Hadith Explorer em português مكتشف الحديث باللغة الإنجليزية
 
Hadith   2   الحديث
الأهمية: دخل علينا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حين توُفِّيَتْ  ابنته، فقال: اغْسِلْنَهَا ثلاثًا، أو خمسًا، أو أكثر من ذلك -إن رَأَيْتُنَّ ذلك- بماء وَسِدْرٍ، واجعلن في الأخيرة كافورًا -أو شيئًا من كافور- فإذا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي


Tema:

جب رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کی وفات ہوئی، تو آپ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا کہ انھیں تین یا پانچ یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ بیری کے پتے ملے پانی سے غسل دو اور آخر میں کافور یا ( یہ کہا کہ ) کچھ کافور کا استعمال کر لینا اور غسل سے فارغ ہونے پر مجھے بتا دینا۔

عن أُمّ عَطِيَّةَ الأنصارية -رضي الله عنها- قالت: «دخل علينا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حين تُوُفِّيَتْ  ابنته، فقال: اغْسِلْنَهَا ثلاثا، أو خمسا، أو أكثر من ذلك -إن رَأَيْتُنَّ ذلك- بماء وَسِدْرٍ، واجْعَلْنَ في الأخيرة كافُورا -أو شيئا من كافور- فإذا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ». فلما فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فأعطانا حَقْوَهُ، وقال: أَشْعِرْنَهَا بِهِ -تعني إزاره-.

وفي رواية «أو سَبْعا»، وقال: « ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا ومَواضِعِ الوُضوء منها» وإن أُمّ عَطِيَّةَ قالت: وجعلنا رأسها ثلاثة قُرُون».<
ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کی وفات ہوئی، تو آپ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا کہ انھیں تین یا پانچ یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ بیری کے پتے ملے پانی سے غسل دو اور آخر میں کافور یا (یہ کہا کہ) کچھ کافور کا استعمال کر لینا اور غسل سے فارغ ہونے پر مجھے بتا دینا۔ چنانچہ ہم جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ ﷺ کو خبر دی۔ آپ ﷺ نے ہمیں اپنا حقوہ (ازار) دیا اور فرمایا کہ ان کے بدن کو اس سے لپیٹ دو۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی مراد آپ ﷺ کی ازار تھی۔ ایک اور روایت میں ہے یا پھر سات دفعہ۔ اور فرمایا کہ: ان کے دائیں اعضا اور وضو کی جگہوں سے آغاز کرو۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں بنا دیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لما تُوُفيت  زينب -رضي الله عنها-، وهي بنت النبي -صلى الله عليه وسلم- ، دخل النبي -صلى الله عليه وسلم- على النسوة اللاتي يغسلنها، وفيهن "أم عطية الأنصارية" ليعلمهن صفة غسلها، لتخرج من هذه الدنيا إلى ربها، طاهرة نقية فقال: اغسلنها ثلاثاً، أو خمسا، ليكون قطع غسلهن على وتر أو أكثر من ذلك، إن رَأيْتُنَّ أنها تحتاج إلى الزيادة على الخمس، وأنه لازم.
وليكون الغسل أنقى، والجسد أصلب، اجعلن مع الماء سدراً، وفي الأخيرة كافورا، لتكون مطيبة بطيب يبعد عنها الهوام، ويشد جسدها، ووصاهن أن يبدأن بأشرف أعضائها، من الميامن، وأعضاء الوضوء، وأمرهن - إذا فرغن من غسلها على هذه الكيفية- أن يخبرنه.
فلما فرغن وأعلمنه، أعطاهن إزاره الذي باشر جسده الطاهر، ليشعرنها إياه، أي ليكون مما يلي جسدها، فيكون بركة عليها في قبرها، وقد نقضت النسوة اللاتي يغسلن زينب رأسها وغسلنه وجعلنه ثلاثة قرون الناصية قرن والجانبان قرنان وألقينه خلفها.
580;ب نبی ﷺ کی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی، تو آپ ﷺ انھیں نہلانے والی عورتوں کے پاس تشریف لائے، اس غرض سے کہ انھیں نہلانے کا طریقہ سکھلا سکیں؛ تا کہ وہ اس دنیا سے صاف ستھری ہو کر اپنے رب کے حضور پیش ہوں۔ ان عورتوں میں ام عطیہ انصاریہ بھی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: انھیں تین یا پانچ مرتبہ نہلاؤ؛ تا کہ ان کا غسل طاق عدد کے ساتھ ختم ہو یا پھر اگر تم سمجھو کہ انھیں اس سے بھی زیادہ کی ضرورت ہے، تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ نہلاؤ۔ غسل میں زیادہ صفائی اورجسم میں سختی پیدا کرنے کے لیے پانی کے اندر بیری کے پتے ملا لو اور آخر میں اس میں کچھ کافور ملا لینا؛ تا کہ وہ خوش بودار ہو جائیں اور کیڑے مکوڑے ان سے دور رہیں اوران کا جسم سخت رہے۔ آپ ﷺ نے انھیں تلقین فرمائی کہ وہ ان کے اشرف اعضا یعنی دائیں طرف والے اور وضو کے اعضا سے پہل کریں اور انھیں حکم فرمایا کہ جب وہ اس طرح غسل دینے سے فارغ ہو جائیں، تو آپ کو بتا دیں۔ جب انھوں نے فارغ ہو کر آپ ﷺ کو اطلاع دی، تو آپ ﷺ نے انھیں اپنی ازار دی، جو آپ ﷺ کے جسد طاہر کے ساتھ مس ہوتی رہی تھی؛ تا کہ وہ اسے ان کے جسم پر لپیٹ دیں اور اس کی وجہ سے انھيں قبر میں برکت حاصل ہو۔ جو عورتیں زینب رضی اللہ عنہا کو غسل دے رہی تھیں، انھوں نے ان کے سر کے بالوں کو کھول کر ان کی تین چوٹیان بنا دیں۔ پیشانی کے بالوں کی ایک چوٹی اور دونوں اطراف کے بالوں کی دو چوٹیاں اور انھیں ان کے پیچھے ڈال دیا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 1751

 
 
Hadith   3   الحديث
الأهمية: حجَّ بي مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في حجة الوداع، وأنا ابن سبع سنين


Tema:

حجۃ الوداع میں مجھے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کرایا گیا تھا اور میں اس وقت سات سال کا تھا۔

عن السَّائب بن يزيد -رضي الله عنهما- قال: «حُجَّ بي مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في حجة الوداع، وأنا ابن سبع سنين».

سائب بن يزيد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع میں مجھے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کرایا گیا تھا اور میں اس وقت سات سال کا تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
السائب بن يزيد -رضي الله عنهما- صحابيٌّ صغير، حجَّ به أهْلُهُ على عهد النبي -صلى الله عليه وسلم- فأدرك حجة الوداع، وأقرهم النبي -عليه الصلاة والسلام- على الحج بالصبيان، وتُحسَبُ له حجة تطوع، لكن إذا بلغ يَلْزَمُهُ أن يحج مَرةً أخرى حجة الإسلام، ويفعل الصَّبِيُّ في الحج مثل فعل الكبير من الإحرام والتَّجرُّد مِنَ المخِيطِ والتلبية ونحوها، فإذا عجز عنها فعلها عنه وَلِيُّهُ، كأبيه وأمه.
587;ائب بن یزید رضی اللہ عنہما ایک کم سن صحابی تھے۔ ان کے گھر والوں نے نبی ﷺ کے زمانے میں انھیں لے کر حج کیا۔ اس طرح وہ حجۃ الوداع میں شریک ہو گئے۔ نبی ﷺ نے بچوں کو ساتھ لے کر حج کرنے پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔ بچے کے لیے یہ ایک نفلی حج شمار ہوتا ہے اور بلوغت کے بعد اس پر دوبارہ اسلام کی رو سے فرض شدہ حج کرنا ضروری ہوتا ہے۔ حج کے دوران بچہ بھی ویسے ہی کرتا ہے، جیسے بڑا (بالغ) کرتا ہے۔ یعنی احرام باندھتا ہے، سلے ہوئے کپڑے اتار دیتا ہے، تلبیہ کہتا ہے اور اس طرح کے دیگر افعال سر انجام دیتا ہے۔ اگر بچہ ایسا نہ کر سکے تو اس کی طرف سے اس کا سربراہ مثلاً باپ یا ماں کرے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2750

 
 
Hadith   4   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حَج على رَحل وكانت زاملته


Tema:

رسول اللہ ﷺ اونٹ پر حج کے لیے تشریف لے گئے اور اسی پر آپ ﷺ کا سامان بھی لدا ہوا تھا۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه-: أنَّ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حَجَّ على رَحْلٍ وكانتْ زَامِلَتَهُ.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اونٹپرحج کے لیے تشریف لے گئے اور اسی پر آپ ﷺ کا سامان بھی لدا ہوا تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
حجَّ النبيُّ -عليه الصلاة والسلام- على ظهر البعير من غير محملٍ وهو الشيء الذي يوضع على البعير، ولم يكن له بعيرٌ آخر يحمل عليه طعامه ومتاعه، بل يجعَلُهُ معه على هذا البعير،مما يدل على زهده وتقلله من الدنيا -عليه السلام-، والحديث لا يَدُلُّ على تحريم ركوب الدواب المريحة والفاخرة في الحج، وإن كان التقلُّلُ من الرفاهية والتنعم في الحج هو الأفضل اقتداءً برسول الله -صلى الله عليه وسلم-.
606;بی ﷺ نے اونٹ کی پیٹھ پر بغیر کجاوے کے حج کیا۔ کجاوے سے مراد وہ شے ہے جو اونٹ پر رکھی جاتی ہے۔ چوں کہ آپ ﷺ کے پاس کوئی اور اونٹ نہیں تھا، جس پر آپ ﷺ اپنی خوراک اور سامان وغیرہ رکھتے، اس لیے آپ ﷺ جس اونٹ پر سوار تھے، اسی پر اپنے ساتھ سامان رکھ لیا تھا۔ آپ ﷺ کا یہ عمل بذات خود آپ کے زہد اور دنیاوی ساز و سامان بے توجہی پو دلالت کرتا ہے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ دوران حج آرادم دہ اور عمدہ سواریوں پر سوار ہونا حرام ہے، اگرچہ دوران حج رسول اللہ ﷺ کی پیروی میں کم سے کم آسائشوں اور نعمتوں کو اختیار کرنا ہی افضل ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2751

 
 
Hadith   5   الحديث
الأهمية: رباط يوم وليلة خير من صيام شهر وقيامه، وإن مات جرى عليه عمله الذي كان يَعمل، وأجري عليه رزقه، وأمن الفتان


Tema:

(جہاد میں) ایک دن اور رات کی پہرے داری پورا ماہ روزہ رکھنے اور اس میں قیام کرنے سے بہتر ہے اور اگر اس دوران اس شخص کی موت واقع ہو جائے تو اس کے اُس عمل کا ثواب بھی اس کے لیے لکھا جاتا رہے گا جو وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا اور اس کو رزق بھی دیا جائے گا اور وہ قبر کے فتنہ (فرشتوں کے سوالات) سے بھی محفوظ رہے گا۔

عن سلمان الفارسي -رضي الله عنه- مرفوعاً: «رباط يوم وليلة خير من صيام شهر وقيامه، وإن مات جرى عليه عمله الذي كان يعمل، وأُجْرِيَ عليه رزقه، وأَمِنَ الفَتَّانَ».

سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جہاد میں ) ایک دن اور رات کی پہرے داری پورا ماہ روزہ رکھنے اوراس میں قیام کرنے سے بہتر ہے اور اگر اس دوران اس شخص کی موت واقع ہوجائے تو اس کے اُس عمل کا ثواب بھی اس کے لیے لکھا جاتا رہے گا جو وہ کیا کرتا تھا اور اس کو رزق بھی دیا جائے گا اور وہ قبر کے فتنے (فرشتوں کے سوالات) سے بھی محفوظ رہے گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
حراسة يوم وليلة في سبيل الله لحماية المسلمين خير من صيام شهر وقيام ليله، وإذا مات المجاهد بقي أجر عمله مستمراً لا ينقطع، و كذلك يرزق من الجنة ؛لأنه حي عند ربه في الجنة، وتحصل له كرامة بأن لا يأتيه الملكان ليسألاه، وذلك لأنه مات مرابطاً في سبيل الله -تعالى-، مع العلم أن الرباط من الجهاد في سبيل الله، لأنه ملازمة أماكن الحدود لحماية المسلمين من الكفار.
605;سلمانوں کی حفاظت کی غرض سے ایک دن رات کی پہرے داری کرنا ایک ماہ کے روزوں اور اس کی راتوں کو عبادت کی غرض سے قیام کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ جب مجاہد شہید ہو جاتا ہے تو اس کے عمل کا اجر لکھا جاتا رہتا ہے اور وہ منقطع نہیں ہوتا۔ اسی طرح اسے جنت سے رزق بھی دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہوتا ہے اور اسے یہ عزت و شرف ملتا ہے کہ اس کے پاس فرشتے سوال و جواب کے لیے نہیں آتے۔ کیونکہ اس کی موت اللہ کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے آتی ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ سرحدوں پر پہرہ دینا جہاد فی سبیل اللہ ہی ہے کیونکہ اس سے مراد مسلمانوں کی کفار سے حفاظت کی غرض سے سرحدوں پر جمے رہنا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2752

 
 
Hadith   6   الحديث
الأهمية: عمرة في رمضان تعدل حجة - أو حجة معي


Tema:

رمضان میں کیا گیا عمرہ حج کے برابر ہے۔ یا (آپ ﷺ نے فرمایا کہ:) میرے ساتھ کئے گئے حج کے برابر ہے۔

عن عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما- مرفوعاً: «عمرة في رمضان تعدل حجة - أو حجة معي».

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رمضان میں کیا گیا عمرہ حج کے برابر ہے۔ یا (آپ ﷺ نے فرمایا کہ:) میرے ساتھ کیے گئے حج کے برابر ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أداء عمرة في شهر رمضان يماثل أجرها أجر حجة تطوع أو حجة مع النبي -صلى الله عليه وسلم-، والمقصود في الشرف والأجر، لا أن العمرة في رمضان يحصل بها فريضة الحج.
605;اہ رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب ایک نفلی حج یا نبی ﷺ کے ساتھ کیے گئے ایک حج کے برابر ہے، یعنی اجر اور فضیلت میں اس سے یہ مقصود نہیں کہ رمضان میں عمرہ کر لینے سے حج کا فریضہ ادا ہوجاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2753

 
 
Hadith   7   الحديث
الأهمية: كان النبي-صلى الله عليه وسلم- يعتكف في كل رمضان عشرة أيام، فلما كان العام الذي قبض فيه اعتكف عشرين يوما


Tema:

نبی ﷺ ہر رمضان میں دس دن کا اعتکاف فرماتے تھے، اور جس سال آپ ﷺ کی وفات ہوئی اس سال آپ ﷺ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: كان النبي-صلى الله عليه وسلم- يعتكف في كل رمضان عشرة أيام، فلما كان العام الذي قُبِضَ فيه اعتكف عشرين يوماً.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ”نبی ﷺ ہر رمضان میں دس دن اعتکاف فرماتے تھے۔ اور جس سال آپ ﷺ کی وفات ہوئی اس سال آپ ﷺ بیس دن کا اعتکاف کیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبيُّ -عليه الصلاة والسلام- يلزمُ المسجدَ مُنقطِعَاً لعبادة الله في كل رمضان عشرة أيامٍ، وكان يعتكف في العشر الأوسط منه رجاء إدراك ليلة القدر، فلما عَلِمَ أنها في العشر الأواخر منه اعتكفها، ثم اعتكف في العام الذي ماتَ فِيهِ عِشرين يوماً زيادة في الطاعة والتقرب لله -تعالى-.
606;بی ﷺ ہر رمضان میں دس دن کے لیے مسجد میں اللہ کی عبادت کے لیے گوشہ نشین ہوا کرتے تھے۔ پہلے آپ ﷺ شبِ قدر کو پانے کی امید میں درمیانی عشرے میں اعتکاف پر بیٹھا کرتے تھے۔ پھر جب آپ ﷺ کو علم ہوا کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے تو آپ ﷺ اس میں معتکف ہوا کرتے تھے۔ اور جس سال آپ ﷺ کی وفات ہوئی اس سال آپ ﷺ نے اللہ کی اطاعت و خوشنودی میں اضافے کی غرض سے بیس دن کا اعتکاف کیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2754

 
 
Hadith   8   الحديث
الأهمية: كانت عكاظ، ومجنة، وذو المجاز أسوَاقًا في الجاهلية، فتأَثموا أن يتجروا في المواسم، فنزلت: ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلًا من ربكم


Tema:

عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز زمانہ جاہلیت کے بازار تھے، اس لیے (اسلام کے بعد) زمانہ حج میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے وہاں کاروبار کو برا سمجھا تو آیت نازل ہوئی کہ ’’ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ‘‘۔(سورۂ بقرہ:198)۔
ترجمہ: تم پر اپنے رب کا فضل (رزق، ذرائع معاش) تلاش کرنے میں کوئی گناه نہیں۔

عن عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما- قال:  كانت عُكَاظُ، ومَجِنَّةُ، وذُو المجَازِ أسوَاقَاً في الجاهلية، فَتَأَثَّمُوا أنْ يَتَّجِرُوا في المواسم، فنزلت: {ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلاً من ربكم} "البقرة" (198) في مواسم الحج.

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز زمانہ جاہلیت کے بازار تھے، اس لیے (اسلام کے بعد) زمانۂ حج میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے وہاں کاروبار کو برا سمجھا تو آیت نازل ہوئی کہ ’’لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ.(البقرۃ: 198)‘‘۔
ترجمہ: تم پر اپنے رب کا فضل (روزی روٹی) تلاش کرنے میں کوئی گناه نہیں ہے ـــــــــــــ یعنی زمانہ حج میں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كانت هذه الأماكن أسواقاً للمشركين من قبل الإسلام يُتَاجِرُون فيها في أيام الحج، فخاف الصحابة -رضي الله عنهم- أن يأثموا إذا تَاجَرُوا فيها في أيام الحج، فأنزل الله هذه الآية ليُبَيِّنَ لهم أنَّ التجارة في موسم الحج لا تُفْسِدُهُ مع أداء النسك على الوجه الشرعي، على أنَّ التجارة في الحج جائزةٌ، لكنَّ الأولى والأحسن التفرغ لأداء نسك الحج، فهذا هو الأفضل.
575;سلام سے قبل یہ جگہیں مشرکین کے بازار ہوا کرتی تھیں جن میں وہ ایامِ حج کے دوران خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں یہ نہ ہو کہ ایامِ حج میں ان بازاروں میں خرید و فروخت کی وجہ سے وہ گناہ گار ہو جائیں۔ اس پر اللہ تعالی نے اس بات کی وضاحت کے لیے یہ آیت نازل فرمائی کہ زمانۂ حج میں تجارت حج کو فاسد نہیں کرتی جب کہ مناسک حج کو شرعی طریقے سے ادا کر دیا جائے۔ اگرچہ ایام حج میں تجارت کرنا جائز ہے تاہم اولی اور زیادہ بہتر یہی ہے کہ مکمل طور پر مناسک حج کی ادائیگی کے لیے فارغ رہا جائے۔ یہ زیادہ افضل ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2755

 
 
Hadith   9   الحديث
الأهمية: كل ميت يختم على عمله إلا المرابط في سبيل الله، فإنه يَنْمي له عمله إلى يوم القيامة، ويؤمن فتنة القبر


Tema:

ہر مرنے والے کا عمل اس کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کی راہ (یعنی جہاد) میں سرحد پر پہرہ دیتا ہے۔ یقیناً اس کا عمل تاروز قیامت بڑھایا جاتا رہتا ہے اور قبر کی آزمائش سے بھی اس کو محفوظ رکھا جاتا ہے

عن فَضَالَةُ بنُ عُبَيْدٍ وسلمان الفارسي وعقبة بن عامر الجهني -رضي الله عنهم- مرفوعاً: «كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ على عَمَلِهِ إلا الُمرَابِطَ في سبيل الله، فإنه يَنْمِي لَهُ عَمَلَهُ  يوم القيامة، ويُؤَمَّنُ فتنة القبر».

فضالہ بن عبید، سلمان فارسی اور عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر مرنے والے کا عمل اس کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کی راہ (یعنی جہاد) میں سرحد پر پہرہ دیتا ہے۔ یقیناً اس کا عمل تاروز قیامت بڑھایا جاتا رہتا ہے اور قبر کی آزمائش سے بھی اس کو محفوظ رکھا جاتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كُلُّ مَيِّتٍ يَنْقَطِعُ عَمَلُهُ بالموتِ فلا يُكْتَبُ لَهُ أجرٌ جديدٌ، إلا المرابِطَ في سبيل الله الذي يَحرِسُ حُدُودَ المسلمين،فإنَّ الله يُكْرِمُهُ ببقاءِ أجْرِ عَمَلِهِ،ويَأْمَنُ فِتنَةَ القَبْرِ فلا يسأله الملكان.
729;ر مرنے والے کا عمل موت کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے اور اس کے لئے مزید اجر نہیں لکھا جاتا ما سوا اس کے جو اللہ کے راستے میں سرحد پر مقیم ہوتا ہے اور مسلمانوں کی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے یہ اعزاز دیتا ہے کہ اس کے عمل کا اجر جاری رہتا ہے اور وہ فتنہ قبر سے محفوظ رہتا ہے، چنانچہ فرشتے اس سے سوال نہیں کرتے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2756

 
 
Hadith   10   الحديث
الأهمية: من حج، فلم يرفث، ولم يفسق، رجع كيوم ولدته أمه


Tema:

جس شخص نے حج کیا اور اس نے (اس دوران) کوئی فحش کلامی اور گناہ نہیں کیا تو وہ (حج کے بعد گناہوں سے پاک ہو کر اپنے گھر اس طرح) لوٹتا ہے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «مَنْ حَجَّ، فلَمْ يَرْفُثْ، وَلم يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمَ وَلَدْتُهُ أُمُّهُ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے حج کیا اور اس نے (اس دوران) کوئی فحش کلامی اور گناہ نہیں کیا تو وہ (حج کے بعد گناہوں سے پاک ہو کر اپنے گھر اس طرح) لوٹتا ہے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
مَنْ حَجَّ لله -تعالى- ولم يَصْدُرْ منه كلامٌ قبيحٌ ولا فعلٌ سيءٌ أثناء المناسك، ولم يأتِ بمعصيةٍ رَجَعَ مِنْ حَجِّهِ مَغْفُوراً له، كما يُولَدُ الصَّبِيُّ سَالماً من الذُّنُوب، وتكفيرُ الحجِّ للذُّنُوب والخطايا خاصٌّ بصغائر الذنوب، أما الكبائرُ فلا بُدَّ لها من التوبة.
580;س نے اللہ کے لیے حج کیا اور مناسک حج کے دوران اس سے کوئی بری بات اور برا عمل صادر نہ ہوا اور نہ ہی اس نے کوئی گناہ کا ارتکاب کیا تو وہ اپنے حج سے ایسے پاک ہو کر لوٹتا ہے جیسے اس کی اس طرح مغفرت کر دی گئی ہے جیسے کوئی نوزائیدہ بچہ گناہوں سے بالکل پاک پیدا ہوتا ہے۔ حج کے ساتھ گناہوں اور خطاؤں کی مغفرت صرف صغیرہ گناہوں کے ساتھ خاص ہے۔ جہاں تک کبیرہ گناہوں کا تعلق ہے تو ان کے لیے توبہ کرنا ضروری ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2758

 
 
Hadith   11   الحديث
الأهمية: لَكُنَّ أفضل الجهاد: حج مبرور


Tema:

تمہارے حق میں سب سے افضل جہاد، حج مبرور ہے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت:  قُلتُ: يا رَسُولَ الله، نَرَى الجهادَ أفضلَ العمل، أفلا نُجاهِد؟ فقال: «لَكُنَّ أفضلُ الجهادِ: حجٌّ مبرور».

عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ میں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! ہم سمجھتی ہیں کہ سب سے افضل عمل جہاد ہے، تو کیا ہم جہاد نہ کریں؟ اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”تمہارے حق میں سب سے افضل جہاد ’حج مبرور‘ ہے۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كانت أم المؤمنين عائشةُ -رضيَ الله عنها- والنساءُ معها يعتقدن أنَّ أفضل الأعمال وأكثرها أجراً الجهاد في سبيل الله ومقاتلة الأعداء، فأرشَدَهُنَّ -عليه الصلاة والسلام- إلى جهادٍ أفضل في حقهن من القتال، وهو الحج الذي لا إثم يخالطه، سُمِّيَ الحجُّ جهاداً لأنه جهادٌ للنفس، وفيه بذلٌ للمال وطاقة البدن.
593;ائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھ موجود خواتین کا خیال تھا کہ سب سے افضل اور سب سے زیادہ اجر والا عمل جہاد فی سبیل اللہ اور دشمنوں کے ساتھ قتال کرنا ہے۔ نبی ﷺ نے ان کی رہنمائی ایسے جہاد کی طرف فرمائی جو ان کے حق میں جہال سے بھی زیادہ افضل تھا یعنی ایسا حج جس میں کسی گناہ کی آمیزش نہ ہو۔ حج کو جہاد اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں نفس کا جہاد ہے، مال خرچ ہوتا اور بدن کی طاقت صرف ہوتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2759

 
 
Hadith   12   الحديث
الأهمية: يا عباس، يا عم رسول الله، سلوا الله العافية في الدنيا والآخرة


Tema:

اے عباس! اے اللہ کے رسول کے چچا! اللہ سے دنیا اور آخرت کی عافیت مانگو۔

عن أبي الفضل العباس بن عبد المطلب -رضي الله عنه- قال: قلتُ: يا رسول الله عَلِّمْنِي شيئا أسأله الله -تعالى-، قال: «سَلُوا اللهَ َالعافية» فمكثتُ أياما،ً ثم جِئْتُ فقلتُ: يا رسول الله علمني شيئا أسأله الله -تعالى-، قال لي: «يا عباس، يا عَم رسول الله، سَلُوا الله العافية في الدنيا والآخرة».

ابو الفضل عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیں جو میں اللہ سے مانگوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے عافیت طلب کرو۔ میں کچھ دن رُک کر پھر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور گزارش کی کہ: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیں جو میں اللہ سے مانگوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے عباس! اے اللہ کے رسول کے چچا! اللہ سے دنیا اور آخرت کی عافیت مانگو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث من جوامع كلمه -صلى الله عليه وسلم-، فقد سأله عمه العباس -رضي الله عنه- أن يعلمه دعاءً، فعلمه دعاءً هو عبارة عن جملة قصيرة، شديدة الإيجاز عميقة الدلالة، استوعبت خير الدنيا والآخرة، وتنكير لفظ (شيئاً) للتعظيم؛ لأنه يريد شيئاً يسيراً قولياً يسأل الله به ليس به كلفة مع عظم الأجر فقال: «سلوا الله العافية»، وعدم تقييد العافية بشيء يجعلها عافية عامة تستلزم السلامة من كل شر دينوي وأخروي.

EEsin Hadith Caption Urdu


یہ حدیث نبی ﷺ کے جوامع الکلم میں سے ہے۔ یہ بہت ہی چھوٹا اور مختصر لیکن انتہائی گہرے معنی کا حامل جملہ ہے جو دنیا و آخرت کی بھلائی کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ 'شيئاً' کے لفظ کے نکرہ ہونے میں عظمت کا معنی پایا جاتا ہے۔ کیونکہ عباس رضی اللہ عنہ ایسے ہلکی سے قولی بات چاہتے تھے جس میں کوئی مشقت نہ ہو تاہم اس کا اجر بہت زیادہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے عافیت طلب کرو۔عافیت کو کسی شے سے مقید نہ کرنے کی وجہ سے یہ عام عافیت بن جاتی ہے جس سے یہ لازم آتا ہے کہ ہر دنیوی اور اخروی شر سے سلامتی طلب کی جائے۔   --  [صحیح لغیرہ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2932

 
 
Hadith   13   الحديث
الأهمية: أَتَى رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ رَسولَ الله -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ- فَنَادَاهُ: يَا رَسُولَ الله، إنِّي زَنَيْتُ


Tema:

مسلمانوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس نے آپ کو آواز دی اور کہا: اے اللہ کے رسول ! میں نے زنا کیا ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: «أَتَى رجل مِنَ المسلمين رسولَ -صلى الله عليه وسلم- وهو في المسجد فَنَادَاهُ: يا رسول الله، إنِّي زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عنه، فَتَنَحَّى تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَقَالَ: يا رسول الله، إنِّي زَنَيْت، فأعرض عنه، حَتَّى ثَنَّى ذلك عليه أَرْبَعَ مَرَّاتٍ.   فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبع شهادات: دَعَاهُ رَسُولُ الله -صلى الله عليه وسلم-، فَقَالَ: أَبِكَ جُنُونٌ؟ قَالَ: لا، قَالَ: فَهَلْ أُحْصِنْت؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ الله: اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ».
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ. سَمِعَ جَابِرَ بنَ عَبْدِ الله يَقُولُ: «كُنْت فِيمَنْ رَجَمَهُ، فَرَجَمْنَاهُ بِالمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ هَرَبَ، فَأَدْرَكْنَاهُ بِالحَرَّةِ، فَرَجَمْنَاهُ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس نے آپ کو آواز دی اور کہا: اے اللہ کے رسول ! میں نے زنا کیا ہے۔۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے اپنا منہ پھیر لیا۔ لیکن وہ گھوم کر ایک طرف سے آپ ﷺ کے سامنے آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول ! میں نے زنا کیا ہے۔ آپ نے (پھر) اس سے منہ پھیر لیا، حتی کہ اس نے آپ کے سامنے یہی کلمات چار مرتبہ دہرائے۔
جب اس نے اپنے خلاف چار گواہیاں دے دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور پوچھا: کیا تم پاگل ہو؟ اس نے عرض کیا نہیں۔ پھر پوچھا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور سنگ سار کردو۔
ابن شہاب کہتے ہیں: مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے خبر دی، جنھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جابر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: ”میں ان لوگو   ‎‎   ں میں شامل تھا، جنھوں نے اسے رجم کیا۔ ہم نے اسے عیدگاہ میں سنگ سار کیا۔ پس جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ گیا، ہم نے اسے میدان حَرۃ میں پایا اور سنگ سار کردیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أَتَى مَاعِزُ بنُ مَالِك الْأَسْلَمِيّ -رضي الله عنه- إلى النّبي -صلى الله عليه وسلم- وهو في المسجد، فناداه واعْتَرَفَ على نَفْسِهِ بالزِّنا، فأَعَرَضَ عنه النبي -صلى الله عليه وسلم-، لَعَلَّه يَرْجِع فَيتُوب فيما بَيْنَه وبَين اللهِ -تعالى-، ولكن قدْ جاء غاضِباً على نفسِهِ، جازِماً على تَطْهِيرِها بالحدِّ، فقَصدُه من تِلْقَاء وجههِ مَرَّةً أُخْرَى، فاعْتَرَفَ بالزِّنا أيضاً.
فأَعْرَضَ النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- أيْضاً، حتى شَهِدَ على نَفْسِه بالزِّنا أربع مرات، حِينَئِذٍ اسْتَثْبَتَ النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- عن حَالِه، فسَأَلَه: هلْ بِهِ مِنْ جُنُون؟ قالَ: لا، وسَأَلَ أَهْلَهُ عن عَقْلِه، فأَثْنوا عَلَيِه خَيْراً، ثُمَّ سَأَلَهُ: هلْ هُو مُحْصَنٌ أمْ بِكْر لا يجبُ عليه الرَّجْم؟ فأخْبَرَه أَنَّهُ مُحْصَن، وسَأَلَهُ: لَعَلَّهُ لَم يَأْتِ ما يُوجِبُ الحدَّ، مِنْ لَمْسٍ أَوْ تَقْبِيل، فصَرَّحَّ بحقيقةِ الزِّنا.
فلمَّا اسْتَثَبَتَ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ كُلِّ ذلك، وتَحَقَّقَ مِنْ وُجُوبِ إِقَامَةِ الحَدِّ، أَمَرَ أَصْحَابَه أَنْ يَذْهَبُوا بِهِ فَيَرْجُمُوه.
فَخَرَجُوا بِهِ إِلى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ -وهُو مُصَلَى الجَنَائِزِ- فَرَجَمُوه، فلمَّا أَحَسَّ بِحَرِّ الحِجَارَةِ، طَلَبَ النَّجَاةَ، ورَغِبَ في الفِرَارِ مِنَ الموتِ، لأن النفس البشرية لا تتحمل ذلك، فَهَرَبَ، فأَدْركُوه بالْحَرَّة، فأَجْهَزُوا عَلَيْه حتَى مَاتَ، -رحمه الله ورَضِي عنه-.
605;اعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت آپ ﷺ مسجد میں تشریف فرماتھے۔ انہوں نے آپ کو آواز دی اور زنا کے ارتکاب کا اعتراف کیا۔ آپ ﷺ نے ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا۔ شاید آپ کا مقصد یہ تھا کہ وہ واپس لوٹ جائیں اور ان کے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں مخفی اس امر سے توبہ کرلیں، لیکن وہ اپنے گناہ سے سخت نالاں تھے اور حد رجم کے ذریعے خود کو پاک و صاف کرانے کا پختہ عزم لیے حاضر ہوئے تھے۔ چنانچہ وہ دوبارہ آپ کے روبرو آئے اور پھر زنا کے ارتکاب کا اعتراف کیا۔
آپ ﷺ نے اس مرتبہ بھی ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا، تاآں کہ انھوں نے چار مرتبہ ارتکاب زنا کا اعتراف کیا۔ اس مرتبہ آپ ﷺ اس معاملے کی تحقیق کے لیے متوجہ ہوئے اور ان سے دریافت کیا کہ تمھیں پاگل پن کی بیماری تو نہیں؟ انھوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے ان کے گھر والوں سے ان کی عقل کے بارے میں دریافت فرمایا، تو انھوں نے ان کی عقل کو درست قرار دیا۔ پھر آپ ﷺ نے ماعز رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آیا وہ شادی شدہ ہیں یا غیر شادی شدہ کہ وہ رجم کے حق دار نہیں ہوتے؟ انھوں نے بتایا کہ وہ شادی شدہ ہیں۔ آپ ﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ شاید انھوں نے چھونے یا بوس و کنار کرنے جیسی حرکات کی ہوں کہ جس سے حد رجم واجب نہیں ہوتی، تاہم انھوں نے واقعتا زنا کے ارتکاب کی وضاحت کر دی۔
جب نبی ﷺ نے ہر اعتبار سے معاملے کی چھان بین فرمالی اور حد رجم کے نفاذ کا وجوب ثابت ہوگیا، تو اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ انھیں لے جاکر سنگ سار کردیں۔
چنانچہ صحابۂ کرام، انھیں لے کر بقیع غرقد کی جانب نکلے -یہ نماز جنازہ کی جگہ تھی- اور انھیں رجم کرنا شروع کیا۔ جب انھیں پتھروں کی شدت محسوس ہوئی، تو اس سے بچنا چاہا اور موت سے بھاگنے کی آرزو کی؛ کیوں کہ انسانی نفس اس سزا کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ وہ بھاگ پڑے۔ صحابہ نے انھیں مقام حرۃ (مدینے میں واقع کثرت سے پائے جانے والےسیاہ پتھروں کی سرزمین) پر آلیا اور مارنے لگے، یہاں تک کہ ان کی موت ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اور ان سے راضی ہو۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2933

 
 
Hadith   14   الحديث
الأهمية: أَجْرَى النَّبِيُّ -صلى الله عليه وسلم- مَا ضُمِّرَ مِنْ الْخَيْلِ: مِنْ الْحَفْيَاءِ إلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ


Tema:

نبی کریم ﷺ نے تیار کیے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک کرائی تھی۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- قال: «أَجْرَى النَّبِيُّ -صلى الله عليه وسلم- ما ضُمِّرَ مِن الْخَيْل: مِنْ الْحَفْيَاءِ إلَى ثَنِيَّةِ الوَداع، وَأَجْرَى ما لَمْ يُضَمَّرْ: مِنْ الثَّنِيَّةِ إلَى مسجد بني زُرَيْقٍ. قَال ابن عمر: وَكنْتُ فِيمَن أَجْرى. قَالَ سفيان: مِن الْحَفْيَاء إلى ثَنِيَّة الوداع: خمسة أمْيال، أو سِتَّة، ومن ثَنِيَّة الوداع إلى مسجد بني زُرَيْقٍ: مِيلٌ».

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے تیار کیے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک کرائی تھی اور جو گھوڑے تیار نہیں كیے گئے تھے، ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے مسجد زریق تک کرائی تھی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں بھی گھوڑ دوڑ میں شریک ہونے والوں میں تھا۔ سفیان نے بیان کیاکہ حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک پانچ یا چھےمیل کا فاصلہ ہے اور ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق صرف ایک میل کے فاصلے پر ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- مستعداً للجهاد، قائماً بأسبابه، عملا بقوله -تعالى-: {وَأعِدوا لهم مَا استطعتم مِنْ قوةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الخَيلِ ترْهِبُونَ بِهِ عَدُو الله وعدوكم} فكان يضمر الخيل ويُمَرِّنُ أصحابه على المسابقة عليها ليتعلموا ركوبها، والكرّ والفَرّ عليها، ويقدر لهم الغايات التي يبلغها جَرْيُهَا المُضَمَّرَة على حدة، وغير المضمَّرة على حدة، لتكون مُدَرَّبة مُعَلَّمة، وليكون الصحابة على استعداد للجهاد، ولذا فإنه أجرى المضمرة -وهي التي أُطعمت وجُوِّعت باعتدال حتى قويت- ما يقرب من ستة أميال، وغير المضمَّرة ميلًا، وكان عبد الله بن عمر -رضي الله عنه- أحد شباب الصحابة المشاركين في ذلك.
606;بی کریم ﷺ کا معمول تھا کہ آپ جہاد کے لیے ہمیشہ تیار رہتے، اس کے تمام اسباب و وسائل کو اختیار فرماتے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول ((وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّـهِ وَعَدُوَّكُمْ)) ”تم ان کے مقابلے کے لیے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زده رکھ سکو اور ان کے سوا اوروں کو بھی“ کی تعمیل میں گھوڑوں کو تیار فرماتے اور اپنے صحابہ کو گھوڑ سواری کے مقابلہ کی ٹریننگ دیتے؛ تاکہ وہ اس کی سواری میں مہارت حاصل کر لیں، وار اور پلٹ وار کے گر سیکھ جائیں، ان کے لیے دوڑ کی ابتداء اور انتہاء کی جگہ مقرر فرماتے، جہاں تک کے لیے تیار کیےگئے گھوڑوں کی دوڑ الگ اور عام گھوڑوں کی دوڑ الگ ہوتی؛ تاکہ گھوڑے ٹرینڈ ہو جائیں۔ نیز صحابۂ کرام جہاد کی تیاری کے لیے ہمیشہ چوکس رہیں، اس بات کا لحاظ کرتے ہوئے کہ تیار کیے گئے گھوڑوں یعنی ان گھوڑوں کی، جنھیں اعتدال و توازن کے ساتھ اس انداز میں کھلایا اور بھوکا رکھا گیا کہ وہ مضبوط ہوگئے، دوڑ لگ بھگ چھے میل اور غیر تیار کردہ گھوڑوں کی دوڑ ایک میل مقرر فرمائی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما، اس دوڑ میں حصہ لینے والے نوجوان صحابۂ کرام میں سے ایک تھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2934

 
 
Hadith   15   الحديث
الأهمية: إذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا


Tema:

جب تم میں سے کوئی کھانا کھا چکے، تو اپنے ہاتھ کو نہ پونچھے، یہاں تک کہ اس کو خود چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے۔

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ -رضي الله عنهما- أَنَّ النَّبِيَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ: ««إذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا، أَوْ يُلْعِقَهَا».

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھا چکے، تو اپنے ہاتھ کو نہ پونچھے، یہاں تک کہ اس کو خود چاٹ لے یا اسے کسی اور کو چٹا دے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أمر النَّبِي -صلى الله عليه وسلم- مَنْ أكل طَعَاماً ألا يَمْسَحَ يده أَو يغسلها حتى يَلْعَقَها أَو يُلْعِقَها، وقد جاءت علة هذا في بعض الروايات أَنَّهُ لا يَدْرِي في أيّ طَعامِه الْبَرَكَة، ومِنْ أَجْلِ ذَلِك أَمَرَ النَّبي -صلى الله عليه وسلم- بِلَعْقِ الأَصَابِعِ فَلَعَلَّ الْبَرَكَة فِيمَا عَلِقَ بِها مِنْ الطَّعَام.
606;بی ﷺ نے حکم دیا کہ جو شخص کھانا کھا چکے، وہ اپنے ہاتھ کو اس وقت تک نہ تو پونچھے اور نہ ہی دھوئے، جب تک اسے چاٹ نہ لے یا اسے چٹا نہ دے۔ بعض روایات میں اس حکم کی علت یہ آئی ہے کہ اس شخص کو نہیں معلوم کہ اس کے کس کھانے میں برکت ہے۔ اس وجہ سے نبی ﷺ نے انگلیوں کے چاٹنے کا حکم دیا کہ ہو سکتا ہے کہ برکت اس کھانے میں ہو، جو ان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2935

 
 
Hadith   16   الحديث
الأهمية: إذَا جَمَعَ الله -عَزَّ وَجَلَّ- الأَوَّلِينَ وَالآخَرِينَ: يُرْفَعُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ، فَيُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلانِ بْنِ فُلانٍ


Tema:

جب اللہ (روز قیامت) اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا تو ہر عہد شکن کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا، اور کہا جائے گا: یہ فلان بن فلاں کی عہد شکنی ہے

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- مرفوعاً: "إذا جمع الله -عز وجل- الأَوَّلِينَ والآخِرين: يرفع لكل غادر لِوَاءٌ، فيقال: هذه غَدْرَةُ فلان بن فلان".

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ (روز قیامت) اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا تو ہر عہد شکن کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا، اور کہا جائے گا: یہ فلان بن فلاں کی عہد شکنی (کا نشان) ہے۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا جمع الله الأولين والآخرين يوم القيامة جيء بكل غادر ومعه علامة غدرته، وهي اللواء المقترن به، فيفتضح بها بين الناس.
580;ب روز قیامت اللہ اگلے اور پچھلے سب لوگوں کو جمع کرے گا تو ہر عہد شکن کو لایا جائے گا جس کے ساتھ اس کی عہدشکنی کی نشانی کے طور پر ایک جھنڈا ہو گا، جس سے وہ لوگوں میں رسوا ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2936

 
 
Hadith   17   الحديث
الأهمية: أن عمر بن الخطاب اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي إمْلاصِ الْمَرْأَةِ


Tema:

عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے عورت کے املاص (اسقاط حمل) کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا۔

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ -رضي الله عنه- أَنَّهُ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي إمْلاصِ الْمَرْأَةِ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: «شَهِدْت النَّبِيَّ -صلى الله عليه وسلم- قَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ- عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ- فَقَالَ: ائتني بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَك، فَشَهِدَ مَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ».

عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے عورت کے املاص (اسقاط حمل) کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا (کہ اس کی دیت کیا ہو گی؟)۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس کوئی ایسا شخص لاؤ جو تمہارے ساتھ اس کی گواہی دے۔ چنانچہ ان کے ساتھ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے گواہی دی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
وضعَت امرأة ولدها ميتاً قبلَ أوان الولادة على إثر جنايةٍ عليها.
وكان من عادَة الخليفة العادل عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- أن يستَشير أصحابه وعلماءَهم في أموره وقضاياه فحين أسقطت هذه المرأة جنيناً ميتاً غيرَ تامٍّ، أشكل عليه الحكم في ديته، فاستشار الصحابة -رضي الله عنهم- في ذلك.
فأخبرَه المغيرةُ بن شعبة أنه شهِد النبي -صلى الله عليه وسلم- قضَى بدية الجنين "بغرَّة" عبد أو أمة.
فأراد عمر التَّثبُتَ من هذا الحكم، الذي سيكون تشريعاً عاماً إلى يوم القيامة.
فأكَّد على المغيرة أن يأتي بمن يشهد على صدق قوله وصحة نقله، فشهد محمد بن مسلمة الأنصاري على صدق ما قال، -رضي الله عنهم أجمعين-.
575;یک عورت نے اپنے اوپر ہونے والی زیادتی کے نتیجے میں اپنے بچے کو مردہ حالت میں قبل از وقت جن دیا۔
خلیفۂ عادل عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ وہ اپنے معاملات اور قضایا میں اپنے اصحاب اور ان میں سے اہلِ علم لوگوں سے مشورہ لیتے تھے۔ جب اس عورت نے ایک مردہ اور ناتمام بچے کو جن دیا تو اس کی دیت کے حکم کے بارے میں انہیں اشکال ہوا۔ لھٰذا انہوں نے اس مسئلے کے بارے میں صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا۔
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ نے جنین کی دیت کے بارے میں ایک غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا۔
عمر رضی اللہ عنہ نے اس حکم کی توثیق وتصدیق کرنا چاہا جو قیامت تک کے لیے ایک عام قانون بننے والا تھا۔
لھٰذا انہوں نے مغیرہ رضی اللہ عنہ پر زور دیا کہ وہ کوئی ایسا شخص پیش کریں جو ان کے قول کی سچائی اور ان کی نقل کردہ بات کی صحت کی گواہی دے۔ چنانچہ محمد بن مسلمہ انصاری نے ان کی بات کی سچائی کی گواہی دی۔ رضی اللہ عنہم اجمعین۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2937

 
 
Hadith   18   الحديث
الأهمية: اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُولَ الله فِي نَذرٍ كَانَ عَلَى أُمهِ، تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، قَالَ رَسُولُ الله-صلى الله عليه وسلم-: فَاقْضِهِ عَنْها


Tema:

سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ نے مانی تھی اور اس کے پورا کرنے سے پہلے ہی وہ وفات پا گئی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم ان کی طرف سے اسے پورا کرو۔

عن عَبْدُ الله بْنُ عَبَّاسٍ -رضي الله عنه- قال: «استَفْتَى سعد بن عُبَادَةَ رسول الله في نَذْرٍ كان على أمِّه، تُوُفِّيَتْ قبل أَنْ تقضيَهُ، قال رسول الله-صلى الله عليه وسلم-: فاقْضِهِ عنها».

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ نے مانی تھی اور اس کے پورا کرنے سے پہلے ہی وہ وفات پا گئی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم ان کی طرف سے اسے پورا کرو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تُوفِيَت أُمُّ سَعْدٍ ولَمْ تَقْضِ نَذْراً عَلَيْهَا، فسأل ابْنُها سَعْدُ بْنُ عُبَادَة النَّبِيَّ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَقْضِيَهُ عَنْهَا، فأجاز له ذلك، وقال: (اقضه عنها).
587;عد رضی اللہ عنہ کی ماں وفات پا گئیں اور اپنے ذمہ واجب ایک نذر کو پورا نہ کر سکیں۔ ان کے بیٹے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے اپنی والدہ کی طرف سے اس نذر کو پوری کرنے کے بارے میں سوال کیا، تو آپ ﷺ نے انہیں اس کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ: اپنی والدہ کی طرف سے اسے پوری کرو۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2938

 
 
Hadith   19   الحديث
الأهمية: أَتَى النَّبِيَّ -صلى الله عليه وسلم- عَيْنٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ، وَهُوَ فِي سَفَرِه


Tema:

ایک سفر میں مشرکین کا کوئی جاسوس نبی کریم ﷺ کے پاس آیا۔

عن سلمة بن الأكوع -رضي الله عنه- قال: «أَتَى النَّبِيَّ -صلى الله عليه وسلم- عَيْنٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ، وَهُوَ فِي سَفَرِهِ، فَجَلَسَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ يَتَحَدَّثُ، ثُمَّ انْفَتَلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صلى الله عليه وسلم-: اُطْلُبُوهُ وَاقْتُلُوهُ فَقَتَلْتُهُ، فَنَفَّلَنِي سَلَبَهُ».
فِي رِوَايَةٍ «فَقَالَ: مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟ فَقَالُوا: ابْنُ الأَكْوَعِ فَقَالَ: لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ».

سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سفر میں مشرکین کا کوئی جاسوس نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور صحابہ کے ساتھ بیٹھ کر بات کرتا رہا، پھر خاموشی سے کھسک گیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے ڈھونڈو اور قتل کر ڈالو“۔ میں نے اسے قتل کر دیا، تو آپ ﷺ نے اس کا سامان مجھے بطور نفل (انعام) عنایت فرمایا۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے پوچھا: ”اس کو کس نے قتل کیا ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ ابن اکوع نے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا سارا سامان ابن اکوع کا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث في بيان حكم الإسلام فيمن يتجسس على المسلمين من الكفار الحربيين؛ فقد أخبر سلمة بن الأكوع -رضي الله عنه-، قال: "أتى النبي -صلى الله عليه وسلم- عين من المشركين" العين الجاسوس سمي به؛ لأن عمله بالعين، أو لشدة اهتمامه بالرؤية واستغراقه فيها كأن جميع بدنه صار عينا. "وهو": أي والحال أن النبي -صلى الله عليه وسلم- "في سفر، فجلس أي: الجاسوس، عند أصحابه يتحدث، ثم انفتل أي: انصرف، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: اطلبوه واقتلوه فقتلته، أي: فطلبته فوجدته فقتلته، فنَفَّلَنِي أي: أعطاني نفلًا، وهو ما يخص به الرجل من الغنيمة، ويزاد على سهمه، "سَلَبه": أي: ما كان عليه من الثياب والسلاح سمي به؛ لأنه يسلب عنه، ويدخل في السلب: المركب وما عليه من السرج والآلة، وما معه على الدابة من مال، وما على وسطه من ذهب وفضة.
575;س حدیث میں ایسے کافر حربی شخص کے متعلق اسلام کا قانون بتایا جا رہا ہے، جو مسلمانوں کی جاسوسی کرتا ہو۔ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے پاس مشرکین کا ایک جاسوس آیا۔ "العین" یعنی جاسوس۔ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا کہ وہ آنکھ ہی سے کام کرتا ہے یا دیکھنے میں اس قدر منہمک رہتا ہے کہ سراپا آنکھ بن جاتا ہے۔
اس وقت آپﷺ سفر پر تھے۔ چنانچہ جاسوس صحابہ کے درمیان بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔ پھر وہاں سے کھسک گیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس کو تلاش کرو اور قتل کر دو۔ چنانچہ میں نے اسے تلاش کر کے پکڑ لیا اور قتل کر دیا۔ آپ نے مجھے اس کا سامان بطور نفل دے دیا۔ نفل وہ غنیمت کا وہ مال ہے، جو کسی مجاہد کو اس کے حصے سے زیادہ دیا جائے۔ "سلب" یعنی اس کے کپڑے اور ہتھیار وغیرہ۔ انھیں "سلب" اس لیے کہا جاتا ہے؛ کیوں کہ انھیں چھینا جاتا ہے۔ "سلب" میں سواری، اس کا زین، ہتھیار، چوپایے پر موجود مال اور ان کے ساتھ موجود سونا چاندی وغیرہ سب شامل ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2939

 
 
Hadith   20   الحديث
الأهمية: اقْتَتَلَتْ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا


Tema:

قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں جھگڑا ہوا، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا تو وہ اور جو اس کے پیٹ میں بچہ تھا ہلاک ہوگئے

عن أبي هُرَيْرة -رضي الله عنه- قال: «اقْتَتَلَتْ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فرمَت إحداهما الأخرى بحجر، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا إلَى النَّبِيِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَضَى رسول الله: أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ- عَبْدٌ، أَوْ وَلِيدَةٌ- وَقَضَى بِدِيَةِ المرأة على عَاقِلَتِهَا، وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ، فَقَامَ حَمَلُ بنُ النَّابِغَةِ الهُذَلِيُّ، فَقَالَ: يا رسول الله، كيف أغرم من لا شَرِبَ وَلا أَكَلَ، وَلا نَطَقَ وَلا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟ فقال رَسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إنما هذا من إخوان الكُهَّان» من أجْل سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں لڑ پڑیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا تو وہ اور جو اس کے پیٹ میں (بچہ) تھا ہلاک ہوگئے۔ لوگ مقدمہ لے کر نبی ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ: جنین کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے، اور آپ نے فیصلہ کیا کہ عورت کی دیت اس (قاتلہ) کے عاقلہ (یعنی اقارب) کے ذمے ہے ،اور دیت کا وارث اس عورت کی اولاد اور ان ورثاء کو بنایا جو ان کے ساتھ تھے۔ حمل بن نابغہ ہذلی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کی دیت کیسے دی جائے جس نے ابھی نہ پیا نہ کھایا نہ بولا اور نہ ہی چیخا ،اس جیسے کو تو رائیگاں کیا جانا چاہئے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تو کاہنوں کے بھائیوں میں سے ہے۔ (آپﷺ نے یہ اس لیے فرمایا) کہ انہوں نے کاہنوں جیسا مسجع کلام کیا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اختصَمت امرأتان ضرتان من قبيلة هُذَيْل، فرمت إحداهما الأخرى بحجرٍ صغير، لا يَقتل غالباً، ولكنَّه قتلها وقتل جنينَها الذي في بطنها.
فقضى النبي -صلى الله عليه وسلم- أن دية الجنين، عبداً أو أمة، سواءً أكان الجنينُ ذكراً أم أنثى، وتكون ديته على القاتلة.
وقضى للمرأة المقتولة بالدية، لكون قتلها شبه عمد، وتكون على عاقلة المرأة، لأن مبناها على التناصُر والتعادل، ولكون القتل غير عمد.
وبما أن الدية ميراث بعد المقتولة فقد أخذها ولدها ومن معهم من الورثة، وليس للعاقلة منه شيء.
فقال حَمَلُ بنُ النابغة -وهو والد القاتلة-: يا رسول الله، كيف نغرمُ مَن سقطَ ميتاً، فلم يأكل، ولم يشرب، ولم ينطق، حتى تُعرَفَ بذلك حياته؟ يقول ذلك بأسلوبٍ خطابي مسجُوع.
فكرِه النبي -صلى الله عليه وسلم- مقالَته، لما فيها من ردِّ الأحكام الشرعية بهذه الأسجاع المتكلفة المشابهة لأسجاع الكهان الذين يأكلون بها أموال الناس بالباطل.
602;بیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں جو کہ آپس میں سوکن تھیں جھگڑا ہوا ،ان میں سے ایک نے دوسری کو ایک چھوٹا پتھر پھینک کر مارا جس سے عام طور پر آدمی مرتا نہیں، لیکن اس نے اسے اس کے ذریعہ قتل کر ڈالا اور اس کے پیٹ میں جو بچہ تھا اسے بھی مار ڈالا.
تو نبی ﷺ نے فیصلہ کیا: جنین کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے قطع نظر اس کے کہ پیٹ میں جو بچہ ہے وہ لڑکا ہے یا لڑکی اور اس کی دیت قتل کرنے والی عورت پر ہوگی۔ اور ماری گئی عورت کی دیت کا فیصلہ (اور یہ فیصلہ اس لیے دیا کیوں کہ اس قتل کا تعلق جان بوجھ کر قتل کرنے کے مشابہ تھا) دیا کہ یہ اس کے عصبہ و خاندان (اقارب) پر ہوگی کیوں کہ اس کی بنیاد آپسی تعاون اور انصاف پر تھا اور چونکہ یہ قتل جان بوجھ کر نہیں ہوا تھا۔ اور چونکہ مقتولہ کے بعد دیت اس مقتولہ کی میراث مانی جائے گی اس لئے اس کا وارث مقتولہ کی اولاد ہوگی اور اس کے ساتھ کےجو ورثاء ہونگے وہ لیں گے اور اس میں سے کچھ بھی عصبہ کو نہیں ملے گا۔
حمل بن نابغہ ہذلی نے کہا: -جو کہ قاتلہ کے والد تھے- اے للہ کے رسول! میں ایسی جان کی دیت کیوں ادا کروں جو مردہ پیدا ہوا اس نے نہ کھایا نہ پیا اور نہ ہی بولا کہ اس کا زندہ ہونا معلوم ہو سکے؟اس کو انہوں نےخطیبانہ اسلوب میں مسجع انداز سے کہا۔
رسول اللہ ﷺ کو ان کا اسلوب ناگوار لگا کیوں کہ انہوں نے شریعت کے احکام کو پر تکلف اور مسجع پیرایہ میں رد کیا جو کہ لوگوں کا مال باطل طریقہ سے کھانے والے کاہنوں کے انداز کے مشابہ تھا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2940

 
 
Hadith   21   الحديث
الأهمية: أَلا أُنَبِّئكُمْ بِأَكْبَرِ الكَبَائِرِ


Tema:

کیا میں تمھیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟

عن أبي  بَكْرَةَ- رضي الله عنه - عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: «أَلا أُنَبِّئُكم بِأَكْبَرِ الْكَبَائِر؟»- ثَلاثا- قُلْنَا: بَلى يا رسول الله، قَالَ: «الإِشْرَاكُ بِالله وَعُقُوقُ الوالدين، وكان مُتَّكِئاً فَجَلس، وَقَال: ألا وَقَوْلُ الزور، وَشهَادَةُ الزُّور»، فَما زال يُكَرِّرُها حتى قُلنَا: لَيْتَه سَكَت.

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمھیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ تین مرتبہ آپ ﷺ نے یہ فرمایا۔ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے اے اللہ کے رسول! تو آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ نبی کریم ﷺ اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ پھر آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا :آگاہ ہو جاؤ! جھوٹی بات کہنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ نبی کریم ﷺ اسے مسلسل دہراتے رہے، حتی کہ ہم اپنے جی میں کہنے لگے کہ کاش! آپ ﷺ خاموش ہوجائیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال لأصحابه: ألا أنبئكم أي أخبركم بأكبر الكبائر فذكر هذه الثلاث التي هي الإشراك بالله، وهو اعتداء على مقام الألوهية، وأخذٌ لحقه سبحانه وتعالى، وإعطاؤه لمن لا يستحقه من المخلوقين العاجزين، وعقوق الوالدين ذنب فظيع؛ لأنه مكافأة للإحسان بالإساءة لأقرب الناس، وشهادة الزور عامَّة لكل قول مُزوَّر ومكذوب يراد به انتقاص مَن وقع عليه بأخذ من ماله أو اعتداء على عرضه أو نحو ذلك.
606;بی کریم ﷺ نے (استفساری انداز میں) اپنے صحابہ سے فرمایا کہ کیا میں تمھیں سب سے بڑے گناہ کی بابت خبر نہ دوں؟ پھر آپ ﷺ نے ان تین کبیرہ گناہوں کا ذکر فرمایا؛ ایک یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے، جو در حقیقت اللہ تعالیٰ کی الوہیت کے مقام و مرتبے کی پامالی اور اس کے حق کو غیر مستحق، عاجز و بے بس مخلوق کے حوالے کرنا ہے۔ دوسرا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ والدین کی نافرمانی کی جائے، جو انتہائی قبیح گناہ ہے؛ کیوں کہ اس میں اپنے قریب ترین رشتے دار کے احسان کا بدترین بدلے ہے۔ تیسرا کبیرہ گناہ جھوٹی گواہی دینا ہے، جس میں ہر وہ دھوکہ بازی و جھوٹ شامل ہے، جس کے ذریعے کسی مقدمے میں پھنسے ہوئے شخص کے مال کو ہڑپ لینے یا اس کی عزت و آبرو پر دست درازی کرنے یا اس طرح کی دیگر حق تلفیاں مقصود ہوتی ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2941

 
 
Hadith   22   الحديث
الأهمية: أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا مَرْضُوضاً بَيْنَ حَجَرَيْنِ


Tema:

ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا تھا۔

عن أنَسُ بنُ مالك -رضي الله عنه- قال: «أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا مَرْضُوضاً بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ من فَعَلَ هَذَا بِك: فُلانٌ، فُلانٌ؟ حَتَّى ذُكِرَ يَهُودِيٌّ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْترف، فَأَمَرَ النَّبِي -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُرَضَّ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ».
وَلِمُسْلِمٍ وَالنَّسَائِيَّ «أَنَّ يَهُودِيّاً قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ، فَأَقَادَهُ رَسُولُ الله».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا تھا۔ اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے، فلاں نے؟ یہاں تک کہ جب ایک یہودی کا نام آیا، تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا (کہ ہاں)، یہودی پکڑا گیا اور اس نے جرم کا اقرار کر لیا۔ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا جائے۔
صحیح مسلم اور سنن نسائی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ایک یہودی نے چاندی کے زیورات کی لالج میں ایک لڑکی کو قتل کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس یہودی کو قصاص میں قتل کیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
وُجِد على عهد النبي -صلى الله عليه وسلم- جاريةٌ قد دُقَّ رأسها بين حَجَرين و بها بقية من حياة، فسألوها عن قاتلها يُعدِّدون عليها من يظنون أنهم قتلوها، حتى أتَوا على اسم يهودي فأومأت برأسها أي نعم، هو الذي رضَّ رأسها، فصار متهماً بقتلها، فأخذوه وقرروه حتى اعترف بقتلها، من أجل حُلي فضة عليها فأمر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يُجازَى بمثل ما فعل، فرُضَّ رأسه بين حجرين.
606;بی ﷺ کے زمانے میں ایک لڑکی اس حال میں پائی گئی کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا تھا اور اس میں زندگی کی کچھ رمق باقی تھی۔ لوگوں نے اس کے قاتل کے بارے میں تحقیق کرنے لیے، اس کے سامنے ان افراد کے نام گنانے شروع کر دیے، جن کے بارے میں اس بات کا گمان تھا کہ وہ اس کو قتل کرسکتے ہیں، تا آں کہ ایک یہودی کا نام لینے پر اس لڑکی نے اپنے سر سے مثبت اشارہ دیا کہ ہاں! اسی شخص نے اس کا سر کچلا ہے۔ چنانچہ وہ اس کے قتل کا ملزم قرار پاگیا۔ لوگوں نے اس کو پکڑ لیا اور اس سے جرم کا اقرار کروایا، تاآں کہ اس نے اس لڑکی کو، اس کے چاندی کے زیورات کو حاصل کرنے کی غرض سے قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔ لہٰذا نبی ﷺ نے ”جیسے کو تیسا“ کے اصول کے مطابق، اس کو سزا دیتے ہوئے اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دینے کا حکم دیا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2943

 
 
Hadith   23   الحديث
الأهمية: أَمَرَنَا رَسُولُ الله -صلى الله عليه وسلم-بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا تھا اور سات چیزوں سے ہم کو منع فرمایا تھا۔

عن البراء بن عازِب -رضي الله عنهما- قال: «أَمرَنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم-بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عن سَبْعٍ: أَمَرْنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجِنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ (أَوْ الْمُقْسِمِ)، وَنَصْرِ الْمَظْلُوم، وَإِجابة الدَّاعي، وَإِفْشاءِ السَّلامِ. وَنَهَانَا عن خَوَاتِيمَ- أَو عن تَخَتُّمٍ- بِالذَّهَب، وَعَنْ الشُّرب بِالْفِضَّة، وعن المَيَاثِر، وعن الْقَسِّيِّ، وَعن لُبْسِ الحرِيرِ، وَالإِسْتَبْرَقِ، وَالدِّيباج».

براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا تھا اور سات چیزوں سے منع فرمایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیمار کی عیادت کرنے، جنازے کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کے جواب میں ”يرحمك الله“ کہنے، قسم (یا قسم کھانے والے کی قسم) كو پورا کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنے اور سلام پھیلانے کا حکم فرمایا تھا اور آپ صﷺ نے ہمیں سونے کی انگوٹھیوں سے-یاسونے کیانگوٹھیاں پہننے سے-، چاندی کے برتن میں پینے سے، 'میثر' (کجاوے کے اوپر کے ریشمی گدے) اور 'قسی' (قس نامی مصری بستی کی طرف منسوب ریشمی کپڑے) کے استعمال کرنے سے اور ریشم، 'استبرق' (دیباج سے زیادہ دبیز اور موٹن ریشمی کپڑا) اور 'دیباج' (باریک ریشمی کپڑا) پہننے سے منع فرمایا تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بُعِثَ النبي -صلى الله عليه وسلم- ليُتم مكارم الأخلاق، ولذا فإنه يحث على كل خلق وعمل كريمين، وينهى عن كل قبيح، ومنْ ذلك ما في هذا الحديث من الأشياء التي أمر بها وهي: عيادة المريض التي فيها قيام بحق المسلم، وتَرويح عنه، ودُعاء له، واتباع الجنازة، لما في ذلك من الأجر للتابع والدعاء للمتبوع، والسلام على أهل المقابر والعِظة والاعتبار، وتشميت العاطس إذا حمد الله فيقال له: يرحمك الله. وإبرار قسم المقسم إذا دعاك لشيء وليس عليك ضرر فتبر قسمه، لئلا تُحوجه إلى التكفير عن يمينه، ولتجيب دعوته وتجبر خاطِرَهُ، ونصر المظلوم من ظالمه لما فيه من رد الظلم، ودفع المعتدي وكفه عن الشر، والنهي عن المنكر، وإجابة من دعاك، لأنَّ في ذلك تقريبا بين القلوب وتصفية النفوس، وفي الامتناع الوحشة والتنافر.
فإن كانت الدعوة لزواج فالإجابة واجبة، وإن كانت لغيره فمستحبة، و إفشاء السلام، وهو إعلانه وإظهاره لكل أحد، وهو أداء للسنة، ودعاء للمسلمين من بعضهم لبعض، وسبب لجلب المودة.
أما الأشياء التي نهى عنها في هذا الحديث فالتختم بخواتم الذهب للرجال، لما فيه من التأنث والميوعة، وانتفاء الرجولة، وعن الشرب بآنية الفضة، لما فيه من السَّرَفِ والتكبر، وإذا منع الشرب مع الحاجة إليه فسائر الاستعمالات أولى بالمنع والتحريم، وعن المياثر، والقسي، والحرير، والديباج، والإستبرق، وهي من أنواع الحرير على الرجال؛ فإنها تدعو إلى اللين والترف اللذين هما سبب العطالة والدَّعَةَ، والرجل يطلب منه النشاط والصلابة والفتوة، ليكون دائماً مستعداً للقيام بواجب الدفاع عن دينه وحرمه ووطنه.
606;بی کریم ﷺ کو دنیا میں اس مقصد سے مبعوث کیا گیا کہ آپ اعلی اخلاق کی تکمیل فرمادیں؛ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ ہر طرح کے اعلی و عظیم اخلاق و اعمال کی ترغیب فرماتےاور ہر قبیح و ناشائستہ اخلاق و اعمال سے منع فرمایا کرتے۔ آپ ﷺ کے انھی اوامر میں سے کچھ اشیا کا ذکر اس حدیث میں ہے۔ ان میں سے پہلا یہ ہے کہ مریض کی عیادت کی جائے۔ جو درحقیقت ایک اسلامی حق کی ادائیگی، اسے قدرے راحت رسانی اور اس کے حق میں دعاسے عبارت ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ جنازہ کے پیچھے چلا جائے؛ کیوں کہ یہ جنازے کے پیچھے چلنے والےکے لیے اجرو ثواب، میت کے حق میں دعا، اہل قبور کے حق میں سلام، وعظ و نصیحت اور عبرت و سبق آموزی وغیرہ پر مشتمل ہے۔ تیسرا یہ ہے کہ چھینکنے والے کے "الحمدللہ" کہنے کے جواب میں "یرحمک اللہ" کہا جائے۔ چوتھا ہے قسم کھانے والے کی قسم پوری کرنا۔ جب وہ تمھیں (قسم دے کر) کسی کام کے لیے بلائے اوراس کی قسم پوری کرنے میں تمھیں کسی طرح کا نقصان نہ ہو، تو اس کی قسم کو پوری کردو؛ تاکہ وہ قسم کا کفارہ ادا کرنے پر مجبور نہ ہوجائے۔ اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اس کی دل جمعی کا سامان کردو۔ پانچواں یہ ہے کہ مظلوم کی ظالم کے خلاف مدد کی جائے؛ کیوں کہ اس عمل میں ظلم کا تدارک، ظالم کو اس کی دست درازیوں سے روکنا، اس کو ایذا رسانی سے باز رکھنا، منکر و برائی سے منع کرنا، جیسے امور شامل ہیں۔ چھٹا امر ہے دعوت دینے والے کی دعوت پر لبیک کہنا؛ کیوں کہ دعوت قبول کرنا در اصل دلوں میں قربت پیدا کرنے اور شکوک وشبہات سے پاک رکھنے کا ایک ذریعہ ہے اور اس سے باز رہنے کی صورت میں احساس بے گانگی اور باہمی نفرت انگیزیاں پروان چڑھتی ہیں۔ دعوت اگر شادی کی ہو، تو اس کا قبول کرنا واجب ہے اور دیگر دعوتوں کا قبول کرنا مستحب ہے۔ ساتواں امر یہ ہے کہ سلام کو عام کیا جائے۔ یہ دراصل ہر کس و ناکس کے لیے سلامتی کا اعلان و اظہار، سنت کی تعمیل، مسلمانوں کی ایک دوسرے کے حق میں سلامتی کی دعا اور محبت و یگانگت پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
اس حدیث میں جن چیزوں سے منع کیا گيا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ مرد حضرات سونے کی انگوٹھیا ں نہ پہنیں؛ کیوں کہ اس سے نسوانیت و زنانہ پن کی طرف میلان اور مردانگی کی نفی ہوتی ہے۔ دوسری یہ ہے کہ چاندی کے برتن میں نہ پیا جائے؛ کیوں کہ اس میں مال کی تباہی اور تکبر کا اظہار ہےاور جب ان برتنوں میں پینے سے روک دیا گیا، جو انسانی زندگی کی اہم ضرورت ہے، تو مابقی دیگر تمام استعمالات میں یہ ممانعت اور حرمت بدرجۂ اولی ثابت ہوتی ہے۔ تیسری یہ ہے کہ میاثر (زین یا کجاوہ کے اوپر ریشم کا گدا)، قسی (مصر کے قس نامی ایک دیہات سے منسوب اوراطراف مصر میں تیار کیا جانے والا ایک کپڑا، جس میں ریشم کے دھاگے بھی استعمال ہوتے تھے)، حریر (ریشمی لباس)، دیباج (باریک ریشمی کپڑا) اور استبرق (دیباج سے زیادہ دبیز اور موٹا ریشمی کپڑا) جیسے ریشمی لباس کی تمام انواع کو مردوں کے لیے حرام قرار دیا گیا؛ کیوں کہ ملبوسات کی یہ تمام انواع، انسانی مزاج میں سستی اور عیش پرستی پیدا کرتی ہیں اور یہ دونوں چیزیں مزاج میں جمود و تعطل اور بے راہ روی کا سبب بنتی ہیں، جب کہ مردوں کی مردانگی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ چاق و چوبند رہیں اور جفاکشی اور اولو العزمی کی صفات کے حامل ہوں؛ تاکہ اپنے دین، اپنے اہل و عیال اور اپنے وطن کے دفاعی فرائض کی انجام دہی میں ہمیشہ کمر بستہ رہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2944

 
 
Hadith   24   الحديث
الأهمية: إنَّ الله يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ


Tema:

یقیناً اللہ تعالیٰ تمھیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ تم اپنے آباو اجداد کی قسم کھاؤ۔

عن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- قال: قَالَ رَسُولُ الله-صلى الله عليه وسلم-: «إنَّ الله يَنْهَاكُمْ أَن تَحْلِفُوا بِآبَائِكم».
وَلمسلم: «فَمَن كان حَالِفا فَلْيَحْلِف بِالله أو لِيَصْمُت».
وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ عُمَرُ -رضي الله عنه- قال: «فَوَالله ما حَلَفْتُ بِهَا منذ سَمِعْت رَسُولَ الله يَنْهَى عَنْهَا، ذَاكراً وَلا آثِراً».

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یقینا اللہ تعالیٰ تمھیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ تم اپنے آباو اجداد کی قسم کھاؤ“۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:”پس اگر کسی کو قسم ہی کھانی ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ کی قسم کھائے، ورنہ چپ رہے“۔
ایک اور روایت میں عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:”اللہ کی قسم! نبی کریم ﷺ سے ممانعت سننے کے بعد پھر میں نے ان کی (آبا و اجداد کی) کبھی قسم نہیں کھائی؛ نہ اپنی طرف سے اور نہ کسی دوسرے کی جانب سے (بطور نقل)۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سمِع رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- عمرَ -رضي الله عنه-  وهو يَحْلِفُ بِأَبيه فَنَادَاهم النَّبي -صلى الله عليه وسلم- رافِعَاً صَوْتَه:«إنَّ الله يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ» فَامْتَثَلَ الصَّحَابَةُ أَمْرَ رَسُولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَصْبحُوا لا يَحلِفُون إلا بالله، حتَّى ذكر عُمَرُ أنَّه لم يحلِف بغير الله منذُ سَمع رسولَ الله- صلى الله عليه وسلم – ينهى عن ذلك، لا مُتعمِّداً ولا ناقِلاً لحلِف غيرِه بغيرِ الله .
585;سول اللہ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی قسم کھاتے سنا، تو انھیں بلند آواز سے پکارتے ہوئے فرمایا: ”یقینا اللہ تعالیٰ تمھیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ تم اپنے آباو اجداد کی قسم کھاؤ“۔ چنانچہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم نے رسول اللہ ﷺ کے اس حکم پر من و عن عمل کیا اور وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی قسم کھانے لگے، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی جانب سے اس بات کی ممانعت سننے کے بعد دوبارہ کبھی غیر اللہ کی قسم نہ کھائی، نہ ہی جان بوجھ کر اور نہ کسی اور کی جانب سے غیر اللہ کے قسم کو نقل کرتے ہوئے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2945

 
 
Hadith   25   الحديث
الأهمية: أَنَّ النَّبِيَّ -صلى الله عليه وسلم- أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ، فَجَلَدَهُ بِجَرِيدَةٍ نَحوَ أَرْبَعِينَ


Tema:

نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص کوحاضر کیا گیا، جس نے شراب پی رکھی تھی، آپ ﷺ نے اسے کھجور کی ٹہنی سے لگ بھگ چالیس کوڑے مارے۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- «أَنَ النّبي -صلى الله عليه وسلم- أُتِي بِرَجُل قَدْ شَرِب الْخَمْرَ، فَجَلَدَهُ بِجَريدة نحو أربعين»

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک شخص کو حاضر کیا گیا، جس نے شراب پی رکھی تھی، آپ ﷺ نے اسے کھجور کی ٹہنی سے لگ بھگ چالیس کوڑے مارے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
شرب رجل الخمر على عهد النبي -صلى الله عليه وسلم-، فجلده بجريدة من سَعَفِ النخل نحو أربعين جلدة، وجلد أبو بكر -رضي الله عنه- شارب خمر في خلافته مثل جلد النبي -صلى الله عليه وسلم-، فلما جاءت خلافة عمر، وكثرت الفتوحات، واختلط المسلمون بغيرهم، كَثُرَ شربهم لها، فاستشار علماء الصحابة في الحد الذي يطبقه عليهم ليردعهم كعادته في الأمور الهامة، والمسائل الاجتهادية، لأن الناس زادوا في عهده من شرب الخمر، فقال عبد الرحمن بن عوف: اجعله مثل أخف الحدود، ثمانين. وهو حد القاذف، فجعله عمر ثمانين جلدة، فهذه الزيادة تعزير راجع للإمام.
606;بی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے شراب پی، تو آپ ﷺ نے اسے کھجور کی ایک ٹہنی سے لگ بھگ چالیس کوڑے لگوائے۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے دور خلافت میں نبی کریم ﷺ کی طرح شرابی کوچالیس کوڑے لگوائے۔ لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور آیا، جنگی فتوحات کی بہتات ہوئی اور مسلمانوں کا دیگر قوموں کے ساتھ ملنا جلنا شروع ہوا، تو لوگ بکثرت شراب پینے لگے۔ لہٰذا انھوں نے اہل علم صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین سے مشورہ طلب کیا کہ شرابیوں پر کون سی حد نافذ کی جاۓ کہ ان کے لیے سخت تنبیہ کا باعث ہو، جیسا کہ اس جیسے دیگر اہم امور اور اجتہادی مسائل میں عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ کار ہوا کرتا تھا۔ کیوںکہ ان کے دور خلافت میں شراب پینے والے افراد کی بہتات ہوگئی تھی، چنانچہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ مشورہ دیا کہ :حدود میں سب سے ہلکی حد اسی (80) کوڑے مقرر کردیں، جو بہتان تراشی کرنے والے کی حد ہے۔ (انہی کے مشورہ کے مطابق) عمر رضی اللہ عنہ نے اس حد کو اسی کوڑوں میں تبدیل فرمادیا۔ یہ اضافہ در اصل تعزیر ہے اور امام کے اختیار کی چیز ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2946

 
 
Hadith   26   الحديث
الأهمية: أَنَّ النَّبِيَّ -صلى الله عليه وسلم- قَطَعَ فِي مِجَنٍّ قيمته ثلاثة دراهم


Tema:

نبی کریم ﷺ نے ایک ڈھال (کی چوری) پر ہاتھ کاٹا تھا، جس کی قیمت تین درہم تھی۔

عبدُ الله بنُ عمر رضي اللهُ عنهما «أَنَّ النَّبِي -صلى الله عليه وسلم- قَطَع فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ -وَفِي لَفْظٍ: ثَمَنُهُ- ثَلاثَةُ دَرَاهِمَ».

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺنے ایک ڈھال (کی چوری) پر ہاتھ کاٹا تھا، جس کی قیمت تین درہم تھی۔ بعض روایتوں میں"قيمته" کی جگہ"ثمنه" کا لفظ آیا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أمَّنَ الله -عز وجل- دماء الناس وأعراضهم وأموالهم، بكل ما يكفل ردع المفسدين المعتدين؛ لذلك جعل عقوبة السارق (الذي أخذ المال من حرزه على وجه الاختفاء) قطع العضو الذي تناول به المال المسروق، ليكفر القطع ذنبه وليرتدع هو وغيره عن الطرق الدنيئة، وينصرفوا إلى  اكتساب المال من الطرق الشرعية الكريمة، فيكثر العمل، وتستخرج الثمار فيعمر الكون وتعز النفوس.
ومن حكمته تعالى أن جعل النصاب الذي تقطع فيه اليد، ما يعادل ثلاثة دراهم أي ربع دينار من الذهب، حماية للأموال، وصيانة للحياة، ليستتب الأمن، وتطمئن النفوس، وينشر الناس أموالهم للكسب والاستثمار.
ويعادل ذلك جراما وربع الربع من الجرامات؛ لأن الدينار 4.25 جم.
575;للہ عز و جل نے لوگوں کی جان، آبرو اور مال کو ان تمام ذرائع سے تحفظ فراہم کیا ہے، جو فسادی اور سرکش افراد کو(ان کی شر انگیزیوں سے) باز رکھنے کی ضمانت دیتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس چور کی سزا جو مخفی طریقے سے مال کو اس کے محفوظ مقام سے لے اڑتا ہے، اس ہاتھ کو کاٹنا رکھی ہے جو اس چرائے گئے مال کو اٹھاتا ہے؛ تا کہ ہاتھ کاٹنا اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے اور آئندہ وہ اور دیگر لوگ (حصول مال کے) ان گھٹیا طریقوں سے باز رہیں اور شرعی اور باعزت طریقوں سے مال کمائیں، جس کے نتیجے میں کام کاج کو فروغ ملے، منافع کا حصول ہو، یہ عالم تعمیر و ترقی کی جانب گامزن ہوجائے اور لوگ باعزت زندگی گزاریں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تقاضے کے تحت، مال کی اس اقل ترین مقدار کا تعین فرما دیا، جس کے چرانے پر ہاتھ کو کاٹا جائے گا، جو کہ تین درھم یعنی سونے سے بنے دینار کے ایک چوتھائی کے مساوی ہے، تا کہ مال و جان محفوظ رہیں، امن کا دور دورہ ہو، دل پر سکون ہوں اور حصول رزق اور سرمایہ کاری کی غرض سے لوگ اپنا مال (بلا خوف و خطر) لگائیں۔
اور ایک چوتھائی دینار ایک گرام اور ربع کے چوتھائی گرام کے مساوی ہوتا ہے؛ کیونکہ ایک دینار 4.25 گرام کا ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2947

 
 
Hadith   27   الحديث
الأهمية: إنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إلَى رَسُولِ الله فَذَكَرُوا لَهُ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْهُمْ وَرَجُلاً زَنَيَا


Tema:

رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہودی حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو بتایا کہ ان کے یہاں ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔

عن عبدُ الله بنُ عمر-رضي الله عنهما- قال: «إن الْيهود جاءوا إلى رسول الله فَذَكَرُوا لَه: أَنَّ امرأة منهم وَرجلا زنيا. فَقَال لَهُمْ رَسُولُ الله-صلى الله عليه وسلم-: مَا تَجِدُون في التَّوراة، في شأْن الرَّجم؟ فَقَالوا: نَفضحهم وَيُجْلَدُون. قَال عبد الله بن سَلام: كذبتم، فيهَا آية الرَّجْم، فَأَتَوْا بِالتَّوراة فَنَشَرُوهَا، فَوَضعَ أحدهم يَده عَلَى آيَة الرَّجْم فقرأ ما قبلها وما بعدها. فَقَال لَه عبد الله بن سَلام: ارْفَعْ يدَك. فَرَفَعَ يده، فَإذا فيهَا آيَةُ الرَّجم، فَقَال: صدَقَ يا محَمَّد، فأمر بِهِما النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرُجِما. قَال: فرأيت الرَّجلَ: يَجْنَأُ عَلَى المرأة يَقِيهَا الْحجارة».

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہودی حاضر ہوئے اور بتایا کہ ان کے یہاں ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ آپﷺ نے ان سے پوچھا: رجم کے بارے میں تورات میں کیا حکم ہے؟ وہ بولے: یہ کہ ہم انھیں رسوا کریں اور انھیں کوڑے لگائے جائیں۔ اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ جھوٹے ہو۔ تورات میں رجم کی آیت موجود ہے۔ پھر یہودی تورات لائے اور اسے کھولا۔ لیکن رجم سے متعلق آیت کو ایک یہودی نے اپنے ہاتھ سے چھپا لیا اور اس سے پہلے اور اس کے بعد کی عبارت پڑھنے لگا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ذرا اپنا ہاتھ تو اٹھاؤ۔ جب اس نے ہاتھ اٹھایا، تو وہاں آیت رجم موجود تھی۔ اب وہ کہنے لگے: سچ ہے اے محمد! (ﷺ)۔ چنانچہ آپ ﷺ کے حکم سے ان دونوں کو سنگ سار کردیا گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ عورت کو پتھر سے بچانے کے لیے اس پر جھک جھک جایا کرتا تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عندما حصل الزِّنا عند اليَهود بَيْنَ رجل وامرأَة في العهد النبوي جَاءُوا إلى النَّبِي -صلى الله عليه وسلم- يُرِيدُونَ أَنَّ يَحْكُمَ بَيْنَهُم، لعلّهم يجدون حُكْمَاً أَخَفَّ مِّمَّا فِي التَّوْرَاةِ، وهو الرجم، فَسَأَلَهُم النَّبِيُّ -صلى الله عليه وسلم- عن حُكْمِ الله فِي التَّوْرَاةِ، ليفضحهم لا ليعمل بها، فَكَذَبُوا عليه وقالوا: الحُكْم عندهم فَضْحُ الزَّانِيَيْن. فَكَذَّبَهَم عَبْدُ اللهِ بْنُ سلام -رضي الله عنه-، وعندَما فَتَحُوا التَّوْرَاةَ وجَدُوا الحُكْمَ فِيها بِرَجْمِ الزَّانِي الْمُحْصَن فَأَمَرَ بِهما فُرُجِمَا.
وشريعتنا حاكمة على غيرها من الشرائع، وناسخة لها، ولكن النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث سألهم عن حكم التوراة في الرجم؛ ليقيم عليهم الحجة من كتابهم الذي أنكروا أن يكون فيه رجم المحصن، وليبيِّن لهم أن كتب الله متفقة على هذا الحكم الخالد، الذي فيه ردع المفسدين.
606;بی کریم ﷺ کے عہد میں یہودیوں کے اندر ایک مرد اور عورت نے زنا کا ارتکاب کیا، تو وہ آپ ﷺ کی خدمت میں ان دونوں کا فیصلہ کرانے کے ارادے سے حاضر ہوئے۔ وہ اس گمان میں تھے کہ شاید تورات میں موجود رجم (سنگ سار کرنے) کے حکم سے ہلکی سزا انھیں مل جائے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے تورات میں موجود اللہ تعالیٰ کے حکم کی بابت دریافت فرمایا۔ آپ کے دریافت کرنے کا مقصد اس پر عمل کرنا نہیں، بلکہ ان کی جگ ہنسائی کا سامان کرنا تھا۔ لیکن انھوں نے آپ ﷺ سے جھوٹ کہا کہ ان کے یہاں زناکاری کی سزار زانی اور زانیہ کو ذلیل و رسوا کرنا ہے۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ان کی اس بات کو جھٹلایا اور جب انھوں نے تورات کھولی، تو اس میں شادی شدہ زانی کو رجم (سنگ سار) کرنے کا حکم ملا۔ چنانچہ آپ ﷺ کے حکم سے دونوں کو سنگ سار کیا گیا۔ ہماری شریعت دوسری تمام شریعتوں پر حاکم اور ان تمام شریعتون کی ناسخ ہے۔ البتہ نبی ﷺ نے اس حدیث میں یہودیوں سے رجم کی سزا کے تئیں تورات کا حکم صرف اس لیے دریافت کیا تاکہ ان پر ان ہی کی کتاب سے حجت قائم ہوجائے جس کے بارے میں وہ انکار کر رہے تھے کہ تورات میں شادی شدہ زانی کی سزا سنگ سار کرنا نہیں ہے، نیز اس لیے لیے بھی کہ انہیں یہ واضح کردیں کہ اللہ تعالی کی نازل کردہ کتابیں اس سزا کے حکم میں متفق ہیں جس میں (معاشرے میں) فساد پھیلانے والوں کے لیے سخت تنبیہ اور پھتکار ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2948

 
 
Hadith   28   الحديث
الأهمية: أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي النَّبِيِّ -صلى الله عليه وسلم- مَقْتُولَةً


Tema:

نبی ﷺ کے کسی غزوے میں ایک عورت مقتول پائی گئی۔

عن عَبْدُ الله بن عمر -رضي الله عنهما- «أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي النَّبِيِّ -صلى الله عليه وسلم- مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ النَّبِيُّ -صلى الله عليه وسلم- قَتْلَ النِّسَاءِ، وَالصِّبْيَانِ».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے کسی غزوے میں ایک عورت مقتول پائی گئی۔ اس پر آپ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إنكار النبي -صلى الله عليه وسلم- قتل النساء والصبيان يدل على تحريم قتلهم، وقوله في بعض الأحاديث الواردة في هذا المعنى: (ما كانت هذه لتقاتل) تنبيه على علة النهي عن قتل النساء؛ لأن الغالب فيهن عدم المقاتلة وإن كان في بعضهن شر وشجاعة لكن الحكم عُلِّق على الأغلب، فمن قاتلت قوتلت.
606;بی ﷺ کا عورتوں اور بچوں کے قتل پر اظہارِ ناپسندیدگی فرمانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان کا قتل حرام ہے۔ اور آپ ﷺ کا اسی معنی کی حامل دیگر احادیث میں یہ فرمانا کہ ”یہ تو ایسی نہ تھی کہ اس سے جنگ کی جاتی۔“ عورتوں کے قتل کی ممانعت کی علت کی طرف اشارہ کرتا ہے کیوں کہ عورتیں عموماً جنگجو نہیں ہوتی ہیں اگرچہ ان میں سے بعض میں شر اور شجاعت بھی ہوتی ہے تاہم اغلبیت پر حکم معلق ہوتا ہے۔ عورتوں میں سے جو عملی طور پر قتال کرے گی اس سے قتال کیا جائے گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2949

 
 
Hadith   29   الحديث
الأهمية: يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ، لا دِيَةَ لَك


Tema:

تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے جس طرح کوئی سانڈ۔ کاٹتا ہے، (جاؤ) تمہارے لئے کوئی دیت نہیں۔

عن عمران بن حصين -رضي الله عنهما- «أن رجلا عَضَّ يَدَ رجل؛ فَنَزَعَ يَدَهُ من فِيهِ؛ فوقعت ثَنِيَّتُهُ؛ فاختصما إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: يَعَضُّ أحدُكم أخاه كما يَعَضُّ الفَحْلُ؛ لا دِيَةَ لك».

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کے ہاتھ کو (دانتوں سے) کاٹ لیا، تو اس نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو کاٹنے والے کے اگلے دانت ٹوٹ کر گر گئے۔ وہ دونوں یہ جھگڑا لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے جس طرح کوئی سانڈ۔ کاٹتا ہے؛ (جاؤ) تمہارے لئے کوئی دیت نہیں۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اعْتَدَى رجلٌ على آخر فعَضَّ يدَه؛ فانتزعَ المعْضُوضُ يدَه من فمِ العاضِّ؛ فسقطت ثنيتاه؛ فاختَصما إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-.
العاضُّ يُطالبُ بديةِ ثنيتيه السَّاقطتين، والمعضُوضُ يدافع عن نفسه بأنَّه يريد إنقاذَ يده من أسنانه.
فأنكر النبي -صلى الله عليه وسلم- على المدَّعِي العاضِّ، كيف يفعل مثل ما يفعله غِلاظُ الحيوانات؟ وقال: يعضُّ أحدُكم أخاه، ثم بعد هذا يأتي ليُطالِب بديةِ أسنانه الجانية؟! ليس لك دية؛ فالبادي هو المعتدِي.
575;یک آدمی نے دوسرے آدمی پر حملہ آور ہو کر اس کے ہاتھ پر کاٹ لیا۔ جس شخص کے ہاتھ پر کاٹا گیا تھا اس نے کاٹنے والے کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کے سامنے کے دو دانت گر گئے۔ دونوں اپنا مقدمہ نبی ﷺ کے پاس لے کر آئے۔ دانت کاٹنے والا اپنے گر جانے والے دونوں دانتوں کی دیت مانگ رہا تھا، جب کہ جس کے ہاتھ پر کاٹا گیا تھا وہ اپنے دفاع میں یہ دلیل دے رہا تھا کہ اس نے تو اپنے ہاتھ کو اس کے دانتوں کی گرفت سے آزاد کرنا چاہا تھا۔ نبی ﷺ نے دانت کاٹنے والے مدعی پر نکیر کی کہ اس نے کیسے ایسا عمل کیا جسے اکھڑ (اجڈ) جانور کرتے ہیں؟ اور فرمایا: تم میں سے ایک شخص اپنے بھائی کو دانت کاٹتا ہے اور پھر زیادتی کا مرتکب ہونے والے اپنے دانتوں کی دیت کا مطالبہ کرنے کے لئے آجاتا ہے؟! تمہارے لئے کوئی دیت نہیں؛ کیونکہ آغاز کرنے والا ہی جارح اور زیادتی کرنے والا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2950

 
 
Hadith   30   الحديث
الأهمية: أَنَّ رَسُولَ الله-صلى الله عليه وسلم- اصْطَنَعَ خَاتَماً مِنْ ذَهَبٍ


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - اصْطَنَعَ خَاتَمًا من ذهب، فكان يجعل فَصَّهُ في باطن كَفِّهِ إذا لَبِسَهُ، فصنع الناس كذلك، ثم إنه جلس على المنبر فَنَزَعَهُ فقال: إني كنت أَلْبَسُ هذا الخَاتَمَ , وأجعل فَصَّهُ من داخل, فرمى به ثم قال: والله لا أَلْبَسُهُ أبدا فَنَبَذَ الناس خَواتِيمَهُمْ».   وفي لفظ «جعله في يده اليمنى».

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی، آپ ﷺ اسے پہنتے وقت اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کے اندرونی طرف کرلیا کرتے تھے۔ چنانچہ لوگوں نے بھی اسی طرح کی انگوٹھیاں بنوالیں، پھر (ایک دن) آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اسے اتار دیا اور فرمایا: میں اس انگوٹھی کو پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندرونی طرف رکھتا تھا، پھر آپ نے اسے پھینک دیا، اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس کو کبھی نہیں پہنوں گا۔ پس لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: آپ ﷺ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پہنا کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أمر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يصنع له خاتم من ذهب، وكان إذا لبسه جعل فصه في باطن كفه اليمنى، فتبعه الصحابة على ذلك وصنعوا كما صنع، ثم بعد فترة جلس النبي -صلى الله عليه وسلم- على المنبر ليراه الناس، ثم قال: إني كنت ألبس هذا الخاتم، وأجعل فصه في داخل كفي، ثم رماه وقال: والله لا ألبسه أبدا، وكان ذلك بعد تحريمه، فرمى الصحابة خواتيمهم اقتداء برسول الله -صلى الله عليه وسلم-.
606;بی ﷺ نے حکم دیا کہ آپ کے لئے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی جائے۔ آپ ﷺ انگوٹھی کو پہنتے وقت اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کے اندرونی طرف کر لیتے، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی میں ویسا ہی کیا جیسا آپ ﷺ نے کیا۔ پھر ایک عرصہ کے بعد نبی ﷺ منبر پر بیٹھے تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کے اندرونی طرف رکھتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے اتار پھینکا اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں اب اسے کبھی نہیں پہنوں گا، اور یہ اس کی حرمت نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے، چنانچہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی میں اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2951

 
 
Hadith   31   الحديث
الأهمية: كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ


Tema:

ہر پینے والی چیز جو نشہ آور ہو، حرام ہے۔

عن عائشة رضي الله عنها: «أَنَّ رسول الله-صلى الله عليه وسلم-  سُئِل عن الْبِتْعِ؟ فقال: كل شَرَابٍ أَسْكَر فهو حَرَامٌ».

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے شہد کی شراب (الْبِتْعِ) کے بارے میں سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”ہر پینے والی چیز جو نشہ آور ہو، حرام ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سئل النبي -صلى الله عليه وسلم- عن شرب البتع الذي هو نبيذ العسل، فأتى -صلى الله عليه وسلم- بجواب عام شامل، مفاده أنه لا عبرة باختلاف الأسماء، ما دام المعنى واحداً، والحقيقة واحدة.
فكل شراب أسكر، فهو خمر محرَّم، من أي نوع أخذ.
وهو من جوامع كَلِمه -صلى الله عليه وسلم- وحسن بيانه عن ربه، ولهذا جاء من العلم في مدة بعثته بما يسعد البشرية في الدنيا والآخرة.
606;بی کریم ﷺ سے شہد کی شراب پینے کا حکم دریافت کیا گیا، تو آپ ﷺ نے ایک ایسا جواب مرحمت فرمایا، جو عام نوعیت کا حامل اور اس جیسے ہر مسئلے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے، جس کا لب لباب یہ ہے کہ عنوان اور تعبیرات کی تبدیلی سے حقائق نہیں بدل سکتے، جب تک کہ معنی اور حقیقت ایک ہو۔ لہٰذا ہر وہ پینے والی چیز جو نشہ آور ہو، حرام ہی ہوگی؛ چاہے کسی بھی نوع سے اسے تیار کیا گیا ہو۔
نبی کریم ﷺ کا یہ مختصر سا جملہ آپ کے جامع کلمات (دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف) اور اپنے پروردگار کی جانب سےآپ کو عطا کردہ عمدہ و دل نشین اندازِبیان کا ایک نمونہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی بعثت کی مدت میں اس قدر علم عام فرمایا کہ تمام نوع انسانی کو دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں نصیب ہوجائیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2952

 
 
Hadith   32   الحديث
الأهمية: أَيُّهَا النَّاسُ، لا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوا الله الْعَافِيَةَ


Tema:

لوگو! دشمنوں سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو۔

عن عبد الله بن أبي أوفى -رضي الله عنه- أَنَّ رسول الله-صلى الله عليه وسلم-  فِي بَعْض أَيَّامه التي لَقِي فيها العدو انتظر، حتى إذا مَالَتِ الشمس قام فِيهم، فقال: «أَيُّها الناس، لا تَتَمَنَّوْا لِقَاء الْعَدُوِّ، وَاسْأَلوا الله الْعافية فَإِذا لَقِيتموهم فَاصْبِرُوا، وَاعلموا أَنَّ الْجَنَّة تحت ظِلال السُّيوف ثُمَّ قَال النَّبِي صلى الله عليه وسلم: اللهمَّ مُنزِلَ الْكتاب، وَمُجْرِيَ السَّحاب، وَهازم الأَحْزاب: اهْزِمهم، وَانصُرنا علَيهم».

عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لڑائی میں، جس میں دشمن سے سامنا تھا، سورج ڈھلنے کا انتظار کیا۔ پھر ان کے بیچ کھڑے ہوکر فرمایا: ”لوگو! دشمنوں سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو۔ لیکن جب ان سے مقابلہ ہو جائے، تو صبر سے کام لو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے“۔ پھر فرمایا:”اے اللہ! کتابوں کے نازل فرمانے والے، بادلوں کو چلانے والے اور جتھوں کو شکست دینے والے! انھیں شکست سے دوچار کردے اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر عبد الله بن أبي أوفى الصحابي -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- لقي العدو في بعض أيامه فانتظر ولم يبدأ بالقتال إلا بعد أن زالت الشمس، ولما زالت الشمس قام فيهم -والمعتاد أن يكون ذلك بعد الصلاة- قام فيهم خطيباً فنهاهم عن تمني لقاء العدو لما فيه من الإعجاب بالنفس، وأن يسألوا الله العافية، ثم قال: فإذا لقيتموهم فاصبروا. أي إن حقق الله ذلك وابتليتم بلقاء العدو فاصبروا عند ذلك واتركوا الجزع، واعلموا أن لكم إحدى الحسنيين إما أن ينصركم الله على عدوكم وتكون لكم الغلبة، ويجمع الله لكم بين قهر العدو في الدنيا والثواب في الآخرة، وإما أن تُغلبوا بعد أن بذلتم المجهود في الجهاد فيكون لكم الثواب الأخروي، أما قوله: واعلموا أن الجنة تحت ظلال السيوف. فمعناه أن الجهاد يؤدي إلى الجنة
ن ثم دعا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ربه بشرعه المنزل وقدرته الكاملة أن ينصر المسلمين على عدوهم وبالله التوفيق.
589;حابی رسول عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کا کسی لڑائی میں دشمن سے سامنا تھا، آپ ﷺ نے انتظار کرتے ہوئے جنگ کی ابتدا سورج ڈھلنے تک نہیں کی۔ جب سورج ڈھل گیا، تو صحابۂ کرام سے خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے-جب کہ عام معمول کے مطابق آپ کے خطبے، نماز بعد ہوا کرتے تھے- آپ ﷺ نے دوران خطاب دشمن سے مقابلہ کرنےکی تمنا کرنے سے منع فرمایا؛ کیوں کہ اس میں خود پسندی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ (اس کی بجائے ) آپ ﷺ نے انھیں ہدایت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کریں۔ پھر فرمایا کہ جب دشمن سے مڈبھیر ہوجائے، تو ثابت قدمی کا مظاہرہ کرو۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ جنگ برپا کردے اور دشمنوں سے مقابلے میں تمھاری آزمائش کا موقع آجائے، تو میدان جنگ میں جم جاؤ، تشویش و اضطراب کو بالاطاق رکھ دو اور جان رکھو کہ تمھیں دو بھلائیوں میں سے ایک ضرور حاصل ہوکر رہے گی؛ یاتو اللہ تعالیٰ تمھیں دشمنوں پر فتح و نصرت عطا فرمائے گا اور تمھیں غلبہ حاصل ہوگا، اس طرح اللہ تعالی تمھیں دنیا میں دشمن پر غلبہ اور آخرت میں اجر وثواب دونوں ہی سے نوازے گا یا یہ کہ جہاد میں پوری طاقت صرف کرنے کے باوجود تمھیں شکست سے دوچار ہونا پڑجائے، تو (اپنی جاں بازی و جاں نثاری کے بدلے) تمھیں اخروی اجر و ثواب حاصل ہوگا۔ آپ ﷺ کے قول " اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایے تلے ہے" کے معنی یہ ہیں کہ جہاد دخول جنت کا باعث ہے۔
پھر آپ ﷺ نے اپنے پروردگار سے، اس کی نازل کردہ شریعت اور اس کی قدرت کاملہ کا وسیلہ لیتے ہوئے، اپنے دشمنوں کے خلاف مسلمانوں کی مدد و نصرت کی دعا فرمائی۔ وباللہ التوفیق۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2953

 
 
Hadith   33   الحديث
الأهمية: نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ: مِنْ الْعِنَبِ، وَالتَّمْرِ، وَالْعَسَلِ، وَالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ


Tema:

شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اس وقت یہ ان پانچ چیزوں سے تیار کی جاتی تھی: انگور، کھجور، شہد، گندم اور جَو سے۔

عن عَبْدُ الله بن عمر-رضي الله عنهما- أن عمر قال -على منبر رسول الله- -صلى الله عليه وسلم- : "أما بعد، أيها الناس، إنه نزل تحريم الخمر وهي من خمسة: مِنَ العنب، والتمر، والعسل، والحنطة، والشعير. والخمر: مَا خَامَرَ العَقْلَ. ثَلاثٌ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ الله -صلى الله عليه وسلم- كَانَ عَهِدَ إلَيْنَا فِيهَا عَهْداً نَنْتَهِي إلَيْهِ: الجَدُّ، والكَلالَةُ، وأَبْوَابٌ مِنَ الرِّبَا".

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”اما بعد، اے لوگو! شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اس وقت یہ ان پانچ چیزوں سے تیار کی جاتی تھی: انگور، کھجور، شہد، گندم اور جَو سے۔ خمر ہر وہ شے ہے، جو عقل کو زائل کردے۔ تین مسائل کی نسبت میری تمنا ہی رہ گئی کہ رسول اللہ ﷺ ان کے سلسلے میں ہمیں کوئی ایسی وصیت کر دیتے، جس کی طرف ہم رجوع کر سکتے: دادا کی میراث، کلالہ اور سود کے کچھ مسائل“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
خطب عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- في مسجد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وعلى منبره هذه الخطبة، وقرر فيها -رضي الله عنه- أن الخمر ما خامر العقل، فالخمر لا يختص بالعنب، بل حتى الشراب المسكر المصنوع من التمر أو العسل أو الحنطة خمر، وقد ذكر عمر -رضي الله عنه- في خطبته أن ثلاث مسائل فيها إشكال عندهم، تمنى أن لو كان عهد النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذه الثلاث المسائل عهداً إلى أمته ينتهون إليه فيها، وهي: ميراث الجد، وميراث كل ميت لا ولد له ولا والد، وبعض أبواب الربا، والحمد لله أن الحكم في هذه الثلاث المسائل معلوم، وليس معنى هذا أن النبي -صلى الله عليه وسلم- لم يبينهن، فقد أتم الرسالة، وأدى الأمانة، وبلغ عن الله ما هو أخفى وأقل شأنا منهن، ولكن عمر -رضي الله عنه- يريد أن يكون فيها نص صريح واضح لا يحتمل الاجتهاد.
740;ہ خطبہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی ﷺ میں آپ ﷺ کے منبر شریف پر کھڑے ہو کر دیا اور اس میں انھوں نے ہر اس شے کو خمر قرار دیا، جو عقل کو زائل کر دیتی ہو۔ چنانچہ ”خمر“ کا اطلاق صرف اس شراب پر نہیں ہوتا، جو انگور سے بنائی گئی ہو، بلکہ ہر وہ نشہ آور مشروب خمر کہلاۓ گا، جو کھجور، شہد یا گندم سے تیار کردہ ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ تین مسائل ایسے ہیں، جن میں لوگوں کو اشکال پیش آتا ہے اور ان کی تمنا ادھوری رہ گئی کہ نبی ﷺ ان تین مسائل کے بارے میں اپنی امت کو کوئی ایسی وصیت فرما جاتے،جس کی طرف وہ رجوع کر سکتے۔ یہ تین مسائل یہ ہیں: دادا کی میراث، ہر اس شخص کی میراث جس کی نہ اولاد ہو اور نہ ہی والد اور سود کے کچھ مسائل۔ الحمدللہ ان تینوں مسائل کا حکم معلوم ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ نبی ﷺ نے انھیں بیان نہیں فرمایا۔ آپ ﷺ نے رسالت کی ذمہ داری پوری فرمادی، امانت ادا کر دی اور اللہ تعالی کی وہ باتیں بھی پہنچا دیں، جو ان تینوں امور سے کم اہمیت کی حامل تھیں۔ در اصل عمر رضی اللہ عنہ یہ چاہتے تھے کہ ان امور میں کوئی ایسی صریح اور واضح نص ہوتی، جس میں اجتہاد کی گنجائش نہ ہوتی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2954

 
 
Hadith   34   الحديث
الأهمية: أَنَّ قُرَيْشاً أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ


Tema:

قریش کو اس مخزومی عورت کے معاملہ نے، جس نے چوری کا ارتکاب کیا تھا، فکر مند کردیا

عن عَائِشَةُ -رضي الله عنها- «أَنَّ قُرَيْشا أَهَمَّهُم شَأن المَخْزُومِيَّة التي  سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فيها رسول الله -صلى الله عليه وسلم-؟، فقالوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ  عليه إلا أسامة بن زيد حِبُّ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فَكَلَّمَهُ أسامة، فَقَالَ: أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ الله؟ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، فقال: إنَّمَا أَهْلَكَ الذين مِنْ قَبْلِكُمْ أنهم كانوا إذا سرق فيهم الشريف تركوه، وإذا سرق فيهم الضعيف أَقَامُوا عليه الحد، وَأَيْمُ الله: لَوْ أَنَّ فاطمة بنت محمد سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا».
وَفِي لَفْظٍ «كانت امرأة تَسْتَعِيرُ المَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ، فَأَمَرَ النبي -صلى الله عليه وسلم- بِقَطْعِ يَدِهَا».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ: ’’قریش کو اس مخزومی عورت کے معاملہ نے، جس نے چوری کا ارتکاب کیا تھا، فکر مند کردیا تھا، وہ (آپس میں) کہنے لگے: اس عورت کے سلسلہ میں کون رسول اللہ رسول اللہ ﷺ سے بات کرے گا؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہﷺ کے چہیتے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا اور کس کو اس کی جرأت ہو سکتی ہے؟ چناں چہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے (اس سلسلہ میں) گفتگو کی تو آپ نے فرمایا: ”اسامہ! کیا تم اللہ کے حدود میں سے ایک حد کے سلسلہ میں سفارش کرتے ہو؟“، پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر خطاب فرمایا: ”تم سے پہلے کے لوگوں کو بھی اسی چیز نے ہلاک کیا ہے کہ جب ان میں سے کوئی معزز آدمی چوری کر لیتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان میں کا کوئی کمزور و ضعیف آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کردیتے، یاد رکھو، اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد (ﷺ) بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا“۔
دوسری حدیث کے الفاظ کجھ اس طرح ہیں: ”ایک عورت سامان مانگ کر لے جایا کرتی تھی اور واپسی کے وقت اس کا انکار کردیا کرتی تھی، تو نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كانت امرأة من بني مخزوم تستعير المتاع من الناس احتيالاً، ثم تجحده.
فاستعارت مرةً حُلِيًا فجحدته، فوُجِدَ عندها، وبلغ أمرها النبي -صلى الله عليه وسلم- فعزم على تنفيذ حد الله -تعالى- بقطع يدها، وكانت ذات شرف، ومن أسرة عريقة في قريش.
فاهتمت قريش بها وبهذا الحكم الذي سينفذ فيها، وتشاوروا فيمن يجعلونه واسطة إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- ليكلمه في خلاصها، فلم يروا أولى من أسامة بن زيد، فإنه المقرب المحبوب للنبي -صلى الله عليه وسلم-، فكلمه أسامة.
فغضب منه -صلى الله عليه وسلم- وقال له - منكراً عليه: - "أتشفع في حدٍّ من حدود الله"؟
ثم قام خطيبا في الناس ليبين لهم خطورة مثل هذه الشفاعة التي تعطل بها حدود الله، ولأن الموضوع يهم الكثير منهم، فأخبرهم أن سبب هلاك من قبلنا في دينهم وفي دنياهم: أنهم يقيمون الحدود على الضعفاء والفقراء، ويتركون الأقوياء والأغنياء، فتعم فيهم الفوضى وينتشر الشر والفساد، فيحق عليهم غضب الله وعقابه.
ثم أقسم -صلى الله عليه وسلم- وهو الصادق المصدوق- لو وقع هذا الفعل من سيدة نساء العالمين ابنته فاطمة- أعاذها الله من ذلك- لنفذ فيها حكم الله تعالى -صلى الله عليه وسلم-.
576;نو مخزوم کی ایک عورت تھی جو لوگوں کا سامان بہانہ بنا کر مستعار لیتی اور پھر اسے دینے سے انکار کردیتی
ایک مرتبہ اس نے زیور مانگ کر لیا اور پھر اس کا انکار کردیا۔ (تفتیش پر) سامان اس کے پاس پایا گیا ،چناں چہ اس کا معاملہ نبی ﷺ تک پہنچا تو آپ نےاللہ تعالیٰ کے حد کو نافذ کرنے کا عزم کر لیا یعنی اس کے ہاتھ کو کاٹنے کا۔ وہ عورت شرف و منزلت والی تھی اور اس کا تعلق قریش کے ایک معزز گھرانے سے تھا۔
اس ناطے قریش اس عورت اور اس پر نافذ ہونے والے فیصلہ کے متعلق فکرمند ہوئے۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس عورت کے سلسلہ میں کس کو نبی ﷺ تک رسائی کا ذریعہ بنائیں اور وہ اس کے بچاؤ کے لئے آپ سے بات کرے، انہوں نے اسامہ بن زید سے زیادہ مناسب کسی کو نہیں پایا کیوں کہ وہ نبی ﷺ کے چہیتے ہیں۔ چناں چہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو آپ ﷺ غصہ ہو گئے اور اس بات پر اسامہ کی تنکیر کرتے ہوئے فرمایاکہ کیا تم اللہ کے حدود میں سے ایک حد کے سلسلہ میں مجھ سے سفارش کرتے ہو!
پھر آپ ﷺ لوگوں کے بیچ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا تاکہ اس قسم کی سفارش کے نقصان کو لوگوں پر واضح کیا جا سکے جس کی وجہ سے اللہ کے حدود کے نفاذ میں رکاوٹ پیدا ہو، اور چوں کہ موضوع ان میں سے بہت سے لوگوں کے لئے اہمیت کا حامل تھا تو آپ نے لوگوں کو خبر دار کیا کہ تم سے پہلے کے لوگوں کی ہلاکت کی وجہ دینی اور دنیاوی اعتبار سے یہی تھی کہ وہ اللہ کے حدود کا نفاذ کمزور اور فقیر لوگوں پر کرتے تھے اور مالدار اور طاقتور لوگوں کو چھوڑ دیتے تھے، اس ناطے ان کے بیچ انارکی پھیل جاتی اور شر وفساد پھوٹ پڑتے اور وہ اللہ کے غضب اور اس کے عذاب کے حق دار بن جاتے۔
پھر آپ نے قسم کھائی -اور آپ صادق و مصدوق ہیں- کہ اگر یہ کام دونوں جہان کی عورتوں کی سردار، آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سرزد ہوا ہوتا -اللہ انھیں اس سے محفوظ رکھے- تو آپ ﷺ ان پر بھی اللہ کا حکم نافذ کرتے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2955

 
 
Hadith   35   الحديث
الأهمية: أَتَيْتُ رَسُولَ الله -صلى الله عليه وسلم- فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ الله، إنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ، أَفَنَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ


Tema:

میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کی سرزمین میں رہتے ہیں، تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں؟

عن أبي ثَعْلبة الخُشني -رضي الله عنه- قال: «أَتَيْتُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقلت: يا رسول الله، إنا بأرض قوم أهل كتاب، أَفَنَأْكُلُ في آنِيَتِهِم؟ وفي أرض صيد، أَصِيدُ بِقَوْسِي وبِكَلْبِي الذي ليس بِمُعَلَّمٍ، وبِكَلْبِي المُعَلَّمِ، فما يَصلح لي؟ قال: أمَّا مَا ذَكَرْتَ- يعني من آنية أهل الكتاب-: فإِنْ وجدْتُمْ غيرها فلا تأكلوا فيها، وإِنْ لم تَجِدُوا فاغسِلوهَا، وكلوا فِيهَا، وما صدتَ بِقَوْسِكَ، فذَكَرْتَ اسمَ الله عَلَيه فَكُلْ، وما صِدْتَ بِكَلْبِكَ المُعَلَّمِ، فَذَكَرْتَ اسْمَ الله عليه فَكُلْ، وما صِدْتَ بِكَلْبِكَ غيرِ المُعَلَّمِ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ».

ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کی سرزمین میں رہتے ہیں، تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں؟ اور ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں، جہاں شکار بہت ہوتا ہے۔ میں تیر کمان سے بھی شکار کرتا ہوں اور اپنے اس کتے سے بھی جو سکھایا ہوا نہیں ہے اور اس کتے سے بھی جو سکھایا ہوا ہے، تو اس میں سے کس کا کھانا میرے لیے جائز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جو اہل کتاب کے برتن کا ذکر کیا ہے، تو اگر تمھیں اس کے سوا کوئی اور برتن مل سکے، تو اس میں نہ کھاؤ، لیکن کوئی دوسرا برتن نہ ملے، تو ان کے برتن کو خوب دھو کر اس میں کھا سکتے ہو اور جو شکار تم اپنی تیر کمان سے کرو اور (تیر پھینکتے وقت) اللہ کا نام لیا ہو، تو اسے کھا سکتے ہو اور جو شکار تم نے غیر سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اسے خود ذبح کیا ہو، تو اسے کھا سکتے ہو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكر أبو ثعلبة -رضي الله عنه- للنبي -صلى الله عليه وسلم- أنهم مبتلون بمجاورة أهل الكتاب، والمراد بهم اليهود أو النصارى، فهل يحل لهم أن يأكلوا في أوانيهم مع الظن بنجاستها؟ فأفتاه بجواز الأكل فيها، ومن باب أولى استعمالها في غير الأكل بشرطين:
1- أن لا يجدوا غيرها. 2- وأن يغسلوها.
وذكر له أنهم بأرض صيد، وأنه يصيد بقوسه وبكلبه المعلم على الصيد وآدابه، وبكلبه الذي لم يتعلم، فما يصلح له ويحل من صيد هذه الآلات؟ فأفتاه بأن ما صاده بقوسه فهو حلال، بشرط أن يذكر اسم الله -تعالى- عند إرسال السهم.
وأما ما تصيده الكلاب، فما كان منها معلماً وذكر اسم الله عند إرساله فهو حلال أيضاً، وأما الذي لم يتعلم، فلا يحل صيده إلا أن يجده الإنسان حياً ويذكيه الذكاة الشرعية.
575;بو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے بیان کیا کہ وہ لوگ، اہل کتاب کے ہمسائیگی میں رہنے کی بنا پر کچھ مسائل کے شکار ہیں۔ یہاں اہل کتاب سے ان کی مراد یہود و نصاری ہیں۔ ایسے میں کیا ان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ ان کے برتنوں میں گندگی کایقین رکھتے ہوئے بھی کھاسکتے ہیں؟ چنانچہ آپ ﷺ نے انھیں دو شرطوں کے ساتھ ان کے برتنوں میں کھانے کے جواز کا فتویٰ دیا۔ کھانے کے علاوہ دیگر امور میں ان برتنوں کا استعمال بدرجۂ اولی جائز ہوگا۔
(1) ایک یہ کہ انھیں ان کےعلاوہ برتن میسر نہ آئیں (2) اور دوسری یہ کہ وہ ان برتنوں کو دھو کر ہی استعمال کریں۔
انھوں نے آپ ﷺ سے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ وہ ایسی سرزمین میں رہتے ہیں، جہاں شکار بہت زیادہ عام ہے اور وہ اپنی کمان، شکار اور اس کے آداب کے بارے میں تربیت یافتہ کتے اور بلا تربیت یافتہ کتے سے بھی شکار کرتے ہیں، تو ان کے لیے کس شکار کا کھانا جائز ہے اور ان آلات سےکیے گئے شکار میں سے کون سا حلال ہے؟ آپ ﷺ نے انھیں فتویٰ دیا کہ تیر وکمان سے کیا جانے والا شکار اس شرط کے ساتھ حلال ہے کہ "بسم اللہ" کہتے ہوئے تیر چھوڑا جائے۔
جہاں تک کتوں سے کیے جانے والے شکار کا معاملہ ہے، توسکھائے گئے کتوں کو چھوڑتے وقت بسم اللہ کہنے سے، وہ شکار بھی حلال ہوجاتا ہے اور غیر سکھائے گئے کتوں کے ذریعے کیا جانے والا شکار اسی صورت میں حلال ہے کہ شکار زندہ حالت میں دستیاب ہو اور اس کو شرعی طور پر ذبح کیا جائے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2956

 
 
Hadith   36   الحديث
الأهمية: تَوَكَّلَ الله لِلْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِهِ إنْ تَوَفَّاهُ: أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يُرْجِعَهُ سَالِماً مَعَ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ


Tema:

اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کی حفاظت کی ذمے داری لی ہے؛ اگر اس کی وفات ہوگئی، تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور اگر وہ واپس آیا، تو ثواب اور مالِ غنیمت کے ساتھ واپس ہوگا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «انْتَدَبَ الله (ولمسلم: تَضَمَّنَ الله) لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ، لا يُخْرِجُهُ إلاَّ جِهَادٌ فِي سَبِيلِي، وإيمان بي، وتصديق برسلي فهو عَلَيَّ ضامن: أَنْ أُدْخِلَهُ الجنة، أو أرجعه إلى مسكنه الذي خرج منه، نائلًا ما نال من أجر أو غنيمة».
ولمسلم: «مثل المجاهد في سبيل الله -والله أعلم بمن جاهد في سبيله- كَمَثَلِ الصَّائِمِ القائم، وَتَوَكَّلَ الله لِلْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِهِ إنْ تَوَفَّاهُ: أن يدخله الجنة، أو يرجعه سالما مع أجر أو غنيمة».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی ہے (اور مسلم کی روایت میں ہے کہ اللہ نے اس شخص کی حفاظت کی ذمے داری لے لی ہے)، جو اس کے راستے میں (جہاد کے لیے) نکلے۔ (اللہ فرماتا ہے:) اگر اس کا یہ نکلنا محض میری راہ میں جہاد کے لیے اور مجھ پر ایمان اور میرے انبیا کی تصدیق کے جذبے سے ہو، تو میں اسے اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ یا تو اسے جنت میں داخل کردوں گا، یا ثواب یا غنیمت کے ساتھ اس کے گھر میں واپس پہنچا دوں گا، جس سے وہ نکلا تھا“۔
مسلم کی روایت میں ہے: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال -اور اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے- قیام کرنے والے روزے دار کی طرح ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کی حفاظت کی ذمے داری لے لی ہے؛ اس کی وفات ہوگئی، تو جنت میں داخل کرے گا۔ ورنہ صحیح سالم ثواب اور مالِ غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث ضمان من الله لمن خرج في سبيله لا يخرجه إلا جهاد في سبيله مؤمناً مخلصاً أنه ضامن على الله واحدًا من ثلاثة أو اثنتين منها فإن قتل فهو ضامن على الله أن يدخله الجنة وإن بقي فقد تضمن الله أن يرجعه إلى مسكنه بما نال من أجر أو غنيمة أي من أجر بدون غنيمة أو يجمع الله له بين الغنيمة والأجر.
أما الرواية الثانية التي عزاها صاحب العمدة إلى مسلم وهي متفق عليها وفيها أن فضيلة الجهاد في سبيل الله أي التي تقوم مقام الجهاد أمر لا يستطيعه البشر وذلك كالآتي: أن يكون بدلاً من الخروج يدخل في مصلاه فيواصل الصلاة والصيام والقيام ولهذا قال -صلى الله عليه وسلم- لا تستطيعونه.
575;س حدیث میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے اللہ کی طرف سے اس ضمانت کا بیان ہوا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا محض اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے خالص جہاد کے لئے نکلتا ہے، تو اللہ اسے تین چیزوں میں سے کسی ایک یا دو چیزوں کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر وہ شہید کردیا گیا، تو اللہ اسے جنت میں داخل کرنے کا ضامن ہے اورباقی بچ گیا تو اسے ثواب یا غنیمت کے ساتھ گھر واپس پہنچائے گا۔ یعنی یا تو ثواب کے ساتھ بغیر غنیمت کے یا ثواب اور غنیمت دونوں کے ساتھ۔
رہی دوسری روایت، جسے صاحبِ 'عمدہ' نے مسلم کی طرف منسوب کیا ہے، حالاں کہ وہ متفق علیہ ہے، اس میں بیان کیا گيا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی فضیلت یعنی ایسا عمل جو جہاد کے قائم مقام ہو، انسانی طاقت سے باہر کی چیز ہے؛ کیوں کہ وہ عمل لگاتار نماز، روزہ اور قیام اللیل میں لگے رہنا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔   --  [صحیح]+ +[اس حدیث کی تمام روایات متفق علیہ ہیں۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2957

 
 
Hadith   37   الحديث
الأهمية: أَنْفَجْنَا أَرْنَباً بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَى الْقَوْمُ فَلَغَبُوا


Tema:

ہم نے مر ظہران کے مقام پ رایک خرگوش کا پیچھا کیا۔ کچھ لوگ اس کے پیچھے بھاگے، لیکن تھک کر رک گئے۔

عن أنس -رضي الله عنه- قال: «أَنْفَجْنَا أَرْنَباً بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَى الْقَوْمُ فَلَغَبُوا، وَأَدْرَكْتُهَا فَأَخَذْتُهَا، فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ، فَذَبَحَهَا وَبَعَثَ إلَى رَسُولِ الله-صلى الله عليه وسلم- بِوَرِكِهَا وَفَخِذَيْهَا فَقَبِلَهُ».

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے مر ظہران کے مقام پر ایک خرگوش کا پیچھا کیا۔ کچھ لوگ اس کے پیچھے بھاگے، لیکن تھک کر رک گئے۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور اسے لے کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا۔حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے ذبح کیا اور اس کے پٹھے اور رانوں کا گوشت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا، تو آپ ﷺ نے اسے قبول فرمایا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- وأصحابه في سَفَرٍ، ولعلَّهُم قد نزلُوا في ذلك المكَان الذي هُو مَر الظَّهْرَان؛ فَلَقَدْ نَزَلَ في هذا الموْضِع رَسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- بأصحابه في عامِ الْفَتْحِ، فَأَثَارُوا أَرْنَباً فَسَعَى الْقَوْمُ خلفها لِيَأْخُذُوها، قَالَ فَتعبواوا وأدْرَكتُها، وكان أنس بن مالك في ذلك الوقت في ريْعَانِ شَبَابِهِ، فَأَخَذَهَا وذَهَبَ بِها إلى زَوْجِ أُمِّهِ، وهو أبو طلحة -رضي الله عنه-، فَذَبَحَهَا وأَهْدَى مِنْهَا إِلى رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- الفخذين والورك-وهُو مُلْتَقَى الظَّهْرِ مَعَ مَرْبَطِ الرِّجْل-؛ فَقَبِلَها، ولَعَلَّه قَدْ أَكَلَ مِنْهَا.
606;بی ﷺ اور آپ کے صحابہ ایک سفر میں تھے۔ شاید انھوں نے اس جگہ پر پڑاؤ کیا، جو مر الظہران کے نام سے معروف ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے ساتھ اس جگہ پر فتح مکہ کے سال پڑاؤ کیا تھا۔ انھوں نے ایک خرگوش کو بدکایا تو وہ بھاگ اٹھا۔ لوگ اس کو پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے دوڑ پڑے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ سب تو تھک کر رک گئے، لیکن میں نے اسے جا لیا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس وقت عین جوانی میں تھے۔ اسے پکڑ کر اپنے سوتیلے والد ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انھوں نے اسے ذبح کیا اور اس میں سے کچھ گوشت یعنی رانیں اور پٹھے آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کی۔ "ورک" اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں پٹھا، ٹانگ کے جوڑ سے ملتی ہے۔ آپ ﷺ نے اسے قبول فرمایا اور شاید اس میں سے تناول بھی فرمایا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2958

 
 
Hadith   38   الحديث
الأهمية: أَنَّ رَسُولَ الله -صلى الله عليه وسلم- سَمِعَ جَلَبَةَ خَصْمٍ بِبَابِ حُجْرَتِهِ


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجرے کے دروازے پر جھگڑے کا شور سنا۔

عن أُمُّ سَلَمَة -رضي الله عنها- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- سَمِعَ جَلَبَةَ خَصْمٍ بِبَابِ حُجْرَتِهِ، فَخَرَجَ إلَيْهِمْ، فقال: «ألا إنما أنا بشر، وإنما يأتيني الخصم، فلعل بعضكم أن يكون أبلغ من بعض؛ فَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ؛ فَأَقْضِي لَهُ، فمن قضيت له بحق مسلم فإنما هي قطعة من نار، فَلْيَحْمِلْهَا أَوْ يَذَرْهَا».

ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجرے کے دروازے پر جھگڑے کا شور سنا، تو آپﷺ ان جھگڑا کرنے والوں کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ”میں ایک انسان ہی ہوں۔ میرے پاس کوئی فیصلے کے لیے جھگڑا لےکر آتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے کی بہ نسبت زیادہ عمدگی سے بات کرے، جس کی بنا پر میں سمجھ لوں کہ وہ سچا ہے اور اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔ تو جس شخص کو میں کسی مسلمان کا حق دلا دوں، اسے جان لینا چاہیے کہ یہ دوزخ کا ایک ٹکڑا ہے، چاہے تو وہ اسے لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سمع النبي -صلى الله عليه وسلم- أصوات خصوم مختلطة؛ لما بينهم من المنازعة والمشاجرة عند بابه، فخرج إليهم؛ ليقضي بينهم، فقال:
إنما أنا بشر مثلكم، لا أعلم الغيب، ولا أخبر ببواطن الأمور؛ لأعلم الصادق منكم من الكاذب، وإنما يأتيني الخصم لأحكم بينهم، وحكمي مبني على ما أسمعه من حجج الطرفين وبيِّناتهم وأيْمَانِهِم، فلعل بعضكم يكون أبلغ وأفصح وأبينَ من بعض؛ فأحسب أنه صادق مُحِق؛ فأقضي له، مع أن الحق -في الباطن- بجانب خصمه، فاعلموا أن حكمي في ظواهر الأمور لا بواطنها، فلن يحل حراما؛ ولذا فإن من قضيت له بحق غيره وهو يعلم أنه مبطل، فإنما أقطع له قطعة من النار، فليحملها إِن شاء، أو ليتركها، فعقاب ذلك راجع عليه، والله بالمرصاد للظالمين.
606;بی ﷺ نے کچھ جھگڑنے والوں کی ملی جلی آوازیں سنیں، جو آپ ﷺ کے دروازے کے پاس جھگڑا اور بحث کر رہے تھے۔ آپ ﷺ ان کے مابین فیصلہ کرنے کے لیے باہر تشریف لے گئے،اور فرمایا:"میں تمھاری ہی طرح ایک انسان ہوں، میں غیب نہیں جانتا اور نہ مجھے مخفی امور کے بارے میں بتایا جاتا ہے، جن کی بنا پر مجھے معلوم ہو جائے کہ تم میں سے کون سچا اور کون جھوٹا ہے؟ جن لوگوں کے مابین جھگڑا ہوتا ہے، وہ میرے پاس فیصلہ کرانے آتے رہتے ہیں اور میرا فیصلہ فریقین کے پیش کردہ دلائل اور قسموں پر مبنی ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی زیادہ فصیح و بلیغ اور قادر الکلام ہو اور میں اسے سچا سمجھتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ کردوں حالاںکہ اندرونی حقائق کی رو سے اس کا مد مقابل حق پر ہو۔ تو جان لو کہ میرا فیصلہ ظاہری امور پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ باطنی امور پر۔ چنانچہ میرے فیصلے کی وجہ سے کوئی حرام شے حلال نہیں ہوجاتی۔ اس لیے اگر میں کسی کو کسی دوسرے کا حق دے دوں، حالاںکہ وہ جانتا ہو کہ وہ باطل پر ہے۔ تو میں اسے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دیتا ہوں، چاہے تو وہ اسے لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ اس کا عقاب اسی کو ہو گا اور اللہ تعالی ظالم لوگوں کی گھات میں رہتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2959

 
 
Hadith   39   الحديث
الأهمية: أَنَّ النبي -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ النَّذْرِ، وَقَالَ: إنَّ النَّذْرَ لا يَأْتِي بِخَيْرٍ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنْ الْبَخِيلِ


Tema:

آپ ﷺ نے نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا کہ ”نذر کوئی بھلائی نہیں لاتی۔ اس کے ذریعے تو بس کنجوس آدمی سے مال نکلوا لیا جاتا ہے“۔

عن ابن عمر -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- «أنه نهى عن النذر، وقال: إنّ النَّذْرَ لا يأتي بخير، وإنما يُسْتَخْرَجُ به من البخيل».

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا کہ ”نذر کوئی بھلائی نہیں لاتی۔ اس کے ذریعے تو بس کنجوس آدمی سے مال نکلوا لیا جاتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- عن النذر، وعلل نهيه بأنه لا يأتي بخير؛ وذلك لما يترتب عليه من إيجاب الإنسان على نفسه شيئًا هو في سعة منه، فيخشى أن يقصر في أدائه، فيتعرض للإثم، ولما فيه من إرادة المعاوضة مع الله -تعالى- في التزام العبادة معلقة على حصول المطلوب، أو زوال المكروه.
وربما ظن -والعياذ بالله- أن الله -تعالى- أجاب طلبه؛ ليقوم بعبادته.
لهذه الأسباب وغيرها، نهى عنه النبي -صلى الله عليه وسلم-؛ إيثارا للسلامة، وطمعا في جود الله -تعالى- بلا مقابل ولا شرط، وإنما بالرجاء والدعاء.
وليس في النذر فائدة، إلا أنه يستخرج به من البخيل، الذي لا يقوم إلا بما وجب عليه فعله وتحتم عليه أداؤه، فيأتي به مكرها، متثاقلا، فارغا من أساس العمل، وهي النية الصالحة، والرغبة فيما عند الله -تعالى-.
606;بی ﷺ نے نذر ماننے سے منع فرمایا اور اس ممانعت کی علت یہ بیان کی کہ اس سے کچھ خیر نہیں ملتی کیوں کہ اس سے انسان اپنے اوپر ایک ایسی چیز واجب کر لیتا ہے جو اس پر واجب نہیں ہوتی اور یوں یہ خدشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اس کی ادائیگی میں اگر اس سے کوئی کوتاہی ہو جائے اور اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوجائے۔اس کی ممانعت کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ مطلوبہ شے کے حصول پر یا پھر کسی ناپسندیدہ بات کے زائل ہونے کے ساتھ عبادت کے بجالانے کو مشروط کرنے میں اللہ کے ساتھ معاوضہ طے کرنے کی نیت پائی جاتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ انسان یہ گمان کرنے لگے کہ اللہ نے اس کی چاہت کو اس لیے پورا کیا ہے تا کہ وہ اس کی عبادت کرے۔ العیاذ باللہ۔
ان مذکورہ بالا اسباب اور کچھ دیگر وجوہات کی بنا پر نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا تاکہ( ان باتوں سے) محفوظ رہا جا سکے اور بلا کسی عوض اور شرط کے محض امید اور دعا کے ساتھ اللہ کے جود و سخا پر نظر رکھی جائے۔
نذر میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ اس کے ذریعے بخیل آدمی سے مال نکلوا لیا جاتا ہے جو صرف وہی فعل سر انجام دیتا ہے اور وہی کچھ دیتا ہے جس کا کرنا اس پر واجب اور حتمی ہو جائے۔ چنانچہ وہ مجبور ہوکر اور بوجھل دل کے ساتھ یہ کام کرتا ہے جو عمل کے جوہر یعنی صالح نیت اور (اس پر) اللہ کے ہاں جو اجر محفوظ ہے اس کی چاہت سے بالکل خالی ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2960

 
 
Hadith   40   الحديث
الأهمية: إنِّي وَالله- إنْ شَاءَ الله- لا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْراً مِنْهَا إلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَتَحَلَّلْتُهَا


Tema:

الله کی قسم، (اگر اللہ چاہے تو)، میں جب کسی بات پر قسم کھا لیتا ہوں اور بعدازاں اس کے علاوہ کوئی اور چیز مجھے بہتر لگتی ہے تو میں اس بہتر کو کر لیتا ہوں اور اُس قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔

عن أبي موسى الأشعري -رضي الله عنه- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: «إنّي والله -إنْ شاء الله- لا أَحلف على يمين، فأرى غيرها خيراً منها إلاَّ أَتيتُ الَّذِي هو خير، وتحلَّلْتُهَا».

ابو موسی اشعری - رضی اللہ عنہ - سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الله کی قسم، (اگر اللہ چاہے تو) میں جب کسی بات پر قسم کھا لیتا ہوں اوربعدازاں اس کے علاوہ کوئی اور چیز مجھے بہتر لگتی ہے تو میں اس بہتر کو کر لیتا ہوں اور اُس قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أنَّ النبي -صلى الله عليه وسلم- أخبر عن نفسِه بأنَّه إذا حَلَفَ على يَمِينٍ ثم بعد ذلك رأى أنَّ الخيرَ في عدَمِ الاستمرار عليها تَركَها بِتَرك ما حَلَفَ عليه وكفَّرَها التزم الذي هو خير من فعل أو ترك.
606;بی ﷺ اپنے بارے میں بتا رہے ہیں کہ جب آپ ﷺ کسی بات پر قسم اٹھا لیتے اور بعدازاں آپ ﷺ دیکھتے کہ بہتری یہ ہے کہ اس قَسَمْ پر برقرار نہ رہا جائے تو آپ ﷺ نے جس بات پر قسم اٹھائی ہوتی اسے چھوڑ کر اس قسم کو توڑ دیتے اور اس کا کفارہ ادا کر دیتے اور اس فعل یا ترک فعل کو اپنا لیتے جو اس سے بہتر ہوا کرتا تھا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2961

 
 
Hadith   41   الحديث
الأهمية: أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ


Tema:

روزِ قیامت لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خونِ ناحق کے بارے میں فیصلہ ہو گا۔

عن عبد الله بن مَسعود -رضي الله عنه- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-: «أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ».

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”روزِ قیامت لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خونِ ناحق کے بارے میں فیصلہ ہو گا۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يُحَاسِبُ الله -تعالى- الْخَلَائِقَ يوم القيامة، ثُمَّ يَقْضِى بينهم بعدله، ويبدأ من المظالم  بالْأَهم، وبما أَنَّ الدِّمَاء هي أَعْظم وأَهَمُّ ما يكون من المظَالمِ فِإِنَّهَا أَوْلُ مَا يُقْضَى بِهِ منها في ذلك اليومِ العظيمِ، وهذا فيما بين العباد في المظالم، أما أعمال العبد فأول ما ينظر فيه الصلاة.
575;للہ تعالی قیامت کے دن مخلوق کا حساب لے گا اور پھر ان کے مابین عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا۔ جو زیادتیاں اور حق تلفیاں سب سے اہم ہوں گی ان سے آغاز کیا جائے گا۔ چونکہ خون سے متعلق معاملات سب سے اہم درجہ رکھتے ہیں اس وجہ سے اس عظیم دن سب سے پہلے انہی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ تو بات ہے ان زیادتیوں اور حق تلفیوں کی جو بندوں کی ایک دوسرے سے متعلق ہیں۔ رہے بندے کے اپنے اعمال تو سب سے پہلے نماز کو دیکھا جائے گا (اور اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔)

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2962

 
 
Hadith   42   الحديث
الأهمية: بعثَ رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- سَرِيَّةً إلَى نَجْدٍ فخَرَجَ ابن عمر فِيهَا


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک سریّہ بھیجا جس میں ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی نکلے۔

عن عبد الله بن عمر-رضي الله عنهما- قال: «بعث رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- سَرِيَّةً إلَى نَجْدٍ فخرجَت فِيهَا، فَأَصَبْنَا إبِلاً وَغَنَماً، فبلغتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيراً، وَنَفَّلَنَا رَسُولُ الله -صلى الله عليه وسلم- بَعِيراً بَعِيراً».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا جس کے ساتھ میں بھی گیا۔ مالِ غنیمت کے طور پر بہت سے اونٹ اور بھیڑ بکریاں ہمارے ہاتھ لگیں۔(مال غنیمت میں) ہمارے حصے بارہ اونٹوں تک پہنچ گئے اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایک اونٹ زائد دیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- بعثهم في سرية إلى نجد فأصابوا غنائم كثيرة من إبل وغنم، فنال كل واحد منهم اثني عشر بعيراً، وأعطاهم زيادة على ذلك بعيراً لكل واحد فوق عدد سهامهم.
593;بد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتلا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک سریہ کی شکل میں انہیں نجد کی طرف بھیجا اور ان کے ہاتھ اونٹوں اور بھیڑ بکریوں پر مشتمل بہت سارا مالِ غنیمت آیا۔ ہر ایک کے حصے میں بارہ اونٹ آئے اور نبی ﷺ نے ان میں سے ہر ایک کو ان کے حصوں میں آنے والے اونٹوں کی تعداد سے ایک ایک اونٹ زائد دیا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2963

 
 
Hadith   43   الحديث
الأهمية: تُقْطَعُ الْيَدُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِداً


Tema:

ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ قیمت کی چیز چرانے پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔

عن عائشةُ -رضي اللهُ عنها- مرفوعًا: «تُقْطَعُ الْيَدُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِداً».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ قیمت کی چیز چرانے پر ہاتھ کاٹا جائے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أمَّن الله -عز وجل- دماء الناس وأعراضهم وأموالهم، بكل ما يكفل ردع المفسدين المعتدين.
فجعل عقوبة السارق -الذي أخذ المال من حرزه على وجه الاختفاء- قطع العضو الذي تناول به المال المسروق؛ ليكفر القطع ذنبه، وليرتدع هو وغيره عن الطرق الدنيئة، وينصرفوا إلى اكتساب المال من الطرق الشرعية الكريمة؛ فيكثر العمل، وتستخرج الثمار؛ فيعمر الكون، وتعز النفوس.
ومن حكمته -تعالى- أن جعل المقدار الأدنى الذي تقطع بسرقته اليد، ما يعادل ربع دينار من الذهب؛ حماية للأموال، وصيانة للحياة؛ ليستتب الأمن، وتطمئن النفوس، وينشر الناس أموالهم للكسب والاستثمار.
575;للہ عز و جل نے لوگوں کی جان، آبرو اور مال کو ان تمام ذرائع سے تحفظ فراہم کیا ہے، جو فسادی اور سرکش افراد کو (ان کی شر انگیزیوں سے) باز رکھنے کی ضمانت دیتے ہیں۔
چنانچہ اللہ نے چور کی سزا، جو مخفی طریقے سے مال کو اس کے محفوظ مقام سے لے اڑتا ہے، اس عضو کا کاٹنا متعین کی ہے، جس کے ذریعے وہ چرایا ہوا مال اٹھاتا ہے؛ تاکہ ہاتھ کاٹنا اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے اور آئندہ وہ اور دیگر لوگ (حصول مال کے) ان گھٹیا طریقوں سے باز رہیں اور شرعی اور باعزت طریقوں سے مال کمائیں، جس کے نتیجے میں کام کاج کو فروغ ملے، منافع کا حصول ہو، یہ عالم تعمیر و ترقی کی طرف بڑھے اور لوگ باعزت زندگی گزاریں۔
اللہ نے اپنی حکمت کے تقاضے کے تحت مال کی اس کم ترین مقدار کا تعین فرما دیا، جس کے چرانے پر ہاتھ کاٹا جائے گا، جو کہ سونے سے بنے دینار کے ایک چوتھائی کے مساوی ہے؛ تا کہ جان و مال محفوظ رہیں، امن کا دور دورہ ہو، دل پر سکون ہوں اور حصول رزق اور سرمایہ کاری کی غرض سے لوگ اپنا مال (بلا خوف و خطر) لگائیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2964

 
 
Hadith   44   الحديث
الأهمية: خُذِي مِنْ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ مَا يَكْفِيكِ وَيَكْفِي بَنِيكِ


Tema:

مناسب انداز سے اس کے مال میں سے اتنا لے لو، جو تمھیں اور تمھاری اولاد کے لیے کافی ہو۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: «دخلت هند بنت عُتْبَةَ- امرأَة أَبِي سفيان- على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقالت: يا رسول الله، إنَّ أَبَا سُفْيَان رَجُلٌ شَحِيحٌ، لا يُعْطِيني من النفقة ما يكفيني ويكفي بَنِيَّ، إلاَّ ما أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمِهِ، فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ مِنْ جُنَاحٍ؟ فَقَالَ رسول الله: خُذِي مِنْ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ مَا يَكْفِيكِ وَيَكْفِي بَنِيكِ».

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ھند بنت عُتبۃ رضی اللہ عنہا اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! ابوسفیان بخیل آدمی ہے، وہ مجھے اتنا نفقہ نہیں دیتا، جو میرے اور میرے بچوں کے لیے کافی ہو، تاہم میں اس کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ لے لیتی ہوں۔ کیا اس میں میرے اوپر کوئی گناہ ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مناسب انداز سے اس کے مال میں سے اتنا لے لو، جو تمھارے اور تمھاری اولاد کے لیے کافی ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اسْتَفْتَت هند بِنْتُ عُتْبَة رسول الله -صلَّى الله عليه وسلم- أَنَّ زوجها لا يعطيها ما يكفِيها هي وأَبناءها من النفقة، فهل لها أن تأخذ من مال زوجها أَبي سُفيان بغير علمه؟ فأفتاها بجواز ذلك إِذا أَخذت قَدْرَ الكفاية بالمعروف، أي دون زيادة وتعدي.
726;ند بنت عتبہ نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ مانگا کہ ان کا شوہر انھیں اتنا خرچ نہیں دیتا، جو ان کے اور ان کی اولاد کے لیے کافی ہو، تو کیا وہ اپنے شوہر ابو سفیان کے مال سے ان کی اجازت کے بغیر لے سکتی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مقدار اچھے طریقے سے لینے کے جواز کا فتویٰ دیا، جو ان کے لیے کافی ہو۔ یعنی زیادتی اور تعدی نہ ہو۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2965

 
 
Hadith   45   الحديث
الأهمية: دَبَّرَ رَجُلٌ مِنْ الأَنْصَارِ غُلاماً لَهُ


Tema:

ایک انصاری شخص نے اپنے ایک غلام کو مدبَّرْ قرار دے دیا۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- قال: دَبَّرَ رَجُلٌ مِنْ الأَنْصَارِ غُلاماً لَهُ-، وَفِي لَفْظٍ: بَلَغَ النَّبِيَّ -صلى الله عليه وسلم-: أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِهِ أَعْتَقَ غُلاماً لَهُ عنْ دُبُرٍ- لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَبَاعَهُ رَسُولُ الله بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ، ثُمَّ أَرْسَلَ ثَمَنَهُ إلَيْهِ.

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری شخص نے اپنے ایک غلام کو مدَبَّرْ (یعنی اسے اپنے مرنے کے بعد کی شرط کے ساتھ آزاد) قرار دے دیا۔ ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ: نبی ﷺ کو اطلاع ملی کہ آپ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص نے بطور مدبر اپنے ایک غلام کو آزاد کر دیا ہے۔ اس شخص کے پاس اس غلام کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے اس غلام کو آٹھ سو درہم کے عوض بیچ دیا اور ا س کی قیمت اس (انصاری) کی طرف بھجوا دی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
علق رجل من الأنصار عتق غلامه بموته، ولم يكن له مال غيره، فبلغ ذلك النبي -صلى الله عليه وسلم-، فَعَدَّ هذا العتق من التفريط، ولم يقرَّه على هذا الفعل، فردَّه وباع غلامه بثمانمائة درهم، أرسل بها إليه، فإن قيامه بنفسه وأهله أولى له وأفضل من العتق، ولئلا يكون عالَةً على الناس.
ومثل هذه الأحاديث فيها أحكام يتعرف عليها الإنسان ولو لم يعمل بها، ولا ينبغي أن يترك تعلمها وفهمها بحجة أنه لا يوجد رقيق اليوم، فإن الرق موجود في أماكن من أفريقيا، وقد يعود مرة أخرى، وكان موجودًا من قديم الزمان وحتى جاء الإسلام وبعد ذلك، ولكن الإسلام يتشوف للحرية والعتق إذا حصل الرق.
575;یک انصاری آدمی نے اپنے غلام کی آزادی کو اپنی موت کے ساتھ معلق کر دیا(اسی کو غلاموں کی تدبیر کہتے ہیں)۔ اس غلام کے علاوہ اس کے پاس کوئی دوسرا مال نہیں تھا۔ جب نبی ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ نے اس آزادی کو تفریط گردانتے ہوئے اس کے اس فعل کی تایید نہیں فرمائی بلکہ آپ ﷺ نےاسے مسترد کرتے ہوئے اس غلام کو آٹھ سو درہم کے عوض بیچ دیا اور یہ دراہم اس کی طرف بھیج دیئے۔ اس شخص کا اپنی اور اپنے اہل خانہ کی کفالت کرنا آزاد کرنے سے بہتر اور افضل تھا تاکہ وہ لوگوں کا دست نگر نہ ہو جائے۔
اس طرح کی احادیث میں ایسے احکام ہوتے ہیں جن سے انسان کو واقف ہو نا چاہیے، اگرچہ وہ ان پر عمل نہ ہی کرے۔ یہ مناسب نہیں کہ اس حجت کی بنا پر وہ انھیں سیکھنا اور سمجھنا ہی چھوڑ دے کہ آج کل غلام پائے ہی نہیں جاتے۔ غلامی افریقہ کے بعض علاقوں میں ابھی بھی موجود ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ پھر سے رائج ہو جائے جب کہ یہ قدیم زمانے سے لے کر اسلام کی آمد اور اس کے بعد تک موجود رہی ہے۔ تاہم غلامی کی صورت میں اسلام حریت اور آزادی کی طرف میلان رکھتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2966

 
 
Hadith   46   الحديث
الأهمية: رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ الله خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا


Tema:

جہاد میں ایک دن کی پہرے داری دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔

عن سهل بن سعد -رضي الله عنه- مرفوعًا: «رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ الله خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَالرَّوْحَةُ يَرُوحُهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ الله وَالْغَدْوَةُ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا».

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد میں ایک دن کی پہرے داری دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کے کوڑے کے برابر جنت کی جگہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، اور بندے کا ایک شام یا ایک صبح اللہ کے راستے میں نکلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- بأن مقام يوم في الرباط أو غدوة في سبيل الله وموضع سوط الواحد منهم في الجنة كل ذلك خير من الدنيا وما عليها، ذلك لأن الجنة باقية والدنيا فانية وقليل الباقي خير من كثير الفاني.
606;بی ﷺ نے فرمایا کہ ایک دن پہرے داری پر کھڑے رہنا یا ایک صبح اللہ کی راہ میں نکلنا اور جنت میں کسی کے کوڑے کے برابر جگہ ، یہ سب دنیا و مافیہا سے بہتر ہیں کیوں کہ جنت باقی رہنے والی جگہ ہے جب کہ دنیا فانی ہے اور تھوڑی باقی رہنے والی چیز بہت زیادہ فنا ہوجانے والی چیز سے بہتر ہوتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2967

 
 
Hadith   47   الحديث
الأهمية: سُئِلَ النَّبِيُّ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الأَمَةِ إذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ


Tema:

نبی ﷺ سے اس باندی کے بارے میں پوچھا گیا جو غیر شادی شدہ ہو اور زنا کا ارتکاب کر لے۔

عن أبي هُرَيْرة وزَيْدُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ -رضي الله عنهما- أنه سُئِلَ النَّبِيُّ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الأَمَةِ إذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ؟ قَالَ: «إنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ».
قالَ ابنُ شِهابٍ: «ولا أَدري، أَبَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعةِ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سے اس باندی کے بارے میں پوچھا گیا جو غیر شادی شدہ ہو اور زنا کا ارتکاب کر لے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے مارو۔ دوبارہ زنا کرے تو پھر کوڑے مارو اور اگر پھر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو اور پھر اسے بیچ دو خواہ ایک رسی ہی کے عوض بکے۔
ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ آیا تیسری دفعہ کے بعد بیچنے کا حکم دیا یا چوتھی دفعہ کے بعد۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سُئِلَ النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ حَدِّ الأَمَةِ إذا زَنَتْ ولَم تُحْصَنْ، أي لَم تتزوج، فأخْبَرَ -صَلَّى اللهُ عليه وسلم-: أَنَّ عَلَيْها الْجَلْدَ، وجَلْدُها نِصْفُ ما على الحُرَّة مِنَ الحَدِّ، فَيكُون خمسين جَلْدَة؛ لقوله تعالى: (فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ).
ثُمَّ إذا زَنَتْ ثانيةً، تُجْلَدُ خمسين جلدةً أيْضاً لَعَلَهَا تَرْتَدِع عَنِ الفَاحِشَة.
فإذا زَنَت الثالثة ولم يَرْدَعْها الحَدُّ ولم تَتُبْ إلى اللهِ -تعالى- وتَخْشَ الفَضِيحة حِينئذٍ فاجْلِدُوها الحدَّ وبِيْعُوها، ولو بأقلِّ ثَمَن وهو الحبل الرَّخِيص؛ لأنَّه لا خَيْر في بقائِها، وليس في اسْتقامَتها رجاءٌ قريب وبُعْدُها أوْلَى من قُرْبِها؛ لِئَلَّا تكون سَبَبَ شرٍّ في البيت الذي تُقيمُ فيه.
606;بی ﷺ سے اس باندی کی حد کے بارے میں دریافت کیا گیا جو محصنہ نہ ہو یعنی غیر شادی شدہ ہو اور زنا کر لے۔ نبی ﷺ نے بتایا کہ اسے کوڑے لگائے جائیں اور اسے لگائے جانے والے کوڑے آزاد عورت کی حد سے نصف ہوں گے یعنی پچاس کوڑے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ‘‘ (النساء:25)۔ ترجمہ:" پس جب یہ لونڈیاں نکاح میں آجائیں پھر اگر وه بے حیائی کا کام کریں تو انھیں آدھی سزا ہے اس سزا سے جو آزاد عورتوں کی ہے"۔ پھر اگر وہ دوبارہ زنا کرے تو اسے پھر پچاس کوڑے مارے جائیں تا کہ وہ بدکاری سے باز آ جائے۔ جب وہ تیسری دفعہ زنا کرے اور سزا اسے برائی سے باز نہ رکھ سکے اور نہ ہی وہ اللہ کے حضور تائب ہو اور تمھیں رسوائی کا ڈر ہو تو اس صورت میں اس پر کوڑوں کی سزا نافذ کر کے اسے بیچ دو اگرچہ کم ترین قیمت یعنی ایک ارزاں رسی ہی کے عوض بکے۔ کیونکہ نہ تو اس کے تمہارے پاس رہنے میں کوئی خیر ہے اور نہ ہی اس کے راہ راست پر آنے کی کچھ امید ہے۔چنانچہ اس کا دور رہنا قریب رہنے سے بہتر ہے تا کہ جس گھر میں وہ رہائش پذیر ہو اس کے بگاڑ کا باعث نہ بنے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2968

 
 
Hadith   48   الحديث
الأهمية: مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ الله هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ الله


Tema:

جو شخص اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہے صرف اسی کا لڑنا اللہ کے راستے میں ہے۔

عن أبي موسى الأشعري-رضي الله عنه- قال: «سُئِلَ رَسُولُ الله -صلى الله عليه وسلم- عَنْ الرَّجُلِ: يُقَاتِلُ شَجَاعَةً، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَيُقَاتِلُ رِيَاءً، أَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ الله؟ فَقَالَ رَسُولُ الله -صلى الله عليه وسلم-: مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ الله هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ الله».

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری کی نمائش کے لیے جنگ کرتا ہے، ایک شخص مجرد حمیت کی بنا پر لڑتا ہے اور ایک شخص محض دکھاوے کے لیے لڑتا ہے، ان میں سے کون اللہ کی راہ میں ہے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہے صرف اسی کا لڑنا اللہ کے راستے میں ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سأل رجل النبي -صلى الله عليه وسلم- عن الرجل يقاتل اًعداء الدين، ولكن الحامل له على القتال هو إظهار الشجاعة والإقدام أمام الناس.
وعن الرجل يقاتل حمية لقومه، أو لوطنه.
ويقاتل الثالث رياءً أمام أنظار الناس أنه من المجاهدين في سبيل الله المستحقين للثناء والتعظيم.
فمن المقاتل في سبيل الله من هؤلاء الثلاثة؟
فأجاب صلى الله عليه وسلم- بأوجز عبارة وأجمع معنى، وهي: أن من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا، فهو الذي في سبيل الله، وما عدا هذا، فليس في سبيل الله، لأنه قاتل لغرض آخر.
والأعمال مترتبة على النيات، في صلاحها وفسادها، وهذا عام في جميع الأعمال فالأثر فيها للنية، صلاحاً وفسادا، وأدلة هذا المعنى كثيرة.
575;یک شخص نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ ایک ایسا آدمی ہے جو دشمنانِ دین سے لڑتا ہے تاہم لوگوں کے سامنے بہادری اور دلیری کا اظہار کرنا اسے لڑنے پر ابھارتا ہے، اسی طرح ایک ایسا شخص ہے جو اپنی قوم اور وطن کی حمیت میں لڑتا ہے اور تیسرا شخص لوگوں کو یہ دکھانے کے لیے لڑتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ان لوگوں میں سے ہے جو تعریف و تعظیم کے مستحق ہوتے ہیں، ان تینوں میں سے کون سا شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے؟ آپ ﷺ نے مختصر لیکن جامع ترین الفاظ میں جواب دیا کہ صرف وہی جہاد فی سبیل اللہ کرنے والا ہے جو اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہے۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے وہ اللہ کی راہ میں لڑنے والا نہیں ہوگا کیونکہ اس کا لڑنا کسی اور مقصد کے لیے تھا۔
اعمال کے اچھے یا برے ہونے کا مدار نیتوں پر ہوتا ہے۔تمام اعمال میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ ان کے اچھے یا برے ہونے میں نیت کی تاثیر ہوتی ہے۔ اس معنی پر دلالت کرنے والی بہت سی دلیلیں موجود ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2969

 
 
Hadith   49   الحديث
الأهمية: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ -رضي الله عنهما-، شَكَوَا الْقَمْلَ إلَى رَسُولِ الله -صلى الله عليه وسلم-


Tema:

عبدالرحمن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے جوؤں کی شکایت کی۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ -رضي الله عنهم-، شَكَوَا الْقَمْلَ إلَى رَسُولِ الله -صلى الله عليه وسلم- فِي غَزَاةٍ لَهُمَا فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قَمِيصِ الْحَرِيرِ وَرَأَيْته عَلَيْهِمَا.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک غزوہ میں عبدالرحمن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے جوؤں کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے انھیں ریشمی قمیص پہننے کی اجازت دے دی اور میں نے انھیں ریشمی قمیص پہنے ہوئے دیکھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من يسر الدين الإسلامي أنه يرخص في الشيء المحرم لعلة توجب الترخيص وقد رخص الشارع -صلى الله عليه وسلم- للزبير وعبدالرحمن -رضي الله عنهما-  في لبس قمص الحرير مع كونه محرَّمًا على الرجال لكونه يدفع القمل بما جعل الله -سبحانه وتعالى- فيه من الطبيعة المنافية لذلك وكذلك فيه دواء للحكة، وكذلك كل من كان مثلهما.
583;ینِ اسلام کی فراہم کردہ آسانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ کسی ایسی علت کی بنا پر جس کی وجہ سے رخصت (چھوٹ) ضروری ہو جائے یہ حرام اشیاء کی بھی رخصت دے دیتا ہے۔ شارع علیہ السلام نے ریشم کے مردوں پر حرام ہونے کے باوجود زبیر رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو ریشم کی قمیصیں پہننے کی رخصت دی کیونکہ ریشم جوؤں کو دور کرتا ہے اس لیے کہ قدرتی طور پر اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا ہی ایسے ہے کہ اس میں جوؤں کا توڑ اور خارش کا علاج ہے۔ یہ رخصت ہر اُس شخص کو شامل ہے، جس کی حالت ان صحابہ جیسی ہو۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2970

 
 
Hadith   50   الحديث
الأهمية: ضَحَّى النَّبِيُّ -صلى الله عليه وسلم-  بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقَرْنَيْنِ


Tema:

نبی ﷺ نے دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے اپنے ہاتھ سے قربان کیے۔

عن أنس بن مالكٍ -رضي الله عنه- قال: «ضَحَّى النَّبِيُّ -صلى الله عليه وسلم-  بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقَرْنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا».

انس ابن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے اپنے ہاتھ سے قربان کیے۔ (ذبح کرتے ہوئے) آپ ﷺ نے بسم اللہ پڑھی، تکبیر کہی اور اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا ۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من تأكد الأضحية أن النبي -صلى الله عليه وسلم- حث عليها وفعلها -صلى الله عليه وسلم-، فقد ضحى بكبشين، في لونهما بياض وسواد ولكل منهما قرنان.
فذبحها بيده الشريفة لأنها عبادة جليلة قام بها بنفسه، وذكر اسم الله -تعالى- عندها استعانة بالله لتحل بها البركة ويشيعها الخير، وكبر الله -تعالى- لتعظيمه وإجلاله، وإفراده بالعبادة، وإظهار الضعف والخضوع بين يديه -تبارك وتعالى-.
بما أن إحسان الذبحة مطلوب -رحمة بالذبيحة، بسرعة إزهاق روحها- فقد وضع رجله الكريمة على صفاحهما، لئلا يضطربا عند الذبح، فتطول مدة ذبحهما، فيكون تعذيباً لهما، والله رحيم بخلقه.
602;ربانی کی تاکید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ نبی ﷺ نے اس کی ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ خود بھی قربانی کی۔ آپ ﷺ نے دو مینڈھے قربان کیے جن کا رنگ کالا اور سفید تھا اور وہ سینگوں والے تھے۔
آپ ﷺ نے اپنے دست اقدس سے انھیں ذبح کیا کیوں کہ یہ ایک بہت ہی جلیل القدر عبادت ہے اس لیے آپ ﷺ نے بذاتِ خود اسے سرانجام دیا۔ ذبح کرتے وقت آپ ﷺ نے اللہ کی مدد کے حصول کے لیے اللہ کا نام لیا تاکہ اس سے برکت کا نزول ہو اور خیر اس کی ہمر کاب ہو۔اللہ کی بڑائی اور اس کی عظمت کے بیان کے لیے، عبادت کو تن تنہا اسی کے ساتھ خاص کرنے کے لیے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے کمزوری اور فروتنی کے اظہار کے لیے آپ ﷺ نے اللہ اکبر کہا۔ چوں کہ ذبیحہ پر رحم کے تقاضے کے تحت اس کی روح جلد نکال کر اسے اچھے انداز میں ذبح کرنا مطلوب ہے اس لیے آپ ﷺنے اپنا پاؤں مبارک ان کے پہلوؤں پر رکھا تاکہ وہ ذبح کرتے ہوئے ہلنے نہ پائیں اس لیے کہ ہلنے کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ ان کے ذبح ہونے میں زیادہ وقت لگے جس سے انھیں تکلیف پہنچے۔ اللہ اپنی مخلوق پر بہت ہی رحم کرنے والا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2971

 
 
Hadith   51   الحديث
الأهمية: عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ الله-صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ أُحُدٍ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ؛ فَلَمْ يُجِزْنِي


Tema:

غزوۂ احد کے موقع پر مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا جب کہ میری عمر چودہ سال تھی۔ آپ ﷺ نے مجھے (جنگ میں شرکت کی) اجازت نہ دی۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- قال: «عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ الله -صلى الله عليه وسلم- يوم أُحُدٍ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ؛ فَلَمْ يُجِزْنِي، وعرضت عليه يوم الخندق، وأنا ابنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَأَجَازَنِي».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ”غزوہ احد کے موقع پر مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا جب کہ میری عمر چودہ سال تھی۔ آپ ﷺ نے مجھے (جنگ میں شرکت کی) اجازت نہ دی۔ غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ میں پندرہ سال کا تھا مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے مجھے (جنگ میں شرکت کی) اجازت دے دی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر عبد الله بن عمر -رضي الله عنه- أنه عُرض للذهاب إلى الغزو على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- -من باب عرض العسكر على الأمير- في وقعة أحد، وكانت في السنة الثالثة من الهجرة، وعمره أربع عشرة سنة، فرده النبي -صلى الله عليه وسلم- من الذهاب إلى الحرب؛ لصغره، ثم عرض عليه في عام الخندق وكانت في السنة الخامسة، وعمره خمس عشرة سنة، فأجازه النبي -صلى الله عليه وسلم- في المقاتلة، فلعله كان يوم أحد في أول الرابعة عشر، ويوم الخندق في آخر الخامسة عشر.
593;بد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ احد کے موقع پر جنگ میں جانے کے لیے انھیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا جیسا کہ فوجیوں کو امیر لشکر کے سامنے جائزے کے لحے پیش کیا جاتا ہے۔ غزوۂ احد ہجرت کے تیسرے سال ہوا تھا جب کہ ان کی عمر چودہ سال تھی۔ نبی ﷺ نے انہیں جنگ میں جانے سے روک دیا کیونکہ وہ چھوٹے تھے۔ غزوہ خندق جو ہجرت کے پانچویں سال پیش آیا اس میں جب انھیں نبی ﷺ کے سامنے پیش گیا تو وہ پندرہ سال کے ہو چکے تھے چنانچہ نبی ﷺ نے انھیں لڑائی میں شرکت کی اجازت دے دی۔ شاید کہ وہ جنگ احد کے موقع پر چودھویں سال کے آغاز میں تھے اور جنگ خندق کے موقع پر پندہویں سال کے آخر میں تھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2972

 
 
Hadith   52   الحديث
الأهمية: غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ الله، أَوْ رَوْحَةٌ: خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَت


Tema:

اللہ کی راہ میں صبح یا شام نکلنا ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے۔

عن أبُي أَيُوب الأنصَارِيّ -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ الله، أَوْ رَوْحَةٌ: خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ».
عن أنس -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ الله، أَوْ رَوْحَةٌ: خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا».

ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”اللہ کی راہ میں صبح یا شام نکلنا ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے“۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے صبح یا شام چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذان الحديثان يظهران فضل الجهاد في سبيل الله، ولو كان يسيرًا بقدر الغدوة أو الروحة، فكيف بالكثير الذي فيه مصابرة للأعداء ومقارعة لهم؟، وهذا هو الأصل في المراد بسبيل الله: أنه الجهاد باليد للكفار.
وينبغي أن يعلم أن طلب العلم الشَّرعي نوع عظيم من الجهاد في سبيل الله، وأن الانتصار للحق، ودحض حجج الزنادقة والملحدين والغربيين المبشرين الذين يحاربون الإسلام، ويريدون القضاء عليه، هو من أعظم الجهاد في سبيل الله.
فالقصد من الجهاد، إظهار الإسلام ونصره، فكَبتُ هؤلاء، من الجهاد الكبير العظيم، اللهم وفق المسلمين لنصر دينهم، وإعلاء كلمتك، إنك قريب مجيب.
575;ن دونوں احادیث میں جہاد فی سبیل اللہ کی فضلیت کا بیان ہے؛ اگرچہ اس کی مدت بہت کم، یعنی ایک صبح یا ایک شام کے لیے ہی ہو۔ پھر اندازہ کیجیے کہ لمبا جہاد، جس میں دشمنوں کے سامنے ثابت قدم رہنا پڑتا ہے اور ان کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے، اس کی کیا فضیلت ہو گی؟ ”سبیل اللہ“ سے در اصل کفار سے ہاتھ کے ذریعہ جہاد ہی مراد ہے۔
یہاں یہ جان لینا چاہیے کہ شرعی علم کا حصول جہاد فی سبیل اللہ کی ایک بہت بڑی قسم ہے۔ حق کو غالب کرنا اور زندیق و ملحد لوگوں اور مغربی عیسائی مبلغین کے دلائل کا رد کرنا، جو اسلام کے خلاف برسرپیکار رہتے ہیں اور اسے مٹانے کی ناپاک کوششیں کرتے ہیں، در اصل یہ جہاد فی سبیل اللہ کی سب سے بڑی قسم ہے۔
جہاد سے مقصود اسلام کا غلبہ اور اس کی نصرت ہے۔ چنانچہ اس طرح کے لوگوں کا سدباب کرنا ایک عظیم جہاد ہے۔ اے اللہ! مسلمانوں کو توفیق عطا فرما کہ وہ اپنے دین کی نصرت کریں اور تیرے حکم کو سربلند کریں۔ بے شک تو بہت قریب اور دعا قبول کرنے والا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2973

 
 
Hadith   53   الحديث
الأهمية: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ الله؟ قَالَ: لا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ، فَأَكَلْتُهُ، وَالنَّبِيُّ -صلى الله عليه وسلم-  يَنْظُرُ


Tema:

اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، لیکن میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے۔ خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا اور نبی ﷺ دیکھ رہے تھے۔

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ -رضي الله عنهما- قَالَ: «دخلت أنا وخالد بن الوليد مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بيت ميمونة، فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَى إلَيْهِ رَسُولُ الله -صلى الله عليه وسلم- بِيَدِهِ، فقال بعض النِّسْوَةِ في بيت ميمونة: أخبروا رسول الله بما يريد أن يأكل، فرفع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يده، فقلت: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ الله؟ قَالَ: لا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ، قال خالد: فَاجْتَرَرْتُهُ، فَأَكَلْتُهُ، وَالنَّبِيُّ -صلى الله عليه وسلم- يَنْظُرُ».

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، تو آپ کی خدمت میں بھنا ہوا گوہ لایا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا، تو میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود بعض عورتوں نے کہا: نبی کریم ﷺ کو اس چیز کے بارے میں بتادو، جسے آپ کھانا چاہتے ہیں۔ (لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! یہ گوہ ہے) تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں! لیکن میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے“۔ خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا اور نبی ﷺ دیکھ رہے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جَاءَت أُمُّ حَفِيد بِنتُ الحارِث، وهِي هُزَيلَة بنت الحارث جاءَت إلى أُخْتِهَا مَيْمُونَة زَائِرَةً لَها ومَعها شَيءٌ من الهدَايا وكان من ضِمْن الهدَايا ضَبٌّ، وقَدْ حَضَرَ ذَلِكَ الْغَدَاء أَبْنَاءُ أَخوَات ميمونة،  فخالد بن الوليد هُو ابن أُخْتِها؛ ميمُونة خَالَتُه، وعبدالله بن عباس والفضل بن عباس هي خالتُهما أيضاً.
ولما وُضِعَ الغَدَاءُ ومَدَّ النبي -صلى الله عليه وسلم- يَدَهُ إلى اللحْمِ لِيَأْكُل منْه قالت نِسْوَةٌ ممن في البيت أخْبِرُوا رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- بما يريد أنْ يَأْكُل، فقِيلَ لَه: إنَّه لَحمُ ضب فرفع يدَه ولم يأكل فقال له خالد: أحرامٌ هو يا رسول الله؟ قَال: لا ولكنه لم يكُن بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُني أعافُهُ، أي: أتقذر منه قال خالد: فاجتررته فأكلته والنبي -صلى الله عليه وسلم- ينظر.
575;م حفید بنت حارث ، جو ھزیلہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ہیں، اپنی بہن میمونہ رضی اللہ عنہا سے ملنے آئیں۔ ان کے ساتھ کچھ ہدایا وتحائف بھی تھے۔ ہدایا کے ضمن میں ایک گوہ بھی تھا۔ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجوں نے اسے دوپہر کے کہانے میں پیش کیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ میمونہ رضی اللہ عنہ کی بہن کے لڑکے تھے؛ اس طرح وہ ان کی خالہ تھیں۔ عبد اللہ بن عباس اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کی بھی یہ خالہ تھیں۔ جب دسترخوان بچھایا گیا، تو نبی ﷺ نے گوشت لینے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا؛ تاکہ گوشت تناول فرمائیں۔ اتنے میں گھر میں موجود کسی عورت نے کہا: نبی کریم ﷺ کو اس چیز کے بارے میں بتا دو، جو آپ کھانا چاہتے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ اللہ کے رسول ! یہ گوہ کا گوشت ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا اور نہیں کھایا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’نہیں! لیکن یہ میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا؛ اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے‘۔ خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا اور نبی ﷺ دیکھ رہے تھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2974

 
 
Hadith   54   الحديث
الأهمية: كُنَّا عند أبي موسى الأشعريّ -رضي الله عنه- فَدَعَا بِمَائِدَةٍ، وعليها لَحْمُ دَجَاجٍ


Tema:

ہم ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ انھوں نے کھانا منگوایا، جس میں مرغی کا گوشت تھا۔

عن زَهْدَم بن مُضَرِّبٍ الْجَرْمي قالَ: «كنا عند أبي موسى الأشعري، فدعا بمائدة وعليها لحم دجاج، فدخل رجل من بني تَيْمِ الله أَحْمَرُ، شَبِيهٌ بِالمَوَالِي، فقال له: هَلُمَّ، فَتَلَكَّأَ، فقال له: هَلُمَّ، فإني رأيتُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يأكل منه».

زہدم بن مضرب جرمی نے بیان کیا کہ ہم ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھےکہ انھوں نے کھانا منگوایا، جس میں مرغی کا گوشت تھا۔ اتنے میں سرخ رنگت اور غلاموں جیسی مشابہت رکھنے والا، قبیلہ بنو تیم اللہ کا ایک شخص بھی حاضر ہوا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ تم بھی شریک ہو جاؤ۔ اس نے پس و پیش کا اظہار کیا، تو ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اس سے پھر کہا کہ تم بھی شریک ہوجاؤ؛ کیوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يروي زَهْدَمُ بن مُضَرِّب الجَرْمِي أنه كان هو وقوم معه عند أبي موسى الأشعري، فدَعا بمائدَة فجِيء بها إليهم وعليها لحم دجاج، فدخل رجل مِنْ بَنِي تَيم الله أحْمر اللون شبيه بالموالي -يعني الأعاجم-،  فقال له أبو موسى داعيًا له إلى الطعام: هلم إلى الغداء فتلكأ وأبى أن يأتي، فقال له أبو موسى: إني رأيت رسول الله يأكل منه.
586;ھدم بن مضرب روایت کرتے ہیں کہ وہ اور ان کے ہم راہ کچھ لوگ، ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ انھوں نے کھانا منگوایا اور جب لوگوں کے روبرو کھانا رکھا گیا، تو دیکھا گیا کہ اس میں مرغی کا گوشت تھا۔ اتنے میں سرخ رنگت اور غلاموں -یعنی عجمی لوگ- جیسی مشابہت رکھنے والا، قبیلہ بنو تیم اللہ کا ایک شخص بھی حاضر ہوا۔ چنانچہ ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اس کو کھانے میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ کھانے پر آجاؤ۔ اس شخص نے پس وپیش کرتے ہوئے کھانے میں شریک ہونے سے انکار کردیا، تو ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مرغی کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2975

 
 
Hadith   55   الحديث
الأهمية: قَاتَلَ الله الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ، فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا


Tema:

اللہ تعالیٰ، یہود کو برباد کرے کہ ان پر چربی حرام کی گئی تھی، لیکن انھوں نے اسے پگھلا کر فروخت کر دیا۔

عن عبد الله بن عباسٍ -رضي الله عنهما- قال: بلغَ عمرَ -رضي الله عنه- أن فلانًا باعَ خمرًا. فقال: قاتلَ الله فلانًا! ألم يعلم أن رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "قاتلَ الله اليهودَ، حُرِّمت عليهم الشُّحومُ، فجَمَلُوها، فباعُوها".

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ فلاں شخص نے شراب فروخت کی ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ فلاں کو اللہ تعالیٰ تباہ و برباد کرے! کیا اسے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ ان پر چربی حرام کی گئی تھی، لیکن انھوں نے اسے پگھلا کر فروخت کر دیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بلغ عمر بن الخطاب -رضي الله عنه-: أن رجلا أراد التحيُّل على الانتفاع بالخمر من غير شربها فباعها.
وهذه حيلة مكشوفة محرمة، ولذا فإن عمر -رضي الله عنه- دعا عليه دعاء كدعاء النبي -صلى الله عليه وسلم- على اليهود المتحيلين فقال: قاتله الله، ألم يعلم أن التحيُّل حرام؟ لأنه مخادعة اللَه ورسوله، فقد قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "قاتل الله اليهود، لما حرم الله عليهم الشحوم، عمدوا إلى الانتفاع بها بالحيلة، إذ غَيَّروا الشحم عن صفته، فأذابوه، ثم باعوه، فأكلوا ثمنه وقالوا -تحيُّلًا وخداعًا-: "لم نأكل الشحم المحرم علينا" وهم يخادعون الله وهو خادعهم.
593;مر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ ایک شخص نے حیلہ سازی کے ارادے سے شراب فروخت کرکے نفع خوری کی تاہم اس نے اس کو پیا نہیں۔
ایسی حیلہ سازی بالکلیہ حرام ہے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ویسی ہی بد دعا دی، جیسی نبی ﷺ نے حیلہ سازی کرنے والے یہودیوں کو دی تھی۔ نیز عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو برباد کردے، کیا اس کو معلوم نہیں کہ حیلہ سازی کرنا حرام ہے؛ کیوں کہ اس میں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دھوکہ بازی ہے اور اس ضمن میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان بھی موجود ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:" اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا، تو انھوں نے اس سے نفع خوری کے لیے حیلہ سازی کا سہارا لیا؛ کیوں کہ انھوں نے چربی کی صفت و کیفیت میں تبدیلی کردی، اس کو پگھلایا اور پھر اس کو فروخت کرتے ہوئے اس کی قیمت کو کھایا اور -حیلہ سازی اور دھوکہ بازی اپناتے ہوئے- انھوں نے کہا: "ہم نے حرام کردہ چربی تونہیں کھائی" اور اس گمان میں رہے کہ وہ اللہ سے چال بازیاں کر رہے ہیں اور اللہ انھیں اس چال بازی کا بدلہ دینے واﻻ ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2976

 
 
Hadith   56   الحديث
الأهمية: قال سليمان بن دَاوُد -عليهما السلام-: لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ على سبعينَ امرأةً، تَلِدُ كُلُّ امرأة منهن غُلامًا يُقاتل في سبيل الله


Tema:

سلیمان بن داؤد علیھما السلام نے کہا: آج رات میں ستر (70) بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر عورت ایک ایسا بچہ جنے گی، جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔

عن أبي هُريرة -رضي الله عنه- عن النبيِّ -صلى الله عليه وسلم- قال: "قال سليمان بن داود -عليهما السلام-: لَأَطُوفنَّ الليلةَ على سَبْعينَ امرأةً، تَلِدُ كلُّ امرأةٍ منهن غُلامًا يقاتلُ في سبيلِ الله، فقِيل له: قل: إن شاءَ الله، فلم يَقُلْ، فطافَ بهنَّ، فلم تَلِدْ منهن إلا امرأةٌ واحدةٌ نصفَ إنسانٍ". قال: فقال رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم-: "لو قالَ: إن شاء الله لم يَحْنَثْ، وكان دَرَكًا لحاجتهِ".

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سلیمان بن داؤد علیھما السلام نے کہا کہ :آج رات میں ستر (70) بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر عورت ایک ایسا بچہ جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔، ان سے کہا گیا: آپ ”اِن شاء اللہ“ کہیں، لیکن انہوں نے نہیں کہا۔ سلیمان علیہ السلام اپنی عورتوں کے پاس گئے تو ان میں سے صرف ایک عورت نے آدھا بچہ جنا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”اگر انہوں نے اِن شاء اللہ کہا ہوتا تو وہ قسم توڑنے والے نہیں ہوتے اور اپنی حاجت پا لینے میں کامیاب بھی رہتے۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال نبي الله سليمان -عليه السلام- لجلِيسِه: إنه سيطوف في ليلة واحدة عَلى سَبعين امرأةٍ من زوجاته ويُجامعهن، وكان التعدد بهذا القدر جائزًا في شريعته أو من خصائصه، والنية أن تَلِدَ كُلُّ واحدة منهنَّ غُلاماً يُقَاتِل في سبيل الله -تعالى-، فقال له جليسُه: قل: إن شاء الله، فنسي ولم يقل وطاف بنسائِه كما قال، ولم تَلِد منهنَّ إلا امْرأة واحدة نصفَ إنسانٍ، أي سقطًا غير مكتمل الخلقة، وقد أخبر النبي -صلى الله عليه وسلم-  أنَّ سليمان -عليه السلام- لَو قال: إن شاء الله، لم يحنث في يمينه، ولكَان قوله هذا سبباً لإدْرَاكِ حَاجَتِه وتحقيق رغبته.
575;للہ کے نبی سلیمان علیہ السلام نے اپنے ہم نشیں سے کہا کہ وہ ایک رات اپنی ستر (70) بیویوں کے پاس جاکر ان کے ساتھ جماع کریں گے۔ خیال رہے کہ ان کی شریعت میں یا ان کی خصوصیات میں سے یہ بات تھی کہ اس قدر تعداد میں بیویوں سے نکاح جائز تھا۔ ان کی نیت یہ تھی کہ ان میں سے ہر بیوی کے بطن سے ایک ایک مجاہد پیدا ہو۔ چنانچہ ان کے ایک ہم نشیں ورفیق کار نے ان سے کہا کہ آپ ”اِن شاء اللہ“ کہہ لیں، تاہم وہ یہ کہنا بھول گئے اور اپنے عزم کے مطابق، اپنی بیویوں کے پاس چلے گئے، نتیجتا ان کی تمام بیویوں میں سے محض ایک بیوی نے ایک آدھے یعنی ادھوری اور نامکمل تخلیق کےحامل بچے کو جنم دیا۔ نبی ﷺ نے اس حدیث میں اس بات سے آگاہ فرمایا ہے کہ اگر سلیمان علیہ السلام ”ان شاء اللہ“ کہہے ہوتے، تو اپنی قسم توڑنے والے نہ ہوتے اور یہ کلمۂ استثنا کہنا، ان کی حاجت و ضرورت کو پالینے اور ان کی خواہش کو پایۂ ثبوت تک پہنچانے کا سبب بن جاتا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2977

 
 
Hadith   57   الحديث
الأهمية: أنَّ رَسُولَ الله -صلى الله عليه وسلم- قَسَمَ فِي النَّفَلِ: لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے گھوڑے کو دو حصے دیے اور اس کے سوار کو ایک حصہ دیا۔

عن عبد الله بن عمر-رضي الله عنهما- «أَنَّ رَسُولَ الله -صلى الله عليه وسلم- قَسَمَ فِي النَّفَلِ: لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے گھوڑے کو دو حصے دیے اور اس کے سوار کو ایک حصہ دیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قسم في النفل للفرس سهمين وللرجل سهماً، أي أن المجاهد الذي يشارك في الحرب بقرسه يأخذ ثلاثة أضعاف من يشارك بلا فرس، ذلك بأن غَنَاء وإثخان الفرس في الحرب أكثر من غَنَاء وإثخان الرجل وحده بدون فرس، وقد أشار إلى ذلك القرآن الكريم حيث يقول الله -عز وجل-: (فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحاً فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعاً فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعاً) [العاديات: 3- 5]، في هذا تنويه بالخيل، وإشارة إلى غنائها في الحرب، وقد قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: (الخيل في نواصيها الخير إلى يوم القيامة) رواه بلفظه: البخاري (ح2849) ومسلم (ح1871).
593;بد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بىان كررہے ہیں کہ نبی ﷺ نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے گھوڑے کے دو حصے اور آدمی کا ایک حصہ رکھا؛ یعنی وہ مجاہد جو جنگ میں اپنے گھوڑے کے ساتھ شریک ہوتا ہے وہ تین گنا زیادہ حصہ لیتا ہے اس مجاہد کے بنسبت جو بغیر گھوڑے کے شریک ہوتا ہے۔ کیوںکہ جنگ میں گھوڑا اس آدمی کی بہ نسبت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے اور زیادہ لڑتا ہے جس کے پاس گھوڑا نہ ہو۔ قرآن کریم میں بھی اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ”فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحاً فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعاً فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعاً“ (العاديات: 3-5) ترجمہ: پھر صبح کے وقت دھاوا بولنے والوں کی قسم، پس اس وقت گرد وغبار اڑاتے ہیں، پھر اسی کے ساتھ فوجیوں کے درمیان گھس جاتے ہیں۔ اس آیت میں گھوڑے کی تعریف ہے اور جنگ میں اس کے فائدے کی طرف اشارہ ہے۔ اور نبی ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے بھلائی رکھ دی گئی ہے“۔ ان الفاظ کے ساتھ اس حدیث کو امام بخاری (حدیث نمبر: 2849) اور امام مسلم (حديث نمبر: 1871) نے روایت کیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2978

 
 
Hadith   58   الحديث
الأهمية: أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ


Tema:

اگر اپنے مال کا ایک حصہ اپنے پاس ہی باقی رکھو تو تمہارے حق میں یہ بہتر ہے۔

عن كَعْب بن مالك -رضي الله عنه- قال: قلتُ: يا رسولَ الله، إن مِن تَوبتي أن أَنْخَلِعَ مِنْ مالي؛ صدقةً إلى الله وإلى رسولِه، فقال رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم-: "أمسِكْ عليك بعضَ مالِكَ؛ فهو خيرٌ لكَ".

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری توبہ قبول ہونے کا شکرانہ یہ ہے کہ میں اپنا مال، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے راستے میں دے دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اپنے مال کا ایک حصہ اپنے پاس ہی باقی رکھو، تو تمھارے حق میں یہ بہتر ہوگا۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان كعب بن مالك الأنصاري -رضي الله عنه- أحد الثلاثة الذين خُلِّفُوا عن غزوة تبوك بلا نفاق ولا عذر، فلما رجع النبي -صلى الله عليه وسلم- من تلك الغزوة، هجرهم، وأمر أصحابه بهجرهم، ومازالوا مهجورين، حتى نزلت توبتهم ورضي الله عنهم، فرضي الرسول والصحابة، فكان من شدة فرح كعب برضا الله عنه وقبول توبته أن أراد أن يتصدق بكل ماله لوجه الله -تعالى-، فأرشده النبي -صلى الله عليه وسلم- إلى غير ذلك بأن يمسك بعض ماله، فالله -تعالى- لما علم صدق نيته وحسن توبته، غفر له ذنبه، وتجاوز عنه، ولو لم يفعل هذا، فالله لا يكلف نفساً إلا وسعها، وقد أنفق بعض ماله، فرحا برضا الله -تعالى-، وليجد ثوابه مُدَّخراً عنده وأبقى بعضه، ليقوم بمصالحه ونفقاته الواجبة من مؤونة نفسه، ومؤونة من يعول، والله رؤوف بعباده.
705;عب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ، ان تین صحابہ میں سے ایک تھے، جو غزوۂ تبوک میں پیچھے رہ گئے اور پیچھے رہ جانے کی وجہ کسی طرح کا نفاق یا عذر نہیں تھا۔ جب نبی ﷺ کی اس غزوے سے واپسی ہوئی، تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ قطع تعلق فرمالیا اور اپنے صحابہ کو بھی ان سے قطع تعلق کرنے کی ہدایت فرمادی۔ یہ قطع تعلقی کا سلسلہ جاری رہا، تاآں کہ سورۂ توبہ نازل ہوئی اور انھیں اللہ تعالیٰ کی رضامندی نصیب ہوئی اور رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام بھی ان سے راضی ہو گئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور توبے کی قبولیت سے کعب رضی اللہ عنہ اس قدر فرحاں و شادماں ہوئے کہ اپنے سارے مال کو اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی میں صدقہ کرنے کا عزم کرلیا، تاہم نبی ﷺ نے انھیں اس سے باز رہنے کی رہ نمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے پاس کچھ مال رکھ لو۔ چوں کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں جب یہ بات آگئی کہ وہ اپنی نیت میں بالکل راست باز اور ان کی توبہ خالص ہے، تو اس نے ان کے گناہ بخش دیے اور ان کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ فرمایا۔ ایسے میں وہ یہ صدقہ نہ بھی کرتے (تو کوئی فرق نہیں پڑتا)، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده کا مکلف نہیں بناتا۔ پھر انھوں نے اللہ کی رضا وخوش نودی سے خوش ہوکر اپنا کچھ مال صدقہ کردیا؛ تاکہ اپنے پروردگار کے پاس اجر و ثواب کے ذخائر کا ذخیرہ ہو اور کچھ مال اپنے پاس رکھ چھوڑا؛ تاکہ اپنے مصالح جیسے خود اپنے اور اپنے اہل و عیال کے واجب نفقات پر خرچ کر سکیں۔ اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2979

 
 
Hadith   59   الحديث
الأهمية: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ الله -عَزَّ وَجَلَّ- وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ


Tema:

جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کے مال کو ہتھیا لے اور اس کی نیت بری ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا۔

عن الأشعث بنِ قيسٍ قال: كان بيني وبين رجُلٍ خُصومةٌ في بئرٍ، فاخْتصمْنا إلى رسولِ الله -صلى الله عليه وسلم- فقال رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم-: "شاهِداك، أو يمينهُ"، قلتُ: إذًا يحلِف ولا يُبالي! فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "مَن حَلف على يمينِ صَبْرٍ، يَقْتَطِعُ بها مالَ امرىءٍ مُسلمٍ، هو فيها فاجِرٌ، لَقِيَ الله وهو عليه غضبانُ".

اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے اور ایک شخص کے درمیان ایک کنویں کو لے کر جھگڑا تھا، چنانچہ ہم دونوں اس مقدمے کے فیصلے کے لیے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”تم دو گواہ لاؤ، ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہوگا“۔ میں نے عرض کیا: وہ تو قسم کھالے گا اور کچھ پروا نہ کرے گا! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کے مال کو ہتھیا لے اور اس کی نیت بری ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث تضَمَّن قصة  الأَشْعَث بن قَيْس حين تشاجَرَ مع خَصْم لَهُ بِسبب بِئْرٍ فتحَاكَمَا إلى رسولِ الله -صلى الله عليه وسلم- فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-:" شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ"، فظَن الأشعَث بنُ قَيْسٍ أنّ خَصْمَهُ يَحْلِف ولا يهمُّه ما الإثمُ في ذلك فأخْبَرَ رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم- بذلك فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ......الحديث
وفي هذا الحديث وعيد شديد لمن اقتطع مال امرئ بغير حق، وإنما اقتطعه وأخذه بخصومته الفاجرة، ويمينه الكاذبة الآثمة، فهذا يلقى الله وهو عليه غضبان، ومن غضب اللَه عليه فهو هالك.
575;س حدیث میں اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے قصہ بیان ہوا ہے کہ جب ان کا اور ان ایک شخص سے ایک کنویں کو لے کر جھگڑا پیدا ہوگیا، تو وہ اس جھگڑے کے تصفیے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”یا تم دو گواہ لاؤ، ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہوگا!“ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کا گمان تھا کہ ان کا مخالف قسم کھالے گا اور اسے اس کے گناہ کی چنداں پروا نہ ہوگی۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس امکان کا اظہار بھی کردیا۔ چنانچہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کے مال کو ہتھیا لے...“۔
اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے سخت قسم کی وعید ہے، جو کسی شخص کا مال ناحق ہڑپ لیتے ہیں، وہ اپنے گناہ آمیز جھگڑے اور جھوٹی قسم کے ذریعے اس پر قبضہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جب اللہ تعالیٰ سے ملیں گے، تو وہ ان پر سخت غضب ناک ہوگا اور جس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوگیا، اس کی ہلاکت میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2980

 
 
Hadith   60   الحديث
الأهمية: عَبْدِي بَادَرَنِي بِنَفْسِهِ، حَرَّمْت عَلَيْهِ الْجَنَّة


Tema:

میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے پاس لانے میں جلدی کی چنانچہ میں نے اس پر جنت حرام کر دی۔

جُنْدُبُ بن عبد اللهِ البجلي -رضي الله عنه- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم -: «كان فيمن كان قبلكم رجل به جُرْحٌ فَجَزِعَ؛ فأخذ سكِّينا فحَزَّ بها يده، فما رَقَأَ الدم حتى مات، قال الله -عز وجل-: عبدي بَادَرَنِي بنفسه، حرمت عليه الجنة».

جندب بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جسے ایک زخم لاحق تھا۔ وہ اسے برداشت نہ کر سکا چنانچہ اس نے ایک چھری لی اور اس سے اپنا ہاتھ کاٹ لیا۔ خون نہ رکنے کی وجہ سے وہ مر گیا۔اللہ عز و جل نے فرمایا: میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے پاس لانے میں جلدی کی چنانچہ میں نے اس پر جنت حرام کر دی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
حدَّثَ النبي -صلى الله عليه وسلم- أصحابَه عن رجلٍ كان فيْمَن قَبلَنا من الأمم الماضية فيه جُرْحٌ مؤلمٌ جَزِع منه، فأَيِسَ من رحمة الله -تعالى- وشفائه، ولم يصبر على ألمه رجاءَ ثوابه؛ لضعفِ داعي الإيمان واليقين في قلبه، فأخذ سكيناً فقطع بها يده، فأصابه نزيف في دمه، فلم يرقأْ وينقطع حتى مات.
قال الله -تعالى- ما معناه: هذا عبدي استبطأ رحمتي وشفائي، ولم يكن له جَلَدٌ على بلائي؛ فعَجَّل إليَّ نفسَه بجنايته المحرمة، وظنَّ أنه قصَّر أجله بقتله نفسه؛ لذا فقد حرمت عليه الجنة، ومن حرم الجنة؛ فالنار مثواه.
ولا شك في علم الله -تعالى- السابق ومشيئته وقضائه لفعل هذا القاتل.
606;بی ﷺ نے اپنے صحابہ کو ہم سے پہلے گزر جانے والی قوموں میں سے ایک آدمی کے بارے میں بتایا جو ایک بہت ہی المناک قسم کے زخم میں مبتلا تھا جسے وہ برداشت نہ کر سکا۔ اپنے ایمان اور یقینِ قلب کی کمزوری کی وجہ سے وہ اللہ کی رحمت اور اس کی شفا سے مایوس ہو گیا اور یہ نہ کر سکا کہ اللہ سے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اس زخم کی تکلیف پر صبر کرتا۔ چنانچہ اس نے ایک چھری لے کر اس سے اپنا ہاتھ کاٹ لیا۔ جس کی وجہ سے اس کا خون بہنا شروع ہو گیا جو رکا ہی نہیں یہاں تک کہ اس کی موت واقع ہو گئی۔
اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس بندے نے میری رحمت اور شفا کو بعید جانا اور میری طرف سے آنے والی آزمائش پر صبر و استقلال کا مظاہرہ نہ کیا اور اس فعلِ حرام کا ارتکاب کرتے ہوئے اپنی روح کو میری طرف بھیجنے میں جلدی کی اور یہ گمان کیا کہ خود کو مار کر کے اس نے اپنے مدتِ عمر کو کم کر دیا ہے چنانچہ میں نے (اس جرم کی پاداش میں) اس کے لیے جنت حرام کر دی۔ اس لیے دوزخ اس کا ٹھکانہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کی پیشگی علم اور اس کی مشیئت و قضا میں اس قاتل کا یہ فعل پہلے سے موجود تھا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2981

 
 
Hadith   61   الحديث
الأهمية: أَنَّ رَسُولَ الله-صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ فِي السَّرَايَا لأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً سِوَى قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ


Tema:

رسول الله ﷺ بعض سرایا کے موقع پر اس میں شریک ہونے والوں کو غنیمت کے عام حصوں کے علاوہ اپنے طور پر بھی دیا کرتے تھے۔

عن عَبْدُ الله بن عمر-رضي الله عنهما- «أَنَّ رَسُولَ الله-صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ فِي السَّرَايَا لأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً سِوَى قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ بعض مہموں (سرایا) کے موقع پر اس میں شریک ہونے والوں کو غنیمت کے عام حصوں کے علاوہ اپنے طور پر بھی دیا کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان يُنَفِّل بعضَ مَن يبعث في السرايا لأنفسهم خاصة، أي: يعطيهم نسبةً مما غنموا خاصة بهم دون سائر الجيش؛ وذلك تشجيعاً وحفزاً لهم على الجهاد.
593;بد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جہاد کے لیے جو دستے بھیجا کرتے تھے انھیں بطورِ خاص دوسرے لشکر والوں کی بہ نسبت مال غنیمت میں سے کچھ زیادہ دیا کرتے تھے۔ ایسا ان میں حوصلہ پیدا کرنے اور جہاد پر انہیں ابھارنے کے لیے کیا جاتا تھا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2982

 
 
Hadith   62   الحديث
الأهمية: كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ: مِمَّا أَفَاءَ الله عَلَى رَسُولِهِ -صلى الله عليه وسلم- مِمَّا لَمْ يُوجِفْ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلا رِكَابٍ


Tema:

بنی نضیر کے اموال وہ تھے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بغیر لڑائی کے عطا کیے تھے۔ مسلمانوں نے ان کے لیے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے۔

عن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- قال: «كانت أموال بَنِي النَّضِيرِ: مِمَّا أَفَاءَ الله على رسوله -صلى الله عليه وسلم- مِمَّا لم يُوجِفْ الْمسلمون عليه بِخَيْلٍ وَلا رِكَابٍ وكانت لرسول الله خالصاً، فكان رسول الله-صلى الله عليه وسلم- يَعْزِلُ نفقة أَهْلِهِ سَنَةً، ثُمَّ يجعل مَا بقي في الْكُرَاعِ، وَالسلاحِ عُدَّةً فِي سبيل الله -عز وجل-».

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: ”بنی نضیر کے اموال وہ تھے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو بغیر لڑائی کے دیا تھا۔ مسلمانوں نے اس کے لیے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے۔ ان اموال کا خرچ کرنا خاص طور سے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ اس میں سے ازواج مطہرات کا سالانہ خرچ دیتے تھے اور جو باقی بچ جاتا، اسے اللہ عزوجل کے راستے میں جہاد کے لیے گھوڑوں اور سامان جنگ کے حصول میں لگا دیتے تھے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لما قدم النبي -صلى الله عليه وسلم- المدينة مهاجراً، وجد حولها طوائف من اليهود، فوادعهم وهادنهم، على أن يبقيهم على دينهم، ولا يحاربوه، ولا يعينوا عليه عَدُوا.
فقتل رجل من الصحابة يقال له عمرو بن أمية الضمري -رضي الله عنه- رجلين من بنى عامر، يظنهما من أعداء المسلمين.
فتحمل النبي -صلى الله عليه وسلم- دية الرجلين، وخرج إلى قرية بنى النضير يستعينهم على الديتين.
فبينما هو جالس في أحد أسواقهم ينتظر إعانتهم، إذ نكثوا العهد وأرادوا قتله.
فجاءه الوحي من السماء بغدرهم، فخرج من قريتهم مُوهِماً لهم وللحاضرين من أصحابه أنه قام لقضاء حاجته، وتوجه إلى المدينة.
فلما أبطأ على أصحابه، خرجوا في أثره فأخبرهم بغدر اليهود- قبَّحَهُمُ الله تعالى- وحاصرهم في قريتهم ستة أيام، حتى تمَّ الاتفاق على أن يخرجوا إلى الشام والحِيرَة وخَيبَرَ.
فكانت أموالهم فَيْئاً بارداً، حصل بلا مشقة تلحق المسلمين، إذ لم يُوجِفُوا عليه بخيل ولا ركاب.
فكانت أموالهم لله ولرسوله، يَدَخِّرُ منها رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قوت أهله لمدة سنة، ويصرف الباقي في مصالح المسلمين العامة، وأولاها في ذلك الوقت عُدةُ الجهاد من الخيل والسلاح، ولكل وقت ما يناسبه من المصارف للمصالح العامة.
606;بی ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے، تو آپ کا سامنا مدینے کے گرد ونواح میں آباد یہودی قبائل سے ہوا۔ آپ ﷺ نے ان سے اس شرط پر صلح کرلی کہ وہ اپنے دین پر رہیں گے اور آپ سے جنگ نہیں کریں گے اور نہ ہی آپ کے خلاف کسی دشمن کی مدد کریں گے۔
اتفاقا ایک صحابی نے جن کا نام عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ تھا، بنی عامر کے دو آدمیوں کو یہ سمجھ کر قتل کر دیا کہ وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔
نبی ﷺ نے ان دونوں آدمیوں کی دیت دینے کی ذمہ داری اٹھائی اور بنی نضیر کی بستی کی طرف ان سے دیت کی ادائیگی میں مدد طلب کرنے کے لیے تشریف لے گئے۔
آپ ﷺ ان کی مدد کے انتظار میں ان کے ایک بازار میں تشریف فرما تھے کہ انہوں نے عہد توڑتے ہوئے آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا۔
اسی درمیان آسمان سے ان کی غداری کی خبر دینے کے لئے وحی نازل ہوگئ۔ تو آپ ﷺ ان کی بستی سے انہیں اور وہاں موجود صحابہ کو یہ باور کراتے ہوئے نکل گئے کہ آپ قضاے حاجت کے لیے جا رہے ہیں۔ وہاں سے نکل کر آپ ﷺ نے مدینے کا رخ کیا۔
جب آپ نے اپنے صحابہ کے پاس آنے میں دیر کر دی تو آپ کے پیچھے وہ بھی چل پڑے۔ آپ ﷺ نے انہیں یہودیوں کی غداری کی خبر دی۔ قبحھم اللہ۔ اور اس کی پاداش میں آپﷺ نے ان کی بستی کا چھے دن تک محاصرہ کیے رکھا۔ یہاں تک کہ یہ معاہدہ طے پایا کہ وہ شام، حیرہ اور خیبر کی طرف چلے جائیں گے۔ چنانچہ ان کے اموال خوش گوار مال فے تھے، جو مسلمانوں کو بغیر کسی کد و کاوش کے حاصل ہو گئے تھے؛ کیوں کہ انہوں نے اس کے لیے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑاۓ تھے۔
ان سے حاصل شدہ یہ اموال اللہ اور اس کے رسول کا حق تھے۔ انہی میں سے رسول اللہﷺ اپنے گھر والوں کا سال بھر کا راشن رکھتے اور باقی ماندہ کو مسلمانوں کے عمومی مصالح میں لگا دیتے۔ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت جہاد کے لیے سازو سامان یعنی گھوڑوں اور اونٹوں کی ہوا کرتی تھی۔ جب کہ ہر زمانے میں عمومی مصالح کے اپنے خاص مصارف ہوتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2983

 
 
Hadith   63   الحديث
الأهمية: مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ الله عَلَيْهِ، فَكُلُوهُ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفْرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفْرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ


Tema:

جو چیز خون بہادے اور ذبح کرتے وقت اس پر اللہ تعالیٰ کا نام بھی لیا گیا ہو، تو اس کا گوشت کھاؤ۔ البتہ وہ چیز (جس سے ذبح کیا گیا ہو) دانت اور ناخن نہ ہونا چاہیے۔ میں تمھیں اس کی وجہ بھی بیان کردیتا ہوں؛ دانت تو اس لیے نہیں کہ وہ ہڈی ہے اور ناخن اس لیے نہیں کہ وہ حبشیوں کی چھری ہے۔

عن رَافِع بْن خَدِيج -رضي الله عنه- قال: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ الله-صلى الله عليه وسلم- بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ، فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ فَأَصَابُوا إبِلاً وَغَنَماً، وَكَانَ النَّبِيُّ -صلى الله عليه وسلم- فِي أُخْرَيَاتِ الْقَوْمِ، فَعَجِلُوا وَذَبَحُوا وَنَصَبُوا الْقُدُورَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ -صلى الله عليه وسلم- بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ فَعَدَلَ عَشَرَةً مِنْ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ، فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ خَيْلٌ يَسِيرَةٌ، فَأَهْوَى رَجُلٌ مِنْهُمْ بِسَهْمٍ، فَحَبَسَهُ الله، فَقَالَ: إنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا نَدَّ عَلَيْكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا، قُلْتُ: يَا رَسُولُ الله، إنَّا لاقُو الْعَدُوِّ غَداً، وَلَيْسَ مَعَنَا مُدىً، أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ؟ قَالَ: مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ الله عَلَيْهِ، فَكُلُوهُ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفْرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفْرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ».

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مقام ذوالحلیفہ میں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ کیا۔ لوگ بھوکے تھے۔ ادھر غنیمت میں ہمیں اونٹ اور بکریاں ملی تھیں۔ نبی کریمﷺ لشکر کے پچھلے حصے میں تھے۔ لوگوں نے ( بھوک کے مارے) جلد بازی سے کام لیا، جانور ذبح کیے اور ہانڈیاں چڑھادیں۔ بعد میں نبی کریم ﷺ کے حکم سے ان ہانڈیوں کو الٹ دیا گیا۔ پھر آپ (ﷺ) نے غنیمت کی تقسیم شروع کی، دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھا۔ اتفاق سے مال غنیمت کا ایک اونٹ بھاگ نکلا۔ لوگ اسے پکڑنے کے لیے دوڑے، لیکن اونٹ نے سب کو تھکادیا ۔ آخر ایک صحابی (خود رافع رضی اللہ عنہ) نے اسے تیرمارا ۔ اللہ کے حکم سے اونٹ جہاں تھا، وہیں رہ گیا۔ اس پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان ( پالتو) جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح بعض دفعہ وحشت ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر ان میں سے کوئی قابو میں نہ آئے، تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو“۔ میں ( رافع رضی اللہ عنہ ) نے خدمت نبوی میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! کل ہماری دشمن سے مڈبھیڑ ہو سکتی ہے۔ ادھر ہمارے پاس چھری بھی نہیں ہے، توکیا ہم بانس کی کھپچیوں سے ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز خون بہادے اور ذبح کرتے وقت اس پر اللہ تعالیٰ کا نام بھی لیا گیا ہو، تو اس کا گوشت کھاؤ۔ البتہ وہ چیز (جس سے ذبح کیا گیا ہو) دانت اور ناخن نہ ہونا چاہیے۔ میں تمھیں اس کی وجہ بھی بیان کردیتا ہوں؛ دانت تو اس لیے نہیں کہ وہ ہڈی ہے اور ناخن اس لیے نہیں کہ وہ حبشیوں کی چھری ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر رافع بن خديج -رضي الله عنهما- أنهم كانوا في غزوة من الغزوات مع النبي -صلى الله عليه وسلم- بمكان يقال له: ذو الحليفة، وأنهم أصابوا نعماً كثيرة، فذبحوا من تلك النعم قبل قسمته ولم ينتظروا القسمة، وكان النبي -صلى الله عليه وسلم- متأخراً فأتى إليهم وقد نصبوا القدور، فعمد إلى القدور فكفأها ورملها، أي: حشاها بالتراب، وقال: إن النهبة ليست بأحل من الميتة، ثم قسم فعدل البعير بعشر من الغنم، وحينئذ ذبح كل منهم مما أصاب، أي: من نصيبه الخاص به، ففر بعير منها ولم يقدروا عليه؛ لقلة الخيل، ورماه رجل بسهم فحبسه الله، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: إن لهذه البهائم أوابد كأوابد الوحش، فما ند عليكم منها فاصنعوا به هكذا.
ثم سألوا النبي -صلى الله عليه وسلم- عن الذبح بأي وسيلة، فأخبرهم أن كل ما يسيل الدم، واقترن مع الذبح التسمية، فهو مما يجوز الأكل به، ولكن الظفر سواء كان متصلًا بيد الإنسان أو منفصلًا  من إنسان أو غيره فلا يجوز؛ لأنها سكاكين الكفار، وكذلك السن لا تجوز التذكية به؛ لأنه عظم.
585;افع بن خدیج رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی غزوے میں ایک جگہ پر تھے، جیسے ذوالحلیفہ کہا جاتا ہے۔ ان کے پاس بہت سارے جانور تھے۔ انھوں نے ان کی تقسیم کا انتظار کیے بغیر ،تقسیم سے پہلے ہی ان کو ذبح کر دیا۔ رسول اللہﷺ پیچھے تھے، جب پہنچے تو لوگوں نے ہانڈیاں چڑھا دی تھیں۔ آپ ہانڈیوں کے پاس جاکر انھیں انڈیل دیا اور مٹی ڈال دی۔ نیز فرمایا: لوٹ مار کا مال مردار سے زیادہ حلال نہیں ہے! پھر آپﷺ نے مال غنیمت تقسیم کیا اور ایک اونٹ کے برابر دس بکریاں مقرر کیں۔ پھر لوگوں نے اپنے اپنے حصے کے جانور ذبح کیے۔ ان جانوروں میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا اور گھوڑوں کی قلت کی وجہ سے وہ اسے قابو میں نہ کر سکے۔ ایک آدمی نے اسے تیر مارا اور اللہ کے حکم سے وہ وہی رک گیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ان ( پالتو ) جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح بعض دفعہ وحشت ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر کوئی جانور قابو میں نہ آئے، تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔
پھر رسول اللہﷺ سے یہ پوچھا گیا کہ ذبح کس طریقے سے کیا جائے؟ تو ان کو بتایا کہ ہر وہ چیز جس سے خون بہنا شروع ہو جائے اور ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو، اس کا کھانا جائز ہے۔ جب کہ ناخن چاہے وہ انسانی ہاتھ کے ساتھ ہو یا الگ، اس سے ذبح کرنا جائز نہیں؛ کیوں کہ یہ کافر وں کی چھری ہے اور دانت سے ذبح کرنا بھی جائز نہیں ہے اس لیے کہ وہ ہڈی ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2984

 
 
Hadith   64   الحديث
الأهمية: لا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَلا الدِّيبَاجَ، وَلا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهِمَا؛ فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الآخِرَةِ


Tema:

ریشم و دیباج نہ پہنو اور نہ سونے اور چاندی کے برتن میں کچھ پیؤ اور نہ ہی ان سے بنی پلیٹوں میں کچھ کھاؤ۔ یہ دنیا میں ان (کفار) کے لیے اور آخرت میں تمہارے لیے ہیں۔

عن حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ -رضي الله عنهما- مرفوعاً: «لا تلْبَسُوا الحرير ولا الديباج، ولا تشربوا في آنية الذهب والفضة ولا تأكلوا في صِحَافِهِمَا؛ فإنَّهَا لهم في الدنيا ولكم في الآخرة».

حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ریشم و دیباج نہ پہنو اور نہ سونے اور چاندی کے برتن میں کچھ پیؤ اور نہ ہی ان سے بنی پلیٹوں میں کچھ کھاؤ۔ یہ دنیا میں ان (کفار) کے لیے اور آخرت میں تمہارے لیے ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- الرجال عن لُبس الحرير والديباج؛ لما في لبسهما للذكَر من الميوعة والتأنث، والتشبه بالنساء الناعمات المترفات.
والرجل يطلب منه الخشونة والقوة والفتوة.
كما نهى كُلًّا من الرجال والنساء عن الأكل والشرب في صِحَاف الذهب والفضة وآنيتهما؛ والحكمة كما قال -صلى الله عليه وسلم-: أن الأكل فيهما في الدنيا للكفار الذين تعجلوا طيباتهم في حياتهم الدنيا، واستمتعوا بها، وهي لكم -أيها المسلمون خالصة- يوم القيامة إذا اجتنبتموها؛ خوفاً من الله -تعالى- وطمعًا فيما عنده، فمنعًا من التشبه بهم وامتثالًا لأمر الله -تعالى- حُرِّمت.
كما أن من لبس الحرير من الرجال في الدنيا فقد تعجل متعته؛ ولذا فإنه لن يلبسه في الآخرة، ومن تعجل شيئاً قبل أوانه بطريق محرم عوقب بحرمانه والله شديد العقاب.
606;بی ﷺ نے مردوں کو ریشم اور دیباج پہننے سے منع فرمایا کیوں کہ مرد کے اسے پہننے میں نزاکت اور زنخے پن کا اظہار ہوتا ہے اور نازک مزاج و عیش پرست عورتوں سے مشابہت ہوتی ہے۔ جب کہ مرد میں خشونت، قوت اور مردانگی کی صفات ہونی چاہئیں۔ اسی طرح نبی ﷺ نے مرد و عورت دونوں کو سونے اور چاندی کی پلیٹوں اور برتنوں میں کھانے پینے سے منع فرمایا۔ اس ممانعت کی حکمت آپ ﷺ نے خود بیان کی کہ دنیا میں ان برتنوں میں کھانا کفار کے لیے ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی اپنی من پسند اشیاء سے لطف اندوز ہو لیتے ہیں اور اگر تم اللہ کے خوف اور اس کے پاس جو نعمتیں ہیں ان کی چاہت میں ان کے استعمال سے پرہیز کرو گے تو روزِ قیامت یہ صرف اور صرف تمہارے لیے یعنی مسلمانوں کے لیے ہوں گی۔ چنانچہ کفار کی مشابہت سے بچنے اور اللہ کے حکم کی تعمیل میں ان کا استعمال حرام ہے۔
اسی طرح جو مرد دنیا میں ریشم پہنتا ہے وہ پہلے ہی لطف اندوز ہو لیتا ہے اس لیے آخرت میں وہ اسے بالکل بھی نہیں پہن سکے گا۔جو شخص وقت سے پہلے حرام طریقے سے کوئی چیز حاصل کر لے اس کی سزا یہ ہے کہ اسے اس چیز سے محروم کر دیا جائے۔ اور اللہ بہت سخت سزا دینے والا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2985

 
 
Hadith   65   الحديث
الأهمية: لا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ؛ فَإِنَّهُ مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ


Tema:

ریشم نہ پہنو۔ اس لیے کہ جس نے دنیا میں اسے پہنا وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا۔

عن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: «لا تَلْبَسُوا الحَرِير؛ فَإِنَّهُ مَنْ لَبِسَهُ في الدنيا لم يَلبَسه في الآخرة».

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ریشم نہ پہنو۔ اس لیے کہ جس نے دنیا میں اسے پہنا وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث نهي عن لبس الحرير للرجال، وأن عقوبة لابسه أنه لا يلبسه في الآخرة؛ لأن الجزاء من جنس العمل.
575;س حدیث میں مردوں کے لیے ریشم پہننے کی ممانعت اور اس بات کا بیان ہے کہ اسے پہننے والے کی سزا یہ ہے کہ وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا کیوں کہ جزاء ویسی ہی ہوتی ہے جیسا عمل ہو۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2986

 
 
Hadith   66   الحديث
الأهمية: لا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشَرَةِ أَسْوَاطٍ إلاَّ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ الله


Tema:

حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔

عن أبي بردة هانئ بن نيار البلوي -رضي الله عنه-: أنه سمع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «لا يُجْلَدُ فوق عشَرة أَسْواط إلا في حَدٍّ مِن حُدود الله».

ابو بردۃ ھانی بن نیار بلوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يراد بحدود الله -تعالى- أوامره ونواهيه، فهذه لها عقوبات رادعة عنها، إما مقدرة، كالزنا والقذف أو غيره مقدرة، كالإفطار في نهار رمضان، ومنع الزكاة، وغير ذلك من قبل المحرمات، أو ترك الواجبات.
وهناك تأديبات وتعزيرات للنساء والصبيان، لغير معصية الله، إنما تفعل لتقويمهم وتهذيبهم، فهذه لا يزاد فيها على عشرة أسواط، ما داموا لم يتركوا واجبًا من واجبات دينهم، أو يفعلوا محرمًا عليهم من ربهم.
575;للہ تعالیٰ کے حدود سے مراد اس کے اوامر اور نواہی ہیں۔ ان کے لیے کچھ عبرتناک سزائیں مقرر ہیں۔ یہ یا تو معین سزائیں ہیں، جیسے زناکاری اور بہتان تراشی۔ یا غیر معین، جیسے ماہ رمضان میں دن کے وقت کھانا، زکاۃ ادا کرنے سے انکار کر دینا اور دیگر حرام کردہ امور کا ارتکاب کرنا یا واجبات کو ترک کردینا۔
اللہ تعالیٰ کی معصیت و نافرمانی سے ہٹ کر بھی خواتین اور بچوں کے لیے کچھ تادیبی اور تعزیری سزائیں ہیں، جو ان کے اصلاح احوال اور انھیں تہذیب کے دائرے میں رکھنے کی غرض سے دی جاتی ہیں۔ خیال رہے کہ یہ تعزیری سزائیں دس کوڑوں سے زائد نہیں ہوسکتیں، الا یہ کہ وہ اپنے کسی دینی واجب کو چھوڑ دیں یا اپنے پروردگار کی جانب سے حرام کردہ کسی امر کا ارتکاب کربیٹھیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2987

 
 
Hadith   67   الحديث
الأهمية: لايَحْكُمْ أَحَدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ


Tema:

کوئی شخص دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔

عن عبد الرحمن بن أبي بكرة قال: «كتب أبي -أو كتبتُ له- إلى ابنه عبيد الله بن أبي بَكْرَةَ وَهُوَ قَاضٍ بِسِجِسْتَانَ: أَنْ لا تَحْكُمْ بَيْنَ اثْنَيْنِ وأنت غضبان، فإني سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: لايحكم أحد بين اثنين وهو غضبان».
وَفِي رِوَايَةٍ: «لا يَقْضِيَنَّ حَكَمٌ بين اثْنَيْنِ وهو غَضْبَانُ».

593;بدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے لکھا یا میں نے ان کے لیے ان کے فرزند عبیداللہ بن ابی بکرہ کے نام لکھا، جب کہ وہ سجستان کے قاضی تھے: تم دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کوئی شخص دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے“۔
اور ایک روایت میں ہے:”کوئی ثالث دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہ کرے، جب وہ غصہ میں ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نَهى الشارع الحكيم أنْ يحكم الحاكِم بَيْنَ النَّاسِ وَهُو غَضْبَان؛ ذلك لأَنَّ الغَضَبَ يُؤَثر على التوازُن الشخصي للإنسان فلذلك لا يُؤْمَن أَنْ يَظْلِمً أَوْ يُخطِئ الصَّواب في حالِ غَضَبِهِ؛ فَيَكُون ذَلِكَ ظُلْماً على المحْكُومِ عَلَيْهِ وحَسْرَةً عَلى الحاكِمِ وإثماً عليه.
588;ارع حکیم نے حاکم کو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ کرنے سے روکا ہے؛ کیوں کہ غصہ آدمی کی شخصیت اور توازن پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایسے میں اس بات کا خدشہ رہتا ہے کہ وہ غصہ کی حالت میں ظؒلم کربیٹھے یا صحیح کوغلط قرار دے ڈالے۔ اس طرح یہ محکوم پر ظلم ہوگا اورحاکم خسارہ وگناہ اٹھائے گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2988

 
 
Hadith   68   الحديث
الأهمية: لَوْ أَنَّ رَجُلاً -أَوْ قَالَ: امْرَأً- اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إذْنِكَ؛ فَحَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ، فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ: مَا كَانَ عَلَيْك جُنَاحٌ


Tema:

اگر کوئی آدمی یا پھر آپ ﷺ نے (”رَجُلٌ“ کے بجائے) ”امرأ“ کا لفظ بولا ــــــــــ تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں جھانک کر دیکھے او ر تم کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پرکوئی مواخذہ نہیں۔

عن أبي هُريرة -رضي اللهُ عنه- مرفوعًا: «لو أن رجلا -أو قال: امْرَأً- اطَّلَعَ عليك بغير إِذْنِكَ؛ فَحَذَفْتَهُ بحَصَاةٍ، فَفَقَأْتَ عينه: ما كان عليك جُنَاحٌ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”اگر کوئی آدمی یا پھر آپ ﷺ نے (”رَجُلٌ“ کے بجائے) ”امرأ“ کا لفظ بولاــــــــــــــ تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں جھانک کر دیکھے اور تم کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پرکوئی مواخذہ نہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه إذا اطلع إنسانٌ على أحدٍ بغير إذنه من وراء بابه، أو من فوق جداره، أو غير ذلك، ففقأ عينه بأن يرمي حصاة؛ فتصيب عينه، أو أن يطعن عينه بحديدة، فليس على هذا المتلِف إثمٌ ولا قصاصٌ؛ لأن الناظر هو المتعدي والجاني بفعله هذا.
606;بی ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی کی اجازت کے بغیر اس کے دروازے کے پیچھے سے یا دیوار وغیرہ کے اوپر سے جھانکے اور وہ کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دے یا پھر اس کی آنکھ میں کوئی آہنی چیز گھونپ دے تو اس آنکھ تلف کرنے والےکو نہ تو کوئی گناہ ہو گا اور نہ ہی اس پر اس کا قصاص آئے گا کیوں کہ زیادتی اور جرم کا ارتکاب اس جھانکنے والے شخص کی طرف سے ہوا ہے، جس نے ایسا کیا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2989

 
 
Hadith   69   الحديث
الأهمية: مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ الله


Tema:

میں نے کسی دراز گیسوؤں والے شخص کو سرخ لباس میں ملبوس کسی شخص کو رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر حسین نہیں دیکھا.

عن البراء بن عازب -رضي الله عنهما- قال: «ما رأيتُ من ذِي لِمَّةٍ في حُلَّةٍ حَمْرَاءَ أحسنَ من رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، له شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ، بعيدُ ما بين المَنْكِبَيْنِ، ليس بالقصير ولا بالطويل».

براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی دراز گیسوؤں والے شخص کو سرخ لباس میں ملبوس کسی شخص کو رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر حسین نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ کے بال شانوں کو چھوتے تھے، آپ ﷺ کا سینہ چوڑا تھا، نہ تو آپ ﷺ کا قد چھوٹا تھا اور نہ ہی لمبا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
وصف البراء بن عازب -رضي الله عنهما- نبي الله -صلوات الله وسلامه عليه- في هذا الحديث وصفًا يدل على حسنه وجماله، فأخبر أنه لم ير أحدًا شعره يصل إلى شحمة أذنيه، ويلبس حلة حمراء أحسن من رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، ثم ذكر شيئًا من وصفه، فأخبر أنه كان بعيد المنكبين، ولم يكن معيبًا لا بالطول ولا بالقصر-صلى الله عليه وسلم-.
575;س حدیث میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی ﷺ کا ایسے انداز میں حلیہ مبارک بیان کر رہے ہیں جو آپ ﷺ کے حسن و جمال پر دلالت کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ حسین کبھی کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جس کے بال اس کی کانوں کی لو تک آ رہے ہوں اور وہ سرخ جبے میں ملبوس ہو۔ پھر آپ ﷺ کا کچھ حلیہ مبارک بیان کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ آپ ﷺ کے شانے دور تھے (یعنی آپ ﷺ کا سینہ کشادہ تھا) اور آپ ﷺ نہ تو دراز قد تھے اور نہ ہی کوتاہ قد ۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2990

 
 
Hadith   70   الحديث
الأهمية: مَا مِنْ مَكْلُومٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ الله، إلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَكَلْمُهُ يَدْمَى: اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ، وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ


Tema:

جو شخص بھی اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے زخمی ہوا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا جس کا رنگ تو خون جیسا ہو گا لیکن خوشبو مشک کی سی ہو گی۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-: «ما من مَكْلُومٍ يُكْلَمُ في سبيل الله، إلا جاء يومَ القيامة، وكَلْمُهُ يَدْمَى: اللَّونُ لَوْنُ الدَّمِ، والرِّيحُ رِيحُ المِسْكِ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بھی اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے زخمی ہوا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا جس کا رنگ تو خون جیسا ہوگا لیکن خوشبو مشک کی سی ہوگی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يُبَينُ النبي -صلى الله عليه وسلم- فضل الجهاد في سبيل الله -تعالى- وما ينال صاحبه، من حسن المثوبة، بأن الذي يجرح في سبيل الله فيُقْتَلُ أو يبرأ، يأتي يوم القيامة على رؤوس الخلائق بِوِسَام الجهاد والبلاء فيه، إذ يجيء بجرحه طَريًّا، فيه لون الدم، وتفوح منه رائحة المسك.
606;بی ﷺ جہاد فی سبیل اللہ کی فضلیت اور اس بہترین ثواب کو بیان فرما رہے ہیں جو جہاد کرنے والے کو ملے گا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہوا زخمی ہو جائے اور پھر یا تو اس کی موت واقع ہو جائے یا وہ صحت یاب ہو جائے ( توہر دو صورتوں میں) وہ روز قیامت تمام لوگوں کے سامنےجرأت و بہادری کے ساتھ جہاد کرنے کا تمغہ سجائے آئے گا۔ اس کا زخم بالکل تازہ ہو گا جس کا رنگ تو خون کا ہوگا لیکن اس سے خوشبو مشک کی پھوٹ رہی ہو گی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2991

 
 
Hadith   71   الحديث
الأهمية: مَنْ أَعْتَقَ شِرْكاً لَهُ فِي عَبْدٍ، فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ؛ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ، وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ


Tema:

جو شخص کسی غلام میں اپنے حصہ کو آزاد کر دے ، تو کسی عادل شخص سے غلام کی قیمت لگوائی جائے گی اور اس کے بقیہ شرکا کے حصے کی قیمت بھی اسے ادا کرنی ہو گی ، بشرطے کہ اس کے پاس غلام کی قیمت کے بقدر مال ہو۔ اس طرح پورا غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا...

عن عَبْدُ الله بن عمر-رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «مَن أَعْتَقَ شِرْكًا له في عَبْدٍ, فكان له مالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ العَبْدِ: قُوِّمَ عليه قِيمَةَ عَدْلٍ , فأعطى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ, وعَتَقَ عليه العَبْدُ , وإلا فقد عَتَقَ منه ما عَتَقَ».

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دے ، تو کسی عادل شخص سے غلام کی قیمت لگوائی جائے گی اور اس کے بقیہ شرکا کے حصے کی قیمت بھی اسے ادا کرنی ہو گی، بشرطے کہ اس کے پاس اس قدر مال ہو جتنی غلام کی قیمت ہے اور اس طرح پورا غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا؛ لیکن اگر اس کے پاس مال نہ ہو، تو ایسی صورت میں بس اسی قدر غلام آزاد ہو گا، جتنا اس نے آزاد کیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من كان له شراكة، ولو قليلة، في عبد، أو أمة، ثم أعتق جزءا منه، عتق نصيبه بنفس الإعتاق، فإن كان المعتق موسرا -بحيث يستطيع دفع قيمة نصيب شريكه- عتق العبد كله، نصيب المعتق ونصيب شريكه، وينظر قيمة نصيب شريكه التي تساويها في السوق وأعطى شريكه القيمة.
وإن لم يكن موسرا -بحيث لا يملك قيمة نصيب صاحبه- فلا إضرار على صاحبه، فيعتق نصيبه فقط، ويبقى نصيب شريكه رقيقا كما كان.
580;و شخص کا کسی غلام یا لونڈی میں حصہ ہو، خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، پھر وہ اپنے حصے کے بقدر آزاد کردے، تو اس کے آزاد کرنے کی وجہ سے اس کے حصے کی آزادی عمل میں آ جائے گی۔ اب اگر آزاد کرنے والا اپنے شراکت داروں کی قیمت ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے، تو وہ غلام کو اپنے اور شریک کے حصے سے مکمل آزادی دلائے گا اور اپنے شریک کے حصے کی قیمت مارکیٹ کی قیمت کے مطابق دے گا۔
اوراگر وہ شریک کے حصے کی قیمت ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہے، تو غلام کی آزادی پر کوئی نقص واقع نہیں ہوگا۔ وہ صرف اس کے حصے کے بقدر آزاد ہوگا اور اس کے شریک کے حصے کے بقدر غلام کی غلامی برقرار رہے گی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2992

 
 
Hadith   72   الحديث
الأهمية: مَنْ أَعْتَقَ شِقْصَاً مِنْ مَمْلُوكٍ، فَعَلَيْهِ خَلاصُهُ كُلُّهُ فِي مَالِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ؛ قُوِّمَ الْمَمْلُوكُ قِيمَةَ عَدْلٍ


Tema:

جو شخص مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اسے چاہیے کہ اپنے مال کے ذریعے غلام کو پوری آزادی دلا دے۔ لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو، تو انصاف کے ساتھ غلام کی قیمت لگائی جائے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «من أعتق شِقْصَاً مِنْ مملوك، فعليهِ خَلاصُهُ كله في ماله، فإِنْ لم يكن له مال؛ قُوِّمَ المملوك قِيمَةَ عَدْلٍ، ثمَّ اُسْتُسْعِيَ العبد، غير مَشْقُوقٍ عليه».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اسے چاہئے کہ اپنے مال کے ذریعے غلام کو پوری آزادی دلا دے۔ لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو، تو انصاف کے ساتھ غلام کی قیمت لگائی جائے ۔ پھر غلام سے کہا جائے کہ (اپنی آزادی کی) کوشش میں لگ جا‏ۓ۔ لیکن غلام پر اس سلسلے میں کوئی مشقت نہ ڈالی جائے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن من أعتق نصيباً له في مملوك؛ فإن المعتق يلزمه عتق المملوك كله إذا كان له مال، أي: للمعتِق مال يتحمل ذلك، بأن يدفع لشركائه قيمة حصتهم في المملوك ليصبح حرًّا، أما إذا لم يكن له مال، أو له مال لا يتحمل ذلك، أو يترتب عليه إضرار به؛ فإنه في هذه الحالة يخير العبد بين أمرين:
الأول: أن يبقي نفسه في الملك بقدر الحصة التي بقيت فيكون مبعضاً، أي بعضه رقيق وبعضه معتق؛ فإنه يجوز له في هذه الحالة أن يبقى مملوكاً مبعضاً.
الثاني: أن يعمل ليدفع لمن لم يعتقه نصيبه، بعد أن يقوم المملوك قيمة عدل، ويسمى الاستسعاء.
580;س نے اپنے زیر ملکیت غلام کا ایک حصہ آزاد کر دیا، اس پر لازم ہے کہ وہ پورے غلام کو آزاد کردے، اگر اس کے پاس اتنا مال ہو۔ یعنی اپنا حصہ آزاد کرنے والے کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ غلام میں اپنے حصہ داروں کو ان کے حصوں کی قیمت ادا کر کےاسے پورا آزاد کر سکتا ہو۔ البتہ اگر اس کے پاس مال نہ ہو یا مال تو ہو لیکن اتنا نہ ہو کہ آزادی کا خرچ برداشت کر سکے یا پھر ایسا کرنے سے اسے کوئی نقصان ہو، تواس صورت میں وہ غلام کو دو امور کا اختیار دے گا۔
اول:یہ کہ غلام کا اس قدر حصہ ملک میں رہے جو باقی ہے۔ چنانچہ اس صورت میں یہ غلام "مبعض" ہو گا۔ یعنی اس کا بعض حصہ غلام ہو گا اور بعض آزاد۔ اس صورت میں اس کے لیے جائز ہے کہ وہ جزوى غلام بن کر رہے۔
دوم:وہ غلام اس شخص کو رقم ادا کرنے کے لیے کام کرے جس نے اپنا حصہ آزاد نہیں کیا، بعد اس کے کہ غلام کی منصفانہ انداز میں قیمت لگوائی جائے۔ اسے استسعا کہا جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2993

 
 
Hadith   73   الحديث
الأهمية: مَنْ اقْتَنَى كَلْباً -إلاَّ كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ- فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ


Tema:

جس نے کوئی ایسا کتّا رکھا جو نہ تو شکار کی غرض سے ہو اور نہ ہی مال مویشی کی حفاظت کے لیے تو اس کہ وجہ سے اس کے اجر سے روزانہ دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «مَن اقْتَنَى كَلْبًا -إلا كلبَ صَيْدٍ، أو مَاشِيَةٍ- فإنه يَنْقُصُ من أَجْرِهِ كل يوم قِيرَاطَانِ».

قال سالم: وكان أبو هريرة يقول: «أو كلبَ حَرْثٍ»، وكان صَاحِبَ حَرْثٍ.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے کوئی ایسا کتّا رکھا جو نہ تو شکار کی غرض سے ہو اور نہ ہی مال مویشی کی حفاظت کے لیے تو اس کہ وجہ سے اس کے اجر سے روزانہ دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے“۔ سالم کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: ”یا کھیتی کی حفاظت کرنے والا کتّا“۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھیتی باڑی والے آدمی تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الكلب من البهائم الخسيسة القذرة؛ ولهذا نهى الشرع الشريف الطاهر عن اقتنائه؛ لما فيه من المضار والمفاسد، من ابتعاد الملائكة الكرام البررة عن البيت الذي هو فيه، ولما فيه من الإخافة والترويع والنجاسة والضرر، ولما في اقتنائه من السفه.
ومن اقتناه نقص من أجره كل يوم شيء عظيم، قُرِّب معناه بالقيراطين والله أعلم قدر ذلك؛ لأن هذا عصى الله باقتنائه وإصراره على ذلك.
فإذا دعت الحاجة إليه جاز اقتناؤه في أحد ثلاثة أشياء:
الأولى: حراسة الغنم التي يخشى عليها من الذئب والسارقين.
الثانية: حراسة الحرث.
الثالثة: إذا قصد به الصيد.
فلهذه المنافع يسوغ اقتناؤه وتزول اللائمة عن صاحبه.
705;تے کا شمار گھٹیا اور گندے چوپایوں میں ہوتا ہے اس لیے شریعت مطہرہ نے انھیں رکھنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ ایسا کرنے میں بہت سے نقصانات اور خرابیاں ہیں۔ مثلاً جس گھر میں کتا ہو اس سے ملائکہ کرام دور رہتے ہیں، اسی طرح اس سے دوسرے لوگ خوف اور ڈر کھاتے ہیں اور یہ نجاست اور ضرر رسانی کا سبب ہوتا ہے اور اسے رکھنا کم عقلی کی علامت ہے۔
جو شخص کتا پالتا ہے اس کی وجہ سے روزانہ اس کے اجر کا ایک بہت بڑا حصہ کم ہو جاتا ہے۔ سمجھانے کے لیے دو قیراط کہہ دیا گیا ہے، جس کی مقدار اللہ ہی جانتا ہے۔ کیونکہ یہ شخص کتا رکھ کر اور ایسا کرنے پر مصر ہو کر اللہ کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہے۔
تاہم اگر ضرورت ہو تو تین مقاصد میں سے کسی ایک کے لیے اسے رکھا جا سکتا ہے:
اول: بھیڑیے اور چوروں کے اندیشے کے پیش نظر مویشیوں کی حفاظت کے لیے۔
دوم: کھیتی کی حفاظت کے لیے۔
سوم: جب اس کے رکھنے کا مقصد شکارکرنا ہو۔
ان منافع کے لیے کتا رکھنا مباح ہے اور ان کی بنا پر وہ شخص ملامت کا مستحق نہیں ہوتا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2994

 
 
Hadith   74   الحديث
الأهمية: مَنْ حَلَفَ على يَمِينٍ بِمِلَّةٍ غير الإِسْلامِ كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا فهو كما قال


Tema:

جس نے اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب کی جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائی، وہ ویسے ہی ہو گیا جیسے اس نے کہا۔

عن ثابِت بْن الضَّحَاكِ -رضي الله عنه- أنه بايع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- تحت الشجرة، وأن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «من حلف على يمين بملة غير الإسلام، كاذبا مُتَعَمِّدًا فهو كما قال، ومن قتل نفسه بشيء عُذِّبَ به يوم القيامة، وليس على رجل نَذْرٌ فيما لا يملك» وَفِي رِوَايَة: «ولَعْنُ المؤمنِ كَقَتْلِهِ». وفي رواية: «من ادَّعَى دَعْوَى كَاذِبَةً لِيَتَكَثَّرَ بها لم يَزِدْهُ اللهُ -عزَّ وجل- إلا قِلَّةً».

ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نےرسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر درخت کے نیچے بیعت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین پر ہونے کی جھوٹی قسم قصداً کھائے، وہ ویسا ہی ہو جائے گا، جیسا کہ اس نے کہا ہے۔ جو شخص خود کو دھار دار چیز سے ذبح کر لے، اسے جہنم میں اسی ہتھیار سے عذاب ہوتا رہے گا اور آدمی پر اس چیز کی نذر نہیں، جس کا وہ مالک نہ ہو“۔ اور ایک روایت میں ہے: ”مسلمان پر لعنت بھیجنا ،اس کا خون کرنے کے برابر ہے“۔ ایک دوسری روایت میں ہے:”جس نے (مال میں) اضافے کے لیے جھوٹا دعویٰ کیا، اللہ تعالیٰ اس ( کے مال) کی قلت ہی میں اضافہ کرے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
روى ثابت بن الضحاك الأنصاري -أحد المبايعين تحت الشجرة بيعة الرضوان يوم الحديبيِة- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال ما معناه: من حلف على يمين بغير شريعة الإسلام، كأن يقول: هو يهودي أو نصرانيّ، أو هو مجوسي، أو هو كافر أو بريء من الله ورسوله إن كان كذا وكذا، متعمدًا كاذبًا في يمينه، فهو كما نسب نفسه إليه من إحدى الملل الكافرة.
ومن قتل نفسه بشيء، كسيف، أو سكين، أو رصاص، أو غير ذلك من آلات القتل، عُذب به يوم القيامة.
ومن نذر شيئاً لم يملكه كأن ينذر عتق عبد فلان، أو التصدق بشيء من مال فلان، فإن نذره لاغ لم ينعقد؛ لأنه لم يقع موقعه، ولم يحل محله.
ومن لعن مؤمنا، فكأنما قتله، لاشتراك اللاعن والقاتل بانتهاك حرم الله -تعالى-، واكتساب الإثم، واستحقاق العذاب.
ومن تكبر وتكثر بالدعاوى الكاذبة التي ليست فيه، من مال أو علم أو نسب أو شرف أو منصب أو غيرها، مريدا بذلك التطاول، لم يزده الله إلا ذلَّةً وحقارة،؛ لأنه أراد رفع نفسه بما ليس فيه، فجزاؤه من جنس مقصده.
579;ابت بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ، جو ان صحابۂ کرام میں سے ہیں، جنھوں نے صلح حدیبیہ کے دن بیعت رضوان کے موقع پر درخت کے نیچے نبی ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ جس کا معنی یہ ہے کہ جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین و مذہب کی قسم کھاتے ہوئے یوں کہے:اگر اس نے اس طرح اور ایسے کیا تو وہ یہودی، نصرانی یا مجوسی ہوجائے گا یا کافر ہوجائے گا یا اللہ اور اس کے رسول سے بری و بیزار ہوجائے گا، جب کہ وہ جانتا ہو کہ وہ جھوٹی قسم کھا رہا ہے، تو وہ انھی کافر ملتوں میں شمار کیا جائے گا، جن کی جانب اس نے خود کو منسوب کیا۔
جس نے تلوار یا چاقو یا پستول کی گولی جیسے دیگر کسی قتل کے اوزار سے خود کو قتل کرلیا، اس کو اسی اوزار سے قیامت تک عذاب دیا جائے گا۔
جو شخص کوئی ایسی نذر مانے، جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے، جیسے کوئی یہ نذر مانے کہ وہ فلاں غلام کو آزاد کردے گا یا فلاں کے مال میں سے اتنا صدقہ و خیرات کرے گا، تو اس کی نذر بے کار و کالعدم ہوگی؛ کیوں کہ وہ نذر ،صحیح موقع و محل میں وقوع پذیر ہی نہیں ہوئی۔
جو شخص کسی مومن پر لعنت کرے، تو گویا اس نے اس کو قتل کردیا؛ کیوں کہ لعنت کرنے والا اور قاتل دونوں، اللہ تعالیٰ کی قابل حرمت مخلوق کی پامالی کے مرتکب ہونے میں برابر کے شریک ہیں، اسی بنا پر دونوں کے حق میں ایک ہی طرح کا گناہ لکھا جائے گا اور دونوں ایک ہی طرح کے عذاب کے مستحق قرار پائیں گے۔
جو شخص اپنی بڑائی کے اظہار میں اور مال، علم، حسب و نسب،فضل و شرف، منصب و جاہ اوردیگر امور کی کثرت کے بارے میں ایسےجھوٹے دعوے کرے،جو حقیقت سے پرے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر چیز میں ذلت وخواری اور پستی کو زیادہ کردے گا؛ کیوں کہ اس شخص نے اپنی شخصیت کو ایسے امور کے ذریعے اونچاو بلند کرنا چاہا، جن کا اس میں وجود ہی نہیں۔ لہٰذا اس کو اسی قبیل سے تعلق رکھنے والی سزا دی جائے گی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2995

 
 
Hadith   75   الحديث
الأهمية: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ الله وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَان


Tema:

جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کے مال پر ناحق قبضہ کرلے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر بہت زیادہ غضب ناک ہوگا۔

عن عبد الله بن مسعودٍ -رضي الله عنه- مرفوعًا: (من حلف على يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بها مال امرئ مسلم، هو فيها فاجر، لقي الله وهو عليه غضبان)، ونزلت: (إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا) إلى آخر الآية".

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کے مال پر ناحق قبضہ کرلے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر بہت زیادہ غضب ناک ہوگا“۔ اس پر اللہ نے یہ آیت آخر تک نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلً...﴾ ”کہ جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ دنیا کی تھوڑی دولت خریدتے ہیں...“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث وعيد شديد لمن أخذ مال امْرِئ بغير حق، وإنما أخذه بخصومته الفاجرة، ويمينه الكاذبة الآثمة.
فهذا يلْقَى الله وهو عليه غضبان، ومن غضب الله عليه فهو هالك، ثم تلا النبي-صلى الله عليه وسلم- هذه الآية الكريمة، مصداقا لهذا الوعيد الأكيد الشديد من القرآن الكريم.
575;س حدیث میں اس شخص کے لیے سخت وعید ہے، جو کسی مسلمان کا مال ناحق ضبط ہتھیا لے۔ اس کے لیے وہ ناجائز جھگڑے اور جھوٹی و گناہ آمیز قسم کا سہارا لے۔
ایسا شخص جب اللہ تعالیٰ سے ملے گا، تو اس پر اللہ ناراض ہوگا۔ اور جس پر اللہ کا غصہ اترا، وہ تباہ ہو گیا۔ پھر رسو ل اللہ ﷺ نے اس سخت وعید کی قرآن کریم سے تصدیق کے لیے یہ آیت کریمہ آخر تک تلاوت کی ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلً...﴾   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2996

 
 
Hadith   76   الحديث
الأهمية: مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاحَ فَلَيْسَ مِنَّا


Tema:

جس نے ہم پر اسلحہ اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں

عن أبي موسى الأشعري -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاحَ فَلَيْسَ مِنَّا».

ابو موسیٰ اشعری - رضی اللہ عنہ - سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:”جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين النبي -صلى الله عليه وسلم- أن المؤمنين إخوة، يتألم بعضهم لألم بعضهم الآخر ويفرح لفرحه، وأن كلمتهم واحدة فهم يد على من عاداهم.
فيلزمهم الاجتماع والطاعة لإمامهم، وإعانته على من بغى وخرج عليه؛ لأن هذا الخارج شق عصا المسلمين، وحمل عليهم السلاح، وأخافهم فيجب قتاله، حتى يرجع ويفئ إلى أمر الله -تعالى-؛ لأن الخارج عليهم والباغي عليهم، ليس في قلبه، لهم الرحمة الإنسانية، ولا المحبة الإسلامية، فهو خارج عن سبيلهم فليس منهم، فيجب قتاله وتأديبه.
585;سول اللہ ﷺ یہ بتارہے ہیں کہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں کہ ایک دوسرے کےغم کی وجہ سے غمگین اور خوشی کی وجہ سے خوش ہوتے ہیں۔ ان کا کلمہ ایک اور وہ دشمن کے خلاف یکجان ہیں۔
لہذا ان کے لیےاجتماعیت اور امیر کی اطاعت لازمی ہے اور جو کوئی اس کے خلاف بغاوت یا خروج کرے تواس(امیر) کی مدد کریں کیوں کہ اس خروج کرنے والے نے مسلمانوں کی لاٹھی کو توڑا ہے، اوران کے خلاف ہتھیار اٹھایا ہے اورانہیں ڈرایا ہے، لہذا اس سے جنگ کرنا ضروری ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ کیوں کہ خروج کرنے والے اور باغی ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جن کے دل میں نہ توانسانیت پر شفقت اور نہ ہی ملت اسلامیہ کی محبت ہوتی ہے اور یہ مومنوں کے راستے سے نکل چکے ہوتے ہیں اس لیے ان کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا، لہذا ان سے قتال کرنا اور ان کی تادیب کرنا ضروری ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2997

 
 
Hadith   77   الحديث
الأهمية: مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ


Tema:

جو شخص (میدانِ جہاد میں) کسی کو قتل کرے اور اس پر گواہی موجود ہو تو اس سے چھینا ہوا (مال) بھی اسی (قتل کرنے والے )کے لیے ہے۔

عن أبي قتادة الأنصاري -رضي الله عنه- قال: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُول الله -صلى الله عليه وسلم- إلَى حُنَيْنٍ -وَذَكَرَ قِصَّةً- فَقَالَ رَسُولُ الله-صلى الله عليه وسلم-: مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ» قَالَهَا ثَلاثاً.

ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ حنین کے لیے نکلے (پھر سارا قصہ بیان کیا) اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی کو قتل کرے اور اس پر گواہی موجود ہو تو اس سے چھینا ہوا مال بھی اسی (قتل کرنے والے) کے لیے ہے“۔ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال يوم حنين: من قتل قتيلاً له عليه شاهد أو دليل فله سلبه، أي: له ثياب المقتول وسلاحه، ودابته التي قاتل عليها، وأن أبا قتادة قتل رجلاً، وقال لمن حوله: إني قتلت رجلاً، فأقسم على من عرف ذلك أن يشهد لي قالها ثلاثاً.
606;بی کریم ﷺ نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا کہ جو شخص کسی(کافر) کو قتل کرے گا اور اس بات پر اس کے پاس کوئی گواہ یا دلیل ہو گی تو جو کچھ اس سے چھینا ہوگا وہ اسی کا ہوگا۔ یعنی مقتول کے کپڑے، اسلحہ اور وہ سواری جس پر اسے قتل کیا تھا۔حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ایک (کافر) شخص کو قتل کیا اور جو ان کے اردگرد موجود تھے ان سے کہا کہ: اس شخص کو میں نے قتل کیا ہے اور جس جس کو بھی پتہ ہے میں اسے قسم دیتا ہوں کہ وہ میرے لیے گواہی دے۔ یہ بات انھوں نے تین مرتبہ کہی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2998

 
 
Hadith   78   الحديث
الأهمية: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ الله -صلى الله عليه وسلم- سَبْعَ غَزَوَاتٍ، نَأْكُلُ الْجَرَادَ


Tema:

ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شامل ہوئے (جن کے دوران میں ) ہم ٹڈیاں کھاتے تھے۔

عن عَبْد اللهِ بن أبي أوفى -رضي الله عنهما- قال: «غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ الله -صلى الله عليه وسلم- سَبْعَ غَزَوَاتٍ، نَأْكُلُ الْجَرَادَ».

عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شامل ہوئے (جن کے دوران میں ) ہم ٹڈیاں کھاتے تھے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أنَّ الله سبحانه وتعالى رَزَقَ أصْحَابَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - بِسَبْع غَزَوَات يَمُدَّهُم بِالْجَرَاد لعدم وجود القُوتِ عندهم كما أمدَّهم بالعنْبر الذي خرَجَ من البَحْرِ فأكلوا منه في غزوة أخرى.
575;للہ تبارک وتعالیٰ نے اصحاب رسول (ﷺ) کو سات غزوات میں کھانے کی کمی کی صورت میں ٹڈیوں کا رزق فراہم کیا جیسے ان کو عنبر فراہم کی جو کہ سمندر سے نکلی تھی جس کو انھوں نے دوسرے غزوات میں بھی کھایا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 2999



© EsinIslam.Com Designed & produced by The Awqaf London. Please pray for us