے جانتے ہو؟ وہ کہتا ہے میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، تو میں اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی۔ مُردے کی زبان پر اس جواب کا جاری ہونا وہ ثابت قدمی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بیان فرمایا: ﴿يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ ”ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی“۔ (سورہ ابراهيم: 27) پھر آپ ﷺ نے فرمایا: آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے کہ میرے بندے نے جو کہا سچ کہا۔ یہ دنیا میں اسی عقیدے پر قائم تھا، چنانچہ وہ اکرام کا مستحق ہے۔ اس کے لئے جنت کا فرش بنا لو، جنتیوں کا لباس پہنا دو اور جنت کا دروازہ اس کے لئے کھول دو، سو جنت کا دروازہ اس کے لئے کھول دیا جائے گا جس سے ہوا اور پاکیزہ خوشبو آئے گی۔ اس کے لئے قبر تاحدِ نگاہ وسیع کردی جائے گی۔
جہاں تک کافر کا تعلق ہے تو آپ ﷺ نے اس کی موت کی حالت، اس کی سختی اور دفن کے بعد جسم میں اس کی روح کا لوٹنا بیان کیا ہے، دو فرشتے آ کر اسے بٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں تمہارا رب کون ہے؟ وہ حیران ہو کر کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، فرشتے کہتے ہیں تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، فرشتے کہتے ہیں اس شخص کے بارے میں تم کیا کہتے ہو جس کو تمہاری طرف بھیجا گیا آیا وہ نبی ہے یا نہیں؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے کہ کافر نے جھوٹ بولا، یہ اس کے ایمان نہ لانے اور اس سے انکار کرنے کی وجہ سے ہے۔ اس لئے کہ اللہ کا دین اور محمد ﷺ کی نبوت زمین کے مشرق و مغرب میں ظاہر اور غالب تھی۔ اس کے لئے جہنم کا فرش بچھا دو، اسے آگ کا لباس پہننا دو، اس کے لئے جہنم کا دروازہ کھول دو، جہاں سے اسے آگ کی گرمی پہنچے گی اور اس کی قبر اس پر اتنی تنگ ہوجائے گی کہ اس کی پسلیاں آپس میں گھس جائیں گی اوروہ اپنی اصل ہیئت جس پر وہ تھی ختم ہوجائے گی، پھر اس پر ایک اندھا اور گونگا فرشتہ مسلط کیا جائے گا، اس کے پاس لوہے کا ایک بڑا ہتھوڑا ہوگا، اگر اس کو پہاڑ پر مارا جائے تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائے، اس کے ساتھ ایک ضرب مارے گا جسے مشرق و مغرب کے درمیان جنات و انسانوں کے سوا ہر چیز سنے گی، وہ مٹی مٹی ہو جائے گا، پھر اس میں روح دوبارہ لوٹائے جائے گی تاکہ وہ عذاب چھکے گا اور قبر میں اسے مسلسل عذاب ہوتے رہے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11212

 
 
Hadith   1853   الحديث
الأهمية: أشرف النبي -صلى الله عليه وسلم- على أطم من آطام المدينة، فقال: هل ترون ما أرى، قالوا: لا، قال: فإني لأرى الفتن تقع خلال بيوتكم كوقع القطر


Tema:

نبی کریم ﷺ مدینے کے ایک بلند مقام پر چڑھے۔ پھر فرمایا: کیا تم لو گ بھی دیکھ رہے ہو، جو میں دیکھ رہا ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں! آپ نے فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ (عن قریب) تمھارے گھروں میں فتنے اس طرح برس رہے ہوں گے، جیسے بارش برستی ہے۔

عن أسامة بن زيد -رضي الله عنهما- قال: أشرفَ النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- على أُطُم من آطام المدينة، فقال: «هل ترون ما أرى؟» قالوا: لا، قال: «فإنِّي لأرى الفتنَ تقع خِلال بيوتكم كوَقْع القَطْر».

اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ مدینے کے ایک بلند مقام پر چڑھے۔ پھر فرمایا: کیا تم لو گ بھی دیکھ رہے ہو، جو میں دیکھ رہا ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں! آپ نے فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ (عن قریب ) تمھارے گھروں میں فتنے اس طرح برس رہے ہوں گے، جیسے بارش برستی ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نظر النبي -صلى الله عليه وسلم- من مكانٍ عالٍ فوق حصن من حصون المدينة فقال لأصحابه: هل ترون ما أرى؟ إني أرى الفتن تقع وسط بيوتكم كما يقع المطر بكثرة وغزارة. وهو إشارة إلى الحروب والفتن الواقعة في المدينة، كمقتل عثمان، ووقعة الحرة وغيرها.
585;سول اللہ ﷺ نے مدینے کے بلند قلعوں میں ایک اونچی جگہ سے دیکھا اور صحابہ سے فرمایا کہ کیا جو میں دیکھ رہا ہوں تمھیں نظر آ رہا ہے؟ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ فتنے تمھارے گھروں کے درمیان اس طرح اتر رہے ہیں جیسے موسلادھار بارش ہورہی ہو! یہ در اصل مدینے میں ہونے والی جنگوں اور فتنوں کی طرف اشارہ تھا، جیسے عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت اور واقعۂ حرہ وغیرہ۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11213

 
 
Hadith   1854   الحديث
الأهمية: اعدد ستًّا بين يدي الساعة


Tema:

قیامت کی چھ نشانیاں شمار کر لو

عن عوف بن مالك -رضي الله عنه-، قال: أتيتُ النبي -صلى الله عليه وسلم- في غزوة تبوك وهو في قُبَّة من أَدَم، فقال: «اعدُد ستًّا بين يدي الساعة: موتي، ثم فتح بيت المقدس، ثم مُوتانٌ يأخذ فيكم كقُعَاص الغنم، ثم استفاضة المال حتى يُعطى الرجل مائة دينار فيظل ساخطا، ثم فتنة لا يبقى بيتٌ من العرب إلا دخلته، ثم هُدْنة تكون بينكم وبين بني الأصفر، فيغدرون فيأتونكم تحت ثمانين غاية، تحت كل غاية اثنا عشر ألفا».

عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت چمڑے کے ایک خیمے میں تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت کی چھ نشانیاں شمار کر لو؛ میری موت، پھر بیت المقدس کی فتح، پھر ایک موت کی لہر جو تم میں ایسے پھیلے گی جیسے بکریوں میں طاعون پھیل جاتا ہے۔ پھر مال کی کثرت اس قدر ہو گی کہ ایک شخص سو دینار بھی اگر کسی کو دے گا تو اس پر بھی وہ ناراض ہی رہے گا۔ پھر ایک فتنہ ظاہر ہو گا جو عرب کے ہر گھر تک جا پہنچے گا۔ پھر صلح جو تمہارے اور بنی الاصفر (رومی عیسائیوں) کے درمیان ہو گی، لیکن وہ غداری کریں گے اور ایک عظیم لشکر کے ساتھ تم پر چڑھائی کر دیں گے جس میں اسی جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے ماتحت بارہ ہزار فوج ہو گی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء عوف بن مالك إلى النبي -صلى الله تعالى عليه وسلم- في غزوة تبوك، وهو في خيمة من جلد مدبوغ، فقال له النبي -صلى الله تعالى عليه وسلم-: احسب ست علامات من العلامات الواقعة قبل قيام الساعة: موتي، ثم فتح بيت المقدس، وهذا وقع في عهد عمر -رضي الله عنه-، ثم وباء ينتشر فيكم؛ فيموت كثير منكم بسرعة، كما ينتشر الوباء في الغنم فتموت، ثم كثرة المال حتى إنه إذا أُعطي الرجل مائة دينار يغضب؛ لأنه مبلغ قليل في نظره، وقيل: إن هذه الكثرة ظهرت في خلافة عثمان -رضي الله تعالى عنه- عند الفتوح، ثم تقع فتنة عظيمة لا يبقى بيت من بيوت العرب إلا دخلته، قيل: هي مقتل عثمان وما بعده من الفتن المترتبة عليها، ثم صلح يكون بين المسلمين وبين الروم، فينقضون الصلح ويغدرون بالمسلمين، فيأتون لقتال المسلمين في ثمانين راية وهي العَلَم، تحت كل راية اثنا عشر ألف مقاتل، جملتهم تسعمائة ألف وستون ألفًا.
594;زوہ تبوک میں عوف بن مالک نبی ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ دباغت شدہ چمڑے سے بنے ایک خیمہ میں تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں فرمایا کہ: چھ ایسی علامات کو شمار کر لو جو قیامت سے پہلے واقع ہوں گی: میری موت، پھر بیت المقدس کی فتح۔ اس علامت کا وقوع عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہوا۔ پھر ایک جان لیوا وبا آئے گی جو تم میں پھیل جائے گی اور تم اس تیزی کے ساتھ مرو گے جیسے مویشیوں میں وباء پھیلنے سے وہ مرتے ہیں۔پھر مال کی کثرت ہو جائے گی یہاں تک کہ اگر کسی شخص کو سو دینار دیے جائیں گے تو وہ ناراضگی کا اظہار کرے گا کیوں کہ اس کی نظر میں یہ بہت تھوڑی رقم ہو گی۔ کہتے ہیں کہ یہ کثرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ظاہر ہوئی جب فتوحات کی کثرت ہو گئی تھی۔ پھر اس کے بعد ایک بہت بڑا فتنہ پیدا ہو گا اور عرب کا کوئی گھر ایسا نہیں بچے گا جس میں یہ داخل نہ ہو۔ کہتے ہیں کہ اس سے مراد عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل اور اس کی وجہ سے اس کے بعد ظہور پذیر ہونے والے فتنے ہیں۔ پھر مسلمانوں اور رومیوں کے مابین صلح ہو گی تاہم وہ مسلمانوں کے ساتھ غداری کریں گے اور اسی جھنڈوں کے ساتھ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے چڑھ آئیں گے جن میں سے ہر جھنڈے تلے بارہ ہزار جنگ جو ہوں گے اور ان کی کل تعدا نو لاکھ ساٹھ ہزار ہوگی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11214

 
 
Hadith   1855   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: بعثت أنا والساعة هكذا، ويشير بإصبعيه فيمد بهما


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اور قیامت اتنے نزدیک نزدیک بھیجے گیے ہیں اور نبی کریم ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کے اشارہ سے (اس نزدیکی کو) بتایا پھر ان دونوں کو پھیلایا۔

عن سهل بن سعد -رضي الله عنه- عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «بُعِثْتُ أنا والساعةَ هكذا»، ويُشير بإصبعيه فيَمُدُّ بهما.

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اور قیامت اتنے نزدیک نزدیک بھیجے گیے ہیں اور نبی کریم ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کے اشارہ سے (اس نزدیکی کو) بتایا پھر ان دونوں کو پھیلایا۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- عن قرب مجيء يوم القيامة، فإن بعثته -صلى الله عليه وسلم- ويوم القيامة متقاربان كتقارب ما بين إصبعيه -صلى الله عليه وسلم-، ومد -صلى الله عليه وسلم- إصبعيه ليميزهما عن سائر الأصابع.
وقد ورد في بعض الأحاديث الأخرى أن الإصبعين هما: السبابة والوسطى، السبابة: هي التي بين الوسطى والإبهام، وأنت إذا قرنت بينهما وجدتهما متجاورين، ووجدت أنه ليس بينهما إلا فرق يسير، ليس بين الوسطى والسبابة إلا فرق يسير مقدار الظفر أو نصف الظفر، وتسمى السبابة؛ لأن الإنسان إذا أراد أن يسب أحد أشار إليه بها، وتسمى السباحة أيضاً؛ لأن الإنسان عند الإشارة إلى تعظيم الله -عز وجل- يرفعها، ويشير بها إلى السماء، والمعنى أن أجل الدنيا قريب وأنه ليس ببعيد.
606;بی ﷺ قیامت کے قریب آنے کی خبر دے رہے ہیں، کہ آپ ﷺ کی بعثت اور یومِ قیامت اتنے قریب قریب ہیں کہ جتنے اللہ کے نبی ﷺ کی دو انگلیاں قریب ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کو لمبا کیا تاکہ دوسری تمام انگلیوں سے وہ ممتاز ہو جائیں۔
دوسری بعض احادیث میں یہ وارد ہوا ہے کہ دو انگلیاں درمیانی اور شہادت والی انگلیاں تھیں۔ ’’سبّابہ‘‘ جو درمیانی انگلی اور انگوٹھے کے درمیان ہے۔ ان دونوں کو ملانے سے یہ مل جاتے ہیں اور ان میں تھوڑا سا فرق ہوتا ہے، جو ایک ناخن یا اس کے نصف کے برابر ہوتا ہے، اسے ’سبّابہ‘ کہتے ہیں اس لیے کہ انسان جب کسی کو گالی دینا چاہتا ہے تو اس انگلی سے اس کی طرف اشارہ کرتا ہے، اس کو ’سباحہ‘ بھی کہتے ہیں اس لیے کہ انسان اللہ کی تعظیم کے وقت اسے اٹھاتا ہے اور اس سے آسمان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کا اختتام قریب ہی ہے، دور نہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11215

 
 
Hadith   1856   الحديث
الأهمية: لا تقوم الساعة حتى تخرج نار من أرض الحجاز تضيء أعناق الإبل ببصرى


Tema:

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ سرزمینِ حجاز سے ایک بہت بڑی آگ نہ نکل آئے جو بُصریٰ کے اونٹوں کی گردنیں روشن کر دے گی۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «لا تقومُ الساعةُ حتى تخرجَ نارٌ من أرض الحِجاز تُضيءُ أعناقَ الإبل ببُصْرى».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ سرزمینِ حجاز سے ایک بہت بڑی آگ نہ نکل آئے جو بُصریٰ کے اونٹوں کی گردنیں روشن کر دے گی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لا تقوم الساعة حتى تخرج نار من مكة والمدينة وما حولهما تنور أعناق الإبل بمدينة بصرى بالشام، وقد خرجت نار بالمدينة سنة أربع وخمسين وستمائة من الهجرة (654 ه)، وكانت نارًا عظيمةً خرجت من جنب المدينة الشرقي وراء الحرة، وتواتر العلم بها عند جميع أهل الشام، وسائر البلدان، وذكرها العلماء المعاصرون لها في كتبهم كالنووي والقرطبي وأبي شامة.
602;یامت تب تک نہ آئے گی جب تک کہ مکہ و مدینہ اور اس کے گرد و نواح سے ایسی آگ نمودار نہ ہو جائے جو شام میں واقع بُصریٰ شہر میں موجود اونٹوں کی گردنیں روشن کر دے گی۔ مدینہ میں سن چھ سو چَوّن (654) ہجری میں ایک آگ ظاہر ہوئی تھی جو بہت بڑی تھی۔ یہ مدینہ کے مشرقی جانب مقامِ حرہ کے پیچھے سے نمودار ہوئی تھی۔ شام اور باقی تمام علاقوں کے رہنے والے لوگ اس آگ کے بارے میں تواتر کے ساتھ جانتے ہیں اور اس وقت کے علماء نے بھی اپنی کتابوں میں اس کا تذکرہ کیا ہے جیسے امام نووی، امام قرطبی اور امام ابو شامہ رحمہم اللہ۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11216

 
 
Hadith   1857   الحديث
الأهمية: منعت العراق درهمها وقفيزها، ومنعت الشأم مديها ودينارها، ومنعت مصر إردبها ودينارها، وعدتم من حيث بدأتم، وعدتم من حيث بدأتم، وعدتم من حيث بدأتم


Tema:

عراق اپنے درہم اور قفیز کو روک لے گا اور شام اپنے مد اور دینار روک لے گا اور مصر اپنے اردب اور دینار روک لے گا تم جہاں سے چلے تھے وہیں لوٹ آؤ گے، اور تم جہاں سے چلے تھے وہیں لوٹ آؤ گے، اور تم جہاں سے چلے تھے وہیں لوٹ آؤ گے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «مَنعت العراق دِرْهَمِها وقِفِّيزها، ومنعت الشام مُدْيها ودينارها، ومنعت مصر إردَبَّها ودينارها، وعُدتم مِن حيث بَدَأتُم، وعُدتم من حيث بدأتم، وعُدتم من حيث بدأتم» شَهِد على ذلك لحم أبي هريرة ودمه.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عراق اپنے درہم اور قفیز کو روک لے گا اور شام اپنے مُد اور دینار روک لے گا اور مصر اپنے اِردَب اور دینار روک لے گا تم جہاں سے چلے تھے وہیں لوٹ آؤ گے، اور تم جہاں سے چلے تھے وہیں لوٹ آؤ گے، اور تم جہاں سے چلے تھے وہیں لوٹ آؤ گے“۔ اور اس بات پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا گوشت اور خون گواہ ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن المسلمين سوف يفتحون العراق والشام ومصر، وسيوضع عليها شيء مقدر بالمكاييل والأوزان يؤدونه للمسلمين، وسيُمنع ذلك في آخر الزمان: إما لأن الكفار الذين في هذه البلاد سينقضون العهد ولا يدفعون الأموال المقررة عليهم، وإما لاستيلاء كفار العجم على هذه البلاد، فيمنعون وصول هذه الأموال إلى المسلمين، ويصبح المسلمون حينئذ ضعفاء فقراء غرباء، كما كانوا في بداية الإسلام.
606;بی ﷺ بتا رہے ہیں کہ عنقریب مسلمان عراق، شام اور مصر کو فتح کر لیں گے اور ان علاقوں کے باسیوں پرناپ اور تول کے لحاظ سے مال کی ایک مخصوص مقدار بطور جزیہ لاگو کر دی جائے گی جسے وہ مسلمانوں کو ادا کیا کریں گے۔ لیکن آخری زمانے میں اس کی ادائیگی روک دی جائے گی، یا تو اس لیے کہ ان علاقوں کے کفارعہد شکنی کرتے ہوئے اپنے اوپر واجب الاداء اموال کو ادا نہیں کریں گے یا پھر عجمی کفار ان علاقوں پر اپنا تسلط جما لیں گے اور وہ مسلمانوں تک ان اموال کی رسائی کو روک دیں گے اوراس وقت پھر مسلمان ویسے ہی کمزور، فقیر اور غریب ہو جائیں گے جیسے وہ ابتدائے اسلام میں تھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11217

 
 
Hadith   1858   الحديث
الأهمية: يكون في آخر أمتي خليفة يحثي المال حثيًا، لا يعده عددًا


Tema:

میری امت کے آخری دور میں ایک خلیفہ آئے گا جو مال کو لپ بھر بھر کر خرچ کرے گا اور اس کا کوئی حساب نہیں رکھے گا۔

عن أبي نَضْرَة، قال: كنا عند جابر بن عبد الله فقال: يُوشِك أهلُ العراق أن لا يُجبى إليهم قَفِيز ولا درهم، قلنا: من أين ذاك؟ قال: من قِبل العَجَم يمنعون ذاك، ثم قال: يُوشك أهل الشام أن لا يُجبى إليهم دينار ولا مُدْي، قلنا: من أين ذاك؟ قال: من قِبل الروم، ثم سكت هُنيَّة، ثم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يكون في آخر أمتي خليفة يَحثي المال حَثْيا، لا يَعُدُّه عددا» قال قلتُ لأبي نَضرَة وأبي العلاء: أتَرَيان أنه عمر بن عبد العزيز، فقالا: لا.

ابو نضرہ بیان کرتے ہیں کہ ہم جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کے پاس تھے کہ وہ فرمانے لگے: عنقریب اہل عراق سے نہ کوئی قفیر ان (مسلمانوں) کے پاس جمع ہو کر آئے گا اور نہ کوئی درہم ۔ ہم نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوگا؟ انہوں نے جواب دیا: عجمی لوگ اسے روک لیں گے۔ پھر انہوں نے مزید کہا: عنقریب اہل شام سے نہ کوئی دینار ان کے پاس جمع ہو کرآئے گا اور نہ ہی کوئی مدی۔ ہم نے پوچھا: یہ کس وجہ سے ہوگا؟ ایسا رومی لوگ کریں گے۔ پھر کچھ دیر چپ رہے اورپھر کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے آخری دور میں ایک خلیفہ آئے گا، جو مال کو لپ بھر بھر کر خرچ کرے گا اور اس کا کوئی حساب نہیں رکھے گا“۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابو نضرہ اور ابو العلاء سے پوچھا کہ تمہارے خیال میں وہ عمر بن عبد العزیز ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں؟

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر النبي صلى الله عليه وسلم أن المسلمين سوف يفتحون العراق، وسيوضع عليها شيء مقدر بالمكاييل والأوزان يؤدونه للمسلمين، وسيُمنع ذلك في آخر الزمان؛ وذلك لاستيلاء كفار العجم على هذه البلاد فيمنعون وصول هذه الأموال إلى المسلمين، ويخبر كذلك أن المسلمين سوف يفتحون الشام، وسيوضع عليها شيء مقدر بالمكاييل والأوزان يؤدونه للمسلمين، وسيُمنع ذلك في آخر الزمان؛ وذلك لاستيلاء الروم على هذه البلاد فيمنعون وصول هذه الأموال إلى المسلمين، وأخبر صلى الله عليه وسلم أنه سيكون في آخر هذه الأمة خليفة يحثي المال ولا يعده، أى: لكثرته واتساع الفتوحات عليه، فهو يلقي المال للناس بيده كما يفعل بالتراب إذا رمى به بيديه.
ويخبر الراوي أنه سأل بعض أهل العلم من التابعين: هل هذا الخليفة هو عمر بن عبد العزيز؟ فقالوا: لا.
606;بی ﷺ بتا رہے ہیں کہ مسلمان عنقریب عراق کو فتح کر لیں گے اور اہل عراق پر ناپ تول کی ایک معین مقدار بطور جزیہ لاگو کر دی جائے گی، جسے وہ مسلمانوں کو ادا کریں گے۔ لیکن قرب قیامت میں یہ مال کی ادائیگی بند کر دی جائے گی۔ کیوں کہ عجمی کفار ان علاقوں پر اپنا تسلط جما لیں گے اور ان اموال کی مسلمانوں تک رسائی روک دیں گے۔ اسی طرح آپ ﷺ یہ خبر بھی دے رہے ہیں کہ مسلمان عنقریب شام کو فتح کر لیں گے اور ان پر بھی ناپ تول کی ایک معین مقدار بطور جزیہ لاگو کر دی جائے گی، جسے وہ مسلمانوں کو ادا کریں گے۔ اسی طرح آپ ﷺ یہ بتا رہے ہیں کہ اس امت کے آخری دور میں ایک خلیفہ ہو گا، جو مال کو لپ بھر بھر کر خرچ کرے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا؛ کیوںکہ فتوحات کا دائرہ وسیع ہونے کی وجہ سے مال کی کثرت ہو گی۔ چنانچہ وہ اپنے ہاتھوں سے لوگوں کے سامنے مال ایسے پھینکے گا جیسے مٹی کو ہاتھوں سے پھینکا جاتا ہے۔ راوی حدیث بتا رہے ہیں کہ انہوں نے تابعین میں سے بعض اہل علم سے پوچھا کہ کیا یہ خلیفہ عمر بن عبد العزیز ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ: نہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11218

 
 
Hadith   1859   الحديث
الأهمية: تغزون جزيرة العرب فيفتحها الله، ثم فارس فيفتحها الله، ثم تغزون الروم فيفتحها الله، ثم تغزون الدجال فيفتحه الله


Tema:

تم پہلے تو عرب کے جزیرہ میں (کافروں سے) جہاد کرو گے، اللہ تعالیٰ اس کو فتح کر دے گا۔ پھر فارس (ایران) سے جہاد کرو گے، اللہ تعالیٰ اس پر بھی فتح کر دے گا ،پھر روم والوں سے، اللہ تعالیٰ روم کو بھی فتح کر دے گا۔ پھر دجال سے لڑو گے اور اللہ تعالیٰ اس کو بھی فتح کر دے گا۔

عن نافع بن عتبة -رضي الله عنه-، قال: كنا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في غزوة، قال: فأَتَى النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- قومٌ من قِبَل المغرب، عليهم ثياب الصوف، فوافقوه عند أَكَمة، فإنهم لَقيامٌ ورسول الله -صلى الله عليه وسلم- قاعد، قال: فقالت لي نفسي: ائتِهم فقُم بينهم وبينه لا يَغتالونه، قال: ثم قلتُ: لعله نَجِيّ معهم، فأَتَيتُهم فقمتُ بينهم وبينه، قال: فحفِظتُ منه أربع كلمات أَعُدُّهن في يدي، قال: «تَغزون جزيرة العرب فيَفتحها الله، ثم فارس فيفتحها الله، ثم تغزون الروم فيفتحها الله، ثم تغزون الدَّجَّال فيفتحه الله» قال: فقال نافع: يا جابر، لا نرى الدجال يخرج، حتى تُفتح الروم.

نافع بن عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ﷺ کے پاس کچھ لوگ مغرب کی طرف سے آئے جو اون کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ سے ایک ٹیلے کے پاس آ کر ملے۔ وہ لوگ کھڑے تھے اور آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے۔ میرے دل نے کہا کہ تو چل اور ان لوگوں اور آپ ﷺ کے درمیان میں جا کر کھڑا ہو، ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ فریب سے آپ ﷺ کو مار ڈالیں۔ پھر میرے دل نے کہا کہ شاید آپ ﷺ وسلم ان سے چپکے چپکے باتیں کر رہے ہوں (اور میرا جانا آپ ﷺ کو ناگوار گزرے)۔ پھر بھی میں وہاں چلا گیا اور ان لوگوں کے اور آپ ﷺ کے درمیان میں کھڑا ہو گیا۔ پس میں نے اس وقت آپ ﷺ سے چار باتیں یاد کیں، جن کو میں اپنے ہاتھ پر گنتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم عرب کے جزیرہ میں(کافروں سے) جنگ کرو گے، اللہ تعالیٰ اس کو فتح کر دے گا۔ پھر ملکِ فارس (ایران) سے جنگ کروگے، اللہ تعالیٰ اس پر بھی تمہیں فتح دے گا، پھر روم والوں سے جنگ کرو گے، اللہ تعالیٰ روم کو بھی زیر کر دے گا، پھر دجال سے جنگ کرو گے اور اللہ تعالیٰ اس پر بھی فتح دے گا۔ نافع نے کہا کہ اے جابر بن سمرہ! ہم سمجھتے ہیں کہ دجال روم فتح ہونے کے بعد ہی نکلے گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يحكي الصحابي نافع بن عتبة -رضي الله عنه- أنه كان مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في غزوة، فجاء ناس من ناحية المغرب إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- يلبسون ثيابًا من الصوف، وكان النبي -صلى الله عليه وسلم- جالسا على مكان مرتفع، فوقفوا ورسول الله -صلى الله عليه وسلم- قاعد، فقال نافع لنفسه: لا تترك رسول الله بمفرده مع هؤلاء الغرباء، اذهب فكن معهم حتى لا يقتلوه ولا يراهم أحد. ثم قال لنفسه: لعله يكون يتكلم معهم كلام سر لا يريد أن يطلع عليه أحد. فما كان منه إلا أن ذهب فوقف بينهم وبينه -صلى الله عليه وسلم-، قال نافع: فحفِظتُ من رسول الله أربع جمل أُعدها على يدي، حيث أخبر -صلى الله عليه وسلم- أن المسلمين من بعده يقاتلون كفار العرب، فيدخل العرب كلهم في الإسلام، وتصير الجزيرة العربية كلها تحت حكم المسلمين، ثم أخبرهم أنهم يقاتلون الفرس فينتصرون عليهم، ويفتحون بلاد فارس كلها، ثم يقاتلون الروم فينتصرون عليهم، ويفتحون بلادهم، ثم يقاتلون الدَّجَّال فيجعله الله -تعالى- مقهورا مغلوبا. ثم قال نافع لجابر بن سمرة: يا جابر، لا أظن الدجال يخرج حتى تُفتح بلاد الروم.
وكلها قد وقعت وبقي قتال الدجال، وهذا يكون بين يدي الساعة، قريبا منها.
606;افع بن عتبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ﷺ کے پاس کچھ لوگ مغرب کی طرف سے آئے جو اونی کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ ایک ٹیلے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ لوگ کھڑے تھے اور رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے۔ میرے دل نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو اکیلے ان اجنبیوں کے ساتھ نہیں چھوڑنا چاہیے ۔تو بھی وہاں چل کہیں وہ آپ کو قتل نہ کر دیں اور ان کو کوئی دیکھ بھی نہ سکے۔ پھر میرے دل نے کہا کہ شاید آپ ﷺ چپکے سے کچھ باتیں کرنا چاہتے ہوں جو وہ کسی کو بتانا نہ چاہتے ہوں۔ پھر بھی میں وہاں چلا گیا اور ان لوگوں کے اور آپ ﷺ کے درمیان میں کھڑا ہو گیا۔ نافع کہتے ہیں کہ میں نے اس وقت آپ ﷺ سے چار باتیں یاد کیں، جن کو میں اپنے ہاتھ پر گنتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان پہلے تو عرب کے جزیرہ میں (کافروں سے) جہاد کریں گے، اور سارا عرب اسلام میں داخل ہو جائے گا اور سارے کا سارا جزیرہ عرب مسلمانوں کے زیرِ نگیں ہو گا۔ پھر انہیں بتایا کہ وہ پھر ملکِ فارس (ایران) سے جہاد کریں گے، ان کی مدد ہو گی اور پورے فارس پر فتحیاب ہو جائیں گے، پھر روم والوں سے جہاد کریں گے، پھر وہ ان پر غالب ہوں گے، اور ان کے شہروں کو فتح کر لیں گے ۔ پھر دجال سے لڑیں گے اللہ تعالیٰ اس کو بھی مقہور و مغلوب کر دے گا۔ پھرنافع نے جابر بن سمرہ سے کہا کہ :اے جابر! ہم سمجھتے ہیں کہ دجال روم فتح ہونے سے پہلے نہیں نکلے گا۔ اور (یہ) سب کچھ وقوع پذیر ہو گیا،صرف دجال کا قتل باقی ہے اور یہ قربِ قیامت کے وقت ہی ہو گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11219

 
 
Hadith   1860   الحديث
الأهمية: ليبلغن هذا الأمر ما بلغ الليل والنهار، ولا يترك الله بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله هذا الدين، بعز عزيز أو بذل ذليل، عزا يعز الله به الإسلام، وذلا يذل الله به الكفر


Tema:

یہ دین ہر اس جگہ تک پہنچ کر رہے گا جہاں دن اور رات کا چکر چلتا ہے اور اللہ کوئی کچا پکا گھر ایسا نہیں چھوڑے گا جہاں اس دین کو داخل نہ کر دے، خواہ اسے عزت کے ساتھ قبول کر لیا جائے یا اسے رد کر کے (دنیا و آخرت کی) ذلت قبول کرلی جائے، عزت وہ ہوگی جو اللہ اسلام کے ذریعے عطا کرے گا اور ذلت وہ ہوگی جس سے اللہ کفر کو ذلیل کر دے گا۔

عن تَميم الداري -رضي الله عنه-، قال: سمعتُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «ليَبْلغنَّ هذا الأمرُ ما بلغ الليلُ والنهارُ، ولا يترك اللهُ بيت مَدَر ولا وَبَر إلا أدخله الله هذا الدين، بعِزِّ عزيز أو بذُلِّ ذليل، عزا يُعِزُّ الله به الإسلام، وذُلا يُذل الله به الكفر» وكان تميم الداري، يقول: قد عرفتُ ذلك في أهل بيتي، لقد أصاب مَن أسلم منهم الخير والشرف والعز، ولقد أصاب من كان منهم كافرا الذل والصَّغَار والجِزية.

تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہر اس جگہ تک پہنچ کر رہے گا جہاں دن اور رات کا چکر چلتا ہے اور اللہ کوئی کچا پکا گھر ایسا نہیں چھوڑے گا جہاں اس دین کو داخل نہ کر دے، خواہ اسے عزت کے ساتھ قبول کر لیا جائے یا اسے رد کر کے (دنیا و آخرت کی) ذلت قبول کر لی جائے؛ عزت وہ ہوگی جو اللہ اسلام کے ذریعے عطا کرے گا اور ذلت وہ ہوگی جس سے اللہ کفر کو ذلیل کر دے گا۔ تمیم داری رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ اس فرمان رسول ﷺ کی صداقت میں نے اپنے خاندان میں دیکھی ہے کہ ان میں سے جو مسلمان ہوگیا، اسے خیر، شرافت اور عزت نصیب ہوئی اور جو کافر رہا، اسے ذلت، رسوائی اور جزیہ کا سامنا کرنا پڑا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن هذا الدين سوف يعم جميع أجزاء الأرض، فأي مكان وصله الليل والنهار سيصله هذا الدين، ولن يترك الله -تعالى- بيتًا في المدن والقرى ولا في البوادي والصحراء إلا أدخل عليه هذا الدين، فمن قبل هذا الدين وآمن به فإنه يكون عزيزًا بعزة الإسلام، ومن رفضه وكفر به فإنه يكون ذليلا مهانا. ويخبر الصحابي الجليل تميم الداري راوي هذا الحديث أنه عرف ذلك الذي أخبر به رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في أهل بيته خاصة، فإن من أسلم منهم ناله الخير والشرف والعز، ومن كفر منهم ناله الذل والهوان هذا مع ما يدفعه للمسلمين من أموال.
585;سول اللہ ﷺ خبر دے رہے ہیں کہ یہ دین زمین کے سارے حصوں میں پھیل جائے گا، جہاں کہیں بھی رات اور دن کا وجود ہو گا وہاں اللہ تعالٰی ضرور باضرور اس دین کو پہنچا کر رہے گا، اور کوئی گھر شہر میں یا قریہ ودیہات میں اور صحرا اور وادیوں میں ایسا نہ ہوگا لیکن اس میں اسلام کو داخل کر دے گا، تو جس نے بھی اس دین کو قبول کیا اور اس پر ایمان لایا، وہ اسلام کی عزت کی وجہ سے عزیز ہوگا اور وہ شخص جس نے اسلام کے اپنانے سے انکار اور کفر کیا، تو وہ ذلیل و رسوا ہوگا۔
تمیم داری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ باتیں جن کی خبر اللہ کے رسول ﷺ نے دی ہے خود اپنے خاندان میں ان کو جانا اور پہچانا ہے، یقیناً وہ لوگ جو ان میں سے مسلمان ہوئے انہیں بہت ساری بھلائی، عزت و مرتبہ ملا لیکن اُن میں سے جو لوگ کفر پر قائم رہے انہیں ذلت و رسوائی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو مال کی صورت میں خراج بھی دینا پڑتا تھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11220

 
 
Hadith   1861   الحديث
الأهمية: عصابتان من أمتي أحرزهما الله من النار: عصابة تغزو الهند، وعصابة تكون مع عيسى ابن مريم -عليهما السلام-


Tema:

میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ نے جہنم سے محفوظ رکھا ہے۔ ایک گروہ وہ جو ہند پر لشکر کشی کرے گا اور ایک گروہ وہ ہو گا جو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہو گا۔

عن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم مرفوعًا: «عِصابتان من أُمَّتي أحرزهما اللهُ من النار: عصابةٌ تغزو الهندَ، وعصابةٌ تكون مع عيسى ابن مريم عليهما السلام».

رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جنھیں اللہ نے جہنم سے محفوظ کردیا ہے؛ ایک گروہ وہ جو ہند پر لشکر کشی کرے گا اور ایک گروہ وہ ہو گا جو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہو گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جماعتان من أمة محمد -صلى الله عليه وسلم- حفظهما الله من النار، جماعة تغزو بلاد الهند فتقاتل الكفار في سبيل الله، وجماعة تكون مع عيسى ابن مريم -عليه السلام- حينما ينزل آخر الزمان، بعد خروج الدجال، فيقتله عيسى -عليه السلام-.
605;حمد ﷺ کی امت کے دو گروہ ایسے ہیں جنھیں اللہ نے جہنم سے محفوظ کر رکھا ہے؛ ایک گروہ وہ جو ہند پر لشکر کشی کرے گا اور اللہ کی راہ میں کفار سے جہاد کرے گا اور دوسرا گروہ وہ جو عیسی علیہ السلام کا ساتھ دے گا جب کہ وہ آخری زمانے میں دجال کے خروج کے بعد (آسمان سے) نازل ہوں گے اور اسے قتل کریں گے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11221

 
 
Hadith   1862   الحديث
الأهمية: لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا الترك: صغار الأعين، حمر الوجوه، ذلف الأنوف، كأن وجوههم المجان المطرقة، ولا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما نعالهم الشعر


Tema:

قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کر لو، جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، چہرے سرخ ہوں گے، ناک چھوٹی اور چپٹی ہو گی اوران کے چہرے ایسے ہوں گے کہ گویا چمڑا لگی ڈھال ہو، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کر لو، جن کے جوتے بال کے بنے ہوئے ہوں گے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا تقومُ الساعةُ حتى تُقاتلوا التُّرْكَ: صِغارَ الأَعين، حُمْرَ الوجوه، ذُلْفَ الأنوف، كأنَّ وجوهَهم المِجانُّ المُطْرَقة، ولا تقومُ الساعةُ حتى تقاتلوا قومًا نِعالُهم الشَّعر».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کر لو، جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، چہرے سرخ ہوں گے، ناک چھوٹی اور چپٹی ہو گی اوران کے چہرے ایسے ہوں گے کہ گویا چمڑا لگی ڈھال ہو، اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کر لو، جن کے جوتے بال کے بنے ہوئے ہوں گے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لا تقوم الساعة حتى يقاتل المسلمون الترك، ومن صفتهم: أن أعينهم صغيرة، ووجوههم بيضاء مشربة بحمرة لغلبة البرد على أجسامهم، وأنوفهم قصيرة منبطحة، ووجوههم تشبه الترس في انبساطها وتدويرها، وتشبه المطرقة؛ لغلظها وكثرة لحمها، ولا تقوم الساعة حتى يقاتل المسلمون قوما يمشون في نعال من الشعر، وهم الترك أنفسهم، ولكنه ذكرهم بصفة أخرى.
602;یامت اس وقت تک نہیں آئے گی، جب تک مسلمان ترکوں سے جنگ نہ کرلیں، جن کا حلیہ یہ ہوگا کہ ان کی آنکھیں چھوٹی اور چہرے سرخی مائل سفید ہوں گے، کیوںکہ ان کے جسموں پر سردی کے اثرات کا غلبہ ہو گا اور ان کی ناک چھوٹی اور پھیلی ہوئی ہو گی اور ان کے چہرے پھیلاؤ اور گولائی میں ڈھال سے مشابہہ ہوں گے اور موٹاپے اور گوشت کی زیادتی کی وجہ سے چمڑے سے لپٹی ہوئی ڈھال کے طرح معلوم ہوں گے۔ اسی طرح قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی، جب تک مسلمان ایک ایسی قوم سے نہ لڑ لیں جو بالوں کے جوتے پہنے گی۔ یہ بھی ترک ہی ہیں لیکن آپ ﷺ نے ان کا ذکر ایک اور صفت کے ساتھ کیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11222

 
 
Hadith   1863   الحديث
الأهمية: لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا خوزا، وكرمان من الأعاجم: حمر الوجوه، فطس الأنوف، صغار الأعين، وجوههم المجان المطرقة، نعالهم الشعر


Tema:

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم ایرانیوں کے شہر خوز اور کرمان والوں سے جنگ نہ کر لو گے۔ چہرے ان کے سرخ ہوں گے۔ ناک چپٹی ہو گی۔ آنکھیں چھوٹی ہوں گی اور چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بہ تہ ڈھال ہوتی ہے اور ان کے جوتے بالوں والے ہوں گے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «لا تقوم الساعة حتى تُقاتِلوا خُوزًا وكِرْمان من الأعاجم، حُمْر الوجوه، فُطْس الأُنوف، صِغار الأعين، وجوههم المِجَانُّ المُطْرَقة، نعالهم الشعر».

ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم ایرانیوں کے شہر خوز اور کرمان والوں سے جنگ نہ کر لو گے۔ چہرے ان کے سرخ ہوں گے۔ ناک چپٹی ہو گی۔ آنکھیں چھوٹی ہوں گی اور چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بہ تہ ڈھال ہوتی ہے اور ان کے جوتے بالوں والے ہوں گے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لا تقوم الساعة حتى يقاتل المسلمون أهل خوز وكرمان من بلاد العجم، ومن صفتهم أن وجوههم بيضاء مشربة بحمرة؛ لغلبة البرد على أجسامهم، وأنوفهم منبطحة، وأعينهم صغيرة، ووجوههم تشبه الترس في انبساطها وتدويرها، وتشبه المطرقة لغلظها وكثرة لحمها، يمشون في نعال من الشعر.
602;یامت اس وقت تک نہ آئےگی جب تک کہ مسلمان بلادِ عجم (ایران) کے خوز اور کرمان کے لوگوں سے جنگ نہ کر لیں۔ ان کا حلیہ یہ ہوگا کہ ان کے چہرے، ان کےجسموں پر سردی کے غلبے کی وجہ سے، سفید سُرخی مائل ہوں گے، ان کی ناک چپٹی (بیٹھی ہوئی) اور آںکھیں چھوٹی ہوں گی، ان کے چہرے گولائی اور کشادگی میں ڈھال کی مانند ہوں گے۔ نیز موٹے اور زیادہ گوشت والے ہونے کی وجہ سے تہ بہ تہ چمڑے کی ڈھال کے مشابہ ہوں گے۔۔ وہ بالوں کی جوتیاں پہن کر چلیں گے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11223

 
 
Hadith   1864   الحديث
الأهمية: والذي نفسي بيده ليأتين على الناس زمان لا يدري القاتل في أي شيء قتل، ولا يدري المقتول على أي شيء قتل


Tema:

اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ قاتل کو پتہ نہیں ہوگا کہ اس نے کس بنا پر قتل کیا اور مقتول کو پتہ نہیں ہوگا کہ اس کا کس بنا پر قتل ہوا

عن أبي هريرة، قال: قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «والذي نفسي بيده ليأتينَّ على الناس زمانٌ لا يدري القاتلُ في أيِّ شيء قَتَل، ولا يدري المقتولُ على أيِّ شيء قُتِل».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ قاتل کو پتہ نہیں ہوگا کہ اس نے کس بنا پر قتل کیا اور مقتول کو پتہ نہیں ہوگا کہ اس کا کس بنا پر قتل ہوا"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يحلف النبي -صلى الله عليه وسلم- بالله الذي يملك نفسه -صلى الله عليه وسلم- أنه سيأتي على الناس زمانٌ لا يدري القاتلُ لماذا قَتَل، ولا يدري المقتولُ لماذا قُتِل، وذلك لكثرة القتل.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی، جو آپ کی جان کا مالک ہے، قسم کھاکر بتایا ہے کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ قتل کی واردات بہت زیادہ بڑھ جائے گی، یہاں تک کہ قاتل کو پتہ نہیں ہوگا کہ اس نے کیوں قتل کیا اور مقتول کو بھی پتہ نہیں ہوگا کہ اسے کس جرم میں قتل کیا گيا۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11227

 
 
Hadith   1865   الحديث
الأهمية: صلى النبي -صلى الله عليه وسلم- إحدى صلاتي العشي -قال محمد: وأكثر ظني العصر- ركعتين، ثم سلم، ثم قام إلى خشبة في مقدم المسجد، فوضع يده عليها


Tema:

نبی ﷺ نے شام کی دو نمازوں میں سے ایک نماز – محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میرا غالب گمان ہے کہ وہ عصر کی نماز تھی- دو رکعت پڑھی، پھر سلام پھیرديا، پھر آپ ﷺ مسجد کے اگلے حصے میں نصب شدہ لکڑی کے ساتھ جا کھڑے ہوئے اور اپنا ہاتھ اس پر رکھ لیا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: صَلَّى النبي -صلى الله عليه وسلم- إِحْدَى صَلاَتَيِ العَشِيّ -قال محمد: وَأَكْثَرُ ظَنِّي العصر- رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثم قام إلى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ المَسْجِدِ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا، وفيهم أبو بكر، وعمر -رضي الله عنهما-، فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ، وخرج سَرَعَانُ النَّاسِ فَقَالُوا: أَقَصُرَتِ الصلاة؟ وَرَجُلٌ يَدْعُوهُ النبي -صلى الله عليه وسلم- ذُو اليَدَيْنِ، فَقَالَ: أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتْ؟ فَقَالَ: لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ، قَالَ: «بَلَى قَدْ نَسِيتَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَكَبَّرَ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ، فكبر، فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ».

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے شام کی دو نمازوں میں سے ایک نماز (محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میرا غالب گمان ہے کہ وہ عصر کی نماز تھی) دو رکعت پڑھی، پھر سلام پھیرديا، پھر آپ ﷺ مسجد کے اگلے حصے میں نصب شدہ لکڑی کے ساتھ جا کھڑے ہوئے اور اپنا ہاتھ اس پر رکھ لیا۔ لوگوں میں ابو بکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی موجود تھے، لیکن وہ دونوں آپ ﷺ سے بات کرنے سے ڈرے، اور جلدباز لوگ (مسجد سے) باہر نکلے اور کہنے لگے: کیا نماز کم کردی گئی ھے؟ ان ميں ایک شخص جسے نبی ﷺ ذوالیدین کہتے تھے، اس نے کہا: (اے اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم) کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کردی گئی ھے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز ميں کمى كى گئی ہے۔ ذوالیدین نے کہا: كيوں نہیں، يقيناً آپ بھول گئے ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر سلام پھیرا، پھر تکبیر کہہ كر اپنے معمول کے سجدوں کی طرح یا اس سے بھی لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور تکبیر كہی، پھر اپنا سر زمين پر ركها اور تکبیر كہی اور اپنے معمول کے سجدوں کی طرح یا اس سے بھی لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور تکبیر كہی۔'

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف ما على المصلي فعله إذا نسي وأنقص في صلاته؛ بأنه يكمل ما تبقى عليه ثم يسلم ثم يسجد سجدتين للسهو تجبر ما حصل، ويروي أبو هريرة، -رضى الله عنه-، أن النبي -صلى الله عليه وسلم-، صلى بأصحابه إما صلاة الظهر أو العصر، فلما صلى الركعتين الأوليين سلّم.
ولما كان -صلى الله عليه وسلم- كاملا، لا تطمئن نفسه إلا بالعمل التام، شعر بنقص وخلل، لا يدرى ما سببه.
فقام إلى خشبة في المسجد واتكأ عليها كأنه غضبان، وَشبَّك بين أصابعه، لأن نفسه الكبيرة تحس بأن هناك شيئا لم تستكمله.
وخرج المسرعون من المصلين من أبواب المسجد، وهم يتناجون بينهم، بأن أمراً حدث، وهو قصر الصلاة، وكأنهم أكبروا مقام النبوة أن يطرأ عليه النسيان.
ولهيبته -صلى الله عليه وسلم- في صدورهم لم يَجْرُؤ واحد منهم أن يفاتحه في هذا الموضوع، بما في ذلك أبو بكر، وعمر -رضي الله عنهما-.
إلا أن رجلا من الصحابة يقال له "ذو اليدين" قطع هذا الصمت بأن سأل النبي -صلى الله عليه وسلم- بقوله: يا رسول الله، أنسيت أم قصرت الصلاة؟
فقال صلى الله عليه وسلم -بناء على ظنه-: لم أنس ولم تقصر.
حينئذ لما علم ذو اليدين -رضي الله عنه-  أن الصلاة لم تقصر، وكان متيقنا أنه لم يصلها إلا ركعتين، فعلم أنه -صلى الله عليه وسلم- قد نَسِيَ، فقال: بل نسيت.
فأراد -صلى الله عليه وسلم- أن يتأكد من صحة خبر ذي اليدين، فقال لمن حوله من أصحابه: أكما يقول ذو اليدين من أني لم أصل إلا ركعتين؟ فقالوا: نعم، حينئذ تقدم -صلى الله عليه وسلم-، فصلى ما ترك من الصلاة.
وبعد التشهد سلم ثم كبر وهو جالس، و سجد مثل سجود صُلْب الصلاة أو أطول، ثم رفع رأسه من السجود فكَبَّرَ، ثم كبر وسجد مثل سجوده أو أطول، ثم رفع رأسه وكبر، ثم سلم ولم يتشهد.
575;س حديث میں يہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر نمازی بھول کر اپنی نماز ميں کوئی کمی کر دے تو وہ کيا کرے؛ اسے چاہيے کہ وہ اپنی بقیہ نماز پوری کرے، پھر سلام پھیر دے، اس کے بعد سہو کے دو سجدے کرے، جو نماز ميں واقع ہونے والی کمی کو پورا کر دیں گے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے ساتھيوں کو ظہر يا عصر کي نماز پڑهائی۔ جب آپ ﷺ نے پہلی دو رکعتیں پڑھ لیں تو سلام پھیر دیا۔ لیکن چونکہ آپ صلی اللہ عليہ وسلم انسان کامل تھے، آپ کے دل کو صرف مکمل عمل ہی سے اطمئنان حاصل ہوتا تھا، آپ کو نماز ميں کچھ کمی وخلل کا احساس ہوا، ليکن آپ کو اس کا سبب معلوم نہ تھا۔ چنانچہ آپ بے قرار دل کے ساتھ مسجد میں نصب ایک لکڑی کے ساتھ جا کھڑے ہوئے اور اس سے ٹيک لگا لیا، اور اپنے ایک ہاتھ کی انگليوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں ميں داخل کیا۔ کیوں کہ آپ صلی اللہ عليہ وسلم کو ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی چيز رہ گئی ہے جس کو آپ نے مکمل نہيں کيا ہے۔ جلدباز نمازی مسجد کے دروازوں سے نکل گئے اور وہ آپس ميں سرگوشی کر رہے تھے کہ کوئی معاملہ پیش آیا ہے اور وہ یہ کہ نماز کم کردی گئی ہے، گويا کہ وہ يہ سمجھ رہے تھے کہ نبی ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ عليہ وسلم پر نسیان نہيں طاری ہو سکتی۔ اور ان کے دلوں میں آپ صلی اللہ عليہ وسم کی ہیبت کیوجہ سے کسی کی ہمت نہيں ہوئی کہ اس معاملہ میں آپ سے زبان کھولے، حالانکہ ان میں ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ عليہ وسلم کے ساتھيوں ميں ایک شخص، جسے لوگ ذوالیدین کہتے تھے، اس چپی کو توڑتے ہوئے عرض کيا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کردی گئی؟ تو آپ ﷺ نے - اپنے گمان کے مطابق - فرمایا: نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کم ہوئی ہے۔ اس وقت جب ذواليدين کو معلوم ہوگیا کہ نماز کم نہيں کی گئی ہے اور ان کو یقین تھا کہ آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے صرف دو ہی رکعتیں پڑھی ہیں، تو وہ سمجھ گئے کہ آپ ﷺ بھول گئے ہیں، لہٰذا انہوں نے کہا :بلکہ آپ بھول گئے ہيں۔ آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے ذو الیدین کی خبر کی صحت کی تاکید کے لیے اپنے ارد گرد موجود صحابہ سے پوچھا: کيا ذو اليدين جو کہہ رہے ہيں وہ سچ ہے کہ ميں نے صرف دو ہی رکعت نماز پڑھی ہے؟ صحابہ کرام نے جواب ديا: ہاں۔ اس وقت اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم آگے بڑھے اور جو نماز چھوٹ گئی تھی اسے پڑھی، اور تشہد کے بعد سلام پھیرا، پھر بيٹھے ہوئے تکبیر کہی اور اصل نماز کے سجدے کے مثل یا اس سے بھی لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی، پھر تکبیر کہی اور دوسرے سجدے کے مثل یا اس سے بھی لمبا سجدہ کیا پھر اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی، پھر سلام پھیرا اور تشہد ميں نہيں بيٹھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11229

 
 
Hadith   1866   الحديث
الأهمية: إذا شك أحدكم في صلاته، فلم يدر كم صلى ثلاثا أم أربعا؟ فليطرح الشك وليبن على ما استيقن، ثم يسجد سجدتين قبل أن يسلم، فإن كان صلى خمسا شفعن له صلاته، وإن كان صلى إتماما لأربع؛ كانتا ترغيما للشيطان.


Tema:

جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ تین یا چار ؟ تو وہ شک کو چھوڑ دے اور جتنی رکعتوں پر اسے یقین ہے ان پر اعتماد کرے پھر سلام سے پہلے دو سجدے کرلے، اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لی ہیں تو یہ سجدے اس کی نماز کو جفت (چھ رکعتیں) کردیں گے اور اگر پوری چار رکعات پڑھی ہوں تو یہ سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوں گے۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم-: «إذا شك أحَدُكم في صلاته، فلم يَدْرِ كم صلى ثلاثا أم أربعا؟ فَلْيَطْرَحِ الشك وَلْيَبْنِ على ما اسْتَيْقَنَ، ثم يسجد سجدتين قبل أن يُسَلِّمَ، فإن كان صلى خمسا شَفَعْنَ له صَلَاته، وإن كان صلى إِتْمَاماً لِأْرْبَعٍ؛ كانتا تَرْغِيمًا للشيطان».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ تین یا چار ؟ تو وہ شک کو چھوڑ دے اور جتنی رکعتوں پر اسے یقین ہے ان پر بنیاد رکھے پھر سلام سے پہلے دو سجدے کرلے، اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لی ہیں تو یہ سجدے اس کی نماز کو جفت (چھ رکعتیں) کردیں گے اور اگر پوری چار رکعات پڑھی ہوں تو یہ سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوں گے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف كيفية التعامل مع الشكوك التي ترد للمسلم حال الصلاة، وذلك أن يبني على اليقين، فإن كان الشك في عدد الركعات فاليقين العدد الأقل، ثم يسجد سجدتين للسهو قبل السلام.
ففي الحديث عن أبي سعيد قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا شك أحدكم في صلاته" أي: تردد بلا رجحان فإنه مع الظن يبني عليه، "فلم يدر كم صلى ثلاثا أو أربعا؟" أي: مثلا "فليطرح الشك"، أي: ما يشك فيه وهو الركعة الرابعة "ولْيَبْنِ على ما استيقن" أي: علمه يقينا، وهو ثلاث ركعات.
قوله: "ثم يسجد سجدتين  قبل أن يسلم"، هذا الأفضل أن يكون السجود قبل السلام.
قوله: "فان كان صلى خمسا" تعليل للأمر بالسجود، أي: فإن كان ما صلاه في الواقع أربعا فصار خمسا بإضافته إليه ركعة أخرى، "شَفَعْنَ له صلاته"، أي: السجدتان تشفعان له الصلاة؛ لأنها بمقام ركعة، والصلاة التي يصليها في أصلها شفع وليست وتر؛ لأنها أربع ركعات على المثال المضروب في الحديث، وقوله: "وإن كان صلى إتماما لأربع"، إن كان صلى أربعا في الواقع فيكون قد أدى ما عليه من غير زيادة ولا نقصان.
قوله: "كانتا ترغيما للشيطان"، أي: وإن صارت صلاته بتلك الركعة أربعا كانتا، أي: السجدتان ترغيما، أي: إذلالا للشيطان، والله أعلم.
581;دیث شریف مسلمان کی اس حالت کو بیان کر رہی ہے جو دورانِ نماز شک ہوجانے پر وہ کرتا ہے۔ اس صورت میں وہ یقین پر اپنے نماز کی بِنا کرے، اگر رکعات کی تعداد میں شک ہو تو کم عدد پر یقین کرکے سلام سے پہلے سہو کے دوسجدے کر لے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت حدیث ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے“ یعنی بغیر کسی ترجیح کے جب تردد میں پڑ جائے تو وہ غالب گمان کے مطابق بِنا کرے گا، مثال کے طور پر اسے رکعات کی تعداد معلوم نہ ہو کہ تین رکعتیں ہوئی ہیں یا چار، ”شک کو چھوڑ دو“ یعنی چوتھی رکعت کے ہونے اور نہ ہونے میں شک ہے، ”اور جتنی رکعتوں پر اسے یقین ہے ان پر بنیاد رکھے“ یعنی تین رکعات جن کا اسے یقینی علم ہے اس پر باقی نماز پڑھے۔”پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے“ یہ افضل ہے کہ سجدے سلام سے پہلے ہوں۔
”اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لی ہیں“ اس میں دو سجدوں کی علت بیان کی گئی ہے یعنی اگر اس نے حقیقت میں چار رکعات پڑھی ہیں تو ایک رکعت زیادہ پڑھنے کی وجہ سے وہ پانچ رکعات ہوگئی اوردو سجدے چونکہ ایک رکعت کے قائم مقام ہیں اس لیے اس کی نماز کے رکعات کی تعداد جفت ہوگئی اور اس کی نماز اصل میں جفت ہے طاق نہیں۔اس لیے کہ حدیث میں مذکور مثال میں چار رکعات بیان کی گئی ہیں۔"وإن كان صلى إتماما لأربع" یعنی درحقیقت اگر نماز اس نے چار رکعات پڑھی ہوں تو بغیر کسی زیادتی اور نقصان کے اس نے اپنی نماز ادا کرلی۔
”تو یہ سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوں گے“ یعنی اگر اس کی نماز اصل میں چار رکعات ہے تو دو سجدے شیطان کی ذلّت کا باعث بنیں گے۔ والله أعلم۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11231

 
 
Hadith   1867   الحديث
الأهمية: إنه لو حدث في الصلاة شيء لنبأتكم به، ولكن إنما أنا بشر مثلكم، أنسى كما تنسون، فإذا نسيت فذكروني، وإذا شك أحدكم في صلاته، فليتحر الصواب فليتم عليه، ثم ليسلم، ثم يسجد سجدتين


Tema:

اگر نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہوتا تو میں تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہوتا لیکن میں تو تمہارے ہی جیسا ایک انسان ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔ اس لیے جب میں بھول جایا کروں تو تم مجھے یاد دِلا دیا کرو اور اگر کسی کو نماز میں شک ہو جائےتو سوچ کر درست کیا ہے، اُسے معلوم کرے اور اسی کے مطابق نماز پوری کرے پھر سلام پھیر کر (سہو کے ) دو سجدے کر لے۔

عن عبد الله بن مسعود -رضي الله عنه- قال: صلى النبي -صلى الله عليه وسلم- -قال إبراهيم: لا أدري زاد أو نقص- فلما سلم قيل له: يا رسول الله، أحَدَثَ في الصلاة شيء؟ قال: «وما ذاك»، قالوا: صليتَ كذا وكذا، فَثَنَّى رِجليْهِ، واستقبل القبلة، وسَجَدَ سجدتين، ثم سلم، فلما أقبل علينا بوجهه، قال: «إنه لو حَدَثَ في الصلاة شيءٌ لنَبَّأَتُكُم به، ولكن إنما أنا بَشَرٌ مثلكم، أنسى كما تَنْسَوْن، فإذا نسَيِتُ فذَكِّرُوني، وإذا شَكَّ أحدكم في صلاته، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فليُتِمَّ عليه، ثم ليسلم، ثم يسجد سجدتين».

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ:نبی ﷺ نے نماز پڑھائی، -ابراہیم نے کہا مجھے نہیں معلوم کہ نماز میں زیادتی ہوئی یا کمی- پھر جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو آپ سے کہا گیا کہ اے اللہ رسول! کیا نماز میں کوئی نیا حکم آیا ہے؟ آپ ﷺ نے کہا:آخر کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے اپنے دونوں پاؤں پھیرے اور قبلہ کی طرف منہ کر لیا اور ( سہو کے ) دو سجدے کیے اور سلام پھیرا۔ پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اگر نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہوتا تو میں تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہوتا لیکن میں تو تمہارے ہی جیسا انسان ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھولتا ہوں۔اس لیے جب میں بھول جایا کروں تو تم مجھے یاد دِلا دیا کرو اور اگر کسی کو نماز میں شک ہو جائےتو سوچ کر درست کیا ہے، اسے معلوم کرے اور اسی کے مطابق نماز پوری کرے پھر سلام پھیر کر (سہو کے) دو سجدے کر لے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف  أن النبي -صلى الله عليه وسلم- صلى بهم صلاة زاد فيها أو نقص، فسأله الصحابة هل حدث في الصلاة تغيير؟ فأخبرهم بأنه لو حدث فيها شيء لأخبرهم، ثم ذكر أنه بشر مثلنا ينسى لزيادته في الصلاة أو نقصانه، ثم ذكر الحكم فيمن زاد أو نقص في الصلاة ناسياً ثم ذكر أن يتحقق من عدد الركعات ثم يتم إن كان فيها نقص أو يسجد سجدتين للسهو ثم يسلم منهما.
575;س حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو نماز پڑھائی اس میں کمی بیشی ہو گئی۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا نماز میں کسی تبدیلی کا حکم آ گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تمہیں ضرور بتا دیتا پھر انھیں بتایا کہ وہ بھی ان جیسے انسان ہیں اور نماز میں کمی بیشی کے اعتبار سے بھول سکتے ہیں۔ پھر یہ حکم بیان کیا کہ جو شخص بھول کر نماز میں کمی بیشی کر بیٹھے تو پھر ادا شدہ عدد رکعات کو یقینی کر لے اور اگر اس میں نقص آ گیا ہے تو اس کے مطابق نماز پوری کرے اور سہو کے دو سجدے کرکے سلام پھیر دے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11232

 
 
Hadith   1868   الحديث
الأهمية: صلى بنا المغيرة بن شعبة فنهض في الركعتين، قلنا: سبحان الله، قال: سبحان الله ومضى، فلما أتم صلاته وسلم، سجد سجدتي السهو، فلما انصرف، قال: رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يصنع كما صنعت


Tema:

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، تو وہ دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہو گئے۔ ہم نے ”سبحان اللہ“ کہا، تو انھوں نے بھی ”سبحان اللہ“ کہا اور کھڑے رہے۔ جب نماز پوری کر لی اور سلام پھیر لیا، تو سہو کے دو سجدے کیے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ویسا ہی کیا تھا جیسا میں نے کیا ہے۔

عن زياد بن علاقة قال: صَلَّى بِنَا المغيرة بنُ شُعْبَةَ فَنَهَضَ في الركعتين، قلنا: سبحان الله، قال: سبحان الله وَمَضَى، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ، سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: «رَأَيْتُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ».

زیاد بن علاقہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، تو وہ دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہو گئے۔ ہم نے ”سبحان اللہ“ کہا، تو انھوں نے بھی ”سبحان اللہ“ کہا اور کھڑے رہے۔ جب نماز پوری کر لی اور سلام پھیر لیا، تو سہو کے دو سجدے کیے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے، تو کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ویسا ہی کیا تھا، جیسا میں نے کیا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث من فعل المغيرة بن شعبة -رضي الله عنه- أنه سها في صلاته، فلم يتشهد وسبح خلفه الناس ففطن، ولكنه أكمل صلاته، وبعد السلام سجد سجدتين للسهو؛ وعزا فعله ذاك لفعل الرسول -صلى الله عليه وسلم-.
الأصح أن سجود السهو يكون قبل السلام؛ لحديث عبد الله بن مالك ابن بحينة، متفق عليه.
575;س حدیث میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے فعل کو بیان کیا جا رہا ہے کہ وہ (ایک مرتبہ) نماز میں (کچھ) بھول گئے، ان کے پیچھے موجود مقتدیوں نے ”سبحان اللہ“ کہا، وہ سمجھ تو گئے، لیکن نماز مکمل کر لی اور سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔ اور اپنے اس فعل کی نسبت رسول اللہ ﷺ کے فعل کی طرف کی۔
لیکن صحیح یہ ہے کہ سجدۂ سہو سلام سے پہلے ہے، جیسا کہ عبداللہ بن مالک بن بحینہ کی روایت میں ہے۔ (متفق علیہ)

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11234

 
 
Hadith   1869   الحديث
الأهمية: لكل سهو سجدتان بعدما يسلم


Tema:

(نماز میں) ہر سہو (بھول چوک) پر سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔

عن ثوبان -رضي الله عنه-: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لكل سهو سجدتان بعدما يُسَلِّمُ».

ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”(نماز میں) ہر سہو (بھول چوک) پر سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
المراد بذلك: أن أي سهو يقع في الصلاة بزيادة، أو نقص، أو شك؛ فإنه يوجب سجود السهو، والحديث من أدلة من يرى أن سجود السهو بعد السلام؛ والجمع بين الأدلة في هذا الباب يقتضي أن السجود الذي بعد السلام في حالتين: إذا سلم عن نقص، وإذا شك وبنى على غالب ظنه، وما عاداهما يكون قبل السلام.
575;س سے مراد یہ ہے کہ کوئی بھی سہو نماز میں ہو جائے زیادتی، کمی یا شک کی صورت میں تو اس پر سجدۂ سہو کرنا واجب ہے، یہ حدیث ان لوگوں کے دلائل میں سے ہے جو یہ کہتے ہیں کہ سجدہ سہو سلام پھیرنے کے بعد ہے۔ اس مسئلہ میں تمام دلیلوں کے درمیان جمع کی صورت یہ ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو دو صورتوں میں ہے: پہلی صورت جب اس نے سلام پھیرا دیا جب کہ اس نماز میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ دوسری صورت جب اسے شک ہوا اور غالب گمان کا خیال کرتے ہوئے مکمل کیا ان دو صورتوں کے علاوہ سجدہ سہو سلام پھیرنے سے پہلے ہو گا۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11236

 
 
Hadith   1870   الحديث
الأهمية: أن أبا هريرة قرأ لهم: إذا السماء انشقت فسجد فيها، فلما انصرف أخبرهم أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- سجد فيها


Tema:

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے سورہ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ﴾ پڑھی اور اس میں سجدہ کیا، پھر جب سلام پھیرا تو انھیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سورت میں سجدہ کیا تھا۔

عن أبي رافع أن أبا هريرة -رضي الله عنه- قرأ لهم: «إذا السماء انْشَقَّتْ» فسجد فيها، فلما انصَرَفَ أخبرهم أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- سجد فيها.

ابو رافع بیان کرتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے سورہ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ﴾ پڑھی اور اس میں سجدہ کیا، پھر جب سلام پھیرا تو انھیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سورت میں سجدہ کیا تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكر  أبو هريرة -رضي الله عنه- أنه  قرأ سورة الانشقاق، فسجد فيها عند قوله تعالى: (وإذا قُرِىءَ عليهم القرآن لا يسجدون).
"فقيل له في ذلك" أي: فأنْكَر عليه أبو رافع -رضي الله عنه- السجود فيها، كما في رواية أخرى عن أبي رافع -رضي الله عنه-، قال: "فقلت ما هذه السجدة؟" وإنما أنكر عليه لما روي عنه -صلى الله عليه وسلم- أنّه لم يسجد في المفصل منذ تحوله إلى المدينة.
فقال أبو هريرة -رضي الله عنه-: "لو لم أر النبي -صلى الله عليه وسلم- يسجد لم أسجد" أي وإنما سجدت اقتداءً به -صلى الله عليه وسلم-.
575;بو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے سورہ انشقاق پڑھی اور جب اس آیت پر پہنچے ﴿وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ ۩﴾ تو سجدہ کیا ۔تو اس پر ان پر اعتراض کیا گیا۔ یعنی ابو رافع رضی اللہ عنہ نے اس سورہ میں سجدہ (تلاوت) سے اختلاف کیا جیسا کہ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ابو رافع نے کہا ”میں نے سوال کیا کہ یہ کس بات کا سجدہ ہے؟“ اورانھوں نے ان کا اس لیے انکار کیا کیونکہ رسول ﷺ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے مدینہ آنے کے بعد مفصلات میں سجدہ نہیں کیا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں نے نبی کریم ﷺ کو سجدہ کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی نہ کرتا۔ یعنی میں نے صرف رسول اللہﷺ کی پیروی کرتے ہوئے سجدہ کیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11237

 
 
Hadith   1871   الحديث
الأهمية: ص ليس من عزائم السجود، وقد رأيت النبي -صلى الله عليه وسلم- يسجد فيها


Tema:

سورۃ ص کا سجدہ کچھ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں ہے حالانکہ میں نے یہاں نبی ﷺ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- قال: «ص ليس من عَزَائِمِ السُّجود، وقد رأيت النبي -صلى الله عليه وسلم- يَسجد فيها».

ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں: سورۃ ص کا سجدہ کچھ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں ہے حالانکہ میں نے یہاں نبی ﷺ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى حديث: "ص ليس من عَزَائِمِ السُّجود" أن سجدة التلاوة التي في سورة ص سنة غير واجبة؛ لأنه لم يرد فيها أَمر على تأكيد فعلها، بل الوارد بصيغة الإخبار؛ بأنَّ داود -عليه الصلاة والسلام- فعلها توبة لله -تعالى-، وسَجَدَها نبيُّنَا -صلى الله عليه وسلم- شكرا؛ لمَّا أنْعَم اللَّهُ على داودَ -عليه الصلاة والسلام- بالغُفْرَان، ويدل له ما رواه النسائي، أنَّه -صلى الله عليه وسلم- قال: (سجدها داود توبة، ونسْجُدها شكرًا).

Esin Hadith Caption Urdu


”سورہ ص کا سجدہ کچھ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ سورہ ص میں جو سجدۂ تلاوت ہے وہ واجب نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کے کرنے پر کوئی تاکیدی حکم وارد نہیں ہوا، بلکہ خبر دینے کے الفاظ میں اس کا کرنا وارد ہوا ہے کہ داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتے ہوئے یہ سجدہ فرمایا تھا، جب اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام کی توبہ قبول کرکے ان کی مغفرت کے ذریعے ان پر انعام فرمایا تو آپ ﷺ نے شکریہ کے طور پر یہ سجدہ ادا فرمایا۔ سنن نسائی کی روایت بھی اس پر دلالت کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”سَجَدَهَا دَاوُدُ تَوْبَةً وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا“ یعنی ”داود علیہ السلام نے یہ سجدہ توبہ کے لیے کیا تھا اور ہم یہ سجدہ (توبہ کی قبولیت پر) شکر ادا کرنے کے لیے کر رہے ہیں“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11238

 
 
Hadith   1872   الحديث
الأهمية: قرأت على النبي -صلى الله عليه وسلم- والنجم فلم يسجد فيها


Tema:

میں نے آپ ﷺ کے سامنے سورۃ النجم پڑھی، آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔

عن زيد بن ثابت -رضي الله عنه- قال: «قَرأت على النبي -صلى الله عليه وسلم- والنَّجم فلم يسجد فيها».

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے سامنے سورۃ النجم پڑھی، آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن زيد بن ثابت -رضي الله عنه- قرأ على النبي -صلى الله عليه وسلم- سورة النَّجم، فلما مَرَّ بآية السجود لم يسجد فيها.
وترك السجود فيها في هذه الحالة لا يدل على تركه مطلقا؛ لاحتمال أن يكون السبب في الترك إذ ذاك لبيان الجواز، وهذا أرجح الاحتمالات وبه جزم الشافعي؛ لأنه لو كان واجبا لأمره بالسجود ولو بعد ذلك.
586;ید بن ثابت رضی اللہ نے آپ ﷺ کے سامنے سورۃ النجم پڑھی، جب سجدے کی آیت پر گزرے تو آپ ﷺ نے سجدہ نہیں کیا۔
یہاں پر سجدہ نہ کرنا اس بات پر دلیل نہیں کہ آپ نے مطلقاً سجدہ نہیں کیا، اس لیے کہ ممکن ہے یہ بیانِ جواز کے لیے ہو۔ یہ سب سے راجح احتمال ہے۔ اسی کو امام شافعی رحمہ اللہ نے یقین سےفرمایا ہے۔ اس لیے کہ اگر یہ واجب ہوتا تو آپ اسے کرنے کا حکم دیتے، اگرچہ بعد میں دیتے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11240

 
 
Hadith   1873   الحديث
الأهمية: قلت لرسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أفي سورة الحج سجدتان؟ قال: نعم، ومن لم يسجدهما، فلا يقرأهما


Tema:

میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ: کیا سورۃ الحج میں دو سجدے ہیں؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ: ہاں، اور جو ان دو سجدوں کو نہیں کرنا چاہتا اسے چاہیے کہ وہ ان دو آیات کو نہ پڑھے (جن میں یہ دونوں سجدے آئے ہیں)۔

عن عُقْبَة بن عامر -رضي الله عنه- قال: قلت لرسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أفِي سورة الحج سَجدَتَان؟ قال: «نعم، ومن لم يَسْجُدْهما؛ فلا يَقْرَأْهما».

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ: کیا سورۃ الحج میں دو سجدے ہیں؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ: ہاں، اور جو ان دو سجدوں کو نہیں کرنا چاہتا اسے چاہیے کہ وہ ان دو آیات کو نہ پڑھے (جن میں یہ دونوں سجدے آئے ہیں)۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث: يسأل عُقبة بن عامر -رضي الله عنه- النبي -صلى الله عليه وسلم- ويَستفهم منه عن سورة الحج، أفيها سجدتان؟ فأجابه النبي -صلى الله عليه وسلم- بنعم، فيهما سجدتان.
ثم زاده حكما آخر، وهو: "ومن لم يَسجدهما فلا يَقرأهما" أي: من أتى على هاتين الآيتين، ولم يُرد السُّجود فيهما فلا يقرأهما، وهذا النهي ليس للتحريم ولكنه للكراهة، وسجود التلاوة سُنة.
575;س حدیث میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے سوال کررہے ہیں اور آپ ﷺ سے سورة الحج کے بارے دریافت کر رہے ہیں کہ کیا اس میں دو سجدے ہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ: ہاں، اس میں دو سجدے ہیں۔
پھر آپ ﷺ نے انہیں ایک اور حکم بیان فرمایا کہ جو شخص ان دونوں سجدوں کو نہیں کرنا چاہتا تو وہ ان دونوں آیات کو نہ پڑھے۔ یعنی جو شخص ان دونوں آیات تک پہنچے اور وہ ان میں سجدے نہ کرنا چاہتا ہو تو وہ انہیں نہ پڑھے۔ یہ ممانعت تحریم کے طور پر نہیں ہے بلکہ یہ کراہت و ناپسندیدگی کے لیے ہے۔ اور سجدہ تلاوت کرنا سنت ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11241

 
 
Hadith   1874   الحديث
الأهمية: أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه، قرأ يوم الجمعة على المنبر بسورة النحل حتى إذا جاء السجدة نزل، فسجد وسجد الناس


Tema:

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر سورۃ النحل پڑھی جب سجدہ کی آیت آئى تو منبر پر سے اترے اور سجدہ کیا تو لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔

عن رَبيعة بن عبد الله بن الهُدَيْر التَّيْمِيِّ: أن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه-، قرأ يوم الجمعة على المِنْبَر بسورة النَّحل حتى إذا جاء السَّجدة نَزل، فسجد وسجد الناس حتى إذا كانت الجمعة القَابِلة قَرأ بها، حتى إذا جاء السَّجدة، قال: «يا أيُّها الناس إنا نَمُرُّ بالسُّجود، فمن سجد، فقد أصاب ومن لم يسجد، فلا إثم عليه ولم يَسجد عمر -رضي الله عنه-» وفي رواية: «إن الله لم يَفرض السُّجود إلا أن نشاء».

ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر تیمی بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر سورۃ النحل پڑھی، جب سجدہ کی آیت آئی تو منبر پر سے اترے اور سجدہ کیا تو لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ دوسرے جمعہ کو پھر یہی سورت پڑھی جب سجدہ کی آیت آئى تو کہنے لگے: ”اے لوگو ! یقیناً ہم آیاتِ سجود سے گزرتے ہیں تو جس نے سجدہٌ تلاوت کیا اس نے اچھا کیا اور جس نے سجدہ نہ کیا تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں“، عمر رضی اللہ عنہ نے سجدہ نہیں کیا۔ اورایک روایت میں ہے کہ: ”اللہ تعالیٰ نے سجدۂ تلاوت فرض نہیں کیا، البتہ اگر قاری چاہے (تو کر لے)۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: "أن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه-، قرأ يوم الجمعة على المِنْبَر بسورة النَّحل حتى إذا جاء السَّجدة "
عند قوله تعالى: {وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ دَابَّةٍ وَالْمَلَائِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ * يَخَافُونَ رَبَّهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ} [النحل: 49، 50]
"نَزل، فسجد وسجد الناس" نزل من على المِنْبَر وسجد على الأرض وسجد الناس معه.
"حتى إذا كانت الجمعة القَابِلة قَرأ بها" أي: بسورة النَّحل، "حتى إذا جاء السَّجدة" أي: حتى إذا قرأ الآية التي فيها سجدة، وتأهب الناس للسجود لم يُسجد -رضي الله عنه-، ومنعهم من السُّجود كما في رواية الموطأ : "فتَهيَّأ الناس للسجود فقال على رِسْلِكم إن الله لم يكتبها علينا إلا أن نَشاء فلم يسجد ومنعهم أن يسجدوا"
ثم قال -رضي الله عنه-: "يا أيُّها الناس إنا نَمُرُّ بالسُّجود، فمن سَجد، فقد أصاب ومن لم يسجد، فلا إثم عليه" يعني: نَمُرُّ بالآيات التي فيها سَجدة، فمن سَجد فيها فقد أصاب السُّنة ومن لم يسجد فلا إثم عليه.


 "ولم يسجد عمر -رضي الله عنه-" لبيان أن سجود التِّلاوة ليس واجبا.
وفي رواية: «إن الله لم يَفرض السُّجود إلا أن نشاء» أي : لم يوجبه علينا إلا إن شِئنا السُّجود سجدنا وإن لم نشأ لم نَسجد. وفي رواية: "يا أيُّها الناس، إنا لم نُؤمر بالسُّجود" فالحاصل: أن هذا الأثر من أمير المؤمنين قاله في خطبة الجمعة، أمام الصحابة كلهم، فلم يُنكر عليه أحد منهم؛ فدلَّ على عدم المعارضة، فحينئذٍ يكون قول الصحابي حجة، لاسيما الخليفة الرَّاشد، الذي هو أولى باتباع السُّنة، وبحضور جميع الصحابة، فيكون إجماعًا.
581;دیث کا مفہوم یہ ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر سورۃ النحل پڑھی۔ جب سجدہ کی اس آیت: ﴿وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ دَابَّةٍ وَالْمَلَائِكَةُ وَهُمْ لَايَسْتَكْبِرُونَ، يَخَافُونَ رَبَّهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ﴾} ”یقینا آسمان وزمین کے کل جاندار اور تمام فرشتے اللہ تعالی کے سامنے سجدہ کرتے ہیں اور ذرا بھی تکبر نہیں کرتے اور اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے کپکپاتے رہتے ہیں اور جو حکم مل جائے اس کی تعمیل کرتے ہیں“۔ (سورہ نحل: 49-50) پر پہنچے تو اترے اور سجدہ کیا، اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا، یعنی منبر پر سے اترے اورزمین پر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ زمین پرسجدہ کیا۔
پھر جب دوسرا جمعہ آیا تو اس کی تلاوت کی، یعنی سورۃ النحل کی تلاوت کی اور جب سجدہ پر پہنچے، یعنی جب سجدہ کی آیت پڑھی اور لوگ سجدے کے لئے تیار ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے سجدہ نہیں کیا اور انہیں سجدہ کرنے سے روک دیا جیسا کہ مؤطا کی روایت میں ہے کہ: لوگ سجدے کے لئے تیار ہو گئے عمر رضی اللہ عنہ نےکہا تم اپنی اپنی حالت پر برقرار رہو، اللہ تعالیٰ نے اسے ہم پر فرض نہیں کیا ہے مگر یہ کہ ہم (از خود سجدہ کرنا) چاہیں اور انہوں نے سجدہ نہیں کیا اور لوگوں کو بھی سجدہ کرنے سے روک دیا
پھر عمر رضی اللہ عنہ نےکہا: اے لوگو ! جب ہمارا گزر سجدہ کی آیت پر سے ہو تو پھر جس نے سجدہ کیا اس نے اچھا کیا اور جس نے سجدہ نہ کیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔
یعنی ہم سجدہ کی آیات کو پڑھتے ہیں تو جو کوئی سجدہ کرے اس نے سنت کو پا لیا اور جو سجدہ نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔
اور عمر رضی اللہ عنہ نے سجدہ نہیں کیا، اس چیز کو بیان کرنے کے لئے کہ سجدہ تلاوت واجب نہیں۔
اور ایک روایت میں ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے سجدہ فرض نہیں کیا مگر جب ہم چاہیں، یعنی اس کو ہمارےاوپر واجب نہیں کیا مگر یہ کہ ہم سجدہ کرنا چاہیں تو کریں اور اگر ہم نہ کرنا چاہیں تو سجدہ نہ کریں۔
اورایک روایت میں ہے: اے لوگو! ہمیں سجدہ کا حکم نہیں دیا گیا ہے
تو خلاصہ یہ ہے کہ یہ اثر امیرالمؤمنین سے منقول ہے جسے انہوں نے دورانِ خطبہ تمام صحابہ کی موجودگی میں کہا تھا اور ان میں سے کسی نے ان پر اعتراض نہیں کیا۔ چناں چہ یہ عدم مخالفت پر دلالت کرتا ہے اور ایسی صورت میں صحابی کا قول حجت ہوگا، بالخصوص جب وہ صحابی خلیفہ راشد ہوں جو کہ سنت کی اتباع کے سب سے زیادہ حق دار ہیں، اور چوں کہ یہ صحابہ کی موجودگی میں ہوا اس لیے یہ اجماع قرار پائے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11242

 
 
Hadith   1875   الحديث
الأهمية: إذا جاءه أمرُ سرورٍ أو بُشِّر به خَرَّ ساجدًا شاكرًا لله


Tema:

آپ ﷺ کو جب کوئی خوش کن بات پیش آتی ہے یا پھر کوئی خوش خبری سنائی جاتی تو آپ ﷺ اللہ کے شکر میں سجدہ ریز ہو جاتے۔

عن أبي بكرة، عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه كان «إذا جاءه أمرُ سرورٍ، أو بُشِّرَ به خَرَّ ساجدًا شاكرًا لله».

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کو جب کوئی باعثِ مسرت چیز پیش آتی ہے یا پھر کوئی خوش خبری سنائی جاتی تو آپ ﷺ اللہ کے شکر میں سجدہ ریز ہو جاتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف فعل النبي -صلى الله عليه وسلم- كلما جاءه أمر يسره أو بشارة بشيء حسن؛ أنه كان يخر ساجداً سجود شكر لله -تعالى-.
سجود الشكر شرع عند النعم المتجددة، أما النعم المستمرة كنعمة الإسلام ونعمة العافية والغنى عن الناس ونحو ذلك فهذه لا يشرع السجود لها؛ لأن نعم الله دائمة لا تنقطع، فلو شرع السجود لذلك لاستغرق الإنسان عمره في السجود، وإنما يكون شكر هذه النعم وغيرهما بالعبادة والطاعة لله -تعالى-.
740;ہ حدیث شریف نبی ﷺ کے فعل کو بیان کر رہی ہے کہ جب بھی آپ ﷺ کو کوئی باعثِ مسرت امر پیش آتا یا پھر کسی اچھی بات کی بشارت دی جاتی تو آپ ﷺ اللہ کے شکر میں سجدہ ریز ہو جاتے۔سجدۂ شکر ایسی نعمتوں کے لیے مشروع ہے جو نئی نئی حاصل ہوئی ہوں۔ ایسی نعمتیں جو ہمہ وقت جاری رہتی ہیں جیسے اسلام، عافیت اور لوگوں سے بے نیازی کی نعمتیں تو ان میں سجدہ شکر کرنا مشروع نہیں کیونکہ اللہ کی نعمتیں تو ہمیشہ جاری رہتی ہیں اور ان کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوتا۔ اگر ان کے لیے سجدہ بجا لانا مشروع کر دیا جاتا تو پھر تو انسان اپنی ساری عمر سجدے میں ہی لگا دیتا۔ ان (ہمہ وقت جاری رہنے والی) نعمتوں پر اور ان کے علاوہ دیگر نعمتوں پر شکر بجا لانے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور فرماں برداری کی جائے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11244

 
 
Hadith   1876   الحديث
الأهمية: إن جبريل -عليه السلام-، أتاني فَبَشَّرَنِي ، فقال: إن الله -عز وجل- يقول: من صلى عليك صليت عليه، ومن سلم عليك سلمت عليه، فسجدت لله -عز وجل- شكرًا


Tema:

جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے یہ خوشخبری دی کہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو بھی آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت بھیجوں گا اور جو آپ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی بھیجوں گا ۔تو میں نے اللہ عزوجل کے لیے شکرانے کا سجدہ کیا۔

عن عبد الرحمن بن عوف -رضي الله عنه- قال: خرج رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فتوجه نحو صدقته فدخل، فاستقبل القبلة فَخَرَّ ساجداً، فأطال السجود حتى ظننت أن الله -عز وجل- قبض نفسه فيها، فَدَنَوْتُ منه، ثم جلستُ فرفع رأسه، فقال: من هذا؟ قلت عبد الرحمن، قال: ما شأنك؟ قلت: يا رسول الله سجدت سجدة خشيت أن يكون الله عز وجل قد قَبَضَ نَفْسَكَ فيها، فقال: إن جبريل -عليه السلام-، أتاني فَبَشَّرَنِي ، فقال: إن الله -عز وجل- يقول: من صلى عليك صَلَّيْتُ عليه، ومن سلم عليك سَلَّمْتُ عليه، فسجدت لله -عز وجل- شكراً.

عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ گھر سے نکلے،اور صدقہ کے لیے متوجہ ہوئے،پھر (مسجد میں) داخل ہوئے، اور قبلہ رو ہو ئے اور سجدہ میں چلے گئے۔ آپ نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے گمان ہوا کہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح ہی قبض نہ کر لی ہو۔ میں آپ کے قریب ہو کر بیٹھ گیا تو آپ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا کہ یہ کون ہے؟ میں نے کہا عبدالرحمٰن! آپ نے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا کہ اللہ کے رسول (ﷺ) آپ نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے ڈر پیدا ہو گیا کہ کہیں اسی حالت میں آپ کی روح قبض کر لی گئی ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے یہ خوشخبری دی کہ: اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ جو بھی آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت بھیجوں گا اور جو تجھ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی بھیجوں گا۔ تو میں نے اللہ کے لیے شکرانے کا سجدہ کیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف مشروعية سجود الشكر عند تجدد النعم وسماع الأخبار السارة والمبشرات كما حصل مع النبي -صلى الله عليه وسلم- حيث كان في صلاة وجاءه جبريل -عليه السلام- فبشره بأن من صلى عليه من أمته صلى الله عليه وكذلك حال من سلم عليه، كما أنه من السنة الإطالة في سجود الشكر لفعله -صلى الله عليه وسلم- حيث إن الصحابة -رضوان الله عليهم- شكوا في أن يكون قد مات.
575;س حدیث شریف میں نعمت کے حصول پر یا کوئی خوش کن یا اچھی خبر ملنے پر سجدۂ شکر کی مشروعیت کو بیان کیا جا رہا ہے جیسا کہ رسو ل اللہﷺ نماز میں تھے اور جبریل علیہ السلام ان کے پاس تشریف لائے اور یہ خوشخبری دی کہ آپ کی امت میں سے جو بھی آپ پر درود پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس پر اپنی رحمت بھیجے گا اور یہی حال اس شخص کے لیے ہے جو آپ پر سلام بھیجے گا۔ اور یہ بھی سنت ہے کہ سجدۂ شکر لمبا کیا جائے جیسا کہ رسو ل اللہ ﷺ نے کیا تھا کہ صحابہ کو یہ شک پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں آپ فوت ہی نہ ہو گیے ہوں۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11245

 
 
Hadith   1877   الحديث
الأهمية: بعث النبي -صلى الله عليه وسلم- خالد بن الوليد إلى أهل اليمن يدعوهم إلى الإسلام فلم يجيبوه، ثم إن النبي -صلى الله عليه وسلم- بعث علي بن أبي طالب


Tema:

نبی ﷺ نے خالد بن ولید رضی الله عنہ کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے یمن بھیجا، مگر انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا، پھر نبی ﷺ نے علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کو وہاں بھیجا۔

عن البراء  -رضي الله عنه- قال: بعث النبي -صلى الله عليه وسلم- خالد بن الوليد إلى أهل اليمن يَدْعُوهُمْ إلى الإسلام فَلَمْ يُجِيبُوهُ، ثم إنَّ النبي -صلى الله عليه وسلم- بعث علي بن أبي طالب، وأمره أن يَقْفُلَ خالد ومن كان معه إلا رجل ممن كان مع خالد أحب أن يُعَقِّبَ مع علي -رضي الله عنه- فَلْيُعَقِّبْ معه قال البراء فَكُنْتُ مِمَّنْ عَقَّبَ مَعَهُ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ القوم خرجوا إلينا فصلى بنا عليٌّ -رضي الله عنه- وَصَفَّنَا صَفًّا واحدا، ثم تقدَّم بين أيدينا، فقرأ عليهم كتاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فَأَسْلَمَتْ هَمْدَانُ جَمِيعًا، فكتب علي -رضي الله عنه- إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بإسلامهم، فلمَّا قرأ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الكتاب خَرَّ ساجدا، ثم رفع رأسه، فقال: السَّلَامُ عَلَى هَمْدَانَ، السلامُ على هَمْدَانَ.

براء رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے خالد بن ولید رضی الله عنہ کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے یمن بھیجا، مگر انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا، پھر نبی ﷺ نے علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کو وہاں بھیجا، اور اس بات كا حکم دیا کہ خالد بن ولید رضی الله عنہ اور ان کے ساتھی واپس لوٹ آئیں الا یہ کہ کوئی ان میں سے علی رضی الله عنہ کے ساتھ وہاں رکنا چاہے تو وہ رک سکتا ہے۔چناں چہ براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جو علی رضی الله عنہ کے ساتھ ٹھہر گئے. جب ہم اہل یمن کے بالکل نزدیک پہنچے تو وہ بھی نکل کر ہمارے سامنے آگئے، علی رضی الله عنہ نے آگے بڑھ کر ہمیں نماز پڑھائی پھر انہوں نے ہماری ایک صف بنائی اور ہم سے آگے کھڑے ہوکر ان کو نبی ﷺ کا خط پڑھ کر سنایا، چناں چہ قبیلہ ھمدان کےسارے ہی لوگ مسلمان ہوگیے، علی رضی الله عنہ نے نبی ﷺ کی خدمت میں قبیلہ ھمدان کے مسلمان ہونے (کی خوش خبری) کا خط بھیجا۔ جب نبی ﷺ نے وہ خط پڑھا تو (اللہ تعالی کا شکر بجا لاتے ہوئے) فوراً سجدہ میں گر گئے. پھر آپ ﷺ نے سجدہ سے سر اٹھا کر قبیلہ ھمدان کو دعا دی کہ ھمدان پر سلامتی ہو، ھمدان پر سلامتی ہو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يخر ساجداً شكراً لله كلما جاءه أمر يسره، ومن ذلك ما حدث مع علي -رضي الله عنه- حينما أرسله النبي -صلى الله عليه وسلم- إلى اليمن ليدعوهم بعد أن أبوا أن يسلموا على يد خالد بن الوليد -رضي الله عنه-، فلما دعاهم علي أسلمت همدان كلها فكتب بذلك إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فخر ساجداً؛ شكراً لله -تعالى-.
581;دیث مذکور میں اس بات کا بیان ہےکہ نبی ﷺ کو جب کبھی کوئی خوشی حاصل ہوتی تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو جاتے، اسی سلسلے کا ایک واقعہ وہ بھی ہے جو علی رضی الله عنہ کے ساتھ پیش آیا، جب اہل یمن نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام لانے سے انکار کردیا تو نبی ﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دینے کے لیے یمن بھیجا اور علی رضی الله عنہ نے جب انہیں اسلام کی دعوت دی تو قبیلہ ھمدان کے سارے ہی لوگ مسلمان ہو گیے، پھر انہوں نے نبی صلی الله علیہ والہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ ھمدان کے مسلمان ہونے کی خوش خبری کا خط بھیجا تو آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے فورا ًسجدہ میں گر گئے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11246

 
 
Hadith   1878   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يصلي ركعتين خفيفتين بعد ما يطلع الفجر


Tema:

نبی کریم ﷺ فجر ہونے کے بعد دو ہلکی رکعتیں (سنت فجر) پڑھتے۔

عن حفصة -رضي الله عنها- «أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يُصلي ركعتين خَفيفتين بعد ما يَطلع الفجر»، وفي رواية: قبل أن تُقام الصلاة.

اُمّ المؤمنىن حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ فجر ہونے کے بعد دو ہلکی رکعتیں (سنتِ فجر) پڑھتے.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ”قَبْلَ أنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ“ یعنی نماز کا اقامت ہونے سے پہلے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر حفصة -رضي الله عنها- في هذا الحديث عن حاله -صلى الله عليه وسلم- وأنه كان يُصلي ركعتين، وهي راتبة الفجر، ولا يَزيد عليهما؛ لما رواه مسلم من حديث حفصة -رضي الله عنها- أنها قالت: (إذا طلع الفجر، لا يصلي إلا ركعتين خَفيفتين).
وقولها في هذا الحديث "خَفيفتين" تعني: يخفف في القيام والرُّكوع والسُّجود، ومن شِدَّةِ تخفيفه -صلى الله عليه وسلم- تقول عائشة -رضي الله عنها- كما في البخاري: "هل قرأ بأم الكتاب؟" وفي رواية في الموطأ: "إن كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ليُخفف ركعتي الفجر، حتى إني لأقول: أقرأ بأم القرآن أم لا؟" وليس معنى هذا أنه كان -صلى الله عليه وسلم- يُسرع فيهما بحيث يخل بأركانها، من القيام والرُّكوع والسُّجود، والمعنى الصحيح: أنه -صلى الله عليه وسلم- كان يخففهما مقارنة ببقية التطوعات، التي عُهد عنه الإطالة فيها.
"بعد ما يَطلع الفجر" تعني: إذا طلع الفجر بَادر بهاتين الركعتين"قبل أن تُقام الصلاة" وهذا يعني أن وقت ركعتي الفَجر من وقت طلوع الفجر إلى صلاة الصُّبح.
575;س حدیث میں اُمّ المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی کیفیت بتا رہی ہیں کہ آپ دو رکعات پڑھتے تھے، یہ فجر کی دو رکعت سنتِ مؤکدہ ہیں، اس سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ صحیح مسلم میں حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب فجر طلوع ہوتی تو آپ ﷺ مختصر سی دو رکعات پڑھتے تھے۔
حدیث میں جو ”خَفيفتين“ فرمایا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ قیام، رکوع اور سجود میں اختصار فرماتے، بہت زیادہ مختصر ہونے کی وجہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا بخاری کی روایت میں فرماتی ہے ”هل قرأ بأمُّ الكتاب؟“ کہ آپ نے فاتحہ پڑھی ہے یا نہیں؟ مؤطّا کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ فجر کی دو رکعتیں ہلکی پڑھتے تھے، یہاں تک کہ میں کہتی آپ فاتحہ پڑھتے ہیں بھی یا نہیں؟ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اس میں اتنی جلدی کرتے تھے کہ نماز کے ارکان قیام، رکوع اور سجود میں خلل پڑتا۔ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ باقی نفلی عبادات جن کو طویل کرنے کی آپ کو عادت تھی ان کی بنسبت اسے مختصر پڑھتے تھے۔
”بَعْدَ ما يَطْلُعُ الفَجْرُ“ یعنی طلوعِ فجر کے بعد ان دو رکعات کے پڑھنے میں جلدی کرتے تھے۔ ”قَبْلَ أنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ“ یعنی فجر کی دو رکعت سنت پڑھنے کا وقت طلوع فجر سے لے کر فجر کی فرض نماز تک ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11248

 
 
Hadith   1879   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان لا يدع أربعًا قبل الظهر وركعتين قبل الغداة


Tema:

نبی کریم ﷺ ظہر سے پہلے کی چار رکعات اور فجر سے پہلے کی دو رکعات نہیں چھوڑتے تھے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان لا يَدع أربعا قَبل الظهر وركعتين قبل الغَدَاة.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ظہر سے پہلے کی چار رکعات اور فجر سے پہلے کی دو رکعات نہیں چھوڑتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يُداوم ويحافظ على صلاة أربع ركعات قبل صلاة الظهر، وهذا لا ينافي حديث ابن عمر -رضي الله عنه- وفيه: "ركعتين قبل الظهر"، ووجه الجمع بينهما أنه تارةً يصلي ركعتين، وتارةً أربعًا، فأخبر كل منهما عن أحد الأمرين، وهذا موجود في كثير من نوافل العبادات.
ويصلي أربعًا قبل الظهر بتسليمتين، وإن صلاها أربعًا بتسليمة واحدة جاز.
كما كان يُداوم ويحافظ على صلاة ركعتين قبل صلاة الفجر، وهي الغداة.
570;پ ﷺ ظہر سے پہلے چار رکعات پڑھنے کا اہتمام اور پابندی کیا کرتے تھے، یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے منافی نہیں، جس میں ظہر سے پہلے دو رکعات کا ذکر ہے۔ دونوں حدیثوں میں تطبیق یوں ہوگی کہ آپ کبھی دو رکعات پڑھتے تھے اور کبھی چار۔ ہر ایک صحابی نے آپ ﷺ کی ایک ایک عادت کو بیان فرمایا اور یہ بہت سارے نفلی عبادات میں موجود ہے۔
ظہر سے پہلے چار رکعات دو سلاموں کے ساتھ پڑھنا درست ہے اور اگر کوئی ایک سلام کے ساتھ بھی پڑھ لے تو یہ بھی درست ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11249

 
 
Hadith   1880   الحديث
الأهمية: من حافظ على أربع ركعات قبل الظهر وأربع بعدها حرمه الله على النار


Tema:

جس نے ظہر سے پہلے اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھنے کی پابندی کی، اللہ اس پر جہنم کی آگ حرام کر دے گا۔

عن أم حبيبة -رضي الله عنها- مرفوعًا: «من حَافَظ على أربع رَكعات قبل الظهر وأربع بعدها حَرَّمَه الله على النَّار».
ام حبیبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ظہر سے پہلے اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھنے کی پابندی کی، اللہ اس پر جہنم کی آگ حرام کر دے گا“۔

Esin Hadith Text


معنى حديث : "من حَافَظ على أربع رَكعات قبل الظهر" يعني: ثَابر وواظب على أربع ركعات قبل الظهر.
"وأربع بعدها" أي: وواظب على أربع بعد صلاة الظَّهر.
"حَرَّمَه الله على النَّار" هذا جزاؤه، وهو أنَّ الله -تعالى- يمنعه من دخول النَّار، وفي رواية "حَرَّم الله لحَمه على النَّار"، وفي أخرى "لم تَمَسَّه النَّار". 

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
فحديث أم حبيبة -رضي الله عنها- فيه تحريم النَّار فلا تَمسه النَّار ولا تَقربه إذا حافظ المرء على أربع قبل الظهر، وأربع بعدها منعه الله بفضله من دخول النار.
581;دیث کا مفہوم: ”جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھنے کی پابندی کی“ یعنی جو ظہر سے پہلے پابندی کے ساتھ ہمیشہ چار رکعتیں پڑھتا رہا۔
”اور ظہر کے بعد چار رکعات“ یعنی نماز ظہر کے بعد بھی چار رکعت ہمیشہ پڑھتا رہا۔ ”اللہ اس پر جہنم کی آگ حرام کر دے گا“ یعنی یہ اس کا بدلہ ہے کہ اللہ تعالی جہنم میں اس کا داخلہ روک دے گا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ: ”اللہ اس کے گوشت کو جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا"۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: "اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی“۔
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں آگ کے حرام کر دیے جانے کا بیان ہے۔ چنانچہ آگ نہ تو اس شخص کو چھوئے گی اور نہ ہی اس کے قریب جائے گی۔ جب بندہ نماز ظہر سے پہلے چار رکعت اور اس کے بعد چار رکعت کو پابندی کے ساتھ پڑھے تو اللہ تعالی اپنے فضل کے ساتھ اسے جہنم میں جانے سے روک لے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11251

 
 
Hadith   1881   الحديث
الأهمية: رحم الله امرأ صلى قبل العصر أربعًا


Tema:

الله اس شخص پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعت نماز پڑھی۔

عن عبدالله بن عمر -رضي الله عنهما- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «رحم الله امرأ صلى قبل العصر أربعًا».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”الله اس شخص پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعت نماز پڑھی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف فضيلة من يصلي أربع ركعات قبل العصر؛ تنفلاً، وذلك بأن دعا له بالرحمة.
581;دیث شریف میں اس شخص کی فضیلت کا بیان ہے جو عصر سے پہلے چار رکعت بطورِ نفل پڑھتا ہے بایں طور کہ نبی ﷺ نے اس کے لیے رحمت کی دعا فرمائی۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11252

 
 
Hadith   1882   الحديث
الأهمية: صلوا قبل المغرب ركعتين


Tema:

مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو۔

عن عبد الله بنِ مُغَفَّلِ المُزَنِيِّ -رضي الله عنهما- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «صَلُّوا قبل المغرب ركعتين»، ثم قال: «صَلُّوا قبل المغرب ركعتين لمن شاء»، خشية أن يتخذها الناس سُنة.

عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو۔ پھر فرمایا: جس کا جی چاہےمغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھے۔ یہ اس اندیشے سے فرمایا کہ لوگ اس کو سنت (لازمہ) نہ بنالیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في الحديث الشريف الحث على صلاة ركعتين قبل صلاة المغرب، وذلك بعد أذان المغرب تنفلاً لمن شاء، ولكنهما ليستا من السنن الرواتب المؤكدة، فيستحب عدم المداومة عليها؛ لئلا تشبه الرواتب، وقد وردت هاتين الركعتين عن النبي -صلى الله عليه وسلم- بأقسام السنة الثلاثة، فقد أمر بها بقوله: "صَلُّوا قبل المغرب"، وفعَلَهُما كما في رواية ابن حبان، ورأى الصحابة يصلونها فأقرَّهم عليها.
581;دیث شریف میں مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کی ترغیب ہے اور یہ مغرب کی اذان کے بعد نفلی طور پر پڑھنا ہے جس کا جی چا ہے۔ البتہ یہ سنت مؤکدہ میں سے نہیں ہیں لہذا اس پر مداومت نہ برتی جائے تاکہ یہ نماز سنت مؤکدہ کے جیسی نہ ہو جائے۔ نماز مغرب سے قبل دو رکعت کا ذکر سنت کی تینوں قسم (یعنی قولی، فعلی اور تقریری) میں آیا ہے۔ (قولی سنت) رسول اللہ ﷺ نے اس کے پڑھنے کا حکم دیا، (فعلی سنت) آپﷺ نے ان دو رکعتوں کو پڑھا جیسا کہ ابن حبان کی روایت میں ہے، (تقریری سنت) آپﷺ نے صحابہ کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور انھیں اس پر باقی رکھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11253

 
 
Hadith   1883   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قرأ في ركعتي الفجر: ﴿قل يا أيها الكافرون﴾ و﴿قل هو الله أحد﴾


Tema:

نبی ﷺ نے فجر کی دونوں رکعتوں میں ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ پڑھی۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قرأ في ركعتي الفجر: ﴿قل يا أيها الكافرون﴾ و﴿قل هو الله أحد﴾.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فجر کی دونوں رکعتوں میں ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ پڑھی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث هدي النبي -صلى الله عليه وسلم- في القراءة في راتبة الفجر، وهي قراءة سورة الكافرون في الركعة الأولى، وسورة الإخلاص في الركعة الثانية .
ففي قوله -رضي الله عنه-: (قرأ في ركعتي الفجر) أي في سنة الفجر وهي المشهورة بهذا الاسم.
قوله: "{قل يا أيها الكافرون} و {قل هو الله أحد}" أي كل سورة بعد الفاتحة؛ إلا أن الراوي ترك ذكرها -أي الفاتحة- لظهورها، وهذا شائع كثير في الأحاديث المرفوعة القولية والفعلية ذكر فيها السور دون الفاتحة؛ لظهورها وشهرتها، وهذا يدل على تأكد وجوب الفاتحة.
581;دیث میں فجر کی سنتِ راتبہ میں قراءت کے متعلق نبی ﷺ کے معمول کا بیان ہے کہ آپ ﷺ پہلی رکعت میں ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ اور دوسری رکعت میں ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ پڑھتے تھے۔
”فجر کی دونوں رکعتوں میں پڑھی“ یعنی فجر کی سنت میں، اور وہ اسی نام سے مشہور ہے۔
﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ پڑھی، یعنی ہر سورت‘ سورۂ فاتحہ کے بعد پڑھی، مگر راوی نےاس کا ذکر چھوڑ دیا یعنی سورۂ فاتحہ کا ذکر کرنا چھوڑ دیا اس کے واضح ہونے کی وجہ سے۔ اور اس طرح سے مرفوع قولی اور مرفوع فعلی احادیث میں بہت عام ہے کہ فاتحہ کے ذکر کے بغیر دوسری سورت کا ذکر کر دیا گیا ہے، اس (فاتحہ) کے واضح اور مشہور ہونے کی وجہ سے ہے، اور یہ سورۂ فاتحہ کے وجوب کی تاکید پر دلالت کرتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11256

 
 
Hadith   1884   الحديث
الأهمية: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا سكت المؤذن بالأولى من صلاة الفجر قام، فركع ركعتين خفيفتين قبل صلاة الفجر، بعد أن يستبين الفجر، ثم اضطجع على شقه الأيمن، حتى يأتيه المؤذن للإقامة


Tema:

جب مؤذن فجر کی پہلی اذان دے کر چپ ہوجاتا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے اور فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں (سنت فجر) ہلکی پھلکی ادا کرتے صبح صادق روشن ہو جانے کے بعد پھر داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے۔ یہاں تک کہ مؤذن تکبیر کہنے کی اطلاع دینے کے لیے آپﷺ کے پاس آتا۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: «كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا سَكَتَ المؤذن بالأولى من صلاة الفجر قام، فركع ركعتين خفيفتين قبل صلاة الفجر، بعد أن يَسْتَبينَ الفجر، ثم اضطجع على شِقِّهِ الأيمن، حتى يأتيه المؤذن للإقامة».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب مؤذن فجر کی پہلی اذان دے کر چپ ہوجاتا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے اور فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں (سنت فجر) ہلکی پھلکی ادا کرتے صبح صادق روشن ہو جانے کے بعد، پھر داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے۔ یہاں تک کہ مؤذن تکبیر کہنے کی اطلاع دینے کے لیے آپﷺ کے پاس آتا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان إذا أذن المؤذن لصلاة الفجر يقوم فيصلي ركعتين ثم يضطجع على شقه الأيمن حتى يأتيه المؤذن للإقامة.
575;س حدیث میں بیان ہوا کہ جب مؤذن فجر کی اذان دیتا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے اور دو رکعتیں( سنت فجر ) ادا کرتے پھر داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے ۔ یہاں تک کہ مؤذن اقامت کی اطلاع دینے کے لیے آپ کے پاس آتا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11257

 
 
Hadith   1885   الحديث
الأهمية: إذا صلى أحدكم الركعتين قبل الصبح، فليضطجع على يمينه


Tema:

جب تم میں سے کوئی فجر کی دو سنتیں پڑھے تو اسے چاہیے کہ اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جائے

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إذا صلى أحدكم الركعتين قبل الصبح، فليضطجع على يمينه»، فقال له مروان بن الحكم: أما يجزئ أحدنا ممشاه إلى المسجد حتى يضطجع على يمينه، قال عبيد الله في حديثه: قال: لا، قال: فبلغ ذلك ابن عمر، فقال: أكثر أبو هريرة على نفسه، قال: فقيل لابن عمر: هل تنكر شيئا مما يقول؟ قال: «لا، ولكنه اجترأ وجبنا»، قال: فبلغ ذلك أبا هريرة، قال: «فما ذنبي إن كنت حفظت ونسوا».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی فجر کی دو سنتیں پڑھے تو اسے چاہیے کہ اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جائے۔ مروان بن حکم نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ کیا مسجد تک چلنا کافی نہیں ہے جب تک کہ داہنی کروٹ پر نہ لیٹے؟ عبید اللہ کی روایت میں ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمايا:نہیں۔ راوی کہتے ہيں کہ جب اس بات کا علم ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ہوا تو فرمايا: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کثرت سے حدیثیں روایت کی ہیں۔ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گيا: کیا آپ ان کے کسی قول کی تردید کرتے ہیں؟ فرمایا: نہیں (بات یہ ہے کہ) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جرأت کی اور ہم نے خوف کیا۔ جب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے فرمايا: ”اس میں میرا کیا قصور ہے کہ میں نے یاد رکھا اور وہ بھول گئے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث أن السنة بعد أن يصلي الإنسان ركعتي الفجر أن يضطجع على شقه الأيمن حتى تقام الصلاة.
حكمة تخصيص الأيمن لئلا يستغرق في النوم؛ لأنَّ القلب من جهة اليسار، متعلق حينئذ غير مستقر، وإذا نام على اليسار كان في دَعَة واستراحة، فيستغرق.
581;ديث ميں اس بات کا بيان ہے کہ فجر کی دو سنتيں پڑھنے کے بعد فرض نماز کی اقامت تک دائيں کروٹ پر ليٹنا مسنون ہے۔
دائيں جانب کی تخصيص ميں حکمت يہ ہے کہ انسان گہری نيند نہ سوجائے، کيونکہ دل انسان کے بائيں طرف ہوتا ہے لہذا اس حالت ميں انسان کا دل لٹکا ہوا رہتا ہے اور قرار وسکون نہيں حاصل ہوتا ہے ، اور جب بائيں کروٹ پر ليٹتا ہے تو وہ مکمل راحت اور سکون ميں ہوتا ہے اسی لئے گہری نيند سوجاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11258

 
 
Hadith   1886   الحديث
الأهمية: سأل رجل النبي -صلى الله عليه وسلم- وهو على المنبر، ما ترى في صلاة الليل؟ قال: مثنى مثنى، فإذا خشي الصبح صلى واحدة، فأوترت له ما صلى


Tema:

ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے اس وقت سوال کیا جب آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے کہ رات کی نماز کے بارے میں آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:دو دو رکعت کر کے(پڑھو) اور جب صبح ہونے کا خدشہ ہو تو پھر ایک رکعت پڑھ لو وہ تمہاری ساری نماز کو طاق کر دے گی۔

عن ابن عمر -رضي الله عنهما- قال: سَأل رَجُل النبي -صلَّى الله عليه وسلم- وهو على المِنْبَر، ما تَرى في صلاة الليل؟ قال: « مَثْنَى مَثْنَى، فإذا خَشْيَ الصُّبح صلَّى واحِدَة، فأَوْتَرت له ما صلَّى» وإنَّه كان يقول: اجْعَلُوا آخِر صَلاَتِكُمْ وتْرَا، فإنَّ النبِيَّ -صلَّى الله عليه وسلَّم- أمَر بِه.
وفي رواية: فقيل لابن عمر: ما مَثْنَى مَثْنَى؟ قال: «أن تُسَلِّم في كل ركعتين».

ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے اس وقت سوال کیا جب آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے کہ رات کی نماز کے بارے میں آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: دو دو رکعت کر کے (پڑھو) اور جب صبح ہونے کا خدشہ ہو تو پھر ایک رکعت پڑھ لو وہ تمہاری ساری نماز کو طاق کر دے گی۔‘‘، (ابن عمر رضی اللہ عنہما) یہ بھی فرماتے تھے کہ وتر کو اپنی آخری نماز بناؤ کیوں کہ نبی کریم ﷺ نے اسی کا حکم دیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ دو دو سے کیا مراد ہے ؟ تو آپ نے فرمایاکہ: ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جائے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: "سَأل رَجُل النبي -صلى الله عليه وسلم- وهو على المِنْبَر، ما تَرى في صلاة الليل".
أي: ما الحكم الشَّرعي الذي علَّمك الله إياه، عن عدد ركعات صلاة الليل، والفصل فيها، أو الوَصل.
وفي رواية في الصحيحين: (كيف صلاة الليل).
قال: "مَثْنَى مَثْنَى".
أي: اثنين اثنين، وفائدة التَّكرار: المُبالغة في التأكيد.
ومعناه: أن المشروع في صلاة الليل أن يُسلِّم من كل ركعتين، كما فسره ابن عمر -رضي الله عنه-؛ لكن يُستثنى من ذلك صلاة الوتر، فلو أوتر بسبع أو خمس أو ثلاث، فله سردها ثم يسلم في الركعة الأخيرة. 
"فإذا خَشِيَ الصُّبح صلَّى واحدة".
أي: خاف طلوع الفجر بادر بركعة واحدة، أي صلى ركعة بتشهد وسلام.
"فأَوْتَرت له ما صلَّى".
والمعنى: أن الركعة التي أضيفت للشَّفع تُصَيِّر صلاته وترًا. 
"وإنه كان يقول".
أي: أن راوي الحديث، وهو نافع: أخبر أن ابن عمر -رضي الله عنه- كان يقول:
"اجْعَلوا آخر صَلاَتِكُمْ وتْرَا".
وفي رواية مسلم: "اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترا".
والمعنى: اجعلوا آخر تهجدكم بالليل وترا.
ثم بَيَّن ابن عمر -رضي الله عنه- أن قوله: "اجعلوا آخر صلاتكم وترا" أنه من قَبيل المرفوع لا اجتهاد منه -رضي الله عنه-؛ لقوله:
"فإن النبي -صلى الله عليه وسلم- أمَر به".
أي: أمَر؛ بأن نجعل صلاة الوتر ختاما لصلاة الليل، كما أن صلاة المَغرب وِتر صلاة النهار وختامها؛ فكذلك صلاة الوِتر بالنسبة  لقيام الليل.
وفي رواية: فقيل لابن عمر: ما مَثْنَى مَثْنَى؟".
أي: ما معنى قوله -صلى الله عليه وسلم-: "مَثْنَى مَثْنَى؟".
فبَيَّن ابن عمر مُراد النبي -صلى الله عليه وسلم-: بقوله: "أن تُسَلِّم في كل ركعتين".
يعني: تصلِّي ركعتين، ثم تسلِّم، ثم تصلِّي ركعتين، ثم تسلِّم... من غير زيادة عليهما.
581;دیث کا مفہوم: ”ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے اس وقت سوال کیا جب آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے کہ رات کی نماز کے بارے میں آپﷺ کیا فرماتے ہیں؟“ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو خاص علم عطا فرمایا ہے اس کی روشنی میں رات کی نماز کی تعداد رکعات اور ان کے وصال اور انفصال کے حوالے سے شرعی حکم کیا ہے؟
صحیحین کی ایک روایت میں ہے ”رات کی نماز کیسے (پڑھی جاتی) ہے؟“ فرمایا: ”جوڑا جوڑا“ یعنی دو ، دو رکعات۔ تکرار سے بتانے کا مقصد تاکید میں مبالغہ ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ رات کی نماز کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا جائے جیسا کہ اس کی وضاحت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس طرح کی ہے۔ تاہم اس سے نمازِ وتر مستثنیٰ ہے۔اگر انسان وتر سات یا پانچ یا تین رکعات پڑھتا ہے تو انھیں ایک ساتھ پڑھے گا اور آخری رکعت میں سلام پھیر دے گا۔
”جب صبح ہونے کا ڈر ہو تو ایک ہی رکعت وتر پڑھے گا“ یعنی طلوعِ فجر کا خدشہ ہو تو پھر جلدی سے ایک رکعت پڑھ لے۔یعنی ایک رکعت پڑھ کر تشہد کرے اور سلام پھیر دے۔
”اس نے جو بھی نمازی پڑھی ہے اس کو طاق کر دے گا“ مطلب یہ کہ ایک رکعت کے اضافہ کے ساتھ جفت نماز طاق ہو جائے گی۔
”اور وہ یہ کہتے تھے“ یعنی راویٔ حدیث نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ:
”وتر کو اپنی آخری نماز بناؤ“ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”اپنی رات کی آخری نماز کو وتر کیا کرو“، اس کا مطلب ہے کہ اپنی رات کی تہجد کی نماز کو وتر کیا کرو۔
پھر ابن عمررضی اللہ عنہما اپنے قول کے بارے میں وضاحت فرماتے ہیں کہ اپنی آخری نماز کو ’وتر‘ کرو، یہ مرفوع روایت ہے ان کا اپنا اجتہاد نہیں ہے، جس کی دلیل خود ان کا یہ کہنا ہے ”بے شک نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کرنے کا حکم دیا تھا“ یعنی یہ حکم دیا کہ ہم رات کی نماز کا اختتام نماز وتر سے کریں جس طرح سے کہ دن کی نمازوں کو وتر اور ان کا اختتام نمازِ مغرب کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہی مناسبت نماز وتر کی قیام اللیل کے ساتھ بھی ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ دو دو (جوڑا جوڑا) رکعات سے کیا مراد ہے؟ یعنی رسو ل اللہﷺ کے فرمان ’’دو دو‘‘ سے کیا مراد ہے؟
تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کی وضاحت یوں فرمائی کہ ہر دو رکعت میں سلام پھیردے۔ یعنی دو رکعتیں پڑھو پھر سلام پھیر دو، پھر دو رکعتیں پڑھو اور سلام پھیر دو، بغیر کسی کمی بیشی کے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11259

 
 
Hadith   1887   الحديث
الأهمية: صلاة الليل والنهار مثنى مثنى


Tema:

رات اور دن کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنا ہے۔

عن ابن عمر-رضي الله عنهما-، عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «صلاة الليل والنَّهار مثْنَى مثْنَى».

ابن عمر رضي الله عنہما سے روایت ہے کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”رات اور دن کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث: أصله في الصحيحين: بلفظ:(صلاة الليل مثْنَى مثْنَى) زاد بعض الرواة: (والنَّهار) وهي زيادة ضعيفة، والمعنى: أن من أراد أن يتطوع في الليل أو النَّهار، فليُسَلِّم من كل ركعتين؛ كما جاء مُصرحا به في صحيح مسلم عن ابن عمر-رضي الله عنهما- لما سئل: "ما مثْنَى مثْنَى؟" قال: "أن تُسلِّم في كل ركعتين".
وهذا قول أكثر  العلماء في صلاة الليل أي: لا يجوز التطوع بأكثر من ركعتين في صلاة الليل، إلا ما كان من صلاة الوتر، فله الزيادة لثبوت السُّنة بذلك.
أما صلاة النَّهار فلا بأس بالزيادة على ركعتين والأفضل مثْنَى مثْنَى.
575;س حدیث کی اصل صحیحین میں ان الفاظ کے ساتھ ہے: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے“، بعض راویوں نے”دن (کی نماز)“ کا لفظ زیادہ کیے ہیں، جب کہ یہ زیادتی ضعیف ہے۔
اس کا معنی یہ ہے کہ جو شخص رات اور دن میں نفلی نماز ادا کرنا چاہے تو وہ ہردو دو رکعت پر سلام پھیرے جیسا کہ صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صراحت کے ساتھ ذکر آیا ہے، جب ان سے پوچھ گیا کہ ”مثنی مثنی“ کا معنی کیا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہر دو رکعت پر سلام پھیر دے“۔ رات کی نماز کے متعلق یہی اکثر علما کا کہنا ہے، یعنی رات کی نفلی نماز میں دو دو رکعت سے زیادہ پڑھنا جائز نہیں سوائے وتر کے، چونکہ یہ سنت سے ثابت ہے لہذا اس مین دو دو رکعتوں سے زیادہ پڑھ سکتے ہیں۔ رہا مسئلہ دن میں نفلی نماز کا تو دو رکعت سے زیادہ پر سلام پھیرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن بہتر دو دو رکعت کر کے پڑھنا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11260

 
 
Hadith   1888   الحديث
الأهمية: أفضل الصيام، بعد رمضان، شهر الله المحرم، وأفضل الصلاة، بعد الفريضة، صلاة الليل


Tema:

رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل رات کی نماز (تہجد) ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أفضل الصِّيام، بعد رمضان، شَهر الله المُحَّرم، وأفضل الصلاة، بعد الفَريضة، صلاة الليل».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل رات کی نماز (تہجد) ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن صوم شهر مُحرم، وهو أول شهور السنة الهجرية أفضل الصيام بعد صوم رمضان؛ لأنه أول السَّنة المستأنفة فافتتاحها بالصوم الذي هو ضياء أفضل الأعمال؛ فينبغي للمسلم أن يحرص عليه ولا يَدعه إلا لعُذر.
وقوله: "شَهر الله" هذا مما يدل على تعظيمه ومَزيته على غيره من الشَّهور.
وأن صلاة الليل أفضل التَّطوعات بعد الفريضة؛ لأن الخشوع فيه أوفر لاجتماع القلب والخلو بالرَّب قال تعالى:{ إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا}، [ سورة المزمل : 6 ]، ولأن الليل وقت السُّكون والرَّاحة فإذا صُرف إلى العِبادة كانت على النَّفْس أشد وأشق وللبدن أتَعب وأنْصَب فكانت أدخل في معنى التكليف وأفضل عند الله.
605;اہ محرم، جو کہ ہجری سال کا پہلا مہینہ ہے اس کا روزہ رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل ہے۔ کیونکہ یہ سال کی ابتداء ہے اور اس کا آغاز روزے جیسے بہترین عمل سے کیا جاتا ہے۔ ہر مسلمان کےلیے ضروری ہے کہ وہ اس کے روزوں کا اہتمام کرے اور بغیر عذر کے یہ روزے نہ چھوڑے۔
آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ ”شَهر الله“ (اللہ کا مہینہ ہے) یہ دوسرے مہینوں کی بنسبت اس کی قدر و منزلت پر دلالت کرتا ہے۔
نماز تہجد (صلوۃ اللیل) فرائض کے بعد نوافل میں سے سب سے بہترین عبادت ہے کیوں کہ اس میں خشوع وخضوع، حضورِ قلب اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ خلوت کا بھرپور موقع موجود ہوتا ہے۔ ﴿إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا﴾ ”رات کا اٹھنا یقیناً (نفس کو) بہت زیر کرنے والا ہے اور قرآن پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں وقت ہے“ (سورہ مزمل:6) کیونکہ رات کا وقت آرام و سکون کا ہوتا ہے اور جس وقت عبادت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو نفس پر بڑا شاق گزرتا ہے اور باعث مشقت ہوتا ہے نیز بدن تھکاوٹ سے چور ہوتا ہے تو گویا اس کو تکلیف میں ڈالا جاتا ہے اور یہ اللہ کے ہاں بڑا فضیلت والا کام ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11261

 
 
Hadith   1889   الحديث
الأهمية: الوتر حق، فمن شاء أوتر بسبع، ومن شاء أوتر بخمس، ومن شاء أوتر بثلاث، ومن شاء أوتر بواحدة


Tema:

وتر حق ہے؛ جو چاہے سات پڑھ لے، جو چاہے پانچ پڑھ لے، جو چاہے تین پڑھ لے اور جو چاہے ایک پڑھ لے۔

عن أبي أيوب الأنصاري -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «الوِتر حَق، فمن شاء أوْتَر بِسبْعٍ، ومن شاء أوْتَر بخمس، ومن شاء أوْتَر بثلاث، ومن شاء أوْتَر بواحدة».

ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وتر حق ہے؛ جو چاہے سات پڑھ لے، جو چاہے پانچ پڑھ لے، جو چاہے تین پڑھ لے اور جو چاہے ایک پڑھ لے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: "الوِتر حَقٌّ" الحَقُّ: يأتي بمعنى الثُّبوت، أي: ثابت في السُّنة، وفيه نوع تأكيد، ويأتي بمعنى الوجوب، والمراد به هنا الأول: تأكد مشروعيته؛ لورود الأدلة الصريحة الدَّالة على عدم وجوبه. 
605;نها : ما رواه الشيخان من حديث طلحة بن عبيد الله قال جاء رجل إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- من أهل نَجد الحديث، وفيه فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: (خمس صلوات في اليوم والليلة) قال: "هل عليَّ غيرها" قال: (لا إلا أن تطوع) فلو كان واجبا لذَكره مع الصلوات الخمس.
ومنها: قوله -صلى الله عليه وسلم-: (خمس صلوات كَتبهن الله على العِباد، فمن جاء بِهن لم يُضَيِّع مِنهن شيئا؛ اسْتِخْفَافَا بحقهن، كان له عند الله عهد أن يُدخله الجَنَّة..).
ومن الأدلة على عدم وجوبه: ما رواه الشيخان من حديث بن عباس -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم-: "بعث معاذا إلى اليمن الحديث" وفيه: "فأعلمهم أن الله افترض عليهم خمس صلوات في اليوم والليلة"
وهذا من أحْسَن ما يُستدل به؛ لأن بَعْث معاذ كان قبل وفاته -صلى الله عليه وسلم- بيسير.
ومن الأدلة أيضا عن علي -رضي الله عنه-: (الوِتر ليس بِحتم..).
وعلى هذا يكون المُراد، بقوله: "حَقٌّ" زيادة في تأكيده وفضيلته، وأنه سُنة مؤكدة وذلك حَق.
"فمن شاء أوْتَر بِسبْعٍ، ومن شاء أوْتَر بخمس".
يعني: يصلي ركعتين ركعتين، ثم يوتر بواحدة، وهذا هو الأصل؛ لقوله -صلى الله عليه وسلم-: (صلاة الليل مثْنَى مثْنَى) متفق عليه.
ويحتمل أن يَسردها سَردا ولا يجلس إلا في الركعة الأخيرة، وهذا جائز، وقد جاء من فعله -صلى الله عليه وسلم- كما في مسند الإمام أحمد من حديث أمِّ سلمة -رضي الله عنها- قالت: "يوتر بِسبع وبِخمس لا يَفصل بينهن بسلام ولا بكلام".

وفي أبي داود من حديث عائشة -رضي الله عنها- :" ويوتر بخمس، لا يقعد بينهن إلا في آخِرهن".
"ومن شاء أوْتَر بثلاث".
يعني: يصلي ركعتين ثم يُسلم، ثم يصلي ركعة واحدة؛ لقوله -صلى الله عليه وسلم-: (صلاة الليل مثْنَى مثْنَى)، متفق عليه.
ويحتمل أن يكون المراد: سَردها، أي: يصلي ثلاثا سردًا لا يجلس إلا في الركعة الأخيرة، وقد ثبت ذلك عن النبي -صلى الله عليه وسلم- من حديث أبي بن كعب قال: "كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقرأ في الوتر بسبح اسم ربك الأعلى، وفي الركعة الثانية بقل يا أيها الكافرون، وفي الثالثة بقل هو الله أحد، ولا يُسلِّم إلا في آخِرهن". رواه النسائي.
وعن عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم-: "كان لا يُسلم في ركعتي الوتر" رواه النسائي. 

602;ال الشيخ ابن عثيمين -رحمه الله-: "يجوز الوتر بثلاث، ويجوز بخمس، ويجوز بسبع، ويجوز بتسع، فإن أوتر بثلاث فله صفتان كلتاهما مشروعة:
الصفة الأولى: أن يسرد الثلاث بتشهد واحد.
الصفة الثانية: أن يسلم من ركعتين، ثم يوتر بواحدة".
والأفضل أن يُسلم من كل ركعتين، ثم يصلي واحدة توتر له ما قد صلى؛ لأن فيه زيادة عمل، وهو الأكثر من فعله -صلى الله عليه وسلم-.
"ومن شاء أوْتَر بواحدة".
يعني: ركعة مفردة لا يتقدمها شَفع.
581;دیث کا مفہوم: ”وتر حق ہے“ حق ثبوت کے معنی میں آتا ہے۔ یعنی سنت سے ثابت ہے۔ اس میں یک گونہ تاکید ہے۔ یہ وجوب کے معنی میں بھی آتا ہے۔ لیکن یہاں مراد پہلا معنی ہے، یعنی یہ سنت مؤکدہ ہے۔ کیوں کہ بہت سارے واضح دلائل اس کے عدم وجوب پر دلالت کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک روایت طلحہ بن عبیداللہ کی ہے، جسے شیخین نے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ایک شخص اہل نجد میں سے رسول اللہ ﷺکے پاس آیا... اس حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ”دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں“۔ اس نے پوچھا کہ کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی نماز فرض ہے؟ تو آپ نے فرمایا: نہیں! الا یہ کہ تو نفل پڑھے۔ چنانچہ اگر یہ واجب ہوتا، تو اسے پانچ نمازوں کے ساتھ بیان کیا جاتا۔
نیز آپﷺ نے فرمایا: ”پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں جو انہیں ادا کرلے گا اور ان کے حق میں کسی چیز کو بھی کم تر سمجھتے ہوئے ضائع نہیں کرے گا تو اللہ کے ہاں اس کے لئے عہد ہے کہ اللہ اس کو جنت میں داخل کرے گا“۔
اس کے عدم وجوب کے دلائل میں سے بخاری و مسلم میں موجود عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی وہ روایت بھی ہے، جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا، آپﷺ اس حدیث میں فرمایا: ”ان کو یہ بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں“۔ یہ سب سے بہترین دلائل میں سے ہے؛ کیوں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن آپﷺ کی وفات سے کچھ ہی دنوں پہلے بھیجا تھا۔
اس کی ایک دلیل علی رضی اللہ عنہ سے مروی یہ روایت بھی ہے: ”وتر کی نماز فرض نماز کی طرح واجب نہیں“۔
چنانچہ اس حدیث میں ’حق‘ سے مراد وتر کی تاکید اور فضیلت کو دو چند کرنا اور یہ بتانا ہے کہ یہ سنت مؤکدہ ہے۔ یہی بات درست ہے۔
”جو چاہے سات وتر پڑھے اور جو چاہے پانچ“ یعنی دو دو رکعتیں پڑھے اور پھر ایک رکعت پڑھ کر انھیں طاق بنالے۔ یہی اصل ہے کیوں کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔(متفق علیہ)
اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ ساری رکعتیں مسلسل پڑھتا جائے اور صرف آخری رکعت ہی میں بیٹھے۔ یہ بھی جائز ہے اور آپﷺ سے بھی ثابت ہے۔ جیسا کہ ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ وتر کی پہلی رکعت میں سورۂ اعلیٰ پڑھتے، دوسری رکعت میں سورۂ کافرون اور تیسری رکعت میں سورۂ اخلاص پڑھتے اور آخر میں سلام پھیرتے۔ (سنن نسائي)
جب کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے۔ (سنن نسائی)
شیخ ابن عثیمین فرماتے ہیں کہ وتر تین ،پانچ، سات اور نو رکعت پڑھنا جائز ہے۔ اگر کسی کو تین پڑھنے ہیں، تو اس کی دو صورتیں ہیں اور دونوں ہی مشروع ہیں:
پہلی صفت یہ ہے کہ تینوں رکعتیں مسلسل ایک ہی تشہد کے ساتھ پڑھی جائیں اور دوسری صورت یہ ہے کہ دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا جائے اور ایک رکعت الگ سے پڑھ لی جائے۔ افضل یہ ہے کہ دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دے، پھر ایک رکعت پڑھے؛ تاکہ اس کی ساری نماز طاق ہو جائے۔ رسول اللہ ﷺ کا اکثر عمل اسی کے مطابق تھا۔ اگر کوئی صرف ایک وتر پڑھنا چاہے، تو بھی جائز ہے۔ یعنی صرف ایک رکعت پڑھ لے۔ اس کے ساتھ جفت رکعتیں نہ ملائے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11262

 
 
Hadith   1890   الحديث
الأهمية: الوتر ليس بحتم كهيئة الصلاة المكتوبة، ولكن سنة سنها رسول الله -صلى الله عليه وسلم-


Tema:

وتر فرض نمازوں کی طرح واجب نہیں ہے؛ بلکہ یہ رسول اللہ ﷺ کی ایک سنت ہے۔

عن علي -رضي الله عنه- قال: «الوِتر ليس بِحَتْمٍ كَهَيْئَةِ الصلاة المَكتوبة، ولكن سُنَّة سَنَّها رسول الله -صلى الله عليه وسلم-».

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نمازوں کی طرح واجب نہیں ہے؛ بلکہ یہ تو رسول اللہ ﷺ کی ایک سنت ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: صلاة الوتر ليس بواجبة، كالصلوات الخَمس، ولكن سُنَّة سَنَّها رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، أي: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- سَنَّ لنا الوِتر ولم يُوجبه علينا، وهذا تأكيد لقوله: "ليس بِحَتم"، فالوتر صلاة مستحبة ومندوبة فقط.
581;دیث کا مفہوم: پنجگانہ نماز کی طرح نماز وتر واجب نہیں ہے، یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے، یعنی نبیﷺ نے وتر کی نماز کو ہمارے لیے مسنون کیا ہے ہم پر واجب نہیں کیا۔ یہ جملہ در اصل ”ليسَ بِحَتْمٍ“ کی تاکید ہے۔ پس وتر کی نماز مستحب اور مسنون ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11263

 
 
Hadith   1891   الحديث
الأهمية: صلى بنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في رمضان ثمان ركعات والوتر، فلما كان من القابلة اجتمعنا في المسجد ورجونا أن يخرج إلينا، فلم نزل في المسجد حتى أصبحنا


Tema:

ہمیں رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں آٹھ رکعات (نمازِ تراویح) اور وتر پڑھائی۔ اگلے دن ہم پھر مسجد میں اکٹھے ہوئے اور ہمیں امید تھی کہ رسول اللہﷺ ہماری طرف نکل کر ( مسجد میں) آئیں گے لیکن صبح ہونے کی قریب آ گئی اور آپ باہر تشریف نہیں لائے۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- قال: صلَّى بِنَا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في رمضان ثَمَان رَكَعَات والوِتر، فلمَّا كان من القَابِلَة اجْتَمَعْنَا في المسجد ورَجَونا أن يَخْرُجَ إِلَينَا، فلم نَزَلْ في المسجد حتى أصْبَحْنَا، فدَخَلْنَا على رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقلنا له: يا رسول الله، رَجَوْنَا أن تَخْرُجَ إِلَينَا فَتُصَلِّي بِنَا، فقال: «كَرِهت أن يُكْتَب عليكُم الوِتر».

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں آٹھ رکعات (تراویح کی) اور وتر پڑھائی۔ اگلے دن ہم پھر مسجد میں اکٹھے ہوئے اور ہمیں امید تھی کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف نکل کر (مسجد میں) آئیں گے لیکن صبح ہونے کی قریب آ گئی اور آپ باہر تشریف نہیں لائے۔ جب رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے تو ہم نے کہا اے اللہ کے رسولﷺ! ہم اس امید پر تھے کہ آپ آئیں گے اور ہمیں نماز پڑھائیں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اس بات کو پسند نہیں کیا کہ یہ وتر تم پر فرض کر دی جائے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: "صلَّى بِنَا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في رمضان ثَمَان ركعات والوِتر".
يعني: صلَّى النبي -صلى الله عليه وسلم- بأصحابه في المسجد ثمان ركعات والوِتر، وكان ذلك في رمضان.
"فلما كان من القَابِلة" أي: في الليلة التي بعدها.
"اجْتَمَعْنَا في المسجد" أي: حضر الصحابة -رضي الله عنهم- ظَنَّا منهم أن النبي -صلى الله عليه وسلم- سيخرج ويصلي بهم كالليلة التي قبلها، ولهذا قالوا: "ورَجَونا أن يخرج إلينَا" أي: ليصلِّي بهم صلاة الليل.
"فلم نَزَلْ في المسجد حتى أصْبَحْنَا" يعني: أنهم انتظروه في المسجد، حتى طلع عليهم الصُّبح.
"فدَخلنَا على رسول الله -صلى الله عليه وسلم-" أي: أتوا النبي -صلى الله عليه وسلم-؛ ليسألوا عن سبب عدم حضوره للصلاة بهم.
"فقلنا له: يا رسول الله، رَجَوْنَا أن تخرج إلينَا فتصلِّي بِنَا" أي: تَمنينا وتأملنا خروجك؛ لتُصلي بِنَا، كما في الليلة الماضية.
"فقال: كَرِهت أن يُكتب عليكم الوِتر"، علَّل النَّبي -صلى الله عليه وسلم- عدم خروجه إليهم بأنه كَرِه أن يُكتب عليهم الوِتر، وفي رواية: "خَشيت أن تُفرض عليكم"، وفي لفظ : "خَشيت أن تفرض عليكم صلاة الليل" فهذا هو السبب الذي جعل النبي -صلى الله عليه وسلم- يمتنع من الخروج إليهم، وهذا من رحمته بأمَّته وشفقَتِه عليهم -صلى الله عليه وسلم-، وقد وصفه الله بقوله: {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} [التوبة: 128].
وأصل هذا الحديث في الصحيحين من حديث عائشة -رضي الله عنها-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- خرج ذات ليلة من جَوف الليل، فصلَّى في المسجد، فصلَّى رجال بصلاته، فأصبح الناس، فتحدَّثُوا، فاجتمع أكثر منهم، فصلَّوا معه، فأصبح الناس، فتحدَّثُوا، فَكثُر أهل المسجد من الليلة الثالثة، فخرج رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فصلُّوا بصلاته، فلما كانت الليلة الرابعة عَجَز المسجد عن أهله حتى خرج لصلاة الصُّبح، فلما قضى الفجر أقبل على الناس، فتشهد، ثم قال: «أما بعد، فإنه لم يَخْفَ عليَّ مكانَكم، لكني خَشِيت أن تُفرض عليكم، فتَعْجَزوا عنها».
581;دیث کا مفہوم: ”ہمیں رسول اللہﷺ نے رمضان میں آٹھ رکعات اور وتر ( نماز) پڑھائی“ یعنی نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو رمضان میں مسجد کے اندر آٹھ رکعات نماز اور وتر پڑھائی۔
”جب اگلی رات آئی“ یعنی اس کے بعد دوسری رات۔
”ہم مسجد میں جمع ہو ئے“ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس امید پر پھر مسجد میں حاضر ہو ئے کہ نبی کریم ﷺ آج پھر آئیں گے اور جیسے ہم نے کل نماز پڑھی تھی ویسے آج پھر پڑھائیں گے۔ اس لیے انھوں نے کہا ”ہمیں امید تھی کہ آپ ﷺ باہر ہمارے پاس تشریف لائیں گے“ یعنی ان کو رات کی نماز پڑھائیں گے۔
”ہم مسجد میں رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی“ یعنی صحابہ مسجد میں انتظار ہی کرتے رہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی۔
”ہم نبی کریمﷺ کے پاس گیے“ یعنی وہ نبی کریمﷺ کے پاس آئے تاکہ آپ ﷺ سے پوچھ سکیں کہ آج آپ ﷺ نماز پڑھانے کے لیے تشریف کیوں نہیں لائے؟
”ہم نے کہا اے اللہ کے رسولﷺ!ہم یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ آپ باہر تشریف لائیں گے اور ہمیں نماز پڑھائیں گے“ یعنی ہم یہ تمنا اور امید لگائے بیٹھے تھے کہ آپ کل رات کی طرح آج پھر آئیں گے اور ہمیں (باجماعت) نماز پڑھائیں گے۔
آپﷺ نے فرمایا: كَرِهت أن يُكتب عليكم الوِتر (میں نے اس بات کو پسند نہیں کیا کہ یہ وتر تم پر فرض کر دی جائے)۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے نہ آنے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ آپ ﷺ کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ کہیں وتر بھی ان پر فرض نہ کر دی جائے۔ ایک روایت میں ہے: ”میں اس بات سے ڈرا کہ کہیں یہ تم پر فرض نہ کر دی جائے“ اور ایک روایت میں ہے ”اس بات سے ڈر ا کہ کہیں قیام اللیل تم پر فرض نہ کر دیا جائے“، یہ وہ سبب تھا جس کی وجہ سے آپ ﷺ ان کے پاس تشریف نہیں لائے اور آپ ﷺ کی امت کے ساتھ یہی وہ رحمت و شفقت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان اوصاف کے ساتھ بیان فرمایا ہے: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾ } ”لوگو! تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف ان کو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے بہت خواہشمند ہیں۔ اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے (اور) مہربان ہیں“ (سورہ توبہ: 128)۔
اس حدیث کی اصل صحیحین میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ (رمضان کی) نصف شب میں مسجد تشریف لے گیے اور وہاں تراویح کی نماز پڑھی۔ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیے۔ صبح ہوئی تو انھوں نے اس کا چرچا کیا۔ چنانچہ دوسری رات میں لوگ پہلے سے بھی زیادہ جمع ہو گیے اور آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔دوسری صبح کو اور زیادہ چرچا ہوا اور تیسری رات اس سے بھی زیادہ لوگ جمع ہو گیے۔ آپ ﷺ نے (اس رات بھی) نماز پڑھی اور لوگوں نے آپ ﷺ کی اقتداء کی۔ چوتھی رات کو یہ عالم تھا کہ مسجد میں نماز پڑھنے آنے والوں کے لیے جگہ بھی باقی نہیں رہی تھی۔(لیکن اس رات آپ باہر نکلے ہی نہیں) بلکہ صبح کی نماز کے لیے باہر تشریف لائے۔ جب نماز پڑھ لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر (کلماتِ) شہادت کے بعد فرمایا۔ امابعد! تمہارے یہاں جمع ہونے کا مجھے علم تھا، لیکن مجھے خوف اس کا ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور پھر تم اس کی ادائیگی سے عاجز ہو جاؤ۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11264

 
 
Hadith   1892   الحديث
الأهمية: إن الله عز وجل زادكم صلاة، فصلوها فيما بين صلاة العشاء إلى صلاة الصبح، الوتر الوتر


Tema:

بے شک اللہ عزوجل نے تمہیں مزید ایک نماز دی ہے اس کو نمازِ عشاء اور نمازِ فجر کے مابین ادا کرو اور وہ وتر ہے وتر ہے

عن أبي تَمِيم الجَيْشَانِيِّ قال: سمعت عمرو بن العَاص يقول: أخبرني رَجُل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يقول: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن الله عز وجل زَادَكُمْ صلاة فصلُّوها فيما بَيْن صلاة العِشَاء إلى صلاة الصُّبح، الوِتر الوِتر»، أَلَا وإنَّه أبو بَصْرَة الغِفَاري، قال أبو تَميم: فكنت أنا وأبو ذَرٍ قاعِدَين، قال: فأخذ بِيَدِي أبو ذَرٍّ فانطلقنا إلى أبي بَصْرة فوجدناه عند الباب الذي يَلِي دار عَمرو بن العاص، فقال أبو ذَرٍّ: يا أبا بَصْرَة آنت سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إن الله عز وجل زَادَكُمْ صلاة، فصلُّوها فيما بَيْن صلاة العشاء إلى صلاة الصُّبح الوِتر الوِتر؟» قال: نعم، قال: أنْتَ سَمِعْتَه؟ قال: نعم، قال: أنت سمعته؟ قال: نعم.

ابو تمیم جیشانی فرماتے ہیں کہ:میں نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے اصحاب رسول میں سے کسی نے یہ بتایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل نے تمہیں مزید ایک نماز عطا کی ہے اس کو نماز عشاء اور نماز فجر کے مابین ادا کرو اور وہ وتر ہے وتر ہے، خبردار! (جنھوں نے خبر دی) وہ ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ ابو تمیم کہتے ہیں کہ میں اور ابو ذر دونوں بیٹھے ہوئے تھے کہ ابو ذر نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم ابوبصرہ کی طرف چل نکلے ۔ہم ان کے گھر کے دروازے پر آئے جو کہ عمرو بن عاص کے گھر کے ساتھ ہی تھا۔ ابو ذر نے کہا اے ابوبصرہ! کیا تو نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا؟بے شک اللہ عزوجل نے تمہیں مزید ایک نماز دی ہے اس کو نماز عشاء اور نماز فجر کے مابین ادا کرو اور وہ وتر ہے وتر ہے۔ فرمایا :ہاں۔ کہا کیا تو نے خود سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر کہا کہ کیا تو نے خود سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔

Esin Hadith Caption Urdu


"إن الله عز وجل زَادَكُمْ صلاة" المعنى: أن الله -تعالى- زادهم صلاة لم يكونوا يصلونها من قَبْل على تلك الهيئة والصورة، وهي: الوتر، وهذا وارد على سبيل الامتنان، كأنه قال: إن الله فَرض عليكم الصلوات الخَمس ليؤجركم بها ويثيبكم عليها، ولم يَكتف بذلك، فشرع لكم التهجد والوتر؛ ليزيدكم إحسانا على إحسان، "فصلُّوها" وهذا أمر، والأصل في الأمر الوجوب، لكن هذا الحديث وغيره من الأحاديث التي ظاهرها وجوب صلاة الوتر؛ قد صُرفت بالأدلة الصريحة الصحيحة.
ثم جاء تحديد وقت صلاة الوتر الزماني: "فيما بَيْن صلاة العشاء إلى صلاة الصُّبح" يعني: أن وقت صلاة الوتر يدخل بعد الفَراغ من صلاة العشاء، فإذا صلَّى العشاء دخل وقت صلاة الوتر، ولو جَمعها مع المَغرب جمع تقديم، وأمَّا آخر وقتها فطلوع الفجر، فإذا طلع الفجر خرج وقت صلاة الوتر، وإن كان فيها أتمها.
ثم قال عمرو بن العاص رضي  الله عنه: "ألا وإنه أبو بَصْرَة الغِفَاري" أن الذي أخبر عمرو بن العاص هو: أبو بَصْرَة الغِفَاري رضي الله عنه.
quot; قال أبو تَميم: فكنت أنا وأبو ذَرٍ قاعِدَين، قال: فأخذ بِيَدِي أبو ذَرٍّ فانطلقنا إلى أبي بَصْرة، فوجدناه عند الباب الذي يَلِي دار عَمرو بن العاص" يعني: أنه بعد أن بَلغهما الخَبر عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أرادا التأكد من صحته، فذهبا إلى أبي بَصْرَة -رضي الله عنه-، فلما وصلا إلى أبي بصرة -رضي الله عنه- سأله أبو ذر عن صحت ما نقله عن النبي -صلى الله عليه وسلم- "قال: نعم، قال: أنت سَمعته؟ قال: نعم، قال: أنت سمعته؟ قال: نعم"، فأكَّد لهما أنَّ ما نُقِل عن النبي -صلى الله عليه وسلم-: "إن الله زادكم صلاة.." صحيح.

581;دیث کا مفہوم: ”بے شک اللہ عزوجل نےتمہارے لیے ایک نماز زیادہ کی ہے“ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مزید ایک ایسی نماز دی تھی جس کو وہ پہلے اس کیفیت اور انداز سے نہیں پڑھتے تھے اور وہ وتر ہے۔ اور یہ بطور احسان وارد ہوئی ہے جیسا کہ فرمانِ رسول ہے: ”اللہ تعالیٰ نے تم پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں تاکہ تمہیں اجر و ثواب سے نوازے لیکن اسی پر اکتفا نہیں بلکہ تمہارے لیے تہجد اور وتر کو بھی مشروع کیا ہے تاکہ تم پر مزید احسان پر احسان کرے“، لہذا، اس کو پڑھو یہ حکم ہے اور قاعدہ یہی ہے کہ حکم وجوب کے لیے ہوتا ہے۔ اس حدیث اور دیگر اس جیسی احادیث کے ظاہر سے اس نماز کا وجوب ثابت ہوتا ہے لیکن بہت سارے صحیح اور صریح دلائل نے اس کو وجوب سے پھیر دیا ہے یعنی وتر کی نماز فرض نہیں ہے۔ پھر اس کے بعد نماز وتر کی ادائیگی کے لیے وقتِ زمانی کا تعین کیا جوکہ نماز عشاء اور نماز فجر کے مابین، یعنی نماز وتر کا وقت نماز عشاء سے فارغ ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ جب نماز عشاء پڑھ لی تو نمازِ وتر کا وقت شروع ہو جاتا چا ہے جمع تقدیم کرتے ہوئے عشاء کو مغرب کے ساتھ جمع کر لیا گیا ہو۔ اور اس کا آخری وقت طلوعِ فجر ہے۔ جب فجر طلوع ہو گئی نماز وتر کا وقت ختم ہو گیا،اوراگر وقت ہے تو اسے پورا کرے۔
پھر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”خبردار! وہ ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ ہیں“ یعنی جس نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو خبر دی تھی وہ ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ تھے۔
ابو تمیم کہتے ہیں کہ میں اور ابو ذر دونوں بیٹھے ہوئے تھے کہ ابو ذر نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم ابو بصرہ کی طرف چل نکلے ۔ہم ان کے گھر کے دروازے پر آئے جوکہ عمرو بن عاص کے گھر کے ساتھ ہی تھا، یعنی جب ان دونوں کو رسول اللہ ﷺ کےحوالے سے یہ خبر ملی تو اس کی صحت کی تاکید کے لیے دونوں ابو بصرہ رضی اللہ عنہ کی طرف چل نکلے۔جب ان کی ملاقات ابو بصرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو ابو ذر رضی اللہ عنہ نے ان سے نبی کریمﷺ سے نقل کی جانے والی بات کی صحت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا :ہاں۔ کہا کیا تو نے خود سنا تھا؟ انہوں نے کہا :ہاں۔ پھر کہا کہ کیا تو نے خود سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ انھوں نے نبی کریمﷺ سے نقل کرنے والی بات ”إن الله زادكم صلاة“ کے بارے میں تاکید کے ساتھ بتایا کہ یہ صحیح ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11266

 
 
Hadith   1893   الحديث
الأهمية: يا عائشة إن عيني تنامان ولا ينام قلبي


Tema:

اے عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔

عن أبي سَلمة بن عبد الرحمن، أنه أخْبَره: أنه سَأل عائشة -رضي الله عنها-، كيف كانت صلاة رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في رمضان؟ فقالت: «ما كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يَزيد في رمضان ولا في غَيره على إحدى عَشرة ركعة يصلِّي أربعا، فلا تَسَل عن حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثم يصلِّي أربعا، فلا تَسَل عن حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثم يصلَّي ثلاثا». قالت عائشة: فقلت يا رسول الله: أتنام قبل أن توتر؟ فقال: «يا عائشة إن عَيْنَيَّ تَنَامَانِ ولا يَنام قَلْبِي»

ابو سلمہ بن عبدالرحمن روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ ﷺ رمضان اورغیر رمضان میں (تہجد) کبھی گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔ پہلے چار رکعتیں پڑھتے، پسں نہ پوچھو کہ وہ کتنی حسین اور کتنی لمبی ہوتی تھیں؟ پھر چار رکعتیں پڑھتے، ان کے بھی حسن اور لمبائی کے بارے میں نہ پوچھو، پھر تین رکعتیں (وتر) پڑھتے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معلوم أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يقوم من الليل، سواء كان في رمضان أو في غيره؛ فلما كان كذلك سأل أبو سلمة عن قيام رمضان، هل صلاته -صلى الله عليه وسلم- في ليالي رمضان كصلاته في غير رمضان، من حيث عدد الركعات أو أن الأمر مختلف؟
فأجابته -رضي الله عنها- بأنه لا فرق بين صلاته في رمضان ولا في غيره، فإنه كان يصلي على مدَار العام إحدى عَشرة ركعة لا يزيد عليها.
ثم بَيَّنت له كيفيتها بقولها : "يصلِّي أربعا" المراد أنه يصلِّي ركعتين، ثم يسلِّم، ثم يصلِّي ركعتين، ثم يسلِّم؛ لأن عائشة -رضي الله عنها- قد بَيَّنت وفصلت الإجمال في هذا الحديث في حديثها الآخر عند مسلم، حيث قالت: (كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يصلِّي فيما بَيْن أن يَفرغ من صلاة العِشاء إلى الفجر، إحدى عَشَرة ركعة، يُسلِّم بَيْن كل ركعتين، ويوتر بواحدة). مع قوله -صلى الله عليه وسلم-: (صلاة الليل مَثْنَى مَثْنَى) متفق عليه.
"فلا تَسَل عن حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنّ" أي: لا تسأل عن كيفيتهن، فإنهن في غاية الحُسن والكمال في جودة القراءة وطول القيام والرُّكوع والسُّجود.
608;كذلك الأربع الأخيرة ركعتين ركعتين، فلا تَسأل عن حُسنها وكمالها في جودة القراءة وطول القيام والرُّكوع والسُّجود.
"ثم يصلَّي ثلاثا" ظاهر هذا: أنه يَسردهن سَرْدَا من غير فَصل، ثم يسلِّم في الرَّكعة الأخيرة، لكن رواية عائشة الأخرى بَيَّنت أنه يسلِّم من ركعتين، ثم يوتر بواحدة، ونصه :" يُسلِّم بَيْن كل ركعتين، ويوتر بواحدة "، فدل ذلك على أنه يَفْصِل بين الثلاث بالتَّسليم.
 "قالت عائشة: فقلت يا رسول الله: أتَنَام قبل أن تُوتر؟" أي: كيف تَنام قبل أن تصلِّي الوِتر.
"فقال: يا عائشة إن عَيْنَيَّ تَنَامَانِ ولا يَنام قلْبِي" والمعنى: أن قَلبه -صلى الله عليه وسلم- لا يَغيب كما تَغيب عيناه، بل يُدرك ويَشعر بكل شَيء ومن ذلك: مُراعاة الوقت وضَبْطه، ولهذا كانت رؤية الأنبياء وحْي.
740;ہ بات تو معروف ہے کہ نبی ﷺ رمضان ہو یا غیر رمضان رات معریں قیام فرماتے تھے، اور جب بات ایسی تھی تو ابو سلمہ نے قیامِ رمضان سے متعلق پوچھا کہ آپ ﷺ کی نماز رمضان کی راتوں میں رکعات کے اعتبار سے کیا غیر رمضان کی نماز کی طرح ہوتی تھی یا معاملہ کچھ اس کے علاوہ تھا ؟
تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ رمضان ہو یا غیر رمضان، آپ ﷺ کی نماز کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا تھا، کیوں کہ آپ ﷺ سال بھر گیارہ رکعت پڑھتے تھے اس سے زیادہ نہیں، اور پھر اس نماز کی کیفیت اپنے اس قول کے ساتھ بیان کی کہ آپ چار رکعتیں پڑھتے، یہاں پر مقصود یہ ہے کہ آپ ﷺ دو رکعات پڑھتے اور پھر سلام پھیرتے پھر دو رکعات پڑھتے اور پھر سلام پھیرتے، کیوں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس حدیث میں جو اجمال و اختصار ہے اس کی وضاحت و تفصیل اپنی اس حدیث میں کی ہے جس کی تخریج امام مسلم نے کی ہے، بایں طور کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”رسول ﷺ نماز عشاء سے فارغ ہونے کے بعد نماز فجر کے بیچ گیارہ رکعت پڑھتے تھے، ہر دو رکعت كے بعد سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر پڑھتے“۔ اسی کے ساتھ رسول ﷺ کا یہ فرمان ہے: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے“ (متفق علیہ)
”ان رکعتوں کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا؟“ یعنی ان رکعتوں کی کیفیت کے متعلق نہ پوچھو، کیوں کہ وہ تلاوت کی عمدگی، قیام، رکوع اور سجدہ کی لمبائی میں منتہائے حسن وکمال پر تھیں۔
اور اسی طرح آخر کی چاروں رکعتیں دو دو رکعت کرکے پڑھتے۔ پس ان رکعتوں میں تلاوتِ قرآن کی خوبی اور کمال، طولِ قیام اور رکوع و سجود کی طوالت کے بارے میں نہ پوچھو۔
”پھر تین رکعتیں پڑھتے“ ظاہر کلام سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ﷺ ان تینوں رکعتوں کو فصل کئے بغیر پڑھتے، پھر آخری رکعت میں سلام پھیر دیتے تھے، لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا کی دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے اور پھر ایک رکعت وتر پڑھتے،اور اس کے الفاظ یہ ہیں: ”آپ ﷺ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے اور پھر ایک رکعت وتر پڑھتے“ اور یہ اس بات پر دلیل ہے کہ آپ ﷺ تین رکعتوں میں سلام کے ذریعہ فصل کرتے تھے۔
”عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟“ یعنی آپ وتر پڑھنے سے پہلے کیسے سوتے ہیں؟
”عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا“ اس کا معنیٰ و مفہوم یہ ہے کہ: آپ ﷺ کا دل بند نہیں ہوتا جس طرح آنکھ بند ہو جاتی ہے، آپ کا دل متوجہ رہتا ہے اور ہر چیز کا ادراک کر لیتا ہے، اور اسی قبیل سے وقت کی رعایت اور پابندی بھی ہے اور اسی ناطے انبیا ء کا خواب وحی کا حصہ مانا جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11268

 
 
Hadith   1894   الحديث
الأهمية: كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة منها الوتر، وركعتا الفجر


Tema:

نبی ﷺ رات میں تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے جس میں وتر اور فجر کی دو رکعتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔

عن عائشة -رضي الله عنها-، قالت: «كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة منها الوِتر، وركعتا الفجر».

عائشہ رضی الله عنها سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رات میں تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے جس میں وتر اور فجر کی دو رکعتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يداوم على صلاة ثلاث عشرة ركعة في الليل ومنها الوتر سواء أكان ذلك في رمضان أو غيره، وكذلك كان يداوم على ركعتي الفجر، والمراد بالمداومة الإكثار، لما ورد من أنه -صلّى الله عليه وسلّم- إذا دخل العشر الأواخر من رمضان يجتهد فيه ما لا يجتهد في غيره، فهو محمول على التطويل في الركعات دون الزيادة في العدد، وقد كان -صلّى الله عليه وسلّم- يصلي ثلاث عشرة، ويصلي إحدى عشرة، وجاء أنه يصلي أقل من ذلك.
593;ائشہ رضی الله عنها خبر دے رہی ہیں کہ نبی ﷺ ہمیشہ رات میں تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے جس میں وتر بھی ہوتی تھی۔ چاہے رمضان ہو، یا غیر رمضان، اور اسی طرح فجر کی دو رکعتوں کی مداومت کیا کرتے تھے، مداومت سے مراد کثرت سے پڑھنا ہے، جیسا کہ وارد ہے کہ نبی ﷺ جب رمضان کا آخری عشرہ داخل ہوتا تھا، تو آپ ﷺ اس میں اتنی محنت کیا کرتے تھے جتنی کہ آپ اس کے علاوہ دوسرے میں نہیں کرتے تھے، چنانچہ اس سے مراد، نبی ﷺ رکعتوں کو لمبی کیا کرتے تھے، نہ کہ رکعتوں میں اضافہ فرماتے تھے، نبی ﷺ رات میں کبھی تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے اور کبھی گیارہ رکعت پڑھا کرتے تھے۔ (کچھ روایتوں میں) یہ بھی آیا ہے کہ آپ ﷺ کبھی اس سے کم بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11269

 
 
Hadith   1895   الحديث
الأهمية: يا عبد الله، لا تكن مثل فلان كان يقوم الليل، فترك قيام الليل


Tema:

اے عبداللہ! تم فلاں شخص کی طرح نہ ہونا، وہ رات کو قیام کرتا تھا، پھر اس نے (اکتاکر) رات کا قیام چھوڑ دیا

عن عبد الله بن عمرو بن العاص -رضي الله عنهما- قال: قال لي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «يا عبد الله، لا تكن مثل فلان كان يقوم الليل، فترك قيام الليل».

عبد اللہ بن عَمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے عبداللہ! تم فلاں شخص کی طرح نہ ہونا، وہ رات کو قیام کرتا تھا، پھر اس نے (اکتاکر) رات کا قیام چھوڑ دیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
حذر النبي -صلى الله عليه وسلم- عبد الله بن عمرو أن يترك صلاة الليل كما فعل فلان من الناس، ولم يُذكر اسمه ستراً عليه.
وينبغي للمسلم أن يحذر من التشدد في العبادة وتكليفه النفس ما لا تطيق من الطاعات، ومن فَعَلَ ذلك غلبه الدِّين لكثرة الأعمال والطاعات، فيكون آخر أمره العجز والانقطاع؛ لأن الله تعالى أوجب على عباده وظائف من الطاعات في وقت دون وقت، تيسيراً ورحمة، ولأن الإنسان إذا أخذ بالقصد دام عمله، وتمكن من أداء الحقوق كلها، حقِّ الله تعالى، وحقِّ النفس، وحقِّ الأهل والأصحاب برفق وسهولة، وقد قال النبي -صلّى الله عليه وسلّم-: «إن أحب الأعمال إلى الله أدومها وإن قل»، فينبغي للإنسان أن يكون له ورد بالليل قدر استطاعته.
606;بی ﷺ نے عبداللہ بن عمرو کو رات کی نماز چھوڑ نے پر تنبیہ فرمائی ہے، جس طرح کہ لوگوں میں سے فلاں نے چھوڑ ديا تھا۔ اور آپ ﷺ نے اس کا نام اس پر پردہ ڈالتے ہوئے نہیں ذکر کيا۔
ايک مسلمان کو چاہيے کہ عبادت ميں تشدد اور اپنے آپ کو ایسی عبادات کا مکلف (پابند) بنانے سے بچے جنہیں وہ کرنے کی طاقت نہيں رکھتا، اور جو شخص ایسا کرے گا تو کثرتِ اعمال و عبادات کی وجہ سے دین اس پر غالب ہوجائے گا، اور آخر کار وہ عاجز و بے بس ہوجائے گا اور اسے چھوڑ بیٹھے گا۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر آسانی ورحمت کے لیے عبادتوں کو گاہے بگاہے فرض کيا ہے۔ اور اس لیے کہ اگر انسان عبادتوں ميں ميانہ روی اختيار کرے گا تو اس کے عمل میں ہمیشگی برقرار رہے گی اور وہ اللہ کا حق، خود کا حق، اہل و عیال اور رفقاء کا حق آسانی و سہولت کے ساتھ ادا کر سکے گا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمايا: ”تمام اعمال ميں اللہ کو وہی عمل پسند ہے جس کو لگاتار اور ہميشہ کيا جاے گر چہ وہ تھوڑا ہی کيون نہ ہو“۔ لہٰذا انسان کو چاہيے کہ اپنی استطاعت کے مطابق رات ميں کچھ نہ کچھ عبادت کرے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11270

 
 
Hadith   1896   الحديث
الأهمية: يا أهل القرآن، أوتروا؛ فإن الله وتر، يحب الوتر


Tema:

اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر (طاق یعنی یکتا) ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے۔

عن علي بن أبي طالب -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «يا أهل القرآن، أوتروا؛ فإن الله وتر، يحب الوتر».

Esin Hadith Text


علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر (طاق یعنی یکتا) ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في الحديث الشريف أمر لأهل القرآن الذين هم أهل الله وخاصته بأن يصلوا صلاة الوتر، وذلك لأن الله واحد فرد في ذاته وصفاته وأفعاله يحب الوتر سبحانه.
المراد بأهل القرآن: المؤمنون عامة، من قرأ ومن لم يقرأ، وإن كان من قرأ أولى بالخطاب لحفظه إياه، وقال الخطابي: المراد بهم: القراء والحفاظ، وخصوا بالذكر، لمزيد شرفهم والاهتمام بهم، فينبغي أن يكون لأهل القرآن عناية بالوتر، وإن كان مطلوباً من الجميع، لكن لأهل القرآن مزية على غيرهم؛ لأنهم قدوة، ولأن عندهم من العلم ما يدعوهم إلى المسارعة إلى فعل الطاعات والقربات ما ليس عند غيرهم، فيكون الأمر في حقهم آكد.
575;س حديث شريف ميں اہل قرآن جو اللہ کے خاص بندے ہوتےہيں، انہيں حکم ديا گيا ہے کہ وتر کی نماز پڑھا کريں، کيونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور افعال ميں يکتا اور تنہا ہے، وتر کو پسند فرماتاہے۔
اہل قرآن سے مراد تمام مومنين ہيں جو قرآن کےقاری ہيں اور جو قرآن کے قاری نہيں ہيں وہ بھی مراد ہيں، گرچہ قراء حضرات حفظِ قرآن کی وجہ سےاس خطاب کے زيادہ حقدار ہيں۔ علامہ خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہيں: اہل قرآن سے مراد حفّاظِ قرآن اور قراء ہيں،اور ان کا خصوصی ذکر ان کی اہميت اور شرف ومنزلت کی وجہ سے کيا گيا ہے، لہذا اہل قرآن کو خصوصی طور پر وتر کا اہتمام کرنا چاہيے، اگرچہ يہ تمام مومنين سے مطلوب ہے، ليکن اہل قرآن کو عام لوگوں پر فوقيت اور برتری حاصل ہے، کيونکہ وہ ان کے ليے اسوہ اور نمونہ ہوتے ہيں اوران کے پاس وہ علم ہوتا ہے جس سے دوسرے لوگ محروم ہوتے ہيں، جو ان کے لیے طاعات وعبادات ميں مسابقت اور بڑھ چڑھ کر حصہ لينے کا داعيہ (محرک) ہوتا ہے، اس لیے ان کی بابت یہ حکم زیادہ تاکید اور اہمیت رکھتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11271

 
 
Hadith   1897   الحديث
الأهمية: لا وتران في ليلة


Tema:

ایک رات میں دو وتر نہیں۔

عن قيس بن طلق، قال: زارنا طلْق بن علي في يوم من رمضان، وأَمْسى عندنا، وأفطر، ثم قام بنا الليلة، وأَوْتَرَ بنا، ثم انحدر إلى مسجده، فصلى بأصحابه، حتى إذا بقي الوتر قَدَّمَ رجلا، فقال: أَوْتِرْ بأصحابك، فإني سمعت النبي -صلى الله عليه وسلم- يقول: «لا وِتْرَانِ في ليلة».

قیس بن طلق سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: طلق بن علی رضی اللہ عنہ رمضان میں ایک دن ہمارے ہاں آئے، ہمارے ہی یہاں شام کی، افطار کیا، ہمیں اس رات نماز پڑھائی، وتر بھی پڑھائے پھر اپنی مسجد کی طرف چلے گئے، وہاں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی اور جب وتر باقی رہ گیا، تو ایک شخص کو آگے کر دیا اور کہاکہ اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھاؤ ، بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ، آپ فرماتے تھے: ”ایک رات میں دو وتر نہیں“ (یعنی دو بار وتر نہیں)۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين لنا الصحابي الجليل طلق بن علي -رضي الله عنه- في الحديث الشريف من فعله بأنه أوتر أول الليل بأهله، ثم صلى بقومه ولم يوتر بل قدم غيره في الوتر؛ وذلك لأنه سمع نهياً من النبي -صلى الله عليه وسلم- بأن يوتر الإنسان مرتين في ليلة واحدة.
589;حابی جلیل طلق بن علی رضی اللہ عنہ اس حدیث میں اپنے فعل سے یہ بیان کر رہے ہیں کہ انھوں نے ایک دفعہ رات کے ابتدائی جصے میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ وتر پڑھا، پھر اپنی قوم کے لوگوں کو نماز پڑھائی، لیکن وتر نہیں پڑھایا، بلکہ وتر کے لیے کسی اور کو آگے کر دیا۔ انھوں نے ایسا اس لیے کیا تھا؛ کیوں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا کہ آپ نے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ کوئی آدمی ایک رات میں دو وترپڑھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11272

 
 
Hadith   1898   الحديث
الأهمية: أوتروا قبل أن تصبحوا


Tema:

صبح ہونے سے پہلے ’وتر‘ پڑھ لو۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «أَوْتِرُوا قبل أن تُصبحِوُا».

ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمايا: ”صبح ہونے سے پہلے ’وتر‘ پڑھ لو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الوتر من صلاة الليل، وهو الذي يختم به قيام الليل؛ كما تختم صلاة النهار بصلاة المغرب؛ لتوترها، فيبين الحديث الشريف أن وقت الوتر يكون قبل أن يصبح الإنسان أي قبل طلوع الفجر الثاني.

Esin Hadith Caption Urdu


’وتر‘ رات کی نماز ہے اور اس کے ساتھ قیام اللیل، ختم ہو جاتی ہے جس طرح کہ صبح کی نمازیں، نمازِ مغرب کے ساتھ طاق ہو کر اختتام پذیر ہو جاتی ہیں۔ اس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ نماز وتر کا وقت صبح ہونے سے پہلے تک ہے یعنی صبح صادق ہونے سے پہلے پہلے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11275

 
 
Hadith   1899   الحديث
الأهمية: من أدركه الصبح ولم يوتر، فلا وتر له


Tema:

جس نے صبح (صادق) سے پہلے وتر نہيں پڑھی تو اس کی وتر نہيں ہے

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «من أدركه الصبح ولم يوتر؛ فلا وتر له».

ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمايا: ”جس نے صبح (صادق) سے پہلے وتر نہيں پڑھی تو اس کی وتر نہيں ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف أن صلاة الوتر تفوت بالإصباح أي بطلوع الفجر الثاني، وهذا الوقت الاختياري، أما الاضطراري كمن استيقظ متأخرا فيستمر وقت الفجر له إلى صلاة الصبح؛ لوروده عن جمع من الصحابة -رضي الله عنهم-.
575;س حدیث شریف سے پتہ چلتا ہے کہ وتر کی نماز کا وقت صبح ہونے یعنی طلوعِ فجر ثانی سے ختم ہوجاتا ہے، اوریہ وتر كا اختیاری وقت ہے، اوروترکی نماز کا اضطراری وقت جیسے دیر سے بیدار ہونے والے شخص کے لیے تو یہ فجر کی نماز تک رہتا ہے، جیسا کہ یہ صحابۂ کرام کی ایک جماعت سے ثابت ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11276

 
 
Hadith   1900   الحديث
الأهمية: من نام عن وتره، أو نسيه، فليصله إذا ذكره


Tema:

جو وتر پڑھے بغیر سوجائے، يا اسے پڑھنا بھول جائے تو جب اسے یاد آئے اس وقت اسے پڑھ لے۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- مرفوعًا: «من نام عن وتره، أو نسيه، فَلْيُصَلِّه إذا ذكره».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو وِتر پڑھے بغیر سوجائے، يا اسے پڑھنا بھول جائے تو جب اسے یاد آئے اس وقت اسے پڑھ لے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من نام عن وتره حتى أصبح، أو نسيه فإنه يصليه بعد طلوع الفجر، أداءً لا قضاءً، فيبين الحديث الشريف جواز صلاة الوتر ولو بعد طلوع الفجر الثاني لمن نسيه أو نام عنه؛ لأنه معذور شرعاً.
580;و شخص وتر پڑھے بغیر سو جائے یہاں تک کہ صبح ہو جائے، یا اسے بھول جائے تو وہ اسے طلوعِ فجر کے بعد پڑھ لے۔ یہ اس کی طرف سے ادا ہو گی نہ کہ قضا۔ حدیث شریف میں اس بات کا بیان ہے کہ جو شخص وتر پڑھنا بھول جائے یا پھر انہیں پڑھے بغیر سو جائے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ (جب اسے یاد آئے یا جب وہ بیدار ہو) نماز وتر پڑھ لے اگرچہ یہ ادائیگی فجر ثانی کے طلوع کے بعد ہی کیوں نہ ہو کیونکہ ایسا شخص شرعاً معذور ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11277

 
 
Hadith   1901   الحديث
الأهمية: من خاف أن لا يقوم من آخر الليل فليوتر أوله، ومن طمع أن يقوم آخره فليوتر آخر الليل, فإن صلاة آخر الليل مشهودة، وذلك أفضل


Tema:

جس آدمی کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں نہیں اٹھ سکے گا تو اسے چاہیے کہ وہ شروع رات ہی میں وتر پڑھ لے اور جس آدمی کو اس بات کی تمنا ہو کہ رات کے آخری حصہ میں قیام کرے تو اسے چاہیے کہ وہ رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصہ کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ اس کے لیے افضل ہے۔

عن جابر-رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «من خاف أن لا يقوم من آخِرِ الليل فليوتر أوله، ومن طَمِعَ أن يقوم آخره فليوتر آخر الليل, فإن صلاة آخر الليل مشهودة، وذلك أفضل».

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ”جس آدمی کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں نہیں اٹھ سکے گا تو اسے چاہیے کہ وہ شروع رات ہی میں وِتر پڑھ لے اور جس آدمی کو اس بات کی تمنا ہو کہ رات کے آخری حصہ میں قیام کرے تو اسے چاہیے کہ وہ رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصہ کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ اس کے لیے افضل ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث جواز صلاة الوتر في أول الليل، ويكون الجواز أولى في حق من خشي ألا يقوم آخر الليل، كما بين أفضلية صلاته في آخر الليل وذلك لكونها مشهودة من الملائكة.

اس حدیث سے وِتر کی نماز کو رات کے اول حصہ میں پڑھ لینے کا جواز معلوم ہوتا ہے اور یہ جواز اس شخص کے حق میں بدرجہ اَوْلی ہے جسے اس بات کا خوف ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو کر وتر نہیں پڑھ سکے گا، اسی طرح رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو کر وتر پڑھنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے، کیونکہ اس وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11278

 
 
Hadith   1902   الحديث
الأهمية: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يصلي الضحى أربعا، ويزيد ما شاء الله


Tema:

رسول اللہ ﷺ صلاۃ الضحیٰ (نمازِ چاشت) چار رکعت پڑھتے تھے اور جتنا اللہ چاہتا زیادہ کرتے تھے

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يُصلِّي الضُحى أربعا، ويَزِيد ما شاء الله.

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صلاۃ الضحیٰ (نمازِ چاشت) چار رکعت پڑھتے تھے اور جتنا اللہ چاہتا زیادہ کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث ذكرت عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يصلِّي الضُّحى أربع ركعات يُسلَّم من كل ركعتين, ثم ذكرت أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قد يزيد على أربع ركعات؛ على حسب قُدرته ونشاطه.
575;س حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے ذکر کیا ہے کہ نبی ﷺ چاشت کی نماز چار رکعت پڑھتے اور ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے۔ پھر انھوں نے ذکر کیا ہے کہ نبی ﷺ اپنی قدرت و چستی کے بقدر چار رکعت سے زیادہ بھی پڑھتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11280

 
 
Hadith   1903   الحديث
الأهمية: هل كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الضحى؟ قالت: لا، إلا أن يجيء من مغيبه


Tema:

کیا نبی ﷺ چاشت کی نماز پڑھتے تھے ؟ انھوں نے کہا : نہیں، سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے

عن عبد الله بن شَقيق، قال: قُلت لعائشة: هل كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يُصلِّي الضُّحَى؟ قالت: «لا، إلا أن يَجِيء من مَغِيبِه».

عبداللہ بن شقیق سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نےعائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سئلت عائشة -رضي الله عنها- في هذا الحديث عن صلاته -صلى الله عليه وسلم- للضُّحى، هل كان يصلِّيها أم لا؟ فأجابت بأنه -صلى الله عليه وسلم- لم يكن يصلِّي الضُّحى إلا في حال رجوعه من سَفره, وهذا يدل على أنه -صلى الله عليه وسلم- لم يكن يواظب على صلاة الضَّحى، بل يصليها في أحوال دون أحوال، وعدم مواظبته عليها كانت خشية منه أن تُفرض على أُمَّته، كما دلت عليه الأحاديث الأخرى، ويجوز للمسلم أن يواظب عليها لأحاديث أخرى أيضا.
575;س حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے چاشت کی نماز سے متعلق سوال کیا گیا کہ آیا آپ ﷺ نے اسے پڑھا ہے یا نہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے چاشت کی نماز نہیں پڑھی ہے، سوائے اس کے کہ آپ سفر سے واپس آتے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ چاشت کی نماز مداومت سے نہیں پڑھتے تھے؛ بلکہ کبھی پڑھتے تھے اور کبھی نہیں پڑھتے تھے۔ ہمیشہ نہ پڑھنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ کو خوف تھا کہ کہیں یہ آپ کی امت پر فرض نہ کردی جائے۔ جیسا کہ اس بات پر دیگراحادیث دلالت کرتی ہیں۔ البتہ دوسری احادیث کی بنیاد پر ایک مسلمان کے لیے اسے ہمیشہ پڑھنا بھی جائز ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11281

 
 
Hadith   1904   الحديث
الأهمية: إن كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ليدع العمل، وهو يحب أن يعمل به خشية أن يعمل به الناس، فيفرض عليهم


Tema:

رسول اللہ ﷺ بسا اوقات ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی اسے محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے کی وجہ سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہو جائے۔

عن عائشة -رضي الله عنها-، قالت: «إنْ كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لَيَدَعُ العمل، وهو يُحِبُّ أن يعملَ به خَشْيَة أن يعملَ به الناس، فَيُفْرَضَ عليهم، وما سَبَّح رسول الله -صلى الله عليه وسلم- سُبْحَة الضُّحى قَطُّ وإنِّي لَأُسَبِّحُهَا».

عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی کام کو چھوڑ دیتے، حالاں کہ آپ ﷺ کو اس کا کرنا پسند ہوتا، اس خیال سے کہ دوسرے لوگ بھی اس پر (آپ کو دیکھ کر) عمل شروع کر دیں اور اس طرح وہ کام ان پر فرض ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، لیکن میں پڑھتی ہوں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تذكر عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يترك العمل وهو يحب أن يفعله، لئلا يعمل به الناس، فيفرض عليهم، فيشق عليهم أو يعجزوا عنه؛ ثم تذكر -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- لم يكن يصلي صلاة الضُّحى, وحمل العلماء هذا النَّفي على المُدَاومة، أي أنه -صلى الله عليه وسلم-: كان يصليها في بعض الأوقات, لفضلها ويتركها في بعض الأوقات، خشية أن تفرض على أمَّته، كما ذكرت -رضي الله عنها- في بداية الحديث.
593;ائشہ رضی اللہ عنہا ذکر کرتی ہیں کہ نبی ﷺ کسی کام کو ترک فرما دیتے، حالاں کہ آپ ﷺ کو اس کا کرنا پسند ہوتا؛ تا کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ شروع کر دیں، یوں وہ ان پر فرض ہو جائے، پھر اس کی وجہ سے وہ مشقت میں مبتلا ہوں اور اس کو انجام نہ دے سکیں۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ چاشت کی نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔ علما نے اس نفی کو مداومت پر محمول کیا ہے۔ یعنی نبی ﷺ اس کی فضیلت کی وجہ سے کبھی اسے پڑھا کرتے تھے اور کبھی اس اندیشے کی تحت چھوڑ دیا کرتے تھے کہ کہیں یہ آپ ﷺ کی امت پر فرض نہ ہو جائے، جیسا کہ حدیث کی ابتدا میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11282

 
 
Hadith   1905   الحديث
الأهمية: صلاة الأوابين حين ترمض الفصال


Tema:

اوّابین کی نماز کا وقت وہ ہے، جب اونٹنی کے بچوں کے پاؤں شدتِ گرمی کی وجہ سے جلنے لگیں۔

عن زَيد بن أرْقَم -رضي الله عنه-: أنه رأى قوما يصلُّون من الضُّحى، فقال: أمَا لقد عَلِموا أن الصلاة في غير هذه السَّاعة أفضل، إن رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، قال: «صلاة الأَوَّابِين حين تَرْمَضُ الفِصَال».

زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو فرمایا: کیا انھیں معلوم نہیں کہ یہ نماز اس وقت کے علاوہ میں افضل ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اوّابین کی نماز کا وقت وہ ہے، جب اونٹنی کے بچوں کے پاؤں شدت گرمی کی وجہ سے جلنے لگیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
رأى زيد بن أرقم -رضي الله عنه- بعض الناس يصلِّي الضُّحى, فذكر أنه سمع رسول الله -صلى الله عليه وسلم-يقول: صلاة الأوابين حين تَرْمضُ الفِصَال, أي أن أفضل وقت لصلاة الضحى هو عند شدة ارتفاع الشمس, حين تحترق خفاف صغار الإبل من شِدِّة حَرِّ الشمس على الأرض, فهذا هو الوقت الذي يصلي فيه المطيعون لله تعالى كثيرو الرجوع إليه صلاة الضحى.
586;ید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو بتایا کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اوابین کی نماز کا وقت وہ ہے، جب اونٹنی کے بچوں کے پاؤں شدتِ گرمی کی وجہ سے جلنے لگيں۔ یعنی چاشت کی نماز کا اول وقت وہ ہے ، جب سورج کافی اونچا ہو جائے اور اونٹنی کے بچوں کے پاؤں شدتِ گرمی کی وجہ سے جلنے لگيں۔ یہی وہ وقت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کے مطیع و فرماں بردار اور اس کی طرف رجوع کرنے والے بندے چاشت کی نماز ادا کرتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11283

 
 
Hadith   1906   الحديث
الأهمية: تفضل صلاة الجميع صلاة أحدكم وحده، بخمس وعشرين جزءا، وتجتمع ملائكة الليل وملائكة النهار في صلاة الفجر


Tema:

باجماعت نماز اکیلے شخص کی نماز سے پچیس درجے افضل ہے۔ اور فجر کی نماز میں دن اور رات کے فرشتے بھی موجود ہوتے ہیں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «تفضل صلاة الجميع صلاة أحدكم وحده، بخمس وعشرين جزءا، وتجتمع ملائكة الليل وملائكة النهار في صلاة الفجر» ثم يقول أبو هريرة: فاقرءوا إن شئتم: ﴿إن قرآن الفجر كان مشهودا﴾ [الإسراء: 78].

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ فرماتے ہوئے سنا: ”باجماعت نماز اکیلے شخص کی نماز سے پچیس درجے افضل ہے۔ اور فجر کی نماز میں دن اور رات کے فرشتے بھی موجود ہوتے ہیں“، پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم چا ہو تو یہ پڑھو: ﴿إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾ ”بے شک فجر کا قرآن( پڑھنا، فرشتوں کے)حاضر ہونے کا باعث ہے“۔ (سورہ اسراء: 78)

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بين الحديث أن صلاة الرَّجُل في جماعة تفضل عن صلاته وحده، بِخمس وعشرين صلاة يصليها وحده, ثم ذكر أن ملائكة الليل والنهار يجتمعون في صلاة الفجر،  ثم يقول أبو هريرة مستشهدًا لذلك: فاقرءوا إن شئتم: ﴿إن قرآن الفجر كان مشهودا﴾، [الإسراء: 78] "أي: أن صلاة الفجر تشهدها ملائكة الليل وملائكة النَّهار, وسميت قرآنا، لمشروعية إطالة القرآن فيها أطول من غيرها، ولفضل القراءة فيها حيث شهدها الله -تعالى- وملائكة الليل وملائكة النَّهار.
575;س حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ آدمی کی باجماعت نماز اکیلے کی نماز سے پچیس درجے زیادہ افضل ہے۔ پھر اس بات کا ذکر کیا کہ دن اور رات کے فرشتے نماز فجر میں جمع ہوتے ہیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بطور استشہاد اس بات کو بیان کیا کہ اگر تم چاہو تو یہ پڑھ کر دیکھو ﴿إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾ ”بے شک فجر کا قرآن( پڑھنا، فرشتوں کے) حاضر ہونے کا باعث ہے“ یعنی نماز فجر میں دن اور رات کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ اور اس (فجر) کا نام ’قرآن‘ اس لیے رکھا گیا ہے کہ دیگر نمازوں کی بہ نسبت اس میں قرآن کی تلاوت زیادہ لمبی کی جاتی ہے۔ اس کی لمبی قرأت کی فضیلت کی وجہ ہی سے اللہ تعالیٰ اور دن رات کے فرشتے موجود ہوتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11286

 
 
Hadith   1907   الحديث
الأهمية: أتى النبي -صلى الله عليه وسلم- رجل أعمى، فقال: يا رسول الله، إنه ليس لي قائد يقودني إلى المسجد، فسأل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن يرخص له فيصلي في بيته، فرخص له، فلما ولى دعاه، فقال: هل تسمع النداء بالصلاة؟ قال: نعم، قال: فأجب


Tema:

نبی ﷺ کی خدمت میں ایک نابینا شخص حاضر ہوا اور پوچھا : اے الله كے رسول! میرے ساتھ کوئی شخص نہیں جو مجھے مسجد تک لے جا سکے، تو کیا میرے لئے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت ہے؟ آپ ﷺنے ان سے دریافت کیا: کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟ انہوں نے كہا: جی ہاں،تو آپ ﷺ نےفرمایا: ”تو (مؤذن کی پکار پر) لبیک کہو“۔

عن أبي هريرة، قال: أتَى النبي -صلى الله عليه وسلم- رجُلٌ أعْمَى، فقال: يا رسول الله، إنه ليس لي قائد يَقُودُني إلى المسجد، فَسَأل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن يُرَخِّص له فيصلِّي في بَيْتِه، فرَخَّص له، فلمَّا ولىَّ دَعَاه، فقال: «هل تسمع النِّداء بالصلاة؟» قال: نعم، قال: «فأجِب».

ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک نابینا شخص حاضر ہوا اور پوچھا: اے الله كے رسول! میرا کوئی قائد نہیں جو مجھے مسجد تک لے آیا کرے۔ پس اس نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ اسے اس بات کی رخصت دی جائے کہ وہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لیا کرے، تو آپ صلى الله علیہ وسلم نےاسے رخصت فرما دی، جب اس نے جانے کے لیے پیٹھ پھیری تو آپ ﷺ نے اسے بلایا اور اس سے پوچھا: کیا تو نماز کی اذان سنتا ہے؟ اس نے كہا: جی ہاں،تو آپ ﷺ نےفرمایا: پھر اس کا جواب دے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أتَى رجُلٌ أعْمَى إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-, فقال يا رسول الله إنني رجل أعمى ليس عندي من يساعدني ويأخذ بيدي إلى المسجد، في الصلوات الخمس, يريد أن يرخص له النبي -صلى الله عليه وسلم- في ترك الجماعة فرخص له, فلما أدبر ناداه وقال: هل تسمع الأذان بالصلاة؟ قال: نعم. قال: فأجب المُنادي بالصلاة.
606;بی ﷺ وسلم کی خدمت میں ایک نابینا شخص حاضر ہوئے اور پوچھا: اے الله كے رسول! میں ایک نابینا شخص ہوں میرے ساتھ کوئی ایسا شخص نہیں جو میری مدد کرے اور پنج گانہ نمازوں میں مسجد تک (پہنچنے کے لیے) میرا ہاتھ پکڑ لے۔ وہ چاہ رہے تھے کہ نبی ﷺ انہیں جماعت چھوڑنے کی اجازت دے دیں۔ چناں چہ آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔ جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو آپ ﷺ نے انہیں آواز دی اور پوچھا: کیا تم نماز کے لیے (دی جانے والی) اذان کی آواز سنتے ہو؟ انہوں نے كہا: ہاں۔تو آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر نماز کے لئے آواز لگانے والے کی آواز پر لبیک کہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11287

 
 
Hadith   1908   الحديث
الأهمية: من سمع النداء فلم يأته فلا صلاة له إلا من عذر


Tema:

جس نے اذان کو سنا اور (باجماعت) نماز کے لئے نہیں آیا تو اس کی نماز نہیں، سوائے اس کے کہ کوئی عذر لاحق ہو ۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «من سمِع النِّدَاء فلم يَأتِه؛ فلا صلاة له إلا من عُذْر».

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اذان کو سنا اور (باجماعت) نماز کے لئے نہیں آیا تو اس کی نماز نہیں، سوائے اس کے کہ کوئی عذر لاحق ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يدعو هذا الحديث إلى العناية بصلاة الجماعة والاهتمام بها غاية الاهتمام، فقد بيّن النبي -صلى الله عليه وسلم- أن من كان بمكان بحيث يسمع الأذان لصلاة الجماعة، فإنَّه يجب عليه الحضور، فإن لم يحضر فصلاته صلاة ناقصة، قليلة الثواب، إلاَّ أنَّها مجزئة للذمة، مع الإثم الذي حمله المتخلف عن الجماعة بلا عذر، وأما من كان تخلفه بعُذر شرعي، كمرض أو مطر أو خوف على نفس أو مال أو ولد وما أشبه ذلك، فلا شيء عليه.
575;س حدیث میں اس بات کی ترغیب ہے کہ باجماعت نماز پر توجہ دی جائے اور اس کا انتہائی زیادہ اہتمام کیا جائے۔ نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ جو شخص کسی ایسی جگہ ہو کہ باجماعت نماز کے لیے دی گئی اذان اسے سنائی دے تو اس کے لیے باجماعت نماز کے لیے آنا واجب ہے۔ اگر وہ نہیں آئے گا تو اس کی نماز ناقص اور کم ثواب والی ہوگی تاہم اس کے ذمہ واجب الاداء فرض پورا ہو جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ بلا عذر نماز باجماعت سے پیچھے رہ جانے کا گناہ بھی اس پر آئے گا۔ رہا وہ شخص جو کسی شرعی عذرجیسے بیماری، بارش یا جان و مال یا بچوں کے خوف یا اس طرح کی کسی اور وجہ کی بنا پر نہ پہنچ سکے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11288

 
 
Hadith   1909   الحديث
الأهمية: لا تفعلوا، إذا صلى أحدكم في رحله ثم أدرك الإمام ولم يصل، فليصل معه فإنها له نافلة


Tema:

ایسا نہ کیا کرو؛ جب تم میں سے کوئی اپنی منزل میں نماز پڑھ چکا ہو، پھر امام کو پائے کہ اس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے، تو اس کے ساتھ بھی مل کر پڑھے۔ یہ اس کے لیے نفل ہو گی۔

عن جابر بن يزيد بن الأسود، عن أبيه، أنه صلى مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وهو غلام شاب، فلمَّا صلَّى إذا رجلان لم يُصَلِّيا في ناحية المسجد، فدعا بهما فجيء بهما تَرْعُد فَرائِصُهما، فقال: «ما منعكما أن تُصَلِّيا معنا؟» قالا: قد صلَّينا في رِحالنا، فقال: «لا تفعلوا، إذا صلَّى أحدكم في رَحْله ثم أدرك الإمام ولم يُصَلِّ، فليُصلِّ معه فإنها له نافلة».

Esin Hadith Text


جابر بن یزید بن اسود اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں نماز پڑھی جبکہ وہ نوجوان تھے۔ جب آپ ﷺ نماز پڑھ چکے تو دیکھا کہ دو آدمی مسجد کی ایک جانب میں موجود ہیں اور انہوں نے (جماعت کے ساتھ) نماز نہیں پڑھی۔ آپ ﷺ نے انہیں بلوایا۔ انہیں آپ کے سامنے پیش کیا گیا تو ان کی یہ حالت تھی کہ ان کے پٹھے کانپ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: تمہیں کیا رکاوٹ تھی کہ ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ انہوں نے کہا: ہم اپنی منزل میں نماز پڑھ آئے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ایسے نہ کیا کرو۔ جب تم میں سے کوئی اپنی منزل میں نماز پڑھ چکا ہو پھر امام کو پائے کہ اس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے تو اس کے ساتھ بھی مل کر پڑھے ، یہ اس کے لیے نفل ہو گی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يحكي يزيد بن الأسود أنه صلى مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وهو شاب، فلمَّا انتهى النبي -صلى الله عليه وسلم- من صلاته وجد رجلين لم يُصَلِّيا في جانب من جوانب المسجد، فأمر النبي -صلى الله عليه وسلم- أصحابه أن يحضروهما، فجاؤوا بهما وهما يرتعدان ويضطربان من الخوف، فقال لهما النبي -صلى الله عليه وسلم-: لماذا لم تُصَلِّيا معنا؟ قالا: قد صَلَّينا في منازلنا، فقال: لا تفعلا ذلك مرة ثانية، إذا صلَّى أحدكم في منزله، ثم أدرك الإمام وهو يصلي، فليُصلِّ معه؛ فإنها له زيادة في الأجر، وتكون الأولى فريضة، والثانية نافلة.
740;زید بن اسود بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ اس وقت وہ نوجوان تھے۔ جب نبی کریمﷺ نے نماز سے فارغ ہوئے، تو دیکھا دو آدمی مسجد کے کونے میں موجود تھے۔ انھوں نے نمازنہیں پڑھی تھی۔نبی کریمﷺ نے صحابہ کو انھیں حاضر کرنے کا حکم دیا۔ صحابہ ان کو لے آئے تو خوف سے وہ تھر تھر کانپ رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انھوں نے بتایا کہ ہم نے اپنی جائے قیام میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا: دوبارہ ایسا نہ کرنا؛ جب تم میں سے کوئی اپنی جائے قیام میں نماز پڑھ لے اور پھر اما م کو نماز پڑھانے ہوئے پائے، تو اس کے ساتھ نماز پڑھ لے۔ یہ اس کے لیے مزید اجر و ثواب کی باعث ہوگی۔ اس کی پہلی نماز فرض ہو جائے گی اور دوسری نفل۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11289

 
 
Hadith   1910   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ركب فرسا، فصُرِع عنه فجُحِش شِقُّه الأيمن


Tema:

رسول اللہ ﷺ گھوڑے پر سوار ہوئے اور اس سے گر پڑے، اس سے آپ کا دایاں پہلو چھل گیا۔

عن أنس بن مالك أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ركب فرسا، فصُرِع عنه فجُحِش شِقُّه الأيمن، فصلى صلاة من الصلوات وهو قاعد، فصلَّينا وراءه قعودا، فلما انصرف قال: إنما جُعِل الإمام ليُؤتمَّ به، فإذا صلى قائما، فصلوا قياما، فإذا ركع، فاركعوا وإذا رفع، فارفعوا، وإذا قال: سمع الله لمن حمده، فقولوا: ربنا ولك الحمد، وإذا صلى قائما، فصلوا قياما، وإذا صلى جالسا، فصلوا جلوسا أجمعون.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھوڑے پر سوار ہوئے اور اس سے گر پڑے، اس سے آپ کا دایاں پہلو چھل گیا، جس کی وجہ سے آپ ﷺ نے ایک نماز بیٹھ کر پڑھی، تو ہم لوگوں نے بھی وہ نماز آپ کے پیچھے بیٹھ کر پڑھی، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: امام اسی لئے مقرر کیا جاتا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکو ع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ ”سمع الله لمن حمده“ کہے تو تم ”ربنا ولك الحمد“ کہو، اور جب امام کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- راكبا فرسا فسقط منه، فانخدش جانبه الأيمن، فصلى بالصحابة صلاة من الصلوات وهو جالس، فصلوا وراءه جلوسا، فلما انتهت الصلاة أخبرهم النبي -صلى الله عليه وسلم- أن المأموم يأتم بإمامه ويتابعه في كل شيء فإذا كبر يكبر وإن ركع يركع وإن سجد يسجد وإن صلى قائماً صلى مثله قائماً وإن صلى جالساً صلى مثله جالساً، إذا دخل الصلاة وهو جالس، وكان إماما راتبا، كما حدث للصحابة -رضوان الله عليهم- مع النبي -صلى الله عليه وسلم- يوماً حين صرع عن دابته وتأثر شقه الأيمن فصلى قاعداً وصلى الصحابة خلفه قعوداً.
606;بی ﷺ گھوڑے پر سوار تھے، آپ اس سے گر گئے اور آپ کے دائیں پہلو میں خراش آگئی، تو آپ ﷺ نے صحابہ کو ایک نماز بیٹھ کر پڑھائی اور انہوں نے بھی وہ نماز آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھ کر پڑھی۔ پھر جب نماز ختم ہوئی تو آپ ﷺ نے انہیں بتلایا کہ مقتدی اپنے امام کی اقتدا اور پیروی ہر چیز میں کرے گا، جب امام تکبیر کہے تو مقتدی تکبیر کہے گا، جب امام رکوع کرے تو مقتدی رکوع کرے، جب وہ سجدہ کرے تو وہ سجدہ کرے، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو وہ بھی اسی کی طرح کھڑے ہو کر نماز پڑھے گا، اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو وہ بھی اسی کی طرح بیٹھ کر نماز پڑھے گا جب وہ (مقتدی) نماز کے لئے آئے اور وہاں کے امام کو بیٹھا ہوا پائے اور وہ مستقل امام ہو (تو وہ بھی اسی کی طرح بیٹھ کر نماز پڑھے)، جیسا کہ صحابہ رضوان الله عليهم کا واقعہ نبی ﷺ کے ساتھ اس دن پیش آیا جب آپ گھوڑے پر سوار ہوتے وقت گر گئے اور آپ کے دائیں پہلو میں خراش آگئی تھی، اس بنا پر آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی اور صحابہ نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11290

 
 
Hadith   1911   الحديث
الأهمية: تقدموا فأتموا بي، وليأتم بكم من بعدكم، لا يزال قوم يتأخرون حتى يؤخرهم الله


Tema:

آگے بڑھو، اور میری اقتدا کرو، اور جو تمہارے بعد کے لوگ ہیں وہ تمہاری اقتدا کریں، کچھ لوگ برابر پیچھے ہٹتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اللہ ان کو پیچھے ہی کر دیتا ہے۔

أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- رأى في أصحابه تأخُّرًا فقال لهم: «تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بي، وليأتمَّ بكم مَن بعدكم، لا يزال قومٌ يتأخرون حتى يؤخرَّهم اللهُ».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب میں (صفوں میں) پیچھے رہنے کا عمل دیکھا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: آگے بڑھو، اور میری اقتدا کرو۔ اور جو تمہارے بعد کے لوگ ہیں وہ تمہاری اقتدا کریں، کچھ لوگ برابر پیچھے ہٹتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اللہ ان کو پیچھے ہی کر دیتا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف فضل الدنو من الإمام ، كما يبين أن الصفوف المتأخرة تأتم بالصفوف القريبة من الإمام ، كما توعد المتأخرين في الصفوف الخلفية بالتأخر عن رحمته أو عظيم فضله ورفع المنزلة وعن العلم ونحو ذلك.
581;دیث شریف امام سے قریب رہنے کی فضیلت کو بیان کرتی ہے،جس طرح یہ بیان کرتی ہے کہ پیچھے کی صفیں امام سے قریب صفوں کی اقتدا کریں گی۔ اسی طرح حدیث میں پہلی صف سے پیچھے رہنے والوں کے لئے اللہ کی رحمت، اس کے عظیم فضل، رفعتِ درجات اور علم وغیرہ سے پیچھے رہ جانے کی وعید ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11291

 
 
Hadith   1912   الحديث
الأهمية: صلوا أيها الناس في بيوتكم؛ فإن أفضل صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة


Tema:

پس اے لوگو! یہ نماز اپنے گھروں میں پڑھو؛ کیوںکہ فرض نماز کے سوا، انسان کی سب سے افضل نماز، اس کے گھر میں پڑھی جانے والی نماز ہے۔

عن زيد بن ثابت -رضي الله عنه- أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي المَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِيهَا لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ، ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ لَيْلَةً، فَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَامَ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ؛ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: «مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلاَةِ المَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلاَةَ المَكْتُوبةَ».

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مسجد نبوی میں چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا اور (رمضان کی) راتوں میں اس کے اندر نماز پڑھنے لگے، پھر اور لوگ بھی جمع ہو گئے، تو ایک رات نبی کریم ﷺ کی آواز نہیں آئی۔ لوگوں نے سمجھا کہ نبی کریم ﷺ سو گئے ہیں۔ اس لیے ان میں سے بعض کھنکھارنے لگے؛ تاکہ آپ باہر تشریف لائیں، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں تم لوگوں کے کام سے واقف ہوں، یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں تم پر یہ نماز (تراویح) فرض نہ کر دی جائے اور اگر فرض کر دی جائے تو تم اسے قائم نہیں رکھ سکو گے۔ پس اے لوگو! اپنے گھروں میں یہ نماز پڑھو کیوںکہ فرض نماز کے سوا انسان کی سب سے افضل نماز اس کے گھر میں پڑھی جانے والی نماز ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف أن النبي -صلى الله عليه وسلم- اتخذ له حجرة في أحد زوايا المسجد من حصير، والظاهر أنه كان معتكفًا، وكان يقوم الليل فيها فسمعه رجال فجاؤوا يأتمُّون به إلى أن كان بعد عدة ليال لم يسمعوا صوته؛ فظنوه نائماً، وقاموا بإصدار بعض الأصوات لإيقاظه، فخرج إليهم -عليه الصلاة والسلام-، وبين لهم بأنه لم ينم بل خشي أن يُفرض عليهم قيام الليل، وبيَّن لهم أنه إن فرُض لن يستطيعوا القيام به، كما بيَّن لهم أن أفضل صلاة النافلة لهم في بيوتهم.
581;دیث یہ بیان کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے مسجد کے ایک کونے میں چٹائی سے حجرہ بنالیا تھا، بظاہر یہی لگتا ہے کہ وہ اعتکاف کی جگہ تھی، آپ ﷺ رات کو اس میں نماز پڑھتے تھے، لوگوں نے آپ کی آواز سنی، تو آپ کی اقتدا کرنے لگے، کچھ راتیں گزرنے کے بعد انہوں نے آپ کی آواز نہیں سنی، تو یہ خیال کیا کہ آپ سو چکے ہیں اور آپ کو جگانے کے لیے کچھ آوازیں نکالنے لگے۔ آپ ان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ میں سویا نہیں تھا، بلکہ مجھے یہ ڈر تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور فرمایا کہ اگر یہ تم پر فرض کردی جائے، تو تم اسے قائم نہیں کرسکوگے اور فرمایا کہ تمہارے لیے اپنے گھروں میں نفل نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11292

 
 
Hadith   1913   الحديث
الأهمية: ألا تحدثيني عن مرض رسول الله -صلى الله عليه وسلم-؟ قالت: بلى، ثقل النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: أصلى الناس؟ قلنا: لا، هم ينتظرونك


Tema:

کیا آپ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی بیماری کی حالت نہیں بتائیں گی؟ انھوں نے فرمایا: ہاں ضرور! سن لو۔ آپ ﷺ کا مرض بڑھ گیا۔ تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے عرض کی: جی نہیں یا رسول اللہ ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔

عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، قال: دخلت على عائشة فقلت: ألا تحدثيني عن مرض رسول الله -صلى الله عليه وسلم-؟ قالت: بلى، ثَقُلَ النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: «أصلى الناس؟» قلنا: لا، هم ينتظرونك، قال: «ضعوا لي ماء في الْمِخْضَبِ ». قالت: ففعلنا، فاغتسل، فذهب لِيَنُوءَ فأغمي عليه، ثم أفاق، فقال -صلى الله عليه وسلم-: «أصلى الناس؟» قلنا: لا، هم ينتظرونك يا رسول الله، قال: «ضعوا لي ماء في الْمِخْضَبِ » قالت: فقعد فاغتسل، ثم ذهب لينوء فأغمي عليه، ثم أفاق، فقال: «أصلى الناس؟» قلنا: لا، هم ينتظرونك يا رسول الله، فقال: «ضعوا لي ماء في الْمِخْضَبِ »، فقعد، فاغتسل، ثم ذهب لِيَنُوءَ فأغمي عليه، ثم أفاق فقال: «أصلى الناس؟» فقلنا: لا، هم ينتظرونك يا رسول الله، والناس عُكُوفٌ في المسجد، ينتظرون النبي عليه السلام لصلاة العشاء الآخرة، فأرسل النبي -صلى الله عليه وسلم- إلى أبي بكر بأن يصلي بالناس، فأتاه الرسول فقال: إن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يأمرك أن تصلي بالناس، فقال أبو بكر - وكان رجلا رقيقا -: يا عمر صل بالناس، فقال له عمر: أنت أحق بذلك، فصلى أبو بكر تلك الأيام، ثم إن النبي -صلى الله عليه وسلم- وجد من نفسه خِفَّةً ، فخرج بين رجلين أحدهما العباس لصلاة الظهر وأبو بكر يصلي بالناس، فلما رآه أبو بكر ذهب ليتأخر، فَأَوْمَأَ إليه النبي -صلى الله عليه وسلم- بأن لا يتأخر، قال: أجلساني إلى جنبه، فأجلساه إلى جنب أبي بكر، قال: فجعل أبو بكر يصلي وهو يأتم بصلاة النبي -صلى الله عليه وسلم-، والناس بصلاة أبي بكر، والنبي -صلى الله عليه وسلم- قاعد، قال عبيد الله: فدخلت على عبد الله بن عباس فقلت له: ألا أعرض عليك ما حدثتني عائشة عن مرض النبي -صلى الله عليه وسلم-، قال: هات، فعرضت عليه حديثها، فما أنكر منه شيئا غير أنه قال: أسمت لك الرجل الذي كان مع العباس قلت: لا، قال: هو علي بن أبي طالب -رضي الله عنه-.

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: کیا آپ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی بیماری کی حالت نہیں بتائیں گي؟ انھوں نے فرمایا: ہاں ضرور! سن لو۔ آپ ﷺ کا مرض بڑھ گیا، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے عرض کیا: جی نہیں یا رسول اللہ ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:میرے لیے ایک لگن میں پانی رکھ دو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہم نے پانی رکھ دیا اور آپ ﷺ نے بیٹھ کر غسل کیا۔ پھر آپ اٹھنے لگے، لیکن بے ہوش ہو گئے۔ جب ہوش آیا، تو پھر آپ نے پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ہم نے عرض کیا: نہیں، یا رسول اللہ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے (پھر) فرمایا: لگن میں میرے لیے پانی رکھ دو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: ہم نے پھر پانی رکھ دیا اور آپ ﷺ نے بیٹھ کر غسل فرمایا۔ پھر اٹھنے کی کوشش کی، لیکن(دوبارہ) بے ہوش ہو گئے۔ جب ہوش آیا، تو پھر یہی فرمایا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ہم نے عرض کیا کہ نہیں یا رسول اللہ ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا:لگن میں پانی لاؤ اور آپ ﷺ نے بیٹھ کر غسل کیا۔ پھر اٹھنے کی کوشش کی، لیکن پھر بے ہوش ہو گئے۔ پھر جب ہوش آیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ لوگ مسجد میں عشاکی نماز کے لیے بیٹھے ہوئے نبی کریم ﷺ کا انتظار کر رہے تھے۔ آخر آپ ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بھیجا اور حکم فرمایا کہ وہ نماز پڑھا دیں۔ بھیجے ہوئے شخص نے آ کر کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے نرم دل انسان تھے۔ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم نماز پڑھاؤ، لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ آخر (بیماری) کے دنوں میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے رہے۔ پھر جب نبی کریم ﷺ کو مزاج کچھ ہلکا معلوم ہوا، تو دو مردوں کا سہارا لے کر، جن میں ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے، ظہر کی نماز کے لیے گھر سے باہر تشریف لائے۔ اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے۔ جب انھوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، تو پیچھے ہٹنا چاہا۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے اشارے سے انھیں روکا کہ پیچھے نہ ہٹو! پھر آپ نے ان دونوں مردوں سے فرمایا کہ مجھے ابو بکر کے بازو میں بٹھا دو۔ چنانچہ دونوں نے آپ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بازو میں بٹھا دیا۔ راوی نے کہا: پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں نبی ﷺ کی پیروی کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی پیروی کررہے تھے۔ نبی ﷺ بیٹھےبیٹھے نماز پڑھ رہے تھے۔ عبید اللہ کہتے ہیں کہ پھر میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کی بیماری کے بارے میں جو حدیث بیان کی ہے کیا میں وہ آپ کو سناؤں؟ انھوں نے فرمایا کہ ضرور سناؤ۔ میں نے یہ حدیث سنا دی، تو انھوں نے کسی بات کا انکار نہیں کیا۔ صرف اتنا کہا کہ کیا عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان صاحب کا نام بھی تم کو بتایا، جو عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا: نہیں! آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف بعض ما حدث في مرض رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الذي سبق وفاته، ومن ذلك أنه اشتد عليه المرض فسأل من عنده: أصلى الناس؟ فقيل : لا، فدعا بإناء واغتسل فيه لكنه أغمي عليه، فلما أفاق أعاد السؤال، وأعاد الاغتسال لكنه أغمي عليه أيضاً، وتكرر ذلك ثلاثاً، ثم أمر أن يصلي أبو بكر بالناس، فلما جاءه الرسول أمر أبو بكر عمر أن يصلي فلم يصل بهم بل قدم أبا بكر؛ لأنه أحق بذلك منه، ووجد النبي -صلى الله عليه وسلم- في نفسه نشاطا وخفة فخرج بين العباس وعلي -رضي الله عنهما- وأبو بكر يصلي بالناس صلاة الظهر فلما رأى النبي -صلى الله عليه وسلم- أراد أن يتأخر لكن النبي -صلى الله عليه وسلم- أمره أن يثبت مكانه وجلس بجنبه وأصبح أبو بكر يأتم بصلاة النبي -صلى الله عليه وسلم- والناس يأتمون بصلاة أبي بكر -رضي الله عنه-.
581;دیث شریف میں رسول اللہ ﷺ کی اس بیماری کے بعض احوال کا بیان ہوا ہے، جس میں آپ کی وفات ہوئی۔ جب آپ کی بیماری نے شدت اختیارکر لی، تو آپ نے اپنے پاس موجود شخص سے پوچھا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ کہا گیا: نہیں۔ تو آپ نے پانی منگوایا اورغسل کیا، لیکن آپ پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ پھر جب افاقہ ہوا، تو آپ نے یہی سوال دہرایا اور دوبارہ غسل فرمایا، لیکن پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ ایسا آپ نے تین مرتبہ کیا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کے لیے کہا، مگر انھوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا دیا؛ کیوں کہ وہ اس کے زیادہ حق دار تھے۔ پھر جب نبی کریم ﷺ کو مزاج کچھ ہلکا معلوم ہوا، توعباس اورعلی رضی اللہ عنہما کے درمیان ہوکر تشریف لائے۔ اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جب انھوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے انھیں اپنی جگہ پر رہنے کا حکم دیا اور ان کے بغل میں بیٹھ گئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں نبی ﷺ کی پیروی کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی پیروی کررہے تھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11294

 
 
Hadith   1914   الحديث
الأهمية: أيها الناس، إنكم منفرون، فمن صلى بالناس فليخفف، فإن فيهم المريض، والضعيف، وذا الحاجة


Tema:

اے لوگو ! تم میں سے بعض (دوسروں کو نماز سے) متنفر کرنے والے ہیں۔ دیکھو جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ ہلکی پڑھائے، کیوں کہ ان میں بیمار، کمزور اور حاجت مند لوگ ہوتے ہیں۔

عن أبي مسعود الأنصاري -رضي الله عنه- قال: قال رجل يا رسول الله، لا أكاد أدرك الصلاة مما يطول بنا فلان، فما رأيت النبي -صلى الله عليه وسلم- في موعظة أشد غضبا من يومئذ، فقال: «أيها الناس، إنكم منفرون، فمن صلى بالناس فليخفف، فإن فيهم المريض، والضعيف، وذا الحاجة».

ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے (آکر) کہا کہ اے اللہ کے رسول! ہوسکتا ہے کہ میں نماز (جماعت کے ساتھ) نہ پاسکوں کیوں کہ فلاں شخص ہمیں (بہت) طویل نماز پڑھایا کرتا ہے، (ابو مسعود کہتے ہیں کہ) اس دن سے زیادہ میں نے کبھی نبی ﷺ کو وعظ و نصیحت کے دوران اتنا غضب ناک نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے لوگو ! تم میں سے بعض (دوسروں کو نماز سے) متنفر کرنے والے ہیں۔ دیکھو جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ ہلکی پڑھائے، کیوں کہ ان میں بیمار، کمزور اور حاجت مند لوگ ہوتے ہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اشتكى رجل للنبي -صلى الله عليه وسلم- أنه يتأخر عن صلاة الجماعة أحيانا بسبب تطويل الإمام، فغضب النبي -صلى الله عليه وسلم- غضبا شديدا، ثم وعظ الناس وأخبرهم أن منهم من ينفر الناس في الصلاة، وأمر -صلى الله عليه وسلم- الإمام بالتخفيف فيها، لتتيسر وتسهل على المأمومين، فيخرجوا منها وهم لها راغبون، ولأن في المأمومين من لا يطيق التطويل، إما لعجزه، أو مرضه أو حاجته.
فإن كان المصلى منفردا فليطول ما شاء؛ لأنه لا يضر أحداً بذلك.
575;یک آدمی نے نبی ﷺ سے شکایت کی کہ وہ امام کے لمبی نماز پڑھانے کی وجہ سےکبھی کبھار جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے سے پیچھے رہ جاتے ہیں، تو نبی ﷺ شدید غصہ ہوئے اور لوگوں کو نصیحت کی اور خبر دی کہ ان میں سے بعض لوگ نماز سے لوگوں کو نفرت دلانے والے ہیں، اور امام کو حکم دیا کہ وہ ہلکی نماز پڑھائے تاکہ مقتدیوں کو آسانی اور سہولت ہو اور جب وہ نماز سے فارغ ہوں تو ان کی چاہت نماز کے لیے ابھی باقی ہو۔ اور اس لیے کہ مقتدیوں میں بہت سے لوگ کمزوری یا بیماری یا کسی حاجت کی وجہ سے لمبی نماز ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
اگر نمازی اکیلا ہو تو جتنی لمبی چاہے ادا کرے کیوں کہ اس سے دوسرے کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11295

 
 
Hadith   1915   الحديث
الأهمية: صلوا صلاة كذا في حين كذا، وصلوا صلاة كذا في حين كذا، فإذا حضرت الصلاة فليؤذن أحدكم، وليؤمكم أكثركم قرآنا


Tema:

فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو ، فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور جسے سب سے زیادہ قرآن یاد ہو، وہ امامت کرے۔

عن أيوب، عن أبي قلابة، عن عمرو بن سَلِمة، قال -أي أيوب-: قال لي أبو قلابة: ألا تلقاه فتسأله؟ -أي تسأل عمرو بن سلمة- قال فلقيته فسألته فقال: كنا بماء ممر الناس، وكان يمرُّ بنا الرُّكبان فنسألهم: ما للناس، ما للناس؟ ما هذا الرجل؟ فيقولون: يزعم أن الله أرسله، أوحى إليه، أو: أوحى الله بكذا، فكنتُ أحفظ ذلك الكلام، وكأنما يَقَرُّ في صدري، وكانت العرب تَلَوَّم بإسلامهم الفتح، فيقولون: اتركوه وقومه، فإنه إن ظهر عليهم فهو نبي صادق، فلما كانت وقعة أهل الفتح، بادَر كلُّ قوم بإسلامهم، وبَدَر أبي قومي بإسلامهم، فلما قدم قال: جئتكم والله من عند النبي -صلى الله عليه وسلم- حقا، فقال: «صَلُّوا صلاة كذا في حين كذا، وصَلُّوا صلاة كذا في حين كذا، فإذا حضرت الصلاة فليؤذِّن أحدكم، وليَؤمَّكم أكثركم قرآنا». فنظروا فلم يكن أحد أكثر قرآنا مني، لما كنت أتلقى من الرُّكبان، فقدَّموني بين أيديهم، وأنا ابن ست أو سبع سنين، وكانت علي بُرْدة، كنت إذا سجدت تَقَلَّصت عني، فقالت امرأة من الحي: ألا تُغَطُّوا عنا اسْتَ قارئكم؟ فاشتروا فقطعوا لي قميصا، فما فرحتُ بشيء فرحي بذلك القميص.

ایوب، ابوقلابہ سے اور ابوقلابہ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں؛ ایوب نے کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ نے کہا: عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ قصہ کیوں نہیں پوچھ لیتے؟ ابوقلابہ نے کہا کہ پھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے (یہ واقعہ) پوچھا، تو انھوں نے بتایا کہ جاہلیت میں ہمارا قیام ایک چشمے پر تھا، جہاں عام راستہ تھا۔ قافلے ہمارے قریب سے گزرتے، تو ہم ان سے پوچھتے کہ لوگوں کا کیا خیال ہے؟ اس شخص کا کیا معاملہ ہے ؟ (یہ اشارہ نبی کریم ﷺ کی طرف ہوتا تھا) لوگ بتاتے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے انھیں اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور ان پر وحی نازل کیا ہے یا اللہ نے ان پر یہ آیت اتاری ہے۔ چنانچہ میں فوراً اسے یاد کر لیتا۔ ان کی باتیں میرے دل پر اثر کرتی تھیں۔ ادھر سارے عرب والے فتح مکہ پر اپنے اسلام کو موقوف کیے ہوئے تھے؛ ان کا کہنا تھا کہ اس نبی کو اور اس کی قوم (قریش) کو نمٹنے دو ، اگر وہ ان پر غالب آ گئے، تو واقعی وہ سچے نبی ہیں۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہو گیا، تو (عرب کی) قومیں اسلام لانے میں ایک دوسرے سے سبقت کرنے لگیں۔ میرے والد نے بھی اسلام قبول کرنے کے معاملے میں اپنی قوم پر سبقت کی۔ پھر جب (مدینے) سے واپس آئے تو (لوگوں سے) کہا: اللہ کی قسم! میں ایک سچے نبی کے پاس سے آ رہا ہوں۔ انھوں نے فرمایا ہے: فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو ، فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو اور جب نماز کا وقت ہو جائے، تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور جسے سب سے زیادہ قرآن یاد ہو، وہ امامت کرے۔ لوگوں نے غور و خوض کیا، تو قبیلے میں کوئي مجھ سے زیادہ قرآن یاد کرنے والا نہیں ملا؛ کیوں کہ میں آنے جانے والے قافلوں سے سن کر قرآن مجید یاد کر لیا کرتا تھا۔ چنانچہ مجھے لوگوں نے امام بنادیا ، حالاں کہ اس وقت میری عمر چھ یا سات سال تھی۔ میرے جسم میں ایک چادر تھی۔ جب میں (اسے لپیٹ کر) سجدہ کرتا، تو چھوٹی پڑ جاتی۔ چنانچہ قبیلے کی ایک عورت نے کہا: تم اپنے قاری کی شرم گاہ تو پہلے چھپا دو۔ آخر انھوں نے کپڑا خریدا اور میرے لیے ایک قمیص بنائی۔ میں جتنا خوش اس قمیص سے ہوا، اتنا کسی اور چیز سے نہیں ہو سکا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال أيوب السختياني: قال لي أبو قلابة الجرمي: ألَا تلقى عمرو بن سلمة فتسأله عن الأحاديث التي عنده. قال: فلقيت عمرو بن سلمة فسألته، فقال عمرو بن سلمة: كنا بموضع ننزل به وكان موضع مرور الناس، وكان يمر بنا الركاب فنسألهم عن النبي -صلى الله عليه وسلم- وعن حال العرب معه، فيقولون يزعم أن الله أرسله، وأوحى إليه بكذا مما سمعوه من القرآن، فكنت أحفظ ذلك القرآن حفظًا متقنًا كأنه يُلصق في صدري، وكانت العرب تنتظر ولا تسلم حتى تُفتح مكة، فيقولون: اتركوه وقومه قريشا فإنه إن انتصر عليهم فهو نبي صادق. فلما فُتحت مكة أسرع كل قوم بإسلامهم، وأسرع أبي فأسلم أول قومه، وذهب إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فلما جاء من عنده قال: جئتكم والله من عند النبي -صلى الله عليه وسلم- حقا، وأخبرهم أنه -صلى الله عليه وسلم- قال لهم: صلوا صلاة كذا في وقت كذا، وصلوا صلاة كذا في وقت كذا، وإذا حضرت الصلاة فليؤذن أحدكم، وليؤمكم أكثركم حفظًا للقرآن. فنظروا فلم يكن أحد أكثر حفظًا للقرآن مني، لما كنت أتلقى الركاب وأحفظ منهم القرآن، فقدموني أصلي بهم وكان عمرى حينئذ ست أو سبع سنين، وكان عليَّ ثوب قصير كنت إذا سجدت انجمع عليَّ وانكشف عني، فقالت امرأة من قومي: ألا تغطوا عنا عورة قارئكم. فاشتروا لي قميصا فما فرحت بشيء فرحي بذلك القميص. ولا يستدل بهذا الحديث على عدم شرط ستر العورة في الصلاة لأنها واقعة حال فيحتمل أن يكون ذلك قبل علمهم بالحكم.
575;یوب سختیانی کہتے ہیں: مجھ سے ابوقلابہ جرمی نے کہا کہ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ قصہ کیوں نہیں پوچھ لیتے؟ ابوقلابہ کہتے ہیں کہ پھر میں ان کی خدمت میں گیا اور یہ (قصہ) دریافت کیا۔ انھوں نے کہا کہ جاہلیت میں ہمارا قیام ایک چشمہ پر تھا، جہاں عام راستہ تھا۔ قافلے ہمارے قریب سے گزرتے، تو ہم ان سے پوچھتے کہ لوگوں کا کیا خیال ہے؟ اس شخص کا کیا معاملہ ہے؟ ( یہ اشارہ نبی کریم ﷺ کی طرف ہوتا تھا) لوگ بتاتے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے انھیں اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور ان پر وحی اتاری ہے یا اللہ نے ان پر یہ وحی کی ہے۔ وہ آپ سے سنا ہوا قرآن کا کوئی حصہ سنا دیتے اور میں اسے فوراً اچھی طرح یاد کر لیتا۔ ان کی باتیں میرے دل کو لگتی تھیں۔ ادھر سارے عرب والے انتظار میں تھے۔ وہ فتح مکہ تک اسلام قبول کرنے سے گریز کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نبی کو اور اس کی قوم (قریش) کو آپس میں نمٹنے دو، اگر وہ ان پر غالب آ گئے تو واقعی وہ سچے نبی ہیں۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہو گیا، تو ہر قوم نے اسلام لانے میں جلدی کی۔ میرے والد نے اپنی قوم میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ جب (مدینے) سے واپس آئے، تو کہا: اللہ کی قسم! میں ایک سچے نبی کے پاس سے آ رہا ہوں۔ انھوں نے فرمایا ہے:’’فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو، فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو اور جب نماز کا وقت ہو جائے، تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور امامت وہ کرے، جسے قرآن سب سے زیادہ یاد ہو‘‘۔ لوگوں نے غور و فکر کیا تو کوئی شخص قبیلے میں مجھ سے زیادہ قرآن یاد رکھنے والا نہیں ملا۔ کیوں کہ میں آنے جانے والے قافلوں سے سن کر قرآن مجید یاد کر لیا کرتا تھا۔ چنانچہ مجھے لوگوں نے امام بنادیا، حالاں کہ اس وقت میری عمر چھ یا سات سال تھی۔ میرے جسم پر ایک چادر تھی۔ جب میں (اسے لپیٹ کر) سجدہ کرتا، تو وہ چھوٹی پڑ جاتی۔ چنانچہ قبیلے کی ایک عورت نے کہا: تم اپنے قاری کی شرم گاہ تو پہلے چھپا دو۔ آخر انھوں نے کپڑا خریدا اور میرے لیے ایک قمیص بنائی۔ میں جتنا خوش اس قمیص سے ہوا، اتنا کسی اور چیز سے نہیں ہو سکا۔ اس حدیث سے نماز میں سترعورت کے شرط نہ ہونے کی دلیل نہیں لی جا سکتی؛ کیوں کہ یہ حقیقت حال کا بیان ہے۔ ممکن ہے یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہو جب انھیں ستر عورت کے حکم کا علم ہی نہ رہا ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11296

 
 
Hadith   1916   الحديث
الأهمية: يؤم القوم أقرؤهم لكتاب الله


Tema:

لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والاہو۔

عن أبي مسعود الأنصاري -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «يَؤُمُّ القوم أقرؤهم لكتاب الله، فإن كانوا في القراءة سواء، فأعلمهم بالسنة، فإن كانوا في السنة سواء، فأقدمهم هجرة، فإن كانوا في الهجرة سواء، فأقدمهم سِلْمًا، ولا يَؤُمَّنَّ الرجل الرجل في سلطانه، ولا يقعد في بيته على تَكْرِمَتِهِ إلا بإذنه».

ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والاہو، اگر لوگ قرآن کے علم میں برابر ہوں تو جو سب سے زیادہ سنت کا جاننے والا ہو وہ امامت کرے، اور اگر وہ سنت کے علم میں بھی برابر ہوں تو جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو جس نے اسلام کو پہلے قبول کیا وہ امامت کرے۔ کوئی شخص کسی اور شخص کے دائرۂ اقتدار میں اس کی امامت نہ کرے اور نہ کسی آدمی کے گھرمیں اس کی مخصوص جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف عدة أمور:
أولها: الأحق بالإمامة وهو الأحفظ للقرآن، لكن لا بد أن يكون عالماً بأحكام صلاته؛ إذ ليس للجاهل بأحكام الصلاة أن يؤم الناس، فإن استووا في الحفظ، فالأعلم بالسنة فإن تساووا في ذلك، فأولهم هجرة فإن تساوو في ذلك، فأولهم إسلاماً.
ثانيها: ألا يتقدم الضيف على صاحب البيت في الإمامة إلا إن أذن له، فصاحب البيت أولى بها من الضيف.
ثالثها: ألا يقعد الضيف على فراش صاحب المنزل الخاص به إلا بإذنه.
581;دیث شریف میں متعدد امور کا بیان ہے:
اول: امامت کا حق دار وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو تاہم ضروری ہے کہ وہ نماز کے احکام کو جانتا ہو کیوں کہ جو شخص نماز کے احکام سے واقف نہ ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے۔ اگر قرآن کے حفظ میں لوگ برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرائے جو سنت کا زیادہ علم رکھنے والا ہو۔ اور اگر اس میں بھی وہ برابر ہوں تو ان میں سے جس نے پہلے ہجرت کی ہو وہ امام بنے اور اگر اس میں بھی وہ برابرہوں تو جس نے اسلام پہلے قبول کیا ہو وہ امامت کے لیے کھڑا ہو۔
دوم: صاحبِ بیت کی امامت کے لیے مہمان آگے نہ بڑھے اِلاّ یہ کہ میزباناسے اجازت دے دے۔ کیونکہ گھر والا امامت کا مہمان سے زیادہ حق دار ہے۔
سوم: مہمان گھر والے کے خاص بستر پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11297

 
 
Hadith   1917   الحديث
الأهمية: خير صفوف الرجال أولها, وشرها آخرها, وخير صفوف النساء آخرها, وشرها أولها


Tema:

مردوں کی بہترین صف ان کی پہلی صف ہے اور بدترین صف ان کی آخری صف ہے۔ جب کہ خواتین کی بہترین صف ان کی آخری صف ہے اور بدترین صف ان کی پہلی صف ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «خَيْرُ صفوف الرِّجال أوَّلُها, وشرُّها آخرُها, وخَيْرُ صفوف النِّساء آخِرُها, وشَرُّها أولها».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مردوں کی بہترین صف ان کی پہلی صف ہے اور بدترین صف ان کی آخری صف ہے۔ جب کہ خواتین کی بہترین صف ان کی آخری صف ہے اور بدترین صف ان کی پہلی صف ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفضل صفوف الرِّجال وأكثرها أجرا الصف الأول؛ لقربهم من الإمام وبُعدهم عن النساء، وأقلها أجرا وفضلا الصف المؤخر؛ لبُعد المصلِّي عن سماع القراءة، وبُعده من حرَم الإمام، والدلالة على قِلَّة رغْبَة المتأخر في الخير والأجر، وأفضل صفوف النساء، وأكثرها أجرا: الصَّف المُؤَخر؛ وذلك؛ لأنه أستر للمرأة؛ لبُعدها عن صفوف الرِّجال، وأقلها أجرا وفضلا الصفوف الأولى؛ لقُربها من الفتنة، أو التعرض لها.
وهذا إذا صلت النساء مع الرجال في مكان واحد وتحت سقف واحد، أما إذا صَلين وحدهن أو منفصلات عن الرجال فحكم صفوفهن حكم صفوف الرجال، ويكون خير صفوف النَّساء أولها، وشرها آخرها.
وبناء على هذا: فمصليات النساء التي قد سترت بساتر بحيث لا يرين الرجال ولا يرونهن، فتكون صفوفهن الأولى أفضل من الصفوف المؤخرة لانتقاء المحظور.
605;ردوں کی افضل اور زیادہ اجر و ثواب والی صف ان کی پہلی صف ہے، امام کے قریب ہونے اور عورتوں سے دور ہونے کی وجہ سے۔ جب کہ مردوں کی آخری صف کم اجر و فضیلت والی ہے؛ کیوں کہ نمازی سماعِ قرأت اور امام سے دور ہوتا ہے۔ نیز تاخیر سے آنا خیر و بھلائی میں عدمِ دل چسپی کی دلیل بھی ہے۔ اس کے برخلاف عورتوں کی افضل اور زیادہ اجر و ثواب والی صف آخری صف ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ مردوں کی صفوں سے دوری کی وجہ سے عورت زیادہ پردے میں رہتی ہے اور عورتوں کی کم اجر و فضیلت والی صف ان کی پہلی صف ہے؛ کیوں کہ وہ صف فتنے کے زیادہ قریب ہوتی ہے یا فتنے کا اندیشہ رہتا ہے۔
یہ حکم ایسی صورت واقعہ کے لیے ہے، جہاں عورتیں مردوں کے ساتھ ایک ہی جگہ اور ایک ہی چھت کے نیچے نماز پڑھ رہی ہوں۔ اور اگر وہ اکیلے یا مردوں سے علیحدہ پڑھ رہی ہوں، تو ان کی صفوں کا حکم مردوں کی صفوں کے حکم کی طرح ہوگا۔ یعنی کہ خواتین کی پہلی صف بہترین اور آخری صف بدترین ہوگی۔
اسی بنیاد پر نماز پڑھنے والی ایسی خواتین جو اس طرح پردے میں ہوں کہ وہ نہ مردوں کو دیکھیں اور نہ مرد انھیں دیکھ سکیں، ان کی پہلی صف آخری صف سے افضل ہوگی، محظور کے عدم وجود کی وجہ سے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11299

 
 
Hadith   1918   الحديث
الأهمية: اللهم اجعل في قلبي نورا، وفي بصري نورا، وفي سمعي نورا، وعن يميني نورا، وعن يساري نورا، وفوقي نورا، وتحتي نورا، وأمامي نورا، وخلفي نورا، واجعل لي نورا


Tema:

اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میری نظر میں نور پیدا فرما، میرے کان میں نور پیدا فرما، میری دائیں طرف نور پیدا کر ، میری بائیں طرف نور پیدا کر ، میرے اوپر نور پیدا کر ، میرے نیچے نور پیدا کر، میرے آگے نور پیدا کر ، میرے پیچھے نور پیدا کر اور مجھے نور عطا فرما۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- قال: بِتُّ عند ميمونة، فقام النبي -صلى الله عليه وسلم- فأتى حاجَتَه، فغسل وجهه ويديه، ثم نام، ثم قام، فأَتى القِرْبَة فأطلق شِنَاقَهَا، ثم توضأ وضوءا بين وضوءين لم يُكْثِرْ وقد أبلغ، فصلى، فقمت فَتَمَطَّيْتُ؛ كراهية أن يرى أني كنت أَتَّقِيهِ، فتوضأت، فقام يصلي، فقمت عن يساره، فأخذ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عن يمينه، فَتَتَامَّت صلاته ثلاث عشرة ركعة، ثم اضطجع فنام حتى نَفَخ، وكان إذا نام نَفَخ، فَآذَنَهُ بلال بالصلاة، فصلَّى ولم يتوضأ، وكان يقول في دعائه: «اللهم اجعل في قلبي نورا، وفي بَصري نورا، وفي سمعي نورا، وعن يميني نورا، وعن يساري نورا، وفَوْقِي نورا، وتحتي نورا، وأمامي نورا، وخلفي نورا، واجعل لي نورا».

ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (ایک مرتبہ) میں نے میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری، تو نبی ﷺ اٹھے اور قضائے حاجت سے فارغ ہوکر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر سو گئے۔ پھر نیند سے بیدار ہوئے، مشکیزے کے پاس آئے، اس کا منہ بند کھولا، درميانہ وضو کیا، یعنی زیادہ پانی بھی نہیں بہایا اور اسے (تمام اعضا تک) پہنچا بھی دیا۔ پھر نماز پڑھنے لگے۔ میں آہستگی کے ساتھ اٹھا، کیوں کہ مجھے یہ ناپسند تھا کہ آپ ﷺ یہ سمجھیں کہ میں آپ پرﷺ نظریں لگائے بیٹھا تھا۔ میں نے وضو کیا۔ آپ ﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ ﷺ نے میرے کان سے مجھے پکڑا اور گھما کر اپنی دائیں جانب کر دیا۔ آپ ﷺ کی نماز تیرہ رکعت میں مکمل ہوئی۔ پھر آپ ﷺ لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے سانسوں کی آواز آنے لگی۔ آپ ﷺ جب سوتے تھے تو آپ ﷺ کے سانس کی آواز آیا کرتی تھی۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو نماز کا وقت ہونے کی اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور (اس کے لیے نیا) وضو نہیں کیا۔ آپ ﷺ اپنی دعا میں یہ کلمات کہہ رہے تھے: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْنِي نُورًا“ اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میری نظر میں نور پیدا فرما، میرے کان میں نور پیدا فرما، میری دائیں طرف نور پیدا کر، میری بائیں طرف نور پیدا کر، میرے اوپر نور پیدا کر، میرے نیچے نور پیدا کر، میرے آگے نور پیدا کر، میرے پیچھے نور پیدا کر اور مجھے نور عطا فرما۔
يخبر ابن عباس -رضي الله عنهما- في هذا الحديث أنه نام عند خالته ميمونة زوج النبي -صلى الله عليه وسلم- و-رضي عنها- "فأتى حاجَتَه" أي: قضى رسول الله-صلى الله عليه وسلم- ما يحتاج إليه من البول والغائط، "فغسل وجهه ويديه، ثم نام" بعد أن قضى حاجته -صلى الله عليه وسلم- غسل وجهه للتنشيط، ويديه للتنظيف، "ثم قام، فأتى القِرْبَة فأطْلَق شِنَاقَهَا" يعني: بعد أن استيقظ النبي -صلى الله عليه وسلم- من نومه قصد القِرْبَة، فحَلَّ الخيط الذي يُشَد به فَوْهَة السِقَا؛ لحفظ ما بداخله من ماء ونحوه، "ثم توضأ" وضوئه للصلاة "وضُوءًا بَيْن وضُوءَيْنِ" توضأ من غير إخلال ولا مُبَالغة، فكان بين الأمرين، ولهذا قال: "لم يُكْثِرْ" أي: اكتفى بأقل من ثلاث مرات، وهذا جائز والسُّنة ثلاث مرات، "وقد أَبْلَغَ" يعني: أسبع الوضوء بأن أوصله إلى ما يجب إيصاله إليه، وهذا القدر الواجب، "فصلَّى" صلاة الليل، "فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ"، يقول ابن عباس -رضي الله عنهما- أنه كان يرقب النبي -صلى الله عليه وسلم- في أفعاله، ثم إنه تمدد وأظهر خلاف ما هو عليه، حتى لا يشعر النبي -صلى الله عليه وسلم- بأنه كان يرقبه؛ ولهذا قال: "كراهية أن يرى أني كنت أَتَّقِيهِ"، يعني: أرصده وأرقب أفعاله.
فهذا سبب تمدد ابن عباس -رضي الله عنهما- وتصنعه بالتمدد؛ وإنما فعل ذلك؛ لأن الغالب أن الإنسان إذا خَلا في بيته قد يأتي بأفعال لا يحب أن يَطلع عليها أحد، أو لأنه خشي أن يترك بعض عمله -صلى الله عليه وسلم- بسبب مراقبته؛ لما جَرى من عادته -صلى الله عليه وسلم- أنه كان يترك بعض العمل؛ خَشية أن يفرض على أمَّته.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
فأراد أن يتخفى بفعله ذلك؛ لأجل أن يأخذ من النبي -صلى الله عليه وسلم- كل دقائق أموره من حين أن يستيقظ إلى أن يأتيه الدَّاعي لصلاة الفجر، وهذا من حرصه -رضي الله عنهما- على تحصيل العلم من أصله.
قال: "فتوضَّأت"، وفي رواية: "فتوضأت نحوًا مما توضأ" وفي رواية في البخاري :"فقمت فصنعت مثل ما صنع"، "فقام يصلي فَقُمْتُ عن يساره" يعني: أن ابن عباس لما رأى النبي -صلى الله عليه وسلم- دخل في صلاته توضأ ولحق بالنبي -صلى الله عليه وسلم- إلا أنه قام عن يسار النبي -صلى الله عليه وسلم-، "فأخذ بِأُذُنِي" يعني: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أخذ بأذنه ثم أداره من جهة اليسار إلى اليمين، وفي رواية: "فوضع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يده اليُمنى على رأسي، وأخذ بأذني اليُمنى يَفْتِلُها بيده "ووضع يده أولا؛ ليتمكن من مسك الأذن، أو لأنها لم تقع إلا عليه، أو لينزل بركتها به ليعي جميع أفعاله -عليه السلام- في ذلك المجلس وغيره، قال: "وفتلها" إما: لينبهه على مخالفة السنة أو ليزداد تيقظه لحفظ تلك الأفعال، أو ليزيل ما عنده من النعاس، أو لإدارته من اليسار إلى اليمين، أو لتأنيسه؛ لكون ذلك في ظلمة الليل كما صرح بذلك ابن عباس في رواية البخاري؛ أو لإيقاظه أو لإظهار محبته؛ لأن حاله كانت تقتضي ذلك؛ لصغر سنه.


"فَأَدَارَنِي عن يمينه" أي: أداره عن جانب يساره إلى جانب يمينه، وهي موقف المأموم الواحد من الإمام.
"فَتَتَامَّت صلاته" فسرها بقوله: "ثلاث عشرة ركعة" أي: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- صلى تلك الليلة ثلاث عشرة ركعة مع ركعة الوتر، يفصل بين كل ركعتين بسلام، كما في رواية البخاري: "يسلم من كل ركعتين"، وفي رواية عند البخاري ومسلم: "ثم صلى ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين، ثم أوتر" أي: بركعة واحدة مفصولة عن الركعتين؛ لأنه إذا صلى ركعتين ركعتين ست مرات مع الفصل بين كل ركعتين صارت الجملة اثنتي عشرة ركعة غير ركعة الوتر، وكانت جميع صلاته -صلى الله عليه وسلم- ثلاث عشرة ركعة، فلم يبق الوتر إلا ركعة واحدة.
"ثم اضطجع فنام حتى نَفَخ" أي كان يتنفس بصوت حتى يسمع منه صوت النَّفخ، "وكان إذا نام نَفَخ، فَآذَنَهُ بلال بالصلاة" أعلمه بصلاة الصُّبح، "فصلَّى" سنة الفجر أولاً، ثم خرج إلى المسجد فصلى الصبح بالجماعة، "ولم يتوضأ" بل اكتفى بالوضوء السابق، وهذا من خصائصه -صلى الله عليه وسلم- أن نومه لا ينقض الوضوء؛ لأن عينيه تنامان ولا ينام قلبه، فلو خرج حدث لأحس به بخلاف غيره من الناس، ولهذا لما قالت عائشة -رضي الله عنها- "أتنام قبل أن توتر؟ قال: (يا عائشة إن عيني تنامان ولا ينام قلبي).
"وكان يقول في دعائه" أي: من جملة دعائه تلك الليلة هذا الدعاء: "اللهم اجعل في قلبي نورا، وفي بَصري نورا، وفي سمعي نورا، وعن يميني نورا، وعن يساري نورا، وفَوْقِي نورا، وتحتي نورا، وأمامي نورا، وخلفي نورا، واجعل لي نورا"، وسأل النور في أعضائه وجهاته، والمراد به بيان الحق وضياؤه والهداية إليه، فسأل النور في جميع أعضائه وجسمه وتصرفاته وتقلباته وحالاته وجملته في جهاته الست حتى لا يزيغ شيء منها عنه.
575;س حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کر رہے ہیں کہ وہ اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات کو سوئے، جو نبی ﷺ کی زوجہ ہیں۔ ”فأتى حاجَتَه“ یعنی آپ ﷺ بول و براز وغیرہ سے فارغ ہوئے۔
”فغسل وجهه ويديه، ثم نام“ قضائے حاجت کے بعد آپ ﷺ نے حصول بشاشت کے لیے اپنے چہرۂ انور کو اور صفائی کے لیے اپنے ہاتھوں کو دھویا۔ ”ثم قام، فأتى القِرْبَة فأطْلَق شِنَاقَهَا“ یعنی نبی ﷺ نیند سے بیدار ہونے کے بعد مشکیزے کی طرف گئےاور اس رسی کو کھولا، جس سے مشکیزے کا منہ باندھا جاتا ہے؛ تاکہ اس میں موجود پانی وغیرہ محفوظ رہے۔
”ثم توضأ“ یعنی جیسے آپ نماز کے لیے وضوکرتے تھے، ویسے وضو فرمایا۔ ”وضُوءًا بَيْن وضُوءَيْنِ“ یعنی ایسا وضو کیا، جس میں نہ تو کوئی کمی تھی اور نہ مبالغہ، بلکہ یہ دونوں کے درمیان تھا۔ اسی لیے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”لم يُكْثِرْ“ یعنی تین تین دفعہ دھونے سے کم ہی پر آپ ﷺ نے اکتفا کر لیا۔ ایسا کرنا جائز ہے، اگرچہ سنت تین دفعہ دھونا ہے۔ ”وقد أَبْلَغَ“ اور اچھی طرح سے وضوکیا بایں طور کہ پانی کو ہر اس مقام تک پہنچایا، جہاں اس کا پہنچانا ضروری تھا اور اتنا کرنا واجب ہے۔
”فصلَّى“ یعنی رات کی نماز (نماز تہجد) ادا کی۔
”فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ“ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کو یہ سب کچھ کرتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ پھر وہ دراز ہو گئے اور جس حالت میں تھے اس کے برعکس ظاہر کیے، تاکہ نبی ﷺ کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ آپ ﷺ کو دیکھ رہے تھے۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں: "كراهية أن يرى أني كنت أَتَّقِيهِ" (یعنی مجھے یہ ناپسند تھا کہ آپ ﷺ یہ خیا ل کریں کہ) میں آپ ﷺ کو تاک رہا تھا اور آپ ﷺ کے افعال کو دیکھ رہا تھا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دراز ہونے اور ایسا ظاہر کرنے کا مقصد یہی تھا۔ انھوں نے ایسا اس لیے کیا کہ عام طور پر انسان جب اپنے گھر میں اکیلا ہوتا ہے، تو کچھ ایسے افعال کرتا ہے، جن پر دوسروں کا مطلع ہونا وہ ناپسند کرتا ہے۔ یا پھر ان کو یہ ڈر لاحق ہو گیا کہ کہیں ان کو اپنی طرف دیکھتا ہوا پا کر نبی ﷺ اپنے کسی عمل کو چھوڑ نہ دیں، جیسا کہ آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ ﷺ اپنے بعض اعمال کو اس اندیشے کے پیش نظر چھوڑ دیا کرتے تھے کہ کہیں وہ آپ ﷺ کی امت پر فرض نہ ہو جائیں۔
چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے اس فعل کے ذریعے سے اپنے آپ کو مخفی رکھنا چاہا؛ تاکہ انھیں آپ ﷺ کے بیدار ہونے سے لے کر نماز فجر کے لیے بلانے والے کے آنے تک کے تمام امور کا تفصیلی علم ہو جائے۔ ایسا انھوں نے اصل ماخذ (یعنی نبی ﷺ) سے حصول علم کی حرص میں کیا تھا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے وضو کیا۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: میں نے اسی طرح وضوکیا، جیسے آپ ﷺ نے کیا تھا۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے: میں نے اٹھ کر وہی کچھ کیا، جو آپ ﷺ نے کیا تھا۔
”فقام يصلي فَقُمْتُ عن يساره“ یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جب دیکھا کہ آپ ﷺ نے نماز شروع کر دی ہے، تو انھوں نے بھی وضو کیا اور نبی ﷺ کے ساتھ جا کر مل گئے۔ تاہم وہ نبی ﷺ کی بائیں جانب کھڑے ہوئے۔
”فأخذ بِأُذُنِي“ یعنی نبی ﷺ نے ان کا کان پکڑ کر انھیں بائیں جانب سے گھما کر دائیں جانب کر دیا۔ ایک اور روایت میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑ کر اسے مروڑنے لگے۔ آپ ﷺ نے پہلے اپنا ہاتھ رکھا؛ تا کہ کان کو پکڑ سکیں یا (اتفاقا) ہاتھ کان ہی پر پڑا تھا یا پھر آپ ﷺ نے ایسا اس لیے کیا کہ اس کی وجہ سے ان پر برکت کا نزول ہو اور وہ اس مجلس میں نیز اس کے علاوہ دیگر مجالس میں آپ ﷺ کے تمام افعال مبارکہ کو یاد رکھ سکیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے کان کو مروڑا۔ آپ ﷺ نے ایسا یا تو سنت کی مخالفت پر تنبیہ کے لیے کیا یا پھر اس لیے کیا تا کہ وہ آپ ﷺ کے جملہ افعال کو ذہن نشین کرنے کے لیے اور زیادہ چاق و چوبند ہو جائیں یا پھر آپ ﷺ نے ان پر طاری اونگھ کے آثار کو دور کرنے کے لیے یا انھیں بائیں طرف سے دائیں طرف گھمانے کے لیے ایسا کیا یا ایسا کرنے سے مقصود ان کے ساتھ اظہار انسیت تھا، کیوں کہ یہ سب کچھ رات کے اندھیرے میں ہو رہا تھا، جیسا کہ بخاری شریف میں موجود ایک روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی تصریح کی ہے۔ یا پھر آپ ﷺ نے ایسا انھیں بیدار رکھنے کے لیے یا ان سے اظہار محبت کے لیے کیا تھا؛ کیوں کہ کم سنی کی وجہ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حالت اس کا تقاضا کرتی تھی۔
”فَأَدَارَنِي عن يمينه“ یعنی آپ ﷺ نے انھیں اپنی بائیں جانب سے گھما کر دائیں طرف کر دیا۔ جب امام کے ساتھ ایک ہی مقتدی ہو، تو اس کے کھڑے ہونے کی جگہ یہی ہوتی ہے۔
”فَتَتَامَّت صلاته“ اس کی تفسیر میں انھوں نے کہا: ”ثلاث عشرة ركعة“ یعنی نبی ﷺ نے اس رات بشمول وتر کی ایک رکعت کے تیرہ رکعتیں پڑھیں، جن میں آپ ﷺ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے، جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں ہے: ”آپ ﷺ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے“۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم دونوں میں موجود ایک اور روایت میں ہے: ”پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں ، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں اور پھر وتر پڑھا“، يعنی دو ركعتوں سے الگ ایک رکعت پڑھی، کیوں کہ آپ ﷺ نے چھ دفعہ دو دو رکعتیں پڑھی تھیں اور ہر دو رکعتوں کے مابین فاصلہ کیا تھا۔ اس طرح وتر کی ایک رکعت کے علاوہ بارہ رکعتیں ہو گئیں اور آپ ﷺ کی مکمل نماز تیرہ رکعتیں بن گئی۔ چنانچہ وترکی صرف ایک ہی رکعت ہوئی۔
”ثم اضطجع فنام حتى نَفَخ“ یعنی آپ ﷺ آواز کے ساتھ سانس لے رہے تھے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کو آپ کے سانس نکلنے کی آوز سنائی دے رہی تھی۔ آپ ﷺ جب سویا کرتے تھے تو آپ ﷺ کے سانس کی آواز آیا کرتی تھی۔
”فَآذَنَهُ بلال بالصلاة“ یعنی صبح کی نماز کی آپ ﷺ کواطلاع دی۔
آپ ﷺ نے پہلے فجر کی سنتیں پڑھیں اور پھر مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور جماعت کے ساتھ صبح کی نماز ادا کی۔
”آپ ﷺ نے دوبارہ وضونہیں کیا“ بلکہ اپنے پہلے وضو پر ہی اکتفا کیا۔ یہ نبی ﷺ کے خصائص میں سے ہے۔ یعنی آپ ﷺ کی نیند ناقض وضو نہیں تھی؛ کیوں کہ آپ ﷺ کی آنکھیں تو سوتی تھیں، لیکن دل نہیں سوتا تھا۔ چنانچہ اگر کوئی وضو توڑنے والی شے خارج ہوئی ہوتی، تو آپ ﷺ کو پتہ چل جاتا، بہ خلاف دیگر لوگوں کے۔ اسی لیے جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے جواب دیا: اے عائشہ! میری آنکھیں تو سو جاتی ہیں، لیکن میرا دل جاگتا رہتا ہے۔
اپنی دعا کے اندر آپ ﷺ یہ فرمایا کرتے تھے: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْنِي نُورًا“ اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میری نظر میں نور پیدا فرما، میرے کان میں نور پیدا فرما، میری دائیں طرف نور پیدا کر ، میری بائیں طرف نور پیدا کر ، میرے اوپر نور پیدا کر ، میرے نیچے نور پیدا کر، میرے آگے نور پیدا کر ، میرے پیچھے نور پیدا کر اور مجھے نور عطا فرما۔
آپ ﷺ نے اپنے اعضا اور اپنی تمام جہات کے لیے نور طلب کیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ حق واضح اور روشن ہو جائے اور اس کی طرف راہ نمائی حاصل ہو۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے تمام اعضا، اپنے جسم مبارک، اپنے تمام تصرفات و تحرکات اور اپنی چھے جہات میں نور عطا کیے جانے کی دعا کی؛ تا کہ ان میں سے کوئی بھی شے نور حق سے عاری نہ رہ جائے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11300

 
 
Hadith   1919   الحديث
الأهمية: صليت أنا ويتيم، في بيتنا خلف النبي -صلى الله عليه وسلم-، وأمي أم سليم خلفنا


Tema:

میں نے اور ایک یتیم لڑکے نے جو ہمارے گھر میں موجود تھا ، نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی اور میری والدہ ام سلیم ہمارے پیچھے تھیں۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه-، قال: «صَلَّيْتُ أنا ويَتِيمٌ، في بَيْتِنَا خَلْف النبي -صلى الله عليه وسلم-، وَأُمِّي أُمُّ سُليم خَلْفَنَا».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اور ایک یتیم لڑکے نے جو ہمارے گھر میں موجود تھا، نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی اور میری والدہ ام سلیم ہمارے پیچھے تھیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أنس -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- صلَّى بأنس واليَتِيم، وكان موقفهما -رضي الله عنهما- خَلف النبي -صلى الله عليه وسلم-، ويخبر أنس أيضا أن أُمَّه التي تُكَنَّى بأُمِّ سليم -رضي الله عنها- صلَّت خَلفهم. فكان الصفوف كالتالي:
موقف الإمام : متقدما.
موقف الصبيان : خلف النبي -صلى الله عليه وسلم-.
موقف المرأة : خلفهم.
575;نس رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ نبی ﷺ نے انس اور ایک لڑکے (رضی اللہ عنہما) کے ساتھ نماز پڑھی۔ دونوں نبی ﷺ کے پیچھے کھڑے تھے اور یہ بھی بتایا کہ ان کی والدہ نے، جن کی کنیت ام سلیم رضی اللہ عنہا ہے، ان کے پیچھے نماز پڑھی۔ گویا صف اس ترتیب سے تھی:
امام سب سے آگے۔
امام یعنی نبی ﷺ کے پیچھے بچے۔
ان کے پیچھے خاتون۔   --  [صحیح]+ +[یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11301

 
 
Hadith   1920   الحديث
الأهمية: زادك الله حرصا ولا تعد


Tema:

اللہ تمہاری (نیکی کی) حرص کو بڑھائے، دوبارہ ایسا نہ کرنا

عن الحسن، أن أبا بَكْرَة جاء ورسول الله راكع، فركع دون الصَّف ثم مَشَى إلى الصَّف فلما قَضَى النبي -صلى الله عليه وسلم- صلاته، قال: «أيُّكم الذي ركع دون الصَّف ثم مَشَى إلى الصَّف؟» فقال أبو بَكْرَة: أنا، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «زادَك الله حِرْصَا ولا تَعُد».

Esin Hadith Text


حسن سے روایت ہے کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ (مسجد میں) آئے اس حال میں کہ رسول اللہ ﷺ رکوع میں تھے، تو انہوں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چلے۔ جب نبی ﷺ نماز پڑھ چکے، تو آپ نے پوچھا: ’’تم میں سے کس نے صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا تھا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چل کر آیا؟‘‘ ابوبکرہ نے کہا: میں نے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہاری (نیکی کی) حرص کو بڑھائے، دوبارہ ایسا نہ کرنا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن أبا بَكْرَة دخل المسجد فوجد النبي -صلى الله عليه وسلم- وأصحابه في حال الرُّكوع، فبَادر بالرُّكوع قبل أن يَصل إلى الصَّف لأجل أن يدرك الرَّكعة، ثم مَشَى إلى الصَّف وهو راكع، حتى دخل مع المأمومين في الصِّف. فالنبي -صلى الله عليه وسلم- شَعَر بحركة خَلف الصَّف، وأن هناك من جاء مسرعا وركع قبل أن يصل إلى الصَّف، بل من خصائصه أنه يرى من خلفه في الصلاة كما يرى من أمامه، فلمَّا فرغ النبي -صلى الله عليه وسلم- من صلاته سأل قائلا: من الذي ركع قبل الصَّف ثم مَشَى إلى الصَّف؟ فقال أبو بَكْرَة: أنا يعني: أنا من فعل ما ذكرت يا رسول الله، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: زادك الله رغْبَة وشِدة في الخير، والمُسَارعة إليه، ولا تَعُد إلى الإسْرَاع في المشي لإدراك الركعة ولا الرُّكوع قبل الصف؛ لأن الإسْرَاع مُناف للسَّكينة والوَقار، وقد قال -صلى الله عليه وسلم-: (لا صلاة لمنفرد خلف الصَّف)، وفعل أبي بكرة لم يدخل فيه لأنه انفراد بعمل يسير، كمن ركع وحده ثم أدرك آخر وصف معه في حال الركوع، لكنه لا يشرع لقوله: (ولا تعد).
575;بو بکرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو انہوں نے نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو رکوع کی حالت میں پایا، چناں چہ انہوں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا تاکہ رکعت پاسکیں، پھر وہ رکوع كي حالت میں صف میں ملنے کے لئے چلے یہاں تک کہ مقتدیوں کے ساتھ صف میں داخل ہو گئے، نبی ﷺ نے صف کے پیچھے کی حرکت کو محسوس کیا اور سمجھ گئے کہ کوئی تیز چل کر آیا ہے اورصف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا ہے، بلکہ یہ بات آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے تھی کہ آپ نماز میں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھ لیتے جس طرح آپ ﷺ اپنے سامنے سے دیکھتے۔ پھر جب نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو پو چھا: تم میں سے کس نے صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا تھا، پھر صف میں ملنے کے لئے چل کر آیا؟ ابو بکرہ نے کہا: میں نے، یعنی جو آپ دریافت کر رہے ہیں اے اللہ کے رسول! وہ میں نے کیا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تمہاری نیکی کی حرص و چاہ اور رغبت کو بڑھائے، لیکن دوبارہ رکعت پانے کے لئے تیز چل کر نہ آنا اور نہ صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کرنا، اس لئے کہ جلد بازی سکون اور وقار کے منافی و خلاف ہے، اور آپ ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ: ”صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز نہیں ہوتی“ ابو بکرہ کا عمل اس سے خارج ہے کیوں کہ صف کے پیچھے ان کا تنہا رہنا تھوڑی دیر کے لیے تھا، جیسے کہ کسی نے تنہا رکوع کیا اورحالت رکوع ہی میں کوئی اس کے ساتھ آکر مل گیا، پھر بھی ایسا کرنا آپ ﷺ کے اس فرمان: ”دوبارہ ایسا نہ کرنا“ کی وجہ سے مشروع و درست نہیں ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11302

 
 
Hadith   1921   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- رأى رجلا يصلي خلف الصف وحده، فأمره أن يعيد الصلاة


Tema:

وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ ﷺ نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا یعنی دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا۔

عن وابِصَة بن مَعْبَد الجُهني -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- رأى رَجُلا يصلِّي خلف الصَّف وحْدَه، فأمَرَه أن يُعِيد الصلاة.

وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ ﷺ نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا یعنی دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بعد أن انصرف رسول الله -صلى الله عليه وسلم- من صلاته نظر، فإذا برجل يصلّي خلف الصف وحده، فأمره أن يعيد الصلاة التي صلاها خلف الصَّف من أولها، وهذا صريح؛ بأن صلاة المنفرد خلف الصف لا تصح؛ لأنه أُمر بالإعادة ولا يُأمر بالإعادة على أمر مندوب إليه، وما ورد في حديث أبي بكرة -رضي الله عنه- من أنه ركع دون الصف ثم دخل في الصف فلا ينافي ما هنا لأنه لم يصل منفردا؛ لأنه أدرك الركوع مع النبي -صلى الله عليه وسلم-، وكونه أدى تكبيرة الإحرام وجزء من الركوع منفردا لا يعني أنه صلى منفردا، بخلاف من صلى ركعة، فأكثر فهذا الذي يتحقق فيه الانفراد وسواء كان الصَّف مكتملا أو غير مكتمل، وعليه فمن وجَد في الصف فُرجة يمكنه الدخول فيها، فلا يحل له أن يقف وحده خلف الصَّف، فإن فعل لم تصح صلاته، وإن لم يجد فُرجة في الصَّف، وقف خلف الصف وحده ولا يترك الجماعة.
606;بی ﷺ نماز ادا کرنے کے بعد جب پلٹے تو آپ نے دیکھا کہ ایک آدمی صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھ رہا ہے تو آپ ﷺ نے اسے اس نماز کو جسے اس نے صف کے پیچھے اکیلے میں پڑھی تھی لوٹانے کا حکم دیا ،اور یہ اس بات پر واضح دلیل ہے کہ صف کے پیچھے اکیلے كی نماز صحیح نہیں ہوتی، اس لیے کہ آپ ﷺ نے دہرانے کا حکم دیا اور دہرانے کا حکم مستحب چیز پر نہیں دیا جاتا، اور جو ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بیان ہوا ہے کہ انہوں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا اور پھر صف میں داخل ہوئے تو یہ اس بات کے منافی نہیں جو یہاں بیان ہو رہا ہے، کیوں کہ انہوں نے تنہا نماز نہیں پڑ ھی بلکہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ رکوع کو پا لیا تھا، رہی یہ بات کہ انہوں نے تکبیر تحریمہ اور رکوع کا کچھ حصہ تنہا ادا کیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے تنہا نماز ادا کی، اس شخص کے برخلاف جس نے ایک یا اس سے زائد رکعت تنہا ادا کی، تو ایسا شخص تنہا نماز ادا کرنے والا قرار پائے گا۔ چاہے صف مکمل رہی ہو یا ادھوری، اور اس بنیاد پر جو شخص صف کے بیچ میں جگہ پائے اور اس کے لئے اس میں داخل ہونا ممکن ہو اس کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ صف کے پیچھے اکیلےکھڑا رہے، اور اگر ایسا کیا تو اس کی نماز درست نہ ہو گی اور اگر صف کے بیچ میں جگہ نہ پائے تو ایسا شخص صف کے پیچھے اکیلےکھڑا رہے اور جماعت نہ چھوڑے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11303

 
 
Hadith   1922   الحديث
الأهمية: إن صلاة الرجل مع الرجل أزكى من صلاته وحده، وصلاته مع الرجلين أزكى من صلاته مع الرجل، وما كثر فهو أحب إلى الله -تعالى-


Tema:

ایک شخص کا دوسرے شخص کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا اس کے تنہا نماز پڑھنے سے زیا دہ بہتر ہے، اورایک شخص کا دو شخصوں کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا ایک شخص کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیا دہ بہتر ہے، جس قدر اہل جماعت کی تعداد زیادہ ہوگی اللہ کے نزدیک وہ نماز اتنی ہی پسندیدہ ہوگی۔

عن أُبَي بن كعب -رضي الله عنه-، قال: صلَّى بنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يوما الصُّبح، فقال: أشَاهد فلان، قالوا: لا، قال: أشَاهد فلان، قالوا: لا، قال: «إن هَاتَين الصَّلاتين أثْقَل الصلوات على المنافقين، ولو تعلمون ما فيهما لأتَيْتُمُوهُمَا، ولو حَبْوا على الرُّكَب وإن الصَّف الأول على مِثْل صفِّ الملائكة ولو عَلِمْتُم ما فَضِيلَتُه لابْتَدَرْتُمُوهُ، وإن صلاة الرَّجل مع الرَّجل أَزْكَى من صلاته وحْدَه، وصلاته مع الرَّجُلين أَزْكَى من صلاته مع الرُّجل، وما كَثر فهو أحَبُّ إلى الله تعالى».

اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی پھر فرمایا: کیا فلاں شخص حاضر ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا فلاں شخص حاضر ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دونوں (عشاء وفجر کی) نمازیں منافقوں پر بقیہ نمازوں سے زیادہ گراں ہیں، اگر تم کو ان دونوں کی فضلیت کا علم ہوتا تو تم ان میں ضرور آتے، چاہے تم کو گھٹنوں کے بل چل کرآنا پڑتا، اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی مانند ہے، اگر اس کی فضلیت کا علم تم کو ہوتا تو تم اس کی طرف ضرور سبقت کرتے، ایک شخص کا دوسرے شخص کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا اس کے تنہا نماز پڑھنے سے زیا دہ بہتر ہے، اورایک شخص کا دو شخصوں کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا ایک شخص کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیا دہ بہتر ہے، جس قدر اہل جماعت کی تعداد زیادہ ہوگی اللہ کے نزدیک وہ نماز اتنی ہی پسندیدہ ہوگی۔

Esin Hadith Caption Urdu


"صلَّى بِنَا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يوما الصُّبح، فقال: أشَاهد فلان، قالوا: لا، قال: أشَاهد فلان، قالوا: لا" والمراد بفلان وفلان: نَفر من المنافقين كما في رواية الدارمي، فقالوا: (لا، لنَفَر من المنافقين لم يشهدوا الصلاة).
quot;قال: إن هَاتَين الصَّلاتين أثْقَل الصلوات على المنافقين" والمراد بالصلاتين هنا: صلاة العشاء والفجر كما في حديث أبي هريرة -رضي الله عنه- في الصحيحين: (أثقل الصلاة على المنافقين: صلاة العشاء، وصلاة الفجر).
والأصل أن جميع الصلوات المكتوبة ثقيلة على  المنافقين، قال تعالى: (وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَى) الآية[النساء: 142].
ولكن صلاة العشاء والفجر أشدهما ثقلا؛ وذلك لأن صلاة العشاء تكون في وقت الرَّاحة والتهيئة للنوم بعد كَدٍّ وتَعب في ذلك اليوم، وأما صلاة الفجر؛ فلأنها تكون في ألذ وقت ساعات النوم؛ ولهذا جاء في أذان الصُّبح قول (الصلاة خير من النُّوم). 
quot;ولو تعلمون ما فيهما" يعني: من الأجْر والفضل المترتب على أداء صلاة العشاء والفجر مع جماعة المسلمين في المسجد؛ لأن الأجر على قَدْرِ المَشَقَّة.
quot;لأتَيْتُمُوهُمَا ولو حَبْوا على الرُّكَب" أي: لقصدتم بيوت الله تعالى لأداء هاتين الصلاتين مع جماعة المسلمين ولو كان الإتيان إليهما حَبْوَا على أيديهم وركبهم، كما يحبو الصَّبي على يديه وركبتيه؛ وذلك فيما لو منعهم مانع من المشي إليها على أقدامهم ولا يفرطون في فضل الإتيان إليهما.
quot;وإن الصَّف الأول على مِثْل صفِّ الملائكة" الصف الأول: هو الذي يَلي الإمام مباشرة، والمعنى: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- شَبَّه الصَّف الأول في قُربه من الإمام بصف الملائكة المقربين في قُربهم من الله عز وجل، لو أنكم تعملون ما الفضل المترتب على أداء الصلاة في الصَّف الأول لبَادرتم وتسابقتم إلى تحصيله من أجل الظَّفر بالأجر، وهو من جِنْس قوله -صلى الله عليه وسلم-: (لو يعلم الناس ما في النِّداء والصَّف الأول، ثم لم يجدوا إلا أن يستهموا عليه لاستهموا).
quot;وإن صلاة الرَّجل مع الرَّجل أَزْكَى من صلاته وحْدَه" أي: أن صلاة الرَّجل مع الرَّجل، أكثر أجرا من صلاته وحده.
quot;وصلاته مع الرَّجُلين أَزْكَى من صلاته مع الرُّجل" يعني: لو كانوا ثلاثة فهو أفضل من صلاة الرجلين؛ لكثرة العَدد.
quot;وما كَثر فهو أحَبُّ إلى الله تعالى" يعني: وكلما كثر الجمع فهو أفضل عند الله وأحب إليه.
وهذا يدل على فضل الجماعة؛ لأن صلاة الرَّجل مع الرَّجل أزكى من صلاته وحده، وصلاته مع الرجلين أزكى من صلاته مع الواحد، وكلما كان أكثر فهو أحب إلى الله عز وجل.

585;سول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک دن فجر پڑھائی پھر فرمایا: کیا فلاں شخص حاضر ہے؟، لوگوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا فلاں حاضر ہے؟، لوگوں نے کہا: نہیں، اور فلاں فلاں سے آپ ﷺ کی مراد منافقین کی جماعت تھی، جیسا کہ دارمی کی روایت میں اس کی صراحت ہے، لوگوں نے کہا: نہیں، منافقین میں سے کچھ لوگوں کے لئے جو نماز میں حاضر نہیں تھے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دونوں نمازیں منافقوں پر بقیہ نمازوں سے زیادہ گراں ہیں اور دونوں نمازوں سے یہاں پر مراد عشاء اور فجرکی نماز ہے، جیسا کی صحیحین کی روایت میں اس کی صراحت ہے: منافقین پر سب سے بھاری عشاء اور فجر کی نماز ہے، جس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
اور اصل تو یہ ہے کہ جملہ فرض نمازیں منافقوں پر گراں ہیں ،اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَى﴾ ”اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کاہلی کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں“۔ (سورہ نساء: 142) مگر عشاء و فجر کی نماز گراں ہونے کے اعتبار سے ان پر زیادہ بھاری ہیں اور وہ اس لئے کہ عشاء کی نماز آرام کے وقت میں پڑھی جاتی ہے اور وہ وقت دن بھر کے تکان اور محنت کے بعد نیند کی تیاری کا ہوتا ہے اور رہی بات نمازِ فجر کی تو وہ وقت انتہائی پر لطف نیند کا وقت ہوتا ہے اور اسی لئے صبح کی اذان میں”الصلاة خير من النُّوم“ (یعنی نماز نیند سے بہتر ہے) کہنے کا حکم ہوا۔
”اور اگر تم کو ان دونوں کی فضلیت کا علم ہوتا“ یعنی عشاء اور فجر کی نماز مسجد میں مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ پڑھنے پر کیا فضیلت ہے اوراس پر کتنا اجر ملتا ہے،اس لئے کہ اجر بقدر مشقت ملتا ہے۔
”تو تم ان میں ضرور آتے چاہے تم کو گھٹنوں کے بل چل کرآنا پڑتا“ یعنی تم ضرور آتے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ان دونوں نمازوں کو ادا کرنے کے لئے اگرچہ تم کو اپنے دونوں ہاتھ اور گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑتا، جیسا کہ بچہ اپنے دونوں ہاتھ اور گھٹنوں کے بل چلتا ہے اور یہ اس صورت میں جبکہ انہیں کوئی روکنے والی چیز انہیں ان کے پیروں پر اس تک چل کر جانے سے روکے اس کے باوجود یہ اس تک جانے میں کوئی کوتاہی نہیں برتتے۔
”اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی مانند ہے“ پہلی صف وہ صف ہے جو امام سے بلا فصل ملی ہوتی ہے اور معنی یہ ہے کہ نبی ﷺ نے پہلی صف کو امام سےبالکل قریب ہونے کی وجہ سے مقرب فرشتوں کے صف کے مشابہ قرار دیا یعنی ان کے اللہ عزوجل سے قریب تر ہونے میں۔ اگر تم کو علم ہوتا کہ پہلی صف میں نماز ادا کرنے پر کیا اجر و ثواب اور فضیلت حاصل ہوتی ہے تو تم ضرور جلدی آتے اور ایک دوسرے سے سبقت کرتے تاکہ اس اجر کو حاصل کر لینے میں کامیاب ہو سکو اور یہ آپ ﷺ کے اس فرمان کے مصداق ہے کہ اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان کہنے اور پہلی صف میں نماز پڑھنے کا کیا اجروثواب اور فضیلت ہے پھر وہ اس پر قرعہ اندازی کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ پائیں تو وہ ضرور اس پر قرعہ اندازی کریں گے۔
اور ایک شخص کا دوسرے شخص کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا اس کے تنہا نماز پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے، یعنی ایک شخص کے دوسرے شخص کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنے میں اس کے تنہا نماز پڑھنے کے بالمقابل اجر وثواب زیادہ ہے۔
اور ایک شخص کا دو شخصوں کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا ایک شخص کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیا دہ بہتر ہے، یعنی کثرتِ تعداد کی وجہ سےاگر وہ تین ہیں تو دو آدمی کے بالمقابل ان کی نماز افضل ہے۔
’’جس قدر اہل جماعت کی تعداد زیادہ ہوگی اللہ کے نزدیک وہ نماز اتنی ہی پسندیدہ ہوگی۔‘‘ یعنی جس قدر مجمع زیادہ ہوگا اتنا ہی وہ اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب اور زیادہ پسندیدہ ہوگا،
اور یہ چیز جماعت کی فضیلت پر دلالت کرتی ہےاس لئے کہ آدمی کی نماز دوسرے شخص کے ساتھ مل کر اس کے تنہا نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور ایک شخص کا دو شخصوں کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا ایک شخص کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیا دہ بہتر ہےاور تعداد جتنی ہی زیادہ ہوگی اتنی ہی وہ اللہ تعالیٰ کو زیا دہ محبوب ہوگی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11306

 
 
Hadith   1923   الحديث
الأهمية: أن أم ورقة بنت عبد الله بن الحارث الأنصاري، كانت قد جمعت القرآن، وكان النبي -صلى الله عليه وسلم- قد أمرها أن تؤم أهل دارها


Tema:

ام ورقہ بنت عبد اللہ بن حارث انصاری رضی اللہ عنہا نے قرآن پاک کو حفظ کیا تھا اور آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کریں۔

عن أُمِّ ورَقة بنت عبد الله بن الحارث الأنصارية، أنها كانت قد جَمعت القرآن، وكان النبي -صلى الله عليه وسلم- قد أَمَرَهَا أن تَؤُمَّ أهل دارِها، وكان لها مُؤَذِّنٌ، وكانت تَؤُمُّ أهل دارها.

ام ورقہ بنت عبد اللہ بن حارث انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے قرآن پاک کو حفظ کیا تھا اور نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اپنے اہل خانہ کی امامت کریں۔ چنانچہ ان کا ایک موذن تھا اور وہ اپنے گھر والوں کی امامت کیا کرتی تھیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن أُمَّ ورَقة الأنصارية -رضي الله عنها- كانت قد جَمعت القرآن أي: حفظته عن ظهر قَلب -رضي الله عنها-، وكان النبي -صلى الله عليه وسلم- قد أَمَرَهَا أن تكون إمامة لأهل بيتها في الصلوات الخمس، فكان لها مُؤَذِّنٌ يؤذن لها الصلوات الخَمس، وكانت تَؤُمُّ أهل دارِها من النِّساء لرواية الدارقطني: (وتؤم نِسَاءها)، فدل على أن إمامتها مقيدة بالنِّساء فقط.
575;م ورقہ انصاریہ رضی اللہ عنہا نے قرآن پاک کو حفظ کیا تھا اور نبی ﷺ نے انھیں حکم دیا تھا کہ وہ پانچوں نمازوں میں اپنے گھر والوں کی امام بنیں۔ ان کا ایک مؤذن تھا جو پانچ نمازوں کے لیے اذان دیتا تھا اور وہ اپنے گھر کی عورتوں کی امامت کیا کرتی تھیں کیوں کہ دار قطنی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ: ”وتؤم نِسَاءها“ (گھر کی عورتوں کی امام کرے) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی امامت صرف عورتوں کی حد تک تھی۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11307

 
 
Hadith   1924   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- استخلف ابن أم مكتوم يؤم الناس وهو أعمى


Tema:

نبی کریم ﷺ نے ابنِ اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کیا تھا، وہ لوگوں کی امامت کرتے تھے، حالانکہ وہ نابینا تھے۔

عن أنس -رضي الله عنه-: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- اسْتَخْلَفَ ابن أُمِّ مَكْتُومٍ يَؤُم الناس وهو أعْمَى.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ابنِ اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کیا تھا، وہ لوگوں کی امامت کرتے تھے، حالانکہ وہ نابینا تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جعل النبي -صلى الله عليه وسلم- ابن أم مكتوم -رضي الله عنه- خلفًا له في بعض أسفاره، فكان يصلي بالناس إماما نيابة عنه -صلى الله عليه وسلم- فترة غيابه؛ وإنما كان اختياره -صلى الله عليه وسلم- لابن أُمِّ مكتوم دون غيره؛ لسابقته في الإِسلام، فهو من المهاجرين الأولين، وهو من القُرَّاء والعلماء، فاستحق الإمامة بهذه الفضائل وغيرها، وولاية النبي -صلى الله عليه وسلم- لابن أُمِّ مكْتُوم لا تقتصر على الصلاة، بل هي ولاية عامة في الصلاة وغيرها، فله أن يُفتي، وله أن يقضي بين الناس، ويدير جميع شؤون أهل المدينة في حال غياب النبي -صلى الله عليه وسلم-، ويدل له ما رواه الطبراني عن عطاء عن ابن عباس، أن النبي -صلى الله عليه وسلم-: استخلف ابن أم مكتوم على الصلاة وغيرها من أمر المدينة، حسنه الألباني في إرواء الغليل، وفي رواية أبي داود الأخرى: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- استخلف ابن أم مَكْتُوم على المدينة مرتين.
606;بی اکرم ﷺ نے ابن اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو کسی سفر میں اپنا نائب بنایا۔ وہ آپ ﷺ کی عدم موجودگی میں آپ کا نائب بن کر لوگوں کی امامت کراتے تھے۔ آپ ﷺ دوسروں کو چھوڑ کر ابنِ امّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو ان کے سبقتِ اسلام کی وجہ سے اپنی نیابت کے لیے چنتے تھے، وہ ابتدائی دور میں ہجرت کرنے والوں میں سے تھے نیز وہ قرّاء اور علماء میں سے تھے، چنانچہ ان تمام فضائل کی وجہ سے وہ امامت کے زیادہ مستحق تھے۔ آپ ﷺ کا ابنِ امِّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو ذمہ دار بنانا صرف نماز پڑھانے کی حد تک محصور نہیں تھا بلکہ یہ عام ذمہ داری تھی جو نماز اور دیگر سب چیزوں کو شامل تھی، انہیں فتویٰ دینے کا بھی حق تھا، لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا بھی حق تھا، وہ آپ ﷺ کی غیرموجودگی میں مدینہ والوں کے تمام معاملات سنبھال تھے۔ اس پر طبرانی کی روایت دلالت کرتی ہے جسے عطا رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ابن امِّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو نماز اور مدینہ کے معاملات طے کرنے کے لیے اپنا نائب بنایا۔ إرواء الغليل میں علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ ابو داؤد کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ابنِ مکتوم رضی اللہ عنہ کو دو مرتبہ مدینہ پر اپنا نائب بنایا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11308

 
 
Hadith   1925   الحديث
الأهمية: إذا أتى أحدكم الصلاة والإمام على حال، فليصنع كما يصنع الإمام


Tema:

جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے آئے اور امام کسی حالت میں ہو تو وہ وہی کرے جو امام کر رہا ہو۔

عن علي بن أبي طالب، ومعاذ بن جبل -رضي الله عنهما- مرفوعًا: «إذا أتى أحدُكم الصلاةَ والإمامُ على حال، فلْيصنعْ كما يصنع الإمامُ».

علی بن ابی طالب اور معاذ بن جبل رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے آئے اور امام کسی حالت میں ہو تو وہ وہی کرے جو امام کر رہا ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا أتى أحدكم الصلاة والإمام على حال من قيام أو ركوع أو سجود أو قعود، فليوافق الإمام فيما هو فيه من القيام أو الركوع أو غير ذلك، ولا ينتظر حتى يقوم الإمام كما يفعله العوام.
580;ب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے آئے اور امام قیام یا رکوع یا سجدے یا قعود (بیٹھنے) کی حالت میں ہو تو تمہیں چاہیے کہ قیام یا رکوع وغیرہ میں امام کی اتباع کرو، امام کے کھڑے ہونے کا انتظار نہ کرو جیسا کہ عام طور پر لوگ کرتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 11310



© EsinIslam.Com Designed & produced by The Awqaf London. Please pray for us