Hadith Explorer em português مكتشف الحديث باللغة الإنجليزية
 
Hadith   1560   الحديث
الأهمية: لا يقضين، كانت المرأة من نساء النبي -صلى الله عليه وسلم- تقعد في النفاس أربعين ليلة لا يأمرها النبي -صلى الله عليه وسلم- بقضاء صلاة النفاس


Tema:

وہ قضا نہیں کریں گی۔ نبی ﷺ کی (رشتہ دار) خواتین میں سے کوئی عورت چالیس دن تک نفاس میں رہتی اور آپ ﷺ اسے مدتِ نفاس کی نمازوں کو قضا کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔

عَنْ كَثِيرِ بن زِيَاد، قال: حدثتني الأزْدِيَّة يعني مُسَّةَ قالت: حَجَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ المؤْمِنِين، إِنَّ سَمُرَةَ بن جندب يَأْمُرُ النِّسَاءَ يَقْضِينَ صَلَاةَ الْمَحِيضِ فَقَالَتْ: «لَا يَقْضِينَ كَانَتِ المَرْأَةُ من نِسَاءِ النبي -صلى الله عليه وسلم- تَقْعُدُ فِي النِّفَاسِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً لَا يَأْمُرُهَا النبي -صلى الله عليه وسلم- بِقَضَاءِ صَلَاةِ النِّفَاسِ»
وفي رواية: و«كنا نطلي على وُجُوهنا بِالوَرْسِ -تعني- من الكَلَف».

كثیر بن زیاد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے مُسّہ ازدیہ نے بیان کیا: میں حج کو گئی تو ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوئی۔ میں نے کہا: اے ام المومنین! سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ عورتوں کو حیض کی نمازیں قضا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: وہ قضا نہیں کریں گی۔ نبی ﷺ کی (رشتہ دار) خواتین میں سے کوئی عورت چالیس دن تک نفاس میں رہتی اور آپ ﷺ اسے مدتِ نفاس کی نمازوں کو قضا کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ ہم جھائیوں کو دور کرنے کے لیے اپنے چہروں پر وَرس (ایک قسم کا پودا جو رنگائی کے کام ميں لايا جاتا ہے ) ملا کرتی تھیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
استدركت أمنا أم سلمة -رضي الله عنها- على فتوى الصحابي الجليل سمرة بن جندب -رضي الله عنه-، وهذا لما ألزم النساء بقضاء الصلاة المتروكة زمن الحيض، فقالت -رضي الله عنها-:
( لا يقضين) أي: الصلاة.،كما علَّلت -رضي الله عنها- هذه الفتوى منها بقولها: (كانت المرأة من نساء النبي -صلى الله عليه وسلم- تقعد في النفاس أربعين ليلة لا يأمرها النبي -صلى الله عليه وسلم- بقضاء صلاة النفاس) والمراد بنسائه غير أزواجه -صلى الله عليه وسلم- من بنات وقريبات، وأن النساء أعم من الزوجات لدخول البنات وسائر القرابات تحت ذلك.
وهاهنا إشكال، وهذا في قولها: (تقعد في النفاس ...إلخ) ذلك أن مُسَّةَ سألت أم سلمة -رضي الله عنها- عن حكم الصلاة في حالة الحيض وأخبرت عن سمرة أنه يأمر بها وأجابت أم سلمة عن صلاة النفساء.
والجواب عنه من وجهين:   الأول: أن المراد بالمحيض ها هنا هو النفاس بقرينة الجواب.
والثاني: أن أم سلمة أجابت عن الصلاة حال النفاس الذي هو أقل مدةً من الحيض، فإن الحيض قد يتكرر في السنة اثنا عشر مرة والنفاس لا يكون مثل ذلك، بل هو أقل منه جدًّا، فقالت إن الشارع قد عفا عن الصلاة في حال النفاس الذي لا يتكرر، فكيف لا يعفو عنها في حال الحيض الذي يتكرر، والله أعلم.
قولها: (وكنا نطلي على وجوهنا) أي نلطخ والطلي الادِّهان.
قولها: (الورس) الورس  نبات أصفر تتخذ منه الغمرة للوجه.
(تعني من الكَلَف) لون بين السواد والحمرة وهي حمرة كدرة تعلو الوجه وشيء يعلو الوجه.
729;ماری ماں ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عظیم القدر صحابی سمره بن جندب رضی اللہ عنہ کے فتوے کی اصلاح فرمائی جب انہوں نے عورتوں پر لازم قرار دیا کہ وہ مدتِ حیض میں چھوٹ جانے والی نمازوں کی قضا کریں۔ تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ قضا نہیں کریں گی، یعنی نماز کی قضا نہیں کریں گی۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے اس فتوے کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا: نبی ﷺ کی رشتہ دار خواتین میں سے کوئی عورت چالیس دن تک نفاس میں رہتی اور آپ ﷺ اسے مدتِ نفاس کی نمازوں کو قضا کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔ یہاں ”نساء النبی“ سے مراد آپ ﷺ کی بیویوں کے علاوہ آپ ﷺ کی بیٹیاں اور قریبی رشتہ دار خواتین ہیں۔ ”النساء“ کا لفظ بیویوں سے عام ہے کیونکہ اس کے تحت بیٹیاں اور باقی رشتہ دار خواتین آتی ہیں۔
یہاں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے قول: ”نفاس میں رہتی ...الخ“ کی وجہ سے ایک اشکال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ مسہ ازدیہ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے حالت ِحیض میں نماز پڑھنے کے حکم کے بارے میں پوچھا تھا اور انہیں بتلايا تھا کہ سمرۃ رضی اللہ عنہ ان کی قضا کا حکم دیتے ہیں، جب کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نفاس والی عورتوں کی نماز کے بارے میں جواب دیا۔
اس کا جواب دو طرح سے دیا جاسکتا ہے:
اول: جواب کے قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں حیض کے لفظ سے نفاس مراد ہے۔
دوم: ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے حالتِ نفاس کی نماز کے بارے میں جواب دیا جو مدت میں حیض سے کم ہوتا ہے۔ کیوں کہ حیض دورانِ سال بارہ دفعہ آتا ہے، جب کہ نفاس اس طرح نہیں ہوتا بلکہ وہ اس کی بنسبت بہت ہی کم ہوتا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب شارع نے حالتِ نفاس میں نماز کو معاف کر دیا جو بار بار نہیں آتا تو حالت حیض کی نمازوں کو کیسے معاف نہیں کرے گا جو بار بار آتا ہے؟!۔ واللہ اعلم۔
ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا قول: ”وكنا نطلي على وجوهنا“ یعنی ہم ملتی تھیں۔ ”الطلی“ کا معنی تیل ملنا آتا ہے۔
”الورس“ ایک زرد رنگ کا پودا ہے جس سے چہرے پر ملنے کی کریم بنائی جاتی ہے۔
”تعني من الكَلَف“ الکلف سے مراد وہ رنگ ہے جو سیاہی اور سرخی کے درميان ہوتا ہے یعنی سرخی مائل مٹیالی رنگت يا کوئی اور چيز جو چہرے پر ظاہر ہوجاتی ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10008

 
 
Hadith   1561   الحديث
الأهمية: هذا شيء كتبه الله على بنات آدم، افعلي ما يفعل الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت حتى تطهري


Tema:

یہ چیز تو اللہ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے لیے مقدر کر دی ہے۔ تم تمام کا م ویسے کرتی جاؤ، جیسے (تمام )حاجی کریں، مگر جب تک پاک نہ ہو جاؤ بیت اللہ کا طواف نہ کرو۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: خرجنا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لا نَذْكُرُ إلا الحج، حتى جِئْنَا سَرِف فَطَمِثْتُ، فدخل عليَّ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وأنا أبْكِي، فقال: «ما يُبْكِيك؟» فقلت: والله، لوَدِدْتُ أنَّي لم أكُن خرجت العَام، قال: «ما لك؟ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟» قلت: نعم، قال: «هذا شيء كَتَبه الله على بنات آدم، افعلي ما يفعل الحاج غير أن لا تَطُوفي بالبيت حتى تَطْهُري» قالت: فلمَّا قدمت مكة، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لأصحابه «اجْعَلُوها عُمرة» فأحَلَّ الناس إلا من كان معه الهَدْي، قالت: فكان الهَدْي مع النبي -صلى الله عليه وسلم- وأبي بكر وعمر وذَوِي اليَسَارَة، ثم أهَلُّوا حين راحُوا، قالت: فلمَّا كان يوم النَّحر طَهَرْت، فأمَرَني رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فَأَفَضْتُ، قالت: فَأُتِيَنَا بِلَحم بَقَر، فقلت: ما هذا؟ فقالوا: أَهْدَى رسول الله -صلى الله  عليه وسلم- عن نِسَائه البقر، فلمَّا كانت ليلة الحَصْبَةِ، قلت: يا رسول الله، يرجع الناس بحجة وعُمرة وأرجع بِحَجَّة؟ قالت: فأمر عبد الرحمن بن أبي بكر، فَأَرْدَفَنِي على جَمَلِه، قالت: فإني لأذْكُر، وأنا جَارية حَدِيثَةُ السِّن، أَنْعَسُ فيُصِيب وجْهِي مُؤْخِرَة الرَّحْل، حتى جِئْنَا إلى التَّنْعِيم، فَأَهْلَلْتُ منها بِعُمْرة؛ جزاء بِعُمْرَة الناس التي اعْتَمَرُوا.

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ نکلے، ہمارا موضوع سخن حج ہی تھا۔ جب سرف کے مقام پر پہنچے، تو میرے ایام شروع ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺمیرے پاس آئے جبکہ میں رو رہی تھی۔ آپ ﷺ نے پو چھا: تمھیں کونسی بات رلا رہی ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! کاش میں اس سال حج کے لیے نہ نکلی ہوتی! آپ نے پو چھا: تمھارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ کہیں تمھیں ایام تو شروع نہیں ہو گئے؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فر مایا: یہ چیز تو اللہ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے لیے مقدر کر دی ہے۔ تم تمام کام ویسے کرتی جاؤ جیسے حاجی کریں، مگر جب تک پاک نہ ہو جاؤ، بیت اللہ کا طواف نہ کرو۔ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: جب میں مکہ پہنچی، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم اسے (حج کی نیت کو بدل کر) عمرہ کر لو۔ چنانچہ جن کے پاس قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ تمام لوگ حلال ہو گئے۔ قربانی کے جانور صرف رسول اللہ ﷺ، ابو بکر، عمر اور بعض اصحاب ثروت صحابہ ہی کے پاس تھیں۔ جب وہ (ترویہ کے دن منی کی طرف) چلے تو حج کا تلبیہ پکارا۔ اور جب قربانی کا دن آیا، تو میں پاک ہو گئی۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے مجھے حکم دیا اور میں نے طواف کر لیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس گائے کا گوشت لا یا گیا، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو جواب دیا گیا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قر بانی دی ہے۔ جب محصب (مینا سے روانگی) کی رات آئی، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے لوٹیں اور میں صرف حج کر کے لوٹوں؟ تو آپ ﷺنے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انھوں نے مجھے اپنے اونٹ پر ساتھ بٹھایا۔ وہ کہتی ہیں: مجھے یا د پڑتا ہے کہ میں (اس وقت) نو عمر لڑکی تھی، (راستے میں) میں اونگھ رہی تھی اور میرا منہ (بار بار) کجاوے کی پچھلی لکڑی سے ٹکرا رہا تھا، حتیٰ کہ ہم تنعیم پہنچ گئے۔ پھر میں نے وہاں سے اس عمرے کے بدلے جو لوگوں نے کیا تھا، عمرے کا تلبیہ پکارا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى حديث عائشة -رضي الله عنها-: "خرجنا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لا نَذْكُرُ إلا الحج".
أي: من المدينة وكان خروجه -صلى الله عليه وسلم- يوم السَبت لخمس ليالٍ بَقَيْنَ من ذي القِعدة بعد أن صلى بها الظهر أربع ركعات، ثم سَار إلى ذي الحليفة فَصَلى بها العصر ركعتين.
"لا نَذْكُرُ إلا الحج".
وفي رواية :"لا نَرَى إلا الحج". لكن جاء عنها في حديث آخر صحيح: "فمنَّا من أهَلَّ بِعمرة، ومنَّا من أهَلَّ بحج، وكنت ممن أَهَلَّ بِعمرة"، وعلى هذا يكون قولها -رضي الله عنها-: "لا نَذْكر إلا الحج"، وقولها: "لا نَرى إلا الحج" لا يخلو من الأحوال التالية:
الحال الأولى: تريد بذلك فريضة الحج من حيث الأصل، لا بيان نوع النُّسك الذي أحرموا به.
الحال الثانية: تريد بذلك عند خروجهم وقبل وصولهم إلى الميقات، والدخول في الإحرام.   الحال الثالثة : تريد بذلك حال غيرها من الصحابة، ولم تقصد نفسها.
"حتى جِئْنَا سَرِف".
يعني: حتى وصلوا موضِعا يُقال له: "سَرِفُ"، وهو مَوضع قريب من مكة.
"فَطَمِثْتُ" يعني: حاضت -رضي الله عنها-.
"فدخل عليَّ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وأنا أبْكِي، فقال: «ما يُبْكِيك؟» فقلت: والله، لوَدِدْتُ أنَّي لم أكُن خرجت العَام".
لما حصل معها ما حصل بَكَت -رضي الله عنها- وتَمَنَّت أنها لم تحج معهم هذه السَّنة؛ ظنا منها أنها لما حاضت قد تنقطع عن أعمال الحج، ويفوتها بذلك الخير.
" قال: «ما لك؟ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟»".
أي: حِضْت .
" قلت: نعم، قال: «هذا شيء كَتَبه الله على بَنَات آدم»".

أي: أن الحيض أمْر مُقَدَّر ومكتوب على بنات آدم، فليس خاصًا بك وليس بيدك؛ فلا داعي للبكاء.
"افعلي ما يفعل الحاج غير أن لا تَطُوفي بالبيت حتى تَطْهُري".
فأخبرها النبي -صلى الله عليه وسلم- بأن الحيض لا يمنعها من المضي في نسكها، ولا يُخِلُّ بإحرامها، وأنها تفعل ما يفعله الحاج: من الوقوف بعرفة ومنى ومزدلفة ورمي الجماروسائر أفعال الحج غير الطواف، فإنها تمتنع منه حتى تَطْهر من حيضها وتغتسل.  
"قالت: فلمَّا قَدمت مكة، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لأصحابه «اجْعَلُوها عُمرة»".
تعني لما قَدِم النبي -صلى الله عليه وسلم- مكة أمَر من لم يسوقوا الهدي أن يجعلوا إحرامهم عمرة، فمن أحرم بالحج ولم يكن ساق الهدي فإنه يَقْلب إحرامه بالحج عمرة، فيطوف ويسعى ويقصر، ثم هو قد حَلَّ من إحرامه، وفي رواية أخرى لمسلم: "فأمرنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن يَحِلَّ منَّا من لم يكن معه هدى، قال: فقلنا: حِلُّ ماذا؟ قال: "الحِلُّ كُلُّه".   "قالت: فأحَلَّ الناس إلا من كان معه الهَدْي، قالت: فكان الهَدْي مع النبي -صلى الله عليه وسلم- وأبي بكر وعمر وذَوِي اليَسَارَة".
تعني أن من لم يكن معه الهدي حلُّوا من إحرامهم بعد أن طافوا وسعوا وقصروا، وبقي النبي -صلى الله عليه وسلم- وأبو بكر وعمر -رضي الله عنهما- ومن ساق الهدي ممن وسَّعَ الله عليهم بقوا على إحرامهم؛ لأنهم ساقوا الهدي ومن ساق الهدي لم يَجز له فسخ إحرامه إلى عمرة؛ لقوله -صلى الله عليه وسلم-: "لولا أني سُقْتُ الهَدْي، لفعلت مثل الذي أمَرْتُكم به".
"قالت: ثم أهَلُّوا حين راحُوا".
تعني أن الذين طافوا وسعوا وقصروا، أهلوا بالحج حين راحُوا إلى منى وذلك يوم التروية، وهو اليوم الثامن من ذي الحِجة. 


"قالت: فلمَّا كان يوم النَّحر طَهَرْت".
أي: أنها طَهَرت من حيضها يوم النحر، وهو يوم العاشر من ذِي الحِجَّة، سُمي بذلك؛ لنَحر الأضاحي فيه.
"فأمَرَني رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فَأَفَضْتُ". 
أي: بعد أن طَهَرت من حيضها -رضي الله عنها- يوم النَّحر أمَرَها النبي -صلى الله عليه وسلم- بأداء طواف الإفاضة فَفَعَلت.
"قالت: فَأُتِيَنَا بِلَحم بَقَر، فقلت: ما هذا؟".
يعني: أُرسل لها ولمن معها من النساء لحم بقر، ثم إنها سَألت عنه.
"فقالوا: أَهْدَى رسول الله -صلى الله  عليه وسلم- عن نِسَائه البَقر".
أي: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- نَحَر عن كل واحدة من نسائه بقرة.
"فلمَّا كانت ليلة الحَصْبَةِ".
يعني لمَّا كانت ليلة النزول من منى، وهي الليلة التي بعد أيام التشريق وسميت بذلك؛ لأنهم نَفَروا من منى فنزلوا في المُحَصَّب وباتوا به، وفي البخاري : "أن النبي -صلى الله عليه وسلم- رقَد رقْدَةً في المُحصَّب، ثم ركِبَ إلى البيت فطاف به".
"قلت: يا رسول الله، يرجع الناس بِحَجَّة وعُمرة وأرجع بِحَجَّة؟".
أي يرجعون بحج منفرد وعمرة منفردة؛ لأنهم كانوا متمتعين، وأرجع أنا وليس لي عمرة منفردة؛ لأنها كانت قارنة، والعمرة في القران داخلة في الحج بالنية، وفي رواية لمسلم "أيرجع الناس بأجرين وأرجع بأجر؟"، فهي أرادت أن يكون لها عمرة منفردة عن الحج، كما حصل لسائر أمهات المؤمنين وغيرهن من الصحابة الذين فسخوا الحج إلى العمرة، وأتموا العمرة وتحللوا منها قبل يوم التروية، ثم أحرموا بالحج من مكة يوم التروية، فحصل لهم عمرة منفردة وحجة منفردة، وأما عائشة فإنما حصل لها عمرة مندرجة في حجة بالقران، فقال لها النبي -صلى الله عليه وسلم- يوم النفر يسعك طوافك لحجك وعمرتك، أي: وقد تما وحسبا لك جميعا، فأبت وأرادت عمرة منفردة كما حصل لباقي الناس.
"قالت: فأمر عبد الرحمن بن أبي بكر، فَأَرْدَفَنِي على جَمَلِه".
أي : أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أمر أخاها عبد الرحمن بن أبي بكر -رضي الله عنهما- بأن يخرج بها إلى التَّنْعِيم؛ لتأتي منه بعمرة، حتى تكون مثل بقية الناس، فأردفَها -رضي الله عنه- خَلفه كما في رواية مسلم الأخرى. 
"قالت: فإني لأذْكُر، وأنا جَارية حَدِيثَةُ السِّن، أَنْعَسُ فيُصِيب وجْهِي مُؤْخِرَة الرَّحْل".
أي: عندما أردفها عبد الرحمن بن أبي بكر -رضي الله عنه- خلفه، وسار بها إلى التنعيم كانت تَنْعَس حتى أنها رأسها يسقط من شِدَّة النُّعاس، فيضرب في مؤخرة الرَّحْل.     
"حتى جِئْنَا إلى التَّنْعِيم، فَأَهْلَلْتُ منها بِعُمْرة؛ جزاء بِعُمْرَة الناس التي اعْتَمَرُوا".
أي لما وصلا إلى التنعيم، أهلت -رضي الله عنها- بعمرة مستقلة بأعمالها مقام عمرة الناس التي اعتمروها أولا.
وفي رواية في الصحيحين أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال لها بعد أن أدَّت العمرة : "هذه مكان عمرتك" أي: هذه العمرة مكان العمرة التي كنت تريدين حصولها منفردة غير مندرجة مع الحج، فمنعك الحيض من القيام بها.

593;ائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کا مفہوم: ”ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ نکلے۔ ہمارا موضوع سخن حج ہی تھا“ یعنی مدینہ سے۔ آپ ﷺ مدینے میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھنے کے بعد نکلے تھے۔ سنیچر کا دن تھا اور ذوالقعدہ کے پانچ دن باقی تھے۔ ذوالحلیفہ پہنچ کر آپ نے عصر کی نماز دو رکعت پڑھی تھی۔
”ہم حج کا ہی ذکر کر رہے تھے“ اور ایک روایت میں ہے: ”ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا“ جب کہ ان سے ایک اور صحیح حدیث میں اس طرح آیا ہے: ”ہم میں سے کچھ عمرہ کا تلبیہ کہہ رہے تھے اور کچھ حج کا اور میں عمرہ کا تلبیہ کہہ رہی تھی“، اس طرح ان کے یہ اقوال: ”ہم حج کا ہی ذکر کر رہے تھے“ اور ”ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا“ مندرجہ ذیل احوال میں سے کسی ایک حالت سے خالی نہیں:
پہلی حالت: اصل میں اس سے ان کی مراد فریضۂ حج ہے۔ اس قسم کا بیان نہیں جس کا انھوں نے احرام باندھا تھا۔
دوسری حالت: اس سے ان کی مراد گھر سے نکلتے وقت اور میقات پر پہنچ کر احرام باندھنے سے پہلے تک کا حال بیان کرنا ہے۔
تیسری حالت: ان کے علاوہ دیگر صحابہ کا حال بیان کرنا مقصود ہو گا۔ خود ان کے بارے میں نہیں۔
”یہاں تک کہ ہم سرف کے مقام تک پہنچ گئے“ یہ مکہ کے قریب ایک جگہ ہے۔
”فَطَمِثْتُ“ یعنی وہ حائضہ ہو گئیں۔
”رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، تو میں رو رہی تھی۔ آپ ﷺ نے پو چھا: تمھیں کون سی بات رلا رہی ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! کاش میں اس سال حج کے لیے نہ نکلتی!“ یعنی جب انھیں حیض آ گیا، تو وہ رونے لگیں اور یہ خواہش کرنے لگیں کہ کاش وہ اس سال حج کا ارادہ نہ کرتیں! کیوں کہ ان کا یہ خیال تھا کہ وہ حائضہ ہونے کی وجہ سے حج کے تمام اعمال سے منقطع ہو جائیں گی اور اس وجہ سے بہت بڑی خیر سے محروم رہ جائیں گی۔
”فرمایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ کہیں ایام تو شروع نہیں ہو گئے؟“ یعنی حائضہ تو نہیں ہو گئی؟ میں نے کہا: ہاں! آپﷺ نے فرمایا: ”یہ چیز تو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے مقدر کر دی ہے“ یعنی حیض ایک طے شدہ امر ہے اور اسے اللہ تعالیٰ نے بنات آدم کے لیے لکھ دیا ہے، یہ نہ تیرے ساتھ خاص ہے اور نہ تیرے ہاتھ میں کچھ ہے۔ اس لیے رونے کی کوئی ضرورت نہیں۔
”تم تمام کام ویسے کرتی جاؤ، جیسے (تمام ) حاجی کریں، مگر جب تک پاک نہ ہو جاؤ، بیت اللہ کا طواف نہ کرو“ رسول اللہ ﷺ نے انھیں بتادیا کہ حیض مناسک حج کی ادائیگی میں رکاوٹ نہیں اور نہ ہی احرام کے لیے مخل ہے۔ اس لیے دیگر حاجی جو کچھ کریں، تم بھی کرتی جاؤ۔ جیسے وقوف عرفہ ومنیٰ، وقوف مزدلفہ اور رمی جمار وغیرہ۔ طواف کے علاوہ دیگر تمام ارکانِ حج ادا کر سکتی ہیں۔ جب تک پاک ہونے کے بعد غسل نہیں کر لیتیں، طواف کرنے سے اجتناب کریں گی۔
”عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب میں مکہ پہنچی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ تم اسے (حج کی نیت کو بدل کر) عمرہ کر لو“ یعنی نبی کریم ﷺ جب مکہ پہنچے، تو جو لوگ اپنے ساتھ قربانی نہیں لائے تھے، انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے احرام کو عمرے کا بنا لیں؛ چنانچہ جس نے حج کے لیےاحرام باندھا تھا، لیکن ہدی کا جانور ساتھ نہیں لایا تھا، وہ اپنے احرام کو بدل کر عمرہ کا احرام کر لے۔ وہ طواف کرے، سعی کرے، بال کٹوائے اور حلال ہو جائے۔ صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جس کے پاس قربانی نہیں ہے، وہ حلال ہو جائے۔ ۔ہم نے کہا کہ کس طرح حلال ہو؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: مکمل حلال۔
”عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جن کے پاس قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ تمام صحابہ حلال ہو گئے۔ اور قربانی کا جانور صرف رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور بعض اصحاب ثروت صحابہ ہی کے پاس تھیں“ یعنی جن کے پاس قربانیاں نہیں تھیں، وہ طواف، سعی اور بال کٹوانے کے بعد حلال ہو گئے۔ جب کہ نبی کریم ﷺ، ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ اور وہ صحابہ جنھیں اللہ تعالیٰ نے فراوانی سے نوازا تھا، حالت احرام میں باقی رہ گئے؛ کیوں کہ وہ اپنے ساتھ قربانیاں لائے تھے اور قربانی لانے والے کے لیے عمرہ کے بعد احرام اتارنے کی اجازت نہیں ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ”اگر میں قربانی لے کر نہ آیا ہوتا، تو میں بھی وہی کرتا، جو تمھیں کرنے کا حکم دیا ہے“۔
”جب وہ (ترویہ کے دن منی کی طرف) چلے تو حج کا تلبیہ پکارا“ یعنی جن لوگوں نے طواف کر لیا، سعی کر لی اور بال کٹوا لیے، انھوں نے ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ کو یعنی ترویہ کے دن منی کی طرف نکلتے وقت حج کا تلبیہ پکارا۔
”عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب قر بانی کا دن آیا، تو میں پاک ہو گئی“ یعنی قربانی کے دن حیض سے پاک ہو گئیں۔ یہ دس ذی الحجہ کا دن تھا۔ اس دن کا نام ”یوم نحر“ قربانیوں کو نحر کرنے کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا، تو میں نے طواف افاضہ کر لیا“ یعنی یوم نحر کو جب حیض سے پاک ہوئیں، تو نبی کریم ﷺ نے انھیں طواف افاضہ کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ اس سے فارغ ہو گئیں۔
”ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟“ یعنی ان کے اور ان کے ساتھ موجود دیگر عورتوں کے لیے گائے کا گوشت بھیجا گیا، تو انھوں نے اس کے بارے میں پوچھا۔
”جواب دیا گیا کہ اللہ کے رسول اللہ ﷺنے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی دی ہے“ یعنی نبی کریم ﷺ نے اپنی ہر بیوی کی طرف سے ایک ایک گائے قربانی کی ہے۔
”جب محصب کی رات آئی“ یعنی جب منیٰ سے روانگی کی رات آئی۔ یہ ایام تشریق کے بعد والی رات ہے۔ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا، کیوں کہ حجاج منی سے نکل کر محصب آکر رات گزارتے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے: رسول اللہﷺ محصب کی رات کچھ دیر سوئے اور سواری پر بیٹھ کر بیت اللہ آئے اور طواف کیا۔
”میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! لوگ حج اور عمرہ (دونوں) کر کے لو ٹیں گے اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی؟“ یعنی وہ مستقل حج اور مستقل عمرہ کر کے لوٹیں گے؛ کیوں کہ انھوں نے حج تمتع کیا تھا اور میں الگ سے عمرہ کیے بغیر ہی لوٹ جاؤں گی؛ کیوں کہ وہ قارن تھیں اور حج قران میں عمرہ ساتھ ہی ہوتا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے: ”لوگ دو اجر لے کر لوٹیں اور میں ایک ہی اجر کے ساتھ لوٹوں؟“، وہ چاہتی تھیں کہ انھیں بھی حج کے علاوہ الگ سے عمرہ کی سعادت نصیب ہو، جیسے دیگر امہات المؤمنین اور صحابہ کو نصیب ہوئی تھی، جنھوں نے اپنے حج کے احرام کو عمرہ کے کے احرام میں بدل لیا، عمرہ مکمل کر کے یوم الترویہ سے پہلے حلال ہو گئے، پھر ترویہ کے دن مکہ سے حج کا احرام باندھا۔ اس طرح انھیں الگ الگ حج اور عمرہ ادا کرنے کا موقع مل گیا۔ جب کہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا عمرہ حج قران ہی میں شامل تھا۔ چنانچہ واپسی کے دن رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: تمھارا طواف حج اور عمرہ دونوں کو کافی ہے۔ یعنی دونوں مکمل ہو گئے ہیں اور یہ تمہارے لیے کافی ہے۔ لیکن انھوں نے ماننے سے انکار کر دیا اور دیگر لوگوں کی طرح الگ عمرہ کرنے کی خواہش پر مصر رہیں۔
”وہ کہتی ہیں: آپ ﷺ نے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا اور انھوں نے مجھے اپنے اونٹ پر ساتھ بٹھایا“ یعنی نبی کریم ﷺ نے میرے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ مجھے تنعیم لے جائیں؛ تاکہ میں وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر آؤں؛ تاکہ باقی لوگوں کی طرح مجھے بھی الگ عمرے کی سعادت نصیب ہوجائے۔ چنانچہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے پیچھے سوار کر لیا جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے۔
”وہ کہتی ہیں: مجھے یاد پڑتا ہے، میں اس وقت نو عمر لڑکی تھی، راستے میں اونگھ رہی تھی اور میرا منہ بار بار کجاوے کی پچھلی لکڑی سے ٹکراتا تھا“ یعنی جب عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنے پیچھے سوار کیا اور تنعیم کی طرف چلے تو راستے میں شدید اونگھ کی وجہ سے ان کا سر ادھر ادھر گرتا اور کجاوے سے ٹکرا جاتا۔
”حتیٰ کہ ہم تنعیم پہنچ گئے۔ پھر میں نے وہاں سے اس عمرے کے بدلے جو لوگوں نے کیا تھا عمرہ کا احرام باندھا“ یعنی جب وہ مقام تنعیم پہنچ گئے، تو انھوں نے وہاں سے مستقل عمرہ کے لیے احرام باندھا، اس عمرہ کے بدلے میں جو لوگ پہلے ہی کر چکے تھے۔ صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے عمرے کی ادائیگی کے بعد فرمایا: ”یہ تمھارے اس عمرے کے بدلے میں ہے“ یعنی یہ عمرہ اس عمرے کی جگہ ہے، جو تم حج سے الگ مستقل طور پر کرنا چاہتی تھی اور حیض کی وجہ سے کر نہیں پائی تھی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10010

 
 
Hadith   1562   الحديث
الأهمية: يا معشر النساء تصدقن فإني أريتكن أكثر أهل النار، فقلن: وبم يا رسول الله؟ قال: تكثرن اللعن، وتكفرن العشير، ما رأيت من ناقصات عقل ودين أذهب للب الرجل الحازم من إحداكن


Tema:

اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم (عورتوں) سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقل مند اور تجربہ کار آدمی کے عقل کو ماؤف کردینے والا نہیں دیکھا۔

عن أبي سعيد الخدري-رضي الله عنه-، قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في أضْحَى أو فِطْر إلى المُصَلَّى، فَمَرَّ على النساء، فقال: «يا مَعْشَرَ النساء تَصَدَّقْنَ فإني أُرِيتُكُنَّ أكثر أهْل النار». فقُلن: وبِمَ يا رسول الله؟ قال: «تُكْثِرْن اللَّعن، وتَكْفُرْن العَشِير، ما رَأَيْت من ناقِصَات عَقْل ودِين أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُل الحَازم من إحدَاكُن». قُلْن: وما نُقصَان دِينِنَا وعَقْلِنَا يا رسول الله؟ قال: «ألَيْس شهادة المرأة مثل نِصف شَهادة الرَّجُل». قُلْن: بَلَى، قال: «فذَلِك من نُقصان عقْلِها، ألَيْس إذا حَاضَت لم تُصَلِّ ولم تَصُم». قُلْن: بَلَى، قال: «فذَلِك من نُقصان دِينِها».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بيان کرتے ہيں کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ (وہاں) آپ ﷺ عورتوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم (عورتوں) سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقل مند اور تجربہ کار آدمی کے عقل کو ماؤف کردینے والا نہیں دیکھا۔ عورتوں نے عرض کيا کہ ہمارے دین اور ہماری عقل کی کمی کیا ہے اے اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا عورت کی گواہی مرد کی آدھی گواہی کے برابر نھیں ہے؟ انہوں نے کہا، جی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پس یہی اس کی عقل کی کمی ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے؟ عورتوں نے کہا ایسا ہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہی اس کے دین کی کمی ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أبو سعيد -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم-: "خرج في أضْحَى أو فِطْر إلى المُصَلَّى، فَمَرَّ على النساء بعد أن خطب خطبة عامة للرجال والنساء خصصهن بخطبة في وعْظِهن وتذْكِيرهن وترْغِيبهن في الصدقة، لأن الصدقة تُطفئ غَضب الرَّب، ولهذا قال لهنَّ: "يا مَعْشَرَ النساء تَصَدَّقْنَ فإني أُرِيتُكُنَّ أكثر أهْل النار" أي أكثرن من الصدقة لوقاية أنْفُسِكن من عذاب الله، لأني اطلعت على النَّار وشاهدتها بعيني، فرأيت أكثر أهلها النَّساء.
"فقُلن: وبِمَ يا رسول الله؟" أي: بسبب ماذا نَكون أكثر أهل النار؟
قال: "تُكْثِرْن اللَّعن" أي بسبب أنَّكن تُكْثِرْن اللَّعن إلى الناس، وهو شَرُّ دُعاء يوجَّه إلى إنسان؛ لأن معناها الطَّرد من رحمة الله، والإبعاد عن الخير في الدنيا والآخرة، ولا شك أن في هذا مصادرة لِسَعَة رحمته التي سَبقت غضبه.
"وتَكْفُرْن العَشِير"
أي تَسترن نِعمة الزوج وتَجْحَدن فَضله وتُنْكِرن معروفه وتَنْسَين جميله، وفي رواية للبخاري ومسلم عن ابن عباس: "قيل: أيَكْفُرن بالله؟ قال: "يَكْفُرن العَشِير، ويَكْفُرن الإحسان، لو أحسنتَ إلى إحداهن الدهر، ثم رَأَتْ منك شيئا، قالت: ما رأيتُ منك خيرا ً قَط"
"ما رَأَيْت من ناقِصَات عَقْل ودِين أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُل الحَازم من إحدَاكُن"
أي لا أحد أقدْر على سَلْب عقل الرجل من المرأة، ولو كان الرَّجُل ممن عُرِف بالحَزم والشدَّة؛ وذلك لقوة تأثيرها العاطفي وسِحر جَمالها ودلالها وإغرائها، وهذا على سبيل المُبَالغة في وصْفِهن بذلك؛ لأنه إذا كان الضَابط الحازم في أموره يَنْقاد لهنَّ فغيره من باب أولى."قُلْن: وما نُقصان دِينِنَا وعَقْلِنَا يا رسول الله؟" كأنه خُفي عليهن ذلك حتى سَألن عنه"
قال: «ألَيْس شهادة المرأة مثل نِصف شَهادة الرَّجُل»، هذا استفهام تقريري منه -صلى الله عليه وسلم- وهو أن شهادة المرأة على نصف شهادة الرَّجل.
"قُلْن: بَلَى" أي أن الأمر كذلك.
قال: "فذَلِك من نُقصان عَقْلِها" والمعنى: أن النَّقص الحاصل في عقلها لأجل أن شهادتها جُعلت على نصف شهادة الرجل، وهذا فيه إشارة إلى قوله تعالى: ( واستشهدوا شهيدين من رجالكم فإن لم يكونا رجلين فرجل وامرأتان ممن ترضون من الشهداء أن تضل إحداهما فتذكر إحداهما الأخرى ) فالاستظهار بامرأة أخرى دليل على قِلَّة ضبطها وهو مُشْعِر بنقص عقلها.
"ألَيْس إذا حَاضَت لم تُصَلِّ ولم تَصُم" وهذا استفهام تقريري منه -صلى الله عليه وسلم- في أن المرأة في وقت حيضها تدع الصلاة وتدع الصيام.
"قُلْن: بَلَى، أي: أن الأمر كذلك، قال: "فذَلِك من نُقصان دِينِها".
فإذا كانت المرأة تَدع الصلاة والصوم وهما من أركان الإسلام، بل من أهمها، فهذا نَقص في دِينها؛ لأنها لا تصلي ولا تقضي، وفي الصيام يفوتها إذا حاضت مشاركة المؤمنين في الطاعة في رمضان.
إلا أنهن لا يُلَمْنَ على ذلك ولا يؤاخذن عليه؛ لأنه من أصل الخِلْقَة، لكن نَبَّه النبي -صلى الله عليه وسلم- على ذلك تحذيرًا من الافتتان بهن ولهذا رتَّب العَذاب على ما ذُكر من الكُفْرَان وغيره لا على النَّقص الحاصل عندهن؛ لأنه بغير اختيارهن، ولا يُمكِن دفعه بحال.
575;بو سعید خدری رضی اللہ عنہ بيان فرما رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی یا عید الفطر کے دن عیدگاہ کی طرف تشریف لے گئے۔ مرد و خواتین تمام لوگوں کو عمومى خطبہ دینے کے بعد آپ ﷺ کا گزر جب عورتوں کے پاس سے ہوا تو آپ ﷺ نے بطور خاص انہیں وعظ و نصیحت کرنے اور انہیں صدقہ کرنے کی ترغیب دينے کے ليے ايک خطبہ ارشاد فرمايا۔ کیونکہ صدقہ رب کے غضب کو بجھا ديتا ہے۔ اس لیے آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے“ یعنی زیادہ سے زیادہ صدقہ دو تاکہ تم اپنے آپ کو اللہ کے عذاب سے بچا سکو کیونکہ ميں نے جہنم ميں جھانک کر دیکھا اور اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کیا تو مجھے اس میں اکثریت عورتوں کی نظر آئی۔
انہوں نے کہا:اے اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ یعنی کس وجہ سے جہنم میں ہماری اکثریت ہو گی؟
آپ ﷺ نے فرمایا: تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو۔ یعنی اس وجہ سے کہ تم لوگوں کو لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور یہ کسی انسان کے لیے کی جانے والی بدترین دعا ہے کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ شخص اللہ کی رحمت سے دھتکار دیا جائے اور دنیا و آخرت کی بھلائی سے اسے دور کر دیا جائے اور کوئی شک نہیں کہ اس میں اللہ کی کشادگئ رحمت کے سلب کئے جانے کا سوال ہے جو اس کے غضب پر سبقت لے چکی ہے۔
”اور تم شوہروں کی نافرمانی کرتی ہو“ یعنی تم شوہر کے احسان کو چھپاتی ہو، اس کے فضل کا انکار کرديتی ہو اور اس کے اچھے سلوک کو نظر انداز کرديتی ہو اور اس کے احسان کو بھول جاتی ہو۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ کہا گيا: کیا وہ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟ آپ ﷺ نےفرمایا: ”وہ شوہروں کی نا شکری کرتی ہیں اور ان کی احسان فراموش ہوتی ہیں۔ اگر تم سارا زمانہ ان میں سے کسی سے اچھا سلوک کرتے رہو اور پھر تمہاری طرف سے اسے کوئی (خلاف مزاج) بات پیش آجائے تو کہہ دیتی ہے کہ میں نے تو تم سے کبھی کوئی بھلائی دیکھی ہی نہیں“۔
”باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے تم سے زیادہ کسی ہوش مند آدمی کی عقل مار دینے والا میں نے کوئی نہیں دیکھا“ یعنی مرد کی مت مار دینے پر عورت سے زیادہ قدرت رکھنے والا کوئی نہیں، اگرچہ آدمی احتیاط ودوراندیشی اور عزم وقوت والا ہی کیوں نہ ہو۔ ایسا عورت کی جذباتی اثر انگیزی کی طاقت، اس کی خوبصورتی کے جادو، ناز وادا اور فریفتہ کرلینے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ عورتوں کے بارے میں اس طرح کے وصف کا بيان بطور مبالغہ ہے کیونکہ جب اپنے معاملات میں پختہ کار اور محتاط و دوراندیش شخص ان کا تابع دار بن جاتا ہے تو پھر دوسرے لوگ تو بطریق اولیٰ ان کا شکار ہو جائیں گے۔
”انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے دین اور ہماری عقل کی کمی کیا ہے؟“ گویا کہ یہ بات ان سے اوجھل تھی اس لیے انہوں نے اس کے بارے میں دریافت کیا۔
”آپ ﷺ نے فرمایا : کیا عورت کی گواہی مرد کی آدھی گواہی کے برابر نھیں ہے؟“ یہ آپ ﷺ کی طرف سے استفہام تقریری تھا، اس بات کا اقرار کرانے کے لئے کہ عورت کی گواہی مرد کی آدھی گواہی کے برابر ہوتی ہے۔
انہوں نے جواب دیا: کیوں نھیں۔ یعنی معاملہ ایسے ہی ہے۔
آپﷺ نے فرمایا: ”يہی اس کی عقل کی کمی ہے“ یعنی عقلی طور پر وہ عورت اس لیے ناقص ہے کہ اس کی گواہی مرد کی گواہی کا نصف ہوتی ہے۔ اس میں اللہ تعالی کے اس فرمان کی طرف اشارہ ہے: ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَىٰ﴾ ” پھر اپنے مردوں سے دو آدمیوں کی اس پر گواہی کرا لو اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں تاکہ ایک بھول جائے، تو دوسری اسے یاد دلا دے“۔ دوسری عورت سے مدد لینے میں اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی قوتِ حافظہ کم ہوتی ہے اور اس سے اس کی عقل کی کمی کا پتہ چلتا ہے۔
”کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے اور نہ روزہ رکھ سکتی ہے؟“ یہ بھی نبی ﷺ کی طرف سے استفہام تقریری ہے جس کا مقصد اس بات کا اقرار کرانا ہے کہ عورت مدت حیض میں نماز و روزہ چھوڑ دیتی ہے۔
انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں، یعنی معاملہ ایسے ہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہی ان کے دین کی کمی ہے“ جب عورت نماز اور روزہ چھوڑ دیتی ہے جو ارکانِ اسلام میں سے ہیں بلکہ اہم ترین ارکان ميں سے ہیں تو یہ اس کے دین میں کمی ہوئی کیونکہ وہ نہ تو (ان دنوں میں) نماز پڑھتی ہے اور نہ ہی اس کی قضا کرتی ہے اور رمضان میں روزوں کے دوران اگر اسے حیض آ جائے تو وہ دیگر اہل ایمان کے ساتھ نیک اعمال میں شریک ہونے سے محروم رہتی ہے۔
تاہم اس میں ان کا کوئی دوش نہیں ہے اور نہ اس پر ان کا مواخذہ ہی ہوگا، کیونکہ یہ ان کی اصلی خلقت میں ہے۔ ليکن نبی ﷺ نے ان کے فتنے میں پڑنے سے بچانے کے لیے اس پر متنبہ فرمایا۔ اسی لیے عذاب کو (شوہروں کی) مذکورہ ناشکری واحسان فراموشی کا نتیجہ قرار دیا ہے نہ کہ ان کے اندر پائے جانے والے نقص و کمی کا، کیونکہ اس میں ان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ کسی صورت میں اس سے بچ سکتی ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10011

 
 
Hadith   1563   الحديث
الأهمية: عن النبي -صلى الله عليه وسلم- في الذي يأتي امرأته وهي حائض قال: يتصدق بدينار أو نصف دينار


Tema:

نبی ﷺ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو حالتِ حیض میں اپنی بیوی سے جماع کر لیتا ہے کہ وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ دے۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما-، عن النبي -صلى الله عليه وسلم- في الذي يأتي امرأته وهي حائض قال: «يتصدق بدينار أو نصف دينار».

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو حالتِ حیض میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لیتا ہے کہ ’’وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ دے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الرسول -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث كفارة من جامع امرأته وهي حائض، وهي التصدق بدينار أو نصف دينار، ويعلم من الحديث حرمة مجامعة الحائض وذلك لأنه رتب عليه كفارة، وهو دليل أيضاً على وجوب التصدق لأنه في مقابلة ذنب.
585;سول اللہ ﷺ اس حدیث میں اس شخص کا کفارہ بیان فرما رہے ہیں جو اپنی بیوی سے حالتِ حیض میں ہمبستری کر لے۔ اُس کا کفارہ ایک یا نصف دینار صدقہ کرنا ہے۔ اور حدیث سے حائضہ عورت سے ہمبستری کرنے کی حرمت کا علم ہوتا ہے کیونکہ آپ ﷺ نے اس پر کفارہ لاگو کیا ہے۔ اور یہ اس صدقہ کے واجب ہونے کی بھی دلیل ہے کیونکہ یہ گناہ کے مقابلے میں ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10012

 
 
Hadith   1564   الحديث
الأهمية: أن اليهود كانوا إذا حاضت المرأة فيهم لم يؤاكلوها، ولم يجامعوهن في البيوت


Tema:

یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے درمیان کسی خاتون کو حیض آجاتا تو وہ اس کے ساتھ نہ کھاتے تھے اور نہ اس کے ساتھ گھر میں اکٹھے رہتے تھے۔

عن أنس -رضي الله عنه-: أن اليَهُود كانوا إذا حَاضَت المرأة فيهم لم يؤَاكِلُوها، ولم يُجَامِعُوهُن في البيوت فسأل أصحاب النبي -صلى الله عليه وسلم- النبي -صلى الله عليه وسلم- فأنزل الله تعالى: {ويسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض} [البقرة: 222] إلى آخر الآية، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «اصْنَعُوا كلَّ شيء إلا النكاح». فَبَلغ ذلك اليهود، فقالوا: ما يُريد هذا الرَّجُل أن يَدع من أمْرِنا شيئا إلا خَالفَنَا فيه، فجاء أُسَيْدُ بن حُضَيْر، وعَبَّاد بن بِشْر فقالا يا رسول الله، إن اليهود تقول: كذا وكذا، فلا نُجَامِعُهُن؟ فَتغيَّر وجه رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حتى ظَنَنَا أن قد وجَد عليهما، فخرجا فَاسْتَقْبَلَهُمَا هَدِيَّة من لَبَنٍ إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-، فأَرسَل في آثَارِهِما فَسَقَاهُمَا، فَعَرَفَا أن لم يَجِد عليهما.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے درمیان کسی خاتون کو حیض آجاتا تو وہ اس کے ساتھ نہ کھاتے تھے اور نہ اس کے ساتھ گھر میں اکٹھے رہتے تھے۔ نبى ﷺ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ سے (اس بارے میں) دریافت کیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ (البقرۃ: 222)۔ ”آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیئے کہ وه گندگی ہے، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو“، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سوائے صحبت کے تم سب کچھ کرو۔ یہ بات یہودیوں تک پہنچی تو وہ کہنے لگے کہ یہ شخص تو ہر بات میں ہماری مخالفت ہی چاہتا ہے۔ اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے آکر کہا: اے اللہ کے رسول! یہودی لوگ ایسے ایسے کہہ رہے ہیں۔ تو کیا ہم (ان کی مخالفت میں) عورتوں سے (ایام حیض میں) صحبت نہ کر لیا کریں؟ اس پر رسول اللہﷺ کا چہرہ بدل گیا یہاں تک کہ ہمیں لگا کہ آپ ﷺ ان پر ناراض ہو گئے ہیں۔ چنانچہ یہ دونوں صحابی وہاں سے نکلے تو اس کے فوراً بعد نبی ﷺ کے پاس دودھ کا تحفہ آیا۔ آپ ﷺ نے ان کے پیچھے آدمی بھیج کر انہیں بلایا اور ان دونوں کو دودھ پلایا۔ اس سے انہیں اندازہ ہو گیا کہ آپ ﷺ ان پر ناراض نہیں ہوئے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أنس -رضي الله عنه-: "أن اليَهُود إذا حَاضَت المرأة فيهم لم يؤَاكِلُوها ولم يُجَامِعُوهُن في البيوت" يعني: أن اليهود كانوا يمتنعون من مشاركة المرأة الحائض على الطعام ولا يَشربون من سؤرها ولا يأكلون الطعام الذي هو من صنعها؛ لأنهم يعتقدون نجاستها ونجاسة عرقها.
"ولم يُجَامِعُوهُن في البيوت، المراد بالمُجامعة هنا: المُساكنة والمخالطة، فاليهود كانت المرأة إذا حاضَت اعتزلوها فلا يخالطوها، بل يخرجوها من البيت، كما في رواية أنس -رضي الله عنه- عند أبي داود : " أن اليهود كانت إذا حاضت منهم المرأة أخرجوها من البيت، ولم يُؤاكلوها ولم يُشَارِبُوها ولم يُجامعوها في البيت".
"فسأل أصحاب النبي -صلى الله عليه وسلم- النبي -صلى الله عليه وسلم-" أي أن أصحاب النبي -صلى الله عليه وسلم- عندما علموا حال اليهود من اعتزال نسائهم زمن الحيض سألوا النبي -صلى الله عليه وسلم- عن ذلك.
"فأنزل الله -تعالى-: (ويسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض) فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «اصْنَعُوا كلَّ شيء إلا النكاح»"، فأجاز الشرع مُخالطتها ومُؤاكلتها ومشاربتها ومُلامَستها ومُضاجعتها، وأباح منها كل شيء إلا الوطء في الفَرْج.
وقوله -صلى الله عليه وسلم-: "اصْنَعُوا كل شيء إلا النكاح"
فيه بيان لمجمل الآية؛ لأن الاعتزال شامل للمجامعة والمخالطة والمؤاكلة والمُشاربة والمُصاحبة فبين النبي-صلى الله عليه وسلم- أن المراد بالاعتزال ترك الجماع فقط لا غير ذلك.
"فَبَلغ ذلك اليهود" أي أن اليهود بلَغَهم أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أجاز لأصحابه أن يفعلوا مع نسائهم زمن الحيض كل شيء إلا الوطء.
"فقالوا: ما يُريد هذا الرَّجُل أن يَدع من أمْرِنا شيئا إلا خَالفَنَا فيه" يعني: إذا رآنا نعمل شيئا أمر بخلافه، وأرشد إلى خلافه، فهو يَحرص على أن يُخالفنا في كل شيء.
"فجاء أُسَيْدُ بن حُضَيْر، وعَبَّاد بن بِشْر فقالا يا رسول الله، إن اليهود تقول: كذا وكذا، فلا نُجَامِعُهُن؟" يعني: أن أُسَيْد بن حُضَيْر، وعَبَّاد بن بِشْر -رضي الله عنهما- نقلا للنبي -صلى الله عليه وسلم- ما قالته اليهود عندما علموا مخالفة النبي -صلى الله عليه وسلم- لهم، ثم إنهما -رضي الله عنهما- سألا النبي -صلى الله عليه وسلم- عن إباحة الوطء لأجل تحقيق مخالفة اليهود في كل شيء، والمعنى: إذا كنَّا قد خَالفْنَاهم في كونهم لا يخالطوهن، ونحن نخالط ونضاجع ونؤاكل ونشارب، ونفعل كل شيء إلا النكاح -الجماع- أفلا ننكحهن، حتى تتحقق مخالفتهم في جميع الأمور؟
"فَتغيَّر وجه رسول الله -صلى الله عليه وسلم-" أي أن النبي -صلى الله عليه وسلم- لم يقرهما على اجتهادهم، بل غَضِب وظهر معالم غَضِبه على وجهه؛ لأن قولهما مخالف للشرع؛ فالله تعالى يقول :{فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ} [البقرة:222] وبين النبي -صلى الله عليه وسلم- ما هو المراد بالاعتزال المذكور في الآية، وهو أنه لا حق لكم في جماعهن وقت الحيض.
"حتى ظننا أن قد وجَد عليهما" يعني: غَضب عليهما بسبب قولهما.
"فخرجا فَاسْتَقْبَلَهُمَا هَدِيَّة من لَبَنٍ إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-، فأَرسَل في آثَارِهِما فَسَقَاهُمَا -صلى الله عليه وسلم-" خرجا من عنده وفي أثناء خروجهما أستقبلهما شخص معه هَدِيَّة من لَبَنٍ يهديها إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فلمَّا دخل صاحب الهَديِّة على النبي -صلى الله عليه وسلم- أرسل رسول الله -صلى الله عليه وسلم-بِمن يأتي بهما، فلما جاءا إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- سَقَاهُما من ذلك اللَّبَن تلطُّفا بهما وإظهارا للرضا عنهما.
"فَعَرَفَا أن لم يَجِد عليهما" يعني: لم يغضب؛ لأنهما كانا معذورين لحُسن نيتهما فيما تكلما به، أو ما استمر غضبه عليهما، بل زال عنه الغَضَب، وهذا من مكارم أخلاقه -صلى الله عليه وسلم- وتلطفه بأصحابه.
575;نس رضی اللہ عنہ بيان كر رہے ہیں کہ یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے درمیان کسی خاتون کو حیض آجاتا تو وہ اس کے ساتھ نہ کھاتے تھے اور نہ اس کے ساتھ گھر میں اکٹھے رہتے تھے۔ یعنی یہودی لوگ حائضہ عورت کو نہ تو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرتے، نہ ہی اس کا جھوٹا پانی پیتے اور نہ ہی اس کے ہاتھ کا بنا کھانا کھاتے تھے، کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق حائضہ عورت اور اس کا پسینہ ناپاک تھا۔
” ولم يُجَامِعُوهُن في البيوت“ یہاں مجامعت سے مراد رہائش اختیار کرنا اور مل جل کر رہنا ہے۔ جب عورت کو حیض آتا تو یہودی اس سے میل جول نہ رکھتے بلکہ اسے گھر سے نکال دیتے تھے جیسا کہ سنن ابی داود میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے درمیان کسی خاتون کو حیض آجاتا تو اسے گھر سے نکال دیتے تھے۔ وہ نہ تو اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ ہی گھر میں اس کے ساتھ رہتے تھے۔
”صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ سے دریافت کیا“ یعنی اصحابِ رسول ﷺ کو جب یہودیوں کا حال معلوم ہوا کہ وہ مدتِ حیض میں عورتوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں تو انہوں نے نبی ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا۔
تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی:﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ (البقرۃ: 222) ”آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیئے کہ وه گندگی ہے، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو“۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سوائے صحبت کے تم سب کچھ کر سکتے ہو“۔ شریعت نے ان کے ساتھ مل جل کر رہنے اور ان کے ساتھ کھانے پینے، انہیں چھونے، ان کے ساتھ ایک بستر میں سونے اور سوائے شرم گاہ میں وطی کرنے کے سب کچھ کرنا مباح کر دیا۔
آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ ”سوائے جماع کے تم سب کچھ کرو“ اس ميں آیت کے اجمال کی وضاحت ہے۔ کیونکہ اعتزال کا لفظ مل جل کر رہنے، اکٹھے کھانے پینے اور ایک ساتھ رہنے جیسے سب معانی کو محیط ہے۔ آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ اعتزال سے مراد صرف اور صرف جماع (صحبت) کو ترک کرنا ہے۔
”یہ بات یہودیوں تک پہنچی“یعنی یہودیوں تک یہ بات پہنچی کہ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو اجازت دے دی ہے کہ وہ مدتِ حیض میں اپنی بیویوں کے ساتھ سوائے وطی کے سب کچھ کر سکتے ہیں۔ تو وہ کہنے لگے کہ یہ شخص تو ہر بات میں ہماری مخالفت ہی کرنا چاہتا ہے۔ یعنی جب یہ ہمیں کوئی کام کرتے دیکھتا ہے تو اس کی مخالفت کا حکم دیتا ہے اور اس کا الٹ کرنے کو کہتا ہے۔ پس وہ ہر بات میں ہماری مخالفت کرنے کے درپے رہتا ہے۔
تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے آکر کہا: یا رسول اللہ! یہودی لوگ ایسے ایسے کہہ رہے ہیں۔ تو کیا ہم (ان کی مخالفت میں) عورتوں سے (ایام حیض میں) جماع نہ کرلیا کریں؟۔ یعنی اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کے سامنے یہودیوں کی اس بات کا تذکرہ کیا جو انہوں نے اس وقت کہی تھی جب انہیں یہ علم ہوا تھا کہ نبی ﷺ نے ان کی مخالفت کا حکم دیا ہے۔ پھر انھوں نے آپ ﷺ سے وطی کو بھی جائز ٹھہرا دینے کے بارے میں پوچھا تاکہ یہودیوں کی ہر چیز میں مخالفت ہو سکے۔ وہ کہنا یہ چاہتے تھے کہ جب ہم نے عورتوں کے ساتھ میل جول رکھنے کے معاملے میں یہودیوں کی مخالفت کی ہے اور اس کی بنا پر ہم ان کے ساتھ ملتے جلتے ہیں، ان کے ساتھ سوتے اور ان کے ساتھ اکٹھے کھاتے پیتے ہیں اور سوائے جماع کے ہر چیز کرتے ہیں تو کیوں نہ ہم ان سے جماع بھی کر لیا کریں تاکہ تمام امور میں ان کے مخالفت ہو سکے؟
”تو رسول اللہﷺ کا چہرہ بدل گیا“ یعنی نبی ﷺ نے ان کے اجتہاد کی تائيد نہیں فرمائی بلکہ آپ ﷺ غصے میں آگئے اور غصے کے آثار بھی آپ ﷺ کے چہرے پر ظاہر ہوگئے۔ کیونکہ ان کی بات شریعت کے برخلاف تھی۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ (البقرۃ: 222) ”حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو“۔ اور آپ ﷺ نے وضاحت فرما دی کہ آیت میں مذکور اعتزال سے کیا مراد ہے اور وہ یہ کہ مدت حیض میں تمہارے لیے ان کے ساتھ جماع کرنا جائز نہیں ہے۔
”یہاں تک کہ ہمیں لگا کہ آپ ﷺ ان پر ناراض ہو گئے ہیں“ یعنی آپ ﷺ ان کی بات کی وجہ سے ان پر غصہ ہو گئے ہیں۔
چنانچہ یہ دونوں صحابی وہاں سے نکلے تو اس کے فوراً بعد نبی ﷺ کے پاس دودھ کا تحفہ آیا۔ آپ ﷺ نے ان کے پیچھے آدمی بھیج کر انہیں بلایا اور ان دونوں کو دودھ پلایا۔ یعنی وہ دونوں نبی ﷺ کے پاس سے نکلے۔ اور ان کے نکلنے کے دوران ایک شخص نبی ﷺ کے لئے بطور تحفہ دودھ لے کر آیا۔ جب یہ تحفہ لے کر آنے والا شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو بلانے کے لیے ایک آدمی ان کے پیچھے بھیجا۔ جب وہ دونوں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے اظہارِ شفقت اور انہیں یہ باور کرانے کے لیے کہ آپ ﷺ ان سے راضی ہیں انہیں یہ دودھ پلایا۔
”پس انہیں معلوم ہو گیا کہ آپ ﷺ ان سے ناراض نہیں ہیں“ یعنی آپ ﷺ ان سے غصہ نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے جو کچھ کہا تھا وہ اچھی نیت کے ساتھ کہا تھا۔ یا پھر (ابتدا ميں آپ ﷺ کو غصہ آیا) لیکن وہ غصہ جاری نہ رہا بلکہ ختم ہو گیا۔ یہ واقعہ آپ ﷺ کے مکارمِ اخلاق اور آپ ﷺ کے اپنے صحابہ کے ساتھ لطف و مہربانی کا برتاؤ کرنے کا ایک مظہر ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10013

 
 
Hadith   1565   الحديث
الأهمية: كنا لا نعد الكدرة والصفرة بعد الطهر شيئًا


Tema:

ہم طہر کے بعد مٹیالے اور زرد رنگ کو (حیض) نہیں شمار کرتی تھیں۔

عن أم عطية، نُسيبة بنت الحارث الأنصارية -رضي الله عنها- قالت: «كنا لا نعد الْكُدْرَة وَالصُّفْرَة بعد الطهر شيئًا».

ام عطیہ نسیبہ بنت حارث انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہم طُہر کے بعد مٹیالے اور زرد رنگ کو کوئی (حیض) نہیں شمار کرتی تھیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نقلت أم عطية -رضي الله عنهما- سنة نبوية تقريرية فيما يخرج من أرحام النساء من دماء فقالت -رضي الله عنها-:


"كنا لا نعد الكدرة" أي: ما هو بلون الماء الوسخ الكدر.
و"الصفرة" هو: الماء الذي تراه المرأة كالصديد يعلوه اصفرار.
"بعد الطهر" أي بعد رؤية القصة البيضاء والجُفُوف.
"شيئا" أي لا نعده حيضا، وقولها: " كنا:" أشهر الأقوال فيها أنها تأخذ حكم الرفع إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-؛ لأن المراد كنا في زمانه -صلى الله عليه وسلم- مع علمه، فيكون تقريرا منه، وهو دليل على أنه لا حكم لما ليس بدم غليظ أسود يعرف، فلا يعد حيضا، بعد الطهر، وللطهر علامتان:
الأولى: القَصَّة، قيل: إنه شيء كالخيط الأبيض، يخرج من الرحم بعد انقطاع الدم.
الثانية: الجفوف، وهو أن يخرج ما يحشى به الرحم جافا.
ومفهوم قولها: "بعد الطهر" أن الصفرة والكدرة في أيام الحيض تعتبر حيضا.
593;ورتوں کے رحم سے جو خون نکلتا ہے اس کے بارے میں ام عطیہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی ایک تقریری سنت کو نقل کرتے ہوئے بیان کررہی ہیں کہ: "كنا لا نعد الكدرة"۔ یعنی جو گدلے اور مٹیالے رنگ کے پانی کی طرح چیز ہوتی۔ ”الصفرة“اس سے عورت کو نظر آنے والا وہ پانی ہے جو کچ لہو (پیپ) کی مانند اور زردی مائل ہوتا ہے۔ ”بعد الطهر“ یعنی سفید پانی نظر آنے اور خشکی ہونے کے بعد۔ "شيئا" یعنی ہم اسے حیض نہیں گردانتے تھے۔ " كنا "۔ اس کے بارے میں مشہور ترین قول یہی ہے کہ اسے مرفوع حدیث ہی سمجھا جائے گا کیونکہ ان کے ایسا کہنے سے مراد یہ ہے کہ ہم نبی ﷺ کے زمانے میں آپ کے علم کے ساتھ ایسا کرتی تھیں۔ چنانچہ یہ آپ ﷺ کی طرف سے تقریر ہو گا۔ یہ اس بات پر دلیل ہے کہ جو گاڑھا سیاہ خون نہ ہو اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اور طہر کے بعد اسے حیض نہیں گردانا جائے۔
طہر کی دو علامتیں ہیں:
اول: القَصّہ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سفید دھاگے کی مانند ایک چیز ہے جو خون رکنے کے بعد رحم سے نکلتی ہے۔
دوم: خشکی۔ ا س سے مراد یہ ہے کہ رحم میں اگر کوئی چیز بھری جائے تو وہ خشک ہی باہر نکلے۔
”بعد الطهر“ اس کا مطلب یہ ہے کہ حیض کے دنوں میں نظر آنے والے زرد اور مٹیالے رنگ کو حیض ہی شمار کیا جائے گا۔   --  [صحیح]+ +[امام بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10014

 
 
Hadith   1566   الحديث
الأهمية: امكثي قدر ما كانت تحبسك حيضتك، ثم اغتسلي


Tema:

تمہارے حیض کا خون جتنے دن تمہیں روکے رکھتا تھا، اسی قدر رُکی رہو، پھر غسل کرو۔

عن عائشة -رضي الله عنها- أن أم حبيبة بنت جحش شكت إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الدم، فقال: «امكُثِي قَدْرَ ما كانت تَحبِسُكِ حَيْضَتُكِ، ثم اغتَسِلِي». فكانت تغتسل كل صلاة.

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے خون کے مسلسل جاری رہنے کی شکایت کی۔تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے حیض کا خون جتنے دن تمہیں روکے رکھتا تھا، اسی قدر رُکی رہو، پھر غسل کرو“۔ چنانچہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث حكم المستحاضة وهو أنها تمكث أيام حيضتها المعتادة إن كانت لها عادة معروفة لا تصلي ولا تصوم، فإذا ما انتهت عادتها تغتسل وإن استمر الدم، ثم تصلي وتصوم، والمستحاضة المرأة التي يستمر معها نزول الدم ولا يتوقف.
575;س حدیث میں مستحاضہ عورت کے حکم کا بیان ہے کہ اگر حیض آنے کے دنوں کے سلسلے میں اس کی کوئی معروف عادت ہو تو پھر وہ حیض کے معتاد دنوں میں رُکی رہے اور نماز و روزہ نہ ادا کرے۔جب اس کی عادت کے ایام ختم ہو جائیں تو پھر غسل کر لے اگرچہ خون جاری ہو۔ پھر نماز بھی پڑھے اور روزہ بھی رکھے۔ اور مستحاضہ عورت سے مراد: وہ عورت ہے جس کا خون مسلسل بغیر رُکے بہتا رہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10015

 
 
Hadith   1567   الحديث
الأهمية: يا رسول الله، إني امرأة أستحاض حيضة كثيرة شديدة، فما ترى فيها قد منعتني الصلاة والصوم، فقال: أنعت لك الكرسف، فإنه يذهب الدم، قالت: هو أكثر من ذلك


Tema:

اے اللہ کے رسول! ميں ايسی عورت ہوں جسے استحاضہ کا خون بہت ہی کثرت اور شدت سے آتا ہے، اس کے بارے میں آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ اس نے مجھے نماز روزے سے روک رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے لیے روئی تجویز کرتا ہوں، کیونکہ اس سے خون بند ہو جائے گا۔ حمنہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وہ تو اس سے زیادہ ہے

عن حَمْنَة بنت جَحش -رضي الله عنها- قالت: كنت أُسْتَحَاض حَيْضَة كثيرة شَدِيدة، فأتيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أَسْتَفْتِيه وأُخْبِرُه، فَوجدْتُه في بيت أختي زينب بنت جَحش فقلت: يا رسول الله، إني امرأة أُسْتَحَاض حَيْضَة كثيرة شديدة، فما تَرى فيها، قد مَنَعَتْنِي الصلاة والصوم، فقال: «أَنْعَتُ لك الكُرْسُف، فإنه يُذهِبُ الدَّم». قالت: هو أكثر من ذلك، قال: «فاتَّخِذِي ثوبا». فقالت: هو أكثر من ذلك إنما أَثُجُّ ثَجًّا، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «سَآمُرُك بأمْرَين أيهما فَعَلْتِ أجْزَأَ عَنْكِ من الآخر، وإن قَوِيتِ عليهما فأنتِ أعْلَم». قال لها: «إنما هذه رَكْضَةٌ من رَكَضَات الشيطان فَتَحَيَّضِي ستَّة أيام أو سبعة أيَّام في عِلْم الله، ثم اغْتَسِلِي حتى إذا رأيت أنك قد طَهُرْتِ، واسْتَنْقَأْتِ فصلِّي ثلاثا وعشرين ليلة أو أربعا وعشرين ليلة وأيامها وصومي، فإن ذلك يُجْزِيكِ، وكذلك فافْعَلي في كل شهر كما تحيض النساء، وكما يَطْهُرْن مِيقَاتُ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ، وإن قَوِيت على أن تُؤَخِّري الظهر وتُعَجَلِّي العصر فَتَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بين الصلاتين الظهر والعصر، وتُؤَخِّرِين المغرب وتُعَجِّلين العشاء، ثم تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بين الصلاتين فافْعَلي، وَتَغْتَسِلِينَ مع الفجر فافْعَلي، وصُومي إن قَدِرت على ذلك»، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «وهذا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إليَّ».
حمنہ بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے بہت ہی کثرت اور شدت سے استحاضہ کا خون آتا تھا۔ چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ سے حکم دریافت کرنے اور آپ ﷺ کو بتانے کے لیے آپ ﷺکی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی۔ میں نے آپ ﷺ کو اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں پایا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ميں ايسی عورت ہوں جسے استحاضہ کا خون بہت ہی کثرت اور شدت سے آتا ہے، اس کے بارے میں آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ اس نے مجھے نماز روزے سے روک رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں تمہارے لیے روئی تجویز کرتا ہوں، کیونکہ اس سے خون بند ہو جائے گا۔‘‘ حمنہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وہ تو اس سے زیادہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لنگوٹ باندھ کر اس کے نیچے کپڑا رکھ لو‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ اس سے بھی زيادہ ہے، مجھے بہت تیزی سے خون بہتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو میں تمھیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں ان دونوں میں سے تم جو بھی کر لو تمہارے لیے کافی ہو گا اور اگر تم دونوں پر قدرت رکھ سکو تو تم زیادہ بہتر جانتی ہو۔“ (یعنی تم اپنی حالت کو دیکھتے ہوئے جو چاہو کرو)۔” چنانچہ آپ ﷺنے حمنہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: “یہ استحاضہ تو دراصل شیطانی کچوکا ہے لہٰذا تم (ہر مہینہ) اللہ کے علم کے مطابق چھ یا سات روز حیض کے ایام شمار کرو۔ پھر غسل کر لو اور جب تم جان لو کہ تم پاک وصاف ہوگئی ہو تو تیئیس (23) دن یا چوبیس (24) دن نماز پڑھتی رہو اور روزے رکھو۔ یہ تمہارے لیے کافی ہے۔ اوراسی طرح ہر ماہ کیا کرو جیسا کہ حیض والی عورتیں کرتی ہیں: حیض کے اوقات میں حائضہ اور پاکی کے وقتوں میں پاک رہتی ہیں۔ اور اگر تم اس بات پر قادر ہو کہ ظہر کو کچھ دیر سے پڑھو اور عصر کو قدرے جلدی پڑھ لو تو غسل کر کے ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھ لیا کرو، پھر مغرب کو ذرا دیر کر کے اور عشاء کو کچھ پہلے کر کے پھر غسل کر کے یہ دونوں نمازیں ایک ساتھ پڑھ لو تو ایسا کر لیا کرو، اور صبح کے لیے الگ غسل کر کے فجر پڑھو، اور گر تم قادر ہو تو روزہ رکھو۔‘‘ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’ان دونوں میں سے یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے۔‘‘

معنى حديث حَمنة -رضي الله عنها- "كُنت أُسْتَحَاض حَيْضَة كثيرة شَدِيدة" أي أن الدم كان ينزل منها ويستمر لمدة طويلة بشِّدة وقوة عند خروجه.
"فأتيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أَسْتَفْتِيه وأُخْبِرُه"
ثم إنها جاءت إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-تسأله عن الحكم الشَّرعي، وما الذي يجب عليها.
"فقلت: يا رسول الله، إني امرأة أُسْتَحَاض حَيْضَة كثيرة شديدة، فما تَرى فيها قد مَنَعَتْنِي الصلاة والصوم"
يعني: أن الدم النازل منها جعلها تتوقف عن الصلاة والصوم بناء على أنه دمُ حيض، وهذا هو المتبادر لها في أول الأمر، ثم بَيَّنَ لها النبي -صلى الله عليه وسلم- أن الدم النازل منها بهذه الصفة إنما هو ركَضة من الشيطان وليس بِدَم حيض.
فقال: «أَنْعَتُ لك الكُرْسُف، فإنه يُذهب الدَّم».
أي: استخدمي القُطن؛ وذلك بأن تجعله على فَرجها وتَشُّده عليه حتى يُمسك الدم.
"قالت: هو أكثر من ذلك"
أي: أن الدم النازل كثير وشديد والقطن لا يمكن أن يؤدى به الغَرَضُ.
قال: «فاتَّخِذِي ثوبا».
أي: أضيفي إلى القطن ثوبا حتى يكون كثيفا يمسك به الدم.
"فقالت: هو أكثر من ذلك إنما أَثُجُّ ثَجًّا"
أي: أن الدم يَصُّب منها بكثرة وقوة، فلا يَسْتَمْسك بالقُطن ولا بالثياب؛ لأنه ينزل بغزارة وبكثرة.
"قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «سَآمُرُك بأمْرَين»"

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يعنى: أحد حكمين، وهما كما سيأتي :
الأول: الاغتسال لكل صلاة.   والثاني: أن تجمع بين الظهر والعصر والمغرب والعشاء وتغتسل ثلاث مرات للظهر والعصر غسلا واحدا، وللمغرب والعشاء غسلا واحدا، وللفجر غسلا واحدا.
"أيهما فعلت أجزأ عَنكِ من الآخر"
يعني: أنتِ بالخيار بين هذين الأمرين.
"وإن قَوِيتِ عليهما فأنتِ أعْلَم "أي: قَدِرتِ عليهما، أي الأول والثاني فأنت أعلم بحالك، فاختاري أيهما شئت منهما.
"ثم قال لها: «إنما هذه رَكْضَةٌ من رَكَضَات الشيطان »"
والمعنى: أن الشيطان قد وجد سبيلا إلى التَّلبيس عليها في أمْرِ دينها وطهرها وصلاتها؛ حتى أنْسَاها عادتها، وصارت في التقدير كأنها ركْضَة منه، ولا ينافي أن يكون عِرْق يقال له العَاذِل كما جاء في حديث فاطمة بنت أبي حُبيش -رضي الله عنها- في قولها :" إني امرأة استحاض فلا أطهر أفأدع الصلاة؟ قال: لا إنما ذلك عِرْق، وليس بحيض " فَيُحمل على أن الشيطان رَكَضَه حتى انْفَجَر، والأظهر أنها ركضة منه حقيقة؛ إذ لا مانع من حملها عليه. 
"فَتَحَيَّضِي ستَّة أيام أو سبعة أيَّام"
أي: دَعِي الصلاة والصوم واعتبري نفسك حائضا مدة ستة أيام أو سبعة أيام، فتجلسها وتترك الصلاة فيها، وهذا باعتبار أن غالب عادة النساء ستة أيام أو سبعة أيام.


"في عِلْم الله" أي: في حكم الله وشرعه، وقوله :"ستة أيام أو سبعة أيام"      
"فأو" هنا ليست للشك إنما هي للتنويع والدلالة على أن بعض النساء يحِضْن ستة أيام، وبعضهن يحِضْن سبعة أيام فترجع إلى قريباتها من النساء من هي في سِنْها، وأقرب إلى مِزَاجِها.
"ثم اغْتَسِلِي حتى إذا رأيتِ أنك قد طَهُرْتِ، واسْتَنْقَأْتِ فصلِّي ثلاثا وعشرين ليلة أو أربعا وعشرين ليلة وأيامها وصومي فإن ذلك يُجْزِيكِ"
يعني: إذا مضت ستة أو سبعة أيام وجب عليك الاغتسال من الحيض، ثم ما زاد على ستة أيام أو سبعة أيام وهي: إما ثلاثة وعشرون يوما أو أربعة وعشرون يوما، فهي أيام طُهر افعلي فيها كل ما تفعله الطاهرات من الصوم والصلاة، فإن هذا يكفي عنكِ.    
"وكذلك فافْعَلي في كل شَهر كما تحيض النساء، وكما يَطْهُرْن مِيقَاتُ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ"
يعني: تحيضي كل شهر ستة أيام أو سبعة أيام كعادة النساء، ثم اغتسلي وصلي، وهكذا وقت طهرك يكون بقدر ما يكون عادة غالب النساء من ثلاث وعشرين أو أربع وعشرين.


"وإن قَوِيت على أن تُؤَخِّري الظهر وتُعَجلي العصر فَتَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بين الصلاتين الظهر والعصر، وتُؤَخِّرِين المغرب وتُعَجِّلين العشاء، ثم تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بين الصلاتين فافْعَلي، وَتَغْتَسِلِينَ مع الفجر فافْعَلي، وصُومي إن قَدِرتِ على ذلك».
والمعنى: إذا قَوِيت على أن تؤخري الظهر إلى آخر وقتها وتصلي العصر في أول وقتها وكذا تؤخري المغرب إلى آخر وقتها وتصلي العشاء في أول وقتها -وهذا ما يسمَّى عند العلماء بالجمع الصُّورِيَّ- وأمَّا الفجر: فتغتسل للصلاة غسلا واحدا، فإن قَدِرت  على ذلك فافعلي، وعلى هذا : تغتسل المستحاضة ثلاث مرات للظهر والعصر غسلا واحدا وللمغرب والعشاء غسلا واحدا وللفجر غسلا واحدا وتجمع بين الصلاتين جمعا صوريا.
"وهذا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إليَّ"
يعني أن هذا الأمر أحبُّ إليَّ، وهو : كونها تجمع بين الظهر والعصر والمغرب والعشاء وتغتسل ثلاث مرات للظهر والعصرغسلا واحدا، وللمغرب والعشاء غسلا واحدا، وللفجر غسلا واحدا.
وأما الأمر الأول، فهو الغسل لكل صلاة، لكن ليس في هذا الحديث ذكر الاغتسال لكل صلاة، إلا أنه قد جاء في رواية أخرى عند أبي داود أنها تغتسل لكل صلاة، وهي قوله: "إن قَوِيت فاغتسلي لكل صلاة وإلا فاجْمَعي بين الصلاتين بغسل واحد"
608;لا شك أن الاغتسال لكل صلاة مشَقَّة ظاهرة ولهذا قال -صلى الله عليه وسلم- في الأمر الثاني: "وهذا أعجب الأمرين إليَّ"
يعني: أحبهما إليَّ؛ لأنه أسهل وأخَف من الأول.
حمنہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کا مفہوم: ’’مجھے استحاضہ کا خون بہت زیادہ آتا تھا۔‘‘
یعنی ان کا خون بہت لمبے عرصے تک جاری رہتا اور بہت شدت اور تیزی سے نکلتا تھا۔
’’میں رسول اللہ ﷺ سے حکم دریافت کرنے اور آپ ﷺ کو بتانے کے لئے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘
” یعنی حمنہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس یہ دریافت کرنے آئیں کہ اس کا شرعی حکم کیا ہے اور اس سلسلے میں ان پر کیا کرنا واجب ہے۔
’’چنانچہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون بہت ہی کثرت اور شدت سے آتا ہے، جس نے مجھے نماز روزے سے روک رکھا ہے۔‘‘
” یعنی وہ اس آنے والےخون کی وجہ سے نماز روزے سے رکی ہوئی تھیں اس خیال سے کہ یہ حیض کا خون ہے اور شروع میں انہیں ایسے ہی لگا تھا۔ بعد ازاں نبی ﷺ نے ان کے لیے وضاحت فرمائی کہ ان کا اس انداز میں بہنے والا خون حیض کا نہیں بلکہ شیطان کے کچوکے کا اثر ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں تمہارے لیے روئی تجویز کرتا ہوں، کیوں کہ اس سے خون بند ہو جائے گا۔‘‘
یعنی روئی کا استعمال کرو بایں طور کہ اسے اپنی شرم گاہ پر رکھ کر باندھ لو تاکہ خون رک جائے۔
’’انھوں نے کہا: وہ تواس سے بھی زیادہ ہے۔‘‘
یعنی نکلنے والا خون بہت زیادہ اور شدید ہے اور روئی سے مقصد پورا نہیں ہوگا۔
اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’پھر کپڑا رکھ لو۔‘‘
یعنی روئی کے ساتھ ساتھ کپڑا بھی رکھ لو تاکہ یہ دبیز (موٹا) ہوجائے اور اس سے خون رک جائے۔
’’تو انہوں نے کہا کہ وہ تو اس سے بھی زيادہ ہے، مجھے بہت تیزی سے خون بہتا ہے۔‘‘
یعنی خون کثرت اور زور سے بہ رہا ہے، لھٰذا وہ نہ تو روئی سے رکنے والا ہے اور نہ ہی کپڑے سے، کیونکہ وہ بہت زیادہ ہے۔
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں۔‘‘
یعنی دو حکموں میں سے کسی ایک کا، اور ان دونوں کی تفصیل اس طرح ہے:
پہلا: ہر نماز کے لیے غسل کیا جائے۔
دوسرا: ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے پڑھی جائیں اور تیں بار غسل کیا جائے۔ ایک غسل ظہر اور عصر کے لیے، ایک غسل مغرب اور عشاء کے لیے اور ایک غسل فجر کے لیے۔
’’ان دونوں میں سے تم جو بھی کر لو تمہارے لیے دوسرے کی طرف سے کافی ہو گا۔‘‘
یعنی تمہیں ان دونوں باتوں میں اختیار ہے کہ جو چاہو کر لو۔
’’اگر تم میں ان دونوں کو کرنے کی طاقت ہے تو تم بہتر جانتی ہو۔‘‘ یعنی پہلے اور دوسرے دونوں کاموں کو کرنے کی اگر تم میں طاقت ہے تو تم اپنے بارے میں زیادہ جانتی ہو۔ بہر حال ان میں سے جو چاہو اختیار کر لو۔
’’پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ در اصل شیطان کے کچوکے مارنے کا اثر ہے۔‘‘
یعنی شیطان کو ان کے دین، پاکیزگی اور نماز کے بارے میں انہیں اشتباہ میں ڈالنے کا موقع مل گیا یہاں تک کہ اس نے انہیں ان کی عادت بھلوا دی اور وہ اندازہ کرنے کے زمرے میں ہو گئی۔ گویا یہ شیطان کی طرف سے ایک ٹھوکر ہے۔ جبکہ یہ بات اس کے منافی نہیں کہ اس کا سبب "عاذل" نام کی ایک رگ بھی ہو جیسا کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا: ’’میں ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کا خون آتا ہے، جس کی وجہ سے میں پاک نہیں ہوتی۔ تو کیا میں نماز کو چھوڑے رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ حیض نہیں بلکہ ایک رگ سے بہنے والا خون ہے۔‘‘ چنانچہ یہ کہا جائے گا کہ شیطان اس رگ پر لات مارتا ہے جس سے یہ پھٹ جاتی ہے۔ راجح یہی ہے کہ وہ حقیقت میں لات مارتا ہے کیونکہ یہ معنیٰ مراد لینے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔
’’چھ یا سات دن حیض کے شمار کرو۔‘‘
یعنی چھے یا سات دن تک یہ سمجھو کہ تم حیض میں ہو اور ان میں نماز و روزے کو ترک کر دو۔ یہ اس اعتبار سے ہے کہ عموماً عورتوں کو چھ یا سات دن ہی حیض آتا ہے۔ ’’اللہ کے علم میں‘‘ یعنی اللہ کے حکم اور اس کے شریعت کی رو سے۔ آپ ﷺ کے فرمان: ’’چھے یا سات دن‘‘ میں (یا) بیانِ شک کے لیے نہیں ہے، بلکہ تنویع کے لیے اور یہ اس بات پر دلالت کرنے کے لیے ہے کہ بعض عورتوں کو چھے دن حیض آتا ہے اور بعض کے ایامِ حیض سات دن ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی ان قریبی رشتہ دار خواتین کو دیکھے گی جو اس کی ہم عمر ہوں اور ان کا مزاج اس سے ملتا جلتا ہو۔ (اور پھر فیصلہ کریں گی کہ ان کے ایام حیض چھے دن ہوں گے یا سات دن)۔
’’پھر غسل کر لو اور جب تم جان لو کہ تم پاک وصاف ہوگئی ہو تو تیئیس (23) دن یا چوبیس (24) دن نماز پڑھتی رہو اور روزے رکھو۔ یہ تمہارے لیے کافی ہے۔‘‘
یعنی چھے یا سات دن گزر جائیں تو پھر حیض ختم ہو جانے کی وجہ سے تم پر غسل کرنا واجب ہو گا۔ پھر چھے یا سات دن گزرنے کے بعد جتنے دن بچیں گے جو یا تو تیئیس دن ہوں گے یا پھر چوبیس دن، وہ ایامِ طہر ہوں گے۔ ان میں تم وہ سب کچھ کرو گی جو حیض سے پاک عورتیں کرتی ہیں یعنی نماز پڑھو گی اور روزہ رکھو گی۔ تمہارے لئے ایسا کرنا کافی ہے۔
’’اوراسی طرح ہر ماہ کیا کرو جیسا کہ حیض والی عورتیں کرتی ہیں: حیض کے اوقات میں حائضہ اور پاکی کے وقتوں میں پاک رہتی ہیں۔ ‘‘
یعنی ہر مہینے میں چھے یا سات دن حیض کے شمار کرو جیسا کہ دیگر عورتوں کے دن ہوتے ہیں۔ پھر غسل کر کے نماز پڑھو۔ اس طرح سے تمہاری مدتِ طہر اتنی ہی ہو گی جتنی عموماً دیگر عورتوں کی ہوتی ہے یعنی تیئیس یا چوبیس دن۔
’’اور اگر تم اس بات پر قادر ہو کہ ظہر کو کچھ دیر سے پڑھو اور عصر کو قدرے جلدی پڑھ لو تو غسل کر کے ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھ لیا کرو، پھر مغرب کو ذرا دیر کر کے اور عشاء کو کچھ پہلے کر کے پھر غسل کر کے یہ دونوں نمازیں ایک ساتھ پڑھ لو تو ایسا کر لیا کرو، اور صبح کے لیے الگ غسل کر کے فجر پڑھو، اور گر تم قادر ہو تو روزہ رکھو۔‘‘
يعنی اگر تم میں اس بات کی قدرت ہو کہ ظہر کی نماز کو اس کے آخری وقت تک موخر کر دو اور عصر کی نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں پڑھ لو اور اسی طرح مغرب کو اس کے آخری وقت تک موخر کر دو اور عشاء کو اس کے ابتدائی وقت میں پڑھ لو، جسے علماء جمعِ صوری کہتے ہیں، جب کہ فجر کی نماز کے ليے الگ سے غسل کرليا کرو، اگر تم میں ایسا کرنے کی طاقت ہو تو ایسا کرلو۔ اس طرح سے مستحاضہ عورت تین دفعہ غسل کرے گی۔ ایک غسل ظہر اور عصر کے لیے، ایک غسل مغرب اور عشاء کے لیے اور ایک غسل فجر کی نماز کے لیے اور دو دو نمازوں کے مابین جمعِ صوری کرے گی۔
’’ان دونوں میں سے یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے۔”
یعنی ظہر اور عصر کی نمازوں اور مغرب اور عشاء کی نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھنا اور تمہارا تین دفعہ غسل کرنا بایں طور کہ ایک غسل ظہر اور عصر کے لئے، ایک غسل مغرب اور عشاء کے لئے اور ایک غسل فجر کے لئے مجھے زیادہ پسند ہے۔
پہلی بات ہر نماز کے لیے غسل کرنا ہے لیکن اس حدیث میں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا ذکر نہیں ہے، تاہم سنن ابو داود کی ایک اور روایت میں ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کریں۔ اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: “اگر تم میں طاقت ہو تو پھر ہر نماز کے لئے غسل کرو، ورنہ ایک غسل کے ساتھ دو دو نمازوں کو اکٹھا کر کے پڑھ لو۔‘‘
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر نماز کے لیے غسل کرنے میں واضح مشقت ہے اسی لیے نبی ﷺ نے دوسری صورت کے بارے میں فرمایا: ’’ان دونوں میں سے یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے۔‘‘
یعنی ان دونوں میں سے یہ مجھے زیادہ پسند ہے کیونکہ یہ پہلی صورت سے زیادہ سہل اور آسان ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10016

 
 
Hadith   1568   الحديث
الأهمية: سبحان الله، إن هذا من الشيطان لتجلس في مركن، فإذا رأت صفرة فوق الماء فلتغتسل للظهر والعصر غسلا واحدا، وتغتسل للمغرب والعشاء غسلا واحدا، وتغتسل للفجر غسلا واحدا، وتتوضأ فيما بين ذلك


Tema:

سبحان اللہ ! یہ تو شیطان کی طرف سے ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ ایک ٹب میں بیٹھ جائیں، جب پانی کے اوپر زردی دیکھیں تو ایک غسل ظہر اور عصر کی نمازوں کے لیے، اسی طرح ایک غسل مغرب اور عشاء کی نمازوں کے لیے اور ایک غسل فجر کی نماز کے لیے کر لیا کریں اور ان کے مابین وضوء کرتی رہیں

عن أسماء بنت عُمَيْس -رضي الله عنها- قالت: قلت: يا رسول الله، إن فاطمة بنت أبي حُبَيْش اسْتُحِيضَتْ -مُنْذُ كذا وكذا- فلم تُصَل فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «سُبحان الله، إن هذا من الشَّيطان لِتَجْلِسْ في مِرْكَنٍ، فإذا رأت صُفْرَة فوق الماء فلتَغْتَسِل للظهر والعصر غُسْلاً واحدا، وتغتسل للمغرب والعشاء غسلا واحدا، وتغتسل للفجر غسلا واحدا، وتتوضأ فيما بَيْنَ ذلك».

اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! فاطمہ بنت ابی حبیش کو اتنے دنوں سے استحاضہ کا خون آرہا ہے اور انہوں نے نماز نہیں پڑھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ ! یہ تو شیطان کی طرف سے ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ ایک ٹب میں بیٹھ جائیں، جب پانی کے اوپر زردی دیکھیں تو ایک غسل ظہر اور عصر کی نمازوں کے لیے، اسی طرح ایک غسل مغرب اور عشاء کی نمازوں کے لیے اور ایک غسل فجر کی نماز کے لیے کر لیا کریں اور ان کے مابین وضوء کرتی رہیں۔‘‘

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر أسماء بنت عُمَيْس -رضي الله عنها- عما أصاب فاطمة بنت أبي حبيش من الدم ،وأن ذلك منعها من الصلاة منذ وقت.


"فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: سُبحان الله .." هذا من باب التَّعجب، والمعنى: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- تَعَجَّب من انقطاعها عن الصلاة، مع أن الدَّم ليس بِدم حيض، بل هو رَكْضَة من الشَّيطان، كما في الحديث الآخر "لِتَجْلِسْ في مِرْكَنٍ فإذا رأت صُفْرَة فوق الماء" ثم أرشدها النبي -صلى الله عليه وسلم-؛ لتمييز الحيض من الاستحاضة، بأن تَجْلس في مِرْكَنٍ وهو وعاء تَغسل فيه الثياب فإذا رأت صُفْرَة فوق الماء الذي قَعَدت عليه، فهذا دليل على أنها قد طهرت من حيضها؛ لأن دم الحيض أسْوَد غَليظ، وما سواه دم استحاضة.
"فلتَغْتَسِل للظهر والعصر غُسْلاً واحدا، وتغتسل للمغرب والعشاء غسلا واحدا، وتغتسل للفجر غسلا واحدا" يعني: إذا رأت الصُّفْرة فوق الماء، فلتغتسل في يومها وليلتها ثلاث مرات، للظهر والعصر غسلا واحدا وللمغرب والعشاء غسلا واحدا وللفجر غسلا واحدا.
"وتتوضأ فيما بَيْنَ ذلك" يعني: إذا أرادت أن تصلي بين الصلوات صلاة أخرى، لزمها أن تتوضأ للصلاة، وقد رأت ناقضا فإنها تتوضأ ولا تغتسل له؛ لأن الغسل مختص بالصلوات الخمس.
وهذا الاغتسال مستحب وليس بواجب كما في الأحاديث الأخرى.
575;سماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا (استحاضہ کے) اس خون کے بارے میں بتا رہی ہیں جو فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو لاحق ہوا تھا اور اس نے ایک عرصے سے انہیں نماز پڑھنے سے روک دیا تھا۔ ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ“ آپ ﷺ کا یہ فرمانا اظہارِ تعجب کے لیے تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے ان کے نماز نہ پڑھنے پر تعجب کا اظہار فرمایا حالانکہ یہ خون حیض کا خون نہیں بلکہ شیطان کا ايک کچوکا ہے، جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں آیا ہے۔
”انہیں چاہیے کہ وہ ایک ٹب میں بیٹھ جائیں، جب پانی کے اوپر زردی دیکھیں“ پھر نبی ﷺ نے انہیں حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق کرنے کا طریقہ بتایا کہ وہ ایک ٹب (لگن) میں بیٹھ جائیں۔ اور وہ ایسا برتن ہوتا ہے جس میں کپڑے دھوئے جاتے ہیں۔ جب اس پانی کے اوپر جس ميں وہ بیٹھی ہوں زردی ديکھيں تو یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ وہ اپنے حیض سے پاک ہو چکی ہیں کیونکہ حیض کا خون سیاہ اور گاڑھا ہوتا ہے، اس کے علاوہ ہر خون استحاضہ کا خون ہوتا ہے۔
”تو ایک غسل ظہر اور عصر کی نمازوں کے لیے، اسی طرح ایک غسل مغرب اور عشاء کی نمازوں کے لیے اور ایک غسل فجر کی نماز کے لیے کر لیا کریں“ یعنی جب پانی پر زردی دیکھ لیں تو پھر دن رات میں تین دفعہ غسل کریں۔ ایک غسل ظہر اور عصر کی نمازوں کے لیے، ایک غسل مغرب اور عشاء کی نمازوں کے لیے اور ایک غسل فجر کی نماز کے لیے۔
”اور ان کے مابین وضو کرتی رہا کریں“ یعنی ان (فرض) نمازوں کے مابين اگر کوئی اور نماز پڑھنا چاہیں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کریں جب کہ انہوں نے ایک ناقضِ وضو کو دیکھا ہے۔ اس صورت میں وہ غسل نہیں کریں گی کیونکہ غسل پنچ وقتہ فرض نمازوں کے ساتھ مخصوص ہے۔
یہ غسل مستحب ہے، واجب نھیں ہے، جیسا کہ دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10017

 
 
Hadith   1569   الحديث
الأهمية: قتلوه قتلهم الله ألا سألوا إذ لم يعلموا فإنما شفاء العي السؤال، إنما كان يكفيه أن يتيمم ويعصر -أو يعصب- على جرحه خرقة، ثم يمسح عليها، ويغسل سائر جسده


Tema:

انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں قتل کرے۔ جب انہیں علم نہیں تھا تو (کسی سے) سوال کیوں نہ کیا؟ کیونکہ لا علمی کا علاج سوال ہی تو ہے۔ اس شخص کے لئے تو اتنا ہی کافی تھا کہ وہ تیمم کرلیتا اور اپنے زخم پر کپڑے کا کوئی ٹکڑا (یا پٹی) باندھ کر اس پر مسح کرلیتا اور بقیہ جسم کو دھو لیتا۔

عن جابر -رضي الله عنه- قال: خرجنا في سَفَر فأصاب رجُلا مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّهُ في رأسه، ثم احتلم فسأل أصحابه فقال: هل تجدون لي رُخْصَة في التَّيمم؟ فقالوا: ما نَجِد لك رُخْصَة وأنت تَقْدِرُ على الماء فاغْتَسَل فمات، فلمَّا قَدِمْنَا على النبي -صلى الله عليه وسلم- أخبر بذلك فقال: «قَتَلُوه قَتَلَهُم الله ألا سَألُوا إذ لم يعلموا فإنَّما شِفَاء العِيِّ السؤال، إنما كان يَكفيه أن يَتيمَّم ويَعْصِر-أو يَعْصِب- على جُرحِه خِرقَة، ثم يمسح عليها، ويَغسل سائر جسده».

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ: ہم ایک سفر پر نکلے تو ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگ گیا جس سے اس کے سر پر زخم آ گیا۔ پھر (اسی رات) اسے احتلام ہو گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: کیا تم سمجھتے ہو کہ میرے لیے تیمم کرنے کی رخصت ہے؟ انہوں نے جواب دیا:چونکہ تم پانی کے استعمال پر قادر ہو، اس لئے ہمارے نزدیک تمہارے لئے کوئی رخصت نہیں۔ لہٰذا اس نے غسل کر لیا اور اس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ جب ہم نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں قتل کرے۔ جب انہیں علم نہیں تھا تو (کسی سے) سوال کیوں نہ کیا؟ کیونکہ لا علمی کا علاج سوال ہی تو ہے۔ اس شخص کے لئے تو اتنا ہی کافی تھا کہ وہ تیمم کرلیتا اور اپنے زخم پر کپڑے کا کوئی ٹکڑا (پٹی) باندھ کر اس پر مسح کرلیتا اور بقیہ جسم کو دھو لیتا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر جابر -رضي الله عنه- أنهم خرجوا في سفر، فأُصيب رَجُل منهم بِحَجر فَشُجَّ رأسه، ثم إنه احتلم فسأل أصحابه عن إجزاء التيمم بدلاً عن غسل العضو.
"فقالوا: ما نَجِد لك رُخْصَة وأنت تَقْدِرُ على الماء فاغْتَسَل فمات" أي أنه لا يجزئ التيمم في هذه الحال؛ لوجود الماء، وإنما الرُّخصة في التيمم لفاقد الماء، وأما مع وجوده فلا رخصة لك، ثم إنه اغتسل فتأثر جُرحه بالماء فمات -رضي الله عنه-.
فلما قدموا المدينة أخبروا النبي -صلى الله عليه وسلم- بالقصة فأعابهم بقوله: "قَتَلُوه قَتَلَهُم الله" دعا عليهم النبي -صلى الله عليه وسلم-؛ لأنهم تسببوا في قتله بفتواهم الخاطئة.
" ألا سَألُوا إذ لم يعلموا " أي: كان الواجب عليهم أن يسألوا ولا يتسرعوا في الفتوى؛ لما فيها من إلحاق الضرر بالغير وهو ما قد وقع.
"فإنَّما شِفَاء العِيِّ السؤال" العِيُّ: الجَهل، والمعنى: لمَ لمْ يسألوا حين لم يعلموا؛ لأن شِفاء الجَهل السؤال، فإذا كان الإنسان يجهل الحكم الشرعي، فإن الشِّفاء من هذا الجَهل أن يسأل، ولا يفتي بشيء يؤدي إلى الضرر أو يلحق الهلاك بالناس،
ثم بَيَّن لهم البني -صلى الله عليه وسلم- الحكم الشرعي في المسألة بقوله:


"إنما كان يَكفيه أن يَتيمَّم ويَعْصِر-أو يَعْصِب- على جُرحِه خِرقة، ثم يمسح عليها، ويَغسل سائر جسده" هذا ما يلزمه، وهو الموافق لأصول الشريعة، أما إلزامه بالاغتسال مع ما يترتب عليه من ضَرر بدنه أو هلاكه  أو تأخير برء، فهذا مخالف لأصول الشريعة.  
وبناءا عليه: يُرخص لصاحب الجِراحة أو الشَّجة أن يَغسل سائر جسده بالماء ويمسح على العِصَابة ويكفي، أما بالنسبة للتيمم مع وجود الجبيرة، فلا يشرع؛ لأن إيجاب طهارتين لعضو واحد مخالف لقواعد الشريعة.
 ويحمل الحديث -والله أعلم- على أن العِصَابة زائدة على الحاجة، ويَشُق أو يَضُر نَزْعُها؛ لذا شُرع  التيمم عن الزائد من العِصَابة، أو يحمل على أن أعضاء الوضوء كانت جريحة، فتعذر إيصال الماء إليها، فعدل إلى التيمم بدلا عن غسل العضو.
580;ابر رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ وہ ایک سفر پر نکلے، تو ان میں سے ایک آدمی کو پتھر لگ گیا جس سے اس کا سر پھٹ گیا۔ پھر اسے احتلام ہو گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا عضو کو دھونے کے بجائے تیمم کرنا کافی ہے؟
’’انہوں نے جواب دیا کہ چونکہ تم پانی کے استعمال پر قادر ہو، اس لئے ہمیں تو تمہارے لئے کوئی رخصت نظرنہیں آتی۔ لہٰذا اس نے غسل کر لیا اور وہ مرگیا۔‘‘
یعنی اس حال میں تیمم کرنا کفایت نہیں کرے گا کیونکہ پانی موجود ہے۔ اور تیمم کی رخصت تو اس شخص کے لئے ہے جسے پانی نہ ملے۔ لیکن جب پانی موجود ہے تو تمھارے لیے کوئی رخصت نہیں۔ پھر اس شخص نے غسل کر لیا اور پانی کی وجہ سے اس کا زخم متاثر ہوا اور اس کی موت واقع ہو گئی ۔ رضی اللہ عنہ ۔
جب وہ لوگ مدینہ آئے تو آپ ﷺ کو یہ قصہ سنایا، تو آپ ﷺ نے ان کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:
’’انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں قتل کرے۔‘‘ نبی ﷺ نے انہیں بددعا دی کیونکہ وہ اپنے غلط فتوے کی وجہ سےاس کی موت کا سبب بنے تھے۔
’’جب وہ جانتے نہیں تھے تو انہوں نے پوچھ کیوں نہ لیا‘‘
یعنی ان کے لئے ضروری تھا کہ وہ کسی سے پوچھ لیتے اور فتوی دینے میں جلدی نہ کرتے۔.کیونکہ ایسا کرنے میں دوسرے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے اور یہاں درحقیقت یہی ہوا ہے۔
’’لا علمی کا علاج تو پوچھ لینا ہے۔‘‘
’’العی‘‘ کا معنی ہے لاعلمی، مفہوم یہ ہے کہ جب وہ جانتے نہ تھے تو انہوں نے پوچھ کیوں نہ لیا۔ کیونکہ لاعلمی کا علاج تو پوچھ لینا ہے۔ جب انسان کسی حکم شرعی سے نا واقف ہو تو اس جہالت کا علاج یہ ہے کہ وہ پوچھ لے اور کسی ایسی بات کا فتوی نہ دے جس سے نقصان ہو، یا لوگ ہلاکت کا شکار ہوں۔
پھر آپ ﷺ نے اس مسئلہ کے بارے میں شرعی حکم کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’اس شخص کے لئے کافی تھا کہ وہ تیمم کرلیتا اور اپنے زخم پر کپڑے کا کوئی ٹکڑا یا پٹی باندھ لیتا اور پھر اس پر مسح کرلیتا اور بقیہ جسم کو دھو لیتا۔‘‘
بس اس قدر کرنا اس پر لازم تھا اور یہ شریعت کے اصولوں کے مطابق ہے۔ البتہ اس پر غسل کو لازم کرنا جب کہ اس کے نتیجے میں جسمانی نقصان یا ہلاکت یا شفایابی میں تاخیر ہوتی ہے، تو یہ بات شریعت کے اصولوں کے خلاف ہے۔
اس بنا پر جس شخص کے بدن پر یا سر پر زخم لگا ہو اس کے لئے رخصت ہے کہ وہ اپنے باقی سارے جسم کو پانی سے دھو لے اور پٹی پر مسح کر لے۔ اتنا کرلینا کافی ہے۔ البتہ پٹی کے ہوتے ہوئے تیمم کرنا مشروع نہیں ہے، کیونکہ ایک ہی عضو کے لئے دو طہارت واجب کرنا شریعت کے قواعد کے خلاف ہے۔ اور اس حدیث کو اس بات پر محمول کیا جائے گا (اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے) کہ پٹی زائد از ضرورت تھی اور اس کا اتارنا مشقت کا باعث یا نقصان دہ تھا۔ اس لئے زائد از ضرورت پٹی کے لئے تیمم مشروع کیا گیا یا پھر اسے اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ وضو کے اعضاء زخم آلود تھے، چنانچہ ان تک پانی نہیں پہنچایا جا سکتا تھا۔ اس لئے عضو کو دھونے کے بجائے تیمم کو اختیار کیا گیا۔   --  [حَسَن لغيره]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10019

 
 
Hadith   1570   الحديث
الأهمية: أصبت السنة، وأجزأتك صلاتك


Tema:

تم نے سنت کو پا لیا اور تمہاری نماز تمہارے لیے کافی ہو گئی۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- قال: خرج رَجُلَان في سفر، فَحَضَرَتِ الصلاة وليس معهما ماء؛ فَتَيَمَّمَا صَعيدا طيِّبا فَصَلَّيَا، ثمَّ وجَدَا الماء في الوقت، فأعاد أَحَدُهُمَا الصلاة وَالوُضُوءَ ولم يُعِدِ الآخر، ثم أتَيَا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فذكَرَا ذلك له فقال لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: «أَصَبْتَ السنة، وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ». وقال للذي توضأ وأعاد: «لك الأجر مرَّتَين».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی سفر پر نکلے۔ جب نماز کا وقت ہوا، تو ان کے پاس پانی نہیں تھا۔ چنانچہ دونوں نے پاک مٹی سے تیمم کر لیا اور نماز ادا کر لی۔ پھر جب ان کو پانی ملا، تو ان میں سے ایک نے دوبارہ وضو کیا اور نماز دوہرائی، جب کہ دوسرے نے نہیں دوہرائی۔ جب وہ دونوں رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور یہ بات آپ کے سامنے رکھی، تو جس نے نماز نہیں دوہرائی تھی، اس سے فرمایا: تم نے سنت کو پا لیا اور تمہاری نماز تمہارے لیے کافی ہو گئی۔ اور جس نے وضو اور نماز کو دوہرایا تھا، اس سے فرمایا: تمہارے لیے دوہرا اجر ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يقص الصحابي الجليل أبو سعيد الخدري -رضي الله عنه- فيقول:
(خرج رجلان في سفر فحضرت الصلاة) أي: جاء وقتها.
(وليس معهما ماء؛ فتيمما صعيدا طيبا) أي: قصداه على الوجه المخصوص، أوفتيمما بالصعيد.
(فصليا، ثم وجدا الماء في الوقت، فأعاد أحدهما الصلاة بوضوء) إما ظنا بأن الأولى باطلة، وإما احتياطا.
(ولم يعد الآخَر) بناء على ظن أن تلك الصورة صحيحة.
(ثم أتيا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فذكرا ذلك) أي: ما وقع لهما.   فقال -صلى الله عليه وسلم- للذي لم يعد: (أصبت السنة) أي: صادفت الشريعة الثابتة بالسنة. (وأجزأتك صلاتك) تفسير لما سبق، وتوكيد له.
وأما الآخر: (وقال للذي توضأ) أي: للصلاة (وأعاد) أي: الصلاة في الوقت، «لك الأجر مرتين» أي: لك أجر الصلاة مرتين؛ فإن كلا منهما صحيحة تترتب عليها مثوبة، وإنَّ الله لا يضيع أجر من أحسن عملاً، وفيه إشارة إلى أنَّ العمل بالأحوط أفضل، كما قال -صلى الله عليه وسلم-: «دع ما يريبك إلى ما لا يريبك».
580;لیل القدر صحابی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اس حدیث میں یہ بیان کر رہے ہیں کہ دو آدمی سفر پر نکلے اور نماز حاضر ہو گئی، یعنی نماز کا وقت ہو گیا۔ ان دونوں کے پاس پانی نہیں تھا ،انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کر لیا، یعنی اپنے چہرے پر مخصوص انداز سے اس کو پھیر لیا یا دونوں نے مٹی سے تیمم کر لیا۔ دونوں نے نماز پڑھ لی اور جب انہیں پانی ملا تو ایک نے وضو اور نماز کو دوہرا لیا، اس خیال سے کہ پہلی والی باطل ہو گئی ہے یا پھر احتیاطاً ایسا کیا۔ اور دوسرے نے نہ دوہرائی، یہ خیال کرتے ہوئے کہ پہلی والی صورت بھی ٹھیک تھی۔ پھر وہ دونوں رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور آپﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، یعنی جو ان کے ساتھ ہوا تھا۔
جس نے وضو اور نماز نہیں دوہرائی تھی اس سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے سنت کو پایا، یعنی شریعت سے ثابت سنت کو پایا ہے۔ اور تمہاری نماز تمہارے لیي کافی ہے، یہ ما قبل کی وضاحت اور تاکید ہے۔
جبکہ جو دوسرا تھا: جس نے وضو کیا تھا اس سے فرمایا، یعنی نماز کے لیے وضو کیا اور دوہرایا، یعنی نماز کو اس کے وقت میں ہی۔ تمہارے لیے دوہرا اجر ہے یعنی تیری نماز کا دوہرا اجر ہے۔
ان دونوں کے عمل کے صحیح ہونے کی وجہ سے ان کے عمل پر ثواب جاری ہوا ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ کسی کے اچھے عمل کے اجر کو رائیگاں نہیں کرتے۔ا ور اس میں یہ بھی اشارہ موجود ہے کہ عمل کی ادائیگی میں احتیاط افضل ہے جیسا کہ رسو ل اللہﷺ نے فرمایا: ”جو تمہیں شک میں ڈال دے اسے چھوڑ دو اور وہ اختیار کر جس میں شک نہیں“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10022

 
 
Hadith   1571   الحديث
الأهمية: الصعيد الطيب وضوء المسلم ولو إلى عشر سنين، فإذا وجدت الماء فأمسه جلدك فإن ذلك خير


Tema:

پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو ہے، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے۔ جب تم پانی پا جاؤ، تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو؛ اس لیے کہ یہ بہتر ہے۔

عن أبي ذر جندب بن جنادة -رضي الله عنه- قال: اجتمعت غنيمة عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: «يا أبا ذر اُبْدُ فيها» فبَدَوْتُ إلى الرَّبذَة فكانت تُصيبني الجنابة فأمكث الخَمْسَ والسِّتَّ، فأتيتُ النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: «أبو ذر» فَسَكَتُّ فقال: «ثَكِلَتْكَ أمك أبا ذر لأمِّكَ الوَيْلُ» فدعا لي بجارية سوداء فجاءت بِعُسٍّ فيه ماء فستَرتْنِي بثَوب واستَتَرْتُ بالرَّاحلة، واغتسلتُ فكأني أَلقَيْتُ عني جَبَلًا فقال «الصعيدُ الطيِّبُ وُضُوءُ المسلم ولو إلى عشر سنين، فإذا وجدتَ الماء فأَمِسَّهُ جِلدَكَ فإن ذلك خَيرٌ».

ابو ذر جندب بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ مال غنیمت جمع ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو ذر! انھیں لے کر دیہات کی طرف چلے جاؤ“۔ چنانچہ میں مقام ربذہ کی طرف آ گیا۔ وہاں مجھے جنابت لاحق ہوتی اور میں پانچ چھے دن ویسے ہی رہ جایا کرتا تھا۔ پھر میں نبی ﷺ کی خدمت میں آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابو ذر ہو؟ میں چپ رہا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں تجھے گم کرے، تیری ماں کے لیے خرابی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے میرے لیے ایک سیاہ فام باندی کو بلایا، جو ایک بڑے برتن میں پانی لے آئی۔ پھر ایک کپڑے کے ذریعے میرے لیے پردہ کیا۔ میں نے سواری کی اوٹ لی اور غسل کیا۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا میں نے کوئی پہاڑ اتار دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو ہے، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے۔ پھر جب تم پانی پا جاؤ، تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو۔ اس لیے کہ یہ بہتر ہے۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين هذا الحديث معلماً من معالم يسر هذه الشريعة، وهو الإرشاد إلى طهارة التيمم عند فقد الماء.


(الصعيد الطيب): أي تراب الأرض الطهور ونحوه مما علا فوق الأرض من جنسها، سمي به لأن الآدميين يصعدونها ويمشون عليها.
(وَضوء المسلم) وفي هذا الكلام تشبيه الصعيد الطيب بالماء في الطهارة،  فأطلق الشارع على التيمم أنه وضوء لكونه قام مقامه.
وهذا التخفيف بالبدلية مستمر ما وجد العذر؛ ولذلك قال عليه الصلاة والسلام: (وإن لم يجد الماء عشر سنين) أو عشرين أو ثلاثين أو أكثر فالمراد بالعشر التكثير لا التحديد، وكذا إن وجده وهناك مانع حسي أو شرعي.
فهذا يفيد أن التيمم يقوم مقام الوضوء ولو كانت الطهارة به ضعيفة لكنها طهارة ضرورة لأداء الصلاة قبل خروج الوقت.
ومع ذلك فالترخص بالتيمم منقطع لحظة وجود الماء والقدرة على استعماله؛ ولذلك أرشد النبي -صلى الله عليه وسلم- أبا ذر بضرورة الرجوع إلى الأصل في الطهارة -وهو استعمال الماء- فقال عليه -الصلاة والسلام-:
(فإذا وجدت الماء فأصبه بشرتك) أي أوصله إليها وأسِلْه ُعليها في الطهارة من وضوء أو غسل، وفي رواية الترمذي: "فإذا وجد الماء فليمسه بشرته فإن ذلك خير" فأفاد أن التيمم ينقضه رؤية الماء إذا قدر على استعماله؛ لأن القدرة هي المرادة بالوجود.
740;ہ حدیث شریعت اسلامیہ کے امتیازات میں سے ایک امتیاز کی نشان دہی کرتی ہے۔ وہ ہے پانی کی غیر موجودگی میں تیمم کے ذریعے پاکی حاصل کرنے کی طرف رہ نمائی۔
”الصعيد الطيب“: یعنی زمین کی پاک مٹی یا اس طرح کی کوئی اور شے جو زمین کے اوپر ہو اور اسی کی جنس سے ہو۔ اسے صعید کا نام اس لیے دیا گیا، کیوں کہ لوگ اس پر چلتے اور چڑھتے ہیں۔
”وَضوء المسلم“: ان الفاظ میں پاک مٹی کو طہارت کے حصول میں پانی کے ساتھ تشبیہہ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تیمم پر وُضو کے پانی کا اطلاق کیا؛ کیوں کہ یہ اس کا قائم مقام ہے۔ پانی کے بدلے میں تیمم کرنے کے سلسلے میں یہ فراہم کردہ آسانی تب تک جاری رہتی ہے، جب تک عذر باقی رہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا:
”اگرچہ اسے دس سال تک پانی نہ ملے“ یا بیس یا تیس یا اس سے بھی زیادہ سال نہ ملے۔ یہاں دس سے مراد کثرت کا بیان ہے نہ کہ تحدید۔ اسی طرح اگر اسے پانی تو مل رہا ہو، لیکن (پانی کے استعمال میں) کوئی حسی یا شرعی مانع ہو، تو اس کا حکم بھی یہی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تیمم وضو کے قائم مقام ہے، اگرچہ اس سے حاصل شدہ طہارت ہلکی ہوتی ہے، لیکن یہ ضرورت کی وجہ سے طہارت ہے؛ تاکہ نماز کا وقت نکلنے سے پہلے اس کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔
اس کے باجود جب پانی مل جائے اور اس کی استعمال پر قدرت حاصل ہو جائے، تو تیمم ختم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کی اس بات کی طرف راہ نمائی فرمائی کہ حصول طہارت میں جو شے اصل ہے -یعنی پانی کا استعمال-، اس کی طرف رجوع کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
”جب تمھیں پانی مل جائے، تو اسے اپنے جسم پر بہاؤ“ یعنی حصول طہارت کے لیے وضو یا غسل کرتے ہوئے جسم تک اسے پہنچاؤ اور اس پر اسے انڈیلو۔ ترمذی شریف کی ایک روایت میں ہے: ”جب اسے پانی مل جائے، تو وہ اسے اپنی جلد پر بہائے، یہ اس کے لیے زیادہ اچھا ہے“ آپ ﷺ نے بتایا کہ پانی کو دیکھتے ہی تیمم ختم ہو جاتا ہے، بشرطے کہ اسے پانی کے استعمال کی قدرت بھی ہو؛ کیوں کہ موجودگی سے مراد قدرت ہی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10023

 
 
Hadith   1572   الحديث
الأهمية: نصرت بالرعب، وأعطيت مفاتيح الأرض، وسميت أحمد، وجعل التراب لي طهورا، وجعلت أمتى خير الأمم


Tema:

میری رعب کے ساتھ مدد کی گئی، مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں، میرا نام احمد رکھا گیا، مٹی کو میرے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنا دیا گیا اور میری امت کو بہترین امت بنایا گیا۔

عن علي بن أبي طالب -رضي الله عنه- مرفوعاً: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أُعطِيتُ ما لم يُعطَ أحدٌ من الأنبياءِ". فقلنا: يارسول الله، ما هو؟ قال: "نُصِرتُ بالرُّعبِ، وأُعطِيتُ مَفَاتِيحَ الأرضِ، وسُمِّيتُ أحمدَ، وجُعِلَ التُّرابُ لي طَهُوراً، وجُعِلَتْ أمَّتي خيرَ الأممِ".

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وہ کچھ دیا گیا جو مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی کو نہیں دیا گیا“، ہم نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:”میری رعب کے ساتھ مدد کی گئی، مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں، میرا نام احمد رکھا گیا، مٹی کو میرے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنا دیا گیا اور میری امت کو بہترین امت بنایا گیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قوله: "أعطيت ما لم يعط أحد من الأنبياء قبلي" ظاهره أن كل واحدة مما ذكر لم تكن لأحد قبله، قوله: "نصرت بالرعب" أي: بخوف العدو مني، وهو الذي قطع قلوب أعدائه وأخمد شوكتهم وبدد جموعهم، قوله: "وأعطيت مفاتيح" جمع مفتاح اسم للآلة التي يفتح بها، وهو في الأصل كل ما يتوصل به إلى استخراج المغلقات التي يتعذر الوصول إليها بها، قوله: "الأرض" استعارة لوعد الله له بفتح البلاد، قوله: "وسميت أحمد" فلم يسم به أحد قبله حماية من الله؛ لئلا يدخل لبس على ضعيف القلب أو شك في كونه هو المنعوت بأحمد في الكتب السابقة، قوله: "وجعل لي التراب طهوراً" أي: مطهراً عند تعذر الماء.
570;پ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وہ کچھ دیا گیا جو مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی کو نہیں دیا گیا“ بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے وہ تمام باتیں جو ذکر ہوئیں ان میں سے کوئی بھی آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کو حاصل نہیں تھی۔ فرمایا: ”میری رعب کی ساتھ مدد کی گئی“ یعنی دشمن کو مجھ سے خوفزدہ کر کے۔ جس نے دشمنوں کے دلوں کو چیر کر رکھ دیا، ان کی شان و شوکت کو ختم کر دیا اوران کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا‘‘۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وأعطيت مفاتيح“ یہ مفتاح کی جمع ہے جو ایک ایسے آلے کا نام ہے جس کے ساتھ (تالا وغیرہ) کھولا جاتا ہے۔ دراصل اس سے مراد وہ شے ہے جس کے ذریعے ان تالہ بند اشیاء کو نکالا جاتا ہے جن تک اس کے بغیر رسائی حاصل کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ ”زمین کے خزانے“ یہ اللہ کی طرف سے ممالک کے فتح ہونے کے وعدے کا استعارہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا نام احمد رکھا گیا“ آپ سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا تھا۔ یہ اللہ کی طرف سے بطور حفاظت تھا تاکہ اس نام سے موسوم شخص کے متعلق کمزور دل والے التباس اور شک میں مبتلا نہ ہوں کہ سابقہ کتابوں میں احمد کی صفت کے ساتھ موصوف شخص یہی ہے۔ ”وجعل لي التراب طهوراً“ یعنی مٹی کو مطَہِّرْ ( پاک کرنے والی شے) بنادیا گیا ہے جس وقت کہ پانی کا ملنا دشوار ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10025

 
 
Hadith   1573   الحديث
الأهمية: فضلنا على الناس بثلاث: جعلت صفوفنا كصفوف الملائكة، وجعلت لنا الأرض كلها مسجدا، وجعلت تربتها لنا طهورا، إذا لم نجد الماء


Tema:

ہمیں تمام انسانوں پر تین اعتبار سے فضیلت دی گئی ہے: ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی رکھی گئی ہیں، ساری زمین کو ہمارے لیے مسجد بنا دیا گیا ہے اور پانی نہ ملنے کی صورت میں اس کی مٹی کو ہمارے لیے حصول طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔

عن حذيفة -رضي الله عنه- مرفوعًا: «فُضِّلْنَا على الناس بِثَلاث: جُعِلَت صُفُوفَنا كصفُوف الملائِكة، وجُعلت لنَا الأرض كُلُّها مسجدا، وجُعلت تُرْبَتُهَا لنا طَهُورا، إذا لم نَجِد الماء. وذَكر خِصْلَة أُخرى».

حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”ہمیں تمام انسانوں پر تین اعتبار سے فضیلت دی گئی ہے: ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی رکھی گئی ہیں، ساری زمین کو ہمارے لیے مسجد بنا دیا گیا ہے اور پانی نہ ملنے کی صورت میں اس کی مٹی کو ہمارے لیے حصول طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے“۔ آپ ﷺ نے ایک اور خصلت کا بھی ذکر فرمایا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث لبيان شرف هذه الأمة وتفضيلها على باقي الأمم ببعض المميزات، وقوله -عليه الصلاة والسلام- :
"فُضِّلْنَا على الناس بِثَلاث" أي: أن الله تعالى فَضَّلَنا على جميع الأمم السابقة بثلاث خِصال، وليس فيه انْحِصار خصوصيات هذه الأمة في الثلاث; لأنه عليه الصلاة والسلام كان تنزل عليه خصائص أُمَّته شيئاً فشيئاً، فيُخْبِر عن كل ما نَزَل عليه عند إنزاله مما يناسبه.
"جُعِلَت صُفُوفَنا كصفُوف الملائِكة" وهي: أن وقُوفَنَا في الصلاة، كما تَقِف الملائكة عند ربِّها، وهو أنهم يُتِمُّون المُقدم، ثم الذي يَلِيه من الصفوف ثم يَرُصُّون الصَّفَّ كما ورد التصريح بذلك في سنن أبي داود وغيرها (ألا تصفون كما تَصُف الملائكة عندَ ربِّها؟) فقلنا: يا رسول الله، وكيف تَصُفُّ الملائكة عند ربِّها؟ قالَ: (يتمون الصفوف الأولى، ويتراصون في الصَفِّ).
وهذا بخلاف الأمم السابقة، فإنهم كانوا يَقِفُون في الصلاة كيف ما اتَفق.
"وجُعلت لنَا الأرض كُلُّها مسجداً، وجُعلت تُرْبَتُهَا لنا طَهُوراً أي: أنَّ الله تعالى جعل الأرض كلها مواضع صالحة للصلاة، فيصلِّي في أي مكان تُدركه الصلاة فيه، فلا يختص به موضعٌ دون غيره تخفيفاً عليهم وتيسيراً لهم، بخلاف الأمم السابقة، فإنهم لا يصلون إلا في الكنائس والبِيَع؛ ولذا جاء في بعض روايات هذا الحديث عند أحمد: (وكان مَنْ قبلي إنَّما يُصلون في كنائسهم)  وفي رواية أخرى: (ولم يَكن أحَدٌ من الأنبياء يصلِّي حتى يبلغ مِحْرَابه).
لكن خُصَّ من عموم هذا الحديث ما نَهَى الشَّارع عن الصلاة فيه، كالحمام والمقبرة وأعطان الأبل والمواضع النجسة. 


"وجُعلت تُرْبَتُهَا لنا طَهُورا" يعني أن الانتقال إلى التيمم مشروط بعدم وجود الماء، وقد دَلَّ على ذلك أيضا القرآن، قال تعالى: (فلم تجدوا ماءا فتيمموا صعيداً طيباً) وهذا محل إجماع من العلماء، ويلحق بفاقد الماء، من تَضرر باستعماله.
"وذَكر خِصْلَة أُخرى" ما تقدم خَصْلَتان؛ لأن ما ذُكِر عن الأرض من كَونها مسجدًا وطهورًا خَصْلَة واحدة وأما الثالثة فَمَحْذُوفة هُنا، وجاء ذِكْرُها في رواية النسائي من طريق أبي مالك الراوي هُنا في مسلم قال: (وأُوتِيتُ هؤلاء الآيات آخر سورة البقرة من كَنْز تحت العَرْش لم يُعْطَ منه أحَدٌ قَبْلِي، ولا يُعْطَى منه أحَدٌ بَعْدِي).
575;س حدیث میں اس امت کے مقام ومرتبے اور بعض امتیازی خصوصیات کی بنا پر باقی امتوں پر اس کی فضیلت کا بیان ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں تمام انسانوں پر تین اعتبار سے فضیلت دی گئی“ یعنی تمام سابقہ امتوں پر اللہ تعالی نے ہمیں تین خصلتوں کے ساتھ فضیلت بخشی۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ اس امت کی خصوصیات صرف تین تک محدود ہیں، کیوں کہ آپ ﷺ پر اس امت کی خصوصیات کا نزول درجہ بدرجہ ہوتا تھا اور ان کے نازل ہونے پر جو بات مناسب ہوتی، اس کے بارے میں آپ ﷺ بتادیا کرتے تھے۔
”ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی مانند رکھی گئیں“ وہ اس طرح کہ نماز میں ہم ایسے کھڑے ہوتے ہیں، جیسے فرشتے اپنے رب کےحضور کھڑے ہوتے ہیں، بایں طور کہ وہ پہلے اگلی صف کو پورا کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد والی صفوں کو اور صف میں باہم جڑ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ سنن ابی داود اور دیگر کتب ِحدیث میں اس کی تصریح آئی ہے کہ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا): کیا تم اس طرح سے صفیں نہیں باندھوں گے، جیسے فرشتے اپنے رب کے حضور صف بستہ ہوتے ہیں؟۔ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! فرشتے اپنے رب کے حضور کیسے صف بستہ ہوتے ہیں؟۔ آپ ﷺنے فرمایا: پہلے وہ پہلی صفوں کو پورا کرتے ہیں اور صف میں باہم مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ سابقہ امتیں ایسے نہیں کرتی تھیں، بلکہ وہ لوگ جیسے بھی ہوتے، نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے۔
”ساری زمین کو ہمارے لیے مسجد بنا دیاگیا اور اس کی مٹی کو ہمارے لیے حصول طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا“ یعنی اللہ تعالی نے زمین کی تمام جگہوں کو نماز کے لیے موزوں قرار دے دیا۔ چنانچہ نمازی جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے، وہیں نماز ادا کر سکتا ہے اور لوگوں کو سہولت اور آسانی کے پیش نظر کسی جگہ کو نماز کی ادائیگی کے لیے مخصوص نہیں کیا گیا، بخلاف سابقہ امتوں کے۔ وہ لوگ صرف اپنے گرجا گھروں اور کلیساؤں میں نماز پڑھتے تھے۔ اسی لیے مسند احمد میں اس حدیث کی کچھ روایات میں آیا ہے کہ ”مجھ سے پہلے والے لوگ اپنے گرجا گھروں میں نماز پڑھتے تھے“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ”کوئی بھی نبی اس وقت تک نماز نہ پڑھتا جب تک کہ وہ اپنے محرابِ عبادت تک نہ پہنچ جاتا“۔
تاہم اس حدیث کے عموم کی ان مقامات کے ساتھ تخصیص کی گئی ہے، جن میں نماز پڑھنے سے شارع علیہ السلام نے منع فرمایا ہے، جیسے غسل خانہ، قبرستان، اونٹوں کے باڑے اور ناپاک جگہیں۔
”اور اس کی مٹی کو ہمارے لیے حصولِ طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا“ یعنی تیمم کی طرف منتقل ہونےکے لیے پانی کا نہ ملنا شرط ہے۔ اس کی دلیل بھی قرآن میں ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ ”اورتمھیں پانی نہ ملے، تو پاک مٹی کا قصد کرو“۔ اس پر علما کا اجماع ہے۔ جس شخص کو پانی کے استعمال سے کوئی ضرر پہنچتا ہو، اس کا بھی وہی حکم ہے، جو اس شخص کا ہے، جسے پانی دستیاب نہ ہو۔
”اور آپ ﷺ نے ایک اور خصلت کا بھی ذکر فرمایا“ ما قبل گزرنے والی عبارت میں دو خصلتوں کا بیان ہے؛ کیوں کہ زمین کے بارے میں جو آیا کہ وہ مسجد ہے اور حصول طہارت کا ذریعہ ہے، یہ دونوں ایک ہی خصلت شمار ہوتی ہیں، جب کہ تیسری خصلت کا یہاں بیان نہیں ہے۔ اس کا ذکر سنن نسائی کی روایت میں ہے، جو اسی راوی یعنی ابو مالک سےمروی ہے، جو مسلم شریف کی اس حدیث کا بھی راوی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے سورۂ بقرہ کی یہ آخری آیات عرش تلے موجود خزانے سے دی گئی ہیں، جس میں سے نہ تو مجھ سے پہلے کسی کو کچھ دیا گیا اور نہ ہی میرے بعد کسی کو اس میں سے دیا جائے گا“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10026

 
 
Hadith   1574   الحديث
الأهمية: كنت أغتسل أنا ورسول الله -صلى الله عليه وسلم- من إناء واحد، تختلف أيدينا فيه من الجنابة


Tema:

میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن (میں موجود پانی) سے غسلِ جنابت کرتے اور (چلو بھرنے کے لیے) ہمارے ہاتھ باری باری اس میں جاتے۔

عن عائشة  -رضي الله عنها- قالت: «كُنت أغْتَسِل أنا ورسول الله -صلى الله عليه وسلم- من إناء واحد، تَخْتَلِفُ أَيْدِينَا فيه من الجَنَابة».
وفي رواية: «وتَلْتَقِي».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن (میں موجود پانی) سے غسل جنابت کرتے اور (چلو بھرنے کے لیے) ہمارے ہاتھ باری باری اس میں جاتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اور (ہمارے ہاتھ ایک دوسرے سے) ملتے تھے۔
تحكي أمنا عائشة -رضي الله عنها- أنها شاركت النبي -صلى الله عليه وسلم- في الاغتسال من الماء الموجود في الإِناء الواحد؛ لأجل رفع الحدث الأكبر، وهو: الجنابة.
كما تصوِّر هيئة ذلك الاشتراك بقولها: "تختلف أيدينا فيه" أي فأدخل يدي في الإِناء مرة لأغترف منه، ويدخل يده -صلى الله عليه وسلم- في الإِناء مرة ليغترف منه، كما جاء في رواية للبخاري عن عائشة أنها قالت: "كنت أغتسل أنا ورسول الله -صلى الله عليه وسلم- من إناء واحد، نغرف منه جميعاً"

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
وأما رواية ابن حبان الثانية، فجاءت بتفصيل دقيق لهيئة هذا الاجتماع في الاغتسال، وهذا في قولها: "وتَلْتَقِي" أي: الأيدي أي تجتمعان أثناء الأخْذ والغَرْف من الإناء.
وعلى هذه الرواية: فإن الأيْدي تَخْتَلف في بعض الغَرَفَات وتَلْتَقي في بعضها.
575;ماں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر رہی ہیں کہ وہ آپ ﷺ کے ساتھ غسل کرتے ہوئے ایک ہی برتن میں موجود پانی استعمال کرتی تھیں تاکہ حدثِ اکبر یعنی جنابت کو دور کر سکیں۔ اپنی اس شراکت کی ہیئت کو بیان کرتے ہوئے وہ فرماتی ہیں: "تختلف أيدينا فيه'' یعنی کبھی میں اپنے ہاتھ کو چلو بھرنے کے لیے برتن میں داخل کرتی اور کبھی آپ ﷺ اس سے چلو بھرنے کے لیے اپنا ہاتھ اس میں لے جاتے۔جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ ”میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے غسل کرتے اور ہم دونوں ہی اس سے چلو بھرتے“۔
جب کہ ابن حبان کی دوسری روایت میں انہوں نے اکٹھے غسل کرنے کی اس ہیئت کو بڑے دقیق انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ: ”وتَلْتَقِي“ یعنی برتن سے پانی لیتے ہوئے اور چلو بھرتے ہوئے ہمارے ہاتھ اکٹھے ہو جاتے۔
اس روایت کی بنا پر معلوم ہوتا ہے کہ کبھی تو ہاتھ باری باری چُلّو بھرتے اور کبھی اکٹھے چلو بھرتے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10028

 
 
Hadith   1575   الحديث
الأهمية: إنما يكفيك أن تحثي على رأسك ثلاث حثيات ثم تفيضين عليك الماء فتطهرين


Tema:

تمہارے لیے بس اتنا کرنا کافی ہے کہ تم اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لو اور پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہا لو۔ اس سے تم پاک ہو جاؤگی

عن أم سلمة -رضي الله عنها- قالت: قلت: يا رسول الله، إنِّي امرأة أَشُدُّ ضَفْرَ رأسي فَأَنْقُضُهُ لغُسل الجَنابة [وفي رواية: والحَيْضَة]؟ قال: «لا، إنَّما يَكْفِيك أن تَحْثِي على رأْسِك ثلاث حَثَيَاتٍ ثم تُفِيضِينَ عليك الماء فَتَطْهُرين».

ام سلمہ رضی اللہ عنہا بيان کرتی ہيں کہ ميں نے عرض کيا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے سر کے بالوں کو مضبوطی سے باندھ ليتى ہوں تو کیا میں غسل جنابت کے لیے انہيں کھولوں [ایک اور روایت میں ہے کہ: اور غسلِ حیض کے لیے انہيں کھولوں]؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، تمہارے لیے بس اتنا کرنا کافی ہے کہ تم اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لو اور پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہا لو۔ اس سے تم پاک ہو جاؤگی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر أم سَلَمة -رضي الله عنها- أنها تجعل شَعَر رأسها ضَفَائر، ثم إنها سألت النبي -صلى الله عليه  وسلم- عن كيفية الاغتسال من الحَدَث الأكبر [ غسل الحيض والجَنَابة ]، هل يلزمها تفريق شَعْرها لأجل إيصال الماء إلى باطنه، أو لا يجب عليها تفريقه؟  قال: «لا، إنَّما يَكْفِيك أن تَحْثِي على رأْسِك ثلاث حَثَيَاتٍ » أي: لا يلزمُك، بل يكفيك أن تَصُبِّي الماء على رأسك بِملء كفيك ثلاث مرات، مع ظَنَّ حصول الإرواء لأصول الشَّعر، سواء وصل الماء إلى باطِن الشَّعر أو لم يَصَل؛ لأنه لو وجب إيصاله إلى باطِنه للزم نَقْضُه ليُعلم أن الماء قد وصَل إليه أو لم يصل.  
"ثلاث حَثَيَاتٍ" لا يُراد بالحَثَيَات الثلاث الحَصْر، بل المَطلوب إيصال الماء إلى أصول الشَّعر، فإن وصَل بمرة فالثلاث سُنَّة، وإن لم يَصل فالزيادة واجِبة، حتى يَبلغ أصوله مع ظن الإرواء. 


"ثم تُفِيضِينَ عليك الماء" أي: تُصُبِّين الماء على جميع جَسدك، وفي حديث عائشة -رضي الله عنها-: "ثمَّ تَصُبِّينَ على رأسِكِ الماءَ".
" فَتَطْهُرين" وفي رواية عند أبي داود وغيره: "فإذا أنت قد طَهُرت" أي: من الحَدث الأكبر الذي أصَابك.
والحاصل: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أفتاها بأنه لا يلزمها نَقْض شَعَر رأسها لغُسل الجَنَابة والحيضة، وإنما يكفيها أن تحثي على رأسها ثلاث غَرَفات بمليء كفيها، وتَعُم جسدها بالماء، وبذلك تكون قد طهرت من الحدث الأكبر.
575;م سلمہ رضی اللہ عنہا بتلا رہی ہیں کہ وہ اپنے سر کے بالوں کو چوٹيوں کی صورت ميں باندھ ليا کرتی تھیں۔ انہوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ حدثِ اکبر سے پاک ہونے کے لیے غسل (يعنى غسلِ حیض اور غسل ِجنابت) کیسے کریں؟ کیا پانی کو اندر تک پہنچانے کے لیے ان کا اپنے بالوں کو کھولنا ضروری ہے یا انھیں کھولنا ضروری نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، تمہارے لیے بس اتنا کافی ہے کہ تم اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لیا کرو“ یعنی تمہارے لیے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں ہے، بلکہ تمہارے لیے بس اتنا کافی ہے کہ تم چلو بھر کر تین دفعہ اپنے سر پر پانی ڈال لیا کرو بایں طور کہ غالب گمان ہو جائے کہ بالوں کی جڑیں تر ہو گئی ہیں، چاہے پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچے یا نہ پہنچے۔ کیونکہ اگر پانی کا بالوں کی تہ تک پہنچانا واجب ہوتا تو پھر بالوں کا کھولنا ضروری ہوتا، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ پانی اندر تک پہنچ گیا ہے یا نہیں۔
”تین چلو“ تین چلو سے معین طور پر صرف تین کا عدد مراد نہیں ہے، بلکہ پانی کو بالوں کی جڑوں تک پہنچانا مطلوب ہے۔ اگر پانی ایک ہی دفعہ میں جڑ تک پہنچ جائے تو پھر تین دفعہ ڈالنا سنت ہو گا اور اگر نہ پہنچے تو پھر اس سے زیادہ دفعہ ڈالنا واجب ہو گا یہاں تک کہ جڑوں تک پہنچ جائے اور ان کے تر ہو جانے کا غالب گمان ہو جائے۔
”پھر اپنے اوپر پانی بہا لو“ یعنی اپنے پورے بدن پر پانی بہا لو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں ہے کہ پھر تم اپنے سر پر پانی انڈیلو۔
”تم پاک ہو جاؤ گی“ سنن ابو داود وغیرہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”فإذا أنت قد طَهُرت“ (تو سمجھ لو کہ تم پاک ہو گئیں) یعنی لاحق ہونے والے حدثِ اکبر سے تم پاک ہو جاؤگی۔
حاصل یہ کہ نبی ﷺ نے انہیں فتوی دیا کہ غسلِ جنابت یا غسلِ حیض کرتے ہوئے ان کے لیے اپنے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں ہے بلکہ ان کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ تین چلو بھر کر اپنے سر پر ڈال لیں اور اپنے پورے جسم پر پانی بہا لیں۔ ا س سے وہ حدث اکبر سے پاک ہو جائیں گی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10030

 
 
Hadith   1576   الحديث
الأهمية: صببت للنبي -صلى الله عليه وسلم- غسلا


Tema:

میں نے نبی ﷺ کے لیے غسل کا پانی رکھا

عن ميمونة -رضي الله عنها- قالت: «صَبَبْتُ للنبي -صلى الله عليه وسلم- غُسْلا، فَأَفْرَغ بيمينه على يساره فغَسَلَهُما، ثم غَسل فَرْجَه، ثم قال بِيَدِه الأرض فَمَسَحَها بالتُّراب، ثم غَسلها، ثم تَمَضْمَضَ واسْتَنْشَقَ، ثم غَسَل وجْهَه، وأفَاضَ على رأسِه، ثم تَنَحَّى، فغسل قَدَمَيه، ثم أُتِيَ بمنْدِيل فلم يَنْفُضْ بها».

میمونہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے لیے غسل کا پانی رکھا۔ آپ ﷺ نے پہلے پانی کو دائیں ہاتھ سے بائیں پر بہا یا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا۔ پھر اپنی شرم گاہ کو دھویا۔ پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر مار کر مٹی کے ساتھ اسے رگڑا اور پھر اسے دھویا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔ پھر اپنے چہرے کو دھویا اور اپنے سر پر پانی بہایا۔ پھر ایک طرف ہو کر دونوں پاؤں دھوئے۔ پھر آپ کو رومال دیا گیا۔ لیکن آپ ﷺ نے اس سے پانی کو خشک نہیں کیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: تخبر ميمونة أنها هيَّأت له الماء لأجل أن يَغتسل به رسول الله -صلى الله عليه وسلم- من الجَنَابة، فتناول الإناء بيمينه، فصبَّه على يساره، ثم غسل كلتا يديه معاً؛ لأن اليدين آلة لنقل الماء، فاستحب غسلهما تحقيقا لطهارتهما، وتنظيفا لهما.      
فَغَسَلهُما، وفي رواية أخرى عن ميمونة -رضي الله عنها- عند البخاري: "فغسل يديه مرتين أو ثلاثا".  
وبعد أن غَسل يديه غَسل فَرْجَه بشماله لإزالة ما لوثه من آثار المَني وغيره، والمراد بالفَرْجِ هُنا: القُبل، يوضحه رواية البخاري: " ثم أفرغ على شِماله، فغسل مَذَاكِيرَه ".
ثم قال بِيَدِه الأرض والمراد ضرب بها الأرض واليد هنا: " اليَد اليُسرى، يوضحه رواية البخاري: " ثم ضَرب بِشِمَاله الأرض، فدَلَكَها دَلْكَا شديدا ".
فَمَسَحَها بالتُّراب لِيُزِيل ما قد يعَلق بها من آثار مُسْتَقْذَرة أو روائح كَرِيهة، ثم غَسل يَده اليُسرى بالماء لإزالة ما عَلَق بها من تُراب وغيره مما يُسْتَقْذَر، وبعد أن غسل يديه ونَظَّفَها مما قد يعَلق بها تمضمض وستنشق، ثم غَسَل وجْهَه. وليس فيه أنه توضأ -عليه الصلاة والسلام- ، لكن في حديثها الآخر عند البخاري ومسلم :" ثم توضأ وضوءه للصلاة "وهكذا جاء عن عائشة -رضي الله عنها-.
ثم صَبَّ الماء على رأسه، وفي روايتها الأخرى: " ثم أَفْرَغ على رأسه ثلاث حَفَنَات مِلءَ كَفِّه، ثم غَسَل سَائر جَسَده ".
ويُكتفى بالمرة الواحدة، إذا عَمَّت جميع البَدن.
ثم تحول إلى جهة أخرى بعيدا عن موضع الاغتسال فغسل قَدَمَيه بعد أن فَرَغ من وضوءه واغتساله، غسل قَدَميه مرة ثانية.
ثم أُتِيَ بمنْدِيل فلم يَنْفُضْ بها ولم يَتَمَسَّح بالمِنْدِيل من بَلَلِ الماء، وفي رواية أخرى عنها -رضي الله عنها-: " ثم أَتَيْتُه بالمِندِيل فَرَدَّه " وفي رواية أخرى : " أُتِيَ بِمِنْدِيلٍ فلم يَمَسَّه وجعل يقول: بالماء هكذا " يعني يَنْفُضُه.
581;دیث کا مفہوم: میمونہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے غسل جنابت کے لیے پانی تیار کیا۔ آپ ﷺ نے اپنے داہنے ہاتھ سے برتن کو تھاما اور اپنے بائیں ہاتھ پر انڈیلا۔ پھر آپ ﷺ نے ایک ساتھ دونوں ہاتھوں کو دھویا؛ کیوں کہ ہاتھ پانی منتقل کرنے کا آلہ ہیں۔ چنانچہ ان کی اچھی طرح سے طہارت و صفائی کے لیے آپ ﷺ نے انھیں دھونا پسند فرمایا۔
”دونوں ہاتھوں کو دھویا“ صحیح بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے : آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دو یا تین دفعہ دھویا۔
اپنے ہاتھ دھو لینے کے بعد شرم گاہ پر منی وغیرہ کی گندگی کے اثرات کو دور کرنے لیے آپ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ کو دھویا۔ یہاں شرم گاہ سے مراد سامنے کی شرم گاہ ہے، جس کی وضاحت بخاری شریف کی روایت سے ہوتی ہے (جس میں یہ الفاظ ہیں کہ): ”پھر آپ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اوراس سے اپنے عضو تناسل كو دھويا“۔
”ثم قال بِيَدِه الأرض“ یعنی اپنے ہاتھ کو زمین پر مارا۔ یہاں ہاتھ سے مراد بایاں ہاتھ ہے، جس کی وضاحت بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ: پھر آپ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے زور زور سے رگڑا۔
آپ ﷺ نے اسے مٹی کے ساتھ رگڑا، تا کہ اس کے ساتھ لگی گندگی اور بدبو زائل ہو جائے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ کو اس پر لگی مٹی اور میل کچیل دور کرنے کے لیے دھویا۔ اپنے ہاتھوں سے لگے میل کچیل کو دھولینے اور صاف کر لینے کے بعد آپ ﷺ نے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور پھر اپنا چہرہ مبارک دھویا۔ اس حدیث میں یہ ذکر نہیں کہ آپ ﷺ نے وضو بھی فرمایا، تاہم صحیح بخاری و صحیح مسلم میں میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ پھر آپ ﷺ نے نماز کے لیے کیے جانے والے وضو کی طرح وضو فرمایا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی ایسے ہی مروی ہے۔
پھر آپ ﷺ نے اپنے سر پر پانی ڈالا اور ایک اور روایت میں ہے کہ پھر آپ ﷺ نے اپنے سر پر تین چلو ہتھیلی بھر کر ڈالے اور پھر سارےجسم کو دھویا۔
ایک دفعہ پر بھی اکتفا کیا جا سکتا ہے، بشرطے کہ پانی سارے جسم تک پہنچ جائے۔
پھر آپ ﷺ نے غسل کی جگہ سے دور ایک دوسری جانب ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے، یعنی جب آپ ﷺ اپنے وضو اور غسل سے فارغ ہو چکے، تو آپ ﷺ نے دوسری دفعہ اپنے پاؤں دھوئے۔
پھر آپ ﷺ کے پاس رومال لایا گیا، تو آپ ﷺ نے پانی کی تری کو اس سے خشک نہ کیا اور نہ ہی اس سے پونچھا۔ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک اور حدیث میں ہے : پھر میں آپ ﷺ کے پاس رومال لائی، تو آپ ﷺ نے اسے واپس کر دیا۔ ایک اور روایت میں ہے: آپ ﷺ کے پاس ایک رومال لایا گیا، لیکن آپ ﷺ نے اسے چھویا تک نہیں اور اس طرح سے پانی جھٹکنے لگے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10031

 
 
Hadith   1577   الحديث
الأهمية: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا اغتسل من الجنابة يبدأ فيغسل يديه، ثم يفرغ بيمينه على شماله فيغسل فرجه، ثم يتوضأ وضوءه للصلاة


Tema:

رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرمگاہ دھوتے، پھر نماز کی وضو کی طرح وضو کرتے۔

عن عائشة، قالت: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا اغتسل من الجَنَابَة يبدأ فيغسل يديه، ثم يُفرغ بيمينه على شماله فيغسل فَرْجَه، ثم يتوضأ وضوءه للصلاة، ثم يأخذ الماء فيُدخل أصابعه في أصول الشَّعَرِ، حتى إذا رأى أن قد اسْتَبْرَأَ حَفَنَ على رأسه ثلاث حَفَنَات، ثم أفاض على سائر جسده. ثم غسل رجليه».

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرمگاہ دھوتے، پھر نماز کی وضو کی طرح وضو کرتے اور اپنی انگلیاں پانی میں ڈال کر ان سے اپنے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے، یہاں تک کہ جب بالوں کی جڑوں تک تَرِیْ دیکھ لیتے تو پھر اپنے سر پر تین لپ (دونوں ہاتھوں سے بھر کر) پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر پانی گراتے اور اپنے پاؤں دھوتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تصف عائشة -رضي الله عنها- غُسل النبي -صلى الله عليه وسلم- بأنه إذا أراد الغسل من الجنابة بدأ بغسل يديه؛ لتكونا نظيفتين حينما يتناول بهما الماء للطهارة، وتوضأ كما يتوضأ للصلاة.
ولكونه -صلى الله عليه وسلم- ذا شعر كثيف، فإنه يخلله بيديه وفيهما الماء، حتى إذا وصل الماء إلى أصول الشعر، وأوصل الماء إلى جميع  البشرة، أفاض الماء على رأسه ثلاث مرات ثم غسل باقي جسده ثم أخّر غسل رجليه في النهاية.
575;م المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا، نبی کریم ﷺ کے غسل کا طریقہ بیان فرما رہی ہیں کہ آپ ﷺ جب غسلِ جنابت کا ارادہ فرماتے تو سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے تاکہ وہ اس وقت پاک و صاف رہیں جب طہارت کے لیے ان ہاتھوں سے پانی لیں پھر نماز کے لیے کیے جانے والے وضو کی طرح وضو فرماتے۔
اور چوں کہ آپ ﷺ کے بال بہت زیادہ گھنے تھے،اس لیے آپ ﷺ اپنے تر شدہ ہاتھوں سے بالوں کا خلال کرتے، یہاں تک کہ جب پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جاتا اور آپ اپنے تمام جلد پر پانی پہنچا دیتے تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے، پھر باقی جسم کو غسل دیتے اور سب سے آخر میں اپنے پاؤں دھوتے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10032

 
 
Hadith   1578   الحديث
الأهمية: إذا أتى أحدكم أهله ثم أراد أن يعود فليتوضأ بينهما وضوءا


Tema:

جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے (صحبت کرے) اور پھر دوبارہ صحبت کرنا چاہے تو ان دونوں کے درمیان وضو کرے۔

عن أبي سعيد الخُدْرِي -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إذا أَتَى أحَدُكُم أهله ثم أرَاد أن يَعود فَلْيَتَوَضَّأْ بينهما وضُوءًا».
  وفي رواية الحاكم: «فإنه أَنْشَطُ لِلْعَوْد».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے (صحبت کرے)اور پھر دوبارہ صحبت کرنا چاہے، تو درمیان میں وضو کرے“۔
امام حاکم کی روایت میں ہے: کیونکہ وضو کرنا دوبارہ جماع کرنے کے لیے زیادہ باعث نشاط ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث سِيقَ لبيان الهدي النبوي فيمن أراد تكرار جماع أهله، حيث يقول عليه الصلاة والسلام: "إذا أَتَى أحَدُكُم أهله ثم أرَاد أن يَعود" أي: إذا جامع الرجل أهله، ثم رغِبَ أن يُعَاوِد الجماع مرَّة ثانية وثالثة.
والإرشاد النبوي تمثل في قوله عليه الصلاة والسلام: "فَلْيَتَوَضَّأْ بينهما وضُوءًا" أي: بعد الجماع الأول وقبل الثاني. والمراد بالوضوء هنا: الوضوء للصلاة؛ لأن الوضوء إذا أطلق فالأصل حَمله على الوضوء الشرعي، وقد جاء مصرحًا به عند ابن خزيمة والبيهقي، وفيه: " فتوضَّأ وضُوءك للصلاة"، وهذا الوضوء مستحب.
740;ہ حدیث اس شخص کی خاطر نبوی طریقہ بیان کرنے کے لیے لائی گئی ہے، جو اپنی بیوی سے دوبارہ صحبت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ چنانچہ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے اور پھر دوبارہ صحبت کا ارادہ کرے“ یعنی ایک شخص اپنی بیوی سے صحبت کرنے کے بعد دوبارہ سہ بارہ کا ارادہ رکھتا ہو۔
”توان درمیان میں وضو کرے“ اس میں اس حکم کی رہنمائی ملتی ہے، یعنی پہلی بارصحبت کرنے کےبعد اور دوبارہ صحبت کرنے سے پہلے۔
اور یہاں وضو سےمراد نماز کے لیے وضو کی طرح وضو کرناہے؛ کیوں کہ وضو کا لفظ جب مطلق بولا جائے، تو اس سے مراد شرعی وضو ہی ہوتا ہے اور اس بات کی وضاحت صحیح ابن خزیمہ اور سنن بیہقی کی ایک روایت سے ہوتی ہے، جس میں اس بات کی صراحت ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں کہ پھر نماز کے لیے وضو کی طرح وضو کرو۔ یہ وضو مستحب ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10033

 
 
Hadith   1579   الحديث
الأهمية: من توضأ يوم الجمعة فبها ونعمت، ومن اغتسل فهو أفضل


Tema:

جس نے جمعے کے دن وضو کیا، اس نے سنت پر عمل کیا اور یہ بہت عمدہ سنت ہے اور جس نے غسل کیا، تو یہ افضل ہے

عن سمرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «من توضَّأَ يوم الجُمعة فَبِهَا ونِعْمَتْ، ومن اغْتَسَل فهو أفْضَل».

سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعے کے دن وضو کیا، اس نے سنت پر عمل کیا اور یہ بہت عمدہ سنت ہے اور جس نے غسل کیا، تو یہ افضل ہے“۔

Esin Hadith Caption Urdu


"من توضَّأَ يوم الجُمعة" المراد به: الوضوء لصلاة الجمعة.
quot;فَبِهَا" أي أنه أخَذ بالسُّنة والرُّخصة، "ونِعْمَتْ" أي: نِعم ما فعل بأخذه بالسُّنة، فهذا ثَناء عليه.
quot;ومن اغْتَسَل فهو أفْضَل" يعني: من اغْتسل للجمعة مع الوضوء، فهو أفضل من الوضوء المُجرد عن الغُسل.
nbsp;وبهذا أخذ جمهور العلماء، ومنهم الأئمة الأربعة، ومن أدلتهم أيضًا حديث مسلم: (من توضأ فأحْسَن الوضوء، ثم أتَى الجُمعة فاسْتَمَع وأنْصَت غُفر له ما بين الجمعة إلى الجمعة وزيادة ثلاثة أيام)

Esin Hadith Caption Urdu


”من توضَّأَ يوم الجُمعة“ اس سے مراد نماز جمعے کے لیے وضو ہے۔ ”فَبِهَا“ یعنی اس نے سنت اور رخصت کو اختیار کیا۔ ”ونِعْمَتْ“ یعنی سنت کو اختیار کر کے اس نے اچھا کیا اور اس پر اس کی تحسین کی گئی ہے۔ ”ومن اغْتَسَل فهو أفْضَل“ یعنی جس نے وضو کے ساتھ ساتھ جمعے کے لیے غسل بھی کیا، وہ اس وضو سے افضل ہے، جو غسل سے خالی ہے۔ جمہور علماء اور ائمۂ اربعہ نے اسی سے استنباط کیا ہے اور ان کے دلائل میں سے ایک دلیل صحیح مسلم کی یہ روایت ہے: ”جو شخص اچھے طریقے سے وضو کرے، پھر جمعہ کے لیے چلے، خاموش رہے اور توجہ سے سنے تو ایک جمعے سے دوسرے جمعے تک، نیز مزید تین دن کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں“۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10035

 
 
Hadith   1580   الحديث
الأهمية: الغسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم، وأن يستن، وأن يمس طيبا إن وجد


Tema:

جمعہ کے دن ہر بالغ پر غسل کرنا واجب ہے۔ نیز یہ کہ مسواک کرے اور اگر خوش بو میسر ہو تو لگائے۔

عن عمرو بن سليم الأنصاري قال: أشهد على أبي سعيد قال: أشهد على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «الغُسْل يوم الجمعة واجِب على كل مُحْتَلِمٍ، وأن يَسْتَنَّ، وأن يَمَسَّ طِيبًا إن وجَد».

عمرو بن سلیم انصاری کہتے ہیں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جمعہ کے دن ہر بالغ پر غسل کرنا واجب ہے۔ نیز یہ کہ مسواک کرے اور اگر خوش بو میسر ہو تو لگائے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يقول أبو سعيد الخدري -رضي الله عنه-:" أشهد على رسول الله -صلى الله عليه وسلم-" أي أخبركم عن النبي -صلى الله عليه وسلم- خبراً أكيداً صادراً عن يقين وعلم قاطع، أنه -صلى الله عليه وسلم- قال: "الغسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم" أي: الغسل يوم الجمعة متأكد على كل ذكر بالغ من المسلمين مطلقاً، جامع أو لم يجامع، أجنب أو لم يجنب، ويخرجه من الوجوب حديث سمرة بن جندب -رضي الله عنه- مرفوعا: "من توضأ يوم الجمعة فبها ونعمت، ومن اغتسل فهو أفضل"، أي: من اكتفى يوم الجمعة بالوضوء فقد أخذ بالرخصة، وأجزأه الوضوء، ونعمت الرخصة، ومن اغتسل، فالغسل أفضل؛ لأنه سنة مستحبة.
قوله: "وأن يستن" أي: وأن يستاك، من الاستنان وهو الاستياك.
وأما قوله: "وأن يمس طيباً إن وجد" فيعني: وأن يتطّيب بأي رائحة عطرية، والجملتان معطوفتان على الجملة الأولى.
575;بو سعید خدری فرماتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یعنی میں تمھیں رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے ایک یقینی اور علم قطعی پر مشتمل خبر دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے دن ہر بالغ پر غسل کرنا واجب ہے یعنی جمعہ کے دن مطلق طور پر ہر بالغ مسلمان مرد پر غسل واجب ہے؛ چاہے اس نے جماع کیا ہو یا نہ کیا ہو، جنبی ہو یا نہ ہو۔ جب کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی حدیث عدم وجوب پر دلالت کرتی ہے، جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعے کے دن وضو کیا، اس نے سنت پر عمل کیا اور یہ بہت عمدہ سنت ہے اور جس نے غسل کیا، تو یہ افضل ہے“ یعنی جس نے جمعے کے دن وضو پر اکتفا کیا، اس نے رخصت کو اختیار کیا اور اس کے لیے وضو کافی ہے اور یہ رخصت بھی سنت ہے۔ البتہ اگر کوئی غسل کرے، تو یہ افضل ہے؛ کیوں کہ یہ پسندیدہ سنت ہے۔
آپ نے فرمایا: ”وأن يَسْتَنَّ“ یعنی مسواک کرے۔ یہ 'استنان' سے ہے، جس کے معنی ہیں مسواک کرنا۔
آپ نے فرمایا: ”وَأَنْ يَمَسَّ طِيبًا إنْ وجَد“ یعنی کوئی بھی خوشبو دار شے میسر ہونے پر استعمال کرے۔ دونوں جملوں کا عطف پہلے جملے پر ہوا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10036

 
 
Hadith   1581   الحديث
الأهمية: أن ثمامة الحنفي أسر، فكان النبي -صلى الله عليه وسلم- يغدو إليه، فيقول: ما عندك يا ثمامة؟ فيقول: إن تقتل تقتل ذا دم، وإن تمن تمن على شاكر، وإن تُرِد المال نُعْطِ منه ما شئت


Tema:

جب ثمامہ الحنفی کو قیدی بنایا گیا تو صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ (گھر سے نکل کر) اس کے پاس آئے اور پوچھا: ثمامہ! تمہارے پاس کیا (خبر) ہے؟ اس نے جواب دیا: اگر آپ قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا حق مانگا جاتا ہے اور اگر احسان کریں گے تو اس پر احسان کریں گے جو شکر کرنے والا ہے۔ اور اگر مال چاہتے ہیں تو طلب کیجئے، آپ جو چاہتے ہیں، آپ کو دیا جائے گا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-، أن ثُمَامَة الحَنَفِي أُسِر، فكان النبي -صلى الله عليه وسلم- يَغْدُو إليه، فيقول: «ما عندك يا ثُمَامَة؟»، فيقول: إن تَقْتُل تَقْتُل ذَا دَم، وإن تَمُنَّ تَمُنَّ على شَاكِر، وإن تُرِدَّ المال نُعْطِ منه ما شِئْتَ. وكان أصحاب النبي -صلى الله عليه وسلم- يُحِبُّون الفِدَاءَ، ويقولون: ما نَصنع بقَتْل هذا؟ فمرَّ عليه النبي -صلى الله عليه وسلم- يومًا، فأسْلَم، فحَلَّه، وبَعث به إلى حَائِط أبِي طلْحَة، فأَمَرَه أن يغتسل فاغَتَسَل، وصلَّى ركعتين، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «لقد حَسُن إسلام أخِيكُم».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ثمامہ حنفی کو قیدی بنایا گیا تو صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ (گھر سے نکل کر) اس کے پاس آئے اور پوچھا: ثمامہ! تمہارا کیا حال ہے؟ اس نے جواب دیا: اگر آپ قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا حق مانگا جاتا ہے اور اگر احسان کریں گے تو اس پر احسان کریں گے جو شکر کرنے والا ہے۔ اور اگر آپ مال ودولت چاہتے ہیں تو ہم منہ مانگا دیں گے۔ صحابۂ کرام کی خواہش تھی کہ فدیہ لے لیں، وہ کہتے تھے، انھیں قتل کرنے میں کیا فائدہ ہے؟ ایک آپ ﷺ ان کے پاس سے گزرے تو ثمامہ نے اسلام قبول کرلیا۔آپ ﷺ نے اُن کی بیڑیاں کھول دیں اور انھیں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے باغ میں بھیج دیا اور حکم دیا کہ وہاں جاکر غسل کرلیں، انھوں نے غسل کیا اور دو رکعت نماز ادا کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لَقَدْ حَسُنَ إسْلَامُ أخِيكُم“ بے شک تمہارے بھائی کا اسلام بہت اچھا رہا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أبو هريرة -رضي الله عنه- عن ثُمَامَة -رضي الله عنه- أنه أُسِر، ورُبط في إحدى سواري المسجد، كما في بعض روايات الحديث،  فكان النبي -صلى الله عليه وسلم- يَغْدُو إليه بعد أن أُسِر، كان يأتي إليه ويزوره، وكرر ذلك ثلاثة أيام -كما في الروايات الأخرى-، وفي كل زيارة يسأله: "ما عندك يا ثُمَامَة؟" أي: ماذا تَظن أنِّي فاعل بِك؟ "فيقول: إن تَقْتُل تَقْتُل ذَا دَم" أي: هناك من يطالب بدمه ويثأر له، "وإن تَمُنَّ تَمُنَّ على شَاكِر"، وفي رواية في الصحيحين: "وإن تُنْعِم تُنْعِم على شاكر"، والمعنى : إن تُنْعم عليَّ بالعَفو، فإن العَفو من شِيَم الكِرام، ولن يَضيع معروفك عندي؛ لأنك أنْعَمْتَ على كريم يحفظ الجميل، ولا يَنْسَى المعروف أبدًا.  
"وإن تُرِد المال" يعني: وإن كُنت تريد المال مقابل إطلاق سراحي، "نُعْطِ منه ما شِئْتَ" أي: لك ما طلبت.
 "وكان أصحاب النبي -صلى الله عليه وسلم- يُحِبُّون الفِدَاءَ، ويقولون: ما نَصنع بقَتِل هذا؟ "يعني: أن الصحابة -رضي الله عنهم- كانوا يُحبون أن يأخذوا الفِدْية، سواء كانت الفِدْيَة على مال مقابل إطلاقِه أو إطلاق أسِير من المسلمين مقابل أسِير من الكفار؛ لأن المال أو مُبادلة أسِير مسلم بكافر أفضل وفيه نفع للمسلمين، أما قتله فإنه أقَلُّ نفعا من الفداء.
"فمرَّ عليه النبي -صلى الله عليه وسلم- يوما، فأسْلَم، فحَلَّه"، وهذا في المرة الأخيرة التي جاء فيها النبي -صلى الله عليه وسلم- إلى ثَمامة -رضي الله عنه- وسأله عن حاله كالعادة : "ما عندك يا ثمامة؟" بادر بالإسلام -رضي الله عنه-، فأطلقه -صلى الله عليه وسلم-، وفي رواية في الصحيحين: أمَر بإطلاقه.
"وبَعَث به إلى حَائِط أبِي طلْحَة": يعنى بعد أن أسْلم أرسله النبي -صلى الله عليه وسلم- إلى بستان لأبي طلحة، كان فيه ماء ونخل، كما في رواية  أخرى: "فانْطَلق إلى نَخْل قَريب من المسجد".
"فأَمَرَه أن يغتسل فاغتسل، وصلى ركعتين" أي: بعد أن أسْلَم أمره -صلى الله عليه وسلم- أن يغتسل، فاغتسل؛ امتثالا لأمره -صلى الله عليه وسلم- وصلَّى ركعتين، بعد أن تَطهَّر.
والمشروع له الغسل لهذا الحديث، وأيضا لما رواه أحمد والترمذي "أنَّ قيس بن عاصم لما أسلم أمره النَّبي -صلى الله عليه وسلم- أنْ يغتسل"، قال الشيخ الألباني: إسناده صحيح.
"فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: لقد حَسُن إسلام أخِيكُم" بشَّر النبي -صلى الله عليه وسلم- أصحابه بإسلام ثمامة -رضي الله عنه-، بل وبِحُسن إسلامه أيضاً، ولعله -رضي الله عنه- أظهر شيئا مما جَعل النبي -صلى الله عليه وسلم- يثني على تمسكه بالإسلام، ويحتمل أن يكون ذلك وحيًا من الله -تعالى- لنبيِّه -صلى الله عليه وسلم-.
575;بو ہریرہ رضی اللہ عنہ بتا رہے کہ جب ثمامہ کو قیدی بنا لیا گیا اور مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا گیا جیسا کہ بعض روایات میں یہ موجود ہے۔رسول اللہ ﷺ اس کی قید کے بعد صبح کے وقت اس کے پاس ملاقات کے لیے آئے اور مسلسل تین دن تک آپ ﷺ اس کے پاس آتے رہے۔(جیسا کہ دیگر روایات میں موجود ہے) اور ہر ملاقات پر اس کو یہی پوچھتے رہے کہ ثمامہ تمہارا کیا حال ہے؟یعنی تو کیا سوچتا ہے کہ میں تیرے ساتھ کیا سلوک کروں گا؟تو اس نے جواب دیا کہ ”إن تَقْتُل تَقْتُل ذَا دَم“ اگر آپ قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا حق مانگا جاتا ہے اور اگر احسان کریں گے تو اس پر احسان کریں گے جو شکر کرنے والا ہے۔یعنی اس کی طرف سے خون کا مطالبہ کرنے والے بھی ہیں اور احسان کا بدلہ دینے والے بھی "وإن تَمُنَّ تَمُنَّ على شَاكِر" ۔صحیحین کی روایت میں یہ الفاظ ہیں ”وإن تُنْعِم تُنْعِم على شاكر“ یعنی اگر تو مجھ پر معافی کا احسان کرے گا تو معاف کرنا صاحب کرم لوگوں کا شیوا ہے اور تیری یہ نیکی ہم رائیگاں نہیں جانے دیں گے کیونکہ آپ اس شخص پر احسان کریں گے جو اس کی باکمال حفاظت کرتا ہے اور اس کے ساتھ کی گئی نیکی کو کبھی بھولتا نہیں۔اور اگر تو مال چاہتا ہے یعنی اگر تو بے بہا مال چاہتا ہے تو ہم تجھے اتنا مال دیں گے یعنی جتنا تو چاہتا ہے۔ ”وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبيِّ ﷺ يُحِبُّون الفِدَاءَ، ويقولون: ما نَصنع بقَتِل هذا؟“ صحابہ کرام یہی چاہتے تھے کہ اس سے فدیہ لے لیا جائے اس کو قتل کر کے کیا لیں گے؟یعنی صحابہ یہ چاہتے تھے کہ اس سے فدیہ لیا جائے چاہے تو اس کی حیثیت کے مطابق مال لے لیا جائے یا کفار کے قیدی کے بدلے مسلمان قیدی چھڑا لیے جائیں کیونکہ مال یا مسلم قیدیوں کی رہائی مسلمانوں کے لیے زیادہ فائدہ مند اور بہتر ہے ۔اگر اسے قتل کر دیں گے تو اس میں فدیہ کی نسبت فائدہ کم ہے۔ایک دن رسول اللہ ﷺ اس کے پاس سے گزرے ،اس کو سلام کیا اور اسے آزاد کر دیا اور یہ رسول اللہ ﷺ کا آخری مرتبہ کا آنا تھا جس میں آپ ﷺ ثمامہ کے پاس آ کر یہ پوچھتے تھے کہ ’ثمامہ تیرا کیا حال ہے؟‘اس نے اسلام قبول کر لیا اور آپ ﷺ نے اسے آزاد کر دیا۔صحیحین کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے اس کو آزاد کرنے کا حکم دے دیا اور اس کو ابو طلحہ کے باغ کی طرف بھیجا۔یعنی اسلام قبول کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ نے س کو ابو طلحہ کے باغ کی طرف بھیجا جس میں پانی اور کھجوریں تھیں۔جیساکہ بعض دوسری روایات میں ہے کہ اس کو مسجد کے قریب کھجور کی طرف بھیجا،اس کو حکم دیا کہ غسل کرے ،اس نے غسل کیا اور دو رکعتیں پڑھیں یعنی قبول اسلام کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اس کو حکم دیا کہ غسل کرے اور اس نے آپ کے حکم کی تعمیل میں غسل کیا اور پاک ہونے کے بعد دو رکعتیں ادا کیں۔اس حدیث کے مطابق یہ اس کے لیے مشروع غسل تھا جیسا کہ مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے کہ :قیس بن عاصم نے جب اسلام قبول کیا تو نبی کریمﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ غسل کرے۔علامہ البانی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے: لقد حَسُن إسلام أخِيكُم فرما کر ثمامہ کے قبول اسلام کی خوشخبری صحابہ کرام کو دی بلکہ بہترین اسلام کی۔ نبی کریم ﷺ کا اس کے اسلام کی تعریف کرنا اس لیے تھا تاکہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے۔ اور یہ بھی امکان ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریمﷺ کی طرف وحی تھی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام عبد الرزّاق نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10037

 
 
Hadith   1582   الحديث
الأهمية: إن ماء الرجل غليظ أبيض، وماء المرأة رقيق أصفر، فمن أيهما علا، أو سبق، يكون منه الشبه


Tema:

مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے ، ان دونوں میں سے جس (کے حصے) کو غلبہ مل جائے یا (نئی تشکیل میں) سبقت لے جائے تو اسی سے (بچے کی) مشابہت ہوتی ہے۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه-: أن أم سُلَيم حدَّثَت أنَّها سألت نَبِي الله -صلى الله عليه وسلم- عن المرأة تَرى في مَنَامِها ما يَرى الرَّجل، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إذا رَأَت ذلك المرأة فَلْتَغْتَسِل» فقالت أم سُلَيْم: واسْتَحْيَيْتُ من ذلك، قالت: وهل يَكون هذا؟ فقال نَبِي الله -صلى الله عليه وسلم-: «نعم، فمِن أين يَكُون الشَّبَه؟ إنَّ ماء الرَّجُل غَليِظ أبْيَض، وماء المرأة رقِيق أصْفَر، فَمِنْ أَيِّهِمَا عَلَا، أو سَبَقَ، يَكُونُ مِنْه الشَّبَهُ».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے (انھیں) بتایا کہ انھوں نے نبی اکرمﷺ سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا جو نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب عورت یہ چیز دیکھے تو غسل کرے“۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں اس بات پر شرما گئی۔ (پھر) آپ بولیں :کیا ایسا بھی ہوتا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہاں، (ورنہ) پھر مشابہت کیسے پیدا ہوتی ہے؟ مرد کا پانی (منی) گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے، ان دونوں میں سے جو بھی غالب ہوجائے یا سبقت لے جائے تو اسی سے (بچے کی) مشابہت ہوتی ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أنس بن مالك -رضي الله عنه- عن أُمِّهِ أُمِّ سُلَيم -رضي الله عنها- أنَّها سألت نَبِي الله -صلى الله عليه وسلم- عن المرأة تَرى في مَنَامِها ما يَرى الرَّجل" بمعنى تَرى المرأة في منامها ما يراه الرَّجُل من الجِماع.
فأجابها رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إذا رَأَت ذلك المرأة فَلْتَغْتَسِل» يعني: إذا رأت المرأة في منامها ما يراه الرَّجل، فلتغتسل، والمراد به: إذا أنزلت الماء كما في البخاري، "قال: نعم إذا رأت الماء" أي: المَني، تراه بعد الاستيقاظ، أما إذا رأت احتلاما في النوم ولم تَر مَنِيًّا، فلا غُسْل عليها؛ لأن الحكم مُعلق بالإنزال، ولهذا لما سئل النبي -صلى الله عليه وسلم- عن الرَّجُل يَجد البَلل ولا يَذْكُر احْتِلَاما، قال: "يغتسل" وعن الرَّجُل يَرى أن قد احْتَلم، ولا يَجِد البَلل، فقال: لا غُسْل عليه. فقالت أم سُليم: المرأة تَرى ذلك عليها الغسل؟ قال: نعم، إنما النَّساء شقائق الرجال" رواه أحمد وأبو داود.  

فلما سمعت أم سُلَيْم الإجابة من رسول الله -صلى الله عليه وسلم- اسْتَحْيَت من ذلك، وقالت: "وهل يَكون هذا؟".
أي: هل يمكن أن تَحتلم المرأة وتنزل، كما هو الحال في الرَّجل؟
فقال نَبِي الله -صلى الله عليه وسلم-: "نعم": أي: يحصل من المرأة احتلام وإنزال، كما هو يحصل من الرَّجل ولا فرق.
ثم قال لها معللا ذلك: "فمِن أين يُكون الشَّبَه؟" وفي رواية أخرى في الصحيحين: "فَبِم يَشْبِهُها ولدُها" أي: فمن أين يكون شَبَه الولد بأُمه، إذا لم تُنزل مَنِيًّا؟!
ثم بَيَّن لها النبي -صلى الله عليه وسلم- صِفَة مَنِي الرَّجُل وصِفَة مَنِي المرأة بقوله: "إن ماء الرَّجُل غَليِظ أبْيَض، وماء المرأة رقِيق أصْفَر" وهذا الوصف باعتبار الغالب وحال السلامة؛ لأن مَنِي الرَّجُل قد يَصير رقيقا بسبب المرض، ومُحْمَرًّا بكثرة الجِماع، وقد يَبْيَض مَنِي المرأة لقُوَتها.
وقد ذَكر العلماء -رحمهم الله- أن لمَنِي الرَّجل علامات أخرى يُعرف بها، وهي: تدفقه عند خروجه دَفْقَة بعد دفْقَة، وقد أشار القرآن إلى ذلك، قال -تعالى-: (من ماء دافق)، ويكون خروجه بشهوة وتلذذ، وإذا خرج اسْتَعْقَبَ خروجه فُتورا ورائحة كرائحة طلع النَّخل، ورائحة الطَّلع قريبة من رائحة العَجين.

وأما مَنِي المرأة فقالوا فيه: إن له علامتين يُعرف بواحدة منهما إحداهما: أن رائحته كرائحة مني الرَّجل، والثانية: التلذذ بخروجه، وفتور شهوتها عَقِب خروجه. 
ولا يشترط في إثبات كونه مَنِيا اجتماع جميع الصفات السابقة، بل يكفي الحكم عليه كونه منيًا من خلال صفة واحدة، واذا لم يوجد شيء منها لم يحكم بكونه منِيًّا، وغلب على الظن كونه ليس منِيًّا.
"فَمِنْ أَيِّهِمَا عَلَا، أو سَبَقَ، يَكُونُ مِنْه الشَّبَهُ" وفى الرواية الأخرى: "غَلَب" أي من ماء الرجل أو ماء المرأة؛

فَمن غَلَب ماؤه ماء الآخر؛ بسبب الكثرة والقوة كان الشَّبَه له، أو سَبَق أحدهما الآخر في الإنزال كان الشَّبَه له.
وقال بعض العلماء: إن عَلَا بمعنى سَبَق، فإن سَبَق ماء الرَّجل كان الشَّبَه له وإن سَبَق ماء المرأة كان الشَّبَه له.
وذلك أن مني الرَّجل ومنِي المرأة يجتمعان في الرحم، فالمرأة تُنزل والرَّجل يُنزل ويجتمع ماؤهما، ومن اجتماعهما يخلق الجَنين؛ ولهذا قال -تعالى-: (إنا خلقنا الإنسان من نُطفة أمْشَاج) [الإنسان 1 ، 2] أي مُختلط من ماء الرجل وماء المرأة.

575;نس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی کریمﷺ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جو نیند میں وہ کچھ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے (تو اس کا کیا حکم ہے؟) یعنی جیسے خواب میں مرد جماع کا منظر دیکھتا ہے اسی طرح عورت بھی اگر دیکھے تو؟ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا: ”إذا رَأَت ذلك المرأة فَلْتَغْتَسِل“ یعنی جب عورت وہ کچھ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو غسل کرے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر اس کو انزال ہو جائے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے :فرمایا: ”قال: نعم إذا رأت الماء“ ہاں اگر وہ پانی دیکھے ۔یعنی نیند سے بیداری پر اگر منی دیکھے۔ اگر نیند میں احتلام دیکھے لیکن منی خارج نہ ہو تو اس پرغسل نہیں کیوں کہ یہ حکم انزال کے ساتھ معلق ہے۔ اسی لیے رسول اللہﷺ سے ایسے شخص کےبارے میں سوال کیا گیا جو تری دیکھے لیکن اس کو احتلام یاد نہ ہو تو فرمایا:وہ غسل کرے۔ اورایسا شخص جو احتلام دیکھے لیکن تری نہ دیکھے تو اس کے بارے میں فرمایا کہ اس پر غسل نہیں۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر عورت بھی یہ دیکھے تو اس پر غسل ہے؟ فرمایا :ہاں۔ بے شک عورتیں اصل خلقت وطبیعت میں مردوں کی ہم مثل ہیں۔ اس کو احمد و ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جب رسول اللہ ﷺ سے اس طرح جواب سنا تو اس سے بڑی شرم محسوس کی اور کہنے لگیں : ”کیا ایسے بھی ہوتا ہے؟“ یعنی کیا یہ ممکن ہے کہ جیسے مرد کو احتلام ہوتا ہے ویسے ہی عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "نعم" (ہاں) یعنی عورت کو بھی احتلام اور انزال ویسے ہی ہوتا ہے جیسے مرد کو ہوتا ہے، اس میں کوئی فرق نہیں۔
پھر آپ ﷺ نے اس کی توجیہہ بیان کی کہ: ”پھر یہ مشابہت کیسے پیدا ہوتی ہے؟“ صحیحین کی ایک اور روایت میں ہے: ”تو بچے کی مشابہت پھر کیسے ہوتی ہے“ یعنی بچہ ماں کے مشابہ کیسے ہوتا ہے اگر اس کی منی خارج نہیں ہوتی ؟
پھر نبی کریمﷺ نے مرد اور عورت کی منی کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا : ”مرد کا پانی (منی) گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے“ یہ وصف باعتبارِ غالب کے لحاظ سے ہے یا پھر اس کی اصل حالت کے اعتبار سے۔ کیوں کہ بسااوقات آدمی کی منی بیماری کی وجہ سے پتلی ہو جاتی ہے اور کثرتِ جماع کی وجہ سے سرخ اور عورت کی طاقت کی وجہ سے منی سفید ہو جاتی ہے۔
علمائے کرام نے مرد کی منی کو پہچاننے کی دیگر علاماتیں بھی بیان کی ہیں جیسا کہ اس کے خروج کے وقت اچھال پے اچھال پایا جاتا ہے اور قرآن کریم نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ﴾ ”اچھلتے پانی سے“ یہ شہوت اور لذت کے ساتھ خارج ہوتا ہے اور جب یہ خارج ہوتا ہے تو جوش بھی ختم ہو جاتا ہے اور اس کی بوکھجور کے گودے کی طرح ہوتی ہے۔
جب کہ عورت کی منی کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس میں دو خاصیتیں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کے ذریعے پہچان سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی بو بھی آدمی کی منی کی بو کی طرح ہوتی ہے اور دوسری اس کے خارج ہونے سے لذت محسوس ہوتی ہے اور خروج کے بعد شہوت بھی ختم ہوجاتی ہے۔
منی کے ثبوت کے لیے سابقہ تمام شروط کا اکٹھا ہونا ضروری نہیں بلکہ اس کے لیے اتنا ہی کافی کہ کسی ایک علامت سے اس کے منی ہونے کا حکم ثابت ہو جائے۔ اور اگر ان علامات میں سےکوئی علامت موجود نہ ہو تو اس کا حکم منی کا نہیں ہوگا اور ظن غالب بھی یہی ہے کہ وہ منی نہیں ہو گی۔ ان میں سے کوئی ایک بلند ہو جائے یا سبقت لے جائے تو اس سے مشابہت پیدا ہوتی ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے: ”غالب آجائے“ یعنی مرد یا عورت کے پانی میں سے کسی کی منی کا غالب آنا۔ جس کی منی دوسرے پر زیادتی یا طاقت کے اعتبار سے غالب ہو جائے تو مشابہت بھی اسی سے ہوگی۔ یا ان دونوں میں سے جو انزال میں سبقت لے گیا اس سے مشابہت ہو گی۔
بعض علماء نے یہ کہا : ’علا ‘بمعنی ’سبق ‘ہے ۔اگر مرد کی منی سبقت لے جائے تو بچہ مرد کے مشابہ ہو گا اور اگر عورت کی منی غالب ہو جائے تو اس کے مشابہ ہو گا کیوں کہ مرد اورعورت دونوں کا پانی رحم میں اکٹھا ہوجاتا ہے۔ عورت کو انزال ہوتا ہے اور مرد کو بھی انزال ہوتا ہے اوران دونوں کا پانی جمع ہوتا ہے اور ان کے اجتماع سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ﴾ ”بے شک ہم نے انسان کو مِلے جُلے نطفہ سے پیدا کیا“ (سورہ انسان: 2) یعنی مرد اور عورت کے اختلاط والے پانی (منی) سے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10039

 
 
Hadith   1583   الحديث
الأهمية: يا رسول الله، أرأيت الرجل يعجل عن امرأته ولم يمن، ماذا عليه؟ قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: إنما الماء من الماء


Tema:

اے اللہ کے رسول ! آپ کی اس مرد کے بارے میں کیا رائے ہے جو بیوی سے جلدی ہٹا دیا جائے ، حالانکہ اس نے منی خارج نہ کی ہو؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانی، صرف پانی سے ہے۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- قال: خَرَجْتُ مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يوم الاثنين إلى قباء إِذَا كُنَّا فِي بَنِي سَالِمٍ وقف رسول الله -صلى الله عليه وسلم- على باب عِتْبَانَ فَصَرَخَ بِهِ، فَخَرَجَ يَجُرُّ إزاره، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ» فقال عتبان: يا رسول الله، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يُعْجَلُ عن امرأته ولم يُمْنِ، ماذا عليه؟ قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إِنَّمَا المَاءُ مِنَ الماءِ».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دوشنبہ کے دن رسول اللہ ﷺ کےساتھ قباء گیا، جب ہم بنو سالم کے محلے میں پہنچے تو رسول اللہ ﷺ عتبان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر رک گیے اور اسے آواز دی تو وہ اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نکلے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم نے اس آدمی کو جلدی میں ڈال دیا۔ عتبان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ کی اس مرد کے بارے میں کیا رائے ہے جو بیوی سے جلدی ہٹا دیا جائے، حالانکہ اس نے منی خارج نہ کی ہو؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانی پانی سے ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد حديث أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- هذا أن الاغتسال إنما يكون من الإنزال، فالماء الأول المعروف، والثاني المني، والحديث دال بمفهوم الحصر على أنه لا غسل إلا من الإنزال، ولا غسل من مجاوزة الختان الختان، لكنه منسوخ، والغسل واجب من الجماع ولو لم يحصل إنزال؛ لحديث: (إذا التقى الختانان فقد وجب الغسل).
575;بو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ غسل کا تعلق انزال کے ساتھ ہے اور پہلے پانی سے مراد معروف پانی ہے جبکہ دوسرے پانی سے مراد منی ہے۔ اور حدیث بالحصر اس مفہوم پر دلالت کر رہی ہے کہ غسل صرف انزال کے ساتھ ہے ،شرمگاہ کا شرمگاہ سے ملنے پر غسل نہیں لیکن یہ حکم منسوخ ہے ۔جماع سے غسل واجب ہوجاتا ہے چاہے انزال نہ بھی ہو جیسا کہ حدیث میں ہے ”إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ“ کہ جب شرمگاہیں آپس میں مل جائیں تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10040

 
 
Hadith   1584   الحديث
الأهمية: استنزهوا من البول؛ فإن عامة عذاب القبر منه


Tema:

پیشاب (کے چھینٹوں) سے بچو؛ کیوں کہ عموما قبر کا عذاب اسی وجہ سے ہوتا ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعًا: «اسْتَنْزِهوا من البول؛ فإنَّ عامَّة عذاب القبر منه».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پیشاب (کے چھینٹوں) سے بچو؛ کیوں کہ عمومم قبر کا عذاب اسی وجہ سے ہوتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين لنا النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث أحد أسباب عذاب القبر، وهو الأكثر شيوعاً، ألا وهو عدم الاستنزاه والطهارة من البول.
575;س حدیث میں نبی ﷺ عذاب قبر کے اسباب میں سے ایک سبب کو ہمارے لیے بیان فرما رہے ہیں، جو کہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے، یعنی پیشاب سے نہ بچنا اور اس سے پاک صاف نہ رہنا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10044

 
 
Hadith   1585   الحديث
الأهمية: نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يستنجى بروث أو عظم، وقال: إنهما لا تطهران


Tema:

نبی ﷺ نے گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ ان سے طہارت حاصل نہیں ہوتی۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُسْتَنْجَى بِرَوْثٍ أو عَظْمٍ، وقال: «إِنَّهُمَا لَا تُطَهِّرَان».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:نبی ﷺ نے گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ ان سے طہارت حاصل نہیں ہوتی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يذكر راوية الإسلام أبو هريرة -رضي الله عنه- أن النبي -عليه الصلاة والسلام- نهاهم في باب الاستنجاء، عن استعمال شيئين في قطع النجو، وهو الغائط الخارج من السبيل، وهما:
الروث والعظم، أما الروث فلنجاستها، أو لعلة إبقائها ليستفيد منها دواب الجن؛ لقوله -عليه الصلاة والسلام- كما عند الترمذي: "لا تستنجوا بالروث ولا بالعظام؛ فإنها زاد إخوانكم من الجن".
وأما العظم فعلة النهي ملاسة العظم فلا يزيل النجاسة، وقيل علته أنه يمكن مصه أو مضغه عند الحاجة، وقيل لقوله -عليه الصلاة والسلام-: «إن العظم زاد إخوانكم من الجن» اهـ. يعني: وإنهم يجدون عليه من اللحم أوفر ما كان عليه، وقيل لأن العظم ربما يجرح.
ثم خُتِم الحديث بتوكيد علة النهي من استعمال الأرواث والعظام في الاستنجاء؛ وذلك لأنها تفوت المقصود من الاستنجاء، وهو تحصيل الطهارة؛ ولذلك قال -عليه الصلاة والسلام-: إنهما لا يطهران.
585;اوی اسلام ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے لوگوں کو استنجا کے سلسلے میں دو چیزوں کو شرمگاہ سے نکلنے والی غلاظت کو صاف کرنے کے لیے استعمال کرنے سے منع فرمایا۔ یہ دو چیزیں گوبر اور ہڈی ہیں۔ گوبر سے تو اس لیے منع فرمایا کیونکہ یہ نجس ہوتا ہے یا پھر اس لیے منع کیا گیا تا کہ جنات کے چوپائے اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا جیسا کہ ترمذی میں ہے کہ: ”گوبر اور ہڈیوں سے استنجاء نہ کرو، یہ تمہارے ’جنّ‘ بھائیوں کی خوراک ہیں“، جب کہ ہڈی سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے جس کے بسبب یہ نجاست کو زائل نہیں کرتی۔ ایک اور قول کی رو سے اس کی علت یہ ہے کہ بوقتِ ضرورت اسے چوسا اور چبایا جا سکتا ہے۔ ایک اور قول یہ ہے کہ یہ ممانعت اس لیے ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہڈی تمہارے جنّ بھائیوں کی خوراک ہے“ یعنی وہ اس پر پہلے سے بھی زیادہ گوشت پاتے ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ممانعت اس لیے ہے کیوں کہ ہڈی زخم کر سکتی ہے۔ پھر حدیث کا اختتام استنجا کے لیے گوبر اور ہڈیوں کے استعمال کی ممانعت کی علت کے بیان کے ساتھ کیا گیا کہ ان سے استنجا کا مقصد پورا نہیں ہوتا جو کہ طہارت کا حصول ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا: ”ان سے طہارت حاصل نہیں ہوتی“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10045

 
 
Hadith   1586   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان إذا خرج من الغائط قال: غفرانك


Tema:

نبی ﷺ جب قضاے حاجت کی جگہ سے باہر آتے، تو فرماتے: ”غُفْرَانَكَ“ (اے اللہ! میں تیری بخشش چاہتا ہوں)

عن عائشة قالت : كان النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا خرج من الغائط قال: "غُفْرَانَكَ".
وعن ابن مسعود قال: «أتى النبي -صلى الله عليه وسلم- الغائط فأمرني أن آتيه بثلاثة أحجار، فوجدت حجرين، والتمست الثالث فلم أجده، فأخذت رَوْثَةً فأتيته بها، فأخذ الحجرين وألقى الروثة». وقال: «هذا رِكْسٌ».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب قضاے حاجت کی جگہ سے باہر آتے، تو فرماتے: ”غُفْرَانَكَ“ (اے اللہ! میں تیری بخشش چاہتا ہوں)۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ قضاے حاجت کے لیےتشریف لائے۔ آپ ‎   ﷺ نے مجھے تین پتھر لانے کا حکم دیا۔ مجھے دو پتھر تو مل گئے۔ لیکن تلاس کے باوجود تیسرا نہ مل سکا۔ میں نے اس کی جگہ خشک گوبر کا ایک ٹکڑا اٹھا لیا اور انہیں لے کر آپ ﷺ کے پاس آ گیا۔ آپ ﷺ نے دو پتھر تو لے لیے، لیکن گوبر کو پھینک دیا اور فرمایا: ”یہ ناپاک ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في حديث عائشة -رضي الله عنها- كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يقول: "غفرانك" عند الخروج من مكان قضاء الحاجة، يعني يطلب من الله المغفرة؛ ولعل الحكمة والله أعلم أنه لما تخفف من الأذى الحسي ناسب أن يطلب التخفيف من الأذى المعنوي.
وفي حديث ابن مسعود -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أتى الغائط فأمره أن يأتيه بثلاثة أحجار فوجد حجرين ولم يجد ثالثا، فأخذ رجيع الدابة، وجاء بها ظنًّا منه أنها تجزئ -رضي الله عنه- فأخذ النبي -صلى الله عليه وسلم- الحجرين وتنظف بهما، وألقى الروثة، وبين السبب، وهو أنها نجسة لا يصح تنظيف محل الخارج بها، وهذا في كل روث؛ لأنَّها إن كانت من غير مأكول اللحم كما في الحديث فهي رِجْسٌ نجس، وإن كانت من مأكول اللحم فهي زاد بهائم الجن.
593;ائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی ﷺ جب قضاے حاجت کی جگہ سے باہر تشریف لاتے تو آپ ﷺ فرماتے: ”غفرانك“ یعنی آپ ﷺ اللہ سے مغفرت طلب کرتے۔ شاید اس میں حکمت یہ ہے کہ قضاے حاجت کی وجہ سے جب انسان کی حسی گندگی میں کمی ہوتی ہے تو مناسب یہ ہے کہ وہ معنوی گندگی میں کمی کی بھی دعا کرے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی ﷺ قضاے حاجت کے لیے تشریف لے گۓ تو آپ ﷺ نے انہیں تین پتھر لانے کا حکم دیا۔ انہیں دو پتھر تو مل گئے لیکن تیسرا نہ ملا۔ اس پر انہوں نے چوپائے کے خشک گوبر کواٹھا لیا اور یہ سوچ کر آپ ﷺ کے پاس آ گئے کہ پتھر کی بجائے اس سے کام چل جائے گا۔ نبی ﷺ نے دو پتھر لے لیے، ان سے طہارت حاصل کی، گوبر کو پھینک دیا اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ناپاک ہے اور اس سے پاخانے کی جگہ کو صاف کرنا درست نہیں ہے۔ یہ حکم ہر قسم کے گوبر کے بارے ہے۔ کیوںکہ اگر گوبر ان جانوروں کا ہو، جن کا گوشت کھانا جائز نہیں، جیسا کہ اس حدیث میں ہے، تو یہ ناپاک ہے اور اگر ان جانوروں کا ہو، جن کا گوشت حلال ہے، تو اس صورت میں یہ جنات کے چوپایوں کی خوراک ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10046

 
 
Hadith   1587   الحديث
الأهمية: لقد نهانا أن نستقبل القبلة لغائط، أو بول، أو أن نستنجي باليمين، أو أن نستنجي بأقل من ثلاثة أحجار، أو أن نستنجي برجيع أو بعظم


Tema:

ہمیں آپ ﷺ نے بول و براز کے وقت قبلہ رُخ ہونے سے روکا ہے۔ اسی طرح داہنے ہاتھ سے استنجا کرنے، تین سے کم پتھروں کے استعمال کرنے اور گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے بھی روکا ہے۔

عن سلمان -رضي الله عنه-، قال: قيل له: قد عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُم -صلى الله عليه وسلم- كل شيء حتى الخِرَاءَةَ، قال: فقال: أجَل «لقد نَهَانا أن نَستقبل القِبْلَة لِغَائِطٍ، أو بَول، أو أن نَسْتَنْجِيَ باليمين، أو أن نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ من ثلاثة أحْجَار، أو أن نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَو بِعَظْمٍ».

سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ان سے کہا گیا کہ تمھارے نبی تمھیں ہر چیز سکھاتے ہیں، حتیٰ کہ قضائے حاجت کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں۔ سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ ہمیں آپ ﷺ نے بول و براز کے وقت قبلہ رُخ ہونے سے روکا ہے، اسی طرح داہنے ہاتھ سے استنجا کرنے، تین سے کم پتھروں کے استعمال کرنے اور گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے بھی روکا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: "عن سلمان، قال: قيل له: قد عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُم -صلى الله عليه وسلم- كل شيء حتى الخِرَاءَةَ" يعني: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- علَّم أصحابه آداب قضاء الحاجة من أول ما يَدخل محل قضاء الحاجة إلى أن يخرج منه، ومن ذلك: استقبال القبلة واستدبارها حال قضاء الحاجة، والنهي عن الاستنجاء باليمين، وبالرَّجِيع والعَظام.
"قال: أجَل: لقد نَهَانا أن نَستقبل القِبْلَة لِغَائِطٍ، أو بَول" يعني: نعم، نهانا النبي -صلى الله عليه وسلم- أن نستقبل القبلة حال التَّغَوط أو التَّبول، فما دام أنه يقضي حاجته ببول أو غائط، فإنه لا يستقبل القبلة ولا يستدبرها؛ لأنَّها قِبْلة المسلمين في صلاتهم وغيرها من العبادات، وهي أشرف الجهات، فلا بد من تكريمها وتعظيمها قال -تعالى-: (وَمَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَبِّهِ) [الحج: 30].
"أو أن نَسْتَنْجِيَ باليَمِين" أيضا: مما نهاهم عنه الاستنجاء باليمين؛ لأن اليَد اليُمنى تستعمل في الأمور الطيبة المحترمة المحمودة، وأما الأمور التي فيها امتهان كإزالة الخارج من السَّبيلين، فإنه يكون باليَد اليُسرى لا اليَد اليُمنى. وفي الحديث الآخر: (ولا يَتَمَسح من الخلاء بيمنيه).
"أو أن نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ من ثلاثة أحْجَار" أيضا: مما نهاهم عنه الاستنجاء بأقل من ثلاثة أحْجَار ولو حصل الإنقاء بأقل منها؛ لأن الغالب أن دون الثلاث لا يحصل بها الإنقاء، ويقيَّد هذا النَّهي إذا لم يَرد إتباع الحجارة الماء، أما إذا أراد إتباعها بالماء، فلا بأس من الاقتصار على أقلَّ من ثلاثة أحجار؛ لأنَّ القَصد هُنا هو تخفيف النَّجاسة عن المكان فقط، لا التطهُّرُ الكامل.
"أو أن نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ" أيضا: مما نهاهم عنه الاستنجاء بالرَّجيع؛ لأنه عَلف دَوَاب الجِن، كما جاء مصرحا به في صحيح مسلم أن وفداً من الجِن جاءوا إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فسألوه الزاد فقال: (لكم كل عَظْم ذُكِر اسم الله عليه، يقع في أيديكم أوفَر ما يكون لحْمَا، وكل بَعَرة علف لِدَوابِّكم). 
"أَو بِعَظْمٍ" أيضا: مما نهاهم عنه الاستنجاء بالعظام؛ لأنها طعام الجن، للحديث السابق حيث قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: (فلا تستنجوا بهما فإنهما طعام إخوانكم).
فإذا: السنة جاءت مبينة أن الحِكمة في ذلك عدم تقذيرها وإفسادها على من هي طعام لهم؛ لأنها إذا استعملت فيها النجاسة، فقد أفسد عليهم طعامهم.
581;دیث کا مفہوم:سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: ”قد عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُم ﷺ كل شيء حتى الخِرَاءَةَ“ یعنی آپ ﷺ اپنے صحابہ کو بیت الخلا میں داخل ہونے سے لے کر باہر نکلنے تک، قضاے حاجت کے آداب سکھلاتے ہیں۔ اسی میں سے قضاے حاجت کے وقت قبلے کی طرف رُخ اور پیٹھ کرنا اور داہنے ہاتھ، گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کرنا ہے۔
ہاں! ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے بول و براز کے وقت قبلہ رُخ ہونے سے منع فرمایا کہ قضاے حاجت کے وقت قبلے کی طرف رُخ بھی نہیں کرنا چاہیے اور پیٹھ بھی۔ اس لیے کہ یہ نماز وغیرہ میں مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ یہ سب سے محترم جہت ہے، اس کی عزت اور تکریم ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿وَمَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَبِّه﴾ ”جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے اس کے اپنے لئے اس کے رب کے پاس بہتری ہے۔“ (الحج:30).
داہنے ہاتھ سے استنجا کرنا بھی ممنوع ہے۔ اس لیے کہ داہنا ہاتھ پاکیزہ، محترم اور اچھے کاموں میں استعمال ہوتا ہے۔ جن کاموں میں ذلت اور توہین کا پہلو ہوتا ہے، جیسے پاخانہ صاف کرنا تو یہ بائیں ہاتھ کے کام ہیں۔ دوسری حدیث کے الفاظ ہیں: ”ولا يَتَمَسح من الخلاء بيمنيه“ (اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے)۔
تین سے کم پتھر استنجا میں استعمال کرنا بھی ممنوع ہے، اگرچہ صفائی اس سے کم سے بھی حاصل ہو جائے۔ اس لیے کہ اکثر تین سے کم پتھروں سے پاکی حاصل نہیں ہوتی، تین پتھروں کی قید اس وقت ہے جب پتھروں کے بعد پانی استعمال نہ کیا جارہا ہو۔ اگر پتھروں کے بعد پانی کا استعمال بھی ہو، تو تین پتھروں سے کم پر بھی اکتفا کرسکتے ہیں۔ اس لیے کہ اس وقت یہاں پتھروں سے مقصود نجاست کا کم کرنا ہے، مکمل طہارت حاصل کرنا نہیں۔
گوبر سے استنجا کرنا بھی ممنوع ہے۔ اس لیے کہ یہ جنات کے جانوروں کی غذا ہے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں صراحت ہے کہ جنات کا ایک وفد آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے کھانے کا مطالبہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمھارے لیے ہر وہ ہڈی ہے، جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور وہ تمھارے ہاتھوں میں آجائے، اس پر پہلے سے زیادہ گوشت آجاتا ہے اور ہر مینگنی یا لید تمھارے جانوروں کا چارہ ہے“۔
ہڈیوں سے استنجا کرنا بھی شریعت میں ممنوع ہے۔ اس لیے کہ یہ جنات کی خوراک ہے۔ جیسے کہ گزشتہ حدیث میں ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”ان سے استنجا نہ کیا کرو؛ کیوںکہ یہ تمھارے جن بھائیوں کی خوراک ہے“۔
اس طرح، حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ ہڈیوں سے استنجا نہ کرنے کی حکمت یہ ہے کہ انھیں گندہ نہ کیا جاۓ؛تاکہ انھیں بطور غذا استعمال کرنے والوں کو دشواری نہ ہو۔ کیوں کہ جب انھیں نجاست صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جاۓ گا، ان کی غذا خراب ہو جاۓ گی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10048

 
 
Hadith   1588   الحديث
الأهمية: اتقوا اللعانين قالوا: وما اللعانان يا رسول الله؟ قال: الذي يتخلى في طريق الناس، أو في ظلهم


Tema:

دو چیزیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں ان سے بچو۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! وہ دو چیزیں کون سی ہیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جو لوگوں کے راستوں یا ان کی سایہ دار جگہوں پر قضائے حاجت کرے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعًا: «اتقوا اللَّعَّانَيْن» قالوا: وما اللَّعَّانَانِ يا رسول الله؟ قال: «الذي يَتَخَلَّى في طريق الناس، أو في ظِلِّهم».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو چیزیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں ان سے بچو۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! وہ دو چیزیں کون سی ہیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جو لوگوں کے راستوں یا ان کی سایہ دار جگہوں پر قضائے حاجت کرے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اجتنبوا الأمرين الجَالِبَين لِلَّعْنِ من الناس، الدَّاعيين إليه؛ وذلك أن من فعلهما شُتم ولُعِن في العادة؛ يعني أن عادة الناس أن تَلْعَنه، فهو سَبب في اللَّعن، فلما كان كذلك أُضيف اللَّعن إليهما، وهما التخلَّي في طريق النَّاس أو ظِلِّهم، وهذا مثل قوله -تعالى-: (وَلا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ). [الأنعام:108] أي: أنتم تتسببون في أنهم يَسُبُّون الله؛ لأنكم سببتم آلهتهم، وأيضا: نهيه -صلى الله عليه وسلم- عن سَبِّ الرَّجل أبَاه وأُمَّه:  قالوا: وهل يَسُب الرَّجُل والِدَيه؟ قال: نعم، يَسُبُّ الرَّجُلُ أبَا الرَّجُل، فَيَسُبُّ أبَاهُ، ويَسُبُّ أَمَّهُ) فيكون كأنه هو الذي سَبَّ أبَاه؛ لأنه تسبب في ذلك.
وقوله: "الذي يتخلَّى في طريق النَّاس"، أي: يقضي حاجته ببول أو غائط في الأماكن التي يَسلكها الناس ويطرقونها، ولا شك في حُرمته، سواء كان ذلك في حَضَر أو سَفر؛ لأن في ذلك أذية لهم، وقد قال -تعالى-: (وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا) [الأحزاب : 58] أما إذا كانت الطريق غير مسلوكة، فلا حرج في قضاء حاجَته فيها؛ لانتفاء العلة.
وقوله: "أو في ظِلِّهم" أي: يقضي حاجته في الظِّل الذي يتخذه الناس مقيلاً ومناخاً ينزلونه ويقعدون فيه، أما الظِل في الأماكن الخالية التي لا يأتيها الناس ولا يقصدونها، فلا حرج من قضاء الحاجة تحته؛ لانتفاء العلة؛ ولأن النبي -صلى الله عليه وسلم- قَعد تحت حائش النَّخل لحاجته وله ظِل.
583;و ایسی باتوں سے پرہیز کرو جن کی وجہ سے لوگ لعنت کرتے ہیں بایں طور کہ جو ان کو کرتا ہے اسے عموماً بُرا بھلا کہا جاتا ہے اور اس پر لعنت کی جاتی ہے یعنی عموماً لوگ انھیں کرنے والے کو لعنت ملامت کرتے ہیں۔ چنانچہ اس وجہ سے لعنت کو ان دو باتوں کی طرف منسوب کیا گیا۔ ان سے مراد لوگوں کی گزر گاہوں اور ان کی سایہ دار جگہوں میں قضائے حاجت کرنا ہے۔ یہ ایسا ہی جیسا کہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے کہ: ﴿وَلا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ﴾ ”اور گالی مت دو ان کو جن کی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیوں کہ پھر وه براهِ جہل حد سے گزر کر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے“۔ (الانعام: 108)
یعنی تم اس بات کا سبب بنو گے کہ وہ اللہ کو برا بھلا کہیں کیوں کہ تم نے ان کے معبودوں کو برا بھلا کہا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے باپ یا ماں کو گالی دے۔ صحابہ کرام نے پوچھا کہ: کیا کوئی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دیتا ہے!؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ آدمی کسی اور شخص کے باپ کو گالی دیتا ہے۔ جواباً وہ بھی اس کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے۔ چنانچہ یہ ایسے ہی ہو گیا کہ گویا اس نے اپنے ہی باپ کو گالی دی کیوں کہ وہی اس کا سبب بنا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ایسی جگہوں پر پیشاب پاخانہ کرتا ہے جہاں لوگوں کا گزر ہوتا ہے اور جہاں ان کا آنا جانا رہتا ہے۔ اس عمل کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں، چاہے ایسا حالت اقامت میں ہو یا دورانِ سفر، کیوں کہ ایسا کرنے سے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:﴿وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا﴾ ”اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا دیں بغیر کسی جرم کے جو ان سے سرزد ہوا ہو، وه (بڑے ہی) بہتان اور صریح گناه کا بوجھ اٹھاتے ہیں“۔ (الاحزاب: 58)
تاہم اگر راستہ غیر آباد ہو تو اس پر قضائے حاجت میں کوئی حرج نہیں کیوں کہ اب حرمت کی علت باقی نہیں رہی۔
آپ ﷺ نے فرمایا: کسی ایسی سایہ دار جگہ پر قضائے حاجت کرے جہاں لوگ دوپہر کو قیام کرتے ہوں اور پڑاؤ ڈالتے ہوں۔ تاہم ویران علاقوں میں موجود جگہیں جہاں لوگوں کا آنا جانا نہیں ہوتا، ان میں قضائے حاجت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیوں کہ یہاں بھی علت نہیں پائی جاتی اس لیے کہ آپ ﷺ خود کھجوروں کے جھنڈ میں قضائے حاجت کے لیے بیٹھے جو سایہ دار تھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10051

 
 
Hadith   1589   الحديث
الأهمية: اذهبْ بِنَعْلَيَّ هاتين، فمن لقيت من وراء هذا الحائط يشهد أن لا إله إلا الله مُسْتَيْقِنًا بها قلبه، فَبَشِّرْهُ بالجنّة


Tema:

ميرے یہ دونوں نعلین (بطور نشانی) کے لے جاؤ اورجو شخص تمہیں باغ کے باہر دل کے یقین کے ساتھ ’’لا إله إلا الله‘‘ کہتا ہوا ملے اسے جنت کی بشارت دے دو.

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: كنَّا قعودا حول رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ومعنا أبو بكر وعمر -رضي الله عنهما- في نَفَرٍ، فقام رسول الله -صلى الله عليه وسلم- من بين أَظْهُرِنَا فأبطأ علينا، وَخَشِينَا أَنْ يُقْتَطَعَ دوننا وفزعنا فقمنا، فكنت أول من فزع، فخرجت أبتغي رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حتى أتيت حائطا للأنصار لبني النجار، فدُرْتُ به هل أجد له بابا؟ فلم أجدْ! فإذا رَبِيعٌ يدخل في جوف حائط من بئر خارجه - والربيع: الجدول الصغير - فَاحْتَفَرْتُ، فدخلت على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: «أبو هريرة؟» فقلت: نعم، يا رسول الله، قال: «ما شأنك؟» قلت: كنت بين أَظْهُرِنَا فقمت فأبطأت علينا، فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دوننا، ففَزِعْنَا، فكنت أول من فزع، فأتيت هذا الحائط، فَاحْتَفَزْتُ كما يَحْتَفِزُ الثعلب، وهؤلاء الناس ورائي. فقال: «يا أبا هريرة» وأعطاني نعليهِ، فقال: «اذهبْ بِنَعْلَيَّ هاتين، فمن لقيت من وراء هذا الحائط يشهد أن لا إله إلا الله مُسْتَيْقِنًا بها قلبه، فَبَشِّرْهُ بالجنّة... » وذكر الحديث بطوله.

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے اردگرد ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے، ہمارے ساتھ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، اچانک رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان سے اٹھ کر چلے گئے اور دیر تک ہمارے پاس تشریف نہ لائے۔ تو ،ہم ڈر گئے کہ ہماری غیر موجودگی میں آپ کو قتل نہ کر دیا گیا ہو۔ اس لیے ہم گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور میں سب سے پہلے گھبرانے والا تھا۔ میں رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلا، یہاں تک کہ میں انصار کے قبیلے بنو نجار کے باغ تک پہنچ گیا۔ میں اسکے چاروں طرف گھوما کہ مجھے کوئی دروازہ مل جائے مگر مجھے کوئی دروازہ نہ ملا۔ اتفاقاً ایک چھوٹا سا نالہ دکھائی دیا جو ایک بیرونی کنویں سے باغ کے اندر جارہا تھا۔ - ربیع چھوٹے سے نالے کو کہتے ہیں -، میں اسی نالہ میں سمٹ کر داخل ہوا اور آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :”ابوہریرہ؟“ میں نے عرض کیا :جی ہاں، اے اللہ کے رسول ﷺ! فرمايا: ”کيا بات ہے؟“ ميں نے عرض کيا کہ آپ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے اور اچانک اٹھ کر چلے گئے اور ہمارے پاس واپس آنے میں آپ کو دیر ہوگئی تو ہمیں ڈر محسوس ہوا کہ کہیں ہماری غیر موجودگی میں آپ کو قتل نہ کر دیا گیا ہو۔ اس لیے ہم گھبرا اٹھے۔ گھبرانے والوں میں سب سے پہلا آدمی میں تھا۔ اس لیے (تلاش کرتے ہوئے) میں اس باغ تک پہنچ گیا اور لومڑی کی طرح سمٹ کر (نالہ کے راستہ سے) اندر آگیا اور لوگ میرے پیچھے ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنے نعلین مبارک مجھے دے کر فرمایا :”اے ابو ہریرہ! میری یہ دونوں جوتیاں (بطور نشانی) لے کے جاؤ اور اس باغ کے باہر جو بھی ملے، جو دل کے یقین کے ساتھ لا الٰہ الّا اللہ کی گواہی ديتا ہو تو اسے جنت کی بشارت دے دو۔ اور پوری حديث ذکر کی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- جالسًا في أصحابه في نفرٍ منهم، ومعه أبو بكر وعمر، فقام النبي -صلى الله عليه وسلم- ثم أبطأ عليهم، فخشوا أن يكون أحد من الناس اقتطعه دونهم أي أصابه بضرر؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- مطلوب من جهة المنافقين، ومن جهة غيرهم من أعداء الدين، فقام الصحابة -رضي الله عنهم- فزعين، فكان أول من فزع أبو هريرة -رضي الله عنه- حتى أتى حائطًا لبني النجار، فجعل يطوف به لعله يجد بابًا مفتوحًا فلم يجد، ولكنه وجد فتحة صغيرة في الجدار يدخل منها الماء، فضم جسمه حتى دخل فوجد النبي -صلى الله عليه وسلم-، فقال له: "أبو هريرة؟" قال: نعم. فأعطاه نعليه -عليه الصلاة والسلام- أمارةً وعلامةً أنه صادق، وقال له: "اذهب بنعلي هاتين، فمن لقيت من وراء هذا الحائط يشهد أن لا إله إلا الله مستيقنًا به قلبه، فبشره بالجنة" لأن الذي يقول هذه الكلمة مستيقنا بها قلبه لابد أن يقوم بأوامر الله، ويجتنب نواهي الله؛ لأن معناها: لا معبود بحق إلا الله، وإذا كان هذا معنى هذه الكلمة العظيمة فإنه لابد أن يعبد الله -عز وجل- وحده لا شريك له؛ أما من قالها بلسانه ولم يوقن بها قلبه فإنها لا تنفعه.
606;بی ﷺ اپنے بعض اصحاب کے ساتھ تشريف فرما تھے۔مجلس ميں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے۔ اچانک رسول اللہ ﷺ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے اور دیر تک تشریف نہ لائے۔ صحابۂ کرام کو خوف لاحق ہوا کہ کہيں ان کی غیر موجودگی میں کسی نے آپ کو پکڑ نہ لیا ہو اور آپ کو تکليف پہونچی ہو۔کيونکہ آپ ﷺ منافقوں اور دوسرے اسلام کے دشمنوں کی آنکھوں ميں کھٹکتے تھے۔ اس لیے صحابہ کرام گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے، سب سے پہلے ابو ہريرہ رضی اللہ عنہ کو گھبراہٹ ہوئی، (وہ رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلے) یہاں تک کہ بنو نجار کے باغ تک پہنچ گئے اور اس کا چکر لگانے لگے تاکہ کوئی دروازہ کھلا ہوا پاجائيں مگر انھیں نہیں ملا۔ ليکن انہوں نے پانی کے داخل ہونے کے لیے دیوار میں ايک چھوٹا سا راستہ کھلا ہوا پايا تو اپنے جسم کو سميٹ کر اندر داخل ہونے ميں کامياب ہو گئے۔ چنانچہ نبی ﷺ کو وہاں پر موجود پايا۔ آپ ﷺ نے ان سے کہا”ابو ہريرہ؟“، انہوں نے عرض کيا جی ہاں، تو آپ ﷺ نے انھیں اپنی جوتياں ديں جو اس بات کی علامت اور نشانی کے طور پر تھی کہ ابو ہريرہ جو خبر دينے والے ہیں وہ اس ميں سچے ہیں، اور فرمایا ”میری یہ دونوں جوتیاں لےجاؤ اور اس باغ کے باہر جو بھی ملے، جو دل کے یقین کے ساتھ لا الٰہ الّا اللہ کی گواہی ديتا ہو تو اسے جنت کی بشارت دے دو۔‘‘ کيونکہ سچے دل سے اس کلمے کی گواہی دينے والا ضرور اللہ کے احکام کی بجا آوری کرے گا اور اللہ کی منع کردہ چيزوں سے بچے گا۔ اس لیے کہ اس کا معننی ہے کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں۔ جب اس عظيم الشان کلمے کا يہ معنیٰ ہے تو ہر صورت ميں وہ شخص اللہ عزوجل ہی کی عبادت کرے گا جس کا کوئی شريک وساجھی نہيں۔ ليکن وہ شخص جو صرف زبان سے اس کلمے کی ادائيگی کرتا ہے اور سچے دل سے اس پر يقين نہيں رکھتا، تو اسے اس سے کوئی فائدہ نہيں ملے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10094

 
 
Hadith   1590   الحديث
الأهمية: للهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا


Tema:

اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہے۔

عن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- قال: قَدِمَ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- بِسَبْيٍ فإذا امرأةٌ مِنَ السَّبْيِ تَسْعَى، إِذْ وَجَدَتْ صَبِيَّا في السَّبْيِ أَخَذَتْهُ فَأَلْزَقَتْهُ بِبَطْنِهَا فَأَرْضَعَتْهُ، فقال رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-: «أَتَرَوْنَ هَذِهِ المرأةَ طَارِحَةً وَلَدَهَا في النَّارِ؟» قلنا: لا واللهِ. فقال: «للهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا».

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے قیدیوں میں ایک عورت تھی جو دوڑ رہی تھی، اتنے میں ایک بچہ اس کو قیدیوں میں ملا اس نے جھٹ اسے اپنے پیٹ سے لگا لیا اور اس کو دودھ پلانے لگی۔ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈال سکتی ہے؟۔ ہم نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم نہیں۔ آپ ﷺ نے اس پر فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جيء لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- بأسرى، فإذا امرأة تسعى تبحث عن ولدها، إذ وجدت صبيًّا في السبي فأخذته وألصقته ببطنها رحمة له وأرضعته؛ فعلم النبي -صلى الله عليه وسلم- أصحابه أن رحمة الله أعظم من رحمة الأم لولدها.
585;سول اللہ ﷺ کے پاس کچھ قیدی لائے گئے۔ اتنے میں ایک عورت اپنے بچے کو تلاش کرتے ہوئے دوڑتی ہوئی آئی۔ اسے قیدیوں میں ایک بچہ ملا جسے اس نے اٹھا کر شفقت بھرے انداز میں اپنے پیٹ سےلگا لیا اور اسے دودھ پلانے لگی۔اس پر نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو بتایا کہ اللہ کی رحمت ماں کی اپنے بچہ کے لیے رحمت سے کہیں زیادہ ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10095

 
 
Hadith   1591   الحديث
الأهمية: إذا أَحَبَّ اللهُ -تعالى- العَبْدَ، نَادَى جِبْرِيلَ: إنَّ اللهَ تعالى يُحِبُّ فلانا، فَأَحْبِبْهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، فَيُنَادِي في أَهْلِ السَّمَاءِ: إنَّ اللهَ يحِبُّ فلانا، فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ القَبُولُ في الأرضِ


Tema:

اللہ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہےتو جبریل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں فُلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور آسمان والوں میں اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ فُلاں سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ اس سے آسمان والے بھی محبت کرنے لگتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إذا أَحَبَّ اللهُ -تعالى- العَبْدَ، نَادَى جِبْرِيلَ: إنَّ اللهَ تعالى يُحِبُّ فلاناً، فَأَحْبِبْهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، فَيُنَادِي في أَهْلِ السَّمَاءِ: إنَّ اللهَ يحِبُّ فلاناً، فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ القَبُولُ في الأرضِ».
وفي رواية: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إنَّ اللهَ -تعالى- إذا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ، فقال: إني أُحِبُّ فلاناً فَأَحْبِبْهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، ثم ينادي في السَّمَاءِ، فيقول: إنَّ اللهَ يُحِبُّ فلاناً فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ له القَبُولُ في الأرضِ، وإذا أَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ، فيقول: إني أُبْغِضُ فلاناً فَأَبْغِضْهُ. فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ، ثُمَّ ينادي في أَهْلِ السَّمَاءِ: إنَّ اللهَ يُبْغِضُ فلاناً فَأَبْغِضُوهُ، ثُمَّ تُوضَعُ له البَغْضَاءُ في الأرضِ».

ابو ہریرہ ریض اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالی کسی بندے سے محبت کرتے ہیں تو جبرائیل علیہ السلام کو پکار کر کہتے ہیں کہ اللہ تعالی فلاں بندے سے محبت کرتے ہیں اس لیے تو بھی اس سے محبت رکھ۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور اہلِ آسمان میں اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے اس لیے تم سب بھی اس سے محبت کرو چنانچہ آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور زمین میں اس کے لیے قبولیت لکھ دی جاتی ہے۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہےتو جبرائیل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور آسمان میں اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ فُلاں سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ اس سے آسمان والے بھی محبت کرنے لگتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت لکھ دی جاتی ہے اور جب رب تعالیٰ کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر کہتا ہے کہ میں فُلاں سے نفرت کرتا ہوں تم بھی اس سے نفرت کرو۔چنانچہ جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے نفرت کرتے ہیں، پھر آسمان والوں میں اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ فلاں سے نفرت کرتا ہے اس لیے تم لوگ بھی اس سے نفرت کرو۔ پھر زمین میں اس کے لیے نفرت لکھ دی جاتی ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث في بيان محبة الله -سبحانه وتعالى-، وأن الله تعالى إذا أحب شخصًا نادى جبريل، وجبريل أشرف الملائكة، كما أن محمدًا -صلى الله عليه وسلم- أشرف البشر، فيقول -تعالى-: إني أحب فلانًا فأحبه. فيحبه جبريل، ثم ينادي في أهل السماء: إن الله يحب فلانًا فأحبوه. فيحبه أهل السماء، ثم يوضع له القبول في الأرض فيحبه أهل الأرض، وهذا أيضاً من علامات محبة الله، أن يوضع للإنسان القبول في الأرض، بأن يكون مقبولاً لدى الناس، محبوباً إليهم، فإن هذا من علامات محبة الله تعالى للعبد.
وإذا أبغض الله أحدًا نادى جبريل: إني أبغض فلانًا فأبغضه.  فيبغضه جبريل، والبغض شدة الكره، ثم ينادي جبريل في أهل السماء: إن الله يبغض فلانًا فأبغضوه، فيبغضه أهل السماء، ثم يوضع له البغضاء في الأرض ؛ فيبغضه أهل الأرض.
575;س حدیث میں اللہ تعالی کی محبت کا بیان ہے اور اس بات کی وضاحت ہے کہ اللہ تعالی جب کسی شخص سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام جو ویسے ہی اشرف الملائکہ ہیں جیسے محمد ﷺ اشرف البشر ہیں کو پکار کر کہتا ہے کہ میں فُلاں سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور آسمان میں اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ فُلاں سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ اس سے آسمان والے بھی محبت کرنے لگتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ چنانچہ زمین والے اس سے محبت کرنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ اللہ کی محبت کی علامات میں سے ہے کہ بندے کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جائے بایں طور کہ وہ لوگوں میں مقبول اور ہر دلعزیز ہوجائے۔ یہ اللہ کی اپنے بندے کے ساتھ محبت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
جب اللہ تعالی کسی شخص سے نفرت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو پکار کر کہتا ہے کہ میں فُلاں سے نفرت کرتا ہوں تم بھی اس سے نفرت کرو۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے نفرت کرتے ہیں، پھر آسمان والوں میں اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ فلاں سے نفرت کرتا ہے اس لیے تم لوگ بھی اس سے نفرت کرو۔ پھر زمین میں اس کے لیے نفرت رکھ دی جاتی ہے۔ چنانچہ زمین والے سب اس سے نفرت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10096

 
 
Hadith   1592   الحديث
الأهمية: مَا مِنْ عَبْدٍ يَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إلا اللهُ، وأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ ورسولُهُ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ إلَّا حَرَّمَهُ اللهُ على النَّارِ


Tema:

جو بندہ اپنے دل کی سچائی سے یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد (ﷺ)اس کے بندے اور رسول ہیں، اس پر اللہ جہنم کی آگ حرام کر دیتا ہے۔

عن أنس -رضي الله عنه-: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- ومعاذ رديفه على الرَّحْلِ، قال: «يا معاذ» قال: لبَّيْكَ يا رسول الله وسَعْدَيْكَ، قال: «يا معاذ» قال: لَبَّيْكَ يا رسول الله وسَعْدَيْكَ، قال: «يا معاذ» قال: لبَّيْكَ يا رسول اللهِ وسَعْدَيْكَ، ثلاثا، قال: «ما من عبد يشهد أن لا إله إلا الله، وأَنَّ محمدا عبده ورسوله صِدْقًا من قلبه إلَّا حرمه الله على النار» قال: يا رسول الله، أفلا أُخْبِر بها الناس فَيَسْتَبْشِرُوا؟ قال: «إِذًا يتكلوا» فأخبر بها معاذ عند موته تَأَثُّمًا.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے، جب کہ معاذ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، تین مرتبہ ارشاد فرمایا: اے معاذ!، انھوں نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے معاذ!، انھوں نے جواب دیا: حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے پھر فرمایا: اے معاذ!، انھوں نے جواب دیا: حاضر ہوں اے اللہ کے رسول!۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بندہ اپنے دل کی سچائی سے یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد (ﷺ)اس کے بندے اور رسول ہیں، اس پر اللہ جہنم کی آگ حرام کر دیتا ہے“۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دوں تا کہ وہ خوش ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب وہ اسی پر بھروسا کر لیں گے“۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت (کتمانِ علم کے) گناہ سے بچنے کے لیے اس حدیث کو بیان فرمایا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان معاذ -رضي الله عنه- راكبًا وراء النبي -صلى الله عليه وسلم-، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: يا معاذ؛ فقال: لبيك يا رسول وسعديك  أي إجابة بعد إجابة، وطاعة لك، (وسعديك) ساعدت طاعتك مساعدة لك بعد مساعدة ، ثم قال: يا معاذ؛ فقال: لبيك يا رسول وسعديك، ثم قال: يا معاذ؛ فقال: لبيك يا رسول وسعديك، قال: ما من عبد يشهد أن لا إله إلا الله وأن محمد عبده ورسوله، صادقا من قلبه لا يقولها بلسانه فقط؛ إلا حرمه الله على الخلود في النار؛ فقال معاذ: يا رسول الله ألا أخبر الناس لأدخل السرور عليهم؛ فقال صلى الله عليه وسلم: لا لئلا يعتمدوا على ذلك ويتركوا العمل، فأخبر بها معاذ في آخر حياته مخافة من إثم كتمان العلم.
605;عاذ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھے۔ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: اے معاذ! انہوں نے جواب دیا: لبیک یا رسول اللہ و سعدیک یعنی میں بار بار حاضر ہوں اور آپ کے لیے میری اطاعت ہے۔ ”وسَعْدَيْكَ“ یعنی میں مسلسل آپ کا فرماں بردار ہوں۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: اے معاذ! انہوں نے جواب دیا: لبیک یا رسول اللہ و سعدیک۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: اے معاذ!۔ تو انہوں نے جواب دیا: لبیک یا رسول اللہ و سعدیک۔ (اس کے بعد) آپ ﷺ نے فرمایا: جو بندہ اپنے دل کی سچائی سے نہ کہ صرف اپنی زبان سے یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں تو اللہ تعالی ہمیشہ جہنم میں رہنے کو اس پر حرام کر دیتا ہے۔ معاذ رضی اللہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دوں تا کہ وہ خوش ہو جائیں۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ نہیں، تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ اسی پر بھروسا کر لیں اور عمل کرنا چھوڑ بیٹھیں۔ معاذ رضی اللہ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں کتمانِ علم کے گناہ کے ڈر سے اس حدیث کو بیان فرمایا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10098

 
 
Hadith   1593   الحديث
الأهمية: لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا يَتَقَلَّبُ في الجنةِ في شَجَرَةٍ قَطَعَهَا مِنْ ظَهْرِ الطَّرِيقِ كَانتْ تُؤْذِي المسلمينَ


Tema:

میں نے ایک آدمی کو جنت میں چلتے پھرتے دیکھا،اس نے اس درخت کو کاٹ دیا تھا جو راستے کے درمیان میں تھا اور مسلمانوں کو تکلیف دیتا تھا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا يَتَقَلَّبُ في الجنةِ في شَجَرَةٍ قَطَعَهَا مِنْ ظَهْرِ الطَّرِيقِ كَانتْ تُؤْذِي المسلمينَ».
وفي رواية: «مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَجَرَةٍ عَلَى ظَهْرِ طَرِيقٍ، فقالَ: واللهِ لأُنَحِّيَنَّ هَذَا عَنِ المسلمينَ لَا يُؤْذِيهِمْ، فَأُدْخِلَ الجَنَّةَ».
وفي رواية: «بينما رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ فَشَكَرَ اللهُ لهُ، فَغَفَرَ لهُ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ایک آدمی کو جنت میں چلتے پھرتے دیکھا، اس نے اس درخت کو کاٹ دیا تھا جو راستے کے درمیان میں تھا اور مسلمانوں کو تکلیف دیتا تھا“۔
ایک اور روایت میں ہے: ”ایک آدمی ایک درخت کی ٹہنی کے پاس سےگزرا جو راستے کے درمیان میں تھی۔ اس نے (اپنے دل میں) کہا: اللہ کی قسم! میں اسے مسلمانوں سے دور کر دوں گا (تاکہ) انھیں تکلیف نہ پہنچائے۔ چنانچہ اسے (اس عمل کی وجہ سے) جنت میں داخل کردیا گیا“۔
ایک اور روایت میں ہے: ”ایک دفعہ ایک آدمی راستے پر چل رہا تھا، اس نے راستے پرایک کانٹے دار شاخ دیکھی،اس نے اسے پیچھے کردیا۔ اللہ نےا س کے اس عمل کی قدر فرمائی اوراس کو بخش دیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذه الأحاديث المذكورة ظاهرة في فضل إزالة الأذى عن الطريق، سواء كان الأذى شجرة تؤذي، أو غصن شوك، أو حجرا يعثر به، أو قذرا، أو جيفة وغير ذلك.
وإماطة الأذى عن الطريق من شعب الإيمان كما في الحديث الصحيح.
فأخبر -صلى الله عليه وسلم- أنه رأى رجلاً يتردد ويتنعم في الجنة بسبب شجرة قطعها من ظهر الطريق، كان الناس يتأذون بها، قال النووي: أي يتنعم في الجنة بملاذها بسبب إزالة الشجرة من الطريق وإبعادها عنه
قال القاري: وفيه مبالغة على قتل المؤذي وإزالته بأي وجه يكون.اهـ
كما ينبه الحديث على فضيلة كل ما نفع المسلمين وأزال عنهم ضررا.
575;ن مذکورہ احادیث میں راستے میں پڑی تکلیف دہ شے کو ہٹانے کی فضیلت کا بیان ہے چاہے وہ تکلیف دہ شے کوئی درخت ہو یا پھر کوئی کانٹے دار ٹہنی یا کوئی ایسا پتھرہو جس سے ٹھوکر کھا کر گرا جا سکتا ہو یا گندگی ہو يا پھر کوئی مردار وغیرہ ہو۔
راستے سے تکلیف دہ چيز کو ہٹانا ایمان کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں اس کا ذکر ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ: آپﷺ نے ایک آدمی کو جنت میں چلتے پھرتے دیکھا، وہ جنت میں مزے کر رہا تھا، ایک درخت کے سبب جسے اس نے کاٹ دیا تھا جو راستے کے درمیان میں تھا اور لوگ اس سے تکلیف محسوس کرتے تھے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے: راستے سے درخت کو ہٹانے اور اسے دور کرنے کی وجہ سے وہ جنت کی نعمتوں اور لذتوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔
ملا علی القاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث میں کسی بھی طریقے سے نقصان دہ چیز کو ختم کرنے اور اس کا ازالہ کرنے میں مبالغہ کا پتہ چلتا ہے۔
اسی طرح یہ حدیث ہر اس چیز کی فضیلت سے باخبر کرتی ہے جو مسلمانوں کو نفع بخشے اور ان سے نقصان کو دور کرے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10099

 
 
Hadith   1594   الحديث
الأهمية: بَيْنَمَا كَلْبٌ يُطِيفُ بِرَكْيَةٍ قد كَادَ يَقْتُلُهُ العَطَشُ إذ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فَاسْتَقَتْ له بهِ فَسَقَتْهُ فَغُفِرَ لها بِهِ


Tema:

ایک کتا کنویں کی منڈیر کے گرد چکر لگا رہا تھا اور قریب تھا کہ پیاس کی شدت سے مر جائے کہ اسے بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت نے دیکھ لیا اس نے اپنا موزہ اتارا اور اس سے کنویں سے پانی نکال کر اسے پلا دیا۔ اسے اس کے اس عمل کی وجہ سے معاف کر دیا گیا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «بينما رجلٌ يمشي بطريقٍ اشتَدَّ عليه العَطَشُ، فوَجَدَ بِئْرًا فنزل فيها فَشَرِبَ، ثم خَرَجَ فإذا كَلْبٌ يَلْهَثُ يأكل الثَّرَى مِنَ العَطَشِ، فقال الرجلُ: لقد بَلَغَ هذا الكَلْبَ مِنَ العَطَشِ مِثْلَ الذِي كان قَدْ بَلَغَ مِنِّي، فنَزَلَ البِئْرَ، فَمَلَأَ خُفَّهُ ماءً ثم أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ، فَسَقَى الكَلْبَ، فشَكَرَ اللهُ له، فَغَفَرَ لهُ» قالوا: يا رسول الله، إنَّ لَنَا في البَهَائِمِ أَجْرًا؟ فقال: «في كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ».
وفي رواية: «فشَكَرَ اللهُ له، فغَفَرَ له، فَأَدْخَلَهُ الجَنَّةَ».

وفي رواية: «بَيْنَمَا كَلْبٌ يُطِيفُ بِرَكْيَةٍ قد كَادَ يَقْتُلُهُ العَطَشُ إذ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فَاسْتَقَتْ له بهِ فَسَقَتْهُ فَغُفِرَ لها بِهِ».

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ابوہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ ایک آدمی راستے میں چلا جا رہا تھا کہ اسے پیاس نے ستایا۔ اسے ایک کنواں دکھائی دیا اور تو وہ اس میں اترا اور پانی پیا ۔ جب باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتاہا نپتے ہوئے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے کیونکہ اسے شدید پیاس لگی ہوئی تھی‘ اس آدمی نے سوچا کہ اس کتے کو بھی اس طرح پیاس لگی ہے جیسے مجھے پیاس لگی تھی۔ لہٰذا وہ پھر کنویں میں اترا، اپنے موزے کو پانی سے بھرا، اسے اپنے منہ سے تھاما اورباہر آ کر کتے کو پانی پلا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی نیکی کا صلہ دیا اور اسے بخش دیا۔ صحابہ کرام ۔ رضی اللہ عنہم۔ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا جانوروں کی وجہ سے بھی ہمیں اجرو ثواب ملتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہرتر کلیجے (زندہ چیز) کی وجہ سے اجرو ثواب ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ: ”اللہ تعالی نے (اس کے اس فعل کی قدر دانی میں) اسے صلہ دیتے ہوئے بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا“۔
ایک اور روایت میں ہے کہ: ”ایک کتا کنویں کی منڈیر کے گرد چکر لگا رہا تھا اور قریب تھا کہ پیاس کی شدت سے مر جائے کہ اسے بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت نے دیکھ لیا اس نے اپنا موزہ اتارا اور اس سے کنویں سے پانی نکال کر اسے پلا دیا۔ اسے اس کے اس عمل کی وجہ سے معاف کردیا گیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بينا رجل يمشي في الطريق مسافرًا، أصابه العطش، فنزل بئرًا فشرب منها، وانتهى عطشه، فلما خرج وجد كلباً يأكل الطين المبتل الرطب بسبب العطش، من أجل أن يمص ما فيه من الماء، من شدة عطشه، فقال الرجل: والله لقد أصاب الكلب من العطش ما أصابني، ثم نزل البئر وملأ خفه ماء وأمسكه بفيه، وجعل يصعد بيديه، حتى صعد من البئر، فسقى الكلب، فلما سقى الكلب شكر الله له ذلك العمل وغفر له، وأدخله الجنة بسببه.
ولَمَّا حَدَّثَ -صلى الله عليه وسلم- الصحابةَ بهذا الحديث، سألوا النبي -عليه الصلاة والسلام- قالوا: يا رسول الله، إن لنا في البهائم أجرًا؟ يعني: تكون سببًا لنا في الأجر إذا سقيناها، قال: (في كل كبدٍ رطبةٍ أجر)؛ أي: في إروائها، فالكبد الرطبة تحتاج إلى الماء؛ لأنه لولا الماء ليبست وهلك الحيوان.
وفي رواية: أن امرأة زانية من بني إسرائيل رأت كلباً يدور حول بئر عطشان، لكن لا يمكن أن يصل إلى الماء؛ فنزعت خفها فملأته ماء وسقت الكلب فغفر الله لها بسبب ذلك العمل.
575;یک شخص سفر کرتا ہوا راستے میں جا رہا تھا کہ اسے پیاس لگی۔اس نے ایک کنویں میں اتر کر پانی پیا اور یوں اس کی پیاس ختم ہوئی۔ جب وہ باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی شدت سے گیلی مٹی کو کھا رہا ہے تاکہ اس میں موجود پانی کو چوس سکے۔ اس پر اس آدمی نے کہا کہ: اللہ کی قسم! اس کتے کو بھی ویسے ہی پیاس لگی ہے جیسے مجھے لگی تھی۔ وہ کنویں میں داخل ہوا، اپنا موزہ پانی سے بھرا، اسے اپنے منہ سے تھاما اور اپنے ہاتھوں کی مدد سے اوپر چڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ کنویں سے باہر آکر اس نے کتے کو پانی پلا دیا۔ جب وہ کتے کو پانی پلا چکا تو اللہ نے اس کے اس فعل کو پسند فرمایا اور اس کے بدلے میں اس کی بخشش کرتے ہوئے اسے جنت میں داخل کر دیا۔
نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو جب یہ حدیث سنائی تو انھوں نے آپ ﷺ سے سوال کیا کہ: اے اللہ کے رسول! کیا چوپایوں کے ساتھ نیکی کرنے میں بھی ہمیں ثواب ملتا ہے؟۔ یعنی کیا یہ بھی اجر و ثواب کا سبب ہیں؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر تر کلیجے کے ساتھ نیکی کرنے میں اجر ہے یعنی ہر تر کلیجے کو سیراب کرنے میں اجر ملتا ہے۔ کلیجے کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ اگر پانی نہ ہوتا تو یہ سوکھ جاتا اور جاندار ہلاک ہو جاتا۔
اور ایک روایت میں ہے: بنی اسرائیل کی ایک زانیہ عورت نے ایک کتے کو دیکھا جو پیاس کے مارے کنویں کے گرد گھوم رہا تھا، لیکن اس کی پانی تک رسائی ممکن نہیں ہوئی، چنانچہ اس عورت نے اپنا موزہ نکالا اسے پانی سے بھرا اور کتے کو پلا دیا لہٰذا اس عمل کے بدلے اللہ نے اس کی مغفرت کردی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10100

 
 
Hadith   1595   الحديث
الأهمية: المسلمُ من سَلِمَ المسلمونُ من لسانهِ ويَدِهِ، والمهاجرُ من هَجَرَ ما نهى اللهُ عنه


Tema:

کامل مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان (کی ایذا رسانی) سے مسلمان محفوظ رہیں اور حقیقی مہاجر وہ ہے جس نے ان تمام چیزوں کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔

عن عبد الله بن عمرو وجابر بن عبد الله -رضي الله عنهم- مرفوعاً: «المسلمُ من سَلِمَ المسلمونُ من لسانهِ ويَدِهِ، والمهاجرُ من هَجَرَ ما نهى اللهُ عنهُ».
وعن أبي موسى -رضي الله عنه- قال: قلتُ: يا رسولَ اللهِ أَيُّ المسلمينَ أَفْضَلُ؟ قال: «مَنْ سَلِمَ المسلمونُ من لِسانِهِ وَيَدِهِ».

Esin Hadith Text


عبد اللہ بن عمرو اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کامل مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان (کی ایذا رسانی) سے مسلمان محفوظ رہیں اور حقیقی مہاجر وہ ہے جو ان تمام چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے“۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! کون سا مسلمان سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے ہاتھ اور زبان (کی ایذا رسانی) سے مسلمان محفوظ رہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
المسلم من سلم المسلمون من لسانه فلا يسبهم، ولا يلعنهم، ولا يغتابهم، ولا يسعى بينهم بأي نوع من أنواع الشر والفساد، وسلموا من يده فلا يعتدي عليهم، ولا يأخذ أموالهم بغير حق، وما أشبه ذلك، والمهاجر من ترك ما حرم الله -تعالى-.
705;امل مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں یعنی نہ وہ انہیں گالیاں دے، نہ ان پر لعنت بھیجے، نہ ان کی غیبت کرے اور نہ ہی ان کے مابین کسی قسم کا شر و فساد پیدا کرنے کی کوشش کرے اور اسی طرح وہ اس کے ہاتھ سے بھی محفوظ رہیں بایں طور کہ وہ ان پر کوئی ظلم نہ کرے، ناحق اُن سے ان کے مال نہ لے اور اس طرح کی کوئی بھی زیادتی ان کے ساتھ نہ کرے۔ اور حقیقی مہاجر وہ شخص ہے جو اللہ تعالی کی حرام کردہ (امور) کو چھوڑ دے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10101

 
 
Hadith   1596   الحديث
الأهمية: كِخْ كِخْ ارْمِ بها، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا لا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ


Tema:

تھو، تھو! اسے پھینک دو۔ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے؟

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: أخذ الحسن بن علي -رضي الله عنهما- تمرة من تمر الصدقة فجعلها في فيه، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «كَخْ كَخْ ارْمِ بها، أما علمت أنَّا لا نأكل الصدقة!؟».
وفي رواية: «أنَّا لا تَحِلُّ لنا الصدقة».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمايا :”تھو، تھو! اسے پھینک دو۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقے کی چيز نہیں کھاتے؟“ ایک اور روایت میں ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا): ”ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخذ الحسن بن علي -رضي الله عنهما- تمرة مما جمع من زكاة التمر فوضعها في فمه، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "كخ كخ" يعني أنها لا تصلح لك، ثم أمره أن يخرجها من فمه، وقال: "إننا لا تحل لنا الصدقة".
فالصدقة لا تحل لآل محمد؛ وذلك لأنهم أشرف الناس، والصدقات والزكوات أوساخ الناس، ولا يناسب لأشراف الناس أن يأخذوا أوساخ الناس، كما قال النبي -صلى الله عليه وسلم- لعمه العباس بن عبد المطلب -رضي الله عنه-: "إنا آل محمد لا تحل لنا الصدقة؛ إنما هي أوساخ الناس".
581;سن بن علی رضی اللہ عنہما نے زکوۃ کی جمع شدہ کھجوروں میں سے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی۔ تو نبى ﷺ نے فرمايا: ”تھو، تھو!“ یعنی یہ تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں اسے منہ سے نکالنے کا حکم دیا اور فرمایا: ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔
چنانچہ آل محمد کے لیے صدقہ لينا حلال نہیں ہے کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے معزز ہیں۔ جب کہ صدقات اور زکات لوگوں کے میل کچیل ہیں اور معزز لوگوں کے لیے میل کچیل کو لینا مناسب نہیں ہے۔ جیسا کہ نبى ﷺ نے اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”ہم آل محمد کے لیے صدقہ جائز نہیں ہے، یہ تو محض لوگوں کا میل کچیل ہے“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10102

 
 
Hadith   1597   الحديث
الأهمية: أنَّ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَ بَلَعْقِ الأَصَابِعِ والصَّحْفَةِ، وقال: إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّهَا البرَكَةُ


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے (کھانے کے بعد) انگلياں اور پليٹ چاٹ لينے کا حکم ديا، اور فرمايا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ ان ميں سے کس (کھانے ) میں برکت ہے۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما-، أنَّ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أمر بَلَعْقِ الأصابع والصَّحْفَةِ، وقال: «إنَّكم لا تدرون في أَيِّهَا البركة».
وفي رواية: «إذا وقعت لُقْمَةُ أحدكم فليأخذها، فَلْيُمِطْ ما كان بها من أذى، وليأكلها ولا يدعها للشيطان، ولا يمسح يده بالمِنْدِيلِ حتى يَلْعَقَ أصابعه فإنه لا يدري في أَيِّ طعامه البركة».
وفي رواية: «إن الشيطان يحضر أحدكم عند كل شيء من شأنه، حتى يحضره عند طعامه، فإذا سقطت من أحدكم اللُّقْمَةُ فَلْيُمِطْ ما كان بها من أذى، فليأكلها ولا يدعها للشيطان».

جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (کھانے کے بعد) انگلياں اور پليٹ چاٹ لينے کا حکم ديا، اور فرمايا: ”تم نہیں جانتے کہ ان ميں سے کس (کھانے) میں برکت ہے“۔
ایک دوسرى روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے اٹھا لے اور اس ميں لگی ہوئی گندگی کو صاف کرکے کھالے اور اسے شيطان کے ليے نہ چھوڑے، اور اپنے ہاتھ کو رومال سے نہ پونچھے يہاں تک اپنی انگلياں چاٹ لے، اس لیے کہ وہ نہيں جانتا کہ اس کے کس کھانے ميں برکت ہے“۔
ایک اور روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ شیطان تمہارے پاس تمہارے ہر کام کے وقت حاضر رہتا ہے حتی کہ کھانے کے وقت بھی موجود رہتا ہے۔ لہٰذا اگر تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تواسے (اٹھاكر) اس ميں لگی ہوئی گندگی کو صاف کرکے کھالے اور اسے شيطان کے ليے نہ چھوڑے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نقل جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- آدابًا من آداب الأكل، منها: أن الإنسان إذا فرغ من أكله فإنه يلعق أصابعه ويلعق الصفحة، يعني يلحسها حتى لا يبقى فيها أثر الطعام، فإنكم لا تدرون في أي طعامكم البركة.
كذلك أيضًا من آداب الأكل: أن الإنسان إذا سقطت لقمه على الأرض فإنه لا يتركها؛ فالشيطان يحضر للإنسان في جميع شؤونه، فيأخذ اللقمة؛ ولكن لا يأخذها ونحن ننظر، لأن هذا شيء غيبي لا نشاهده، ولكننا علمناه بخبر الصادق المصدوق عليه الصلاة والسلام يأخذها الشيطان فيأكلها، وإن بقيت أمامنا حِسيًّا، لكنه يأكلها غيبًا، هذه من الأمور الغيبية التي يجب أن نصدق بها.
580;ابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم ﷺ سے کھانے کے کچھ آداب نقل کیے ہیں۔ انہيں آداب میں سے ایک یہ ہے کہ: انسان جب کھانے سے فارغ ہو جائے تو اپنی انگلیوں اور پلیٹ کو اچھی طرح چاٹ لے يہاں تک کہ اس میں کھانے کا کوئی اثر باقی نہ رہ جائے، کيونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے کس کھانے میں برکت ہے۔ اسی طرح کھانے کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ: جب انسان کا لقمہ زمین پر گر جائے تو اسے نہ چھوڑے۔ کيونکہ شیطان انسان کے تمام امور میں موجود رہتا ہے۔ (اگر وہ لقمے کو يوں ہی گرا ہوا چھوڑ دے گا) تو شیطان اسے اٹھا لے گا، ليكن ایسا نہیں ہے کہ وہ اسے اٹھاتے ہوئے ہمیں نظر بھی آئے۔ کیونکہ یہ ایک غیبی معاملہ ہے جس کا ہم مشاہدہ نہیں کرتے، ليكن صادق و مصدوق ﷺ کے خبر دینے سے ہميں یہ بات معلوم ہوئی کہ شیطان اسے اٹھا کر کھا لیتا ہے، اگرچہ ظاہری طور پر وہ (لقمہ) ہمارے سامنے ہی موجود رہتا ہے، لیکن وہ اسے غیبی طور پر کھاليتا ہے۔ یہ ان غیبی امور میں سے ہے جس کی تصدیق کرنا ہم پرواجب ہے۔۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10103

 
 
Hadith   1598   الحديث
الأهمية: إن الزمانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللهُ السَّمَاوَاتِ والأَرْضَ: السنةُ اثنا عَشَرَ شَهْرًا، منها أربعةٌ حُرُمٌ: ثلاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو القَعْدَةِ، وذُو الحَجَّةِ، والمحرمُ، ورَجَبُ مُضَرَ


Tema:

بے شک زمانہ پلٹ کر اسی حالت پر آگیا جیسا اس دن تھا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔ سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے جن میں سے چار حرمت والے ہیں تین مسلسل مہینے؛ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرّم، اور (چوتھا) رجب مُضَر ہے۔

عن أبي بكرة -ضي الله عنه- مرفوعاً: «إِنَّ الزمانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللهُ السَّمَاوَاتِ والأَرْضَ: السنةُ اثنا عَشَرَ شَهْرًا، منها أربعةٌ حُرُمٌ: ثلاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو القَعْدَةِ، وذُو الحَجَّةِ، والمحرمُ، ورَجَبُ مُضَرَ الذي بين جُمَادَى وشَعْبَانَ، أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟» قلنا: اللهُ ورسولُهُ أَعْلَمُ، فسكتَ حتى ظننا أنه سَيُسَمِّيهِ بغير اسمه، قال: «أَلَيْسَ ذَا الحَجَّةِ؟» قُلْنَا: بَلَى. قال: «فأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟» قلنا: اللهُ ورسولُهُ أَعْلَمُ، فسكتَ حتى ظننا أنه سُيَسَمِّيهِ بغير اسمه. قال: «أَلَيْسَ البَلْدَةَ؟» قلنا: بلى. قال: «فأَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قُلْنَا: اللهُ ورسولُهُ أَعْلَمُ، فسكتَ حتى ظَنَنَّا أنه سيسميه بغير اسمه. قال: «أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟» قلنا: بَلَى. قال: «فَإِّنَّ دِمَاءَكُمْ وأَمْوَالَكُمْ وأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا في بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، وَسَتَلْقَونَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلَا فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُم رِقَابَ بَعْضٍ، أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ أَنْ يكونَ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ»، ثُمَّ قال: «أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟» قلنا: نعم. قال: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ».

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک زمانہ پلٹ کر اسی حالت پر آگیا جیسا اس دن تھا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔ سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے جن میں سے چار حرمت والے ہیں تین مسلسل؛ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم، اور (چوتھا) رجب مُضَر جو جمادی الاخری اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔ (آپ ﷺ نے پوچھا بتاؤ) یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے جواب دیا کہ: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ اس پر خاموش ہو گئے یہاں تک کہ ہمیں خیال ہونے لگا کہ آپ ﷺ اسے کوئی اور نام دیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟ ہم نے جواب دیا: کیوں نہیں (یہ ذوالحجہ ہی ہے)۔ آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپﷺ خاموش ہو گئے یہاں تک کہ ہم گمان کرنے لگے کہ آپ ﷺ اس کا نام تبدیل کر کے کوئی اور نام رکھیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ حرمت والا شہر نہیں ہے؟ ہم نے جواب دیا: کیوں نہیں (یہ حرمت والا شہر ہی ہے)۔ پھر آپ ﷺ نے دریافت کیا یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔اس پر آپﷺ خاموش ہو گئے۔ یہاں تک کہ ہمیں خیال گزرا کہ آپ ﷺ اس دن کا نام تبدیل کرکے کوئی اور نام رکھیں گے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے؟ ہم نے جواب دیا کہ کیوں نہیں (یہ یوم النحر ہی ہے)۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاریں جانیں، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تمہارے لیے ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس شہر میں اور اس مہینے میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔ عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔ خبردار! میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنا شروع کر دو۔ خبردار! یہاں موجود شخص غیر موجود تک یہ پیغام پہنچا دے۔کیونکہ بعض وہ لوگ جنہیں کوئی بات پہنچائی جائے اس بات کو سننے والے سے زیادہ یاد رکھتے ہیں۔ کیا میں نے (احکامِ الہی کو) پہنچا دیا۔ کیا میں نے پہنچا دیا؟ ہم نے جواب دیا: ہاں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے اللہ! تم گواہ رہنا.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
خطب النبي صلى الله عليه وسلم يوم النحر، وذلك في حجة الوداع، فأخبر أن الزمان صادف في تلك السنة أن النسيء صار موافقًا لما شرعه الله عزّ وجلّ في الأشهر الحرم؛ لأنه كان قد غير وبدل في الجاهلية، حين كانوا يفعلون النسيء فيحلون الشهر الحرام، ويحرمون الشهر الحلال، ولكن لما بيّن عليه الصلاة والسلام أن عدة الشهور اثنا عشر شهرًا هي: المحرم، وصفر، وربيع الأول، وربيع الثاني، وجمادى الأولى، وجمادى الثانية، ورجب، وشعبان، ورمضان، وشوال، وذو القعدة، وذو الحجة، هذه هي الأشهر الاثنا عشر شهرًا، التي جعلها الله أشهرًا لعباده منذ خلق السموات والأرض.
وبين عليه الصلاة والسلام، أن هذه الاثنا عشر شهرًا منها أربعة حرم ثلاثة متوالية وواحد منفرد، الثلاثة المتوالية هي: ذو القعدة وذو الحجة والمحرم، جعلها الله تعالى أشهرا محرمة، يحرم فيها القتال، ولا يعتدي فيها أحد على أحد، لأن هذه الأشهر هي أشهر سير الناس إلى حج بيت الله الحرام، فجعلها الله عزّ وجلّ محرمة لئلا يقع القتال في هذه الأشهر والناس سائرون إلى بيت الله الحرام، وهذه من حكمة الله عزّ وجلّ.
ثم قال عليه الصلاة والسلام: "ورجب مضر الذي بين جمادى وشعبان" وهو الشهر الرابع، وكانوا في الجاهلية يؤدون العمرة فيه فيجعلون شهر رجب للعمرة، والأشهر الثلاثة للحج، فصار هذا الشهر محرمًا يحرم فيه القتال، كما يحرم في ذي القعدة وذي الحجة والمحرم.
ثم سألهم النبي عليه الصلاة والسلام: أي شهر هذا؟ وأي بلد هذا؟ وأي يوم هذا؟ سألهم عن ذلك من أجل استحضار هممهم، وانتباههم؛ لأن الأمر أمرٌ عظيمٌ فسألهم: "أي شهر هذا؟" قالوا: الله ورسوله أعلم؛ فإنهم استبعدوا أن يسأل النبي صلى الله عليه وسلم عن الشهر وهو معروف أنه ذو الحجة، ولكن من أدبهم رضي الله عنهم أنهم لم يقولوا: هذا شهر ذي الحجة؛ لأن الأمر معلوم، بل من أدبهم أنهم قالوا: الله ورسوله أعلم.
ثم سكت لأجل أن الإنسان إذا تكلم ثم سكت انتبه الناس، فسكت النبي عليه الصلاة والسلام، يقول أبو بكرة: حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه، ثم قال: أليس ذا الحجة؟ " قالوا: بلى، ثم قال عليه الصلاة والسلام: "أي بلد هذا؟" قالوا: الله ورسوله أعلم، هم يعلمون أنه مكة، لكن لأدبهم واحترامهم لرسول الله صلى الله عليه وسلم لم يقولوا: هذا شيء معلوم يا رسول الله. كيف تسأل عنه؟ بل قالوا: الله ورسوله أعلم.
ثم سكت حتى ظنوا أنه سيسميه بغير اسمه، فقال: "أليس البلدة؟" والبلدة اسم من أسماء مكة. قالوا: بلى. ثم قال: "أي يوم هذا؟" قالوا: الله ورسوله أعلم، مثل ما قالوا في الأول، قال: "أليس يوم النحر؟" قالوا: بلى يا رسول الله، وهم يعلمون أن مكة حرام، وأن شهر ذي الحجة حرام، وأن يوم النحر حرامٌ، يعني كلها حرم محترمة.
فقال عليه الصلاة والسلام: "إن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في بلدكم هذا، في شهركم هذا" فأكد عليه الصلاة والسلام تحريم هذه الثلاثة: الدماء والأموال والأعراض، فكلها محرمة، والدماء تشمل النفوس وما دونها، والأموال تشمل القليل والكثير، والأعراض تشمل الزنا واللواط والقذف، وربما تشمل الغيبة والسب والشتم. فهذه الأشياء الثلاثة حرامٌ على المسلم أن ينتهكها من أخيه المسلم.
ثم قال: "ألا لا ترجعوا بعدي كفارًا يضرب بعضكم رقاب بعض". لأن المسلمين لو صاروا يضرب بعضهم رقاب بعض صاروا كفارًا؛ لأنه لا يستحل دم المسلم إلا الكافر.
ثم أمر عليه الصلاة والسلام أن يبلغ الشاهد الغائب، يعني يبلغ من شهده وسمع خطبته باقي الأمة، وأخبر عليه الصلاة والسلام أنه ربما يكون مبلغ أوعى للحديث من سامع، وهذه الوصية من الرسول عليه الصلاة والسلام، وصية لمن حضر في ذلك اليوم، ووصية لمن سمع حديثه إلى يوم القيامة.
ثم قال عليه الصلاة والسلام: "ألا هل بلغت؟ ألا هل بلغت؟". يسأل الصحابة رضي الله عنهم. قالوا: نعم، أي: بلغت.
فقال عليه الصلاة والسلام: "اللهم اشهد".
606;بی ﷺ نے یوم النحر کو خطبہ دیا۔ یہ حجۃ الوداع کا موقع تھا۔ نبی ﷺ نے خبر دی کہ اس سال میں اتفاقاً ’نسئ‘ اللہ عزّ و جلّ کی طرف سے مقررہ حرمت والے مہینوں کے موافق ہو گئی ہے۔ کیونکہ جاہلیت میں انہیں بدل دیا گیا تھا جب کہ لوگ نسئ کا طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے حرمت والے مہینے کو حلال کر دیتے اور حلال مہینے کو حرمت والا قرار دے دیتے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ مہینوں کی تعداد بارہ ہے جو کہ یہ ہیں: محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، جمادی الاول، جمادی الثانی، رجب، شعبان، رمضان، شوال، ذو القعدہ، ذو الحجہ۔ یہ مہینے کل بارہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس وقت سے اپنے بندوں کے لیے مہینے قرار دے رکھا ہے جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ ان بارہ مہینوں میں سے چار حرمت والے ہیں جن میں سے تین تو مسلسل آتے ہیں اور ایک الگ سے آتا ہے۔ تین مسلسل آنے والے مہینے ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینے قرار دیا ہے جن میں لڑنا حرام ہے اور نہ ہی ان میں یہ جائز ہے کہ کوئی کسی پر ظلم و زیادتی کرے۔ کیونکہ یہ مہینے لوگوں کے بیت اللہ کی طرف حج کے لیے جانے کے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حرمت والا قرار دیا تاکہ ان مہینوں میں جب کہ لوگ بیت اللہ کی طرف رواں دواں ہوں قتال نہ ہو۔ یہ اللہ عزّ و جلّ کی خاص حکمت ہے۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اور رجب مُضَر جو جمادی الاخری اور شعبان کے مابین ہے۔ یہ چوتھا حرمت والا مہینہ ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ اس میں عمرہ کیا کرتے تھے اور انہوں نے رجب کے مہینے کو عمرہ کے لیے اور تین مہینوں کو حج کے لیے مخصوص کر رکھا تھا۔ چنانچہ یہ مہینہ بھی حرمت والا ہو گیا جس میں قتال کرنا حرام ہے جیسا کہ یہ ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم میں حرام ہے۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے دریافت کیا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ یہ کون سا شہر ہے؟ یہ کون سا دن ہے؟ آپ ﷺ نے ان سے یہ باتیں انہیں متوجہ اور چوکنا کرنے کے لیے پوچھیں کیونکہ معاملہ بہت بڑا تھا۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ نبی ﷺ کا مہینے کے بارے میں پوچھنا انہیں بعید از امکان معلوم ہو رہا تھا جب کہ آپ ﷺ کو اس کا بخوبی علم تھا کہ یہ ذو الحجہ ہے۔ تاہم ادب کے تقاضے کے تحت انہوں نے یہ نہ کہا کہ یہ ذو الحجہ کا مہینہ ہے کیونکہ یہ بات سب کو معلوم تھی۔ بلکہ ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہوں نے یہ کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔ کیونکہ انسان جب بول کر چپ ہو جائے تو لوگ متوجہ ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ نبی ﷺ خاموش ہو گئے۔ ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہاں تک کہ جب ہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ آپ ﷺ اس کا نام تبدیل کر کے کوئی اور نام رکھ دیں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذو الحجہ نہیں؟ لوگوں نے جواب دیا: کیوں نہیں، یہ ذو الحجہ ہی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کون سا شہر ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں؟ وہ جانتے تھے کہ یہ مکہ ہے تاہم رسول اللہ ﷺ کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہوں نے یہ نہ کہا کہ یا رسول اللہ! یہ بات تو سب کو معلوم ہے، آپ اس کے بارے میں کیونکر پوچھ رہے ہیں؟ بلکہ اس کے بجائے انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے یہاں تک کہ لوگوں کو گمان ہونے لگا کہ آپ ﷺ اس کا نام تبدیل کر کے کوئی اور نام رکھ دیں گے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: کیا یہ بلدہ نہیں؟ بلدہ مکہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔لوگوں نے جواب دیا: کیوں نہیں، یہ بلدہ ہی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں جیسا کہ انہوں نے پہلے سوال کے جواب میں کہا تھا۔آپ ﷺ نے پوچھا: کیا یہ یوم النحر نہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یا رسول اللہ! کیوں نہیں، یہ یوم النحر ہی ہے۔ انہیں معلوم تھا کہ مکہ حرام ہے، ذو الحجہ کا مہینہ بھی حرام ہے اور یوم النحر بھی حرام ہے۔یعنی یہ سب حرمت والے اور محترم ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری جانیں، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تمہارے لیے ایسے ہی حرمت والی ہیں جیسے تمہارے اس دن کی اس شہر میں اس مہینے میں حرمت ہے۔ آپ ﷺ نے ان تینوں یعنی جانوں، اموال اور عزتوں کے حرام ہونے پر زور دیا کہ یہ سب حرام ہیں۔ "الدماء" کے لفظ میں جانیں اور اس سے کمتر سب اشیاء آتی ہیں۔ اموال میں کم اور زیادہ سب قسم کے اموال آتے ہیں۔ عزتوں (کی پامالی) میں زنا، لواطت اور تہمت سب گناہ آتے ہیں اور شاید غیبت اور گالم گلوچ بھی اس میں شامل ہیں۔ مسلمان پر حرام ہے کہ وہ اپنے بھائی کی ان تین اشیاء کی حرمت کو پامال کرے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا:" خبردار! میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔" کیونکہ مسلمان اگر ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگیں تو وہ کافر ہو جاتے ہیں اس لیے کہ مسلمان کے خون بہانے کو صرف کافر ہی حلال سمجھتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ موجود لوگ غیر موجود لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں۔ یعنی جو بھی آپ ﷺ کے سامنے موجود تھا اور جس نے آپ ﷺ کا خطبہ سنا وہ باقی امت تک اسے پہنچا دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بسا اوقات جس تک بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والے سے زیادہ بات کو ذہن نشین رکھتا ہے۔ اس دن جو لوگ موجود تھے انہیں یہ رسول اللہ ﷺ کی وصیت تھی اور اسی طرح قیامت تک کے لیے ہر اس شخص کو یہ وصیت ہے جو آپ ﷺ کی حدیث کو سنے۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں نے پہنچا دیا؟ کیا میں نے پہنچا دیا؟ آپ ﷺ صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھ رہے تھے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں یعنی آپ نے پہنچا دیا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:اے اللہ! تو گواہ رہ۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10104

 
 
Hadith   1599   الحديث
الأهمية: إِنَّ الكافرَ إذا عَمِلَ حَسَنَةً، أُطْعِمَ بها طُعْمَةً مِنَ الدُّنْيَا، وأَمَّا المؤمنُ فَإِنَّ اللهَ -تعالى- يَدَّخِرُ لَهُ حَسَنَاتهُ في الآخِرَةِ، ويُعْقِبُهُ رِزْقًا في الدُّنْيَا على طَاعَتِهِ


Tema:

کافر جب کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اس کے بدلے میں دنیا ہی میں اسے رزق دے دیا جاتا ہے۔ جب کہ مومن کے لیے اللہ تعالی اس کی نیکیوں کو آخرت کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں اور اس کی نیکی پر اسے دنیا میں بھی رزق دیتے ہیں۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إنَّ الكافر إذا عمل حسنة، أُطْعِمَ بها طُعْمَةً من الدنيا، وأما المؤمن فإِنَّ اللهَ تعالى يدخر له حسناته في الآخرة، ويُعْقِبُهُ رزقًا في الدنيا على طاعته».
وفي رواية: «إنَّ الله لا يظلم مؤمنا حسنة، يُعْطَى بها في الدنيا، ويُجْزَى بها في الآخرة، وأما الكافر فَيُطْعَمُ بحسنات ما عمل لله تعالى في الدنيا، حتى إذا أفضى إلى الآخرة، لم يكن له حسنة يُجْزَى بها».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کافر جب کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اس کے بدلے میں دنیا ہی میں اسے رزق دے دیا جاتا ہے۔ جب کہ مومن کے لیے اللہ تعالی اس کی نیکیوں کو آخرت کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں اور اس کی نیکی پر اسے دنیا میں بھی رزق دیتے ہیں“۔
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کسی مومن سے ایک نیکی کا بھی ظلم نہیں کرے گا دنیا میں اسے اس کا بدلہ عطا کیا جائے گا اور آخرت میں بھی اسے اس کا بدلہ عطا کیا جائے گا اور کافر کو دنیا میں ہی بدلہ عطا کردیا جاتا ہے جو وہ نیکیاں اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے یہاں تک کہ جب آخرت میں فیصلہ ہوگا تو اس کے لیے کوئی نیکی نہ ہوگی جس کا اسے بدلہ دیا جاتا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن الكافر إذا فعل طاعة رزقه الله عز وجل بها في الدنيا، أما المؤمن إذا فعل طاعة فإن الله يحتفظ بها له ليجازيه بها في الآخرة، ويرزقه أيضا في الدنيا على طاعته.
وفي الرواية الثانية أن الله -تبارك وتعالى- لا يترك مجازاة المؤمن على حسناته، فيرزقه بها في الدنيا، ويثيبه عليها في الآخرة، وأما الكافر فيرزقه في الدنيا مقابل حسناته حتى إذا صار إلى الآخرة لم يكن له حسنة يثاب عليها.
أجمع العلماء على أن الكافر الذي مات على كفره لا ثواب له في الآخرة، ولا يجازى فيها بشيء من عمله في الدنيا متقربًا إلى الله -تعالى-؛ لأن شرط قبول العمل الإيمان، وصرح في هذا الحديث بأنه يطعم في الدنيا بما عمله من الحسنات أي بما فعله متقربا به إلى الله -تعالى-، مما لا يفتقر صحته إلى النية كصلة الرحم والصدقة والعتق والضيافة وتسهيل الخيرات ونحوها.
 وأما إذا فعل الكافر مثل هذه الحسنات ثم أسلم فإنه يثاب عليها في الآخرة كما دل عليه حديث: (أسلمت على ما أسلفت من خير).
705;افر جب کوئی نیک کام کرتا ہے تو اللہ عزّ وجلّ اس کے بدلے میں اسے دنیا ہی میں رزق عنایت کر دیتا ہے لیکن مومن جب کوئی نیکی کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کا اجر محفوظ رکھ چھوڑتا ہے تاکہ آخرت میں اسے یہ دیا جا سکے ساتھ ہی دنیا میں اسے اس کی اطاعت گزاری پر رزق بھی دیتا ہے۔
دوسری روایت میں ہے کہ ایسا نہیں ہوتا کہ اللہ تعالی مومن کو اس کی نیکیوں کا بدلہ نہ دیں بلکہ اللہ تعالی اسے ان کے بدلے میں دنیا میں رزق دیتے ہیں اور آخرت میں بھی اسے ان کا ثواب ملے گا۔ جب کہ کافر کو اللہ تعالی اس کے اچھے کاموں کے بدلے میں دنیا ہی میں رزق دے دیتا ہے بایں طور کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کی کوئی ایسی نیکی نہیں ہو گی جس پر اسے ثواب دیا جائے۔
علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ کافر جب حالتِ کفر ہی میں مر جائے تو آخرت میں اسے کوئی ثواب نہیں ملتا اور نہ ہی جہان آخرت میں اس کے کسی ایسے عمل کا بدلہ ملے گا جسے اس نے دنیا میں اللہ کی خوشنودی کے لیے کیا ہو گا اس لیے کہ ایمان عمل کی قبولیت کی بنیادی شرط ہے۔ اس حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ اللہ کی خوشنودی کے لیے وہ دنیا میں جو نیک اعمال کرتا ہے جن کے درست ہونے کے لیے نیت کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے صلہ رحمی، صدقہ کرنا، آزاد کرنا، مہمان نوازی اور نیک اعمال کے لیے سہولت کاری وغیرہ، تو ان کے عوض میں اسے دنیا میں رزق عنایت کیا جاتا ہے۔
تاہم اگر کافر اس طرح کے نیک اعمال کرے اور پھر اسلام لے آئے تو اسے آخرت میں ان کا ثواب ملے گا جیسا کہ حدیث میں ہے (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:) ”تم اس بھلائی سمیت اسلام میں داخل ہوئے جو تم نے پہلے کی ہیں“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10105

 
 
Hadith   1600   الحديث
الأهمية: إذا جاء رمضان فُتِحَتْ أبْوَاب الجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أبْوَابُ النَّارِ وَصفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ


Tema:

جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ، فُتِحَتْ أبْوَاب الجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أبْوَابُ النَّارِ، وَصفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر أبو هريرة -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "إذا دخل رمضان فتحت أبواب الجنة، وغلقت أبواب النيران، وصفدت الشياطين"، فهذه ثلاثة أشياء تكون في رمضان: أولاً: تفتح أبواب الجنة ترغيباً للعاملين لها بكثرة الطاعات من صلاة وصدقة وذكر وقراءة للقرآن وغير ذلك. ثانياً: تغلق أبواب النيران، وذلك لقلة المعاصي فيه من المؤمنين. ثالثاً: تصفد الشياطين، يعني: المردة منهم؛ كما جاء ذلك في رواية أخرى -أخرج هذه الرواية النسائي في سننه، وأحمد في مسنده، قال الألباني: هو حديث جيد لشواهده، والمَرَدةُ: هم أشد الشياطين عداوة وعدواناً على بني آدم، والتصفيد معناه الغَلُّ، يعني: تُغَلُّ أيديهم حتى لا يخلصوا إلى ما كانوا يخلصون إليه في غيره، وكل هذا الذي أخبر به النبي -صلى الله عليه وسلم- حق أخبر به نصحاً للأمة، وتحفيزاً لها على الخير وتحذيراً لها من الشر.
575;بوہریرہ رضی اللہ عنہ بتارہے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں۔ یہ تینوں امور رمضان میں پیش آتے ہیں۔
پہلا: جنت کے دروازے عمل گزاروں کے لیے بطور ترغیب کھول دیے جاتے ہیں تاکہ وہ کثرت کے ساتھ نیکیاں یعنی نماز، صدقہ، ذکر، اور قرآن پاک کی تلاوت وغیرہ کریں۔
دوسرا: جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں کیوں کہ اس مہینے میں مومنوں سے بہت کم گناہ سرزد ہوتے ہیں۔
تیسری چیز: شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں یعنی سرکش شیطانوں کو جیسا کہ دوسری روایت میں آیا ہے جسے امام نسائی نے اپنی سنن میں اور امام احمد نے اپنی مسند میں ذکر کیا ہے اور شیخ البانی کہتے ہیں کہ یہ حدیث اپنے شواہد کی وجہ سے ’جید‘ حدیث ہے۔
المردۃ (سرکش شیاطین) سے مراد وه شياطين ہیں جو بنی آدم کے سخت دشمن اور ان کے ساتھ بہت عداوت رکھنے والے ہیں۔
التصفید (جکڑنا) کا معنی بیڑی پہنانا ہے، یعنی ان کے ہاتھوں میں بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں تاکہ وہاں تک ان کی پہنچ نہ ہو سکے جہاں تک رمضان کے علاوہ مہینوں میں ان کی پہنچ رہتی ہے۔
یہ سب کچھ جس کی نبی ﷺ نے خبر دی ہے برحق ہے اور آپ ﷺ نے یہ اپنی امت کے لئے بطورِ نصیحت، انہیں نیکی کی رغبت دلانے اور برائی سے ڈرانے کے لئے بیان کیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10107

 
 
Hadith   1601   الحديث
الأهمية: إذا صمت من الشهر ثلاثًا فَصُمْ ثَلاَثَ عَشْرَة وَأرْبَعَ عَشرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ


Tema:

اگر تم مہینے کے تین روزے رکھو، تو تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھا کرو۔

عن أبي ذر -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثاً، فَصُمْ ثَلاَثَ عَشْرَةَ، وَأرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ».
عن قتادة بن ملحان -رضي الله عنه- قال: كانَ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- يَأمُرُنَا بِصِيَامِ أيَّامِ البِيضِ: ثَلاثَ عَشْرَةَ، وَأرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ.
عن ابن عباس -رضي الله عنهما- قال: كانَ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- لاَ يُفْطِرُ أيَّامَ البِيضِ في حَضَرٍ وَلاَ سَفَرٍ.

ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم مہینے کے تین روزے رکھو، تو تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھا کرو“۔
قتادہ بن ملحان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ ہمیں ایّامِ بِیض یعنی تیرہویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخ کے روزے رکھنے کا حکم کرتے تھے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایّامِ بِیض کے روزے حضر و سفر دونوں میں رکھا کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن أبي ذر قال: قال رسول الله –صلى الله عليه وسلم-: "إذا صمت"، يا أبا ذر، قوله: "من الشهر"، أي: شهر كان، "ثلاثا"، أي: أردت صوم ذلك تطوعاً، "فصم ثلاث عشرة، وأربع عشرة، وخمس عشرة"، أي: صم الثالث عشر من الشهر واليومين بعده، وسميت هذه الثلاثة الأيام البيض أي أيام الليالي البيض؛ لإضاءتها بالقمر، وصومها من كل شهر مندوب.
عن ابن عباس قال: "كان رسول الله –صلى الله عليه وسلم- لا يفطر أيام البيض"، أي: أيام الليالي البيض، وهي الثالث عشر والرابع عشر والخامس عشر؛ لأنها المقمرات من أوائلها إلى أواخرها، فناسب صيامها شكراً لله تعالى، قوله: "في حضر ولا سفر"، أي أنه لازم عليها فيهما، فصيامها سنة مؤكدة، ويترجح صيام أيام البيض بكونها وسط الشهر، ووسط الشيء أعدله.
575;بو ذر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”إذا صمت“ یعنی اے ابو ذر!جب تم روزے رکھو۔ ”من الشهر“ یعنی کوئی بھی مہینہ ہو، ”ثلاثا“ یعنی تین دنوں تک تم نفلی روزے رکھنا چاہو۔ ”فَصُمْ ثلاث عشرة، وأربع عشرة، وخمس عشرة“ یعنی مہینے کی تیرہویں تاریخ اور اس کے بعد دو دن کا روزہ رکھا کرو۔ ان تین ایام کو ایام بیض اس لیے کہتے ہیں کہ ان سے مراد روشن راتوں کے دن ہیں، اس لیے کہ یہ راتیں چاند کی وجہ سے روشن ہوتی ہیں۔ ان دونوں کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایامِ بیض میں افطار نہیں کیا کرتے تھے۔ ایّامِ بیض یعنی روشن راتوں کے دن، یہ تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں راتیں ہیں، اس لیے کہ ان راتوں میں چاند رات کے ابتدا سے انتہا تک روشن رہتا ہے، بنابریں ان میں اللہ کے شکر کے طور پر روزہ رکھنا مناسب ہے، ”سفر اور حضر میں“ یعنی آپ ﷺ نے سفر اور حضر دونوں میں روزوں کا اہتمام کیا۔ ان میں روزے رکھنا سنتِ مؤکدہ ہے، آپ ﷺ مہینے میں ایامِ بیض کے روزوں کو ترجیح دیتے، اس لیے کہ یہ مہینے کے درمیان کے روزے ہیں اور کسی بھی چیز کا درمیانی حصہ سب سے معتدل ہوتا ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10108

 
 
Hadith   1602   الحديث
الأهمية: إذا نودي بالصلاة أدبر الشيطان وله ضُرَاطٌ حتى لا يسمعَ التَّأذِينَ


Tema:

جب نماز کے لیےاذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگتا ہے یہاں تک کہ اذان نہ سن سکے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إِذَا نُودِيَ بالصَّلاَةِ، أدْبَرَ الشَّيْطَانُ، وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ التَّأذِينَ، فَإذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أقْبَلَ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ للصَّلاةِ أدْبَرَ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أقْبَلَ، حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ المَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا واذكر كَذَا - لِمَا لَمْ يَذْكُر مِنْ قَبْلُ - حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ مَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کے لیےاذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگتا ہے یہاں تک کہ اذان نہ سن سکے، جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے، پھر جب اقامت شروع ہوتی ہے تو دوبارہ بھاگتا ہے اور اقامت مکمل ہونے پر پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے، کہتا ہے: فلاں چیز یاد کر، فلاں چیز یاد کر، وہ چیزیں جو اس سے پہلے اسے یاد نہ تھیں یہاں تک کہ انسان کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ اسے پتہ نہیں چلتا کہ اس نے کتنی رکعت نماز پڑھی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا أذن المؤذن ولى الشيطان وأبعد عن مكان الأذان حتى يخرج بعيدًا لئلا يسمع الأذان، وله ضراط، ظاهره أنه يتعمد إخراج ذلك الضراط، وهي الريح، ليشتغل بسماع الصوت الذي يخرجه عن سماع المؤذن أو يصنع ذلك استخفافًا كما يصنعه السفهاء، ويحتمل أنه يتعمد ذلك ليقابل ما يناسب الصلاة من الطهارة بالحدث، ويحتمل أنه لا يتعمد ذلك بل يحصل له عند سماع الأذان شدةُ خوفٍ فيحدث له ذلك الصوت بسببها، "فإذا قضي النداء أقبل، حتى إذا ثوب بالصلاة أدبر" عند الإقامة "حتى إذا قضى"، أي: فرغ وانتهى، "التثويب أقبل حتى يخطر"، معناه:يوسوس، وأصله من خطر البعير بذنبه إذا حركه فضرب به فخذيه، أقبل حتى يغوي بني آدم، وإنما هرب الشيطان عند الأذان لما يرى من الاتفاق على إعلان كلمة التوحيد وغيرها من العقائد وإقامة الشعائر، وكراهة أن يسمع ذكر الله -عز وجل- وهذا هو معنى قوله -تعالى-: "من شر الوسواس الخناس" ، الذي يخنس عند ذكر الله -عز وجل- ويختفي ويبعد؛ قوله: "بين المرء ونفسه" أقبل حتى يحول بين المرء وقلبه في صلاته يقول له: اذكر كذا اذكر كذا اذكر كذا،"لما لم يكن يذكر من قبل"، أي: قبل شروعه في الصلاة، "حتى يظل الرجل"، أي: ينسى ويذهب وهمه، "ما يدري كم صلى"، وإنما جاء عند الصلاة مع أن فيها قراءة القرآن؛ لأن غالبها سر ومناجاة فله تطرّق إلى إفسادها على فاعلها أو إفساد خشوعه، وقيل: هربه عند الأذان حتى لا يضطر إلى الشهادة لابن آدم يوم القيامة؛ كما جاء في حديث أبي سعيد.
580;ب مؤذن اذان دیتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگتا ہے اور اذان کی جگہ سے بھاگ کر دور نکل جاتا ہے تاکہ اذان کی آواز نہ سنے۔ بظاہر شیطان جان بوجھ کر ہوا خارج کرتا ہے تاکہ وہ اپنی اس نکلنے والی آواز کو سننے میں مشغول ہوکر مؤذن کی آواز سننے سے غافل ہوجائے، یا وہ تحقیر کرتے ہوئے ایسا کرتا ہے جیسے بیوقوف لوگ کرتے ہیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ وہ بالقصد ایسا کرتا ہے تاکہ وہ نماز کے مناسب چیز طہارت (پاکیزگی) کا مقابلہ حدث (ناپاکی) کے ذریعہ کرے۔ اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ اذان کی آواز سن کر وہ بہت خوفزدہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ آواز نکلتی ہے۔
” جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے، پھر جب اقامت شروع ہوتی ہے تو دوبارہ بھاگتا ہے“ یعنی اذان یا اقامت مکمل اور ختم ہو جائے۔ ”حَتَّى يَخْطِرَ“ یعنی وسوسے ڈالتا ہے۔ اس جملے کی اصل خطر البعير بذنبه ہے، یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب اونٹ اپنی دُم کو حرکت دے کر رانوں پر مارتا ہے۔ شیطان انسان کو گمراہ کرنے کے لیےآتا ہے۔ اذان کے کلمات سن کر شیطان اس لیے بھاگتا ہے کیونکہ وہ کلمۂ توحید، اسلامی عقائد کے اعلان اور دینی شعائر کے قیام کو دیکھتا ہے، نیز اللہ تعالیٰ کے ذکر کو سننا ناپسند کرتا ہے۔ اور یہی مطلب اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ﴾ "وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے“ کا یے، یعنی جو اللہ کے ذکر کے وقت پیچھے ہٹ جاتا، چھُپ جاتا اور دور نکل جاتا ہے۔
”بَيْنَ المَرْءِ وَنَفْسِهِ“ یعنی نماز کے دوران شیطان انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور کہتا ہے: فلاں بات یاد کر، فلاں چیز یاد کر، فلاں چیز یاد کر، ”وہ چیزیں جو اس سے پہلے اسے یاد نہ تھیں“ یعنی ایسی باتیں جنہیں نمازی اپنی نماز شروع کرنے سے پہلے یاد نہیں کیا تھا۔ ”یہاں تک کہ انسان کا یہ حال ہو جاتا ہے“ یعنی بھول جاتا ہے اور اسے خیال نہیں رہ جاتا ہے کہ اس نے کتنی رکعت نماز پڑھی ہے، شیطان نماز کے دوران آتا ہے باوجود اس کے کہ نماز میں قرآن بھی پڑھا جاتا ہے؛ کیوں کہ نماز کا اکثر حصہ اللہ تعالیٰ سے مناجات اور رازدارانہ ہوتا ہے۔ لہٰذا شیطان نمازی کے دل میں وسوسے ڈال کر اس کی نماز یا خشوع خراب کرتا ہے۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ اذان کے وقت شیطان اس لیے بھاگتا ہے تاکہ قیامت کے دن وہ انسان کے لیے گواہی دینے پر مجبور نہ ہو جیسا کہ ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10109

 
 
Hadith   1603   الحديث
الأهمية: أفطر عندكم الصائمون وَأكَلَ طَعَامَكُمُ الأَبرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ المَلاَئِكَةُ


Tema:

تمھارے پاس روزے دار افطار کیا کریں، نیک لوگ تمھارا کھانا کھائیں اور فرشتے تمھارے لیے دعائیں کریں۔

عن أنس -رضي الله عنه-: أن النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- جاءَ إلى سعد بنِ عبادة -رضي الله عنه-  فَجَاءَ بِخُبْزٍ وَزَيْتٍ، فأكلَ، ثم قال النبيُّ -صلى الله عليه وسلم-: «أفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ؛ وَأكَلَ طَعَامَكُمُ الأَبرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ المَلاَئِكَةُ».

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو وہ آپ کی خدمت میں روٹی اور تیل لے کر آئے، آپ ﷺ نے اسے کھایا، پھر آپ نے یہ دعا پڑھی: ”أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ“ یعنی تمھارے پاس روزے دار افطار کیا کریں، نیک لوگ تمھارا کھانا کھائیں اور فرشتے تمھارے لیے دعائیں کریں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن أنس أن النبي -صلى الله عليه وسلم- جاء إلى سعد بن عبادة"، سيد الخزرج، قوله: "فجاء بخبز وزيت"، فيه إحضار ما سهل، وإنه لا ينافي الجود، "فأكل" أي: النبي -صلى الله عليه وسلم-، قوله: "ثم قال النبي -صلى الله عليه وسلم-"، أي: بعد إتمام الأكل، قوله: "أفطر عندكم الصائمون"، أي: أثابكم الله إثابة من فطّر صائماً، والجملة بمعنى الدعاء، وقوله: "وأكل طعامكم الأبرار"، جمع بر وهو التقي، وقوله: "وصلت عليكم الملائكة"، أي: استغفرت لكم.
575;نس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ خزرج کے سردار سعد بن عبادۃ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ ”چنانچہ وہ روٹی اور تیل لے کر آئے“ اس جملے میں اس چیز کو پیش کرنے کا بیان ہے، جو آسانی سے میسر ہو، یہ تہذیب کے خلاف نہیں ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے کھایا۔ پھر فرمایا یعنی کھانا کھانے کے بعد: ”أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ“ یعنی اللہ تمھیں اتنا ثواب دے، جتنا روزے دار کو افطار کرانے والے کا ہوتا ہے۔ یہ جملہ دعائیہ ہے۔ ”وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ“ ابرار جمع ہے ”بر“ کی، بمعنی متقی۔ ”وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ“ یعنی تمھارے لیے استغفار کریں۔   --  [اس حدیث کی سند صحیح ہے۔]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10110

 
 
Hadith   1604   الحديث
الأهمية: أكان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يصوم من كل شهر ثلاثة أيام؟ قالت: نعم


Tema:

کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’ہاں‘۔

عن معاذة العدوية: أنها سألتْ عائشةَ -رضي الله عنها-: أكانَ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثة أيَّامٍ؟ قالتَ: نعم. فقلتُ: مِنْ أيِّ الشَّهْرِ كَانَ يَصُوم؟ قالتَ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أيِّ الشَّهْرِ يَصُومُ.

معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا ’ہاں‘ ۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ ﷺ مہینے کے کس حصے میں روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ اس کی فکر نہیں کیا کرتے تھے کہ مہینے کی کن تاریخوں میں روزے رکھیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن معاذة العدوية أنها سألت عائشة: أكان رسول الله –صلى الله عليه وسلم- يصوم من كل شهر ثلاثة أيام؟ قالت: نعم، أي: وهذا أقل ما كان يقتصر عليه، "فقلت: من أي أيام الشهر"، احتراز من أيام الأسبوع،
فأجابتها أنه كان يصوم هذه الثلاثة من أولها أو أوسطها وآخرها متصلة أو منفصلة، قالت عائشة: لم يكن يهتم للتعيين من أي أيام الشهر يصوم دون تخصيص؛ لأن الثواب حاصل بأي ثلاث كانت، فكان يصومها بحسب ما يقتضي رأيه –صلى الله عليه وسلم-، فكان يعرض له ما يشغله عن مراعاة ذلك، أو كان يفعل ذلك لبيان الجواز، وكل ذلك في حقه أفضل.
605;عاذہ عدویہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’ہاں‘۔ یعنی کم از کم آپ ﷺ مہینہ میں تین دن روزہ رکھتے تھے۔
”میں نے پوچھا کہ وہ مہینے کے کس دن روزہ رکھا کرتے تھے“ اس میں ہفتے کے دنوں سے احتراز ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ آپ ﷺ مہینے کے ابتدائی حصے میں روزہ رکھا کرتے تھے یا پھر اس کے درمیانی یا آخری حصے میں اور پہ درپہ رکھا رکھا کرتے تھے یا پھر الگ الگ؟۔ آپ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ ﷺ مہینے کے دنوں کو متعین کرنے کی فکر نہیں کیا کرتے تھے بلکہ بلا تخصیص روزے رکھا کرتے تھے کیونکہ ثواب ہر صورت میں ملتا ہے چاہے کوئی بھی دن ہو۔ یعنی آپ ﷺ اپنی مرضی سے روزے رکھا کرتے تھے کیونکہ آپ ﷺ کی مشغولیت ایسی ہوتی جس کی وجہ سے آپ ﷺ اس بات کی رعایت نہیں کرسکتے تھے یا پھر آپ ﷺ ایسا بیان جواز کے لئے کرتے تھے۔ بہرطور جیسے بھی رکھیں آپﷺ کے حق میں وہ افضل ہی ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10111

 
 
Hadith   1605   الحديث
الأهمية: ألا أعلمك أعظم سورة في القرآن


Tema:

کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤں؟

عن أبي سعيد رافع بن المعلى -رضي الله عنه- قال: قال لي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أَلاَ أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ في القُرْآن قَبْلَ أنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِد؟» فَأخَذَ بِيَدِي، فَلَمَّا أرَدْنَا أنْ نَخْرُجَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إنَّكَ قُلْتَ: لأُعَلِّمَنَّكَ أعْظَمَ سُورَةٍ في القُرْآنِ؟ قالَ: «الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ، هِيَ السَّبْعُ المَثَانِي وَالقُرْآنُ العَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ».

ابو سعید رافع بن المعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے کہا کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤ؟ آپ نے مجھے ہاتھ سے پکڑا، جب ہم نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ نے کہا تھا کہ میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورۃ بتاؤں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ سورۂ الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ ہے، جو سبع مثانی ہے اور قرآنِ کریم جو مجھے دیا گیا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن أبي سعيد رافع بن المعلى -رضي الله عنه- قال: قال لي رسول اللّه -صلى الله عليه وسلم-: "ألا" أتى بها لتنبيه المخاطب لما يلقى إليه بعدها، قوله: "أعلمك أعظم سورة في القرآن قبل أن تخرج من المسجد"، وإنما قال له ذلك، ولم يعلمه بها ابتداء؛ ليكون أدعى إلى تفريغ ذهنه لتلقيها وإقباله عليها بكليته، قوله: "فأخذ بيدي"، أي: بعد أن قال ذلك ومشينا، قوله: "فلما أردنا أن نخرج قلت: يا رسول اللّه إنك قلت: لأعلمنك أعظم سورة في القرآن"، قوله: "قال: الحمد للّه ربّ العالمين"، أي: سورة الفاتحة، وإنما كانت أعظم سورة لأنها جمعت جميع مقاصد القرآن، ولذا سميت بأم القرآن. ثم أشار إلى ما تميزت به الفاتحة عن غيرها من بقية السور حتى صارت أعظم منها، بقوله: "هي السبع المثاني"، أي: المسماة به، جمع مثناة من التثنية لأنها تثنى في الصلاة في كل ركعة، أو لأنها تثنى بسورة أخرى، أو سميت بذلك لاشتمالها على قسمين: ثناء ودعاء، أو لما اجتمع فيها من فصاحة المباني وبلاغة المعاني، أو لأنها تثنى على مرور الزمان وتتكرر فلا تنقطع وتدرس فلا تندرس، أو لأن فوائدها تتجدد حالاً فحالاً إذ لا منتهى لها، أو جمع مثناه من الثناء لاشتمالها على ما هو ثناء على اللّه تعالى، فكأنها تثنى عليه بأسمائه الحسنى وصفاته، أو من الثنايا لأن اللّه استثناها لهذه الأمة، وغير ذلك، قوله: "والقرآن العظيم"، أي: وهي المسماة بذلك أيضاً، قوله: "الذي أوتيته"، أي: أعطيته، وتسميتها بالقرآن العظيم لجمعها سائر ما يتعلق بالموجودات دنيا وأخرى وأحكاماً وعقائد.
575;بو سعید رافع بن المعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”ألا“ یہ لفظ مخاطب کو ما بعد والی بات کی طرف متوجہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ ” مسجد سے نکلنے سے پہلے کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤ؟“ آپ ﷺ نے ابتداءً نہیں بتایا بلکہ یہ جملہ کہا، اس لیے کہ یہ اسلوب ان کے ذہن میں بات ڈالنے اور ان کو اس طرف متوجہ کرنے کے زیادہ مناسب تھا۔ ”پس آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا“ یعنی یہ کہنے کے بعد جب ہم چلنے لگے، ”جب ہم نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ نے کہا تھا کہ میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورۃ بتاؤں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ سورۂ الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ ہے“ یعنی سورہ فاتحہ قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت ہے، یہ اس لیے کہ اس میں قرآنِ کریم کے تمام مقاصد جمع ہیں، اسی وجہ سے اسے اُمُّ القرآن کہتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کے نبی ﷺ نے سورۃ فاتحہ کو ”سبعِ مثاني“ کا نام دے کر اسے باقی تمام سورتوں سے ممتاز کیا بلکہ اس کو ان سب میں سے بڑی سورت قرار دیا۔ ’مثاني‘ مثناة کی جمع ہے اور مثناة تثنیۃ سے ہے، اس لیے کہ یہ نماز کی ہر رکعت میں بار بار پڑھا جاتا ہے یا اس لیے کہ اس کے ساتھ دوسری سورت ملا کر اسے تثنیہ بنایا جاتا ہے یا اس کو ’مثاني‘ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ دو قسموں پر مشتمل ہیں ثناء اور دعاء یا اس لیے کہ اس میں الفاظ کی فصاحت اور معانی کی بلاغت دونوں چیزیں جمع کی گئی ہیں یا اس لیے کہ زمانے کے گزرنے کے ساتھ اسے دُہرایا جاتا رہے گا، بار بار پڑھا جائے گا جس سے یہ ختم نہیں ہوگی، اسے پڑھایا جائے گا جس سے یہ سینوں سے نہیں مٹے گا یا اس لیے کہ اس کے فائدوں میں وقتاً فوقتاً تجدید ہوتی ہے، اس لیے کہ ان کی کوئی انتہاء نہیں یا اس کی وجہِ تسمیہ یہ ہے کہ ’مثناۃ‘، ’ثناء‘ سے ماخوذ ہے، کیوں کہ یہ سورت اللہ کی تعریف پر مشتمل ہے، گویا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے ذریعے اس کی تعریف کی جاتی ہے اور یا یہ ’الثنايا‘ سے ماخوذ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس امت کے لیے چُنا ہے۔ ”والقرآن العظيم“ یعنی اس سورت کو قرآن عظیم بھی کہتے ہیں۔ جو مجھے دیا گیا ہے۔ اس سورت کو قرآنِ عظیم کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ اس میں دنیا و آخرت سے متعلق تمام موجودات اور احکام و عقائد کو جمع کیا گیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10112

 
 
Hadith   1606   الحديث
الأهمية: الذي يقرَأُ القرآنَ وهو مَاهِرٌ به مع السَّفَرَةِ الكِرَامِ البَرَرَةِ، والذي يقرَأُ القرآنَ ويَتَتَعْتَعُ فيه وهو عليه شَاقٌ لَهُ أجْرَانِ


Tema:

جو شخص قرآن کے پڑھنے میں ماہر ہو، وہ معزز اور نیک سفراء (فرشتوں) کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہو اور اسے پڑھنے میں مشقت ہوتی ہو تو اس کو دو گنا ثواب ملتا ہے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالتْ: قالَ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-: «الذي يقرَأُ القرآنَ وهو مَاهِرٌ به مع السَّفَرَةِ الكِرَامِ البَرَرَةِ، والذي يقرَأُ القرآنَ ويَتَتَعْتَعُ فيه وهو عليه شَاقٌ لَهُ أجْرَانِ».

اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص قرآن کے پڑھنے میں ماہر ہو، وہ معزز اور نیک سفراء (فرشتوں) کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہو اور اسے پڑھنے میں مشقت ہوتی ہو تو اس کو دو گنا ثواب ملتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
حديث عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "الذي يقرأ القرآن وهو ماهر به مع السفرة الكرام البررة"، الماهر الذي يجيد القرآن ويتقنه، والمراد به هنا جودة التلاوة مع حسن الحفظ، مع السفرة الكرام البررة، وهؤلاء السفرة الكرام البررة هم الملائكة؛ كما قال تعالى: "في صحف مكرمة، مرفوعة مطهرة، بأيدي سفرة، كرام بررة" عبس: 13 - 16، فالماهر مع الملائكة؛ لأن الله تعالى يسره عليه، كما يسره على الملائكة الكرام البررة، فكان مثلهم في قراءة القرآن، ومعهم في الدرجة عند الله، وأما الذي يتتعتع فيه يتهجاه وهو عليه شاق، فله أجران؛ الأول: للتلاوة، والثاني: للتعب والمشقة.
593;ائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ قرآن کا ماہر ہو وہ سفرۃ الکرام البررۃ (بزرگ اور پاکباز لکھنے والے) فرشتوں کےساتھ ہوگا۔ قرآن کا ماہر سے مراد جو قرآن کو تجوید کے مطابق پڑھے، اس سے مراد اچھی تلاوت کرنے والا جب کہ اسے قرآن یاد بھی اچھا ہو وہ سفرۃ الکرام البررۃ فرشتوں کے ساتھ ہوگا۔ ’’السفرة الكرام البررة‘‘ یہ فرشتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ، مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ، بِأَيْدِي سَفَرَةٍ، كِرَامٍ بَرَرَةٍ﴾ ”یہ تو پر عظمت صحیفوں میں (ہے)، جو بلند وباﻻ اور پاک صاف ہے، ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے، جو بزرگ اور پاکباز ہے“ (سورہ عبس: 13-16)
قرآن کا ماہر فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قاری کے لیے قرآن کو آسان کیا ہے جیسے کہ ’’کرام بررۃ‘‘ فرشتوں پر اسے آسان کیا ہے، جس کی وجہ سے یہ قاری قرآن پڑھنے میں ان فرشتوں کی طرح ہیں اور اللہ کے ہاں دونوں کا ایک درجہ ہے۔ جب کہ وہ شخص جو کہ قرآن اٹک اٹک کے پڑھتا ہو اور یہ اس پر گراں گزرتا ہو، اس کے لیے دُہرا اجر ہوتا ہے۔ ایک تلاوت کا اور دوسرے تھکن اور مشقت کا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10113

 
 
Hadith   1607   الحديث
الأهمية: ألم تر آيات أنزلت هذه الليلة لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ؟ قل أعوذ برب الفلق، وقل أعوذ برب الناس


Tema:

کیا تمہیں نہیں معلوم کہ جو آیات آج رات نازل ہوئی ہیں ان جیسی آیات پہلے کبھی نازل نہیں ہوئیں۔ یہ آیات ’’قل أعوذ بربّ الفلق‘‘ اور ’’قل أعوذ بربّ الناس‘‘ ہیں۔

عن عقبة بن عامر -رضي الله عنه-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «ألَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتْ هذِهِ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ؟ (قل أعوذ برب الفلق) و(قل أعوذ برب الناس)».

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ جو آیات آج رات نازل ہوئی ہیں ان جیسی آیات پہلے کبھی نازل نہیں ہوئیں۔ یہ آیات ’’ قل أعوذ برب الفلق ‘‘ اور ’’قل أعوذ بربّ الناس‘‘ ہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن عقبة بن عامر -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ألم تر"، أي: ألم تعلم، وهو خطاب خاص للراوي، والمراد به عام للجميع، وهي كلمة تعجب، وأشار إلى سبب التعجب، بقوله: "لم ير مثلهن"، أي: في بابها وهو التعوذ، وقوله: "قط"، لتأكيد النفي، قوله: "قل أعوذ برب الفلق"، و "قل أعوذ برب الناس"، أي: لم توجد آيات سورة كلهن تعويذ للقارىء من شر الأشرار مثل هاتين السورتين، ما تعوذ بهما متعوذ عن إيمان وصدق إلا أعاذه الله عز وجل، فالحاصل أن الإنسان ينبغي أن يتعوذ بهاتين السورتين.
593;قبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "ألم تر" یعنی کیا تمہیں معلوم نہیں؟ اگرچہ اس میں خاص طور پر راوی مخاطب ہے تاہم یہ بات سب کے لیے عام ہے۔ یہ تعجب کا پیرایہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ کہہ کر سببِ تعجب کی طرف اشارہ فرمایا کہ ”لم ير مثلهن“ یعنی ’تعوذ‘ کے باب میں اس طرح کی کوئی اور آیات نہیں ہیں۔ آپ ﷺ کے "قط" کے لفظ کے استعمال سے نفی کی تاکید ہوتی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ”قل أعوذ برب الفلق“ اور ”قل أعوذ برب الناس“ یعنی کسی سورت کی آیتیں ایسی نہیں ہیں جو ساری کی ساری پڑھنے والے کو اشرار کے شر سے پناہ دیتی ہوں جیسے یہ دو سورتیں ہیں۔کوئی پناہ طلب کرنے والا جب ان کے ذریعے ایمان و صدق کے ساتھ پناہ مانگتا ہے تو اللہ عز وجل اسے پناہ دیتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ انسان کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ ان دونوں سورتوں کے ذریعے پناہ طلب کرے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10114

 
 
Hadith   1608   الحديث
الأهمية: المؤذنون أطول الناس أعناقًا


Tema:

اذان دینے والوں کی گردنیں تمام لوگوں سے لمبی ہوں گی۔

عن معاوية -رضي الله عنه- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «المُؤَذِّنونَ أطولُ النّاسِ أعنَاقاً يَومَ القِيَامَةِ».

معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن اذان دینے والوں کی گردنیں تمام لوگوں سے لمبی ہوں گی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن معاوية -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "المؤذنون أطول الناس أعناقاً" جمع عنق، واختلف السلف والخلف في معناه، فقيل: هو طول حقيقي للعنق، إذا ألجم الناس العرق يوم القيامة طالت أعناق المؤذنين؛ لئلا ينالهم ذلك الكرب والعرق، وقيل: معناه أكثر الناس تشوفًا إلى رحمة الله -تعالى-؛ لأن المتشوف يطيل عنقه إلى ما يتطلع إليه، فمعناه كثرة ما يرونه من الثواب، وقيل: معناه أنهم سادة ورؤساء، والعرب تصف السادة بطول العنق، وقيل: معناه أكثر أتباعًا، وقيل غير ذلك، قوله: "يوم القيامة"، فإذا بعث اللهُ الناسَ فإن المؤذنين يكون لهم ميزة ليست لغيرهم، وهي أنهم أطول الناس أعناقًا، فيعرفون بذلك تنويهًا لفضلهم وإظهارًا لشرفهم؛ لأنهم يؤذنون ويعلنون بتكبير الله -عز وجل- وتوحيده والشهادة لرسوله -صلى الله عليه وسلم- بالرسالة، والدعوة إلى الصلاة وإلى الفلاح، يعلنونها من الأماكن العالية، ولهذا كان جزاؤهم من جنس العمل أن تعلو رؤوسهم وأن تعلو وجهوههم، وذلك بإطالة أعناقهم يوم القيامة، فينبغي للإنسان أن يحرص على أن يكون مؤذناً حتى ولو لم يكن في مسجد، فينبغي أن يبادر لذلك.
605;عاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اذان دینے والوں کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی۔ ’أعناق‘ عُنق کی جمع ہے۔علمائے سلف و خلف کا اس کے معنی میں اختلاف ہے۔ ایک قول کی رو سے اس سے حقیقی لمبائی مراد ہے۔ جب روزِ قیامت لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے تو ان کی گردنیں لمبی ہوں گی تاکہ ان تک وہ پریشانی اور پسینہ نہ پہنچ پائے۔ ایک دوسرے قول کی رو سے اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اللہ کی رحمت کی طرف سب سے زیادہ اوپر ہو ہو کر دیکھ رہے ہوں گے کیوں کہ جھانک کر دیکھنے والا چیز کو دیکھنے کے لیے گردن کو لمبا کرتا ہے۔ چنانچہ گردن لمبی ہونے سے مراد اس ثواب کی کثرت ہے جسے وہ دیکھیں گے۔ ایک اور قول کی رو سے اس کا معنی یہ ہے کہ وہ آقا اور سردار ہوں گے۔ اہلِ عرب، سرداروں کو لمبی گردن کے ساتھ موصوف کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا معنی ہے ان کے پیرو کار بہت زیادہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر اقوال منقول ہیں۔
”قیامت ے دن“ جب اللہ تعالی لوگوں کو اٹھائے گا تو اذان دینے والوں کی ایک ایسی امتیازی شان ہو گی جو کسی اور کی نہیں ہو گی اور وہ یہ کہ ان کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی اور ان کے اظہار فضل و شرف کے لیے وہ اس سے پہچانے جائیں گے کیونکہ وہ اذان دیا کرتے تھے اور اللہ کی کبریائی کا اعلان کرتے تھے، اس کی توحید اور اس کے رسول ﷺ کی رسالت کا اعلان کرتے تھے، نماز اور فلاح کی طرف دعوت دیا کرتے تھے۔ وہ بلند جگہوں سے ان کا اعلان کرتے تھے اس لیے ان کے عمل کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہی ہو گی کہ ان کے سر بلند ہوں گے اور ان کے چہرے اونچے ہوں گے۔ ایسا روزِ قیامت ان کی گردنیں لمبی کردینے سے ہو گا۔ چنانچہ انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ بھی مؤذن بنے اگرچہ کسی مسجد میں نہ بھی ہو تو تب بھی اسے اذان دینے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10115

 
 
Hadith   1609   الحديث
الأهمية: إن الله لا يقبض العلم انتزاعًا يَنْتَزعهُ مِنَ النَّاسِ، وَلكِنْ يَقْبِضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ


Tema:

اللہ تعالی علم کو بندوں سے چھین کر نہیں اٹھائے گا بلکہ وہ علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا۔

عن عبد الله بن عمرو بن العاص -رضي الله عنهما-، قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «إنَّ اللهَ لاَ يَقْبِضُ العِلْمَ انْتِزَاعاً يَنْتَزعهُ مِنَ النَّاسِ، وَلكِنْ يَقْبِضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِماً، اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤُوساً جُهَّالاً، فَسُئِلُوا فَأفْتوا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأضَلُّوا».

عبدالله بن عمرو بن العاص - رضی الله عنہما - سے روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالی علم کو بندوں سے چھین کر نہیں اٹھائے گا بلکہ وہ علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا یہاں تک کہ جب اللہ کوئی عالم باقی نہیں چھوڑے گا تو (اس وقت) لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیں گے۔ ان سے جب کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے گا تو وہ علم کے بغیر فتوی دیں گے اور یوں خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن عبدالله بن عمرو -رضي الله عنهما- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن الله لا يقبض العلم"، المراد به علم الكتاب والسنة وما يتعلق بهما، "انتزاعاً  ينتزعه من الناس"، يعني: لا يقبض العلم من الناس بأن يرفعه من بينهم إلى السماء، "ولكن يقبض العلم"، أي: يرفعه، "بقبض العلماء"، أي: بموتهم ورفع أرواحهم، "حتى إذا لم يبق"، أي: الله، "عالماً"، بقبض روحه "اتخذ الناس رؤوساً"، أي: خليفة وقاضياً ومفتياً وإماماً وشيخاً، "جهالاً"، جمع جاهل أي: جهلة، "فسئلوا، فأفتوا"، أي: أجابوا وحكموا، "بغير علم، فضلوا" أي: صاروا ضالين، "وأضلوا"، أي: مضلين لغيرهم، فيعم الجهل العالم، ففي هذا الحديث إشارة إلى أن العلم سيقبض، ولا يبقى في الأرض عالم يرشد الناس إلى دين الله، فتتدهور الأمة وتضل بعد ذلك.
593;بداللہ بن عمرو - رضی الله عنہما - سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "اللہ علم کو چھین کر نہیں اٹھائے گا۔" اس سے کتاب و سنت اور اس سے متعلقہ علوم مراد ہیں۔
”انتزاعاً ينتزعه من الناس“ یعنی لوگوں سے علم کو یوں نہیں ختم کرے گا کہ ان کے درمیان سے علم کو آسمان پر اٹھا لے بلکہ علم کو علماء کو موت دے کر اور ان کی روحوں کو قبض کرکے اٹھائے گا۔یہاں تک کہ جب اللہ کسی بھی عالم کو نہیں چھوڑے گا یعنی ہر عالم کی روح قبض کر لے گا تو لوگ ایسے افراد کو اپنا خلیفہ، قاضی، مفتی، امام اور شیخ بنا لیں گے جو جاہل ہوں گے۔ ”جُھّال“ دراصل جاہل جمع ہے۔ ایسے لوگوں سے جب کوئی مسئلہ پوچھا جائے گا تو وہ بغیر کسی علم کے فتوی دیں گے اور بلا علم فیصلہ کر دیا کریں گے اور یوں خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ اس طرح سے جہالت عام ہو جائے گی۔ اس حدیث میں اشارہ ہے کہ علم عنقریب اٹھا لیا جائے گا اور زمین میں ایک عالم بھی ایسا نہیں رہے گا جو لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف رہنمائی کرے۔ اس طرح سے امت پستی کا شکار ہوجائے گی اور گمراہی میں پڑ جائے گی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10118

 
 
Hadith   1610   الحديث
الأهمية: إن الله يرفع بهذا الكتاب أقوامًا ويضع به آخرين


Tema:

اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔

عن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه-: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «إن اللهَ يَرفعُ بهذا الكِتابِ أقْواماً ويَضَعُ به آخَرِينَ».

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "إن الله يرفع بهذا الكتاب أقواماً ويضع به آخرين"، يعني: معناه أن هذا القرآن يأخذه أناس يتلونه ويقرءونه، فمنهم من يرفعه الله به في الدنيا والآخرة، ومنهم من يضعهم الله به في الدنيا والآخرة، من عمل بهذا القرآن تصديقاً بأخباره، وتنفيذاً لأوامره واجتناباً لنواهيه، واهتداء بهديه، وتخلقاً بما جاء به من أخلاق -وكلها أخلاق فاضلة-، فإن الله تعالى يرفعه به في الدنيا والآخرة، وذلك لأن هذا القرآن هو أصل العلم ومنبع العلم وكل العلم، وقد قال الله تعالى: (يرفع الله الذين آمنوا منكم والذين أوتوا العلم درجات)، أما في الآخرة فيرفع الله به أقواماً في جنات النعيم.
وأما الذين يضعهم الله به فقوم يقرءونه ويحسنون قراءته، لكنهم يستكبرون عنه -والعياذ بالله- لا يصدقون بأخباره، ولا يعملون بأحكامه يستكبرون عنه عملاً، ويجحدونه خبراً إذا جاءهم شيء من القرآن كقصص الأنبياء السابقين أو غيرهم أو عن اليوم الآخر أو ما أشبه ذلك صاروا والعياذ بالله يشككون في ذلك ولا يؤمنون، وربما يصل بهم الحال إلى الجحد مع أنهم يقرءون القرآن، وفي الأحكام يستكبرون لا يأتمرون بأمره ولا ينتهون بنهيه، هؤلاء يضعهم الله في الدنيا والآخرة، والعياذ بالله.
593;مر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے"۔ یعنی جو لوگ اس قرآن کو سیکھتے ہیں، اس کی تلاوت کرتے اور پڑھتے ہیں، ان میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں بلندیاں عطا فرماتا ہے اور بعض کو دنیا و آخرت میں ذلیل کرتا ہے۔ جو قرآنی کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کرکے اس کی احکامات پر عمل کرتا ہے اور نواہی سے بچتا ہے، اس سے راہ نمائی حاصل کرتا ہے، اس کے بیان کردہ اخلاق فاضلہ کے مطابق خود کو ڈھالتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں بلندیاں عطا کرتا ہے؛ کیوںکہ یہی قرآن اصل علم، علم کا سرچشمہ اور پورا علم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿یرفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾ ”اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے، جو ایمان ﻻئے ہیں اور جو علم دیے گئے ہیں، درجے بلند کر دے گا اور آخرت میں اس کے ذریعے بہت ساری قوموں کو نعمتوں والی جنت میں بلندیاں عطا کریں گے۔
جہاں تک ان لوگوں کی بات ہے، جنھیں اللہ قرآن کے ذریعے ذلیل کرتا ہے، تو یہ وہ لوگ ہیں، جو اس کی تلاوت بہتر انداز میں کرتے ہیں؛ لیکن اس سے تکبر کرتے ہیں، اس کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق نہیں کرتے، اس کے احکامات پر عمل نہیں کرتے، اس کی خبروں کو جان بوجھ کر جھٹلاتے ہیں، جیسے گزشتہ انبیا کے واقعات یا آخرت کے بارے میں قرآن کی خبریں وغیرہ۔ ان تمام امور میں شک و شبہ کی روش اپناتے ہیں-والعیاذ باللہ- اور دل سے یقین نہیں کرتے۔ بسا اوقات ان کا یہ جان بوجھ کر انکار کا رویہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے بھی اس کا انکار کرتے ہیں، اس کے احکامات سے روگردانی کرتے ہیں، اوامر پر عمل نہیں کرتے اور نہ ہی ممنوعات سے بچتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں رسوا کرے گا۔ والعیاذ باللہ!

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10119

 
 
Hadith   1611   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أتي ليلة أسري به بقدحين


Tema:

نبی ﷺ کے سامنے معراج کی رات دو پیالے پیش کئے گئے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-: أنّ النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- أُتِيَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ، فَنَظَرَ إِلَيْهمَا فَأَخَذَ اللَّبَنَ. فَقَالَ جِبريل: الحَمْدُ للهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلفِطْرَةِ لَوْ أخَذْتَ الخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معراج کی رات نبی کريم ﷺ کے سامنے دودھ اور شراب کے دو پیالے پیش کيے گئے۔ آپ ﷺ نے ان دونوں کی طرف ديکھا اور دودھ (والا پيالہ) لے ليا۔ تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہے جس نے آپ کی رہنمائی فطرت کی طرف فرمائی، اگرآپ شراب (کا پیالہ) لے لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أُتِيَ، أي: أتاه جبريل، ليلة أسري به، وهي ليلة المعراج، أتاه بقدحين مملوءين  أحدهما من خمر والآخر من لبن، "فنظر إليهما"، أي: كأنه خُيِّرَ بينهما، فأُلهم –صلى الله عليه وسلم- اختيار اللبن، "فأخذ اللبن، فقال جبريل: الحمد لله الذي هداك للفطرة"، أي: اخترت علامة الإسلام والاستقامة، وجعل اللبن علامة على ذلك لكونه سهلاً طيباً طاهراً سائغاً للشاربين، سليم العاقبة، "لو أخذت الخمر غوت أمتك".
606;بی کريم ﷺ کے پاس معراج کی رات جبرئيل عليہ السلام دودھ اور شراب سے بھرے ہوئے دو پیالے لے کر آئے۔ ”آپ ﷺ نے ان دونوں کی طرف ديکھا“ یعنی گویا کہ آپ ﷺ کو ان دونوں میں سے کوئی ايک لینے کا اختیار دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ کے دل میں دودھ والے پيالے کو اختیار کرنے کی بات ڈال دی گئی، چنانچہ آپ ﷺ نے دودھ (والا پيالہ) لے ليا۔ تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمايا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے آپ کی رہنمائی فطرت کی طرف فرمائی، یعنی آپ نے اسلام اور استقامت کی علامت کو اختيار كیا۔ جبرئیل امین نے دودھ کو ان چیزوں کی علامت اس لیے قرار دیا کیونکہ یہ بہت آسان نوش، پاک صاف، پینے والوں کے لئے خوشگوار اور نتائج کے اعتبار سے محفوظ ہوتا ہے۔ ”اگر آپ شراب کا (پیالہ) لے لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10120

 
 
Hadith   1612   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صام يوم عاشوراء


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے یومِ عاشوراء کا روزہ رکھا۔

عن ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صام يوم عاشوراء وأمر بصيامه.

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا اور (دوسروں کو بھی) اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

اتفق العلماء على أن صوم يوم عاشوراء سنة وليس بواجب، واختلفوا في حكمه في أول الإسلام حين شرع صومه قبل صوم رمضان، هل كان صيامه واجباً أم لا؟، فعلى تقدير صحة قول من يرى أنه كان واجباً، فقد نسخ وجوبه بالأحاديث الصحيحة، منها: عن عائشة -رضي الله عنها- أن قريشاً كانت تصوم يوم عاشوراء في الجاهلية، ثم أمر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بصيامه حتى فرض رمضان، وقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من شاء فليصمه ومن شاء أفطر". رواه البخاري (3/24 رقم1893)، ومسلم (2/792 رقم1125).

593;لماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عاشوراء کا روزہ سنت ہے، واجب نہیں ہے تاہم ابتدائے اسلام میں جب رمضان سے پہلے اس دن کا روزہ مشروع ہوا تو اس کے حکم کے سلسلے میں ان کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا وہ واجب تھا یا نہیں؟ اگر اس گروہ کی رائے کو درست مان بھی لیا جائے جن کا کہنا ہے کہ یہ واجب تھا تو پھر بھی صحیح احادیث کی وجہ سے اس کا وجوب منسوخ ہوچکاہے۔ انہی احادیث میں سے ایک اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث ہے جس میں وہ فرماتی ہیں کہ قریش دورِ جاہلیت میں عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ بعدازاں آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا تاوقتیکہ کہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو چاہے وہ اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔ (بخاری ومسلم)

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10121

 
 
Hadith   1613   الحديث
الأهمية: قال الله -تعالى-: أعددت لعبادي الصالحين ما لا عين رأت، ولا أذن سمعت، ولا خطر على قلب بشر، واقرؤوا إن شئتم: فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون


Tema:

اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیز تیار کر رکھی ہے کہ نہ کسی آنکھ نے اس (جیسی کسی چیز) کو دیکھا ہے، نہ کسی کان نے اس کے بارے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال ہی آیا ہے۔ اگر تم اس بات کی تصدیق چاہو، تو یہ آیت پڑھو : ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ﴾ ”کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، وہ جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔“

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «قال الله -تعالى-: أَعْدَدْتُ لعِبَادي الصَّالحين ما لا عَيْنٌ رأَت، ولا أُذُنٌ سَمِعَت، ولا خَطَر على قَلب بَشَر، واقْرَؤُوا إن شِئْتُمْ: (فلا تَعلم نفس ما أُخْفِي لهم من قُرَّة أَعْيُنِ جَزَاء بما كانوا يعملون).
عن سهل بن سعد -رضي الله عنه- قال: شَهدت من النبي -صلى الله عليه وسلم- مَجْلِسَا وَصَفَ فيه الجَنَّة حتى انتهى، ثم قال في آخر حديثه: «فيها ما لا عَيْنٌ رأَت، ولا أُذُنٌ سَمِعَت، ولا خَطَر على قَلب بَشَر» ثم قرأ:(تتجافى جُنُوبهم عن المَضَاجِع) إلى قوله -تعالى-:(فلا تعلم نفس ما أُخْفِي لهم من قُرَّة أَعْيُنِ).

ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیز تیار کر رکھی ہے کہ نہ کسی آنکھ نے اس (جیسی کسی چیز) کو دیکھا ہے، نہ کسی کان نے اس کے بارے میں سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال ہی آیا ہے۔ اگر تم اس بات کی تصدیق چاہو تو یہ آیت پڑھو: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ﴾ ”کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، وہ جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے“۔
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی ایک مجلس میں موجود تھا۔ اس میں جنت کا ذکر ہوا۔ جب آپ ﷺ گفتگو پوری فرما چکے، تو آخر میں فرمایا: اس میں وہ کچھ ہے، جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ ہی اس کا خیال ہی کسی آدمی کے دل پر گزرا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے آیت‘ ﴿تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ سے لے کر اللہ تعالی کے فرمان:﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ﴾ تک تلاوت فرمائی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: أعد الله -تعالى- لعِبَاده الصالحين، وهم من امتثل الأوامر واجتنب النواهي: "ما لا عَيْنٌ رأَت" من المَحاسن والجمال البَاهر، "ولا أُذُنٌ سَمِعَت" من الأصوات المُطربة، والأوصَاف المعجبة، وخص الرؤية، والسَّمع بالذِّكر؛ لأنه يُدرك بهما أكثر المَحْسُوسَات، والإدْرَاك بالذَّوق والشَّم، وأما اللَّمس فأقل من ذلك. "ولا خَطر على قَلب بَشر" يعني: ما أُعِدَّ لهم في الجَنَّة من النَّعيم المُقيم لا يخطر على قلب أحد، وكل ما جاء على بالهم، فإن ما في الجَنَّة أفضل مما خَطر على قلوبهم؛ لأن البَشَر لا يخطر على بالهم إلا ما يعرفونه ويقرب إلى خَيالهم من الأشياء التي عرفوها، ونعيم الجَنَّة فوق ذلك، وهذا من إكرام الله لهم على امتثالهم لأوامر الله، واجتنابهم نواهيه، وتحمل المشقة في سبيل الله، فكان الجزاء من جِنس العمل.
"واقْرَؤُوا إن شِئْتُمْ" وفي رواية: "ثم اقترأ هذه الآية (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) ومعنى قوله: (فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ) يدخل فيه جميع نفوس الخلق؛ لكونها نكرة في سياق النفي. أي: فلا يعلم أحد (مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ) من الخير الكثير، والنعيم الغزير، والفرح والسرور، واللذة والحبور، فكما أنهم صلوا في الليل، ودعوا، وأخفوا العمل، جازاهم من جنس عملهم، فأخفى أجرهم، ولهذا قال: (جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ).
581;دیث کا مفہوم: اللہ تعالی نے اپنے نیک بندوں یعنی ان لوگوں کے لیے،جو اس کے احکامات بجا لاتے ہیں اور اس کی منع کردہ باتوں سے اجتناب کرتے ہیں، وہ محاسن اور خیرہ کر دینے والی خوب صورت اشیا تیار کر رکھی ہیں، جنھیں کسی آنکھ نے نہیں دیکھا۔اور ایسی بے خود کردینے والی آوازیں اور من پسند اوصاف تیار کر چھوڑے ہیں،جنھیں کسی کان نے نہیں سنا۔یہاں بطور خاص آنکھ اور سماعت کا ذکر کیا،کیوںکہ انہی دونوں کے ذریعے زیادہ تر محسوسات کاادراک ہوتا ہے۔چکھنے، سونگھنے اور چھونے کے ذریعے ان سے کم ادراک ہوتا ہے۔
”ولا خَطر على قَلب بَشر“ یعنی ان کے لیے جنت میں جو دائمی نعمتیں تیار ہیں،ان کا خیال تک کسی کے دل پرسے نہیں گزرا۔ہر وہ شے جس کا خیال انسان کے دل میں آتا ہے،جنت میں اس سے بہتر ان کے لیے موجود ہے۔کیوںکہ، انسان کے دل پر صرف انہی اشیا کا خیال آتا ہے،جنھیں وہ جانتے ہیں اور ان کے خیال کے قریب وہی اشیا آتی ہیں،جن کی وہ پہچان رکھتے ہیں۔جب کہ جنت کی نعمتیں ان سے کہیں برتر ہیں۔یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ان کے لیے بطور تکریم ہوگا۔کیوںکہ انھوں نے اللہ کے احکامات کی بجاآوری کی ہوگی،اس کی حرام کردہ باتوں سے اجتناب برتا ہوگا اور اس کے راستے میں مشقت برداشت کی ہوگی۔ چنانچہ بدلہ عمل ہی کی جنس سے سے ملے گا۔
”واقْرَؤُوا إن شِئْتُمْ“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ:پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾
﴿فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ﴾اس میں تمام نفوس شامل ہیں۔ کیوںکہ سیاق نفی میں نکرہ عموم کا معنی دیتا ہے۔یعنی کسی کو یہ معلوم نہیں کہ:﴿مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ یعنی ان کے لیے کیسی خیر کثیر، بے شمار نعمتیں، فرح وسرور اور لذت و خوشی رکھی ہوئی ہے۔جس طرح انھوں نے راتوں کو نماز پڑھی، دعائیں کیں اور اپنے اعمال کو مخفی رکھا،اسی طرح اللہ نے بھی انھیں ان کے عمل کی جنس سے بدلہ دیا۔بایں طور کہ ان کے اجر کو مخفی رکھا۔اسی لیے فرمایا: ﴿جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾وہ جو کچھ کرتے تھے، یہ اس کا بدلہ ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10404

 
 
Hadith   1614   الحديث
الأهمية: إني لأعلم آخر أهل النار خروجًا منها، وآخر أهل الجنة دخولًا الجنة. رجل يخرج من النار حبوًا، فيقول الله -عز وجل- له: اذهب فادخل الجنة، فيأتيها، فيخيل إليه أنها ملأى، فيرجع، فيقول: يا رب وجدتها ملأى


Tema:

میں خوب جانتا ہوں کہ اہلِ جہنم میں سے کون سب سے آخر میں وہاں سے نکلے گا اور اہلِ جنت میں کون سب سے آخر میں داخل ہو گا۔ ایک شخص جہنم سے سرین کے بل گھسٹتے ہوئے نکلے گا اور اللہ تعالی اس سے کہے گا کہ: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت کے پاس آئے گا لیکن اسے ایسا معلوم ہو گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔

عن المغيرة بن شعبة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «سَأل موسى -صلى الله عليه وسلم- ربَّه: ما أدْنَى أهل الجَنَّة مَنْزِلَة؟ قال: هو رَجُل يَجِيءُ بعد ما أُدخِل أهل الجَنَّة الجَنَّة، فَيُقَال له: ادخل الجَنَّة. فيقول: أيْ رب، كيف وقد نَزَل النَّاس مَنَازِلَهُم، وأخَذُوا أَخَذَاتِهِم؟ فَيُقَال له: أَتَرْضَى أن يكون لك مثل مُلْكِ مَلِكٍ من مُلُوكِ الدُّنيا؟ فيقول: رَضِيْتُ رَبِّ، فيقول: لك ذلك ومثله ومِثْلُه ومِثْلُه ومِثْلُه، فيقول في الخامِسة. رَضِيْتُ رَبِّ، فيقول: هذا لك وَعَشَرَةُ أَمْثَالِه، ولك ما اشْتَهَتْ نَفْسُكَ، وَلَذَّتْ عَيْنُكَ. فيقول: رَضِيتُ رَبِّ. قال: رَبِّ فَأَعْلاَهُمْ مَنْزِلَة؟ قال: أُولَئِكَ الَّذِينَ أَرَدْتُ غَرَسْتُ كَرامَتَهُم بِيَدِي، وخَتَمْتُ عليها، فلم تَر عَيْنٌ، ولم تسمع أُذُنٌ، ولم يَخْطُر على قَلْب بَشَر».    
وعن ابن مسعود -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إنِّي لأَعْلَمُ آخِر أَهل النَّارِ خُرُوجًا منها، وآخِر أهل الجنَّة دخولًا الجنَّة. رَجُل يخرج من النَّار حَبْوا، فيقول الله -عز وجل- له: اذهب فادخل الجنَّة، فيَأتِيَها، فَيُخَيَّل إليه أَنَّها مَلْأَى، فيرجع، فيقول: يا رب وجَدُتها مَلْأَى! فيقول الله -عز وجل- له: اذهب فادخل الجَنَّة، فيأتيها، فَيُخَيَّل إليه أَنَّها مَلْأَى، فيرجع فيقول: يا ربِّ وجَدُتها مَلْأَى، فيقول الله -عز وجل- له: اذهب فادخل الجَنَّة، فإن لك مثل الدنيا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا؛ أو إن لك مثل عَشَرَةَ أَمْثَالِ الدُّنْيَا، فيقول: أَتَسْخَرُ بِي، أو تضحك بِي وأنت الْمَلِكُ!». قال: فلقد رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ضَحِك حتى بَدَت نَوَاجِذُه فكان يقول: «ذلك أَدْنَى أهل الجَنَّة مَنْزِلة».

مغيره بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: موسی علیہ السلام نے اپنے رب سے پوچھا کہ سب سے کم درجے والا جنتی کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ شخص ہے جو سب جنتیوں کے جنت میں جانے کے بعد آئے گا اور اس سے کہا جائے گا جنت میں چلا جا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! کیسے جاؤں ؟ وہاں تو سب لوگو ں نے اپنے اپنے ٹھکانے بنالیے ہیں اور اپنی اپنی چیزیں لے لی ہیں۔ اس سے کہا جائے گا کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ تجھے اتنا ملے جتنا دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے پاس ہوتا ہے؟۔ وہ کہے گا میں راضی ہوں اے میرے رب!۔ اللہ تعالی فرمائیں گے: جا اتنا ہم نے تجھے دیا ہے اور اتنا ہی اور ، اور اتناہی اور ، اور اتنا ہی اور ، او ر اتنا ہی اور۔ پانچویں بار میں وہ کہے گا: میں راضی ہوں اے میرے رب! ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ بھی تیرے لیے اوراس کا دس گنا اور بھی تیرا ہے۔ اور جو تیرا جی چاہے اور جو تجھے اچھا نظر آئے وہ بھی تیرا ہے۔ وہ کہے گا اے میرے رب! میں راضی ہوگیا ۔ پھر حضرت موسی علیہ السلام نے پوچھا کہ: سب سے بڑے درجے والا جنتی کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ تو وہ لوگ ہیں جن کو میں نے خود چنا اور ان کی بزرگی اور عزت کو میں نے اپنے ہاتھ سے جمایا اور اس پر مہر کردی۔ نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی انسان کے دل میں کبھی خیال بن کر گزرا ہے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں خوب جانتا ہوں کہ اہلِ جہنم میں سے کون سب سے آخر میں وہاں سے نکلے گا اور اہلِ جنت میں کون سب سے آخر میں داخل ہو گا۔ ایک شخص جہنم سے سرین کے بل گھسٹتے ہوئے نکلے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا کہ: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت کے پاس آئے گا لیکن اسے ایسا معلوم ہو گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔چنانچہ وہ واپس آئے گا اور عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے جنت کو بھرا ہوا پایا، اللہ تعالیٰ پھر اس سے کہے گا کہ: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ پھر آئے گا لیکن اسے ایسا لگے گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔ وہ واپس لوٹے گا اور عرض کرے گا کہ: اے رب! میں نے جنت کو بھرا ہوا پایا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ تمہیں دنیا اور اس کے ساتھ اس کا دس گنا دیا جاتا ہے یا (اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ) تمہیں دنیا کے دس گنا دیا جاتا ہے۔ وہ شخص کہے گا تو میرا مذاق بناتا ہے حالانکہ تو شہنشاہ ہے؟۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ اس بات پر رسول اللہ ﷺ ہنس دیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے آگے کے دندان مبارک ظاہر ہو گیے اور آپ ﷺ کا کہنا تھا کہ وہ جنت کا سب سے کم درجے والا شخص ہو گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بيان كرم الله -تعالى- وسعة رحمته، وبيان منزلة أهل الجنة، حيث إن أدناهم منزلة يتنعم بأضعاف أضعاف ما يملكه أي ملِك في الدنيا.
575;س حدیث میں اللہ تعالی کے کرم اور اس کی رحمت کی کشادگی کا بیان ہے اور جنتی لوگوں کے مقام کی وضاحت ہے بایں طور کہ ان کا سب سے کم تر درجے والا بھی ان نعمتوں سے کئی گنا زیادہ کے ساتھ لطف اندوز ہوگا جو دنیا کے کسی بادشاہ کے پاس ہوتی ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10405

 
 
Hadith   1615   الحديث
الأهمية: جعل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ثلاثة أيام ولياليهن للمسافر، ويوما وليلة للمقيم


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے (موزوں پر مسح کرنے کی مدت)تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر فرمائی ہے

عن شريح بن هانئ، قال: أتيتُ عائشة أسألها عن المسح على الخُفَّين، فقالت: عَلَيْكَ بِابْنِ أبِي طالب، فَسَلْهُ فإِنَّه كان يُسَافِرُ مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فسألناه فقال: «جَعَلَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ للمسافر، ويوما وليلة للمُقيم».

شریح بن ہانی بیان بیان کرتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں پوچھنے آیا (کہ اس کی مدت کتنی ہے؟)، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابن ابی طالب کے پاس جا کر پوچھو کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے (موزوں پر مسح کرنے کی مدت)تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر فرمائی ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
شريح بن هانئ من جملة أصحاب علي -رضي الله عنه-، وقد جاء إلى عليٍّ -رضي الله عنه- مستفتيًا عن التوقيت في المسح على الخفين، وكان هذا الاستفسار بعدما أحالته أمنا عائشة -رضي الله عنها- على عليٍّ؛ لكونه الخبير في سنة المسح، فقال: (سألناه عن المسح) أي: عن مدته، والمسح إصابة اليد المبتلة بالعضو، والخف نعل من جلد يغطي الكعبين، والجورب لفافة الرجل من أي شيء كان من الشعر، أو الصوف، ثخيناً أو رقيقاً إلى ما فوق الكعب يتخذ للبرد، وحكمه حكم الخف في المسح.
فأجابهم علي بن أبي طالب -رضي الله عنه-: (ثلاثة أيام وليَاليهن للمسافر، ويوما وليلة للمقيم) ففيه دليل لما ذهب إليه جمهور العلماء من توقيت المسح بثلاثة أيام للمسافر، ويوم وليلة للمقيم، وإنما زاد في المدة للمسافر؛ لأنه أحق بالرخصة من المقيم لمشقة السفر.
588;ریح بن ہانی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے تھے۔ وہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس موزوں پر مسح کرنے کی مدت کے بارے میں استفسار کے لئے آئے۔ یہ استفسار اس وقت ہوا جب کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا؛ کیونکہ وہ مسح کی سنت کو زیادہ جاننے والے تھے۔ شریح ابن ہانی کہتے ہیں کہ: ”ہم نے ان سے مسح کے بارے میں پوچھا“یعنی اس کی مدت کے بارے میں دریافت کیا۔ مسح کا معنی ہے عضو پر گیلا ہاتھ پھیرنا۔ خُف (موزہ) چمڑے سے بنا جوتا ہوتا ہے جو ٹخنوں کو ڈھانپ لیتا ہے اور ’جَورَب (پائتابہ) کسی بھی شے سے بنے ہوئے پاؤں کے غلاف کو کہتے ہیں چاہے وہ بال کا ہو یا اون کا، چاہے وہ موٹا ہو یا پتلا، یہ ٹخنوں سے اوپر تک ہوتا ہے اور سردی سے بچاؤ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، مسح کرنے میں جورب کا حکم بھی وہی ہے جو خُف کا ہے۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس کی مدت مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات ہے۔ اس میں جمہور علماء کے مسلک کی دلیل ہے کہ مسح کی مدت مسافر کے لئے تین دن اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات ہے۔ مسافر کی مدت زیادہ اس لیے رکھی گئی ہے کیونکہ سفر کی مشقت کی وجہ سے وہ مقیم کی بنسبت رخصت کا زیادہ حق دار ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10406

 
 
Hadith   1616   الحديث
الأهمية: قولي: السلام على أهل الديار من المؤمنين والمسلمين، ويرحم الله المستقدمين منا والمستأخرين، وإنا إن شاء الله بكم للاحقون


Tema:

کہو سلام ہو ایمان والے گھر والوں پر اور مسلمانوں پر، اللہ تعالیٰ ہم سے آگے جانے والوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے اور ہم ان شاء اللہ ضرور تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: ألا أُحَدِّثكم عنِّي وعن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قلنا: بلى، قال: قالت: لمَّا كانت ليلتي التي كان النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- فيها عندي، انقلب فوضعَ رداءه، وخلع نعلَيْه، فوضعهما عند رجليه، وبسط طرفَ إزاره على فراشه، فاضطجع، فلم يلبث إلا رَيْثما ظنَّ أن قد رقدتُ، فأخذ رداءه رُوَيْدًا، وانتعل  رُوَيْدًا، وفتح الباب فخرج، ثم أجافه رُوَيْدًا، فجعلتُ دِرْعي في رأسي، واختمرتُ، وتَقنَّعتُ إزاري، ثم انطلقتُ على إثره، حتى جاء البَقِيعَ فقام، فأطال القيام، ثم رفع يديه ثلاث مرات، ثم انحرف فانحرفتُ، فأسرع فأسرعت، فهَرْول فهرولتُ، فأحضر فأحضرت، فسبقتُه فدخلت، فليس إلا أن اضطجعتُ فدخل، فقال: «ما لك؟ يا عائشُ، حَشْيا رابِية» قالت: قلت: لا شيء، قال: «تُخْبِرِينِي أَو لَيُخْبِرَنِّي اللطيفُ الخبير» قالت: قلت: يا رسول الله، بأبي أنت وأمي، فأخبرته، قال: «فأنتِ السواد الذي رأيتُ أمامي؟» قلت: نعم، فلَهَدَني في صدري لَهْدةً أوجعتني، ثم قال: «أظننتِ أنْ يَحِيفَ اللهُ عليك ورسولُه؟» قالت: مَهْما يكتمِ الناسُ يعلمه الله، قال: «نعم، فإن جبريلَ أتاني حين رأيتِ، فناداني، فأخفاه منك، فأجبتُه، فأخفيته منك، ولم يكن يدخل عليك وقد وضعتِ ثيابك، وظننت أن قد رقدت، فكرهتُ أن أوقظَك، وخشيتُ أن تستوحشي، فقال: إنَّ ربَّك يأمركَ أن تأتيَ أهلَ البَقِيع فتستغفر لهم»، قالت: قلت: كيف أقول لهم يا رسول الله؟ قال «قولي: السلامُ على أهل الدِّيار من المؤمنين والمسلمين، ويرحمُ اللهُ المستقدمين منا والمستأخرين، وإنَّا إن شاء الله بكم للاحِقون».

عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میں تم لوگوں کو اپنی اور رسول ﷺ کی بیتی سناؤں؟ ہم نے عرض کیا ضرور، فرمایا: نبی ﷺ میرے پاس میری باری کی رات میں تھے کہ آپ ﷺ نے کروٹ لی اور اپنی چادر اوڑھ لی اور جوتے اتارے اور ان کو اپنے پاؤں کے پاس رکھ دیا اور اپنی چادر کا کنارہ اپنے بستر پر بچھایا اور لیٹ گئے اور آپ ﷺ اتنی ہی دیر ٹھہرے کہ آپ ﷺ نے گمان کرلیا کہ میں سو چکی ہوں، آپ ﷺ نے آہستہ سے اپنی چادر لی اور آہستہ سے جوتا پہنا اور دروازہ کھولا اور باہر نکلے پھر اس کو آہستہ سے بند کردیا، (یہ دیکھ کر) میں نے اپنی چادر اپنے سر پر اوڑھی اور اپنا ازار پہنا اور آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چلی یہاں تک کہ آپ ﷺ بقیع (کے قبرستان) میں پہنچے اور کھڑے ہوگئے اور بہت لمبی مدت تک کھڑے رہے، پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار اٹھایا اور پھر آپ ﷺ واپس لوٹے، میں بھی لوٹی آپ ﷺ تیز چلے تو میں بھی تیز چلنے لگی، آپ ﷺ دوڑے تو میں بھی دوڑی، آپ ﷺ (گھر) پہنچے اور میں بھی پہنچی گئی، میں آپ ﷺ سے سبقت لے گئی اور داخل ہوتے ہی لیٹ گئی، آپ ﷺ تشریف لائے تو فرمایا اے عائشہ! تجھے کیا ہوگیا ہے؟ کہ تمہارا سانس پھول رہا ہے، میں نے کہا: کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم بتادو ورنہ مجھے لطیف وخبیر (باریک بین اور انتہائی باخبر) یعنی اللہ تعالیٰ خبر دے دے گا، تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! پھر پورے قصہ کی خبر میں نے آپ ﷺ کو دے دی، فرمایا میں اپنے آگے آگے جو سیاہ سی چیز دیکھ رہا تھا وہ تم تھیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، تو آپ ﷺ نے میرے سینے پر اس طرح مارا کہ مجھے تکلیف ہوئی، پھر فرمایا تم نے خیال کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تمہارا حق مار لیں گے؟ فرماتی ہیں کہ لوگ (کسی بات کو) کتنا ہی چھپا لیں اللہ اس کو جانتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے، جب تو نے (مجھے جاتے ہوئے) دیکھا، (انہوں نے) مجھے پکارا اور تم سے چھپایا تو میں نے بھی تم سے چھپانے ہی کو پسند کیا اور وہ تمہارے پاس اس لیے نہیں آئے کہ تم نے اپنے کپڑے اتار دیے تھے اور میں نے گمان کیا کہ تم سو چکی ہو اور میں نے تمہیں بیدار کرنا پسند نہ کیا، میں نے یہ خوف کیا کہ تم گھبرا جاؤ گی، جبرائیل نے کہا کہ آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ بقیع تشریف لے جائیں اور ان کے لیے مغفرت مانگیں، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں ان کے حق میں (دعا کے لیے) کیسے کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہو: ”السَّلَامُ عَلَی أَهْلِ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِکُمْ لَلَاحِقُونَ“ یعنی کہو سلام ہو ایمان والے گھر والوں پر اور مسلمانوں پر، اللہ تعالیٰ ہم سے آگے جانے والوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے اور ہم ان شاء اللہ ضرور تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تحكي أم المؤمنين عائشة رضي الله عنها قصة حدثت معها ومع رسول الله صلى الله عليه وسلم، بينما كان رسول الله  صلى الله عليه وسلم عندها وفي ليلتها، أتى إلى فراشه، فوضعَ رداءه، وخلع نعلَيْه، فوضعهما عند رجليه، ثم اضطجع، فلما ظن أني قد نمت أخذ رداءه بلطف ورفق، حتى لا ينبهني، ولبس حذاءه برفق وفتح الباب فخرج، ثم أغلقه برفق، وإنما فعل ذلك صلى الله عليه وسلم في خفية لئلا يوقظها ويخرج عنها فربما لحقها خوف في انفرادها في ظلمة الليل، فلبست عائشة ثيابها واختمرت ثم انطلقت وراءه، حتى جاء البَقِيع وهو مقبرة بالمدينة فقام، فأطال القيام، ثم رفع يديه ثلاث مرات يدعو، ثم استدار ليرجع إلى منزله فاستدارت عائشة بسرعة، ثم أسرع في المشي فأسرعت، ثم جرى فجرت، فسبقته فدخلت، فاضطجعت فدخل، فقال: «ما لك؟ يا عائشُ، حَشْيا رابِية» معناه: قد وقع عليك الحشا وهو الربو والتهيج الذي يعرض للمسرع في مشيه والمحتد في كلامه من ارتفاع النفس وتواتره وقوله «رابية» أي: مرتفعة البطن. فقالت: ليس بي شيء. فقال: إما أن تخبريني أو يخبرني الله اللطيفُ الخبير. فأخبرته بالذي حدث، فقال: فأنتِ الشخص الذي رأيتُه أمامي؟ قالت: نعم، فدفعها بكفه في صدرها فأوجعها، ثم قال: «أظننتِ أنْ يَحِيفَ اللهُ عليك ورسولُه؟» أي: أتظنين أن يظلمك الله ورسوله بأن تكون ليلتك التي قسمتها لك ثم أذهب إلى غيرك من نسائي؟ قالت: «مَهْما يكتمِ الناسُ يعلمه الله، نعم» أي: أكُل ما يكتمه الناس يعلمه الله؟ وكأنها لما قالت هذا صدَّقت نفسها فقالت: نعم. ثم أخبرها أن جبريل أتاه، ولم يدخل عليه منزله؛ لأن عائشة كانت قد وضعت ثيابها وتجهزت للنوم، فظن النبي صلى الله عليه وسلم أنها قد نامت، وكره أن يوقظها حتى لا تخاف لانفرادها في ظلام الليل، فقال له جبريل: إنَّ ربَّك يأمركَ أن تأتيَ أهلَ البَقِيع فتستغفر لهم. فذهب النبي صلى الله عليه وسلم ممتثلا لهذا الأمر فأتى أهل مقبرة البقيع فاستغفر لهم ودعا لهم. فقالت عائشة: كيف أقول لهم يا رسول الله؟ قال: «قولي: السلامُ على أهل الدِّيار من المؤمنين والمسلمين، ويرحمُ اللهُ المستقدمين منا والمستأخرين، وإنَّا إن شاء الله بكم للاحِقون».
575;م المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اپنا ایک قصہ بیان کر رہی ہیں جو رسول ﷺ کے ساتھ پیش آیا ،یہ واقعہ اس رات کا ہے جب ان کے یہاں آپ ﷺ کی باری تھی، فرمایا: ایک رات نبی ﷺ میرے یہاں تھے کہ آپ ﷺ نے کروٹ لی اور اپنی چادر اور اپنی جوتی اپنے پاؤں کے آگے رکھی اور پھر لیٹ گئے اور جب یہ گمان ہو گیا کہ میں سو گئی ہوں، آپ ﷺ نے اپنی چادر آہستہ سے لی، تاکہ مجھے پتہ نہ چلے اور آہستہ سے جوتی پہنی، اور دروازہ کھولا اور باہر نکل گئے اور پھر آہستہ سے اس کو بند کر دیا۔ آپ ﷺ نے ایسا اس لیے کیا تاکہ میں بیدار نہ ہو جاؤں اور اکیلے چلے جائیں تاکہ مجھے رات کی تاریکی میں اکیلے رہتے ہوئے خوف نہ محسوس کریں۔ عائشہ ضی اللہ عنہا نے بھی اپنے لباس زیب تن کیے دو پٹہ سر پر اوڑھا اور آپ ﷺ کے پیچھے چل پڑیں، یہاں تک کہ آپ ﷺ بقیع پہنچے، جو مدینہ کا قبرستان ہے اور دیر تک کھڑے رہے، پھر دعا کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ تین بار اٹھائے اور پھر واپس گھر آنے کے لیے پلٹے، عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تیزی سے پلٹیں، نبی ﷺ تیزی سے چلنے لگے میں بھی تیزی سے چلنے لگی، پھر آپ ﷺ دوڑنے لگے اور میں بھی دوڑی اور گھر آپ سے پہلے پہنچ کر لیٹ گئی آپ ﷺ گھر میں داخل ہوئے اور فرمایا: ”اے عائشہ! تجھے کیا ہوگیا ہے؟ کہ تمہارا سانس پھول رہا ہے“، یعنی اے عائشہ! کیا ہوا تم کو ، تمہارے تیز چلنے کی وجہ سانس پھولا ہوا ہے جس کی وجہ سے بات کرنے میں اتار چڑھاؤ ہو رہا ہے۔ ”رابِية“ یعنی پیٹ پھولا ہوا ہونا، میں نے کہا: کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم بتادو ورنہ مجھے لطیف وخبیر (باریک بین اور انتہائی باخبر) یعنی اللہ تعالیٰ خبر دے دے گا، چنانچہ جو کچھ ہوا تھا میں نے بتا دیا، فرمایا اچھا تو میں اپنے آگے آگے جو سیاہ سی چیز دیکھ رہا تھا وہ تم تھیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، تو آپ ﷺ نے میرے سینے پر اس طرح مارا کہ مجھے تکلیف ہوئی، پھر فرمایا تم نے خیال کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تمہارا حق مار لیں گے؟ یعنی کیا تم یہ سمجھتی ہو کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے کہ تمہارے پاس رات گزارنے کے وقت دوسری ازواج کے یہاں چلا جاؤں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ لوگ (کسی بات کو) کتنا ہی چھپا لیں اللہ اس کو جانتا ہے، یعنی جو کچھ بھی لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالی اس سے خوب باخبر ہے، جب آپ رضی اللہ عنہا نے یہ جملہ کہا تو گویا اپنے تئیں اس خیال کی تصدیق کر دی، پھر آپ ﷺ نے بتایا کہ جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تھے مگر گھر میں داخل نہیں ہوئے کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے کپڑے نکال کر نیند کے لیے تیار ہو چکی تھیں، نبی ﷺ نےسمجھا کہ وہ سو چکی ہیں اور یہ ناپسند کیا کہ انہیں بیدار کر دیں کہ وہ رات کی تاریکی میں اکیلے گھبرا نہ جائیں، جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ بقیع تشریف لے جائیں اور اہل بقیع کے لیے مغفرت طلب کریں چنانچہ نبی ﷺ اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے نکلے اور بقیع پہنچ کر اہل بقیع کے لیے مغفرت طلب کی اور ان کے حق میں دعا کی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں ان کے حق میں (دعا کے لیے) کیسے کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہو: ”السَّلَامُ عَلَی أَهْلِ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِکُمْ لَلَاحِقُونَ“ یعنی کہو سلام ہو ایمان والے گھر والوں پر اور مسلمانوں پر، اللہ تعالیٰ ہم سے آگے جانے والوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے اور ہم ان شاء اللہ ضرور تم سے ملنے والے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10407

 
 
Hadith   1617   الحديث
الأهمية: لما خلق اللهُ آدمَ مسح ظهره فسقط من ظهره كل نَسَمة هو خالقها من ذُرِّيته إلى يوم القيامة


Tema:

جب اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے ان کی اولاد کی وہ ساری روحیں باہر آ گئیں جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے والا ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لما خلق اللهُ آدمَ مسح ظهره، فسقط من ظهره كل نَسَمة هو خالقها من ذُرِّيته إلى يوم القيامة، وجعل بين عيني كل إنسان منهم وَبِيصًا من نور، ثم عرضهم على آدم فقال: أي رب، مَن هؤلاء؟ قال: هؤلاء ذريتك، فرأى رجلا منهم فأعجبه وَبِيصُ ما بين عينيه، فقال: أي رب مَن هذا؟ فقال: هذا رجل من آخر الأمم من ذُرِّيتك يقال له: داود. فقال: رب كم جعلتَ عُمُرَه؟ قال: ستين سنة، قال: أي رب، زِده من عُمُري أربعين سنة. فلما قضي عمر آدم جاءه مَلَكُ الموت، فقال: أوَلَم يبقَ من عمري أربعون سنة؟ قال: أوَلَم تُعْطِها ابنَك داود قال: فجَحَدَ آدمُ فجحدت ذُرِّيتُه، ونسي آدمُ فنسيت ذُرِّيتُه، وخَطِئ آدم فخَطِئت ذُرِّيتُه».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے ان کی اولاد کی وہ ساری روحیں باہر آ گئیں جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے والا ہے۔ پھر ان میں سے ہر انسان کی آنکھوں کی بیچ میں نور کی ایک ایک چمک رکھ دی، پھر انہیں آدم کے سامنے پیش کیا، تو آدم نے کہا : میرے رب ! کون ہیں یہ لوگ ؟ اللہ نے کہا : یہ تمہاری ذریت (اولاد) ہیں، پھر انہوں نے ان میں ایک ایسا شخص دیکھا جس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک انہیں بہت اچھی لگی، انہوں نے کہا : اے میرے رب ! یہ کون ہے ؟ اللہ نے فرمایا : تمہاری اولاد کی آخری امتوں میں سے ایک فرد ہے۔اسے داؤد کہتے ہیں : انہوں نے کہا : میرے رب ! اس کی عمر کتنی رکھی ہے ؟ اللہ نے کہا : ساٹھ سال، انہوں نے کہا : میرے رب ! میری عمر میں سے چالیس سال لے کر اس کی عمر میں اضافہ فرما دے، پھر جب آدم (علیہ السلام) کی عمر پوری ہوگئی، ملک الموت ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : کیا میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی نہیں ہیں ؟ فرشتے نے کہا کہ وہ تو آپ اپنے بیٹے داؤد (علیہ السلام) کو دے چکے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا : پھر آدم (علیہ السلام) نے انکار کر دیا، چنانچہ ان کی اولاد بھی انکاری بن گئی۔ آدم بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھول گئی۔ آدم نے غلطی کی تو ان کی اولاد بھی خطاکار بن گئی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لما خلق الله -تعالى- آدم -عليه السلام- مسح ظهره، فخرج من ظهره كل إنسان هو خالقه من ذريته إلى يوم القيامة، وهذا المسح والإخراج على حقيقته، ولا يجوز تأويله بما يخرجه عن ظاهره كما هو مذهب أهل السنة. فلما أخرجهم من ظهره جعل بين عيني كل إنسان منهم بريقًا ولمعانًا من نور، ثم عرضهم على آدم، فقال آدم: يا رب، من هؤلاء؟ قال -تعالى-: هم ذريتك. فرأى رجلا منهم فأعجبه البريق الذي بين عينيه، فقال: يا رب، من هذا؟ قال -تعالى-: هو داود. فقال آدم: رب كم جعلتَ عمره؟ قال: ستين سنة. قال: رب زده من عمري أربعين سنة.
فلما انقضى عمر آدم إلا أربعين سنة، جاءه ملك الموت ليقبض روحه، فقال آدم: لقد بقي من عمري أربعون سنة. فقال له: لقد أعطيتها ابنك داود. وقد أنكر آدم ذلك لأنه كان في عالم الذر فلم يستحضره حالة مجيء ملك الموت له، فأنكرت ذريته، ونسي آدم فنسيت ذريته، وعصى آدم بأكله من الشجرة فعصت ذريته، لأن الولد يشبه أباه.
فهذا داود كان عمره المكتوب ستين سنة ثم زاده الله أربعين سنة، والله -سبحانه- عالم بما كان وما يكون وما لم يكن لو كان كيف كان يكون؛ فهو يعلم ما كتبه له وما يزيده إياه بعد ذلك، والملائكة لا علم لهم إلا ما علمهم الله، والله يعلم الأشياء قبل كونها وبعد كونها؛ فلهذا قال العلماء: إن المحو والإثبات في صحف الملائكة، وأما علم الله -سبحانه- فلا يختلف ولا يبدو له ما لم يكن عالمًا به فلا محو فيه ولا إثبات.

Esin Hadith Caption Urdu


”جب اللہ تعالی نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے ان کی اولاد کی وہ ساری روحیں باہر آ گئیں جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے والا تھا“ یہ ہاتھ کا پھیرنا اور ذریت کا نکالنا اپنی حقیقت پر قائم ہے، اس میں کسی قسم کی تاویل جو اسے اس کے ظاہری معنی سے پھیر دے جائز نہیں جیسا کہ اہل سنت کا مذہب ہے۔
پھر ان میں سے ہر انسان کی آنکھوں کی بیچ میں نور کی ایک ایک چمک رکھ دی، پھر انہیں آدم کے سامنے پیش کیا، تو آدم نے کہا : میرے رب! کون ہیں یہ لوگ ؟ اللہ نے کہا : یہ تمہاری ذریت (اولاد) ہیں، پھر انہوں نے ان میں ایک ایسا شخص دیکھا جس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک انہیں بہت اچھی لگی، انہوں نے کہا: اے میرے رب! یہ کون ہے ؟ اللہ نے فرمایا: یہ داؤد ہیں، انہوں نے کہا: میرے رب! اس کی عمر کتنی رکھی ہے؟ اللہ نے کہا: ساٹھ سال، انہوں نے کہا: میرے رب! میری عمر میں سے چالیس سال لے کر ان کی عمر میں اضافہ فرما دے۔
پھر جب آدم علیہ السلام کی ساری عمر ختم ہو گئی اور چالیس برس رہ گئے، ان کے پاس موت کا فرشتہ آیا تاکہ ان کی روح قبض کرے، آدم علیہ السلام نے کہا: میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی ہیں، اس نے کہا کہ آپ نے یہ چالیس برس اپنے بیٹے داؤد کو دے دیا تھا، آدم علیہ السلام نے انکار کردیا، کیونکہ وہ عالم ذر میں وعدہ کیے تھے اور ملک الموت کے آنے کے وقت انہیں یاد نہ رہا، چنانچہ ان کی اولاد بھی انکاری بن گئی، آدم علیہ السلام بھول گئے، تو ان کی اولاد بھی بھول گئی، آدم علیہ السلام نے درخت سے پھل کھا کر غلطی کی تو ان کی اولاد بھی خطاکار بن گئی کیونکہ اولاد اپنے باپ کے مشابہ ہوتی ہے۔
لہذا داؤد (علیہ السلام) جن کی عمر ساتھ سال تھی اللہ نے چالیس سال کا اضافہ کردیا اور اللہ ہی تمام ہونے والی اور ہو چکی باتوں کو جاننے والا ہے، اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ چیزیں جو رونما نہیں ہوئیں، اگر رونما ہوتیں تو کیسی ہوتیں، اللہ ہی ہے جو جانتا ہے کہ کس کے لیے کتنا ہے، اور اس کے بعد کتنا زیادہ ہونا ہے، فرشتوں کو اس بارے میں کوئی علم نہیں اِلاّ یہ کہ وہ علم جسے اللہ انہیں عطا کر دے، اللہ تعالی ہی ان تمام چیزوں کو ان کے وجود میں آنے سے قبل اور وجود میں آجانے کے بعد جانتا، اسی لیے علماء کہتے ہیں جو بھی محو (مٹانا) اور اثبات ہے وہ صرف فرشتوں کے صحیفے میں ہوتا ہے، رہا اللہ سبحانہ وتعالی کا علم تو اس میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی ایسی بات رونما ہوتی ہے جسے وہ پہلے نہیں جانتا تھا، اسی لیے اللہ کے علم میں کوئی محو اور اثبات نہیں ہوتا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10408

 
 
Hadith   1618   الحديث
الأهمية: كل مال نحلته عبدا حلال، وإني خلقت عبادي حنفاء كلهم، وإنهم أتتهم الشياطين فاجتالتهم عن دينهم


Tema:

میں نے اپنے بندے کو جو مال دے دیا ہے وہ اس کے لیے حلال ہے اور میں نے اپنے سب بندوں کو (حق کے لیے) یکسو پیدا کیا ہے لیکن شیاطین میرے ان بندوں کے پاس آکر انہیں ان کے دین سے بہکانے لگے۔

عن عياض بن حمار المجاشعي -رضي الله عنه-، أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، قال ذات يوم في خطبته: «ألَا إن ربي أمرني أن أُعَلِّمَكم ما جَهِلتم، ممَّا علَّمني يومي هذا، كلُّ مالٍ نَحَلتُه عبدًا حلال، وإني خلقتُ عبادي حُنَفاء كلهم، وإنهم أتتهم الشياطين فاجتالتهم عن دينهم، وحَرَّمت عليهم ما أحللتُ لهم، وأمرتهم أن يُشركوا بي ما لم أُنزِّل به سلطانا، وإن الله نظر إلى أهل الأرض، فمَقَتهم عربهم وعَجَمهم، إلَّا بقايا من أهل الكتاب، وقال: إنما بعثتُك لأبتليَك وأبتلي بك، وأنزلتُ عليك كتابًا لا يغسله الماءُ، تقرؤه نائمًا ويقظان، وإنَّ اللهَ أمرني أن أحرِق قُرَيشًا، فقلت: رب إذا يَثْلُغوا رأسي فيدعوه خُبْزة، قال: استخرجهم كما استخرجوك، واغزهم نُغزك، وأنفق فسننفق عليك، وابعث جيشا نبعث خمسة مثله، وقاتل بمن أطاعك مَن عصاك، قال: وأهل الجنة ثلاثة ذو سلطان مُقْسِط مُتَصَدِّق مُوَفَّق، ورجل رحيم رقيق القلب لكل ذي قربى ومسلم، وعفيف متعفِّف ذو عيال، قال: وأهل النار خمسة: الضعيف الذي لا زَبْر له، الذين هم فيكم تبعا لا يبتغون أهلا ولا مالا، والخائن الذي لا يخفى له طمع، وإن دقَّ إلا خانه، ورجل لا يُصبح ولا يمسي إلا وهو يخادعك عن أهلك ومالك «وذكر» البخل أو الكذب والشِّنظير الفحَّاش».

عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا: سنو میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تم لوگوں کو وہ باتیں سکھا دوں کہ جن باتوں سے تم لا علم ہو، میرے رب نے آج کے دن مجھے وہ باتیں سکھا دیں ہیں، (اللہ تعالی نے فرمایا) میں نے اپنے بندے کو جو مال دے دیا ہے وہ اس کے لیے حلال ہے اور میں نے اپنے سب بندوں کو (حق کے لیے) یکسو پیدا کیا ہے لیکن شیاطین میرے ان بندوں کے پاس آکر انہیں ان کے دین سے بہکانے لگے اور میں نے اپنے بندوں کے لیے جن چیزوں کو حلال کیا ہے وہ ان کے لیے حرام قرار دیے ہیں اور وہ ان کو ایسی چیزوں کو میرے ساتھ شریک کرنے کا حکم دیتے ہیں کہ جس کی کوئی دلیل میں نے نازل نہیں کی اور بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی تو اہل کتاب کے (کچھ ) بچے کھچے لوگوں کے سوا باقی عرب اور عجم سب پر سخت ناراض ہوا اور (مجھ سے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تمہیں اس لیے بھیجا ہے تاکہ میں تم کو آزماؤں اور تمہارے ذریعہ ان کو بھی آزماؤں اور میں نے آپ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے کہ جسے پانی نہیں دھو (مٹا) سکے گا اور تم اس کتاب کو سونے اور بیداری کی حالت میں بھی پڑھو گے اور بلاشبہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں قریش کو جلا ڈالوں تو میں نے عرض کیا: اے پروردگار! وہ میرے سر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے روٹی کی طرح کردیں گے۔ تو اللہ نے فرمایا: آپ انہیں باہر نکالیں جس طرح انہوں نے آپ کو باہر نکالا اور ان سے لڑائی کریں ہم آپ کو لڑوائیں گے اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کریں آپ پر خرچ کیا جائے گا اور آپ لشکر بھیجیں ہم اس جیسے پانچ لشکر بھیجیں گے اور جو لوگ آپ کے فرماں بردار ہیں ان کے ذریعے نافرمانوں کے خلاف جنگ کریں۔
آپ ﷺ نے فرمایا جنتی لوگ تین قسم کے ہیں: ایسا سلطنت والا جو عادل ہے صدقہ کرنے والا ہے اسے اچھائی کی توفیق دی گئی ہے۔ اور (دوسرا) ایسا مہربان شخص جو ہر قرابت دار اور ہر مسلمان کے لیے نرم دل ہے اور (تیسرا) وہ آدمی کہ جو پاکدامن پاکیزہ اخلاق والا ہو اور عیال دار بھی ہو لیکن کسی کے سامنے اپنا ہاتھ نہ پھیلاتا ہو۔
نیز آپ ﷺ نے فرمایا دوزخی پانچ طرح کے ہیں: وہ کمزور آدمی کہ جس کے پاس عقل نہ ہو اور دوسروں کا تابع (غلام) ہو اہل و مال کا طلبگار نہ ہو۔ (دوسرا) خیانت کرنے والا آدمی کہ جس کی حرص چھپی نہیں رہ سکتی اگرچہ اسے تھوڑی سی چیز ملے اور وہ اس میں بھی خیانت کرے۔ (تیسرا) وہ آدمی جو صبح شام تم کو تمہارے گھر اور مال کے بارے میں دھوکہ دیتا ہو۔ اور آپ ﷺ نے (چوتھا) بخیل یا جھوٹے اور (پانچواں) بدخو اور بیہودہ گالیاں بکنے والے آدمی کا بھی ذکر فرمایا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
خطب رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- ذاتَ يوم في أصحابه فأخبرهم أن الله أمره أن يعلمهم ما جهلوه، مما علمه ربه في ذلك اليوم، فكان مما علمه ربه قوله: «كلُّ مالٍ نَحَلتُه عبدًا حلال» أي: قال الله تعالى كل مال أعطيته عبدًا من عبادي فهو له حلال، والمراد إنكار ما حرَّموا على أنفسهم من بعض أنواع البهائم وأنها لم تصر حراما بتحريمهم، وكل مال ملكه العبد فهو له حلال حتى يتعلق به حق أو يرد عليه دليل خاص يخرجه من هذا العموم. ثم قال تعالى: «وإني خلقت عبادي حنفاء كلهم» أي: خلقت العباد مسلمين كلهم، وقيل: طاهرين من المعاصي، وقيل: مستقيمين منيبين لقبول الهداية، وقيل: المراد حين أخذ عليهم العهد في الذر، وقال ألست بربكم قالوا بلى. قوله تعالى: «وإنهم أتتهم الشياطين فاجتالتهم عن دينهم وحَرَّمت عليهم ما أحللتُ لهم، وأمرتهم أن يُشركوا بي ما لم أُنزِّل به سلطانا» أي: جاءتهم الشياطين فاستخفوهم فذهبوا بهم وأزالوهم عما كانوا عليه إلى الباطل، وحرمت عليهم ما أحل الله لهم، وأمرتهم بالإشراك بالله بعبادة ما لم يأمر الله بعبادتهم, ولم ينصب دليلا على استحقاقه للعبادة.
قوله صلى الله عليه وسلم: «وإن الله تعالى نظر إلى أهل الأرض فمقتهم عربهم وعجمهم إلا بقايا من أهل الكتاب» أي نظر الله تعالى إلى أهل الأرض قبل بعثة رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فوجدهم متفقين على الشرك والضلال، فأبغضهم إلا بقايا من أهل الكتاب، وهم الباقون على التمسك بدينهم الحق من غير تبديل، والأغلب من أهل الكتاب على التحريف، قوله سبحانه وتعالى: «إنما بعثتك لأبتليك وأبتلي بك» معناه: إني قد أرسلتك إلى الناس لأمتحنك بما يظهر منك من قيامك بما أمرتك به من تبليغ الرسالة، وغير ذلك من الجهاد في الله حق جهاده، والصبر في الله تعالى وغير ذلك، وأمتحن بك مَن أرسلتك إليهم، فمنهم من يُظهر إيمانه ويخلص في طاعاته، ومنهم من يتخلف ويظهر العداوة والكفر، ومنهم من ينافق، والمراد أن يمتحنه ليصير ذلك واقعا بارزا فإن الله تعالى إنما يعاقب العباد على ما وقع منهم لاعلى ما يعلمه قبل وقوعه، وإلا فهو سبحانه عالم بجميع الأشياء قبل وقوعها. «وأنزلت عليك كتابا لا يغسله الماء» معناه: أنزلت عليك القرآن، وهو محفوظ فى الصدور، لا يتطرق إليه الذهاب، بل يبقى على مر الأزمان. قوله تعالى: «تقرأه نائما ويقظان» معناه: يكون محفوظا لك فى حالتي النوم واليقظة، وقيل: تقرأه في يسر وسهولة.
قوله -صلى الله عليه وسلم-: «وإنَّ اللهَ أمرني أن أحرِق قُرَيشًا» أي: أمرني اللهُ أن أُهلك وأقتل كفار قريش «فقلت: رب إذا يَثْلُغوا رأسي فيدعوه خُبْزة» أي: يشدخوا رأسي ويشجوه كما يُشدخ الخبز، أي: يُكسَر. «قال: استخرجهم كما استخرجوك» أي: قال الله لنبيه -صلى الله تعالى عليه وسلم-: استخرج كفار قريش كإخراجهم إياك جزاء وفاقا، وإن كان بين الإخراجين بون بيِّن، فإن إخراجهم إياه بالباطل، وإخراجه إياهم بالحق «واغزهم نُغزك» أي: وجاهدهم، نعينك وننصرك عليهم «وأنفق فسننفق عليك» أي: أنفق ما في جهدك في سبيل الله فسنخلف عليك بدله في الدنيا والأخرة، «وابعث جيشا نبعث خمسة مثله» أي: إذا أرسلت جيشا لقتال الكفار، فسنرسل خمسة أمثاله من الملائكة تعين المسلمين كما فعل ببدر، «وقاتل بمن أطاعك من عصاك» أي: قاتل بمن أطاعك من المسلمين من عصاك من الكافرين.
 «قال: وأهل الجنة ثلاثة ذو سلطان مُقْسِط مُتَصَدِّق مُوَفَّق، ورجل رحيم رقيق القلب لكل ذي قربى ومسلم، وعفيف متعفِّف ذو عيال» أي: أهل الجنة ثلاثة أصناف: رجل صاحب حكم وقهر وغلبة، وهو مع ذلك يعدل بين الناس ولا يظلمهم ويحسن إليهم، قد هُيِّئ له أسباب الخير، وفُتح له أبواب البر. ورجل رحيم على الصغير والكبير رقيق القلب لكل من له قرابة خصوصا، ولكل مسلم عموما. ورجل صاحب عيال عفيف مجتنب الحرام، متعفف عن سؤال الناس، متوكل على الله في أمره وأمر عياله، فلا يحمله حب العيال ولا خوف رزقهم على ترك التوكل بسؤال الخلق، وتحصيل المال الحرام والاشتغال بهم عن العلم والعمل الواجب عليه.
«وأهل النار خمسة: الضعيف الذي لا زَبْر له، الذين هم فيكم تبعا لا يبتغون أهلا ولا مالا، والخائن الذي لا يخفى له طمع، وإن دقَّ إلا خانه، ورجل لا يُصبح ولا يمسي إلا وهو يخادعك عن أهلك ومالك وذكر البخل أو الكذب والشِّنظير الفحَّاش» أي: أهل النار خمسة أصناف: أولهم: «الضعيف الذى لازبر له» أي: الضعيف الذي لا عقل له يزجره ويمنعه مما لا ينبغى «الذين هم فيكم تبعا لا يبتغون أهلا ولا مالا» أي: الخدم الذين لا يطلبون زوجة، فأعرضوا عن الحلال وارتكبوا الحرام، ولا يطلبون مالا حلالا من طريق الكد والكسب الطيب، والثاني: «والخائن الذي لا يخفى له طمع وإن دق إلا خانه» أي: لا يخفى عليه شيء مما يمكن أن يطمع فيه بحيث لا يكاد أن يُدرك، إلا وهو يسعى في التفحص عنه، والتطلع عليه حتى يجده فيخونه، وهذا هو المبالغة في الوصف بالخيانة. والثالث: هو المخادع. والرابع: هو الكذاب أو البخيل. والخامس: هو الشنظير وهو الفحاش سيء الخلق.
575;للہ کے رسول ﷺ نے ایک دن اپنے صحابہ کے درمیان خطبہ دیا اور انہیں بتلایا کہ اللہ تعالی نے انہیں اس بات کاحکم دیا ہے کہ آپ ﷺ انہیں وہ چیز سکھلائیں جو ان کو معلوم نہیں ہیں جسے انہیں رب نے اس دن سکھلائے ہیں۔ چنانچہ ان باتوں میں سے جو اللہ تعالی نے نبی ﷺ کو سکھلائی ہیں۔
اللہ تعالی کا یہ قول کہ ”میں نے اپنے بندے کو جو مال دے دیا ہے وہ اس کے لیے حلال ہے“ يعنی اللہ تعالی نے فرمایا: میں جو بھی مال اپنے بندوں میں سے کسی کو دوں تو وہ اس کے لیے حلال ہے اور جنہوں نے کچھ جانوروں کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا اس سے اسی کا انکار مراد ہے اور یہ کہ اُن کے (ان جانوروں کو) حرام کر لینے سے وہ حرام نہیں ہوجاتے۔ جس مال کا بھی بندہ مالک ہے وہ اس کے لیے حلال ہے مگر یہ کہ اس سے کوئی حق متعلق ہو جائے یا کوئی خاص دلیل وارد ہو جو اس کو اس عموم سے خارج کر دے۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا: ”اور میں نے اپنے سب بندوں کو (حق کے لیے) یکسو پیدا کیا ہے“ یعنی میں نے سب بندوں کو مسلمان بنایا اور بقول بعض: گناہوں سے پاک صاف بنایا اور بقول دیگر صراط مستقیم پر گامزن اور قبول ہدایت کی طرف متوجہ ہونے والا بنایا۔جب کہ بعض لوگوں نے کہا کہ اس سے مراد وہ عہد وپیمان ہے جو ابتدائے آفرینش کے وقت بنی نوعِ آدم سے لیا گیا تھا اور اللہ تعالی نے پوچھا تھا:کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو انہوں نے کہا تھا کیوں نہیں! (یعنی بالکل)۔
اللہ تعالی کا قول: ”لیکن شیاطین میرے ان بندوں کے پاس آکر انہیں ان کے دین سے بہکانے لگے اور میں نے اپنے بندوں کے لیے جن چیزوں کو حلال کیا تھا وہ انہیں اُن کے لیے حرام قرار دینے لگے نیز وہ ان کو ایسی چیزوں کو میرے ساتھ شریک کرنے کا حکم دیتے ہیں کہ جس کی کوئی دلیل میں نے نازل نہیں کی“۔ یعنی ان کے پاس شیاطین آئے اور انہیں بہلایا پھسلایا اور جس دین پر یہ تھے اس سے ہٹا کر انہیں باطل کی طرف مائل کر دیا، اور ان پر ان چیزوں کو حرام کر دیا جسے اللہ تعالی نے ان کے لیے حلال کیا تھا اور انہیں اللہ کے ساتھ شرک کرنے کا حکم دیا ان چیزوں کی عبادت کر کے جن کی عبادت کرنے کا نہ تو اللہ نے حکم دیا اور نہ ہی ان کی عبادت کے استحقاق کی کوئی دلیل قائم کی۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی تو اہلِ کتاب کے (کچھ ) بچے کھچے لوگوں کے سوا باقی عرب اور عجم سب پر سخت ناراض ہوا“ یعنی اللہ تعالی نے رسول ﷺ کی بعثت سے قبل زمین والوں کی طرف دیکھا تو انہیں شرک اور گمراہی پر متفق پایا۔ چنانچہ اللہ نے ان سے سخت نفرت کی سوائے ان چند لوگوں کے جو اہلِ کتاب میں سے باقی تھے اور یہ وہ لوگ تھے جو بنا رد وبدل کیے اپنے سچے دین پر باقی تھے، جب کہ اہلِ کتاب کی اکثریت تحریف اور رد وبدل کا شکار ہو گئے تھے۔
اور اللہ سبحانہ وتعالی کا یہ فرمان کہ: "میں نے تمہیں اس لیے بھیجا ہے تاکہ میں تم کو آزماؤں اور تمہارے ذریعہ ان کو بھی آزماؤں“ یعنی میں نے تجھ کو لوگوں کی طرف اس لیے بھیجا تاکہ تمہیں آزماؤں کہ تبلیغِ رسالت، اللہ کے راستے میں کما حقہ جہاد کرنا اور اللہ کے راستے میں صبر اور اس کے علاوہ جس ذمہ داری کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے اس کی ادایئگی کا ظہور آپ سے بخوبی ہوا ہے اور آپ کے ذریعہ ان لوگوں کو آزماؤں جن کے پاس تجھ کو بھیجا، تو ان میں سے بعض وہ ہیں جو اپنے ایمان کو ظاہر کرتے ہیں اور اپنی فرماں برداری میں مخلص ہوتے ہیں اور کچھ پیچھے رہ جانے والے اور کفر و دشمنی کا اظہار کرنے والے ہیں اور ان میں سے بعض منافق ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی اسے آزمائے تاکہ حقیقت ظاہر ہو جائے کیونکہ اللہ تعالی بندوں کو ان سے واقع ہونے والی چیزوں کی بنیاد پر سزا دے گا نہ کہ اس گناہ کے واقع ہونے سے پہلے صرف اللہ تعالی کے علم رکھنے کی بنیاد پر ورنہ تو اللہ تعالی تمام چیزوں کے متعلق ان کے واقع ہونے سے قبل علم رکھتا ہے۔
”اور میں نے آپ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے کہ جسے پانی نہیں دھو (مٹا) سکے گا“ اس کا معنی یہ ہے کہ میں نے تم پر قرآن مجید نازل کیا اور وہ سینوں میں محفوظ ہے، وہ ختم نہیں ہوگا، بلکہ یہ سدا باقی رہے گا۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے: ”اور تم اس کتاب کو سونے اور بیداری کی حالت میں بھی پڑھو گے“ اس کا معنی یہ ہے کہ یہ نیند اور بیداری دونوں حالت میں آپ کے لیے محفوظ ہوگا اور بعض لوگوں نے کہا کہ تم اسے آسانی اور سہولت کے ساتھ پڑھتے رہوگے۔
اور نبی ﷺ کا فرمان: ”اور بلاشبہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں قریش کو جلا ڈالوں“ یعنی اللہ تعالی نے مجھے اس بات کاحکم دیا ہے کہ میں کفار قریش کو ہلاک اور انہیں قتل کروں۔
”تو میں نے عرض کیا: اے پروردگار! وہ میرے سر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے روٹی کی طرح کردیں گے“ یعنی وہ میرا سر توڑ ڈالیں گے اور اسے زخمی کر دیں گے جیسے روٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جا تا ہے۔
”آپ انھیں باہر نکال دیں جس طرح انھوں نے آپ کو باہر نکالا“ یعنی اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ سے کہا، کفار قریش کو اسی طرح نکال دو جس طرح انہوں نے تمہیں نکالا تھا تاکہ (ان کے اعمال کا) بدلہ پورا ہوجائے، اگرچہ دونوں نکالنے میں واضح فرق ہے، کیونکہ ان کا نبی ﷺ کو نکالنا ناحق تھا جب کہ نبی ﷺ کا انہیں نکالنا حق تھا۔
”اور ان سے لڑائی کریں ہم آپ کو لڑوائیں گے“ یعنی: ان سے جہاد کریں ہم آپ کی نصرت وحمایت کریں گے۔
”اور خرچ کریں آپ پر خرچ کیا جائے گا“ یعنی اپنی استطاعت کے بقدر اللہ کے راستے میں خرچ کریں ہم دنیا و آخرت میں آپ کو اس کا بدلہ دیں گے۔
”اور آپ لشکر بھیجیں ہم اس جیسے پانچ لشکر بھیجیں گے“ یعنی جب آپ کفار سے قتال کرنے کے لیے لشکر بھیجیں گے تو ہم ویسے فرشتوں کی پانچ فوج بھیجیں گے جو مسلمانوں کی مدد کرے گی جیسا کہ غزوہ بدر میں کیا۔
”اور جو لوگ آپ کے فرماں بردار ہیں ان کے ذریعے نافرمانوں کے خلاف جنگ کریں“ یعنی مسلمانوں میں سے جو لوگ آپ کی اطاعت کریں ان کو لے کر ان سے لڑیں جو کافروں میں سے آپ کی نافرمانی کریں۔
”آپ ﷺ نے فرمایا جنتی لوگ تین قسم کے ہیں:
(ایک) ایسا سلطنت والا جو عادل ہے صدقہ کرنے والا ہے اسے اچھائی کی توفیق دی گئی ہے۔
(دوسرا) ایسا مہربان شخص جو ہر قرابت دار اور ہر مسلمان کے لیے نرم دل ہے۔
(تیسرا) وہ آدمی کہ جو پاک دامن، پاکیزہ اخلاق والا ہو اور بال بچوں والا بھی ہو لیکن کسی کے سامنے اپنا ہاتھ نہ پھیلاتا ہو“۔
یعنی جنتیوں کی تین قسمیں ہیں: ایک وہ شخص جو حکم، غلبہ اور برتری والا ہے، اس کے باوجود وہ لوگوں کے درمیان انصاف کرتا ہے، ان پر ظلم نہیں کرتا بلکہ ان پر احسان کرتا ہے، اس کے لیے خیر کے اسباب مہیا کر دیے گئے اور نیکی کے دروازے کھول دیے گئے۔ اور ایک وہ آدمی جو ہر چھوٹے بڑے پر مہربان ہے اور ہر اس شخص کے لیے اس کا دل نرم ہے جس سے اس کا خصوصی رشتہ ہے اور ہر مسلمان کے لیے عمومی طور پر۔ اور وہ شخص جو بال بچوں والا پاک دامن، حرام چیزوں اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچنے والا ہے وہ اپنے اور بال بچوں کے امور میں اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنے والا ہے، پس اہل وعیال کی محبت اور ان کی روزی روٹی کا ڈر اسے اللہ پر بھروسہ چھوڑ کر مخلوق کے سامنے دامن پسارنے، حرام مال کے حصول اور اس میں مشغول ہوکر واجبی علم وعمل سے غافل ہونے پر نہیں ابھارتا۔
”آپ ﷺ نے فرمایا دوزخی پانچ طرح کے ہیں:
(ایک) وہ کمزور آدمی کہ جس کے پاس عقل نہ ہو اور دوسروں کا تابع (غلام) ہو اہل و مال کا طلبگار نہ ہو۔
(دوسرا) خیانت کرنے والا آدمی کہ جس کی حرص چھپی نہیں رہ سکتی اگرچہ اسے تھوڑی سی چیز ملے اور وہ اس میں بھی خیانت کرے۔
(تیسرا) وہ آدمی جو صبح شام تم کو تمہارے گھر اور مال کے بارے میں دھوکہ دیتا ہو۔
آپ ﷺ نے (چوتھا)بخیل یا جھوٹے
اور(پانچواں) بدخو اور بیہودہ گالیاں بکنے والے آدمی کا بھی ذکر فرمایا“۔
یعنی جہنمیوں کی پانچ قسمیں ہیں ان کا پہلا ”وہ شخص جو ایسا کمزور شخص ہے جس کے پاس عقل نہ ہو“ یعنی وہ کمزور جس کے پاس ایسی عقل نہیں ہے جو اسے غیر مناسب کام کرنے سے روکے، جو تم میں سے ماتحت (غلام) ہیں نہ وہ گھر چاہتے ہیں اور نہ مال“ یعنی وہ نوکر چاکر جنہیں بیوی کی طلب نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ حلال سے منہ موڑ کر حرام کے مرتکب ہو جائیں اور نہ ہی وہ جدوجہد اور پاکیزہ کمائی کے ذریعہ حلال مال کے طلب گار ہوتے ہیں۔
دوسرا: ”وہ خیانت کرنے والا آدمی کہ جس کی حرص چھپی نہیں رہ سکتی اگرچہ اسے تھوڑی سی چیز ملے اور وہ اس میں بھی خیانت کرے“ یعنی اس پر کوئی ایسی چیز پوشیدہ نہیں رہتی ہے جسے حاصل نہ کیا جاسکتا ہو بایں طور کہ اس کا حصول ممکن نہ ہو مگر وہ اسے ڈھونڈنے لگتا ہے تاکہ اس چیز کے حاصل ہو جانے پر اس میں خیانت کرے یعنی یہ خیانت کے عیب سے متصف ہونے میں مبالغہ ہے۔
اور تیسرا دھوکے باز شخص اور چوتھا جھوٹا یا بخیل آدمی اور پانچواں گالیاں بکنے والا یعنی: بدزبان اور بد خلق شخص ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10409

 
 
Hadith   1619   الحديث
الأهمية: رب أعني ولا تعن علي، وانصرني ولا تنصر علي، وامكر لي ولا تمكر علي، واهدني ويسر هداي إلي، وانصرني على من بغى علي


Tema:

اے میرے رب ! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر، میرے حق میں تدبیر فرما ، میرے خلاف تدبیر نہ کر ۔ میری رہنمائی فرما اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما دے اور جو میرے خلاف بغاوت کرے اس کے مقابلے میں میری مدد فرما۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما-، قال:  كان النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- يدعو: «ربِّ أَعِنِّي ولا تُعِن عليَّ، وانصرني ولا تنصر عليَّ، وامكر لي ولا تمكر عليَّ، واهدني ويسِّر هُدايَ إليَّ، وانصرني على مَن بغى عليَّ، اللهم اجعلني لك شاكرًا، لك ذاكرًا، لك راهبًا، لك مِطواعًا، إليك مُخْبِتًا، أو مُنِيبا، رب تقبَّل توبتي، واغسل حَوْبتي، وأجب دعوتي، وثبِّت حُجَّتي، واهدِ قلبي، وسدِّد لساني، واسْلُلْ سَخِيمةَ قلبي».

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: ”رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ هُدَايَ إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي لَكَ شَاكِرًا لَكَ، ‏‏‏‏‏‏ذَاكِرًا لَكَ، ‏‏‏‏‏‏رَاهِبًا لَكَ، ‏‏‏‏‏‏مِطْوَاعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا أَوْ مُنِيبًا، ‏‏‏‏‏‏رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، ‏‏‏‏‏‏وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَجِبْ دَعْوَتِي، ‏‏‏‏‏‏وَثَبِّتْ حُجَّتِي، ‏‏‏‏‏‏وَاهْدِ قَلْبِي، ‏‏‏‏‏‏وَسَدِّدْ لِسَانِي، ‏‏‏‏‏‏وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي“ اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر، میرے حق میں تدبیر فرما، میرے خلاف تدبیر نہ کر ۔ میری رہنمائی فرما اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما دے۔ اور جو میرے خلاف بغاوت کرے اس کے مقابلے میں میری مدد فرما۔اے اللہ ! مجھے تو اپنا شکر گزار، اپنا ذکرکرنے والا اور اپنے سے ڈرنے والا بنا، اپنا اطاعت گزار، اپنی طرف گِڑگڑانے والا بنا، اے میرے پروردگار! میری توبہ قبول کر، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میری دلیل مضبوط کر، میرے دل کو سیدھی راہ دکھا، میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے میل کچیل نکال دے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يدعو فيقول: «ربِّ أَعِنِّي» أي: وفقني لذكرك وشكرك وحسن عبادتك، «ولا تُعِن عليَّ» أي: لا تُغَلِّب عليَّ مَن يمنعني من طاعتك من شياطين الإنس والجن، «وانصرني ولا تنصر عليَّ» أي: انصرني على الكفار ولا تجعلهم ينتصرون عليَّ، أو انصرني على نفسي فإنها أعدى أعدائي ولا تنصر النفس الأمارة بالسوء عليَّ بأن أتبع الهوى وأترك الهدى، «وامكر لي ولا تمكر عليَّ»
أي: امكر بأعدائي الماكرين وأوقع بهم من حيث لا يشعرون، ولا تفعل ذلك بي، والمكر من صفات الله تعالى الفعلية، ولكنه لا يوصف بها على سبيل الإطلاق، إنما يوصف بها حين تكون مدحا، مثل مكره بالكافرين وبمن يمكر بالمؤمنين ونحو ذلك، ولا يصح نفي صفة المكر عن الله تعالى؛ لأنه سبحانه أثبتها لنفسه، فنثبتها له تعالى على الوجه اللائق به سبحانه.
«واهدني ويسِّر هُدايَ إليَّ» أي: دلني على الخيرات وسهل اتباع الهداية أو طرق الدلالة لي حتى لا أستثقل الطاعة ولا أنشغل عن العبادة، «وانصرني على مَن بغى عليَّ» أي: وانصرني على من ظلمني وتعدى عليَّ.
«اللهم اجعلني لك شاكرًا»أي: على النعماء «لك ذاكرا» في جميع الأوقات «لك راهبا» أي خائفا في السراء والضراء «لك مِطواعا» أي: كثير الطوع وهو الانقياد والطاعة «إليك مخبتا» أي: خاضعا خاشعا. متواضعا «منيبا» أي: راجعًا إليك تائبًا، فالتوبة رجوع من المعصية إلى الطاعة.
«رب تقبل توبتي» أي: اجعلها صحيحة بشرائطها واستجماع آدابها فإنها لا تتخلف عن القبول «واغسل حَوبتي» أي: امحُ ذنبي «وأجب دعوتي» أي: دعائي، «وثبِّت حُجَّتي» أي: على أعدائك في الدنيا، أو ثبِّت قولي وتصديقي في الدنيا وعند جواب الملكين، «واهد قلبي وسدِّد لساني» أي: صوِّب وقوِّم لساني حتى لا ينطق إلا بالصدق ولا يتكلم إلا بالحق، «واسلُل سَخِيمةَ قلبي» أي: أخرج غشه وغله وحقده وحسده ونحوها، مما ينشأ من الصدر ويسكن في القلب من مساوئ الأخلاق.
606;بی ﷺ دعا فرماتے ہوئے کہتے : ”اے میرے رب! میری مدد فرما“ یعنی مجھے اپنا ذکر وشکر اور اچھی طرح اپنی عبادت کی توفیق عطا فرما، ”اور میرے خلاف کسی کی مدد نہ فرما“ یعنی میرے اوپر اس کو غالب نہ کر جو مجھے تیری بندگی سے روک دے خواہ وہ انسانی شیطانوں میں سے ہوں یا جنی شیطانوں میں سے، ”میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر“ یعنی کافروں کے خلاف میری مدد فرما اور انہیں میرے اوپر غلبہ نصیب نہ فرما، یا میرے نفس کے خلاف میری مدد فرما کیونکہ یہ سب سے بڑا دشمن ہے اور میرے خلاف برائی کا حکم دینے والے نفس کی مددنہ کرنا کہ میں ہدایت چھوڑ کر خواہشات نفس کی پیروی کروں۔
”میرے حق میں تدبیر فرما، میرے خلاف تدبیر نہ کر“ یعنی میرے مکر کرنے والے دشمنوں کے خلاف مکر کر اور ان کے خلاف ایسا مکر کر کہ انہیں اس کا احساس تک نہ ہو، اور میرے ساتھ ایسا نہ کرنا، ’’مکر ‘‘ اللہ تعالی کی صفات فعلیہ ہے، لیکن مطلق طور پر اس صفت سے اللہ تعالی کو متصف نہیں کیا جائے گا بلکہ اس صفت سے اس وقت متصف کیا جاتا ہے جب یہ مدح کے طور پر ہو، مثلا اللہ تعالی کافروں کے خلاف مکر کرتا ہے اور ان لوگوں کے خلاف مکر کرتا ہے جو مسلمانوں اور ان جیسے لوگوں سے مکر کرتے ہیں نیز اللہ تعالی سے صفتِ مکر کی نفی جائز نہیں ہے ، کیونکہ اللہ تعالی نے اسے اپنے لیے ثابت کیا ہے، چنانچہ ہم اسے اس کے لیے اسی طرح ثابت کریں گے، جیسا کہ اس کی شان کے مطابق ہے۔
”میرے حق میں تدبیر فرما، میرے خلاف تدبیر نہ کر“ یعنی: نیکیوں کی طرف میری رہنمائی فرما اور میرے لیے ہدایت کی اتباع ، یا اس کی طرف رہنمائی کرنے والے راستوں کو آسان بنادے تاکہ اطاعت کو میں بوجھ نہ سمجھوں اور نہ عبادت سے اعراض کروں، ”اور جو میرے خلاف بغاوت کرے اس کے مقابلے میں میری مدد فرما“ یعنی اس کے خلاف میری مدد فرما جو مجھ پر ظلم وزیادتی کرے۔
”اے اللہ! مجھے اپنا شکر گزار بنا“ یعنی نعمتوں پر، ”اپنا ذکر کرنے والا“ یعنی تمام اوقات میں ذکر کرنے والا بنا، ”ڈرنے والا بنا“ یعنی: خوشحالی اور تنگی میں ڈرنے والا بنا ، ”اپنا اطاعت گزار“ یعنی بہت زیادہ اطاعت گزار اور فرمانبردار بنا۔ ”اپنی طرف عاجزی کرنے والا“ یعنی خشوع خضوع کرنے والا بنا، ”اپنی طرف رجوع کرنے والا بنا“ یعنی: اپنی طرف توبہ کے ذریعہ رجوع کرنے والا بنا، معصیت سے رجوع کر کے اطاعت کی طرف لوٹنے کا نام توبہ ہے۔”اے میرے رب! میری توبہ قبول کر“ یعنی جملہ آداب وشرائط کے ساتھ اس توبہ کو صحیح بنادے، کہ وہ قبول ہونے سے نہ رہ جائے۔
”میرا گناہ دھو دے“ یعنی: میرے گناہوں کو مٹا دے، ”اور میری دعا قبول فرما“ یعنی :میری فریاد سُن لے۔ ”اور میری دلیل کو مضبوط کر دے“ یعنی دنیا میں اپنے دشمنوں پر، یا میرے قول اور میری تصدیق کو دنیا میں، نیز منکر نکیر دو فرشتوں کو جواب دیتے وقت مضبوط بنا۔ ”میرے دل کو سیدھی راہ دکھا اور میری زبان کو درست کر دے“ یعنی:میری زبان کوٹھیک اور درست کردے تاکہ یہ سچ اور حق کے سوا کچھ نہ بولے۔ ”اور میرے دل سے میل کچیل نکال دے“ یعنی میرے دل سے کینہ،کپٹ، حقد وحسد وغیرہ کو نکال دے جو برے اخلاق میں سے ہیں اور سینے سے پیدا ہوکر دل میں بسیرا کر لیتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10410

 
 
Hadith   1620   الحديث
الأهمية: خذوا من العمل ما تطيقون، فوالله لا يسأم الله حتى تسأموا


Tema:

تم عمل وہی اختیار کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیوں کہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم خود ہی اکتا جاؤ۔

عن عائشة زوجِ النبي -صلى الله عليه وسلم-، أخبرته أنَّ الحَوْلاء بنت تُوَيت بن حبيب بن أسد بن عبد العُزَّى مرَّت بها وعندها رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقلتُ: هذه الحَوْلاء بنت تُوَيت، وزعموا أنها لا تنام الليلَ، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا تنامُ الليلَ! خذوا مِن العمل ما تُطِيقون، فواللهِ لا يسأمُ اللهُ حتى تسأموا».

نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حولاء بنت تُوَیت بن حبیب بن اسد بن عبدالعزیٰ ان کے پاس ایسے وقت میں گزریں جب رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تھے، میں نے کہا کہ یہ حولاء بنت تویت ہیں اور لوگوں کا خیال ہے کہ یہ رات بھر نہیں سوتیں، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: رات بھر نہیں سوتیں! تم عمل وہی اختیار کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیوں کہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم خود ہی اکتا جاؤ۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
مرَّت الحَوْلاء بنت تُوَيت بعائشة، فقالت عائشة للنبي -صلى الله عليه وسلم-: هذه الحَوْلاء بنت تُوَيت، وهي تصلي الليل كله ولا تنام. فأنكر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عليها قيامها الليل كله، وقال: «خذوا مِن العمل ما تُطِيقون» فأمر النبي -عليه الصلاة والسلام- هذه المرأة أن تكف عن عملها الكثير، الذي قد يشق عليها وتعجز عنه في المستقبل فلا تديمه، ثم أمر النبي - عليه الصلاة والسلام- أن نأخذ من العمل بما نطيق، «فواللهِ لا يسأمُ اللهُ حتى تسأموا» يعني: أن الله عز وجل يعطيكم من الثواب بقدر عملكم، مهما داومتم من العمل فإن الله تعالى يثيبكم عليه، فإذا سئم العبد من العمل وملَّه قطعه وتركه فقطع الله عنه ثواب ذلك العمل؛ فإن العبد إنما يجازى بعمله، فمن ترك عمله انقطع عنه ثوابه وأجره إذا كان قطعه لغير عذر من مرض أو سفر، وهذا هو الراجح في معنى الملل الذي يُفهم من ظاهر الحديث أن الله يتصف به، وملل الله ليس كمللنا نحن، لأن مللنا نحن ملل تعب وكسل، وأما ملل الله عز وجل فإنه صفة يختص به جل وعلا تليق بجلاله، والله سبحانه وتعالى لا يلحقه تعب ولا يلحقه كسل.
575;یک دفعہ حولاء بنت تویت رضی اللہ عنہا عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزریں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ کو بتایا کہ :یہ حولاء بنت تویت رضی اللہ عنہ ہیں اور یہ ساری رات نماز پڑھتی رہتی ہیں سوتی ہی نہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اُن کے پوری پوری رات کے قیام کو ناپسند کیا اور فرمایا: ”صرف اتنا ہی عمل کرو جتنی طاقت رکھتے ہو“ نبی کریم ﷺ نے اس عورت کو اتنے کثیر عمل سے روکا کہ جو مشقت کا باعث ہو اور مستقبل میں جس کے کرنے سے عاجز آ جائے اور اس پر مداومت نہ کرسکے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے یہ حکم دیا کہ ہمیں اتنا ہی عمل کرنا چاہیے جتنی طاقت ہو۔ ”اللہ کی قسم! اللہ (دینے سے) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم ہی اکتا جاؤ“ یعنی اللہ عزوجل تمہارے عمل کے مطابق تمہیں ثواب عطا کر دے گا جب تک اس عمل پر ہمیشگی رہے گی اور جب بندہ کسی عمل سے اکتا جائے، تھک جائے، اس کو منقطع کر دے اور ترک کر دے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ثواب کے سلسلے کو منقطع کر دیتاہے۔ کیوں کہ بندے کو اس کے عمل کے مطابق جزا ملتی ہے اور اگر بغیر عذر، مرض اور سفر کے کسی عمل کو چھوڑ دیا جائے تو اس کا ثواب بھی ختم کر دیا جاتا ہے۔ اور یہی اکتاہٹ کا راجح معنی ہے جو اس حدیث کے ظاہر سے سمجھ آرہا ہےجس سے اللہ متصف ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی اکتاہٹ ہماری اکتاہٹ کی طرح نہیں ہے، کیوں کہ ہماری اکتاہٹ تھکاوٹ اور سستی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی اکتاہٹ ایک ایسی صفت ہے جس سے اللہ عزوجل مختص ہےاور اس کے شایان شان ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو تھکاوٹ اور سستی نہیں لاحق ہوتی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10411

 
 
Hadith   1621   الحديث
الأهمية: ينزل ربنا تبارك وتعالى كل ليلة إلى السماء الدنيا حين يبقى ثلث الليل الآخر يقول: من يدعوني، فأستجيب له من يسألني فأعطيه، من يستغفرني فأغفر له


Tema:

ہمارا رب تبارک وتعالیٰ ہر رات جب کہ رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جا تا ہے، آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے: ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں؟ ہے کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں؟

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «ينزلُ ربُّنا تبارك وتعالى كلَّ ليلةٍ إلى السماء الدنيا، حين يبقى ثُلُثُ الليل الآخرُ يقول: «مَن يَدْعُوني، فأستجيبَ له؟ مَن يسألني فأعطيَه؟ مَن يستغفرني فأغفرَ له؟».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارا رب تبارک وتعالیٰ ہر رات جب کہ رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جا تا ہے، آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے: ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں؟ ہے کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں؟

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ينزل الله -تبارك وتعالى- في كل ليلة، في الثلث الأخير من الليل إلى السماء الدنيا، ثم يقول: «مَن يَدْعُوني، فأستجيبَ له؟ مَن يسألني فأعطيَه؟ مَن يستغفرني فأغفرَ له؟» أي: أنه سبحانه –في هذا الوقت من الليل- يطلب من عباده أن يدعوه، ويرغِّبهم في ذلك، فهو يستجيب لمن دعاه، ويطلب منهم أن يسألوه ما يريدون، فهو يعطي من سأله، ويطلب منهم أن يستغفروه من ذنوبهم فهو يغفر لعباده المؤمنين، والمراد بالطلب الحث والندب.
وهذا النزول نزولٌ حقيقي، يليق بجلاله وكماله، لا يشبه نزول المخلوقين، ولا يصح تأويل النزول إلى نزول الرحمة أو الملائكة أو غير ذلك، بل يجب الإيمان بأن الله ينزل إلى السماء الدنيا نزولًا يليق بجلاله، من غير تحريف ولا تعطيل، ومن غير تكييف ولا تمثيل، كما هو مذهب أهل السنة والجماعة.
729;ر رات پچھلے پہر اللہ تبارک وتعالی آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے: ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں؟ ہے کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں؟۔ یعنی اللہ سبحانہ وتعالی یہ پسند کرتا ہے کہ رات کے اس حصہ میں اس کے بندے اسے پکاریں اور وہ بندوں کو اس بات پر ابھارتا بھی ہے، چنانچہ وہ فریادی کی پکار کو قبول کرتا ہے، اور وہ پسند کرتا ہے کہ لوگ اس سے جو چاہیں مانگیں اور وہ انہیں نوازے ، اور وہ پسند کرتا ہے کہ لوگ اس سےاپنے گناہوں کی مغفرت چاہیں پس وہ اپنے مومن بندوں کو بخشتا ہے، اور طلب سے مراد شوق اور رغبت دلانا ہے۔
اور یہاں پر نزول سے اللہ کا نزولِ حقیقی مراد ہے جو اللہ جل جلالہ کی جلالتِ شان اور کمال کے لائق ہے، مخلوق کے نزول کی طرح نہیں۔ نزول کی تاویل رحمت کے نزول یا فرشتوں کے نزول یا اس کے علاوہ سے کرنا درست نہیں ہے بلکہ اس بات پر ایمان لانا ضروری ہے کہ اللہ آسمانِ دنیا پر اپنی جلالتِ شان کے مطابق نازل ہوتا ہے بغیر کسی تحریف، تعطیل، تکییف اورتمثیل کے، جیسا کہ اہل سنت و جماعت کا عقیدہ ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10412

 
 
Hadith   1622   الحديث
الأهمية: هل تضارون في رؤية الشمس في الظهيرة، ليست في سحابة؟ قالوا: لا. قال: فهل تضارون في رؤية القمر ليلة البدر، ليس في سحابة؟


Tema:

کیا دوپہر کے وقت تمہیں سورج کو دیکھنے میں کچھ دشواری ہوتی ہے جب کہ یہ بادل کی اوٹ میں بھی نہ ہو؟۔ صحابہ کرام نے جواب دیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: کیا چودہویں کی رات میں تمہیں چاند کو دیکھنے میں کچھ مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کہ وہ کسی بدلی میں بھی نہ ہو؟۔ صحابہ کرام نے جواب دیا: نہیں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قالوا: يا رسول الله هل نَرى ربَّنا يوم القيامة؟ قال: «هل تُضارُّون في رؤية الشمس في الظَّهِيرة، ليست في سحابة؟» قالوا: لا، قال: «فهل تُضارُّون في رؤية القمر ليلة البدر، ليس في سحابة؟» قالوا: لا، قال: " فوالذي نفسي بيده لا تُضارُّون في رؤية ربكم، إلا كما تُضارُّون في رؤية أحدهما، قال: فيَلْقى العبد، فيقول: أي فُل أَلَم أُكْرِمْك، وأُسَوِّدْك، وأُزَوِّجك، وأُسَخِّر لك الخيل والإبل، وأَذَرْك تَرْأَس، وتَرْبَع؟ فيقول: بلى، قال: فيقول: أفظننتَ أنك مُلاقِي؟ فيقول: لا، فيقول: فإني أنساك كما نَسِيتَني، ثم يلقى الثاني فيقول: أيْ فُل أَلَم أُكْرِمْك، وأُسَوِّدْك، وأُزَوِّجك، وأُسَخِّر لك الخيل والإبل، وأَذَرْك تَرْأَس، وتَرْبَع؟ فيقول: بلى، أيْ ربِّ فيقول: أفظننتَ أنك مُلاقِي؟ فيقول: لا، فيقول: فإني أنساك كما نَسِيتَني، ثم يلقى الثالث، فيقول له مثل ذلك، فيقول: يا ربِّ آمنتُ بك، وبكتابك، وبرسلك، وصليتُ، وصمتُ، وتصدَّقتُ، ويُثني بخير ما استطاع، فيقول: هاهنا إذًا، قال: ثم يقال له: الآن نبعث شاهدَنا عليك، ويتفكَّر في نفسه: مَن ذا الذي يَشهد عليَّ؟ فيُختَم على فيه، ويقال لفَخِذه ولحمه وعظامه: انطِقي، فِتِنْطِق فخِذه ولحمه وعظامه بعمله، وذلك ليُعْذِرَ من نفسه، وذلك المنافق وذلك الذي يسخط الله عليه.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے آپ ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا دوپہر کے وقت تمہیں سورج کو دیکھنے میں کچھ دشواری ہوتی ہے جب کہ یہ بادل کی اوٹ میں بھی نہ ہو؟۔ صحابہ کرام نے جواب دیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پھر دریافت فرمایا: کیا چودہویں کی رات میں تمہیں چاند کو دیکھنے میں کچھ مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کہ وہ کسی بدلی میں بھی نہ ہو؟۔ صحابہ کرام نے جواب دیا: نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تمہیں اپنےرب کو دیکھنے میں بھی کسی دشواری کا سامنا نہیں ہو گا، جس طرح کہ تمہیں سورج و چاند کو دیکھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بندے سے ملاقات کے وقت اللہ تعالی فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمہیں عزت و سیادت سے نہیں نوازا تھا، کیا میں نے تیری شادی نہیں کی تھی اور تیرے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کر دیا تھا، کیا میں نے تجھے یہ موقع نصیب نہیں کیا تھا کہ تو سردار بنے اور مال غنیمت کا چوتھائی حصہ حاصل کرے؟ وہ شخص جواب دے گا: اے میرے رب ! کیوں نہیں۔ اس پر اللہ تعالی فرمائےگا: کیا تمہیں یہ گمان تھا کہ تیری مجھ سے ملاقات ہو گی؟ وہ جواب دے گا کہ نہیں۔ اللہ تعالی فرمائےگا: جس طرح تو نے مجھے فراموش کیے رکھا اسی طرح میں بھی تمہیں فراموش کرتا ہوں۔ پھر الله تعالی دوسرے شخص سے ملےگا اور فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمہیں عزت و سیادت سے نہیں نوازا تھا، کیا میں نے تیری شادی نہیں کی تھی اور تیرے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کر دیا تھا ، کیا میں نے تجھے یہ موقع نصیب نہیں کیا تھا کہ تو سردار ہو اور مال غنیمت کا چوتھائی حصہ حاصل کرے؟ وہ شخص جواب دے گا: اے میرے رب ! کیوں نہیں۔ اس پر اللہ تعالی فرمائےگا: کیا تمہیں یہ گمان تھا کہ تیری مجھ سے ملاقات ہو گی؟ وہ جوب دے گا کہ نہیں۔ اللہ تعالی فرمائے گا: جس طرح تو نے مجھے فراموش کیے رکھا اسی طرح میں بھی تمہیں فراموش کرتا ہوں۔ پھر تیسرے شخص سے ملاقات کرے گا اور اس سے بھی یہی کچھ فرمائے گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں تجھ پر، تیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا اور میں نے نماز پڑھی، روزے رکھےا ور صدقہ دیتا رہا۔ وہ جس قدر بھی ہو سکے گا اپنے اچھائی کو بیان کرے گا۔ اس پر اللہ تعالی فرمائے گا: یہ بات ہے تو ذرا یہیں ٹھہرنا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اس شخص سے کہا جائے گا: اب ہم تمہارے خلاف اپنا گواہ لاتے ہیں۔ وہ دل میں سوچے گا کہ کون ہے جو اس کے خلاف گواہی دے گا؟ اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور پھر اس کی ران، اس کے گوشت اور ہڈیوں سے کہا جائے گا کہ بولو۔ اس پر اس کی ران، اس کا گوشت اور ہڈیاں بول کر اس کے اعمال کی خبر دیں گی۔ ایسا اس لیے کیا جائے گا تاکہ اس کا کوئی عذر باقی نہ رہے ۔ یہ شخص منافق ہو گا جس سے اللہ تعالی ناراض ہو گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال بعض الصحابة: يا رسول الله! هل نرى ربنا يوم القيامة؟ فقال لهم -صلى الله عليه وسلم-: «هل تُضارُّون في رؤية الشمس في الظَّهِيرة، ليست في سحابة؟» أي: هل يحصل لكم تزاحم وتنازع يتضرر به بعضكم من بعض لأجل رؤية الشمس في وقت ارتفاعها وظهورها وانتشار ضوئها في العالم كله، لا يوجد سحاب يحجبها عنكم؟ فقالوا: لا. قال: «فهل تُضارُّون في رؤية القمر ليلة البدر، ليس في سحابة؟» أي: هل يحصل لكم تزاحم وتنازع يتضرر به بعضكم من بعض لأجل رؤية القمر ليلة اكتماله وظهوره في السماء، لا يوجد سحاب يحجبه عنكم؟ قالوا: لا، قال: «فوالذي نفسي بيده لا تُضارُّون في رؤية ربكم، إلا كما تُضارُّون في رؤية أحدهما» أي: تكون رؤيته جلية بينة، لا تقبل مراء ولا مرية، حتى يخالفَ فيها بعضكم بعضا ويكذبه، كما لا يشك في رؤية الشمس والقمر، ولا ينازع فيها، فالتشبيه إنما وقع في الرؤية باعتبار جلائها وظهورها; بحيث لا يُرتاب فيها، لا في سائر كيفياتها، ولا في المرئي; فإنه -سبحانه- منزَّه عن مشابهة المخلوقات.
ثم أخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- عن مشهد من مشاهد اليوم الآخر، وهو أن الرب -سبحانه- يلقى عبدًا من عباده، فيقرره بنعمه فيقول له: يا فلان ألم أُفضلك وأجعلك سيدًا في قومك، وأعطك زوجًا من جنسك ومكَّنتك منها، وجعلتُ بينك وبينها مودة ورحمة ومؤانسة وأُلفة، وأُذَلِّل لك الخيل والإبل، وأجعلك رئيسا على قومك، تأخذ ربع الغنيمة; وكان ملوك الجاهلية يأخذونه لأنفسهم. فيُقر العبد بهذه النعم كلها. فيقول الرب: أفعلمت أنك سوف تلاقيني؟ فيقول: لا. فيقول الله -تعالى-: «فإني أنساك كما نسيتني» أي: أتركك اليوم من رحمتي كما تركتَ طاعتي في الدنيا، فالنسيان هنا الترك عن علم، كما قال -تعالى-: (إنا نسيناكم فذوقوا عذاب الخلد).
ثم يلقى الرب عبدًا ثانيا، فذكر النبي -صلى الله عليه وسلم- فيه مثل ما ذكر في الأول من سؤال الله تعالى له وجوابه.
ثم يلقى الثالث فيقول له مثل ذلك، فيقول: يا رب آمنت بك، وبكتابك وبرسلك، وصليتُ وصمت، وتصدقت، ويمدح نفسه بكل ما يستطيع، فيقول الرب: «هاهنا إذًا» أي: إذا أثنيت على نفسك بما أثنيت إذًا فقف هنا; كي نريك أعمالك بإقامة الشاهد عليها، ثم يقال له: الآن نأتي بشاهد عليك، ويتفكر العبد في نفسه: من هذا الذي يشهد عليَّ؟! فيختم الله على فمه ويقال لفخذه ولحمه وعظامه: انطقي، فتنطق فخذه ولحمه وعظامه بعمله، «وذلك ليعذر من نفسه» أي: إنطاق أعضائه ليزيل الله عذره مِن قِبل نفسه بكثرة ذنوبه وشهادة أعضائه عليه; بحيث لم يبق له عذر يتمسك به، وهذا العبد الثالث هو المنافق، الذي غضب الله عليه.
705;چھ صحابہ نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم روز قیامت اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟۔ آپ ﷺ نے انہیں جواب دیا: کیا تمہیں دوپہرکے وقت سورج کو دیکھنے میں کچھ دشواری ہوتی ہے جب کہ وہ کسی بادل کی اوٹ میں بھی نہ ہو۔ یعنی کیا جب سورج پوری طرح چڑھا ہوا اور صاف ظاہر ہوتا ہے اور اس کی روشنی پورے جہان میں پھیلی ہوتی ہے اور کوئی ایسا بادل بھی نہیں ہوتا جس نے اسے چھپا رکھا ہو تو کیا اسے دیکھنے کے لیے تمہارے درمیان کوئی ایسی دھکم پیل ہوتی ہے جس سے ایک دوسرے کو ضرر پہنچتا ہو؟ صحابہ کرام نے جواب دیا کہ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا چودہویں کی رات چاند دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری پیش آتی ہے جو کسی بدلی کی اوٹ میں بھی نہ ہو۔ یعنی جس رات چاند مکمل ہو کر آسمان پر پوری طرح عیاں ہوتا ہے اور کوئی ایسا بادل بھی نہیں ہوتا جو اسے تم سے اوجھل کر دے تو کیا اسے دیکھنے میں تمہارے مابین کوئی ایسی دھکم پیل ہوتی ہے جس سے ایک دوسرے کو ضرر پہنچتا ہو؟ صحابہ کرام نے جواب دیا کہ نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تمہیں اپنے رب کو دیکھنے میں بالکل ویسے ہی دشواری نہیں ہو گی جیسا کہ سورج و چاند میں سے کسی کو دیکھنے میں تمہیں دشواری نہیں ہوتی۔ یعنی اللہ کی رؤیت بالکل واضح اور صاف ہو گی اور اس میں کوئی شک شبہ نہیں ہو گا کہ اس بارے میں تمہارا باہم اختلاف ہو یا پھر تم ایک دوسرے کی بات کو جھٹلاو۔ جیسا کہ سورج اور چاند کے دیکھنے میں کوئی شک نہیں ہوتا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی جھگڑا ہوتا ہے۔ یہ تشبیہ رؤیت میں ہے جو اس کے بالکل واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے ہے بایں طور کہ اس میں کوئی شک نہیں ہو گا یعنی نہ تو اس کی کیفیات میں کوئی شک ہو گا اور نہ ہی دیکھی گئی ذات میں۔ اللہ سبحانہ و تعالی مخلوقات کی مشابہت سے پاک ہے۔
پھر نبی ﷺ نے قیامت کے دن کے مناظر میں سے ایک منظر کے بارے میں بتایا اور وہ یہ کہ رب تعالی سبحانہ اپنے بندوں میں سے ایک بندے سے ملے گا اور اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کرائے گا اور فرمائے گا: اے فلاں شخص! کیا میں نے تمہیں تمہاری قوم میں سرکردہ شخص نہیں بنایا تھا، کیا میں نے تمہاری جنس سے تمہیں بیوی نہیں دی تھی اور تجھے اس پر قدرت نہیں بخشی تھی اور تمہارے اور اس کے درمیان محبت و رحمت اور انسیت و الفت نہیں رکھ دی تھی؟، کیا میں نے گھوڑوں اور اونٹوں کو تمہارا تابع فرمان نہیں کر دیا تھا؟، کیا میں نے تمہیں تمہاری قوم پر سرداری نہیں دی تھی جس کی بنا پر تم غنیمت کو چوتھائی حصہ وصول کرتے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں بادشاہ اپنے لیے مالِ غنیمت کا چوتھائی حصہ مختص کر لیتے تھے۔ بندہ ان تمام نعمتوں کا اقرار کرے گا ۔ اس پر اللہ تعالی فرمائےگا: کیا تجھے یہ یقین تھا کہ عنقریب تمہاری مجھ سے ملاقات ہونے والی ہے؟۔ وہ شخص کہے گا: نہیں۔ اس پر اللہ تعالی فرمائےگا: آج میں بھی تمہیں ویسے ہی بھلاتا ہوں جیسے تم نے مجھے بھلائے رکھا۔ یعنی آج میں تمہیں اپنی رحمت سے ویسے ہی دور کرتا ہوں جیسے دنیا میں تم میری اطاعت سے دور رہے۔ یہاں نسیان سے مراد علم ہونے کے باوجود چھوڑ دینا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿إِنَّا نَسِينَاكُمْ ۖ وَذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ﴾ ”ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا چنانچہ چکھو ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب“۔
پھر رب تعالی شانہ ایک دوسرے بندے سے ملے گا۔ نبی ﷺ نے اس شخص کے بارے میں اسی طرح کے سوال و جواب کا ذکر فرمایا جیسے پہلے شخص کے بارے میں فرمایا تھا۔
پھر اللہ تعالی تیسرے بندے سے ملےگا اور اسے بھی ایسے ہی کہے گا وہ شخص کہے گا: اے میرے رب! میں تجھ پر، تیری کتابوں اور رسولوں پر ایمان لایا، میں نے نمازیں پڑھیں، روزے رکھے اور صدقہ دیا۔ وہ حد ِاستطاعت ہر ممکن طریقے سے اپنی تعریف کرے گا ۔ اس پر رب تعالی شانہ فرمائے گا: پھر ذرا یہیں رکنا۔ یعنی اگر تم اپنی اتنی ہی تعریفیں کر رہے ہو تو پھر ذرا یہاں رکو تاکہ ہم تمہارے خلاف گواہ پیش کر کے تمہیں تمہارے اعمال دکھا دیں۔ پھر اس سے کہا جائے گا: اب ہم تمہارے خلاف گواہ لاتے ہیں۔ اس پر وہ بندہ اپنے دل ہی دل میں سوچے گا کہ یہاں کون ہے جو میرے خلاف گواہی دے گا؟۔ اللہ تعالی اس کے منہ پر مہر لگا دے گا اور اس کی ران، گوشت اور ہڈیوں سے کہا جائے گا کہ تم بولو۔ اس پر اس کی ران، گوشت اور ہڈیاں اس کے اعمال کے بارے میں بتائیں گی۔ ایسا اس لیے کیا جائے گا تاکہ اس کا کوئی عذر باقی نہ رہے۔ یعنی اس کے اعضاء کو قوت گویائی اس لیے دی جائے گی تا کہ اللہ تعالی اس کے گناہوں کی کثرت اور اس کے اعضاء کی اس کے خلاف گواہی کی بدولت خود اس کی طرف سے عذر ختم کر دے بایں طور کے اس کے پاس کوئی عذر باقی ہی نہ رہے ۔ یہ تیسرا شخص منافق ہو گا جس پر اللہ تعالی غضبناک ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10413

 
 
Hadith   1623   الحديث
الأهمية: الإيمان يمان والحكمة يمانية


Tema:

ایمان یمنی اور حکمت و دانائی بھی یمنی ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «الإيمانُ يمانٍ والحِكمةُ يمانِيَة، وأَجد نَفَسَ الرحمن من قِبَل اليمن, أَلَا إنَّ الكفرَ والفسوقَ وقسوةَ القلب في الفَدَّادين أصحاب المَعِز والوَبَر».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایمان تو یمن سے ہے حکمت بھی یمنی ہے، اور رحمن کا نفس (غم وبےچینی سے راحت) بھی میں یمن کی طرف سے محسوس کرتا ہوں جب کہ کفر وفسق اور دل کی سختی فدّادین بکری وبال والوں میں ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قوله: «الإيمان يمان والحكمة يمانية» اختلف في المراد به، فقيل: معناه نسبة الإيمان إلى مكة لأن مبدأ اليمن منها، ومكة يمانية بالنسبة إلى المدينة. وقيل: المراد نسبة الإيمان إلى مكة والمدينة، وهما يمانيتان بالنسبة للشام، بناء على أن هذه المقالة صدرت من النبي -صلى الله عليه وسلم- وهو حينئذ بتبوك. وقيل: المراد بذلك الأنصار لأن أصلهم من اليمن، ونُسب الإيمان إليهم لأنهم كانوا الأصل في نصر النبي -صلى الله عليه وسلم-، ولا مانع من إجراء الكلام على ظاهره، وأن المراد تفضيل أهل اليمن على غيرهم من أهل المشرق، والسبب في ذلك إذعانهم إلى الإيمان من غير كبير مشقة على المسلمين بخلاف أهل المشرق وغيرهم، ومن اتصف بشيء وقوي قيامه به نُسب إليه إشعارا بكمال حاله فيه، ولا يلزم من ذلك نفي الإيمان عن غيرهم، ثم المراد بذلك الموجود منهم حينئذ لا كل أهل اليمن في كل زمان؛ فإن اللفظ لا يقتضيه، والمراد بالحكمة العلم المشتمل على المعرفة بالله.
وقوله: «وأَجِدُ نَفَسَ الرحمن من قِبَل اليمن» معناه: كنت في شدة وكرب وغم من أهل مكة، ففرج الله عني بالأنصار. يعني: أنه يجد الفرج من قبل الأنصار، وهم من اليمن. وعلى هذا فليس هذا الحديث من أحاديث الصفات.
وقوله: «أَلَا إنَّ الكفرَ والفسوقَ وقسوةَ القلب في الفَدَّادين أصحابِ المَعِز والوَبَر» أي: أن الكفر والفسوق وغلظ القلب وقسوته في المكثرين من الإبل والأموال الذين تعلو أصواتهم في حروثهم ومواشيهم، وهم أهل جفاء وكبر، ولكن ذكر المعز هنا مخالف لما في الصحيحين من أن هذه صفة أهل الإبل والخيل، وأن السكينة في أهل الغنم، وهذا يشمل الشياه والمعز، وما في الصحيحين أصح.
570;پ ﷺ کا یہ فرمان کہ: ایمان یمنی اور حکمت و دانائی بھی یمنی ہے، اس سے کیا مراد ہے، اس میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ایمان کی نسبت مکہ کی طرف کی گئی ہے کیونکہ یمن کا مبدا مکہ سے ہے۔اور مکہ کو مدینہ کے اعتبار سے یمانیہ کہا گیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ایمان کی نسبت مکہ اور مدینہ دونوں کی طرف ہے اور یہ دونوں شام کے اعتبار سے یمانی ہیں۔ اس کی بنیاد اس استدلال پر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات اُس وقت کہی تھی جب آپ تبوک میں تھے۔ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد انصار ہیں، کیوں کہ انصار اصل میں یمنی ہیں۔ اور ایمان کی نسبت ان کی طرف اس لیے کی گئی ہے کیوں کہ اصلاً نبی کریم ﷺ کی مدد انھوں نے کی تھی۔ جب کہ کلام کے ظاہری مفہوم کو بھی اختیار کرنے میں کوئی مانع نہیں ہے۔ اور اس وقت اہل یمن کی دیگر اہل مشرق پر فضیلت بیان کرنا مراد ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے بغیر کسی سخت محنت کے اسلام قبول کرلیا بہ نسبت اہل مشرق وغیرہ کے۔ اورجو کسی چیز کے ساتھ متصف ہو جائے اور اس کے قیام میں مضبوط ہو تو اس کی کامل حالت کو بطورِ علامت سبب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے دوسروں کے ایما ن کی نفی لازم نہیں آتی۔ پھر اس سے مراد ان میں سے وہ لوگ ہیں جو اس وقت موجود تھے، نہ کہ ہر زمانہ کے ہر یمنی لوگ ہیں۔ کیوں کہ لفظ اس بات کا تقاضا نہیں کرتا۔ اورحکمت سے مراد وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت پر مشتمل ہو۔
”رحمن کا نفس (یعنی غم وبےچینی سے راحت) بھی میں یمن کی طرف سے محسوس کرتا ہوں“ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اہل مکہ میں شدید تکلیف اور غم میں تھا، اللہ تعالیٰ نے انصار کے ذریعے اس کو دور کیا۔ یعنی انصار کی طرف سے کشادگی پائی اور وہ یمنی ہیں۔ بہر حال یہ حدیث صفات کے حوالے سے نہیں ہے۔
”جب کہ کفر وفسق اور دل کی سختی فدّادین بکری وبال والوں میں ہے“ یعنی کفر، فسق، دل کی تنگی اور سختی کثرت سے اونٹ و مال رکھنے والوں میں پائی جاتی ہے جن کی اپنے مویشیوں اور کھیتوں میں آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں اور یہ اہل جفا اور متکبر لوگ ہوتے ہیں۔ البتہ بھیڑ کا ذکر در اصل اس روایت کے مخالف ہے جو کہ صحیحین میں ہے، یہ کہ یہ صفت اونٹ اور گھوڑے والوں کی ہے جبکہ سکینت تو بکریوں والوں میں ہوتی ہے یہ بھیڑ اور بکری دونوں کو شامل ہے۔ صحیحین میں موجود روایت زیادہ صحیح ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10414

 
 
Hadith   1624   الحديث
الأهمية: إن الله عز وجل خلق خلقه في ظلمة، فألقى عليهم من نوره، فمن أصابه من ذلك النور اهتدى، ومن أخطأه ضل، فلذلك أقول: جف القلم على علم الله


Tema:

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی مخلوق کوتاریکی میں پیداکیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا (یعنی اپنے نور کاپرتو) توجس پر یہ نور پڑ گیا وہ ہدایت یاب ہوگیا اور جس پر نور نہ پڑا (تجاوز کرگیا) تو وہ گمراہ ہوگیا، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ کے علم پر (تقدیر کا) قلم خشک ہو چکا ہے۔

عن عبد الله بن عمرو-رضي الله عنهما- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «إنَّ اللهَ عزَّ وجلَّ خلق خَلْقَه في ظُلْمة، فألقى عليهم من نوره، فمَن أصابه مِن ذلك النور اهتدى، ومَن أخطأه ضلَّ»، فلذلك أقول: جَفَّ القلم على علم الله.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا (یعنی اپنے نور کا پرتو) تو جس پر یہ نور پڑ گیا وہ ہدایت یاب ہوگیا اور جس پر نور نہ پڑا (تجاوز کرگیا) تو وہ گمراہ ہوگیا، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ کے علم پر(تقدیر کا) قلم خشک ہو چکا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث يبيِّن أن الله -عز وجل- خلق الخلق في ظلمة، وألقى عليهم شيئاً من نوره، فمن أصابه شيء من ذلك النور اهتدى إلى طريق الجنة، ومن أخطأه ذلك النور وجاوزه ولم يصل إليه ضل وخرج عن طريق الحق؛ لأن الاهتداء والضلال قد جاء موافقًا لعلم الله، وما حَكَم به في الأزل، لا يتغير ولا يتبدل، وجفاف القلم عبارة عنه.
575;س حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پید ا کیا، پھر ان پر اپنے نور میں سےکچھ ڈالا۔ جس کو یہ نور مل گیا اسے جنت کی راہ مل گئی اور جس سے وہ نور چوک گیا اور تجاوز کر گیا اور اُس تک نور نہیں پہنچ سکا تو وہ گمراہ ہو گیا اور حق کے راستے سے بھٹک گیا۔ کیوں کہ ہدایت و گمراہی ہر دو کی توفیق اللہ کے علم میں ہے۔ اس نے روز اول سے جو فیصلے کر دیے ہیں ان میں کوئی تغیر و تبدل نہیں آسکتا۔ اور قلم کا خشک ہو جانا اسی سے عبارت ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10415

 
 
Hadith   1625   الحديث
الأهمية: لله تسعة وتسعون اسما، مائة إلا واحدا، لا يحفظها أحد إلا دخل الجنة، وهو وتر يحب الوتر


Tema:

اللہ کے ننانوے، ایک کم سو نام ہیں، جس نے انہیں یاد کیا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور اللہ وتر (طاق) ہے، وتر کو پسند کرتا ہے

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- روايةً قال: «للهِ تسعةٌ وتسعون اسمًا، مائةً إلَّا واحدًا، لا يحفظُها أحدٌ إلَّا دخل الجنةَ، وهو وِترٌ يحبُّ الوِتر».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ننانوے، ایک کم سو نام ہیں، جس نے ان کی حفاظت کی (یعنی انہیں یاد کیا) وہ جنت میں داخل ہو گا، اور اللہ وتر (طاق) ہے، وتر کو پسند کرتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن اللهَ تعالى له تسعة وتسعون اسمًا، لا يحفظها أحد إلَّا دخل الجنةَ، والمراد بالحفظ القراءة بظهر القلب، وقيل: معناه الإيمان بها، والعمل بها، والطاعة بمعنى كل اسم منها، ودعاء الله تعالى بها، وفي هذا الحديث إثبات هذه الأسماء، وليس فيه نفي ما عداها من الزيادة عليها، وإنما وقع التخصيص لهذه الأسماء لأنها أشهر الأسماء وأبينها معاني، وهذا بمنزلة قولك: إن لزيد مائة درهم أعدها للصدقة، فلا يدل ذلك على أنه ليس عنده من الدراهم أكثر من ذلك، وإنما يدل على أن الذي أعده للصدقة هذا، ويدل على هذا التفسير حديث ابن مسعود: «أسألك بكل اسم هو لك، سميت به نفسك، أو أنزلته في كتابك، أو علمته أحدا من خلقك، أو استأثرت به في علم الغيب عندك» فهذا يدل على أن لله أسماء لم ينزلها في كتابه حجبها عن خلقه.
«وهو وتر» أي: الله واحد لا شريك له «يحب الوتر» يعني: يفضله في الأعمال وكثير من الطاعات ولهذا جعل الله الصلوات خمسًا، والطواف سبعًا، وندب التثليث في أكثر الأعمال، وخلق السموات سبعًا والأرضين سبعا وغير ذلك.
575;للہ تعالی کے ننانوے نام ہیں جو کوئی شخص ان کی حفاظت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور حفاظت سے مراد زبانی پڑھنا ہے اور کہا گیا ہے کہ: اس کا مفہوم ان پر ایمان لانا، ان پر عمل کرنا، ان تمام اسماء حسنیٰ کے معانی کے مطابق فرمانبرداری کرنا ہے اور ان کے ذریعہ اللہ تعالی سے دعا کرنا۔ اس حدیث میں ان ناموں کا اثبات ہے، ان ننانوے ناموں کے علاوہ جو زائد نام ہیں ان کا انکار نہیں۔ ان ناموں کا ذکر یہاں پر بطور خصوص ان کی شہرت اور معانی کے اعتبار سے واضح ہونے کی وجہ سے ہے اور یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ کہیں کہ زید کے پاس سو درہم ہیں جسے اس نے صدقہ کے لئے جمع کر رکھا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے پاس اس سے زائد دراہم نہیں ہیں، یہ جملہ صرف اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس نے جو صدقہ کے لئے تیار کر رکھا ہے وہ یہ ہیں۔ اس تفسیر کی تائید ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے (جس میں ہے کہ) میں تیرے ہر اس نام کے واسطے سے تجھ سے سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنی ذات کے لئے پسند فرمایا یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا یا اپنی مخلوقات میں سے کسی کو سکھلا دیا یا اسے اپنے خزانۂ غیب میں مخفی رکھا ہے۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے اور بھی نام ہیں جن کو اپنی کتاب میں نازل نہیں فرمایا، اس کو اپنی مخلوق سے پوشیدہ رکھا۔
اور اللہ تعالیٰ وتر (طاق) ہے یعنی اللہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور وہ وتر کو پسند کرتا ہے یعنی طاق کو بہت سارے اعمال وعبادات میں فضیلت دیتا ہے اور اسی ناطے اللہ نے نمازوں کی تعداد پانچ مقرر کی ہے اور طواف سات اور (اسی طرح) تین کو اکثر اعمال میں مستحب قرار دیا گیا ہے۔ آسمان سات پیدا کئے اور زمین بھی سات وغیرہ۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10416

 
 
Hadith   1626   الحديث
الأهمية: خرج ثلاثة نفر يمشون فأصابهم المطر، فدخلوا في غار في جبل، فانحطت عليهم صخرة


Tema:

تین شخص کہیں باہر جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی، انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں جا کر پناہ لی، اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان اوپر سے لڑھک آئی۔

عن ابن عمر -رضي الله عنهما-، عن النبي -صلى الله عليه وسلم-، قال: «خرج ثلاثةُ نَفَرٍ يمشون فأصابهم المَطَر، فدَخَلوا في غارٍ في جبَل، فانْحَطَّت عليهم صَخْرةٌ، قال: فقال بعضُهم لبعض: ادعوا اللهَ بأفضلِ عَمَلٍ عَمِلتموه، فقال أحدُهم: اللهمَّ إني كان لي أبَوَانِ شَيْخانِ كبيران، فكنتُ أخرج فَأَرْعى، ثم أَجيء فأحْلِب فأجيء بالحِلاب، فآتي به أبويَّ فيَشْربان، ثم أسِقِيَ الصِّبْيَة وأهلي وامرأتي، فاحتَبَستُ ليلة، فجئتُ فإذا هما نائمان، قال: فكرهتُ أن أُوقِظَهما، والصِّبية يَتَضَاغَوْن عند رِجْلي، فلم يزل ذلك دَأْبي ودَأْبَهما، حتى طلَع الفجر، اللهم إن كنتَ تَعْلَمُ أنِّي فعلتُ ذلك ابْتغاء وجهِك، فافرُجْ عنا فُرْجة نرى منها السماء، قال: فَفُرِج عنهم، وقال الآخر: اللهم إن كنتَ تعلم أني كنتُ أُحبُّ امرأةً مِن بنات عمي كأشَدِّ ما يُحبُّ الرجلُ النساء، فقالت: لا تَنال ذلك منها حتى تعطيها مائة دينار، فسَعيْتُ فيها حتى جَمَعتُها، فلما قَعَدتُ بيْن رِجليْها قالت: اتقِ الله ولا تَفُضَّ الخاتَمَ إلا بحقِّه، فقمتُ وتركتُها، فإن كنتَ تعْلَم أنِّي فعلتُ ذلك ابتغاء وجهِك، فافرُجْ عنا فُرْجَة، قال: ففُرِج عنهم الثُّلُثيْنِ، وقال الآخر: اللهم إن كنتَ تعْلَم أني اسْتَأجَرْتُ أجيرًا بفَرَق من ذُرَة فأعْطيتُه، وأَبَى ذاك أنْ يأخُذَ، فعَمَدتُ إلى ذلك الفَرَق فزرعتُه، حتى اشتريتُ منه بقرًا وراعِيها، ثم جاء فقال: يا عبد الله أعْطِني حَقِّي، فقلتُ: انطلقْ إلى تلك البقر وراعِيها فإنها لك، فقال: أتستهْزِئ بي؟ قال: فقلت: ما أستهزئ بك ولكنها لك، اللهم إن كنتَ تعلم أنِّي فعلتُ ذلك ابتغاء وجهك، فافْرُجْ عنا فكُشِف عنهم».

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: تین شخص کہیں باہر جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی، انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں جا کر پناہ لی، اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان اوپر سے لڑھکی (اور اس غار کے منہ کو بند کر دیا جس میں یہ تینوں پناہ لیے ہوئے تھے) اب ایک نے دوسرے سے کہا کہ اپنے سب سے اچھے عمل کا جو تم نے کبھی کیا ہو، نام لے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ اس پر ان میں سے ایک نے یہ دعا کی: اے اللہ ! میرے ماں باپ بہت ہی بوڑھے تھے، میں باہر لے جا کر اپنے مویشی چَراتا تھا، پھر جب شام کو واپس آتا تو ان کا دودھ نکالتا اور برتن میں پہلے اپنے والدین کو پیش کرتا، جب میرے والدین پی لیتے تو پھر بیوی بچوں اور گھر والوں کو پلاتا، اتفاق سے ایک رات مجھے دیر ہو گئی اور جب میں گھر لوٹا تو والدین سو چکے تھے، اس نے کہا کہ پھر میں نے پسند نہیں کیا کہ انہیں جگاؤں، بچے میرے قدموں میں بھوکے پڑے رو رہے تھے، میں برابر دودھ کا پیالہ لیے والدین کے سامنے اسی طرح کھڑا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ اے اللہ ! اگر تیرے نزدیک میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا، تو ہمارے لیے تو اس چٹان کو ہٹا کر اتنا راستہ بنا دے کہ ہم آسمان کو دیکھ سکیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: چناچہ وہ پتھر کچھ ہٹ گیا۔ دوسرے شخص نے دعا کی: اے اللہ ! تو خوب جانتا ہے کہ مجھے اپنے چچا کی ایک لڑکی سے اتنی زیادہ محبت تھی جتنی ایک مرد کو کسی عورت سے ہو سکتی ہے، اس لڑکی نے کہا تم مجھ سے اپنی خواہش اس وقت تک پوری نہیں کر سکتے جب تک مجھے سو اشرفی نہ دے دو، میں نے ان کے حاصل کرنے کی کوشش کی اور آخر اتنی اشرفی جمع کر لی، پھر جب میں اس کی دونوں رانوں کے درمیان بیٹھا، تو وہ بولی: اللہ سے ڈر اور مہر کو ناجائز طریقے پر نہ توڑ، اس پر میں کھڑا ہو گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا، اب اگر تیرے نزدیک میں نے یہ عمل تیری ہی رضا کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے (نکلنے کا) راستہ بنا دے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: چنانچہ وہ پتھر دو تہائی ہٹ گیا۔ تیسرے شخص نے دعا کی: اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے ایک مزدور ایک ’فرق‘ جوار کے عوض کام پر لگایا جب میں اسے دینے لگا تو اس نے لینے سے انکار کردیا میں نے اس جوار کو لے کر بو دیا، (اس میں اتنی برکت ہوئی کہ) میں نے اس سے ایک بیل اور چرواہا خرید لیا، کچھ عرصہ بعد اس نے آکر مزدوری مانگی کہ اے اللہ کے بندے! مجھے میرا حق دیدے، میں نے کہا: اس بیل اور چرواہے کے پاس جاؤ وہ سب تمھارا ہی ہے، اس نے کہا: مجھ سے مذاق کرتے ہو، میں نے کہا: میں مذاق نہیں کرتا واقعی یہ تمھارے ہی ہیں، اے اللہ! اگر تیرے نزدیک یہ کام میں نے تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے (اس چٹان کو ہٹا کر) راستہ بنا دے، چناچہ وہ پتھر ان سے ہٹ گیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
خرج ثلاثة من الناس يمشون فأمطرت عليهم السماء، فدخلوا في غار ليحتموا به من شدة المطر، فوقعت صخرة فسدت باب الغار، فقال بعضهم لبعض: ادعوا الله بأفضل عمل عملتموه؛ لعل الله أن يفرج عنكم ويزيل هذه الصخرة, فقال أحد الثلاثة: اللهم إنه كان لي أب وأم كبيران في السن، وكنت أخرج إلى المرعى فأرعى إبلي، ثم أجيء من المرعى، فأحلب إبلي، فأجيء باللبن فآتي به أبي وأمي فأناولهما إياه فيشربان، ثم أسقي أولادي الصغار وزوجتي وبقية أهلي من أخ وأخت، فتأخرت ليلة من الليالي بسبب أمر عرض لي، فإذا أبي وأمي نائمان، فحلبت كما كنت أحلب، فقمت عند رؤوسهما أكره أن أوقظهما, وأكره أن أسقي أولادي وأهلي قبلهما، وكان أولادي يبكون ويصرخون من شدة الجوع عند رجلي، فلم يزل ذلك شأني وشأنهما حتى طلع الفجر واستيقظا فسقيتهما ثم سقيت أولادي، فاللهم إن كنتَ تعلم أني فعلت ذلك طلبًا لمرضاتك، فأزح عنا هذه الصخرة قليلا حتى نرى السماء، ففرج الله عنهم فرجة رأوا منها السماء.
وقال الثاني: اللهم إني كنت أحب أمرأة من بنات عمي حبًّا شديدًا، فراودتها عن نفسها فامتنعت مني إلا أن أعطيها مائة دينار، فحصَّلت المائة دينار، ثم أعطيتها لها، فلما تمكنت منها وقعدت بين رجليها،  قالت لي: خف الله ولا ترتكب الحرام، ولا تُزل بكارتي إلا بالحلال, فقمت من بين رجليها وتركتها، ولم أفعل بها شيئا، فاللهم إن كنتَ تعلم أني فعلت ذلك طلبا لمرضاتك، فأزح عنا من هذه الصخرة، ففرج الله عنهم ثلثي الموضع الذي عليه الصخرة.
وقال الثالث: اللهم إني استأجرتُ أجيرًا ليعمل لي عملا على أن أُعطيه ستة عشر رطلا من الذرة، فلما انتهى من عمله، أعطيته أجره فامتنع أن يأخذه، فأخذت الذرة فزرعتها، ولم أزل أزرعها وأبيعها حتى اشتريت منها بقرا وراعيها، ثم جاء الأجير بعد مدة فقال: يا عبد الله أعطني حقي. فقلت: انطلق إلى تلك البقر وراعيها فإنها لك فخذها جميعًا. فقال الأجير: أتسخر مني؟ فقلت: إني لا أسخر منك، ولكنها لك, فاللهم إن كنتَ تعلم أني فعلت ذلك طلبا لمرضاتك، ففرج عنا هذه الصخرة، ففرج الله عنهم ما بقي من باب المغارة، فخرجوا منها.
578;ین لوگ کہیں جا رہے تھے کہ اچانک انہیں بارش نے گھیر لیا، بارش کی شدت سے بچنے کے لیے وہ ایک غار میں داخل ہوئے، اچانک ایک چٹان گری اور غار کا راستہ بند ہو گیا، انھوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا: اپنے کیے ہوئے سب سے افضل عمل کے ذریعہ اللہ سے دعا کرو، امید کہ اللہ کشادگی پیدا کرے اور اس چٹان کو ہٹا دے،
تینوں میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے بوڑھے ماں باپ تھے، میں چراہ گاہ جاکر اپنے اونٹ چرایا کرتا تھا، پھر چراگاہ سے واپس آتا اور اونٹنی کو دوہتا، اپنے ماں باپ کو دودھ پیش کرتا اور وہ اسے پیتے، پھر اپنے چھوٹے بچوں، بیوی اور بھائی بہن وغیرہ کو پلاتا تھا، ایک مرتبہ کسی وجہ سے گھر واپس آنے میں تاخیر ہوگئی، واپس آکر کیا دیکھتا ہوں کہ میرے والدین سو چکے ہیں، پہلے کی طرح میں نے دودھ دوہا اور دونوں کے سرہانے کھڑا ہوگیا، انہیں بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا اور ان کے پینے سے پہلے اپنی آل اولاد کو بھی پلانا مناسب نہیں سمجھا جب کہ میرے بچے بھوک کی شدت کے سبب میرے پیروں کے پاس رو رہے تھے، میں ایسے ہی مستقل کھڑا رہا یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی، وہ دونوں بیدار ہوئے دودھ پیا اور پھر میں نے اپنے بچوں کو پلایا، اےاللہ! اگر تیرے نزدیک میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا، تو ہمارے لیے تو اس چٹان کو تھوڑا سا ہٹا دےتاکہ ہم آسمان کو دیکھ سکیں، اللہ تعالی نے اس پتھر کو اتنا ہٹا دیا کہ وہ آسمان دیکھ سکیں۔
دوسرے شخص نےکہا: اے اللہ! مجھے اپنے چچا کی ایک لڑکی سے بڑی شدید محبت تھی، میں نے اسے اپنے لیے بہکانا چاہا وہ مجھے روکتی رہی لیکن (مجبوری میں) سو دینار کے عوض وہ راضی ہو گئی، میں نے سو دینار حاصل کیے اور اسے دے دیا، جب میں اس پر قابض ہو گیا اور اس کے دونوں پیروں کے درمیان بیٹھا تو وہ مجھ سے کہنے لگی: اللہ سے ڈرو اور حرام کا ارتکاب نہ کرو اور ناجائز طریقے سے میری بکارت نہ زائل کرو، چنانچہ میں اس کے دونوں پیروں کے درمیان سے اٹھ گیا اور اسے چھوڑ دیا، اے اللہ! تو جانتا ہے اگر میں نے یہ کام تیری رضا پانے کے لیے کیا ہے تو ہم سے اس چٹان کو دور کردے، چنانچہ اللہ نے اس چٹان کو ہٹا کر دو تہائی راستہ بنا دیا۔
اور تیسرے شخص کہا: اے اللہ! میں نے سولہ رطل جوار کے عوض ایک مزدور اجرت پر رکھا، جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوا تو میں نے اس کو اس کی اجرت دے دی جسے اُس وقت لینے سے اس نے انکار کردیا، میں نے اس جوار کو کھیتی میں لگا دیا اور مسلسل اس سے کھیتی اور خرید وفروخت کرتا رہا یہاں تک کہ اس سےایک گائے اور ایک چرواہا خرید لیا، پھر ایک مدت کے بعد وہ مزدور آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے بندے! مجھے میرا حق دے دے۔ میں نے کہا: اس بیل اور چرواہے کے پاس جاؤ وہ تمھارا ہی ہے سب کو لے جاؤ ، مزدور نے کہا: کیا تم مجھ سے مذاق کرتے ہو؟ میں نے کہا: میں تم سے مذاق نہیں کررہا، واقعی یہ تمھارے ہی ہیں، پس اے اللہ! اگر تیرے نزدیک یہ کام میں نے تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے اس چٹان کو ہٹا کر راستہ بنا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے غار کے باقی راستہ کو کھول دیا اور وہ تینوں باہر آگئے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10417

 
 
Hadith   1627   الحديث
الأهمية: رأيت جبريل على سدرة المنتهى، وله ست مائة جناح


Tema:

میں نے جبریل کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔

عن ابن مسعود -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «رأيتُ جِبريلَ على سِدْرة المُنْتَهى، وله ستُّ مائة جَناح» قال: سألتُ عاصمًا، عن الأجنحة؟ فأبى أن يخبرني، قال: فأخبرني بعض أصحابه: «أنَّ الجَناح ما بين المشرق والمغرب».

عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”میں نے جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے“۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عاصم سے پروں کے متعلق سوال کیا؟ تو انھوں نے مجھے بتانے سے انکار کردیا۔ راوی کہتے ہیں: لیکن مجھے آپ کےکسی صحابی نے بتایا :”بے شک ایک پر مشرق و مغرب کے درمیان (واقع فضا کو گھیرے ہوئے) ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
رأى النبي -صلى الله عليه وسلم- جبريل في أعلى الجنة وله ستُّ مائة جَناح، فسأل الراوي عاصمَ بن أبي بهدلة عن هيئة هذه الأجنحة؟ فلم يخبره، فأخبره بعض أصحابه أن كل جناح من كبره وعظمته يسد ما بين المشرق والمغرب، وهذا جاء في أحاديث صحيحة أخرى: (سادا عظم خلقه ما بين المشرق والمغرب).
606;بی ﷺ نے جبریل کو جنت کے بالائی حصے میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔ راوی نے عاصم بن ابی بہدلہ سے ان پروں کی ہیئت کے بارے میں سوال کیا؟ تو انھیں اس کے متعلق بتایا نہیں گیا۔ البتہ کسی صحابی نے انھیں بتایا کہ ہر پر اس قدر عظیم اور بڑا ہے کہ مشرق و مغرب کو گھیرے ہوئے ہے۔ دوسری صحیح احادیث میں بھی آیا ہے: ان کی بناوٹ کی بڑائی یعنی بھاری بھرکم جسامت نے آسمان و زمین کی درمیانی جگہ کو گھیر رکھا تھا۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10418

 
 
Hadith   1628   الحديث
الأهمية: رأيت جبريل عند سدرة المنتهى، عليه ستمائة جناح، ينتثر من ريشه التهاويل: الدر والياقوت


Tema:

میں نے جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔ ان کے چھ سو پر تھے۔ ان کے پر سے مختلف رنگ کے یاقوت اور موتی گر رہے تھے۔

عن ابن مسعود -رضي الله عنه- أنه قال في هذه الآية: {ولقد رآه نَزْلَةً أُخرى} [النجم: 13]، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «رأيتُ جبريلَ عند سِدْرةِ المُنْتَهى، عليه ستُّمائة جَناح، يَنْتَثِرُ من رِيشِه التَّهاوِيلُ: الدُّرُّ والياقُوتُ».

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں کہا: ”اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا“ (سورہ نجم:
۱۳)   کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔ ان کے چھ سو پر تھے۔ ان کے پر سے مختلف رنگ کے یاقوت اور موتی گر رہے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يذكر ابن مسعود -رضي الله عنه- في تفسير قوله -تعالى-: {ولقد رآه نَزْلَةً أُخرى} أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أخبر أنه رأى جبريل -عليه السلام- في أعلى الجنة عند سدرة المنتهى، على الهيئة التي خلقه الله -تعالى- عليها, له ستمائة جناح يسقط من ريشه الألوان المختلفة من الدر والياقوت.
575;للہ تعالیٰ کے فرمان: ”اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا“ کی تفسیر میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ نبی ﷺ نے بتایا کہ آپ نے جبریل علیہ السلام کو جنت کے اوپر سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، ان کی اس ہیئت و خلقت میں دیکھا، جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق فرمائی ہے۔ ان کے چھ سو پر تھے۔ ان کے پروں سے مختلف رنگ کے موتی اور یاقوت جھڑ رہے تھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10419

 
 
Hadith   1629   الحديث
الأهمية: يا أبا عائشة، ثلاث من تكلم بواحدة منهن فقد أعظم على الله الفرية


Tema:

اے ابو عائشہ! تین باتیں ایسی ہیں کہ جس نے ان میں سے ایک بھی بات کہی، اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔

عن مسروق، قال: كنتُ مُتَّكئًا عند عائشة، فقالت: يا أبا عائشة، ثلاثٌ مَن تكلَّم بواحدةٍ منهن فقد أَعظَمَ على اللهِ الفِرْيةَ، قلتُ: ما هن؟ قالت: مَن زعم أنَّ محمدًا -صلى الله عليه وسلم- رأى ربَّه فقد أعظم على الله الفِرْيةَ، قال: وكنتُ مُتَّكئًا فجلستُ، فقلتُ: يا أمَّ المؤمنين، أَنْظِريني، ولا تَعْجَليني، أَلَم يقل اللهُ -عز وجل-: {ولقد رآه بالأُفُق المُبين} [التكوير: 23]، {ولقد رآه نَزْلَةً أخرى} [النجم: 13]؟ فقالت: أنا أولُ هذه الأمَّة سأل عن ذلك رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم-، فقال: «إنما هو جبريلُ، لم أَرَه على صُورتِه التي خُلق عليها غير هاتين المرَّتين، رأيتُه مُنهبِطًا من السماء سادًّا عِظَمُ خَلقِه ما بيْن السماء إلى الأرض»، فقالت: أَوَلَم تسمع أنَّ الله يقول: {لا تُدْرِكه الأبصارُ وهو يُدْرِكُ الأبصارَ وهو اللطيفُ الخبيرُ} [الأنعام: 103]، أَوَلَم تسمع أنَّ الله يقول: {وما كان لبشرٍ أن يُكلِّمه اللهُ إلا وحيًا أو من وراء حِجاب أو يُرسلُ رسولا فيوحيَ بإذنه ما يشاء إنَّه عَلِيٌّ حَكِيمٌ} [الشورى: 51]، قالت: ومَن زعم أنَّ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كَتَم شيئا مِن كتاب الله، فقد أعْظَم على الله الفِرْيةَ، واللهُ يقول: {يا أيها الرسول بَلِّغْ ما أُنزِل إليك من ربك وإن لم تفعلْ فما بلَّغتَ رسالتَه} [المائدة: 67]، قالت: ومَن زعم أنه يُخبر بما يكون في غدٍ، فقد أعْظَم على الله الفِرْيةَ، والله يقول: {قل لا يعلمُ مَنْ في السماوات والأرضَ الغيبَ إلَّا الله} [النمل: 65].

مسروق کہتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا۔ انھوں نے کہا: اے ابو عائشہ! تین باتیں ایسی ہیں کہ جس نے ان میں سے ایک بھی بات کہی، اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔ میں نے کہا: وہ تین باتیں کون سی ہیں؟
عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جس نے خیال کیا کہ محمد ﷺ نے (معراج کی رات میں) اللہ کو دیکھا ہے، اس نے اللہ پر بڑا بہتان لگایا۔ مسروق کہتے ہیں کہ میں ٹیک لگائے ہوئے تھا اور ( یہ بات سنتے ہی ) سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ میں نے کہا: ام المؤمنین ! مجھے بولنے کا موقع دیجیے اور میرے بارے میں حکم لگانے میں جلدی نہ کیجیے گا۔ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: ﴿ولقد رآه بالأُفُق المُبين﴾ اس نے اس کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے۔ (التکویر: 23) نیز اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿ولقد رآه نَزْلَةً أخرى﴾ بے شک اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا۔ (النجم : 13) تب عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس امت میں سب سے پہلے میں نے ان آیات کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تو جبریل (علیہ السلام) تھے۔ ان دو مواقع کے سوا اور کوئی موقع ایسا نہیں ہے، جس میں جبریل علیہ السلام کو میں نے ان کی اپنی اصل صورت میں دیکھا ہو، جس پران کی تخلیق ہوئی ہے۔ میں نے ان کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا ہے۔ ان کی بناوٹ کی بڑائی یعنی بھاری بھر کم جسامت نے آسمان و زمین کے درمیانی جگہ کو گھیر رکھا تھا. عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تم نے سنا نہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ﴾ اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہو سکتی اور وہ سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہےاوروہی بڑا باریک بیں اورباخبر ہے۔ (الانعام: 103) اور کیا تم نے سنا نہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ﴾ نا ممکن ہے کہ کسی بندے سے اللہ تعالیٰ کلام کرے، مگر وحی کے ذریعے، پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتے کو بھیجے اوروہ اللہ کے حکم سے جو وہ چاہے، وحی کرے۔ بے شک وہ برتر ہے، حکمت والا ہے۔ (الشوریٰ: 51)
(دوسری بات) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اورجس نے یہ خیال کیا کہ محمد ﷺ نے اللہ کی کتاب میں سے کچھ چھپا لیا ہے، اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔ جب کہ اللہ فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ﴾ اے رسول! جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے، پہنچا دیجیے، اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی۔ (المائدہ: 67)
(تیسری بات) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جو شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ نبی ﷺ آئندہ کل پیش آنے والے حالات کا علم رکھتے ہیں، اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا، جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّـهُ﴾ کہہ دیجیے کہ آسمانوں والوں میں سے اور زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا۔ (النمل: 65)

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان التابعي الجليل مسروقٌ متكئًا عند أم المؤمنين عائشة -رضي الله عنها-، فقالت له: ثلاثة أشياء من تكلم بواحدة منها فقد كذب على الله كذبًا عظيمًا. فقال لها: ما هذه الأشياء؟ فأجابته بها:
الأول: من ادَّعى أن محمدًا -صلى الله عليه وسلم- رأى ربَّه فقد كذب على الله كذبًا عظيمًا. وكان مسروق متكئا فاعتدل، فقال لها: كيف تقولين: إن محمدًا -صلى الله عليه وسلم- لم ير ربه، وقد قال الله -تعالى-: {ولقد رآه بالأُفُق المبين} [التكوير: 23]، {ولقد رآه نَزْلَةً أخرى} [النجم: 13]؟ فأخبرته أنها أولُ مَن سأل رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم- عن هاتين الآيتين، فأخبرها -صلى الله عليه وسلم- أنه إنما رأى جبريلَ -عليه السلام-، ولم يره على صورتِه التي خلقه الله -تعالى- عليها غير هاتين المرتين، مرة في الأرض بناحية مطلع الشمس حيث تبدو الأشياء واضحة ظاهرة، ومرة أخرى في أعلى الجنة، رآه مُنهبِطًا من السماء يملأ خَلقُه العظيم ما بين السماء إلى الأرض، ثم استدلت لعدم رؤية النبي -صلى الله عليه وسلم- ربه بقوله -تعالى-: {لا تُدْرِكه الأبصارُ وهو يُدْرِكُ الأبصارَ وهو اللطيفُ الخبيرُ} [الأنعام: 103]، وقوله -تعالى-: {وما كان لبشرٍ أن يُكلِّمه اللهُ إلا وحيًا أو من وراء حِجاب أو يُرسل رسولا فيوحيَ بإذنه ما يشاء إنَّه عَلِيٌّ حَكِيمٌ} [الشورى: 51]
الثاني: أن مَن ادَّعى أنَّ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كتم شيئا مِن كتاب الله، فقد كذب على الله كذبًا عظيمًا، واللهُ يقول: {يا أيها الرسول بَلِّغْ ما أُنزِل إليك من ربك وإن لم تفعل فما بلَّغتَ رسالتَه} [المائدة: 67].
الثالث: أن مَن ادَّعى أنَّ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يُخبر بالذي سيحدث في المستقبل من تلقاء نفسه دون وحيٍ من الله -تعالى- فقد كذب على الله كذبًا عظيمًا، والله يقول: {قل لا يعلمُ مِن في السماوات والأرض الغيبَ إلَّا الله} [النمل: 65].
580;لیل القدر تابعی مسروق، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا: تین باتیں ایسی ہیں کہ جس نے ان میں سے کوئی بھی بات کہی، اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔ مسروق نے ان سے کہا: یہ باتیں کون سی ہیں؟ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا جواب دیا:
اوّل: جس نے یہ دعویٰ کیا کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے، اس نے اللہ پربہت بڑا جھوٹ باندھا۔ مسروق ٹیک لگائے ہوئے تھے، مگر سیدھے ہو گئے اوران سے کہا: آپ یہ بات کیسے کہہ رہی ہیں کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو نہیں دیکھا ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ولقد رآه بالأُفُق المُبين﴾ اس نے اس کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے۔ (التکویر: 23)، نیز اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿ولقد رآه نَزْلَةً أخرى﴾ بے شک اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا۔ (النجم : 13)؟
تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ سب سے پہلے انھوں نے ہی ان دونوں آیتوں سے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا، تو آپ ﷺ نے بتایا کہ آپ نے تو جبریل علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ ان دو مواقع کے سوا اورکوئی موقع ایسا نہیں ہے، جب جبریل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ سلم نے ان کی اصل صورت میں دیکھا ہو، جس پر اللہ نے ان کی تخلیق فرمائی ہے۔ ایک مرتبہ سورج نکلنے کی جگہ کے کنارے، جب کہ ہر چیز واضح اور ظاہر ہو جاتی ہے اور دوسری مرتبہ آپ ﷺ نے ان کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا ہے، ان کی بناوٹ کی بڑائی یعنی بھاری بھر کم جسامت نے آسمان و زمین کی درمیانی جگہ کو گھیر رکھا تھا۔
پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کا اپنے رب کو نہ دیکھنے کی دلیل اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے لی: ﴿لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ﴾ اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہو سکتی اور وہ سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہےاوروہی بڑا باریک بیں اورباخبر ہے۔ (الانعام: 103) اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے: ﴿وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ﴾ نا ممکن ہے کہ کسی بندے سے اللہ تعالیٰ کلام کرے، مگر وحی کے ذریعے، پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتے کو بھیجے۔ اوروہ اللہ کے حکم سے، جو وہ چاہے، وحی کرے۔ بے شک وہ برتر ہے، حکمت والا ہے۔ (الشوریٰ: 51)
دوم: جس نے یہ دعویٰ کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی کتاب سے کچھ چھپا لیا ہے، اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ﴾ اے رسول! جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے، پہنچا دیجیے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا، تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی۔ (المائدہ: 67)
سوم: جس نے یہ دعویٰ کیا کہ رسول اللہ ﷺ، اللہ تعالیٰ کی وحی کے بغیر ازخود مستقبل کی باتیں بتاتے ہیں، اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا، جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّـهُ﴾ کہہ دیجیے کہ آسمانوں والوں میں سے اور زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا۔ (النمل: 65)

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10420

 
 
Hadith   1630   الحديث
الأهمية: نزل جبريل فأمني، فصليت معه، ثم صليت معه، ثم صليت معه، ثم صليت معه، ثم صليت معه


Tema:

جبریل آئے اور انہوں نے میری امامت کرائی۔ میں نے اُن کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی۔

عن ابن شِهاب أنَّ عُمر بن عبد العزيز أخَّرَ العصرَ شيئًا، فقال له عُروة: أمَا إنَّ جبريلَ قد نزل فصلَّى إمامَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقال عمرُ: اعلمْ ما تقولُ يا عُروة قال: سمعتُ بَشِير بن أبي مسعود يقول: سمعتُ أبا مسعود يقول: سمعتُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «نَزَل جبريلُ فأمَّني، فصلَّيتُ معه، ثم صَلَّيتُ معه، ثم صَلَّيتُ معه، ثم صَلَّيتُ معه، ثم صَلَّيتُ معه» يحسِبُ بأصابعِه خمسَ صَلَواتٍ.

ابن شہاب سے روایت ہے کہ عمر بن عبد العزیز نے عصر میں کچھ تاخیر کر دی، تو عروہ نے ان سے کہا: کیا آپ کومعلوم نہیں کہ جبریل علیہ السلام نے آکر رسول اللہ ﷺ کو نمازپڑھائی تھی؟ اس پر عمر بن عبد العزیز نے کہا: اے عروہ ! جو تم کہہ رہے ہو اسے خوب سوچ سمجھ کر کہو، تو عروہ نے کہا :میں نے بشیر بن ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے ابو مسعود سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جبریل نازل آئے اور انہوں نے میری امامت کرائی، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی“ آپ اپنی انگلیوں پر پانچوں نمازوں کو گن رہے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان جبريل -عليه السلام- ينزل على النبي -صلى الله عليه وسلم- بالوحي, وكان يأتيه على صور وهيئات مختلفة, وفي هذا الحديث نزل وأمه في الصلوات الخمس ليبين له أوقاتها, والقصة التي ورد في سياقها الحديث: أن عُمر بن عبد العزيز أخَّر صلاة العصر عن وقتها شيئًا قليلًا، فأنكر عليه عُروة بن الزبير، وأخبره أن جبريلَ نزل فصلَّى إمامًا برسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فتعجَّب عمر من ذلك، وأمر عروة أن يتأمل فيما يقول ويتثبت ولا يقول ما لا دليل له عليه, فأخبره عروة أنه سمع بَشِير بن أبي مسعود يخبر عن أبي مسعود البدري أنه سمع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يخبر أن جبريل نزل فصلى إمامًا به -صلى الله عليه وسلم- في وقت كل صلاة من الصلوات الخمس, وأنه سمع  هذا الحديث فعرف كيفية الصلاة وأوقاتها وأركانها.
580;بریل علیہ السلام وحی لے کر نبی ﷺ کے پاس آتے تھے اور مختلف شکل وصورت میں آتے تھے۔ اِس حدیث میں ہے کہ وہ اترے اور آپ ﷺ کو پانچ وقتوں کی امامت کرائی تاکہ آپ ﷺ کو نمازوں کے اوقات بتائیں۔ سیاقِ حدیث میں جو قصہ وارد ہوا ہے وہ یہ ہے:
ایک مرتبہ عمر بن عبد العزیز نے عصر کی نماز کو اس کے وقت سے تھوڑا مؤخر کر دیا تو اس پر عروہ بن زبیر نے ان پر اعتراض کیا اور انھیں بتایا کہ ایک مرتبہ جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی امامت کرائی، اس پر عمر بن عبد العزیز کو تعجب ہوا اور انھوں نے عروہ کو حکم دیا کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات پر غور کریں اور سوچ سمجھ کر کہیں اور وہ بات نہ کہیں جس کی دلیل نہ ہو، تو عروہ نے بتایا کہ انھوں نے بشیر بن ابو مسعود سے سنا ہے وہ ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ نے بتایا کہ ایک مرتبہ جبریل نازل ہوئے اور پانچوں نمازوں کے اوقات میں آپ ﷺ کی امامت کرائی۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عروہ نے اس حدیث کو سنا اور نماز کی کیفیت اور اس کے اوقات وارکان کو جانا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10421

 
 
Hadith   1631   الحديث
الأهمية: ليلة أسري بي مررت على جبريل في الملأ الأعلى كالحلس البالي من خشية الله -عَزَّ وجَلَّ-


Tema:

معراج کی رات جب میرا گزر ملأ اعلی میں جبرائیل کے پاس سے ہوا تو اللہ عز و جل کے خوف سے ان کی کیفیت ایسی تھی جیسے بوسیدہ ٹاٹ ہوتا ہے۔

عن جابر -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «ليلةَ أُسْرِيَ بي مررتُ على جبريل في المَلَأ الأعلى كالحِلْسِ البالي مِن خَشيةِ الله -عز وجل-».

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معراج کی رات جب میرا گزر ملأ اعلی میں جبرائیل کے پاس سے ہوا تو اللہ عز و جل کے خوف سے ان کی کیفیت ایسی تھی جیسے بوسیدہ ٹاٹ ہوتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث ذكر النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه لما عُرج به ليلة الإسراء والمعراج مَرَّ على جبريل وهو مع الملائكة المقربين، فرأى جبريل كالثوب القديم الرقيق من شدة خوفه من الله -عز وجل-, وهذا يدل على فضل علم جبريل -عليه السلام- بالله -تعالى-, لأن من كان بالله أعلم  كان أكثر خشية له.
575;س حدیث میں نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ اسراء اور معراج کی شب جب انہیں اوپر لے جایا گیا تو ان کا گزر جبرائیل علیہ السلام کے پاس سے ہوا جو مقرب فرشتوں کے ہمراہ موجود تھے۔ آپ ﷺ نے دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اللہ عز و جل کے خوف کی شدت کی وجہ سے پرانے اور رقیق کپڑے کی مانند ہوئے پڑے ہیں۔ یہ بات جبرائیل علیہ السلام کے علم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ جو شخص اللہ تعالی کا جتنا زیادہ علم رکھتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ اس سے ڈرتا ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10422

 
 
Hadith   1632   الحديث
الأهمية: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ينام وهو جنب من غير أن يمس ماء


Tema:

رسول الله ﷺ جنابت کی حالت میں پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے تھے۔

عن عائشة  -رضي الله عنها- قالت: «كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يَنَام وهو جُنُب من غِير أن يَمَسَّ ماء».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول الله ﷺ جنابت کی حالت میں پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان ينام بعد الجماع من غير أن يَمَسَّ الماء بَشَرَته، لا ماء الوضوء ولا ماء الاغتسال ولا حتى ماء لغسل فَرْجِه؛ لأن " ماء " نكرة في سِياق النَّفي فتعُمُّ جميع استعمالات الماء.  
الاحتمال الثاني: لا يَمَسُّ ماءَ الغُسل، دون ماء الوضوء، ويوافق أحاديث الصحيحين المصرِّحة بأنَّه يغسل فَرْجَه ويتوضَّأ لأجل النوم والأكل والشرب والجماع.
ومنها: حديثُ ابن عمر؛ أنَّ عمر قال: يا رسولَ الله، أيَنَام أحُدنا وهو جُنب؟ قال: "نعم، إذا توضَّأ". متفق عليه.
وعن عمَّار بن ياسر: "أنَّ النبَّي -صلى الله عليه وسلم- رخَّص للجُنب إذا أراد أنْ يأكُلَ أو يشرَبَ أو يَنام: أن يتوضَّأ وضوءه للصلاة" رواه أحمد والترمذي وصححه. لكن هذا التأويل يَرُدُّه عموم الحديث.
والأحسن أن يقال: أنه كان -صلى الله عليه وسلم- في بعض الأوقات لا يَمَسَّ ماء أصلاً لبيان الجواز، إذ لو واظب عليه لتُوهِّم وجوبه، تيسيرا وتخْفِيَفا على الأُمَّة.
606;بی ﷺ جماع کرنے کے بعد پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جایا کرتے تھے، نہ وضو کرتے اور نہ ہی غسل فرماتے، یہاں تک کہ اپنی شرم گاہ کو بھی نہیں دھوتے تھے; کیونکہ حدیث میں "ماء" کا لفظ نکرہ ہے اور سیاقِ نفی میں استعمال ہوا ہے، اس لیے یہ پانی کے ہر قسم کے استعمال کو عام ہے۔
دوسرا احتمال: یہ ہے کہ آپ ﷺ غسل کے لیے پانی کو نہ چھوتے تھے نہ کہ وضوء کے لیے۔یہ مفہوم صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ان احادیث سے موافقت رکھتا ہے جن میں صراحت کے ساتھ اس بات کا بیان ہے کہ آپ ﷺ بعد ازجماع سونے کے لیے اور کھانے، پینے اور دوبارہ جماع کے لیے اپنی شرمگاہ کو دھوتے اور وضو کرتے تھے۔
ان میں سے ایک وہ حدیث ہے جو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے جس میں آتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ: اے اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی شخص حالت جنابت میں سو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں بشرطیکہ وہ وضوء کرلے“۔ متفق علیہ۔
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جنبی شخص کو رخصت دی کہ جب اس کا کھانے پینے یا سونے کا ارادہ ہو تو نماز کے لئے کیا جانے والا وضو کر لے۔۔ اس حدیث کو امام احمد اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے اورامام ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ تاہم اس تاویل کو حدیث کا عموم مسترد کرتا ہے۔
بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ: نبی ﷺ جواز کو بیان کرنے کے لیے بعض اوقات بالکل بھی پانی کو نہیں چھوتے تھے۔ کیونکہ آپ ﷺ اگر ہمیشہ ایسا کیا کرتے تو اس سے اس کے فرض ہونے کا وہم ہوتا۔ لہٰذا آپ ﷺ نے امت کے لیے آسانی اورسہولت پیدا کرنے کی غرض سے بعض اوقات پانی کے استعمال کو چھوڑ دیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10543

 
 
Hadith   1633   الحديث
الأهمية: كيف أنعم وقد التقم صاحب القرن القرن وحنى جبهته وأصغى سمعه ينتظر أن يؤمر أن ينفخ فينفخ


Tema:

میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا صور کو منہ سے لگائے ہوئے اور اپنی پیشانی جھکائے ہوئے اور اپنا کان لگائے ہوئے، انتظار میں ہے کہ اسے صور پھونکنے کا حکم دیا جائے تو وہ فوراً صور پھونک دے۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه-، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «كيف أَنْعَمُ وقدِ الْتَقَمَ صاحبُ القَرْنِ القَرْنَ وحَنَى جَبهتَه وأَصْغَى سمعَه ينتظرُ أنْ يُؤمَرَ أنْ يَنْفُخَ فينفخُ» قال المسلمون: فكيف نقولُ يا رسولَ الله؟ قال: «قولوا: حسبُنا اللهُ ونِعْمَ الوَكيلُ توكَّلنا على اللهِ ربِّنا» وربما قال سفيان: على الله توكَّلنا.

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا صور کو منہ سے لگائے ہوئے اور اپنی پیشانی جھکائے ہوئے اور اپنا کان لگائے ہوئے، انتظار میں ہے کہ اسے صور پھونکنے کا حکم دیا جائے تو وہ فوراً صور پھونک دے“، مسلمانوں نے کہا: ہم (ایسے موقعوں پر) کیا کہیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا کہو :﴿حسبُنا اللهُ ونِعْمَ الوَكيلُ توكَّلنا على اللهِ ربّنا﴾ ”ہمیں اللہ کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے، ہم نے اپنے رب اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے“۔ راوی کہتے ہیں کہ کبھی کبھی سفیان نے ”توكَّلنا على اللهِ ربِّنا“ کے بجائے ”على الله توكَّلنا“ روایت کرتے۔ (یعنی ہم نے اپنے رب اللہ پر بھروسہ کیا ہے)۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يقول النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث: كيف أفرح وأسعد في الدنيا وألتذ بها، وقد قرُب أمر الساعة، والملَك الموكَّل بالصور -وهو إسرافيل- قد وضع فاه عليه، وأمال رأسه وأنصت متهيئًا لأن يؤمر بالنفخ في الصور فينفخ فيه، حتى يصعق من في السموات والأرض وتقوم الساعة؟ فكأن هذا الأمر -وهو قرب قيام الساعة- قد ثقل وعظم على أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقالوا: فماذا نقولُ يا رسولَ الله؟ فقال لهم -صلى الله عليه وسلم-: «قولوا: حسبُنا اللهُ ونِعْمَ الوَكيلُ توكَّلنا على اللهِ ربِّنا» أي: قولوا: الله كافينا، وهو كفيلنا ونعم الكفيل هو، وقد توكلنا عليه -سبحانه-.
575;س حدیث میں نبی ﷺ فرماتے ہیں: میں دنیا میں کیسے خوش و خرم رہوں اور اس کی لذتوں سے بہرہ ور ہوتا رہوں جب کہ قیامت قریب ہے اور صور پھونکنے پر مامور فرشتہ (اسرافیل) اپنے منہ کو صور کے ساتھ لگائے ہوئے ہے، اپنے سر کو اسی طرف جھکائے ہوئے خاموش تیار ہے کہ اللہ صور پھونکنے کا حکم دے اور وہ صور پھونکے یہاں تک کہ آسمانوں اور زمین میں موجود لوگ بیہوش ہوجائیں اور قیامت قائم ہو جائے؟ یہ معاملہ یعنی قیامت قائم ہونے کی قربت رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں پر بھاری و بوجھل محسوس ہوئی، انھوں نے کہا: ایسے موقع پر ہم کیا کہیں اے اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ﴿حسبُنا اللهُ ونِعْمَ الوَكيلُ توكَّلنا على اللهِ ربِّنا﴾ ”ہمیں اللہ کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے، ہم نے اپنے رب اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے“ یعنی کہو کہ:اللہ ہمارے لیے کافی ہے، وہی ہمارا کارساز ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے اور ہم نے اللہ سبحانہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10545

 
 
Hadith   1634   الحديث
الأهمية: أُذِن لي أن أحدِّث عن ملك من ملائكة الله من حملة العرش، إن ما بين شحمة أذنه إلى عاتقه مسيرة سبعمائة عام


Tema:

مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت کا ہے۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما-، عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «أُذِنَ لي أنْ أُحَدِّثَ عن مَلَك مِن ملائكة الله مِن حَمَلَةِ العَرْش، إنَّ ما بين شَحْمةِ أُذُنِه إلى عاتِقِه مَسِيرةُ سبعِمائة عام».

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت کا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- في حديث جابر -رضي الله عنه- أن الله -تعالى- أذِن له وسمح بأن يحدِّث أمته عن وصف مَلَك عظيم من ملائكة الله -تعالى-، من الذين يحملون عرش الرحمن الذي هو أعظم المخلوقات، وأن المسافة ما بين الموضع اللين في أسفل أذنه إلى أسفل عنقه يسير فيها الفرس السريع سبعمائة سنة.
580;ابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں، نبی ﷺ خبر دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اجازت مرحمت فرمائی ہے کہ وہ اپنی امت سے اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک عظیم فرشتے کا وصف بیان کریں، ان فرشتوں میں سے جو رحمان کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں جو کہ اللہ کی مخلوقات میں سب سے عظیم مخلوق ہے اور اس فرشتے کے کان کے نچلے حصے کی لو سے لے کر اس کی گردن کے نچلے حصے تک کی مسافت و دوری ایک تیز رفتار گھوڑے کے سات سو برس تک چلنے کے برابر ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10546

 
 
Hadith   1635   الحديث
الأهمية: ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكة


Tema:

کیا میں اُس شخص سےحیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاکرتے ہیں؟!

عن عائشة قالت: كان رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- مُضْطجِعًا في بيتي، كاشفًا عن فَخِذَيْه، أو ساقَيْه، فاسْتأذَن أبو بكر فأذِنَ له، وهو على تلك الحال، فتحدَّثَ، ثم اسْتأذَن عُمر، فأذِن له، وهو كذلك، فتحدَّث، ثم اسْتأذَن عثمان، فجلس رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وسوَّى ثِيابه -قال محمد: ولا أقول ذلك في يوم واحد- فَدَخَل فتحدَّث، فلمَّا خرج قالت عائشة: دخل أبو بكر فلم تَهْتَشَّ له ولم تُبَالِه، ثم دخل عمر فلم تَهْتَشَّ له ولم تُبَالِه، ثم دخل عثمان فجلستَ وسوَّيتَ ثيابك فقال: «ألا أسْتَحِي من رجل تَسْتَحِي منه الملائكةُ».

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے، رانیں یا پنڈلیاں کھولے ہوئے تھے کہ اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی، تو آپ ﷺنے اسی حالت میں اجازت دے دی اور باتیں کرتے رہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو انہیں بھی اسی حالت میں اجازت دے دی اور باتیں کرتے رہے۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو رسول اللہ ﷺبیٹھ گئے اور کپڑے برابر کر لیے۔ پھر وہ آئے اور باتیں کیں۔ (راوی محمد کہتے ہیں کہ میں نہیں کہتا کہ تینوں کا آنا ایک ہی دن ہوا) جب وہ چلے گئے تو اُمُّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺنے کوئی حرکت اورکچھ خیال نہ کیا، پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے تو بھی آپ ﷺنے کوئی حرکت اورکچھ خیال نہ کیا، لیکن عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کر لیے؟!۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں اس شخص سےحیا نہ کروں جس سے فرشتے حیاکرتے ہیں؟

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تحكي عائشة -رضي الله عنها- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان مُضْطجِعًا في بيتها، كاشفًا عن فخذيه أو ساقيه، فاستأذن أبو بكر في الدخول فأذِنَ له، وهو على تلك الحال من الاضطجاع وانكشاف فخذيه أو ساقيه -صلى الله عليه وسلم-، فتحدَّثَ أبو بكر مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، ثم استأذن عُمر، فأذن له، وهو كذلك، فتحدَّث، ثم استأذن عثمان في الدخول، فاعتدل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في جلسته، وعدَّل ثيابه وغطى فخذيه أو ساقيه، ثم أذن له بالدخول، فدخل فتحدَّث، فلمَّا خرج قالت عائشة: دخل أبو بكر فلم تستبشر وتهتم بدخوله، ثم دخل عمر فلم تستبشر وتهتم بدخوله، ثم دخل عثمان فاعتدلت في جلستك وعدَّلت ثيابك وغطيت فخذيك أو ساقيك؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «ألا أسْتَحِي من رجل تَستحي منه الملائكةُ» أي: أن ملائكة الرحمن تستحي من عثمان، فكيف لا أستحي أنا منه؟!
ولا يستدل بهذا الحديث على أن الفخذ ليست بعورة؛ لكون المكشوف في الحديث مشكوكا فيه, هل هو الساقان أم الفخذان, فلا يلزم منه الجزم بجواز كشف الفخذ؛ ولأن الأحاديث التي فيها كشف الفخذ جاءت من فعل النبي -صلى الله عليه وسلم- لا من قوله، ورواها صغار الصحابة، وأما الأحاديث التي فيها أن الفخذ عورة فهي أحوط، ورواها كبار الصحابة، وهي من قوله، والقول مقدم على الفعل، والفعل له احتمالات, ولأن الكشف جاء مع خاصة الإنسان وليس عامًّا في كل مكان، والقول بأن الفخذ عورة عليه فتوى اللجنة الدائمة.
593;ائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھر میں رانیں یا پنڈلیاں کھولے ہوئے لیٹے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے داخل ہونے کی اجازت طلب کی تو ان کو اجازت دی اور آپﷺ اسی حالت میں لیٹے رہے کہ آپ کی رانیں اور پنڈلیاں کھلی ہوئیں تھیں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہوگئے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی، ان کو بھی اجازت دے دی گئی اور آپ ﷺ اسی طرح رہے ، وہ بھی آپﷺ کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہو گئے۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے داخلے کی اجازت طلب کی تو رسول اللہﷺ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، اپنے کپڑے درست کرلیے اور اپنی رانوں اور پنڈلیوں کو ڈھانپ لیا پھر ان کو داخلے کی اجازت دی، وہ داخل ہوئے اور گفتگو میں مصروف ہو گئے۔ جب وہ چلے گئے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے آپ کو کوئی خوشی نہیں ہوئی اور نہ ہی آپ نے ان کے داخل ہونے کو اہم جانا، پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے اس پر بھی آپ کو کوئی خوشی نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کے آنے کو اہم سمجھا۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ داخل ہوئے یو آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ نے اپنے کپڑے درست کر لیے اور اپنی رانوں یا پنڈلیوں کو ڈھانپ لیا؟!۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ”کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟“ یعنی اللہ کے فرشتے بھی عثمان رضی اللہ عنہ سے حیا کرتے ہیں تو میں کیسے اُنْ سے حیا نہ کروں؟! اس حدیث سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ کہ ران کا پردہ نہیں کیونکہ حدیث میں اس کا کھلا ہونا شک کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ وہ پنڈلیاں تھیں یا رانیں۔ اس سے حتمی طور پر ران کو کھولنے کا جواز نہیں ملتا کیونکہ جن احادیث میں ران کو کھولنے کا بیان ہے ان میں رسول اللہﷺ کا فعل بیان ہوا نہ کہ آپ کا قول اور ان روایات کے راویان صغار صحابہ ہیں۔جب کہ وہ احادیث جن میں ران کے پردے کا حکم ہے وہ زیادہ محتاط ہیں اور ان کو بیان کرنے والے کبار صحابہ ہیں اور ان میں آپ کا قول ہے اور قول فعل پر مقدم ہوتا ہے۔ فعل میں بہت سارے احتمال ہوتے ہیں اور ویسے بھی ران کو کھولنے کا حکم انسانوں کی موجودگی کے ساتھ خاص ہے ہر جگہ کے لیے عام حکم نہیں ہے ۔ یہ کہنا کہ ران کا پردہ ہے، لجنہ دائمہ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10548

 
 
Hadith   1636   الحديث
الأهمية: إن صاحبكم حنظلة تغسله الملائكة، فسلوا صاحبته


Tema:

تمہارے ساتھی حنظلہ کو فرشتے غسل دے رہے ہیں، ان کے بیوی سے (اس کا سبب) پوچھو۔

عن عبد الله بن الزبير -رضي الله عنهما- قال: سمعتُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: وقد كان الناسُ انهزموا عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حتى انتهى بعضُهم إلى دُون الأَعْراض على جبلٍ بناحيةِ المدينة، ثم رجعوا إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وقد كان حَنْظَلة بن أبي عامر الْتَقَى هو وأبو سفيان بن حرْب، فلمَّا اسْتَعْلاه حَنْظَلة رآه شَدَّاد بن الأسْود، فعَلَاه شَدَّاد بالسيْف حتى قتله، وقد كاد يَقْتل أبا سفيان، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إنَّ صاحبَكم حَنْظَلةُ تُغَسِّلُه الملائكةُ، فسَلُوا صاحبتَه»، فقالت: خرج وهو جُنُبٌ لما سمِع الهائِعَة، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «فذاك قد غَسَّلَتْه الملائكةُ».

عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے جب کہ لوگ رسول اللہ کو چھوڑ کر پسپا ہو چکے تھے یہاں تک کہ ان میں سے کچھ تو مدینے کی طرف واقع ایک پہاڑ پر موجود بستیوں تک جا پہنچے تھے۔ بعدازاں وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف پلٹ آئے۔ حنظلہ بن ابو عامر رضی اللہ عنہ اور ابو سفیان بن حرب کا آمنا سامنا ہوا۔ جب ابو سفیان پر حنظلہ رضی اللہ عنہ غالب آگئے تو شداد بن اسود نے انہیں دیکھا اور اپنی تلوار کے ساتھ ان پر حملہ آور ہو کر انہیں قتل کر دیا حالانکہ وہ ابو سفیان کو مار دینے کے بالکل قریب تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے ساتھی حنظلہ کو فرشتے غسل دے رہے ہیں، ان کی بیوی سے (اس کا سبب) پوچھو۔ (جب ان کی بیوی سے پوچھا گیا تو) اس نے جواب دیا کہ جب انہوں نے پکار سنی تھی تو وہ حالت جنابت میں ہی نکل کھڑے ہوئے تھے۔ ا س پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ فرشتوں نے انہیں غسل دیا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لما كان يوم أحد كانت الغلبة للمسلمين، ثم إن الرماة عصوا أمر الرسول -صلى الله عليه وسلم- فحدثت الهزيمة، وفر بعض الناس عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حتى وصل بعضُهم إلى بعض القرى على مشارف جبل بناحية المدينة، ثم رجعوا إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مرة أخرى.
وقد كان حَنْظَلة بن أبي عامر قد التقى في المعركة هو وأبو سفيان بن حرب زعيم المشركين، فلما تمكن حنظلة منه وكاد يقتله رآه رجل من المشركين وهو شَدَّاد بن الأسود، فضرب حنظلةَ بالسيف فقتله، فلما انتهت المعركة أخبرهم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن الملائكة تغسل حنظلة، وأمرهم أن يسألوا زوجته عن شأنه، فسألوها فأخبرتهم أنه لما سمع النداء للجهاد خرج وهو جُنُبٌ، فأخبرهم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن الملائكة غَسَّلَتْه لأجل كونه استشهد وهو جُنُبٌ.
580;نگ اُحد کے دن مسلمانوں کا پلڑا بھاری تھا لیکن بعد ازاں تیر اندازوں نے رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی کی تو شکست ہو گئی اور بعض لوگ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گئے یہاں تک کہ ان میں سے کچھ تو مدینے کی جانب موجود ایک پہاڑ کی بلندی پر واقع بستیوں تک جا پہنچے تاہم وہ دوبارہ رسول اللہ ﷺ کی طرف پلٹ آئے۔
دورانِ معرکہ حنظلہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی مشرکین کے سرغنہ ابو سفیان بن حرب سے مڈبھیڑ ہو ئی۔ جب حنظلہ رضی اللہ عنہ نے ابو سفیان پر قابو پا لیا اور وہ انہیں قتل کرنے ہی والے تھے تو مشرکین میں سے ایک شخص شداد بن اسود نے انہیں دیکھا اور حنظلہ رضی اللہ پر تلوار کا وار کر کے انہیں قتل کر دیا۔ جب معرکہ ختم ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ فرشتے حنظلہ رضی اللہ کو غسل دے رہے ہیں اور صحابہ کو حکم دیا کہ وہ ان کی بیوی سے ان کے بارے میں دریافت کریں۔ جب صحابہ کرام نے ان کی بیوی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ حنظلہ رضی اللہ عنہ نے جب جہاد کی پکار سنی تو وہ حالتِ جنابت میں تھے اور اسی حالت میں وہ نکل کھڑے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو بتایا کہ حالتِ جنابت میں شہید ہوجانے کی وجہ سے فرشتوں نے انہیں غسل دیا۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10549

 
 
Hadith   1637   الحديث
الأهمية: لما توفي آدم غسلته الملائكة بالماء وترا وألحدوا له وقالوا: هذه سنة آدم في ولده


Tema:

جب آدم علیہ السلام وفات پا گئے تو فرشتوں نے انہیں پانی سے طاق مرتبہ غسل دیا اور ان کے لیے قبر تیار کی اور کہا کہ یہی سنت ان کی اولاد میں باقی رہے گی۔

عن أبي بن كعب، عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لما تُوُفِّيَ آدمُ غَسَّلَتْه الملائكةُ بالماء وِتْرًا، وأَلْحَدُوا له، وقالوا: هذه سُنَّةُ آدَمَ في وَلَدِه».

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب آدم علیہ السلام وفات پا گئے تو فرشتوں نے انہیں پانی سے طاق مرتبہ غسل دیا اور ان کے لیے قبر تیار کی اور کہا کہ یہی سنت ان کی اولاد میں باقی رہے گی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لما مات آدم -عليه السلام- غسلته الملائكة بالماء وترًا، مرة واحدة، أو ثلاثة، أو خمسة، وشقوا له في جانب حفرة القبر شقًّا ودفنوه فيه، وقالوا: «هذه سُنَّةُ آدَمَ في وَلَدِه» أي: يُفعل بولد آدم ما فُعل بأبيهم من الغسل والدفن على الكيفية المذكورة، وإنما يلتزم بذلك المهديون من ولده.
580;ب آدم علیہ السلام وفات پا گئے تو فرشتوں نے انہیں پانی سے طاق مرتبہ غسل دیا، ایک مرتبہ، یا تین مرتبہ ،یا پانچ مرتبہ۔ ان کے لیے قبر کھودی گئی اور اس میں ہی ایک جانب شگاف کر کے اسی میں انہیں دفن کر دیا اور فرشتوں نے کہا کہ یہی سنت ان کی اولاد میں باقی رہے گی“۔ یعنی غسل اور مذکورہ کیفیت پر تدفین ان کی اولاد کے ساتھ بھی کی جائے گی جیسا کہ ان کے باپ کے ساتھ کیا گیا ہے اور یہی طریقہ ان کے ہدایت یافتہ اولاد اختیار کریں گے ۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10550

 
 
Hadith   1638   الحديث
الأهمية: إذا كان يوم الجمعة وقفت الملائكة على باب المسجد يكتبون الأول فالأول


Tema:

جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر پہلے آنے والوں کے نام بالترتیب لکھتے ہیں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «إذا كان يوم الجمعة وقَفَتِ الملائكةُ على باب المسجد يَكْتُبون الأوّلَ فالأوّلَ، ومَثَلُ المُهَجِّر كمثل الذي يُهْدي بَدَنةً، ثم كالذي يُهْدي بقرة، ثم كَبْشا، ثم دَجاجة، ثم بَيضة، فإذا خرج الإمام طَوَوُا صُحُفَهم، ويسْتَمعون الذِّكرَ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر پہلے آنے والوں کے نام بالترتیب لکھتے ہیں، سب سے پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی دینے والے کی طرح لکھا جاتا ہے، اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی دینے والے کی طرح پھر مینڈھے کی قربانی کا ثواب رہتا ہے، اس کے بعد مرغی کا، اس کے بعد انڈے کا، لیکن جب امام (خطبہ دینے کے لیے) باہر آجاتا ہے تو یہ فرشتے اپنے دفاتر بند کر دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تقف الملائكة على باب المساجد يوم الجمعة، يكتبون الداخلَ الأولَ ثم الذي يليه، ومَثَلُ أجرِ المبكِّر إلى الجمعة كمثل أجر الذي يذبح ناقة أو جملًا تقرُّبًا إلى الله -تعالى-، وأجر الذي يأتي بعده كأجر الذي يذبح بقرة تقرُّبًا إلى الله -تعالى-، وأجر الذي يأتي بعده كأجر الذي يذبح كبشًا من الغنم تقرُّبًا إلى الله -تعالى-، وأجر الذي يأتي بعده كأجر الذي يذبح دجاجة تقرُّبًا إلى الله -تعالى-، وأجر الذي يأتي بعده كأجر الذي يقرِّب بيضة إلى الله -تعالى-، فإذا خرج الإمام وطلع المنبر ليبدأ الخطبة، أغلق الملائكة صحفهم التي يكتبون فيها أسماء أهل الجمعة أولًا فأولًا، والأجر على قدر مراتبهم في السبق، وجلست الملائكة يستمعون الخطبة مع الناس.
580;معہ کے دن مسجدوں کے دروازے پر فرشتے کھڑے ہوتے ہیں، وہ پہلے داخل ہونے والوں، پھر اس کے بعد داخل ہونے والوں کو لکھتے ہیں، سب سے پہلے داخل ہونے والے کے اجر کی مثال اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے اونٹنی یا اونٹ ذبح کرنے والے کے اجر کی طرح ہے اور اس کے بعد میں آنے والے کا اجر اللہ تعالیٰ کا تقرب پانے کے لیے گائے ذبح کرنے کے اجر کی طرح ہے، اور اس کے بعد آنے والے کا اجر اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے مینڈھا ذبح کرنے کے اجر کی طرح ہے، اور اس کے بعد آنے والے کا اجر اس اجر کی طرح ہے جو اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے مرغی ذبح کرے اور اس کے بعد جو آئے اس کا اجر انڈے کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کی طرح ہے، پھر جب امام نکلتا ہے اور منبر پر خطبہ دینے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو فرشتے اپنے ان دفاتر کو بند کر دیتے ہیں جس میں وہ درجہ بدرجہ جمعہ پڑھنے والوں کا نام لکھتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ خطبہ سننے کے لیے بیٹھ جاتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10551

 
 
Hadith   1639   الحديث
الأهمية: أن أسيد بن حضير بينما هو ليلة يقرأ في مربده، إذ جالت فرسه، فقرأ، ثم جالت أخرى، فقرأ، ثم جالت أيضا، قال أسيد: فخشيت أن تطأ يحيى، فقمت إليها، فإذا مثل الظلة فوق رأسي فيها أمثال السرج، عرجت في الجو حتى ما أراها


Tema:

اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک رات اپنے کھجوروں کے کھلیان میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ ان کا گھوڑا بدکنے لگا، آپ رضی اللہ عنہ نے پھر پڑھا وہ پھر بدکنے لگا، آپ نے پھر پڑھا وہ پھر بدکنے لگا، اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ڈرا کہ کہیں وہ یحییٰ کو کچل نہ ڈالے، میں اس کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا، میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سائبان کی طرح کوئی چیز میرے سر پر ہے، وہ چراغوں سے روشن ہے اور وہ اوپر کی طرف چڑھنے لگا یہاں تک کہ میں اسے پھر نہ دیکھ سکا۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه-: أنَّ أُسَيْد بن حُضَيْر بينما هو ليلةً يَقْرأ في مَرْبَدِه، إذ جالَتْ فَرَسُه، فقرأ، ثم جالَتْ أخرى، فقرأ، ثم جالَتْ أيضا، قال أُسَيْد: فخشيتُ أن تَطَأَ يحيى، فقمتُ إليها، فإذا مِثلُ الظُّلَّة فوق رأسي فيها أَمْثال السُّرُج، عَرَجَتْ في الجَوِّ حتى ما أراها، قال: فغدوتُ على رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقلت: يا رسول الله بينما أنا البارِحَةَ من جَوْف الليل أقرأ في مِرْبَدي، إذ جالَتْ فَرَسي، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «اقرأ ابنَ حُضَيْر» قال: فقرأتُ، ثم جالَتْ أيضًا، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «اقرأ ابنَ حُضَيْر» قال: فقرأتُ، ثم جالَتْ أيضًا، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «اقرأ ابنَ حُضَيْر» قال: فانصرفتُ، وكان يحيى قريبًا منها، خشيتُ أن تَطَأَه، فرأيتُ مثل الظُّلَّة فيها أمْثال السُّرُج، عَرَجَتْ في الجَوِّ حتى ما أراها، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «تلك الملائكةُ كانت تستمِعُ لك، ولو قرأتَ لأصبحَتْ يراها الناسُ ما تَسْتَتِرُ منهم».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک رات اپنے کھجوروں کے کھلیان میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ ان کا گھوڑا بدکنے لگا، آپ رضی اللہ عنہ نے پھر پڑھا وہ پھر بدکنے لگا، آپ نے پھر پڑھا وہ پھر بدکنے لگا، اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ڈرا کہ کہیں وہ یحییٰ کو کچل نہ ڈالے، میں اس کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا، میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سائبان کی طرح کوئی چیز میرے سر پر ہے، وہ چراغوں سے روشن ہے اور وہ اوپر کی طرف چڑھنے لگا یہاں تک کہ میں اسے پھر نہ دیکھ سکا- صبح کے وقت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کےرسول! میں رات کے وقت اپنے کھلیان میں قرآن پڑھ رہا تھا کہ اچانک میرا گھوڑا بِدکنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن حضیر پڑھتے رہو“ انھوں نےعرض کیا: میں پڑھتا رہا وہ پھر اسی طرح بِدکنے لگا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن حضیر پڑھتے رہو“ انھوں نے عرض کیا کہ میں پڑھتا رہا وہ پھر اسی طرح بدکنے لگا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن حضیر پڑھتے رہو“ ابن حضیر کہتے ہیں کہ میں پڑھ کر فارغ ہوا تو یحییٰ اس کے قریب تھا مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ اسے کچل نہ دے اور میں نے ایک سائبان کی طرح دیکھا کہ اس میں چراغ سے روشن تھے اور وہ اوپر کی طرف چڑھا یہاں تک کہ اسے میں نہ دیکھ سکا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ فرشتے تھے جو تمہارا قرآن سنتے تھے اور اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح لوگ ان کو دیکھتے اور وہ لوگوں سے پوشیدہ نہ ہوتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان أُسيد بن حُضير -رضي الله عنه- في ليلة من الليالي يقرأ القرآن في المكان الذي يخزن فيه التمر، وفرسه مربوطة بجانبه، وولده يحيى نائم بجواره، فلما قرأ تحركت فرسه واضطربت، فلما سكت سكنت، ثم قرأ مرة أخرى فتحركت فرسه واضطربت، وهكذا حدث ثلاث مرات، فخاف أسيد أن تدوس ابنه يحيى، فقطع القراءة وقام إلى فرسه لينظر ما السبب في حركتها واضطرابها، فرأى فوقه مثل السحابة فيها أشياء تشبه المصابيح، وإذا بها تصعد في السماء حتى لم يستطع رؤيتها، فذهب أسيد في الصباح إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فحكى له ما حدث له فقال له النبي -صلى الله عليه وسلم- مزيلًا لفزعه ومُعْلِمًا له بعلو مرتبته ومؤكدًا له فيما يزيد في طمأنينته: «اقرأ يا ابن حضير» ثلاث مرات للتأكيد، أي: ردِّد وداوم على القراءة التي سببت هذه الحالة العجيبة إشعارًا بأنه لا يتركها إن وقع له ذلك بعد في المستقبل، بل يستمر عليها لعظيم فضيلتها، ثم أخبره رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن هذه الملائكة كانت تستمِعُ لقراءة القرآن، ولو أنه قرأ إلى الصباح لأصبحت الملائكة يراها الناسُ ما تستترُ منهم.
575;ُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک رات اپنے اس مکان میں قرآن پڑھ رہے تھے جہاں کھجوروں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے، ان کا گھوڑا ایک کنارے بندھا ہوا تھا، ان کا بیٹا یحیٰ اسی کے قریب سویا ہوا تھا، جب انہوں نے تلاوت کی تو ان کا گھوڑا کود پھاند مچانے لگا، پھر جب وہ خاموش ہوئے تو گھوڑا بھی ساکت ہو گیا، دوبارہ انہوں نے پڑھنا شروع کیا پھر وہ کود پھاند مچانے لگا، اس طرح تین بار ہوا تو اسیدرضی اللہ عنہ ڈرے کہ کہیں ان کا بیٹا یحیٰ گھوڑے کے پاؤں سے روندا نہ جائے، انہوں نے تلاوت ترک کردی اور گھوڑے کے پاس جا کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کہ وہ کیوں اچھل کود مچا رہا ہے، انہوں نے اس کے اوپر ایک بدلی کی طرح دیکھا جس میں چراغ کے مشابہ کچھ چیزیں تھیں، وہ بدلی آسمان کی طرف چڑھنے لگی یہاں تک کہ وہ اسے دیکھنے پر قادر نہ رہے، صبح اسید رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے اوپر بیتا حادثہ کہہ سنایا تو نبی ﷺ نے ان کا خوف دور کرنے، ان کے اس بلند مرتبہ سے آگاہ کرنے اور ان کی طمانیت و سکون کو مزید مؤکد کرنے کے لیے ان سے فرمایا: ”ابن حضیر پڑھتے رہو“ تاکید کے لیے آپ ﷺ نے یہ تین مرتبہ فرمایا، یعنی اسی طرح تلاوت کرتے رہو، اس پر مداومت برتو جس کے سبب یہ عجیب وغریب واقعہ پیش آیا (در اصل آپ ﷺ نے) انہیں اس بات کا درس دیتے ہوئے یہ کہا کہ اس طرح کی کوئی چیز مستقبل میں اگر نمودار ہوتو اپنی تلاوت کو ترک مت کرنا بلکہ اس عظیم فضیلت کی خاطر مسلسل تلاوت کرتے رہنا، پھر آپ ﷺ نے بتایا کہ یہ فرشتے تھے جو تلاوتِ قرآن کو سن رہے تھے اور اگر وہ صبح تک پڑھتے رہتے تو فرشتے صبح تک سنتے رہتے، لوگ ان کو دیکھتے اور وہ لوگوں سے پوشیدہ نہ ہوتے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10552

 
 
Hadith   1640   الحديث
الأهمية: إن لله ملائكة سياحين في الأرض يبلغوني من أمتي السلام


Tema:

اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو زمین میں گھومتے رہتے ہیں، وہ مجھ تک میرے امتیوں کا سلام پہنچاتے ہیں۔

عن عبد الله بن مسعود -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إنَّ لله ملائكةً سَيَّاحين في الأرضِ يُبَلِّغوني مِن أُمَّتِي السَّلامَ».

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے رواىت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو زمین میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں، وہ مجھ تک میرے اُمتیوں کا سلام پہنچاتے ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث بأن لله -تعالى- ملائكة سيَّارين بكثرة في ساحة الأرض، فإذا سلَّم أحد من هذه الأمة على النبي -صلى الله عليه وسلم- فإنهم يبلغون النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- السلام, يقولون: إن فلانًا سلَّم عليك.
575;س حدیث میں نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے زمین میں بکثرت گھومتے رہتے ہیں، چنانچہ اس امت کا کوئی فرد جب کبھی نبی ﷺ پر سلام بھیجتا ہے تو وہ فرشتے نبی ﷺ تک وہ سلام پہنچاتے ہوئے کہتے ہیں: بے شک فلاں شخص نے آپ پر سلام پڑھا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10553

 
 
Hadith   1641   الحديث
الأهمية: قول النبي -صلى الله عليه وسلم- يوم بدر: «هذا جبريل، آخذ برأس فرسه، عليه أداة الحرب»


Tema:

نبی ﷺ نے بدر کی لڑائی میں فرمایا تھا کہ یہ ہیں جبریل (علیہ السلام) اپنے گھوڑے کا سر تھامے ہوئے اور آلاتِ حرب سے لیس ہیں۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال يوم بدر: «هذا جبريلُ، آخذٌ برأس فَرَسِه، عليه أَدَاةُ الحَرْب».

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بدر کی لڑائی میں فرمایا تھا کہ یہ ہیں جبریل (علیہ السلام)، اپنے گھوڑے کا سر تھامے ہوئے اور آلاتِ حرب سے لیس ہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
موضوع الحديث شهود الملائكة غزوة بدر، وعلى رأسهم جبريل عليه السلام, حيث أخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه رأى جبريل -عليه السلام- في غزوة بدر راكبًا على فرسه، عليه آلة الحرب من السلاح، ليقاتل مع المؤمنين, ويكون عوناً للنبي -صلى الله عليه وسلم- ومدداً له، ومؤيداً لأصحابه.
581;دیث کا موضوع غزوۂ بدر میں فرشتوں کی حاضری ہے، ان کے سردار جبریل علیہ السلام تھے، نبی ﷺ نے خبر دی کہ غزوۂ بدر میں آپ نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ سامانِ حرب و ضرب سے لیس گھوڑے پر سوار ہیں تاکہ مومنین کے ساتھ جہاد کریں، نبی ﷺ کے معاون و مددگار اور صحابۂ کرام کے مؤید و حامی بنیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10554

 
 
Hadith   1642   الحديث
الأهمية: لما كان يوم بدر نظر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إلى المشركين وهم ألفٌ، وأصحابه ثلاثمائة وتسعة عشر رجلًا


Tema:

جس دن بدر کی لڑائی ہوئی اس دن رسول اللہﷺ نے مشرکوں کو دیکھا کہ وہ ایک ہزار تھے اور آپ ﷺکے اصحاب تین سو انیس آدمی تھے۔

عن ابن عباس -رضي الله عنه- قال: لمَّا كان يومُ بدْر نظر رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- إلى المشركين وهم ألف، وأصحابه ثلاثُمائة وتسعة عشر رجلا، فاستقبل نبيُّ الله -صلى الله عليه وسلم- القبلةَ، ثم مدَّ يديْه، فجعل يَهْتِف بربِّه: «اللهمَّ أَنْجِزْ لي ما وعدْتَني، اللهم آتِ ما وعدْتَني، اللهمَّ إنْ تَهْلِك هذه العِصابةُ من أهْل الإسلام لا تُعْبَد في الأرض»، فما زال يَهْتِف بربِّه، مادًّا يديْه مستقبلَ القِبلة، حتى سقط رِداؤه عن مَنْكبيه، فأتاه أبو بكر فأخذ رِداءه، فألقاه على مَنْكبيه، ثم التَزَمه مِن وَرَائه، وقال: يا نبيَّ الله، كفاك مناشَدَتَك ربَّك، فإنَّه سيُنْجِز لك ما وعَدَك، فأنزل الله -عز وجل-: {إذ تستغيثون ربَّكم فاستجاب لكم أنِّي مُمِدُّكم بألف من الملائكة مُرْدِفين} [الأنفال: 9] فأمدَّه اللهُ بالملائكة، قال أبو زميل: فحدثني ابن عباس، قال: بينما رجلٌ من المسلمين يومئذ يشتَدُّ في أَثَر رَجُلٍ من المشركين أمامه، إذ سَمِع ضربةً بالسَّوْط فَوْقَه وصَوْت الفارس يقول: أقدِم حَيْزُوم، فنَظَر إلى المشرك أمامه فخَرَّ مُسْتَلْقيًا، فنظر إليه فإذا هو قد خُطِمَ أنفُه، وشُقَّ وجهُه، كضرْبة السَّوْط فاخْضَرَّ ذلك أجمعُ، فجاء الأنصاري، فحدَّث بذلك رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم-، فقال: «صدَقْتَ، ذلك مِن مَدَدِ السماء الثالثة»، فقَتَلوا يومئذ سبعين، وأَسَروا سبعين، قال أبو زميل، قال ابن عباس: فلمَّا أَسَروا الأُسارى، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لأبي بكر وعمر: «ما تَرَوْن في هؤلاء الأُسارى؟» فقال أبو بكر: يا نبي الله، هم بنو العَمِّ والعَشِيرة، أَرَى أن تَأْخُذ منهم فِدْيَةً فتكون لنا قوَّةً على الكفار، فعسى اللهُ أنْ يهديَهم للإسلام، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «ما تَرى يا ابنَ الخطَّاب؟» قلت: لا واللهِ يا رسول الله، ما أرى الذي رأى أبو بكر، ولكني أرى أنْ تُمَكِنَّا فَنَضْرب أعناقَهم، فتُمَكِّنْ عليًّا من عَقِيل فيضرب عنقَه، وتُمَكِّنِّي من فلان نسيبًا لعمر، فأضرب عنُقه، فإن هؤلاء أئمةُ الكفر وصَناديدُها، فهَوِيَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ما قال أبو بكر، ولم يَهْوَ ما قلتُ، فلمَّا كان من الغَدِ جئتُ، فإذا رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- وأبو بكر قاعدين يبكيان، قلتُ: يا رسول الله، أخبرني مِن أي شيء تبكي أنت وصاحبُك؟ فإن وجدتُ بكاءً بكيْتُ، وإن لم أجد بكاء تَباكيْتُ لِبُكائكما، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: " أبكي للذي عُرِضَ على أصحابك مِن أخذِهم الفِداء، لقد عُرِضَ عليَّ عذابَهم أدْنى مِن هذه الشجرة -شجرةً قريبةً من نبي الله صلى الله عليه وسلم- وأنزل الله -عز وجل-: {ما كان لِنَبِيٍّ أن يكون له أَسرى حتى يُثْخِنَ في الأرض} [الأنفال: 67] إلى قوله {فكلوا مما غَنِمْتُم حلالا طيِّبا} [الأنفال: 69] فأحلَّ الله الغنيمةَ لهم.

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جس دن بدر کی لڑائی ہوئی اس دن رسول اللہﷺ نے مشرکوں کو دیکھا کہ وہ ایک ہزار تھے اور آپ ﷺکے اصحاب تین سو انیس آدمی تھے۔ اللہ کے نبی ﷺنے قبلہ کی طرف منھ کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور پکار کر اللہ سے دعا کرنے لگے،’’ اےاللہ! جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا کر دے، اے اللہ! جو تو نے وعدہ کیا ہے اسے تو دے دے، اے اللہ! اگر یہ مسلمانوں کی جماعت ہلاک ہو گئی، تو پھر زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی‘‘۔ پھر آپ ﷺاپنے ہاتھ کو پھیلائے ہوئے برابر یہ دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپﷺ کی چادر آپ کے دونوں مونڈھوں سے اتر گئی، ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور آپﷺ کی چادر کو لیا، اور آپﷺ کےمونڈھے پر ڈال دی، پھرآپﷺ کے پیچھے لپٹ گئے اور فرمایا: اے اللہ کے نبیﷺ! بس آپ کی اتنی دعا کافی ہے، اب اللہ تعالی آپ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرے گا، اس وقت اللہ نے یہ آیت اتاری ﴿إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ﴾ ”اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سےفریاد کر رہے تھے، پھر اللہ تعالی نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے“۔ (الانفال: 9) چنانچہ اللہ نےفرشتوں کے ذریعہ آپ ﷺ کی مدد کی۔ ابو زمیل نے مجھ سے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بتایا کہ اس دن مسلمانوں میں سے ایک آدمی مشرکین کے ایک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا جو اس کے آگے تھا، اتنے میں اوپر سے اس کے کان میں کوڑے کی آواز سنائی دی اور ایک گھوڑسوار کی آواز سنائی دی، وہ کہتا تھا ، آگے بڑھ اے حیزوم! پھر دیکھا کہ وہ کافر جو اس مسلمان کے سامنے تھا چت گر پڑا، جب اس وقت مسلمان نے دیکھا کہ اس کی ناک پر نشان تھا اور اس کا منھ پھٹ گیا تھا، جیسے کوئی کوڑا مارتا ہے اور اس کا رنگ سبز پڑ گیا تھا۔ پھر وہ انصاری صحابی رسولﷺ کے پاس آئے اور واقعہ بیان کیا۔ آپ ﷺنے فرمایا :تو سچ کہتا ہے، یہ مدد تیسرے آسمان سے آئی تھی۔ چنانچہ مسلمانوں نےاس دن ستر کافروں کو مارا تھا، اور ستر کافروں کو گرفتار کیا تھا۔ ابو زمیل نے کہا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب قیدیوں کو گرفتار کر کے لائے تو رسول ﷺ نےابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے کہا ’’ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے،، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ!یہ ہمارے قبیلے اور برادری کے لوگ ہیں میرے خیال سے کچھ مال لے کر انہیں چھوڑ دیجیے جس سے مسلمانوں کو کافر وں سے لڑنے کی طاقت ہو جائے گی، ممکن ہے انہیں اللہ اسلام کی ہدایت دے دے۔ رسول اللہ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا ’’ابنِ خطاب! ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے کہا نہیں اے اللہ کے رسولﷺ! یہ میری رائے نہیں جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہے، لیکن میری رائے یہ ہے کہ آپ انہیں ہمارے حوالے کر دیں اور ہم ان کی گردنیں مار دیں، اور عقیل کو علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کریں وہ ان کی گردن ماریں اور مجھے میرا فلاں عزیز دیجیے میں اس کی گردن مار دوں، کیونکہ یہ لوگ کفر کے پیشوا اورسردار ہیں۔ چنانچہ رسول ﷺ کو ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے پسند آئی اور میری رائے پسند نہیں آئی۔ جب دوسرا دن ہوا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس میں آیا آپﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ دونوں رو رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ اور آپ کے ساتھی کیوں رو رہے ہیں؟ اگر رونے والی چیز ہے تو میں بھی روؤں، اور اگر مجھے رونا نہیں آیا تو رونے کی کیفیت بنا لوں گا ، نبیﷺنے فرمایا: میں رو رہا ہوں جو تمہارے ساتھیوں پر فدیہ لینے کی وجہ سے میرے سامنے ان کا عذاب اس درخت (نبیﷺ کےپاس درخت) سے بھی زیادہ نزدیک پیش کیا گیا پھر اللہ نے یہ آیت اتاری ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ﴾ سے ﴿فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ تک۔ ”نبی کے ہاتھ میں قیدی نہیں چاہیے جب تک کہ ملک میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے۔ تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا اراده آخرت کا ہے اور اللہ زور آور باحکمت ہے اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی پس جو کچھ حلال اور پاکیزه غنیمت تم نے حاصل کی ہے، خوب کھاؤ پیو“، چنانچہ اللہ نے ان کے لیے غنیمت کو حلال کردیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لمَّا كانت غزوة بدر نظر رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- إلى المشركين وهم ألف رجل، وأصحابه ثلاث مائة وتسعة عشر رجلًا، فعلم قلة أصحابه بالنسبة إلى المشركين، فاستقبل نبيُّ الله صلى الله عليه وسلم القبلةَ، ثم رفع يديه، فجعل يدعو ويرفع صوته بالدعاء ويقول: «اللهمَّ أَنْجِزْ لي ما وعدتَني، اللهم آتِ ما وعدتَني، اللهمَّ إنْ تَهْلك هذه العِصابةُ من أهل الإسلام لا تُعْبَد في الأرض» أي: اللهم حقِّق لي ما وعدتني وانصر المسلمين على الكفار؛ فإنك إن أهلكت هؤلاء المسلمين، فلن تُعبد في الأرض. فظل يدعو رافعًا يديه مستقبل القبلة حتى سقط رداؤه من على كتفيه، فأتاه أبو بكر فأخذ رداءه، فوضعه على كتفيه، ثم احتضنه مِن ورائه، وقال: يا نبيَّ الله، كفاك دعاءك لربك، فإنَّه سيحقق لك ما وعدك، فأنزل الله -عز وجل-: {إذ تستغيثون ربَّكم فاستجاب لكم أنِّي مُمِدُّكم بألف من الملائكة مُرْدِفين} [الأنفال: 9] أي: إذ تستجيرون بالله وتطلبون منه النصر فاستجاب لكم وأمدكم بألف من الملائكة متتابعين.
ثم أخبر ابن عباس أنه بينما رجل من المسلمين من الأنصار يجري خلف رجل من المشركين ليقتله، إذ سمع صوت ضربة بالسوط وصوت فارس يقول: «أقدِم حَيْزُوم»، فنظر فوجد المشرك قد سقط صريعًا، ووجد في وجهه أثر ضربة السوط في أنفه، وانشقاقًا في وجهه، فحدَّث الأنصاري رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم- بما حدَث، فأخبره رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن ذلك ملَك من ملائكة السماء الثالثة، وحيزوم هذا اسم لفرس هذا الملك، فقَتَلوا يومئذ سبعين، وأَسَروا سبعين من المشركين.
فلمَّا أَسَروا هؤلاء الأسرى، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لأبي بكر وعمر: ماذا نفعل في هؤلاء الأسرى؟ فقال أبو بكر: يا نبي الله، هؤلاء أقرباؤنا وبنو عمِّنا، فأرى أن تأخذ منهم مالًا وتطلق سراحهم فيكون هذا المال عونًا لنا على قتال الكفار، فعسى اللهُ أنْ يهديَهم للإسلام. وقال عمر: لا واللهِ يا رسول الله، لا أوافق على رأي أبي بكر، ولكني أرى أن نقتلهم وتجعل كل واحد منا يقتل قريبه من هؤلاء الأسرى؛ لأنهم قادة الكفر ورؤوس الضلالة. فمال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إلى رأي أبي بكر، ولم يمل إلى رأي عمر.
وبعد هذا بيوم جاء عمر فوجد رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم- وأبا بكر قاعدين يبكيان، فقال عمر: يا رسول الله، أخبرني مِن أي شيء تبكي أنت وصاحبُك؟ فإن وجدتُ بكاءً بكيتُ، وإن لم أجد بكاء تكلفت البكاء وشاركتكما البكاء، فأخبره رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أنه يبكي؛ لأن الله عرض  العذاب على من قال بقبول الفداء من الأسرى، وأن عذابهم قد عُرِضَ أقرب من هذه الشجرة -وأشار إلى شجرة قريبة منه صلى الله عليه وسلم- وأنزل الله -عز وجل-: {ما كان لنبي أن يكون له أسرى حتى يُثْخِنَ في الأرض} [الأنفال: 67] إلى قوله {فكلوا مما غنمتم حلالا طيِّبا} [الأنفال: 69] أي: ما ينبغي ولا يليق به إذا قاتل الكفار الذين يريدون أن يطفئوا نور الله, ويسعون لإبادة دينه، أن يتسرع إلى أسرهم وإبقائهم لأجل الفداء الذي يحصل منهم، وهو عرض قليل بالنسبة إلى المصلحة المقتضية إبادتهم وإبطال شرهم، فما دام لهم شر وقوة، فالأوفق أن لا يؤسروا، فإذا بطل شرهم وضعفوا، فحينئذ لا بأس بأخذ الأسرى منهم وإبقائهم، ثم أحل الله لهم الأموال التي يأخذونها من الكفار قهرًا.
580;س دن بدر کی لڑائی ہوئی اس دن رسول ﷺ نے مشرکوں کو دیکھا وہ ایک ہزار تھے اور آپ ﷺکے اصحاب تین سو انیس آدمی تھے، نبیﷺ نے مشرکین کے مقابلے اپنے اصحاب کی قلت کو جان لیا، تو اللہ کے نبی ﷺ نے قبلہ کی طرف منہ کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور پکار کر اللہ سے دعا کرنے لگے،’’اےاللہ! جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا کر دے۔ اے اللہ! جو تو نے وعدہ کیا ہے اسے تو دے دے۔ اے اللہ! اگر تو نے ان مسلمانوں کو ہلاک کر دیا، تو پھر زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی،، یعنی: اےاللہ! جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا کر دے، اور مسلمانوں کو کافروں پر غالب فرما۔ اگر تو نے ان مسلمانوں کو ہلاک کر دیا، تو پھر زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی،، پھر آپ ﷺاپنے ہاتھ کو پھیلائے ہوئے برابر یہ دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی چادر آپ کے دونوں مونڈھوں سے اتر گئی، ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور آپﷺ کی چادر کو لیا، اور آپﷺ کےمونڈھے پر ڈال دی، پھر آپﷺ کے پیچھے لپٹ گئے اور فرمایا: اے اللہ کے نبیﷺ! بس آپ کی اتنی دعا کافی ہے، اب اللہ تعالی آپ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرے گا، اس وقت اللہ نے یہ آیت اتاری﴿إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ﴾ ”اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سےفریاد کر رہے تھے، پھر اللہ تعالی نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے“۔ (الانفال: 9) یعنی:جس وقت اللہ سے فریاد طلب کر رہے تھے اور اس سے مدد طلب کر رہے تھے، تو اللہ نے تمہاری دعا قبول کی اور ایک ہزار پہ در پہ آنے والے فرشتوں کے ذریعہ تمہاری مدد کی۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خبر دیا کہ اس دن مسلمانوں میں سے ایک آدمی مشرکین کے ایک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا تاکہ اسے قتل کرے، اتنے میں اس نے کوڑے اور گھوڑسوار کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا، ’’آگے بڑھ اے حیزوم!‘‘ پھر دیکھا کہ وہ مشرک گرا پڑا ہے۔ اور اس کے چہرے میں ناک پر کوڑے کا نشان تھا اور اس کا منھ پھٹ گیا تھا۔پھر اس انصاری صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سب بیان کیا، تو آپ ﷺ نے اسے خبر دیا کہ وہ تیسرے آسمان کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ تھا اور حیزوم اس فرشتے کے گھوڑے کا نام ہے۔ چنانچہ مسلمانوں نےاس دن ستر کافروں کومارا تھا، اور ستر کافروں کو گرفتار کیا تھا، جب ان قیدیوں کو گرفتار کر کے لائے تو رسول ﷺ نےابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے کہا ’’ان قیدیوں کے بارے میں کیا رائے ہے؟،، تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ!یہ ہمارے قبیلے اور برادری کے لوگ ہیں میرے خیال سے کچھ مال لے کر انہیں چھوڑ دیجیے جس سے مسلمانوں کو کافر وں سے لڑنے کی طاقت ہو جائے گی، ممکن ہے انہیں اللہ تعالی اسلام کی ہدایت دے دے۔ جب کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں اے اللہ کے رسولﷺ! میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے سے اتفاق نہیں رکھتا، میری رائے یہ ہے کہ آپ انہیں ہمارے حوالے کر دیں اور ہم انہیں قتل کر دیں، اور ان قیدیوں کو ہم میں سے ہر ایک قریبی اپنے قریبی کو قتل کرے، کیونکہ یہی لوگ کفر کے پیشوا اور گمراہی کے سردار ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کو ابو بکررضی اللہ عنہ کی رائے پسند آئی اور عمر رضی اللہ عنہ کی رائے پسند نہیں آئی، جب دوسرا دن ہوا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس عمر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے آپﷺ اورابو بکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ دونوں بیٹھے ہوئے رو رہے ہیں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے بتلائیں کہ آپ اور آپ کے ساتھی کیوں رو رہے ہیں؟ اگر رونے والی چیز ہے تو میں بھی روؤں، اور اگر مجھے رونا نہیں آیا تو رونے کی کیفیت تو بنا لوں! اس پر نبیﷺنے فرمایا: کہ وہ اس لیے رو رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جنہوں نے قیدیوں سے فدیہ لینے کی بات کی ان پر عذاب پیش کیا، اور ان پر عذاب اس درخت سے بھی قریب ترپیش کیا گیا، ’’نبی ﷺ کے قریب ایک درخت تھا اس درخت کی طرف اشارہ ہے‘‘۔ اللہ عز وجل نے یہ آیت ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ﴾ سے ﴿فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ تک اتاری۔ ”نبی کے ہاتھ میں قیدی نہیں چاہیے جب تک کہ ملک میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے۔ تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا اراده آخرت کا ہے اور اللہ زور آور باحکمت ہے اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ملتی پس جو کچھ حلال اور پاکیزه غنیمت تم نے حاصل کی ہے، خوب کھاؤ پیو اور اللہ سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ غفور ورحیم ہے“، یعنی وہ کفار جو اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور دین کو نیست ونابود کرنا چاہتے ہیں ان سے فدیہ لے کر چھوڑنا مناسب اور ٹھیک نہیں، کیونکہ یہ فدیہ لینا ایک معمولی چیز ہے بنسبت ان کے اس شر اور برائی کے جس کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے اس شر کو ختم کر دیا جائے، کیونکہ جب تک ان کا یہ شراور طاقت نیست و نابود نہ ہوگا اس وقت تک ان سے فدیہ نہ لیا جائے، لیکن جب ان کا شر ختم ہو جائے اور وہ کمزور پڑ جائیں تو اس وقت انہیں باقی رکھنے اور ان سے فدیہ لینے میں کوئی حرج نہیں، پھر اللہ نےمسلمانوں کے لیے کافروں سے زبردستی لیے گئے اموال کو حلال کر دیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10555

 
 
Hadith   1643   الحديث
الأهمية: لما رجع النبي -صلى الله عليه وسلم- من الخندق، ووضع السلاح واغتسل، أتاه جبريل عليه السلام، فقال: «قد وضعت السلاح؟ والله ما وضعناه، فاخرج إليهم»


Tema:

جب نبی ﷺ جنگِ خندق سے مدینہ واپس ہوئے اور ہتھیار اتار کر غسل کیا تو جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا: آپ نے ہتھیار اتار دیے؟ اللہ کی قسم! ہم نے تو ابھی ہتھیار نہیں اتارے، چلیے ان کی طرف (حملہ کے لیے) نکلیے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: لمَّا رجعَ النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- من الخَنْدَق، ووَضَعَ السِّلاحَ واغتسل، أتاه جِبْريلُ -عليه السلام-، فقال: «قد وضعتَ السِّلاحَ؟ واللهِ ما وضَعْناه، فاخرُج إليهم قال: فإلى أيْنَ؟ قال: ها هُنا، وأشار إلى بَنِي قُرَيْظَةَ، فخرج النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- إليهم».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جب نبی ﷺ جنگِ خندق سے مدینہ واپس ہوئے اور ہتھیار اتار کر غسل کیا تو جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا: ”آپ نے ہتھیار اتار دیے؟ اللہ کی قسم! ہم نے تو ابھی ہتھیار نہیں اتارے، چلیے ان کی طرف (حملہ کے لیے) نکلیے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کن پر ؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ ان پر اور انہوں نے (یہود کے قبیلہ) بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا، چنانچہ نبی ﷺ نے بنو قریظہ کی طرف (چڑھائی کے لیے) نکلے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لما رجع النبي -صلى الله عليه وسلم- من غزوة الخندق وهي غزوة الأحزاب، وقد نصره الله على كفار قريش ومن عاونهم، دخل بيته وألقى السلاح، واغتسل من غبار المعركة، فأتاه جبريل -عليه السلام-، وقال له: إنك قد ألقيت السلاح، ولكن الملائكة ما زالت مرتدية له وما ألقته، ثم أمره بالخروج لقتال بني قريظة، وهم طائفة من اليهود حول المدينة، قد نقضوا العهد مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وساعدوا الكفار، فخرج النبي -صلى الله عليه وسلم- بمن معه من الصحابة فقاتلوهم ونصرهم الله على عدوهم.
594;زوۂ خندق سے جب نبی ﷺ واپس ہوئے، اسے غزوۂ احزاب بھی کہتے ہیں اس میں اللہ نے قریش اور ان کے معاونین پر آپ ﷺ کی مدد فرمائی، اور اپنے گھر میں داخل ہوئے ہتھیار رکھ دیا اور معرکہ و جنگ کے گرد و غبار کو اتارنے کے لیے غسل فرمایا تو جبریل علیہ السلام آئے اور کہنے لگے: آپ نے ہتھیار رکھ دیا حالانکہ فرشتوں کی جماعت ابھی بھی تیار ہے اور ہتھیار نہیں رکھا ہے، پھر انہوں نے بنو قریظہ سے قتال کے لیے چڑھائی کا حکم دیا، مدینہ کے کنارے بسنے والے یہودیوں کا ایک گروہ تھا جسے بنو قریظہ کہتے ہیں، ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیے ہوئے عہد و پیمان کو توڑ کر کفار کی مدد کی تھی، تو نبی ﷺ اپنے پاس موجود صحابہ کے ساتھ نکلے اور ان سے قتال و جہاد کیا اور اللہ نے ان کے دشمنوں پر ان کی مدد فرمائی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10556

 
 
Hadith   1644   الحديث
الأهمية: كأني أنظر إلى الغبار ساطعًا في زقاق بني غنم، موكب جبريل -صلوات الله عليه- حين سار رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إلى بني قريظة


Tema:

گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں غبار کی طرف جو بنی غنم کی گلیوں میں اٹھی تھی وہ حضرت جبریل علیہ السلام کے قافلے کی تھی یہ اس وقت کا ذکر ہے جب رسول اللہ ﷺ بنی قریظہ سے لڑنے کے لیے چلے۔

عن أنس -رضي الله عنه- قال: «كأنِّي أنظر إلى الغُبار ساطِعًا في زُقَاق بني غَنْم، مَوْكبَ جبريلَ -صلوات الله عليه- حين سار رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- إلى بني قُرَيْظَة».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں غبار کی طرف جو بنی غنم کی گلیوں میں اٹھی تھی وہ حضرت جبریل علیہ السلام کے قافلے کی تھی یہ اس وقت کا ذکر ہے جب رسول اللہ ﷺ بنی قریظہ سے لڑنے کے لیے چلے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أنس بن مالك -رضي الله عنه- أنه رأى الغبار مرتفعًا في سكة بني غنم، وهم حي من الخزرج، من أثر جند الملائكة، ورئيسهم جبريل -عليه السلام-، حين ساروا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لقتال بني قُرَيْظَة.
ورؤية الأثر لا يستلزم رؤية الملائكة، فقد يكون رآهم وقد لا يكون، ولا شك أنه إنما علم كونه موكب جبريل من رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.
575;نس بن مالك رضی اللہ عنہ خبر دے رہے ہیں کہ انہوں نے بنی غنم (خزرج کا ایک خاندان) کے کوچہ میں جو غبار اٹھتا ہوا دیکھا تھا وہ فرشتوں کے سپاہیوں کےاثر سے تھا، اور ان کے سربراہ حضرت جبریل علیہ السلام تھےجس وقت رسول اللہ ﷺ بنی قریظہ سے لڑنے کے لیے چلے تھے“ اور اثر یا نشان کو دیکھنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے فرشتوں کو دیکھا ہو گا ممکن ہے دیکھا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ نہ دیکھا ہو، اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ انہیں جبریل علیہ السلام کے قافلے کا علم رسول اللہ ﷺکے ذریعہ ہوا ہو گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10557

 
 
Hadith   1645   الحديث
الأهمية: هذا الذي تحرك له العرش، وفتحت له أبواب السماء، وشهده سبعون ألفًا من الملائكة، لقد ضم ضمة، ثم فرج عنه


Tema:

یہی وہ شخص ہیں جن کے لیے عرشِ الٰہی ہل گیا، آسمان کے دروازے کھول دیے گئے، اور ستر ہزار فرشتے ان کے جنازے میں شریک ہوئے، (پھر بھی قبر میں) انہیں ایک بار بھینچا گیا، پھر (یہ عذاب) ان سے جاتا رہا۔

عن ابن عمر-رضي الله عنهما-، عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «هذا الذي تحرَّكَ له العرشُ، وفُتِحَتْ له أبوابُ السماءِ، وشَهِدَه سبعون ألفًا من الملائكة، لقد ضُمَّ ضَمَّةً، ثم فُرِّجَ عنه».

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہی وہ شخص ہیں جن کے لیےعرشِ الٰہی ہل گیا، آسمان کے دروازے کھول دیے گئے، اور ستر ہزار فرشتے ان کے جنازے میں شریک ہوئے، (پھر بھی قبر میں) انہیں ایک بار بھینچا گیا، پھر (یہ عذاب) ان سے جاتا رہا‘‘۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أثنى النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث على الصحابي الجليل سعد بن معاذ -رضي الله عنه- الذي اهتز له عرش الرحمن فرحًا بقدومه، وفُتحت له أبواب السماء؛ لإنزال الرحمة ونزول الملائكة، وتزيينًا لقدومه وطلوع روحه؛ لأن محل أرواح المؤمنين الجنة وهي فوق السماء السابعة، كما أن من فضائل هذا الصحابي الجليل أن جنازته قد حضرها سبعون ألف مَلَكٍ تعظيمًا له.
ثم بيَّن -صلى الله عليه وسلم- مع ما ذكره من فضل سعد بن معاذ ومكانته العظيمة عند الله أن القبر قد ضمه  ضمة، ثم فرج الله عنه، وهذه الضمة لا أحد ينجو منها أحد, ولو نجا منها أحد لنجا منها سعد كما قال النبي -صلى الله عليه وسلم-.
575;س حدیث میں نبی ﷺ نے جلیل القدر صحابی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی تعریف بیان کی ہے، ان کے لیے ان کی آمد کی وجہ سے عرشِ رحمان خوشی سے جھوم اٹھا، ان کے لیے آسمان کے دروازے رحمت اور فرشتوں کے نزول، ان کے قدوم کی تزئین اور ان کے روح کے نکلنے کے لیے کھول دیا گیا، اس لیے کہ مومنوں کے روحوں کا ٹھکانہ جنت ہے اور وہ ساتویں آسمان کے اوپر ہے، اسی طرح اس صحابیٔ رسول کے فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ ان کے جنازے میں ستر ہزار فرشتے ان کی تعظیم کے لیے حاضر ہوئے۔
پھر نبی ﷺ نے سعد بن معاذ کی فضیلت اور اللہ کے نزدیک ان کے بلند مقام و مرتبے کو ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان کیا کہ قبر نے ان کو ایک بار بھینچا اور پھر اللہ کی طرف سے یہ سختی کشادگی میں بدل گئی، قبر کی اس پکڑ سے کوئی نجات نہیں پاسکتا اور اگر کوئی اس سے نجات پاسکتا تو سعد رضی اللہ عنہ اس سے نجات پاتے جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10559

 
 
Hadith   1646   الحديث
الأهمية: على أنقاب المدينة ملائكة لا يدخلها الطاعون ولا الدجال


Tema:

مدینہ کے راستوں پر نگراں فرشتے مقرر ہیں نہ اس میں طاعون آ سکتا ہے اور نہ ہی دجال۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «على أَنْقَابِ المدينةِ ملائكةٌ لا يدخلُها الطَّاعونُ، ولا الدَّجَّالُ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”مدینہ کے راستوں پر نگراں فرشتے (مقرر) ہیں نہ اس میں طاعون آ سکتا ہے اور نہ ہی دجال“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكر النبي -صلى الله عليه وسلم- في الحديث أن من فضائل المدينة وجود ملائكة على مداخلها وطرقها  يحرسونها، فلا يدخلها الطاعون -وهو وباء معد سريع الانتشار يصحبه الموت الذريع الفاشي- ولا يدخلها المسيح الدجال.
606;بی کریمﷺ نے اس حدیث میں مدینہ کے فضائل میں سے یہ بیان کیا ہے کہ اس کے داخلہ کے دروازوں اور راستوں پر فرشتے بطورِ محافظ موجود ہیں۔ اس میں طاعون جو کہ تیز، بکثر پھیلنے والی وبا ہے جس سے کثیر تعداد میں اموات واقع ہوتی ہیں اور دجال داخل نہیں ہو سکے گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10560

 
 
Hadith   1647   الحديث
الأهمية: كنا عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- نؤلف القرآن من الرقاع فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «طوبى للشام»


Tema:

ہم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس رقعوں سے قرآن جمع کیا کرتے تھے۔ تو ایک بار آپ نے کہا : "شام کے لیے سعادت و خوشخبری ہے"۔

عن زيد بن ثابت -رضي الله عنه-، قال: كنَّا عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- نُؤَلِّفُ القرآنَ من الرِّقاع، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «طُوبَى للشَّام»، فقلنا: لأيٍّ ذلك يا رسولَ الله؟ قال: «لأنَّ ملائكةَ الرحمن باسطةٌ أجنحتَها عليها».

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : ہم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس رقعوں سے قرآن جمع کیا کرتے تھے۔ ایک بار آپ نے کہا : "شام کے لیے سعادت و خوشخبری ہے"۔ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول! ایسا کس بنا پر ہے؟ تو فرمایا : "کیوں کہ رحمن کے فرشتے اس کے اوپر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يحكي زيد بن ثابت -رضي الله عنه- أنهم كانوا عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يجمعون القرآن من الرقاع التي كانوا يكتبونه فيها، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «طُوبَى للشَّام» أي: راحة وطيب عيش حاصل لبلاد الشام ولأهلها، فقالوا: لأي سبب قلتَ ذلك يا رسولَ الله؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لأنَّ ملائكةَ الرحمن باسطةٌ أجنحتَها عليها» أي: لأن الملائكة باسطة أجنحتها على أرض الشام وأهلها فتحفُّها وتحوطها، فتنزل البركة عليها، وتدفع المهالك والمؤذيات عنها، وتحفظها من الكفر والفتن.
وهل هذا مستمر إلى زماننا هذا أو أن المراد بالحديث أمر حصل في الزمان الأول بعد النبوة؟ الحديث مطلق، ولا يلزم منه الدوام، والله أعلم.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن جب وہ لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس مختلف رقعوں سے، جن پر قرآن کی آیتیں لکھی ہوئی تھیں، قرآن یک جا کر رہے تھے۔ اس دوران اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "شام والوں کے لیے سعادت و خوشخبری ہے"۔ یعنی شام اور اہل شام کے لیے آرام و سکون اور خوشگوار زندگی ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا آخر کیوں فرمایا؟ تو جواب دیا: "کیوں کہ رحمن کے فرشتے اس کے اوپر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں"۔ یعنی فرشتے شام کی سرزمیں اور اس کے باشندوں کے اوپر اپنے پر پھیلا کر انھیں گھیرے میں لیے ہوئے ہیں، اس پر برکت نازل کر رہے ہیں، ہلاکتوں اور اذیتوں سے اس کا بچاو کر رہے ہیں اور کفر اور فتنوں سے اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔
یہاں ایک سوال یہ ہے کہ کیا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے یا پھر حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہ باتیں نبوت کے بعد دور اول میں حاصل ہوئی تھیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث مطلق ہے اور اس سے دوام لازم نہيں آتا۔ واللہ اعلم۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10561

 
 
Hadith   1648   الحديث
الأهمية: إذا طلع حاجب الشمس فدعوا الصلاة حتى تبرز، وإذا غاب حاجب الشمس فدعوا الصلاة حتى تغيب، ولا تحينوا بصلاتكم طلوع الشمس ولا غروبها، فإنها تطلع بين قرني شيطان، أو الشيطان


Tema:

جس وقت آفتاب کا کنارہ نکلے نماز کو چھوڑ دو یہاں تک کہ خوب اچھی طرح ظاہر ہوجائے اور جس وقت آفتاب کا کنارہ غائب ہو جائے تو نماز کو چھوڑ دو یہاں تک کہ خوب اچھی طرح غائب ہو جائے اور آفتاب کے نکلنے اور غروب ہونے کے وقت نماز کا قصد نہ کرو کیونکہ آفتاب شیطانوں-راوی کو شک ہے- یا شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے“۔

عن ابن عمر -رضي الله عنهما- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إذا طلعَ حاجبُ الشمس فدَعُوا الصلاةَ حتى تَبْرُزَ، وإذا غاب حاجبُ الشمس فدَعُوا الصلاةَ حتى تغيبَ، ولا تَحَيَّنُوا بصلاتِكم طُلُوعَ الشمسِ ولا غروبَها، فإنَّها تطلُعُ بيْن قَرْنَيْ شيطان، أو الشيطان».

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ” جس وقت آفتاب کا کنارہ نکلے نماز کو چھوڑ دو یہاں تک کہ خوب اچھی طرح ظاہر ہوجائے اور جس وقت آفتاب کا کنارہ غائب ہو جائے تو نماز کو چھوڑ دو یہاں تک کہ خوب اچھی طرح غائب ہو جائے اور آفتاب کے نکلنے اور غروب ہونے کے وقت نماز کا قصد نہ کرو کیونکہ آفتاب شیطانوں- راوی کو شک ہے- یا شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يأمرنا النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا طلع طرف الشمس الذي يبدو أولًا أن نترك الصلاة حتى تظهر كلها وترتفع، وإذا غاب طرف الشمس أن نترك الصلاة حتى تغرب بالكلية، ونهانا أن نصلي حين طلوع الشمس وحين غروبها؛ والسبب في هذا النهي أن الشمس تطلع وتغرب بين قرني الشيطان، أي: جانبي رأسه؛ لأنه ينتصب قائمًا في وجه الشمس عند طلوعها ليكون شروقها بين قرنيه، فيكون قبلة لمن سجد للشمس، وكذلك عند الغروب، فنُهي عن الصلاة في ذلك الوقت لكي لا يُتشبه بهم في العبادة.
606;بی ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جس وقت آفتاب کا کنارہ نکلے جس کا ظہور سب سے پہلے ہوتا ہے تو نماز کو چھوڑ دیں یہاں تک کہ خوب اچھی طرح ظاہر اور بلند ہو جائے اور جس وقت آفتاب کا کنارہ غائب ہو جائے تو نماز کو چھوڑ دیں یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر غائب ہو جائے اور آفتاب کے نکلنے اور غروب ہونے کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا اور منع کرنے کا سبب بتایا کہ آفتاب نکلنے اور غروب ہونے کے وقت شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان سے نکلتا اور غروب ہوتاہے، یعنی اس کے سر کے دونوں جانب؛ کیونکہ وہ طلوع آفتاب کے وقت اپنے آپ کو سورج کی طرف کرکے کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ سورج اس کے سر کے دونوں سینگوں کے درمیان سے نکلے چنانچہ جو اس وقت سجدہ کرے گا وہ اس کا قبلہ ہو جائے گا۔ اسی طرح غروب کے وقت بھی وہ کھڑا ہوتا ہے تاکہ آفتاب اس کے سر کے دونوں سینگوں کے درمیان غروب ہو، چنانچہ جو اس وقت سجدہ کرے گا اس کا وہ قبلہ ہو جائے گا اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اس وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا تاکہ عبادت میں مشابہت نہ ہو۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10562

 
 
Hadith   1649   الحديث
الأهمية: ابغني أحجارًا أستنفض بها، ولا تأتني بعظم ولا بروثة


Tema:

آپ ﷺ نے فرمایا میرے لیے چند پتھر تلاش کر کے لے آؤ، میں ان سے استنجا کروں گا، اور ہڈی و گوبر نہ لانا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أنَّه كان يَحمِل مع النبي -صلى الله عليه وسلم- إدَاوَة لوَضوئِه وحاجَتِه، فَبَيْنَما هو يتْبَعُه بها، فقال: «مَنْ هذا؟» فقال: أنا أبو هريرة، فقال: «ابْغِني أحجارًا أسْتَنْفِض بها، ولا تأتِني بعَظْم ولا بِرَوْثَة». فأتيتُه بأحجار أحْمِلها في طرَف ثوبي، حتى وضعتُها إلى جَنْبه، ثم انصرفتُ حتى إذا فَرَغ مشيْتُ، فقلتُ: ما بالُ العَظْم والرَّوْثَة؟ قال: «هما مِنْ طعام الجِنِّ، وإنه أتاني وَفْدُ جِنِّ نَصِيبين، ونِعْمَ الجن، فسألوني الزَّادَ، فدَعَوْتُ اللهَ لهم أن لا يَمُرُّوا بعَظْم ولا برَوْثة إلَّا وجدوا عليها طعامًا».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ تھے، وہ آپ ﷺ کے لیے ایک برتن لے کر چلتے تھے جو آپ کے ﷺ قضاء حاجت اور وضو کے کام آتا تھا، ایک بار یہی برتن لیے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آپﷺکے پیچھے جا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کون آرہا ہے؟ میں نے کہا میں ابوہریرہ، آپ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے چند پتھر تلاش کر کے لے آؤ، میں ان سے استنجا کروں گا، اور ہڈی و گوبر نہ لانا، چنانچہ میں چند پتھر اپنے کپڑے میں رکھ کر لایا اور آپ ﷺ کے پاس رکھ دیا، پھر میں وہاں سے لوٹ آیا ، یہاں تک کہ جب نبی ﷺ فارغ ہوگئے تو میں آپ ﷺ کے ساتھ چلا، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! ہڈی اور گوبر میں کیا بات ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:یہ دونوں چیزیں جنوں کی خوراک ہیں اور میرے پاس نصیبین (یہ شام اور عراق کے درمیان مشہور قصبہ ہے) کے جنوں کا ایک وفد آیا تھا اور وہ بہت اچھے جن تھے، چنانچہ انہوں نے مجھ سے توشہ مانگا، میں نے اللہ سے ان کے لیے یہ دعا کی کہ جب یہ کسی ہڈی یا گوبر پر سے گزریں تو انہیں اس پر سے کھانا ملے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان أبو هريرة -رضي الله عنه- يسير مع النبي -صلى الله عليه وسلم- يحمل إناء فيه ماء لوضوئه -صلى الله عليه وسلم- ولاستنجائه، فأمره -صلى الله عليه وسلم- أن يأتيه بأحجار ليستنجي بها، ولا يأتيه بعظام ولا فضلات حيوان، فأتاه أبو هريرة بأحجار حملها في طرف ثوبه، ووضعها بجانبه ثم انصرف، فلما قضى -صلى الله عليه وسلم- حاجته سأله أبو هريرة عن السبب في أن لا يستنجى بعظام ولا فضلات حيوان؟ فأخبره النبي -صلى الله عليه وسلم- أنهما من طعام الجن، وأن وفدَ جن نصيبين -وهي بلدة مشهورة بين الشام والعراق- قد أتوه -صلى الله عليه وسلم-, وأثنى عليهم النبي -صلى الله عليه وسلم- خيرًا، و أنهم سألوه الطعام، فدعا الله لهم أن لا يمروا بعظام ولا فضلات حيوان إلَّا وجدوا عليها طعامًا، وجاء تقييده في صحيح مسلم: (لكم كل عظم ذكر اسم الله عليه يقع في أيديكم أوفر ما يكون لحما، وكل بعرة علف لدوابكم).
575;بو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ چلتے تھے، وہ آپ ﷺ کے لیے ایک برتن لے کر چلتے تھے جس میں پانی ہوا کرتا تھا جو آپ ﷺ کے قضاء حاجت اور وضو کے کام آتا۔ ایک بار یہی برتن لیے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آپﷺکے پیچھے جا رہے تھے، آپ ﷺ نے پوچھا کون آرہا ہے؟ انہوں نے کہا میں ابوہریرہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے چند پتھر تلاش کر کے لے آؤ تاکہ آپ اُن سے استنجا کریں، اور ہڈی و گوبر نہ لانا، چنانچہ میں چند پتھر اپنے کپڑے میں رکھ کر لایا اور آپ ﷺ کے پاس رکھ دیا، پھر میں وہاں سے لوٹ آیا ، یہاں تک کہ جب نبی ﷺ فارغ ہوگئے تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ چلا، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! ہڈی اور گوبر میں کیا بات ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:یہ دونوں چیزیں جنوں کی خوراک ہیں۔ اور میرے پاس نصیبین کے جنوں کا ایک وفد آیا تھا (نصیبین:یہ شام اور عراق کے درمیان مشہور قصبہ ہے) اور نبی ﷺ نے ان کی بہت تعریف کی تھی اور انہوں نے نبی ﷺ سے توشہ مانگا۔میں نے اللہ سے ان کے لیے یہ دعا کی کہ جب یہ کسی ہڈی یا گوبر پر سے گزریں تو انہیں ان پر سے کھانا ملے۔ اور صحیح مسلم میں اس کی تقیید آئی ہے: تمہارے لیے ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے وہ تمہارے ہاتھ میں آتے ہی اس پر وافر مقدار میں گوشت چڑھ جائے گا، اور ہر مینگنی تمہارے چوپایوں کے لیے چارہ ہو جائے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10563

 
 
Hadith   1650   الحديث
الأهمية: والذي نفسي بيده، ما لقيكَ الشيطانُ قط سالكًا فَجًّا إلا سلك فَجًّا غير فجك


Tema:

قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اے عمر! جب شیطان کسی راستہ سے چلتا ہوا تم سے ملتا ہے تو وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔

عن سعد بن أبي وقاص -رضي الله عنه-، قال: استأذن عمرُ على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وعنده نساءٌ من قريش يُكَلِّمْنَه ويَسْتَكْثِرْنَه، عاليةً أصواتهن، فلما استأذن عمر قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الحجابَ، فأذِنَ له رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- ورسول الله -صلى الله عليه وسلم- يضْحَك، فقال عمر: أضْحَكَ اللهُ سِنَّك يا رسولَ الله، قال: «عَجِبتُ من هؤلاء اللَّاتي كُنَّ عندي، فلمَّا سَمِعْنَ صوتَك ابْتَدَرْنَ الحجابَ» قال عمر: فأنت يا رسولَ الله كنتَ أحقَّ أنْ يَهَبْنَ، ثم قال: أيْ عَدُوَّاتِ أنفسِهن، أَتَهَبْنَني ولا تَهَبْنَ رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم-؟ قلن: نعم، أنت أَفَظُّ وأغلظُ مِنْ رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «والذي نفسي بيدِه، ما لَقِيَكَ الشيطانُ قَطُّ سالكًا فَجًّا إلَّا سَلَكَ فَجًّا غيرَ فَجِّكَ».

سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے اجازت مانگی اس وقت آپﷺ کے پاس قریش کی کچھ عورتیں (آپﷺ کی بیویاں) اکٹھی تھیں، آپ ﷺسے زیادہ خرچ مانگ رہی تھیں، ان کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں جس وقت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی (ان کی آواز کان میں پہنچی) تو سب کی سب کھڑی ہو کر پردے میں بھاگیں، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دی اور آپ ﷺ ہنس رہے تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! آپ کو اللہ تعالی ہمیشہ ہنستا رکھے، آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے ان عورتوں پر تعجب ہوا جو ابھی میرے پاس بیٹھی تھیں (مجھ سے جھگڑے کر رہی تھیں)، تمہاری آواز سنتے ہی پردہ میں ہو گئیں، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ہونا تو یہ چاہیے کہ ان سب کو آپ کا ڈر زیادہ ہو، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ان عورتوں سے کہا اے اپنی جانوں کی دشمنو! تم مجھ سے ڈرتی ہو اور نبی ﷺ سے نہیں ڈرتی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ تُند مزاج اور سخت آدمی ہو اور نبی ﷺ نرم ہیں، اس وقت رسول ﷺ نے فرمایا: قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اے عمر! جب شیطان کسی راستہ سے چلتا ہوا تم سے ملتا ہے تو وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
استأذن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- للدخول على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وعند الرسول -صلى الله عليه وسلم- نساء من قريش يكلِّمنه -عليه الصلاة والسلام- ويطلبن كثيرًا من كلامه وجوابه، أو يطلبن كثيرًا من العطاء والنفقة، وقد علت أصواتهن، فلما استأذن عمر في الدخول سمعن صوته فسارعْنَ إلى الحجاب، فأذن له رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن يدخل، فدخل ورسول الله -صلى الله عليه وسلم- يضحك من تصرفهن، فقال عمر: «أضحك اللهُ سِنَّك يا رسول الله» أي: أدام الله لك السرور الذي سبَّب ضحكك، فأخبره -صلى الله عليه وسلم- أنه ضحك من فعل هؤلاء النسوة، حيث كن يتكلمن بصوت مرتفع قبل أن يجيء عمر، فلما جاء عمر سارعن إلى الحجاب هيبة منه وتوقيرًا له. فقال عمر: فأنت يا رسول الله كنت أحق أن يوقِّرن ويحترمن. ثم قال عمر -رضي الله عنه- لهؤلاء النسوة: يا عدوات أنفسِهن أتوقرنني ولا توقرن رسول الله -صلى الله عليه وسلم-؟ فقلن: نعم، فإنك تتصف بشدة الخلق والغلظة بخلاف رسول الله -صلى الله عليه وسلم-. فحينئذ أقسم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن الشيطان لا يلقى عمرَ سالكًا طريقًا إلا هرب منه وسلك طريقًا آخر.
593;مر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کےگھر میں آنے کی اجازت مانگی، اور آپﷺ کے پاس قریش کی کچھ عورتیں (آپﷺ کی بیویاں ) اکٹھی تھیں بات چیت ہو رہی تھی، آپ ﷺسے زیادہ خرچ مانگ رہی تھیں اور ان کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ جس وقت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی ان کی آواز کان میں پہنچی تو سب کی سب کھڑی ہو کر پردے میں بھاگیں، چنانچہ رسول اللہﷺنے عمر رضی اللہ عنہ کو گھر میں آنے کی اجازت دے دی۔ جب عمر رضی اللہ عنہ گھر میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ ہنس رہے تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! اللہ تعالی آپ کو ہمیشہ ہنستا رکھے، یعنی آپ کو اللہ تعالی خوش و خرم رکھے، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا: مجھے ان عورتوں پر ہنسی آئی جو ابھی عمر کے آنے سے پہلے میرے پاس بیٹھی تھیں، مجھ سے بلند آواز میں باتیں کر رہی تھیں، جیسے ہی عمر رضی اللہ عنہ آئے ڈر اور احترام کی وجہ سے ان سے پردے میں ہو گئیں، توعمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! ہونا تو یہ چاہیے کہ ان سب کو آپ کا ڈر اور احترام زیادہ ہو، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ان عورتوں سے کہا: اپنی جانوں کی دشمنو! تم مجھ سے ڈرتی ہو اور نبی ﷺ سے نہیں ڈرتی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں تم تُند مزاج اور سخت آدمی ہو بر خلاف رسول اللہ ﷺ کے کیونکہ وہ نرم ہیں، اس وقت رسول ﷺ نے قسم کھاکر فرمایا بے شک شیطان جب کسی راستہ سے چلتا ہوا تم سے ملتا ہے تو وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10566

 
 
Hadith   1651   الحديث
الأهمية: أتاني داعي الجن فذهبت معه فقرأت عليهم القرآن


Tema:

مجھے جنوں کی طرف سے ایک بلانے والا آیا تو میں اس کے ساتھ گیا اور میں نے جنوں کو قرآن سنایا۔

عن عامر، قال: سألتُ عَلْقَمةَ: هل كان ابنُ مسعود شَهِدَ مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ليلةَ الجنِّ؟ قال: فقال عَلْقَمةُ، أنا سألتُ ابنَ مسعود فقلتُ: هل شَهِدَ أحدٌ منكم مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ليلةَ الجنِّ؟ قال: لا، ولكنَّا كنَّا مع رسول الله ذاتَ ليلة ففَقَدْناه فالتمسناه في الأودية والشِّعاب. فقلنا: استُطِير أو اغْتِيل. قال: فبِتْنَا بِشَرِّ ليلة بات بها قومٌ، فلما أصبحْنا إذا هو جاء من قِبَل حِرَاء. قال: فقلنا يا رسول الله فقدْناك فطلبْناك فلم نجدْك، فبِتْنَا بِشَرِّ ليلة بات بها قوم. فقال: «أتاني داعي الجنِّ فذهبتُ معه فقرأتُ عليهم القرآنَ» قال: فانطلقَ بنا فأرانا آثارَهم وآثارَ نِيرانِهم وسألوه الزاد فقال: «لكم كلُّ عظم ذُكر اسمُ الله عليه يقع في أيديكم أوفر ما يكون لحمًا، وكلُّ بَعْرة عَلَفٌ لدوابِّكم» . فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «فلا تسْتَنْجُوا بهما فإنَّهما طعامُ إخوانِكم».

عامر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے علقمہ سے پوچھا کیا لیلۃ الجن کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ رسول ﷺ کے ساتھ تھے؟ کہتے ہیں کہ علقمہ نے کہا، میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا اور کہا کہ لیلۃ الجن کو تم میں سے کوئی رسول ﷺ کے ساتھ تھا؟ انہوں نے کہا نہیں۔ لیکن ایک رات ہم رسول ﷺ کے ساتھ تھے، چنانچہ آپ گم ہو گئے تو ہم نے آپ ﷺ کو پہاڑ کی وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا، مگر آپ ﷺ نہیں ملے، تو ہم نے کہا کہ آپﷺ کو جن اڑا لے گئے یا آپ ﷺ کو چپکے سے قتل کر دیا گیا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رات برے طور سے بسر کی، جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ آپ ﷺحراء پہاڑ کی طرف سے آرہے ہیں، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو رات میں گم پایا ، ہم نے آپ کو تلاش کیا تب بھی آپ نہ ملے، چنانچہ ہم نے رات بڑی تکلیف میں کاٹی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس جنوں کا ایک ایلچی آیا تو میں اس کے ساتھ گیا اور میں نے جنوں کو قرآن سنایا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم کو اپنے ساتھ لے گئے اور ان کے نشان اور ان کے انگاروں کے نشان بتائے اور جنوں نے آپ ﷺ سے توشہ مانگا، آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے لیے ہر اس جانور کی ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے وہ تمہارے ہاتھ میں آتے ہی وافر مقدارمیں اس پر گوشت چڑھ جائے گا، اور ہر مینگنی تمہارے چوپایوں کے لیے چارہ ہو جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان دونوں سے استنجا نہ کرو کیونکہ یہ دونوں تمہارے بھائیوں کی خوراک ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سأل عامر الشعبيُّ -رحمه الله-  علقمة -رحمه الله-، وكل منهما تابعيٌّ جليل: هل شهد عبد الله بن مسعود -رضي الله عنه- مع النبي -صلى الله عليه وسلم- الليلة التي كان فيها مع الجن؟ فأخبره علقمه أنه سأل ابن مسعود عن ذلك، فأخبره أنه لم يشهد أحد منهم ذلك، ولكنهم كانوا مع النبي -صلى الله عليه وسلم- في ليلة من الليالي فلم يجدوه فبحثوا عنه في الأودية والطرق وبين الجبال فلم يجدوه، فخافوا أن يكون -صلى الله عليه وسلم- قد قُتِل سرًا أو خطفته الجن، فباتوا في غاية الحزن والأسى، فلما أصبحوا رأوا النبي -صلى الله عليه وسلم- قادمًا من جهة جبل حراء، فأخبروه أنهم فقدوه فبحثوا عنه فلم يجدوه فباتوا في غاية الحزن والأسى، فأخبرهم النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه أتاه رسول من الجن فذهب معه فقرأ القرآن على الجن، وانطلق النبي -صلى الله عليه وسلم- بالصحابة فأراهم آثارهم وآثار نيرانهم، وأخبر الصحابةَ أن الجن طلبوا منه الطعام فأخبرهم أن طعامهم كل عظم قد ذُكر اسمُ الله عليه فإنه إذا وقع في أيديهم فسيجدونه مليئًا باللحم، وكذلك كل فضلات الحيوانات هي طعام لدوابهم، ثم نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- أمته أن يستنجوا بالعظام وبفضلات الحيوانات؛ لأنها من طعام إخوانهم من الجن.
593;امر شعبی رحمہ اللہ نے علقمہ رحمہ اللہ سے پوچھا (ان دونوں میں سے ہر ایک بزرگ تابعی ہیں) کیا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ لیلۃُ الجن کو رسول ﷺ کے ساتھ تھے ؟ چنانچہ علقمہ نے خبر دیا کہ انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے خبر دیا کہ لیلۃُ الجن کو ان میں سے کوئی حاضر نہیں تھا، ہاں البتہ وہ سب کسی ایک رات نبی ﷺ کے ساتھ تھے، چنانچہ آپ ﷺ گم ہو گئے، تو ان لوگوں نے آپ ﷺ کو پہاڑ کی وادیوں اور راستوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا ، مگر آپ ﷺ نہیں ملے، تو وہ لوگ ڈرے کہ آپﷺ کو کہیں چپکے سے قتل تو نہیں کر دیا گیا، یا آپ ﷺ کو جن اڑا لے گئے۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رات بڑے رنج وغم کے عالَم میں کاٹی، جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ آپ ﷺحراء پہاڑ کی طرف سے آرہے ہیں ، تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! ہم نے آپ کو رات میں گم پایا ، ہم نے آپ کو تلاش کیا تب بھی آپ نہ ملے، چنانچہ ہم نے نے رات بڑے رنج وغم کے عالَم میں کاٹی! تو آپ ﷺ نے فرمایاکہ میرے پاس جنوں کا ایک ایلچی آیا تھا، میں اس کے ساتھ چلا گیا تھا اور میں نے جنوں کو قرآن سنایا۔ پھر نبی ﷺ صحابہ کو اپنے ساتھ لے گئے اور ان کے نشان اور ان کے انگاروں کے نشان بتائے اورصحابہ کو بتایا کہ جنوں نے آپ ﷺ سےکھانا مانگا، تو آپ ﷺ نے انہیں خبر دیا کہ ان کا کھانا ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے، ان کے ہاتھ میں آتے ہی اُس پر وافر مقدار میں گوشت چڑھ جائے گا، اور اسی طرح ہر جانور کی مینگنی ان کے چوپایوں کے لیے چارہ ہو جائے گا، پھر نبی ﷺ نے اپنی امت کو منع فرمایا کہ ان ہڈیوں اور چوپایوں کے گوبر سے استنجا کریں، کیونکہ یہ ان کے بھائی جنوں کی خوراک ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10567

 
 
Hadith   1652   الحديث
الأهمية: فناء أمتي بالطعن والطاعون


Tema:

میری امت کی ہلاکت، طعنہ زنی اور طاعون میں ہے۔

عن أبي موسى -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «فَنَاءُ أُمَّتي بالطَّعْن والطَّاعون». فقيل: يا رسول الله، هذا الطَّعْنُ قد عَرَفْناه، فما الطَّاعون؟ قال: «وَخْزُ أعدائِكم مِن الجِنِّ، وفي كلٍّ شُهَداء».

ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کی ہلاکت، طعنہ زنی اور طاعون میں ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! طعنہ زنی کو تو ہم جانتے ہیں، طاعون کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنات کا طعنہ ہے۔ اور (طاعون ہو یا طعنہ زنی) ہر ایک میں شہداء ہیں۔
يذكر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن موت أكثر هذه الأمة بشيئين: الأول: القتل بالسلاح فيما يكون بينهم وبين الكفار من الحروب، وفيما يكون بين بعضهم بعضًا من الفتن التي تحدث بين المسلمين.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
والثاني: بالطاعون، وهو موت ذريع فاشٍ، سببه طعن أعداء المسلمين من الجن الكفرة، ولا منافاة بين ذلك وبين وجود أثر ملازم للطاعون من جراثيم ونحوها، فتكون علامة مصاحبة يعرف به الطاعون الذي سببه وخز الجن، ومن يموت بأحد هذين النوعين: القتل والطاعون، فهو شهيد. وقيل: إن المقصود الدعاء بذلك، أي: أن النبي صلى الله عليه وسلم دعا لأمته بأن يموتوا بأحد هذين النوعين حتى ينالوا الشهادة، والصواب الأول، والله أعلم.
606;بی ﷺ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ اس امت کے اکثر افراد کی موت و ہلاکت، دو چیزوں سے ہوگی: پہلی یہ کہ ان کے اور کفار کے درمیان ہونے والی جنگوں میں ہتھیاروں سے ان کے قتل اور خود مسلمانوں کے درمیان وقوع پذیر ہونے والے فتنوں میں ایک دوسرے کو قتل کی وجہ سے ہو ہوگا۔
دوسری چیز طاعون ہے جو انتہائی تیزی سے پھیلنے والی موت ہے اور یہ مسلمانوں کے دشمن کافر جنات کی طعنہ زنی کے سبب ہوتی ہے، اس کے اور طاعون کے لازمی اثر یعنی جراثیم وغیرہ کے پائے جانے میں کوئی منافات نہیں، یہ جراثیم وغیرہ گویا کہ علامت اور نشانی ہے جس سے طاعون کا پتہ چلتا ہے جو کہ اصل میں سرکش جنوں کا طعنہ ہے۔ اور جس مسلمان کی قتل یا طاعون سے موت واقع ہوجائے تو وہ شہید کا درجہ پائے گا۔
اس حدیث کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے دعاء مقصود ہے یعنی نبی ﷺ نے اپنی امت کے حق میں دعا فرمائی کہ ان دو قسموں میں سے کسی ایک کے ذریعہ انہیں موت نصیب ہو تاکہ انہیں شہادت کا مرتبہ حاصل ہو، تاہم پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی سب سے زیادہ جاننے والی ہے!

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10568

 
 
Hadith   1653   الحديث
الأهمية: إن إبليس يضع عرشه على الماء، ثم يبعث سراياه، فأدناهم منه منزلةً أعظمهم فتنةً


Tema:

بے شک ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے، پھر وہ اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے پس مرتبے کے اعتبار سے اس کے نزدیک وہی مقرب ہوتا ہے جو فتنہ ڈالنے میں سب سے بڑا ہو۔

عن جابر -رضي الله عنه-، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إنَّ إبليسَ يضعُ عرْشَه على الماء، ثم يَبْعَث سَراياه، فأدْناهم منه منزِلةً أعظمُهم فتنةً، يجيء أحدهم فيقول: فعلتُ كذا وكذا، فيقول: ما صنعتَ شيئًا. قال: ثم يجيء أحدهم فيقول: ما تركتُه حتى فَرَّقتُ بينه وبين امرأتِه، قال: فيُدْنِيه منه ويقول: نعم أنت». قال الأعمش: أراه قال: «فيَلْتَزِمُه».

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے، پھر وہ اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے پس مرتبے کے اعتبار سے اس کے نزدیک وہی مقرب ہوتا ہے جو فتنہ ڈالنے میں سب سے بڑا ہو۔ ان میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے: میں نے اس اس طرح کیا، تو شیطان کہتا ہے: تو نے کوئی (بڑا کام) سر انجام نہیں دیا۔ فرمایا: پھر ان میں سے ایک اور آتا ہے اور کہتا ہے: میں نے (فلاں آدمی) کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہ ڈال دی، فرمایا: شیطان اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے: ہاں! تو (نے بڑا کام کیا) ہے“۔ اعمش کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے کہا: ”وہ اسے اپنے سے چمٹا لیتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يضع إبليس عرشه -وهو سرير ملكه- على الماء، ثم يبعث جنوده من الجن ليفتنوا الناس ويضلوهم، فأقربهم من إبليس مرتبة أعظمهم إضلالًا للناس، فيجيء أحد هؤلاء الشياطين فيقول لإبليس: فعلتُ كذا، وكذا, أي: أمرتُ بالسرقة، وشرب الخمر مثلًا، فيقول إبليس له: ما صنعتَ أمرًا كبيرًا، أو شيئًا يُعتد به, حتى يجيء أحد هؤلاء الشياطين فيقول لإبليس: ما تركتُ فلانًا حتى فرقت بينه وبين امرأته وجعلته يطلقها, فيقربه إبليس منه, ويضمه إليه ويعانقه، ويقول له: «نعم أنت», أي: نعم أنت الذى فعلت رغبتي، وحققت أمنيتي في إضلال الناس وإفسادهم.
575;بلیس اپنے تخت یعنی تختِ شاہی کو پانی پر رکھتا ہے، پھر جنوں میں سے اپنے لشکریوں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں اور انہیں گمراہ کریں، تو مرتبے کے اعتبار سے ابلیس کا سب سے قریبی وہ شیطان ہوتا ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے میں سب زیادہ بڑھا ہوا ہو، ان شیاطین میں سے ایک آتا ہے اور ابلیس سے کہتا ہے: میں نے ایسا اور ایسا کیا یعنی مثال کے طور پر میں نے چوری کا حکم دیا اور شراب پینے پر ابھارا وغیرہ، تو ابلیس اس سے کہتا ہے: تو نے کوئی بہت بڑا کام نہیں کیا یا یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کو کارنامہ شمار کیا جائے، یہاں تک کہ انہیں شیطانوں میں سے ایک اور آتا ہے اور ابلیس سے کہتا ہے: میں نے فلاں کو نہیں چھوڑا یہاں تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کرادی اور شوہر نے بیوی کو طلاق دے دیا، ابلیس اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور اسے اپنے سے چمٹا کر اس کا معانقہ کرتا ہے، اور اس سے کہتا ہے: ”ہاں! تو ہے“ یعنی تو ہی وہ شیطان ہے جس نے میری چاہت پوری کر دی اور لوگوں کو گمراہ کرنے اور ان کے مابین فساد برپا کرنے کی میری آرزو و خواہش کو عملی جامہ پہنا دیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10569

 
 
Hadith   1654   الحديث
الأهمية: سَحَرَ رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم- رجلٌ من بني زريق، يقال له لبيد بن الأعصم، حتى كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يخيل إليه أنه كان يفعل الشيء وما فعله


Tema:

بنو زریق کے ایک شخص لبید بن اعصم نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کر دیا تھا اور اس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کسی چیز کے متعلق خیال کرتے کہ آپ نے وہ کام کر لیا ہے حالاں کہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: سَحَرَ رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم- رجلٌ من بني زُرَيق، يقال له لَبِيد بن الأَعْصَم، حتى كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يُخَيَّل إليه أنه كان يَفْعل الشيء وما فَعَله، حتى إذا كان ذاتَ يوم أو ذات ليلة وهو عندي، لكنه دَعا ودَعا، ثم قال: «يا عائشة، أَشَعَرْتِ أنَّ اللهَ أفتاني فيما استَفْتَيْتُه فيه، أتاني رجلان، فقَعَد أحدُهما عند رأسي، والآخر عند رِجْلي، فقال أحدهما لصاحبه: ما وَجَعُ الرجل؟ فقال: مَطْبوب، قال: مَن طَبَّه؟ قال: لَبِيد بن الأَعْصَم، قال: في أي شيء؟ قال: في مِشْطٍ ومُشَاطة، وجُفِّ طَلْعِ نخلةٍ ذَكَرٍ. قال: وأين هو؟ قال: في بئر ذَرْوان» فأتاها رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في ناس من أصحابه، فجاء فقال: «يا عائشة، كأنَّ ماءَها نُقَاعَة الحِنَّاء، أو كأنَّ رءوس نخلها رءوس الشياطين» قلت: يا رسول الله: أفلا استخرجتَه؟ قال: «قد عافاني الله، فكرِهتُ أن أُثَوِّرَ على الناس فيه شرًّا» فأمر بها فدُفِنَت.

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ بنو زریق کے ایک شخص لبید بن اعصم نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کر دیا تھا اور اس کی وجہ سے نبی ﷺ کسی چیز کے متعلق خیال کرتے کہ آپ نے وہ کام کرلیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا- ایک دن یا (راوی نے بیان کیا کہ) ایک رات نبی ﷺ میرے یہاں تشریف فرما تھے اور مسلسل دعا کر رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! تمہیں معلوم ہے اللہ سے جو بات میں پوچھ رہا تھا، اس نے اس کا جواب مجھے دے دیا۔ میرے پاس دو آدمی آئے، ایک میرے سرہانے کھڑا ہو گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی جانب - ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے پوچھا ان صاحب کی بیماری کیا ہے؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو ہوا ہے - اس نے پوچھا کس نے جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے - پوچھا کس چیز میں؟ جواب دیا کہ کنگھے اور سر کے بال میں جو نر کھجور کے خوشے میں رکھے ہوئے ہیں- سوال کیا اور یہ جادو ہے کہاں؟ جواب دیا کہ ذرو ان کے کنویں میں۔ پھر نبی ﷺ اس کنویں پر اپنے چند صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے اور جب واپس آئے تو فرمایا: ”عائشہ! اس کا پانی ایسا (سرخ) تھا جیسے مہندی کا نچوڑ ہوتا ہے اور اس کے کھجورکے درختوں کے سر (اوپر کا حصہ) شیطان کے سروں کی طرح تھے“ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے اس جادو کو باہر کیوں نہیں کر دیا؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے عافیت دے دی اس لیے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اب میں خواہ مخواہ لوگوں میں اس برائی کو پھیلاؤں“ پھر نبی ﷺ نے اس جادو کے سامان کو دفن کرنے کا حکم دیا چنانچہ اسے دفن کر دیا گیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تحكي أم المؤمنين عائشة -رضي الله عنها- أن رجلًا من اليهود من بني زريق يُسمَّى لبيد بن الأعصم سحر رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، حتى كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يُخَّيل إليه أنه كان يفعل الشيء وهو لم يفعله، فلما كان ذات يوم وهو عندها، لم يكن -صلى الله عليه وسلم- مشتغلًا بها، بل بالدعاء وتكراره حتى يطلعه الله على حقيقة الأمر، ثم أخبرها -صلى الله عليه وسلم- أن الله أجابه فيما دعاه، وأنه أتاه ملكان فقعد أحدهما عند رأسه والآخر عند رجله، فقال أحدهما للآخر: «ما وجع الرجل؟» أي: النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: «مطبوب» أي: مسحور، قال: «مَن طبه؟» أي: مَن سحره. قال: لبيد بن الأعصم. قال: في أي شيء؟ أي ما الأشياء التي استعملها في السحر؟ قال: «في مِشْطٍ ومُشَاطة، وجُف طَلْع نخلة ذَكَر» أي: سحره في مشط، وبعض ما كان يخرج من رأسه عند تسريحه، والغشاء الذي يكون عليه طلع النخلة قال: وأين هو؟ قال: «في بئر ذروان» وهي بئر بالمدينة، فأتاها رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مع بعض أصحابه فاستخرجه، فرجع -صلى الله عليه وسلم- إلى عائشة، فأخبرها أن ماء البئر كان أحمر كالذي ينقع فيه الحناء، يعني: أنه تغير لرداءته أو لما خالطه مما أُلقي فيه، ورؤوس نخلها تشبه في كراهتها وقبح منظرها رؤوس الشياطين، قالت عائشة: «قلت: يا رسول الله أفلا استخرجته؟» أي: أفلا أخرجت السحر وأشعته بين الناس وعلموا بما حَدَث؟ فقال -صلى الله عليه وسلم-: «قد عافاني الله، فكرِهتُ أن أُثَوِّرَ على الناس فيه شرًّا» أي: قد شفاني الله من السحر، وأكره إن أذعته بين الناس أن أفتح عليهم باب شر من تذكير المنافقين السحر وتعلمه ونحو ذلك فيؤذون المؤمنين وهو من باب ترك المصلحة خوف المفسدة، فأمر -صلى الله عليه وسلم- بالبئر فدُفنت.
وقد أنكر بعض الناس قصة سحر النبي -صلى الله عليه وسلم- زاعمين أنها تطعن في عصمته -صلى الله عليه وسلم؛ لاحتمال أن يخيَّل إليه أنه يرى جبريل وهو لم يره، وأنه يوحى إليه ولم يوح إليه بشيء، وهذا كله مردود فقد قام الدليل على عصمته -عليه الصلاة والسلام- فيما يبلغه عن الله وعلى عصمته في التبليغ، وما حصل له من ضرر السحر ليس نقصًا فيما يتعلق بالتبليغ، بل هو من جنس ما يجوز عليه من سائر الأمراض والآفات، والسحر الذي حصل له شرحته الروايات الأخرى، وهو أنه كان يخيل إليه أنه أتى أهله وهو لم يفعل ذلك.
575;ُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر رہی ہیں کہ بنو زریق کے ایک شخص نے جس کا نام لبید بن اعصم ہے، رسول ﷺ پرجادوکر دیا تھا جس کی وجہ سے نبی ﷺ کسی چیزکے متعلق خیال کرتے کہ آپ نے وہ کام کر لیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا۔ ایک دن آپ ﷺ میرے پاس موجود تھےاور کسی کام میں مشغول نہیں تھے صرف دعا کر رہے تھے اور مسلسل دعا کر رہے تھے یہاں تک کہ اللہ نے آپ ﷺ کے لیے معاملہ کی حقیقت کو واضح کر دیا، پھر آپ ﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمالی،آپ کے پاس دوفرشتے حاضر ہوئے، ان میں سے ایک آپ کے سرکے پاس اور دوسرا پیرکے پاس کھڑا ہوا، ایک نے دوسرے سے کہا: ”ان صاحب کی بیماری کیاہے؟“ یعنی نبی ﷺ کی، جواب دیا: ”مطبوب“ یعنی جادو کیے گیے ہیں۔ کہا: ”کس نے جادوکیا ہے؟“ بتایا: لبید بن اعصم نے۔ پوچھا:کس چیز میں؟ یعنی کون سی چیز جادوکے لیے استعمال کی گئی ہے؟ جواب دیا: ”کنگھے اور سر کے بال میں، جو نر کھجور کے خوشے میں رکھے ہوئے ہیں“ یعنی کنگھا، آپ کے سر سے نکلے ہوئے بال اور کھجور کے خوشے میں جادو کیا گیا، پوچھا: وہ کہاں ہے؟ بتایا: ”ذروان کے کنویں میں“یہ مدینہ کا ایک کنواں ہے، نبی ﷺ اس کنویں پر اپنے چند صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے، پھر عائشہ رضی اللہ عنہاکے پاس واپس آئے اور بتایا کہ کنویں کا پانی سرخ تھا جیسے اس میں مہندی نچوڑ دیا گیا ہو یعنی اس کے پانی کا رنگ جادو کی قباحت یا جادو کی ملاوٹ کی وجہ سے بدل گیا تھا اور کھجور کے سروں کو ان کی کراہت و بد شکلی کی وجہ سے شیاطین کے سروں کے مشابہہ قراردیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نےعرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے اس جادو کو باہر کیوں نہیں کر دیا؟“ یعنی جادو کو نکالتے، لوگوں کے درمیان اسے جلاتے اورجو کچھ آپ پر گزرا ہے لوگوں کو اس سے باخبر کرتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے عافیت دے دی ہے اس لیے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اب میں خواہ مخواہ لوگوں میں اس برائی کو پھیلاؤں“ یعنی اللہ نے مجھے جادو سے شفا دے دی اور میں نے لوگوں کے درمیان پھیلانا ناپسند کیا کہ ان پر برائی کا ایک دروازہ کھولوں کہ منافقین جادو کو جان کر اسے سیکھیں اور مومنوں کو اذیت و تکلیف دیں اور یہ فساد کے خوف سے مصلحت کو ترک کرنے کی قبیل سے ہے۔ نبی ﷺ نے کنویں میں اسے دفن کرنے کا حکم دیا چنانچہ اسے وہیں دفن کر دیا گیا۔
بعض لوگوں نے نبی ﷺ پر جادو کیے جانے والے قصے کا انکار کیا ہے، ان کا گمان ہے کہ اس سے عصمتِ نبی ﷺ پرحرف آتا ہے، اس احتمال کی وجہ سے کہ آپ ﷺ کو خیال ہوتا تھا کہ جبریل کو دیکھا ہے حالانکہ انہیں نہیں دیکھے ہوتے، خیال ہوتا کہ آپ ﷺ کی طرف وحی کی گئی اور وحی نہیں کی گئی ہوتی۔ یہ ساری کی ساری باتیں مردود ہیں کیوں کہ اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ باتوں کی حفاظت اور تبلیغ سے متعلق عصمت پر دلیل ثابت شدہ ہے۔ جادو کے ضرر کی وجہ سے آپ ﷺ کو جو تکلیف پہنچی تھی وہ تبلیغ کے سلسلے میں کسی کمی سے متعلق نہیں تھی بلکہ وہ دیگر امراض وآفات کے قبیل سے تھی جس کا صدور ممکن ہے اور جادو سے جو تکلیف آپ ﷺ کو پہنچی تھی اس کی تشریح ووضاحت اور دیگر روایات میں موجود ہے، اور وہ تکلیف یہ تھی کہ آپ ﷺ کوخیال گزرتا کہ آپ اپنی بیوی کے پاس گئے ہیں حالانکہ کسی بیوی کے پاس نہیں گیے ہوتے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10570

 
 
Hadith   1655   الحديث
الأهمية: إن هذه الحشوش محتضرة، فإذا أتى أحدكم الخلاء فليقل: أعوذ بالله من الخبث والخبائث


Tema:

قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کی یہ جگہیں جن اور شیطان کے موجود رہنے کی جگہیں ہیں، لہذا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جائے تو یہ دعا پڑھے: ”أَعُوذُ بِاللّهِ مِنَ الـخُبْثِ والـخَبَائِثِ“ (میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں سے)۔

عن زيد بن أرقم -رضي الله عنه-، عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال:«إنَّ هذه الحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ، فإذا أتى أحدُكم الخَلَاءَ فَلْيَقُلْ: أعوذُ باللهِ مِنَ الخُبُثِ والخَبَائث».

زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کی یہ جگہیں جن اور شیطان کے موجود رہنے کی جگہیں ہیں، جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جائے تو یہ دعا پڑھے: ”أَعُوذُ بِاللّهِ مِنَ الـخُبْثِ والـخَبَائِثِ“ یعنی میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جنّ مردوں اور ناپاک جن عورتوں سے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن موضع قضاء الحاجة تحضره الجن والشياطين، يترصدون فيه لبني آدم بالأذى والفساد؛ لأنه موضع تُكشف فيه العورة، ولا يُذكر اسم الله فيه، فإذا أتى المسلم إلى موضع قضاء الحاجة فليقل: «أعوذُ باللهِ مِنَ الخُبُثِ والخَبَائث» أي: أعتصم بالله وأحتمي به من شر ذكران الشياطين وإناثهم.
576;لاشبہ قضائے حاجت کے مقامات، جنات اور شیاطین کے بسیرے ہوتے ہیں جہاں وہ بنی آدم کو تکلیف پہنچانے اور انہیں خرابی و خلل میں مبتلا کرنے کی تاک میں لگے رہتے ہیں کیونکہ یہ ایسی جگہیں ہیں جہاں شرمگاہیں کھولی جاتی ہیں اور یہاں اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا جاسکتا، لہذا جب مسلمان قضائے حاجت کے مقام پر آئے تو یہ دعا پڑھے ”أَعُوذُ بِاللّهِ مِنَ الـخُبْثِ والـخَبَائِثِ“ ( میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں سے) یعنی میں شیاطین مرد اور عورت کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتا ہوں اور اسی کی حمایت و حفاظت میں آتا ہوں۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10571

 
 
Hadith   1656   الحديث
الأهمية: إذا قرأ ابن آدم السجدة فسجد اعتزل الشيطان يبكي، يقول: يا ويله أمر ابن آدم بالسجود فسجد فله الجنة، وأمرت بالسجود فأبيت فلي النار


Tema:

جب ابنِ آدم سجدے کی آیت تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتے ہوئے وہاں سے ہٹ جاتا ہے، وہ کہتا ہے: ہائے اس کی ہلاکت! -اور ابو کریب کی روایت میں ہے: ہائے میری ہلاکت!- ابن آدم کو سجدے کا حکم ملا تو اس نے سجدہ کیا، اس پر اسے جنت مل گئی اور مجھے سجدے کا حکم ملا تو میں نے انکار کر دیا، سو میرے لیے آگ ہے

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إذا قَرَأ ابنُ آدم السجدةَ فسجد اعْتَزَل الشيطانُ يبكي، يقول: يا وَيْلَه -وفي روايةٍ: يا وَيْلي- أُمِر ابنُ آدمَ بالسجودِ فسجدَ فله الجنة، وأُمِرتُ بالسجود فأبَيْتُ فَلِيَ النارُ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”جب ابنِ آدم سجدے کی آیت تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتے ہوئے وہاں سے ہٹ جاتا ہے، وہ کہتا ہے: ہائے اس کی ہلاکت! -اور ابو کریب کی روایت میں ہے: ہائے میری ہلاکت!- ابن آدم کو سجدے کا حکم ملا تو اس نے سجدہ کیا، اس پر اسے جنت مل گئی اور مجھے سجدے کا حکم ملا تو میں نے انکار کر دیا، سو میرے لیے آگ ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا قرأ ابن آدم آية من آيات السجدة، التي فيها أمرٌ بالسجود، فسجد امتثالًا لأمر الله، ورغبة في طاعته، انصرف الشيطان من عند القارئ وجعل يبكي متحسرًا على ما فاته من الكرامة, وحصول اللعن والخيبة للحسد على ما حصل لابن آدم، ويقول «يا ويلي أُمِر ابنُ آدم بالسجود، فسجد فله الجنة، وأُمِرتُ بالسجود فأبيت»، أي: يا حزني ويا هلاكي, فقد أمر اللهُ -تعالى- ابن آدم بالسجود فأطاع ربه فسجد فله الجنة، وأمرني بالسجود فامتنعت تكبُّرا فلي النار.
580;ب ابنِ آدم سجدہ والی آیتوں میں سے کسی آیت کو پڑھتا ہے، یعنی وہ آیت کہ جس میں سجدے کا حکم ہوتا ہے اور وہ اللہ کے حکم کی بجاآوری اور اطاعت و بندگی میں رغبت کی وجہ سے سجدہ کرتا ہے تو شیطان پڑھنے والے کے پاس سے ہٹ جاتا ہے اور ابن آدم کی حصول یابی پر بطورِ حسد اپنی اس کرتوت پر حسرت و افسوس کرتے ہوئے روتا ہے کہ اس نے اس کرامت و بزرگی کو ترک کر کے لعنت و ناکامی کو پالیا۔ اور کہتا ہے: ”ہائے میری ہلاکت! ابن آدم کو سجدے کا حکم ملا تو اس نے سجدہ کیا، اس پر اسے جنت مل گئی اور مجھے سجدے کا حکم ملا تو میں نے انکار کیا، سو میرے لیے آگ ہے“ یعنی ہائے میری افسردگی اور ہلاکت، اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کو سجدے کا حکم دیا اس نے اپنے رب کی اطاعت کی اور سجدہ کیا تو اس کے لیے جنت ہے اور مجھے سجدے کا حکم دیا میں نے تکبر کرتے ہوئے انکار کر دیا تو میرے لیے آگ ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10572

 
 
Hadith   1657   الحديث
الأهمية: قال زيد بن ثابت الأنصاري -وكان ممن يكتب الوحي-: أرسل إلي أبو بكر مقتل أهل اليمامة وعنده عمر -رضي الله عنهم-


Tema:

زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ- اور وہ قرآن لکھنے والوں میں سے تھے- کہتے ہیں، جب یمامہ کی لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے۔

عن زيد بن ثابت الأنصاري -رضي الله عنه، وكان ممَّن يكتب الوحيَ- قال: أرسلَ إليَّ أبو بكر مَقتلَ أهلِ اليَمَامة وعنده عمر، فقال أبو بكر: إنَّ عمر أتاني، فقال: إن القتلَ قد اسْتَحَرَّ يوم اليَمَامة بالناس، وإنِّي أخشى أنْ يَسْتَحِرَّ القتلُ بالقُرَّاء في المواطن، فيذهب كثيرٌ من القرآن إلَّا أنْ تجْمعوه، وإنِّي لأَرى أنْ تَجْمع القرآنَ. قال أبو بكر: قلتُ لعمر: «كيف أفعلُ شيئًا لم يفعله رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم-؟» فقال عمر: هو واللهِ خيرٌ. فلم يزَلْ عمر يُراجعني فيه حتى شَرَحَ اللهُ لذلك صَدري، ورأيتُ الذي رأى عمر، قال زيد بن ثابت: وعمرُ عنده جالسٌ لا يتكلَّم، فقال أبو بكر: إنك رجلٌ شابٌّ عاقلٌ، ولا نَتَّهِمُك، كنتَ تكتبُ الوحيَ لرسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فتَتَبَّعِ القرآنَ فاجْمعه، فواللهِ لو كلَّفني نَقْلَ جبل من الجبال ما كان أثقلَ عليَّ ممَّا أمرني به مِن جَمْعِ القرآن، قلت: كيف تفعلان شيئًا لم يفعله النبي -صلى الله عليه وسلم-؟ فقال أبو بكر: هو واللهِ خيرٌ، فلم أزَلْ أراجعه حتى شرح اللهُ صدري للذي شرحَ اللهُ له صدرَ أبي بكر وعمر، فقمتُ فتتبَّعتُ القرآنَ أجمعُه من الرِّقَاع والأكتاف، والعُسُب وصدور الرجال، حتى وجدتُ من سورة التوبة آيتيْن مع خُزيمة الأنصاري لم أجدْهما مع أحد غيره، {لقد جاءكم رسولٌ من أنفسِكم عزيزٌ عليه ما عَنِتُّم حريصٌ عليكم} [التوبة: 128] إلى آخرهما، وكانت الصُّحُفُ التي جُمِعَ فيها القرآنُ عند أبي بكر حتى توفَّاه اللهُ، ثم عند عمر حتى توفَّاه الله، ثم عند حفصة بنت عمر.

زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے -اور وہ قرآن لکھنے والوں میں سے تھے- وہ کہتے ہیں کہ جب یمامہ کی لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا اس وقت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے، میں گیا، ابو بکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے چنانچہ انہوں نے کہا کہ یمامہ کی لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، اور میں ڈرتا ہوں کہ اسی طرح جنگوں میں اور بھی قارئینِ قرآن مارے گئے تو بہت سارا قرآن دنیا سے اٹھ جائے گا ، لہذا قرآن کو ایک جگہ جمع کرادیں نہیں تو یہ ڈر لگا رہے گا۔ میری رائے تو یہ ہے کہ قرآن کو جمع کرا دیں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا کہ بھلا میں وہ کام کیسے کر سکتا ہوں جو رسول اللہﷺنے نہیں کیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم ! اسی میں بھلائی ہے، چنانچہ وہ برابر اسی بات کو مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اس بات کے لیے میرا سینہ کھول دیا اور میں نے بھی وہی سوچا جو عمر رضی اللہ عنہ نے سوچا۔ زید بن ثابت کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس خاموش بیٹھے رہے، پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا دیکھو ! تم جوان عقل مند آدمی ہو اور ہم تمہیں سچا جانتے ہیں، تم نبیﷺ کے زمانے میں بھی قرآن لکھا کرتے تھے ، لہذا قرآن کو تلاش کر کے اکٹھا کرو، زید بن ثابت کہتے ہیں کہ اگر مجھے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کو منتقل کرنے کے لیے کہتے تو مجھ کو اتنی پریشانی نہ ہوتی جتنی قرآن کو جمع کرنے میں محسوس ہوئی۔ میں نے کہا کہ آپ دونوں ایسا کام کرتے ہو جو نبیﷺ نے نہیں کیا، تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اسی میں بھلائی ہے، پھر میں ان سے تکرار کرتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے میرا بھی سینہ کھول دیا، جیسے اللہ نے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھول دیا تھا، چنانچہ میں اٹھا اور میں نے قرآن کی تلاش شروع کر دی ، کہیں کپڑوں کے ٹکڑوں پر لکھا ہوا کہیں مونڈھے کی ہڈیوں پر کہیں کھجور کی ڈالیوں پر، اور لوگوں کو بھی یاد تھا، یہاں تک کہ مجھے سورہ توبہ کی دو آیتیں خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے سوا اور کہیں نہ ملیں، ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم﴾(دونوں آیتوں کی اخیر تک) ”تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں، پھر اگر رو گردانی کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے“۔ (سورہ توبہ: 128) پھر یہ مصحف جس میں قرآن جمع کیا گیا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ان کے پاس رہا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ان کے پاس رہا، ان کی وفات کے بعد اُم المؤ منین حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کےپاس تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يحكي زيد بن ثابت الأنصاري -رضي الله عنه- أن أبا بكر الصديق أرسل إليه في خلافته بعد قتال الصحابة -رضي الله تعالى عنهم- مسيلمة الكذاب ببلاد اليمامة سنة إحدى عشرة، بسبب ادعائه النبوة وارتداد كثير من العرب، وقد قُتل فيها كثير من الصحابة، فذهب إليه فوجد عنده عمر بن الخطاب -رضي الله تعالى عنه- فقال أبو بكر لزيد: إن عمر أتاني فقال: إن القتل قد اشتد وكثر في الصحابة في حرب مسيلمة الكذاب، وإني أخاف أن يكثر القتل بقراء القرآن وحفاظه في الحروب التي يقع فيها القتال مع الكفار، فيذهب كثير من القرآن، وإني لأرى أن تجمع القرآن. قال أبو بكر: فقلت لعمر: كيف أفعل شيئًا لم يفعله رسول الله -صلى الله عليه وسلم-؟ فقال لي عمر: جمع القرآن واللهِ خير من تركه. قال أبو بكر: فلم يزل عمر يكلمني في جمع القرآن حتى شرح الله لذلك صدري ورأيت أن أجمع القرآن. قال زيد بن ثابت: قال أبو بكر ذلك وعمر عنده جالس لا يتكلم. ثم قال أبو بكر لزيد: إنك يا زيد رجل شاب عاقل ولا نتهمك بكذب ولا نسيان، وقد كنت تكتب الوحي لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- فيه فتتبع القرآن فاجمعه. وقد كان القرآن كله كُتب في العهد النبوي لكن غير مجموع في موضع واحد ولا مرتب السور. قال زيد: فوالله لو كلفني أبو بكر نقل جبل من الجبال ما كان أثقل عليَّ مما أمرني به من جمع القرآن. ثم قال زيد لأبي بكر وعمر: كيف تفعلان شيئا لم يفعله النبي -صلى الله عليه وسلم-؟ فقال له أبو بكر: هو والله خير. قال زيد: فلم يزل أبو بكر يكلمني في جمع القرآن حتى شرح الله لذلك صدري ورأيت أن أجمع القرآن؛ لما في ذلك من المصلحة العامة. فقام زيد بتتبع القرآن ليجمعه من «الرقاع» ومن «الأكتاف» جمع كتف وهو عظم عريض في أصل كتف الحيوان ينشف ويكتب فيه، ومن جريد النخل الذي يكشطون خوصه فيكتبون في طرفه العريض، ومن صدور الرجال الذين جمعوا القرآن وحفظوه كاملًا في حياته -صلى الله عليه وسلم- كأُبي بن كعب ومعاذ بن جبل فيكون ما في الرقاع والأكتاف وغيرهما تقريرا على تقرير، حتى وجد زيد آيتين من سورة التوبة مع خزيمة بن ثابت الأنصاري لم يجدهما مكتوبتين مع أحد غيره: {لقد جاءكم رسولٌ من أنفسِكم عزيزٌ عليه ما عَنِتُّم حريصٌ عليكم} [التوبة: 128] إلى آخرهما. وكانت الصحف التي جُمع فيها القرآن عند أبي بكر حتى توفاه الله، ثم عند عمر حتى توفاه الله، ثم عند حفصة بنت عمر -رضي الله تعالى عنهم أجمعين-.
وقد اعترضت الرافضة على فعل أبي بكر في جمعه القرآن، وأنه فعل شيئًا لم يفعله رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وليس في فعله -رضي الله عنه- ما يُنكر؛ إذ هو من النصح لله ولرسوله ولكتابه، وقد أذن فيه -عليه الصلاة والسلام- بقوله في حديث أبي سعيد في صحيح مسلم: «لا تكتبوا عني شيئا غير القرآن»، وغايته جمعُ ما كان مكتوبا قبل ذلك، فلا يتوجه اعتراض الرافضة على الصديق.
586;ید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب یمامہ کی لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، جو سن گیارہ ہجری میں مدعی نبوت مسیلمہ کذاب سے یمامہ کے شہر میں ہوئی جس وقت عرب کے بہت سارے لوگ مرتد ہو گئے تھے، اور اس لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنے دورِ خلافت میں بلایا، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے، میں گیا، ابو بکر رضی اللہ عنہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے، عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، چنانچہ انہوں نے کہا کہ مسیلمہ کذاب سے لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، اور میں ڈرتا ہوں کہ اسی طرح جنگوں میں اور بھی حفاظ اور قرآن کے قرّاء مارے جاتے رہے تو بہت سارا قرآن دنیا سے اٹھ جائے گا! لہذا میری رائے تو یہ ہے کہ قرآن کو جمع کرا دیں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا کہ بھلا میں وہ کام کیسے کر سکتا ہوں جو رسول اللہﷺنے نہیں کیا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! قرآن کے جمع کرنے ہی میں بھلائی ہے، برخلاف اس کے چھوڑنے میں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عمر برابر اسی بات کو مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کے لیے میرا سینہ کھول دیا، اور میں نے قرآن کے جمع کرنے کے بارے میں سوچنے لگا۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا اور عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس خاموش بیٹھے رہے، پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے زید سے کہا بے شک اے زید! دیکھو! تم ایک جوان عقل مند آدمی ہو اور ہم تمہارے اوپر جھوٹ اور بھولنے کی تہمت بھی نہیں لگا رہے ہیں، تم نبیﷺ کے زمانے میں بھی قرآن لکھا کرتے تھے، لہذا قرآن کو تلاش کر کے اکٹھا کرو۔ اور پورا قرآن نبی ﷺ کے زمانے میں ہی لکھا گیا تھا لیکن ایک ہی جگہ پر نہ تھا، اور نہ تو مرتب انداز میں سورتیں لکھی تھیں۔ زید بن ثابت کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! اگر مجھے کسی پہاڑ کو منتقل کرنے کے لیے کہتے تو مجھے اتنی پریشانی نہ ہوتی جتنا قرآن جمع کرنے کے منصوبے میں معلوم ہوئی! پھر زید نے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ دونوں ایسا کام کرتے ہو جو نبیﷺ نے نہیں کیا؟ توابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم! یہ اچھا کام ہے۔ زید نے کہا پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ مجھ سے برابر کہتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے میرا بھی سینہ کھول دیا اور میں نے مصلحت عامہ کے مدِّ نظر قرآن کو جمع کرنے کے بارے میں سوچا۔ چنانچہ زید اٹھے اور انہوں نے قرآن کی تلاش شروع کر دی، تاکہ اسے کپڑوں کے ٹکڑوں، اور مونڈھوں کی ہڈیوں، سے جمع کر سکیں۔ ’’الأكتاف‘‘ کتف کی جمع ہے، اس سے مراد وہ چوڑی ہڈی ہے جو جانور کے مونڈھے پر ہوتی ہے اس کے سوکھ جانے کے بعد اس پر لکھا جاتا ہے، اور کھجور کی ڈالیوں پر، وہ اس طور پر کہ اس کے جھاگ کو اتار دیتے اور اس کی چوڑائی والے حصہ میں لکھتے، اور ان لوگوں کے سینوں سے جنہوں نے قرآن کو اکٹھا کیا اور اسے نبی ﷺ کی زندگی میں یاد کیا تھا، جیسے أبی بن کعب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما، تو اس طرح سے جو آیتیں کپڑوں کے ٹکڑوں، اور مونڈھوں وغیرہ پر ملتیں وہ تاکید پر تاکید ہوتیں، یہاں تک کہ سورہ توبہ کی یہ دو آیتیں خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے سوا کہیں اور لکھی ہوئی نہ ملیں: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم﴾(دونوں آیتوں کی اخیر تک) ”تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں، پھر اگر رو گردانی کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے“۔ (سورہ توبہ: 128)، پھر یہ مصحف جس میں قرآن جمع کیا گیا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ان کے پاس رہا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ان کے پاس رہا، ان کی وفات کے بعد اُمُّ المؤ منین حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کےپاس تھا۔
قرآن کے جمع کرنے سے متعلق رافضہ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے اس کام پر اعتراض کیا کہ انہوں نے ایسا کام کیا، جسے رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا تھا، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس کام پر انکار کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اس کی کتاب کے ساتھ خیرخواہی ہے، اور آپﷺ نے اس بات کی اجازت دی ہے، صحیح مسلم میں ابو سعید کی روایت کردہ حدیث میں ہے ’’قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ نہ لکھو‘‘ اور ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کا مقصد اس چیز کا اکٹھا اور جمع کرنا تھا، جو پہلے ہی سے لکھا ہوا تھا، لہذا رافضہ کا اعتراض ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ پر درست نہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10574

 
 
Hadith   1658   الحديث
الأهمية: حذيفة بن اليمان، قدم على عثمان وكان يغازي أهل الشأم في فتح أرمينية، وأذربيجان مع أهل العراق، فأفزع حذيفة اختلافهم في القراءة


Tema:

حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ شام اور عراق کے مسلمانوں کے ساتھ ارمینیہ، اور آذر بائیجان فتح کرنے کے لیے لڑ رہے تھے، حذیفہ رضی اللہ عنہ ان کی قرأت کے اختلاف سے گھبرا گئے۔

عن ابن شهاب أنَّ أنس بن مالك حدثه: أنَّ حُذيفة بن اليَمان قدِم على عثمان وكان يُغازي أهل الشام في فتْح أَرْمِيِنيَّة، وأَذْرَبِيجان مع أهل العراق، فأفْزَع حذيفةَ اختلافُهم في القراءة، فقال حُذيفة لعثمان: يا أمير المؤمنين، أدْرِكْ هذه الأمةَ، قبل أنْ يختلفوا في الكتاب اختلافَ اليهود والنصارى، فأرسل عثمانُ إلى حفصة: «أنْ أرسلي إلينا بالصُّحُف ننسخُها في المصاحف، ثم نردُّها إليك»، فأرسلتْ بها حفصةُ إلى عثمان، فأَمَر زيدَ بن ثابت، وعبدَ الله بن الزبير، وسعيد بن العاص، وعبد الرحمن بن الحارث بن هشام فنسخوها في المصاحف، وقال عثمان للرَّهْط القُرَشيِّين الثلاثة: «إذا اختلفتم أنتم وزيدُ بن ثابت في شيء من القرآن فاكتبوه بِلِسان قُريش، فإنما نزل بِلِسانهم» ففعلوا حتى إذا نسخوا الصُّحُف في المصاحف، رَدَّ عثمانُ الصُّحُفَ إلى حفصة، وأرسل إلى كلِّ أُفُق بمصحف مما نَسَخُوا، وأَمَر بما سواه من القرآن في كلِّ صحِيفة أو مُصحف، أنْ يُحرق.

ابن شہاب سے روایت ہے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ شام اور عراق کے مسلمانوں کے ساتھ ارمینیہ، اور آذر بائیجان، فتح کرنے کے لیے لڑ رہے تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ اس سے گھبرا گئے کہ ان لوگوں نے قرآن کی قرأت میں اختلاف کیا ہے اور عثمان سے کہنے لگے، اے امیر المؤمنین! اس سے پہلے کہ مسلمان یہود و نصاری کی طرح قرآن میں اختلاف کرنے لگیں، اس امت کو اس (اختلاف) سے روکنے کا سامان کریں! یہ سن کر عثمان رضی اللہ عنہ نے اُمّ المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو کہلا بھیجا کہ اپنا مصحف ہمارے پاس بھیج دو، ہم اس کی نقلیں اتار کر پھر تم کو واپس کر دیں گے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھیج دیا۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت اور عبداللہ بن زبیر اور سعید بن عاص اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا انہوں نے اس کی نقلیں اتاریں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے تینوں قریش کے لوگوں سے یہ بھی کہہ دیا ’’اگر کہیں تم میں اور زید بن ثابت میں قرأت میں اختلاف ہو تو قریش کی زبان میں لکھنا کیونکہ قرآن انہیں کی زبان پر اترا ہے، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، جب مصحفوں کو تیار کر چکے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کا مصحف تو ان کے پاس واپس کر دیا، اور ان مصحفوں میں سے ایک ایک مصحف ہر ایک ملک میں بھجوا دیا، اور اسکے سوا جتنے الگ الگ پرچوں اور کاغذوں پر قرآن لکھا ہوا یا مصحف لوگوں کے پاس تھا سب کوجلانے کا حکم دیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قدم حُذيفة بن اليَمان -رضي الله عنهما- على عثمان -رضي الله عنه-، وكان عثمان يجهز أهل الشام وأهل العراق لغزو أرمينية وأذربيجان وفتحهما، وكان حذيفة قد سمع اختلاف الناس في قراءة القرآن فبعضهم يقرأ بقراءة أُبي وبعضهم يقرأ بقراءة ابن مسعود حتى كاد أن يحصل بينهم فتنة وتنازع، فأفزع حذيفة هذا الأمر، فأتى عثمان فقال: يا أمير المؤمنين أدرك الناس قبل أنْ يختلفوا في القرآن كما اختلفت اليهود والنصارى في التوراة والإنجيل إلى أن حرَّفوا وزادوا ونقصوا. وكان القرآن حينئذ مجموعًا في الصحف ولم يكن في مصحف، فأرسل عثمان إلى حفصة أم المؤمنين -رضي الله عنها- وطلب إليها أن تبعث إليه بالصحف المكتوب فيها القرآن؛ كي ينسخها في المصاحف ثم يردها إليها، -وهذه الصحيفة التي أخذها من عند حفصة هي التي أمر أبو بكر وعمر بجمع القرآن فيها-, وحينئذ جمع عثمان القرآن في المصحف، والفرق بينه وبين الصحف أن الصحف هي الأوراق المحررة التي جُمع فيها القرآن في عهد أبي بكر -رضي الله تعالى عنه-، وكانت سورًا مفرقة كل سورة مرتبة بآياتها على حدة، لكن لم يرتب بعضها إثر بعض، فلما نُسخت ورُتِّب بعصها إثر بعض صارت مصحفا، ولم يكن مصحفا إلا في عهد عثمان، فأرسلت حفصةُ إلى عثمان بالصحف، فأمر زيدَ بن ثابت، وعبدَ الله بن الزبير، وسعيد بن العاص، وعبد الرحمن بن الحارث بن هشام -رضي الله عنهم- فنسخوا الصحف في المصاحف، وزيد بن ثابت أنصاري والباقون قُرَشيون، وقال عثمان للقُرَشيين الثلاثة: «إذا اختلفتم أنتم وزيدُ بن ثابت في شيء من القرآن فاكتبوه بلسان قُريش، فإنما نزل القرآن بلسانهم» ففعلوا حتى إذا نسخوا الصُّحُف في المصاحف، رد عثمانُ الصُّحُفَ إلى حفصة، وأرسل إلى كلِّ ناحية بمصحف مما نَسَخُوا، وأمر بما سواه من القرآن في كلِّ صحِيفة أو مُصحف، أنْ يُحرق.
581;ذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اورعثمان رضی اللہ عنہ شام اور عراق کے مسلمانوں کے ساتھ ارمینیہ اور آذر بائیجان، فتح کرنے کے لیے لڑ رہے تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کے پڑھنے میں اختلاف کو سنا کیونکہ ان میں سے بعض أبی رضی اللہ عنہ اور بعض عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت کو پڑھ رہے تھےاس کی وجہ سے قریب تھا کہ ان کے درمیان کوئی فتنہ اور اختلاف ہو جائے۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ گھبرا گئے کہ ان لوگوں نے قرآن کی قرأت میں اختلاف کیا ہے اور عثمان رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے، اے امیر المؤمنین! اس سے پہلے کہ مسلمان قرآن میں اختلاف کرنے لگیں، جس طرح یہود و نصاری نے تورات اور انجیل میں اختلاف کیا یہاں تک کہ اس میں رد و بدل کر دیا اور اس میں حذف و اضافہ کیا، اس وقت قرآن الگ الگ پرچوں اور کاغذوں پر لکھا ہواتھا اور مصحف کی شکل میں نہیں تھا۔ چنانچہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اُمّ المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو کہلا بھیجا کہ اپنا مصحف ہمارے پاس بھیج دو، تاکہ اس کی نقلیں اتار لیں، پھر تم کو واپس کر دیں گے، یہی وہ صحیفہ تھا جسے حفصہ رضی اللہ عنہا سے لیا گیا تھا، اور یہ وہ نسخہ تھا جسے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے جمع کرنے کا حکم دیا تھا اور اس وقت عثمان رضی اللہ عنہ نے مصحف کی شکل میں جمع کر دیا، اس صحیفے اور ان کے صحیفے کے درمیان فرق یہ تھا کہ ابو بکر کے عہد میں سورتیں الگ الگ اور منفرد تو تھیں تاہم مرتب انداز میں نہیں تھیں، لیکن جب ترتیب وار اور مرتب انداز میں لکھ دی گئیں تو وہ مصحف کی شکل میں ہو گئیں، اوریہ مصحف کی مکمل شکل عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں ہوئی، چنانچہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ صحیفہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت اور عبداللہ بن زبیر اور سعید بن عاص اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا۔ انہوں نے اس کی نقلیں اتاریں، زید بن ثابت انصاری تھے اور بقیہ تینوں قریش کے تھے، اورعثمان رضی اللہ عنہ نے قریش کے لوگوں سے یہ بھی کہہ دیا ’’ اگر کہیں تم میں اور زید بن ثابت میں قرأت میں اختلاف ہو تو قریش کے محاورے کے موافق لکھنا کیونکہ قرآن انہیں کے محاورے پر اترا ہے، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، جب مصحفوں کو تیار کر چکے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کا مصحف تو ان کے پاس واپس کر دیا، اور ان مصحفوں میں سے ایک ایک مصحف ہر ایک ملک میں بھجوا دیا، اور اس قرآن کے سوا جتنے الگ الگ پرچوں اور کاغذوں پر قرآن لکھا ہوا لوگوں کے پاس تھا سب کوجلانے کا حکم دیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10575

 
 
Hadith   1659   الحديث
الأهمية: من قال: أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه، غفرت ذنوبه، وإن كان قد فر من الزحف


Tema:

جو شخص یہ دعا پڑھے: أَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ (میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ زندہ ہے اور قائم رکھنے والا ہے اور میں اسی سے توبہ کرتا ہوں) اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اگرچہ وہ میدان جہاد سے ہی فرار کیوں نہ ہوا ہو۔

عن زيد مولى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «من قال: أَسْتَغْفِرُ الله الذي لا إله إلا هو الحَيَّ القيَّومَ وأتوب إليه، غُفرت ذنوبه، وإن كان قد فَرَّ من الزَّحْف».

رسول الله ﷺ كے آزاد کردہ غلام زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:جو شخص یہ دعا پڑھے: ”أَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ“ (میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ زندہ ہے، قائم رکھنے والا ہے اور میں اسی سے توبہ کرتا ہوں) اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اگرچہ وہ میدان جہاد سے ہی فرار کیوں نہ ہوا ہو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من قال: أَسْتَغْفِرُ الله الذي لا إله إلا هو الحَيَّ القيَّومَ وأتوب إليه غُفر له ذنبه وإن كان قد فَرَّ من قتال الكفار، ومن المعلوم أن الفِرَار من الزَّحْف هو أحد المُوبِقات السَّبع التي جاءت في حديث: (اجتنبوا السَّبع المُوبقات، ومنها: الفِرَار من الزَّحْف)، ويكون المعنى مستقيمًا: إذا كان المقصود أنه تاب من جميع الذُّنوب، ومنها: الفِرَار من الزَّحَف، وإلا فإن مجرد الاستغفار والإنسان باقٍ على الذَّنب لا ينفع وإنما ينفع ذلك مع التوبة من الذَّنْب.
580;و شخص یہ دعا پڑھے: ”أَسْتَغْفِرُ الله الذي لا إله إلا هو الحَيَّ القيَّومَ وأتوب إليه“ اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اگرچہ وہ کفار کے ساتھ جنگ سے فرار ہی کیوں نہ ہوا ہو۔ واضح رہے کہ معرکۂ جہاد سے بھاگنا ان سات ہلاک کر دینے والی اشیا میں سے ہے، جن کا ذکر اس حدیث میں آیا ہے: ”سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو؛ ان میں سے ایک میدان جہاد سے بھاگنا ہے“۔ اس لیے زیر بحث حدیث کا معنی اس وقت درست ہو گا، جب مفہوم یہ ہو کہ وہ تمام گناہوں سے تائب ہوجائے، جن میں سے ایک میدان جنگ سے بھاگنا ہے۔ ورنہ گناہ پر قائم رہتے ہوۓ صرف استغفار کرنا کچھ بھی سود مند نہیں ہو سکتا۔ اس کا فائدہ تو تب ہوتا ہے، جب اس کے ساتھ ساتھ گناہ سے توبہ بھی ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10576

 
 
Hadith   1660   الحديث
الأهمية: وقت الظهر إذا زالت الشمس وكان ظل الرجل كطوله، ما لم يحضر العصر، ووقت العصر ما لم تصفر الشمس، ووقت صلاة المغرب ما لم يغب الشفق، ووقت صلاة العشاء إلى نصف الليل الأوسط، ووقت صلاة الصبح من طلوع الفجر ما لم تطلع الشمس


Tema:

ظہر کا وقت سورج کے ڈھل جانے سے آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جانے تک (یعنی) عصر کا وقت داخل ہونے تک رہتا ہے۔ عصر کا وقت سورج زرد ہونے تک، مغر ب کا وقت سرخی غائب ہونے تک، عشا کی نماز کا وقت آدھی رات تک اور صبح کی نماز کا وقت طلوع فجر سے اس وقت تک رہتا ہے، جب تک سورج طلوع نہیں ہوجاتا۔

عن عبد الله بن عمرو -رضي الله عنهما-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، قال:«وقت الظهر إذا زالت الشمس وكان ظل الرجل كطوله، ما لم يحضر العصر، ووقت العصر ما لم تَصْفَرَّ الشمس، ووقت صلاة المغرب ما لم يَغِبْ الشفق، ووقت صلاة العشاء إلى نصف الليل الأوسط، ووقت صلاة الصبح من طلوع الفجر ما لم تطلع الشمس، فإذا طلعت الشمس فأمسك عن الصلاة، فإنها تطلع بين قرني شيطان».

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ظہر کا وقت سورج کے ڈھل جانے سے آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جانے تک (یعنی) عصر کا وقت داخل ہونے تک رہتا ہے۔ عصر کا وقت سورج زرد ہونے تک، مغر ب کا وقت سرخی غائب ہونے تک، عشا کی نماز کا وقت آدھی رات تک اور صبح کی نماز کا وقت طلوع فجر سے اس وقت تک رہتا ہے، جب تک سورج طلوع نہیں ہوجاتا۔ جب سورج طلوع ہو نے لگے تو نماز سے رک جاؤ؛ کیوں کہ وہ شیطان کی دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يحكي حديث عبد الله بن عمرو -رضي الله عنهما- مواقيت الصلاة، عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم-:

أولا: (وقت الظهر): وسميت به لفعلها وقت الظهيرة، وهو الأظهر، والمعنى أول وقته (إذا زالت الشمس) أي: مالت عن وسط السماء إلى جهة المغرب، ويكون ظهوره لنا بزيادة ظل الاستواء إلى جهة المشرق، (وكان) أي: وصار (ظل الرجل كطوله): أي: قريبا منه، إلى وقت العصر.
ثانيًا: قال -عليه الصلاة والسلام-: (ووقت العصر) أي: يدخل بما ذكر من ظل الرجل كطوله، ويستمر من غير كراهة (ما لم تّصْفَرَّ الشمس) المراد بهذا وقت الاختيار؛ لقوله -عليه الصلاة والسلام- في الصحيحين: «ومن أدرك ركعة من العصر قبل أن تغرب الشمس فقد أدرك العصر» أي: مؤداة، وفي رواية: "وقت العصر ما لم تغرب الشمس" وفي رواية لمسلم: "ما لم تصفر الشمس، وسقط قرنها الأول".
ثالثًا: (وقت صلاة المغرب) ذكر الصلاة في مواضع، وحذفها في آخر دلالة على جواز الإطلاقين (ما لم يغب) ما لم يسقط (الشفق) وهو الحمرة التي تلي الشمس بعد الغروب، وهذا يدل على امتداد وقت المغرب إلى سقوط الشفق، فلو سقط بعضه لا يدخل وقت العشاء، كما لا يدخل وقت المغرب بغروب بعض القرص.
رابعًا: (ووقت صلاة العشاء): أي: من عقيب الشفق إجماعا إلى نصف الليل الأوسط، والمراد به: وقت الاختيار أيضا، وأما وقت الجواز فيمتد إلى طلوع الفجر.   خامسًا: (ووقت صلاة الصبح من طلوع الفجر): أي: الصبح الصادق (ما لم تطلع الشمس): أي: شيء منها (فإذا طلعت) أي: أرادت الطلوع (فأمسك عن الصلاة) أي: اتركها (فإنها) أي: الشمس (تطلع بين قرني الشيطان) أي: جانبي رأسه؛ وذلك لأن الشيطان يرصد وقت طلوع الشمس، فينتصب قائما في وجه الشمس مستقبلا لمن سجد للشمس، لينقلب سجود الكفار للشمس عبادة له، فنهى النبي -صلى الله عليه وسلم- أمته عن الصلاة في ذلك الوقت؛ لتكون صلاةَ مَنْ عبد الله في غير وقت عبادة من عبد الشيطان.

593;بد اللہ بن عمرو سے کی حدیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ اوقات نماز بیان کر رہی ہے: اولاً: ظہر کا وقت: اس کا نام ظہر اس لیے رکھا گیا ہے؛ کیوں کہ اس کی ادائیگی دوپہر میں کی جاتی ہے۔ یہی راجح ہے۔ یہاں وقت سے مراد اول وقت ہے۔ ”جب سورج ڈھل جائے“ یعنی جب سورج آسمان کے درمیان سے مغرب کی طرف چلنا شروع کردے۔ اس کا اندازہ سایۂ اصلی کے مشرق کی سمت بڑھنے سے لگایا جا سکتا ہے۔ آدمی کا سایہ اس کی لمبائی جیسا ہو جائے یعنی اس کے قریب، عصر کے وقت تک۔
ثانیاً: آپ ﷺ نے فرمایا: عصر کا وقت آدمی کا سایہ اس کے برابر ہونے سے شروع ہوتا ہے اور اس وقت تک بلا کراہت جاری رہتا ہے، جب تک سورج زرد نہ ہو جائے۔ ”ما لم تّصْفَرَّ الشمس“ اس سے مراد وقت اختیار ہے جیسا کہ صحیحین میں رسول اللہ ﷺ سے وارد ہے کہ ”جس نے سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی، اس نے عصر کو پا لیا“۔ یعنی ادائیگی کے اعتبار سے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ”عصر کا وقت اس وقت تک ہے، جب تک سورج غروب نہیں ہوتا“۔ مسلم کی روایت ہے کہ ”جب تک سورج زرد نہیں ہوتا اور اس کا پہلا سینگ نہیں گر جاتا“۔
ثالثاً: مغرب کی نماز کا وقت؛ لفظِ صلاۃ کا ذکر کچھ جگہوں پر کیا گیا ہے اور کچھ جگہوں پر اسے حذف کر دیا گیا ہے؛ تاکہ دونوں اطلاقات کا جواز ملحوظ رکھا جائے۔ جب تک شفق ختم نہیں ہوجاتا۔ شفق سے مراد و ہ سرخی ہے، جو سورج کے غروب ہونے کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مغرب کا وقت شفق کے غائب ہونے تک دراز رہتا ہے۔ اگر شفق کا بعض حصہ غائب ہو گیا، تو عشا کا وقت شروع نہیں ہو گا، جیسا کہ سورج کا بعض حصہ غروب ہو جانے پر مغرب کا وقت شروع نہیں ہوتا۔
رابعاً: نماز عشاء کا وقت؛ بالاجماع عشاء کا وقت غروب شفق سے لے کر نصف رات تک رہتا ہے۔ یہاں بھی مراد وقت اختیار ہے۔ ورنہ وقت جواز طلوع فجر تک رہتا ہے۔
خامسا: صبح کی نماز کا وقت فجر کے طلوع ہونے پر شروع ہوتا ہے یعنی طلوع صبح صادق سے۔ جب تک سورج کا کچھ حصہ طلوع نہ ہو جائے۔ جب سورج طلوع ہونا شروع ہو جائے، تو نمازکی ادائیگی سے رک جاؤ۔ اس لیے کہ سورج شیطان کے سر کی دو جانبوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ یہ اس لیے کہا گیا ہے کہ شیطان طلوع آفتاب کے وقت کے انتظار میں رہتا ہے اور سورج کے سامنے، اس کی پرستش کرنے والوں کی طرف رخ کرکے سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے۔ تاکہ سورج کے لیے سجدہ گزاروں کے سجدے اس کی عبادت میں تبدیل ہو جائیں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے امت کو اس وقت نماز پڑھنے سے منع فرمادیا؛ تاکہ اللہ کے عبادت گزاروں کی نماز، شیطان کے عبادت گزاروں کی عبادت سے الگ وقت میں ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10596

 
 
Hadith   1661   الحديث
الأهمية: كنا نصلي المغرب مع النبي -صلى الله عليه وسلم-، فينصرف أحدنا وإنه ليبصر مواقع نبله


Tema:

ہم مغرب کی نماز نبی ﷺ کے ساتھ ادا کرتے اور جب ہم میں سے کوئی واپس پلٹتا تو (ابھی اتنا اجالا باقی ہوتا کہ) وہ اپنے تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا۔

عن رافع بن خَديج الأنصاري الأوسي -رضي الله عنه- قال: كنا نصلي المغرب مع النبي -صلى الله عليه وسلم-، فينصرف أحدنا وإنه لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ.

رافع بن خدیج انصاری اوسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ہم مغرب کی نماز نبی ﷺ کے ساتھ ادا کرتے اور جب ہم میں سے کوئی واپس پلٹتا تو (ابھی اتنا اجالا باقی ہوتا کہ) وہ اپنے تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان كثيرا ما يصلي المغرب في أول وقتها، فتبين أنه من السنة، والدليل على ذلك أنهم ينهون الصلاة، ولا يزال هناك بقية ضوء يرون به موقع سهامهم التي يرمونها.
581;دیث شریف اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ نبی ﷺ اکثر اوقات نمازِ مغرب کو اس کے اوّلِ وقت میں ادا کیا کرتے تھے۔ چنانچہ واضح ہوا کہ یہی سنت ہے۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ صحابہ کرام نماز پڑھ لیتے اور ابھی تک وہاں اتنی روشنی ہوتی کہ وہ اس میں اپنے تیروں کے گرنے کی جگہ دیکھ لیا کرتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10599

 
 
Hadith   1662   الحديث
الأهمية: إنه لوقتها لولا أن أشق على أمتي


Tema:

یہی (عشا کی نماز کا پسندیدہ) وقت ہے، اگر میں اپنی امت پر گراں نہ سمجھتا

أَعْتَمَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ليلة من الليالي بصلاة العشاء، وهي التي تُدْعَى العَتَمَةَ، فلم يخرج رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حتى قال عمر بن الخطاب: نام النساء والصبيان [وفي رواية: حتى ذهب عامَّة الليل]، فخرج رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقال لأهل المسجد حين خرج عليهم: «ما ينتظرها أحد من أهل الأرض  غَيْرُكُم»، وفي رواية: «إنه لوقتها لولا أن أشق على أمتي». وفي رواية: «لولا أن يُشَقَّ على أمتي»، وذلك قبل أن يفشوَ الإسلام في الناس.   قال ابن شهاب: وذُكِر لي: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، قال: وما كان لكم أَن تَنْزُرُوا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- على الصلاة، وذاكَ حِين صاح عمر بن الخطاب.

رسول اللہ ﷺ نے ایک رات عشا کی نماز میں تاخیر کر دی، یہ وہی نماز ہے جسے 'عتمہ' کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ دراصل رسول اللہ ﷺ نہیں نکلے حتیٰ کہ عمر رضی اللہ عنہ کو کہنا پڑا کہ عورتیں اور بچے سو گئے۔ (ایک روایت میں ہے کہ:یہاں تک کہ رات کا اکثر حصہ گزر گیا) پھر نبی کریم ﷺ (حجرے سے) تشریف لائے اور نکلتے ہی مسجد میں موجود لوگوں سے فرمایا: ”دیکھو روئے زمین پر اس نماز کا (اس وقت) تمھارے سوا اور کوئی انتظار نہیں کر رہا ہے“۔ اور ایک روایت میں ہے:”یہی اس (نماز) کا (پسندیدہ) وقت ہے، اگر میں اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا“۔ اور ایک روایت میں ہے: ”اگر یہ میری امت پر شاق نہ ہوتا“ یہ اسلام کے پھیلنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔
ابن شہاب کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جس وقت چلا کر رسول اللہ ﷺ کو نماز کی طرف متوجہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمھارے لیے مناسب نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول ﷺ کو نماز کے لیے کہو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الرسول صلى الله عليه وسلم في هذا الحديث وقت صلاة العشاء الفاضل وهو آخر الثلث الأول من الليل ، ولكنه عليه السلام لم يكن يصليها دائماً في هذا الوقت رحمةً بأمته وخشية أن يشق على أمته بهذا الأمر.
585;سول ﷺ نے اس حدیث میں نمازعشا کا افضل وقت بیان فرمایا ہے اوروہ رات کے ابتدائی تہائی حصے کا آخری جز ہے۔ لیکن آپ ﷺ نے عشا کی نماز ہمیشہ افضل وقت میں ادا نہیں کی، اپنی امت پر مہربانی کی وجہ سے اور اس ڈر سے کہ یہ آپ کی امت پر مشقت کا باعث ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10600

 
 
Hadith   1663   الحديث
الأهمية: أصبحوا بالصبح؛ فإنه أعظم لأجوركم، أو أعظم للأجر


Tema:

فجر کے ساتھ صبح کرو کیوں کہ یہ تمہارے اجر کے لیے بہت عظیم ہے۔ یا اجر کے اعتبار سے بہت عظیم ہے۔

عن رافع بن خديج -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أَصْبِحُوا بالصبح؛ فإنه أعظم لِأُجُورِكُم، أو أعظم للأجر».

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فجر کے ساتھ صبح کرو کیوں کہ یہ تمہارے اجر کے لیے بہت عظیم ہے۔ یا اجر کے اعتبار سے بہت عظیم ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أمرنا النبي -صلى الله عليه وسلم- أن نصلي صلاة الصبح إذا دخل الصبح، ثم علل -صلى الله عليه وسلم- ذلك بأنه أعظم في الأجر؛ لتيقن دخول وقت الصبح.
606;بی کریم ﷺ نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ جب صبح ہو تو اس کا آغاز نمازِ فجر کے ساتھ ہو۔ اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اجر کے اعتبار سے یہ بہت عظیم پایے کی چیز ہے جس سے صبح کے وقت میں داخل ہونے کا یقین بھی ہوجاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10601

 
 
Hadith   1664   الحديث
الأهمية: من أدرك من الصبح ركعة قبل أن تطلع الشمس فقد أدرك الصبح، ومن أدرك ركعة من العصر قبل أن تغرب الشمس فقد أدرك العصر


Tema:

جس نے طلوعِ آفتاب سے پہلے فجر کی ایک رکعت پا لی تو اس نے نمازِ فجر پا لی اور جس نے غروبِ آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لی تو گویا اس نے عصر کی نماز پا لی۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال:«مَنْ أَدْرَكَ مِن الصُّبح ركعة قبل أن تَطْلُعَ الشمس فقد أَدْرَكَ الصُّبح، ومن أَدْرَكَ ركعة من العصر قبل أن  تَغْرُبَ الشمس فقد أَدْرَكَ العصر».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”جس نے طلوع آفتاب سے پہلے فجر کی ایک رکعت پا لی تو اس نے نمازِ فجر پا لی اور جس نے غروبِ آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لی تو گویا اس نے عصر کی نماز پا لی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بيَّن النبي -صلى الله عليه وسلم- لأمته آخر وقت صلاتي الصبح والعصر، فأخبر أن من أدرك ركعة، أي: صلى ورفع من الركوع من صلاة الصبح قبل أن تطلع الشمس، فيكون بذلك قد أدرك صلاة الصبح أداء؛ لوقوع ركعة في الوقت، وكذلك من أدرك ركعة من صلاة العصر قبل أن تغرب الشمس، فيكون بذلك قد أدرك صلاة العصر أداء؛ لوقوع ركعة في الوقت.
575;س حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو دو نمازوں، نماز فجر اور عصر کے آخری وقت کی نشاندہی فرمائی ہے۔ آپﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ جس نے ایک رکعت پا لی یعنی جس نے نماز فجر شروع کی اور طلوع آفتاب سے پہلے پہلے رکوع سے اٹھ گیا تو اس کے وقت میں ایک رکعت کو پا لینا وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے نماز فجر اپنے وقت میں ادا کی۔ اسی طرح جس نے غروب آفتاب سے پہلے پہلے نمازِ عصر کی ایک رکعت پا لی تو اس کے وقت میں ایک رکعت کو پا لینا ایسے ہی ہے جیسے اس نے عصر کی نماز کو اپنے وقت میں ادا کی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10602

 
 
Hadith   1665   الحديث
الأهمية: لا صوم في يومين: الفطر والأضحى، ولا صلاة بعد الصبح حتى تطلع الشمس، ولا بعد العصر حتى تغرب، ولا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد: مسجد الحرام، ومسجد الأقصى، ومسجدي هذا


Tema:

عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دنوں میں کوئی روزہ نہیں، صبح کی نماز کے بعدسوج نکلنے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئی نماز نہیں اور چوتھی بات یہ ہے کہ تین مساجد کے سوا اور کسی جگہ کے لیے رخت سفر نہ باندھا جائے؛ مسجد حرام، مسجد اقصی اورمیری یہ مسجد (مسجد نبوی)۔

عن أبي سعيد الخُدْرِي -رضي الله عنه- وكان غَزَا مع النبي -صلى الله عليه وسلم- ثِنْتَي عَشْرَة غَزْوَة، قال: سمعت أرْبَعا من النبي -صلى الله عليه وسلم- فَأَعْجَبْنَنِي قال: لا تسافر المرأة مَسِيرَة يومين إلا ومعها زوجها أو ذو مَحْرَم، ولا صوم في يَوْمَيْنِ: الفِطْرِ وَالأَضْحَى، ولا صلاة بعد الصُّبح حتى تَطْلُعَ الشمس، ولا بعد العصر حتى تغرب، ولا تُشَدُّ الرِّحَالُ إلا إلى ثلاثة مساجد: مسجد الحرام، ومسجد الأَقْصَى، ومَسْجِدِي هذا.

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺکے ساتھ بارہ غزوات میں شریک تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے چار باتیں سنی ہیں، جو مجھے بہت ہی زیادہ پسند آئیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ کوئی عورت دو دن ( یا اس سے زیادہ ) کا سفر اس وقت تک نہ کرے، جب تک اس کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی محرم نہ ہو، عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دنوں میں کوئی روزہ نہیں، صبح کی نماز کے بعدسوج نکلنے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئی نماز نہیں اور چوتھی بات یہ ہے کہ تین مساجد کے سوا اور کسی جگہ کے لیے رخت سفر نہ باندھا جائے؛ مسجد حرام، مسجد اقصی اور میری یہ مسجد(مسجد نبوی)۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر الراوي عن أبي سعيد -رضي الله عنه- أنَّ أبا سعيد الخدري -رضي الله عنه- غزا مع النبي -صلى الله عليه وسلم- ثِنْتَي عَشْرَة غَزْوَة.
قال أبو سعيد: سمعت أرْبَعا من النبي -صلى الله عليه وسلم- فَأَعْجَبْنَنِي، يعني: أنَّ أبا سعيد -رضي الله عنه-  سمع من النبي -صلى الله عليه وسلم- حديثا فيه أربعة أحكام، فأعْجَبَته -رضي الله عنه-:  
الحكم الأول : "قال: لا تسافر المرأة مَسِيرَة يومين إلا ومعها زوجها أو ذو مَحْرَم" أي: لا يجوز للمرأة أن تسافر بلا مَحْرَم، والمحرم هو: زوجها أو من تَحرم عليه على التأبيد، كالأب والجَدِّ والابن والأخ والعَم والخال، ومسيرة يومين تقدر بثمانين كيلو مترًا، وفي رواية: "لا يحل لامرأة تسافر مسيرة يوم وليلة إلا مع ذي محرم عليها"، وفي رواية "مسيرة يوم" وفي رواية "مسيرة ليلة" وفي رواية "لا تسافر امرأة مسيرة ثلاثة أيام إلا مع ذِي محرم" وفي رواية لأبي داود "بريدا"، قال النووي -رحمه الله-: (ليس المُراد من التَّحديد ظاهره، بل كل ما يُسمى سفرًا فالمرأة مَنْهِية عنه إلا بالمَحرم، وإنما وقع التَّحديد عن أمر واقع فلا يُعمل بمفهومه).
وهذا إذا لم يكن لسفرها ضرورة، فإن كان ضرورة جاز لها السَّفر، كما لو أسْلَمت في دار الكفر أو في دار الحرب وخَشِيَت على نفسها البَقاء بين الكفار، ففي هذه الحال يجوز لها السفر لوحدها.
الحكم الثاني: "ولا صوم في يَوْمَيْنِ: الفِطْرِ وَالأَضْحَى".
أي: لا يجوز صوم يوم عيدِ الفِطر أو الأضحى، سواء عن قضاء ما فَاته أو عن نَذر، فلو صامهما أو أحدهما لم يجزئه ويأثم بفعله إن كان متعمدا. وقد جاء في الحديث: (نهى عن صيام هذين اليومين، أما يوم الأضحى فتأكلون من لحم نسككم، وأما يوم الفطر ففطركم من صيامكم) فَعِلة المَنع يوم الأضحى: لأجل الذَّبح والأكل من الهَدي والأضاحي، وقد شُرع للناس أن يأكلوا من الهدي والأضاحي فلا يَنشغلوا بالصيام عن الذبح والأكل التي هي من شعائر الإسلام والظاهرة، وأما علة النهي في عيد الفطر: فهو على اسمه، ومن شأنه أن يكون الإنسان فيه مُفطرا، لا أن يكون صائما، وأيضًا فيه تَمييز، وفَصل بين شهر رمضان وشوال فَوجب إفطاره.
الحكم الثالث: "ولا صلاة بعد الصُّبح".
ظاهر الحديث: عدم جواز صلاة التطوع بعد طلوع الفجر، لكن هذا الظاهر غير مراد؛ لأن النصوص الأخرى دالة على استحباب ركعتي الفجر بعد طلوع الفجر، وهو أمر مجمع عليه، ولا تجوز الصلاة بعد صلاة الفجر. ويدل لهذا القَيد رواية أبي سعيد عند البخاري: "ولا صلاة بعد صلاتين بعد العصر حتى تَغرب الشمس، وبعد الصُّبح حتى تَطلع الشَّمس" وفي رواية لمسلم: "لا صلاة بعد صلاة الفجر".
"ولا بعد العَصر حتى تَغرب" أي: حتى تغرب الشمس، فإذا صلى الإنسان صلاة العصر أمْسَك عن صلاة التطوع، أما قضاء الفوائت، فلا ينهى عنها بعد العَصر؛ لوجوب المسارعة في إبراء الذمة.
الحكم الرابع : "ولا تُشَدُّ الرِّحَالُ إلا إلى ثلاثة مساجد: مسجد الحرام، ومسجد الأَقْصَى، ومَسْجِدِي هذا" أي: لا يُنشئ الإنسان سفرًا إلى بقعة من بقاع الأرض بقصد التَّقرب إلى الله -عز وجل- فيها، أو من أجل مِيزتها وفضلها وشرفها إلا إلى هذه المساجد الثلاثة، فلا بأس من إنشاء السَّفر إليها، بنص الحديث.
585;اوی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ بارہ غزوات میں شرکت کی تھی۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ سے چار باتیں سنی ہیں، جو مجھے بہت اچھی لگیں، یعنی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریمﷺ سے ایک حدیث سنی، جس میں چار احکام بیان کیے گئے، جو ان کو بہت اچھے لگے تھے۔
پہلا حکم: آپﷺ نے فرمایا کہ کوئی عورت دو دن ( یا اس سے زیادہ) کا سفر اس وقت تک نہ کرے، جب تک اس کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی محرم نہ ہو، یعنی کسی بھی عورت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ بغیر محرم کے سفرکرے۔ محرم سے مراد اس کا خاوند یا ایسے افراد ہیں، جن کے ساتھ ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو۔ جیسے باپ، دادا، بیٹا، بھائی، چچا اور ماموں۔ دو دن کے سفر کی مقدار تقریباً اسی کلو میٹر کے برابر ہے۔ البتہ ایک اور روایت میں ہے:”کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ بغیر محرم کے ایک دن رات کا سفر کرے“۔ ایک روایت میں ہے: ”ایک دن کا سفر“ ایک روایت میں ہے: ”ایک رات کا سفر“ ایک روایت میں ہے: ”کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ تین دن کا سفر بغیر محرم کے کرے“۔ اور ابو داؤد کی ایک روایت میں ہے: "بريدا" (ایک برید) امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تحدید سے مراد اس کا ظاہر نہیں ہے۔ بلکہ جسے بھی سفر سے موسوم کیا جائے، عورت اسے بغیر محرم کے نہیں کر سکتی۔ تحدید محض الگ الگ واقعات کے سلسلے میں وارد ہوئی ہے، اس لیے اس کے مفہوم پر عمل نہیں کیا جائے گا۔
البتہ یہ حکم اس سفر کا ہے، جو بلا ضرورت ہو۔ اگر سفر کرنا ضروری ہو تو جائز ہوگا۔ مثلا کوئی عورت دار الکفر یا دار الحرب میں اسلام قبول کر لے اور اس کو وہاں کفار کے درمیان رہنے میں جان کا خطرہ محسوس ہو، تو ایسی صورت میں اس کے لیے تنہا سفر کرنا جائز ہوگا۔
دوسرا حکم: ”دو دنوں میں روزہ رکھنا جائز نہیں؛ عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ“۔
یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنا جائز نہیں ہے؛ چاہے روزہ کسی فوت شدہ روزے کی قضا کا ہو یا نذر کا۔ اگر کوئی ان دو دنوں میں یا ان میں سے کسی ایک دن روزہ رکھ لے، تو روزہ درست نہیں ہوگا، بلکہ جان بوجھ کر ایسا کرنے کی صورت میں گنہ گار ہوگا۔ ایک حدیث میں ہے: ان دو دنوں کے روزے سے منع کیا گیا ہے؛ ایک عیدالاضحیٰ کا کہ اس دن تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو اور ایک عیدالفطر کا کہ اس دن تم اپنے روزے کا فطرانہ دیتے ہو۔ عید الاضحیٰ کے دن روزے سے اس لیے منع کیا گیا ہے؛ کیوں کہ اس دن قربانی کی جاتی ہے، اور قربانیوں کا گوشت کھایا جاتا ہے۔ لوگوں کے لیے مشروع کیا گیا ہے کہ وہ اس دن قربانی کا گوشت کھائیں اور روزہ رکھ کر قربانی کرنے اور گوشت کھانے سے خود کو محروم نہ کریں؛ کیوں کہ یہ قربانی شعائر اسلام میں سے ایک شعار ہے۔ جب کہ عیدالفطر کے دن منع کرنے کا سبب خود اس کے نام سے ظاہر ہے۔ اس کے نام ہی سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ انسان اس دن افطار کی حالت میں ہو، روزے کی حالت میں نہیں۔ نیز عید کا دن رمضان اور شوال کے مہینوں کے درمیان امتیاز کرتا ہے، اس لیے اس دن روزے سے پرہیز ضروری ہے۔
تیسرا حکم: ”فجر کے بعد کوئی نماز نہیں“ حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ طلوع فجر کے بعد نفلی نماز کی ادائیگی کی اجازت نہیں ہے، لیکن یہاں ظاہری معنی مراد نہیں۔ کیوں کہ دیگر نصوص فجر کے بعد فجر کی سنتیں ادا کرنے کے استحباب پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ متفق علیہ مسئلہ ہے۔ البتہ نماز فجر کے بعد کوئی نماز جائز نہیں۔ اس قید کی دلیل ابو سعید رضی اللہ عنہ کی بخاری میں موجود روایت ہے: ”دو نمازوں کے بعد کوئی نماز نہیں؛ عصر کے بعد، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے اور فجر کے بعد، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔ مسلم کی ایک روایت میں ہے : ”نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں“۔
”اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے“، چنانچہ جب انسان عصر کی نماز پڑھ لے، تو نفل نماز سے رک جائے۔ ہاں! اگر کوئی فوت شدہ نماز ہو، تو اسے ادا کرنے میں کوئی ممانعت نہیں؛ کیوں کہ واجب کو ادا کرنے میں جلدی کرنا ضروری ہے۔
چوتھا حکم: ”تین مساجد کے سوا اور کسی جگہ کے لیے رخت سفر نہ باندھا جائے؛ مسجد حرام، مسجد اقصی او رمیری یہ مسجد“ یعنی انسان اللہ کے قرب کے حصول کی نیت سے یا کسی خصوصیت یا فضل و شرف کی بنیاد پر، روئے زمین کے کسی بھی حصے کا سفر کرے، سوائے مذکورہ تین مساجد کے۔ ان کی طرف سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں؛ کیوں کہ نص حدیث میں اس کی تصریح موجود ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10603

 
 
Hadith   1666   الحديث
الأهمية: ثلاث ساعات كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ينهانا أن نصلي فيهن، أو أن نقبر فيهن موتانا: حين تطلع الشمس بازغة حتى ترتفع، وحين يقوم قائم الظهيرة حتى تميل الشمس، وحين تضيف الشمس للغروب حتى تغرب


Tema:

تین اوقات ہیں، رسول اللہ ﷺ ہمیں روکتے تھے کہ ہم ان میں نماز پڑھیں یا اپنے مردوں کو قبروں میں اتاریں؛ جب سورج چمکتا ہوا طلوع ہورہا ہو، یہاں تک کہ وہ بلند ہوجائے، جب دوپہر کو ٹھہرنے والا (سایہ) ٹھہر جائے، حتیٰ کہ سورج (آگے کو) جھک جائے اور جب سورج غروب ہونے کے لیے جھک جائے، یہاں تک کہ وہ (پوری طرح) غروب ہوجائے۔

عن عُقبة بن عامر الجُهَنِي -رضي الله عنه- قال: ثلاث ساعات كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يَنهَانا أن نُصَلِّي فيهن، أو أن نَقْبُر فيهن مَوْتَانَا: «حِين تَطلع الشَّمس بَازِغَة حتى ترتفع، وحِين يقوم قَائم الظَّهِيرة حتى تَميل الشَّمس، وحين تَضيَّف الشمس للغُروب حتى تَغرب».

عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تین اوقات ہیں، رسول اللہ ﷺ ہمیں روکتے تھے کہ ہم ان میں نماز پڑھیں یا اپنے مردوں کو قبروں میں اتاریں؛ جب سورج چمکتا ہوا طلوع ہورہا ہو، یہاں تک کہ وہ بلند ہوجائے، جب دوپہر کو ٹھہرنے والا (سایہ) ٹھہر جائے، حتیٰ کہ سورج (آگے کو) جھک جائے اور جب سورج غروب ہونے کے لیے جھک جائے، یہاں تک کہ وہ (پوری طرح) غروب ہوجائے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر عقبة -رضي الله عنه- عن ثلاث ساعات كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يَنهَى الصحابة أن يصلوا فيهن، أو أن يقْبُروا فيهن المَوْتى، والمراد بالساعات هنا: الأوقات، يعني ثلاثة أوقات نهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن الصلاة والدفن فيها، وهو وقت النهي المضيق والمغلظ:
الوقت الأول: حِين تَطلع الشَّمس بَازِغَة حتى ترتفع، يعني: تطلع في الأفق نَقِيَّة بأشِعَّتِها، ونُورها حتى ترتفع في الأُفُق، وقد جاء في رواية أخرى مقدار الارتفاع، وأنه قِيْد رُمح، وفي رواية: (فترتفع قَيْسَ رُمْح أو رُمْحين) كما في أبي داود من حديث عمرو بن عَبَسَة -رضي الله عنه-، والرُّمح معروف عند العرب، وهو السلاح الذي كانوا يستخدمونه في معاركهم.
والثاني: حِين يقوم قائم الظَّهِيرة، أي: حِين تتوسط الشمس كَبد السماء، وإذا بَلغَت وسط السماء أبطأت حَركة الظِّل إلى أن تزول، فيتخيَّل النَّاظر المتأمل أنها واقِفة وهي سائرة، إلا أن سَيرها بِبطء، فيُقال لذلك الوقوف المُشاهد: "قائم الظهيرة"، فهذا الوقت تمنع فيه صلاة التطوع، حتى تَميل الشَّمس، أي: عن وسَط السَّماء، ويظهر الظِّل من جهة المشرق، وهذا ما يسمى بِفَيء الزَّوال.
وهذ الوقت قصير، وقد قَدَّرَه بعض العلماء بخمس دقائق، وبعضهم بعشر دقائق.
والثالث: حين تَضيَّف الشمس للغُروب حتى تَغْرب، أي: تشرع وتبدأ في الغروب ويستمر النَّهي حتى تَغْرب.  
فهذه ثلاثة أوقات يُنهى فيها عن أمرين:
الأمر الأول: صلاة النافلة ولو كانت من ذوات الأسباب؛ كتحية المسجد، وركعتي الوضوء، وصلاة الكسوف؛ لعموم الحديث، أما الفريضة فلا تحرم في أوقات النَّهي مع أن الحديث عام، إلا أن عمومه خُص بحديث أبي قتادة -رضي الله عنه-: (من نام عن صلاة أو نسيها فليصلها إذا ذكرها). متفق عليه.
الأمر الثاني: دَفن الأموات.
فلا يجوز دَفن الميِّت في وقت النهي، فلو جِيء بميت إلى المقبرة في أوقات النَّهي الثلاثة، فيُنتظر به، حتى يخرج وقت النهي ثم يُدْفَن، أما لو شرعوا في دَفن الميت قبل طلوع الشمس وتأخر الدَّفن لعارض، ثم طلعت عليهم الشمس وهم يدفنون، فإنهم يستمرون ولا يتوقفون، أو أنهم شرعوا في الدَّفن قبل الزوال، ثم إنهم تأخروا لعارض، ثم صادف وقت النهي وهم يدفنون الميِّت، فإن يستمرون ولا يتوقفون، أو شرعوا في الدَّفن بعد صلاة العصر، ثم تأخروا في الدَّفن لعارض فصادف وقت النهي وهم يدفنون، فإنهم يستمرون ولا يتوقفون؛ لأنهم لم يقصدوا الدَّفن في هذه الأوقات المَنْهي عنها، كمن صلى نافلة ثم دخل وقت النهي وهو فيها فإنه يتمها، والقاعدة عند العلماء -رحمهم الله-: يغتفر في الدَّوام ما لا يُغتفر في الابتداء.
593;قبہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ تین گھڑیوں میں رسول اللہﷺنے صحابہ کو نماز پڑھنے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرمایا ہے۔ یہاں گھڑیوں (ساعات) سے مراد اوقات ہیں۔ یعنی ان تین اوقات میں رسو ل اللہ ﷺ نے نماز اور تدفین سے منع کیا ہے:
پہلا وقت: جب سورج طلوع ہو رہا ہو، یہاں تک کہ اچھی طرح ظاہر اور بلند ہو جائے اور اس کی روشنی افق پر پھیل جائے۔ ایک روایت میں ہے کہ سورج ایک نیزے کے برابر اونچا ہوجائے۔ جب کہ ایک روایت میں ہے کہ سورج ایک نیزہ یا دونیزے کے برابر بلند ہو جائے، یہ روایت ابوداؤد میں عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ ’رمح‘(نیزہ) اہل عرب کے یہاں معروف ہے۔ یہ ایک ہتھیار ہے جسے وہ اپنی جنگوں میں استعمال کرتے تھے۔
دوسرا وقت: جس وقت سورج آسمان کے درمیان میں پہنچ جائے۔ جب سورج وسط آسمان میں پہنچ جاتا ہے، تو اس کے ڈھلنے تک سایے کی حرکت سست پڑ جاتی ہے، چںانچہ غور سے دیکھنے والے کو لگتا ہے کہ حرکت رکی ہوئی ہے، حالاں کہ وہ جاری ہوتی ہے، البتہ وہ دھیمی ہوتی ہے، اسی مشاہداتی ٹھہراؤ کو "قائم الظھیرۃ" کہا جاتا ہے۔ اس وقت نفل نماز پڑھنا ممنوع ہے، جب تک سورج درمیان آسمان سے مغرب کی طرف جھک نہ جائے اور مشرق کی طرف سایہ نمودار نہ ہوجائے۔ اسی کو "فئ زوال" کہا جاتا ہے۔ یہ وقت مختصر ہوتا ہے۔ بعض علما نے تانچ منٹ اور بعض نے دس منٹ کہا ہے۔
تیسرا وقت: جب سورج غروب ہونے لگے، اس وقت سے سورج غروب ہونے تک۔
یہ تین اوقات ہیں، جن میں دو کام ممنوع ہیں:
پہلا کام: نفل نماز پڑھنا، اگرچہ نفل"ذوات الاسباب" میں سے ہو۔ جیسے تحیۃ المسجد، تحیۃ الوضوء اور نماز کسوف۔ کیوں کہ حدیث عام ہے۔ جب کہ عموم حدیث کے باوجود ان اوقات میں فرائض کی ادائیگی حرام نہیں ہے؛ کیوں کہ اس بات کا عموم ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے خاص ہو جاتا ہے، جس میں ہے: ”جو نماز کے وقت سو جائے یا بھول جائے، تو جب یاد آئے، پڑھ لے“۔متفق علیہ۔
دوسرا کام: مردوں کو دفنانا۔ ان ممنوعہ اوقات میں میت کی تدفین جائز نہیں۔ اگر میت ان تین ممنوعہ اوقات میں قبرستان پہنچ گئی ہو تو انتظار کیا جائے گا اور ممنوع وقت نکلنے کے بعد ہی تدفین کی جائے گي۔ البتہ اگر سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی تدفین کا عمل شروع ہو جائے، لیکن کسی عارض کی وجہ سے تدفین میں دیر ہو جائے اور دوران تدفین ہی سورج طلوع ہو جائے تو تدفین کا عمل جاری رہے گا، رکنے کی ضرورت نہیں۔ یا زوال سے پہلے تدفین کا عمل شروع ہو جائے، لیکن کسی عارض کی وجہ سے تدفین میں دیر ہو جائے اور دوران تدفین ہی ممنوعہ وقت آجائے تو تدفین کا عمل جاری رہے گا، رکنے کی ضرورت نہیں۔ اسی اگر عصر کی نماز کے بعد تدفین کا عمل شروع ہو جائے، لیکن کسی عارض کی وجہ سے تدفین میں دیر ہو جائے اور دوران تدفین ہی ممنوعہ وقت آجائے تو تدفین کا عمل جاری رہے گا، رکنے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ ان ممنوعہ اوقات میں تدفین کا ارادہ نہیں تھا۔ جیسے کسی نے نفل نماز شروع کی اور نماز ہی میں تھا کہ ممنوعہ وقت داخل ہوگیا، تو نماز مکمل کرے گا۔ علما کے یہاں قاعدہ ہے: اس عمل کا جاری رکھنا قابل درگزر ہے، جس کا شروع کرنا قابل درگزر نہیں ہوتا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10604

 
 
Hadith   1667   الحديث
الأهمية: لا تمنعوا أحدا يطوف بهذا البيت، ويصلي أي ساعة شاء من ليل أو نهار


Tema:

اس گھر (کعبہ) کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے کسی کو مت روکو، رات اور دن کے جس حصہ میں بھی وہ کرنا چاہے کرنے دو۔

عن جُبير بن مُطعم -رضي الله عنه- مرفوعًا: «لا تَمْنَعُوا أحدًا يطوف بهذا البيت، ويصلي أي سَاعة شاء من لَيل أو نَهار».

جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”اس گھر (کعبہ) کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے کسی کو مت روکو، رات اور دن کے جس حصہ میں بھی وہ کرنا چاہے کرنے دو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الخطاب في هذا الحديث لمن يتولى شؤون الحرم، وكانوا في العهد النبوي من بني عبد مناف، يقول: ليس لكم الحق في منع أحد من الناس من الطواف بالبيت، أو الصلاة فيه في أي وقت شاء من ليل أو نهار، والصلاة هنا ركعتي الطواف، وهو كذلك يَعُمُّ جميع الأوقات بما في ذلك أوقات النَّهي عن الصلاة.
575;س حدیث میں حرم کے متولیوں سے خطاب ہے۔ آپ ﷺ کے دور میں اس کے متولی بنی عبد مناف تھے۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ دن و رات کسی بھی وقت جو شخص یہاں طواف کرنا چاہے یا نماز پڑھنا چاہے تمہیں اسے روکنے کا حق نہیں۔ یہاں پر نماز سے مُراد طواف کے دو رکعت ہیں۔ وہ تمام اوقات کو شامل ہیں اس لیے کہ اس نماز کے لیے کوئی وقت ممنوع نہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10607

 
 
Hadith   1668   الحديث
الأهمية: الفجر فجران: فأما الفجر الذي يكون كذنب السرحان فلا تحل الصلاة فيه ولا يحرم الطعام، وأما الذي يذهب مستطيلا في الأفق فإنه يحل الصلاة، ويحرم الطعام


Tema:

فجر دو طرح کی ہوتی ہے: ایک وہ جو بھیڑیے کی دم کی طرح (اوپر اٹھی) ہوتی ہے۔ اس میں نماز (فجر) پڑھنا جائز نہیں اور کھانا (سحری) کھانا حرام نہیں۔ دوسری وہ فجر ہے جو اُفق کے ساتھ ساتھ پھیلی ہوتی ہے۔ اس میں ںماز (فجر) پڑھنا جائز ہے اور کھانا (سحری) کھانا حرام ہے۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: الفجر فَجْرَانِ: فأما الفَجْر الذي يكون كَذَنَبِ السِّرْحَانِ فلا تَحِلُّ الصلاة فيه ولا يٌحْرِّم الطعام، وأما الذي يذهب مُسْتَطِيلًا فِي الأُفُق فإنه يُحِلُّ الصلاة، ويُحْرِّم الطعام.

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فجر دو طرح کی ہوتی ہے: ایک وہ جو بھیڑیے کی دُم کی طرح (اوپر اٹھی) ہوتی ہے۔ اس میں نماز (فجر) پڑھنا جائز نہیں اور کھانا (سحری) کھانا حرام نہیں۔ دوسری وہ فجر ہے جو اُفق کے ساتھ ساتھ پھیلی ہوتی ہے۔ اس میں ںماز(فجر) پڑھنا جائز ہے اور کھانا (سحری) کھانا حرام ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قسم النبي -صلى الله عليه وسلم- الفجر من حيث الحكم إلى قسمين:
الفجر الأول: ويقال له الفجر الكاذب، يرتفع في السماء كالعمود، فهو كذنب السرحان؛ لأن ذَنَبه يمتد مرتفعا، فهو يشبه ذَنب الذئب في امتداده إلى أعلى الأفق، ثم إنه يذهب وتعقبه ظُلمة، فهذا الفجر لا تَحل فيه الصلاة، أي صلاة الفجر ويَحل فيه الأكل والشرب للصائم، أي لمن بَيَّت نية الصوم؛ لأنه ليس الفجر الحقيقي الذي تَحل به صلاة الفجر ويمتنع فيه الصائم من الأكل والشرب.
والفجر الثاني: ويقال له الفجر الصادق، هو الذي يكون مستطيلا، أي: ممتدا في الأفق من الشمال إلى الجنوب، ولا ظُلمة بعده، بل يَزداد نُوره شيئا فشيئا، حتى ينتشر في الأُفق، فهذا الذي تَحل فيه صلاة الفجر ويحرم فيه الأكل والشرب على الصائم.
والفرق بين الفجرين من حيث الزَّمن يتفاوت، يطول أحيانا، ويقصر أحيانا، ولا يظهر الكاذب أحيانا.
وخلاصة الفروق بين الفجرين: أن الفجر الصادق يمتد من الشمال إلى الجنوب، والكاذب بالعكس.
الثاني: الفجر الصَّادق لا ظُلمة بعده، والكاذب تتبعه ظُلمة.
الثالث: الصَّادق نُوره متصل بالأفُق، وهذا مُنفصل.
وهذه الفروق الثلاثة من الناحية الكونية القَدرية، أما من الناحية الشرعية العملية، فإن الفجر الكاذب لا تَحل فيه الصلاة، أي: صلاة الفجر ويَحل فيه الأكل والشُّرب لمن عَزم على الصوم، أما الفجر الصادق بالعكس، فتَحل فيه الصلاة أي: صلاة الفجر ويحرم الأكل والشرب على الصائم.
581;کم کے اعتبار سے نبی ﷺ نے فجر کو دو قسموں میں تقسیم کیا:
پہلی فجر: اسے فجر کاذب بھی کہا جاتا ہے۔ یہ آسمان میں ستون کی طرح بلند ہوتی ہے اور ایسے لگتا ہے جیسے بھیڑیے کی دُم ہو کیونکہ بھیڑیے کی دُم اوپر کی طرف اٹھی ہوتی ہے۔ چنانچہ صبحِ کاذب اُفق کے اوپری جانب لمبائی کے رُخ پھیلے ہونے میں بھیڑیے کی دُم جیسی ہوتی ہے۔ پھر یہ غائب ہوجاتی ہے اور اس کے بعد تاریکی چھا جاتی ہے۔ اس فجر میں نماز جائز نہیں ہے یعنی نمازِ فجر پڑھنا درست نہیں ہے تاہم اس میں روزہ دار کے لیے کھانا پینا جائز ہے۔ یعنی جو شخص رات سے ہی روزے کی نیت کرے۔ کیونکہ یہ وہ حقیقی فجر نہیں ہوتی جس کے طلوع ہونے پر نماز فجر پڑھنا جائز ہو جاتا ہے اور روزے دار کے لیے کھانا پینا ممنوع ہوجاتا ہے۔
دوسری فجر: اسے فجرِ صادق بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ ہوتی ہے جو لمبائی میں پھیلی ہوتی ہے یعنی اُفق پر شمال جنوب میں پھیلی ہوتی ہے اور اس کے بعد تاریکی نہیں آتی بلکہ روشنی میں درجہ بدرجہ اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ افق پر پوری طرح پھیل جاتی ہے۔ یہ وہ فجر ہے جس کے طلوع ہونے کے ساتھ نماز فجر پڑھنا جائز ہو جاتا ہے اور اس کے بعد روزہ دار کے لیے کھانا پینا ممنوع ہوتا ہے۔
دونوں اقسام کی فجر کے مابین وقت کے اعتبار سے جو فرق ہوتا ہے وہ مختلف ہوتا ہے۔ کبھی تو یہ لمبا ہوتا ہے اور کبھی مختصر اور کبھی فجر کاذب کا ظہور ہی نہیں ہوتا۔
دونوں اقسام کی فجر کے مابین جو فرق پائے جاتے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ:
اول: فجرِ صادق شمال سے جنوب کی طرف پھیلی ہوتی ہے جب کہ فجر کاذب اس کے برعکس ہوتی ہے۔
دوم: فجرِ صادق کے بعد تاریکی نہیں آتی جب کہ فجر کاذب کے بعد تاریکی آتی ہے۔
سوم: فجرِ صادق کی روشنی افق کے ساتھ ملی ہوتی ہے جب کہ فجرِ کاذب کی روشنی اس سے الگ ہوتی ہے۔
یہ تین فرق تو وہ ہیں جو کائناتی اور تقدیری اعتبار سے ہیں۔ شرعی اور عملی اعتبار سے ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ فجرِ کاذب میں نماز یعنی نماز فجر جائز نہیں ہوتی اور اس میں اس روزہ دار کے لیے کھانا پینا جائز ہوتا ہے جس نے روزہ کی نیت کر رکھی ہو۔ جب کہ فجرِ صادق کے طلوع ہونے پر معاملہ برعکس ہوتا ہے یعنی اس میں نماز یعنی نماز فجر پڑھنا جائز ہو جاتا ہے جب کہ روزہ دار کے لیے کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10609

 
 
Hadith   1669   الحديث
الأهمية: ليبلغ شاهدكم غائبكم، لا تصلوا بعد الفجر إلا سجدتين


Tema:

تم میں سے جو موجود ہیں، وہ ان لوگوں کو بتا دیں، جو موجود نہیں ہیں کہ فجر کے طلوع ہونے کے بعد دو رکعت (سنت) کے علاوہ کوئی اور (نفل) نماز نہ پڑھیں۔

عن يسار مَولى ابن عمر قال: رَآني ابن عمر وأنا أصلِّي، بعد طلوع الفَجر، فقال: يا يَسار، إن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- خرج علينا ونحن نُصلِّي هذه الصلاة، فقال: «لِيُبَلِّغْ شِاهِدُكُم غَائِبَكم، لا تُصلُّوا بعد الفجر إلا سَجْدَتَيْن».

یسار جو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں، سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے طلوع فجر کے بعد (نفل) نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو کہا: اے یسار! ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، تو ہم ایسی ہی نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو موجود ہیں، وہ ان لوگوں کو بتا دیں، جو موجود نہیں ہیں کہ فجر کے طلوع ہونے کے بعد دو رکعت (سنت) کے علاوہ کوئی اور (نفل) نماز نہ پڑھیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
رأى عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- يسارا، وهو مولاه، أي: كان عبدًا له فأعتقه، رآه يصلي نافلة بعد طلوع الفجر وقبل الصلاة، ولعله زاد على ركعتين، فقال: "يا يَسار، إن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- خَرج علينا ونحن نُصلِّي هذه الصلاة"، يعني: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- رآهم يتطوعون بالصلاة بعد طلوع الفجر وقبل الصلاة زيادة على سنة الفجر، "فقال: " لِيُبَلِّغْ شِاهدكم غَائِبَكم" أي: قال النبي -صلى الله عليه وسلم- لِيُبَلِّغْ الحَاضر بالمجلس الغَائب عنه بهذا الكلام، "لا تُصلُّوا بعد الفجر" أي: بعد طلوع الفجر، يؤيده رواية أحمد: (لا صلاة بعد طلوع الفجر إلا ركعتي الفجر) أي لا نافلة بعد طلوع الفجر إلا راتبته وهي ركعتان. وقوله: "إلا سَجْدَتَيْن" أي: ركعتين كاملتين، وهذا من إطلاقه الجزء وإرادة الكل؛ كما فسَّرتها الرواية السابقة.
وهذا هو الموافق لهديه -صلى الله عليه وسلم- فإنه كان لا يصلي بعد طلوع الفجر إلا ركعتين خفيفتين.
وعليه: فإذا طلع الفجر فلا يجوز للمسلم أن يتطوع بالصلاة غير ركعتي الفجر، كما هو هديه -صلى الله عليه وسلم- وخير الهدي هدي محمد -صلى الله عليه وسلم-.
فإذا تقرر عدم جواز التطوع بالصلاة بعد طلوع الفجر إلا السُّنة الراتبة، فيعتبر هذا الوقت من الأوقات المَنْهي عن الصلاة فيها.
593;بد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے مولی یعنی اپنے آزاد کردہ غلام یسار کو دیکھا کہ وہ طلوع فجر کے بعد فجر کی نماز سے پہلے نفل نماز پڑھ رہے ہیں۔ شاید انھوں نے دو رکعت سے زیادہ نماز پڑھی۔ اس پر انھوں نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”اے یسار! ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، جب کہ ہم یہی (نفل) نماز پڑھ رہے تھے“ یعنی نبی ﷺ نے انھیں طلوع فجر (صادق) کے بعد نماز فجر سے پہلے سنت فجر سے زائد نفل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو فرمایا: ”لِيُبَلِّغْ شِاهدكم غَائِبَكم“ یعنی نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو مجلس میں موجود ہیں، وہ ان لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں کہ: ”لا تُصلُّوا بعد الفجر“ یعنی طلوع فجر کے بعد (نفل) نماز نہ پڑھو۔ اس کی تایید مسند احمد کی ایک اور حدیث سے ہوتی ہے، جس میں ہے کہ: "طلوع فجر کے بعد فجر کی دو رکعت کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔" یعنی طلوع فجر کے بعد دو رکعت سنت کے علاوہ کوئی نفل نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”إلا سَجْدَتَيْن“، یہاں دو سجدوں سے مراد دو مکمل رکعتیں ہیں اور یہ جز بول کر کل مراد لینے کے قبیل سے ہے، جیسا کہ اس کی وضاحت سابق الذکر روایت میں کی گئی ہے۔ یہی آپ ﷺ کی سنت کے موافق بھی ہے۔ آپ ﷺ طلوع فجر کے بعد دو ہلکی سی رکعتیں پڑھنے کے علاوہ کوئی اور نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔
چنانچہ جب فجر طلوع ہو جائے تو مسلمان کے لیے نماز فجر کی دو رکعت (سنت) کے علاوہ جائز نہیں کہ کوئی اور نفل نماز پڑھے، جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا اور سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہی ہے۔
جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ طلوع فجر کے بعد سوائے سنتوں کے کوئی نفل نماز نہیں ہے، تو یہ وقت ان اوقات میں شمار کیا جائے گا، جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10612

 
 
Hadith   1670   الحديث
الأهمية: إنها لرؤيا حق إن شاء الله، فقم مع بلال فألق عليه ما رأيت، فليؤذن به، فإنه أندى صوتا منك


Tema:

ان شاء اللہ یہ خواب سچا ہے، (پھر فرمایا) تم بلال کے ساتھ اٹھ کر جائو اور جو کلمات تم نے خواب میں دیکھے ہیں وہ انہیں بتاتے جاؤ تاکہ اس کے مطابق وہ اذان دیں کیونکہ ان کی آواز تم سے بلند ہے۔

عن عبد الله بن زيد -رضي الله عنه- قال: لَمَّا أَمَرَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصلاة طاف بي وأنا نائم رجل يحمل ناقوساً في يده، فقلت: يا عبد الله أَتَبِيعُ الناقوس؟ قال: وما تصنع به؟ فقلت: ندعو به إلى الصلاة، قال: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ فقلت له: بلى، قال: فقال: تقول: الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدا رسول الله، أشهد أن محمدا رسول الله، حيَّ على الصلاة، حيَّ على الصلاة، حيَّ على الفلاح، حيَّ على الفلاح، الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، قال: ثُمَّ اسْتَأْخَرَ عَنِّي غَيْرَ بعيد، ثم قال: وتقول إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ: الله أكبر الله أكبر، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدًا رسول الله، حيَّ على الصلاة، حيَّ على الفلاح، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قد قامتِ الصلاة، الله أكبر الله أكبر، لا إله إلا الله، فلما أصبحت، أتيتُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فأخبرته، بما رأيتُ فقال: «إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ، فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ، فإنه أَنْدَى صوتا منك» فقمتُ مع بلال، فَجَعَلْتُ أُلْقِيهِ عَلَيْهِ، وَيُؤَذِّنُ بِهِ، قَالَ: فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ بنُ الخَطَّاب، وهو في بيته فخرج يَجُرُّ رِدَاءَهُ، ويقول:  وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لقد رأيتُ مثل ما رأى، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «فَلِلَّهِ الحَمْدُ».

عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ناقوس بنانے کا حکم فرمایا تاکہ لوگوں کو نماز کی خاطر جمع کرنے کے لئے اسے بجایا جائے، تو میں نے خواب میں ایک شخص کو ہا تھ میں ناقوس اٹھائے ہوئے دیکھا، میں نے اس سے پوچھا: اللہ کےبندے کیا اسے فروخت کروگے؟ اس نے کہا: تم اسے کیا کرو گے؟ میں نے کہا: ہم اس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے لئے بلا ئیں گے، اس شخص نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتا دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ضرور بتائیے، تو اس نے کہا: تم اس طرح کہو: ”اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللّٰہُ“ (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کو ئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز کے لئے آؤ، نماز کے لئے آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ) پھر وہ شخص مجھ سے تھوڑا پیچھے ہٹ گیا، زیادہ دور نہیں گیا پھراس نے کہا: جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اس طرح کہو: ”اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ“ (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، یقینا نماز کھڑی ہو گئی، یقینا نماز کھڑی ہو گئی، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کو ئی معبود برحق نہیں) پھر جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ میں نے دیکھا تھا اسے آپ سے بیان کیا۔آپ ﷺ نے فرمایا: ان شاء اللہ یہ خواب سچا ہے، پھر فرمایا: تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور جو کلمات تم نے خواب میں دیکھے ہیں وہ انہیں بتاتے جاؤ تاکہ اس کے مطابق وہ اذان دیں کیونکہ ان کی آواز تم سے زیادہ بلند ہے۔ چناں چہ میں بلال کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا، میں انہیں اذان کے کلمات بتاتا جاتا تھا اور وہ اسے پکارتے جاتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے گھر میں سنا تو وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور کہہ رہے تھے: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے بھی اسی طرح دیکھا ہے جس طرح عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا ہے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين هذا الحديث الشريف قصة الأذان، وذلك أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أراد أن يتخذ ناقوساً كالنصارى ليجتمع الناس على صوته للصلاة، ثم لم يفعل لأنه من خصائصهم، فرأى أحد الصحابة -رضوان الله عليهم- وهو عبد الله بن زيد في نومه أحدهم يبيع ناقوساً، فأراد أن يشتريه ليجمع به الناس للصلاة، فقال له الرجل: ألا أدلك على خير من ذلك؟ وقام بتعليمه جمل الأذان، فذهب إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- صباحاً وذكر له المنام، فأخبره -صلى الله عليه وسلم- أنها رؤيا صادقة وأمره أن يقرأ الأذان على بلال حتى يؤذن بها؛ لأنه أجمل منه صوتاً، فلما سمعه عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- أتى وأخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه رأى ذلك أيضاً.
740;ہ حدیث شریف اذان کا قصہ بیان کرتی ہے، اور وہ یہ کہ نبی ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ نصاریٰ کی طرح ایک ناقوس اپنا لیا جائے تاکہ اس کی آواز پر لوگ نماز کے لئے اکٹھا ہو جایا کریں، پھر آپ نے ایسا نہیں کیا اس لئے کہ وہ ان کے شعار و خصائص میں سے تھا، تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نامی ایک صحابیٔ رسول نے خواب دیکھا کہ ایک شخص ناقوس بیچ رہا ہے، انہوں نے سوچا کہ اس سے خرید لیں تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے لئے اکٹھا کریں، تو اس شخص نے ان سے کہا :کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتا دوں؟ اور اس نے انھیں اذان کے جملے سکھلائے۔ صبح ہوئی تو عبداللہ بن زید رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے خواب بیان کیا۔ آپ ﷺ نے انہیں بتلایا کہ یہ سچا خواب ہے اور انہیں حکم دیا کہ اذان کے وہ کلمات (جو خواب میں دیکھے ہیں) بلال کو پڑھا دیں تاکہ اس کے مطابق وہ اذان دیں کیونکہ ان کی آواز ان سے بہتر تھی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب اسے سنا تو وہ بھی تشریف لائے اور نبی ﷺ کو خبر دی کہ انہوں نے بھی اسی طرح خواب دیکھا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10615

 
 
Hadith   1671   الحديث
الأهمية: من السنة إذا قال المؤذن في أذان الفجر: حي على الفلاح، قال: الصلاة خير من النوم


Tema:

یہ سنت ہے کہ جب مؤذن صبح کی نماز میں ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کہے تو اس کے بعد ”الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ“ کہے۔

عن أنس -رضي الله عنه- قال: من السنة إذا قال المؤذن في أذان الفجر: حيَّ على الفلاح، قال: الصلاة خير من النوم.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہ سنت ہے کہ جب مؤذن صبح کی نماز میں ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کہے تو اس کے بعد ”الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ“ کہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف أن أذان صلاة الفجر يختص بجملة ليست في بقية الصلوات ألا وهي الصلاة خير من النوم، ويكون موضعها بعد قول المؤذن حي على الفلاح.
575;س حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ نماز فجر کی اذان (الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ) کے جملے کے ساتھ مخصوص ہے، دیگر نمازوں کے وقت اسےنہیں کہا جائے گا اور یہ ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کے بعد کہا جائے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10616

 
 
Hadith   1672   الحديث
الأهمية: رأيت بلالا خرج إلى الأبطح فأذن فلما بلغ حي على الصلاة، حي على الفلاح، لوى عنقه يمينا وشمالا، ولم يستدر


Tema:

میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ابطح کی طرف نکلے پھر اذان دی، جب ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ“ اور ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ پر پہنچے تو اپنی گردن دائیں اور بائیں جانب موڑی اور خود نہیں گھومے۔

عن أبي جحيفة -رضي الله عنه- قال: رأيت بلالًا يؤذِّن ويدور ويتبع فاه هاهنا، وهاهنا، وإصبعاه في أُذنيه، ورسول الله صلى الله عليه وسلم في قُبَّةٍ له حمراء -أُراه قال: من أَدَمٍ- فخرج بلال بين يديه بِالعَنَزَةِ فركزها بِالبَطْحَاءِ، «فصلى إليها رسول الله صلى الله عليه وسلم، يمر بين يديه الكلب والحمار، وعليه حُلَّةٌ حمراء»، كأني أنظر إلى بَرِيقِ ساقيه. وفي رواية: رأيت بلالًا خرج إلى الأبطح فأذَّن فلما بلغ حي على الصلاة، حي على الفلاح، لوى عنقه يمينا وشمالا، ولم يستدِر.

ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے دیکھا، وہ گھوم رہے تھے اپنا چہرہ ادھر اور ادھر پھیر رہے تھے اور ان کی انگلیاں ان کے دونوں کانوں میں تھیں، رسول اللہ ﷺ اپنے سرخ خیمے میں تھے، وہ چمڑے کا تھا، بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے سامنے سے نیزہ لے کر نکلے اور اسے بطحاء (میدان) میں گاڑ دیا۔ پھر رسول اللہﷺ نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھائی۔ اس نیزے کے آگے سے کتے اور گدھے گزر رہے تھے۔ اور آپ ﷺ ایک سرخ چادر پہنے ہوئے تھے، میں گویا آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔
اور ایک روایت میں ہے کہ ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ابطح کی طرف نکلے پھر اذان دی، جب ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ“ اور ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ پر پہنچے تو اپنی گردن دائیں اور بائیں جانب موڑی اور خود نہیں گھومے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- نازلاً في الأبطح في أعلى مكة، فخرج بلال بفضل وَضُوءِ النبي -صلى الله عليه وسلم-، وجعَلَ الناس يتبركون به، وَأذَّن بلال.
قال أبو جحيفة: فجعلت أتتبع فم بلال، وهو يلتفت يميناً وشمالا عند قوله "حي على الفلاح"؛ ليسمع الناس، حيث إن الصيغتين حث على المجيء إلى الصلاة.
ثم رُكِزت لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- رمح قصيرة؛ لتكون سترة له في صلاته، فصلى الظهر ركعتين.
ثم لم يزل يصلى الرباعية ركعتين حتى رجع إلى المدينة، لكونه مسافراً.
606;بی ﷺ نے بالائی مکہ، بطحاء میں پڑاؤ فرمایا تھا۔ چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے وضو کے باقی ماندہ پانی کو لے کر باہر آئے تو لوگ اس سے برکت حاصل کرنا شروع کر دیے اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بلال رضی اللہ عنہ کے منہ کو دیکھنے لگا وہ ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ“ اور ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کہتے ہوئے دائیں بائیں مڑ رہے تھے تاکہ سب لوگوں کو یہ سنائی دے سکے کیونکہ ان دونوں جملوں میں نمازکے لیے آنے کی ترغیب ہے۔
پھر نبی ﷺ کے لیے ایک چھوٹا سا نیزہ گاڑ دیا گیاتاکہ وہ آپ ﷺ کی نماز کے دوران سترہ کا کام دے۔ پھر آپ ﷺ نے ظہر کی دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ مسافر ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ جب تک مدینہ واپس نہیں آگئے تب تک چار رکعت والی نماز کو دو رکعت ہی پڑھتے رہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10618

 
 
Hadith   1673   الحديث
الأهمية: شهدت مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الصلاة يوم العيد، فبدأ بالصلاة قبل الخطبة، بغير أذان ولا إقامة، ثم قام متوكئا على بلال، فأمر بتقوى الله، وحث على طاعته، ووعظ الناس وذكرهم


Tema:

میں عید کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا آپ ﷺ نے خطبہ سے پہلے اذان اور تکبیر کے بغیر نماز سے ابتدا کی پھر بلال رضی اللہ عنہ کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے اللہ کے تقویٰ کا حکم دیا اس کی اطاعت پر ابھارا، لوگوں کو نصیحت کی اور انھیں (دین کی بنیادی باتوں کی) یاد دہانی کرائی۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- قال: شهدتُ مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الصلاة يوم العيد، فبدأ بالصلاة قبل الخُطبة، بغير أذان ولا إقامة، ثم قام مُتَوَكِّئاً على بلال، فأمر بتقوى الله، وحث على طاعته، وَوَعَظَ الناس وذَكَّرَهُم، ثم مَضَى حتى أتى النساء، فَوَعَظَهُن وذَكَّرَهُن، فقال: «تَصَدَّقْنَ، فإن أكثركُنَّ حَطَبُ جهنم»، فقامت امرأة من سِطَةِ النساء سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ، فقالت: لم؟ يا رسول الله قال: «لأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ»، قال: فجعلن يتصدقن من حُلِيِّهِنَّ، يُلْقِينَ في ثوب بلال من أَقْرِطَتِهِنَّ وَخَوَاتِمِهِنَّ.

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں عید کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا آپ ﷺ نے خطبے سے پہلے اذان اور تکبیر کے بغیر نماز سے ابتدا کی پھر بلال رضی اللہ عنہ کا سہارا لے کر کھڑے ہو ئے اللہ کے تقویٰ کا حکم دیا اس کی اطاعت پر ابھارا، لوگوں کو نصیحت کی اور انھیں (دین کی بنیادی باتوں کی) یاد دہانی کرائی پھر چل پڑے حتیٰ کہ عورتوں کے پاس آگیے (تو ) انھیں وعظ و تلقین (تذکیر) کی اور فرمایا: صدقہ کرو کیوں کہ تم میں سے اکثر جہنم کا ایندھن ہیں۔ عورتوں کے درمیان سے ایک بھلی سیاہی مائل رخساروں والی عورت نے کھڑے ہوکر پوچھا کہ اللہ کے رسول ﷺ ! کیوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا:اس لیے کہ تم شکوے شکایت بہت کرتی ہو اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو۔ (راوی نے) کہا کہ اس پر وہ عورتیں اپنے زیورات سے صدقہ کرنے لگیں وہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں اپنی بالیاں اور انگھوٹھیاں ڈالنے لگیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
صلى النبي -صلى الله عليه وسلم- بأصحابه صلاة العيد بلا أذان لها ولا إقامة، فلما فرغ من الصلاة خطبهم، فأمرهم بتقوى الله: بفعل الأوامر واجتناب النواهي ولزوم طاعة الله في السر والعلانية، وأن يتذكروا وعد الله ووعيده ليتعظوا بالرهبة والرغبة.
ولكون النساء في معزل عن الرجال بحيث لا يسمعن الخطبة وكان حريصاً على الكبير والصغير، رؤوفا بهم، مشفقاً عليهم اتَّجه إلى النساء، ومعه بلال، فوعظهُن، وذكَّرهن، وخصَّهن بزيادة موعظة وَبَيَّنَ لهن أنهن أكثر أهل النار، وأن طريق نجاتهن منها الصدقة؛ لأنها تطفىء غضب الرب.
فقامت امرأة جالسة في وسَطِهِن وسألته عن سبب كونهن أكثر أهل النار ليتداركن ذلك بتركه فقال:
لأنكن تكثرن الشكاة والكلام المكروه، وتجحدن الخير الكثير إذا قصر عليكن المحسن مرة واحدة.
ولما كان نساء الصحابة -رضي الله عنهم- سبَّاقات إلى الخير وإلى الابتعاد عما يغضب الله، أخذن يتصدقن بحليهن التي في أيديهن، وآذانهن، من الخواتم والقروط، يلقين ذلك في حجر بلال، محبة في رضوان الله وابتغاء ما عنده.
585;سول اللہ ﷺ نے صحابہ کو نمازِ عید بغیر اذان اور اقامت کے پڑھائی۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو ان کو خطبہ دیا، اوامر کی بجاآوری، نواہی سے اجتناب اور ظاہر وباطن ہر حال میں اللہ کی اطاعت وفرماں برداری کو لازم پکڑ کر اس کا تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے وعدے وعید یاد دلائے تاکہ وہ رغبت و رہبت اور بیم و امید کے ساتھ نصیحت حاصل کریں۔
عورتوں کا مردوں سے الگ ہونے کی وجہ سے وہ خطبہ نہیں سن سکتی تھیں اور آپ ﷺ ہر چھوٹے بڑے (کی ہدایت) کے لیے حریص، نرم دل اور مشفق ہونے کی وجہ سے عورتوں کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے عورتوں کو وعظ و نصیحت کی، ان کو مزید وعظ کرتے ہوئے ان کے لیے یہ واضح کیا کہ ان کی کثیر تعداد جہنمی ہے اور ان کی نجات کا راستہ صدقہ ہے کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو ختم کرتا ہے۔عورتوں کے بیچ میں سے ایک عورت کھڑی ہوئی اور اس نے اکثریت کے جہنمی ہونے کا سبب پوچھا تاکہ وہ اس سے نجات پانے کا سامان کر سکیں۔ آپﷺ نے فرمایا :تم کثرت سے شکوے شکایت کرتی ہو، ناپسند یدہ گفتگو کرتی ہو اور تمہارے محسن کی طرف سے ایک دفعہ بھی کوئی کمی آ جائے تو تم اس کی بہت ساری اچھائیوں کا بھی انکار کر بیٹھتی ہو۔ (پھر کیا تھا) صحابیات نے خیر کی طلب، اور اللہ کے غضب سے بچنے میں مسابقت شروع کر دی۔اپنے ہاتھوں اور کانوں میں پہنے ہوئے زیورات، انگوٹھیوں اور بالیوں کا صدقہ کرنا شروع کردیا اور یہ ساری چیزیں اللہ کی رضا اور اس کی نعمتوں کے حصول کے لیے بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں ڈالنے لگیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10620

 
 
Hadith   1674   الحديث
الأهمية: إنكم تسيرون عشيتكم وليلتكم، وتأتون الماء إن شاء الله غدًا


Tema:

تم اپنی (پوری) شام اور (پوری)رات چلتے رہو گے تو ان شاء اللہ کل تک پانی پر پہنچ جاؤ گے۔

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: خطبَنا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: «إنكم تَسِيرُونَ عَشِيَّتَكُمْ، وتأتون الماء إن شاء الله غدا»، فانطلَق الناس لا يَلْوِي أحد على أحد، قال أبو قتادة: فبينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يسير حتى ابهَارَّ الليلُ، وأنا إلى جنْبه، قال: فَنَعَس رسول الله صلى الله عليه وسلم، فمَاَل عن راحلته، فأتيتُه فدَعَمْته من غير أن أُوقِظه حتى اعتدل على راحلته، قال: ثم سار حتى تَهَوَّرَ الليل، مالَ عن راحلته، قال: فدعمتُه من غير أن أُوقِظه حتى اعتدل على راحلته، قال: ثم سار حتى إذا كان من آخر السَّحَر، مال مَيْلة هي أشد من الميْلتيْن الأولييْن، حتى كاد يَنْجَفِل، فأتيتُه فدعمْته، فرفع رأسه، فقال: «مَن هذا؟» قلت: أبو قتادة، قال: «متى كان هذا مسيرَك مني؟» قلت: ما زال هذا مَسِيري منذ الليلة، قال: «حفظك الله بما حفظت به نبيه»، ثم قال: «هل ترانا نَخْفى على الناس؟»، ثم قال: «هل تَرى من أحد؟» قلت: هذا راكب، ثم قلت: هذا راكب آخر، حتى اجتمعنا فكنا سبعةَ ركْب، قال: فمالَ رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الطريق، فوضع رأسه، ثم قال: «احفظوا علينا صلاتنا»، فكان أوَّل مَن استيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم والشمسُ في ظهْره، قال: فقُمْنا فَزِعِين، ثم قال: «اركبوا»، فركبْنا فسِرْنا حتى إذا ارتفعت الشمس نَزَل، ثم دعا بِمِيضَأَة كانت معي فيها شيء من ماء، قال: فتوضأ منها وُضوءا دون وُضوء، قال: وبقي فيها شيء من ماء، ثم قال لأبي قتادة: «احفظْ علينا مِيضَأتك، فسيكون لها نَبَأ»، ثم أذَّن بلال بالصلاة، فصلَّى رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتين، ثم صلَّى الغَداة، فصنع كما كان يصنع كلَّ يوم، قال: وركِبَ رسول الله صلى الله عليه وسلم وركبْنا معه، قال: فجعل بعضنا يَهْمِس إلى بعض ما كفَّارة ما صنعنا بِتَفْريطِنا في صلاتنا؟ ثم قال: «أما لَكُم فيَّ أُسْوة»، ثم قال: «أمَا إنه ليس في النوم تَفْريط، إنما التفريط على من لم يصلِّ الصلاة حتى يجيء وقت الصلاة الأخرى، فمن فعل ذلك فليُصَلِّها حِينَ ينتبه لها، فإذا كان الغد فليصلها عند وقتها»، ثم قال: «ما تَرَوْن الناس صنعوا؟» قال: ثم قال: «أصبح الناس فَقَدُوا نبيهم»، فقال أبو بكر وعمر: رسول الله صلى الله عليه وسلم بَعْدَكم، لم يكن لِيُخلِّفكم، وقال الناس: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم بيْن أيديكم، فإن يطيعوا أبا بكر، وعمر يَرْشُدُوا، قال: فانْتهيْنا إلى الناس حين امتدَّ النهار، وحَمِي كل شيء، وهم يقولون: يا رسول الله هَلَكْنا، عطِشْنا، فقال: «لا هُلْكَ عليكم»، ثم قال: «أَطْلِقوا لي غُمَرِي» قال: ودعا بالمِيضَأة، فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يصُبُّ، وأبو قتادة يَسْقِيهم، فلم يعد أن رأى الناس ماء في الميضأة تكابوا عليها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أحسنوا المَلَأ كلُّكُم سيَرْوَى» قال: ففعلوا، فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يصبُّ وأسقِيهم حتى ما بقي غيري، وغير رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: ثم صب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لي: «اشرب»، فقلت: لا أشرب حتى تشرب يا رسول الله قال: «إن ساقيَ القوم آخرهُم شربا»، قال: فشربتُ، وشرب رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فأتى الناس الماء جامِّينَ رِوَاءً، قال: فقال عبد الله بن رباح: إني لأحدِّث هذا الحديث في مسجد الجامع، إذ قال عمران بن حصين انظر أيها الفتى كيف تحدِّث، فإني أحد الركب تلك الليلة، قال: قلت: فأنت أعلم بالحديث، فقال: ممَّن أنت؟ قلت: من الأنصار، قال: حدِّث، فأنتم أعلم بحديثكم، قال: فحدَّثت القوم، فقال عمران: لقد شهدت تلك الليلة، وما شَعَرتُ أن أحدا حفظه كما حفظته.

ابو قتادہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا اور کہا: تم اپنی (پوری) شام اور (پوری) رات چلتے رہو گے تو ان شاء اللہ کل تک پانی پر پہنچ جاؤ گے۔ لوگ چل پڑے،کوئی مڑ کر دوسرے کی طرف دیکھتا بھی نہ تھا۔ ابو قتادہ نے کہا اسی عالم میں رسول اللہ ﷺچلتے رہے یہاں تک کہ رات آدھی گزر گئی، میں آپ کے پہلو میں چل رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو اونگھ آگئی اور آپ سواری سے ایک طرف جھک گیے، میں آپ کے پاس آیا اور آپ کو جگائے بغیر آپ کو سہارا دیا حتی کہ آپ اپنی سواری پر سیدھے ہو گیے، پھر آپ چلتے رہے یہا ں تک کہ رات کا بیشتر حصہ گزر گیا، آپ (پھر) سواری پر (ایک طرف)جھکے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو جگائے بغیر آپ کو سہارا دیا یہاں تک کہ آپ اپنی سواری پر سیدھے ہو گیے، وہ کہتے ہیں پھر چلتے رہے حتیٰ کہ سحری کا آخری وقت تھا تو آپ (پھر) جھکے، یہ جھکنا پہلے دونوں بار کے جھکنے سے زیادہ تھا، قریب تھا کہ آپ اونٹ سے گر پڑتے، میں آپ کے پاس آیا اور آپ کو سہارا دیا تو آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا یہ کون ہے؟میں نے عرض کی:ابو قتادہ ہوں۔ فرمایا تم کب سے میرے ساتھ اس طرح چل رہے ہو؟ میں نے عرض کی: میں رات ہی سے اس طرح سفر کر رہا ہوں۔فرمایا:ا للہ تعالیٰ اسی طرح تمھاری حفاظت کرے جس طر ح تم نے اس کے نبی کی حفاظت کی، پھر فرمایا کیا تم دیکھ رہے ہو (کہ) ہم لوگوں سے اوجھل ہیں؟ پھر پوچھا :تمھیں کوئی (اور) نظر آر ہا ہے؟میں نے عرض کی: یہ ایک سوار ہے۔ پھر عرض کی:یہ ایک اور سوار ہے حتی کہ ہم اکٹھے ہوئے تو سات سوار تھے، ابوقتادہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ راستے سے ایک طرف ہٹے، پھر سر (نیچے ) رکھ دیا (اور لیٹ گیے) پھر فرمایا ہمارے لیے ہماری نماز کا خیال رکھنا۔پھر جو سب سے پہلے جاگے، وہ رسول اللہ ﷺ ہی تھے، سورج آپ کی پشت پر (چمک رہا) تھا۔ وہ کہتے ہیں ہم سخت تشویش کے عالم میں کھڑے ہوئے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا سوار ہوجاؤ۔ ہم سوار ہوئے اور (آگے) چل پڑے حتی کہ جب سورج بلند ہو گیا تو آپ ﷺ اترے، پھر آپ ﷺ نے وضو کا برتن مانگا جو میرے ساتھ تھا، اسی میں کچھ پانی تھا۔ راویٔ حدیث) کہتے ہیں کہ پھر آپ نے اس سے (مکمل) وضو کے مقابلے میں کچھ ہلکا وضو کیا اور اس میں کچھ پانی بچ بھی گیا، پھر آپ نے (مجھے )ابو قتادہ سے فرمایا:ہمارے لیے اپنے وضو کا برتن محفوظ رکھنا،ا س کی ایک شان ہو گی۔پھر بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اذان کہی، رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ نے اسی طرح جس طرح روز کرتے تھے، صبح کی نماز پڑھائی۔ راوی مزید بیان کرتے ہیں :اور رسول اللہ ﷺ سوار ہو گیے، ہم بھی آپ کی معیت میں سوار ہو گیے، راوی نے کہا: ہم میں سے کچھ لوگ ایک دوسرے سے کانا پھوسی کرنے لگے کہ ہم نے نماز میں جو کوتاہی کی ہے اس کا کفارہ کیا ہے؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:کیا تمہارے لیے میرے عمل میں نمونہ نہیں؟، پھر آپ نے فرمایا: سمجھ لو! نیند (آجانے) میں (کسی کی) کوئی کوتاہی نہیں۔ کوتاہی تو اس شخص میں ہے جو نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت ہو جائے، جو اس طرح کرے (سوجائے) تو جب اس کے لیے جاگے تو یہ نماز پڑھ لے، پھر جب دوسرا دن آئے تو اسے وقت پر ادا کرے۔ پھر فرمایا تم کیا دیکھتے ہو (دوسرے) لوگوں نےکیا کیا؟ راوی نے کہا پھر آپ نے فرمایا:لوگوں نے صبح کی تو اپنے نبی کو گم پایا۔ ابو بکر اور عمر نے کہا:اللہ کے رسول ﷺ تمھارے پیچھے ہیں، وہ ایسے نہیں کہ تمھیں پیچھے چھوڑ دیں۔(دوسرے) لوگوں نے کہا:بے شک رسول اللہ ﷺ تم سے آگے ہیں۔ اگر وہ ابو بکر اور عمر کی اطاعت کریں تو صحیح راستے پر چلیں گے ۔ ،کہا : تو ہم لوگوں تک (اس وقت )پہنچ پائے جب دن چڑھ آیا تھا اور ہر شے تپ گئی تھی اور وہ کہہ رہے تھے اے اللہ کے رسول ! ہم پیاسے مر گیے۔ تو آپ نے فرمایا: تم پر کوئی ہلاکت نہیں آنے والی ہے۔ پھر فرمایا کہ میرا چھوٹا پیالہ میرے پاس لاؤ۔ راویٔ حدیث کہتے ہیں کہ پھر وضو کے پانی والا برتن منگوایا، رسول اللہ ﷺ (اس سے پیالے میں) انڈیلتے گیے اور ابو قتادہ لوگوں کو پلاتے گیے، زیاد دیر نہ گزری تھی کہ لوگوں نے وضو کے برتن میں تھوڑا سا پانی دیکھ لیا تو اس پر جھرمٹ بناکر اکٹھے ہو گیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اچھا طریقہ اختیار کرو، تم میں سے ہر ایک اچھی طرح پیاس بجھا لے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ رسول اللہ ﷺ پانی (پیالے میں) انڈیلتے گیے اور میں لوگوں کو پلاتا گیا یہاں تک کہ میرے اور رسول اللہ ﷺ کے سوا اور کوئی نہ بچا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پھر پانی ڈالا اور مجھ سے فرمایا پیو۔ میں نے عرض کی:اے اللہ کے رسول! جب تک آپ نہیں پی لیں گے میں نہیں پیوں گا۔ فرمایا: قوم کو پانی پلانے والا ان سب سے آخر میں پیتا ہے۔ راوی نےکہتے ہیں تب میں نے پی لیا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی نوش فرمایا۔ وہ مزید بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد لوگ اس حالت میں (اگلے ) پانی پر پہنچے کہ سب ( اپنے) برتن پانی سے بھرے ہوئے تھے اور (خوب) سیراب تھے۔ (ابوقتادہ کہتے ہیں کہ) عبداللہ بن رباح نے کہا کہ میں یہ حدیث جامع مسجد میں سب لوگوں کو سناؤں گا ۔ تب عمران بن حصین نے فرمایا : اے جوان ! خیال رکھنا کہ تم کس طرح حدیث بیان کرتے ہو، اس رات مَیں بھی قافلے کے سواروں میں سے ایک تھا۔ کہا:میں نے عرض کی: آپ اس حدیث کو زیادہ جاننے والے ہیں۔ تو انھوں نے پوچھا:تم کس قبیلے سے ہو؟ میں نے کہا انصار سے۔ فرمایا:حدیث بیان کرو تم اپنی احادیث سے زیادہ آگاہ ہو، کہا:میں نے لوگوں کو حدیث سنائی تو عمران نے کہا:اس رات میں بھی موجود تھا اور میں نہیں سمجھتاکہ اسے کسی نے اس طرح یا در کھا جس طرح تم نے اسے یا درکھا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في سفر وانتهى ما معهم من الماء فبشرهم النبي صلى الله عليه وسلم بأنهم يجدونه أمامهم، مما دعا القوم إلى أن يسرعوا ولا ينتظروا، حتى سبقوا النبي صلى الله عليه وسلم وبعض الصحابة، وكان منهم أبو قتادة فكان الليل وبدأ رسول الله صلى الله عليه وسلم ينعس وأبو قتادة يعضده حتى لا يقع عن الراحلة حتى انتبه له الرسول صلى الله عليه وسلم ودعا له بالحفظ كما حفظه، ثم أخبره أن الناس سيختلفون في مكانه عليه الصلاة والسلام وأن أبا بكر وعمر سيخبرونهم بأنه خلفهم وأنهم إن أطاعوهم سيرشدوا، وهذا من علامات نبوته عليه الصلاة والسلام، ثم ناموا في الليل ولم يوقظهم إلا حر الشمس، فبين الرسول صلى الله عليه وسلم أن من نام عن الصلاة دون تعمد تركها ليس بمفرط، بل هو معذور، ولكن المفرط من يدع وقت الصلاة يخرج دون أن يصليها، فلما مشى النبي صلى الله عليه وسلم والصحابة الذين معه وصلوا للقوم وقد كادوا يهلكون من العطش، فبشرهم النبي صلى الله عليه وسلم بأنهم لن يهلكوا وسيشربوا جميعاً ودعا بإناء أبي قتادة الذي يستخدمه للوضوء وهو قدح صغير، وتوضأ فيه ودعا الناس للشرب منه، فشرب الناس كلهم حتى لم يبق إلا رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو قتادة رضي الله عنه، فشرب أبو قتادة بعد أن أخبره النبي صلى الله عليه وسلم أن على ساقي القوم أن يشرب آخرهم، وذلك من معجزات النبي صلى الله عليه وسلم.
575;س حدیث شریف میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے کہ ان کے ساتھ موجود سارا پانی ختم ہوگیا تو نبی ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو یہ بشارت سنائی کہ انھیں آگےپانی مل جائے گا،جس کو سن کر قوم میں تیزی سے آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہو اور وہ انتظار کیے بغیر نبی ﷺ سے آگے بڑھ گیے اورابوقتادہ کے بشمول کچھ صحابہ کرام (نبی ﷺ کے ہمراہ رہ گیے)، رات کا وقت تھا اور رسول اللہ ﷺ اونگھنے لگتے تو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کو ایسے سہارا دیتے کہ آپ سواری سے گر نہ پڑیں یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ (آخری بار) ان کے سہارا دینے کی وجہ سے بیدار ہوگیے اور ان کے حق میں حفظ و امان کی ویسے ہی دعاء فرمائی جیسے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی حفاظت کرتے ہوئے کیا۔ پھر آپ ﷺ نے انھیں بتایا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے (کہ آیا آپ ﷺ، آگے پہنچ جانے والوں سے آگے یا پیچھے ہیں) مقام کے تعلق سے لوگوں کی الگ الگ رائے ہوگی اور یقینا ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنھما انہیں یہ بتائیں گے کہ آپ ﷺ ان کے پیچھے ہیں اور یقینا اگر یہ لوگ ان دونوں کی بات مان لیں تو صحیح راہ پالیں گے، اور یہ نبی ﷺ کی نبوی نشانیوں میں سے ہے، پھر وہ سب رات کو سوگیے اور سورج کی تپش ہی نے انہیں نیند سے بیدار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس مسئلہ کی وضاحت فرمائی کہ جوشخص نماز سے سو جائے اور جان بوجھ کر اس نے نماز نہ چھوڑی ہو تو یہ تقصیر و کوتاہی نہ ہوگی، لیکن کوتاہ تو وہ شخص ہوگا جو اس نماز کو ادا کرنے کے بجائے، اسے چھوڑے رکھے یہاں تک کہ اس کا وقت ہی نکل جائے، جب نبی ﷺ اور آپ کے ہمراہی صحابہ کرام آگے بڑھ جانے والی قوم سے جاملے اور وہ اس حال میں تھے کہ قریب تھا کہ وہ پیاس کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے تو نبی ﷺ نے انہیں یہ بشارت سنائی کہ وہ بالکل ہلاک نہ ہوں گے بلکہ وہ سارے کے سارے لوگ ہی سیراب ہوں گے اور آپ ﷺ نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کاوہ برتن منگایا جس کو وہ آپ ﷺ کے وضو کے لیے استعمال کیا کرتے تھے اور وہ چھوٹا سا برتن تھا۔ آپ ﷺ نے اس میں وضو فرمایا اور لوگوں کو اس میں سے پینے کے لیے بلایا۔ تمام لوگ پی چکے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ باقی رہ گیے۔ نبی ﷺ کی اس خبر و آگہی کے بعد کہ قوم کو پلانے والے پر ضروری ہے کہ وہ سب سے آخر میں پیئے،ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے پی لیا۔ اور یہ نبی ﷺ کے معجزات میں سے ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10621

 
 
Hadith   1675   الحديث
الأهمية: جمع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بين المغرب والعشاء بجمع: صلى المغرب ثلاثا، والعشاء ركعتين، بإقامة واحدة


Tema:

نبی ﷺ نے مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھا کر کے پڑھیں، مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعت ایک اذان کے ساتھ۔

عن ابن عمر-رضي الله عنهما-، قال: «جمع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بين المغرب والعشاء بجمع: صلى المغرب ثلاثاً، والعشاء ركعتين، بإقامة واحدة».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھا کر کے پڑھیں، مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعت ایک اذان کے ساتھ۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث فعل النبي -صلى الله عليه وسلم- ليلة جمع وهو بالمزدلفة بعد مجيئه من عرفة من جمعه بين صلاتي المغرب والعشاء، وقصره صلاة العشاء ركعتين، بأذان واحد لهما وإقامة لكل صلاة.
581;دیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے عرفہ سے لوٹتے ہوئے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھا کر کے پڑھیں اور آپ ﷺ نے نمازِ عشاء کو دو رکعت قصر کر کے پڑھیں اور دونوں کے لیے ایک اذان اور دو اقامت کہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10623

 
 
Hadith   1676   الحديث
الأهمية: أنت إمامهم، واقتد بأضعفهم، واتخذ مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرًا


Tema:

تم ان کے امام ہو، تو تم ان کے کمزور ترین لوگوں کی رعایت کرنا، اور ایسا مؤذن مقرر کرنا جو اذان پر اجرت نہ لے۔

عن عثمان بن أبي العاص -رضي الله عنه- قال: يا رسول الله، اجعلني إمام قومي، قال: «أنت إمامهم، وَاقْتَدِ بأضعفهم، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّناً لا يأخذ على أذانه أجرا».

عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ان کے امام ہو، تو تم ان کے کمزور ترین لوگوں کی رعایت کرنا، اور ایسا مؤذن مقرر کرنا جو اذان پر اجرت نہ لے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين لنا هذا الحديث أنه يجوز لمن رأى في نفسه الأهلية للإمامة أن يطلبها من ولي الأمر، وهذا ليس من طلب الإمارة؛ لأن طلب الإمارة منهي عنه، ولكن عليه مراعاة المأمومين خلفه من الضعفاء والعجزة، وألا يشق عليهم، ويفضل في المؤذن أن يكون محتسباً؛ ليكون عمله أقرب للإخلاص، فإلم يوجد متبرع فلا مانع من أن يجري الإمام له رزقا من بيت المال.
740;ہ حدیث بیان کرتی ہے کہ جو اپنے اندر امامت کی اہلیت پائے اس کے لیے جائز ہے کہ وہ حاکمِ وقت سے اس کا مطالبہ کرے، یہ امارت کا مطالبہ نہیں، اس لیے کہ امارت کا مطالبہ کرنا ممنوع ہے۔ ہاں امام پر اپنے کمزور اور عاجز مقتدیوں کی رعایت کرنا ضروری ہے ورنہ معاملہ ان کے لیے مشکل ہوجائے گا۔ مؤذن کے لیے یہ بہتر ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے اذان دے تاکہ اس کا یہ عمل اخلاص کے قریب ہو۔ اگر تبرعاً کوئی اذان دینے والا نہ ہو تو حاکمِ وقت کا بیت المال سے اس کے لیے وظیفہ جاری کرنا جائز ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10626

 
 
Hadith   1677   الحديث
الأهمية: كان مؤذن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يمهل فلا يقيم، حتى إذا رأى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قد خرج أقام الصلاة حين يراه


Tema:

رسول اللہﷺ کا مؤذن دیر کرتا اور اقامت نہیں کہتا تھایہاں تک کہ جب وہ رسول اللہﷺ کو دیکھ لیتاکہ آپ نکل چکے ہیں تب وہ اقامت کہتا۔

عن جابر بن سمرة رضي الله عنه قال: «كان مُؤَذِّنُ رسول الله -صلى الله عليه وسلَّم- يُمْهِلُ فلا يُقِيم، حتَّى إذا رأى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قد خرج أقام الصَّلاة حِين يَرَاه».

جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کا مؤذن دیر کرتا اور اقامت نہیں کہتا تھا یہاں تک کہ جب وہ رسول اللہﷺ کو دیکھ لیتا کہ آپ نکل چکے ہیں تب وہ اقامت کہتا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث أن من له الحق في تحديد الإقامة الإمام؛ لأن المؤذن لم يكن يقيم إلا إذا خرج النبي -صلى الله عليه وسلم-.
575;س حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ امام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی کو اقامت کے لیے متعین کر لیے۔مؤذن اس وقت تک کھڑا نہیں ہوتاتھا جب تک رسو ل اللہﷺ باہر نکل نہیں آتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10632

 
 
Hadith   1678   الحديث
الأهمية: المؤذن أملك بالأذان، والإمام أملك بالإقامة


Tema:

مؤذن اذان کا زیادہ حقدار ہے اور امام تکبیر (اقامت) کہلانے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔

عن علي -رضي الله عنه- مرفوعاً: «المؤذن أملك بالأذان، والإمام أملك بالإقامة».

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مؤذن اذان کا زیادہ حقدار ہے اور امام تکبیر (اقامت) کہلانے کا زیادہ حق رکھتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف أن المؤذن أحق بالأذان، وأن الإمام أحق بالإقامة.
581;دیث اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ مؤذن اذان کا زیادہ استحقاق رکھتا ہے اور امام اقامت کہلانے کے متعلق زیادہ مستحق ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام عبد الرزّاق نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10633

 
 
Hadith   1679   الحديث
الأهمية: لا يرد الدعاء بين الأذان والإقامة


Tema:

اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی۔

عن أنس -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا يُرد الدعاء بين الأذان والإقامة».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف أن من مواطن إجابة الدعاء الوقت الذي بين الأذان والإقامة، سواء كان في المسجد أو ليس فيه.
740;ہ حدیث شريف اس بات کی وضاحت کر رہی ہے کہ دعا کی قبولیت کے اوقات میں سے اذان اور اقامت کے درمیان کا وقت بھی ہے، چاہے وہ مسجد میں ہو یا مسجد سے باہر۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10634

 
 
Hadith   1680   الحديث
الأهمية: من قال حين يسمع النداء: اللهم رب هذه الدعوة التامة، والصلاة القائمة، آت محمدا الوسيلة والفضيلة، وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته، حلت له شفاعتي يوم القيامة


Tema:

اذان سننے کے بعد جو شخص یہ کہے: ”اللَّهُم ربِّ هذه الدَّعْوَة التَّامة، والصَّلاة القَائمة، آتِ محمدا الوَسِيلَة والفَضِيلة، وابْعَثْه مَقَامًا محمودًا الَّذي وعَدْتَه“ تو قیامت والے دن اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو جائے گی۔

عن جابر-رضي الله عنه- مرفوعًا: «من قال حين يَسْمَع النِّدَاء: اللَّهُم ربِّ هذه الدَّعْوَة التَّامة، والصَّلاة القَائمة، آتِ محمدا الوَسِيلَة والفَضِيلة، وابْعَثْه مَقَامًا محمودًا الَّذي وعَدْتَه، حلَّت له شَفَاعَتِي يوم القيامة».

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص اذان سننے کے بعد یہ دعا کرے: ”اللَّهُم ربِّ هذه الدَّعْوَة التَّامة، والصَّلاة القَائمة، آتِ محمدا الوَسِيلَة والفَضِيلة، وابْعَثْه مَقَامًا محمودًا الَّذي وعَدْتَه“ (اے اللہ ! اس دعوتِ تامّہ کے رب اور کھڑی ہونے والی نماز کے رب! محمد (ﷺ) کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں مقام محمود پر کھڑا کر، جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے) توقیامت کے دن اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو جائے گی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: يقول النبي -صلى الله عليه وسلم-: "من قال حين يَسْمَع النِّدَاء" أي من قال هذه الصيغة المأثورة من الدعاء عند فراغ المؤذن من الأذان وانتهائه منه؛ لما رواه مسلم من حديث عبدالله بن عمرو بن العاص؛ أنَّه سَمعَ رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "إذَا سمعتم المؤذِّن، فقولوا مثل ما يقول، ثمَّ صَلُّوا عليَّ، ثمَّ سَلُوا اللهَ لي الوسيلة.."، وعليه: فيكون الدعاء بعد الفَراغ من الترديد بعد المؤذن. 
"الدَّعْوَة التَّامة" الأذان، سُمى دَعوة؛ لما فيه من دَعوة الناس إلى الصلاة، والتامة: أي الكاملة؛ لاشتمالها على عقائد الإيمان من التوحيد والتصديق بالرسالة المحمدية، فأوله تَكبير، وفيه الشهادتان اللتان هما الرُّكن الأول من أركان الإسلام، ثم فيه الدَّعوة إلى الصلاة، ثم خَتمه بالتكبير أيضًا.
"والصلاة القائمة"، ولها معنيان: 1. التي ستُقام. 2. التي لن تغيِّرها مِلَّةٌ ولا نَسخ، فهي قائمةٌ دائمة، ما دامت السمواتُ والأرض. 
"الوَسِيلَة" ما يتقرب بها إلى الغَير، فالوَسِيلة إلى الله -تعالى- ما تَقرب به عَبده إليه بعمل صالح. والمراد بها هنا: المَنْزلة العالية في الجنَّة، كما جاء مصرحًا به في صحيح مسلم من حديث عبدالله بن عمرو بن العاص -رضي الله عنهما- وفيه : (إذا سمعتم المؤذن، فقولوا... ثم سَلُوا الله لي الوَسِيلَة؛ فإنها مَنْزِلة في الجنَّة لا تَنبغي إلا لعِبد من عباد الله ، وأرجو أن أكون أنا هو).   "والفَضِيلة" هي مرتَبَةٌ زائدة على سائر الخلق، والمعنى: فَضِّل محمدًا على سائر خَلْقِك.
"وابعثه مقاما محمودا" يعني: يوم القيامة حين يُبعث الناس من قبورهم، فهو مقام يُحمد عليه يوم القيامة.
والمقامُ المحمود: يُطْلَقُ على كلِّ ما يجلب الحَمد من أنواع الكرامات، والمراد به هنا: الشَّفاعةُ العُظمَى في فَصْل القضاء، حيث يحمده فيه الأوَّلون والآخرون، وذلك بأن الخلائق يوم القيامة إذا طال عليهم المَحشر، وشَقَّ عليهم الوقوف، فإنهم يأتون إلى آدم فيسألونه أن يَشفع لهم عند ربهم؛ ليُخلصهم مما هم فيه، فيعتذر، ثم يأتون نوحا -عليه السلام- فيعتذر، وهكذا إبراهيم وموسى وعيسى -عليهم أفضل الصلاة وأتم التسليم-، ثم يأتون محمدا -صلى الله عليه وسلم- فيقول: (أنا لها)، فيسجد ويلهم بمحامد، ثم يقال له: ارفع رأسك، وسَل تعط، فيسأل الشفاعة، ويُفرج عنهم بشفاعة نبينا محمد -صلى الله عليه وسلم-.
"الَّذي وعَدْتَه" أي: وعَدَه بالشَّفاعة العُظمى حين يَفصل الله بين الخلائق، قال -تعالى-: (وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا) [ الإسراء: 79 ].


وعسى: إذا جاءت في القرآن فهي واجبة.
"حلَّت له شَفَاعَتِي" أي: ثَبتت ووجَبت له شفاعة النبي -صلى الله عليه وسلم-، واستحقها بدعائه هذا، وأدركته يوم القيامة، فيشفع له النَّبي -صلى الله عليه وسلم- بإدخالِ الجنَّة بغير حساب، أو برفع الدَّرجَات، أو النجاة من النار.
"يوم القيامة" سُمي بذلك: لما يقوم فيها من الأمور العظام، التي منها قيامُ الخلائقِ مِنْ قبورهم، وقيامُ الأشهادِ على العباد، وقيامُ النَّاس في الموقف، وغير ذلك.
581;دیث کا مفہوم: نبی کریم ﷺ فرما رہے ہیں کہ جو شخص اذان سننے کے بعد یعنی جو شخص مؤذن کے اذان سے فراغت اور اختتام کے بعد یہ مسنون دعا پڑھے؛ جیسا کہ مسلم نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :”جب تم مؤذن کو (اذان دیتے ہوئے) سنو، تو ویسے ہی کہو، جیسے وہ کہتا ہے۔ پھر مجھ پر درود بھیجو، پھر میرے لیے اللہ سے وسیلہ مانگو“۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا مؤذن کے جواب سے فارغ ہونے کے بعد کی جائے گی۔
”کامل پکار“ یعنی اذان۔ اس کا نام 'دعوت' رکھا گیا ہے؛ کیوں کہ اس کے ذریعے لوگوں کو نماز کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ تامہ یعنی کامل۔ کیوں کہ یہ ایمان کے عقائد؛ ایمان اور رسالت محمدیہ کی تصدیق پر مشتمل ہے۔ اس کے شروع میں تکبیر، اس کے بعد شہادتین جو اسلام کا پہلا رکن ہیں، پھر نماز کی دعوت اور آخر میں تکبیر ہے۔
”قائم ہونے والی نماز“ اس کے دو معنی ہیں:
1- وہ نماز جو کھڑی ہونے والی ہے۔
2- ایسی نماز جسے اب کوئی دین بدل نہیں سکتا اور نہ ہی اس میں نسخ کی گنجائش ہے، جب تک زمین و آسمان ہیں، تب تک قائم رہنے والی ہے۔
وسیلہ اسے کہتے ہیں جس کے ذریعے کسی کا قرب حاصل کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا قرب بندہ جس چیز سے حاصل کرسکتا ہے، وہ عمل صالح ہے۔ البتہ یہاں اس سے مراد جنت میں بلند مرتبہ و درجہ ہے، جیسا کہ صحیح مسلم کے اندر عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی روایت میں اس کی صراحت موجود ہے۔ اس میں ہے کہ ”جب تم مؤذن کی آواز سنو تو ویسے ہی کہو...پھر میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ کا سوال کرو؛ کیوں کہ یہ جنت میں ایک درجہ ہے، جو اللہ کے بندوں میں سے کسی ایک بندے کے لیے ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں“۔
”مقام فضیلت“ یہ ساری مخلوق سے فزوں تر ایک مرتبہ ہے۔ اس کے معنی ہیں، محمد ﷺ کو تمام مخلوقات پر فضیلت عطا فرما!
”ان کو مقام محمود پر پہنچا“ یعنی قیامت کے دن جب سارے لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے، تو یہ وہ مقام ہو گا جس کی تعریف کی جائے گی۔
مقام محمود: یعنی وہ سارے اعزازات، جو تعریف کے مستحق ہوں۔ یہاں اس سے مراد وہ شفاعت عظمیٰ ہے، جو آپﷺ (روز قیامت) فیصلے کے لیے کریں گے اور اس پر سارے پہلے اور بعد والے لوگ آپ کی تعریف کریں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قیامت کے روز جب محشر کی ہولناکیاں دراز تر ہوتی چلی جائیں گی اور لوگوں کے لیے کھڑے ہونا مشکل ہو جائے گا، تو وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کریں؛ تاکہ ان کو اس مشکل سے خلاصی مل جائے۔ لیکن آدم علیہ السلام معذرت کر لیں گے۔ پھر لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے، لیکن وہ بھی معذرت کر لیں گے۔ یوں سب باری باری ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیھم الصلاۃ و التسلیم کے پاس آئیں گے۔ آخر میں لوگ محمد ﷺ کے پاس آئیں گے اور آپ ﷺ فرمائیں گے کہ میں ضرور کروں گا۔ چنانچہ آپﷺ سجدہ میں گر پڑيں گے اور آپ کو حمد کے کلمات الہام کیے جائیں گے۔ پھر آپ ﷺ سے کہا جائے گا: اپنا سر اٹھائیے، سوال کیجیے، آپ کو عطا کیا جائے گا۔ چنانچہ آپﷺ سفارش کریں گے اور ہمارے نبی محمد ﷺ کی سفارش کے ذریعے وہ پریشانیوں سے نجات پا جائيں گے۔
”جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے“ یعنی شفاعت عظمیٰ کا وعدہ، جب اللہ تعالیٰ مخلوقات کے مابین فیصلہ فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ ”رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کریں یہ زیادتی آپ کے لیے ہے، عن قریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا“۔ (الإسراء: 79)
لفظ ”عَسَى“ جب قرآن میں آئے، تو وجوب (یقین) کا معنی دیتا ہے۔
”اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو جائے گی“ یعنی اس کے لیے نبی کریم ﷺ کی سفارش ثابت اور واجب ہو جاۓ گی۔ وہ سفارش کا حق دار اس دعا کی بدولت ہو گا۔ اور قیامت کے دن اس سے فیض یاب ہوگا۔ نبی کریم ﷺ اس کے حق میں بغیر حساب کے جنت کے داخلے کی، بلندی درجات کی یا پھر آگ سے نجات کی سفارش کریں گے۔
”یوم القیامۃ“ یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے، کیوں کہ اس دن بڑے بڑے معاملات انجام پذیر ہوں گے؛ ساری مخلوق اپنی قبروں سے نکل کر وہاں کھڑی ہو گی، بندوں کے خلاف گواہیوں کا دور شروع ہوگا اور لوگ اپنے حق میں فیصلہ سننے کے لیے کھڑے ہوں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10635

 
 
Hadith   1681   الحديث
الأهمية: لا يقبل الله صلاة حائض إلا بخمار


Tema:

اللہ بالغ عورت کی نماز بغیر دوپٹے کے قبول نہیں کرتا۔

عن عائشة -رضي الله عنها- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: «لا يَقْبَل الله صلاة حَائض إلا بِخِمَار».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ بالغ عورت کی نماز بغیر دوپٹے کے قبول نہیں کرتا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لا يجوز للمرأة البَالغة العاقلة أن تُصلي بغير خِمار، أي كاشفة لرأسها وعُنقها، فإن صلَّت كذلك فإن صلاتها باطلة؛ لقوله -صلى الله عليه وسلم-: (لا يقبل الله) ونفي القَبول المُراد به هنا : نفي الصحة والإجزاء.
والمقصود بالحائض هنا: المرأة البَالغة التي بَلغت سِنَّ المحيض بأية علامة من علامات البلوغ، وهي: الحيضُ، أو نزولُ المنيِّ، أو نَباتُ شَعْر العَانة، أو بإتمام خمسة عشر عاماً، وعَبَّر بالحيض؛ لاختصاصه بالنساء؛ ولأنه هو الغالب، وليس المقصود به مَن هي مُتَلَبِّسة بالحيض؛ لأن المرأة ممنوعة من الصلاة في زمن الحيض؛ لثُبوت السُّنة بذلك وإجماع العلماء.
576;الغ و عاقل عورت کے لیےجائز نہیں ہےکہ وہ بغیر دوپٹے کے نماز پڑھے،یعنی اپنے سر اور گردن کو کھول کر نماز پڑھے۔ اگر اس نے اس حالت میں نماز پڑھ لی،تو اسکی یہ نماز باطل ہوگی۔ کیوںکہ آپ ﷺ کافرمان ہے: ”اللہ تعالی قبول نہیں فرماتے“ یہاں نفی قبول سے مراد نماز کی صحت اور اس کی ادائیگی کی نفی ہے۔
اس حدیث میں ”الحائض“ سے مراد وہ بالغ عورت ہے، جو سن حیض کو پہنچ چکی ہو اور اس میں بلوغت کی کوئی بھی علامت ظاہر ہو چکی ہو، یعنی حیض یا منی آ چکی ہو، اس کے زیر ناف بال اگ آئیں ہوں یا وہ پندرہ سال کی ہو گئی ہو۔ آپ ﷺ نے بلوغت کو حیض سے تعبیر کیا؛ کیوں کہ یہ عورتوں کے ساتھ خاص ہے اور عموما یہی (پہلے) ہوتا ہے، تاہم یہاں یہ ہر گز مقصود نہیں کہ وہ عورت حیض میں ہو؛ کیوں کہ حالت حیض میں تو عورت کو نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، جس کا ثبوت حدیث میں ہے اور علما کا اس پر اجماع ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10637

 
 
Hadith   1682   الحديث
الأهمية: إذا كان واسعًا فخالف بين طرفيه، وإذا كان ضيقا فاشدده على حقوك


Tema:

جب کپڑا کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں کو ایک دوسرے کے مخالف کندھوں پر ڈال لو اور جب کپڑا تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لو&   gt   ;


Tema:

عن سعيد بن الحارث قال: سَأَلنَا جابر بن عبد الله عن الصلاة في الثوب الواحد؟ فقال: خَرَجْت مع النبي -صلى الله عليه وسلم- في بعض أَسْفَارِهِ، فَجِئْت لَيْلَةً لِبَعْض أَمْرِي، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي، وعليَّ ثوب واحد، فَاشْتَمَلْتُ به وَصَلَّيْتُ إلى جَانِبِه، فلما انْصَرف قال: «ما السُّرَى يا جابر»؟ فأخْبَرتُه بحاجتي، فلما فَرَغْتُ قال: «ما هذا الِاشْتِمَال الذي رَأيْتُ»؟ قلت: كان ثوب -يعني ضاق-، قال: «فإن كان واسعا فَالتَحِفْ به، وإن كان ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ به».
ولمسلم: «إذا كان واسِعًا فخَالف بين طَرَفَيْه، وإذا كان ضَيِّقًا فَاشْدُدْه عَلَى حَقْوِكَ».

سعید بن حارث کہتے ہیں کہ ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا حکم پوچھا؟ انہوں نے کہا میں نبی ﷺ کے ہمراہ آپ کے کسی سفر میں نکلا، ایک رات اپنی کسی ضرورت سے میں (آپ کے پاس) آیا تو آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا اور میرے (جسم کے) اوپرایک کپڑا تھا، تو میں نے اس سے اشتمال کیا (یعنی اپنے جسم پر لپیٹ لیا) اور آپ کے پہلو میں (کھڑے ہو کر) نماز پڑھی۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا کہ اے جابر! رات کو کيسے آنا ہوا؟ میں نے آپ کو اپنی ضرورت سے باخبر کيا، جب میں فارغ ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا :”یہ اشتمال جو میں نے دیکھا،کیسا تھا؟“ میں نے کہا ایک کپڑا تھا،یعنی تنگ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا:” اگر کپڑا کشادہ ہو تو اسے جسم پر لپیٹ لو، اور اگر تنگ ہو تو اسے تہ بند کی صورت میں باندھ لو۔“ اورصحيح مسلم کی روايت ميں ہے:”جب کپڑا کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں کو ایک دوسرے کے مخالف کندھوں پر ڈال لو (داہنے کنارے کو بائيں کندھے پراور بائيں کنارے کو داہنے کندھے پر ڈٓال لو) اور جب کپڑا تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لو۔“

582;رج جابر -رضي الله عنه- مع النبي -صلى الله عليه وسلم- في بعض أَسْفَارِه، وكانت له حاجة عند النبي -صلى الله عليه وسلم- في إحدى الليالي فجاءه ليخبره بها، فوجده يُصلي، وكان -رضي الله عنه- لابسا ثوبا واحدا، فالتَحَف به ووضع طَرَفَيه على عاتِقِه، وصلى إلى جانبه -صلى الله عليه وسلم-، فلما انصرف من صلاته سأله -صلى الله عليه وسلم- عن السبب الذي دعاه إلى السَّير في هذه الساعة المتأخرة من الليل، فأخبره بحاجته التي جاء من أجلها، فلما فرغ من ذكر حاجته، أنكر عليه -صلى الله عليه وسلم- التحَافه بالثوب؛ لأنه ضيِّق، وأمره أنه إذا كان الثوب واسعا أن يَلُفَّه على جميع جسمه أعلاه وأسفله، فيجعله على كَتِفه، ويردُّ الطَّرف الأيسر على الكَتِف الأيمن، ويَرّد الطرف الأيمن على الكَتِف الأيسر، من أجل أن يكون إزارا ورداء، يُغطي به جميع جسمه، فهذا أمكن في سَتر العورة وأجمل من حيث الهيئة، وإن كان الثوب ضيِّقا لا يمكن أن يكون منه إزارا ورداء، يجعله إزارا وذلك بأن يَشُدَّه على حقوه ويستر أسفل جسده.
580;ابر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ بعض سفر میں نکلے، ایک رات ان کو آپ ﷺ سے کچھ ضرورت پڑگئی، چنانچہ خبر کرنے کے ليے آپ کے پاس آئے تو آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ جابر رضی اللہ عنہ کےجسم پر صرف ایک کپڑا تھا،تو انہوں نے اسے اپنے جسم پر لپیٹ کر اس کے دونوں کناروں کو اپنے کندھے پر ڈال ليا اور آپ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی ۔نماز سے فراغت کے بعد آپ ﷺ نے ان سے دير رات ميں آنے کا سبب پوچھا تو انھوں نے اپنی وہ حاجت بتلائی جس کی وجہ وہ آئے تھے۔ چنانچہ جب اپنی ضرورت بيان کر چکے تو آپ ﷺ نےکپڑے میں لپٹنے کے سلسلے میں ان پر نکیر، کیونکہ وہ تنگ تھا اور انھیں حکم ديا کہ اگر کپڑا کشادہ ہے تو اسے جسم کے اوپر نيچے تمام حصے پر لپيٹ کر کندھے پر ڈال لو۔ بائيں کنارے کو داہنے کندھے پر اور داہنےکنارے کو بائيں کندھے پر ڈال لو تاکہ ازار اور چادر بن جائے اور پورا جسم ڈھک جائے۔ تو يہ سب سےزيادہ ساتر اور ہيئت کے لحاظ سے سب سے خوبصورت ہے۔اور اگر کپڑا اتنا تنگ ہوکہ اس سے ازار اور چادر دونوں نہ بن سکے تو اس کو اپنی کمر پر باندھ کر ازار بنا لو تاکہ بدن کا نچلا حصہ ڈھک جائے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10638

 
 
Hadith   1683   الحديث
الأهمية: لا يصلي أحدكم في الثوب الواحد ليس على عاتقيه شيء


Tema:

تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کپڑے کا کچھ بھی حصہ اس کے کندھوں پر نہ ہو۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: «لا يصلِّي أحَدُكُم في الثَّوب الواحد ليس على عَاتِقَيْه شيء».

ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کپڑے کا کچھ بھی حصہ اس کے کندھوں پر نہ ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
المطلوب من المصلي أن يكون على أحسن هيئة؛ فقد قال -تعالى-: {يا بني آدم خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كل مَسجدٍ} .
ولذا فإن النبي -صلى الله عليه وسلم- حثَّ المصلي، أن لا يصلي وعاتقاه مكشوفان مع وجود ما يسترهما أو أحدهما به، ونهى عن الصلاة في هذه الحال وهو واقف بين يدي الله يناجيه.
وستر العاتقين كليهما لهذا الحديث واجب مع القدرة، ورواية: (عاتقه) جنس المراد به العاتقين.
606;مازی سے مطلو ب ہے کہ وہ اچھی سے اچھی ہیئت اختیار کرے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ ”اے اوﻻد آدم! تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو“ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے نمازی کو ترغیب دی کہ وہ اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے کھلے ہوں، حالاں کہ اس کے پاس اتنا کپڑا ہو، جس سے وہ ان دونوں کو یا ان میں سے ایک کو چھپا سکتا ہو۔ آپ ﷺ نے منع فرمایا کہ نمازی اس حال میں اللہ کے سامنے نماز پڑھنے اور اس سے مناجات کے لئے کھڑا ہو۔
اس حدیث کی رو سے اگر قدرت ہو تو دونوں کندھوں کو چھپانا واجب ہے۔ ایک روایت میں ”عَاتِقِهِ“ یعنی ایک کندھے کا ذکر ہے، جو کہ جنس ہے اور اس سے مراد دونوں کندھے ہی ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10639

 
 
Hadith   1684   الحديث
الأهمية: كنا مع النبي -صلى الله عليه وسلم- في سفر في ليلة مظلمة، فلم ندر أين القبلة، فصلى كل رجل منا على حياله، فلما أصبحنا ذكرنا ذلك للنبي -صلى الله عليه وسلم-، فنزل: (فأينما تولوا فثم وجه الله)


Tema:

ہم ایک تاریک رات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھےتو ہمیں پتہ نہیں چل سکا کہ قبلہ کس طرف ہے۔ چنانچہ ہم میں سے ہر شخص نے اپنی سمت کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لی۔ جب ہم نے صبح کی تو نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا۔ چنانچہ (اس موقع پر) یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّـهِ﴾ ”تم جس طرف رخ کر لو اللہ کا چہرہ اسی طرف ہے۔“

عن عامر بن رَبِيعة -رضي الله عنه- قال: كنَّا مع النبي -صلى الله عليه وسلم- في سَفَر في لَيلة مُظْلِمَةٍ، فلم نَدْرِ أين القِبْلَة، فصلى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا على حِيَالِه، فلمَّا أَصْبَحْنَا ذَكرنا ذلك للنبي -صلى الله عليه وسلم-، فنزل: ﴿فأينما تولوا فثم وجه الله﴾ [البقرة: 115].

عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک تاریک رات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھےتو ہمیں پتہ نہیں چل سکا کہ قبلہ کس طرف ہے۔ چنانچہ ہم میں سے ہر شخص نے اپنی سمت کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لی۔ جب ہم نے صبح کی تو نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا۔ چنانچہ (اس موقع پر) یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّـهِ﴾ ”تم جس طرف رخ کر لو اللہ کا چہرہ اسی طرف ہے“۔ (سورہ بقرہ: 115)

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- مع أصحابه في سَفر وكانت الليلة مُظلمة، ولم يتيقنوا جهة القِبْلة، فصلَّوا باجتهادهم، فلما أصبحوا إذا هُم قد صلُّوا إلى غير القِبْلَة، فأخبروا النبي -صلى الله عليه وسلم- بذلك؛ فأنزل الله -تعالى-: (ولله المشرق والمغرب فأينما تولوا فَثَمَّ وجْهُ الله) [ البقرة : 115 ].
606;بی ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور رات بہت اندھیری تھی۔ صحابہ کرام کو قبلے کی سمت کا یقین حاصل نہیں ہوا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے اجتہاد کے مطابق نماز پڑھ لی، جب صبح ہوئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ انہوں نے قبلے کی سمت کے علاوہ دوسری سمت رُخ کرکے نماز پڑھی تھی۔ چنانچہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی خبر دی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿وَلِلَّـهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ، فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّـهِ﴾ ”اور مشرق اور مغرب کا مالک اللہ ہی ہے۔ تم جدھر بھی منھ کرو ادھر ہی اللہ کا منھ ہے“۔ (سورہ بقرہ: 115)

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10641

 
 
Hadith   1685   الحديث
الأهمية: ما بين المشرق والمغرب قبلة


Tema:

مشرق ومغرب کے مابین جو کچھ ہے سب قبلہ ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «ما بَيْن المَشْرِق والمَغْرِب قِبْلة».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مشرق ومغرب کے مابین جو کچھ ہے سب قبلہ ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى حديث: "ما بَيْن المَشْرِق والمَغْرِب قِبْلة" هذا بيان منه -صلى الله عليه وسلم- أن ما بين جِهة المَشرق والمغرب قِبْلة للمصلين، وهذا خطاب لأهل المدينة ومن وافقهم في الجهة؛ لأنهم يقعون شمالي الكعبة، فالقبلة بالنِّسبة لأهل المدينة ومن حاذاهم من أهل الشام، وأهل جهة الشمال يستقبلون ما بين المشرق والمغرب، يعني تكون وجهتهم إلى الجنوب حيث الكعبة، واليمن وما والاها من جهة الجنوب يتوجهون إلى الشمال بين المشرق والمغرب، أما أهل المشرق والمغرب فتكون القبلة بالنِّسبة لهم ما بين الشمال والجنوب؛ لأن الجِهات الأصلية أربع: الشمال، الجنوب، الشرق، الغرب، فإذا كان المصلَّي عن الكعبة شرقاً أو غرباً  كانت قبلته ما بين الشمال والجنوب، وإذا كان عن الكعبة شمالاً أو جنوباً كانت قبلته ما بين المشرق والمغرب .
وهذا من تيسير الله تعالى على عباده؛ لأنه لو طلب منهم أن يستقبلوا عين الكعبة مطلقا ما صحَّت صلاة أحد، فالانحراف اليسير عن القبلة في حَق بَعُد عنها ولم يَرها غير مؤثر ما لم يَستدبر الكعبة أو يَجعلها على جَنْبه فلا تصح في هذه الحال.
581;دیث کا مفہوم: ”مشرق و مغرب کے مابین ہے جو کچھ ہے وہ قبلہ ہے“ اس حدیث میں آپ ﷺ یہ بیان فرما رہے ہیں کہ مشرق و مغرب کی جہت کے ما بین نمازیوں کے لیے قبلہ ہے۔ یہ خطاب اہلِ مدینہ اور جو ان سے موافقت رکھتے ہیں ان سے ہے، کیوں کہ وہ کعبہ سے شمالی جانب واقع ہے۔ تو اہل مدینہ اور ان کے اردگرد اہل شام وغیرہ کی مناسبت سے یہ جہت ان کے لیے قبلہ ہے۔ شمال والے مشرق و مغرب کے مابین کے طرف قبلہ رو ہوں گے۔ یعنی کعبہ کی مناسبت سے ان کے رخ جنوب کی طرف ہوں گے جب کہ یمن اور اس سے ملحقہ جنوبی علاقے والے شمال کی طرف مشرق و مغرب کے مابین رُخ کریں گے ۔جب کہ اہل مشرق ومغرب کے اعتبار سے ان کا قبلہ شمال و جنوب کے مابین ہوگا ہے۔ اس لیے کہ اصلجہتیں چار ہوتی ہیں: شمال، جنوب، مشرق اور مغرب۔ جب نمازی کعبہ سے مشرق یا مغرب کی سمت میں ہو گا تو اس کا قبلہ شمال و جنوب کے مابین ہوگا اور اگر کعبہ سے شمال اور جنوب کی طرف ہو گا تو اس کا قبلہ مشرق و مغرب کے مابین ہو گا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے بندوں پر آسانی ہے کیوں کہ اگر وہ ان سے عین کعبہ کی طرف منہ کرنے کا تقاضا کرتا تو کسی ایک کی بھی نماز درست نہ ہوتی۔ لہذا دور رہنے والوں اور دکھائی نہ دینے والوں کے لیے قبلہ سے تھوڑا انحراف کرنا غیر موثر مانا گیا، اِلاّ یہ کہ وہ کعبہ سے گھوم جائے، یا اسے پشت کی طرف کرلے، تو ایسی صورت میں اس کا (یہ نماز پڑھنا)صحیح نہ ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10642

 
 
Hadith   1686   الحديث
الأهمية: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يصلي على راحلته، حيث توجهت فإذا أراد الفريضة نزل فاستقبل القبلة


Tema:

رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، وہ جس طرف بھی آپ کو لیے پھرتی۔ لیکن جب فرض (نماز پڑھنے) کا ارادہ کرتے تو سواری سے اتر پڑتے اور قبلہ کی طرف منہ کرلیتے۔

عن جابر -رضي الله عنه- قال: «كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يُصلِّي على راحِلَته، حيث تَوَجَّهَت فإذا أراد الفَرِيضة نَزل فاسْتَقبل القِبْلة».

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، وہ جس طرف بھی آپ کو لیے پھرتی۔ لیکن جب فرض (نماز پڑھنے) کا ارادہ کرتے تو سواری سے اتر پڑتے اور قبلہ کی طرف منہ کرلیتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- لا يَتكلف النُّزول من فوق راحِلته، بل يصلي عليها، وهذا إذا كان في سَفَر، ويؤيده ما رواه ابن عمر وغيره أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يُصلي في السَّفر على راحِلته، حيث تَوَجَهت به. رواه البخاري، فإذا كان -صلى الله عليه وسلم- على راحلته، فإنه يُصلي حيث كان وجْه رِكَابه، سواء كان في جَهة القبلة أو غير جهة القِبلة، فإذا كانت الصلاة مفروضة، وهي الصلوات الخمس فإنه يَنزل عن دَابته، ويصلي على الأرض مُستقبلًا القِبْلة، وفي حديث ابن عمر -رضي الله عنهما-: (ولم يكن يَصْنَعُه -أي الصلاة على الدَّابة- في المكْتُوبة) متفق عليه.
فصلاة الفريضة لا بد من إيقاعها على الأرض، إلا لعُذر شَرعي كمَطر أو خَوف عدو فلا بأس أن يؤديها على راحِلته، أو مرض فيصليها على سريره جالسًا، وبالأخص إذا خشي خروج وقتها، ويؤيده أدلة التيسير والتخفيف ورفع الحرج عن هذه الأُمَّة ومن ذلك قوله -تعالى-: (لا يكلف الله نفسًا إلا وسعها) وقوله -صلى الله عليه وسلم-: (إذا أمرتكم بأمر فأتوا منه ما استطعتم).
606;بی ﷺ اپنی سواری کے اوپر سے اترنے کی زحمت نہیں کرتے تھے بلکہ اسی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ لیکن ایسا اس وقت کرتے جب آپ ﷺ سفر میں ہوتے تھے۔ اس بات کی تائید ابن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ کی روایت کردہ حدیث سے ہوتی ہے کہ نبی ﷺ سفر میں اپنی سواری ہی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے جس طرف بھی وہ آپ کو لے کر چلتی۔ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ چنانچہ جب آپ ﷺ اپنی سواری پر ہوتے تھے تو اسی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھےاس کا رخ چاہے جس طرف بھی ہوتا، چاہے اس کا رخ قبلہ کی طرف ہوتا یا قبلہ کے علاوہ کی طرف۔لیکن جب فرض نماز ہوتی،اور وہ پانچ نمازیں ہیں تو آپ ﷺ اپنی سواری سے نیچے اترتے اور زمین پر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں ہے کہ: ”آپ ﷺ ایسا، (یعنی سواری پر نماز ادا کرنا)، فرض نماز میں نہیں کیا کرتے تھے“۔ (متفق علیہ)
لہٰذا فرض نماز کے لیے ضروری ہے کہ اسے زمین پر ادا کیا جائے، الا یہ کہ کوئی شرعی عذر جیسے بارش یا دشمن کا خوف ہو، تو ایسی صورت میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اپنی سواری ہی پر فرض نماز ادا کر لے یا پھر مریض ہونے کی صورت میں اپنی چارپائی ہی پر نماز پڑھ لے، خصوصاً اس وقت جب نماز کا وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو۔ اس کی تائید ان دلائل سے ہوتی ہے جن میں آسانی اور سہولت پیدا کرنے اور اس امت سے تنگی دور کرنے کا بیان ہے۔ انہی دلائل میں سے ایک دلیل اللہ تعالی کا یہ قول ہے کہ: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ ”اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا“، اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: ”جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو مقدور بھر اسے انجام دو“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10643

 
 
Hadith   1687   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان إذا سافر فأراد أن يتطوع استقبل بناقته القبلة, فكبر، ثم صلى حيث كان وجَّهه رِكابه


Tema:

رسول اللہ ﷺ جب سفر پر جاتے اور آپ کا نفل نماز پڑھنے کا ارادہ ہوتا تو آپ ﷺ سواری کا رخ قبلے کی طرف کر کے تکبیر کہتے اور نماز شروع کردیتے (بعد میں) چاہے سواری کا رخ کدھر بھی ہوتا۔

عن أنس -رضي الله عنه-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان إذا سافر فَأراد أن يَتَطَوَّع استقْبَل بِنَاقَتِه القِبْلَة, فكبَّر، ثم صلَّى حيث كان وجَّهَه رِكَابُهُ.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر پر جاتے اور آپ کا نفل نماز پڑھنے کا ارادہ ہوتا تو آپ ﷺ سواری کا رُخ قبلے کی طرف کرکے تکبیر کہتے اور نماز شروع کر دیتے (بعد میں) چاہے سواری کا رُخ کدھر بھی ہوتا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا سافر وأراد أن يصلي نافلة استقبل القِبلة بناقته عند تكبيرة الأحرام، ثم يُصلِّي حيث كانت جِهة سَفَرِه.
606;بی کریم ﷺ جب حالتِ سفر میں نفلی نماز ادا کرنا چاہتے تو تکبیرِ تحریمہ کے وقت اپنی سواری کا منہ قبلہ کی طرف کر لیتے پھر اس کے بعد اس کا رُخ جس طرف بھی ہو جاتا آپ ﷺ اپنی نماز پڑھتے رہتے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10644

 
 
Hadith   1688   الحديث
الأهمية: الأرض كلها مسجد إلا المقبرة والحمام


Tema:

زمین ساری کی ساری سجدہ گاہ ہے، سوائے قبرستان اور غسل خانے کے۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- مرفوعًا: «الأرض كُلُّها مسجد إلا المَقْبَرة والحَمَّام».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زمین ساری کی ساری سجدہ گاہ ہے، سوائے قبرستان اور غسل خانے کے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الأرض كلها موضع للصلاة؛ إلا المكان الذي يدفن فيه الموتى، وتشمل كل ما يحوطه سور المقبرة، والموضعُ الَّذي يُغْتَسَل فيه بالماء الحَمِيم من أجل الاستشفاء.
وقال النووي -رحمه الله-: "الصَّلاَةُ في مأوى الشيطان مكروهٌ بالاتفاق، وذلك مثل مواضع الخمر، والحَانَةِ، ومواضعِ المُكُوس، ونحوها من المعاصي الفاحشة، والكنائس، والبِيَعَ، والحُشُوش، ونحو ذلك". والحشوش أماكن قضاء الحاجة.
587;اری زمیں جائے نماز ہے، سواۓ اس جگہ کے جہاں مردوں کو دفنایا جاتا ہے۔ اس میں وہ تمام جگہ شامل ہے، جسے قبرستان کی دیوار نے گھیر رکھا ہو۔ اس جگہ بھی نماز پڑھنا ممنوع ہے، جہاں بغرض علاج گرم پانی سے غسل کیا جاتا ہو۔
علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شیطان کی آماج گاہ میں نماز پڑھنا بالاتفاق مکروہ ہے، مثلا شراب گاہوں، شرابہ خانوں، ٹیکس وصول کرنے کی جگہوں اور اس طرح کے دیگر گناہوں کے اڈوں پر اور گرجا گھروں، نصاری کی عبادت گاہوں اورقضائے حاجت کے مقامت وغیرہ میں۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10645

 
 
Hadith   1689   الحديث
الأهمية: لا تصلوا إلى القبور، ولا تجلسوا عليها


Tema:

نہ قبروں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو۔

عن مَرْثَد الغَنَويّ -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال:«لا تصلُّوا إلى القُبُور، ولا تجلِسُوا عليها».

ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”نہ قبروں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- عن الصلاة إلى القبور؛ بأن يكون القبر في جهة المصلي، وكذلك نهي عن الجلوس على القبر، ومن ذلك إهانتها بوضع القدم عليها، أو قضاء الحاجة عليها، وكل ذلك محرم.
606;بی ﷺ نے قبروں کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا بایں طور کہ قبر نمازی کے سامنے ہو اور اسی طرح آپ ﷺ نے قبر پر بیٹھنے سے بھی منع کیا۔ اس ممانعت میں قبر پر پاؤں رکھ کر اس کی اہانت کرنا اور اس پر قضائے حاجت کرنا بھی شامل ہے۔ یہ سب کچھ کرنا حرام ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10647

 
 
Hadith   1690   الحديث
الأهمية: إذا جاء أحدكم إلى المسجد فلينظر: فإن رأى في نعليه قذرًا أو أذى فليمسحه وليصل فيهما


Tema:

جب تم میں سے کوئی مسجد آئے، تو دیکھ لیا کرے، اگر اسے اپنے جوتوں میں کوئی گندگی یا ناپاکی نظر آئے، تو اسے رگڑ کرصاف کر لے اور ان میں نماز پڑھ لے۔

عن أبي سعيد الخُدْري -رضي الله عنه- قال: بَينما رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يصلِّي بأصحابه إذ خَلع نَعْلَيه فوضَعَهُما عن يساره، فلمَّا رأى ذلك القوم أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ، فلمَّا قَضى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صلاته، قال: «ما حَمَلَكُمْ على إِلقَاءِ نِعَالِكُم»، قالوا: رأيْنَاك أَلقَيْت نَعْلَيْك فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: إن جبريل -صلى الله عليه وسلم- أتَانِي فأخْبَرنِي أن فيهما قَذَرًا -أو قال: أَذًى-، وقال: إذا جاء أحدكم إلى المسجد فلينظر: فإن رَأى في نَعْلَيه قَذَرا أو أَذًى فَلْيَمْسَحْه وليُصَلِّ فيهما.

ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ ﷺ نے اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں جانب رکھ دیے۔ جب لوگوں نے دیکھا، تو انھوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ جب رسول اللہﷺ نے نماز پوری کر لی، تو آپ ﷺ نے پوچھا: تمھیں کس چیز نے جوتے اتارنے پر ابھارا؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ (ﷺ )کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا، تو ہم نے بھی اتار دیے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس جبریل آئے تھے اور انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ آپﷺ کے جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہے۔ -یا پھر کہا کہ کوئی ناپاک چیز لگی ہوئی ہے- پھر آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے، تو دیکھ لیا کرے۔ اگر اسے اپنے جوتوں میں کوئی گندگی یا ناپاکی نظر آئے، تو اسے رگڑ کرصاف کر لےاور ان میں نماز پڑھ لے۔

صلى النبي -صلى الله عليه وسلم- بأصحابه ذات يوم، ثم خَلع نَعليه فجأةً فوضَعَهُما عن يساره، فلما رأى الصحابة -رضي الله عنهم- ذلك، خلعوا نِعالهم، تأسيًا ومتابعةً للنبي -صلى الله عليه وسلم-، فلما فَرغ -صلى الله عليه وسلم- من صلاته والتَفَت إليهم رآهم على حالة غير الحال التي دخلوا فيها الصلاة، فسألهم عن سَبب خَلع نعالهم.
فأجابوه بقولهم: "رأيْنَاك أَلقَيْت نَعْلَيْك فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا" أي: متابعة لك؛ لأنهم ظنُّوا -رضي الله عنهم- نَسخ إباحة الصلاة بالنَّعال، فبين لهم -عليه الصلاة والسلام- السبب من خلع نعليه بقوله: "إن جِبريل -صلى الله عليه وسلم- أتَانِي فأخْبَرنِي أن فيهما قَذَرا -أو قال: أَذًى-" يعني: أن جبريل -عليه السلام- جاء إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- وهو في صلاته فأخبره؛ بأن نعاله لا تصلح الصلاة فيهما لوجود القذر أو الأذى -هذا شك من الراوي-

579;م قال -صلى الله عليه وسلم-: "إذا جاء أحدكم إلى المسجد فلينظر: فإن رَأى في نَعْلَيه قَذَرا أو أَذًى فَلْيَمْسَحْه وليُصَلِّ فيهما" إذا أراد دخولَ المسجد بهما والصَّلاةَ فيهما، فالواجب عليه النَظَرُ فيهما: فإن رأى فيهما قذرًا، أو أذًى، مسحَهُ بالأرض أو بغيرها، ليزيل ذلك، ثمَّ صلَّى بهما، وليس معنى هذا أن الإنسان لابد أن يُصلي فيهما، فقد يُصلي فيها وقد لا يصلي، ولكن إذا أراد أن يُصلي بهما تعين عليه التأكد من نظافتهما، ثم صلى بهما إن شاء،
ومن صلَّى ولم يتنبه للنجاسة، سواء كانت في نعْلِه أو شِمَاغه أو قُبعته أو ثوبه، ثم عَلم بها في أثناء الصلاة بادر إلى خلعه...فإن كانت في ثوبه أو سرواله وأمكن التَّخَلص منها مع بقاء ما يَستر عورته خَلعه، ومضى في صلاته ولا إعادة عليه وإن كان لا يتمكن من خلعه إلا بكشف عورته قطع صلاته، وستر عورته وأعاد الصلاة.
575;یک دن نبی کریم ﷺ نے صحابۂ کرام کو نماز پڑھائی۔ (دوران نماز) آپ ﷺ نے اچانک اپنے جوتےاتار کر اپنی بائیں جانب رکھ لیے۔ جب صحابہ نے یہ دیکھا تو انھوں نے آپﷺ کی اتباع اور پیروی کرتے ہوئے اپنے جوتے اتار دیے۔رسول اللہﷺ جب نماز سے فارغ کر ان کی طرف متوجہ ہوئے، تو انھیں جس حالت میں نماز میں داخل ہوئے تھے، اس سے الگ حالت میں پایا۔ ان سے اس کا سبب دریافت کیا۔
تو انھوں نے جواب دیا: ”ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے جوتے اتار دیے ہیں، تو ہم نے بھی اتار دیے“ یعنی آپ کی اتباع کرتے ہوئے۔ انھوں نے سمجھا کہ شاید جوتوں سمیت نماز پڑھنے کا جواز منسوخ ہو گیا ہے۔ رسول اللہﷺنے انھیں اپنے جوتے اتارنے کا سبب بیان کرتےہوئے فرمایا: ”میرے پاس جبریل آئے تھے اور انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ میرے جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہے۔ -یا پھر کہا کہ کوئی ناپاک چیز لگی ہوئی ہے“ یعنی جبریل نبی کریمﷺکے پاس حالت نماز میں تشریف لائے اور آپ ﷺکو اطلاع دی کہ آپ کے جوتوں میں گندگی یا ناپاکی -اس میں راوی کو شک ہے- لگنے کی وجہ سے ان میں نماز کی ادائیگی درست نہیں۔ پھر رسول اللہﷺنے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد آئے، تو دیکھ لیا کرے۔ اگر اسے اپنے جوتوں میں کوئی گندگی یا ناپاکی نظر آئے، تو اسے رگڑ کرصاف کر لے اور ان میں نماز پڑھ لے“۔ جب کوئی شخص جوتوں سمیت مسجد میں آئے اور جوتوں سمیت نماز پڑھنا چاہے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے جوتوں کودیکھ لے۔ اگر ان میں گندگی یا ناپاکی لگی ہو، تو انھیں زمین یا کسی اور چیز سے رگڑ کر ناپاکی کو زائل کر لے اور پھر ان کے ساتھ نماز پڑھ لے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جوتوں سمیت نماز پڑھنا واجب ہے، بلکہ پڑھ بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ لیکن اگر ارادہ جوتوں سمیت نماز پڑھنے کا ہے، تو پھر ضروری ہوگا کہ پہلے ان کی نظافت کا تیقن کر لے، پھر نماز پڑھے۔
جس نے نماز شروع کر دی اور نجاست کا خیال نہ رہا؛ چاہے نجاست اس کے جوتوں، چوغے، ٹوپی، یا کپڑوں میں ہو، پھر دوران نماز اس سے آگاہ ہوگیا، تو فورا اسے اتار دے۔ نجاست اگر اس کے کپڑے یا پاجامے میں ہو اور ستر عورت کے ساتھ اسے ہٹانا ممکن ہو، تو اسے اتار دے اور نماز جاری رکھے۔ نماز دوہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اگر اس کو اتارنے سے نماز میں ستر کھلنے کا اندیشہ ہو تو پھر نماز توڑ دے ،اپنا ستر ڈھانکے اور نماز کو دوہرائے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10648

 
 
Hadith   1691   الحديث
الأهمية: إذا وطئ الأذى بخفيه، فطهورهما التراب


Tema:

جب کوئی شخص اپنے موزوں سے نجاست کو روندے تو انھیں مٹی پاک کردیتی ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إذا وَطِئَ الأَذَى بِخُفَّيْه، فَطَهُورُهُمَا التُّرَاب».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنے موزوں سے نجاست کو روندے تو انھیں مٹی پاک کردیتی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا لبِس الإنسان خُفًّا أو نَعْلا أو غيرهما مما يَستر القَدم، ثم وطِئَ نَجاسة، ثم تابع المَشْي على النَّعل أو الخُف المُتنجس في مكان طاهر، أو دَلَكه بالتُّراب فقد طهر خفاه، وجازت الصلاة بهما.
580;ب انسان نے موزے، جوتے یا ان کے علاوہ کوئی اور ایسی چیز پہن رکھی ہو جو پاؤں کو ڈھانپتی ہو اور پھر اس میں (راہ چلتے) گندگی لگ جائے اور اسی موزے یا جوتے کے ساتھ پاک جگہ پر (مزید آگے) چلے یا اس کو مٹی پر رگڑ لے تو اس کے وہ موزے پاک ہو جائیں گے اور ان میں نماز پڑھنا جائز ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10649

 
 
Hadith   1692   الحديث
الأهمية: إن هذه الصلاة لا يصلح فيها شيء من كلام الناس، إنما هو التسبيح والتكبير وقراءة القرآن


Tema:

بے شک نماز میں لوگوں کی گفتگو (دنیوی بات چیت) میں سے کوئی چیز درست نہیں ہے ، بلکہ نماز تو صرف تسبیح، تکبیر اور قرآن کریم پڑھنے کا نام ہے۔

عن معاوية بن الحَكم السُّلَمي -رضي الله عنه- قال: بَيْنَا أنا أُصلِّي مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، إذ عَطَس رجُل من القوم، فقلت: يَرْحَمُكَ الله، فَرَمَانِي القوم بأبْصَارهم، فقلت: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهْ، ما شَأنُكُم تنظرون إليَّ؟، فجعلوا يضربون بأيْدِيهم على أفْخَاذِهم، فلما رأيتهم يُصَمِّتُونَنِي لكنِّي سَكَتُّ، فلما صلَّى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فَبِأَبِي هو وأمِّي، ما رأيت معَلِّما قَبْلَه ولا بَعده أحْسَن تَعليما منه، فوالله، ما كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبني وَلَا شَتَمَنِي، قال: «إن هذه الصلاة لا يَصلح فيها شيء من كلام الناس، إنما هو التَّسبيح والتَّكبير وقراءة القرآن»، أو كما قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قلت: يا رسول الله، إنِّي حديث عَهد بِجَاهلية، وقد جاء الله بالإسلام، وإن مِنَّا رجَالا يَأتون الكُهَّان، قال: «فلا تَأْتِهِم» قال: ومِنَّا رجَال يَتَطَيَّرُونَ، قال: ذَاك شَيء يَجِدونه في صُدورهم، فلا يَصُدَّنَّهُمْ -قال ابن الصَّبَّاحِ: فلا يَصُدَّنَّكُم- قال قلت: ومِنَّا رجال يَخُطُّونَ، قال: «كان نَبِي من الأنبياء يَخُطُّ، فمن وافق خَطَه فَذَاك»، قال: وكانت لي جَارية تَرعى غَنَما لي قِبَل أُحُدٍ والْجَوَّانِيَّةِ، فَاطَّلَعْتُ ذات يوم فإذا الذِّيب قد ذهب بِشَاة من غَنَمِهَا، وأنا رجُلٌ من بَني آدم، آسَف كما يَأْسَفُونَ؛ لكني صَكَكْتُهَا صَكَّة، فَأَتَيْت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فَعظَّم ذلك عليَّ، قلت: يا رسول الله أفلا أُعْتِقُهَا؟ قال: «ائْتِنِي بها»، فَأَتَيْتُهُ بها، فقال لها: «أَيْن الله؟» قالت: في السَّماء، قال: «من أنا؟»، قالت: أنت رسول الله، قال: «أَعْتِقْهَا، فَإِنها مُؤْمِنَةٌ».

معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران جماعت میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے ”یَرحَمُکَ اللہ“ کہہ دیا۔ اس پر لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا: میری ماں مجھے گم پائے، تم مجھے کیوں گھور رہے ہو؟ یہ سن کر وہ لوگ اپنی رانوں پر اپنے ہاتھ مارنے لگے۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ لوگ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہو گئے، میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان جائیں، میں نے آپ ﷺ سے پہلے اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ سے بہتر کوئی معلِّم دیکھا۔ اللہ کی قسم نہ آپ ﷺ نے مجھے جھڑکا اور نہ ہی مجھے مارا۔ آپ ﷺ نے بس اتنا فرمایا کہ نماز میں لوگوں کی بات چیت درست نہیں ہے۔ نماز تو تسبیح و تکبیر اور قرآن پڑھنے کا نام ہے۔یارسولﷺ نے اس جیسی بات کہی۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے جاہلیت کو ترک کیے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام بھیجا ہے (اور مجھے اس سے شرف یاب کیا ہے) ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں (اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟) آپ ﷺ نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جاؤ۔ میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو بدشگونی لیتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں (ایک طرح کا وہم ہے) یہ وہم انھیں ان کے کسی کام سے نہ روکے ۔ تم اس طرح نہ کرو۔ پھر میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: انبیائے کرام میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھے۔ چنانچہ جس آدمی کا لکیر کھینچنا اس کے مطابق ہو وہ صحیح ہے۔ راوئ حدیث معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے علاقوں میں میری بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک دن میں وہاں گیا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا میری ایک بکری کو اٹھا کر لے گیا ہے۔ آخر میں بھی انسانوں میں سے ایک انسان ہوں۔ مجھے بھی غصہ آتا ہے جس طرح کہ دوسرے لوگوں کو غصہ آجاتا ہے۔ میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ مجھ پر اسے تھپڑ مارنا بہت گراں گزرا تھا۔ میں نے عرض کیاکہ کیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے میرے پاس لاؤ۔ میں اسے آپ ﷺ کے پاس لے آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے؟ اس لونڈی نے جواب دیا: آسمان میں۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس لونڈی نے کہا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دے کیونکہ یہ لونڈی مومنہ ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر معاوية بن الحكم السُّلَمي -رضي الله عنه- عما حصل له عندما كان يصلي مع النبي -صلى الله عليه وسلم- في إحدى صلوات الجماعة، إذ سَمع رجلا عَطَس فَحَمِد الله، فَبَادره -رضي الله عنه-: بقوله: (يَرحمك الله) على أصله، وهو قوله -صلى الله عليه وسلم-: (إذا عَطس أحدكم فليقل: الحمد لله، وليقل له أخوه أو صاحبه يرحمك الله)، ولم يعلم -رضي الله عنه- أن استحباب تشميت العاطس إنما هو في غير الصلاة.
"فَرَمَانِي القوم بأبْصَارهم" أي: أشاروا إليه بأبصارهم من غير كلام، ونظروا إليه نظر زَجر، إلا أنه -رضي الله عنه- لم يعلم سبب إنكارهم عليه، فما كان منه إلا أن خاطبهم بقوله: "وَاثُكْلَ أُمِّيَاهْ"، والمعنى: وافقدها لي فإني هَلكت. 
ما شَأنُكُم؟ أي: ما حالكم وأمركم."تنظرون إليَّ" أي: لماذا تنظرون إليَّ نظر الغَضَب؟.
"فجعلوا يضربون بأيْدِيهم على أفْخَاذِهم" أي: أنهم زادوا في الإنكار عليه بضرب الأيدي على الأفخاذ، ففهم منهم أنهم يريدون منه أن يَسكت، وأن ينتهي عن الكلام، فَسَكت، "فلما رأيتهم يُصَمِّتُونَنِي لكنِّي سَكَتُّ" والمعنى: لما عرفت أنهم يأمرونني بالسكوت عن الكلام، عَجبت لجهلي بقبح ما ارتكبت، ومُبالغتهم في الإنكار علي وأردت أن أُخَاصِمهم، لكني سكت امتثالاً؛ لأنهم أعلم مني، ولم أعمل بمقتضى غضبي، ولم أسأل عن السبب. 


"فلما صلَّى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-" أي: انتهى وفرغ من صلاته.


"فَبِأَبِي هو وأمِّي" أي: مُفَدَّى بأبي وأمِّي، وهذا ليس بقسم، وإنما هي تَفدية بالأب والأم.
"ما رأيت معَلِّما قَبْلَه ولا بَعده أحْسَن تَعليما منه"؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- لم يعنفه ولم ينهره، بل بَيَّن له الحكم الشرعي بطريقة أدعى للقبول والإذعان.
"فوالله، ما كَهَرَنِي" لم ينهَرني ولم يغلظ عليَّ بالقول.
"وَلَا ضَرَبني" لم يؤدبني بالضرب على ما اقترفته من مخالفة.
"وَلَا شَتَمَنِي" ما أغلظ علي بالقول بل بَيَّن لي الحكم الشرعي بِرفق، حيث قال لي: "إن هذه الصلاة لا يَصلح فيها شيء من كلام الناس، إنما هو التَّسبيح والتَّكبير وقراءة القرآن"، يعني: لا يحل في الصلاة كلام الناس الذي هو التَّخاطب فيما بينهم وقد كان ذلك سَائغا في أول الإسلام ثم نسخ، وإنما الذي في الصلاة: التسبيح والتكبير وقراءة القرآن.
"قلت: يا رسول الله، إنِّي حديث عَهد بِجَاهلية" يعني: قريب عهد بجاهلية، والجاهلية: تُطلق على ما قبل ورود الشَّرع سُموا جاهلية؛ لكثرة جهالاتهم وفُحْشِهم. 
"وقد جاء الله بالإسلام" يعني: انتقلت عن الكفر إلى الإسلام، ولم أعرف بعد أحكام الدِّين.
"وإن مِنَّا رجَالا يَأتون الكُهَّان" أي: إن من أصحابه من يَأتي الكُهان، ويسألهم عن أمور غيبية تحدث في المستقبل.
"فقال: فلا تَأْتِهِم" وإنما نُهي عن إتيان الكُهان؛ لأنهم يتكلمون في أمور غيبية قد يصادف بعضها الإصابة فيخاف الفتنة على الإنسان بسبب ذلك؛ لأنهم يلبِّسون على الناس كثيرا من أمر الشرائع، وقد تظاهرت الأحاديث الصحيحة بالنهي عن إتيان الكُهان وتصديقهم فيما يقولون، وتحريم ما يعطون من الحلوان.
"قال: ومِنَّا رجَال يَتَطَيَّرُونَ"، التَّطير : التَّشاؤم بِمرئي، أو مسموع، أو زمان، أو مكان.
وكانت العرب معروفة بالتَّطير، حتى لو أراد الإنسان منهم خيرًا، ثم رأى الطَّير ذهبت يمينًا أو شمالًا حسب ما كان معروفًا عندهم، تجده يتأخر عن هذا الذي أراده، ومنهم من إذا سمع صوتًا أو رأى شخصًا تشاءم، ومنهم من يتشاءم من شهر شوال بالنسبة للنكاح، ومنهم من يتشاءم بيوم الأربعاء، أو بشهر صفر، وهذا كله مما أبطله الشرع؛ لضرره على الإنسان عقلًا وتفكيرًا وسلوكًا، وكون الإنسان لا يبالي بهذه الأمور، هذا هو التوكل على الله.
"قال: ذَاك شَيء يَجِدونه في صُدورهم، فلا يَصُدَّنَّهُمْ" الطِّيَرة شيء يجدونه في نفوسهم ضرورة، ولا عَتب عليهم في ذلك؛ فإنه غير مُكتسب لهم فلا تَكليف به، ولكن لا يمتنعوا بسببه من التَّصرف في أمورهم، فهذا هو الذي يَقدرون عليه وهو مُكتسب لهم، فيقع به التَّكليف، فنهاهم النبي -عليه الصلاة والسلام- عن العمل بالطِّيرة، والامتناع من تصرفاتهم بسببها، وقد تظاهرت الأحاديث الصحيحة في النَّهي عن التَّطير، والطِّيرة هنا: محمولة على العمل بها، لا على ما يجده الإنسان في نفسه من غير عمل على مقتضاه عندهم.   
"قال قلت: ومِنَّا رجال يَخُطُّونَ"، الخَط عند العرب: أن يأتي الرَّجُل العرَّاف وبَين يديه غُلام، فيأمره بأن يَخُط في الرَّمْل خطوطا كثيرة، ثم يأمره أن يَمحو منها اثنين اثنين، ثم ينظر إلى آخر ما يبقى من تلك الخطوط، فإن كان الباقي منها زوجًا؛ فهو دليل الفلاح والظَّفر، وإن كان فردا؛ فهو دليل الخَيبة واليأس. 
"قال: كان نَبِي من الأنبياء يَخُطُّ"، أي: يضرب خطوطا كخطوط الرَّمْل فيعرف الأمور بالفراسة بتوسط تلك الخطوط، وقيل هو إدريس أو دانيال -عليهما الصلاة والسلام-.
"فمن وافق خَطَه" أي: خط ذلك النبي -عليه الصلاة والسلام- "فَذَاك" أي: من وافق خط ذاك النبي فهو مباح له، ولكن لا طريق لنا إلى العلم اليقيني بالموافقة فلا يباح، والمقصود أنه حرام؛ لأنه لا يباح إلا بيقين الموافقة، وليس لنا يقين بها، ويحتمل: أن هذا نُسخ في شَرعِنا، ويحتمل: أن يكون إباحة الخط؛ علما لنبوة ذاك النبي، وقد انقطعت فنهينا عن تعاطي ذلك، فالحديث يدل على تحريم العمل بعلم الخَط، لا على جوازه، كما يدل على بطلان طريقة الناس في علم الرَّمْل وفسادها؛ لأن الموافقة تقتضي العلم به، والعلم يكون بأحد طريقين:
أحدهما: النَّص الصريح الصحيح في بيان كيفية هذا العلم.
والثاني: النقل المتواتر من زمن ذلك النبي إلى زمن النبي -صلى الله عليه وسلم-، وكلا الأمرين منتفٍ.
وينبغي أن يعلم في هذا المقام أن الأنبياء لا يدعون علم الغيب، ولا يخبرون الناس أنهم يعلمون الغيب، وما أخبروا الناس به من الغيب إنما هو من إيحاء الله إليهم فلا يَنسبونه إلى أنفسهم، كما قال الله -تعالى-: (عَالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا * إِلاَّ مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا) [الجن 26، 27]؛ لأن الغيب مما اختص الله بعلمه، فلا يَدَّعيه أحدٌ لنفسه إلا كان مُدَّعياً لبعض خصائص الربوبية، وهذا ما يفعله أرباب هذه الصِّناعة، فظهر بهذا دَجل هؤلاء في دعوى أن هذا النبي الكريم معلم لهم.
"قال: وكانت لي جَارية تَرعى غَنَما لي قِبَل أُحُدٍ والْجَوَّانِيَّةِ"، يعني: كانت له جارية تَرعى غَنمه في موضع قريب من جَبل أُحدٍ.
"فَاطَّلَعْتُ ذات يوم فإذا الذِّيب قد ذهب بِشَاة من غَنَمِهَا" يعني: علم أن الذئب قد افترس شاة من الشِّياه، والغنم له لكنه قال: (غنمها) أي: التي تقوم هي برعايتها.
"وأنا رجُلٌ من بَني آدم، آسَف كما يَأْسَفُونَ" الأسف: الغَضب، والمعنى: أنني غضبت عليها بسبب أكل الذِّئب لشاة من الشِّياه؛ فأردت أن أضربها ضربا شديدا على ما هو مقتضى الغَضب.
"لكني صَكَكْتُهَا صَكَّة" إلا أنني لم أفعل، بل اقتصرت على أن لطمتها لطْمَة، "فَأَتَيْت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فَعظَّم ذلك عليَّ"، بعد أن لطَمها جاء إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- وأخبره بالقصة، فأكْبَر لطْمَه إياها،  أي: أعْظَمه.
فلما رأى معاوية بن الحكم السُّلَمي -رضي الله عنه- النبي -صلى الله عليه وسلم- قد تَأثر من فعله ذلك، وأخذ في نَفسه، قال: "قلت: يا رسول الله أفلا أُعْتِقُهَا؟" يعني: أُحررها من العبودية جراء ضَربي إياها، قال: «ائْتِنِي بها» فَأَتَيْتُهُ بها، فقال لها: «أَيْن الله؟» أي: أين المَعبود المستحق الموصوف بصفات الكمال؟. وفي رواية: (أين رَبُّك؟) فالنبي -صلى الله عليه وسلم- أراد بهذا السؤال التأكد أنها موحدة، فخاطبها بما يُفهم قصده؛ إذ علامة الموحدين اعتقادهم أن الله في السماء.
"قالت: في السَّماء" ومعنى في السماء: العلو، وأنه -سبحانه- فوق كل شيء وفوق عَرشه الذي هو سقف المخلوقات.
قال: «من أنا؟» قالت: أنت رسول الله، قال: «أَعْتِقْهَا، فَإِنها مُؤْمِنَةٌ».
فلما شَهِدت بعلو الله -تعالى- وبرسالته -صلى الله عليه وسلم- أمر بِعتقها؛ لأن ذلك دليل على إيمانها وسلامة معتقدها.
605;عاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ وہ قصہ بیان کر رہے ہیں جواس وقت پیش آیا جب وہ نبی ﷺ کے ساتھ باجماعت نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھ رہے تھے۔ انہیں سنائی دیا کہ ایک شخص نے چھینک مار کر الحمدللہ کہا ہے۔ چنانچہ انہوں نے یرحمک اللہ کہہ کر اس کے اس قول کا جلدی سے جواب دیا جیسا کہ قاعدہ ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ الحمد للہ کہےاور اس کا بھائی یا اس کا ساتھی یرحمک اللہ کہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ علم نہیں تھا کہ چھینکنے والے کا جواب دینے کا استحباب نماز کے علاوہ دیگر اوقات میں ہے۔
” لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا“ یعنی بغیر بولے انہوں نے آنکھوں سے ان کو اشارہ کیا اور خشمگیں نظروں سے انہیں گھورا تاہم معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی اس ناگواری کا سبب نہ جان سکے چنانچہ وہ ان سے مخاطب ہو کر کہنے لگے: ” میری ماں مجھے گم پائے“ يعنی ہائے میری ماں مجھے گم پائے اور میں ہلا ک ہوا۔ تمہیں کیا ہوا ہے اور کیا بات ہے؟ تم غصہ بھری نگاہوں سے میری طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟ ”وہ لوگ اپنی رانوں پر اپنے ہاتھ مارنے لگے“ یعنی ان لوگوں کی ان پر ناگواری مزید بڑھ گئی اور وہ ہاتھوں کو رانوں پر مارنے لگے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ خاموش ہو جائیں اور بولنا بند کر دیں چنانچہ وہ چپ ہو گئے۔
پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ لوگ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا یعنی جب میں جان گیا کہ وہ مجھے گفتگو سے خاموش ہونے کو کہہ رہے ہیں تو مجھے ان کی طرف سے بہت زیادہ ناگواری کے اظہار پرحیرت ہوئی کیونکہ اپنےعمل کی برائی سے میں ناواقف تھا۔ میں نے ارادہ تو کیا کہ ان سے جھگڑوں تاہم حکم کی تعمیل میں مَیں چپ ہو گیا کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ باعلم تھے۔ چنانچہ میں نے اپنے غصے کو چھوڑ دیا اور وجہ دریافت نہ کی۔
جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہو گئے یعنی جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نماز ختم کی اور اس سے فارغ ہوئے۔
”فَبِأَبِي هو وأمِّي“ یعنی میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان۔ یہ قسم نہیں۔ بلکہ یہ صرف ماں باپ کو فدا کرنے کا اظہار ہے۔
میں نے آپ ﷺ سے پہلے اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ سے بہتر کوئی معلِّم دیکھا کیونکہ نبی ﷺ نہ ان سے درشتگی سے پیش آئے اور نہ ہی انہیں جھڑکا۔ بلکہ آپ ﷺ نے ایسے طریقے سے شرعی حکم کی وضاحت کی جسے انسان فورا قبول کرلیتا ہے اور اس کی تعمیل کرتا ہے۔
آپ ﷺ نے نہ تو مجھے ڈانٹا اور نہ کوئی سخت بات کہی۔ نہ ہی مجھے مارا میں نے حکم شرعی کی جو مخالفت کی تھی اس پر آپ ﷺ نے مار کر میری تادیب نہ کی۔ اور نہ ہی آپ ﷺ نے مجھ سے کوئی درشت بات کہی بلکہ آپ ﷺ نے نرمی کے ساتھ میرے سامنے حکم شرعی کی وضاحت فرمائی اور فرمایا: ”اس نماز میں لوگوں کی آپس کی بات چیت درست نہیں، بلکہ نماز تو تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت کا نام ہے“ یعنی نماز میں لوگوں کا آپس میں بات چیت کرنا جائز نہیں۔ ابتدائےاسلام میں اسے روا رکھا گیا تھا لیکن بعد میں اسے منسوخ کر دیا گیا۔ نماز میں صرف تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہوتی ہے۔
میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے جاہلیت کو ترک کیے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ یعنی مجھے جاہلیت کو چھوڑے کچھ ہی عرصہ گزرا ہے۔ جاہلیت کا اطلاق اس حالت پر ہوتا ہے جو شریعت کے آنے سے پہلے تھی۔ اسے جاہلیت کا نام ان لوگوں کی بہت زیادہ جہالت اور برائی کی وجہ سے دیا گیا۔ میں کفر سے اسلام کی طرف منتقل ہو گیا ہوں لیکن ابھی تک مجھے دین کے احکام کا علم نہیں ہے۔ ان کے کچھ ساتھی کاہنوں کے پاس جاتے اور ان سے مستقبل میں پیش آنے والے غیبی امور کے بارے میں پوچھتے۔ آپﷺ نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جاؤ، کاہنوں کے پاس آنے سے اس لیے منع کیا گیا کیونکہ وہ غیبی امور کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی بات صحیح نکل آتی ہے جس کی وجہ سے انسان کے فتنے میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ یہ لوگوں کے لیے بہت سے شرعی امور کو مشتبہ بنا دیتے ہیں۔ کئی صحیح احادیث میں کاہنوں کے پاس آنے اور ان کی باتوں کی تصدیق کرنے کی ممانعت اور ان کی دی گئی شیرینی کے حرام ہونے کا حکم آیا ہے۔
ہم میں سے کچھ لوگ برا شگون لیتے ہیں، تَطَیّر کا معنی ہے کسی دیکھی یا سنی گئی بات یا پھر کسی وقت یا جگہ سے برا شگون لینا۔ عرب لوگ بدشگونی لینے میں معروف تھے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی اچھے کام کا ارادہ کرتا اور پھر پرندے کو دائیں یا بائیں جانب جاتے ہوئے دیکھ لیتا جیسا کہ ان کے ہاں معروف تھا تو وہ اپنے ارادے سے بازآجاتا۔اسی طرح کوئی شخص کسی آواز کو سن کر یا کسی آدمی کو دیکھ کر اس سے برا شگون لیتا۔ بعض لوگ نکاح کے سلسلے میں شوال کے مہینے سے بد شگونی لیتے۔ بعض لوگ بدھ کے دن یا صفر کے مہینے سے بد شگونی لیتے۔ ان سب باتوں کو شریعت نے باطل قرار دیا ہے کیونکہ اس سے انسان کی عقل، سوچ اور طرزِعمل کو ضرر لاحق ہوتا ہے۔ انسان کا ان امور کی پرواہ نہ کرنا ہی دراصل اللہ پر توکل ہے۔
”یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں (ایک طرح کا وہم ہے) یہ وہم انھیں ان کے کسی کام سے نہ روکے“ یعنی بدشگونی ایسی شے ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہو ہی جاتی ہے اور اس سلسلے میں ان پر کوئی عتاب بھی نہیں۔ اسے وہ خود سے نہیں لاتے چنانچہ اس کی ذمہ داری بھی ان پرعائد نہیں ہوتی۔ تاہم انہیں چاہیے کہ وہ اس کی وجہ سے اپنے امور میں تصرف کرنے سے نہ رکیں۔ اس بات پر انہیں قدرت حاصل ہے چنانچہ اس کی ذمہ داری ان پرعائد ہوتی ہے۔ اس لیے نبی ﷺ نے بدشگونی پرعمل کرنے اور اس بات سے منع فرمایا کہ وہ اس کی وجہ سے اپنے کاموں سے رک جائیں۔ بہت سی صحیح احادیث میں بدشگونی کی ممانعت آئی ہے۔ بدشگونی کو یہاں بدشگونی پر عمل کرنے پر محمول کیا جائے گا نہ کہ اس سوچ پر جو انسان کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے تاہم لوگوں کے ہاں اس کا جو تقاضا ہوتا ہے اس پر وہ عمل نہیں کرتا۔
”ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں“ عربوں کے ہاں ”خط“ یہ تھا کہ کاہن آکر اپنے سامنے موجود لڑکے کو حکم دیتا کہ وہ ریت میں بہت سی لکیریں کھینچے۔ پھر اسے کہتا کہ وہ دو دو کر کے ان کو مٹاتا جائے۔پھر وہ ان لکیروں میں جوآخری لکیریں بچ جاتی ان کو دیکھتا۔ اگر باقی ماندہ لکیریں جفت (جوڑ) ہوتیں تو یہ فلاح و کامیابی کی دلیل ہوتی اور اگر اکیلی (طاق) ہوتی تو یہ نامرادی اور مایوسی کی دلیل ہوتی۔
آپ ﷺ نے فرمایا: انبیائے کرام میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھے یعنی وہ نبی ریت میں کھینچی گئی لکیروں کی طرح لکیرں کھینچتے اور ان لکیروں کے توسط سے فراست کے بل بوتے پر امور کو جاننے کی کوشش کرتے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ نبی ادریس علیہ السلام یا دانیال علیہ السلام تھے۔ ”فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ“ یعنی جس کا خط اس نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے خط کے موافق ہو گیا۔ ”فَذَاك“ یعنی جس کا خط اس نبی کے خط کے موافق ہو گیا اس کے لیے یہ جائز ہے۔ لیکن چونکہ ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے اس موافقت کا یقینی طور پرعلم ہو سکے اس لیے ایسا کرنا مباح نہیں ہے۔ مقصد یہ کہ ایسا کرنا حرام ہے کیونکہ یہ جائز صرف اسی وقت ہو گا جب موافقت کا یقین ہو جائے اوراس کا یقین ہمیں ہو نہیں سکتا۔
اس بات کا بھی احتمال ہے کہ ایسا کرنا ہماری شریعت میں منسوخ ہو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ علم رمل اس نبی کی نبوت کی علامت ہو اور چونکہ ان کی نبوت ختم ہو چکی اس لیے ہمیں اسے اپنانے سے منع کر دیا گیا۔ بہرحال یہ حدیث علم رمل پر عمل کرنے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے نہ کہ اس کے جائز ہونے پر۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں علم رمل کے بارے میں لوگوں کے طرزِعمل اور اس کے فاسد ہونے کی بھی نشاندہی ہے کیونکہ موافقت کا تقاضا ہے کہ اس کا علم ہو اور علم دو طریقوں میں سے کسی سے حاصل ہو سکتا ہے:
اول: اس علم کی کیفیت کے بیان میں کوئی صریح اورصحیح نص موجود ہو۔
دوم: اس نبی سے لے کر ہمارے نبی ﷺ کے دور تک یہ تواتر کے ساتھ منقول ہو۔ اور یہ دونوں ہی باتیں موجود نہیں۔
یہاں یہ جان لینا مناسب ہے کہ انبیاء علمِ غیب کی طرف دعوت نہیں دیتے اور نہ ہی لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ان کو علمِ غیب حاصل ہے۔ لوگوں کو انہوں نے امورِغیب میں سے جو کچھ بتایا وہ انہیں اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی علم ہوا تھا۔ چنانچہ وہ اسے اپنی طرف منسوب نہیں کرتے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿عَالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا، إِلاَّ مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا﴾ ”وہ عالم الغیب ہے، اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوائے اُس رسول کے جسے اُس نے(غیب کا کوئی علم دینے کے لیے) پسند کر لیا ہو، تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے“۔ (الجن 26، 27) کیونکہ علمِ غیب اللہ نے اپنے لیے خاص کر رکھا ہے۔ چنانچہ جو شخص بھی اپنے بارے میں اس کا دعوی کرے گا وہ ربوبیت کی بعض خصوصیات کا حامل ہونے کا مدعی ہو گا اور یہی کچھ اس کاروبار کے کرنے والے کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ان لوگوں کے اس جھوٹے دعوے کا پول کھل جاتا ہے کہ یہ نبی ان کے استاد ہیں۔
معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے علاقوں میں میری بکریاں چرایا کرتی تھی یعنی ان کی ایک باندی تھی جو احد کے قریب واقع ایک جگہ پر ان کی بھیڑ بکریاں چراتی تھی۔ ایک دن میں وہاں گیا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا میری ایک بکری کو اٹھا کر لے گیا ہے یعنی انہیں پتا چلا کہ بھیڑیے نے ایک بھیڑ کو چیر پھاڑ ڈالا ہے۔ اگرچہ بھیڑ بکریاں ان کی تھیں تاہم انہوں نے کہا کہ ”اس باندی کی بھیڑ بکریاں“یعنی جن کی وہ دیکھ بھال کرتی تھی۔ آخر میں بھی انسانوں میں سے ایک انسان ہوں۔ مجھے بھی غصہ آتا ہے جس طرح کہ دوسرے لوگوں کو غصہ آجاتا ہے، ”اسف“ کا معنی ہے: غصہ، یعنی بھیڑیے کے بھیڑ کو کھا لینے کی وجہ سے میں اس پر غصے ہوا۔ چنانچہ میں نے اسے سختی کے ساتھ مارنے کا ارادہ کیا جیسا کہ غصے میں ہوتا ہے۔ میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا، لیکن میں نے ایسا نہ کیا بلکہ اسے ایک تھپڑ مارنے پر ہی اکتفاء کیا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ مجھ پر اسے تھپڑ مارنا بہت گراں گزرا تھا، اس باندی کو تھپڑ مارنے کے بعد وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپﷺ کو سارا ماجرا سنایا۔ آپ ﷺ نے ان کا باندی کو تھپڑ مارنا بہت بڑا عمل جانا۔ جب معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی ﷺ پر ان کے اس عمل کا بہت اثر ہوا اور آپ ﷺ نے اسے دل پر لیا ہے تو وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ یعنی اسے مارنے کے بدلے میں اسے میں غلامی سے آزاد کر دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کرآؤ۔چنانچہ میں اسے لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ یعنی وہ معبود کہاں ہے جو عبادت کا حق دار اور صفات کمال سے متصف ہے؟ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے پوچھا: تیرا رب کہاں ہے؟ نبی ﷺ نے اس سوال کے ذریعے اس بات کی یقین دہانی کرنا چاہی کہ وہ موحّد ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے ایسی بات پوچھی جس کا مقصود سمجھ میں آتا ہے کیونکہ اللہ کے آسمان میں ہونے پر اعتقاد رکھنا موحدین کی علامت ہے۔ اس نے کہا: آسمان میں۔ یہاں سے ”السماء“ سے مراد ”اوپر“ ہے اور یہ کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہرشے سے بالا تر اپنے عرش کے اوپر ہے جو کہ مخلوقات کے لیے چھت ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو۔ یہ مومنہ ہے۔ جب اس نے اللہ کےاوپر ہونے اور آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی دے دی تو آپ ﷺ نے اسے آزاد کرنے کا حکم دیا کیونکہ یہ اس کے ایمان اور عقیدہ کی درستگی کی دلیل تھی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10650

 
 
Hadith   1693   الحديث
الأهمية: التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء


Tema:

مردوں کے لیے تسبیح (سبحان اللہ کہہ کر امام کو نماز میں متنبہ کرنا) اور عورتوں کے لیےتالی بجانا ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعًا: «التَّسْبِيحُ للرجال، والتَّصْفِيق للنساء».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مردوں کے لیے تسبیح (سبحان اللہ کہہ کر امام کو نماز میں متنبہ کرنا) اور عورتوں کے لیےتالی بجانا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: "التَّسْبِيحُ للرجال، والتَّصْفِيق للنساء"، وفي رواية لمسلم: (في الصلاة)، والمعنى: أن مَن نَابه شيء في الصلاة، يقتضي إعلامَ غيره بشيء، مِن تنبيه إمامه على خَلَلٍ في الصَّلاة، أو رؤية أعمى يقع في بئر، أو استئذان داخل، أو كون المصلِّي يريد إعلامَ غيره بأمر -فإنَّهُ في هذه الأحوال وأمثالها يُسبِّح، فيقول: "سبحان الله"؛ لإفهام ما يُريد التنبيهَ عليه، وهذا في حق الرَّجل، أما المرأة إذا نَابها شيء في صلاتها، فإنها تُصَفِّق، وكيفيته: أن تَضرب إحدى يديها بالأخرى بأي طريقة، وكل هذا إبعاد للصَّلاة عمَّا ليس منها مِنَ الأقوال؛ لأنَّهَا موضعُ مُنَاجَاة مع الله -سبحانه وتعالى-، فلمَّا دَعت الحاجةُ إلى الكلام، شُرِعَ ما هو مِن جِنْسِ أقوال الصلاة، وهو التَّسبيح.
581;دیث کا مفہوم: ”مردوں کے لیے سبحان اللہ کہنا اور عورتوں کے لیےتالی بجانا ہے“، مسلم شریف کی ایک روایت میں ”نماز میں“ کے لفظ کا اضافہ ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جسے نماز کے اندر کوئی ایسی چیز پیش آ جائے جس کا تقاضا ہو کہ دوسرے کو اس کی خبر دی جائے جیسے نماز میں کسی خلل کے واقع ہونے پر امام کو متنبہ کرنا یا کسی اندھے کو دیکھنا جو کنویں میں گرنے والا ہو یا کسی باہر سے آنے والے کا اندر داخل ہونے کی اجازت چاہنا یا پھر نمازی کسی اور کو کسی بات کی خبر دینا چاہتا ہے تو ان صورتوں میں وہ سبحان اللہ کہے گا تاکہ جس بات پر وہ تنبیہہ کرنا چاہتا ہے، اسے وہ سمجھا سکے۔ یہ طریقہ مردوں کے لیے ہے۔ رہی بات عورت کی تو اگر اسے اپنی نماز میں کوئی ایسی صورت پیش آ جائے تو وہ تالی بجائے گی۔ تالی بجانے کی کیفیت یہ ہے کہ وہ اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر کسی بھی طریقے سے مارے گی۔ ایسا اس لئے ہے تاکہ نماز کو ان تمام باتوں سے دور رکھا جائے جو جنسِ نماز میں سے نہیں ہیں۔ کیونکہ نماز اللہ سبحانہ و تعالی سے مناجات کا مقام ہے۔ لہٰذا کلام کرنے کی ضرورت پیش آنے کے صورت میں وہی کہنا مشروع کیا گیاہے جو نماز کے اقوال کی جنس سے ہے اور وہ سبحان اللہ کہنا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10652

 
 
Hadith   1694   الحديث
الأهمية: رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يصلي، وفي صدره أزيز كأزيز الرحى من البكاء -صلى الله عليه وسلم-


Tema:

میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو رونے کی وجہ سے آپﷺ کے سینے سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے چکی چلنے کی آواز ہوتی ہے۔

عن عبد الله بن الشِّخِير -رضي الله عنه- قال: «رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّي، وفي صَدره أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الرَّحَى من البُكَاءِ -صلى الله عليه وسلم-».

عبداللہ بن شخِّیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو رونے کی وجہ سے آپﷺ کے سینے سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے چکّی چلنے کی آواز ہوتی ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر عبد الله بن الشِّخِير -رضي الله عنه- أنه رأى النبي -صلى الله عليه وسلم- يصلِّي، ويُسمع له صوت يُشبه صوت الرَّحَى؛ لأن الرَّحَى عندما يُطحن بها يصدر لها صَوت حَرْحَرَتِها، فشبَّه الصحابي -رضي الله عنه- بكاءه -صلى الله عليه وسلم- في الصلاة بصوت الرَّحَى، وهذا هو حاله -صلى الله عليه وسلم- مع ربِّه، وهو الذي قد غَفَرَ اللهُ له ما تقدَّم من ذَنْبِه وما تَأخَّر، ولكنَّه مع هذا هو أخشَى النَّاسِ وأتْقَاهُم، وأخوفُهُم من الله -تعالى-؛ لِكَمال مَعرفته بربِّه.
593;بداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے ایک آواز سنی جیسے چکی چلنے کی آواز ہوتی ہے۔ جس وقت چکی کسی چیز کو پیس رہی ہو تو اس وقت اس کے گرم ہونے کی وجہ سے آواز آتی ہے۔چنانچہ صحابی رضی اللہ عنہ نے نماز میں آپ ﷺ کی رونے کو چکی کی آواز سے تشبیہ دی ہے۔ اور یہ رسول اللہﷺ کا اپنے رب کے ساتھ حال تھا جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے پہلے اور بعد والے سارے گناہ معاف کر دیے تھے لیکن اس کے باوجود آپﷺ لوگوں میں سے سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے، اس کا تقویٰ اختیار کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والے تھے اور یہ سب کچھ اپنے رب کی کمالِ معرفت کی وجہ سےتھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10653

 
 
Hadith   1695   الحديث
الأهمية: خرج رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إلى قباء يصلي فيه


Tema:

رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے قبا تشریف لے گئے۔

عن عبد الله بن عمر-رضي الله عنهما- قال: «خرج رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إلى قُبَاءَ يُصَلِّي فيه»، قال: «فَجَاءَتْه الأنصار، فَسَلَّمُوا عليه وهو يُصلِّي»، قال: " فقلت لبِلاَل: كيف رأَيْت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يَرُدُّ عليهم حِين كانوا يُسَلِّمُونَ عليه وهو يُصلِّي؟ "، قال: يقول هَكَذا، وبَسَطَ كفَّه، وجعل بطنه أسفل، وجعل ظَهْرَه إلى فوْق.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے قبا گئے، تو آپ ﷺ کے پاس انصار آئے اور انہوں نے حالتِ نماز میں آپ ﷺ کو سلام کیا، وہ کہتے ہیں: تو میں نے بلال سے پوچھا: جب انصار نے رسول اللہ ﷺ کو حالتِ نماز میں سلام کیا تو آپ نے رسول اللہ ﷺ کو کس طرح جواب دیتے ہوئے دیکھا؟ بلال رضی اللہ عنہ کہا: آپ ﷺ اس طرح کر رہے تھے، اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی ہتھیلی کو پھیلایا اور اس کے اندرونی حصے کو نیچے اور اس کے پشت یعنی بالائی حصے کو اوپر رکھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف جواز رد السلام بالإشارة حال الصلاة لفعل النبي -صلى الله عليه وسلم- ذلك مع الأنصار حين سلموا عليه وهو يصلي في مسجد قباء، وصفته ببسط الكف فقط.
581;دیث شریف میں اس بات کا بیان ہے کہ حالتِ نماز میں سلام کا جواب دینا جائز ہے، نبی ﷺ کے اس عمل کی وجہ سے جو آپ نے انصار کے ساتھ کیا جب انہوں نے آپ ﷺ کو سلام کیا اور آپ ﷺ اس وقت مسجد ِقبا میں نماز ادا کر رہے تھےاور اس کی کیفیت صرف ہتھیلی پھیلا کر ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10655

 
 
Hadith   1696   الحديث
الأهمية: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يؤم الناس وأمامة بنت أبي العاص وهي ابنة زينب بنت النبي -صلى الله عليه وسلم- على عاتقه، فإذا ركع وضعها، وإذا رفع من السجود أعادها


Tema:

میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ لوگوں کی امامت کر رہے تھے اور ابو العاص رضی اللہ عنہ کی بیٹی امامہ رضی اللہ عنہا جو نبی ﷺ کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھیں، آپ کے کندھے پر تھیں، جب آپ رکوع میں جاتے تو انھیں کندھے سے اتار دیتے اور جب سجدے سے اٹھتے تو پھر انہیں اپنے کندھے پر بٹھا لیتے۔

عن أبي قتادة الأنصاري -رضي الله عنه-، قال: «رأيتُ النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- يَؤُمُّ الناس وأُمَامَة بِنْت أَبِي العَاصِ وهي ابنةُ زينب بنتِ النبي -صلى الله عليه وسلم- على عاتِقِه، فإذا ركَع وضَعها، وإذا رفَع مِن السُّجُود أعَادَها».

ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا، آپ لوگوں کی امامت کر رہے تھے، اور ابو العاص رضی اللہ عنہ کی بیٹی امامہ رضی اللہ عنہا جو نبی ﷺ کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھیں، آپ کے کندھے پر تھیں، جب آپ رکوع میں جاتے تو انھیں کندھے سے اتار دیتے اور جب سجدے سے اٹھتے تو پھر انہیں اپنے کندھے پر بٹھا لیتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يصلي بالناس وهو حامل أمامة بنت العاص بنت ابنته زينب -رضي الله عنهما- حتى إنه حال ركوعه وسجوده يضعها فإذا قام حملها وهكذا، ويدل ذلك على أنه لا حرج في حمل الأطفال حال الصلاة.
581;دیث شریف اس بات کی وضاحت کر رہی ہے کہ نبی ﷺ ابی العاص اور اپنی صاحبزادی کی بیٹی امامہ کو اٹھائے ہوئے لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، رکوع اور سجدے کی حالت میں انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہو جاتے تو انہیں اٹھا لیتے اور اسی طرح کیا کرتے تھے، (آپ ﷺ کا یہ فعل) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حالتِ نماز میں بچوں کو اٹھا لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10656

 
 
Hadith   1697   الحديث
الأهمية: اقتلوا الأسودين في الصلاة: الحية، والعقرب


Tema:

نماز میں دو سیاہوں (یعنی) سانپ اور بچھو کو مار ڈالو۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «اقتلوا الأسودَين في الصلاة: الحيَّة، والعقرب».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز میں دونوں کالوں (یعنی) سانپ اور بچھو کو (اگر دیکھو تو) مار ڈالو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف استحباب قتل الحية والعقرب حال الصلاة؛ لأنه ورد الأمر بذلك وذلك لأن حركة القتل محدودة لا تبطل الصلاة.
581;دیث شریف سے واضح ہوتا ہے کہ حالتِ نماز میں سانپ اور بچھو کو مارنا مستحب ہے۔ کیوں کہ اس کا حکم وارد ہوا ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ قتل کے لیے درکار حرکت محدود ہوتی ہے، اس سے نماز باطل نہیں ہوتی۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10657

 
 
Hadith   1698   الحديث
الأهمية: رخص النبي -صلى الله عليه وسلم- للمسافر ثلاثة أيام ولياليهن، وللمقيم يومًا وليلةً


Tema:

نبی ﷺ نے مسافر کو تین دن اور تین رات اور مقیم کو ایک دن اور ایک رات تک کی رخصت دی۔

عن أبي بكرة نُفيع بن الحارث الثقفي -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه رَخَّصَ للمسَافر ثلاثةَ أيَّام ولَيَالِيهنَّ، وللمُقِيم يوما وليلة، إذا تطَهَّر فَلَبِسَ خُفَّيه: أَن يَمسَحَ عليهما.

ابو بکرہ نفیع بن الحارث الثقفی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مسافر کو تین دن اور تین رات اور مقیم کو ایک دن اور ایک رات تک اپنے موزوں پر مسح کرنے کی رخصت دی بشرطیکہ کہ اس نے (حدثِ اکبر اور حدث اصغر سے) پاکیزگی کی حالت میں انہیں پہنا ہو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء عن أبي بكرة -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم-: (رخَّص للمسافر) أي: في المسح على الخفين (ثلاثةَ أيَّام ولَيَالِيهنَّ، وللمُقِيم يوما وليلة) ففيه دليل على توقيت المسح بثلاثة أيام للمسافر، ويوم وليلة للمقيم، وقد ورد في التوقيت بذلك أحاديث عن أكثر من عشرة من الصحابة.
وإنما زاد في المدة للمسافر؛ لأنه أحق بالرخصة من المقيم؛ لمشقة السفر، وتبدأ مدة المسح من المسح بعد الحدث.
وقوله: (إذا تطهر فلبس خفيه) أي: كل من المسافر والمقيم إذا تطهر من الحدث الأصغر، والخف نعل من أدم يغطي الكعبين، والجورب لفافة الرجل من أي شيء كان من الشعر، أو الصوف أو الكرباس، أو الجلد ثخيناً أو رقيقاً إلى ما فوق الكعب يتخذ للبرد.
ومعنى هذه الجملة من الحديث: أن لبس خفيه حصل بعد تمام الطهارة، فيشترط أن يلبس الخفين على طهارة، ولو كان هناك فاصل بين تطهره ولبس خفيه.
فمن تحققت له الطهارة فله: (أن يمسح عليهما) والمسح إمرار اليد المبتلة بالعضو؛ فوق الخف دون داخله وأسفله على ما ورد.
575;بو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مسافر کو تین دن اور تین رات اور مقیم کو ایک دن اور ایک رات تک اپنے موزوں پر مسح کرنے کی رخصت دی یعنی موزوں پر مسح کرنے کی اجازت دی، اس میں دلیل ہے کہ مسافر کے لئے مسح کرنے کا وقت تین دن ہے اور مقیم کے لئے ایک دن ہے۔وقت کی اس حد بندی پر مشتمل دس سے زیادہ صحابہ سے مروی بہت سی احادیث آئی ہیں۔
آپ ﷺ نے مسافر کی مدت کو زیادہ رکھا کیوں کہ وہ مقیم شخص کی بنسبت رخصت کا زیادہ حق دار ہے کیوں کہ سفر میں مشقت ہوتی ہے۔ مسح کی مدت کا آغاز حدث کے لاحق ہونے کے بعد مسح کرنے کے ساتھ ہوتا ہے۔
”اس نے پاکیزگی کی حالت میں انہیں پہنا ہو“ یعنی مسافر اور مقیم دونوں نے جب حدث اصغر سے پاکیزگی حاصل کر لی ہو۔ ’موزہ‘ چمڑے سے بنا ہوا ایک ایسا جوتا ہوتا ہے جو دونوں ٹخنوں کو ڈھانپ لیتا ہے۔ جب کہ ’جراب‘ پاؤں پر ٹخنوں سے اوپر تک لپیٹا جانے والا ایک غلاف ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی چیز سے بنا ہو مثلاً بال، اون، سوتی کپڑے یا موٹے یا باریک چمڑے وغیرہ سے۔ اسے سردی سے بچنے کے لیے پہنا جاتا ہے۔
حدیث میں اس جملے کا معنی یہ ہے کہ موزوں کو پوری طرح طہارت کے حصول کے بعد پہنا گیا ہو۔ چنانچہ شرط ہے کہ موزوں کو حالتِ طہارت میں پہنا گیا ہو اگرچہ طہارت حاصل کرنے اور موزوں کے پہننے میں کچھ وقفہ ہو۔
چنانچہ جس شخص نے حالتِ طہارت میں موزوں کو پہنا ہو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ موزوں پر مسح کر لے۔ مسح کا معنی ہے: گیلے ہاتھ کو عضو پر موزے کے اوپر پھیرنا نہ کہ اس کے اندر اور نیچے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10659

 
 
Hadith   1699   الحديث
الأهمية: أن بلالا أذن قبل طلوع الفجر، فأمره النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يرجع فينادي: ألا إن العبد قد نام، ألا إن العبد قد نام


Tema:

بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کا وقت ہونے سے پہلے اذان دے دی تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ دوبارہ واپس جائیں اور یہ اعلان کریں: سنو، بندہ سو گیا تھا سنو، بندہ سو گیا تھا۔

عن عبدالله بن عمر -رضي الله عنهما- أن بلالا أذَّنَ قبل طلوع الفجر، فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يرجع فينادي: «ألا إن العبد قد نام، ألا إن العبد قد نام».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کا وقت ہونے سے پہلے اذان دے دی تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ دوبارہ لوٹ کر جائیں اور یہ اعلان کریں: سنو، بندہ سو گیا تھا سنو، بندہ سو گیا تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف أنه إذا أخطأ المؤذن في وقت الأذان فلابد عليه أن يعلم الناس بخطئه، لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- أمر بلالاً حين أخطأ أن ينادي في الناس ألا إن العبد قد نام.
575;س حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مؤذن اگر وقت اذان کے تعلق سے غلطی کر بیٹھے تو اس پر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی اس غلطی سے لو گوں کو آگاہ کرے کیونکہ نبی ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا جب ان سے غلطی سرزد ہوئی کہ وہ لوگوں کے بیچ یہ اعلان کریں: سنو، بندہ سو گیا تھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10706

 
 
Hadith   1700   الحديث
الأهمية: إن هذا القرآن أنزل على سبعة أحرف، فاقرءوا ما تيسر منه


Tema:

یہ قرآن سات حروف پر اترا ہے، جس طرح آسان معلوم ہو پڑھو۔

عن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- قال: سمعتُ هشامَ بن حَكِيم يَقْرَأ سورةَ الفُرقان في حياة رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فاسْتَمَعْتُ لقراءته، فإذا هو يقْرَؤها على حروف كثيرةٍ لم يُقْرِئْنِيها رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- كذلك، فكِدْتُ أُساوِرُه في الصلاة، فانتظرتُه حتى سَلَّم، ثم لَبَّبْتُه بِرِدائِه أو بِرِدائي، فقلتُ: مَنْ أقرأكَ هذه السورةَ؟ قال: أَقْرَأنيها رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم-، قلتُ له: كذبتَ، فواللهِ إنَّ رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم- أَقْرأَني هذه السورةَ التي سمعتُك تَقْرَؤُها، فانطلقتُ أقودُه إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقلتُ: يا رسول الله، إنِّي سمعتُ هذا يقرَأ بسورة الفُرْقان على حروف لم تُقْرِئنيها، وأنت أقرأْتَنِي سورةَ الفُرقان، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أَرْسِلْه يا عمر، اقرأْ يا هشام» فقَرَأ عليه القراءةَ التي سمعتُه يقرؤها، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «هكذا أُنْزِلت» ثم قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «اقرأْ يا عمر» فقرأتُ، فقال: «هكذا أُنْزِلَت» ثم قال: «إنَّ هذا القرآنَ أُنْزِل على سبعة أحْرُف، فاقرءوا ما تيسَّر منه».

593;مر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا، میں نے کان لگا کر سنا کہ وہ ایسی قراءتوں کو پڑھ رہے ہیں جو نبی ﷺ نے مجھے نہیں پڑھائی تھیں، قریب تھا کہ میں نماز میں ہی ان پر حملہ کر بیٹھوں مگر میں ٹھہرا رہا جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کی چادر یا اپنی چادر ان کے گلے میں ڈال دی، میں نے ان سے پوچھا کہ تمہیں یہ سورت کس نے سکھائی؟ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے، میں نے کہا کہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو ، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ﷺ نے یہی سورت جو تم نے پڑھی ہے مجھے خود سکھائی ہے، پھر میں ان کو گھسیٹے ہوئے نبی ﷺ کے پاس لایا، میں نے کہا یا رسول اللہ! میں نے انہیں سورۂ فرقان کو دوسرے طریقے سے پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ آپ نے مجھے جس طرح سے وہ پڑھتے ہیں اس کے خلاف پڑھایا ہے، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا : عمر !تم اسے چھوڑ دو، پھر آپ ﷺ نے ہشام سے فرمایا پڑھو :انہوں نے اسی طرح پڑھا جس طرح میں نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا، پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ عمر تم پڑھو: چنانچہ میں نے پڑھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اسی طرح اتری ہے، اس کے بعد آپ ﷺ نےفرمایا کہ دیکھو یہ قرآن سات حروف(زبانوں) پر اترا ہے، جس طرح تمہیں آسان معلوم ہو پڑھو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يحكي عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- أنه سمع هشامَ بن حَكِيم -رضي الله عنهما- يقرأ سورةَ الفُرقان في حياة رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، بقراءة تختلف عما يقرؤه عمر في ألفاظ كثيرة، وقد كان عمر قد قرأ هذه السورة على رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فظن عمر -رضي الله عنه- أن ذلك غلط من هشام، فكاد أن يثب عليه ويأخذ برأسه وهو في الصلاة، ولكنه صبر حتى سلَّم من صلاته، ثم أمسك بردائه وجمعه من جهة رقبته، وقال له: مَن أقرأكَ هذه السورةَ؟ قال: أَقْرَأنيها رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم-، فقال له عمر: كذبتَ، فواللهِ إنَّ رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم- أقرأني هذه السورة بقراءةٍ غير التي قرأتها. ثم ذهب به يجره إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وكان عمر -رضي الله عنه- شديدًا في أمر الله -تعالى-، فقال عمر: يا رسول الله، إنِّي سمعتُ هذا يقرأ بسورة الفُرْقان على ألفاظ لم أسمعك تقرؤها، وأنت أقرأتني سورةَ الفُرقان. فأمره رسول الله أن يطلقه، ثم أمر هشامًا أن يقرأ سورة الفرقان، فلما قرأها، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «هكذا أُنْزِلت» يعني: أُنزلت هذه السورة من عند الله على ما قرأه هشام، ولم يكن مخطئا كما ظنه عمر -رضي الله عنه-. ثم أمر عمر أن يقرأ فقرأ فقال -صلى الله عليه وسلم-: «هكذا أُنْزِلَت» يعني: أن الله أنزل هذه السورة على ما قرأه عمر كما أنزلها على ما قرأه هشام. ثم قال -صلى الله عليه وسلم-: «إنَّ هذا القرآنَ أُنْزِل على سبعة أحرف، فاقرؤوا ما تيسَّر منه» فعمر وهشام كلاهما مصيب في قراءته؛ لأن القرآن نزل على أكثر من حرف، بل على سبعة أحرف، وليس في قراءة هشام زيادة عما عند عمر في الآيات، وإنما هناك اختلاف في الحروف فقط، ومن أجل ذلك قال لكل واحد منهما بعد ما سمع قراءته: «كذلك أُنزلت» ويوضح ذلك قوله: «إن هذا القرآن نزل على سبعة أحرف، فاقرأوا ما تيسر منه» أي: لا تتكلفوا التزام حرف واحد، فإن الله -تعالى- قد أوسع عليكم، ويسر لكم قراءة القرآن على سبعة أحرف، رحمة منه وفضلاً، فله الحمد والمنة، وقد اختلف العلماء في تعيين الحروف السبعة اختلافاً كثيراً، والمقصود بها -فيما يظهر والله أعلم- أوجه من أوجه لغة العرب، فالقرآن نزل على هذه الوجوه للتخفيف في أول الأمر؛ لأن العرب كانوا متفرقين وكانوا مختلفين وكلٌّ له لغته، ويكون عند هذه القبيلة ما ليس عند القبيلة الأخرى، ولكن لما جمع بينهم الإسلام, واتصل بعضهم ببعض, وذهب ما بينهم من العداوة والشحناء بسبب الإسلام, وعرف كل ما عند الآخرين من اللغة, قام عثمان بن عفان -رضي الله عنه- فجمع الناس على حرف واحد من الأحرف السبعة؛ وأحرق ما سوى ذلك؛ حتى لا يحصل الاختلاف.
593;مر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا، وہ ایسی قرأتوں کو پڑھ رہے تھے جو عمر رضی اللہ عنہ کی قرأت سے بہت سارے الفاظ میں مختلف تھیں جب کہ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے اس سورہ کو پڑهی تھیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ ہشام رضی اللہ عنہ غلط پڑھ رہے ہیں قریب تھا کہ وہ نماز میں ہی ان پر حملہ کر بیٹھتے مگر وہ ٹھہرےرہے اور صبر کیا یہاں تک کہ انہوں نے سلام پھیرا، پھر انہوں نے اپنی چادر سے ان کے گلے کو پکڑ لیا، اور ان سے کہا کہ تمہیں یہ سورت کس نے سکھائی؟ ،ہشام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی ﷺ نے، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ﷺ نے یہی سورت جو تم نے پڑھی ہے مجھے خود سکھائی ہے مگر اس قرأت کے علاوہ جس کو تم پڑھ رہے ہو۔ پھرعمر رضی اللہ عنہ ان کو گھسیٹتے ہوئے نبی ﷺ کے پاس لائے، چونکہ عمر رضی اللہ عنہ اللہ کے معاملے میں بڑےسخت تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :یا رسول اللہ! میں نے انہیں سورۂ فرقان کو دوسرے طریقے سے پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ آپ نے مجھے جس طرح سے وہ پڑھتے ہیں اس کے خلاف پڑھایا ہے، اور آپ سے بھی اس طرح پڑھتے ہوئے میں نے نہیں سنا، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا :عمر !تم اسے چھوڑ دو، پھر آپ ﷺ نے ہشام رضی اللہ عنہ سے فرمایا ’’پڑھو ‘‘! انہوں نے اسی طرح پڑھا جس طرح عمر نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا ”ہاں اسی طرح اتاری گئی ہے‘‘ یعنی یہ سورت ایسے ہی اتاری گئی ہے جس طرح سے ہشام نے پڑھی ہے اور وہ غلطی پر نہیں تھے جیسا کہ عمر نے گمان کیا تھا، اس کے بعد آپ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ پڑھیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا ”ہاں اسی طرح اتاری گئی ہے‘‘ یعنی یہ سورت ایسے ہی اتاری گئی ہے جس طرح سے عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھی ہے اور جس طرح سے ہشام نے پڑھی ہے، پھر آپ ﷺ نےفرمایا ”بے شک یہ قرآن سات حروف (لہجات) پر اتارا گیا ہے، جس طرح آسان معلوم ہو پڑھو،، لہذاعمر اور ہشام دونوں ہی اپنی قرأت میں صحیح ہیں،کیونکہ قرآن ایک حرف (لہجے) سے زیادہ پر اتارا گیا ہے، بلکہ سات حروف (لہجوں) پر اتارا گیا ہے، ہشام رضی اللہ عنہ کی قرأت میں عمر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں آیتوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں تھا، ہاں اختلاف صرف حروف میں تھا، اسی وجہ سے نبی ﷺنے ہر ایک سےان کی تلاوت سننے کے بعد فرمایا تھا، ہاں قرآن ایسے ہی نازل کیا گیا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ” بے شک یہ قرآن سات حروف پر اتارا گیا ہے ، جس طرح آسان معلوم ہو پڑھیں‘‘۔ یعنی اپنے آپ کو ایک ہی حرف (لہجے) میں پڑھنے کا پابند نہ بناؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نےتمہارےاوپر کشادگی کی ہےاور تمہارے لیے آسانی پیدا کیا ہے کہ قرآن کو سات حروف پر پڑھنے کے لیے کہا۔ یہ اللہ کا فضل وکرم اور اس کی رحمت ہے، لہذا اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد وثنا ہے۔
علماء نے سات حروف کی تعیین میں بہت اختلاف کیا ہے، اور یہاں اس سے مقصود جو ظاہر ہے حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے، وہ عربی زبان کے کئی وجوہ (لہجے) مراد ہیں، چنانچہ قرآن شروع زمانہ اسلام میں آسانی کے لیے انہیں طریقوں پر اترا ہے، اس لیے کہ عرب بٹے ہوئے اور مختلف تھے ان سب کی الگ الگ لغت تھی، جو ایک قبیلے کی ہوتی وہ دوسرے قبیلے کے پاس مِنْ وعَنْ نہ ہوتی تھی، لیکن ان سب کے درمیان مذہب اسلام نے اتحاد پیدا کر دیا، وہ ایک دوسرے سے مل کر رہنے لگے، اسلام کی وجہ سے کینہ وعداوت ختم ہو گئی اور سب نے دوسرے کی زبان کو بھی جان لیا، چنانچہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس مہم کے لیے تیار ہوئے اور سات حروف کے بجائے سب کو ایک ہی حرف (لہجۂ قریش) پر جمع کردیا اور اس کے علاوہ جتنے نسخے تھے سبھی کو خاکستر کردیا،تاکہ کوئی اختلاف باقی نہ رہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10834

 
 
Hadith   1701   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- لبث بمكة عشر سنين ينزل عليه القرآن، وبالمدينة عشرًا


Tema:

نبی ﷺ مکہ میں دس سال رہے جب کہ آپ ﷺ پر قرآن نازل ہو رہا تھا اور مدینہ میں بھی دس سال رہے۔

عن عائشة وابن عباس -رضي الله عنهم-: «أنَّ النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- لَبِثَ بمكَّة عشرَ سِنِين، يَنْزلُ عليه القرآنَ، وبالمدينة عشرًا».

عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سےروایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ مکہ میں دس سال رہے جب کہ آپ ﷺ پر قرآن نازل ہو رہا تھا اور مدینہ میں بھی دس سال رہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد هذا الحديث أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أقام  بمكة بعد النبوة عشر سنين, وبالمدينة عشر سنين أيضًا، وأن القرآن كان ينزل عليه خلال هذه المدة كلها، وقد ثبت -في غير هذا الحديث- أن مدة إقامته -صلى الله عليه وسلم- في مكة بعد نبوته ثلاث عشرة سنة، ويجمع بينهما بأنه بقي منها ثلاث سنين مستترا، ثم حمي الوحي بعد ذلك وتتابع، فالذين رووا العشر كأنهم لم يحسبوا تلك السنوات الثلاث، أو اقتصروا على العشرة جبرًا للكسر.
575;س حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نبی ﷺ نے نبوت کے بعد مکہ میں دس سال قیام کیا اور مدینہ میں بھی دس سال رہے اور یہ کہ اس ساری مدت کے دوران آپ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا رہا۔ ایک دوسری حدیث سے یہ ثابت ہے کہ نبوت کے بعد مکہ میں آپ ﷺ کا قیام تیرہ سال رہا۔ ان دونوں احادیث میں تطبیق ایسے دی جائے گی کہ آپ ﷺ باقی تین سال چھپ کر رہے ۔ بعدازاں وحی کو محفوظ کر دیا گیا اور یہ پے درپے نازل ہونے لگی۔ چنانچہ جن لوگوں نےد س سال مدت بیان کی ہے انہوں نے گویا ان تین سالوں کو شمار ہی نہیں کیا یا پھر کسر کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے دس پر ہی اقتصار کر لیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10837

 
 
Hadith   1702   الحديث
الأهمية: سئل ابن عباس ومحمد ابن الحنفية: أترك النبي -صلى الله عليه وسلم- من شيء؟ فقالا: ما ترك إلا ما بين الدفتين


Tema:

ابن عباس رضی اللہ عنہما اور محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا نبی ﷺ کوئی شے چھوڑ کر گئے؟ تو ان دونوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے صرف وہی کچھ چھوڑا جو مصحف کے دو دفتیوں کے مابین ہے۔

عن عبد العزيز بن رُفَيع، قال: دخلتُ أنا وشَدَّاد بن مَعْقِل، على ابن عباس -رضي الله عنهما-، فقال له شَدَّاد بن مَعْقِل: أَتَرَكَ النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- مِن شيء؟ قال: «ما تَرَكَ إلَّا ما بيْن الدَّفَّتَيْن» قال: ودَخَلْنا على محمد ابن الحَنَفِيَّة، فسألناه، فقال: «ما تَرَكَ إلَّا ما بيْن الدَّفَّتَيْن».

عبد العزیز بن رفیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور شداد بن معقل رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو شداد بن معقل نے ان سے پوچھا: کیا نبی ﷺ کچھ چھوڑ کر گئے؟۔ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے صرف وہی کچھ چھوڑا ہے جو مصحف کے دو دفتیوں کے مابین ہے۔ عبد العزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ ہم محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کے پاس آئے تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ آپ ﷺ نے صرف وہی کچھ چھوڑا ہے جو مصحف کے دو دفتیوں کے مابین ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دخل التابعيان الجليلان عبد العزيز بن رُفَيع وشَدَّاد بن مَعْقِل على ابن عباس -رضي الله عنهما-، فقال له شَدَّاد بن مَعْقِل: أَتَرَكَ النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- من شيء بعد وفاته؟ فأجابه ابن عباس بأنه -صلى الله عليه وسلم- لم يترك بعد وفاته إلا هذا القرآن الذي بين دفتي المصحف، ودخلا على محمد ابن الحَنَفِيَّة فسألاه فقال مثل ذلك،
وبهذا الحديث يتضح بطلان مذهب الرافضة الذين يزعمون أن القرآن قد نص على إمامة علي، ولكن الصحابة كتموه، فابن عباس هو ابن عم علي، ومحمد ابن الحنفية هو ابن علي، وهما من أشد الناس له لزومًا، فلو كان شيء مما ادعوه حقًّا لكانا أحق الناس بالاطلاع عليه، ولما وسعهما كتمانه، بل قد ورد عن علي -رضي الله عنه- أيضًا مثل ذلك.
583;و جلیل القدر تابعی یعنی عبد العزیز بن رفیع رحمہ اللہ اور شداد بن معقل رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے ۔ شداد بن معقل نے ان سے سوال کیا کہ کیا نبی ﷺ اپنے وفات کے بعد کوئی شے چھوڑ کر گئے تھے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے اپنی وفات کے بعد صرف اور صرف قرآن ہی کو چھوڑا ہے جو مصحف کے دونوں دفتیوں کے مابین ہے۔ پھر وہ محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کے پاس آئے اور ان سے بھی یہی سوال کیا ۔ اس حدیث سے روافض کے مذہب کا ابطال ہوتا ہے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآن میں علی رضی اللہ عنہ کی امامت کی نص موجود تھی لیکن صحابہ نے اسے چھپا لیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما علی رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں اور محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔ لوگوں میں سے یہ دونوں علی رضی اللہ عنہ کے سب سے زیادہ قریب رہے۔ اگر واقعی کوئی ایسے بات ہوتی جس کا روافض دعوی کرتے ہیں تو اس سے آگاہ ہونے کا سب سے زیادہ حق انہی کا تھا اور ان سے بہرحال یہ چھپی نہ رہ سکتی۔ بلکہ خود علی رضی اللہ عنہ سے بھی اس طرح کی بات مروی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10838

 
 
Hadith   1703   الحديث
الأهمية: أحيانًا يأتيني مثل صلصلة الجرس، وهو أشده علي، فيفصم عني وقد وعيت عنه ما قال، وأحيانًا يتمثل لي الملك رجلا فيكلمني فأعي ما يقول


Tema:

کبھی تو ایسے آتی ہے جیسے گھنٹے کی آواز ہو اور یہ وحی مجھ پر بہت سخت گزرتی ہے، چنانچہ جب فرشتے کی بات مجھے یاد ہو جاتی ہے تو یہ کیفیت جاتی رہتی ہے اور کبھی فرشتہ انسان کی شکل میں میرے پاس آتا ہے، چنانچہ وہ مجھ سے بات کرتا ہے تو میں اس کی بات یاد کر لیتا ہوں۔

عن عائشة أُمِّ المؤمنين -رضي الله عنها- أنَّ الحارثَ بن هشام -رضي الله عنه- سأل رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: يا رسولَ الله، كيف يأْتِيكَ الوَحْيُ؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أحْيانًا يَأْتِيني مِثْلَ صَلْصَلَة الجَرَس، وهو أَشدُّه عليَّ، فيَفْصِمُ عنِّي وقد وَعَيْتُ عنه ما قال، وأحيانًا يتمثَّلُ لي المَلَكُ رَجُلًا فيُكَلِّمُني فأَعِي ما يقول». قالت عائشة -رضي الله عنها-: ولقد رأيتُه ينزِل عليه الوَحْيُ في اليومِ الشديدِ البرْدِ، فيَفْصِمُ عنه وإنَّ جَبِينَه لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا.

اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے پوچھا اور کہا یا رسول اللہﷺ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: کبھی تو ایسے آتی ہے جیسے گھنٹے کی آواز ہو، اور یہ وحی مجھ پر بہت سخت گزرتی ہے، چنانچہ جب فرشتے کی ساری باتیں مجھے یاد ہو جاتی ہیں تو یہ موقوف ہو جاتی ہے، اور کبھی فرشتہ انسان کی شکل میں میرے پاس آتا ہے، چنانچہ وہ مجھ سے بات کرتا ہے تو میں وہ جو کچھ کہتا ہے اُسے یاد کر لیتا ہوں، عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر تی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ سخت جاڑے کے دن آپ پر وحی اترتی پھر ختم ہو جاتی اور آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ نکلتا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سأل الحارث بن هشام -رضي الله عنه- رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: يا رسول الله، كيف يأتيك الوحيُ؟ فأخبره رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أنه أحيانًا يأتيه الملك -وهو جبريل- بالوحي فيكون صوت الملك بالوحي مشابهًا لصوت الجرس في قوته، وهو أشد شيء وأصعبه عليه -صلى الله عليه وسلم-، وتغشاه شدة وكرب شديد ثم ينكشف عنه، وقد فهم وحفظ عن الملك ما قال, وإنما يأتيه الوحي بهذا الصوت الشديد؛ ليشغله عن أمور الدنيا، ويفرغ حواسه للصوت الشديد، فكان -صلى الله عليه وسلم- يفهم عنه؛ لأنه لم يبق في سمعه مكان لغير صوت الملك ولا في قلبه.
وأخبره -صلى الله عليه وسلم- أنه أحيانًا أخرى يأتيه جبريل في صورة رجل مثل دحية أو غيره، فيكلمه بالوحي فيفهم ما يقوله له ويحفظه.
وأخبرت عائشة -رضي الله عنها- أنها كانت ترى النبي -صلى الله عليه وسلم- عند نزول الوحي عليه في اليوم الشديد البرد فتنكشف عنه شدة الوحي وجبينه يسيل عرقًا من شدة ما يلقاه من الكرب والمعاناة.
581;ارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سےپوچھا اور کہا یا رسول اللہﷺ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ کبھی تو فرشتے (اور وہ جبریل علیہ السلام ہیں جو) وحی لے کر آتے ہیں چنانچہ اس وحی لانے والے فرشتے کی آواز قوت میں گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے اور یہ وحی نبی ﷺ پر بہت سخت اور تکلیف دہ ہوتی تھی جس کی وجہ سے نبی ﷺ بہت سخت مصیبت اور پریشانی میں پڑ جاتے، چنانچہ جب فرشتے کی بتائی ساری باتیں نبیﷺ کو یاد ہو جاتیں اور انہیں سمجھ لیتے تو یہ کیفیت ختم ہو جاتی۔ اس قدر تیز آواز میں وحی آنے کا مقصد یہ ہوتا کہ آپ ﷺ دنیا سے ایک دم غافل ہو جائیں اور ان کا ذہن خالی ہو جائے جس کی بنا پر نبیﷺ اسے سمجھ لیتے کیونکہ اب انہیں اس وحی کے علاوہ ان کے کان اور دل کو کوئی اور آواز سنائی نہیں دیتی۔ نیز آپ ﷺ نے حارث بن ہشام کو مزید بتایا کہ کبھی تو جبریل علیہ السلام انسان کی شکل میں مثلاً دِحیہ کلبی صحابی کی شکل میں، یا ان کے علاوہ کسی دوسرے کی شکل میں میرے پاس آتے ہیں، چنانچہ وہ مجھ سے بات کرتے ہیں تو میں ان کا کہا یاد کر لیتا ہوں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سخت جاڑے کے دن میں آپ پر وحی اترتے ہوئے دیکھا ، پھر جب وحی ختم ہو جاتی تو وحی کی شدت سے آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ نکلتا، ایسا اس لیے ہوتا کہ وحی کی وجہ سے نبی ﷺ کو بہت سخت مصیبت اور پریشانی ہوتی تھی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10840

 
 
Hadith   1704   الحديث
الأهمية: كان نبي الله -صلى الله عليه وسلم- إذا أنزل عليه الوحي كرب لذلك وتربد وجهه


Tema:

جب اللہ کے نبی ﷺ پر وحی نازل ہوتی، تو اس کی وجہ سے آپ کو تکلیف پہنچتی اور آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا تھا۔

عن عبادة بن الصامت -رضي الله عنه-، قال: «كان نبيُّ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- إذا أُنْزِلَ عليه الوحيُ كُرِبَ لذلك وتَرَبَّدَ وجهُه».

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”جب اللہ کے نبی ﷺ پر وحی نازل ہوتی، تو اس کی وجہ سے آپ کو تکلیف پہنچتی اور آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا تھا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا نزل عليه الوحي أصابه الكرب والشدة لذلك وتغير وجهه؛ لثقل نزول الوحي وصعوبة حصوله، وقد كان -صلى الله عليه وسلم- يهتم بأمر الوحي أشد الاهتمام، ويهاب مما يطالَب به من حقوق العبودية والقيام بشكر الله -تعالى- ويعظم أمر الله -تعالى وخبره.
606;بی ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی ،تو نزول وحی کے بوجھ اور اس کے حصول کی پریشانی کی وجہ سے آپ کو بے چینی و تکلیف لاحق ہوتی اور آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا تھا۔ آپ ﷺ وحی کا بشدت اہتمام کرتے، حقوقِ بندگی اور شکرِ الٰہی کی بجا آوری کے متعلق مطالبۂ وحی سے ڈرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے حکم و خبر کی تعظیم کرتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10841

 
 
Hadith   1705   الحديث
الأهمية: إن كان لينزل على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في الغداة الباردة، ثم تفيض جبهته عرقًا


Tema:

رسول اللہ ﷺ پر سخت سردی کے دن وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا۔

عن عائشة -رضي الله عنها-، قالت: «إنْ كانَ لَيَنْزِلُ على رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- في الغَدَاةِ الباردةِ، ثم تَفِيضُ جَبْهَتُه عَرَقًا».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر سخت سردی کے دن وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر أم المؤمنين عائشة -رضي الله عنها- في هذا الحديث أن الوحي كان ينزل على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في الصباح البارد، فيسيل العرق من مقدمة رأسه بكثرة؛ لشدة الوحي عليه.
575;س حدیث میں اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر صبح کے ٹھنڈے وقت وحی نازل ہوتی تو وحی کی شدت کی وجہ سے آپ ﷺ کی پیشانی سے کثرت کے ساتھ پسینہ بہنا شروع ہو جاتا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10842

 
 
Hadith   1706   الحديث
الأهمية: كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يعالج من التنزيل شدة، وكان يحرك شفتيه


Tema:

نبی ﷺ نزولِ قرآن کے وقت بہت سختی محسوس فرمایا کرتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو ہلاتے تھے۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- في قوله تعالى: {لا تُحَرِّكْ به لسانَك} [القيامة: 16]، قال: «كان النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- يُعالِجُ مِن التنزيل شِدَّةً، وكان يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ» فقال لي ابنُ عباس: فأنا أُحَرِّكُهما لك كما كان رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- يُحَرِّكُهما، فقال سعيد: أنا أُحَرِّكُهما كما كان ابنُ عباس يُحَرِّكُهما، فحرَّك شَفَتَيْهِ فأنزل اللهُ -عزَّ وجلَّ-: {لا تُحَرِّكْ به لسانَك لِتَعْجَلَ به إنَّ علينا جَمْعَه وقُرآنَه} [القيامة: 17]، قال: «جَمْعَه في صدرك ثم تقرؤه»، {فإذا قرأناه فاتَّبِعْ قُرآنه} [القيامة: 18] قال: «فاستمِع له وأَنْصِتْ، ثم إنَّ علينا أن تقْرَأه، قال: فكان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا أتاه جبريل عليه السلام استمع، فإذا انطلقَ جبريلُ قرأه النبي -صلى الله عليه وسلم- كما أقرَأَه».

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روايت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿لا تُحَرِّكْ به لسانَكَ﴾ (القیامۃ: 16) کی تفسیر میں فرمایا کہ نبی ﷺ نزولِ قرآن کے وقت بہت سختی محسوس فرمایا کرتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو ہلاتے تھے۔ مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں تمہیں ویسے ہی اپنے ہونٹ ہلا کر دکھاتا ہوں جس طرح آپ ﷺ ہلاتے تھے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں بھی اپنے ہونٹ ویسے ہی ہلاتا ہوں جیسے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہلائے۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لا تُحَرِّكْ به لسانَك لِتَعْجَلَ به إنَّ علينا جَمْعَه وقُرآنَه﴾ ”اے محمد! قرآن کو جلد جلد یاد کرنے کے لیے اپنی زبان نہ ہلاؤ، اس کا جمع کر دینا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہے“۔ (القیامۃ: 17)
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہے ”قرآن آپ ﷺ کے دل میں جمع دینا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہےں، ﴿فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ ”پھر جب ہم پڑھ چکیں تو اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو“ (القیامۃ: 18)
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (اس کا مطلب یہ ہے) کہ آپ اس کو خاموشی کے ساتھ سنتے رہیں۔ پھر یقیناً یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ اس کو پڑھیں (یعنی اس کو محفوظ کر سکیں)۔ چنانچہ اس کے بعد جب رسول الله ﷺ کے پاس جبرائیل علیہ السلام آتے تو آپ ﷺ اسے (توجہ سے) سنتے۔ جب وہ چلے جاتے تو نبی ﷺ اس (وحی) کو اسی طرح پڑھتے جس طرح جبرائیل علیہ السلام نے اسے پڑھایا ہوتا تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر ابن عباس -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يعاني عند نزول الوحي شدة وهمًّا عظيمًا، فكان يحرك شفتيه بما قد سمعه من جبريل قبل إتمام جبريل الوحي، مخافة أن يذهب عنه جبريل قبل أن يحفظه، وقد وصف ابن عباس لتلميذه سعيد بن جبير كيفية تحريك النبي -صلى الله عليه وسلم- لشفتيه، مما يدل على أن ابن عباس قد شاهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في تلك الحالة، ووصف سعيد ذلك أيضًا لتلاميذه،
فأنزل اللهُ -عزَّ وجلَّ-: {لا تُحَرِّكْ به لسانَك لِتَعْجَلَ به إنَّ علينا جَمْعَه وقُرآنَه}، أي: لا تحرك لسانك بالقرآن لتسارع بأخذه، فإن علينا جمعه وضمه في صدرك، ثم قال -تعالى-: {فإذا قرأناه فاتَّبِعْ قُرآنه} أي: إذا فرغ جبريل من قراءته فاستمع وأنصت. ثم إنَّ علينا أن تقرأه كما هو، قال: فكان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بعد ذلك إذا أتاه جبريل -عليه السلام- استمع، فإذا انطلق جبريلُ قرأه النبي -صلى الله عليه وسلم- كما أقرأه جبريل.
575;بن عباس رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نزولِ وحی کے وقت بہت زیادہ سختی اور بے چینی محسوس کرتے تھے۔ جبرائیل علیہ السلام کے وحی مکمل کرنے سے پہلے ہی آپ ﷺ جو کچھ ان سے سنتے اسے اپنے ہونٹوں کو ہلا کر پڑھنا شروع کر دیتے اس اندیشے کے پیش نظر کہ کہیں یہ نہ ہو کر آپ ﷺ کے یاد کر لینے سے پہلے ہی جبرائیل علیہ السلام چلے جائیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے شاگرد سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے سامنے بیان کیا کہ نبی ﷺ کیسے اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو اس حالت میں دیکھا تھا اور اس کو سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے بھی اپنے شاگردوں کے سامنے بیان کیا۔
اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿لا تُحَرِّكْ به لسانَك لِتَعْجَلَ به إنَّ علينا جَمْعَه وقُرآنَه﴾ یعنی قرآن کو جلدی جلدی لینے کی غرض سے اپنی زبان کو نہ ہلاؤ۔ اسے جمع کرنا اور تمہارے سینے میں بٹھا دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ یعنی جب جبرائیل پڑھ کر فارغ ہو جائیں تو (اس کے پیچھے پیچھے پڑھو) اور خاموشی کے ساتھ سنو۔ پھر تمہارا بعینہ اسی طرح پڑھانا ہماری ذمہ داری ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس جب بھی جبرائیل علیہ السلام تشریف لاتے تو آپ ﷺ خاموشی سے سنتے اور جب وہ چلے جاتے تو نبی ﷺ اس وحی کو ویسے ہی پڑھتے جیسے جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو پڑھایا ہوتا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10843

 
 
Hadith   1707   الحديث
الأهمية: اغسل الطيب الذي بك ثلاث مرات، وانزع عنك الجبة، واصنع في عمرتك كما تصنع في حجتك


Tema:

تم نے جو خوشبو لگا رکھی ہے اسے تین مرتبہ دھولو اور اپنا جبہ اتاردو اور عمرہ میں بھی اسی طرح کرو جس طرح حج میں کرتے ہو۔

عن صفوان بن يَعْلَى: أنَّ يَعْلَى قال لعمر -رضي الله عنه-: أَرِني النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- حِين يُوحَى إليه، قال: «فبيْنَما النبي -صلى الله عليه وسلم- بالجِعِرَّانة، ومعه نَفَرٌ من أصحابه، جاءه رجل فقال: يا رسول الله، كيف ترى في رجل أحْرَم بعمرة، وهو مُتَضَمِّخٌ بطِيب, فسكت النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- ساعة، فجاءه الوحْي، فأشار عمر -رضي الله عنه- إلى يَعْلَى، فجاء يَعْلَى وعلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ثوْب قد أُظِلَّ به، فأَدخَل رأسه، فإذا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مُحْمَرُّ الوجه، وهو يَغِطُّ، ثم سُرِّيَ عنه، فقال: «أين الذي سأل عن العمرة؟» فأُتي برجل، فقال: «اغسل الطِّيبَ الذي بِكَ ثلاث مرات، وانزِعْ عنك الجُبَّة، واصنع في عُمرتك كما تصنعُ في حَجَّتك» قلت لعطاء: أراد الإنقاء حين أمره أن يغسل ثلاث مرات؟ قال: «نعم».

صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یعلیٰ (بن امیہ ) رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کبھی آپ مجھے نبی کریم ﷺکو اس حال میں دکھائیے جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک بار رسول اللہ ﷺجِعِرّانہ میں اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ ٹھہر ے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر پوچھا یا رسول اللہ (ﷺ) !اس شخص کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے جس نے عمرہ کا احرام اس طرح باندھا کہ اس کے کپڑے خوشبو میں بسے ہوئے ہوں۔ نبی کریم ﷺ اس پر تھوڑی دیر کے لیے چپ ہوگئے۔ پھر آپ ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا۔ یعلیٰ آئے تو رسول اللہ ﷺپر ایک کپڑا تھا جس کے اندر آپ تشریف رکھتے تھے۔ انہو ں نے کپڑے کے اندر اپنا سر کیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ روئے مبارک سرخ ہے اور آپ خراٹے لے رہے ہیں۔ پھر یہ حالت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ وہ شخص کہاں ہے جس نے عمرہ کے متعلق پوچھا تھا؟ شخص مذکور حاضرکیا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا کہ تم نے خوشبو لگا رکھی ہے اسے تین مرتبہ دھولو، اپنا جبہ اتاردے اور عمرہ میں بھی اسی طرح کرو جس طرح حج میں کرتے ہو۔ میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا آپﷺ کے تین مرتبہ دھونے کے حکم سے پوری طرح صفائی مراد تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال يعلى بن أمية لعمر-رضي الله عنهما-: أخبرني عن النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا جاءه الوحي لأراه في أثناء ذلك وأتعرف على كيفية نزوله عليه. فبينما النبي -صلى الله عليه وسلم- بالجعرانة -وهو موضع بين مكة والطائف، يحرم منه مريد العمرة لمن كان بمكة- إذ جاءه رجل فأخبره أنه أحرم بعمرة وهو متلطخ بالطيب في ثوبه وبدنه فماذا يفعل؟ فسكت النبي -صلى الله عليه وسلم- عن إجابته، ولم يجبه فورًا بعد سؤاله، فجاءه الوحي فأشار عمر بيده ليعلى لكي يحضر عند النبي -صلى الله عليه وسلم- ويرى كيفية نزول الوحي عليه، فجاء يعلى وكان على رأس رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ثوب قد أُظِل به، فأدخل رأسه من تحت الثوب، فرأى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- محمر الوجه، تتردد أنفاسه بصوت مسموع، ثم انقطع عنه نزول الوحي فهدأت نفسه. فقال للرجل: كرر غسل الطيب الذي بك ثلاث مرات، فأمره بإزالة أثر الطيب عن بدنه وثوبه، وأمره بخلع الجبة لأنها مخيط، وأن يصنع في عمرته كما يصنع في حجته من اجتناب الطيب وغيره؛ لأن محظورات الحج والعمرة واحدة.
740;علیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ نےعمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے بھی اس وقت اطلاع کرنا جب نبی کریمﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہو ۔میں اس دوران آپ ﷺ کو دیکھنا چاہتا ہوں اور یہ جاننا چاہتا ہوں کہ نزول وحی کے وقت آپ ﷺکی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ اسی دوران نبی کریمﷺ جِعِرّانہ مقام پر موجو د تھے جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ ہے جہاں مکہ سے آنے والا شخص عمرہ کی نیت سے احرام باندھتا ہے ــــــــــ اس وقت ایک شخص آیا اور اس نے بتایا کہ اس نے عمرے کے لیے احرام باندھا ہے جب کہ اس کے کپڑے اور اس کا جسم خوشبو سے رچا ہوا ہے تو وہ ایسی حالت میں کیا کرے؟ رسول اللہﷺ نے اس کو جواب دینے سے خاموشی اختیار کر لی اور یہ آپ پر ضروری بھی نہیں کہ سوال کے فوراً بعد جواب دیں۔ رسول اللہ ﷺ پر وحی آئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ یعلیٰ کی طرف اشارہ کیا کہ وہ نبی کریمﷺ کے پاس آ جائے اور آپﷺ پر نزول وحی کی کیفیت کو دیکھ لے۔ یعلیٰ رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے سر پر ایک کپڑے کے ساتھ سایہ کیا گیا ہے تو انہوں نے اپنا سر کپڑے میں داخل کر لیا۔ انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہے، سانس کی تیزی کی وجہ سے آواز سنائی دے رہی تھی۔ آپ ﷺ سے نزول وحی کا وقت ختم ہوا تو آپ ﷺ کی سانسیں بحال ہوئیں اور اس شخص سے فرمایا کہ خوشبو کو بار بار دھوؤ اور یہ تین مرتبہ تک ہو جائے، اور اس کو حکم دیا کہ خوشبو کے آثار اپنے جسم اور کپڑوں سے زائل کرے اور یہ حکم بھی دیا کہ وہ اپنا جبہ اتار دے کیونکہ یہ سلا ہوا ہوتا ہے ۔اور اپنے عمرے میں بھی ویسے ہی کرے جیسا حج میں کیا جاتا ہے کہ خوشبو وغیرہ سے بچا جائے کیونکہ حج اور عمرہ میں جن چیزوں سے احتزار کیا جاتا ہے وہ ایک ہی ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10844

 
 
Hadith   1708   الحديث
الأهمية: زينوا القرآن بأصواتكم


Tema:

قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کیا کرو۔

عن البراء بن عازب -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «زَيِّنُوا القرآنَ بأصواتِكم».

براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کیا کرو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
المراد زينوا القرآن بتحسين أصواتكم عند القراءة، فإن الكلام الحسن يزداد حسنًا وزينةً بالصوت الحسن, والحكمة في ذلك المبالغة في تدبر المعاني، والتفطن لما تضمنته الآيات من الأوامر والنواهي والوعد والوعيد؛ لأن النفس ميّالة طبعًا إلى استحسان الأصوات، وربما يتفرغ الفكر مع حسن الصوت عن الشوائب، فيكون الفكر مجتمعًا، وإذا اجتمع حصل المطلوب من الخشوع والخضوع, والمراد بتحسين الصوت -في الحديث- التحسين الذي يبعث على الخشوع، لا أصوات ألحان الغناء واللَّهو التي تخرج عن حدّ القراءة.
605;راد یہ ہے کہ تلاوت کرتے ہوئے اپنی آوازوں کو خوبصورت بنا کر قرآن کو مزین کرو۔ کیونکہ اچھی آواز سے اچھے کلام کا حسن اور زینت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے معانی میں زیادہ سے زیادہ غور و تدبر ہو اور اوامر و نواہی اور وعدو وعید پر مشتمل آیات کی سمجھ پیدا ہو ۔ کیونکہ نفس طبعی طور پر اچھی آوازوں کی طرف مائل ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ خوبصورت آواز کی بدولت سوچ تمام آمیزشوں سے تہی ہو کر ذہنی یکسوئی کا سبب بن جائے۔ جب ذہن یکسو ہوتا ہے تو مطلوبہ شے یعنی خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہے۔ حدیث میں آواز کو خوبصورت بنانے سے مراد وہ خوبصورتی ہے جس سے خشوع پیدا ہو نہ كہ گانے کے سروں اور لہو و لعب کی آوازیں جو قرأت کی تعریف کے دائرے سے نکل جاتی ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10847

 
 
Hadith   1709   الحديث
الأهمية: لا تكتبوا عني، ومن كتب عني غير القرآن فليمحه، وحدثوا عني ولا حرج، ومن كذب علي متعمدًا فليتبوأ مقعده من النار


Tema:

میری کسی بات کو نہ لکھو۔ جس نے مجھ سے قرآن کے علاوہ کوئی اور بات لکھی ہے وہ اسے مٹا دے، البتہ میری باتیں روایت کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن جو شخص جان بوجھ کر میری طرف كوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔

عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «لا تكتبوا عني، ومَن كتب عني غيرَ القرآن فَلْيَمْحُه، وحدِّثوا عنِّي ولا حَرَج، ومَن كذب عليَّ -قال همام: أحسِبه قال: مُتعمِّدًا- فَلْيَتَبوَّأ مَقْعَدَه مِن النار».

ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: میری کسی بات کو نہ لکھو۔ جس نے مجھ سے قرآن کےعلاوہ کوئی اور بات لکھی ہے وہ اسے مٹا دے، البتہ میری باتیں روایت کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن جو شخص میری طرف كوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا -ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں انہوں نے ”جان بوجھ کر“ کے الفاظ بھی کہے تھے- وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔
نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- أصحابه أن يكتبوا عنه شيئًا، ومن كتب عنه شيئًا غير القرآن فليمحه، ثم أذن لهم أن يحدثوا عنه ولا إثم عليهم في ذلك، شريطة أن يتحروا الصدق فيما ينقلونه عنه -صلى الله عليه وسلم-، وحذرهم بأن من كذب عليه متعمدًا فجزاؤه نار جهنم.

608;النهي عن كتابة الحديث منسوخ؛ وذلك أنه -صلى الله عليه وسلم- نهى عنه في أول الأمر, فلأن الأحاديث تكثر وقد يفوت الحفظ شيئًا منها أجاز الكتابة, وقد قال -صلى الله عليه وسلم- في خطبته: «اكتبوا لأبى شاه» لما استكتبه، وجاء عنه -صلى الله عليه وسلم- أنه أذن لعبد الله بن عمرو في الكتابة, وقد أمر -صلى الله عليه وسلم- أمته بالتبليغ، فإذا لم يُكتب ذهب العلم, وقيل: إن هذا النهي إنما هو لكتابة الحديث مع القرآن فى صحيفة واحدة لئلا يختلط به، فيشتبه على القارئ, وقيل: إنّه خاصّ بوقت نزول القرآن خشية التباسه بغيره, ثم أذن فيه بعد ذلك.
والاحتمال الأول وهو النسخ أقرب.
606;بی ﷺ نے (شروع میں) اپنے صحابہ کو اپنی کوئی بھی بات لکھنے سے منع کر دیا اور فرمایا کہ جس نے میری کسی بات کو لکھا ہو وہ اسے مٹا دے۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں اپنی باتوں کو آگے بیان کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی کہ ایسا کرنے میں ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ آپ ﷺ سے جس بات کو بھی نقل کریں اس میں سچائی کو پیش نظر رکھیں۔ آپ ﷺ نے انہیں تنبیہ فرمائی کہ جو شخص بھی آپ ﷺ کی طرف جان بوجھ کر کوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا اس کی جزا جہنم کی آگ ہو گی۔
حدیث کو لکھنے کی ممانعت منسوخ ہو چکی ہے کیونکہ آپ ﷺ نے اس سے شروع شروع میں منع فرمایا تھا۔ کیونکہ احادیث بہت زیادہ ہو گئیں اور ہو سکتا تھا کہ حافظہ کچھ باتوں کو محفوظ نہ رکھ سکے چنانچہ آپ ﷺ نے لکھنے کی اجازت دے دی۔ آپ ﷺ نے اپنے خطبہ (حجۃ الوادع) میں فرمایا کے لیے ”ابو شاہ کو لکھ کر دے دو“۔ آپ ﷺ نے ایسا اس وقت فرمایا جب ابو شاہ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے (خطبہ میں بیان کردہ احکام کو) لکھ کر دینے کی درخواست کی تھی۔ آپ ﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو لکھنے کی اجازت دی۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو تبلیغ کا حکم دیا ہے۔ جب لکھا نہیں جائے گا تو اس سے علم ضائع ہو جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ اس ممانعت کا تعلق محض اس صورت کے ساتھ خاص ہے جب حدیث کو قرآن کے ساتھ ایک ہی صحیفہ میں لکھا جائے تا کہ اس کی قرآن کے ساتھ آمیزش نہ ہو جائے اور یوں قاری اشتباہ میں پڑ جائے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ممانعت صرف نزولِ قرآن کے وقت کے ساتھ خاص تھی اس اندیشے کے تحت کہ کہیں قرآن کا کسی اور شے کے ساتھ التباس نہ ہو جائے۔ بعدازاں رسول اللہ ﷺ نے اس کی اجازت دے دی۔
پہلا احتمال یعنی اس ممانعت کا منسوخ ہونا ہی زیادہ راجح ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10849

 
 
Hadith   1710   الحديث
الأهمية: بئس ما لأحدهم أن يقول نسيت آية كيت وكيت، بل نسي واستذكروا القرآن، فإنه أشد تفصِّيًا من صدور الرجال من النعم


Tema:

ایک آدمی کے لیے نہایت بری بات ہے کہ وہ کہے کہ میں اتنی اور اتنی آیتیں بھول چکا ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ اسے بھلا دیا گیا ہے۔ تم پابندی کے ساتھ قرآن کى تلاوت اور اس کا پیہم مذاکرہ کیا کرو، کیوں کہ وہ لوگوں کے دلوں سے اتر جانے کے معاملے میں اونٹوں کی رفتار سے بھی کہیں تیز ہے۔

عن عبد الله بن مسعود -رضي الله عنه- قال: قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «بِئْسَ ما لأحَدِهم أنْ يقول نَسِيتُ آيةَ كَيْتَ وكَيْتَ، بل نُسِّيَ، واستذكِروا القرآن، فإنه أشدُّ تَفَصِّيًا مِن صدور الرِّجال من النَّعَم».

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ایک آدمی کے لیے یہ بری بات ہے کہ وہ کہے کہ میں اتنی اور اتنی آیتیں بھول چکا ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ اسے بھلا دیا گیا ہے۔ تم پابندی کے ساتھ قرآن کى تلاوت اور اس کا پیہم مذاکرہ کیا کرو, کیوں کہ وہ لوگوں کے دلوں سے اتر جانے کے معاملے میں اونٹوں کی رفتار سے بھی کہیں تیز ہے"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث ذم النبي -صلى الله عليه وسلم- الذي يقول: نسيت آية كذا وكذا؛ لأن ذلك يُشعر بالتساهل في القرآن والتغافل عنه، ولكنه «نُسِّيَ» أي: عوقب بوقوع النسيان عليه لتفريطه في معاهدته واستذكاره, ثم أمر النبي -صلى الله عليه وسلم- بالمواظبة على تلاوة القرآن واستذكاره ومدارسته، فهو أشد انفلاتًا من الصدور من الإبل, وخص الإبل بالذكر لأنه أشد الحيوانات الإنسية نفورًا، وفي تحصيل الإبل بعد استمكان نفورها صعوبة.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس آدمی کی مذمت کی ہے، جو کہے کہ میں یہ اور وہ آیتیں بھول چکا ہوں، کیوں کہ یہ قرآن کو یاد رکھنے کے معاملے میں سستی روا رکھنے اور غفلت سے کام لینے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کی دیکھ بھال اور اسے یاد رکھنے کے معاملے میں سستی کی وجہ سے اسے قرآن کو بھولنے کی سزا دی گئي ہے۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے تلاوت قرآن کی پابندی، اسے یاد رکھنے اور اس کا دور کرتے رہنے کا حکم دیا ہے، کیوں کہ وہ سینوں سے نکل بھاگنے کے معاملے میں اونٹ سے بھی کہیں آگے ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بطور خاص اونٹ کا ذکر اس لیے کیا، کیوں کہ وہ پالتو جانوروں کے ما بین بدکنے میں سب سے آگے ہے اور بدک جائے تو اسے پکڑنا بڑا دشوار ہوتا ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10850

 
 
Hadith   1711   الحديث
الأهمية: اقرؤوا القرآن فإنه يأتي يوم القيامة شفيعًا لأصحابه


Tema:

قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے قارئین کا سفارشی بن کر آئے گا۔

عن أبي أمامة الباهلي -رضي الله عنه- قال: سمعتُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «اقرؤوا القرآنَ فإنَّه يأتي يوم القيامة شَفِيعًا لأصحابه، اقرؤوا الزَّهرَاوَين البقرةَ وسورةَ آل عِمران، فإنهما تأتِيان يوم القيامة كأنهما غَمَامَتان، أو كأنهما غَيَايَتانِ، أو كأنهما فِرْقانِ من طَيْر صَوافٍّ، تُحاجَّان عن أصحابهما، اقرؤوا سورة البقرة، فإن أخذها بَرَكة، وتركها حَسْرة، ولا تستطيعها البَطَلَة».

575;بو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا سفارشی بن کر آئےگا۔ دو روشن چمکتی ہوئی سورتیں:البقرہ اور آل عمران پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے وہ دو بادل یا دو سائبان ہوں یا دو اڑتے ہوئے پرندوں کی قطاریں ہوں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے حجت (دفاع) کریں گی۔ سورہ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اسے حاصل کرنا باعث برکت ہے اور اس کا ترک کرنا باعثِ حسرت ہے اور باطل پرست اس کی طاقت نہیں رکھتے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اقرؤوا القرآن وداوموا على تلاوته؛ فإنه يشفع يوم القيامة لأصحابه التالين له العاملين به، واقرؤوا على الخصوص سورة البقرة وسورة آل عمران فإنهما يسميان الزهراوان أي المنيرتان؛ لنورهما وهدايتهما وعظم أجرهما، فكأنهما بالنسبة إلى ماعداهما عند الله مكان القمرين من سائر الكواكب، وإن ثواب قراءتهما يأتيان يوم القيامة على صورة سحابتين تظلان صاحبهما من حر يوم القيامة، أو يأتي ثواب قراءتهما على صورة جماعتين من طير واقفات في صفوف باسطات أجنحتها متصلا بعضها ببعض، تدافعان عن أصحابهما وتدفعان عنهم الجحيم.
ولا مانع من كون الآتي هو العمل نفسه كما هو ظاهر الحديث, فأما أن يقال إن الآتي هو كلام الله نفسه فليس كذلك؛ لأن كلامه تعالى من صفاته ولا تأتي الصفة منفصلة عن الذات, والذي يوضع في الميزان هو فعل العبد وعمله {والله خلقكم وما تعملون} [الصافات: 96].
ثم أكد النبي -صلى الله عليه وسلم- على قراءة سورة البقرة؛ فإن المواظبة على تلاوتها والتدبر في معانيها والعمل بما فيها بركة ومنفعة عظيمة، وترك هذه السورة وعدم قراءتها وتدبرها والعمل بما فيها حسرة وندامة يوم القيامة، وإن من عظيم فضل هذه السورة أن السحرة لا تقدر أن تضر من يقرأها ويتدبرها ويعمل بها، وقيل: لا يقدر السحرة على قراءتها وتدبرها والعمل بها ولا يوفقون لذلك.
602;رآن پڑھا کرو اور اس کی تلاوت پر مداومت برتو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنی تلاوت کرنے اور اس پر عمل کرنے والوں کے لیے سفارش کرے گا۔ بالخصوص سورۂ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھا کرو کیونکہ ان دونوں کا نام دو چمکدار یعنی دو روشنیاں رکھا گیا ہے، اُن کے منور ہونے، ہدایت کے اعتبار سے اور عظیم اجر کے اعتبار سے -گویا کہ اللہ کے نزدیک دیگر سورتوں کے تناسب سے ایسے ہی ہے جیسے قمرین کو تما م ستاروں پر- ان دونوں کے پڑھنے کا ثواب یہ ہےکہ قیامت کے دن یہ دونوں دو بادلوں کی صورت میں اپنے پڑھنے والے پر روز محشر کی گرمی سے سایہ کیے ہوئے ہوں گی یا پھر ان کے پڑھنے کا ثواب پرندوں کی دو جماعتیں جو صفوں کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ اپنے پر ملائے ہوئے کھڑے ہو ں گے جو اپنے پڑھنے والے کا دفاع کریں گی اور ان کو جہنم میں سے بچائیں گی۔
اس میں کوئی مانع نہیں ہے کہ وہ آنے والا خود عملِ (قرآن) کی شکل میں آئے گا جیسا کہ حدیث کے ظاہر سے پتہ چل رہا، لیکن اگر یہ کہا جائے کہ وہ آنے والا خود اللہ کا کلام ہے، تو یہ درست نہیں۔ کیونکہ ’کلام‘ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے اور صفتْ ذات سے الگ نہیں ہوتی اور جس چیز کو میزان میں رکھا جائے گا وہ بندے کافعل اور عمل ہو گا جیسا کہ ﴿وَاللَّـهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ﴾ ”اور اللہ ہی ہے جس نے تمہیں اور جو تم عمل کرتے ہو ان سب کو پیدا کیا ہے“ (سورہ الصافات: 96)
نبی کریم ﷺ نے سورۂ بقرہ کی تلاوت کی تاکید فرمائی ہے کیونکہ اس کی تلاوت پر مداومت برتنے، اس کے معانی پر غور وفکر اور اس پر عمل کرنے میں بہت ساری برکتیں اور عظیم منافع موجود ہیں۔ اور اس سورت کو چھوڑنا، اس کی تلاوت نہ کرنا اور اس پر غور وفکر کرتے ہوئے اس پر عمل نہ کرنا قیامت کے دن حسرت و ندامت کا سبب بنے گا۔ اس سورت کا ایک بہت بڑا کمال یہ بھی ہے کہ اس کے پڑھنے والے اور اس پر غور و فکر کرتے ہوئے عمل کرنے والے کو جادو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اور (یہ بھی) کہا گیا ہے کہ جادوگر اس کے پڑھنے، اس میں تدبر کرنے، اس کے مطابق عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اورنہ ہی ان کو اس کی توفیق ملتی ہے ۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10851

 
 
Hadith   1712   الحديث
الأهمية: اقرؤوا القرآن ما ائتلفت قلوبكم، فإذا اختلفتم فقوموا عنه


Tema:

جب تک تمہارا دل لگا رہے تب تک قرآن پڑھتے رہو اور جب اختلاف اور جھگڑا کرنے لگو تو اٹھ کھڑے ہو۔

عن جندب بن عبد الله -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «اقرؤوا القرآنَ ما ائْتَلَفت قلوبُكم، فإذا اختلفْتُم فقوموا عنه».

جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تک تمہارا دل لگا رہے تب تک قرآن پڑھتے رہو اور جب اختلاف اور جھگڑا کرنے لگو تو اٹھ کھڑے ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: اقرؤوا القرآن ما دامت قلوبكم مجتمعة عليه، فإذا اختلفتم في فهم معانيه فتفرقوا عنه؛ لئلا يتمادى بكم الاختلاف إلى الشر, ويحتمل أن يكون المعنى: تمسكوا بالمحكم منه، فإذا عرض المتشابه الذي هو موجب للاختلاف فأعرضوا عن الخوض فيه، كما يحتمل أن يكون المراد: الأمر بالقراءة ما دامت القلوب مقبلة، فإذا سئمت وملت تركت إلى وقت النشاط والإقبال، كما وقع مع الأمر بنظير ذلك في الصلاة.
والاحتمال الأول أقرب.
581;دیث کا مفہوم: تب تک قرآن پڑھتے رہو جب تک تمہارا دل اس میں لگا رہے، اور جب اس کے معانی سمجھنے میں تمہارے مابین اختلاف پیدا ہونے لگے تو اس کے پاس سے اٹھ جاؤ تا کہ یہ اختلاف تمہیں شر میں مبتلا نہ کر دے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس کا معنی یہ ہو کہ قرآن کا جو حصہ محکم ہے اس کو تھام لو اور جب کوئی متشابہ آیت سامنے آ جائے جو اختلاف کا باعث ہوتی ہے تو اس میں مشغول ہونے سے احتراز کرو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد یہ حکم ہو کہ جب تک دل متوجہ رہیں تب تک پڑھتے رہو اور جب دل اكتاہٹ کا شکار ہونے لگیں تو قرآن کی تلاوت چھوڑ دی جائے تا وقتیکہ نشاط اور توجہ دوبارہ لوٹ آئے جیسا کہ نماز کے بارے میں یہی حکم آیا ہے۔
پہلا احتمال زیادہ راجح ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10852

 
 
Hadith   1713   الحديث
الأهمية: بهذا أمرتم؟ أو بهذا بعثتم؟ أن تضربوا كتاب الله بعضه ببعض؟ إنما ضلت الأمم قبلكم في مثل هذا، إنكم لستم مما هاهنا في شيء، انظروا الذي أمرتم به، فاعملوا به، والذي نهيتم عنه، فانتهوا


Tema:

تمہیں یہ حکم دیا گیا ہے؟یا تمہیں اس لیے بھیجا گیا ہے کہ کتاب اللہ کے کچھ کو کچھ کر کے بیان کرو؟ تم سے پہلی امتیں اسی وجہ سے گمراہ ہوئی تھیں۔تم اس لیے نہیں ہو کہ یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے (اِس میں پڑے رہو)، تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے دیکھو اور اس پر عمل کرو اور جس سے منع کیا گیا ہے اس سے رک جاؤ۔

عن عبد الله بن عمرو -رضي الله عنهما-: أنَّ نَفَرًا كانوا جُلوسًا بباب النبي -صلى الله عليه وسلم-، فقال بعضُهم: ألم يَقُلِ اللهُ كذا وكذا؟ وقال بعضُهم: ألم يَقُلِ اللهُ كذا وكذا؟ فسمِعَ ذلك رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم-، فخرج كأنَّما فُقِئَ في وجهِه حَبُّ الرُّمَّان، فقال: «بهذا أُمِرْتُم؟ أو بهذا بُعِثْتم؟ أنْ تَضْربُوا كتابَ اللهِ بعضَه ببعض؟ إنَّما ضَلَّتِ الأُمَمُ قبلكم في مثل هذا، إنَّكم لستُم ممَّا هاهنا في شيء، انظروا الذي أُمِرتم به، فاعملوا به، والذي نُهِيتُم عنه، فانتهوا».

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صحابہ کی ایک جماعت نبی کریم ﷺ کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ کچھ لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے نہیں فرمایا؟ اور بعض کہتے کہ ایسے ایسے نہیں فرمایا؟ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ باتیں سنیں تو باہر نکلے اور ایسے لگ رہا تھا جیسے آپ ﷺ کے چہرے پر انار کے دانے نچوڑے ہوئے ہیں۔ فرمایا:تمہیں یہ حکم دیا گیا ہے؟ یا تمہیں اس لیے بھیجا گیا ہے کہ کتاب اللہ کے کچھ کو کچھ اور کر کے بیان کرو؟ تم سے پہلی امتیں اسی وجہ سے گمراہ ہوئی تھیں۔ تم اس لیے نہیں ہو کہ یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے (اِس میں پڑے رہو)، تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے دیکھو اور اس پر عمل کرو اور جس سے منع کیا گیا ہے اس رک جاؤ۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان جماعة من الصحابة جالسين عند باب النبي -صلى الله عليه وسلم-، فاختلفوا في مسألة، وفي بعض الروايات أنهم اختلفوا في القدر، فجعل بعضهم يستدل على قوله بآية من كتاب الله، وجعل الآخرون يستدلون بآية من كتاب الله، فسمع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ذلك, فخرج عليهم وقد غضب واحمر وجهه احمرارًا شديدًا, كأنما عُصِر حب الرمان في وجهه -صلى الله عليه وسلم-، وقال لهم: هذا الاختلاف والجدال والتنازع في القرآن ومعارضة القرآن بعضه ببعض، هل هو المقصود من خلقكم؟ أو هو الذي أمركم الله به؟ يريد أنه ليس بشيء من الأمرين، فليس هناك حاجة إليه، وأخبرهم أن سبب ضلال الأمم قبلهم في مثل هذا الأمر، ثم أرشدهم إلى ما فيه صلاحهم ونفعهم فقال: ما أمركم الله به فافعلوه وما نهاكم عنه فانتهوا عنه، هذا هو الذي خُلقتم من أجله، وهذا الذي فيه نفعكم وصلاحكم.
589;حابہ کی ایک جماعت نبی کریم ﷺ کے دروازے کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ ان کا کسی مسئلہ میں اختلاف ہو گیا اور بعض روایات کے مطابق ان کا تقدیر کے کسی مسئلہ پر اختلاف ہوگیا۔ بعض نے اپنے قول پر کتاب اللہ کی آیت کو بطور استدلال پیش کیا اور دوسروں نے اپنے استدلال پر کتاب اللہ کی آیت کو پیش کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ سنا تو غصے کی حالت میں باہر نکلے اور آپ ﷺ کا چہرۂ انور غصے سے سرخ تھا مانو آپ ﷺ کے چہرے پر انار کے دانوں کا جوس نچوڑا دیا گیا ہو۔ آپﷺ نے ان سے فرمایا کہ یہ اختلاف، جھگڑا اور قرآن میں تنازع اور قرآن کے بعض کو بعض سے متنازع کرنا، کیا تمہاری تخلیق کا مقصد یہی ہے؟یا اس کا اللہ نے حکم دیا ہے؟ ان کی مراد یہ تھی کہ ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ ان کو بتایا کہ سابقہ امتوں کی گمراہی کا سبب بھی اسی طرح کے معاملات تھے۔ پھر ان کی اس طرف رہنمائی فرمائی جس میں ان کی اصلاح اور فائدہ ہے۔ فرمایا کہ جو اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے وہ کرو اور جس سے روکا ہے اس سے باز آ جاؤ۔ یہ کام ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اور جس میں تمہارے لیے فائدہ اور اصلاح ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10853

 
 
Hadith   1714   الحديث
الأهمية: لا تجادلوا في القرآن فإن جدالًا فيه كفر


Tema:

قرآن کے معاملے میں جھگڑا نہ کیا کرو کیونکہ اس میں جھگڑنا کفر ہے۔

عن عبد الله بن عمرو-رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لا تُجادِلوا في القرآن؛ فإنَّ جِدالًا فيه كُفرٌ».

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ”قرآن کے معاملے میں جھگڑے نہ کیا کرو کیونکہ اس میں جھگڑنا کفر ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- عن الجدال في القرآن؛ لأنه يؤدي إلى كفر؛ وذلك لأن الإنسان قد يسمع قراءة آية أو كلمة لم تكن عنده, ولا علم له بها فيتسرع ويخطِّئ القارئ وينسِب ما يقرؤه إلى أنه غير قرآن، أو يجادله في معنى آية لا علم له بها ويضلله، والجدال ربما صرفه عن الحق وإن ظهر له وجهه، فلذلك حُرِّم وسُمِّي كفرًا؛ لأنه يؤدي بصاحبه إلى الكفر، ومتى سلم الإنسان من ذلك كله فهو مباح أو محمود، كمن يسأل للتعلم أو لإظهار الحق, كما قال -تعالى-: {وجادلهم بالتي هي أحسن}.
606;بی کریم ﷺ نے قرآن کریم کے معاملے میں جھگڑنے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ یہ کفر کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ اس طرح ہوتا ہے کہ کسی شخص نے کسی آیت کی تلاوت یا کلمے کو سنا جو اس کے پاس نہیں یا اس کا اسے علم نہیں تو جلدبازی کرتے ہوئے پڑھنے والے کو خطا کار گردان دے اور جو اس نے پڑھا ہے اسے غیرِقرآن سے منسوب کر دے، یا پھر وہ کسی آیت کے معنی میں جھگڑتا ہے جس کا اسے علم نہیں تو اسے گمراہ قرار دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ جھگڑا اس کے سامنے حق کے ظاہر ہونے کے باوجود اس کو حق سے پھیر دیتا ہے۔ اسی لیے اس کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اس کا نام کفر رکھا گیا ہے کیونکہ یہ معاملہ صاحبِ جدال کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ کوئی بھی انسان اس سے اسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے یا یہ مباح اور محمود اس وقت ہی ہو سکتا ہے جب سوال کرنے والا حصولِ علم یا اظہارِ حق کے لیے سوال کرے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ ”ان سے اچھے انداز میں بحث ومباحثہ کیجیے“۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابو داؤد الطیالسی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10854

 
 
Hadith   1715   الحديث
الأهمية: إن ما أتخوف عليكم رجل قرأ القرآن حتى إذا رئيت بهجته عليه، وكان ردئًا للإسلام، غَيَّرَه إلى ما شاء الله، فانسلخ منه ونبذه وراء ظهره، وسعى على جاره بالسيف، ورماه بالشرك


Tema:

تمھارے بارے میں مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ ایک آدمی قرآن پڑھے، یہاں تک کہ جب اس پر قرآن کی چمک دمک نظر آنے لگے اور وہ اسلام کا معاون وحامی بن چکا ہو، تو اس کو اللہ کى مشیئت کے مطابق کسى اور چیز سے بدل دے, اس سے علاحدگی اختیار کر لے، اسے پس پشت ڈال دے، اپنے پڑوسی پر تلوار لے کر چڑھ دوڑے اور اس پر شرک کی تہمت لگائے

عن حذيفة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إنَّ ما أَتَخوَّفُ عليكم رجلٌ قَرَأ القرآنَ حتى إذا رُئِيَتْ بَهْجتُه عليه، وكان رِدْئًا للإِسلام، غَيَّرَه إلى ما شاء الله، فانْسَلَخَ مِنْه ونَبَذَه وراءَ ظَهْرِه، وسَعَى على جاره بالسَّيف، ورمَاه بالشِّرك»، قال: قلتُ: يا نبيَّ الله، أيُّهما أوْلى بالشِّرك، المَرْمِي أم الرَّامي؟ قال: «بل الرَّامي».

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "تمھارے بارے میں مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ ایک آدمی قرآن پڑھے، یہاں تک کہ جب اس پر قرآن کی چمک دمک نظر آنے لگے اور وہ اسلام کا معاون وحامی بن چکا ہو، تو اس کو اللہ کى مشیئت کے مطابق کسى اور چیز سے بدل دے, اس سے علاحدگی اختیار کر لے، اسے پس پشت ڈال دے، اپنے پڑوسی پر تلوار لے کر چڑھ دوڑے اور اس پر شرک کی تہمت لگائے۔" وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے نبی! دونوں میں سے کون زیادہ شرک کا حق دار ہے، تہمت لگانے والا یا وہ جس پر تہمت لگائی جائے؟ تو فرمایا : "بلکہ تہمت لگانے والا"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن من أكثر الأشياء التي يتخوفها النبي -صلى الله عليه وسلم- على أمته رجل قرأ القرآن ورأى الناسُ عليه نور القرآن وحسنه وأثره الطيب، وكان عونًا للإسلام وأهله ومدافعًا عنهم، ثم إذا به يغير ذلك ويفارق الإسلام ويترك القرآن ويقتل جاره ويتهمه بالشرك، فسألوا النبي -صلى الله عليه وسلم-: من أحق بالشرك، هذا الرجل الذي قتل جاره واتهمه بالشرك أم الجار؟ فأخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن الرجل الذي اتهم جاره بالشرك وقتله هو أحق بالشرك وأولى به.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے بارے میں جن باتوں کا سب سے زیادہ ڈر تھا، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک آدمی قرآن کی تعلیم حاصل کرے، لوگوں کو اس کے چہرے پر قرآن کا نور، اس کا حسن اور پاکیزہ اثرات دکھائی دیں، ساتھ ہی وہ اسلام اور مسلمانوں کا حامی اور ان کا دفاع کرنے والا بھی بن چکا ہو، لیکن اچانک اپنے رویے میں تبدیلی لاتے ہوئے اسلام سے دامن چھڑا لے، قرآن سے ترک تعلق کر لے، اپنے پڑوسی کا قتل کرنے لگے اور اس پر شرک کی تہمت لگانے لگے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ دونوں میں سے شرک کا زیادہ حق دار کون ہے؟ یہ آدمی جس نے اپنے پڑوسی کا قتل کیا اور اس پر شرک کی تہمت لگائی یا اس کا پڑوسی؟ تو آپ نے جواب دیا : وہ آدمی جس نے اپنے پڑوسی پر شرک کی تہمت لگائی اور اس کا قتل کیا، وہی شرک کا زیادہ حق دار ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10855

 
 
Hadith   1716   الحديث
الأهمية: إني أخاف على أمتي اثنتين: القرآن واللبن، أما اللبن فيبتغون الريف ويتبعون الشهوات ويتركون الصلوات، وأما القرآن فيتعلمه المنافقون فيجادلون به المؤمنين


Tema:

مجھے اپنی امّت کے بارے میں دو چیزوں کا خوف ہے: قرآن اور دودھ، رہی بات دودھ کی تو لوگ اسے دیہات میں تلاش کرتے ہیں اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتے ہیں اور نماز کو ترک کر دیتے ہیں اور جہاں تک قرآن کا تعلق ہے تو اسے منافقین سیکھتے ہیں اور اس کے ذریعہ مومنوں سے بحث وتکرار کرتے ہیں۔

عن عقبة بن عامر، يقول: إن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «إنِّي أخاف على أُمَّتي اثنَتَيْن: القرآنَ واللَّبَن، أما اللَّبَن فيَبْتَغُون الرِّيفَ ويتَّبِعون الشَّهَوَاتِ ويَتْركون الصلوات، وأما القرآن فيتعلَّمه المنافقون فيُجادِلون به المؤمنين».

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اپنی امّت کے بارے میں دو چیزوں کا خوف ہے: قرآن اور دودھ؛ رہی بات دودھ کی تو اسے لوگ دیہات میں تلاش کرتے ہیں اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتے ہیں اور نماز کو ترک کر دیتے ہیں اور جہاں تک قرآن کا تعلق ہے تو اسے منافقین سیکھتے ہیں اور اس کے ذریعہ مومنوں سے بحث وتکرار کرتے ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث خوفه على أمته من شيئين متعلقين بالقرآن وباللبن، أما بالنسبة للبن فإن بعض الناس يطلبون مواضعه في المراعي والزروع، ويتبعون شهواتهم وملذاتهم، ويتباعدون عن المدن التي تقام فيها صلاة الجمعة والجماعة، ثم يتركون الصلاة بعد ذلك طلبًا للبن، وأما القرآن فيتعلمه المنافقون لا لينتفعوا به ويعملوا به، ولكن ليجادلوا به المؤمنين بالباطل؛ ليردوا الحق الذي عندهم.
فليس اللبن في ذاته ولا القرآن هو محل الخوف والضرر، وإنما عَبَّر بهما عن الشيء المتعلق بهما مجازًا، والله أعلم.
575;س حدیث میں نبی ﷺ اپنی امّت کے بارے میں ان دو چیزوں کے متعلق خدشے کا اظہار کر رہے ہیں جن کا تعلق قرآن اور دودھ سے ہے، جہاں تک دودھ کی بات ہےتو بعض لوگ اسے چراگاہوں اور کھیتوں میں طلب کرتے ہیں اور اپنی خواہشات ولذات کی پیروی کرتے ہیں، اور ان شہروں سے دور رہتے ہیں جہاں پر جمعہ وجماعت قائم کی جاتی ہے، پھر نتیجتاً دودھ کی کھوج میں نماز کو ترک کر دیتے ہیں۔ رہی بات قرآن کی تو اسے منافقین سیکھتے ہیں (اخروی) فائدہ حاصل کرنے اور اس پرعمل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس لیے سیکھتے ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعہ مومنوں سے باطل حجّت کرسکیں اور مومنین کے پاس موجود حق کی تردید کر سکیں۔ بذاتِ خود دودھ اور قرآن خوف ونقصان کا محل نہیں ہیں، لیکن ان دونوں کے ذریعہ اس چیز کی تعبیر کی گئی ہے جو مجازاً ان دونوں سے متعلق ہیں۔ واللہ اعلم۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10856

 
 
Hadith   1717   الحديث
الأهمية: أن رجلًا قال: يا رسول الله، أنبيا كان آدم؟ قال: «نعم» . قال: كم بينه وبين نوح؟ قال: «عشرة قرون» . قال: كم بين نوح وإبراهيم؟ قال: «عشرة قرون» . قال: يا رسول الله، كم كانت الرسل؟ قال: «ثلاثمائة وخمسة عشر»


Tema:

ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ نے جواب دیا: ہاں! اس نے پوچھا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے بیچ کتنا فاصلہ تھا؟ جواب دیا: "دس پشتوں کے گزرنے کے برابر"۔ اس نے پوچھا: نوح اور ابراہیم علیہما السلام کے درمیان؟ جواب دیا: "دس پشتوں کے گزرنے کے برابر"۔ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! رسولوں کی تعداد کتنی تھی؟ جواب دیا: "تین سو پندرہ"

عن أبي أُمامة الباهلي -رضي الله عنه-: أنَّ رجلا قال: يا رسول الله، أَنَبِيًّا كان آدم؟ قال: «نعم» . قال: كم بيْنه وبيْن نوح؟ قال: «عشرة قُرُون» . قال: كم بيْن نوح وإبراهيم؟ قال: «عشرة قُرُون» . قال: يا رسول الله، كم كانت الرُّسُل؟ قال: «ثلاثمائة وخمسة عشر».

ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ نے جواب دیا: ہاں! اس نے پوچھا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے بیچ کتنا فاصلہ تھا؟ جواب دیا: "دس پشتوں کے گزرنے کے برابر"۔ اس نے پوچھا: نوح اور ابراہیم علیہما السلام کے درمیان؟ جواب دیا: "دس پشتوں کے گزرنے کے برابر"۔ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! رسولوں کی تعداد کتنی تھی؟ جواب دیا: "تین سو پندرہ"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكر أبو أمامة -رضي الله عنه- في هذا الحديث أن رجلًا جاء إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فسأله عن آدم هل كان نبيًّا؟ فقال له رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: نعم كان نبيًّا. فسأله عن مقدار الزمن بينه وبين نوح؟ فذكر -صلى الله عليه وسلم- أن المدة بينهما عشرة قُرون، ثم سأله عن مقدار الزمن بين نوح وإبراهيم؟ فأجابه -صلى الله عليه وسلم- بنفس الجواب وأنها عشرة قُرون، ثم سأله عن عدد الرسل؟ فأجابه -صلى الله عليه وسلم- بأنهم ثلاثمائة وخمسة عشر رسولًا.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ اس حدیث میں بیان کر رہے ہیں کہ ایک آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا کہ ہاں وہ نبی تھے۔ پھر اس نے آدم اور نوح علیہما السلام کے بیچ کا زمانی فاصلہ جاننا چاہا، تو آپ نے بتایا کہ یہ فاصلہ دس پشتوں کے گزرنے کی مدت کے برابر تھا۔ پھر اس نے نوح اور ابراہیم علیہما السلام کے بیچ کا زمانی فاصلہ پوچھا، تو آپ نے اس کے جواب میں بھی وہی کہا کہ دس پشتوں کے گزرنے کے برابر فاصلہ تھا۔ پھر اس نے رسولوں کی تعداد پوچھی، تو بتایا کہ ان کی تعداد تین سو پندرہ تھی۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10858

 
 
Hadith   1718   الحديث
الأهمية: إن الله اصطفى كنانة من ولد إسماعيل، واصطفى قريشا من كنانة، واصطفى بني هاشم من قريش، واصطفاني من بني هاشم، فأنا سيد ولد آدم ولا فخر، وأول من تنشق عنه الأرض، وأول شافع، وأول مشفع


Tema:

اللہ تعالیٰ نےاسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا پھر بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا۔ میں اولادِ آدم کا سردار ہوں مگر اس پر فخر نہیں، میں پہلا شخص ہوں گا جس سے قبر شق کی جائے گی، سب سے پہلے میں سفارش کروں گا اور میں ہی پہلا ہوں گا جس کی سفارش قبول کی جائے گی۔

عن واثلة بن الأسقع -رضي الله عنه-، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إنَّ اللهَ اصْطَفى كِنانَة من وَلَد إسماعيل، واصْطَفى قُريشًا من كِنانة، واصْطَفى بَني هاشم مِنْ قُرَيش، واصْطَفاني مِنْ بني هاشم، فأنا سَيِّدُ وَلَد آدم ولا فَخْر، وأوَّلُ مَن تَنْشَقُّ عنه الأرض، وأوَّلُ شافع، وأوَّل مُشَفَّع».

واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا پھر بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا۔میں اولادِ آدم کا سردار ہوں مگر اس پر فخر نہیں۔ میں پہلا شخص ہوں گا جس سے قبر شق کی جائے گی، سب سے پہلے میں سفارش کروں گا اور میں ہی پہلا ہوں گا جس کی سفارش قبول کی جائے گی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في الحديث أن الله -تعالى- اختار كنانة وفضّله على أبناء إسماعيل من العرب، واختار قريشًا وفضّلهم على بقية قبيلة كنانة، واختار بني هاشم وفضّلهم على بقية قبيلة قريش، واختار محمدًا -صلى الله عليه وسلم- وفضّله على بني هاشم، فهو -صلى الله عليه وسلم- سيد ولد آدم كلهم، وأعظمهم فضلًا، وهو بذلك لا يفخر على أحد، إنما يبلغ ما أوحاه الله إليه، وهو كذلك -صلى الله عليه وسلم- أول من يُبعث يوم القيامة، وأول من يشفع، وأول من تُقبل شفاعته.
575;س حدیث میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عرب میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور ان کو بنی اسماعیل پر فضیلت عطا فرمائی، پھر قریش کو منتخب کیا اور اس کو قبیلہ کنانہ کے بقیہ قبائل پر فضیلت عطا فرمائی، پھر بنی ہاشم کو منتخب کیا اور اس کو قریش کی بقیہ قبائل پر فضیلت دی۔ پھر محمد ﷺ کو منتخب کیا اور ان کو بنی ہاشم پر فضیلت دی۔ آپ ﷺ کُلْ اولاد آدم کے سردار ہیں اور سب سے بڑھ کر فضیلت والے ہیں۔ ان سب کے باوجود آپ ﷺ نے کسی ایک پر فخر نہیں کیا بے شک آپ ﷺ اس مقام پر اللہ کی طرف سے ملنے والی وحی کی وجہ سے پہنچے ہیں۔ اسی طرح آپ ﷺ ہی وہ ہوں گے جن کو قیامت کے دن سب سے پہلے اٹھایا جائے گا۔ آپ ﷺ ہی پہلے انسان ہوں گی جو سفارش کریں گے اور آپ ﷺ ہی وہ پہلے ہوں گے جن کی سفارش قبول کی جائے گی۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10859

 
 
Hadith   1719   الحديث
الأهمية: لي خمسة أسماء: أنا محمد، وأحمد، وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر، وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي، وأنا العاقب


Tema:

میرے پانچ نام ہیں: میں محمد اور احمد ہوں۔ میں 'الماحی' (مٹانے والا) ہوں کہ میرے ذریعے سے اللہ کفر کو مٹائے گا۔ میں 'الحاشر' (جمع کرنے والا) ہوں کہ میرے بعد لوگوں کو جمع کیا جائے گا۔ میں 'العاقب' (آخری نبی) بھی ہوں۔

عن جُبَيْر بن مُطْعِم -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لِي خمسة أسْماء: أنا محمد، وأحمد، وأنا الماحِي الذي يَمْحُو الله بي الكفر، وأنا الحاشِر الذي يُحشَر الناس على قَدَمِي، وأنا العاقِب».

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "میرے پانچ نام ہیں: میں محمد اور احمد ہوں۔ میں 'الماحی' (مٹانے والا) ہوں کہ میرے ذریعے سے اللہ کفر کو مٹائے گا۔ میں 'الحاشر' (جمع کرنے والا) ہوں کہ میرے بعد لوگوں کو جمع کیا جائے گا۔ میں 'العاقب' (آخری نبی) بھی ہوں"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد هذا الحديث أن للنبي -صلى الله عليه وسلم- خمسة أسماء هي: محمد، وأحمد، والماحي الذي يزيل الله به الكفر وأهله، والحاشر الذي يُحشر يوم القيامة قبل الناس، والعاقب الذي ليس بعده نبي، فهو آخر الأنبياء وخاتمهم -صلى الله عليه وسلم-، وليس معنى ذلك أنه -صلى الله عليه وسلم- ليس له إلا هذه الأسماء الخمسة، بل له أسماء أخرى ثبتت في أحاديث صحيحة، مثل المقفي، ونبي الرحمة، ونبي التوبة، وغيرها.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پانچ نام تھے: محمد، احمد، الماحی (مٹانے والا) جس کے ذریعے سے اللہ کفر اور اس پر چلنے والوں کا صفایا کرے گا، الحاشر (جمع کرنے والا) جو قیامت کے دن دیگر لوگوں سے پہلے اٹھا کر میدان حشر میں لایا جائے گا اور العاقب (آخری نبی) جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ یعنی آپ آخری نبی تھے اور آپ کے بعد اس سلسلے کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ پانچ نام ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کے بس اتنے ہی نام ہیں، بلکہ صحیح حدیثوں سے آپ کے اور بھی کئی نام ثابت ہیں۔ جیسے المقفی (آخری نبی)، نبی الرحمۃ (رحمت والا نبی) اور نبی التوبۃ (توبہ والا نبی) وغیرہ۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10860

 
 
Hadith   1720   الحديث
الأهمية: سمى لنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- نفسه أسماء منها ما حفظنا فقال: «أنا محمد، وأحمد، والمقفي، والحاشر، ونبي الرحمة»


Tema:

اللہ کے رسول صلی اللہ و سلم نے ہمارے سامنے اپنے کئی نام بیان کیے، جن میں سے کچھ ہمیں یاد ہیں۔ آپ نے فرمایا : "میں محمد، احمد، المقفی (آخری نبی)، الحاشر (جمع کرنے والا) اور نبی الرحمۃ (رحمت والا نبی) ہوں"۔

عن أبي موسى -رضي الله عنه- قال: سَمَّى لنا رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- نفْسَه أسْماءً منها ما حَفِظْنا فقال: «أنا محمد، وأحمد، والمُقَفِّي، والحاشِر، ونبي الرَّحمة، قال يزيد: ونبِيُّ التوبة ونَبِيُّ المَلْحَمة».

سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ و سلم نے ہمارے سامنے اپنے کئ نام بیان کیے، جن میں سے کچھ ہمیں یاد ہیں۔ آپ نے فرمایا : "میں محمد، احمد، المقفی (آخری نبی)، الحاشر (جمع کرنے والا) اور نبی الرحمۃ (رحمت والا نبی) ہوں"۔ یزید کہتے ہیں: "نبی التوبۃ (توبہ والا نبی) اور نبی الملحمۃ (جنگ والا نبی) بھی آپ کے نام ہیں"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أبو موسى الأشعري -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- سمى نفسه بالعديد من الأسماء حفظ منها: محمد، وأحمد، والمقفي، ومعناه: آخر الأنبياء وخاتمهم، ومنها الحاشر، ومعناه: يُحشر أول الناس، ومنها نبي الرحمة، ومعناه: صاحب الترفق والتحنن والشفقة على العالمين عامة بما جاء به من شرع، وعلى المؤمنين  خاصة بما لهم من خصائص، ومنها نبي التوبة، ومعناه: الذي بُعث بقبول التوبة بالنية والقول، وكانت توبة بعض الأمم قبله بقتلهم أنفسهم، أو: هو الذي تكثر التوبة في أمته وتعم، وذلك أن أمته لما كانت أكثر الأمم كانت توبتهم أكثر من توبة غيرهم، ومنها نبي الملحمة أي: نبي الحرب؛ وسُمي به لحرصه على الجهاد؛ لإعلاء كلمة الله -تعالى-.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے کئی نام بیان کیے ہیں، جن میں سے یہنام ہمیں یاد رہ گئے ہیں : محمد، احمد، المقفی یعنی آخری نبی، الحاشر یعنی سب سے پہلے میدان حشر میں لائے جانے والا انسان، نبی الرحمۃ یعنی اپنی لائی ہوئی شریعت کے حوالے سے سارے جہان والوں کے حق میں اور کچھ خصائص کی بنا پر بطور خاص ایمان والوں کے حق میں مہربان و شفیق، نبی التوبہ یعنی نیت اور زبان سے ادا کیے گئے الفاظ کے ذریعے توبہ قبول ہونے کا پیغام لانے والے نبی، جب کہ کچھ اگلی امتوں میں توبہ کے لیے ضروری تھا کہ آدمی اپنی جان لے لے، یا پھر نبی التوبہ (توبہ والے نبی ) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ نبی جس کی امت میں توبہ کے معاملات بکثرت ہوا کریں گے، کیوں کہ جب آپ کی امت تعداد کے اعتبار سے سب سے بڑی ہوگی، تو اس میں توبہ کے واقعات بھی دیگر امتوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں گے۔ آپ کا ایک نام نبی الملحمۃ (جنگ کا نبی) بھی ہے، کیوں کہ آپ اللہ کے کلمہ کی سر بلندی کے لیے جہاد کے حریص تھے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10861

 
 
Hadith   1721   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أتاه جبريل -صلى الله عليه وسلم- وهو يلعب مع الغلمان، فأخذه فصرعه، فشق عن قلبه، فاستخرج القلب، فاستخرج منه علقة، فقال: هذا حظ الشيطان منك


Tema:

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، آپ کو پکڑ کر لٹا دیا، پھر آپ کے سینے کو چیرا، دل کو نکالا اور اس سے جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا نکالنے کے بعد کہا : یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أتَاه جبريل -صلى الله عليه وسلم- وهو يَلْعَب مع الغِلمان، فأخَذَه فصَرَعه، فشقَّ عن قلبه، فاستَخْرَج القلب، فاستخرج منه عَلَقة، فقال: هذا حَظُّ الشيطان منك، ثم غَسَله في طَسْت مِن ذَهَب بماء زمزم، ثم لَأَمَهُ، ثم أعاده في مكانه، وجاء الغِلْمان يَسْعَون إلى أُمِّه -يعني ظِئْرِه- فقالوا: إن محمدًا قد قُتِل، فاستَقْبَلُوه وهو مُنْتَقِعُ اللَّوْن، قال أنس: «وقد كنتُ أَرَى أثر ذلك المِخيط في صدره».

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، آپ کو پکڑ کر لٹا دیا، پھر آپ کے سینے کو چیرا، دل کو نکالا اور اس سے جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا نکالنے کے بعد کہا : یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا۔ پھر سونے کی طشت میں دل کو رکھ کر زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اسے ملا دیا اور پھر اسے اس کی جگہ پر دوبارہ رکھ دیا۔ ادھر باقی بچے آپ کی ماں یعنی دائی کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور بولے کہ محمد کو مار دیا گیا۔ تو لوگوں نےآپ کو اس حالت میں پایا کہ آپ کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں آپ کے سینے پر اس سلائی کے نشان دیکھا کرتا تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء جبريل إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- وهو طفل صغير وكان يلعب مع الصبيان، فأخذه، وطرحه وألقاه على قفاه فشق قلبه فاستخرج منه دمًا غليظًا، وهو أم المفاسد والمعاصي في القلب، فقال: هذا نصيب الشيطان منك لو دام معك، ثم غسل قلبه في إناء من ذهب بماء زمزم، ثم أصلح موضع شقه وجمعه وألزقه، وأعاد القلب في مكانه، وجاء الصبيان الذين كانوا يلعبون معه يسرعون إلى مرضعته حليمة، فقالوا: إن محمدا قد قُتل، فذهبوا إليه فرأوه متغير اللون.
قال أنس راوي الحديث ولم يكن حضر القصة لكن بلغته  بالتواتر والشهرة أو عن ثقة بلا ريب: كنت أرى أثر الإبرة في صدره، وهذا دليل آخر على أن أمر الشق كان حسيًّا لا معنويًّا.
وهذا الحديث وأمثاله مما يجب فيه التسليم، ولا يتعرض له بتأويل من طريق المجاز، إذ لا ضرورة في ذلك، فهو هو خبر صادق مصدوق عن قدرة القادر -سبحانه-.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم چھوٹے بچے تھے اور دیگر بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، پکڑ کر چت لٹایا، دل کو چیرا، اس سے جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا نکالا جو کہ تمام برائیوں اور گناہوں کا سرچشمہ تھا اور فرمایا : یہ اگر آپ کے ساتھ رہ جاتا، تو آپ کے اندر شیطان کا ایک حصہ ہوتا۔ پھر دل کو سونے کی ایک طشت میں رکھ کر زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اس کے اس حصے کو جہاں چیرا لگایا گیا تھا، ملا کر ٹھیک کیا اور اسے اس کی جگہ میں دوبارہ رکھ دیا۔ ادھر آپ کے ساتھ کھیلنے والے بچے تیزی سے بھاگتے ہوئے دائی حلیمہ کے پاس آئے اور بتایا کہ محمد کو مار دیا گیا ہے۔ چنانچہ لوگ بھاگم بھاگ پہنچے، تو دیکھا کہ آپ کا رنگ بدلا ہوا ہے۔
اس حدیث کے راوی سیدنا انس رضی اللہ عنہ، جو اس حادثے کے وقت موجود نہیں تھے، لیکن یقینی طور پر اس کی اطلاع ان کو تواتر اور شہرت کے ساتھ یا کم سے کم کسی ثقہ سے ملی ہوگی، کہتے ہیں کہ میں آپ کے سینے پر سلائی کے نشان دیکھا کرتا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ کا یہ قول اس بات کے دیگر متعدد دلائل میں سے ایک دلیل ہے کہ سینے کو چیرنے کا واقعہ معنوی نہیں بلکہ حسی تھا۔
یہ اور اس طرح کی دیگر حدیثوں کو ہو بہو تسلیم کرنا چاہیے اور ان کی تاویل کرتے ہوئے انھیں مجازی معنی پر محمول نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ در اصل یہ سچے اور سچے تسلیم کیے گئے نبی کے ذریعے قدرت والے اللہ کی قدرت کا بیان ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10862

 
 
Hadith   1722   الحديث
الأهمية: كنا نصلي والدواب تمر بين أيدينا فذكرنا ذلك لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: مثل مؤخرة الرحل تكون بين يدي أحدكم، ثم لا يضره ما مر بين يديه


Tema:

ہم نماز پڑھتے اور چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے تھے۔ ہم نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کجاوے کی پچھلی لکڑی کے مثل اگر کوئی چیز تمھارے آگے ہو، تو کوئی بھی آگے سے گزرے، نمازی کو کچھ نقصان نہ ہو گا۔

عن طلحة بن عبيد الله -رضي الله عنه- قال: كنَّا نصلِّي والدواب تمرُّ بين أيدينا فذكرنا ذلك لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: «مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ تكون بين يدي أحدكم، ثم لا يضُرُّه ما مر بين يديه».

طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے اور چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے تھے۔ ہم نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کجاوے کی پچھلی لکڑی کے مثل اگر کوئی چیز تمھارے آگے ہو، تو کوئی بھی آگے سے گزرے، نمازی کو کچھ نقصان نہ ہو گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر طلحة بن عبيد الله -رضي الله عنه- أنهم كانوا يصلون فتمر الدواب من أمامهم، فذكروا ذلك لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- فأخبرهم أنه متى ما كان بين المصلي والمار أمامه كمؤخرة الرحل فلن يضره مروره، ومن فوائد السترة صيانة الصلاة وحفظها، والابتعاد عما ينقصها، ودرء الإثم عن المار، وعدم التسبب فيما يشق عليه ويحرجه.
591;لحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (صحابۂ کرام) نماز پڑھتے تو (بسا اوقات) چوپائے ان کے سامنے سے گزر جاتے۔ انھوں نے اس کا تذکرہ نبی ﷺ سے کیا، تو اللہ کے نبی ﷺ نے انھیں بتایا کہ نمازی اور اس کے سامنے سے گزرنے والے کے درمیان کجاوے کے پچھلی لکڑی کے مثل کوئی چیز ہو، تو اس کا گزرنا نقصان دہ نہیں ہے۔ سترہ کے فوائد میں سے نماز کی صیانت و حفاظت، اسے نقصان و کمی سے بچانا، گزرنے والے کو گناہ سے بچانا اور اس سبب کو دور کرنا ہے، جو اسے مشقت و پریشانی میں ڈالے۔۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10868

 
 
Hadith   1723   الحديث
الأهمية: إذا صلى أحدكم، فليستتر لصلاته، ولو بسهم


Tema:

جب تم میں سے کوئی نماز ادا کرے، تو وہ اپنی نماز کے لیے سترہ رکھ لے؛ اگرچہ تیر ہی سہی۔

عن سَبْرة بن معبد الجهني -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «إذا صلى أحدكم، فليسْتَتِر لصلاته، ولو بسهم».

سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز ادا کرے، تو اپنی نماز کے لیے سترہ رکھ لے؛ اگرچہ تیر ہی سہی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف أنه يستحب للمصلي وضع سترة أمامه, وأن السترة تحصل بكل شيء ينصبه المصلي أمامه, ولو كان قصيرا أو دقيقا كالسهم, وفي ذلك مظهر من مظاهر يسر الشريعة وسماحتها.
581;دیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازی کے لیے اپنے سامنے سترہ رکھنا مستحب ہے اور سترہ ہر اس چیز کو بنایا جا سکتا ہے، جسے نمازی اپنے سامنے نصب کر سکے؛ اگرچہ وہ تیر کی جیسی چھوٹی یا باریک چیز ہی کیوں نہ ہو۔ یہ شریعت کی آسانی دریا دلی کے مظاہر میں سے ایک مظہر ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10869

 
 
Hadith   1724   الحديث
الأهمية: إذا قام أحدكم يصلي، فإنه يستره إذا كان بين يديه مثل آخرة الرحل، فإذا لم يكن بين يديه مثل آخرة الرحل، فإنه يقطع صلاته الحمار، والمرأة، والكلب الأسود


Tema:

جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے ليے کھڑا ہو اور اس کے سامنے اونٹ کے کجاوے کے پچھلے حصے کی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو تو وہ بطورِ سترہ کافی ہے اوراگر کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل کوئی چیز نہ ہو تو اس کی نماز کو گدھا عورت اور سیاہ کتا توڑ دیتے ہیں۔

عن أبي ذر -رضي الله عنه-، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إذا قام أحدكم يصلي، فإنه يستره إذا كان بين يديه مثل آخرة الرحل، فإذا لم يكن بين يديه مثل آخرة الرحل، فإنه يقطع صلاته الحمار، والمرأة، والكلب الأسود»، قلت: يا أبا ذر، ما بال الكلب الأسود من الكلب الأحمر من الكلب الأصفر؟ قال: يا ابن أخي، سألت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كما سألتني فقال: «الكلب الأسود شيطان».
وفي رواية من حديث ابن عباس -رضي الله عنهما-: «يقطع الصلاة المرأة الحائض والكلب».

ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے ليے کھڑا ہو اور اس کے سامنے اونٹ کے کجاوے کے پچھلے حصے کی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو تو وہ بطورِ سترہ کافی ہے اور اگر کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل کوئی چیز نہ ہو تو اس کی نماز کو گدھا عورت اور سیاہ کتا توڑ دیتے ہیں“۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا: اے ابوذر! سرخ و زرد کتے کے بالمقابل سیاہ کتے کی تخصیص کی کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے کہا اے بھیجتے! میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسا ہی سوال کیا تھا جیسا تو نے مجھ سے کیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہے“۔
اور ايک دوسری روايت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا): ”کتا اور بالغہ عورت نماز کو توڑ ديتے ہيں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن المصلي إذا قام في صلاته فإنه يجعل له سترة لصلاته يكون أعلاها بقدر مؤخرة الرحل، وهي ثلثي ذراع تكون أمامه، فإذا لم يفعل فإنه يقطع صلاته واحد من ثلاثة أشياء: المرأة، وقُيد في رواية أبي داود بالحائض أي البالغ، والحمار، والكلب الأسود، فإن وضع سترة أمامه لم يضرَّه ما مرَّ من ورائها ولو كان واحداً من هذه الثلاثة.
قال عبد الله بن الصامت راوي الحديث: قلت: يا أبا ذر، ما بال الكلب الأسود من الكلب الأحمر من الكلب الأصفر؟ أي لماذا خُص هذا الكلب فقط بقطع الصلاة دون سائر الكلاب؟ قال: يا ابن أخي، سألت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كما سألتني فقال: «الكلب الأسود شيطان».
والمراد بقطع الصلاة بطلانها، وبه أفتت اللجنة الدائمة، وذهب بعض العلماء إلى أنه قطع خشوعها وكمالها لا أن الصلاة تفسد وتبطل.
580;ب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے ليے کھڑا ہو تو سامنے بطورِ سترہ اونٹ کے کجاوہ (پالان) کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز رکھ لے اور يہ دوتہائی ہاتھ کے برابر ہو تی ہے۔ اگر وہ ايسا نہيں کرتا ہے تو اس کی نماز کو تين چيزوں ميں سے کوئی ايک توڑ دیتی ہے: عورت، ابوداؤد کی روایت میں عورت کے ساتھ حائضہ یعنی بالغہ کی قید لگائی گئی ہے، گدھا، اور سیاہ کتا۔ اگر کوئی نماز ميں اپنے سامنے سترہ رکھ لے تو سترہ کے پیچھے سے کسی کے گزرنے سے اس کی نماز باطل نہيں ہوگی گرچہ مذکورہ تینوں میں سے ہی کسی کی گزر کیوں نہ ہو۔
حدیث کے ایک راوی عبد اللہ بن صامت کہتے ہيں کہ میں نے کہا: اے ابوذر! سرخ و زرد کتے کے بالمقابل سیاہ کتے کی تخصیص کی کیا وجہ ہے؟ یعنی دیگر کتوں کے بجائے صرف اسی کتے کو نماز کے توڑنے کے ساتھ کیوں خاص کیا گیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اے بھیجتے! میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسا ہی سوال کیا جیسا تو نے مجھ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”سیاہ کتّا شیطان ہے“۔ نماز کو کاٹنے کا مطلب نماز کو باطل کرنا ہے، اور يہی فتویٰ مستقل کميٹی برائے افتاء (سعودی عرب) کے مفتیان نے بھی ديا ہے۔
جب کہ بعض علماء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ نماز خراب وباطل نہيں ہوتی بلکہ اس کا خشوع و خضوع ختم ہوجاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10870

 
 
Hadith   1725   الحديث
الأهمية: إذا صلى أحدكم إلى شيء يستره من الناس، فأراد أحد أن يجتاز بين يديه، فليدفعه فإن أبى فليقاتله؛ فإنما هو شيطان


Tema:

جب تم میں سے کوئی کسی چیز کو سترہ بنا کر اس کی طرف نماز پڑھ رہا ہو، اور کوئی اس کے آگے سے گزرنے کی کوشش کرے تو اسے روک دے۔ اگر وہ انکار کرے تو اس سے لڑے، کیونکہ وہ شیطان ہے۔

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه مرفوعًا: «إذا صلَّى أَحَدُكُم إلى شيء يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاس، فأَرَاد أحَد أن يَجْتَازَ بين يديه، فَلْيَدْفَعْهُ، فإن أبى فَلْيُقَاتِلْهُ؛ فإنما هو شيطان».
وفي رواية: «إذا كان  أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فلا يَدَعْ أحدا يمُرُّ بين يديه، فإنْ أبى فَلْيُقَاتِلْهُ؛ فإن معه القَرِينَ».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی چیز کی طرف نماز پڑھ رہا ہو ، جو اس کے لیے لوگوں سے سترہ ہو اور کوئی اس کے آگے سے گزرنے کی کوشش کرے تو اسے روک دے۔ اگر وہ انکار کرے تو اس سے لڑائی کرے، بلاشبہ وہ شیطان ہے“۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ :”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو آگے سے گزرنے نہ دے اور اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑائی کرے کیوں کہ اس کےساتھ (شیطان) ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا دخلَ المصلي في صلاته، وقد وضع أمامه سترة؛ لتستره من الناس، حتى لا ينقصوا صلاته بمرورهم بين يديه، وأقبل يناجي ربه، فأراد أحد أن يجتاز بين يديه، فليدفع بالأسهل فالأسهل، فإن لم يندفع بسهولة ويسر؛ فقد أسقط حرمته، وأصبح معتدياً، ويجوز وقف عدوانه بالمقاتلة بدفعه باليد؛ فإن عمله هذا من أعمال الشياطين، الذين يريدون إفساد عبادات الناس، والتلبيس عليهم في صلاتهم.
580;ب نمازی اپنی نماز میں داخل ہو اور وہ اپنے سامنے لوگوں سے سترہ رکھے ہوئے ہو تاکہ لوگ اس کے آگے سے گزر کر اس کی نماز میں نقص نہ پیدا کریں اور جب وہ اپنے رب سے مناجات کرنے لگے۔پھر اس کے سامنے سے کوئی شخص گزرنے کی کوشش کرے تو اس کو اچھے طریقے سے روکے، اگر وہ آرام و سکون سے نہیں رکتا تو اس کی حرمت ختم ہوئی وہ سرکشی کرنے والا بن چکا او ر اب جائز ہے کہ اس کی سرکشی کو ہاتھ سے لڑائی کرکے روکا جائے، کیوں کہ اس کا یہ عمل ان شیطانی افعال میں سے ہے جن کے ذریعے وہ لوگوں کی عبادتوں کو خراب کرنا چاہتے ہیں، اور ان کی نمازوں میں تلبیس وشکوک پیدا کرتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10871

 
 
Hadith   1726   الحديث
الأهمية: نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يصلي الرجل مختصرا


Tema:

نبی ﷺ نے کوکھ پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-، قال: «نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يصلي الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے کوکھ پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يصلي المرء وهو جاعل يده على خاصرته.
606;بی ﷺ نے آدمی کو اپنی کمر (کوکھ) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10874

 
 
Hadith   1727   الحديث
الأهمية: أن عائشة كانت تكره أن يجعل يده في خاصرته، وتقول: إن اليهود تفعله


Tema:

عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ حالتِ نماز میں اپنے ہاتھ کو کوکھ پر رکھا جائے۔ وہ فرماتی تھیں کہ ایسا یہودی کرتے ہیں۔

عن عائشة -رضي الله عنها- أنها كانت تكره أن يجعل يده في خَاصِرَتِهِ، وتقول: إن اليهود تفعله.

عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ حالتِ نماز میں اپنے ہاتھ کو کوکھ پر رکھا جائے۔ وہ فرماتی تھیں کہ ایسا یہودی کرتے ہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف أن عائشة -رضي الله- عنها كانت تكره أن يضع المصلي يده في خاصرته وهو يصلي، وبينت العلة والسبب، وهو أنه من فعل اليهود.
740;ہ حدیث اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ کوئی شخص حالتِ نماز میں اپنا ہاتھ اپنی کوکھ پر رکھے اور اس کی وجہ اور سبب یہ بیان کیا کہ یہ یہودیوں کا فعل ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10875

 
 
Hadith   1728   الحديث
الأهمية: إذا قدم العشاء، فابدءوا به قبل أن تصلوا صلاة المغرب، ولا تعجلوا عن عشائكم


Tema:

جب شام کا کھانا حاضر ہو جائے تو مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھا لو اور اپنا کھانا چھوڑ کر نماز کی طرف جلدی مت کرو۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «إذا قُدِّمَ العَشَاءُ ، فابدءوا به قبل أن تُصَلُّوا صلاة المغرب، ولا تَعْجَلوا عن عَشَائِكم».

انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب شام کا کھانا حاضر ہو جائے تو مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھا لو اور اپنا کھانا چھوڑ کر نماز کی طرف جلدی مت کرو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا حضر الطعام وحضرت الصلاة فابدؤوا بتناول الطعام، قبل أن تصلوا، حتى ولو كانت الصلاة قصيرة الوقت، محدودة الزمن، كصلاة المغرب؛ حتى لا ينشغل ذهن المصلي في الصلاة بالطعام، قال أبو الدرداء: من فقه المرء إقباله على حاجته حتى يقبل على صلاته وقلبه فارغ. رواه البخاري عنه تعليقًا.
580;ب کھانا حاضر ہو جائے اور نماز کا وقت بھی قریب آ جائے تو نماز پڑھنے سے قبل کھانے کو تناول کرلو اگر چہ نماز کا وقت تھوڑا یا محدود وقت ہو جیساکہ نماز مغرب ہے، تاکہ نمازی کا ذہن کھانے میں مشغول نہ رہے۔
ابو درداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انسان کی عقلمندی اسی میں ہے کہ پہلے وہ اپنی حاجت پوری کر لے تاکہ جب وہ نماز میں کھڑا ہو تو اس کا دل فارغ ہو۔ (امام بخاری نے تعلیقاً اسے روایت کیا ہے)

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10876

 
 
Hadith   1729   الحديث
الأهمية: إذا قام أحدكم إلى الصلاة؛ فإن الرحمة تواجهه، فلا يمسح الحصى


Tema:

جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ پس وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے۔

عن أبي ذر-رضي الله عنه- مرفوعًا: «إذا قام أَحَدُكُمْ إلى الصلاة؛ فإنَّ الرَّحمة تُوَاجِهُهُ، فلا يَمْسَح الحَصَى».
وعن معيقيب -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: في الرجل يُسَوِّي التُّراب حيث يسجُد، قال: «إِنْ كُنْت فاعِلا فَوَاحِدة».

ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ پس وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے“۔
مُعَیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے جو ہر مرتبہ سجدہ کرتے ہوئے کنکریاں برابر کرتا تھا فرمایا: ”اگر ایسا کرنا ناگزیر ہو تو صرف ایک ہی بار کرو“۔
في حديث أبي ذر:
قوله: (إذا قام أحدكم إلى الصلاة) أي: إذا دخل فيها، وقبل تكبيرة الإحرام لا يمنع.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
وأما النهي في قوله: (فلا يمسح الحصى) أي: فلا يعرض عن الصلاة لأدنى شيء؛ أي: لما فيه من قطع التوجه للصلاة، فتفوته الرحمة المسببة عن الإقبال على الصلاة، وهذا إذا لم يكن لإصلاح محل السجود، وإلا فيجوز مرة بقدر الضرورة.
ومعلوم أن الحصى هي الحجارة الصغيرة، والتقييد بالحصى خرج مخرج الغالب؛ لكونه كان الغالب على فرش مساجدهم، ولا فرق بينه وبين التراب والرمل في هذه المسألة.
حديث معيقيب أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ، قَالَ: «إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً».
(أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال في الرجل) أي: في شأن الرجل الذي سأله عن نفسه أنه (يسوي التراب) أي: في الصلاة (حيث يسجد؟) أي: في مكان سجوده أو لأجل سجوده عليه.
فأجابه -عليه الصلاة والسلام-: (إن كنت فاعلا)، أي: لذلك ومحتاجًا له، (فواحدة): أي فافعل فعلة واحدة أو مرة واحدة لا أكثر، ويكره أن يمسح الحصى إلا أن لا يمكنه الحصى من السجود بأن اختلف ارتفاعه وانخفاضه كثيرا، فلا يستقر عليه قدر الفرض من الجبهة فيسويه حينئذ مرة أو مرتين؛ لأن فيه روايتين، في رواية "تسويه مرة"، وفي رواية تسويه مرتين، وفي أظهر الروايتين أنه يسويه مرة ولا يزيد عليها.
وأما علة النهي ففي قوله: (فإن الرحمة تواجهه) أي: تنزل عليه وتقبل إليه، وهي علة للنهي، يعني فلا يليق لعاقل تلقى شكر تلك النعمة الخطيرة بهذه الفعلة الحقيرة، قاله الطيبي. وقال الشوكاني: هذا التعليل يدل على أن الحكمة في النهي عن المسح أن لا يشغل خاطره بشيء يلهيه عن الرحمة المواجهة له، فيفوته حظه منها.
575;بوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں درج ذیل باتوں کا بیان ہے:
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو“ یعنی جب وہ نماز شروع کر دے۔ مطلب تکبیرِ تحریمہ سے پہلے کنکریاں صاف کرنا ممنوع نہیں ہے۔
”وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے“ یعنی کسی معمولی چیز کی وجہ سے نماز سے رو گردانی نہ کرے کیوں کہ اس سے نماز سے توجہ ہٹتی ہے اور اس کی وجہ سے وہ اس رحمت سے محروم ہو جاتا ہے جو نماز کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ سے ملا کرتی ہے۔ یہ اس وقت کے لیے ہے جب ایسا سجدے کے مقام کو درست کرنے کے لیے نہ کیا جائے وگرنہ بقدر ضرورت ایک دفعہ ایسا کرنے کی اجازت ہے۔
یہ بات معلوم ہے کہ "حصی" چھوٹی چھوٹی کنکریاں ہوتی ہیں۔ یہاں کنکریوں کا ذکر تغلیبا ہوا ہے کیوں کہ مساجد کے فرش پر عموما یہی ہوتی ہیں۔ اس مسئلے میں کنکریوں، مٹی اور ریت کےمابین کوئی فرق نہیں۔
معیقیب رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اس شخص کے بارے میں بیان فرمایا ہے جو سجدے میں جاتے وقت مٹی برابر کرتا تھا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو ایک دفعہ کرلو۔
”آپ ﷺ نے اس شخص کے بارے میں کہا“ یعنی جس نے آپ ﷺ سے اپنے متعلق پوچھا تھا، کہ وہ جہاں سجدہ کرتا ہے اس جگہ کی مٹی کو برابر کرتا ہے۔ یعنی سجدے کی جگہ کو برابر کرتا ہے یا اس پر سجدہ کرنے کے لیے اسے برابر کرتا ہے۔ (کہ اس کا کیا حکم ہے؟)
آپ ﷺ نے اسے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تمہیں ایسا کرنا ہی ہو اورؤتمہیں اس کی ضرورت ہو تو پھر ایک دفعہ کرلیا کرو، ایک سے زیادہ بار نہ کرو۔ چنانچہ کنکریوں کو صاف کرنا مکروہ ہے اِلاّ یہ کہ کنکریوں کی وجہ سے سجدہ کرنا ممکن نہ ہو یعنی یہ بہت زیادہ اوپر نیچے ہوں اور پیشانی اس پر اتنی دیر نہ ٹھہر سکتی ہو جس سے فرض پورا ہو سکے۔ اس صورت میں ایک یا دو دفعہ انھیں برابر کر سکتا ہے۔ کیوں کہ اس سلسلے میں دو روایات ہیں۔ ایک روایت میں ایک دفعہ برابر کرنے کا ذکر ہے اور دوسری روایت میں دو بار برابر کرنے کا ذکر ہے۔ دونوں میں سے جو روایت زیادہ صحیح ہے اس کے مطابق ایک ہی دفعہ برابر کرے، اس سے زیادہ دفعہ نہیں۔
”رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے“ میں نہی کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ (نماز میں) اس پر رحمت کا نزول ہو رہا ہوتا اور وہ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ یہ نہی کی علت ہے۔ یعنی کسی عقل مند کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ اتنے ہیچ کام میں لگ کر اتنی عظیم الشان نعمت کو وصول کرے۔ یہ بات علامہ طیبی رحمہ اللہ سے منقول ہے۔ امام شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ علت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کنکریاں صاف کرنے سے ممانعت اس لیے وارد ہے کہ نمازی اپنے دل کو کسی ایسے کام میں مشغول نہ کرے جو اسے اس کی طرف آنے والی اللہ کی رحمت سے غافل کر دے اور یوں وہ اس سے اپنا حصہ پانے سے محروم رہ جائے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10877

 
 
Hadith   1730   الحديث
الأهمية: سألت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن الالتفات في الصلاة؟ فقال: هو اختلاس يختلسه الشيطان من صلاة العبد


Tema:

میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ بندے کی نماز سے شیطان کا کچھ اُچک لینا ہے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: سَألتُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن الالتِفَات في الصلاة؟ فقال: «هو اخْتِلاس يَختَلِسُهُ الشَّيطان من صلاة العَبْد».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بندے کی نماز سے شیطان کا کچھ اُچک لینا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سألت عائشة رسول الله -صلى الله عليه وسلم-, عن حكم الالتفات في الصلاة، هل يَضرُّ بالصلاة ويؤثر عليها؟
فذكر لها أن هذا الالتفات هو اختطاف يختطفه الشيطان من صلاة العَبْد على وجه السُّرعة والخُفْيَة من أجل أن يُخِلَّ بها وينقص ثوابها.
593;ائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے نماز کے دوران ادھر اُدھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا کہ یہ نماز کے لیے نقصان دہ ہے یا اس میں کوئی فرق پیدا کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ شیطان بندے کی نماز سے جلدی اور خفیہ طریقے سے اُچک لیتا ہے، جس کی وجہ سے نماز میں خلل پیدا ہوتا ہے اور اس کا ثواب کم ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10878

 
 
Hadith   1731   الحديث
الأهمية: إن أحدكم إذا قام في صلاته فإنه يناجي ربه، أو إن ربه بينه وبين القبلة، فلا يبزقن أحدكم قبل قبلته، ولكن عن يساره أو تحت قدميه


Tema:

جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے، یا یوں فرمایا کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص ( نماز میں اپنے ) قبلہ کی طرف نہ تھوکے۔ البتہ بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- رأى نُخْامَة في القِبْلَة، فَشَقَّ ذلك عليه حتى رُئِي في وجْهِه، فقام فَحَكَّه بِيَده، فقال: «إن أحدكم إذا قام في صلاته فإنه يُنَاجِي رَبَّه، أو إن رَبَّه بينه وبين القِبْلَة، فلا يَبْزُقَنَّ أحدُكم قِبَل قِبْلتِه، ولكن عن يَسَاره أو تحت قَدَمَيه» ثم أخذ طَرف رِدَائِه، فَبَصَقَ فيه ثم ردَّ بَعْضَهُ على بعض، فقال: «أو يفعل هكذا».

انس بن مالک روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے قبلہ کی طرف (دیوار پر) بلغم کو لگے دیکھا جو آپ کو ناگوار گزرا اور یہ ناگواری آپ کے چہرۂ مبارک پر دکھائی دینے لگی۔ پھر آپ ﷺ اٹھے اور خود اپنے ہاتھ سے اسے کھرچ ڈالا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے، یا یوں فرمایا کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص (نماز میں اپنے) قبلہ کی طرف نہ تھوکے۔ البتہ بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ پھر آپ نے اپنی چادر کا کنارہ لیا، اس پر تھوکا پھر اس کو الٹ پلٹ کیا اور فرمایا: یا اس طرح کر لیا کرے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن النبي -صلى الله عليه وسلم- رأى نُخامَة في جدار المسجد الذي يَلي القِبلة، فصعب عليه هذا الفعل حتى شُوهد أثر المشقَّة في وجهه -صلى الله عليه وسلم-, فقام بِنَفْسه-صلى الله عليه وسلم- فأزال أثر النُّخامة بيده الشريفة تعليمًا لأمته، وتواضعا لربِّه -جل جلاله- ومحبة لبَيتِه, ثم ذكر أن العَبد إذا قام في الصلاة، فإنه يُناجي ربَّه بِذكره ودعائه، وتلاوة آياته، فاللائق به في هذا المقام أن يخشع في صلاته ويتذكر عظمة من يُناجيه ويُقبل عليه بِقَلبه, وأن يَبتعد عن إساءة الأدب مع الله -تعالى-، فلا يَبصق إلى جهة قِبْلته، ثم أرشد النبي -صلى الله عليه وسلم- إلى ما ينبغي فعله للمصلي في مثل هذه الحال, وذلك بأن يبصق عن يَساره, أو تحت قدمه اليُسرى, أو بأن يبصق في ثوبه ونحو ذلك, ويحك بعضه على بعض لإزالته.
وعلى المصلي أن يستشعر مقابلته لله -تعالى- وإقباله عليه وإن كان سبحانه وتعالى في السماء فوق عرشه، فإنه أمام المصلي؛ لأنه محيط بكل شيء و (لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ) (الشورى: 11), وليس معنى ذلك أنه مختلط بالناس أو أنه في المكان الذي فيه المصلي, تعالى الله عن ذلك, فالله تعالى قريب من المصلي, وقريب من الداعي قربًا يليق بجلاله, ليس كقرب المخلوق من المخلوق, وإنما هو قرب الخالق جل وعلا من المخلوق، ومثال ذلك في خلقه ولله المثل الأعلى، الشمس هي فوقك ومع ذلك تكون أمامك في حال الشروق والغروب.
606;بی ﷺ نے مسجد کی قبلہ کی طرف والی دیوار میں بلغم لگا دیکھا تو آپ ﷺ کو یہ بہت ناگوار گزرا یہاں تک کہ ناگواری کے اثرات آپ ﷺ کے چہرے پر بھی دکھائی دے رہے تھے۔ آپ ﷺ نے خود کھڑے ہو کر اپنی امت کو تعلیم دینے کے لیے، اپنے رب کے سامنے اظہار تواضع کے لئے اور اس کے گھر کی محبت کے اظہار کی غرض سے اپنے ہاتھ مبارک سے اس بلغم کو دور کر دیا۔ پھر آپ ﷺ نے بیان فرمایا کہ: بندہ جب نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے، اس کا ذکر کر رہا ہوتا ہے اور اس سے دعا میں مشغول ہوتا ہے اور اس کی آیات کی تلاوت کررہا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس مقام کے لائق یہ ہے کہ وہ اپنی نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرے، اس ذات کی عظمت کو یاد رکھے جس سے وہ ہم کلام ہے اور دل کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہو اور اللہ تعالی کے سامنے کسی بھی طرح کی بے ادبی کرنے سے باز رہے۔چنانچہ اسے چاہیے کہ وہ قبلہ کی سمت میں نہ تھوکے۔ پھر آپ ﷺ نے اس عمل کی طرف رہنمائی فرمائی جس کا نمازی کے لیے اس طرح کی صورت میں کرنا مناسب ہے۔ یعنی وہ اپنے بائیں جانب تھوکے یا پھر اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکے یا پھر اپنے کپڑے وغیرہ میں تھوکے اور پھر اسے دور کرنے کے لئے کپڑے کے ایک حصے کو دوسرے پر رگڑ دے۔
نمازی کے لئے ضروری ہے کہ وہ یہ اس بات كا احساس ركھے کہ وہ اللہ تعالی کے سامنے ہے اوریہ کہ وہ اس کی طرف متوجہ ہے اگرچہ وہ آسمان پر اپنے عرش پر ہے، پھر بھی وہ نمازی کے سامنے ہوتا ہے کیوں کہ وہ ہر شے کو محیط ہے۔ ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ ”اس جیسی کوئی چیز نہیں وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے“ (سورہ شوری: 11)۔
اس کا یہ معنی ہر گز نہیں کہ وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل گیا ہے یا پھر وہ اس جگہ پر ہوتا ہے جہاں نمازی نماز ادا کرتا ہے۔ اللہ تعالی ان باتوں سے بالا تر ہے۔ اللہ تعالی نمازی اور دعا کرنے والے کے اس طور پر قریب ہوتا ہے جو اس کی عظمت کے شایان شان ہے۔ اللہ کا قرب ایسا نہیں ہوتا جیسا مخلوق کا مخلوق سے قرب ہوتا ہے۔ بلکہ یہ تو خالق بزرگ و برتر کا مخلوق کے ساتھ قرب ہے۔ مخلوقات میں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے سورج ہوتا ہے۔ سورج گو آپ کے اوپر ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ طلوع و غروب ہونے کی حالت میں آپ کے سامنے بھی ہوتا ہے۔ وللہ المثل الأعلى   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10880

 
 
Hadith   1732   الحديث
الأهمية: أميطي عنا قرامك هذا، فإنه لا تزال تصاويره تعرض في صلاتي


Tema:

میرے سامنے سے اپنا یہ پردہ ہٹا دو۔ کیوںکہ اس پر نقش شدہ تصاویر برابر میری نماز میں خلل انداز ہوتی رہی ہیں۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال: كان قِرَام لعائشة سَترت به جانب بَيتها، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «أَمِيطِي عنَّا قِرَامَكِ هذا، فإنه لا تَزال تصاوِيُره تَعْرِض في صلاتي».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک رنگین باریک پردہ تھا، جسے انھوں نے اپنے گھر کے ایک حصے میں بطور پردہ لٹکا دیا تھا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے سامنے سے اپنا یہ پردہ ہٹا دو۔ کیوںکہ اس پر نقش شدہ تصاویر برابر میری نماز میں خلل انداز ہوتی رہی ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان لعائشة -رضي الله عنها- ثوب رقيق من صُوف ذِي ألوان ونُقوش, تستر به فَتحة كانت في حُجرتها, فأمرها النبي -صلى الله عليه وسلم- بإزالته ووضّح لها سبب ذلك وأن نقوشه وألوانه لا تزال تظهر أمام عينيه في الصلاة فخاف أن تشغله عن كَمَال حضُور القلب في الصلاة، وتَدَبّر أذكارها وتلاوتها ومَقَاصِدها من الانقياد والخضوع لله -تعالى-.
575;م المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک باریک اونی کپڑا تھا، جو مختلف رنگ اور نقش ونگار والا تھا، اس کے ذریعے عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرے کے سوراخ کو بند کردیتی تھی، آپ ﷺ نے اسے ہٹانے کا حکم دیا اور اس کا سبب بھی بیان فرمایا کہ نماز کے دوران اس کے نقوش اور رنگ مسلسل سامنے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے آپ کو خوف ہوا کہ کہیں یہ نماز میں کامل توجہ، اس کے اذکار میں غور وفکر، اس کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور اطاعت جیسے مقاصد سے غافل نہ کردے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10881

 
 
Hadith   1733   الحديث
الأهمية: اذهبوا بخميصتي هذه إلى أبي جهم، وأتوني بأنبجانية أبي جهم؛ فإنها ألهتني آنفا عن صلاتي


Tema:

میری یہ خمیصہ (چادر) ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور ان کی انبجانیہ (سادی چادر) لے آؤ، کیونکہ اس چادر نے ابھی نماز سے مجھ کو غافل کر دیا۔

عن عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- صلَّى في خَمِيصَةٍ لها أعْلَام، فَنَظَر إلى أَعْلاَمِهَا نَظْرَةً، فلمَّا انْصَرف قال: «اذهبوا بِخَمِيصَتِي هذه إلى أبي جَهْم وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةِ أبي جَهْم؛ فإنها أَلْهَتْنِي آنِفًا عن صَلاتي»   وفي رواية: «كنت أنظر إلى عَلَمِها، وأنا في الصلاة؛ فأخاف أن تَفْتِنَنِي».

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک چادر میں نماز پڑھی۔ جس میں نقش و نگار تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں ایک مرتبہ دیکھا۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ میری یہ چادر ابوجہم (عامر بن حذیفہ) کے پاس لے جاؤ اور ان کی سادی چادر لے آؤ، کیونکہ اس چادر نے ابھی نماز سے مجھ کو غافل کر دیا۔
اور ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نماز میں اس کے نقش و نگار کو دیکھ رہا تھا، پس میں ڈرا کہ کہیں یہ مجھے غافل نہ کر دے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أهدى أبو جهم إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-، خميصة فيها ألون وزخارف، وكان من مكارم أخلاقه -صلى الله عليه وسلم- أنه يقبل الهدية؛ جبراً لخاطر المهدي، فقبلها -صلى الله عليه وسلم- منه، وصلى بها، ولكونها ذات ألون وزخارف يتعلق بها النظر؛ ألْـهَتْه -صلى الله عليه وسلم- عن كامل الحضور في صلاته، فأمرهم أن يعيدوا هذه الخميصة المعلمة إلى المهدي وهو أبو جهم.
وحتى لا يكون في قلب أبي جهم شيء من رد الهدية؛ وليطمئن قلبه، أمرهم أن يأتوه بكساء أبي جهم، الذي لم يجعل فيه ألون وزخارف.
575;بو جہم نے آپ ﷺ کو ایک چادر ہدیہ کی تھی، اس میں مختلف رنگ اور نقوش تھے، آپ کے اچھے اخلاق میں سے یہ ہے کہ آپ ہدیہ دینے والے کی خوشى كے خاطر ہدیہ قبول کیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے اسے قبول کرکے اس میں نماز پڑھی، لیکن رنگدار اور نقش و نگار والی ہونے کی وجہ سے نماز میں اُس پر آپ ﷺ کی نظر پڑتی تھی جس نے آپ ﷺ کو نماز کی طرف کامل توجہ (مکمل انہماک) سے غافل کردیا۔اسی لیے آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس نقش ونگار والی چادر کو ہدیہ کرنے والے یعنی ابو جہم کو واپس لوٹا دیا جائے۔
ہدیہ واپس کرنے کی وجہ سے ابوجہم کے دل میں کچھ نہ آنے اور ان کے اطمینانِ قلب کی خاطر یہ حکم دیا کہ ابوجہم کی دوسری چادر لے آؤ جس میں مختلف رنگ اور نقش و نگار نہ ہوں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10882

 
 
Hadith   1734   الحديث
الأهمية: ما بال أقوام يرفعون أبصارهم إلى السماء في صلاتهم، فاشتد قوله في ذلك، حتى قال: لينتهن عن ذلك، أو لتخطفن أبصارهم


Tema:

لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ نماز میں اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے یہ بات بڑی سخت لہجے میں کی، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی آنکھیں اچک لی جائیں گی۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال: قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «ما بَال أقْوَام يَرفعون أبْصَارَهم إلى السَّماء في صَلاتهم»، فاشْتَدَّ قوله في ذلك، حتى قال: «لَيَنْتَهُنَّ عن ذلك، أو لَتُخْطَفَنَّ أبْصَارُهم».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ نماز میں اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے یہ بات بڑی سخت لہجے میں کی، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی آنکھیں اچک لی جائیں گی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يفيد هذا الحديث إلى ما ينبغي أن يكون عليه المصلِّي في صلاته من لزوم السكينة والخشوع، ومن علامات خشوع القلب سكون الجوارح؛ ولذلك حذَّر النبي -صلى الله عليه وسلم- أمَّته من العَبث في الصلاة ورفع البَصر فيها إلى السماء؛ لأنه أمْر مُنَاف لأدب الصلاة ومَقامها؛ فإنَّ المصلِّي يُناجي ربَّه -تعالى-، وهو تجاهه في قِبلته، فرفع البَصر في هذا المقام إساءة أَدب مع الله؛ لذلك بالغ النبي -صلى الله عليه وسلم- في الإنذار والوعيد، وحذَّر هؤلاء الذين يرفعون أبصارهم إلى السماء أثناء الصلاة بأنَّهم إما أن ينتهوا عن ذلك، ويمتنعوا من فعله، أو ستُخطف أبْصارُهم، وتؤخذ بسرعة؛ بحيث لا يشعرون إلا وقد فَقَدوا نِعمة البَصر؛ جزاء لهم على استهانتهم بشأن الصلاة.
575;س حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ی کے لیے ضروری ہے کہ حالت نماز میں وہ پر سکون رہے اور خشوع و خضوع اختیار کرے۔ خشوع قلب کی علامت اعضا کا پرسکون ہونا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے اپنی امت کو نماز میں فضولیات اور آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے سے ڈرایا ہے۔ کیوں کہ یہ نماز کے آداب اور رتبے کی منافی چیزيں ہیں؛ اس لیے کہ نمازی قبلہ رو، اپنے کے سامنے کھڑے ہوکر اس سے محو گفتگو ہوتاہے۔ چنانچہ اس موقع پر آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا اللہ کے ساتھ بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے انذار اور وعید میں مبالغہ سے کام لیتے ہوئے ان لوگوں کو تنبیہ کی ہے، جو دوران نماز اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں کہ اس سے باز آ جائیں، ورنہ ان کی بینائی چھین لی جائے گی اور یہ اتنی تیزی سے ہو گا کہ انھیں پتہ بھی نہیں چلے گا اور نعمت بصارت سے محروم ہو جائیں گے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ نماز کی توہین کی سزا کے طور پر ہو گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10883

 
 
Hadith   1735   الحديث
الأهمية: التثاؤب في الصلاة من الشيطان، فإذا تثاءب أحدكم فليكظم ما استطاع


Tema:

دورانِ نماز جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ چنانچہ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اسے جہاں تک ہو سکے روکے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعًا: «التَّثَاؤُبُ في الصلاة من الشَّيطان؛ فإذا تَثَاءَبَ أحدكم فَليَكْظِم ما اسْتَطاع».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”دورانِ نماز جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ چنانچہ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ جہاں تک ہو سکے اسے روکے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
التَّثَاؤُبُ في الصلاة من الشَّيطان؛ لأنه يكون مع ثِقل البَدن واسترخائه وامتلائه، ومَيله إلى الكَسَل والنوم، فالشيطان هو الدَّاعي إلى إعطاء النَّفْس شَهواتها، وتوسعها في المآكل والمَشارب، فإذا شَرع المصلي بالتثاؤب أو أراد أن يتثاءب؛ فإنه يَدفعه ويحبسه ما استطاع، وذلك بأن يَكْظِمه بإطباق أسنانه وشَفتيه ما استطاع؛ لئلا يَبلغ الشَّيطان مراده من تشويه صورته، ودخوله فَمه وضحكه منه، فإلم يستطع فإنه يضع يده.
606;ماز میں جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے کیوں کہ یہ جسم کے بوجھل اور ڈھیلے پن اور اس کی فربہی و سستی اور نیند آنے کی وجہ سے آتی ہے۔ یہ شیطان ہی تو ہوتا ہے جو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ نفس کو اس کی شہوات دی جائیں اور خوب کھایا پیا جائے۔ چنانچہ نمازی کو جب جمائی آنے لگے یا پھر وہ جمائی لینا چاہے تو اسے چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے اسے ہٹائے اور روکے بایں طور کہ دانتوں اور ہونٹوں کو بھینچ کر اسے روکے تاکہ شیطان کی چاہت پوری نہ ہو سکے یعنی وہ اس کی صورت کو بگاڑ کر اور اس کے منہ میں داخل ہو کر اس پر ہنس نہ سکے۔ اگر ایسا نہیں کر سکتا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10884

 
 
Hadith   1736   الحديث
الأهمية: أمر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ببناء المساجد في الدور، وأن تنظف


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے محلوں میں مسجد بنانے اور انھیں صاف رکھنے کا حکم دیا ہے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: أَمَر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بِبناء المساجد في الدُّورِ، وأن تُنظَّف، وتُطيَّب.

اُمُّ المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے محلوں میں مسجد بنانے، انھیں صاف رکھنے اور خوشبو سے بسانے کا حکم دیا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أَمَر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن تبنى المساجد في الأحياء، بمعنى أن كل حَيّ يكون فيه مسجد، وأن تُطَهَّر فيزال عنها الأوسَاخ والقَذر، وتُصان وتُحفظ، وتجعل فيها الروائح الطيبة من البخور وغيره مما له رائحة طيبة.
585;سول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں بایں طور کہ ہر محلے میں ایک مسجد ہو اور انہیں گندگیوں سے پاک صاف رکھا جائے، ان کی نگہبانی اور حفاظت کی جائے اور ان میں بخور وغیرہ جیسی عمدہ قسم کی خوشبوؤں کا انتظام کیا جائے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10885

 
 
Hadith   1737   الحديث
الأهمية: أولئك قوم إذا مات فيهم العبد الصالح، أو الرجل الصالح، بنوا على قبره مسجدا، وصوروا فيه تلك الصور، أولئك شرار الخلق عند الله


Tema:

وہ ایسے لوگ تھے کہ اگر اُن میں سے کوئی نیک بندہ (یا یہ فرمایا کہ) نیک آدمی مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں بت رکھتے۔ یہ لوگ اللہ کے نزدیک ساری مخلوقات سے بدترین ہیں۔

عن عائشة - رضي الله عنها-، أن أمَّ سَلَمَة، ذَكَرَت لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- كَنِيسة رأتْهَا بأرض الحَبَشَةِ يُقال لها مَارِيَة، فذَكَرت له ما رأَت فيها من الصُّور، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أولئِكِ قوم إذا مات فيهم العَبد الصالح، أو الرُّجل الصَّالح، بَنُوا على قَبره مسجدا، وصَوَّرُوا فيه تلك الصِّور، أولئِكِ شِرَار الخَلْق عند الله».

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے ایک گرجا کا ذکر کیا جس کو انھوں نے حبشہ کے علاقے میں دیکھا اس کا نام ماریہ تھا۔ اس میں جو مورتیں دیکھی تھیں وہ بیان کیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ایسے لوگ تھے کہ اگر ان میں سے کوئی نیک بندہ (یا یہ فرمایا کہ) نیک آدمی مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہ بت رکھتے۔ وہ لوگ اللہ کے نزدیک ساری مخلوقات سے بدترین ہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر عائشة -رضي الله عنها- أن أمَّ سَلَمَة -رضي الله عنها- لما كانت بأرض الحَبَشة رأت كَنِيسة فيها صور، فَذَكرت له -صلى الله عليه وسلم- ما رأَت  فيها من حسن الزخرفة والتصاوير؛ تعجبًا من ذلك، ومن أجل عظم هذا وخطره على التوحيد؛ رفع النبي -صلى الله عليه وسلم- رأسه، وبيّن لهم أسباب وضع هذه الصور؛ لتحذير أمته مما فعل أولئك، وقال: إن هؤلاء الذين تذكرين كانوا إذا مات فيهم الرجل الصالح بنوا على قبره مسجدًا يصلون فيه، وصورُوا تلك الصور، وبيَّن أن فاعل ذلك شر الخلق عند الله -تعالى-؛ لأن فعله يؤدي إلى الشرك بالله -تعالى-.
575;ُمُّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ امِّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے حبشہ کی سرزمین میں ایک کنیسہ دیکھا تھا جس میں مورتیاں تھیں۔ انھوں نے اس میں کہ اس میں جو خوبصورت نقشے اور تصویریں بنی دیکھی تھیں ان کا تذکرہ آپ ﷺ سے کیا، اس معاملے کی حساسیت اور توحید کے لیے خطرہ ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا اور امت کو بچانے کے لئے ان کے سامنے مورتیوں کے بنانے کے اسباب بیان کیے کہ لوگ جن کا تم تذکرہ کر رہی ہو جب ان میں کوئی نیک آدمی مر جاتا ہے تو یہ اس کی قبر پر مسجد بنا دیتے ہیں اور اس میں نماز پڑھتے ہیں اور ان کی مورتیاں بناتے ہیں اور یہ فرمایا کہ اس کو بنانے والے اللہ کے ہاں بدترین لوگ ہیں۔ اس لیے کہ ان کا یہ عمل شرک کی طرف لے جانے والا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10887

 
 
Hadith   1738   الحديث
الأهمية: بعث رسول الله -صلى الله عليه وسلم- خيلًا قِبَل نجد، فجاءت برجل من بني حنيفة يقال له: ثمامة بن أثال، سيد أهل اليمامة، فربطوه بسارية من سواري المسجد


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے گھڑ سواروں کا ایک دستہ نجد کی طرف روانہ کیا۔ وہ قبیلہ بنو حنیفہ کے سرداروں میں سے ایک شخص ثمامہ بن اثال نامی کو پکڑ کر لائے اور مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا۔۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-، قال: بعث رسول الله -صلى الله عليه وسلم- خيلا قِبَلَ نَجْدٍ، فجاءت برجل من بني حَنِيفة يُقَالُ لَهُ: ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ، سَيِّدُ أَهْلِ اليَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي المسجد، فخرج إليه رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقال: «مَاذَا عِنْدَك يا ثمامة؟» فقال: عندي يا محمد خير، إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُل ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِر، وإن كنت تريد المال فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ، فَتَرَكَهُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حتى كان بعد الغد، فقال: «ما عندك يا ثمامة؟» قال: ما قلت لك، إن تنعم تنعم على شاكر، وإن تقتل تقتل ذا دم، وإن كنت تريد المال فسل تعط منه ما شئت، فتركه رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حتى كان من الغد، فقال: «ماذا عندك يا ثمامة؟» فقال: عندي ما قلت لك، إن تنعم تنعم على شاكر، وإن تقتل تقتل ذا دم، وإن كنت تريد المال فسل تعط منه ما شئت، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أَطْلِقُوا ثمامة»، فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ المَسْجِدِ، فاغتسل، ثم دخل المسجد، فقال: أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، يا محمد، والله، مَا كَانَ عَلَى الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلَيَّ، والله، ما كان مِن دِين أبغَضَ إليَّ مِن دِينَك، فأصبح دينُك أحبَّ الدِّين كُلِّه إليَّ، والله، ما كان من بلد أبغض إلي من بلدك، فأصبح بلدُك أحبَّ البلاد كلها إليَّ، وإنَّ خَيلَك أخَذَتنِي وأنا أُرِيد العمرة فمَاذَا تَرَى؟ فبشَّره رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وأمره أن يَعْتَمِر، فلمَّا قدِم مكَّة قال له قائل: أصَبَوْت، فقال: لا، ولكنَّي أسْلَمت مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، ولا والله، لا يأتِيكم مِن اليمامة حبة حنطة حتىَّ يأْذَنَ فيها رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گھڑ سواروں کا ایک دستہ نجد کی طرف روانہ کیا، تو وہ قبیلہ بنو حنیفہ کے ایک آدمی کو پکڑ لائے جسے ثمامہ بن اثال کہا جاتا تھا۔ وہ اہل یمامہ کا سردار تھا۔ انہوں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا، رسول اللہ ﷺ (گھر سے) نکل کر اس کے پاس آئے اور پوچھا: ’’ثمامہ تمہارے پاس کیا ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا: اے محمد! میرے پاس خیر ہے۔ اگر آپ قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا اور اگرآپ احسان کریں گے توایک ایسے شخص پر احسان کریں گے جو شکر کرنے والا ہے۔ اور اگر آپ کو مال مطلوب ہے تو جتنا چاہیں مجھ سے مال طلب کر سکتے ہیں، آپ کو دیا جائے گا۔ آپ ﷺ نے اس کو (اس کے حال پر) اگلے دن تک کے لیے چھوڑ دیا جب اگلا دن ہوا تو آپﷺ نے پوچھا: ثمامہ تمہارے پاس (کہنے کو) کیا ہے؟ انہوں نے کہا: (وہی) جو میں نے آپ سے کہا تھا، اگر آپ احسان کریں گے تو ایک شکر کرنے والے پر احسان کریں گے اور اگر قتل کریں گے تو ایک خون والے کو قتل کریں گے اور اگر مال چاہتے ہیں تو طلب کیجیے، آپ جو چاہتے ہیں آپ کو وہی دیا جائے گا۔ آپﷺ نے پھر انہیں یوں ہی چھوڑ دیا، پھر جب اگلا دن ہوا تو آپﷺ نے پوچھا: ’’ثمامہ تمھارے پاس کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا: میرے پاس وہی ہے جو میں نے آپ سے کہا تھا کہ اگر آپ احسان کریں گے تو ایک احسان شناس پر احسان کریں گے اور اگر قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کا خون ضائع نہیں جاتا، اور اگر مال چاہتے ہیں تو طلب کیجیے آپ جو چاہیں گے وہی آپ کو دیا جائے گا۔ پھر رسول اللہ صﷺ نے فرمایا: ’’ثمامہ کو آزاد کر دو۔‘‘ (رسی کھول دی گئی) تو وہ مسجد (نبوی) کے قریب کھجوروں کے ایک باغ میں گئے، غسل کیا پھر مسجد نبوی میں حاضر ہوئے اور کہا: ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اے محمدﷺ! اللہ کی قسم روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ کے چہرے سے زیادہ میرے لیے برا نہیں تھا لیکن آج آپ کے چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ میرے لیے محبوب نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! کوئی دین آپ کے دین سے زیادہ مجھے برا نہیں لگتا تھا لیکن آج آپ کا دین مجھے سب سے زیادہ پسندیدہ اور عزیز ہے۔ اللہ کی قسم! کوئی شہر آپ کے شہر سے زیادہ برا مجھے نہیں لگتا تھا لیکن آج آپ کا شہر میرا سب سے زیادہ محبوب شہر ہے۔ آپ کے گھڑ سواروں نے مجھے پکڑا تو میں عمرہ کا ارادہ کر چکا تھا، اب آپ کا کیا حکم ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے انہیں (ایمان کی قبولیت کی) بشارت دی اور حکم دیا کہ عمرہ ادا کریں۔ جب وہ مکہ پہنچے تو کسی کہنے والے نے ان سے کہا کہ تم بےدین ہو گئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، بلکہ میں اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ اسلام میں داخل ہو گیا ہوں، اور اللہ کی قسم! یمامہ سے گیہوں کا ایک دانہ بھی تمھارے پاس نہیں پہنچے گا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اس کی اجازت دے دیں۔

معنى الحديث: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان قد أرسل فرساناً إلى نجد بقيادة محمد بن مسلمة في العاشر من محرم سنة ست من الهجرة؛ ليقاتلوا أحياء بني بكر الذين منهم بنو حنيفة، فأغاروا عليهم، وهزموهم، وأسروا ثمامة بن أثال وأتوا به إلى المدينة، وربطوه إلى سارية من سواري المسجد النبوي، فقال له النبي -صلى الله عليه وسلم-: "ما عندك" أي: ماذا تظن أني فاعل بك، "قال: عندي خير" أي لا أظن بك، ولا أؤمل منك إلا الخير، مهما فعلت معي.
قول ثمامة: "إن تقتل تقتل ذا دم" أي: إن تقتلني فهناك من يأخذ بالثأر لأني سيد في قومي، وقيل: معناه إن تقتلني فذلك عدل منك، ولم تعاملني إلَّا بما أستحق؛ لأني مطلوب بدم، فإن قتلتني قتلتني قصاصاً، ولم تظلمني أبداً
وأما "وإن تُنْعِمْ تنعم على شاكر" أي: وإن تحسن إليَّ بالعفو عني، فالعفو من شيم الكرام، ولن يضيع معروفك عندي؛ لأنك أنعمت على كريم يحفظ الجميل، ولا ينسى المعروف أبداً.
وفي قول ثمامة -رضي الله عنه-: "وإن كنت تريد المال" يعني وإن كنت تريد أن افتدي نفسي بالمال "فسل منه ما شئت" ولك ما طلبت.
وبعد هذه المحاورة ما كان من النبي -صلى الله عليه وسلم- إلا أن "تركه حتى كان من الغد، قال له: ما عندك يا ثمامة؟ قال: ما قلت لك" يعني فتركه مربوطاً إلى السارية حتى كان اليوم الثاني فأعاد عليه سؤاله الأوّل، وأجابه ثمامة بنفس الجواب الأوّل، ثم تركه اليوم الثالث، وأعاد عليه النبي -صلى الله عليه وسلم- السؤال، وأجابه ثمامة بالجواب نفسه، فلما كان اليوم الثالث، أمر النبي -عليه الصلاة والسلام- فقال: "أطلقوا ثمامة" أي فكُّوه من رباطه.
فما كان من ثمامة إلى أن "انطلق إلى نخل قريب من المسجد" أي فذهب إلى ماء قريب من المسجد "فاغتسل ثم دخل المسجد فقال: أشهد أن لا إِله إِلَّا الله" أي وأعلن إسلامه ونطق بالشهادتين، وهذه رواية الصحيحين: أن ثمامة اغتسل من تلقاء نفسه وليس بأمر النبي -صلى الله عليه وسلم-.
ثم عبّر ثمامة -رضي الله عنه- عن شعوره نحو النبي -صلى الله عليه وسلم-، ونحو دينه الحنيف، ونحو بلده الحبيب المدينة النبوية، فقال -رضي الله عنه-: ما كان هناك وجه أكرهه مثل وجهك فقد أصبح وجهك لما أسلمت أحب الوجوه إليَّ، حيث تحول البغض والكراهية إلى محبة شديدة لا تعدلها أي محبة أخرى.
 "والله ما كان من دين أبغض إليَّ من دينك، فأصبح دينك أحب الدين إليَّ" وهكذا عاطفة الإيمان حين تخالط بشاشته القلوب.
"والله ما كان من بلد أبغض إليَّ من بلدك، فأصبح بلدك أحب البلاد إليَّ"؛ لأن محبتي لك دفعتني إلى مزيد الحب لبلادك.
ثم قال: "وإن خيلك أخذتني وأنا أريد العمرة، فماذا ترى" أي فهل تأذن لي في العمرة "فبشره" بغفران ذنوبه كلها، وبخيري الدنيا والآخرة" وأمره أن يعتمر، فلما قدم مكة قال له قائل: صبوت "أي خرجت من دين إلى دين" قال: لا والله، ولكني أسلمت مع محمد رسول الله "أي ولكني تركت الدين الباطلَ ودخلت في دين الحق" ولا والله لا يأتيكم من اليمامة حبة حنطة حتى يأذن بها رسول الله "أي: حتى يأذن رسول الله في إرسالها إليكم، فانصرف إلى اليمامة، وكانت ريف مكة، فمنع الحنطة عنهم حتى جهدت قريش، وكتبوا إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يسألونه بأرحامهم أن يكتب إلى ثمامة، ففعل -صلى الله عليه وسلم-.

606;بی ﷺ نے محمد بن مسلمہ کی نگرانی میں دس محرم سن چھ ہجری کو گھوڑ سواروں کا ایک دستہ نجد کی طرف روانہ کیا تھا تاکہ وہ بنو بکر کے قبائل جس میں بنو حنیفہ کے لوگ بھی ہیں ان سے قتال کریں۔ چناں چہ انہوں نے ان پر حملہ کیا اور شکست دی اور ثمامہ بن اثال کو قید کر لیا اور انہیں مدینہ لے کر آئے اور مسجد نبوی کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ نبی ﷺ نے ان کے پاس جا کر کہا: ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟ یعنی تمہارا میرے بارے میں کیا خیال ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیا کرنے والا ہوں؟ انہوں نے کہا: میرا خیال بہت اچھا ہے یعنی میرا یہی گمان ہے اور میں یہی امید رکھتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ جو بھی برتاؤ کریں گے بہتر کریں گے۔
ثمامہ کا یہ کہنا: ’’اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا’’ یعنی اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایسے لوگ موجود ہیں جو میرے قتل کا بدلہ لیں گے کیوں کہ میں اپنی قوم کا سردار ہوں۔ اور کہا گیا ہے کہ اس کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ: اگر آپ مجھے قتل کریں گے توآپ کا یہ اقدام انصاف پر مبنی ہوگا اور آپ گویا میرے ساتھ وہی سلوک کر رہے ہیں جس کا میں مستحق ہوں کیوں کہ ایک خون میں مَیں مطلوب ہوں، اس لئے اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو میرا قتل کیا جانا قصاص کے طور پر ہوگا اور آپ ہرگز میرے اوپر ظلم کرنے والے نہیں ہوں گے۔
اور رہا ثمامہ کا یہ کہنا: ’’اور اگر آپ مجھ پر احسان کرتے ہیں توایک ایسے شخص پر احسان کریں گے جو احسان فراموش نہیں بلکہ احسان کا قدر دان ہے‘‘ یعنی اگر آپ میری معافی کے ذریعہ میرے ساتھ احسان کریں تو معاف کر دینا بھلے لوگوں کے اخلاق میں سے ہے اور میرے یہاں آپ کے اس احسان کو فراموش نہیں کیا جائے گا اور آپ ایک ایسے شخص کے ساتھ احسان کریں گےجو احسان کا قدر دان ہے، احسان فراموش نہیں۔
اور ثمامہ رضی اللہ عنہ کے اس قول میں کہ: ’’اور اگر آپ مال چاہتے ہیں‘‘ یعنی اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ مال دے کر میں اپنی جان کا فدیہ ادا کروں تو جس قدر چاہتے ہیں کہیے آپ کو طلب کے مطابق دیا جائے گا۔
اس گفتگو کے بعد نبی ﷺ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ ’’اور جب اگلا دن ہوا تو آپ نے ان سے فرمایا: ثمامہ! تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: وہی جو میں نے آپ سے کہہ دیا تھا‘‘ یعنی آپ نے ان کو ان کے حال پر کھمبے سے بندھا ہوا چھوڑ دیا یہاں تک کہ جب دوسرا دن ہوا تو پھر آپ ﷺ نے ان پر پہلا سوال دہرایا تو ثمامہ نے پھر پہلے دن والا جواب ہو بہو دہرایا، آپ نے ان کو تیسرے دن تک کے لیے ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ تیسرے دن آپ نے ان پر سوال دہرایا تو ثمامہ نے ہو بہو وہی جواب دہرایا۔ تیسرے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ ’’ثمامہ کو آزاد کردو‘‘ یعنی ان کے بند ڈھیلے کر دو۔
’’ثمامہ فوراً مسجد کے قریب کھجوروں کے ایک باغ میں چلے گئے‘‘ یعنی مسجد کے قریب پانی کے پاس چلے گئے۔ ’’وہاں انہوں نے غسل کیا اور پھر مسجد میں داخل ہوئے اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں‘‘ یعنی انہوں نےاپنے اسلام لانے کا اعلان کر دیا اور شہادتین کو پڑھا ،اور یہ صحیحین کی روایت ہے کہ ثمامہ رضی اللہ عنہ نے خود سے غسل کیا نبی ﷺ کے کہنے سے نہیں۔
اس کے بعد ثمامہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ پر نازل شدہ دین حنیف اور آپ کے محبوب شہر مدینہ نبویہ کے تعلق سے اپنے احساسات کو بیان کیا۔ ثمامہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ یہ تھے: میرے نزدیک روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ کے چہرہ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا لیکن اسلام لانے کے بعد اب آپ کا چہرہ میرے لیے تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہو گیا ہے بایں طور کہ نفرت اور ناپسندیدگی ایسی محبت میں تبدیل ہو گئی جس کی برابری کوئی دوسری محبت نہیں کر سکتی۔
’’اللہ کی قسم! روئے زمین پر کوئی دین مجھے آپ ﷺ کے دین سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا اور اب آپ ﷺ کا دین مجھے سارے دینوں سے زیادہ پیارا اور محبوب ہے‘‘ اور یہی ہے ایمان کی تاثیر جب اس کی چاشنی دل کو چھو لیتی ہے۔
’’اللہ کی قسم! کوئی شہر آپ ﷺ کے شہر سے زیادہ برا دکھائی نہیں دیتا تھا اور اب آپ ﷺ کا شہر مجھے سب شہروں سے زیادہ محبوب دکھائی دیتا ہے‘‘ اس لئے کہ آپ کی محبت نے مجھے آپ کے شہر سے مزید محبت کرنے پر ابھارا ہے۔
پھر انہوں نے کہا: ’’اور آپ کے گھڑ سواروں نے جب مجھے گرفتارکیا اس وقت میں عمرہ کا ارادہ کر چکا تھا، تواب آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ یعنی کیا آپ مجھے عمرہ کر لینے کی اجازت دیں گے؟ ’’تو آپ ﷺ نے انہیں بشارت دی‘‘ یعنی ان کے تمام گناہوں کے بخشے جانے اور دنیا وآخرت کی بھلائی کی بشارت دی۔ ’’اور حکم دیا کہ وہ عمرہ کر لیں،جب وہ مکہ پہنچے تو کسی کہنے والے نے کہا تو بدمذہب ہوگیا ہے‘‘ یعنی ایک دین سے نکل کر دوسرا دین اپنا لیا۔ انہوں نے کہا: ’’ہرگز نہیں اللہ کی قسم بلکہ میں تو محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاکر مسلمان ہوچکا ہوں‘‘ یعنی میں جھوٹے دین کو چھوڑ کر دین حق کو قبول کر چکا ہوں۔ ’’اللہ کی قسم! اس کے بعد یمامہ سے تمہارے پاس گندم کا ایک دانہ بھی نہیں آیا کرے گا یہاں تک کہ اس کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ اجازت دے دیں‘‘ یعنی یہاں تک کہ رسول ﷺ تم لوگوں تک اس کے بھیجنے کے بارے میں اجازت دے دیں۔ ثمامہ رضی اللہ عنہ یمامہ لوٹ گئے اور وہ مکہ کا دیہی علاقہ تھا۔ وہاں پہونچ کر ان کو گندم روک دیا یہاں تک کہ قریش کے لوگ فاقہ کرنے پر مجبور ہوئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو قرابت داری کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ آپ (ﷺ) ثمامہ سے سفارش کر دیں، تو آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10888

 
 
Hadith   1739   الحديث
الأهمية: أنشدك الله، أسمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: أجب عني، اللهم أيده بروح القدس؟ قال: اللهم نعم


Tema:

میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم نے رسول اللہﷺ سے یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میری طرف سے جواب دے، اے اللہ! روح القدس کے ذریعے اس کی مدد فرما‘؟ تو انھوں نے کہا: اے اللہ تو (گواہ رہنا) ہاں۔ (میں نے سنا تھا)۔

عن أبي هريرة أنَّ عمر مرَّ بِحَسَّان -رضي الله عنهم- وهو يَنْشُدُ الشِّعر في المسجد، فَلَحَظَ إليه، فقال: قد كُنْتُ أَنْشُد، وفيه من هو خير مِنْك، ثمَّ الْتَفَتَ إلى أبي هريرة، فقال: أَنْشُدُكَ الله، أَسَمِعْتَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بروح الْقُدُسِ»؟ قال: اللهمَّ نعم.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے تو انھوں نے اس کی طرف غور سے دیکھنا شروع کر دیا۔ تو انھوں نے کہا میں شعر پڑھا کرتا تھا اور اس (مسجد) میں وہ (رسول اللہﷺ) موجود ہوتے تھے جو آپ (یعنی عمر رضی اللہ عنہ) سے بہتر ہیں۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم نے رسول اللہ ﷺ سے یہ فرماتے ہوئے سنا تھاکہ: میری طرف سے جواب دو اور اے اللہ! روح القدس کے ذریعے اس کی مدد فرما! تو انھوں نے کہا:اے اللہ تو (گواہ رہنا) ہاں (میں نے سنا تھا)۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: أن حسان -رضي الله عنه- كان ينشد الشعر في المسجد، بينما كان عمر -رضي الله عنه- هناك، فنظر إليه عمر نظرة استنكار، فلما رأى حسان منه ذلك، قال له: كنت أنشد الشعر في المسجد وفيه من هو خير منك.
ثم "استشهد أبا هريرة" أي سأله أداء الشهادة التي يعلمها عن إنشاده الشعر في المسجد بحضور رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وإقرار النبي -صلى الله عليه وسلم- له على ذلك وتشجيعه له على إنشاد الشعر فقال:
"أَنشُدَك الله" أي أسألك بالله وأستحلفك به، "هل سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: يا حسان أجب عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- "أي: أجب شعراء المشركين بشعرك واهجهم به؛ دفاعاً عن النبي -صلى الله عليه وسلم-، ونصرة لدينه، وهل سمعته يقول: "اللهم أيده بروح القدس" أي: قوِّه بجبريل، وسخره له فيلهمه الشعر الذي يقع على أعداء الإِسلام وقع السهام؟ قال أبو هريرة: "نعم" أي: سمعتك تنشد الشعر أمامه فِي المسجد، وسمعته يقول ذلك.
581;دیث کا مفہوم: حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ بھی وہاں پہنچ گیے اور ان کو ناپسندیدہ نظروں سے دیکھا۔ جب حسان رضی اللہ عنہ نے ان کو اس طرح دیکھا تو ان سے کہا کہ:میں مسجد میں شعر پڑھا کرتا تھا اور اس وقت مسجد میں وہ موجود ہوتے تھے جو آپ سے بہتر ہیں(یعنی رسول اللہﷺ)۔ ”پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے گواہی طلب کی“ یعنی ان سے گواہی دینے کا سوال کیا کہ جو وہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں ان کے شعر پڑھنے کے حوالے سے جانتے تھے اور رسو ل اللہ ﷺ نے اس کو برقرار رکھا اور ان کی شعر گوئی پر حوصلہ افزائی فرمائی تھی۔فرمایا: ”تجھے اللہ کی قسم“ یعنی میں اللہ کی قسم اور اس کا حلف دے کر پوچھتا ہوں: کیا تو نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے حسان!رسول اللہﷺ کی طرف سے جواب دو“ یعنی مشرکین کے شعراء کو اپنے شعروں سے جواب دو اور نبی کریمﷺ کا دفاع اور اس کے دین کی مدد کرتے ہوئے ان کی ہجو بیان کرو۔ اور کیا تم نے یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا: ”اے اللہ ! روح القدس کے ذریعے ان کی مدد فرما“ یعنی جبریل علیہ السلام کی قوت کے ساتھ۔ جبریل علیہ السلام ان کو شعر الہام کرتے جو کہ دشمنان اسلام پر تیروں کی طرح لگتے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:ہا، یعنی میں نے تمھیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے مسجد میں شعر پڑھتے ہوئے بھی سنا اور میں نے (رسولﷺ کو) یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10889

 
 
Hadith   1740   الحديث
الأهمية: من سمع رجلا ينشد ضالة في المسجد فليقل: لا ردها الله عليك؛ فإن المساجد لم تبن لهذا


Tema:

جو آدمی سنے کہ کوئی شخص مسجد میں کسی گم شدہ چیز کا اعلان کرکر کے ڈھونڈتا پھرتا ہے تو اسے کہے کہ: اللہ کرے یہ چیز تجھے نہ ملے۔ مساجد اس مقصد کے لیے تو نہیں بنائی گئیں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «من سمِع رجُلا يَنْشُدُ ضَالَّةً في المسجد فليقُل: لا رَدَّهَا الله عليك، فإنَّ المساجد لم تُبْنَ لهذا».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو آدمی سنے کہ کوئی شخص مسجد میں کسی گم شدہ چیز کا اعلان کرکر کے ڈھونڈتا پھرتا ہے تو اسے کہے کہ: اللہ کرے یہ چیز تجھے نہ ملے۔ مساجد اس مقصد کے لیے تو نہیں بنائی گئیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أرشد حديث أبي هريرة -رضي الله عنه- إلى أن من طلب بالمسجد شيئا ضائعا من بهيمة الأنعام، أن يقال له: (لا ردها الله عليك) أو (لا وجدت) -كما في رواية -، وهذا زجرٌ له عن ترك تعظيم المسجد.
ثم جاء التعليل النبوي لهذا الزجر لمن نشد ضالته بالمسجد، وهذا في قوله -عليه الصلاة والسلام-: (فإن المساجد لم تبن لهذا): أي وإنما بُنِيَت لذكر الله -تعالى- والصلاة والعلم والمذاكرة في الخير ونحو ذلك، ولما وضع هذا المُنْشِد الشيء في غير محله ناسب الدعاء عليه بعدم الوجدان؛ معاقبة له بنقيض قصده وترهيبا وتنفيرا من مثل فعله.
وفي الجملة فالحديث من قبيل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، ويشترط له شروطه، وإذا دعا عليه بذلك فإن انزجر وكف فذاك، وإلا كرره.
575;بوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اِس حدیث سے یہ رہنمائی حاصل ہوتی ہے کہ جو شخص مسجد میں کسی گم شدہ چوپائے کے متعلق پوچھ رہا ہو تو اُسے یوں کہنا چاہیے کہ ’’اللہ تیری طرف اُسے نہ لوٹائے‘‘ یا پھر کہنا چاہیے کہ: تجھے وہ نہ ملے۔ جیسا کہ ایک اور حدیث میں آیا ہے۔ یہ اس شخص کے لیے مسجد کی تعظیم کو ترک کرنے پرا ایک قسم کی ڈانٹ ہے۔
پھر آپ ﷺ نے اس ڈانٹ کی علت بیان کی جو اس شخص کو کی جاتی ہے جو اپنی گم شدہ شے کا اعلان مسجد میں کر رہا ہو۔ یہ علت آپ ﷺ کے اس فرمان میں ہے کہ "مساجد اس کام کے لیے تو نہیں بنائی گئیں۔" یعنی انہیں اللہ کے ذکر، نماز، علم اور اچھائی کی باتیں کرنے وغیرہ کے لیے بنایا گیا ہے۔ چوں کہ یہ اعلان کرنے والا مسجد کو وہ مقام نہیں دے رہا جو اسے دینا چاہیے تھا چنانچہ مناسب ہے کے اس کے لیے اس کی گم شدہ شے نہ ملنے کی دعا کی جائے تاکہ وہ جو چاہتا ہے اس کی ضد کا اسے سزا ملے اور اس کی طرح کا کام کرنے سے (دیگر لوگوں کو) ڈرایا اور دور رکھا جا سکے۔
مختصر یہ ہے کہ یہ حدیث امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے قبیل سے ہے اور اس کی کچھ شرائط ہیں۔ جب کوئی شخص اس کے خلاف یہ دعا کرے تو اگر وہ شخص ڈر کر رک جائے تو ٹھیک ورنہ دوبارہ وہ اسے یہ بد دعا دے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10890

 
 
Hadith   1741   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: إذا رأيتم من يبيع أو يبتاع في المسجد، فقولوا: لا أربح الله تجارتك، وإذا رأيتم من ينشد فيه ضالة، فقولوا: لا رد الله عليك


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں خرید وفروخت کررہاہو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے، اور جب ایسے شخص کودیکھوجو مسجد میں گمشدہ چیز (کا اعلان کرتے ہوئے اُسے) تلاش کرتاہو تو کہو : اللہ تمہاری چیزتمہیں نہ لوٹائے

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-، أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: إذا رَأَيْتُم مَن يَبِيع أو يَبْتَاعُ في المسجد، فقولوا: لا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ، وإذا رأيتم مَنْ يَنْشُدُ فيه ضَالَّة، فقولوا: لاَ رَدَّ الله عليك.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں خرید وفروخت کررہا ہو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے، اور جب ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں گمشدہ چیز (کا اعلان کرتے ہوئے اُسے) تلاش کرتا ہو تو کہو : اللہ تمہاری چیزتمہیں نہ لوٹائے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: (إذا رأيتم من يبيع أو يبتاع) أي: يشتري (في المسجد): وحذف المفعول يدل على العموم، فيشمل كل ما يباع ويشترى.
فمن كانت هذه حاله فقد أرشد -عليه الصلاة والسلام- أن يزجر ويقال لكل منهما -البائع والمشتري- باللسان جهرا  (لا أربح الله تجارتك): دعاء عليه، أي: لا جعل الله تجارتك ذات ربح ونفع، وفيه إيماء وإشارة إلى قوله -تعالى-: {فما ربحت تجارتهم} [البقرة: 16]، ولو قال لهما معا: لا أربح الله تجارتكما جاز؛ لحصول المقصود.
وتعليل هذا الزجر لكون المسجد سوق الآخرة فمن عكس وجعله سوقا للدنيا فحَرِّي بأنه يدعى عليه بالخسران والحرمان؛ معاقبة له بنقيض قصده، وترهيبا وتنفيرا من مثل فعله، فيكره ذلك بالمسجد تنزيها.
585;سول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم دیکھو کسی لین دین کرنے والے“ یعنی خرید وفروخت کرنے والے کو ’’في المسجد‘‘ (مسجد میں)۔ یہاں مفعول کو عموم پر دلالت کرنے کے لیے حذف کیا گیا ہے جس میں ہر قسم کی خرید وفروخت شامل ہے۔اگر کسی کو اس حالت میں پایا جائے تو آپ ﷺ نے اس کو ڈانٹ پلانے کی طرف اس طرح رہنمائی فرمائی کہ ان میں سے ہر ایک (بائع ومشتری) کو علانیہ طور پر زبان سے یہ کہا جائے ”لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ“ تاکہ یہ بددعا ہوجائے۔ جس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ تیری تجارت کو فائدہ مند اور نفع آور نہ کرے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف اشارہ ہے: ﴿فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ﴾ ”ان کی تجارت نے انہیں کوئی فائدہ نہیں دیا“۔ (سورہ بقرہ: 16) اگر ان دونوں کو اکٹھا کہہ دیا جائے کہ اللہ تمہاری تجارت میں برکت نہ ڈالے تو مقصود حاصل ہو جائے گا۔
اس زجر و توبیخ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسجد آخرت کا بازار ہے اور جس نے اس کے برعکس کام کیا گویاکہ اس نے اس کو دنیا کا بازار بنا دیا اس لیے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اُس کے لیے خسارے اور محرومی کی بددعا کی جائے تاکہ یہ مسجد کا برعکس (خلافِ معتاد) استعمال کرنے والے کے لیے سزا اور ڈراوے کا سامان بن جائے، نیز دوسروں کو اس کام سے متنفر بھی کیا جاسکے، بایں ہمہ وہ مسجد کے تقدس کا خیال کرتے ہوئے ایسا کرنے (مسجد میں خرید وفروخت) کو ناپسند کرنے لگے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10891

 
 
Hadith   1742   الحديث
الأهمية: لا تقام الحدود في المساجد، ولا يستقاد فيها


Tema:

مساجد میں نہ تو حدود قائم کی جائیں اور نہ ہی قصاص لیا جائے۔

عن حكيم بن حزام -رضي الله عنه- مرفوعًا: «لا تُقَامُ الحدود في المساجد، ولا يُسْتَقَادُ فيها».

حكيم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مساجد میں نہ تو حدود قائم کی جائیں اور نہ ہی قصاص لیا جائے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يحكي الصحابي الجليل حكيم بن حزام -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- نهى أن تقام الحدود في المساجد، أي: سائر الحدود، سواء المتعلقة بالله -تعالى- أو بالآدمي؛ لأن في ذلك نوع هتك حرمته، ولاحتمال تلوثه بجرح أو حدث، ولأنه إنما بني المسجد للصلاة والذكر لا لإقامة الحدود.
والحديث دليل على تحريم إقامة الحدود في المساجد وتحريم الاستقادة فيها أي القصاص؛ لأن النهي كما تقرر في الأصول حقيقة في التحريم، ولا صارف له ههنا عن معناه الحقيقي.
580;لیل القدرصحابی حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ مسجد میں کسی قسم کی حدود کا نفاذ کیا جائے، یعنی ایسی حدود جن کا تعلق اللہ سے ہو یا انسانوں سے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے مسجد کی حرمت پامال ہوتی ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ مسجد زخم یا نجاست سے ملوث ہو جائے اور اس لیے بھی کہ مساجد کو نماز اور ذکر کے لیے بنایا گیا ہے نہ کہ حدود کے نفاذ کے لیے۔ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مساجد میں حدود قائم کرنا اور ان میں قصاص لینا حرام ہے کیونکہ نہی حقیقت میں تحریم کے لیے ہے جیسا کہ اصولِ فقہ میں ثابت ہے۔ اور یہاں کوئی ایسا قرینہ نہیں پایا جاتا جو اس کے حقیقی معنیٰ مراد لینے سے روکنے والا ہو۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10892

 
 
Hadith   1743   الحديث
الأهمية: أصيب سعد يوم الخندق، رماه رجل من قريش، يقال له حبان بن العرقة، رماه في الأكحل، فضرب النبي -صلى الله عليه وسلم- خيمة في المسجد ليعوده من قريب


Tema:

غزوۂ خندق کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے، قبیلۂ قریش کے ایک شخص حبان بن عرقہ نامی نے ان پر تیر چلایا تھا اور وہ ان کے بازو کی رگ میں آ کے لگا تھا، تو رسول اکرم ﷺ نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔

عن عائشة -رضي الله عنها-، قالت: أُصِيب سعد يوم الخندق، رماه رجل من قريش، يقال له حبان بن الْعَرِقَةِ وهو حبان بن قيس، من بني معيص بن عامر بن لؤي رماه في الأَكْحَلِ ، فضرب النبي -صلى الله عليه وسلم-خَيمة في المسجد ليعوده من قريب، فلما رجع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- من الخندق وضع السلاح واغتسل، فأتاه جبريل -عليه السلام- وهو ينفض رأسه من الغُبار، فقال: " قد وضعتَ السلاح، والله ما وضعتُه، اخرج إليهم، قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: فأين فأشار إلى بني قُرَيظة " فأتاهم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فنزلوا على حُكمه، فردَّ الحُكمَ إلى سعد، قال: فإني أحكم فيهم: أن تُقتل المقاتِلة، وأن تُسبى النساء والذُّرِّية، وأن تُقسم أموالهم قال هشام، فأخبرني أبي، عن عائشة: أن سعدا قال: اللهم إنك تعلم أنه ليس أحد أحب إلي أن أُجاهدهم فيك، من قوم كذَّبوا رسولك -صلى الله عليه وسلم- وأخرجوه، اللهم فإني أظن أنك قد وضعتَ الحرب بيننا وبينهم، فإن كان بقي من حرب قريش شيء فأَبْقِني له، حتى أجاهدهم فيك، وإن كنتَ وضعتَ الحرب فافْجُرها واجعل موتتي فيها، فانفجرت من لَبَّته فلم يَرْعَهم، وفي المسجد خيمة من بني غِفَار، إلا الدم يسيل إليهم، فقالوا: يا أهل الخيمة، ما هذا الذي يأتينا من قبلكم؟ فإذا سعد يَغْذو جرحه دما، فمات منها -رضي الله عنه-.

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: غزوۂ خندق کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے، قبیلۂ قریش کے حبان بن عرقۃ نامی ایک شخص نے - جو کہ قبیلۂ معیص بن عامر بن لؤی سے تعلق رکھنے والا حبان بن قیس ہے - ان پر تیر مارا، اس نے انہیں بازو کی بڑی رگ میں تیر مارا تھا، تو نبی ﷺ نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگوایا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔ پھر جب آپ ﷺ غزوۂ خندق سے واپس ہوئے اور ہتھیار رکھ کر غسل کیا تو جبریل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس آئے وہ اپنے سر سےگرد و غبار جھاڑ رہے تھے۔ انہوں نے نبی ﷺ سے کہا آپ نے ہتھیار رکھ دیے؟ اللہ کی قسم ! ہم نے اسلحہ نہیں اتارا، ان کی طرف نکلیے۔ نبی ﷺ نے دریافت فرمایاکہ: ’’کہاں؟‘‘ تو انہوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ بنو قریظہ کے پاس پہنچے، وہ آپ ﷺ کے فیصلہ پر اتر آئے، تو آپ ﷺ نےسعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ان کا حکَم بنا یا، چناں چہ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ان کے بارے میں فیصلہ کر تاہوں کہ ان کے جنگ جو افراد قتل کر دیے جائیں، عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور ان کے اموال تقسیم کر لیے جائیں۔ ہشام نے بیان کیا کہ پھر مجھے میرے والد نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی تھی: ’’اے اللہ! تو جانتا ہے کہ مجھے تیرے راستے میں، اس قوم کے خلاف جہاد سے بڑھ کر کسی کے خلاف جہاد کرنا محبوب نہیں جنہوں نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور انہیں نکال باہر کیا۔ اے اللہ! میں سمجھتا ہوں کہ اب تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ کو ختم کر دیا ہے۔ پس اگر قریش کی جنگ کچھ باقی رہ گئی ہو تو مجھے اس کے لیے باقی رکھ تاکہ میں ان سے تیرے راستے میں جہاد کروں، اور اگر لڑائی تو نے ختم کر دی ہے تو اسی زخم کو جاری کرکے اسے میری موت کا سبب بنادے۔ چناں چہ ان کے سینے کا زخم پھوٹ کر بہنے لگا، مسجد میں بنو غفار کا بھی ایک خیمہ تھاـ وہ یہ دیکھ کر چونکے کہ ان کی جانب خون بہہ کر آ رہا ہے۔نے ہی خوف زدہ کر دیاجو ان کی طرف بہ رہا تھا، انہوں نے پوچھا: اے خیمے والو! یہ کیا ہے جو تمہاری جانب سے ہماری طرف آرہا ہے؟ دیکھا تو سعد رضی اللہ عنہ کے زخم سے خون کی دھار رواں تھی۔ پھر اسی سے ان کی موت واقع ہوگئی۔ اللہ ان سےراضی ہو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف فضيلة الصحابي الجليل سعد بن معاذ؛ حيث عُمل له خيمة في المسجد كي يزوره النبي -صلى الله عليه وسلم- مما أصابه في جهاده، وأنه -رضي الله عنه- حكم بحكم على بني قريظة يوافق حكم الله -تعالى- عليهم من فوق سبع سموات وهو أن يقتل رجالهم وتُسبى نساؤهم وذراريهم وتؤخذ أموالهم وذلك بسبب خيانتهم للمسلمين ونقضهم الميثاق واستغلالهم ظروف حرب الخندق وتجمُّع قريش وغيرها على أطراف المدينة آنذاك، كذلك تتجلى فضيلة أخرى لسعد -رضي الله عنه- وذلك في دعائه أن يبقيه الله -تعالى- إن كان بقي حرب بين قريش وبين المسلمين أو أن يستشهده الله -تعالى- إن كان قد انتهت حرب المسلمين مع قريش باستشهاده متأثراً بجرحه الذي جرحه يوم الخندق.
581;دیث شریف میں صحابیٔ جلیل سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان ہے، اس طور پر کہ دورانِ جہاد وہ زخمی ہو گئے تو ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا گیا تاکہ نبی ﷺ ان کی عیادت کر سکیں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے بارے میں جو فیصلہ دیا وہ فیصلہ ساتوں آسمانوں کے اوپر سے ان کے بارے میں اللہ کے فیصلے کے عین موافق تھا، اور وہ یہ کہ جتنے لوگ ان کے جنگ کرنے کے قابل ہیں وہ قتل کر دیے جائیں، ان کی عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور ان کا مال ضبط کر لیا جائے، اور یہ سب کچھ مسلمانوں کے ساتھ ان کی خیانت اور عہد شکنی اورخندق کے جنگی حالات اور قریش کے مدینہ کے اطراف جم گھٹے سے غلط فائدہ اٹھانے کے سبب تھا۔ سعد رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری فضیلت ان کی دعا سے آشکار ہوتی ہے کہ اللہ تعالی انہیں باحیات رکھے اگر قریش اور مسلمانوں کے مابین لڑائی ابھی باقی ہو اور اگر قریش کے ساتھ مسلمانوں کی لڑائی اپنی انتہاء کو پہنچ گئی ہے تو میرے ان زخموں کو پھر سے ہرا کر دے جو خندق کے دن مجھے لاحق ہوئے اور اسی میں میری موت واقع کر دے۔ (اور ایسا ہی ہوا)

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10893

 
 
Hadith   1744   الحديث
الأهمية: دعهما يا أبا بكر؛ فإنها أيام عيد، وتلك الأيام أيام منى


Tema:

ابوبکر چھوڑ دو یہ عید کے دن ہیں ۔اور وہ ایام منیٰ تھے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- أن أبا بكر -رضي الله عنه-، دخل عليها وعندها جاريتان في أيام منى تُدَفِّفَانِ، وتضربان، والنبي -صلى الله عليه وسلم- مُتَغَشٍّ بثوبه، فانتهرهما أبو بكر، فكشف النبي -صلى الله عليه وسلم- عن وجهه، فقال: «دعهما يا أبا بكر؛ فإنها أيام عيد»، وتلك الأيام أيام منى، وقالت عائشة: رأيت النبي -صلى الله عليه وسلم- يسترني وأنا أنظر إلى الحبشة وهم يلعبون في المسجد، فزجرهم عمر، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «دعهم أَمْنًا بني أَرْفِدَة».

عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں ( منیٰ کے دنوں میں ) تشریف لائے اس وقت گھر میں دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور نبی کریم ﷺ چہرہ مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے تشریف فرما تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ڈانٹا۔ اس پر آپ ﷺ نے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا کہ ابوبکر چھوڑ دو یہ عید کے دن ہیں، اور وہ ایام منیٰ تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے مجھے چھپا رکھا تھا اور میں حبشہ کے لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو مسجد میں تیروں سے کھیل رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جانے دو اور ان سے فرمایا اے بنو ارفدہ! تم بے فکر ہو کر کھیل دکھاؤ۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في الحديث بيان يسر الشريعة وسماحتها، وأنَّ نهجها مخالف لما عليه كثير من المتشددين والمتنطعين، الذين يرون الدين شدةً وجفاءً وعنفًا؛ فيبين الحديث الشريف جواز ضرب الدف والغناء في أيام الأعياد؛ وذلك لفعل الجواري ذلك أمام النبي -صلى الله عليه وسلم- وإنكاره على من أنكر عليهن، وكذلك الأمر في اللهو بالحراب ونحوها.
والحبشة جُبِلُوا على حب اللعب والطرب؛ فالنبي -صلى الله عليه وسلم- سمح لهم بإقامة غرضهم هذا في المسجد، مراعيًا في ذلك سياسية شرعية هامة، أشار إليها في بعض ألفاظ الحديث، وهي:
1/ إعلام الطوائف التي لم تدخل في الإِسلام؛ -لخوفها من شدته وعنفه- أنَّ الإِسلام دين سماح، وانشراح، وسعة، لاسيما من تلك الطوائف، طائفة اليهود، الذين ينأون عنه وينهون عنه؛ ولذا جاء في بعض ألفاظ الحديث أنَّ عمر أنكر عليهم، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "دعهم؛ لتعلم اليهود أنَّ في ديننا فسحة، وأني بعثتُ بالحنيفية السمحة".
2/ أنَّ لعبهم كان في يوم عيد، والأعياد هي أيام فرح ومسرة، وتوسُّع في المباحات.
3/ أَنَّه لعب رجال فيه خشونة، وحماس، وشجاعة.
581;دیث میں شریعت کی آسانی و کشادگی اور اس بات کا بیان ہے کہ شریعت کا منہج ان بے جا سختی اور غلو کرنے والوں کے برخلاف ہے جو سمجھتے ہیں کہ دین شدت اور سختی کا نام ہے۔ حدیث شریف میں ایامِ عید میں دف بجانے اور گانے کے جواز کا بیان ہے کیوں کہ کچھ بچیوں نے نبی ﷺ کے سامنے ایسا کیا اور جس نے انہیں ایسا کرنے سے منع کرنا چاہا اسے آپ ﷺ نے منع کرنے سے روک دیا۔ اسی طرح نیزوں وغیرہ سے کھیلنے کا بھی یہی حکم ہے۔ اورحبشی لوگ تو فطری طور پرکھیل کود اور (خوشی سے) جھومنےکے دلدادہ ہوتے ہیں چنانچہ نبی ﷺ نے مسجد ہی میں انہیں اپنے اس شوق کو پورا کر لینے کی اجازت دے دی۔ آپ ﷺ نے یہ اجازت ایک اہم شرعی حکمت عملی کو مد نظر رکھتے ہوئے مرحمت فرمائی جس کی طرف حدیث کے بعض الفاظ میں اشارہ موجود ہے اور وہ مندرجہ ذیل حکمتیں ہیں:
1۔ وہ گروہ جو اسلام کی شدت اور سختی کے ڈر سے دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے انہیں یہ باور کرانا کہ اسلام کشادگی اور وسعت پر مبنی دین ہے، خاص طور پر یہودیوں کو جو خود بھی اس سے گریزاں رہتے اور دوسروں کو بھی اس سے منع کرتے۔اس لیے حدیث کے بعض الفاظ میں آیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نےانہیں اس سے روکا تو آپ ﷺ نےفرمایا: "انہیں ایسا کرنے دو تا کہ یہودیوں کو معلوم ہو کہ ہمارے دین میں وسعت ہے اور میں کشادگی پر مبنی دینِ حنيف کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہوں"۔
2- ان كایہ کھیل کود عید کے دن تھا ۔اور عید کے ایام خوشی و مسرت کے ایام ہوتے ہیں جن میں مباحات میں توسع ہوتی ہے۔
3۔ یہ ایک مردانہ کھیل تھا جس میں خشونت، جوش اور اظہارِ شجاعت تھا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10894

 
 
Hadith   1745   الحديث
الأهمية: فكانت تأتيني فتحدث عندي، قالت: فلا تجلس عندي مجلسا، إلا قالت:
ويوم الوشاح من أعاجيب ربنا ... ألا إنه من بلدة الكفر أنجاني


Tema:

وہ لونڈی میرے پاس آتی اور مجھ سے باتیں کیا کرتی تھی۔ جب بھی وہ میرے پاس آتی تو یہ ضرور کہتی: وَيَوْمَ الْوِشَاحِ مِنْ أَعَاجِيبِ رَبِّنَا --- أَلَا إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي (کمر بند کا دن ہمارے رب کی عجیب نشانیوں میں سے ہے۔ اسی نے مجھے کفر کے ملک سے نجات دی)۔

عن عائشة -رضي الله عنها- أن وَلِيدَةً كانت سوداء لِحَيٍّ من العرب، فأعتقوها، فكانت معهم، قالت: فخرجت صبية لهم عليها وِشَاحٌ أحمر من سُيُورٍ، قالت: فوضعته -أو وقع منها- فمرت به حُدَيَّاةٌ وهو مُلْقًى، فحسبته لحما فَخَطِفَتْهُ، قالت: فالتمسوه، فلم يجدوه، قالت: فاتهموني به، قالت: فَطَفِقُوا يُفَتِّشُونَ حتى فتشوا قبلها، قالت: والله إني لقائمة معهم، إذ مرت الحدياة فألقته، قالت: فوقع بينهم، قالت: فقلت هذا الذي اتهمتموني به، زعمتم وأنا منه بريئة، وهو ذا هو، قالت: «فجاءت إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فأسلمت»، قالت عائشة: «فكان لها خباء في المسجد -أو حِفْشٌ -» قالت: فكانت تأتيني فتحدث عندي، قالت: فلا تجلس عندي مجلسا، إلا قالت:
ويوم الْوِشَاحِ من أعاجيب ربنا ... ألا إنه من بلدة الكفر أنجاني
قالت عائشة: فقلت لها ما شأنك، لا تقعدين معي مقعدا إلا قلت هذا؟ قالت: فحدثتني بهذا الحديث.

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عرب کے کسی قبیلہ کی ایک کالی لونڈی تھی۔ انھوں نے اسے آزاد کر دیا تھا اور انہی کے ساتھ رہتی تھی۔ اس نے بیان کیا کہ ایک دفعہ ان کی ایک لڑکی ( جو دلہن تھی) نہانے کو نکلی، اس کا کمر بند سرخ تسموں کا تھا اس نے وہ کمر بند اتار کر رکھ دیا یا اس کے بدن سے گر گیا۔ پھر اس طرف سے ایک چیل گزری جہاں کمر بند پڑا تھا۔ چیل اسے ( سرخ رنگ کی وجہ سے ) گوشت سمجھ کر جھپٹ لے گئی۔ بعد میں قبیلہ والوں نے اسے بہت تلاش کیا، لیکن کہیں نہ ملا۔ ان لوگوں نے اس کی تہمت مجھ پر لگا دی اور میری تلاشی لینی شروع کر دی، یہاں تک کہ انھوں نے اس کی شرمگاہ تک کی تلاشی لی۔ اس نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم میں ان کے ساتھ اسی حالت میں کھڑی تھی کہ وہی چیل آئی اور اس نے ان کا وہ کمر بند گرا دیا۔ وہ ان کے سامنے ہی گرا۔ میں نے (اسے دیکھ کر ) کہا یہی تو تھا جس کی تم مجھ پر تہمت لگاتے تھے۔ تم لوگوں نے مجھ پر اس کا الزام لگایا تھا حالاں کہ میں اس سے پاک تھی۔ یہی تو ہے وہ کمر بند! اس ( لونڈی ) نے کہا کہ اس کے بعد میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اسلام لے آئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس کے لیے مسجد نبوی میں ایک خباء (بڑا خیمہ) لگا دیا گیا۔ ( یا یہ کہا کہ ) حِفْش (چھوٹا سا خیمہ) لگا دیا گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ لونڈی میرے پاس آتی اور مجھ سے باتیں کیا کرتی تھی۔جب بھی وہ میرے پاس آتی تو یہ ضرور کہتی: وَيَوْمَ الْوِشَاحِ مِنْ أَعَاجِيبِ رَبِّنَا --- أَلَا إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي کہ کمر بند کا دن ہمارے رب کی عجیب نشانیوں میں سے ہے۔ اسی نے مجھے کفر کے ملک سے نجات دی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس سے کہا، آخر بات کیا ہے؟ جب بھی تم میرے پاس بیٹھتی ہو تو یہ شعر ضرور کہتی ہو۔ آپ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر اس نے مجھے یہ قصہ سنایا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف سبب إسلام إحدى الجواري وأنها اتهمت من قبل الحي بسرقتها لوشاح صغير لهم مع أن الذي التقطه الحدأة بسبب لونه الأحمر، وهي تلتقط ما لونه أحمر، وقاموا بتجريدها ليفتشوها، ثم قدر الله -تعالى- في وقت تفتيشها أن الحدأة ألقت الوشاح بينهم فعرفوا براءتها حينئذٍ، ثم إنها ذهبت للنبي -عليه الصلاة والسلام- وأسلمت وجعلت سكنها في المسجد وهو بيت صغير تأوي إليه، وكانت دائماً ما تذكر هذه الحادثة لأم المؤمنين عائشة -رضي الله عنها- وتنشد هذا البيت مصداقاً للحادثة:
ويوم الْوِشَاحِ من أعاجيب ربنا ... ألا إنه من بلدة الكفر أنجاني.
أي أن ما حصل في يوم الوشاح من العجائب التي قدرها الله -تعالى-، وهو -سبحانه- أنقذني من بلاد الكفر بعد هذه الحادثة.
575;س حدیث میں ایک لڑکی کے قبول اسلام کی وجہ کو بیان کیا جا رہا ہے۔ اس کے قبیلے کی طرف سے اس پر ایک چھوٹے سے ہار کی چوری کی تہمت لگائی گئی جس کو ایک چیل سرخ رنگ کی وجہ سے لے اڑی تھی۔ قبیلےوالے اس کے کپڑے اتار کر اس کی تلاشی لی۔اللہ کی قدرت کہ عین تلاشی کے وقت اس چیل نے وہ ہار ان کے درمیان پھینک دیا تو وہ اس کی بے گناہی کو جان گیے۔ وہ لڑکی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور اُس نے اسلام قبول کر لیا اور گھر چھوٹا ہونے کی وجہ سے اسے مسجد میں رہائش دے دی گئی۔ وہ اس حادثہ کو ہمیشہ اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی اور اس حادثہ کی مناسبت سے یہ شعر پڑھا کرتی: وَيَوْمَ الْوِشَاحِ مِنْ أَعَاجِيبِ رَبِّنَا --- أَلَا إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي۔(کمر بند کا دن ہمارے رب کی عجیب نشانیوں میں سے ہے۔ اسی نے مجھے کفر کے ملک سے نجات دی) یعنی کمر بند ملنے والا دن اللہ تعالیٰ کی عجیب قدرتوں میں سے ہے کہ اس نے مجھے اس واقعہ کے بعد کفر کے ملک سے بچالیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10895

 
 
Hadith   1746   الحديث
الأهمية: البزاق في المسجد خطيئة وكفارتها دفنها


Tema:

مسجد ميں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے مٹی میں دبا دینا ہے

عن أنس -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «البُزَاق في المسجد خَطيئة، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُها».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسجد ميں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے مٹی میں دبا دینا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
البزاق -وفي رواية: (البُصاق)- على أرضية المسجد أو جدرَانه ذَنْب وإثم، يستحق فاعله عقوبة الله -تعالى-، فلا يجوز للمسلم بحال من الأحوال أن يَبصق في المسجد؛ لأن فيه إهانة لبيوت الله وتلويثها وتَقْذِيرها، بل الواجب صَوْنها من كل ما يُنجسها ويُقَذِّرها؛ لأن ذلك من تعظيم شعائر الله -تعالى-، قال تعالى: (وَمَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَبِّهِ) [الحج: 30]، أما إذا بَصق في ثوبه أو شماغه أو منديله فلا شيء عليه؛ لانتفاء العلة.
والبُصاق إذا وقع خطأً من غير إرادة فهو خطيئة معفو عن إثمها، وليس المعنى أن يتعمد البصق في المسجد ثم يقوم بدفنها؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- جعل مجرد البصاق في المسجد خطيئة، ويؤيد هذا التقييد: ما جاء في البخاري (414)، ومسلم (548): "من أنَّه -صلى الله عليه وسلم- رأى نخامة في جدار المسجد، فشَقَّ عليه، فقام فَحكه بيده".
 ومن بَصق في المسجد من غير قَصد منه، وأراد أن يعفو الله عنه ويمحو عنه سيئته هذه؛ فليبادر إلى إزالتها من المسجد، بِدفنها إن كان المسجد من حَصباء، أما إذا كان المسجد مفروشا؛ فإن كفارتها فركها  حتى تزول، أما إذا بقيت فإنها خطيئة يأثم بها ما بقيت، وقد ورد عن أبي ذر -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: (عُرضت عليَّ أعمال أمَّتي حَسَنُهَا وَسَيِّئُهَا، فوَجَدْت في مَحَاسن أعمالها الْأَذَى يُماط عن الطريق، ووجدت في مَسَاوِي أعمالها النُّخاعة تكون في المسجد لا تُدفن) رواه مسلم.
575;س روایت میں ”البزاق“ اور ایک روایت میں ”البصاق“ کا لفظ ہے۔ مسجد کے فرش یا اس کی دیواروں پر تھوکنا گناہ ہے اور ایسا کرنے والا اللہ تعالی کی سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ لھٰذا مسلمان کے لئے کسی بھی حال میں مسجد میں تھوکنا جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے اللہ کے گھروں کی توہین ہوتی ہے اور یہ انھیں آلودہ اور گندا کرنا ہے۔ بلکہ انہیں ہر اس چیز سے بچانا واجب ہے جو انہیں ناپاک اور گندا کرتی ہے؛ کیونکہ ایسا کرنا اللہ تعالی کے شعائر کی تعظیم کے زمرے میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَبِّهِ﴾ ”اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے“۔ (الحج: 30) تاہم اگر وہ اپنے کپڑے یا شماغ یا رومال میں تھوکتا ہے تو اس صورت میں اس پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ علت باقی نہیں رہی۔
اگر بلا ارادہ غلطی سے تھوکا جائے تو یہ ایک غلطی ہے جس کا گناہ معاف ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی جان بوجھ کر مسجد میں تھوکے اور پھر اسے دفن کر دے۔ کیونکہ نبی ﷺ نے مسجد میں محض تھوک کی موجودگی کو گناہ قرار دیا ہے۔ اس کی تایید اس حدیث سے ہوتی ہے جو صحیح بخاری (414) اور صحیح مسلم (548) میں آئی ہے کہ آپ ﷺ کو مسجد کی دیوار پر بلغم لگا ہوا نظر آیا جس کی موجودگی آپ ﷺ پر بہت گراں گزری۔ آپ ﷺ نے اٹھ کر اسے اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا۔
جو شخص بلا ارادہ مسجد میں تھوک بیٹھے اور پھر وہ چاہے کہ اللہ اسے معاف کر دے اور اس کے اس گناہ کو مٹا دے تو اسے چاہیے کہ وہ فوراً اسے مسجد سے زائل کردے، بایں طور کہ اگر مسجد کنکریوں والی ہو تو اسے دفن کر دے اور اگر مسجد فرش والی ہو تو پھر اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے کھرچ ڈالے یہاں تک کہ وہ زائل ہو جائے۔ اگر یہ باقی رہ گیا تو یہ ایک پاپ ہے اور جب تک باقی رہے گا وہ شخص گناہ گار ہوتا رہے گا۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میرے سامنے میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کئے گئے۔ میں نے اپنی امت کے اچھے اعمال میں راستے سے تکلیف دہ شے کو ہٹانا بھی دیکھا اور اس کے برے اعمال میں مسجد میں پڑا وہ بلغم بھی پایا جسے دفن نہ کیا گیا ہو“۔ (مسلم)

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10896

 
 
Hadith   1747   الحديث
الأهمية: لا تقوم الساعة حتى يتباهى الناس في المساجد


Tema:

قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ لوگ مسجدوں (کو تعمیر کرنے) کے سلسلے میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگ جائیں گے۔

عن أنس -رضي الله عنه-  قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا تقوم السَّاعة حتى يَتَبَاهَى النَّاس في المسَاجد».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت نہیں آئے گی، یہاں تک کہ لوگ مسجدوں (کو تعمیر کرنے) کے سلسلے میں ایک دوسرے پرفخر کرنے لگ جائیں گے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
التَّباهي بالمساجد هو التَّفاخر بِحسن بِنائها وزَخرفتها وتَزويقها وعُلُوِّها وارتفاعها وارتفاع سُقوفها، بأن يقول الرجل للآخر: مسجدي أحْسَن من مسجدك، وبنائي لمسجدي أحْسَن من بنائك وهكذا.
وقد تكون المُباهاة بالفعل دون القول، كأن يُبالغ كل واحد في تزيين مسجده، ورفع بنائه، وغير ذلك؛ ليكون أبْهَى من الآخر، فالواجب ترك الغُلو فيها، والتزين؛ لأن المساجد لم تُبن لهذا وإنما بُنيت لإعمارها بالصلاة وبِذكر الله -تعالى- وطاعته، -قال تعالى-: (إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ).
وأمر عمر -رضي الله عنه- ببناء المسجد وقال: "أَكِنَّ الناس من المطر، وإيَّاك أن تُحمِّر أو تُصَفِّر فَتَفْتِنَ الناس" ومعنى أكنَّ أي ابن لهم مسجدًا يحفظهم من المطر إذا نزل وهم يصلون ومن حر الشمس، أي يؤدي الغرض، وقال أنس: "يَتباهون بها ثم لا يَعمرونها إلا قليلًا" وقال ابن عباس: "لَتُزَخْرِفُنَّهَا كما زخرفت اليهود والنصارى"، وهذه الظاهرة وهي التَّباهي بالمساجد من علامات الساعة، التي لا تقوم إلاَّ على تغير أحوال الناس ونقص دِينهم وضَعف إيمانهم، وحينما تكون أعمالهم ليست لله -تعالى-، وإنما للرِّياء والسُّمْعَة والتَّفاخر.
605;ساجد کے سلسلے میں مباہات کے معنی ہیں ان کی تعمیر، آرائش و زیبائش، بلندی اور ان کی چھتوں کی اونچائی پر ایک دوسرے پر فخر کرنا، مثلا آدمی دوسرے شخص سے کہے کہ میری مسجد تیری مسجد سے زیادہ اچھی ہے اور میری مسجد کی تعمیر تیری مسجد سے بہتر ہے وغیرہ وغیرہ۔ بسا اوقات یہ مباہات قول کی بجائے فعل (عمل) کے ذریعہ ہوتی ہے، مثلا مسجد کی آرائش و زیبائش اور اس کی عمارت کی بلندی میں مبالغہ کیا جائے؛ تاکہ دوسری سے زیادہ خوب صورت نظر آئے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ مساجد کے معاملے میں غلو نہ برتا جائے اور ان کی زیبائش نہ کی جائے؛ کیوں کہ مساجد اس مقصد کے لیے نہیں بنائی جاتیں۔ انھیں تو نماز، اللہ کے ذکر اور اس کی اطاعت سے آباد رکھنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ﴾ ”الله کی مسجدیں وہی آباد کرتا ہے، جو الله اور آخرت پر ایمان لایا اور نماز قائم کی“۔
عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: لوگوں کو بارش سے بچاؤ اور سرخ اور زرد رنگ مت کرو۔ مبادا یہ کہ تم لوگوں کو فتنے میں مبتلا کر دو۔ ”أكنَّ“ کے معنی یہ ہیں کہ لوگوں کے لیے ایسی مسجد بناؤ کہ اگر وہ نماز پڑھ رہے ہوں، تو بارش ہونے پر انھیں بارش سے اور سورج کی گرمی سے بچائے۔ یعنی اپنا مقصد پورا کرے۔ انس رضی اللہ نے فرمایا: لوگ مساجد پر باہم فخر تو کریں گے، لیکن انھیں آباد کم ہی کریں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تم مساجد کی ایسے زیبائش کرو گے، جیسے یہود و نصاری نے کی۔
یہ شے یعنی مساجد کے سلسلے میں باہم فخر کرنا قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے، جو اس وقت ظاہر ہوگی، جب لوگوں کے احوال میں بگاڑ، ان کے دین میں نقص اور ایمان میں کمزوری آ جائے گی۔ جب ان کے اعمال اللہ کے لیے نہیں بلکہ ریا، شہرت اور فخر و مباہات کے لیے ہوں گے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10897

 
 
Hadith   1748   الحديث
الأهمية: ما أمرت بتشييد المساجد


Tema:

مجھے مسجدوں کو بلند بنانے کا حکم نہیں دیا گیا۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما-، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «ما أُمِرْتُ بِتَشْيِيد المساجد»، قال ابن عباس: لتُزَخْرِفُنَّها كما زَخْرَفَت اليهود والنصارى.

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھے مسجدوں کو بلند بنانے کا حکم نہیں دیا گیا“، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تم مسجدوں کو اسی طرح آراستہ کرو گے جس طرح یہود ونصاری نے آراستہ کیا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
المراد بتشييد المساجد هنا رفع البناء وتطويله، كما قال البغوي، والمبالغة في زخرفته، والزخرفة كما في كلام ابن عباس -رضي الله عنهما- من فعل اليهود والنصارى.
وأما تشييد المسجد وإحكام بنائه بما يستحكم به الصنعة من غير تزيين وتزويق وزخرفة فليس بمكروه إذا لم يكن مباهاة ورياء وسمعة؛ لما في حديث عثمان بن عفان: "من بنى لله مسجداً بنى الله له مثله في الجنة". كان مسجد النبي -صلى الله عليه وسلم- باللَّبِن، وسقفه بالجريد، وعُمُده خشب النخيل، ولم يزد فيه أبو بكر -رضي الله عنه-، ولما نخرت خشبه وجريده زمن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه-، أعاده على بنائه الأول، وزاد فيه، ولما كان في عهد عثمان -رضي الله عنه- زاد فيه زيادة كبيرة، وبنى جدرانه بالأحجار والجص، وجعل عُمُده من الحجارة، وسقفه الساج، فأدخل فيه ما يفيد القوة، ولا يقتضي الزخرفة، وكل ما صنعه كان من باب الإحكام والتجصيص من غير تزويق وزخرفة، وأما الحجارة المنقوشة فلم يكن نقشها بأمره بل حصلت له كذلك منقوشة، ولم يكن عند الذين أنكروا عليه من الصحابة دليل يوجب المنع إلا الحث على اتباع ما فعله -صلى الله عليه وسلم- وعمر في بناء المسجد من ترك الرفاهية، وهذا لا يقتضي منع التشييد بمعنى إتقان البناء ولا كراهته.
740;ہاں مساجد کو آراستہ کرنے سے مراد انہیں بلند اور بڑا بنانا ہے جیسا کہ امام بغوی رحمہ اللہ نے کہا ہے اور مساجد کو آراستہ وپیراستہ کرنے میں مبالغہ سے کام لینا جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ یہود ونصاری کا شیوہ رہا ہے۔
رہا مسجد کو بلند بنانا اور اس کی عمارت کو مستحکم ومضبوط کرنا بغیر زیب و زینت اور سجاوٹ کے جس سے اس کی بناوٹ مضبوط رہے تو یہ مکروہ نہیں ہے، جب تک کہ اس میں شیخی، ریاکاری اور شہرت نہ ہو، جیسا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے: ”جس کسی نے اللہ کے لیے کوئی مسجد تعمیر کی، تو اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں اسی کے مثل ایک گھر بنائے گا“۔
نبی ﷺ کی مسجد کچی اینٹ اور اس کی چھت کھجور کی شاخ اور اس کے ستون کھجور کے تنوں کی تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا تھا، لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اس کی لکڑی اورکھجور کی شاخ بوسیدہ ہو گئی تو اسے پہلے کی طرح تعمیر کرادی اور اس میں تھوڑا اضافہ کردیا، اور جب عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو اس میں بہت زیادہ اضافہ کردیا گیا، انہوں نے اس کی دیواروں کو پتھروں اور چونا سے پلاستر کرا دیا، اس کے ستون پتھروں سے اور چھت ساگوان کی لکڑی سے بنوا دی، اور اس میں فائدہ مند چیزیں مضبوطی کے لیے ڈال دیں جس کا مقصد سجاوٹ نہیں، بلکہ مضبوطی کے لیے ایسا کیا تھا،اور چونے کا پلستر بغیر زیب وزینت کے تھا۔
اور رہا نقش ونگار والے پتھروں کا معاملہ تو اسے ان کے حکم سے نقش نہیں کیا گیا تھا بلکہ نقش و نگار والا پتھر ہی انہیں ملا تھا، اور جن صحابہ نے ان پر نکیر کی تھی ان کے پاس منع کرنے کی کوئی دلیل نہیں تھی اِلاّ یہ کہ وہ انہیں نبی ﷺ اور عمر رضی اللہ عنہ کی طرح مسجد کی تعمیر بغیر سجاوٹ کے کرنے پر ابھارا تھا اور یہ مساجد کی مستحکم تعمیر کرنے کے سلسلہ میں ممانعت وکراہت کی متقاضی نہیں ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10898

 
 
Hadith   1749   الحديث
الأهمية: حديث المسيء صلاته من رواية رفاعة -رضي الله عنه-


Tema:

اپنی نماز کو اچھی طرح نہ پڑھنے والے کی حديث جس کو رفاعہ رضی اللہ عنہ نے روايت کيا ہے۔

عن رفاعة بن رافع الزرقي -رضي الله عنه-، وكان من أصحاب النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: جاء رجل ورسول الله -صلى الله عليه وسلم- جالس في المسجد، فصلى قريبا منه، ثم انْصَرَف إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فَسَلَّمَ عليه فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أعِد صَلَاتَك، فإنك لم تصل، قال: فرجع فصلى كَنَحْو مِمَّا صَلَّى، ثم انصرف إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقال له: " أَعِدْ صلاتك، فإنك لم تُصَلِّ ". فقال: يا رسول الله، عَلِّمْنِي كيف أَصْنَع، قال: "إذا اسْتَقْبَلت القبلة فَكَبِّر، ثُمَّ اقْرَأ بأمِّ القرآن، ثم اقرأ بما شِئْت، فإذا رَكَعْت، فَاجْعَل رَاحَتَيْكَ على رُكْبَتَيك، وامْدُد ظَهْرَك وَمَكِّنْ لِرُكُوعِك، فإذا رفعت رأسك فأَقِم صُلْبَكَ حتى ترجع العظام إلى مَفَاصِلَها، وإذا سَجَدتَ فَمَكِّنْ لِسُجُودِك، فإذا رَفَعْت رَأْسَك، فَاجْلِس على فَخِذِك اليسرى، ثم اصْنَع ذلك في كل ركعة وسجدة.
وفي رواية: «إنها لا تَتِمُّ صلاة أَحَدِكُم حتى يُسْبِغَ الوُضُوء كما أمره الله عز وجل، فيغسل وجهه ويديه إلى المرفقين، ويمسح برأسه ورجليه إلى الكعبين، ثم يكبر الله عز وجل ويحمده، ثم يقرأ من القرآن ما أَذِن له فيه وتَيَسَّر، ثم يُكَبِّرَ فيَسْجُد فَيُمَكِّن وَجْهَه -وربما قال: جَبْهَتَه من الأرض- حتى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُه وَتَسْتَرْخِيَ، ثم يكبر فَيَسْتَوِي قاعدا على مَقْعَدَه ويقيم صُلْبَهُ، فوصف الصلاة هكذا أربع ركعات  تَفْرَغ، لا تَتِمُّ صلاة أحدكم حتى يفعل ذلك.
وفي رواية: «فتوضأ كما أمرك الله جل وعز، ثم تَشَهَّدْ، فأقم ثم كبر، فإن كان معك قرآن فاقرأ به، وإلا فاحمد الله وَكَبِّرْهُ وَهَلِّلْهُ».

رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ (جو کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے تھے) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اور آپ ﷺ کے قریب ہی نماز پڑھنے لگا، نماز سے فارغ ہو کر وہ نبی ﷺ کی طرف متوجہ ہوا اور آپ سے سلام کیا، تو نبی ﷺ نے اس سے فرمایا: ’’اپنی نماز دوبارہ پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی‘‘۔ وہ چلا گیا اور پہلے کی طرح نماز پڑھ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آگیا، نبی ﷺ نے اس سے پھر یہی فرمایا: ’’جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی‘‘، وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے نماز پڑھنے کا طریقہ سمجھا دیجئے کہ کیسے پڑھوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم قبلہ کی طرف رخ کر لو تو اللہ اکبر کہو، پھر سورۂ فاتحہ پڑھو، پھر تم جو (سورت) چاہو پڑھو۔ جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھو، اپنی پیٹھ دراز کر لو اور رکوع کے لیے اسے خوب برابر (سیدھی) کرلو، جب رکوع سے سر اٹھاؤ تو اپنی پشت کو سیدھا کھڑا کر لو یہاں تک کہ تمام ہڈیاں اپنے جوڑوں پر لوٹ آئیں اور جب سجدہ کرو تو خوب اچھی طرح کرو اور جب سجدے سے سر اٹھاؤ تو بائیں ران پر بیٹھ جاؤ، پھر ہر رکوع اور سجدے میں اسی طرح کرو۔
ايک دوسری روايت میں ہے کہ: تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک کہ وہ اسی طرح مکمل وضو نہ کرے جس طرح اللہ عز وجل نے اس کو کرنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ وہ اپنا منہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے، اپنے سر کا مسح کرے اور دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھوئے۔ اس کے بعد اللہ عز و جل کی بڑائی بیان کرے اور اس کی حمد و ثناکرے۔ پھر قرآن مجید میں سے پڑھے جس کی اسے نماز میں پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے اور جو آسان ہے۔ پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کرے تو اپنا منہ اطمینان سے زمین پر رکھ دے۔(ہمام کہتے ہیں کہ) بسا اوقات راوی نے کہا: اپنی پیشانی زمین پر رکھ دے، یہاں تک کہ اس کےجوڑ آرام پائیں اور ڈھیلے پڑ جائیں، پھر تکبیر کہے اور اپنی سرین پر بالکل سیدھا ہو کر بیٹھ جائے اور پیٹھ کو سیدھا رکھے، پھر نماز کی چاروں رکعتوں کی کیفیت فارغ ہونے تک اسی طرح بیان کی (پھر فرمایا): ”تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ایسا نہ کرے“۔
ايک دوسری روايت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: 'وضو کر جس طرح اللہ تعالیٰ نے تجھ کو حکم دیا ہے، پھر اذان دے اور اقامت کہہ، پھر تکبير تحریمہ کہہ، اور اگر قرآن مجید میں سے کچھ ياد ہو تو اسے پڑھ، نہیں تو پھر صرف اللہ کی حمد و ثنا اور تکبیر و تہلیل بیان کر یعنی الحمد للہ، اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ پڑھ۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث معروف بحديث المسيء صلاته، وهو عمدة الشراح في بيان صفة الصلاة بأركانها وواجباتها وشروطها، حيث بيَّن النبي -صلى الله عليه وسلم- غاية التعليم والتبييِن لأعمال الصلاة، التي يجب الإتيان بها ويعتبر ما ترك في هذا الحديث من فعلها غير واجب.
ومجمل هذا الحديث: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- دخل المسجد، فدخل رجل من الصحابة، اسمه (خَلاّد بن رافع)، فصلى صلاة غير تامة الأفعال والأقوال.
فلما فرغ من صلاته، جاء إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-، فسلم عليه فرد عليه السلام ثم قال له: ارجع فَصَلِّ، فإنك لم تصل.
فرجع وعمل في صلاته الثانية كما عمل في صلاته الأولى، ثم جاء إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-، فقال له: ارجع فَصَلِّ فإنك لم تصل ثلاث مرات.
فأقسم الرجل بقوله: والذي بعثك بالحق، ما أحسن غير ما فعلت فعَلِّمني
فعندما اشتاق إلى العلم، وتاقت نفسه إليه، وتهيأ لقبوله بعد طول الترديد قال له النبي -صلى الله عليه وسلم- ما معناه:
إذا قمت إلى الصلاة فكبر تكبيرة الإحرام، ثم اقرأ ما تيسر من القرآن، بعد قراءة سورة الفاتحة ثم اركع حتى تطمئن راكعاً، ثم ارفع من الركوع حتى تعتدل قائما وتطمئن في اعتدالك ثم اسجد حتى تطمئن ساجداً، ثم ارفع من السجود واجلس حتى تطمئن جالساً.
وافعل هذه الأفعال والأقوال في صلاتك كلها، ماعدا تكبيرة الإحرام، فإنها في الركعة الأولى دون غيرها من الركعات.
وقد لفتت الروايات الأخرى إلى بعض شروط الصلاة كاستقبال القبلة وطهارة الوضوء.
610;ہ حديث مسيئ صلوٰۃ یعنی اپنی نماز کو بگاڑ کر پڑھنے والے کی حديث سے معروف ومشہور ہے اور يہ نماز کے طریقے کو اس کے ارکان وواجبات اور شروط کے ساتھ بیان کرنے کے باب میں شارحین کا اساس اور بنیادی مستند ہے۔ کیوں کہ اس میں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم نے نماز کے ان افعال کو پوری طرح واضح اور بيان فرما ديا ہے جن کو انجام دینا ضروری ہے اور اس حديث ميں نماز سے متعلق جس فعل کو چھوڑ ديا گيا ہے وہ واجب نہیں سمجھا جاتا ہے۔اس حديث کا مفہوم يہ ہے کہ: نبی ﷺ ایک مرتبہ مسجد میں تشريف لے گئے، تو ایک صحابی جن کا نام خلاد بن رافع رضی اللہ عنہ تھا، مسجد ميں آئے اورایسی نماز پڑھی جس ميں مکمل طور پر تمام اقوال وافعال کی ادائيگی نہيں کی
پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو سلام کیا۔ آپ ﷺ نےسلام کا جواب ديا پھر ان سے فرمایا کہ لوٹ جاؤ اور نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے۔
چنانچہ وہ لوٹ گئےاور دوبارہ نماز اسی طرح پڑھی جس طرح پہلے پڑھی تھی، پھر نبی ﷺ کے پاس آئے۔ تو آپ ﷺ نےان سے پھر کہا کہ لوٹ جاؤ اور نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے، اسی طرح تین مرتبہ ہوا.
تو صحابی رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمايا ہے، میں نے جس طرح نماز پڑھی ہے اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا۔لہٰذا آپ مجھے سکھلا دیجئے۔لہٰذا جب ان کے اندر سيکھنے کا شوق و جذبہ پيدا ہوگيا اور وہ صحيح طريقۂ نماز جاننے کے لیے مشتاق اور بار بار لوٹانے جانے کے بعد طریقۂ نماز کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے تو آپ ﷺ نے ان سےفرمایا (جس کا مفہوم ہے کہ):
جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیرۂ تحريمہ کہو، پھر سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد جتنا قرآن تم آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ اطمینان سے رکوع کرلو، پھر رکوع سے اٹھو یہاں تک کہ اطمينان کے ساتھ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرلو، پھرسجدے سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔ اور سوائے تکبيرۂ تحريمہ کے اِن اقوال و افعال کی ادائيگی ایسے ہی پوری نماز میں کرو، کيوں کہ تکبيرۂ تحريمہ پہلی رکعت کے علاوہ کسی اور رکعت ميں نہيں کہی جاتی ہے۔
اسی حديث کی دوسری روايات میں نماز کی بعض شرطوں جيسے قبلہ رخ ہونے اور وضو کرنے کا ذکر ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10901

 
 
Hadith   1750   الحديث
الأهمية: قول أبي حميد الساعدي في عشرة من أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- منهم أبو قتادة: أنا أعلمكم بصلاة رسول الله -صلى الله عليه وسلم-


Tema:

ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ ﷺ کے دس صحابہ کرام کے درمیان جن میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے یہ کہنا کہ میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں۔

عن محمد بن عمرو بن عطاء، قال: سمعت أبا حميد الساعدي، في عشرة من أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- منهم أبو قتادة، قال أبو حميد: أنا أَعلمُكم بصلاة رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، قالوا: فَلِمَ؟ فوالله ما كنتَ بأكثرنا له تبعا ولا أقدمنا له صحبة، قال: بلى، قالوا: فاعْرِض، قال: " كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا قام إلى الصلاة يرفع يديه حتى يُحَاذِيَ بهما مَنْكِبَيْهِ ، ثم يُكبِّر حتى يَقِرَّ كل عظم في موضعه معتدلا، ثم يقرأ، ثم يكبِّر فيرفع يديه حتى يُحاذي بهما مَنْكبيه، ثم يركع ويضع رَاحَتَيْهِ على رُكبتيه، ثم يعتدل فلا يَصُبُّ رأسه ولا يُقْنِعُ ، ثم يرفع رأسه، فيقول: سمع الله لمن حمده، ثم يرفع يديه حتى يُحاذي بهما منكبيه معتدلا، ثم يقول: الله أكبر ثم يهوي إلى الأرض فيُجافي يديه عن جنبيه، ثم يرفع رأسه ويَثْني رجله اليسرى فيقعد عليها، ويفتح أصابع رجليه إذا سجد، ويسجد ثم يقول: الله أكبر، ويرفع رأسه ويَثْني رجله اليسرى فيقعد عليها حتى يرجع كل عظم إلى موضعه، ثم يصنع في الأخرى مثل ذلك، ثم إذا قام من الركعتين كبر ورفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه كما كبر عند افتتاح الصلاة، ثم يصنع ذلك في بقية صلاته حتى إذا كانت السجدة التي فيها التسليم أخر رجله اليسرى وقعد مُتَوَرِّكًا على شقه الأيسر، قالوا: صدقت هكذا كان يصلي -صلى الله عليه وسلم-.

محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ میں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے دس صحابۂ کرام کے درمیان جن میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے کہتے ہوئے سنا: میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: وہ کیسے؟ اللہ کی قسم آپ ہم سے زیادہ نہ رسول ﷺ کی پیروی کرتے تھے، نہ ہم سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں آئے تھے۔ ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں یہ تو ٹھیک ہے. (لیکن مجھے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا طریقۂ نماز زیادہ یاد ہے) اس پر لوگوں نے کہا: (اگر آپ زیادہ جانتے ہیں) تو پیش کیجیے، ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل (برابر) اٹھاتے، پھر تکبیر کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر سیدھی ہو جاتی، پھر آپ ﷺ قرأت کرتے پھر ’للهُ أَكبر کہتے، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کرلیتے، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، اور رکوع میں پیٹھ اور سر سیدھا رکھتے، سر کو نہ زیادہ جھکاتے اور نہ ہی پیٹھ سے بلند رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور ”سمع الله لمن حمده“ کہتے، پھر اپنا دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ سیدھا ہوکر انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کرتے ، پھر الله أكبر کہتے، پھر (سجدہ کرتے ہوئے) زمین پر گرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور اپنے بائیں پیر کو موڑتے اور اس پر بیٹھتے ،اور جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں پیر کی انگلیوں کوکھلا رکھتے اور سجدہ کرتے، پھر الله أكبر کہتے اور اپنا سراٹھاتے اور اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آجاتی، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے، پھر جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو الله أكبر کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل لے جاتے جس طرح کہ نماز شروع کرنے کے وقت الله أكبر کہا تھا، پھر اپنی بقیہ نماز میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب اس سجدہ سے فارغ ہوتے جس میں سلام پھیرنا ہوتا ،تو اپنے بائیں پیر کو اپنے داہنے پیر کے نیچے سے نکال کر اپنی بائیں سرین پر بیٹھتے۔ اس پر ان لوگوں نے کہا: آپ نے سچ کہا، اسی طرح آپ ﷺ نماز پڑھتے تھے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف صفة صلاة النبي صلى الله عليه وسلم وهي الأكمل لمن أراد الصلاة ، فذكر فيها جملة من أعمال الصلاة من الأركان والواجبات والمستحبات من التكبير حتى السلام، وهي كالتالي: أنه كان صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة يرفع يديه حتى يُحَاذِيَ بهما مَنْكِبَيْهِ، ثم يكبر حتى يسكن كل عظم في موضعه من الخشوع معتدلا، ثم يقرأ، ثم يكبر فيرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه، ثم يركع ويضع رَاحَتَيْهِ على ركبتيه، ثم يعتدل فلا يرفع رأسه للأعلى ولا يُنزله بل يكون معتدلاً، ثم يرفع رأسه، فيقول: سمع الله لمن حمده، ثم يرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه معتدلا، ثم يقول: الله أكبر، ثم يهوي إلى الأرض فيبعد يديه عن جنبيه، ثم يرفع رأسه ويثني رجله اليسرى فيقعد عليها، ويفتح أصابع رجليه إذا سجد، ويسجد ثم يقول: الله أكبر، ويرفع رأسه ويثني رجله اليسرى فيقعد عليها حتى يرجع كل عظم إلى موضعه، ثم يصنع في الركعة الثانية مثل ذلك، ثم إذا قام من الركعتين كبر ورفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه كما كبر عند افتتاح الصلاة، ثم يصنع كذلك في بقية صلاته، حتى إذا كانت السجدة التي فيها التسليم -هكذا في الرواية، وبين الشراح بأنها الجلسة التي فيها التسليم- أخر رجله اليسرى وقعد مُتَوَرِّكًا على شقه الأيسر.
581;دیث شریف نبی ﷺ کی نماز کی کیفیت بیان کرتی ہے۔ اور جو (نبی ﷺ کی طرح) نماز کی ادائیگی کا ارادہ رکھتا ہو (اس کے لیے) یہی کامل ترین صورت ہے۔ اس حدیث میں نماز کے جملہ اعمال یعنی ارکان، واجبات اور مستحبات تکبیر سے لے کر تسلیم تک کو بیان کیا گیا ہے۔ جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ آپ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر تک اٹھاتے، پھر تکبیرِ تحریمہ کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر خشوع وخضوع کے ساتھ بالکل سیدھی ہو جاتی، پھر آپ ﷺ قرأت کرتے، پھر ”اللہ اکبر“ کہتے اور دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے برابر کرلیتے، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، پھر سیدھے ہو جاتے اور اپنےسر کو نہ اوپر کی طرف اٹھاتے اور نہ ہی جھکاتے بلکہ سیدھا رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور ”سمع الله لمن حمده“ کہتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ سیدھا ہوکر انہیں اپنے دونوں کندھوں کے برابر کرتے پھر ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر (سجدہ کرتے ہوئے) زمین پر گرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھتے، پھر اپناسر اٹھاتے اور اپنے بائیں پیر کو موڑتے اور اس پر بیٹھتے اور جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں پیر کی انگلیوں کو کھولے رکھتے اور (دوسرا) سجدہ کرتے پھر ”اللہ اکبر“ کہتے اور (دوسرے سجدہ سے) اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آجاتی، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے، پھر جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو ”اللہ اکبر“ کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے برابر تک لے جاتے جس طرح کہ نماز شروع کرنے کے وقت ”اللہ اکبر“ کہا تھا، پھر اپنی بقیہ نماز میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب اس سجدہ سے فارغ ہوتے جس میں سلام پھیرنا ہوتا۔ - اسی طرح روایت میں ہے اور شارحین نے بیان کیا ہے کہ اس سے مراد وہ جلسہ ہے جس میں سلام پھیرا جاتا ہے، تو آپ ﷺ تورّک کرتے یعنی بایاں پاؤں ایک طرف نکال لیتے اور بائیں سرین پر ٹیک لگا کر بیٹھتے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10902

 
 
Hadith   1751   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، كان إذا قام إلى الصلاة، قال: وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض حنيفا، وما أنا من  المشركين، إن صلاتي، ونسكي، ومحياي، ومماتي لله رب العالمين


Tema:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: ”وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ؛ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ “ میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں تمام ادیان سے کٹ کر سچے دین کا تابع دار ہوں، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے سا تھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہیں، میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لئے ہے، جو سارے جہاں کا رب ہے۔

عن علي بن أبي طالب، عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، أنه كان إذا قام إلى الصلاة، قال: «وجَّهت وجْهي للذي فَطَر السَّماوات والأرض حَنيفا، وما أنا من  المشركين، إن صلاتي، ونُسُكي، ومَحْيَاي، ومَمَاتِي لله ربِّ العالمين، لا شريك له، وبذلك أُمِرت وأنا من المسلمين، اللهُمَّ أنت الملك لا إله إلا أنت أنت ربِّي، وأنا عَبدُك، ظَلمت نفسي، واعترفت بِذنبي، فاغفر لي ذُنوبي جميعا، إنه لا يَغفر الذُّنوب إلا أنت، واهدِنِي لأحْسَن الأخلاق لا يَهدي لأحْسَنِها إلا أنت، واصرف عَنِّي سيِّئها لا يصرف عني سيِّئها إلا أنت، لبَّيك وسَعديك والخير كلُّه في يَديك، والشَرُّ ليس إليك، أنا بِك وإليك، تَبَاركت وتَعاليت، أستغفرك وأتوب إليك»، وإذا ركع، قال: «اللهُمَّ لك رَكَعت، وبِك آمَنت، ولك أسْلَمت، خَشع لك سَمعي، وبَصري، ومُخِّي، وعَظمي، وعَصَبي»، وإذا رفع، قال: «اللهُمَّ ربَّنا لك الحَمد مِلْءَ السماوات،  و مِلْءَ الأرض، ومِلْءَ ما بينهما، ومِلْءَ ما شئت من شيء بعد»، وإذا سجد، قال: «اللهُمَّ لك سَجدت، وبك آمَنت، ولك أسْلَمت، سجد وجْهِي للذي خَلَقه، وصَوَّره، وشَقَّ سَمعه وبَصره، تبارك الله أحْسَن الخَالقِين»، ثم يكون من آخر ما يقول بين التَّشهد والتَّسليم: «اللهُم اغْفِر لي ما قَدَّمت وما أخَّرت، وما أسْرَرْت وما أعْلَنت، وما أَسْرَفْتُ، وما أنت أعْلَم به مِنِّي، أنت المُقَدِّم وأنت الْمُؤَخِّر، لا إله إلا أنت».

علی بن بی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: ”وجَّهت وجْهي للذي فَطَر السَّماوات والأرض حَنيفا، وما أنا من المشركين، إن صلاتي، ونُسُكي، ومَحْيَاي، ومَمَاتِي لله ربِّ العالمين، لا شريك له، وبذلك أُمِرت وأنا من المسلمين، اللهُمَّ أنت الملك لا إله إلا أنت، أنت ربِّي، وأنا عَبدُك، ظَلمت نفسي، واعترفت بِذنبي، فاغفر لي ذُنوبي جميعا، إنه لا يَغفر الذُّنوب إلا أنت، واهدِنِي لأحْسَن الأخلاق لا يَهدي لأحْسَنِها إلا أنت، واصرف عَنِّي سيِّئها لا يصرف عني سيِّئها إلا أنت، لبَّيك وسَعديك والخير كلُّه في يَديك، والشَرُّ ليس إليك، أنا بِك وإليك، تَبَاركت وتَعاليت، أستغفرك وأتوب إليك“ (میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں تمام ادیان سے کٹ کر سچے دین کا تابع دار ہوں، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے سا تھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہیں، میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لئے ہے، جو سارے جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں، اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، مجھے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف ہے، تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت فرما، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کرنے والاکوئی نہیں، مجھے حسن اخلاق کی ہدایت فرما، تیرے سوا بہترین اخلاق کی راہ پر چلانے والا کوئی نہیں، برے اخلاق مجھ سے ہٹا دے، تیرے سوا برے اخلاق کو مجھ سے دور کرنے والا کوئی نہیں، میں حاضر ہوں، تیرے حکم کی تعمیل کے لئے حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تیری طرف برائی کی نسبت نہیں کی جاسکتی، میں تیرے ہی سہارے ہوں، اور تیری ہی طرف میرا رخ ہے، تو بڑی بر کت والا اور رفعت و بلندی والا ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا اور تیرے حضو ر توبہ کرتا ہوں)، اور جب آپ ﷺ رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑ ھتے: ”اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي“ (اے اللہ ! میں تیرے سامنے جھکا ہوا ہوں،میں تجھی پر ایمان لایا ہوں اور تیراتابع دار ہوں، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ، میری ہڈیاں اور میرے پٹھے تیرے ہی حضور جھکے ہوئے ہیں)، اور جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعا پڑھتے: ”اللهُمَّ ربَّنا لك الحَمد مِلْءَ السماوات، و مِلْءَ الأرض، ومِلْءَ ما بينهما، ومِلْءَ ما شئت من شيء بعد“ (اے اللہ ہمارے رب !تیرے لئے حمد و ثنا ہے آسمانوں کے برابر اور زمین کے برابر، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کے برابر، اور اس کے بعد جو کچھ تو چا ہے اس کے برابر)۔ اور جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو کہتے: ”اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ،تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ“ (اے اللہ! میں نے تیرے لئے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا فرماں بردار و تابع دار ہوا، میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کا جس نے اسے پیدا کیا اور پھراس کی صورت بنائی، اس کے کان اور آنکھیں تراشیں، اللہ کی ذات بڑی بابر کت ہے وہ بہترین تخلیق فرما نے والا ہے)۔ پھر تشہد اور سلام کے درمیان میں آخری دعا یہ پڑھتے: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ“ (اے اللہ! بخش دے جو خطائیں میں نے پہلے کیں یا بعد میں کیں اور چھپا کر کیں یا علانیہ کیں اور جو بھی زیادتی میں نے کی اور جس کا مجھ سے زیادہ تجھے علم ہے، تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔)

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف بعض الأدعية المأثورة عن النبي -صلى الله عليه وسلم- في الصلاة ألا وهي قول: «وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض حنيفا، وما أنا من  المشركين، إن صلاتي، ونسكي، ومحياي، ومماتي لله رب العالمين، لا شريك له، وبذلك أمرت وأنا من المسلمين، اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت أنت ربي، وأنا عبدك، ظلمت نفسي، واعترفت بذنبي، فاغفر لي ذنوبي جميعا، إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت، واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت، واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت، لبيك وسعديك والخير كله في يديك، والشر ليس إليك، أنا بك وإليك، تباركت وتعاليت، أستغفرك وأتوب إليك» في استفتاح صلاته، كذلك قول: «اللهم لك ركعت، وبك آمنت، ولك أسلمت، خشع لك سمعي، وبصري، ومخي، وعظمي، وعصبي» في ركوعه -صلى الله عليه وسلم-، وكذا قول: «اللهم ربنا لك الحمد ملء السماوات، وملء الأرض، وملء ما بينهما، وملء ما شئت من شيء بعد» حال الرفع من الركوع، وقول:  : «اللهم لك سجدت، وبك آمنت، ولك أسلمت، سجد وجهي للذي خلقه، وصوره، وشق سمعه وبصره، تبارك الله أحسن الخالقين» حال السجود، وأخيراً قول: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت، وما أسرفت، وما أنت أعلم به مني، أنت المقدم وأنت المؤخر، لا إله إلا أنت» بين التشهد والسلام.
581;دیث شریف نبی ﷺ کی نماز میں (پڑھی جانے والی) بعض ماثور دعاؤں کو بیان کر رہی ہے۔ اور وہ آپ ﷺ کا اپنی نماز کے افتتاح میں یہ کہنا ہے: ”وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ؛ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا من الْمُسْلِمِينَ،اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ لا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ“۔
اور جب آپ ﷺ رکوع میں جاتے تو یہ پڑ ھتے: ”اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي“۔
اور جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو فرما تے: ”اللهم رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، مِلْء السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَمِلْء مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْء مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ“۔
اور جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو کہتے: ”اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ“۔
اور اخیر میں تشہد اور سلام کے بیچ میں آپ ﷺ کہتے: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10903

 
 
Hadith   1752   الحديث
الأهمية: اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب، اللهم نقني من خطاياي كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس، اللهم اغسلني من خطاياي بالثلج والماء والبرد


Tema:

اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان ایسی دوری کر دے جیسی مشرق ومغرب کے درمیان تو نے دوری کی ہے، اے اللہ! مجھے خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے پانی اور برف اور اولے سے دھو دے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا كَبَّر في الصلاة، سَكَت هُنَيَّة قبل أن يقرأ، فقلت: يا رسول الله بِأبي أنت وأمِّي أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بين التَّكبير والقِراءة، ما تقول؟ قال "أقول: اللّهُم بَاعِد بَيْنِي وبَيْنَ خَطاياي كما بَاعَدْت بين المَشْرِق والمِغرب، اللَّهم نَقِّنِيَ من خطاياي كما يُنَقَّى الثوب الأبيض من الدَّنَس، اللَّهم اغْسِلْنِي من خَطَاياي بالثَّلج والماء والبَرد".

ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ جب (آغاز ) نماز کے لیے تکبیر کہتے، تو قراءات کرنے سے پہلے کچھ دیر سکوت فرماتے۔ میں نےعرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ جو تکبیر اور قراءت کے درمیان آپ کی خاموشی ہے (اس کے دوران میں ) آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کہتا ہوں:”اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنْ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ“ اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری ڈال دے، جس طرح تونے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ! مجھے میرے گناہوں کودھودے، برف کے ساتھ ،پانی کےساتھ اور اولوں کے ساتھ۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: "كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا كَبَّر في الصلاة" يعني: إذا أتى النبي -صلى الله عليه وسلم- بتكبيرة الإحرام، وهي ركن لا تنعقد الصلاة إلا بها؛ "سَكَت هُنَيَّة قبل أن يقرأ" يعني: بعد أن يُكبِّر تكبيرة الإحرام: يسكت سكوتًا يسيرًا قبل أن يقرأ فاتحة الكتاب.
"فقلت: يا رسول الله بِأبي أنت وأمِّي" أي: أفديك بأبي وأمِّي وأجعلهما فداءك فضلاً عن غيرهما.
"أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْن التَّكبير والقِراءة، ما تقول؟" يعني: أخبرني عن سُكوتك بين تَكبيرة الإحرام والقِراءة ما تقول؟
"قال: أقول:" يعني: أقول دعاء الاستفتاح وهو.
"اللّهُم بَاعِد بَيْنِي وبَيْنَ خَطاياي كما بَاعَدْت بين المَشْرِق والمغرب" والمعنى: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- سأل ربَّه أن يُباعد بينه وبَيْن خطاياه؛ كما باعد بَيْن المَشْرِق والمَغْرِب، والمراد بهذه المُبَاعدة: إما محو الخطايا السابقة، وترك المؤاخذة بها، وإما المنع من الوقوع فيها، والعِصمة منها، بالنسبة للآتية.
والتعبير بالمُباعدة بَيْن المَشْرِق والمَغْرِب هو غاية ما يُبالغ فيه الناس، فالناس يبالغون في الشيئين المتباعدين إما بما بين السماء والأرض، وإما بما بين المشرق والمغرب.
"اللَّهم نَقِّنِيَ من خطاياي كما يُنَقَّى الثوب الأبيض من الدَّنَس" يعني: أزل عني الخطايا، وامحها عني كما يُغسل الثوب الأبيض إذا أصابه الدَّنس فيرجع أبيض، وإنما خُصَّ الثوب الأبيض بالذِّكر؛ لأنَّ الوَسَخ يَظهر فيه، زيادة على ما يظهر في سَائر الألوان.  


"اللَّهم اغْسِلْنِي من خَطَاياي بالثَّلج والماء والبَرد" لما كانت الذُّنوب لها حرارة وحرقة في القلب، وهي سبب لحرارة العَذاب، ناسَب أن تُغسل بما يبردها ويُطفئ حرارتها، وهو الثَّلج والماء والبَرد.
فهذا دعاء في غاية المُناسبة في هذا المقام الشريف، موقف المناجاة، لأن المصلى يتوجه إلى الله تعالى في أن يمحو ذنوبه وأن يبعد بينه وبينها إبعاداً لا يحصل معه لقاء، كما لا لقاء بَيْن المَشْرِق والمَغْرِب أبداً، وأن يزيل عنه الذنوب والخطايا ويُنقيه منها، كما يزال الوَسَخ من الثوب الأبيض الذي يظهر أثر الغُسل فيه، وأن يَغسله من خطاياه ويُبَرِّد لهِيبها وحرها بهذه المُنْقِيات الباردة: الماء، والثلج، والبَرد، وهذه تشبيهات في غاية المطابقة.
581;دیث کا مفہوم: (رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے تکبیر کہتے) یعنی جب تکبیر تحریمہ کے ذریعے نماز شروع کرتے۔ یہ نماز کا رکن ہے۔ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ ”قراءت کرنے سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے۔“ یعنی تکبیر تحریمہ کے بعد سورۂ فاتحہ کی قراءت سے پہلے تھوڑی دیر سکوت کرتے۔
”میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں“ یعنی میں اپنے ماں باپ کو آپ پر قربان کرتا ہوں، چہ جائے کہ دوسرے لوگ۔
”تکبیر اور قراءت کے درمیان آپ کی جو خاموشی ہے، اس میں آپ کیا پڑھتے ہیں؟“ یعنی مجھے بتائیں کہ قراءت اور تکبیر تحریمہ کے دوران آپ خاموشی کی حالت میں کیا پڑھتے ہیں؟
”فرمایا: میں پڑھتا ہوں“ یعنی میں دعائے استفتاح پڑھتا ہوں جو کہ یہ ہے:
”اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری ڈال دے، جس طرح تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے“ اس کے معنی یہ ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنے رب سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ ان کے اور ان کے گناہوں کے درمیان اتنی دوری پیدا کر دی جائے، جتنی دوری مشرق و مغرب کے درمیان پائی جاتی ہے۔ اس دوری سے مراد یا تو یہ ہے کہ سابقہ خطائیں معاف کر دی جائیں اور ان پر کسی قسم کا مؤاخذہ نہ کیا جائے یا پھر یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں برائیوں میں واقع ہونے سے روک دیا جائے اور برائیوں کو اختیار کرنے سے بچا لیا جائے۔ مشرق مغرب کی دوری کی یہ تعبیر لوگوں میں پایا جانے والا انتہا درجے کا مبالغہ ہے؛ کیوں کہ جب لوگ دو چیزوں کے درمیان دوری میں مبالغہ پیدا کرنا چاہتے ہیں، تو اس وقت زمین و آسمان کے دوران کی دوری یا پھر مشرق ومغرب کی دوری کو استعمال کرتے ہیں۔
”اے اللہ ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے“ یعنی میرے گناہوں کو زائل کر کے اور مٹا کر مجھے اسی طرح صاف ستھرا کردے، جیسے میل کچیل والے سفید کپڑے کو دھوکر سفید کر دیا جاتا ہے۔ یہاں سفید کپڑے کو بطور خاص اس لیے بیان کیا گیا ہے؛ کیوں کہ دیگر رنگوں کی بہ نسبت سفید کپڑے پر داغ زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔
”اے اللہ ! مجھے میرے گناہوں سے پاک کر دے برف کے ذریعے، پانی کے ذریعے اور اولوں کے ذریعے“ چوں کہ دل میں گناہوں کی حرارت اور جلن ہوتی ہے اور یہ عذاب کی حرارت کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے مناسب تھا کہ اسے کسی ایسی چیز سے دھویا جاتا، جو اسے ٹھنڈک پہنچائے اور اس کی حرارت کو کم کرے۔وہ یہ کام برف ،پانی اور اولے سے ہو سکتا ہے۔
یہ دعا اس مقام کے لیے حد درجہ مناسب ہے۔ یہ مناجات کی جگہ ہے۔ مناجات کے اعتبار سے انتہائی مناسب ہے تاکہ نمازی اللہ تعالیٰ کی طرف اس طرح متوجہ ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو مٹا دیں اور اس کے اور گناہوں کے درمیان اتنی دور پیدا کر دیں کہ ان کا آپس میں ملاپ ممکن نہ رہےجیسے مشرق و مغرب کا ملاپ ناممکن ہے۔اس سے گناہ اور خطائیں زائل ہو جائیں اور اس طرح سے وہ ان سے پاک صاف ہو جائے جیسے سفید کپڑے سے دھونے کے بعد داغ ختم ہو جاتا ہے ۔اس کے گناہوں کو دھو دے اور اس کے شعلوں اور حرارت کو ان ٹھنڈی چیزوں سے ٹھنڈا کر دے جیسا کہ پانی،اولے اور برف ہے۔ان تشبیہات کا مطابقت کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10904

 
 
Hadith   1753   الحديث
الأهمية: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا قام من الليل كبر، ثم يقول: سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك


Tema:

رسول اللہﷺ جب رات کو قیام اللیل کے لیے کھڑے ہوتے، تو تکبیر تحریمہ کہتے، پھر”سُبْحَانك اللَّهم وبحَمْدِك وتبارك اسْمُك، وتعالى جَدُّك، ولا إله غَيْرَك“ پڑھتے۔

عن أبي  سعيد الخُدْرِي -رضي الله عنه- قال: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا قام من الليل كَبَّر، ثم يقول: «سُبْحَانك اللَّهم وبحَمْدِك وتبارك اسْمُك، وتعالى جَدُّك، ولا إله غَيْرك»، ثم يقول: «لا إله إلا الله» ثلاثا، ثم يقول: «الله أكبر كبيرا» ثلاثا، «أعُوذُ بالله السَّميع العليم من الشَّيطان الرَّجيم من هَمْزِه، ونَفْخِه، ونَفْثِه»، ثم يقرأ.

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب رات کو قیام اللیل کے لیے کھڑے ہوتے، تو تکبیر تحریمہ کہتے، پھر ”سُبْحَانك اللَّهم وبحَمْدِك وتبارك اسْمُك، وتعالى جَدُّك، ولا إله غَيْرَك“ (اے اللہ! تو اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے اور تیرا نام بابرکت ہے، تیری بزرگی بہت بلند ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں) پڑھتے۔ پھر تین مرتبہ ”لا إله إلا الله“ (اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے) کہتے، پھر تین مرتبہ ”الله أكبر كبيرا“ (اللہ بہت بڑائی والا ہے) کہتے۔ پھر یہ پڑھتے: ”أعُوذُ بالله السَّميع العليم من الشَّيطان الرَّجيم من هَمْزِه، ونَفْخِه، ونَفْثِه“ (میں اللہ سننے والے اور جاننے والے کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردود سے کہ مجھ پر کوئی جنون کااثر ڈالے، مجھے تکبر میں ڈالے یا جادوکی طرف لے جائے) اور اس کے بعد قراءت شروع کرتے۔
معنى الحديث: "كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا قام من اللَّيل كَبَّر" أي: كبر تكبيرة الإحرام، وهي رُكن لا تنعقد الصلاة إلا بها "ثم يقول: سُبْحَانك اللَّهم" أي: أنَزهك عمَّا لا يَليق بك، وبجلالك يا ربِّ، وما تستحقه من التَّنزيه عن كل نقص وعيب.
"وبحَمْدِك" ثناء على الله سبحانه وتعالى وشكر له على هذا التوفيق، أي: فلولا توفيقك وهدايتك لم أُسبحك، فهو اعتراف من العَبد بفضل الله تعالى، واعتراف منه بعجزه لولا توفيق الله -سبحانه وتعالى-.  
"وتبارك اسْمُك" من البركة، وهي الكَثرة والاتساع، والمعنى: كثر وكَمُل واتسع، وكثرت بركاته في السَّموات والأرض، وكل ذلك تنبيه على اختصاصه سبحانه بالخيرات.
"وتعالى جَدُّك" الجَدُّ: العَظمة، أي: ارتفعت وعلَت عظمتُك، وجلت فوق كلِّ عظمة، وعلا شأنُك على كلِّ شأن، وقهر سلطانُك على كلِّ سلطان، فتعالى جدُّه تبارك وتعالى أن يكون معه شَريك في المُلك أو الرُّبوبية أو الألوهية، أو في شيء من أسمائه وصفاته، لذا قال بعدها: "ولا إله غَيْرك" لا معبود بحق سواك، فأنت المستحق للعبادة، وحدك لا شريك لك، بما وصَفت به نفسك من الصفات الحميدة، وبما أسْدَيْتَه من النعم الجسيمة. 

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
فهذا الاستفتاح فيه الثَّناء على الله تعالى وتنزيهه عن كلِّ ما لا يليق به، وأنَّه تبارك وتعالى منزَّهٌ عن كلِّ عَيب ونقص.
وهو أحد أدعية الاستفتاحات الواردة في الباب والأفضل أن يأتي بهذا تارة وبغيره تارة، حتى يجمع بين أدلة السُّنة من غير إهمال لبعضها.
 ومن تلك الصيغ أن يقول: "لا إله إلا الله ثلاثًا" يعني: يكرر قول: "لا إله إلا الله" ثلاث مرات.
ومعنى: "لا إله إلا الله" لا معبود حق إلا الله، قال -تعالى-: {ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ} [الحج: 62]
 ثم يقول: "الله أكبر كبيرًا ثلاثًا" أي أنه سبحانه أكبر من كل شيء.
ثم بعد أن يستفتح صلاته يستعيذ بالله من الشَّيطان الرَّجِيم بقوله:
"أعُوذُ بالله السَّميع العليم" ومعناه: ألتجئ وأعتصم وألوذ بالله السَّميع العليم.
"من الشَّيطان" المُتمرد العَاتي، من شياطين الجِّن والإنس، "الرَّجيم" المَرْجُوم المَطرود، والمُبْعَد عن رحمة الله، فلا تسلِّطه علي بما يضرني، في ديني ودنياي، ولا يصدني عن فعل ما ينفعني، في أمر دِيني ودُنْيَاي، فمَن استعاذ بالله -تعالى-، فقد أوى إلى رُكن شديد، واعتصم بحول الله وقوته، من عَدوه الذي يريد قطعه عن ربِّه، وإسقاطه في مَهَاوي الشَّر والهلاك.
"من هَمْزِه" هو الجُنُون والصَّرع، الذي يَعْتَري الإنسان؛ لأن الشَّيطان قد يصيب الإنسان بالجنون، فشرعت الاستعاذة منه.
"ونَفْخِه" الكِبْر؛ لأنَّ الشيطان ينفخ في الإنسان بوسوسته، فيَعْظُم في عَين نفسه، ويَحقِر غيره عنده، فتزداد عظمته وكبرياؤه.
 "ونَفْثِه" هو السِّحر، وهو شَر السحرة، فإنَّ النَّفَّاثات في العُقد هنَّ السَّواحِر، اللاتي يعقدن الخيوط، وينفثن على كل عقدة، حتى ينعقد ما يردن من السحر.
"ثم يقرأ "أي: يقرأ القرآن وأوله فاتحة الكتاب.
581;دیث کا مفہوم: ”سول اللہﷺ جب رات کو قیام کے لیے کھڑے ہوتے، تو تکبیر کہتے“ یعنی تکبیر تحریمہ۔ یہ نماز کا رکن ہے۔ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
”پھر کہتے سُبْحَانك اللَّهم“ یعنی اے رب! میں تیری پاکی بیان کرتا ہوں، ان چیزوں سے، جو تیرے شایان شان نہیں اور تیرے جلال سے فروتر ہیں۔ نیز ہر قسم کے نقص و عیب سے جس پاکی کا تو سزاوار ہے۔
”وبحَمْدِك“ یہ اس توفیق پر اللہ تعالیٰ کی تعریف اور اس کا شکر ہے۔ یعنی تیری توفیق اور ہدایت کے بغیر میں تیری تسبیح نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق نہ ملتی۔ یہ بندے کی طرف سے اللہ کے فضل اور اس کے سامنے عاجزی کا اعتراف ہے۔
”وتبارك اسْمُك“ (تیرا نام بابرکت ہے) 'تبارک' برکت سے ہے۔ یہ وہ کثرت اور وسعت کے معنی میں ہے۔ اس کے معنی ہیں، زمین و آسمان میں اس کی برکتیں بکھری ہوئ ہیں۔ یہ سارا کچھ اس بات پر تنبیہ ہے کہ ساری بھلائیاں اللہ تعالی کی ذات کے ساتھ خاص ہیں۔
”وتعالى جَدُّك“ (اپنی بزرگی میں بلند ہے) ’جد‘ سے مراد عظمت ہے۔ یعنی تو اپنی عظمت کے اعتبار سے بلند و بالا، سب سے زیادہ جلال والا، برتر شان کا مالک، تمام بادشاہوں سے زیادہ ہیبت والا بادشاہ ہے۔ وہ اپنی عظمت کے اعتبار سے اس بات سے بلند ہے کہ اس کی بادشاہت، ربوبیت، الوہیت اور اسما و صفات میں اس کا کوئی شریک ہو۔ اس لیے ساتھ ہی کہہ دیا ”ولا إله غَيْرَك“ (تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں) یعنی تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔ تو ہی عبادت کے لائق ہے۔ تو اپنی ذات اور جن صفات حمیدہ اور بندوں کو نعمتوں سے سرفراز کرنے میں ساجھی و شریک سے بالا تر ہے۔
یہ دعائے استفتاح ہے۔ اس میں ثنا ہے۔ اس کی شان کے خلاف تمام امور سے اس کی پاکی ہے اور اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ تعالی ہر عیب اور نقص سے بالا تر ہے۔ یہ استفتاح کی دعاؤں میں سے ایک ہے۔ افضل یہ ہے کہ کبھی اسے پڑھے اور کبھی اسے۔ تاکہ کسی بھی دعا کو چھوڑے بغیر سنت سے ثابت تمام دعاؤں پر عمل کیا جا سکے۔
استفتاح کے طور پر استعمال ہونے والے الفاظ میں سے یہ بھی ہے: ”لا إله إلا الله“ کو تین مرتبہ پڑھا جائے۔
لا الہ الا اللہ کے معنی ہیں، ’معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ﴾ ”بے شک اللہ تعالیٰ ہی برحق معبود ہے، اس کے علاوہ جس کوبھی پکارتے ہیں، وہ باطل ہے“۔ (الحج: 62)
پھر تین مرتبہ یہ کہتے: ”الله أكبر كبيرًا“ یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات ہر چیز سے بڑی ہے۔
پھر اس کے بعد اپنی نماز کو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ لیتے ہوئے اس طرح شروع کرے: ”أعُوذُ بالله السَّميع العليم“ (میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے) اس کا معنی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے التجا کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی ہی پناہ کو مضبوطی سے تھامتا ہوں۔
”من الشَّيطان“ (شیطان سے) غالب آنے والا سرکش، انسانوں اور جنوں میں سے۔ ”الرَّجيم“ (مردود) رجم کیا گیا، دھتکارا گیا، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہٹایا گیا ۔ میرے کسی بھی دینی و دنیاوی معاملے میں غالب نہ آئے جس سے مجھے نقصان پہنچتا ہو اور نہ کسی دینی اور دنیاوی معاملے میں رکاوٹ بنے جس سے مجھے کوئی نفع حاصل ہوتا ہو۔جو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جاتا ہے گویا کہ اس نے بڑی مضبوط جگہ پنا ہ لی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طاقت اور قدرت کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے اس دشمن سے جو انسان کو اس کے رب سے جدا کرنا چاہتا ہے اور اس کو شر اور ہلاکت کی گہری کھائیوں میں گرانا چاہتا ہے۔
”من هَمْزِه“ (کہ مجھ پر کوئی جنون کااثر ڈالے) یعنی جنون اور مرگی وغیرہ جو انسان کو ہو جاتی ہے اور کیونکہ شیطان انسان پر جنون کی طرح طاری ہو جاتا ہے اس لیے اس سے پناہ مانگنا مشروع عمل ہے۔
”ونَفْخِه“ (تکبر سے) تکبر، کیونکہ شیطان انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور اس کو اپنی نظروں میں بڑا کر دیتا ہے اور دوسروں کو حقیر بنا دیتا ہے تو یہ چیز اس کو عظمت و بڑائی میں اور زیادہ کر دیتی ہے۔
”ونَفْثِه“ (جادو) یہ جادو ہے اور اس سے مراد جادو کا شر ہے کیونکہ گرہوں پر پھونکیں مارنے والیوں سے مراد جادوگر ہیں جو سوت کی گرہ لگاتی ہیں اور ہر گرہ پر پھونک مارتی ہیں اور یہ پھونک مارنے کا بنیادی مقصد جادو ہوتا ہے۔
”ثم يقرأ“ (پھر قراءت کرتے) یعنی قرآن کی قراءت کرتے اور اس کی ابتدا سورہ فاتحہ سے کرتے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10905

 
 
Hadith   1754   الحديث
الأهمية: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يستفتح الصلاة بالتكبير، والقراءة بـ {الحمد لله رب العالمين}، وكان إذا ركع لم يشخص رأسه، ولم يصوبه ولكن بين ذلك


Tema:

رسول اللہ ﷺ نماز کی ابتدا تکبیر تحریمہ اور ”اَلْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ“ کی قراءت سے کرتے تھے اور جب رکوع کرتے تو سر کو اونچا رکھتے نہ نیچا بلکہ برابر سیدھا رکھتے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- «يَسْتَفْتِح الصلاة بالتَّكبير، والقِراءةَ بـ {الحَمْدُ لله ربِّ العَالمين}، وكان إذا ركع لم يُشْخِص رأسه، ولم يُصَوِّبْه ولكن بَيْنَ ذلك، وكان إذا رفع رأَسه من الرُّكوع لم يَسجد، حتى يَسْتَوِيَ قائما، وكان إذا رفع رأسه من السَّجْدَة، لم يَسجد حتى يَسْتَوِيَ جالسا، وكان يقول في كل ركعتين التَّحِيَّةَ، وكان يَفْرِش رِجْلَه اليُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ اليُمْنَى، وكان يَنْهَى عن عُقْبَةِ الشَّيطان، ويَنْهَى أن يَفْتَرِشَ الرَّجل ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ، وكان يَخْتِم الصلاة  بالتَّسْلِيم».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کی ابتدا تکبیر تحریمہ اور ”اَلْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ“ کی قراءت سے کرتے تھے اور جب رکوع کرتے تو سر کو اونچا رکھتے نہ نیچا بلکہ برابر سیدھا رکھتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک سیدھے کھڑے نہ ہوجاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک سیدھے نہ بیٹھ جاتے اور ہر دو رکعتوں میں التحیات پڑھتے اور بائیں پاؤں کو بچھاتے اور اپنے دائیں پاؤں کو کھڑا کرتے اور شیطان کی طرح بیٹھنے سے منع فرماتے اور درندوں کی طرح آدمی اپنے دونوں ہاتھ زمین پر بچھا دے اس سے بھی منع فرماتے اور آپ ﷺ سلام کے ساتھ نماز ختم کرتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تصف عائشة -رضي اللَه عنها- بهذا الحديث الجليل صلاة النبي -صلى الله عليه وسلم-؛ نشرًا للسنة وتبليغًا للعلم، بأنه كان يفتتح الصلاة بتكبيرة الإحرام، فيقول: (الله أكبر).
ويفتتح القراءة بفاتحة الكتاب، التي أولها (الحمد لله رب العالمين).
وكان إذا ركع بعد القيام، لم يرفع رأسه ولم يخفضه، وإنما يجعله مستوياً مستقيماً.
وكان إذا رفع من الركوع انتصب واقفاً قبل أن يسجد.
وكان إذا رفع رأسه من السجدة، لم يسجد حتى يستوي قاعداً.
وكان يقول بعد كل ركعتين إذا جلس: "التحيات لله والصلوات.. الخ".
وكان إذا جلس افترش رجله اليسرى وجلس عليها، ونصب رجله اليمنى.
وكان ينهى أن يجلس المصلي في صلاته كجلوس الشيطان، وذلك بأن يفرش قدميه على الأرض وظهر قدميه للأرض، ويجلس على عقبيه، أو ينصب قدميه، ثم يضع أليتيه بينهما على الأرض، كما ينهى أن يفترش المصلي ذراعيه في السجود كافتراش السبع، وكما افتتح الصلاة بتعظيم الله وتكبيره، ختمها بالسلام على الحاضرين من الملائكة والمصلين، ثم على جميع عباد اللَه الصالحين، والأولين والآخرين، فعلى المصلي ملاحظة هذا العموم في دعائه.
593;ائشہ رضی اللہ عنہا اس جلیل القدر حدیث کے ذریعے سنت کی ترویج اور علم کی تبلیغ کے لیے آپ ﷺ کی نماز کا طریقہ بیان فرما رہی ہیں کہ آپ نماز کو تکبیرِ تحریمہ سے شروع کرکے اللہ اکبر کہتے۔
اور فاتحہ سے نماز شروع کرتے، جس کی ابتدا ”الحمد للہ رب العالمین“ سے ہوتی ہے۔
قیام کے بعد جب رکوع کرتے تو سر نہ اٹھاتے نہ جھُکاتے، بلکہ اسے بالکل سیدھا رکھتے۔
جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سجدہ کرنے سے پہلے سیدھا کھڑے ہوجاتے۔
جب سجدے سے سر اٹھاتے تو سجدہ نہ کرتے جب تک کہ بالکل سیدھا بیٹھ نہ جائے۔
ہر دو رکعت کے بعد جب بیٹھتے تو " التحيات لله والصلوات الخ " کہتے۔
آپ ﷺ جب بیٹھتے تو اپنا بائیاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے اور داہنے پاؤں کو کھڑا رکھتے۔
آپ ﷺ نے نمازی کو نماز میں شیطان کی طرح بیٹھنے سے منع فرمایا یعنی زمین پر دونوں پاؤں بچھا کر پاؤں کے ظاہری حصے کو زمین پر رکھنا اور اندرونی حصے پر بیٹھ جانا یا دونوں پاؤں کھڑا کرکے سُرین کو ان پر رکھ لینا، اسی طرح نمازی کو سجدے میں درندوں کی طرح بازو بچھانے سے منع فرمایا۔ اسی طرح آپ ﷺ نماز کو اللہ کی تعظیم اور تکبیر سے شروع کرتے اور موجودین میں سے فرشتوں اور نمازیوں اور پھر اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں اور اولین و آخرین پر سلام بھیجنے سے نماز ختم فرماتے۔
لہٰذا نمازی کو چاہیے کہ وہ اپنی دعا میں اس عموم کا لحاظ رکھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10906

 
 
Hadith   1755   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان يرفع يديه حذو منكبيه إذا افتتح الصلاة


Tema:

نبی ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھاتے۔

عن ابن عمر -رضي الله عنهما- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان يَرفع يَديه حَذو مَنْكِبيه إذا افتتح الصلاة، وإذا كَبَّر للركوع، وإذا رفع رأسه من الركوع، رفَعَهما كذلك أيضا، وقال: سمع الله لمن حَمِدَه، ربَّنَا ولك الحَمد، وكان لا يَفعل ذلك في السُّجود.

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب رکوع کے لئے تکبیر کہتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتےتب بھی اسى طرح اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور ”سَمِعَ الله لمن حَمِدَهُ رَبَّنَا ولك الحمد“ کہتے۔ اور آپ ﷺ سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا افتتح الصلاة بالتكبير يرفع يديه حتى تَصيرا مُقابل منكبيه، مُحَاذِيين لهما تمامًا.
وكذلك كان -صلى الله عليه وسلم- يرفع يديه عند الشروع في الركوع وعند شروعه في الرفع منه.
فهذه ثلاثة مواضع يستحب فيها رفع اليدين حَذو المِنْكَبين.
وكان يقول عند الرفع من الركوع: سمع الله لمن حمده، ربنا ولك الحمد، فيجمع بين التسميع والتحميد، وهذا خاص بالإمام والمنفرد، أما المأموم فيقول: ربنا ولك الحمد؛ لمجيء السنة بذلك كما في الصحيحين من حديث أنس -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال : (وإذا قال: سمع الله لمن حمده؛ فقولوا: ربنا ولك الحمد).
وكان لا يرفع يديه عند الهوي إلى السجود ولا في الرَّفع منه، ويؤيده رواية البخاري الأخرى: (ولا يفعل ذلك حين يَسجد ولا حين يرفع رأسه من السجود).
606;بی ﷺ جب تکبیر کے ساتھ نماز کا آغاز فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھاتے یہاں تک کہ وہ کندھوں کے بالمقابل ان کے بالکل سامنے آجاتے۔
اسی طرح نبی ﷺ رکوع میں جاتے ہوئے اور اس سے اٹھتے ہوئے بھی رفع الیدین کیا کرتے تھے۔
یہ وہ تین مقامات ہیں جہاں کندھوں کے برابر تک رفع الیدین کرنا مستحب ہے۔
رکوع سے اٹھتے ہوئے آپ ﷺ کہتے: ”سمع الله لمن حمده، ربنا ولك الحمد“ آپ ﷺ سمع اللہ لمن حمدہ بھی کہتے اور ربنا و لک الحمد بھی۔ ایسا کرنا امام اور اکیلے نماز پڑھنے والے کے ساتھ خاص ہے۔ مقتدی صرف ربنا و لک الحمد کہے گا کیونکہ سنت یہی ہے جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم کہو: ربنا و لک الحمد“۔ سجدے میں جاتے ہوئے اور اس سے اٹھتے ہوئے آپ ﷺ رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔ اس کی تائید بخاری شریف کی ایک اور روایت سے ہوتی ہے جس میں اس بات کا بیان ہے کہ: ’’آپ ﷺ جب سجدہ فرماتے یا جب سجدے سے سر مبارک اٹھاتے تب رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔‘‘

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10907

 
 
Hadith   1756   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان إذا كبر رفع يديه حتى يحاذي بهما أذنيه، وإذا ركع رفع يديه حتى يحاذي بهما أذنيه


Tema:

رسول اللہ ﷺ جب تکبیرِ تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک اٹھاتے اور آپ ﷺ جب رکوع کرتے تو اُس وقت بھی دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابرتک اٹھاتے۔

عن مالك بن الحويرث -رضي الله عنه- «أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان إذا كَبَّر رفع يديه حتى يُحَاذِيَ بهما أُذُنَيْه، وإذا ركَع رفع يَديه حتى يُحَاذِيَ بهما أُذُنَيْه، وإذا رفع رأسه من الركوع» فقال: «سَمع الله لِمَن حَمِده» فعل مِثل ذلك.

مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب تکبیرِ تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک اٹھاتے اور آپ ﷺ جب رکوع کرتے تو اُس وقت بھی دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابرتک اٹھاتے اور جب آپ ﷺ اپنا سرِمبارک رکوع سے اٹھاتے تو ”سَمع الله لِمَن حَمِده“ کہتے اور پھر آپ ایسا ہی کرتے (یعنی ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے)۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر مالك بن الحُوَيْرِث -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم-: "كان إذا كَبَّر رفع يَديه حتى يُحَاذِيَ بهما أُذُنَيْه" يعني: إذا كَبَّر تكبيرة الإحرام رفع يَدَيه حتى يُحَاذِيَ بهما أُذُنيه، وفي رواية: "حتى يُحَاذِيَ بهما فُروع أُذُنَيه".
وفروع الأُذن: أعَالِيها.
وفي حديث ابن عمر -رضي الله عنه-: "كان يرفع يَديه حتى يُحاذي بهما منْكَبيه" أي مقابل ومساويًا لمنْكَبَيه.
فهذه ثلاث روايات:
الأولى: يرفع يديه حتى يُحاذي بهما أُذُنَيه.  
الثانية: يرفع يديه حتى يُحاذي بهما فُروع أُذُنَيه.
الثالثة : يرفع يديه حتى يُحاذي بهما منْكَبَيه.
فهو مخير بين ذلك أو يرفع يديه حَذو منْكَبيه بحيث تُحاذي أطراف أصابِعه فُروع أُذُنَيْهِ أي أعلى أُذُنَيْهِ وإبهاماه شَحْمَتَي أُذُنَيْهِ وراحتاه منْكَبيه.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
وقوله: "إذا كَبَّر رفع يَديه" أي: يرفع يَديه مع التَّكبير، وفي رواية عند مسلم: "يرفع يَديه ثُم يكبِّر" أي بعده، وفي أخرى: " كَبَّر ثم رفع يَديه " فهذه ثلاث صور لرفع اليدين عند تكبيرة الأحرام.
فعلى هذا: تكون هذه السُّنة قد ورَدت على وجوه متنوعة، فيعمل بجميعها اتباعا للسُّنة في كل ما وَرد عنه -صلى الله عليه وسلم-.
"وإذا ركَع رفع يَديه حتى يُحَاذِيَ بهما أُذُنَيْه"يعني: إذا شَرع في الرُّكوع رفع يَديه حتى يُحَاذي بهما أُذُنيه، وهذا هو الموضع الثاني مما يُستحب فيه رفع  اليَدين.
"وإذا رفع رأسه من الرُّكوع" فقال: "سَمع الله لِمَن حَمِده" يعني: إذا شَرع في الرَّفع من الركوع قال: "سَمِع الله لمن حَمِده" وهذا الذِّكر من واجبات الصلاة.
"فعل مِثل ذلك" أي: فعل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مثلما فعل عند التَّكبير: رفع يديه حتى حَاذَى بهما أُذُنيه، وهذا هو الموضع الثالث مما يُستحب فيه رفع اليدين في الصلاة.
فهذه ثلاث مواضع يستحب فيها رفع اليدين في الصلاة، والرابع هو رفع اليدين عند القيام من التشهد الأول في الصلاة الثلاثية أو الرباعية.
605;الک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کررہے ہیں کہ ”نبی ﷺ جب تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کے برابر کرلیتے“یعنی آپ ﷺ جب تکبیرِ تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ وہ آپ کے کانوں کے برابر آ جاتے۔ایک اور روایت میں ہے کہ ”یہاں تک کہ آپ ﷺ انہیں اپنے کانوں کی فروع (لَوْ) تک لے آتے“۔ کان کی فروع سے مراد اس کا بالائی حصہ ہے۔ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں ہے کہ ’’آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کندھوں کے سامنے لے آتے‘‘۔ یعنی کندھوں کے بالمقابل اور ان کے برابر کر لیتے۔
یہ تین روایات ہیں۔
اول: آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے کانوں کے برابر تک لے جاتے۔
دوم: آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے کانوں کے بالائی حصے کے برابر لے آتے۔
سوم: آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے کندھوں کے برابر لے آتے۔چنانچہ نمازی کو اختیار ہے کہ وہ ان تینوں میں سے جیسے چاہے کر لے۔
یا پھر وہ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے کندھوں کے برابر لے آئے بایں طور کہ اس کی انگلیوں کی کنارے اس کے کانوں کے اوپری حصے کے برابر آ جائیں، اس کے دونوں انگوٹھے کانوں کے لو کے برابر اور اس کی ہتھیلیاں کندھوں کے سامنے ہو جائیں۔
”إذا كَبَّر رفع يَديه“ یعنی تکبیر کہنے کے ساتھ ہی آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے۔ مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ ”آپ ﷺ پہلے ہاتھ اٹھاتے اور پھر تکبیر کہتے“ یعنی ہاتھ اٹھانے کے بعد تکبیر کہتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ”آپ ﷺ پہلے تکبیر کہتے اور پھر اپنے ہاتھ اٹھاتے“۔ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانے کی یہ تین صورتیں ہیں۔اس بنا پر معلوم ہوا کہ یہ سنت کئی انداز سے آئی ہوئی ہے۔ چنانچہ نمازی آپ ﷺ سے وارد سنت کی اتباع میں ان تمام طریقوں پر عمل کرے۔
”وإذا ركَع رفع يَديه حتى يُحَاذِيَ بهما أُذُنَيْه“ یعنی آپ ﷺ جب رکوع میں جاتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر کانوں کے برابر کر لیتے۔ یہ وہ دوسرا مقام ہے جہاں رفع الیدین کرنا مستحب ہے۔
”وإذا رفع رأسه من الرُّكوع فقال: سَمع الله لِمَن حَمِده“ یعنی جب رکوع سے اٹھتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے۔ یہ ذکر نماز کے واجبات میں سے ہے۔
”فعل مِثل ذلك“ یعنی آپ ﷺ ویسا ہی کرتے جیسا آپ ﷺ تکبیرِ تحریمہ کے وقت کرتے تھے یعنی ہاتھوں کو اٹھا کر انہیں کانوں کے برابر لے آتے۔ یہ وہ تیسرا مقام ہے جہاں نماز میں رفع الیدین کرنا مستحب ہے۔نماز میں یہ کل تین مقامات ہیں جہاں رفع الیدین کرنا مستحب ہے۔ چوتھا مقام تین یا چار رکعت والی نماز میں پہلی تشہد سے اٹھنے پر رفع الیدین کرنا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10908

 
 
Hadith   1757   الحديث
الأهمية: صليت مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، ووضع يده اليمنى على يده اليسرى على صدره


Tema:

میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر سینے کے اوپر رکھا۔

عن وائل بن حجر-رضي الله عنه- قال: «صلَّيت مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، ووضع يَدَه اليُمْنَى على يَدِه اليُسْرى على صَدْرِه».

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر سینے کے اوپر رکھا۔

Esin Hadith Caption Urdu


"ووضع يَدَه اليُمْنَى على يَدِه اليُسْرى"
nbsp;إذا أطلقت اليَد، فالمراد بها: الكَف، وهو المراد هنا.
nbsp;ويؤيده ما أخرجه أبو داود والنسائي بلفظ: "ثم وضع يده اليُمنى على ظهر كفه اليُسرى والرُّسْغ والساعد".
الرُّسْغ: المَفْصِل بَين السَاعد والكَف.
"على صَدْرِه" يعني: وضع يَده اليُمنى على اليُسرى وجعلهما على صَدره أثناء قيامه في الصلاة

Esin Hadith Caption Urdu


”اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا“ جب ’یَد‘ کا استعمال مطلقاً کہا جائے تو اس سے مراد ہتھیلی ہوتی ہے۔
اس کی تائید ابوداؤد اور نسائی کی وہ روایت کرتی ہے جس میں ہے ”ثم وضع يده اليُمنى على ظهر كفه اليُسرى والرُّسْغ والساعد“ یعنی پھر آپ نے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی، پہنچے اور کلائی پر رکھا۔
’رسغ‘ ہتھیلی اور کلائی کے درمیان جوڑ کو کہتے ہیں۔
”اپنے سینے پر“ یعنی نماز میں دورانِ قیام اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں پر اور پھر دونوں ہاتھوں کو سینے کے اوپر رکھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10909

 
 
Hadith   1758   الحديث
الأهمية: لعلكم تقرءون خلف إمامكم قلنا: نعم هذا يا رسول الله، قال: لا تفعلوا إلا بفاتحة الكتاب فإنه لا صلاة لمن لم يقرأ بها


Tema:

شاید تم اپنے امام کے پیچھے (کچھ) پڑھتے ہو؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! یہی بات ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ (امام کے پیچھے) سورہ فاتحہ کے علاوہ کچھ مت پڑھا کرو۔ کیونکہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔

عن عبادة بن الصامت -رضي الله عنه- قال: كُنَّا  خَلْفَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في صلاة الفجر فَقَرأ رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فَثَقُلَتْ عليه القراءة، فلمَّا فَرَغَ  قال: «لعلَّكم تَقْرَءُون خلف إِمَامِكُم» قلنا: نعم هذا يا رسول الله، قال: «لا تفعلوا إلا بفاتحة الكتاب فإنه لا صلاة لِمَنْ لم يَقْرَأ بها».

عباده بن صامت رضي الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نمازِ فجر پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے قراءت شروع کی مگر آپ ﷺ کے لیے (قرآن) پڑھنا مشکل ہو گیا۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا:شاید تم اپنے امام کے پیچھے (کچھ) پڑھتے ہو؟ہم نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! یہی بات ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: (امام کے پیچھے) سورہ فاتحہ کے علاوہ کچھ مت پڑھا کرو۔ کیونکہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء عن عبادة بن الصامت أنه قال: (كنا خلف النبي -صلى الله عليه وسلم- في صلاة الفجر فقرأ، فثقلت)، أي: عسرت عليه القراءة، فلما فرغ قال: «لعلكم تقرءون خلف إمامكم» فأجاب الصحابة -رضي الله عنهم-: (قلنا: نعم يا رسول الله) كأنه عليه السلام عسرت عليه القراءة ولم يدر السبب فسألهم، يدل عليه قوله في رواية أخرى: «ما لي أنازع القرآن؟»، ويحتمل أن سبب الثقل النقص الناشئ عن عدم اكتفائهم بقراءته، والكامل ربما يتأثر بنقص من وراءه.
والسنة أن يقرأ المأموم سرا بحيث يسمع كل واحد نفسه، وتجب قراءة الفاتحة في الصلاة على المنفرد والإمام والمأموم في الصلاة الجهرية والسرية لصحة الأدلة الدالة على ذلك وخصوصها.
 ثم أرشدهم -عليه الصلاة والسلام- إلى الحرص على قراءة الفاتحة، فقال: «لا تفعلوا إلا بفاتحة الكتاب» ويحتمل أن يكون النهي من الجهر، ويحتمل أن يكون من الزيادة على الفاتحة، وذلك لئلا يتشوش الإمام والمصلون.
593;بادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نمازِ فجر پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے قراءت شروع کی مگر آپ ﷺ کے لیے (قرآن) پڑھنا مشکل ہو گیا، یعنی آپ ﷺ کے لیے قرأت کرنا مشکل ہو گیا۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کہ شاید تم اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو؟ اس پرصحابہ کرام نے جواب دیا کہ جی ہاں، یا رسول اللہ!۔ گویا کہ نبی ﷺ پر تلاوت کرنا مشکل ہو رہا تھا لیکن آپﷺ کو اس کی وجہ معلوم نہ تھی اسی لیے آپ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا۔ جیسا کہ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا بات ہے کہ میں قرآن کی تلاوت میں الجھ رہا ہوں؟ ہو سکتا ہے کہ اس بوجھل پن کا سبب اس نقص کی وجہ سے ہو جو ان کے آپ ﷺ کی قرأت پر اکتفا نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہو۔ اور کامل شخص اپنے پیچھے موجود لوگوں کے نقص کی وجہ سے متاثر ہوتا ہے۔
سنت یہ ہے کہ مقتدی خاموشی سے پڑھے بایں طور کہ ہر کوئی اپنے آپ کو سنائے۔ نماز میں سورہ فاتحہ کی قراءت اکیلے نماز پڑھنے والے، امام اور مقتدی سب پر واجب ہے چاہے نماز سری ہو یا جہری کیونکہ بطورخاص سورہ فاتحہ پڑھنا دلائل سے ثابت ہے۔
پھر آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو ہدایت فرمائی کہ وہ سورہ فاتحہ پڑھنے کا اہتمام کریں: ”صرف سورہ فاتحہ پڑھا کرو“ ہو سکتا ہے کہ یہاں ممانعت جہرا پڑھنے سے ہو اور ہو سکتا ہے کہ ممانعت کا تعلق فاتحہ سے زائد پڑھنے کے ساتھ ہو۔ یہ حکم اس لیے دیا تاکہ امام اور نمازی حضرات تشویش میں نہ پڑیں۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10910

 
 
Hadith   1759   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- وأبا بكر وعمر كانوا يفتتحون الصلاة بـ الحمد لله رب العالمين


Tema:

نبی کریم ﷺ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما نماز ”الحمد للہ رب العالمین“ کے ساتھ شروع کرتے تھے۔

عن أنس -رضي الله عنه-: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- وأبا بكر وعمر كانوا يفتتحون الصلاة بـ﴿الحمد لله رب العالمين﴾.   زاد مسلم: لا يذكرون: ﴿بسم الله الرحمن الرحيم﴾ في أول قراءة ولا في آخرها.
 وفي رواية لأحمد والنسائي وابن خزيمة: لا يجهرون بـ﴿بسم الله الرحمن الرحيم﴾.
 وفي أخرى لابن خزيمة: كانوا يُسرُّون.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما نماز ”الحمد للہ رب العالمین“ کے ساتھ شروع کرتے تھے۔
امام مسلم نے اس کی زیادتی کی ہے کہ وہ نہ تو قراءت کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ذکر کرتے نہ ہی اس کے آخر میں۔
اور احمد، نسائی اور ابن خزیمہ کی ایک روایت میں ہے کہ وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم جہراً نہیں پڑھتے۔
ابن خزیمہ کی ایک دیگر روایت میں ہے کہ وہ سرّاً پڑھتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف أن النبي -صلى الله عليه وسلم- وصاحبيه -رضي الله عنهما- لم يكونا يقرؤون البسملة جهرًا في أول الفاتحة حال الصلاة، وهذا يؤكد أن البسملة ليست من الفاتحة، وفي أخرى لابن خزيمة: كانوا يُسرُّون. قال الحافظ في البلوغ: (وعلى هذا يحمل النفي في رواية مسلم خلافا لمن أعلها).
قالت اللجنة الدائمة للإفتاء: والصحيح أن البسملة ليست من الفاتحة ولا غيرها، بل هي آية مستقلة من القرآن، وبضع آية في سورة النمل في قوله تعالى: {إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}، ويستحب أن تقرأ في بداية كل سورة، ماعدا براءة، والسنة أن تقرأ قبل الفاتحة في الصلاة سراً.
575;س حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور صاحبین (ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) نماز میں سورۂ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ جہری طور پر نہیں پڑھتے تھے۔ یہ اس بات کی تاکید ہے کہ بسم اللہ سورہ فاتحہ کا حصہ نہیں ہے۔ ابن خزیمہ کی دوسری روایت میں ہے کہ وہ سراً پڑھا کرتے تھے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بلوغ المرام میں کہتے ہیں: صحیح مسلم کی روایت کی نفی کو اسی معنی پر محمول کیا جائےگیا (یعنی بسم اللہ کو ذکر نہیں کیا کرتے تھے کا مطلب ہے جہراً بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے) بخلاف ان کے جو اس روایت کو معلول کہتے ہیں۔
مستقل فتوی کمیٹی (سعودی عرب) کا کہنا ہے کہ: صحیح یہ ہے کہ بسم اللہ سورہ فاتحہ اور دیگر سورتوں کا حصہ نہیں بلکہ یہ سورۂ نمل کی مستقل آیت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ اور اس کا سوائے سورہ براءت کے علاوه ہر سورت کے شروع میں پڑھنا مستحب ہے اور یہ بھی مسنون ہے کہ نماز میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کو سورۂ فاتحہ سے پہلے سری طور پر پڑھا جائے گا۔   --  [یہ حدیث اپنی تمام روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔]+ +[اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10911

 
 
Hadith   1760   الحديث
الأهمية: إذا قرأتم: الحمد لله فاقرءوا: بسم الله الرحمن الرحيم، إنها أم القرآن، وأم الكتاب، والسبع المثاني، وبسم الله الرحمن الرحيم إحداها


Tema:

جب تم الحمد للہ (سورہ فاتحہ) پڑھو تو بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی پڑھو کیوں کہ یہ (سورہ فاتحہ) ام القرآن، ام الکتاب اور سبع مثانی ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کی ایک آیت ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: إذا قرأتم: الحمد لله فاقرءوا: ﴿بسم الله الرحمن الرحيم﴾ إنها أم القرآن، وأم الكتاب، والسبع المثاني، و﴿بسم الله الرحمن الرحيم﴾ إحداها.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم الحمد للہ (سورہ فاتحہ) پڑھو تو بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی پڑھو کیوں کہ یہ (سورہ فاتحہ) ام القرآن، ام الکتاب اور سبع مثانی ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کی ایک آیت ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف مشروعية قراءة البسملة قبل الفاتحة في الصلاة؛ وعلل ذلك بأنها جزء من سورة الفاتحة، والمراد قراءتها سرًا لا جهرًا، فقد ورد عدم الجهر في أحاديث أكثر وأصح، وقال الطحاوي: إن ترك الجهر بالبسملة في الصلاة تواتر عن النبي -صلى الله عليه وسلم- وخلفائه.
575;س حدیث میں نماز میں سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی مشروعیت بیان کی جا رہی ہے اور اس کی توجیہ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ یہ سورہ فاتحہ کا جز ہے۔ اس کی قرأت سے مراد سرّی ہے جہری نہیں ہے کیوں کہ بلند آواز سے نہ پڑھنے کے بارے میں بہت ساری صحیح حدیثیں آئی ہوئی ہیں۔ امام طحاوی فرماتے ہیں: نماز میں بسم اللہ کو بلند آواز سے نہ پڑھنا رسول اللہ ﷺ اور خلفاء سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10913

 
 
Hadith   1761   الحديث
الأهمية: أما هذا فقد ملأ يده من الخير


Tema:

اس نے اپنے ہاتھ خیر سے بھر لیے ہیں۔

عن عبد الله بن أبي أوفى -رضي الله عنه- قال: جاء رجل إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: إني لا أستطيع أن آخذ من القرآن شيئا فَعَلِّمْنِي ما يُجْزِئُنِي منه، قال: "قل: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم"، قال: يا رسول الله، هذا لله -عز وجل- فما لي، قال: قل: اللهم ارْحَمْنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي. فلما قام قال: هكذا بيده فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أما هذا فقد ملأ يده من الخير».

ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوکر کہنے لگا: میں قرآن مجید میں سے کچھ بھی یاد نہیں کر سکتا، مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجیے، جو مجھے قرآن مجید کی جگہ کافی ہو سکے۔ آپ نے فرمایا:”تم سبحان اللہ، والحمدللہ، ولا الٰہ الا اللہ، واللہ اکبر، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم کہو“۔ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول!یہ تو اللہ کے لیے ہوا، میرے لیے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہا کرو ”اللَّهُمَّ وَارْحَمْنِي، وَارْزُقْنِي, وَعَافِنِي, وَاهْدِنِي“ اے اللہ! مجھ پر رحم فرما، مجھے رزق دے، راحت و عافیت سے نواز اور ہدایت سے سرفراز فرما، جب وہ کھڑا ہوا تو اپنے ہاتھوں سے ایسے اشارہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے اپنے ہاتھ خیر سے بھر لیے ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف حكم من لم يستطع حفظ شيء من القرآن كيف يصلي؟ حيث أرشد النبي -صلى الله عليه وسلم- الأعرابي الذي لم يستطع حفظ شيء من القرآن، بقول سبحان الله أي: ننزهه عن كل نقص، والحمد لله، ولا إله إلا الله أي لا معبود بحق إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم، أي: لا يستطيع أحد أن يتحول من حال إلى حال أخرى إلا بالله، وحينما طلب الأعرابي دعاءً يقوله في الصلاة أرشده لقول هذه الدعوات الجامعة لخير الدنيا والآخرة، حيث يقول "اللهم ارحمني وارزقني وعافني واهدني"، وبين الرسول -صلى الله عليه وسلم- عظم هذه الأدعية والأذكار بقوله عن الأعرابي الذي أخذ بها: «أما هذا فقد ملأ يده من الخير» يعني أصاب خيرا عظيما.
740;ہ حدیث ایسے شخص کے لیے نماز کا طریقہ بتا رہی ہے، جو قرآن بالکل یاد نہ کر سکتا ہو۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اعرابی کی رہ نمائی فرمائی، جو قرآن کریم میں سے کچھ بھی یاد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا کہ وہ سبحان اللہ،(اللہ ہر عیب سے پاک ہے) والحمدللہ (سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں) ولاالٰہ الا اللہ،(یعنی معبود برحق اگر کوئی ہے، تو وہ صرف اللہ ہے) واللہ اکبر، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم (اللہ سب سے بڑا ہے اوراس کے سوا کسی میں بھی یہ طاقت نہیں کہ کسی کو ایک حال سے دوسرے حال کی طرف لے جائے) پڑھ لیا کرے۔ جب اس اعرابی نے یہ پوچھا کہ وہ نماز میں اپنے لیے کون سی دعا کرے؟ تو اسے دنیا و آخرت کی بھلائیوں پر مشتمل اس دعا کی رہ نمائی فرمائی: ”اللَّهُمَّ وَارْحَمْنِي، وَارْزُقْنِي, وَعَافِنِي, وَاهْدِنِي“ (اے اللہ! مجھ پر رحم فرما، مجھے رزق دے، راحت و عافیت سے نواز اور ہدایت سے سرفراز فرما) رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا سیکھنے والے صحابی کے حق میں یہ فرماکر ان دعاؤں اور اذکار کی اہمیت جتلا دی کہ: ”أما هذا فقد ملأ يده من الخير“ یعنی اس نے خیر سے اپنا دامن بھر لیا۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10915

 
 
Hadith   1762   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يقرأ في الظهر في الأوليين بأم الكتاب، وسورتين، وفي الركعتين الأخريين بأم الكتاب ويسمعنا الآية


Tema:

نبی کریم ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور دو مزید سورتیں پڑھتے تھے اور آخری دو رکعات میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھتے۔ کبھی کبھی ہمیں ایک آیت سنا بھی دیا کرتے تھے۔

عن أبي قتادة -رضي الله عنه-: «أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يقرأ في الظهر في الأوليين بأم الكتاب، وسورتين، وفي الركعتين الأخريين بأم الكتاب ويسمعنا الآية، ويطول في الركعة الأولى ما لا يطول في الركعة الثانية، وهكذا في العصر وهكذا في الصبح».

ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور مزید دو سورتیں پڑھتے تھے اور آخری دو رکعات میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھتے۔ کبھی کبھی ہمیں ایک آیت سنا بھی دیا کرتے تھے اور پہلی رکعت کو دوسری رکعت سے زیادہ لمبی کرتے تھے۔ عصر اور صبح کی نماز میں بھی آپ کا یہی معمول تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف أنه في الصلوات السرية كالظهر والعصر يقرأ فيها بالفاتحة مع سورة أخرى في الركعتين الأوليين، ويقرأ بالفاتحة فقط في الأخريين كالصلاة الجهرية تماماً، ولا بأس من رفع الصوت قليلاً للتعليم.
740;ہ حدیث بیان کرتی ہے کہ آپ ﷺ سرّی نمازوں، جیسے ظہر وعصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے ساتھ دوسری سورتیں بھی پڑھتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھتے جس طرح تمام جہری نمازوں میں پڑھتے ہیں۔ تعلیم اور سکھلانے کی غرض سے آواز تھوڑی بلند کرنے میں کوئی حرج نہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10916

 
 
Hadith   1763   الحديث
الأهمية: كنا نحزر قيام رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في الظهر والعصر فحزرنا قيامه في الركعتين الأوليين من الظهر قدر قراءة الم تنزيل السجدة وحزرنا قيامه في الأخريين قدر النصف من ذلك


Tema:

ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہﷺ کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے۔ ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ الٓم :تنزيل (السجدہ) کی قراءت کے بقدر لگایا اور اس کی آخری دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ اس سے نصف کے بقدر لگایا۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- قال: «كنا نَحْزِرُ قيام رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في الظهر والعصر فَحَزَرْنَا قيامه في الركعتين الأُولَيَيْنِ من الظهر قَدْرَ قراءة الم تنزيل السجدة وَحَزَرْنَا قيامه في الأُخْرَيَيْنِ قدر النصف من ذلك، وَحَزَرْنَا قيامه في الركعتين الأوليين من العصر على قدر قيامه في الأُخْرَيَيْنِ من الظهر وفي الأخريين من العصر على النصف من ذلك» ولم يذكر أبو بكر في روايته: الم تنزيل وقال: قدر ثلاثين آية.

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہﷺ کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے۔ ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ الٓم :تنزيل (السجدہ) کی قراءت کے بقدر لگایا اور اس کی آخری دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ اس سے نصف کے بقدر لگایا۔ اور ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ لگایا کہ وہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر تھا اور عصر کی آخری دو رکعتوں کا قیام اس سے آدھا تھا۔ ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں﴿الم تنزيل﴾کا ذکر نہیں کیا، انھوں نے کہا: تیس آیات کےبقدر۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف مقدار القيام في كل من صلاة الظهر والعصر، فمقدار القيام في الركعتين الأوليين من صلاة الظهر بمقدار قراءة ثلاثين آية أي بمقدار سورة السجدة، والركعتين الأخيرتين بمقدار نصفها أي خمس عشرة آية، وصلاة العصر أقل من الظهر ففي الركعتين الأوليين منها بمقدار خمس عشرة آية، والركعتين الأخيرتين بمقدار النصف أي من سبع إلى ثمان آيات.
575;س حدیث میں ظہر اورعصر کی نمازوں کے قیام کی مقدار بیان کی گئی ہے۔ نماز ظہر کی پہلی دو رکعتوں کے قیام کی مقدار تیس آیت کی قراءت کے مساوی یعنی سورۂ سجدہ کی تلاوت کے برابر اور آخری دو رکعتوں کی مقدار پہلی کی نصف یعنی پندرہ آیتوں کی تلاوت کے برابر ہے۔ نماز عصر کا قیام ظہر سے ہلکا ہوتا ہے۔ اس کی پہلی دو رکعتیں نماز ظہر کی بعد کی دو رکعتوں کے مساوی یعنی پندرہ آیتوں کے برابر ہوں گي۔ جب ک آخری دو رکعتیں پہلی دو رکعتوں کے نصف کے برابر یعنی سات سے آٹھ آیت کی قراءت کے برابر۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10917

 
 
Hadith   1764   الحديث
الأهمية: ما صليت وراء أحد أشبه صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم من فلان - فصلينا وراء ذلك الإنسان وكان يطيل الأوليين من الظهر، ويخفف في الأخريين


Tema:

میں نے رسول کریم ﷺ سے زیادہ مشابہت والی نماز فلاں شخص کے علاوہ کسی کے پیچھے نہیں پڑھی، چنانچہ ہم نے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی، وہ ظہر کی پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتے تھے، اور آخری دونوں رکعتیں ہلکی کرتے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: «ما صليت وراء أحد أشبه صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم من فلان - فصلينا وراء ذلك الإنسان وكان يطيل الأوليين من الظهر، ويخفف في الأخريين، ويخفف في العصر، ويقرأ في المغرب بقصار المفصل، ويقرأ في العشاء بالشمس وضحاها وأشباهها، ويقرأ في الصبح بسورتين طويلتين».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ”میں نے رسول کریم ﷺ سے زیادہ مشابہت والی نماز فلاں شخص کے علاوہ کسی کے پیچھے نہیں پڑھی“، چنانچہ ہم نے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی، وہ ظہر کی پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتے تھے اور آخری دونوں رکعتیں ہلکی کرتے، عصر بھی ہلکی کرتے اور مغرب میں قصار مفصل پڑھتے جب کہ عشاء میں وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا اور اسی طرح کی سورتیں پڑھتے اور فجر میں دو لمبی دو سورتیں پڑھتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث أن أحد أئمة المسجد النبوي كان شبيه الصلاة بصلاة النبي -صلى الله عليه وسلم- وكان يقتدي به في التطويل في الركعتين الأوليين من الظهر والتخفيف في الأخريين وفي العصر أيضاً، والقراءة في المغرب بقصار المفصل وفي العشاء بالليل إذا يغشى ومثيلاتها، والتطويل في صلاة الصبح.
575;س حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد نبوی کے اٗئمہ میں سے ایک امام کی نماز رسول کریم ﷺ کی نماز سے بہت مشابہت رکھتی تھی، اس لیے کہ وہ ظہر کی پہلی دو رکعتوں کو لمبی کرتے تھے اور پچھلی دو رکعتوں کو ہلکی کرتے اور عصر کی نماز اس کی مانند پڑھتے، مغرب کی نماز میں قصار مفصل اور عشا کی نماز میں ”وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ“ اور اس جیسی دیگر سورتیں پڑھتے جب کہ فجر کی نماز میں لمبی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10918

 
 
Hadith   1765   الحديث
الأهمية: سمعت النبي -صلى الله عليه وسلم- يقرأ في المغرب بالطور، فلما بلغ هذه الآية: أم خلقوا من غير شيء أم هم الخالقون، أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون، أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون، قال: كاد قلبي أن يطير


Tema:

میں نے نبی کریم ﷺ کو مغرب کی نماز میں سورۃ الطور پڑھتے ہوۓ سنا۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے ﴿ أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ، أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ، أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ﴾ تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے۔

عن جبير بن مطعم -رضي الله عنه- قال: سمعت النبي -صلى الله عليه وسلم- يقرأ في المغرب بالطُّور، فلما بلغ هذه الآية: ﴿أم خُلِقُوا من غير شيء أم هم الخالقون، أم خَلَقُوا السموات والأرض بل لا يوقنون، أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون﴾. قال: كاد قلبي أن يطير.

جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو مغرب کی نماز میں سورۃ الطور پڑھتے ہوۓ سنا۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے ﴿ أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ، أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ، أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ﴾ تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث أن جبيرًا -رضي الله عنه- سمع النبي -صلى الله عليه وسلم- يقرأ في صلاة المغرب في الركعتين الأوليين بسورة الطور، وذلك عندما جاء لفكاك الأسرى بعد بدر، ثم أسلم بعد ذلك.
575;س حدیث میں ہے کہ جبیر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو مغرب کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ الطور پڑھتے سنا، یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب بدر کے بعد قیدیوں کو چھڑانے کے آئے تھے، اس کے بعد یہ اسلام لے آئے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10919

 
 
Hadith   1766   الحديث
الأهمية: صليت مع النبي -صلى الله عليه وسلم- ذات ليلة، فافتتح البقرة، فقلت: يركع عند المائة، ثم مضى، فقلت: يصلي بها في ركعة، فمضى، فقلت: يركع بها، ثم افتتح النساء


Tema:

میں نے ایک رات نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ ﷺ نے سورہ بقرہ پڑھنا شروع کردیا تو میں نے سوچا کہ آپ ﷺ سو آیت پر رکوع فرمائیں گے۔ لیکن آپ ﷺ پڑھتے رہے، تو میں نے اپنے دل میں کہا: آپ ﷺ اس سورت کو دو رکعتوں میں پوری فرمائیں گے۔ لیکن آپ ﷺ پڑھتے رہے تو میں نے اپنے جی میں کہا: آپ پوری سورت پڑھ کر رکوع فرمائیں گے۔ لیکن پھر آپ ﷺ نے سورہ نساء پڑھنا شروع کردیا۔

عن حذيفة -رضي الله عنه- قال: صليت مع النبي -صلى الله عليه وسلم- ذات ليلة، فافتتح البقرة، فقلت: يركع عند المائة، ثم مضى، فقلت: يصلي بها في ركعة، فمضى، فقلت: يركع بها، ثم افتتح النساء، فقرأها، ثم افتتح آل عمران، فقرأها، يقرأ مُتَرَسِّلًا، إذا مر بآية فيها تسبيح سبح، وإذا مر بسؤال سأل، وإذا مر بتعوذ تعوذ، ثم ركع، فجعل يقول: «سبحان ربي العظيم»، فكان ركوعه نحوًا من قيامه، ثم قال: «سمع الله لمن حمده»، ثم قام طويلا قريبا مما ركع، ثم سجد، فقال: «سبحان ربي الأعلى»، فكان سجوده قريبا من قيامه. قال: وفي حديث جرير من الزيادة، فقال: «سمع الله لمن حمده ربنا لك الحمد».

حذیفہ رضی اللہ عنہ خبر دے رہے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ رات کی نماز پڑھی۔ اور یہ کہ آپ ﷺ اپنے رکوع میں ”سُبحان رَبِّيَ العظيم“ اور اپنے سجدے میں ”سُبحان رَبِّيَ الأعلى“ پڑھتے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رکوع اور سجدے میں یہ ذکر کرنا مشروع ہے۔
”وما مَرَّ بآية رَحْمَة إلا وقَف عِندها فَسأل“ یعنی جب آپ ﷺ کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں جنت اور نعمتوں کا تذکرہ ہوتا، تو آپ اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کئے بغیر آگے نہیں بڑھتے تھے، چنانچہ آپ یہ دعا کرتے: ”اللَّهم إني أسألك الجنَّة“ (اے اللہ میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں)، اس موقع پر آدمی اللہ تعالی کے فضل کا بھی سوال کرسکتا ہے، اگرچہ وہ انبیا، یا اولیا کی تعریف و ستائش یا اسی طرح کی آیات سے گزرے۔ چنانچہ وہ اس طرح دعا کر سکتا ہے: ”أسْأَلُ اللهَ مِنْ فَضْلِهِ“ (میں اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرتا ہوں)، یا یہ دعا کہ: ”أسْأَلُ اللهَ أنْ يُلْحِقْنِي بِهِمْ“ (میں اللہ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے ان کی رفاقت نصیب فرمائے)، یا اس جیسی دعائیں۔
”ولا بآية عَذاب إلا وقَف عِندها فتعوَّذ“ یعنی جب آپ ﷺ کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں عذاب، جہنم اور جہنمیوں کے احوال کا تذکرہ ہوتا، تو اس سے پناہ مانگے بغیر آگے نہیں بڑھتے تھے۔
لہٰذا اس بارے میں آپ ﷺ کی پیروی کرنا مستحب ہے۔ لیکن علماء کے ایک مجموعہ نے اسے نفل نمازوں کے ساتھ مخصوص کیا ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ سے فرض نمازوں کے اندر یہ عمل منقول نہیں ہے، باوجود اس کے کہفرض نمازوں میں آپ ﷺ کی قراءت کی کیفیت تذکرہ بہت سے صحابہ نے کیا ہے۔ اگر کبھی کبھار فرض نمازوں میں ایسا کرلیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ جو چیز فرض نماز میں ثابت ہے اسے نفل میں کرنا جائز ہے۔ اور اسی طرح اس کے برعکس بھی۔ ہاں اگر تخصیص پر کوئی دلیل موجود ہو تو پھر ایسا کرنا جائز نہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر حُذيفة -رضي الله عنه- أنه صلَّى مع النبي -صلى الله عليه وسلم- صلاة الليل وأنه كان يقول في رُكوعه: "سُبحان رَبِّيَ العظيم"، وفي سجوده: "سُبحان رَبِّيَ الأعلى" وهذا يدل على مشروعية هذا الذِّكر في الرَّكوع والسَّجود،" كان يقول في رُكوعه: "سُبحان رَبِّيَ العظيم "، وفي سجوده: "سُبحان رَبِّيَ الأعلى "، "وما مَرَّ بآية رَحْمَة إلا وقَف عِندها فَسأل"
يعني: عندما يمرُّ بآية فيها ذِكر الجنَّة والنَّعيم، لا يتجاوزها حتى يسأل الله تعالى، فيقول: اللَّهم إني أسألك الجنَّة، وله أن يسأل الله -تعالى- من فَضْلِه، ولو مَرَّ ثناء على الأنبياء أو الأولياء أو ما أشبه ذلك، فله أن يقول: أسأل الله من فضله، أو أسأل الله أن يُلحقني بهم، أو ما أشبه ذلك. 
"ولا بآية عَذاب إلا وقَف عِندها فتعوَّذ "
أي: عندما يَمرُّ بآية فيه ذِكر العذاب وذِكر جهنَّم وأحوال أهلها، لا يتجاوزها حتى يَستعيذ من ذلك.
فيستحب التأسِّي به -صلى الله عليه وسلم- لكن خَصَّه جمع من العلماء بصلاة النافلة؛ لأنه لم يُنقل عنه -صلى الله عليه وسلم- ذلك في الفَرض مع كَثرة من وصف قراءته في صلاة الفَريضة، وإن أتى به في الفرض أحيانا فلا بأس؛ لأن ما ثبت في الفرض جاز في النفل وبالعكس إلا إذا دل دليل على التخصيص.
581;ذیفہ رضی اللہ عنہ خبر دے رہے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ رات کی نماز پڑھی۔ اور یہ کہ آپ ﷺ اپنے رکوع میں ”سُبحان رَبِّيَ العظيم“ اور اپنے سجدے میں ”سُبحان رَبِّيَ الأعلى“ پڑھتے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رکوع اور سجدے میں یہ ذکر کرنا مشروع ہے۔
”وما مَرَّ بآية رَحْمَة إلا وقَف عِندها فَسأل“ یعنی جب آپ ﷺ کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں جنت اور نعمتوں کا تذکرہ ہوتا، تو آپ اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کئے بغیر آگے نہیں بڑھتے تھے، چنانچہ آپ یہ دعا کرتے: ”اللَّهم إني أسألك الجنَّة“ (اے اللہ میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں)، اس موقع پر آدمی اللہ تعالی کے فضل کا بھی سوال کرسکتا ہے، اگرچہ وہ انبیا، یا اولیا کی تعریف و ستائش یا اسی طرح کی آیات سے گزرے۔ چنانچہ وہ اس طرح دعا کر سکتا ہے: ”أسْأَلُ اللهَ مِنْ فَضْلِهِ“ (میں اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرتا ہوں)، یا یہ دعا کہ: ”أسْأَلُ اللهَ أنْ يُلْحِقْنِي بِهِمْ“ (میں اللہ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے ان کی رفاقت نصیب فرمائے)، یا اس جیسی دعائیں۔
”ولا بآية عَذاب إلا وقَف عِندها فتعوَّذ“ یعنی جب آپ ﷺ کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں عذاب، جہنم اور جہنمیوں کے احوال کا تذکرہ ہوتا، تو اس سے پناہ مانگے بغیر آگے نہیں بڑھتے تھے۔
لہٰذا اس بارے میں آپ ﷺ کی پیروی کرنا مستحب ہے۔ لیکن علماء کے ایک مجموعہ نے اسے نفل نمازوں کے ساتھ مخصوص کیا ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ سے فرض نمازوں کے اندر یہ عمل منقول نہیں ہے، باوجود اس کے کہفرض نمازوں میں آپ ﷺ کی قراءت کی کیفیت تذکرہ بہت سے صحابہ نے کیا ہے۔ اگر کبھی کبھار فرض نمازوں میں ایسا کرلیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ جو چیز فرض نماز میں ثابت ہے اسے نفل میں کرنا جائز ہے۔ اور اسی طرح اس کے برعکس بھی۔ ہاں اگر تخصیص پر کوئی دلیل موجود ہو تو پھر ایسا کرنا جائز نہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10921

 
 
Hadith   1767   الحديث
الأهمية: أيها الناس، إنه لم يبق من مبشرات النبوة إلا الرؤيا الصالحة، يراها المسلم، أو ترى له، ألا وإني نهيت أن أقرأ القرآن راكعا أو ساجدا


Tema:

لوگو ! نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں، جو مسلمان خود دیکھے گا یا اس کے لیے (کسی دوسرے کو) دکھایا جائے گا۔ خبردار رہو ! بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔

عن ابن عباس -رضي  الله عنهما- قال: كَشف رسول الله -صلى الله عليه وسلم- السِّتَارة والناس صُفوف خَلف أبي بَكر، فقال: «أيها الناس، إنه لم يَبْق من مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إلا الُّرؤيا الصَّالحة، يَراها المُسلم، أو تُرى له، ألا وإنِّي نُهِيت أن أقْرَأ القرآن راكِعا أو ساجِدا، فأما الرُّكوع فعظِّموا فيه الرَّب -عز وجل-، وأما السُّجود فَاجْتَهِدُوا في الدُّعاء، فَقَمِنٌ أن يُستَجاب لكم».

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پردہ اٹھایا، (اس وقت) لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف بستہ تھے۔ آپ نے فرمایا: ”لوگو ! نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں، جو مسلمان خود دیکھے گا یا اس کے لیے (کسی دوسرے کو) دکھایا جائے گا۔ خبردار رہو ! بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، جہاں تک رکوع کا تعلق ہے، اس میں اپنے رب عزوجل کی عظمت بیان کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے، اس میں خوب دعا کرو، یہ اس لائق ہے کہ تمھارے حق میں قبول کرلی جائے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كَشف رسول الله -صلى الله عليه وسلم- - السِّتر الذي يكون على باب البيت والدَّار والناس صُفوف خَلف أبي بَكر -رضي الله عنه- يصلُّون جماعة، ولم يتمكن من الصلاة بهم بسبب مرض النبي -صلى الله عليه وسلم- فأمر أبا بَكر أن يُصلِّي بالناس.
فقال: "أيها الناس، إنه لم يَبْق من مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إلا الُّرؤيا الصَّالحة" فبعد موت النبي -صلى الله عليه وسلم- وانقطاع الوَحي لم يبق إلا الرُّؤيا الصالحة، أي الحَسنة أو الصحيحة المطابقة للواقع، فيراها أهل الإيمان فيستبشرون ويسرون بها ويزادون ثباتا على ثباتهم، وكونها من النبوة؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- مكث في أول نبوته يرى الرؤيا فتقع كفلق الصبح، فهي من أجزاء نبوته -عليه الصلاة والسلام-.
وقوله: " إلا المُبَشِّرَاتُ " التَّعبير بالمُبَشِرَاتِ: جرى على الغالب، وإلا فإن من الرُّؤيا ما تكون إنذارًا من الله وهي صادقة يُريها الله المؤمن رفقاً به ليستعد لما يقع قبل وقوعه.
فعلى هذا تكون الرؤيا الصَّالحة، إما بِشَارة للمؤمن أو تنبيه له عن غَفْلَة.
وقوله: "يَراها المُسلم، أو تُرى له" معناه: سَواء رآها المُسلم بنفسه أو رآها غيره له.
وقوله: "ألا وإنِّي نُهِيت أن أقْرَأ القرآن راكِعا أو ساجِدا" معناه: أن الله تعالى نهى نبيه -صلى الله عليه وسلم- أن يقرأ القرآن في حال الركوع أو السُّجود، وما نُهي عنه -صلى الله عليه وسلم- فالأصل أنَّ أمَّته تبعٌ له إلا بدليل يدل على خصوصيته -صلى الله عليه وسلم-، هذا إذا قَصد التِّلاوة في ركوعه أو سجوده، أي: قصد قراءة القرآن أما إذا قصد الدعاء فلا حرج عليه، وفي الحديث : (وإنما لكل امْرى ما نوى).
والحكمة من النَّهي -والله أعلم- أن الرُّكوع والسُّجود هما حالتا ذُل وخُضوع، ثم إن السُّجود يكون على الأرض فلا يَليق بالقرآن أن يُقرأ في مثل هذه الحال.   
وقوله: "فأما الرُّكوع فعظِّموا فيه الرَّب عز وجل" أي قولوا: سبحان ربي العظيم، ونحوه من التسبيحات والتمجيدات الواردة في الركوع.
وقوله: "وأما السُّجود فَاجْتَهِدُوا في الدُّعاء" يعني: ينبغي للمصلِّي أن يُكثر من الدُّعاء حال السُّجود؛ لأنه من المواضع التي يُستجاب فيها الدعاء، وقد ثبت في مسلم عنه -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: (أقرب ما يكون العَبد من ربِّه وهو ساجد فأكثروا الدعاء)، لكن مع قول: سبحان ربي الأعلى؛ لأنه واجب.
وقوله: "فَقَمِنٌ أن يُستَجاب لكم" أي حَريٌّ أن يُستجاب لدعائكم؛ لأن أقرب ما يكون العَبد من ربِّه وهو ساجد، ومحل استحباب إطالة الدُّعاء وكثرته: إذا كان الإنسان يُصلي منفردا أو في جماعة يستحبون الإطالة.
570;پ ﷺ نے وہ پردہ اٹھایا، جو آپ کے گھر کے دروازے اور دیوار پر لٹک رہا تھا، لوگ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفوں میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ اپنی بیماری کی وجہ سے لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکتے تھے۔ آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ آپ نے فرمایا: ”لوگو ! نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں“ یعنی آپ کی موت اور وحی کے منقطع ہونے کے بعد نبوت کے مبشرات میں سے صرف سچے خواب باقی رہیں گے، جسے اہلِ ایمان دیکھتے ہیں، خوش خبری حاصل کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور ان کی ثابت قدمی میں اضافہ ہوتا ہے۔ خوابوں کا نبوت میں سے ہونا اس لیے ہے کہ ابتداے نبوت میں آپ ﷺ خواب دیکھا کرتے تھے، جو صبح کی روشنی کی طرح واقع ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ یہ آپ ﷺ کی نبوت کے اجزا میں سے ہے۔
”إلا المُبَشِّرَاتُ“ مبشِّرات سے تعبیر کرنا اکثر اور غالب کے اعتبار سے ہے۔ ورنہ کچھ خواب اللہ کی طرف سے ڈرانے کے لیے بھی ہوتے ہیں۔ وہ سچے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مؤمن کو دکھاتا ہے؛ تاکہ وہ اس سے پہلے اس کی تیاری کرلے۔
لہٰذا سچے خواب یا تو مؤمن کے لیے خوش خبری ہوتے ہیں یا اسے غفلت سے بیدار کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔
”يَراها المُسلم، أو تُرى له“ یعنی مسلمان خود دیکھے یا کوئی اور دیکھے۔
”بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو رکوع اور سجود کی حالت میں قرآن کی تلاوت کرنے سے روکا ہے، جس چیز سے اللہ کے رسول ﷺ کو روکا جائے، وہ اصل میں اس لیے ہے کہ امت آپ کی اتباع کرے، ہاں اگر آپ ﷺ کے ساتھ خاص ہونے پر دلیل موجود ہو، تو امت کے لیے اتباع ضروری نہیں۔ یہ اس وقت ہے کہ جب رکوع اور سجدے میں قرآن کی تلاوت کا ارادہ ہو، اگر دعا کا ارادہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ حدیث میں ہے ”وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَی“ یعنی ہر شخص کے لیے وہی ہے، جس کی اس نے نیت کی ہے۔
رکوع اور سجدے میں تلاوتِ قرآن سے روکنا شاید اس لیے ہے کہ یہ ذلت اور عاجزی کی حالتیں ہیں، مزید یہ کہ سجدہ زمین پر ہوتا ہے، اس حالت میں قرآن کی تلاوت کرنا مناسب نہیں۔
”جہاں تک رکوع کا تعلق ہے، اس میں اپنے رب عزوجل کی عظمت بیان کرو“ یعنی رکوع کی حالت میں سبحان ربي العظيم اور اس طرح دوسری تسبیحات اور تمجیدات پڑھے، جن کا رکوع میں پڑھنا منقول ہے۔
”جہاں تک سجدے کا تعلق ہے، اس میں خوب دعا کرو“ یعنی نمازی کو سجدے کی حالت میں زیادہ دعائیں مانگنا چاہیے، اس لیے کہ اس می دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ صحیح مسلم کی روایت میں آپ ﷺ سے ثابت ہے: ”بندہ اپنے رب سے سب سے قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس لیے سجدے میں زیادہ دعائیں مانگا کرو“۔ تاہم سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى کے ساتھ دعائیں مانگی جاۓ؛ اس لیے کہ یہ کہنا واجب ہے۔
”یہ اس لائق ہے کہ تمھارے حق میں قبول کرلی جائے“ یعنی سجدے میں تمھاری دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اس لیے کہ سجدے کی حالت میں بندہ اپنے رب سے سب سے قریب ہوتا ہے، سجدہ لمبی اور بکثرت دعا کرنے کا مقام ہے، جب انسان اکیلے نماز پڑھے یا ایسے لوگوں کے ساتھ پڑھے جو طوالت پسند کرتے ہوں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10922

 
 
Hadith   1768   الحديث
الأهمية: كانت صلاة رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وركوعه، وإذا رفع رأسه من الركوع، وسجوده، وما بين السجدتين، قريبا من السواء


Tema:

رسول اللہ ﷺ کی نماز آپ کا رکوع کرنا، رکوع سے سر اٹھانا اور سجدہ کرنا، نیز دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا۔

عن الحكم قال: غَلَب على الكُوفة رجُل -قد سَمَّاه- زَمَنَ ابن الأشْعَث، فأمر أبَا عُبيدة بن عبد الله أن يصلِّي بالناس، فكان يصلِّي، فإذا رَفع رأسه من الرُّكوع قام قَدْر ما أقُول: اللَّهُم ربَّنا لك الحَمد، مِلْءَ السَّماوات ومِلْءَ الأرض، ومِلْءَ ما شِئت من شَيء بعد، أهْل الثَّناء والمَجد، لا مانع لما أعْطَيت، ولا مُعْطِي لما مَنعت، ولا يَنفع ذَا الجَدِّ مِنْك الجَدِّ. قال الحَكم: فَذَكَرت ذلك لعَبد الرَّحمن بن أبي ليلى فقال: سمعت البَرَاء بن عَازب يقول: «كانت صلاة رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وركُوعه، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وسُجوده، وما بَيْن السَّجدتين، قريبًا من السَّوَاء» قال شُعبة: فذَكَرْتُه لِعَمرو بن مُرَّة فقال: قد رأيت ابن أبي ليلى، فلم تَكن صلاته هكذا.

حکم سے روایت ہے کہ ابن الاشعث کے زمانہ میں ایک آدمی (جس کا انہوں نے نام ذکر کیا تھا) نے کوفہ پر غلبہ حاصل کیا تو ابوعیبدہ بن عبداللہ رحمہ اللہ و رضی عن ابیہ کو اس نے حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں وہ نماز پڑھاتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیا کرتا: ”اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ“ اے اللہ تو اس تعریف کے لائق ہے جن سے تمام آسمان اور زمین اور جتنی جگہ تو چاہے، بھر جائے۔ تو ہی تعریف اور بڑائی کے لائق ہے جس کو تو کچھ عطا کرے اس سے کوئی چھین نہیں سکتا اور جس سے تو کوئی چیز لے لے اسے کوئی دے نہیں سکتا اور نہ کوئی کوشش تیرے مقابلہ میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ حکم کہتے ہیں میں نے یہ عبدالرحمن بن ابی لیلی سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا میں نے براء بن عازب سے سنا وہ فرماتے تھے کہ ”رسول اللہ ﷺ کا اپنی نماز میں رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا پھر سجدہ کرنا اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا“۔شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر عمرو بن مرّہ سے کیا تو انہوں نے کہا میں نے ابن ابی لیلی کو دیکھا کہ ان کی نماز اس کیفیت کی نہ تھی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: "غَلَب على الكُوفة رجُل -قد سَمَّاه- زَمَنَ ابن الأشْعَث فأمر أبَا عُبيدة بن عبد الله أن يصلِّي بالناس".
وهذا الرُّجل هو مَطر بن ناجِية كما سَمَّاه في الرواية الثانية وأبو عُبيدة هو بن عبد الله بن مسعود -رضي الله عنه-.
" فكان يصلِّي، فإذا رَفع رأسه من الرُّكوع قام قَدْر ما أقُول: اللَّهُم ربَّنا لك الحَمد "وهذا القَدْر واجب من واجبات الصلاة، أما الزيادة عليه: " مِلْء السماوات.."، فمُستحبة؛ لقوله -صلى الله عليه وسلم-: (إذا قال الإمام سَمِع الله لمن حَمِدَه فقولوا ربَّنا لك الحمد).
ومعنى : "اللهُمَّ ربَّنا لك الحَمد" الدعاء والاعتراف، أي: ربَّنا استجِب لنَا, ولك الحَمد على هدايتك وتوفيقك لنا.
"مِلْءَ السَّماوات ومِلْءَ الأرض" يُراد بذلك تعظيم قدرها، وكثرة عَددها، والمعنى: أنَّك يا ربَّنا مستحقٌّ لهذا الحَمد، الذي لو كان أجسامًا، لملأ ذلك كله.
"ومِلْء ما شِئت من شيء بَعد" أي مما لا نعلمه من مَلَكُوتك الواسع.
"أهْل الثَّناء والمَجد" أي: أنك يا ربَّنا مستحق للثَّناء، والثَّناء: المَدْح، والمَجد: هو العَظمة والسُّلطان ونهاية الشَّرف، فالذي يستحق المَدْح والتَّعظيم المُطلق هو الله -عز وجل-.
 "لا مانع لما أعْطَيت" أي: لا مانع لما أردت إعطاءه.   "ولا مُعْطِي لما مَنعت" أي: لا مُعطي من أرَدت حَرمانه من العَطاء بِحكمتك وعَدْلِك.
"ولا يَنفع ذَا الجَّدِّ مِنْك الجَدِّ" الجّدُّ: الغِنَى والحَظ؛ أي: لا يَنفع صاحب الغِنى عندك غِناه وحَظه، فلا يُعيذه من العَذاب، ولا يُفيده شيئًا من الثَّواب، وإنَّما النَّافع ما تعلَّقت به إرادتك فحسب. 
 "قال الحَكم: فذكرت ذلك لعَبد الرحمن بن أبي ليلى فقال: سمعت البَراء بن عَازب يقول: «كانت صلاة رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وركُوعه، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وسجوده، وما بَيْن السَّجدتين، قريبا من السَّوَاء".
والمعنى: أن صلاته -صلى الله عليه وسلم- كانت مُتقاربة في مقدار أركانها وإن كان بينها فَرق يسير، فإذا أطال القيام أطال الرُّكوع بحيث يكون قريبا من قيامه وهكذا بقية الأركان، وإذا خَفَّف القيام، خَفَّف الرُّكوع بحيث يكون قريبا من قيامه وهكذا بقية الأركان. 
وهذا الحديث محمول على بعض الأحوال، وإلا فقد كان يطول -عليه الصلاة والسلام- أحيانا، وعلى هذا: يكون هذا الحديث جَرى في بعض الأوقات.
وحاصله: أن صلاة النبي -صلى الله عليه وسلم- كانت متقاربة في مِقدارها، فكان ركوعه ورفعه من الرُّكوع وسجوده وجلوسه بين السَّجدتين قريبا من الاستواء في المِقدار، وإنما كان يُطيل القيام للقراءة في بعض الأوقات.
581;دیث کا مطلب یہ ہے: ”ابن الاشعث کے زمانہ میں ایک آدمی (جس کا انہوں نے نام ذکر کیا تھا) نے کوفہ پر غلبہ حاصل کیا تو ابوعیبدہ بن عبداللہ رحمہ اللہ و رضی عن ابیہ کو اس نے حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“ یہ شخص مطر بن ناجیہ تھا جیسا کہ دوسری روایت میں اس کا نام لیا گیا ہے۔ اور ابو عبیدہ یہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔
”وہ نماز پڑھاتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیا کرتا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ“ اتنی مقدار قومے میں ٹھہرنا واجب ہے۔ اس کے علاوہ ”مِلْء السماوات“ کا اضافہ مستحب ہے اس لیے کہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے کہ جب امام ”سَمِع الله لمن حَمِدَه“ کہے تو تم لوگ ”ربَّنا لك الحمد“ کہو۔
”اللهُمَّ ربَّنا لك الحَمد“ کا معنی دعا اور اعتراف ہے۔ یعنی اے اللہ ہماری دعا قبول فرما اور تیری ہدایت اور توفیق پر تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔
”مِلْءُ السَّماوات ومِلْءُ الأرض“ اس سے مراد مقدار اور تعدار کی کثرت اور عظمت بیان کرنا ہے کہ اے ہمارے رب تو اتنی تعریف کا مستحق ہے کہ اگر تعریف کا جسم ہوتا تو زمین و آسمان اس سے بھر جاتا۔
”ومِلْء ما شِئت من شيء بَعد“ یعنی تیری وسیع بادشاہت میں سے جو ہم نہیں جانتے۔
”أهْل الثَّناء والمَجد“ یعنی اے ہمارے رب تو ثناء کا مستحق ہے۔ ’ثناء‘ تعریف کو کہتے ہیں اور ’مجد‘ عظمت، سلطنت اور انتہائی شرافت کو کہتے ہیں۔ جو ذات تعریف اور مطلق تعظیم کے لائق ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
”لا مانع لما أعْطَيت“ یعنی تو جس چیز کو دینا چاہے وہ کوئی روک نہیں سکتا۔
”ولا مُعْطِي لما مَنعت“ جسے تو اپنی حکمت اور انصاف سے محروم کرنا چاہے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔
”ولا يَنفع ذَا الجَّدِّ مِنْك الجَدِّ“ الجّدُّ: بمعنیٰ سخاوت یعنی مالدار کی مالداری تیرے ہاں کچھ نفع نہیں دے سکتی اور نہ ہی اسے عذاب سے بچا سکتی ہے اور نہ ہی ثواب کا فائدہ دے سکتی ہے۔ صرف اللہ کا ارادہ اور مشیت ہی نفع دے سکتی ہے بس۔
حکم کہتے ہیں میں نے یہ عبدالرحمن بن ابی لیلی سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا میں نے براء بن عازب سے سنا وہ فرماتے تھے کہ ”رسول اللہ ﷺ کا اپنی نماز میں رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا پھر سجدہ کرنا اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا“ یعنی آپ ﷺ کی نماز کے ارکان کی مقدار قریب قریب تھی، تھوڑا بہت فرق ہوتا تھا۔ جب قیام طویل ہوتا تو رکوع بھی اتنا ہی طویل ہوتا، اسی طرح بقیہ ارکان ہوتے۔ اور جب قیام ہلکا ہوتا تو رکوع بھی اسی سے ملتا جلتا ہلکا ہوتا، اسی طرح باقی ارکان میں بھی ہوتا۔
اس حدیث کو بعض حالتوں پر محمول کیا جائے گا ورنہ تو آپ ﷺ کبھی کبھی نماز کو طویل بھی کرتے تھے۔ اسی لیے یہ حدیث بعض اوقات پر محمول کی جائے گی۔
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی نماز کے ارکان مقدار میں ایک دوسرے کے قریب قریب تھے۔ آپ کا رکوع، رکوع سے اٹھنا، سجود اور سجود کے درمیان بیٹھنا (سب تقریباً یکساں ہوتے)۔ تاہم بعض اوقات قراءت کی وجہ سے قیام لمبا کر دیتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10924

 
 
Hadith   1769   الحديث
الأهمية: أمرت أن أسجد على سبعة أعظم على الجبهة، وأشار بيده على أنفه واليدين والركبتين، وأطراف القدمين ولا نكفت الثياب والشعر


Tema:

مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پیشانی پر اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر۔ اور یہ کہ ہم اپنے کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹیں۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «أمِرْت أن أسْجُد على سَبْعَة أعَظُم على الجَبْهَة، وأشار بِيَده على أنْفِه واليَدَين والرُّكبَتَين، وأطْرَاف القَدَمين ولا نَكْفِتَ الثِّياب والشَّعر».

ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پیشانی پر اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر اور یہ کہ ہم اپنے کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى حديث :"أمِرْت أن أسْجُد" وفي رواية "أُمرنا"، وفي رواية: "أَمَر النبي -صلى الله عليه وسلم-"؛ والثلاث الروايات كلها للبخاري، والقاعدة الشرعية أنَّ ما أُمِرَ به النبي -صلى الله عليه وسلم- فهو أمرٌ عامٌّ له ولأمته؛ "على سَبْعَة أعَظُم" أي: أمِرت أن أسجد على سَبعة أعْضَاء، فالمراد بالأعَظُم: أعضاء السُّجود كما جاء مفسرا في الرواية الأخرى، ثم فسَّرها بقوله:


"على الجَبْهَة" أي أُمِرت بالسُّجود على الجَبَهة، مع الأنْف كما يدل عليه قوله: "وأشار بِيَده على أنْفِه"، أي أشار إلى أنْفِه ليُبَيِّن أنَّهما عُضو واحد.
"واليَدَين" أي وعلى باطِن الكَفَّين، كما هو المُراد عند الإطلاق، "والرُّكبَتَين وأطْرَاف القَدَمين" أي: وأُمِرت أن أسْجُد على الرُّكبتين وعلى أطراف أصابِع القَدَمَين وفي حديث أَبي حُميد السَّاعدي -رضي الله عنه- في باب صفة الصلاة بلفظ: (واسْتَقبل بأصابع رِجْلَيه القِبْلَة) أي وهو ساجد.


"ولا نَكْفِتَ الثِّياب والشَّعر" والكَفْت: الجَمع والضَّم، والمعنى: لا نَضُم ولا نَجمع الثِّياب والشَّعر من الانتشار عند الرُّكوع والسُّجود، بل نترك الأمر على حاله حتى يقعا على الأرض ليَسجد بجميع الأعضاء والثِّياب والشَّعر.
581;دیث کا مطلب: ”أمِرْت أن أسْجُد“ ایک روایت میں ہے ”أُمرنا“ (ہمیں حکم دیا گیا) اور ایک روایت میں ہے ”أَمَر النبي ﷺ“ (نبیﷺ نے حکم دیا) یہ تینوں روایتیں بخاری کی ہیں۔ شرعی قاعدہ یہ ہے کہ جس چیز کا حکم آپ ﷺ کو دیا جائے وہ حکم آپ ﷺ اور آپ ﷺ کی امت کے لیے عام ہوتا ہے۔
”على سَبْعَة أعَظُم“ یعنی مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ الأعَظُم سے مراد سجدے کے اعضاء ہیں جیسا کہ دوسری روایت میں اس کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔
پھر آپ ﷺ نے اس کی تفسیر فرمائی: ”على الجَبْهَة“ یعنی مجھے پیشانی پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، پیشانی کے ساتھ ناک بھی شامل ہے جیسا کہ ”وأشار بِيَده على أنْفِه“ یعنی آپ ﷺ نے ناک کی طرف اشارہ فرمایا تاکہ وضاحت کریں کہ پیشانی اور ناک دونوں ایک ہی عضو ہیں۔
”واليَدَين“ یعنی دونوں ہاتھوں کے باطن پر۔ یدین مطلق بولے جانے کے وقت یہی مُراد ہوتا ہے۔
”والرُّكبَتَين وأطْرَاف القَدَمين“ یعنی مجھے دونوں گھٹنوں اور پاؤں کے پنجوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
نماز کی کیفیت کے باب میں ابو حُمید ساعدی کی حدیث ان الفاظ کے ساتھ منقول ہے ”واسْتَقبل بأصابع رِجْلَيه القِبْلَة“ یعنی حالتِ سجدہ میں آپ ﷺ کے پاؤں کی انگلیاں قبلہ رُخ تھی۔
”ولا نَكْفِتَ الثِّياب والشَّعر“ الكَفْت: کا معنی ہے ضم کرنا اور سمیٹنا، مطلب یہ ہے کہ رکوع اور سجدے کے وقت کپڑے اور بال بکھرنے کی صورت میں ہم انہیں نہیں سمیٹتے تھے، بلکہ ہم انہیں اپنی حال پر چھوڑ دیتے تھے اور زمین پر دونوں گر پڑتے، تاکہ تمام اعضاء کپڑوں اور بالوں کے ساتھ سجدہ کریں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10925

 
 
Hadith   1770   الحديث
الأهمية: إذا سجدت فضع كفيك، وارفع مرفقيك


Tema:

جب تم سجدے کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر رکھ دیا کرو اور اپنی کہنیوں کو اوپر اٹھائے رکھو۔

عن البَرَاء بن عَازب -رضي الله عنهما- مرفوعًا: «إذا سَجَدت فضَع كفَّيك وارْفَع مِرْفَقَيْك».

براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم سجدے کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر رکھ دیا کرو اور اپنی کہنیوں کو اوپر اٹھائے رکھو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث إذا سَجَدت على الأرض فَمَكِّن كفَّيك من الأرض وارفع الذِّراعين من الأرض مع مُجَافاة الجَنْبَين؛ لأنه أشبه بهيئة المتواضع وأبْعد عن هيئة الكُسَالى ومُشابهة الحيوانات، فإن المُنبسط يشبه سِباع الحيوانات، حال افتراشها ويُشعر حاله بالتهاون بالصلاة وقِلَّة الاعتناء بها، والإقبال عليه، وفي حديث ميمونة -رضي الله عنها- عند مسلم: "كان -صلى الله عليه وسلم- يُجَافي يديه فلو أن بهيمة أرادت أن تَمر لمَرت".
581;دیث کا مفہوم: جب آپ زمین پر سجدہ کریں تو اپنی ہتھلیوں کو زمین پر رکھ لیں اور اپنے بازؤوں کو زمین سے اوپر اٹھائے رکھیں اور پہلوؤں سے بھی الگ رکھیں کیونکہ اس میں تواضع زیادہ ہے اوراس میں سست لوگوں کے انداز اور جانوروں کی مشابہت سے بھی پرہیز ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے بازوؤں کو کھول کر بچھا لیتا ہے اس کی مشابہت درندوں کے ساتھ ہوتی ہے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ نماز میں سستی برت رہا ہے اور اس کے اہتمام اور اس پر توجہ میں کمی کر رہا ہے۔ مسلم شریف میں میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ اپنے بازوؤں کو (پہلوؤں سے) دور رکھا کرتے تھے یہاں تک کہ اگر کوئی چوپایہ ان میں سے گزرنا چاہتا تو گزر سکتا تھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10927

 
 
Hadith   1771   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان إذا ركع فرج أصابعه وإذا سجد ضم أصابعه


Tema:

نبی ﷺ رکوع کرتے وقت اپنی انگلیاں کشادہ کر لیتے اور سجدہ کرتے وقت اپنی انگلیاں سمیٹ لیا کرتے تھے۔

عن وائل بن حجر -رضي الله عنه-: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان إذا ركع فَرَّجَ أصابِعَه وإذا سَجد ضَمَّ أصَابِعه.

وائل بن حجر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رکوع کرتے وقت اپنی انگلیاں کشادہ کر لیتے اور سجدہ کرتے وقت اپنی انگلیاں سمیٹ لیا کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: "كان إذا ركع فَرَّجَ أصابِعَه وإذا سَجد ضَمَّ أصَابِعه" أي: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان في الرَّكوع يقبض على رُكبتيه بِكَفَّيه ويفرِّج بين أصابعه؛ لأن ذلك أمكَن من الرُّكوع، وأثبت لحصول تَسوية ظهره برأسه.
وأما في السجود فيضع كفَّيه على الأرض، ويضمَّ أصابعه فيلصق بعضها ببعض؛ ليحصل بذلك كمال استقبال القِبْلَة بها، وهو أعْوَن على تحملها أثناء السُّجود.
581;دیث کا معنی: نبی ﷺ رکوع کرتے وقت اپنی انگلیوں کے مابین گیپ رکھتے یعنی نبی ﷺ رکوع کرتے وقت اپنی دونوں ہتھیلیوں سے اپنے دونوں گھٹنوں کو پکڑ لیتے اور انگلیوں کے درمیان کشادگی کر لیتے کیونکہ ایسا کرنے سے رکوع میں اور نمازی کے سر کا پیٹھ کے ساتھ برابری کرنے میں مدد ملتی ہے اور سجدہ میں جاتے وقت اپنی دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھتے اور انگلیوں کو ایک دوسرے سے ملا لیتے جس کی وجہ سے مکمل قبلے کا استقبال ہو جاتا اور وہ سجدے کے دوران (جسم کے بوجھ) برداشت کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10928

 
 
Hadith   1772   الحديث
الأهمية: رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يصلي متربعًا


Tema:

رسول اللہ ﷺ کو میں نے چہار زانوں ہو کر نماز پڑھتے ہو   ‎
ۓ دیکھا۔


Tema:

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يصلِّي متربِّعًا.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول الله ﷺ کو میں نے چہار زانوں ہو کر نماز پڑھتے ہوۓ دیکھا۔

التربُّع: أن يجعل باطِن قَدَمه اليُمنى تحت الفَخِذ اليُسرى، وباطِن اليُسرى تحت الفَخِذ اليُمنى، ويجلس على مقعدته، وقد فعل النبي -صلى الله عليه وسلم- هذا لما سَقط من فرسِه، وانفكت قدمه.
فإذا عجز المصلِّي في صلاة الفريضة عن القيام صلى جالسا مُتَرَبِّعا استحبابا، وهذا في حال قعوده المُقابل للقيام، أما في حال جلوسه بين السجدتين وقعوده في التشهدين، فيستحب أن يجلس مفترشا في التشهد الأول ومُتَوَرِّكَا في التشهد الثاني.
وكل هذه الصفات من باب الاستحباب والأفضلية، فلو خالف وجلس على غير الهيئات المتقدمة أجزأه؛ لأن المطلوب هو: الجلوس للتشهد وهذه الهيئات قَدْر زائد على الواجب.

578;ربُّع یہ ہے کہ نمازی اپنے دائیں پاؤں کے نچلے حصے کو بائیں ران تلے اور بائیں قدم کے نچلے حصے کو دائیں ران تلے رکھ کر سرین کے بل بیٹھ جائے۔ نبی ﷺ ایسے اس وقت بیٹھا کرتے تھے جب گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے آپ ﷺ کے پاؤں کا جوڑ نکل گیا تھا۔
جب نمازی فرض نماز میں قیام نہ کر سکتا ہو تو اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ چار زانوں بیٹھ کر نماز پڑھے۔ یہ اس وقت ہے جب وہ قیام کی جگہ بیٹھے۔ لیکن اگر یہ بیٹھنا دونوں سجدوں کے درمیان ہو یا قعدۂ تشہد کے لیے ہو، تو اس صورت میں مستحب یہ ہے کہ پہلے تشہد میں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھے اور دوسرے تشہد میں تورک کرے۔
ان تمام صورتوں کا تعلق استحباب اور افضیلت سے ہے۔ اگر نمازی سابق الذکر حالتوں کے علاوہ کسی اور حالت میں بیٹھ گیا تو تب بھی درست ہے۔ کیوںکہ نماز میں مطلوب تشہد کے لیے بیٹھنا ہے اوربیٹھنے کی یہ تمام صورتیں واجب سے زائد چیزیں ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10929

 
 
Hadith   1773   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يقول بين السجدتين: اللهم اغفر لي، وارحمني، وعافني، واهدني، وارزقني


Tema:

نبی ﷺ دو سجدوں کے مابین یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي“ کہ اے اﷲ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يقول بين السَّجدتَين: «اللَّهمَّ اغْفِرْ لي، وارْحَمْنِي، وعافِني، واهْدِني، وارزقْنِي».

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ دو سجدوں کے مابین یہ پڑھا کرتے تھے: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي“ کہ اے اﷲ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر ابن عباس -رضي الله عنها-  أن النبي -صلى الله عليه وسلم-: "كان يقول بين السَّجدتَين: اللَّهمَّ اغْفِرْ لي.."
أي: كان يَدعُو بين السَّجدتين بهذا الدعاء ولا فرق بين صلاة الفَرض وصلاة النفل، فالصلاة كلها ذِكْر وقراءة للقرآن، ومعنى قوله: "اللَّهمَّ اغْفِرْ لي": أي: اسْتُرنِي، مع التجاوز عن المؤاخذة.
"وارْحَمْنِي"، أي: هَات لي من لدُنْك رَحمة تشتمل على سَتر الذَّنب وعدم المؤاخذة، مع التَّفَضُل عليَّ من خَيري الدُّنيا والآخرة.
"وعافِني" أي: اعطني سَلامة وعافية، في دِيني من السَّيئات والشُّبهات، وفي بَدني من الأمراض والأسْقَام، وفي عقلي من العَتَه والجُنون، وأعظم الأمراض هي أمراض القلب، إما بالشُّبهات المُضلَّة، وإما بالشهوات المُهلكة،
"واهْدِني" الهِداية نوعان:
أحدهما: هداية دلالة وإرشاد إلى طريق الحق والصواب، وهذه حاصلة للمسلم والكافر: (وأما ثمود فهديناهم) [فصلت : 17] ، يعني: دللناهم على الحق.
الثاني: هداية توفيق وقبول، وهذه لا يحصل عليها إلا أهل الإيمان، وهي: المطلوبة هنا، ومعناها: اهْدِني للحقِّ وثَبِّتنِي عليه. 
"وارزقْنِي" أي: أعطني رزقًا، يُغنيني في هذه الحياة الدنيا عن الحاجة إلى خلقِك، وأعطني رزقًا واسعًا في الآخرة، مثل ما أعددته لعِبادك الَّذين أنْعَمت عليهم.
575;بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کر رہے ہیں کہ ”نبی ﷺ دو سجدوں کے بیچ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اللَّهمَّ اغْفِرْ لي...“ یعنی آپ ﷺ دو سجدوں کے مابین یہ دعا مانگا کرتے تھے اور اس سلسلسے میں فرض اور دوسری نمازوں میں کوئی فرق نہیں کیوں کہ نماز چاہے کوئی بھی ہو اس میں ذکر اور قرآن کی تلاوت ہی ہوتی ہے۔ آپ ﷺ کے کلمات: ”اللَّهمَّ اغْفِرْ لي“ کا معنی ہے کہ: میری پردہ پوشی کر اور اس کے ساتھ ساتھ مواخذہ سے بھی در گزر کر۔
”وارْحَمْنِي“ یعنی مجھے اپنی جناب سے رحمت عنایت فرما جس میں گناہ کی ستر پوشی ہو اور اس پر مواخذہ نہ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا و آخرت کی خیر مجھے عنایت فرما۔
”وعافِني“ یعنی مجھے دین کے معاملے میں برائیوں اور شبہات سے اور بدن کے معاملےمیں امراض اور بیماریوں سے اور عقل کے سلسلے میں بے وقوفي اور پاگل پن سے سلامتی اور عافیت عطا فرما۔ سب سے بڑے امراض دل کے امراض ہوتے ہیں جن کا تعلق یا تو گمراہ کن شبہات سے ہوتا ہے یا پھر ہلاک کردینے والی شہوات سے۔
”واهْدِني“ یعنی مجھے ہدایت دے، ہدایت کی دو قسمیں ہیں:
اول: وہ ہدایت جس میں راہِ حق اور صحیح راستہ دکھلا دیا جائے اور اس کی طرف رہنمائی کر دی جائے۔ اس قسم کی ہدایت مسلمان اور کافر دونوں ہی کو ملتی ہے۔ ﴿وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَاهُمْ﴾] یعنی ثمود کی ہم نے راہ حق کی طرف رہنمائی کی۔ (سورہ فصلت: 17)
دوم: وہ ہدایت جس میں توفیق و قبولیت پائی جائے۔ یہ صرف اہلِ ایمان کو حاصل ہوتی ہے۔ یہاں یہی مطلوب ہے۔ معنی یہ ہوا کہ: مجھے حق کی راہ دکھلا اور اس پر مجھے ثابت قدم رکھ۔
”وارزقنی“ یعنی مجھے رزق عطا فرما جو اس دنیا میں مجھے تیری مخلوق سے بے نیاز کر دے اور آخرت میں مجھے وسیع رزق عنایت فرما جیسا کہ تو نے اپنے ان بندوں کے لیے تیار کر رکھا ہے جن پر تو نے اپنا انعام کیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10930

 
 
Hadith   1774   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- ,إذا كان في وتر من صلاته لم ينهض حتى يستوي قاعدا


Tema:

جب نبی ﷺ اپنی نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔

عن مالك بن الحويرث -رضي الله عنه-: أنه رأى النبي -صلى الله عليه وسلم- يصلي, فإذا كان في وِتْرٍ من صلاته لم ينهض حتى يستوي قاعداً.

مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا، جب آپ ﷺ اپنی نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان من هديه -عليه السلام- إذا قام  من الركعة الأولى  إلى الثانية ومن الثالثة إلى الرابعة لم يقم حتى يستقر جالساً جلسة خفيفة ثم قام، وتسمى هذه الجلسة بجلسة الاستراحة، وقد رواها عنه -عليه السلام- جمع من الصحابة.
606;بیﷺ کا یہ طریقہ تھا کہ آپ ﷺ پہلی رکعت سے دوسری رکعت کے لیے اور تیسری رکعت سے چوتھی رکعت کے لیے کھڑے نہیں ہوتے جب تک کہ مکمل طور پر ہلکا سا بیٹھ نہ جاتے اس بیٹھنے کو جلسۂ استراحت کہتے ہیں۔ آپ ﷺ کے اصحاب میں سے کئی لوگوں نے آپ ﷺ سے اس جلسے کے متعلق روایت کیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10931

 
 
Hadith   1775   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قنت شهرا بعد الركوع، يدعو على أحياء من بني سليم


Tema:

نبی کریم ﷺ نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد قنوتِ نازلہ پڑھی۔ جس میں آپ ﷺ بنو سلیم کے قبیلوں کے حق میں بددعا کر رہے تھے۔

عن عاصم قال: سألتُ أنساً -رضي الله عنه- عن القُنُوت، قال: قبل الركوع، فقلت: إن فلاناً يزعم أنك قلت بعد الركوع؟ فقال: كَذَبَ، ثم حَدَّثَنَا، عن النبي -صلى الله عليه وسلم-: «أنه قنت شهراً بعد الركوع، يدعو على أحياء من بني سليم»، قال: «بعث أربعين -أو سبعين يشك فيه- من القراء إلى أناس من المشركين»، فعرض لهم هؤلاء فقتلوهم، وكان بينهم وبين النبي -صلى الله عليه وسلم- عهد، «فما رأيته وجد على أحد ما وجد عليهم».

عاصم الاحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے دعائے قنوت کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے ہونی چاہیے، میں نے عرض کیا کہ فلاں شخص کا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے رکوع کے بعد کہا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ انھوں نے جھوٹ کہا ہے۔ پھر انھوں نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد قنوتِ نازلہ پڑھی۔ جس میں آپ ﷺ بنو سلیم کے قبیلوں کے حق میں بددعا کر رہے تھے۔ انھوں نے بیان کیا کہ:آپ ﷺ نے چالیس یا ستر، راوی کو تعداد میں شک ہے قرآن کے عالم صحابہ کی ایک جماعت مشرکین کی طرف روانہ کیا، لیکن بنو سلیم کے لوگ ان کے آڑے آئے اور ان کو مار ڈالا۔ حالاں کہ نبی کریم ﷺ سے ان کا معاہدہ تھا۔ ( لیکن انھوں نے دغا دیا)۔ میں نے آپ ﷺ کو کسی معاملہ پر اتنا رنجیدہ اور غمگین نہیں دیکھا جتنا ان صحابہ کی شہادت پر آپ رنجیدہ تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف مشروعية القنوت في النوازل، وأنه يكون بعد الرفع من الركوع لفعل النبي -صلى الله عليه وسلم- عندما نقض بنو سليم العهد بينهم وبين المسلمين بقتلهم سبعين أو أربعين من القراء الذين أرسلهم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إليهم، فقنت شهراً يدعو عليهم بعد الركوع.
575;س حدیث میں قنوت نازلہ کی مشروعیت بیان کی جا رہی ہے۔ اور یہ کہ یہ رکوع سے اٹھنے کے بعد پڑھی جائے گی، کیوں کہ نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا جب بنو سلیم نے اپنے معاہدہ کو جو ان کے اور مسلمانوں کے مابین طے پایا تھا، توڑتے ہوئے ستر یا چالیس قراء صحابہ کو شہید کردیا، جنھیں رسول اللہ ﷺ نے مشرکیں کی طرف (دعوت وتبلیغ کی غرض سے) بھیجا تھا۔ آپ ﷺ نے ایک مہینہ تک رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی جس میں ان پر بددعا کرتے رہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10932

 
 
Hadith   1776   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان لا يقنت إلا إذا دعا لقوم، أو دعا على قوم


Tema:

نبیﷺ جب کسی قوم کے حق میں دعا یا کسی کے لیے بد دعا کرتے، تو اس صورت میں قنوت پڑھتے، ورنہ نہیں پڑھتے تھے۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم-: كان لا يقنت إلا إذا دعا لقوم، أو دعا على قوم.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ جب کسی قوم کے حق میں دعا یا کسی کے لیے بد دعا کرتے، تو اس صورت میں قنوت پڑھتے، ورنہ نہیں پڑھتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف المواطن التي كان يقنت فيها النبي -صلى الله عليه وسلم- وهي إما حال الدعاء لقوم، أو حال الدعاء على قوم، وبهذا يتبين مشروعية القنوت في النوازل، ولم يرد في الصلاة المكتوبة قنوت غيره، وهو مخصوص بأيام الوقائع والنوازل؛ لأنَّ النبي -صلى الله عليه وسلم- كان لا يقنت إلاَّ إذا دعا لقوم مسلمين، أو دعا على الكافرين، وهذا القنوت لا يختص بصلاة دون صلاة، بل ينبغي الإتيان به في جميع الصلوات.
581;دیث میں وہ مواقع بیان کیے گئے ہیں، جہاں آپ علیہ الصلاۃ السلام قنوت پڑھتے تھے۔ یعنی کسی کے لیے دعا یا بد دعا کرتے وقت۔ اس سے حادثات میں قنوت کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ فرض نمازوں میں اس کے علاوہ کوئی قنوت وارد نہیں ہوا۔ یہ حادثات اور مصائب کے دنوں کے ساتھ خاص ہے۔ اس لیے کہ اللہ کے نبی ﷺ مسلمانوں کے لیے دعا مانگتے وقت یا کفار کے لیے بددعا مانگتے وقت قنوت پڑھتے تھے۔ نیز یہ کسی خاص نماز کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ تمام نمازوں میں اسے پڑھنا چاہیے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10934

 
 
Hadith   1777   الحديث
الأهمية: يا أبت إنك قد صليت خلف رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وأبي بكر وعمر وعثمان وعلي هاهنا بالكوفة، نحوًا من خمس سنين، فكانوا يقنتون في الفجر؟ فقال: أي بني محدث


Tema:

اے ابا جان! آپ نے تو رسول اللہ ﷺ، ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمررضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ اور یہاں کوفہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے تقریبا پانچ سال تک نماز پڑھی ہے۔ کیا وہ لوگ فجر کی نماز میں قنوت پڑھا کرتے تھے؟۔ انھوں نے جواب دیا کہ میرے بیٹے! یہ (دین میں) ایک نئی ایجاد کردہ شے ہے۔

عن أبي مالك الأشجعي سعد بن طارق -رضي الله عنه-  قال: قلت لأبي: يا أبت إنك قد صليت خلف رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وأبي بكر وعمر وعثمان وعلي هاهنا بالكوفة، نحوًا من خمس سنين، «فكانوا يَقْنُتُونَ في الفجر؟» فقال: أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ.

ابو مالک اشجعی سعد بن طارق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے ابا جان سے پوچھا کہ اے ابا جان! آپ نے تو رسول اللہ ﷺ، ابوبکر ، عمر ، عثمان اور یہاں کوفہ میں علی رضی اللہ عنہم کے پیچھے تقریباً پانچ سال تک نماز پڑھی ہے۔ کیا وہ لوگ فجر کی نماز میں قنوت پڑھا کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ میرے بیٹے! یہ (دین میں) ایک نئی ایجاد کردہ بات ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف أن القنوت في صلاة الفجر إن لم يكن بسبب نازلة معينة فهو بدعة محدثة.
قال شيخ الإسلام: لا يقنت في غير الوتر، الاَّ أن تنزل بالمسلمين نازلة، فيقنت كل مصلٍّ في جميع الصلوات، لكنه في الفجر والمغرب آكد بما يناسب تلك النازلة، ومن تدبر السنة، علم علمًا قطعيًّا أنَّ النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- لم يقنت دائمًا في شيء من الصلوات.
581;دیث شریف میں اس بات کا بیان ہے کہ نمازِ فجر میں کسی خاص ناگہانی مصیبت کے بغیر دعائے قنوت پڑھنا بدعت ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وتر کےعلاوہ آپ ﷺ کسی نماز میں دعائے قنوت نہیں پڑھا کرتے تھے سوائے اس کے کہ مسلمانوں پر کوئی مصیبت آ جائے۔ اس صورت میں تمام نمازی ساری نمازوں میں قنوت پڑھا کرتے تھے بطورِ خاص فجر اور مغرب کی نماز میں، جو بھی صورت اس مصیبت کے مناسب ہوتی تھی۔ جو شخص سنت میں غور و فکر کرے گا اسے قطعی طور پر معلوم ہوجائے گا کہ نبی ﷺ نے نمازوں میں دائمی طور پر دعائے قنوت نہیں پڑھی۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10935

 
 
Hadith   1778   الحديث
الأهمية: إذا سجد أحدكم فلا يبرك كما يبرك البعير، وليضع يديه قبل ركبتيه


Tema:

جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے، اسے چاہیے کہ گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھوں کو (زمین پر) رکھے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعًا: «إذا سجد أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُك كَمَا يَبْرُكُ البَعِير، وَلْيَضَعْ يديه قبل ركبتيه».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے، اسے چاہیے کہ گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھوں کو (زمین پر) رکھے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف طريقة النزول للسجود، وهي أن يبدأ بوضع اليدين قبل الركبتين، وجاءت أحاديث أخرى في النزول بالركبتين قبل اليدين، فكلا الأمرين جائز ولا يُنكر على من فعل هذا أو فعل هذا.
575;س حدیث شریف میں سجدے میں جانے کے طریقۂ کار کا بیان ہے اور وہ یہ ہے کہ نمازی گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھوں کو نیچے رکھے۔ دوسری احادیث میں ہاتھوں سے پہلے گھٹنوں کو نیچے ٹکانے کا ذکر آیا ہے۔ لہٰذا دونوں امور جائز ہیں اور ان دونوں میں سے کسی بھی عمل کر نے والے پر نکیر نہیں کی جائے گی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10938

 
 
Hadith   1779   الحديث
الأهمية: أن ابن عمر كان يضع يديه قبل ركبتيه، وقال: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يفعل ذلك


Tema:

ابن عمر رضی اللہ عنہما (نماز میں سجدے میں جاتے ہوئے) اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں سے پہلے (زمین پر) رکھتے تھے اور فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔

كان ابن عمر يَضع يديه قبل رُكْبَتَيِه، وقال: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يَفعل ذلك.

ابن عمر رضی اللہ عنہما (نماز میں سجدے میں جاتے ہوئے) اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں سے پہلے (زمین پر) رکھتے تھے اور فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث يدل على أن المصلي يضع يديه قبل ركبتيه عند النزول للسجود، لكن يعارضه حديث وائل بن حجر -رضي الله عنه- في أنَّ المصلي حين يهوي للسجود فإنه يضع ركبتيه قبل يديه. والمسألة اجتهادية والأمر فيها واسع؛ ولذا خير بعض الفقهاء المصلي بين الأمرين، إما لضعف الأحاديث من الجانبين وإما لتعارضها وعدم رجحان بعضهما على بعض في نظره؛ ونتيجة هذا: السعة والتخيير بين الهيئتين.
740;ہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نمازی سجدے میں جاتے وقت گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھوں کو رکھے گا۔ تاہم وائل بن حجررضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث اس سے ٹکراتی ہے، جس میں آیا ہے کہ: نمازی جب سجدے کے لیےجھکے، تو اپنے ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھے۔در حقیقت یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے، جس میں کشادگی ہے۔ اسی وجہ سے بعض فقہا نے نمازی کو دونوں میں سے کسی پر بھی عمل کرنے کا اختیار دیا ہے؛ اس بنا پر کہ یا تو دونوں طرح کی حدیثوں میں ضعف ہے یا پھر ان میں تعارض پایا جاتا ہے اور ان کی نظر میں ترجیح کی کوئی صورتبھی نہیں بنتی۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں کشادگی ہے اور دونوں صورتوں میں سے کسی کو بھی اپنا لینے کا اختیار ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10940

 
 
Hadith   1780   الحديث
الأهمية: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا قعد يدعو، وضع يده اليمنى على فخذه اليمنى، ويده اليسرى على فخذه اليسرى، وأشار بإصبعه السبابة، ووضع إبهامه على إصبعه الوسطى، ويلقم كفه اليسرى ركبته


Tema:

جب(نماز میں )بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پراور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اور اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے اوراپنا انگوٹھا اپنی د رمیانی انگلی پررکھتےاور بائیں گٹھنے کو اپنی بائیں ہتھیلی کے اندر لےلیتے۔

عن عبد الله بن الزُّبير -رضي الله عنهما- قال: «كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا قَعد يَدْعُو، وضع يَده اليُمْنَى على فخِذِه اليُمْنَى، ويَده اليُسْرَى على فخِذِه اليُسْرَى، وأشَار بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَة، ووضَع إبْهَامَه على إِصْبَعِهِ الوُسْطَى، ويُلْقِم كَفَّه الْيُسْرَى رُكْبَتَه».

عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ:رسول اللہ ﷺجب (تشہد میں) بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھ لیتے اور اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے نیز اپنا انگوٹھا اپنی درمیانی انگلی پر رکھتےاور بائیں گھُٹنے کو اپنی بائیں ہتھیلی کے اندر لے لیتے (پکڑلیتے)۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: "كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا قَعد يَدْعُو" يعني: جلس للتَّشهد، يؤيده حديث ابن عمر -رضي الله عنهما-: (كان إذا قَعَد للتَّشهد، وضع يَده اليُسْرَى على رُكْبتَهِ اليُسْرَى..)، رواه مسلم.
والتَّشهد هو قراءة: "التَّحيات لله والصلوات والطَّيبات، السَّلام عليك أيها النَّبي ورحمة الله وبركاته، السَّلام علينا وعلى عباد الله الصالحين.."، وسُمي دُعاء لاشتماله على الدعاء؛ فإن قوله: "السَلام عليك"، "والسَلام علينا" دعاء.
قوله: "وضع يَده اليُمْنَى على فَخِذِه اليُمْنَى، ويَده اليُسْرَى على فخِذِه اليُسْرَى"، أي: أنه إذا جلس للتَّشهد بَسط يَده اليُمنى على فَخِده اليُمنى واليُسرى كذلك؛ والحكمة في وضعها عند الرُكبة أو على الرُّكبة أو الفَخِذ مَنْعُها من العَبث، ووضع اليَد على الفَخِذ لا يُخالف وضعها على الرُّكبة؛ لأن من لازم وضع اليَد على الفَخذ أن تصل أطراف الأصابع إلى الرُّكبة، وفي رواية وائل ابن حُجْر -رضي الله عنه- عند النسائي وغيره أن النبي -صلى الله عليه وسلم-: "وضع كَفَّه اليُسرى على فَخِذه ورُكبته اليُسرى، وجعل حَدَّ مِرفقه الأيمن على فَخِذه اليُمنى" وقوله -رضي الله عنه-: "وجعل حَدَّ مِرفقه الأيمن على فَخِذه اليُمنى"، فإذا جعل المصلِّي حدَّ مرفقه على فخذه فإنه بلا شك أن أطراف الأصابع تصل إلى الرُّكبة.
قال النووي -رحمه الله-: "قد أجمع العلماء على استحباب وضعها عند الرُّكبة أو على الرُّكبة، وبعضهم يقول بعطف أصابعها على الرُّكبة، وهو معنى قوله: "ويلقم كَفه اليُسرى رُكْبَتَه".
وقوله: "وضع يَده" المُراد باليَد هنا: من أطراف الأصابع إلى المرفقين، وظاهر الحديث: سواء كان ذلك في التَّشهد الأول أو الثاني.
قوله: "وأشَار بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَة" السَّبَّابة هي: الأصْبِع التي تَلي الإبْهَام، وسُمَّيت بالسَّبَّابة؛ لأنَّه يُشار بها عند السَّبِّ، وتسمى أيضًا بالمُسَبِّحة؛ لأنه يُشير بها إلى توحيد الله -تعالى- وتَنزيهه، وهو: التَّسبيح، والإشارة بالإصبع السَّبَّابة عند التَّشهد سُنة، ثبت بذلك الأحاديث الصحيحة، والسنة أن يشير بها من حِين قَعوده للتَّشهد إلى أن يَفرغ منه؛ لظاهر حديث الباب، فإن قوله: "كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا قَعد يَدْعُو، وضع يَده اليُمْنَى على فخِذِه اليُمْنَى، ويَده اليُسْرَى على فخِذِه اليُسْرَى، وأشَار بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَة..".
وفي مسلم -أيضاً- من حديث عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان إذا قَعد في التَّشهد وضع يَده اليُسرى على رُكْبَتِه اليُسْرَى، ووضع يَده اليُمنى على رُكبته اليُمنى، وعَقَد ثلاثة وخمسين وأشار بالسَّبَّابة".
ومثله: حديث وائل بن حُجْر -رضي الله عنه- عند أبي داود وفيه :" ثم جلس فافترش رِجله اليُسرى، ووضع يَده اليُسرى على فخذه اليسرى، وحَدَّ مِرفقه الأيمن على فَخذه اليَمنى، وقَبِض ثنتين وحَلَّق حَلَقة، ورأيته يقول هكذا، وحَلَّق بِشْرٌ الإبْهَام والوُسْطَى وأشار بالسَّبَّابة".
قال ابن حَجر -رحمه الله-: "من أول جلوسه للتَّشَهد كما دلت عليه الرِّوايات الأخرى"، وبهذا أفتى الشيخ ابن باز -رحمه الله- واللجنة الدائمة.
قوله: "ووضَع إبْهَامَه على إِصْبَعِهِ الوُسْطَى" يعني: حَلَّق بالإبْهَام والوسْطى وأشار بالسَّبَّابة.
قوله: "وأشَار بِإِصْبَعِهِ" يعني: يُشير بالسَّبَابة؛ وذلك بأن يجعلها قائمة في جميع الأحوال المتقدمة؛ والحكمة في الإشارة بها إلى أن المَعبود -سبحانه وتعالى- واحد؛ ليجمع في توحيده بين القول والفعل والاعتقاد.
وفي حديث ابن عمر مرفوعا في مسند الإمام أحمد: "لهي أشدُّ على الشيطان من الحديد".
قوله: "وأشَار بِإِصْبَعِهِ" ظاهر الحديث: أنه لا يُحركها؛ لأن الإشارة غير التحريك.
قوله: "ويُلْقِم كَفَّه الْيُسْرَى رُكْبَتَه" أي: يدخل رُكْبَته في راحَة كَفِّه اليُسرى ويقبض عليها، حتى تَصير رُكبته كاللُّقمة في يده.
والحال الثانية: أن يبسط يده اليُسرى على رُكبته من غير قَبض كما في حديث ابن عمر -رضي الله عنه- في مسلم: "أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان إذا جلس في الصلاة وضع يديه على رُكبتيه... ويده اليُسْرى على رُكبته باسطها عليها"، وبناء عليه: تكون سُنة وضع اليدين عند التشهد وردت على وجهين، وبأيهما أخذ فقد أصاب السُّنَّة، والأولى والأفضل أن يفعل هذا تارة وهذا تارة؛ عملا بجميع ما ثبت عنه -صلى الله عليه وسلم-.
581;دیث کا مفہوم: ”رسول اللہ جب بیٹھتے تو دعا کرتے“ یعنی جب تشہد کے لیے بیٹھتے۔ اس کی تائید عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ جب آپﷺ تشہد کے لیے بیٹھتے تو اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے۔ (مسلم)
تشہد میں یہ دعا پڑھی جاتی ہے: ”التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ“ اوراس کا نام دعا اس لیے رکھا گیا ہے کیوں کہ یہ دعا پر مشتمل ہے جیسا کہ آپ کے فرمان میں ہے ”السَلام عليك“، ”والسَلام علينا“ ہے جو کہ دعا ہے۔ اور”اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اوربایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے“ یعنی جب آپﷺ تشہد کے لیے بیٹھتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر پھیلا لیتے اوراسی طرح بایاں بائیں ران پر۔ ۔ہاتھ کو گھٹنے کے قریب یا گھٹنے پر یا ران پر رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ فضول حرکتوں سے بچا جاسکے۔ ہاتھ کو ران پر رکھنا یہ گھٹنوں پر رکھنے کے متضاد نہیں کیوں کہ جب ہاتھ کو گھٹنوں پر رکھا جائے گا تو انگلیوں کو گھٹنوں کے ساتھ ملایا جائے گا۔
سنن نسائی میں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ بائیں ہتھیلی کو اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھتے اوراپنی دائیں کہنی کو اپنی دائیں ران پر رکھتے، اور یہ کہنا کہ اپنی دائیں کہنی کے کنارے کو اپنی دائیں ران پر رکھتے۔ جب نمازی اپنی کہنی کے کنارے کو اپنی ران پر رکھے گا تو لا محالہ انگلیوں کے کنارے گھٹنوں تک پہنچیں گے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ انگلیوں کو گھٹنوں پر یا گھٹنوں کے قریب رکھنے میں استحباب ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس کا عطف انگلیوں کو گھٹنوں پر رکھنے پر ہے“۔ یہی اس قول ”اپنے بائیں گھٹنے کو اپنی ہتھیلی میں لے لیتے“ کا معنی بھی ہے۔
”اپنے ہاتھ کو رکھتے“ میں، ہاتھ سے مراد انگلیوں کے پوروں سے لے کر کہنیوں تک کا حصہ ہے۔ حدیث کے ظاہر سے یہی معلوم ہو رہا ہے کہ یہ حالت چاہے پہلے تشہد میں ہو یادوسرے میں ہو دونوں ایک طرح ہیں۔
”اور اپنی سبابہ انگلی کے ساتھ اشارہ کیا“ ’سبابہ‘ سے مراد وہ انگلی ہے، جو انگوٹھے کے ساتھ متصل ہوتی ہے۔ اس کو سبابہ اس لیے کہا گیا ہے کہ گالی گلوچ کرتے وقت اس کے ذریعہ اشارہ کیا جاتا ہے۔ اس کا نام ’مُسَبِّحَہ‘ بھی ہے کیوں کہ اس کے ساتھ اللہ کی توحید اور اس کی پاکی بیان کی جاتی ہے اور یہ تسبیح ہے۔ سبابہ انگلی سے حالت تشہد میں اشارہ کرنا صحیح احادیث سے ثابت شدہ سنت ہے۔ اور مسنون یہی ہے کہ جب تشہد کے لیے بیٹھا جائے اس وقت سے لے کر تشہد سے فارغ ہونے تک اشارہ کیا جائے۔کیوں کہ حدیث کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ جب بیٹھتے تو دعا کرتے، دائیں ہاتھ کو اپنی دائیں ران پر رکھتے اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر اور سبابہ انگلی سے اشارہ کرتے۔ اسی طرح صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بےشک رسول اللہ ﷺ جب تشہد میں بیٹھتے تو دائیں ہاتھ کو اپنے دائیں گھٹنے پر رکھتے اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر اور ترپن (53) کی گرہ لگاتے اور سبّابہ انگلی سے اشارہ کرتے تھے۔ اسی طرح وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے سننِ ابی داؤد میں روایت ہے کہ پھر بیٹھتے، اپنے بائیں پاؤں کو زمین پر بچھا لیتے، اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی دائیں ران پر رکھتے اور اپنی دائیں کہنی کو اپنی دائیں ران پر بچھا لیتے، مٹھی بند کرلیتے اور حلقہ بنا لیتے۔ میں نے دیکھا کہ اس طرح سے کہ انگوٹھے اور درمیانی انگلی کے ساتھ حلقہ بنا لیتے اور سبابہ سے اشارہ کرتے۔
ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: یہ کام آپ ﷺ اپنے تشہد میں بیٹھنے کی ابتدا سے کرتے جیساکہ بعض دیگر روایات میں آتا ہے۔
ابن باز رحمہ اللہ اور مستقل فتوی کمیٹی (سعودی عرب) کا بھی یہی فتویٰ ہے۔
”اپنے انگوٹھے کو اپنی درمیانی انگلی پر رکھتے“ کا مطلب ہے کہ انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ بناتے اور سبابہ انگلی سے اشارہ کرتے۔
”اپنی انگلی سے اشارہ کرتے“ یعنی اپنی سبّابہ انگلی کےساتھ اشارہ کرتے۔ اس کو ہر حالت میں شروع سے ہی کھڑی کر لیتے تھے اور اس اشارہ میں حکمت یہ ہے کہ اس میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے اقوال و افعال اور اعتقاد ہر ایک میں اس کی توحید کی طرف اشارہ ہے۔
مسند امام احمد میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً یہ حدیث ثابت ہے کہ یہ شیطان کو لوہے سے بھی زیادہ سخت لگتی ہے۔
”اپنی انگلی سے اشارہ کرتے“ میں حدیث کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ انگلی کو حرکت نہیں دیتے تھے جب کہ اشارہ بغیر حرکت کے نہیں ہوتا۔
”اپنے گھٹنے کو بائیں ہتھیلی کے نیچے لیے لیتے“ کا مطلب ہے کہ آپ ﷺ اپنے گھٹنے کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں داخل کر کے اس کو مضبوطی سے تھام لیتے بایں طور کہ گھٹنا ہاتھ کا لقمہ بن جائے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اپنا دایاں ہاتھ ،گھٹنے کو پکڑے بغیر، اس پر بچھا لیں، جیسا کہ صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ نبی کریمﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے ہاتھ کو اپنے گھٹنے پر رکھتے اور بائیں ہاتھ کو اپنے گھٹنے پر بچھا لیتے۔ اس بنا پر ہاتھوں کو تشہد کی حالت میں گھٹنوں پر رکھنے کے حوالے سے مسنون عمل دو طرح سے ثابت ہے۔ اس لیے (ان دونوں صورتوں) میں سے جس کو بھی اختیار کیا جائے گا سنت پر عمل ہوجائے گا۔جب کہ اولیٰ اور افضل یہی ہے کہ کبھی ایک طرح سے کر لیا جائے اور کبھی دوسری طرح کر لیا جائے اس طرح آپ ﷺ سے ثابت شدہ تمام طریقوں پر عمل ہو جائے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10941

 
 
Hadith   1781   الحديث
الأهمية: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يعلمنا التشهد كما يعلمنا السورة من القرآن


Tema:

رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد یوں سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما-، أنه قال: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يعلمنا التشهد كما يعلمنا السورة من القرآن فكان يقول: «التحيَّات المباركات، الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لله، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وَبَرَكَاتُهُ، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد  أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وأشهد أنَّ محمَّدا رسول الله» وفي رواية ابن رُمْحٍ كما يُعلِّمنا القرآن.

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد یوں سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے، آپ فرمایا کرتے تھے: ”التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ“۔ بقا و بادشاہت، عظمت و اختیارات، کثرتِ خیر اور ساری بابرکت دعائیں اورساری پاکیزہ نمازیں اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔
ابن رمح کی روایت میں ہے کہ جس طرح آپ ﷺ ہمیں قرآن سکھاتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف صيغة التشهد، وأن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يحرص على تعليمهم إياه كما يعلمهم آيات القرآن، والصيغة هي: (التحيات المباركات، الصلوات الطيبات لله، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا رسول الله)، وهي تشبه صيغة التشهد المشهورة الواردة عن ابن مسعود -رضي الله عنه-، وإنما الفرق في زيادة المباركات، وحذف الواو في الكلمتين بعدها، ويشرع التنويع بين الصيغ الواردة في التشهد.
581;دیث شریف کلماتِ تشہد کو بیان کرتی ہے اور یہ کہ نبی ﷺ صحابہ کو اسی اہتمام کے ساتھ تشہد سکھاتے تھے جس اہتمام سے آپ انہیں قرآن مجید کی آیتیں سکھاتے تھے،تشہد کے الفاظ یہ ہیں: ”التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ“، تشہد کے یہ الفاظ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی مشہور کلماتِ تشہد کے قریب تر ہیں،فرق صرف ”المبارکات“ کے لفظ کی زیادتی اور اس کے بعد دونوں کلمات میں ”واو“ کے حذف کا ہے۔ تشہد کے سلسلہ میں وارد مختلف صیغوں کو پڑھنے میں تنوع اپنانا مشروع ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10943

 
 
Hadith   1782   الحديث
الأهمية: صليت مع النبي -صلى الله عليه وسلم-، فكان يسلم عن يمينه: السلام عليكم ورحمة الله وبركاته، وعن شماله: السلام عليكم ورحمة الله


Tema:

ميں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ ﷺ اپنے دائیں طرف السلام عليكم ورحمةُ اللهِ وبركاته کہہ کر اور بائیں طرف السلام عليكم ورحمةُ الله کہہ کر سلام پھیرتے تھے۔

عن وائل بن حُجْرٍ -رضي الله عنه- قال: صلَّيت مع النبي -صلى الله عليه وسلم-، فكان يُسلِّم عن يَمينه: «السَّلام عليكم ورحْمَة الله وبَرَكَاتُه»، وعن شِمَاله: «السَّلام عليكم ورحْمَة الله».

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ميں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ ﷺ اپنے دائیں طرف السلام عليكم ورحمةُ اللهِ وبركاته کہہ کر اور بائیں طرف السلام عليكم ورحمةُ الله کہہ کر سلام پھیرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث يدل على أنَّ المصلي لا يخرج من صلاته إلا بتسليمتين عن اليمين والشمال، فيقول في الأولى «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته»، في الثانية: «السلام عليكم ورحمة الله»، وزيادة (بركاته) تكون أحيانًا؛ لورود أحاديث أخرى ليس فيها هذه الزيادة، والغالب عدم الزيادة ولكنها جائزة.
740;ہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نمازی اپنی نماز سے دو سلام پھیر کر ہی فارغ ہوتا ہے، ایک دائیں طرف اور دوسرا بائیں طرف۔پہلے میں وہ ”السلام عليكم ورحمة الله وبركاته“ کہتا ہے اور دوسرے میں ”السلام عليكم ورحمة اللہ“ کہتا ہے۔ ”وبرکاتہ“ کا اضافہ کبھی کبھی کیا جائے گا اس لیے کہ دوسری تمام احادیث میں یہ اضافہ موجود نہیں ہے، زیادہ تر اس اضافہ کے بغیر ہی ہے تاہم یہ اضافہ جائز ودرست ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10945

 
 
Hadith   1783   الحديث
الأهمية: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا انصرف من صلاته استغفر ثلاثا، وقال: اللهم أنت السلام ومنك السلام، تباركت يا ذا الجلال والإكرام


Tema:

رسول الله ﷺ جب اپنی نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے، تو تین دفعہ استغفار کرتے اور فرماتے: ”اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ“ اے اللہ تو ہی سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ملتی ہے، تو بڑا برکت والا ہے، اے جلا ل اور بزرگی والے!۔

عن ثَوْبَان -رضي الله عنه- قال: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا انْصَرف من صلاته اسْتَغْفَر ثلاثا، وقال: «اللهُمَّ أنت السَّلام ومِنك السَّلام، تَبَارَكْتَ يا ذا الجَلال والإكْرَام».

ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: رسول الله صلى الله عليه وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین دفعہ استغفار کرتے اور فرماتے: ”اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ“ اے اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ملتی ہے، تو بڑا برکت والا ہے، اے جلا ل اور بزرگی والے!۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في الحديث بيان استحباب قول المصلي بعد الانتهاء من الصلاة: أستغفر الله، أستغفر الله، أستغفر الله. ثم يقول هذا الدعاء: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْك السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ.
وهناك أدعية أخرى وردت في أحاديث أخرى مما يقال عقب الصلاة.
581;دیث میں اس بات کا بیان ہے کہ نمازی کے لیے نماز پڑھ لینے کے بعد ”اَسْتَغْفِرَ اللهَ“، اَسْتَغْفِرَ اللهَ“، اَسْتَغْفِرَ اللهَ“ کہنا مستحب ہے۔ اس کے بعد وہ یہ دعا پڑھے: ”اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْك السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ“۔ اس کے علاوہ احادیث میں بہت سی دیگر دعاؤں کا بھی ذکر آیا ہے، جنہیں نماز کے بعد پڑھا جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10947

 
 
Hadith   1784   الحديث
الأهمية: من سبح الله دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين, وحمد الله ثلاثا وثلاثين, وكبر الله ثلاثا وثلاثين, فتلك تسع وتسعون, وقال تمام المائة: لا إله إلا الله وحده لا شريك له, له الملك, وله الحمد, وهو على كل شيء قدير, غفرت له خطاياه, وإن كانت مثل زبد البحر


Tema:

جو شخص بھی ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہے اور تینتیس مرتبہ الحمدللہ کہے اور تینتیس مرتبہ اللہ اکبر کہے تو یہ کل ننانوے مرتبہ ہوا اور سو کی عدد پورا کرتے ہوئے وہ ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ“ کہے تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «مَن سبَّح الله دُبُر كل صلاة ثلاثا وثلاثين, وحَمِد الله ثلاثا وثلاثين, وكَبَّر الله ثلاثا وثلاثين, فتِلك تِسْعَةٌ وتِسْعُونَ, وقال تَمَام المائة: لا إله إلا الله وحْدَه لا شريك له, له المُلك, وله الحَمد, وهو على كلِّ شيء قَدِير, غُفِرَت خَطَايَاه, وإن كانت مثل زَبَدِ البَحْرِ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بھی ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہے اور تینتیس مرتبہ الحمدللہ کہے اور تینتیس مرتبہ اللہ أکبر کہے تو یہ کل ننانوے مرتبہ ہوا اور سو کی عدد پورا کرتے ہوئے وہ ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ“ (نہیں کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لئے بادشاہت ہے اسی کے لئے تعریف ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے) کہے تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث عن فضل التسبيح والتحميد والتكبير والتهليل في أدبار الصلوات المكتوبة، (والتقييد بالمكتوبة لورود روايات أخرى تقيد ذلك بدبر الصلاة المكتوبة).
وتسبيح الله: تنزيهه عز وجل عن كل نَقص وعَيب، فالله عز وجل كامل من جميع الوجوه، كامل في أسمائه وفي صفاته وفي أفعاله.
والحَمد: هو الثَّناء على الله بصفات الكَمَال، فبالتَّسبيح يكون التَّخلي عن كل صفات النَّقص، وبالحَمد يكون الاتصاف بصفات الكمال.
والتَّكبير: وصف الله  تعالى بأنه أكبر من كل شيء له الكِبْرِياء في السَّماوات والأرض وهو العزيز الحكيم.
والفضل المذكور هو مغفرة الخطايا, ومعنى هذا أن هذا الذِّكر سببٌ لمغفرة الذُّنوب، وتكفير السَّيئات، والمراد: تكفير صغائر الذُّنوب، أما الكبائر فلا يُكَفِّرها إلاَّ التُّوبة منها، قال تعالى: {إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ} [النساء: 31].
فمن أتى بهذا الذِّكر عَقب الصلاة ولو مع الفاصل اليسير، سواء كان قاعدا أو  ماشيا وسواء كان مستقبل القِبلة أو مستدْبِرها وسواء كان في المسجد أو خارجه، فله الأجر كاملا، ولا يظلم ربُّك أحدًا، فإن لم يأت به إلا بعد زمن طويل، فقد فاتته الفضيلة وله أجْر الذِّكر المُطلق له.
ومن جميل فضل الله تعالى أن المغفرة تكون للذنوب وإن كثرت, ومعنى الكثرة يستفاد من قوله: (وإن كانت مثل زبد البحر).
والعدد المذكور هنا أن يكرر كلًا من التسبيح والتحميد والتكبير ثلاثًا وثلاثين مرة, ويقول مرة واحدة: لا إله إلا الله وحده لا شريك له, له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير.
575;س حدیث میں نبی ﷺ فرض نماز کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اور تہلیل کہنے کی فضیلت کو بیان کررہے ہیں۔ (فرض نماز کی قید دیگر روایات کی وجہ سے لگائی گئی ہے، جس میں فرض نماز کے بعد کی تقیید مذکور ہے)۔
اور اللہ کی تسبیح کا مطلب اللہ تعالیٰ کو ہر عیب اور کمی سے پاک کرنا ہے، اللہ تعالی کی ذات ہر اعتبار سے کامل ہے، وہ اپنے ناموں، اپنی صفات اور اپنے افعال میں کامل ہے۔
اور حمد سے مراد اللہ کی صفاتِ کمال کے ساتھ تعریف و ثناہے۔ تو تسبیح کا مطلب ہوگا کہ اللہ کو ہر عیب سے پاک مانا جائے اور حمد کا مطلب ہوگا کہ اللہ کی ذات کو ہر صفتِ کمال سے متصف کیا جائے۔
اور تکبیر کا مطلب اللہ کی ذات کے لئے اس وصف کو تسلیم کرنا ہے کہ وہ ہر چیز سے بڑا ہے، آسمان اور زمین میں بڑائی سراپا اسی کو زیب دیتی ہے اور وہ ہر چیز پر غالب اور حکمت والا ہے۔
اس کے پڑھنے پر جو فضیلت ہے وہ ہے گناہوں کی مغفرت، اس کا مطلب ہے کہ یہ ذکر گناہوں کی مغفرت اور خطاؤں کی تکفیر و دوری کا سبب ہے۔اور (مغفرت و کفّارہ) سے مراد صغیرہ گناہوں کا کفّارہ ہے، رہا کبیرہ گناہ تو ان سے توبہ کرنا ہی ان کے کفارہ کا سبب ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:﴿إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ﴾ ”اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناه دور کر دیں گے“ (سورہ نساء: 31)
پس جو کوئی اس ذکر کو نماز کے اختتام کے بعد پڑھے چاہے وہ بیٹھا ہو یا چل پھر رہا ہو، قبلہ رخ ہو یا اس کے برعکس، مسجد میں موجود ہو یا اس سے باہر نکل گیا ہو اگرچہ اختتامِ نماز کے بعدتھوڑا وقفہ ہی کیوں نہ ہوجائے، اس کے لیے کامل و مکمل اجر ہے۔ اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا، اور اگر کوئی اس ذکر کو (نماز کے اختتام کے) ایک طویل وقفہ کے بعد پڑھے تو اس سے یہ فضیلت چھوٹ جائے گی، ہاں مطلق ذکر کا اجر تو اسے ملے گا۔
اللہ تعالی کے بے پایاں فضل کا نتیجہ ہی ہے کہ گناہ اپنی کثرت کے باوجود بخش دیے جاتے ہیں۔ کثرت کا مفہوم نبی ﷺ کے اس قول سے لیا گیا ہے: ‘‘اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کی طرح ہوں۔‘‘
مذکورہ عدد یہ ہے کہ تسبیح، تحمید اور تکبیر کو تینتیس مرتبہ پڑھا جائے اور ایک مرتبہ ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ“ پڑھا جائے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10948

 
 
Hadith   1785   الحديث
الأهمية: من قرأ آية الكرسي في دبر كل صلاة مكتوبة لم يمنعه من دخول الجنة إلا إلا أن يموت


Tema:

جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اس کو جنت مین داخل ہونے سے موت کے سوا اور کوئی چیز روکنے والی نہیں۔

عن أبي أمامة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «من قرأ آية الكرسي في دبر كل صلاة مكتوبة لم يمنعه من دخول الجنة إلا أن يموت». وفي رواية: «وقل هو الله أحد».

ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اس کو جنت مین داخل ہونے سے موت کے سوا اور کوئی چیز روکنے والی نہیں“۔
اور ایک روایت میں: ”وقل هو الله أحد“ (یعنی قل هو الله أحد بھی پڑھے) کے لفظ کا اضافہ ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف فضل قراءة آية الكرسي، وهي في سورة البقرة: {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ} [البقرة: 255] دبر كل صلاة، والفضل هو دخول الجنة أو أن دخول الجنة يكون إن مات من ساعته تلك.
740;ہ حدیث ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے کی فضیلت بیان کرتی ہے۔ آیت الکرسی سورۃ البقرۃ میں ہے: ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴾ (سورہ بقرہ: 255) اس کی فضیلت یہ ہے کہ اس کا پڑھنے والا جنت میں داخل ہوگا یا مرتے ہی جنت میں داخل ہو جائے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10950

 
 
Hadith   1786   الحديث
الأهمية: صل قائما، فإن لم تستطع فقاعدا، فإن لم تستطع فعلى جنب


Tema:

کھڑے ہو کر پڑھو اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہیں تو بیٹھ کر پڑھ لو اور اگر بیٹھ کر بھی پڑھنے کی طاقت نہیں تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو۔

عن عمران بن حصين -رضي الله عنهما- قال: كانت بي بَوَاسيرُ، فسألت النبي -صلى الله عليه وسلم- عن الصلاة، فقال: «صَلِّ قائما، فإن لم تستطع فقاعدا، فإن لم تستطع فعلى جَنْبٍ».

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض تھا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز کے بارے میں پوچھا کہ کیسے پڑھوں؟ تو آپﷺ نے فرمایا: کھڑے ہو کر پڑھو اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہیں تو بیٹھ کر پڑھ لو اور اگر بیٹھ کر بھی پڑھنے کی طاقت نہیں تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف كيفية الصلاة لمن كان به مرض من بواسير أو ألم عند القيام ونحو ذلك من الأعذار، فأخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن الأصل القيام، إلا في حال عدم الاستطاعة فيصلي جالساً وإن لم يستطع الصلاة جالساً فله أن يصلي على جنبه.
575;س حدیث میں اس شخص کی نماز کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے جس کو بواسیر کا مرض ہو یا کوئی اور تکلیف یا عذر لاحق ہو جس وجہ سے وہ کھڑا نہ ہو سکتا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بتایا ہے کہ اصل قیام ہے اور اگر کسی میں کھڑے ہونے کی طاقت نہیں تو وہ بیٹھ کر نماز پڑھ لے اور اگر کسی میں بیٹھ کر بھی نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں تو وہ پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ سکتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10951

 
 
Hadith   1787   الحديث
الأهمية: صل على الأرض إن استطعت، وإلا فأوم إيماء، واجعل سجودك أخفض من ركوعك


Tema:

اگر استطاعت ہے تو زمین پر نماز پڑھو ورنہ اشارے سے پڑھ لو اور سجدے میں رکوع کی نسبت زیادہ جھکو۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عاد مريضا، فرآه يصلي على وِسَادَةٍ، فأخذها فَرَمَى بها، فأخذ عودًا ليُصلي عليه، فأخذه فَرَمَى به وقال: «صَلِّ على الأرض إن استطعت، وَإِلا فَأَوْمِئْ إِيمَاءً، واجْعَلْ سجودك أخفَضَ من ركُوُعك».

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک مریض کی عیادت کے لیے آئے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ وہ تکیے پر نماز پڑھ رہا ہے، آپﷺ نے وہ تکیہ لیا اور اس کو پھینک دیا، اس نے لکڑی پکڑی تاکہ اس پر نماز پڑھے۔ آپ ﷺ نے اس کو بھی لیا اور پھینک دیا اور فرمایا: اگر استطاعت ہے تو زمین پر نماز پڑھو ورنہ اشارے سے پڑھ لو اور سجدے میں رکوع کی نسبت زیادہ جھکو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث الشريف كيفية صلاة المريض الذي لا يستطيع تمكين جبهته من الأرض بأن الواجب عليه الصلاة حسب الاستطاعة، والإيماء حال الركوع والسجود، وأن يكون سجوده أكثر انخفاضاً من ركوعه.
575;س حدیث میں مریض کی نماز کی ادائیگی کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے کہ اگر وہ پیشانی کو زمین پر رکھنے پر قدرت نہیں رکھتا جو کہ نماز میں حسبِ استطاعت زمین پر رکھنی واجب ہے تو وہ حالت رکوع اور سجود میں اشارے سے کام لے جب کہ حالتِ سجود میں رکوع کی نسبت جھکاؤ زیادہ ہونا چاہیے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بزّار نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10952

 
 
Hadith   1788   الحديث
الأهمية: إن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- تَفَلَ في رجل عمرو بن معاذ حين قطعت رجله، فبرأ


Tema:

جب عمرو بن معاذ رضی اللہ عنہ کا پاوں کٹ گیا، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے پاوں میں تھوک لگا دیا اور وہ ٹھیک ہو گئے

عن بريدة -رضي الله عنه- قال: «إنَّ رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم- تَفَلَ في رِجْل عمرو بن مُعاذ حِين قُطِعتْ رِجْلُه، فبَرأَ».

بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب عمرو بن معاذ رضی اللہ عنہ کا پاوں کٹ گیا، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے پاوں میں تھوک لگا دیا اور وہ ٹھیک ہو گئے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لما قُطعت رجل عمرو بن معاذ -رضي الله عنه- بصق النبي -صلى الله عليه وسلم- فيها من ريقه الطاهر، فشُفي وعوفي بإذن الله، وهذه معجزة ظاهرة للنبي -صلى الله عليه وسلم-.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جب سیدنا عمرو بن معاذ رضی اللہ عنہ کا پاوں کٹ گیا، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا پاک لعاب دہن لگا دیا اور اللہ کے حکم سے وہ ٹھیک ہو گئے۔ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ایک واضح معجزہ تھا۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10953

 
 
Hadith   1789   الحديث
الأهمية: مسح رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يده على وجهي ودعا لي، فعاش مائة وعشرين سنة وليس في رأسه إلا شعيرات بيض


Tema:

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے میرے چہرے پر اپنا ہاتھ پھیرا اور میرے لیے دعا کی۔ عزرہ کہتے ہیں: پھر ابو زید ایک سو بیس سال زندہ رہے اور اس کے باوجود ان کے سر کے محض چند بال ہی سفید ہوئے تھے

عن أبي زيد بن أخْطَب -رضي الله عنه- قال: «مَسَح رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يده على وجْهِي ودَعا لي» قال  عَزْرَةُ: إنه عاش مائة وعشرين سنَة وليس في رأسه إلا شُعيْرات بِيض.

ابو زید بن اخطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر اپنا ہاتھ پھیرا اور میرے لیے دعا کی۔ عزرہ کہتے ہیں: ابو زید ایک سو بیس سال زندہ رہے اور اس کے باوجود ان کے سر کے محض چند بال ہی سفید ہوئے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
مسح رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يده على وجه أبي زيد بن أخطب الأنصاري -رضي الله عنه-، ودعا له، وفي رواية أخرى للحديث أنه دعا  له بهذا الدعاء: «اللهم جمِّله، وأدِم جماله» أي: اللهم اجعله جميلًا، واجعل جماله دائمًا معه طول عمره، يقول عزرة وهو أحد رواة الحديث: إن أبا زيد الأنصاري عاش مائة وعشرين سنة وليس في رأسه إلا شعرات قليلة بيضاء، وفي رواية: أنه كان منبسط الوجه، ليس فيه تجاعيد ولا انكماش، وظل ذلك إلى حين وفاته، وذلك كله ببركة دعائه -صلى الله عليه وسلم- ومسحه على وجهه.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ابو زید بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا کی۔ اس حدیث کی ایک روایت میں ہے کہ آپ کے دعا کے الفاظ تھے: "اللهم جمِّله، وأدِم جماله" یعنی اے اللہ! اسے خوب صورت بنا اور اس کی خوب صورتی کو تا عمر قائم رکھ۔ اس حدیث کے ایک راوی عزرہ کا کہنا ہے کہ ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ ایک سو بیس سال زندہ رہے اور اتنی لمبی عمر کے باوجود ان کے سر کے محض چند بال ہی سفید ہوئے تھے۔ ایک اور روایت میں ہے: ان کا چہرہ کھلا ہوا تھا۔ اس میں نہ جھریاں تھیں، نہ سکڑاو۔,ان کے چہرے کى یہ حالت ت ان کی وفات تک باقی رہی۔ دراصل یہ سب کچھ ان کے لئے نبی ضلى اللہ علیہ وسلم کی دعا اور ان کے چہرے پر آپ کے ہاتھ پھیرنے کی برکت کے نتیجے میں تھا۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10955

 
 
Hadith   1790   الحديث
الأهمية: قبض رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ورأسه بين سحري ونحري، فلما خرجت نفسه، لم أجد ريحًا قط أطيب منها


Tema:

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو آپ کا سر میرے سینے اور گردن کے بیچ میں رکھا ہوا تھا۔ وہ کہتی ہیں: جب آپ کی روح نکلی، تو ایسی خوشبو محسوس ہوئی کہ میں نے کبھی اس سے بڑھ کر پاکیزہ خوشبو محسوس نہیں کی۔

عن عائشة -رضي الله عنها-، قالت: «قُبِض رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- ورأسُه بين سَحْري ونَحْري»، قالت: «فلمَّا خَرَجَتْ نفْسُه، لم أَجِدْ ريحا قَطُّ أطْيَبَ منها».

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو آپ کا سر میرے سینے اور گردن کے بیچ میں رکھا ہوا تھا۔ وہ کہتی ہیں: "جب آپ کی روح نکلی، تو ایسی خوش بو محسوس ہوئی کہ میں نے کبھی اس سے بڑھ کر پاکیزہ خوش بو محسوس نہیں کی"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر عائشة زوج النبي -صلى الله عليه وسلم- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- مات وهو مستند إلى صدرها، فلما خرجت روحه، شمت رائحة طيبة، لم تشم رائحة أطيب منها.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ جب آپ کی وفات ہوئی تو آپ ان کے سینے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ پھر جب آپ کی روح نکلی تو ان کو ایسی پاکیزہ خوش بو محسوس ہوئی کہ اس سے پاکیزہ خوش بو کبھی محسوس نہیں کی۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10959

 
 
Hadith   1791   الحديث
الأهمية: صلى يزيد بن الأسود مع النبي -صلى الله عليه وسلم- الصبح، ثم ثار الناس يأخذون بيده يمسحون بها وجوههم، قال: فأخذت بيده فمسحت بها وجهي، فوجدتها أبرد من الثلج، وأطيب ريحًا من المسك


Tema:

یزید بن اسود رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ پھر لوگ تیزی سے اٹھے اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہروں پر پھیرنے لگے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہرے پر پھیرا، تو پایا کہ آپ کا ہاتھ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور اس سے مشک سے کہیں بهتر خوشبو پھوٹ رہی تھی

عن يَزيد بن الأسْود -رضي الله عنه-: أنَّه صلَّى مع النبي -صلى الله عليه وسلم- الصبح، فذَكر الحديث. قال: ثم ثار الناسُ يأخذون بيده يمْسَحون بها وجوههم، قال: فأخذتُ بيده فمسحتُ بها وجهي، فوجدتُها أَبْرَد من الثلج، وأطْيَبَ ريحًا من المِسْك».

سیدنا یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ پھر پوری حدیث بیان کی، جس میں وہ کہتے ہیں: پھر لوگ تیزی سے اٹھے اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہروں پر پھیرنے لگے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہرے پر پھیرا، تو پایا کہ آپ کا ہاتھ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور اس سے مشک سے کہیں بهتر خوشبو پھوٹ رہی تھی

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
صلَّى يزيد بن الأسود مع النبي -صلى الله عليه وسلم- صلاة الصبح، فرأى الناس يقومون مسرعين إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- يأخذون بيده يمسحون بها وجوههم يتبركون بها، فأخذ بيد النبي -صلى الله عليه وسلم- فمسح بها وجهه، فوجدها أبرد من الثلج، وأطيب ريحًا من المِسْك.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
یزید بن اسود رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی، تو دیکھا کہ لوگ تیزی سے اٹھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ہاتھ پکڑ کر اسے برکت حاصل کرنے کے ارادے سے اپنے چہروں پر پھیرنے لگے۔ چنانچہ انھوں نے بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے چہرے پر پھیرا، تو پایا کہ وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور اس سے مشک سے کہیں بهتر خوشبو پھوٹ رہی تھی۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10960

 
 
Hadith   1792   الحديث
الأهمية: دخل علينا النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال عندنا، فعرق، وجاءت أمي بقارورة، فجعلت تسلت العرق فيها


Tema:

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے یہاں آئے پھر ہمارے یہاں ہی قیلولہ کیا تو آپ کے جسم سے پسینہ نکلنے لگا تو میری ماں ایک شیشی لے آئی اور اس میں آپ کا پسینہ جمع کرنے لگی

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه-، قال: دخَل علينا النبي -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ عِنْدَنا، فعَرِقَ، وجاءت أمِّي بقَارُورَة، فَجَعَلَتْ تَسْلُتُ العَرَق فيها، فاستَيْقَظ النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: «يا أمَّ سُليم ما هذا الذي تَصْنَعِين؟» قالت: هذا عَرَقُك نَجْعَله في طِيبِنا، وهو مِنْ أَطْيَب الطِّيبِ.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے یہاں آئے پھر ہمارے یہاں ہی قیلولہ کیا تو آپ کے جسم سے پسینہ نکلنے لگا تو میری ماں ایک شیشی لے آئی اور اس میں آپ کا پسینہ جمع کرنے لگی۔ اتنے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بیدار ہو گئے، تو فرمایا : "اے ام سلیم! تم یہ کیا کر رہی ہو؟" انھوں نے جواب دیا: یہ آپ کا پسینہ ہے، اسے ہم اپنی خوشبو میں ملا لیں گے، کیوں کہ یہ عمدہ ترین خوشبوؤں میں سے ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يحكي أنس بن مالك -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- دخل عليهم في بيتهم فنام عندهم وقت القيلولة، في نصف النهار، فجاءت أم أنس بوعاء من زجاج، فأخذت من عرق النبي -صلى الله عليه وسلم- ووضعته فيه، فاستيقظ النبي -صلى الله عليه وسلم- فسألها عن الذي تصنعه بعرقه، فأخبرته أنها تأخذ عرقه -صلى الله عليه وسلم- فتخلطه في الطيب الذي يتطيبون منه، وهو من أفضل الطيب.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے پھر ان ہی کے گھر قیلولہ کے وقت سوگئے تو ان کی ماں ایک شیشی لے آئیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ و سلم کا پسینہ لے کر اس میں رکھنے لگیں۔ اسی درمیان آپ جاگ گئے اور پوچھا کہ وہ پسینہ لے کر کیا کر رہی ہیں، تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ آپ کا پسینہ لے کر اسے اپنی خوشبو میں ملانا چاہتی ہیں، جسے ان کے گھر کے لوگ استعمال کرتے ہیں، کیوں کہ آپ کا پسینہ اعلی ترین خوشبووں میں شامل ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10961

 
 
Hadith   1793   الحديث
الأهمية: يا رسول الله، إن ابن أختي وجع. فمسح رأسي ودعا لي بالبركة، ثم توضأ، فشربتُ من وضوئه، ثم قمتُ خلف ظهره، فنظرتُ إلى خاتم النبوة بين كتفيه، مثل زر الحجلة


Tema:

اے اللہ کے رسول! میرا بھانجا بیمار ہے، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ نے وضو کیا، تو میں نے آپ کے وضو کے پانی میں سے پیا اور پھر آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، تو آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، جو کبوتر کے انڈے کی مانند تھی

عن الجعْد، قال: سمعتُ السَّائِب بن يَزيد، يقول: ذهبتْ بي خالتي إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فقالت: يا رسول الله، إنَّ ابنَ أختي وَجِعٌ. فمَسَح رأسي ودعا لي بالبَرَكة، ثم توضَّأ، فشربتُ من وَضوئه، ثم قمتُ خَلْف ظهره، فنَظَرتُ إلى خاتَم النبوة بيْن كتِفَيْه، مثل زِرِّ الحَجَلَة.

جعد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سائب بن یزید کو کہتے ہوئے سنا ہے : میری خالہ مجھے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں اور بولیں کہ اے اللہ کے رسول! میرا بھانجا بیمار ہے، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ نے وضو کیا، تو میں نے آپ کے وضو كے پانی سے پیا اور پھر آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، تو آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، جو کبوتر کے انڈے کی مانند تھی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر السائب بن يزيد أن خالته ذهبت به إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فأخبرته أن ابنَ أختها مريض، فمسح رأسه ودعا له بالبركة، ثم توضَّأ، فشرب السائب من الماء المتقاطر من أعضائه الشريفة عند الوضوء، ثم قام خلف ظهر النبي -صلى الله عليه وسلم-، فنظر إلى خاتم النبوة بين كتفيه -صلى الله عليه وسلم-، وهو مثل بيضة الحمامة.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ ان کی خالہ انھیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی اور عرض کیا کہ ان کا بھانجا بیمار ہے، تو آپ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ نے وضو کیا، تو سائب رضی اللہ عنہ نے آپ کے اعضا سے ٹپکنے والے وضو کے پانی میں سے کچھ پیا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے کھڑے ہوئے، تو آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، جو کبوتر کے انڈے کی طرح تھی۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10963

 
 
Hadith   1794   الحديث
الأهمية: قال لي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «اقترب مني»، فاقتربت منه


Tema:

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: "مجھ سے قریب ہو جاو" تو میں آپ سے قریب ہوگیا

عن أبي زيد الأنصاري -رضي الله عنه- قال: قال لي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «اقتَرِب منِّي»، فاقتربتُ منه، فقال: «أَدْخِلْ يدك فامْسَح ظهري» ، قال: فأدْخلتُ يدي في قميصه، فمسَحتُ ظهْره، فَوَقَع خاتَم النبوة بين إصبعي، قال: فسُئل عن خاتَم النبوة، فقال: «شَعْرات بيْن كتِفيْه».

سیدنا ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: "مجھ سے قریب ہو جاو"۔ تو میں آپ سے قریب ہوگیا, پھر آپ نے فرمایا : "اپنا ہاتھ اندر داخل کرو اور میری پیٹھ پر اسے پھیرو"۔ میں نے اپنا ہاتھ آپ کی قمیص کے اندر گھسایا اور آپ کی پیٹھ پر اسے پھیرا، تو مہر نبوت میری دو انگلیوں کے بیچ میں آ گئی۔ راوی کہتے ہیں کہ ان سے مہر نبوت کے بارے میں پوچھا گيا، تو بتایا : "آپ کے دونوں مونڈھوں کے بیچ میں کچھ بال تھے"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال رسول الله لأبي زيد الأنصاري -صلى الله عليه وسلم-: اقترب مني. فلما اقترب منه قال له: أدخل يدك في قميصي فامسح ظهري. فأدخل يده في قميصه -صلى الله عليه وسلم- فمسح ظهره، فوقع خاتم النبوة بين إصبعيه، فسُئل أبو زيد الأنصاري عن خاتم النبوة: ما هو؟ فقال: شعرات بين كتفيه -صلى الله عليه وسلم-.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھ سے قریب ہو جاؤ۔ پھر جب وہ آپ سے قریب ہوگئے، تو آپ نے ان سے فرمایا : میری قمیص کے اندر اپنا ہاتھ گھساؤ اور میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرو۔ انھوں نے آپ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا، تو ان کی دو انگلیوں کے درمیان مہر نبوت آ گئی۔ ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ سے مہر نبوت کے بارے میں پوچھا گيا کہ وہ کیا ہے، تو فرمایا : یہ دراصل آپ کے دونوں مونڈھوں کے بیچ میں کچھ بال تھے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10964

 
 
Hadith   1795   الحديث
الأهمية: أستغفر لك النبي -صلى الله عليه وسلم-؟ قال: نعم، ولك، ثم تلا هذه الآية {واستغفر لذنبك وللمؤمنين والمؤمنات}


Tema:

کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کے لیے مغفرت طلب کی ہے؟ تو کہا: ہاں! اور تمھارے لیے بھی۔ پھر یہ آیت پڑھی: {وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} [محمد: 19] (اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مردوں اور مؤمن عورتوں کے حق میں بھی)

عن عبد الله بن سَرْجس، قال: رأيتُ النبي -صلى الله عليه وسلم- وأكلتُ معه خُبْزا ولحْمًا، أو قال ثَرِيدًا، قال فقلتُ له: أَسْتَغْفَرَ لك النبي -صلى الله عليه وسلم-؟ قال: نعم، ولك، ثم تَلا هذه الآية {وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} [محمد: 19] قال: ثم دُرْتُ خَلْفَه فنَظَرْتُ إلى خاتَم النُّبوة بين كَتِفَيْه، عند ناغِض كَتِفِه اليُسْرى، جُمْعًا، عَلَيْه خِيلانٌ كأمْثال الثَّآلِيلِ.

عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا اور آپ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا یا پھر کہا کہ ثرید کھایا۔ ان سے اس بات کو روایت کرنے والے کا کہنا ہےکہنا ہے کہ میں نے ان سے کہا: کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کے لیے مغفرت طلب کی ہے؟ تو کہا: ہاں! اور تمھارے لیے بھی۔ پھر یہ آیت پڑھی: {وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} [محمد: 19] (اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مردوں اور مؤمن عورتوں کے حق میں بھی)۔ وہ کہتے ہیں: پھر میں گھوم کر آپ کے پیچھے آیا اور آپ کے دونوں کندھوں کے بیچ, بائیں مونڈھے کے اوپری حصے سے قریب مہر نبوت دیکھی۔ وہ بند مٹھی کی طرح تھی، جس پر مسوں کی طرح کچھ تل تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يقول الصحابي عبد الله بن سرجس، أنه رأى النبي -صلى الله عليه وسلم- وأكل معه خبزًا ولحمًا، فسأله تلميذه: هل استغفر لك النبي -صلى الله عليه وسلم-؟ فقال: نعم، واستغفر لك أنت أيضًا ولجميع المؤمنين؛ لأن الله -تعالى- أمره بذلك فقال: {وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} [محمد: 19] ثم أخبره عبد الله بن سرجس أنه دار خلف النبي -صلى الله عليه وسلم- فنظر إلى خاتم النبوة بين كتفيه، عند أعلى كتفه الأيسر، على هيئة جمع الكف، عليه علامات بارزات تخالف لونها لون سائر جسده -صلى الله عليه وسلم-.
وهذا لا يخالف رواية من وصف خاتم النبوة بالشعرات المجتمعة ومن شبهها ببيض الحمامة، فكل ذلك يمكن اجتماعه.
575;للہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابی عبداللہ بن سرجس کہتے ہيں کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا اور آپ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا۔ ان کے شاگرد نے ان سے پوچھا کہ کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ سلم نے آپ کے لیے مغفرت طلب کی ہے، تو کہا کہ ہاں! ساتھ ہی تمھارے لیے اور تمام ایمان والوں کے لیے بھی کی ہے، کیوںکہ اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے۔ ارشاد ہے : {وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} [محمد: 19] (اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے حق میں بھی)۔ پھر عبد اللہ بن سرجس نے ان کو بتلایا کہ وہ گھوم کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے آئے اور آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، جو آپ کے بائیں مونڈھے کے اوپری حصے سے قریب بند مٹھی کی شکل کی تھی اور جس پر کچھ ابھرے ہوئے نشانات تھے جن کا رنگ پورے جسم کے رنگ سے الگ تھا۔
یاد رہے کہ عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ان لوگوں کی حدیثوں کی مخالف نہیں ہے، جنھوں نے مہر نبوت کو گنجلک بال کہا ہے یا کبوتر کے انڈے سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ ان سارے اوصاف کا ایک ساتھ اس میں پایا جانا ممکن ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10965

 
 
Hadith   1796   الحديث
الأهمية: لقد أُخِفْتُ في الله وما يخاف أحد، ولقد أوذيت في الله وما يؤذى أحد، ولقد أتت علي ثلاثون من بين يوم وليلة وما لي ولبلال طعام يأكله ذو كبد إلا شيء يواريه إبط بلال


Tema:

مجھے اللہ کی راہ میں اس وقت ڈرایا گیا، جس وقت اور کوئی نہیں تھا جسے ڈرایا جاتا۔ مجھے اللہ کی راہ میں اس وقت ستایا گیا، جس وقت کوئی اور نہیں تھا جسے ستایا جاتا۔ میرے اوپر تیس دن اور رات ایسے گزرے کہ میرے اور بلال کے پاس کچھ نہیں تھا، جسے کوئی جاندار کھاتا ہو، سوائے اس کے جو بلال اپنی بغل میں چھپاکر رکھتے

عن أنس، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لقد أُخِفتُ في الله وما يُخافُ أحد، ولقد أُوذيت في الله وما يُؤذَى أحد، ولقد أَتَتْ عليَّ ثلاثون مِن بيْن يوم وليلة وما لي ولِبِلال طعامٌ يَأْكُلُه ذُو كَبِد إلا شيءٌ يُوارِيه إبطُ بلال».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "مجھے اللہ کی راہ میں اس وقت ڈرایا گیا، جس وقت اور کوئی نہیں تھا جسے ڈرایا جاتا۔ مجھے اللہ کی راہ میں اس وقت ستایا گیا، جس وقت کوئی اور نہیں تھا جسے ستایا جاتا۔ میرے اوپر تیس دن اور رات ایسے گزرے کہ میرے اور بلال کے پاس کچھ نہیں تھا، جسے کوئی جاندار کھاتا ہو، سوائے اس کے جو بلال اپنی بغل میں چھپاکر رکھتے"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكر النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث  أنه كان وحيدًا في ابتداء إظهاره للدين فخوّفه -بسبب ذلك- الكفار وآذوه، ولم يكن معه أحد حينئذ يوافقه في تحمل الأذى إلا مساعدة الله وحمايته له وتوفيقه إياه، ثم بيَّن أنه كان مع ذلك كله في قلة من المال والطعام وعدم الاستعداد، حيث ظل ثلاثين يومًا وليس معه من الطعام إلا شيء قليل يحمله بلال ويغطيه تحت إبطه، ولم يكن لهم حتى إناء يضعون الطعام فيه، وذلك حين خرج النبي -صلى الله عليه وسلم- هاربًا من مكة.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حدیث میں بتایا ہے کہ جب آپ کھلے عام دین کی دعوت دینے لگے تو اس کی وجہ سے کافروں نے آپ کو ڈرایا اور ستایا اور اس وقت آپ کے ساتھ کوئی نہیں تھا، جو ان اذیتوں کو آپ کے ساتھ جھیلتا۔ ساتھ تھا تو بس اللہ کا اور حمایت تھی تو بس اسی کی اور اس سب کو جھیلنے کی توفیق بھی اسی اللہ کی دی ہوئی تھی۔ پھر بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو کھانے پینے کی چیزوں کی کمی اور محتاجی کا بھی سامنا تھا۔ حالت یہ تھی کہ تیس دن اس طرح گزر گئے کہ آپ کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا، سوائے تھوڑی بہت چیز کے جو بلال رضی اللہ عنہ کے پاس رہتی اور جسے وہ اپنی بغل کے نیچے چھپا کر رکھتے، کیوں کہ ان کے پاس کھانا رکھنے کے لیے برتن نہیں تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے، جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مکہ سے بھاگ کر نکلے تھے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10966

 
 
Hadith   1797   الحديث
الأهمية: قام النبي -صلى الله عليه وسلم- بآية من القرآن ليلة


Tema:

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک رات قرآن کی ایک آیت سے قیام کیا

عن عائشة -رضي الله عنها-، قالت: «قامَ النبي صلى الله عليه وسلم بآيةٍ مِنَ القرآن ليلةً».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک رات قرآن کی ایک آیت سے قیام کیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد هذا الحديث أن النبي -صلى الله عليه وسلم- صلى في ليلة صلاة قيام الليل بآية واحدة من القرآن يكررها في قيامه كله لم يقرأ غيرها، والظاهر أن هذه الآية هي: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: 118] كما جاء ذلك في بعض روايات الحديث.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اس حدیث میں کہا گیا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک رات قرآن کی ایک ہی آیت سے تہجد کی پوری نماز پڑھی۔ اسے اپنے پورے قیام میں دوہراتے رہے اور اس کے سوا کوئی دوسری آیت نہیں پڑھی۔ بظاہر یہ آیت تھی : {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: 118] (اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف کر دے، تو تو زبردست ہے، حکمت والا ہے)۔ جیسا کہ اس حدیث کی بعض روایتوں میں آیا ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10967

 
 
Hadith   1798   الحديث
الأهمية: أن امرأة كان في عقلها شيء، فقالت: يا رسول الله إن لي إليك حاجة، فقال: «يا أم فلان انظري أي السكك شئت، حتى أقضي لك حاجتك»


Tema:

ایک عورت دماغی اعتبار سے کچھ کمزور تھی۔ تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کچھ حاجت ہے۔ آپ نے کہا: "اے ام فلاں! تم سوچ کر بتاو کہ کس راستہ پر تم مجھ سے اپنى حاجت بیان کرنا چاہتی ہو, تاکہ میں تمھاری حاجت پوری کرسکوں"۔

عن أنس -رضي الله عنه-، أنَّ امرأةً كان في عَقْلها شيء، فقالت: يا رسول الله إنَّ لي إليْك حاجة، فقال: «يا أمَّ فُلان انظُري أيَّ السِّكَك شِئتِ، حتى أقضيَ لكِ حاجَتَكِ» فخَلا معها في بعض الطُّرُق، حتى فَرَغتْ مِنْ حاجَتِها.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت دماغی اعتبار سے کچھ کمزور تھی۔ تو، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کچھ حاجت ہے۔ آپ نے کہا: "اے ام فلاں! تم سوچ کر بتاو کہ کس راستہ پر تم مجھ سے اپنى حاجت بیان کرنا چاہتی ہو, تاکہ میں تمھاری حاجت پوری کرسکوں"۔ پھر ایک راستے میں آپ اس کے ساتھ لوگوں سے الگ ہوگئے، یہاں تک کہ اسے جس ضرورت کے تعلق سے بات کرنی تھی، کر چکی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أنَّ امرأةً كان في عقلها شيء من النقص والخفة، قالت للنبي -صلى الله عليه وسلم-: يا رسول الله إنَّ أريد منك حاجة، فقال لها: يا أمَّ فلان انظري أيَّ طريق أردت أذهب معك إليه، حتى أقضيَ لكِ حاجتَك. فوقف معها في طريق مسلوك ليقضي حاجتها، ولم يكن ذلك من الخلوة بالأجنبية فإن هذا كان في ممر الناس ومشاهدتهم إياه وإياها، لكن لا يسمعون كلامها، وهو من تواضعه ورحمته بأمته -صلى الله عليه وسلم-.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ایک عورت دماغی اعتبار سے کچھ کمزور تھی۔ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کچھ حاجت در پیش ہے۔ آپ نے اس سے کہا: اے ام فلاں! کسی راستے کا انتخاب کر لو۔ تاکہ وہاں میں تمھارے ساتھ جا کر تمھاری حاجت سن کر اسے پورا کرسکوں۔ پھر آپ اس کے ساتھ ایک عام راستے میں جاکر کھڑے ہو گئے تاکہ اس کى حاجت پوری کرسکیں۔ یاد رہے کہ اسے اجنبی عورت کے ساتھ خلوت اختیار کرنے کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ آپ عام گزرگاہ میں کھڑے تھے اور لوگ دونوں کو دیکھ رہے تھے۔ بس اس کی بات نہیں سن رہے تھے۔ یہ دراصل آپ کی تواضع اور امت کے ساتھ رحمت و شفقت کے برتاو کی ایک مثال ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10968

 
 
Hadith   1799   الحديث
الأهمية: حج النبي -صلى الله عليه وسلم- على رحلٍ رثٍّ، وقطيفة تساوي أربعة دراهم أو لا تساوي، ثم قال: «اللهم حجة لا رياء فيها، ولا سمعة»


Tema:

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک پرانے اور بوسیدہ کجاوے اور اس پر بچھی ہوئی ایک ایسی چادر پر بیٹھ کر حج کیا، جس کی قیمت چادر درہم تھی یا اتنی بھی نہیں تھی۔ پھر فرمایا : "اے اللہ! یہ ایسا حج ہے، جس میں نہ ریاکاری ہے، نہ شہرت طلبی"۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه-، قال: حَجَّ النبي -صلى الله عليه وسلم- على رَحْلٍ رَثٍّ، وقَطِيفة تُساوي أربعة دراهم، أو لا تُساوي، ثم قال: «اللهمَّ حَجَّة لا رِياءَ فيها، ولا سُمْعَة».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک پرانے اور بوسیدہ کجاوے اور اس پر بچھی ہوئی ایک ایسی چادر پر بیٹھ کر حج کیا، جس کی قیمت چادر درہم تھی یا اتنی بھی نہیں تھی۔ پھر فرمایا : "اے اللہ! یہ ایسا حج ہے، جس میں نہ ریاکاری ہے، نہ شہرت طلبی"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد الحديث أن النبي -صلى الله عليه وسلم- حجَّ على ناقة عليها سرج قديم بالي وفرش يساوي أربعة دراهم، أو أقل من هذا الثمن، ثم قال: اللهم هذه حَجَّة، لا أفعلها من أجل أن يراني الناس أو يسمعوني، إنما أفعلها خالصة لك، من أجل أن ترضى عني.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک اونٹنی پر بیٹھ کر حج کیا، جس کی پیٹھ پر ایک پرانا اور بوسیدہ کجاوہ رکھا ہوا تھا اور اس کے اوپر ایک کپڑا بچھا تھا، جس کی قیمت چادر درہم یا اس سے بھی کم تھی۔ پھر آپ نے فرمایا : اے اللہ! میں اپنا یہ حج اس لیے نہیں کر رہا ہوں کہ لوگ مجھے دیکھیں یا میرے بارے میں سنیں۔ اسے صرف اور صرف تیری رضا جوئی کے لیے کیا جا رہا ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10969

 
 
Hadith   1800   الحديث
الأهمية: لم يكن شخص أحب إليهم من رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وكانوا إذا رأوه لم يقوموا لما يعلمون من كراهيته لذلك


Tema:

صحابہ کرام کے نزدیک کوئی بھی آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ پیارا نہیں تھا۔ اس کے باوجود جب وہ آپ کو دیکھتے تو آپ کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے، کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ آپ اس چیز کو ناپسند کرتے ہیں

عن أنس -رضي الله عنه-، قال: «لم يكن شخصٌ أَحَبَّ إليهم مِن رسول الله -صلى الله عليه وسلم، وكانوا إذا رَأَوْه لم يقوموا لِمَا يَعْلَمون مِن كَرَاهِيَته لذلك».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: "صحابہ کے نزدیک کوئی بھی آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ پیارا نہیں تھا۔ اس کے باوجود جب وہ آپ کو دیکھتے تو آپ کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے، کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ آپ اس چیز کو ناپسند کرتے ہیں"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أنس -رضي الله عنه- أنه لم يكن أحد أشد حبًّ إلى الصحابة من رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، ومع حبهم الشديد له -صلى الله عليه وسلم- كانوا إذا رأوه مقبلًا عليهم لم يقوموا له؛ لأنهم يعلمون أنه -صلى الله عليه وسلم- يكره أن يقوم له أحد.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے نزدیک کوئی بھی آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب نہیں تھا۔ لیکن اس بے پناہ محبت کے باوجود جب وہ آپ کو آتے ہوئے دیکھتے، تو آپ کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ کوئی آپ کے لیے کھڑا ہو۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10970

 
 
Hadith   1801   الحديث
الأهمية: سئلت عائشة: ما كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يعمل في بيته؟ قالت: كان بشرًا من البشر يفلي ثوبه، ويحلب شاته، ويخدم نفسه


Tema:

عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ تو جواب دیا: آپ ایک عام انسان کی طرح رہتے۔ اپنے کپڑے سے پسو اور چچڑی وغیرہ نکالتے، اپنی بکری دوہتے اور اپنے کام خود کرتے۔

عن عائشة -رضي الله عنها-، أنها سُئلتْ ما كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يَعْمل في بيته؟ قالت: «كان بشرًا مِن البشر يَفْلي ثوبَه، ويَحْلِب شاتَه، ويَخْدِم نفْسَه».

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ تو جواب دیا: "آپ ایک عام انسان کی طرح رہتے۔ اپنے کپڑے سے پسو اور چچڑی وغیرہ نکالتے، اپنی بکری دوہتے اور اپنے کام خود کرتے"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سُئلت عائشة زوج النبي -صلى الله عليه وسلم-: ما الذي كان يعمله رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في بيته؟ فقالت: كان بشرًا من البشر، يلتقط القمل والأذى من ثوبه، ويحلب شاتَه، ويخدم نفسَه، وذكرت هذه الأعمال من باب التمثيل.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ تو جواب دیا: آپ ایک عام انسان کی طرح رہتے۔ اپنے کپڑے سے چچڑی اور تکلیف دہ چیزوں کو نکالتے، اپنی بکری دوہتے اور اپنے کام خود کرتے تھے۔ در اصل انھوں نے ان کاموں کا ذکر بطور مثال کیا ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10973

 
 
Hadith   1802   الحديث
الأهمية: لم يكن فاحشًا ولا متفحِّشًا ولا صَخَّابًا في الأسواق، ولا يجزي بالسيئة السيئة، ولكن يعفو ويصفح


Tema:

آپ نہ بد زبان تھے، نہ گندی باتوں اور کاموں میں پڑتے تھے، نہ بازاروں میں چیخ اور چلا کر بات کرنے والے تھے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے، بلکہ آپ معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے

عن أبي عبد الله الجَدَلِي قال: سألتُ عائشة -رضي الله عنها-، عن خُلُق رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقالت: «لم يكن فاحِشًا ولا مُتَفَحِّشًا ولا صَخَّابًا في الأسواق، ولا يَجْزي بالسيئةِ السيئةَ، ولكن يَعْفو ويَصْفَح».

ابو عبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے کہا: "آپ نہ بد زبان تھے، نہ گندی باتوں اور کاموں میں پڑتے تھے، نہ بازاروں میں چیخ اور چلا کر بات کرنے والے تھے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے، بلکہ آپ معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سأل أبو عبد الله الجدلي -رحمه الله- عائشة -رضي الله عنها- عن خُلُق رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فأخبرت أنه كان ذا خلق عالٍ، فلم يكن بذيئًا يتكلم بالقبيح من القول، ولا مكثرًا من الفحش متكلفًا له، ولا يرفع صوته في الأسواق على الناس لسوء خلقه، ولا يكثر الصياح عليهم، بل يلين جانبه لهم ويرفق بهم، وإذا أساء إليه أحد فإنه لا يقابله بالإساءة، بل يعفو عنه ويسامحه.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ابو عبد اللہ جدلی رحمہ اللہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے بتایا کہ آپ بڑے اونچے اخلاق کے مالک تھے۔ نہ بد زبان تھے کہ بری باتیں منہ سے نکالتے، نہ بہ تکلف اور نہ کم یا زیادہ بری باتوں اور کاموں میں پڑتے تھے اور نہ بازاروں میں چیخ کر باتیں کرکے بد خلقی کا مظاہرہ کرتے تھے، بلکہ ہر ایک کے ساتھ نرمی اور شفقت کا برتاو کرتے تھے۔ اگر کوئی بد سلوکی سے پیش آ بھی گیا، تو اس کے ساتھ بد سلوکی روا رکھنے کی بجائے معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10974

 
 
Hadith   1803   الحديث
الأهمية: بُعِث رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لأربعين سنة، فمكث بمكة ثلاث عشرة سنة يوحى إليه، ثم أمر بالهجرة فهاجر عشر سنين، ومات وهو ابن ثلاث وستين


Tema:

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال کی عمر میں نبی بنائے گئے۔ پھر مکہ میں تیرہ سال رہے اور اس مدت میں آپ پر وحی آتی رہی۔ پھر ہجرت کا حکم ہوا اور ہجرت کی سر زمین میں دس سال رہے اور تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- قال: «بُعِث رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- لِأَربعين سَنَة، فَمَكَثَ بِمكة ثلاثَ عشرة سنة يوحَى إليه، ثم أُمِرَ بالهِجْرة فَهاجَر عشر سِنِين، ومات وهو ابنُ ثَلاثٍ وستِّين».

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال کی عمر میں نبی بنائے گئے۔ پھر مکہ میں تیرہ سال رہے اور اس مدت میں آپ پر وحی آتی رہی۔ پھر ہجرت کا حکم ہوا اور ہجرت کی سر زمین میں دس سال رہے اور تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد الحديث أن الوحي نزل على النبي -صلى الله عليه وسلم- وعمره أربعون سنة، فأقام بمكة ثلاث عشرة سنة يوحِي الله إليه، ثم أمره الله -تعالى- بالهجرة من مكة إلى المدينة، فأقام بها عشر سنين، ثم توفي بها، فيكون عمره ثلاثًا وستين سنة.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر چالیس سال کی عمر میں وحی اترنا شروع ہوا۔ اس کے بعد مکہ میں تیرہ سال ٹھہرے اور اس بیچ آپ پر وحی اترتی رہی۔ پھر اللہ نے آپ کو مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دیا اور وہاں دس سال رہے اور وہیں وفات پائی, اس طرح آپ نےتریسٹھ سال کی عمر پائی۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10975

 
 
Hadith   1804   الحديث
الأهمية: آخر نظرة نظرتها إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كشف الستارة والناس صفوف خلف أبي بكر -رضي الله عنه-


Tema:

مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دیدار کی سعادت اس وقت حاصل ہوئی، جب آپ نے (اپنے کمرے اور مسجد کے بیچ میں پڑا ہوا) پردہ اٹھایا۔ اس وقت لوگ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھ کر نماز پڑھ رہے تھے

عن أنس -رضي الله عنه- قال: «آخِرُ نَظْرة نَظَرْتُها إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كَشَف السِّتارة والناسُ صُفوف خَلْف أبي بكر -رضي الله عنه-، فأراد أبو بكر أنْ يَرْتَدَّ، فأشار إليهم أَنِ امكثُوا وأَلْقى السِّجْفَ، وتُوفِّي مِن آخِرِ ذلك اليوم، وذلك يومَ الإثنين».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: "مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و لم کے آخری دیدار کی سعادت اس وقت حاصل ہوئی، جب آپ نے (اپنے کمرے اور مسجد کے بیچ میں پڑا ہوا) پردہ اٹھایا۔ اس وقت لوگ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ کو دیکھ کر ابو بکر (رضی اللہ عنہ) نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، تو آپ نے لوگوں کو اس بات کا اشارہ کرنے کے بعد کہ اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے رہو، پردہ ڈال دیا اور اسی دن کے آخری حصے میں آپ کى وفات ہوگئی, اور وہ دن سوموار کا تھا"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
آخر مرة نظر فيها أنس بن مالك إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه -صلى الله عليه وسلم- كشف الستارة التي بين حجرته وبين المسجد، فرأى الناس يصلون خلف أبي بكر في صفوف، فتنبه أبو بكر لذلك وظن أن النبي -صلى الله عليه وسلم- يريد أن يخرج للصلاة، فأراد أن يتأخر ويصلي في الصف؛ ليأتي النبي -صلى الله عليه وسلم- ويصلي بالناس، فأشار إليهم النبي -صلى الله عليه وسلم- آمرًا لهم بأن يظلوا في أماكنهم ويتموا صلاتهم، ثم أغلق الستارة مرة أخرى، وتوفي النبي -صلى الله عليه وسلم- من آخر ذلك اليوم، وهو يوم الإثنين.
575;نس رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری بار اس وقت دیکھا، جب آپ نے اپنے کمرے اور مسجد کے بیچ پڑے ہوئے پردے کو اٹھایا اور لوگوں کو ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کے پیچھے صف باندھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نکلنا چاہتے ہيں، اس لیے پیچھے ہٹ کر صف میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوچنے لگے، تاکہ آپ آئیں اور لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو اشارے سے حکم دیا کہ وہ اپنی اپنی جگہوں میں رہ کر نماز پوری کریں۔ پھر آپ نے پردہ گرا دیا اور اسی دن کے آخری حصے میں آپ کی وفات ہو گئی۔ اور وہ سوموار کا دن تھا۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10976

 
 
Hadith   1805   الحديث
الأهمية: ما أغبط أحدا بهون موت بعد الذي رأيت من شدة موت رسول الله -صلى الله عليه وسلم-


Tema:

جب سے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی موت کی سختی دیکھی ہے، تب سے میں آسان موت کی وجہ سے کسی پر رشک نہیں کرتی

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: «ما أَغْبِطُ أحدًا بهَوْنٍ موتٍ بَعْدَ الذي رَأَيتُ مِنْ شدَّة مَوْت رسول الله -صلى الله عليه وسلم-».

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: "جب سے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی موت کی سختی دیکھی ہے، تب سے میں آسان موت کی وجہ سے کسی پر رشک نہیں کرتی"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تقول عائشة: إنها لا تفرح لأحد بسهولة الموت، ولا تتمنى أن تكون سهلة الموت، بعد الذي رأته من شدَّة موت رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقد علمت أن شدة الموت ليست دليلًا على سوء عاقبة المتوفى، وأن سهولة الموت ليست من المكرمات، وإلا لكان -صلى الله عليه وسلم- أولى الناس به، فلا تكره شدة الموت لأحد، ولا تفرح لأحد يموت من غير شدة.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب سے انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو موت کے وقت درپیش سختی کا منظر دیکھا ہے، تب سے کسی کی آسان موت پر خوش نہیں ہوتیں اور آسان موت نصیب ہونے کی تمنا بھی نہیں کرتیں۔ کیونکہ وہ جان چکی تھیں کہ نہ تو موت کی سختی مرنے والے کے برے انجام کی دلیل ہے اور نہ آسان موت کوئی عزت افزائی کی بات ہے۔ اگر سچ مچ ایسا ہوتا، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو آسان سے آسان تر موت نصیب ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ نہ وہ موت کی سختی کو ناپسند کرتی تھیں اور نہ کسی کی آسان موت پر خوش ہوتی تھیں۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10979

 
 
Hadith   1806   الحديث
الأهمية: لما مات النبي -صلى الله عليه وسلم- قالوا: أين يدفن؟ فقال أبو بكر: في المكان الذي مات فيه


Tema:

جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات ہوئی، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک دوسرے سے کہا کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے؟ تب ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اسی جگہ جہاں آپ کی وفات ہوئی ہے

عن عائشة -رضي الله عنها-، قالت: لما مات النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- قالوا: أين يُدْفنُ؟ فقال أبو بكر: في المكان الذي مات فيه.

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپس میں بات کی کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے؟ تب ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اسی جگہ جہاں آپ کی وفات ہوئی ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لما مات النبي -صلى الله عليه وسلم- اختلف الصحابة في المكان الذي يدفنونه فيه، فقال أبو بكر الصديق: ادفنوه في المكان الذي مات فيه. وفي بعض الروايات: أن أبا بكر سمع النبي -صلى الله عليه وسلم- يقول: إنه لم يمت نبي من الأنبياء إلا في المكان الذي يحب أن يُدفن فيه.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات ہوئی، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان اس مسئلے پر اختلاف ہو گیا کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے؟ اس صورت حال میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کو اسی جگہ دفن کر دو، جہاں آپ کی وفات ہوئی ہے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : سارے نبیوں کا انتقال انھیں جگہوں میں ہوا ہے، جہاں وہ دفن ہونا پسند کرتے تھے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10980

 
 
Hadith   1807   الحديث
الأهمية: أن أبا بكر دخل على النبي صلى الله عليه وسلم بعد وفاته، فوضع فمه بين عينيه، وضع يديه على صدغيه، وقال: «وانبياه، واخليلاه، واصفياه»


Tema:

ابو بکر رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے انتقال کے بعد, آپ کے پاس آئے، اپنا منہ آپ کی دونوں آنکھوں کے بیچ رکھا، اپنے دونوں ہاتھ آپ کی دونوں کنپٹیوں پر رکھے اور کہا : "ہائے نبی! ہائےمخلص دوست! ہائےبرگزیدہ شخصیت!"

عن عائشة -رضي الله عنها-، أنَّ أبا بكر دَخَل على النبي -صلى الله عليه وسلم- بعد وفاته، فَوَضَع فَمَهُ بَيْن عيْنَيْه، ووَضَعَ يديْه على صُدْغَيه، وقال: «وَانَبِيَّاهُ، وَاخَليلاهُ، وَاصَفِيَّاهُ».

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ، نبي صلی اللہ علیہ و سلم کے انتقال کے بعد آپ کے پاس آئے، اپنا منہ آپ کی دونوں آنکھوں کے بیچ رکھا، اپنے دونوں ہاتھ آپ کی دونوں کنپٹیوں پر رکھے اور کہا : "ا"ہائے نبی! ہائےمخلص دوست! ہائےبرگزیدہ شخصیت!

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دخل أبو بكر الصديق على النبي -صلى الله عليه وسلم- بعد وفاته، فوضع فَمَه بين عَينَي النبي -صلى الله عليه وسلم- فقبله، ووضع يديه على صُدْغَي النبي -صلى الله عليه وسلم-، وهما جانبا الوجه من العين إلى الأذن، وقال: «وانبيَّاه، واخَليلاه، واصَفِيَّاه»، أي: أنه كان -رضي الله عنه- يتألم ويتوجَّع لموت النبي -صلى الله عليه وسلم-، ويصفه بأنه كان صديقه المخلص، الذي كان يحبه أكثر من الناس كلهم، وكان يفضِّله على كل أحد حتى على نفسه.
وهذا يسمى النُّدبة، وإذا لم يكن في القلب اعتراض على المصيبة ولا جزع، ولم يكن الصوت مرتفعًا، كما يفعله النساء بصياح ورَنَّة فهو جائز، وهو الذي فعله أبو بكر -رضي الله عنه-.
575;بو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد آپ کے پاس آئے، آپ کی دونوں آنکھوں کے بیچ اپنا منہ اور آپ کى دونوں کنپٹیوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر آپ کا بوسہ لیا اور فرمایا : "ہائے نبی! ہائےمخلص دوست! ہائےبرگزیدہ شخصیت!"۔ یعنی ابو بکر رضی اللہ عنہآپ کى موت کى وجہ سے غم واندوہ اور تکلیف وپریشانی میں ڈوب گئے اور نبی صلى اللہ علیہ وسلم کو اس بات کے ساتھ یاد کیا کہ صلى اللہ علیہ وسلم ان کے مخلص دوست تھے، جن سے وہ تمام لوگوں سے زیادہ محبت کرتے تھے اور جن کو ہر ایک پر، یہاں تک کہ اپنے اوپر بھی ترجیح دیتے تھے۔
اسے عربی میں "النُّدبة" کہا جاتا ہے، جس کے معنی ہیں میت کے محاسن اور فضائل بیان کرنا۔ اگر دل کے اندر مصیبت پر اعتراض اور بے صبری کی کیفیت نہ ہو، ساتھ ہی آواز اونچی نہ ہو، جیسا کہ عورتیں چیخ اور چلا کر روتی ہیں، تو یہ جائز ہے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہی کیا تھا۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10982

 
 
Hadith   1808   الحديث
الأهمية: لما كان اليوم الذي دخل فيه رسول الله -صلى الله عليه وسلم- المدينة أضاء منها كل شيء، فلما كان اليوم الذي مات فيه أظلم منها كل شيء


Tema:

جس دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم مدینے میں داخل ہوئے، تو اس کی ہر چیز روشن ہو گئی اور جس دن آپ کی وفات ہوئی، تو اس کی ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه-، قال: «لمَّا كان اليوم الذي دَخَل فيه رسول الله -صلى الله عليه وسلم- المدينةَ أضاءَ منها كلُّ شيء، فلمَّا كان اليوم الذي مات فيه أَظْلَم منها كلُّ شيء، وما نَفَضْنا عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الأيْدِي وإنَّا لفي دَفْنِه حتى أَنْكَرْنا قلوبَنا».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : "جس دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم مدینے میں داخل ہوئے، تو اس کی ہر چیز روشن ہو گئی اور جس دن آپ کی وفات ہوئی، تو اس کی ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا۔ ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کے بعد اپنے ہاتھ بھی نہیں جھاڑے تھے اور ابھی آپ کو دفن کرنے میں مشغول ہی تھے کہ ہم اپنے دلوں کو پہچان نہیں پا رہے تھے"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يحكي أنس بن مالك -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه لما دخل المدينة أول مرة مهاجرًا من مكة، أضاء وأشرق منها كل شيء, فلما كان اليوم الذي مات فيه -صلى الله عليه وسلم- أظلم منها كل شيء, والإضاءة والإظلام المذكوران في الحديث معنويان لا حسيان, ثم أخبر أنهم لما انتهوا من دفنه -صلى الله عليه وسلم- لم يجدوا قلوبهم على الحالة السابقة التي كانت عليها في حياة النبي صلى الله عليه وسلم من أنوار الإيمان والرقة والألفة فيما بينهم لانقطاع الوحي، وفقدان بركة صحبته -صلى الله عليه وسلم-.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
انس بن مالک رضی اللہ عنہ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ جب آپ مکہ سے ہجرت کرکے آئے اور پہلی بار مدینے میں داخل ہوئے، تو اس کا ذرہ ذرہ روشن ہو گيا اور جس دن آپ فوت ہوئے، تو اس کا ذرہ ذرہ اندھیرے میں گم ہو گیا۔ یاد رہے کہ اس حدیث میں روشن ہونے اور تاریکی چھانے کی جو بات کہی گئی ہے، وہ حسی نہیں، بلکہ معنوی ہے۔ انھوں نے آگے بتایا کہ جب وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین سے فارغ ہوئے، تو اپنے دلوں کو, وحی کا سلسلہ بند ہونے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت کی برکت سے محرومی کی وجہ سے, اس سابقہ روشن وآباد حالت میں نہیں پایا، کہ جس حالت میں رسول صلی اللہ علیہ و سلم کى حیات مبارکہ میں, انوار ایمانی, رقت کے نظاروں اور آپسی میل محبت کے جلؤوں کى بنا پر, اپنے دلوں کو پاتے تھے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10983

 
 
Hadith   1809   الحديث
الأهمية: لا يقتسم ورثتي دينارًا ولا درهمًا ما تركت بعد نفقة نسائي، ومئونة عاملي فهو صدقة


Tema:

میرے وارثین دینار و درہم بانٹ کر نہیں لیں گے۔ میں اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے خلیفہ کے گزارے کے بعد جو کچھ چھوڑ جاوں، وہ صدقہ ہے

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «لا يَقْتَسِمُ وَرَثَتي دينارًا ولا درهمًا، ما تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَة نسائي، ومئونَة عامِلي فهو صَدَقة».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "میرے وارثین دینار و درہم بانٹ کر نہیں لیں گے۔ میں اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے خلیفہ کے گزارے کے بعد جو کچھ چھوڑ جاوں، وہ صدقہ ہے"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد الحديث أن ورثة النبي -صلى الله عليه وسلم- لا يقتسمون -بعد موته- دينارًا ولا درهمًا من ماله؛ لأنه -صلى الله عليه وسلم- من الأنبياء, والأنبياء لم يورثوا دينارًا ولا درهمًا؛ لأنهم لم يكونوا يجمعون للدنيا وإنما كانت رسالتهم هداية الخلق، فإذا وُجد له مال بعد موته فإنما هو لنفقة زوجاته، وللخليفة بعده، أو لأي قائم على أعمال المسلمين بعده، وما زاد عن ذلك فهو صدقة.
575;س حدیث کے ذریعے یہ بتا دیا گیا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے وارثین آپ کے انتقال کے بعد آپ کے مال میں سے بچے ہوئے دینار اور درہم بانٹ کر نہیں لیں گے۔ کیونکہ آپ ایک نبی تھے اور انبیا علیہم السلام دینار و درہم کا وارث نہیں بناتے۔ دراصل ان کا کام دنیا کے لیے کچھ جمع کرنا تھا ہی نہیں۔ ان کا مشن تھا مخلوق کو سیدھا راستہ دکھانا۔ لہذا اگر آپ کی موت کے بعد آپ کا کچھ مال رہ جائے، تو وہ آپ کی بیویوں اور آپ کے بعد بننے والے خلیفہ یا مسلمانوں کا نظم و نسق دیکھنے والے آدمی کے گزارے کے لیے ہے۔ اگر اس کے بعد بھی کچھ بچ جائے، تو وہ صدقہ ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10986

 
 
Hadith   1810   الحديث
الأهمية: ما ترك رسول الله -صلى الله عليه وسلم- دينارًا ولا درهمًا ولا شاةً ولا بعيرًا، ولا أوصى بشيء


Tema:

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ دینار چھوڑا، نہ درہم چھوڑا، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ چھوڑا اور نہ کسی چیز کی وصیت ہی کی

عن عائشة -رضي الله عنها-، قالت: «ما تَرَك رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- دينارًا، ولا درهمًا، ولا شاةً، ولا بَعِيرًا، ولا أَوْصى بشيء».

593;ائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں : "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ دینار چھوڑا، نہ درہم چھوڑا، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ چھوڑا اور نہ کسی چیز کی وصیت ہی کی"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر عائشة -رضي الله عنها- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لم يترك بعد موته مالًا قليلًا ولا كثيرًا، ولم يترك شاةً، ولا جملًا ولا غير ذلك من أصناف المال، ولا أوصى بشيء، تريد وصية المال خاصة؛ لأن الإنسان إنما يوصي في مال إذا كان موروثًا، وهو -صلى الله عليه وسلم- لم يترك شيئاً يورث فيوصي فيه، وقد أوصى -صلى الله عليه وسلم- بأمور أخرى، منها أنه أوصى بالمحافظة على الصلاة، وبإخراج اليهود والنصارى من جزيرة العرب.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی وفات کے بعد مال و دولت بالکل نہیں چھوڑا۔ نہ کم نہ زیادہ۔ نہ بکری نہ اونٹ اور نہ اس کے علاوہ کوئی اور مال۔ اسی طرح آپ نے کسی چیز کے بارے میں وصیت بھی نہیں کی۔ یاد رہے کہ یہاں ان کی مراد خاص طور سے مال کی وصیت ہے۔ کیونکہ انسان مال کے بارے میں وصیت اس وقت کرتا ہے، جب کوئی اس کا وارث بنتا ہو۔ جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسی کوئی چیز چھوڑی ہی نہیں تھی، جس کا کوئی وارث بنے کہ وصیت کی ضرورت پڑتی۔ ویسے آپ نے مال کے علاوہ کئی چیزوں کی وصیت کی تھی۔ مثلا نماز کی پابندی کی وصیت اور یہودیوں کو جزیرۂ عرب سے نکال باہر کرنے کی وصیت۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10987

 
 
Hadith   1811   الحديث
الأهمية: «إنه لم يقبض نبي حتى يرى مقعده من الجنة، ثم يخير» فلما نزل به، ورأسه على فخذي غشي عليه، ثم أفاق فأشخص بصره إلى سقف البيت، ثم قال: «اللهم الرفيق الأعلى»


Tema:

کسی نبی کی روح اس وقت تک نکالی نہیں گئی، جب تک اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا نہیں دیا گیا اور پھر دنیا یا جنت میں سے کسی ایک کو چننے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ چنانچہ جب آپ کی وفات کا وقت آیا، تو آپ بے ہوش ہو گئے دراں حال کہ آپ کا سر میرے زانو پر تھا۔ پھر جب ہوش میں آئے تو اپنی نگاہ گھر کی چھت کی طرف اٹھائی اور پھر فرمایا : "اللهمَّ الرَّفِيقَ الأعلى" یعنی اے اللہ! مجھے اعلی علیین میں رہنے والے نبیوں کی رفاقت چاہیے

عن عائشة قالت: كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يقول وهو صحيح: «إنَّه لم يُقبض نبيٌّ حتى يرى مقعدَه من الجنة، ثم يُخَيَّر» فلمَّا نزل به، ورأسه على فخِذي غُشِي عليه، ثم أفاق فأشْخَصَ بصرَه إلى سقف البيت، ثم قال: «اللهمَّ الرَّفِيقَ الأعلى». فقلتُ: إذًا لا يختارنا، وعرفتُ أنَّه الحديثُ الذي كان يحدِّثنا وهو صحيح، قالت: فكانت آخر كلمة تكلَّم بها: «اللهمَّ الرَّفِيقَ الأعلى».

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب صحت مند تھے، تو فرمایا کرتے تھے : "کسی نبی کی روح اس وقت تک نکالی نہیں گئی، جب تک اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا نہیں دیا گیا اور پھر دنیا یا جنت میں سے کسی ایک کو چننے کا اختیار نہیں دیا گیا"۔ چنانچہ جب آپ کی وفات کا وقت آیا، تو آپ بے ہوش ہو گئے دراں حال کہ آپ کا سر میرے زانو پر تھا۔ پھر جب ہوش میں آئے تو اپنی نگاہ گھر کی چھت کی طرف اٹھائی اور پھر فرمایا : "اللهمَّ الرَّفِيقَ الأعلى" یعنی اے اللہ! مجھے اعلی علیین میں رہنے والے نبیوں کی رفاقت چاہیے۔ لہذا میں نے کہا: اب آپ ہمیں نہیں چنیں گے۔ میں سمجھ گئی کہ یہاں وہی حدیث عمل کا روپ لے رہی ہے، جو آپ نے ہمیں تندرستی کی حالت میں بتائی تھی۔ وہ کہتی ہیں: اس طرح آپ کے منہ سے نکلنے والے آخری الفاظ تھے : "اللهمَّ الرَّفِيقَ الأعلى"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تقول عائشة -رضي الله عنها-: إن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان يقول في حال صحته قبل أن يمرض مرض وفاته: إنه لم يمت نبي من الأنبياء حتى يريه الله مكانه من الجنة، ثم يخيره بين قعوده في الدنيا، وبين وصوله إلى مكانه من الجنة. قالت عائشة: فلما مرض النبي -صلى الله عليه وسلم- مرض وفاته، كانت رأسه على فخذي، فأغمي عليه ثم أفاق، فرفع بصره إلى سقف البيت ثم قال: «اللهم الرفيق الأعلى» أي: أختار الرفيق الأعلى، وهم جماعة الأنبياء الذين يسكنون أعلى عليين. قالت عائشة: فقلت إذا خيره الله بين الدنيا والآخرة، فإنه سيختار الآخرة، ولن يختارنا، وعرفت أن هذا التخيير هو الحديث الذي كان يحدثها به في حال صحته. قالت عائشة: كان آخر كلمة تكلم بها النبي -صلى الله عليه وسلم-: «اللهم الرفيق الأعلى».

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہونے سے پہلے تندرستی کی حالت میں فرمایا کرتے تھے : کوئی بھی نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوا، جب تک اللہ نے اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا نہیں دیا اور اس کے بعد یہ اختیار نہیں دے دیا کہ وہ چاہے تو دنیا ہی میں رہے اور چاہے تو جنت کے اندر اپنی جگہ لے لے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب آپ مرض الموت کے آخری لمحوں میں تھے، تو آپ کا سر میرے زانو پر تھا۔ اتنے میں بے ہوش ہوگ‏ئے۔ جب ہوش میں آئے، تو گھر کی چھت کی طرف اپنی نظر اٹھائی اور اس کے بعد فرمایا : "اللهم الرفيق الأعلى"۔ یعنی اے اللہ! مجھے اعلی علیین میں رہنے والے نبیوں کی جماعت کا ساتھ چاہیے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے اپنے دل میں کہا کہ اب اللہ نے آپ کو دنیا یا آخرت میں سے کسی ایک کو چننے کا اختیار دے دیا ہے اور ہمیں چننے کی بجائے آپ یقینا آخرت ہی کو چنیں گے۔ میں سمجھ گئی کہ اسی اختیار دینے کا ذکر اس حدیث میں تھا، جو آپ تندرستی کی حالت میں ہم سے بیان کیا کرتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان سے نکلنے والے آخری الفاظ تھے : "اللهم الرفيق الأعلى"۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10988

 
 
Hadith   1812   الحديث
الأهمية: ما من بني آدم مولود إلا يمسه الشيطان حين يولد، فيستهل صارخًا من مس الشيطان، غير مريم وابنها


Tema:

بنی آدم میں سے جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے، شیطان اس کی ولادت کے وقت اسے کچوکے لگاتا ہے اور وہ شیطان کے کچوکے سے چیخ کر رو دیتا ہے۔ البتہ مریم اور ان کا بیٹا دونوں اس سے مستثنی ہیں

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: سمعتُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «ما مِن بَني آدم مَوْلودٌ إلا يَمَسُّه الشيطانُ حِين يُولَد، فيَسْتَهِلُّ صارخصا مِن مَسِّ الشيطان، غير مريم وابنها» ثم يقول أبو هريرة: {وإنِّي أُعِيذُها بك وذُرِّيَّتَها من الشَّيطان الرَّجِيمِ}.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: "بنی آدم میں سے جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے، شیطان اس کی ولادت کے وقت اسے کچوکے لگاتا ہے اور وہ شیطان کے کچوکے سے چیخ کر رو دیتا ہے۔ البتہ مریم اور ان کا بیٹا دونوں اس سے مستثنی ہیں"۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھتے تھے: {وإنِّي أُعِيذُها بك وذُرِّيَّتَها من الشَّيطان الرَّجِيمِ} یعنی میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كل مولود يولد يطعنه الشيطان في جنبه، فيرفع صوته بالبكاء ويصرخ عقب الولادة مباشرة بسبب ذلك الطعن الذي طعنه الشيطان، إلا مريم وابنها عيسى -عليهما السلام-، فإن الله عصمهما منه عند الولادة، لدعوة أم مريم إذ قالت: {وإنِّي أُعِيذُها بك وذُرِّيَّتَها من الشَّيطان الرَّجِيمِ} فاستجاب الله دعوة أم مريم، فحفظ مريم وابنها عيسى من نخس الشيطان المطرود من رحمة الله -تعالى-، ولم يكن لمريم ذرية غير عيسى -عليه السلام-، وهذا المس أو الطعن من الشيطان على حقيقته، وليس معناه طمع الشيطان في إغواء الإنسان كما قال بعض المعتزلة، بل يجب الإيمان بهذا على حقيقته، كما هو مذهب أهل السنة والجماعة.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے، شیطان اس کے پہلو میں کچوکے لگاتا ہے اور بچہ چیخ کر رو دیتا ہے۔ ولادت کے ٹھیک بعد بچے کے رونے کا سبب شیطان کا یہی کچوکا ہے جو وہ اسے لگاتا ہے۔لیکن مریم اور ان کے بیٹے عیسی علیہما السلام اس سے مستثنی ہیں۔ اللہ نے دونوں کو ولادت کے وقت شیطان کے کچوکے سے محفوظ رکھا۔ کیونکہ مریم کی ماں نے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی تھی: {وإنِّي أُعِيذُها بك وذُرِّيَّتَها من الشَّيطان الرَّجِيمِ} (میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔) چنانچہ اللہ نے ان کی دعا کو شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے, رحمت الہی سے دور کئے ہوئے شیطان کے کچوکے سے, مریم اور ان کے بیٹے عیسی علیہما السلام کو, محفوظ رکھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شیطان کا یہ چھونا یا کچوکا لگانا حقیقی معنی پر محمول ہے۔ اس کے معنی شیطان کے انسان کو گمراہ کرنے کى لالچ کرنا نہیں ہے، جیسا کہ بعض معتزلہ کا دعوی ہے۔ صاف ستھری بات یہ ہے کہ اس پر اس کے حقیقی معنوں کے مطابق ہی ایمان رکھنا ضروی ہے۔ یہی اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10994

 
 
Hadith   1813   الحديث
الأهمية: إنما سمي الخضر أنه جلس على فروة بيضاء، فإذا هي تهتز من خلفه خضراء


Tema:

خضر کا نام خضر اس لیے پڑا کہ وہ خشک اور بے آب و گياہ زمین پر بیٹھے تو وہ ان کے نیچےسر سبز وشاداب ہو گئی

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «إنَّما سُمِّيَ الخَضِرُ أنَّه جلس على فَرْوَة بيضاء، فإذا هي تهتزُّ مِنْ خَلْفِه خَضْراء».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "خضر کا نام خضر اس لیے پڑا کہ وہ خشک اور بے آب و گياہ زمین پر بیٹھے تو وہ ان کے نیچےسر سبز وشاداب ہو گئی"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث أن الخضر إنما سُمِّي  بهذا الاسم؛ لأنه جلس على أرض يابسة ليس فيها نبات، فإذا هي تهتز من خلفه خضراء؛ لما نبت فيها من عشب أخضر، والخضر جاء ذكره في القرآن الكريم في قصة موسى في سورة الكهف، وقد اختلف العلماء هل هو نبي أو ولي صالح، والصحيح أنه نبي.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس حدیث میں بتا رہے ہیں کہ خضر کا نام خضر اس لیے پڑا، کیونکہ وہ خشک اور بے آب و گياہ زمین پر بیٹھے تو وہ ان کے نیچےسر سبز وشاداب ہو گئی, کیونکہ اس جگہ سبز گھاس اور ہریالیاں اگ آئیں۔ خضر کا ذکر قرآن کی سورہ الکہف میں موسی علیہ السلام کے قصے میں آیا ہے۔ علما کا اس بات میں اختلاف ہے کہ وہ نبی تھے یا صالح ولی اور صحیح بات یہ ہے کہ وہ نبی تھے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10995

 
 
Hadith   1814   الحديث
الأهمية: الكريم، ابن الكريم، ابن الكريم، ابن الكريم يوسف بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم -عليهم السلام-


Tema:

کریم, کریم کا بیٹا, کریم کا پوتا, کریم کا پڑ پوتا, یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں

عن ابن عمر -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «الكَريمُ، ابنُ الكَريمِ، ابنِ الكَريمِ، ابنِ الكَريمِ يوسفُ بنُ يعقوبَ بنِ إسحاقَ بنِ إبراهيمَ -عليهم السلام-».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "کریم, کریم کا بیٹا, کریم کا پوتا, کریم کا پڑ پوتا, یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام, ہیں"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الكريم الذي جمع مكارم الأخلاق مع شرف النبوة، وكونه ابنا لثلاثة أنبياء متتاليين، وضم مع ذلك شرف علم الرؤيا والرئاسة وتمكنه فيها، وسياسة الرعية بالسيرة الحميدة والصورة الجميلة: هو نبي الله يوسف، ابن نبي الله يعقوب، ابن نبي الله إسحاق، ابن نبي الله إبراهيم -عليهم السلام-.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
کریم یعنی اعلی اخلاق کا پیکر اور شرف نبوت سے سرفراز، ساتھ ہی خاندان میں تین پیڑھی قبل سے نبوت کا اٹوٹ سلسلہ، نیز خوابوں کى تعبیر کے علم سے مشرف, علم سیات سے بہرہ ور اور اس میں ماہر، اپنی قابل تعریف سیرت کے ذریعے عوام کی بہترین قیادت اور اس پر مستزاد حسن صورت۔ یہ ساری چیزیں جس شخصیت کے اندر یک جا تھیں، اس کا نام ہے اللہ کے نبی یوسف اللہ کے نبی یعقوب کے فرزند, اللہ کے نبی اسحاق کے پوتے, اللہ کے نبی ابراہیم کے پڑ پوتے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 10996






© EsinIslam.Com Designed & produced by The Awqaf London. Please pray for us