Hadith Explorer em português مكتشف الحديث باللغة الإنجليزية
 
Hadith   1926   الحديث
الأهمية: علمنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- خطبة الحاجة: إن الحمد لله، نستعينه ونستغفره، ونعوذ به من شرور أنفسنا


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ حاجت سکھایا (جو یہ ہے ): إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا...

عن عبد الله بن مسعود -رضي الله عنه- قال: علمنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- خطبة الحاجة: إن الحمد لله، نستعينه ونستغفره، ونعوذ به من شرور أنفسنا، من يهد الله، فلا مضل له، ومن يضلل، فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، " يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا} [النساء: 1] , {يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون} [آل عمران: 102] , {يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا (70) يصلح لكم أعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزا عظيما} [الأحزاب:70 - 71].

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ حاجت سکھایا جو یہ ہے: إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءَ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ والأرْحامَ إن اللهَ كانَ عليكم رقيبا﴾ (النساء: 1)، ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ﴾ (آل عمران: 102)، ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا، يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ (الأحزاب:70 - 71)۔ ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ اور (اپنے گناہوں کی) معافی چاہتے ہیں اور اپنے نفس کی شرارتوں سے اس کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے وہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ ۔”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس کے واسطے سے تم سوال کرتے ہو، اور رشتے ناتے توڑنےسے بچو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے“۔(النساء: 1) ”اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم پر موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو“۔ (آل عمران: 102) ”اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور بات ہمیشہ صاف سیدھی کیا کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال درست فرما دے گا، تمہاری خطائیں معاف کر دے گا اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی بلاشبہ وہ عظیم کامیابی سے ہمکنار ہوا“۔ (الأحزاب:70 - 71)

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دل حديث ابن مَسْعُود -رضي الله عنه- عَلَى مشروعية هذه الخطبة الجامعة لمحامد الله، وطلب عونه، والالتجاء إليه من الشرور، وتلاوة تلك الآيات الكريمات، وينبغي للإنسان أن يقدمها بين يدي مخاطبة الناس بالعلم من تعليم الكتاب والسنة، والفقه، وموعظة الناس، فهي لا تخص النكاح وحده، وإنما هي خطبة لكل حاجة؛ لتحلها البركة، وليكون لها الأثر الطيب فيما تقدمته، فهي سنَّةٌ مؤكَّدة.
575;بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث اس خطبے کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہے جو اللہ کی تعریفات کو جامع ہے اور جس میں اس سے مدد طلب کی گئی ہے اور برائیوں سے اس کی پناہ مانگی گئی ہے اور ان آیات کریمہ کی تلاوت ہے۔ چنانچہ انسان کو چاہیے کہ وہ کتاب و سنت اور فقہ کی تعلیم دینے یا پھر لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے کی غرض سے جب ان سے مخاطب ہو تو پہلے یہ خطبہ پڑھے۔ یہ خطبہ صرف نکاح کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ یہ ہر قسم کی حاجت کے لیے ہے تاکہ اس میں برکت پیدا ہو اور جس چیز سے بھی پہلے اسے پڑھا جائے اس میں اس کے پاکیزہ اثرات آئیں۔اس کا پڑھنا سنت موکدہ ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58060

 
 
Hadith   1927   الحديث
الأهمية: إذا خطب أحدكم المرأة، فإن استطاع أن ينظر إلى ما يدعوه إلى نكاحها فليفعل


Tema:

جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے تو ہو سکے تو وہ اس چیز (خوبی) کو دیکھ لے جو اسے اس (عورت) سے نکاح کی طرف راغب کر رہی ہے۔

عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا خطبَ أحدُكم المرأة، فإن استطاع أن ينظر إلى ما يدعوه إلى نِكاحها فَلْيَفْعَلْ". فخطبتُ جارية فكنت أتَخَبَّأُ لها، حتى رأيتُ منها ما دَعاني إلى نِكاحها فتزَوجتُها.

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے تو ہو سکے تو وہ اس چیز کو دیکھ لے جو اسے اس (عورت) سے نکاح کی طرف راغب کر رہی ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایک لڑکی کو نکاح کاپیغام دیا تو میں اسے چھپ چھپ کر دیکھتا تھا یہاں تک کہ میں نے وہ خوبی دیکھ ہی لی جس نے مجھے اس کے نکاح کی طرف راغب کیا تھا اورمیں نے اس سے شادی کر لی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دل الحديث على استحباب تقديم النظر إلى التي يُراد نِكاحها، والنظر يباح إلى الوجه والكفين، لأنه يستدل بالوجه على الجمال أو ضده، وبالكفين على خصوبة البدن أو عدمها، وهذا مذهب الأكثر، ولا يشترط رضا المرأة بذلك النظر، بل له أن يفعل ذلك في غفلتها، ومن غير تقدم إعلام كما فعله الصحابي جابر -رضي الله عنه-, وإذا لم يمكنه النظر استحب له أن يبعث امرأة يثق بها تنظر إليها وتخبره بصفتها, إنما شُرع ذلك لأنه أولى وأرغب أن يُؤلف بينهما, لأن زواجهما إذا كان بعد معرفة فلا يكون بعدها غالبا ندامة.
575;س حدیث میں نکاح سے پہلے اس خاتون کو دیکھنے کا استحباب ثابت ہوتا ہے جس سے نکاح کرنا مقصود ہو۔ خیال رہے کہ (منگیتر کا) چہرہ اور ہتھیلیاں ہی دیکھنی مباح ہے اس لیے کہ چہرہ، خوبصورتی وجمال پر یا پھر اس کی ضد (بدصورتی) پر دلالت کرتا ہے اور ہتھیلیاں، عورت کے بدن کی لاغری یا اس کے برعکس بدن کی زرخیزی و صحت مندی پر دلالت کرتی ہيں اور یہی جمہور علماء کا مذہب ہے۔دیکھنے میں عورت کی رضامندی کی شرط نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ اس خاتون کو اس کی بے توجہی میں اور اس کو اطلاع دیے بغیر دیکھے، جیسا کہ صحابیٔ رسول ﷺ جابر رضی اللہ عنہ نے کیا اور اگر مرد کے لیے دیکھنا ممکن نہ ہو تو اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ کسی قابلِ اعتماد خاتون کو اس منگیتر کے پاس بھیجے جو اسے دیکھے اور اس کی صفات سے مطلع کرے۔ دیکھنے کی مشروعیت کی وجہ یہ ہے کہ دونوں کے مابین الفت و محبت پیدا کرنے کایہ انتہائی موزوں اور مرغوب ذریعہ ہوگا اور واقفیت کے بعد ہونے والے نکاح میں غالباً بعد میں چل کر ندامت و شرمندگی نہیں اٹھانی پڑتی ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58061

 
 
Hadith   1928   الحديث
الأهمية: اذهب فانظر إليها، فإنه أجدر أن يؤدم بينكما


Tema:

جاؤ اسے دیکھ لو کیوں کہ یہ تمہارے باہمی رشتے کی پائیداری کے لیے نہایت مناسب ہے۔

عن المغيرة بن شعبة، قال: أتيتُ النبي -صلى الله عليه وسلم فذكرت له امرأةً أخطِبُها، فقال: «اذهب فانظر إليها، فإنه أجدرُ أن يُؤدمَ بينكما»، فأتيت امرأة من الأنصار، فخطَبتُها إلى أبَويها، وأخبرتهما بقول النبي -صلى الله عليه وسلم-، فكأنهما كرِها ذلك، قال: فسمعت ذلك المرأة، وهي في خِدرها، فقالت: إن كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أمرك أن تنظر، فانظر، وإلا فأنشدُك، كأنها أَعْظَمت ذلك، قال: فنظرتُ إليها فتزوجتُها، فذكر من موافقتها.

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے ذکر کیا کہ میں ایک عورت کو نکاح کا پیغام دے رہا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اسے دیکھ لو کیوں کہ یہ تمہارے باہمی رشتے کی پائیداری کے لیے نہایت مناسب ہے، چنانچہ میں ایک انصاریہ عورت کے پاس آیا اور اس کے ماں باپ کے ذریعہ سے اسے پیغام دیا اور نبی اکرم ﷺ کا فرمان سنایا، لیکن ایسا معلوم ہوا کہ اس کو یہ بات پسند نہیں آئی، اس عورت نے پس پردہ یہ بات سنی تو کہا اگر رسول اللہ ﷺ نے دیکھنے کا حکم دیا ہے، تو تم دیکھ لو، ورنہ میں تم کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دلاتی ہوں، گویا کہ اس نے اس چیز کو بہت بڑا سمجھا، مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس عورت کو دیکھا اور اس سے شادی کر لی، پھر انھوں نے اس کا ہم مزاج ہونا ذکر کیا ۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دل الحديث على استحباب نظرِ الرجلِ إلى من يريد أن يتزوجها، وأن ذلك أقرب إلى الوفاق والاتفاق بينهما؛ لأنَّ النظر إليها أولى بالإصلاح وإيقاع الألفة والوفاق بينهما، فيكون تزوجها عن معرفة، فلا يكون بعده ندامة غالبًا، ولهذا جاء المغيرة -رضي الله عنه- يستشير النبي -صلى الله عليه وسلم- في نكاح امرأة فأمره بالنظر إليها ليتأكد التوافق بينهما.   ودل على أنه يجب قبول ما جاء عن النبي -صلى الله عليه وسلم- دون أدنى حرج؛ لأنه لا يأمر -صلى الله عليه وسلم- إلا بما فيه خير وصلاح.
575;س حدیث میں مرد کے لیے اس خاتون کو دیکھنے کا استحباب ثابت ہوتا ہے جس سے وہ نکاح کا امیدوار ہو اور یہ عمل دونوں کےمابین باہمی موافقت اور اتفاق پیدا کرنے کا سب سے انتہائی قریب ترین ذریعہ ہے اور اس کو دیکھنا، دونوں میں باہمی اصلاح قائم کرنے اور الفت و موافقت پیدا کرنے کا موزوں ترین عمل ہے نیز اس کے بعد ہونے والا نکاح علم و آگہی کے ساتھ ہوگا اورعموماً اس کے بعد ندامت و شرمندگی کا سامنا نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے نکاح کرنے کے سلسلہ میں نبی ﷺ سے مشورہ طلب کیا تو آپ ﷺ نے انہیں اس خاتون کو دیکھنے کی ہدایت فرمائی تاکہ دونوں کے مابین موافقت کا حصول یقینی ہوجائے۔ نیز اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ نبی ﷺ سے وارد ہونے والے ہر بات کو ذرہ برابر تامل کیے بغیر قبول کرنا واجب ہے کیوں کہ آپ ﷺ کے فرامین میں خیر و بھلائی اور درستگی و نیکی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58062

 
 
Hadith   1929   الحديث
الأهمية: إذا ألقى الله في قلب امرئ خطبة امرأة، فلا بأس أن ينظر إليها


Tema:

جب اللہ تعالیٰ کسی مرد کے دل میں کسی عورت کو نکاح کا پیغام دینے کا خیال پیدا کرے، تو اس عورت کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

عن محمد بن مسلمة، قال: خطبت امرأة، فجعلتُ أتَخَبّأُ لها، حتى نظرتُ إليها في نَخْلٍ لها، فقيل له: أتفعلُ هذا وأنت صاحب رسول الله -صلى الله عليه وسلم-؟ فقال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «إذا ألقى الله في قلب امرئ خِطبة امرأة، فلا بأس أن ينظر إليها».

محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو شادی کا پیغام دیا تو میں اسے دیکھنے کے لیے چھپنے لگا، یہاں تک کہ میں نے اسے اسی کے باغ میں دیکھ لیا، لوگوں نے ان سے کہا: آپ ایسا کرتے ہیں جب کہ آپ صحابی رسولﷺ ہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی مرد کے دل میں کسی عورت کو نکاح کا پیغام دینے کا خیال پیدا کرے، تو اس عورت کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دل الحديث على أن محمد بن مسلمة -رضي الله عنه- أراد خطبة امرأة فكان يتخبأ لها لينظر إليها، فرآه التابعي فاستغرب هذا الفعل منه، فأخبره بأن فعله هذا استند إلى أمر النبي -صلى الله عليه وسلم- بأن أحدًا إذا أراد أن يخطب امرأة وجعل الله في قلبه الميل إلى نكاحها فلينظر إليها، فدل على استحباب النظر الى المخطوبة ولو بغير علمها, حتى لو اضطر الخاطب إلى أن يتخبأ لها, وهذا إنما أُبيح للحاجة والضرورة.
575;س حدیث میں یہ دلیل ہے کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کسی خاتون کو نکاح کا پیغام دینے کا ارادہ کیا اور وہ اس کو چھپ چھپ کر دیکھنے لگے تو تابعی نے انھیں ایسا کرتے دیکھ لیا اورانھیں ان صحابی کا یہ فعل عجیب و غریب لگا تو صحابی رسول نے انھیں بتایا کہ ان کے اس عمل کی دلیل، نبی ﷺ کے حکم سے ماخوذ ہے کہ اگر کوئی مرد، کسی خاتون کو پیغام نکاح دینے کا خواہشمند ہو اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے دل میں اس خاتون سے نکاح کرنے کا میلان بھی پایا جاتا ہو تو اسےچاہیے کہ وہ اس کو دیکھ لے، چنانچہ اس حدیث میں منگیتر کو دیکھنے کے استحباب کی دلیل ملتی ہے، چاہے اس خاتون کو اس مرد کے دیکھنے کا علم بھی کیوں نہ ہو، یہاں تک کہ نکاح کرنے والا مجبوری میں چھپ کر اسے دیکھ سکتا ہے اور یہ اباحت محض حاجت وضرورت کی حد تک محدود ہے ۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58063

 
 
Hadith   1930   الحديث
الأهمية: أعلنوا النكاح


Tema:

نکاح کا اعلان کرو

عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه، أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "أعْلِنُوا النِّكاح".

عامر بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”نکاح کا اعلان کرو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دل الحديث على مشروعية إعلان الزواج وإشهاره ونشر خبره بين الناس، إظهارًا للسرور وتمييزًا له عن نكاح السِّرِّ، وضابط الإعلان العرف، ومن وسائل الإعلان الوليمة والإشهاد وتشييع الزوج وقت الذهاب بزوجته وضرب الدف ونحو ذلك.
740;ہ حدیث شادی کے اعلان و تشہیر اور لوگوں میں اس کے خبر کی تنشیر کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہے، یہ خوشی کے اظہار اور پوشیدہ شادی سے ممتاز کرنے کے لیے ہے، اعلان کا ضابطہ عرف ہے، وسائلِ اعلان میں سے ولیمہ، لوگوں کی حاضری، رخصتی کے وقت شوہر کا بیوی کی ہمراہی اختیار کرنا، دف بجانا اور گاڑیوں کی آوازیں (ہارن) وغیرہ ہیں۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58065

 
 
Hadith   1931   الحديث
الأهمية: لا نكاح إلا بولي


Tema:

ولی (کی اجازت) کے بغیر نکاح نہیں ہے۔

عن أبي موسى الأشعري -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لا نِكاح إلا بِوَلِيّ».

ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دل الحديث على اعتبار الولي في عقد النكاح وأنه شرط لصحته، فلا يصح النكاح إلاَّ بولي، يتولى عقد النكاح، ويشترط في الولي: التكليف، والذكورية، والرشد في معرفة مصالح النكاح، واتفاق الدين بين الولي والمولى عليها، فمن لم يتَّصف بهذه الصفات فليس أهلاً للولاية في عقد النكاح، فإن تعسر فوليها السلطان.
740;ہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عقدِ نکاح میں ولی کا اعتبار ہوگا اور نکاح کی صحت کے لیے ولی کا ہونا شرط ہے۔ چنانچہ ولی کے بغیر نکاح صحیح نہیں ہوگا۔ ولی عقدِ نکاح کی تولیت کرے گا۔ البتہ ولی میں یہ شروط ہونے چاہییں: مکلف ہو، مرد ہو، مصالحِ نکاح سے با خبر ہو اور ولی و مولیٰ (جس کا وہ ولی ہے) کا دین میں ایک ہو۔ پس جو ان صفات سے متصف نہ ہو، وہ نکاح میں ولایت کا اہل نہیں ہوگا۔ اگر کوئی مشکل پیش آجائے، تو عورت کا ولی سلطان (حاکم وقت) ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58066

 
 
Hadith   1932   الحديث
الأهمية: أيما امرأة نكحت بغير إذن مواليها، فنكاحها باطل


Tema:

جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے، اس کا نکاح باطل ہے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- مرفوعًا: «أيُّما امرأةِ نَكَحَت بغير إذن مَواليها، فنِكاحها باطل»، ثلاث مرات «فإن دخلَ بها فالمهرُ لها بما أصاب منها، فإن تَشاجروا فالسلطان وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ له».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے، اس کا نکاح باطل ہے۔ آپ (ﷺ) نے یہ بات تین بار فرمائی۔ (پھر فرمایا) اگر مرد نے ایسی عورت سے دخول کرلیا، تو اس دخول کے عوض عورت کے لیے اس کا مہر ہے اور اگر ولی آپس میں اختلاف کریں، تو بادشاہ (حاکم وقت) اس کا ولی ہے، جس کا کوئی ولی نہ ہو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث بين النبي -صلى الله عليه وسلم- اشتراط إذن الولي في صحة النكاح, وأن المرأة إذا تزوجت بغير إذن وليها, بحيث باشرت عقد النكاح بنفسها, فنكاحها غير صحيح, فإن حصل وطء في هذا الزواج فُرِّق بين الرجل والمرأة, واستحقت المرأة المهر بذلك الوطء, ثم بين النبي -صلى الله عليه وسلم- أن الأولياء إذا تنازعوا في تزويج المرأة, أو اختلفت هي مع أوليائها انتقل أمرها إلى السلطان, وأن السلطان يعتبر ولي من لا ولي له.
575;س حدیث میں نبی ﷺ نے نکاح کی صحت کے لیے ولی کی اجازت کو شرط قرار دیا ہے۔ اگر عورت ولی کی اجازت کے بغیر شادی کرتی ہے، اس طرح کہ خود عقدِ نکاح کرے، تو اس کا نکاح صحیح نہیں ہے۔ اگر اس طرح کی شادی میں وطی و ہم بستری ہو جاتی ہے، تو مرد و عورت کے درمیان تفریق کرا دی جائے گی اور اس ہم بستری کی وجہ سے عورت مہر کی مستحق ہوگی۔ پھر نبی ﷺ نے بیان کیا کہ اگر عورت کے ولی شادی سے متعلق اختلاف کریں یا خود عورت اپنے ولیوں سے اختلاف کرے، تو اس کا معاملہ سلطان کی طرف منتقل ہو جائے گا اور جس کا ولی نہ ہو سلطان اس کا ولی ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58067

 
 
Hadith   1933   الحديث
الأهمية: الثيب أحق بنفسها من وليها، والبكر تستأمر، وإذنها سكوتها


Tema:

شادی شدہ لڑکی، اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «الثَّيِّب أحقُّ بنفسها مِن وَلِيِّها، والبِكر تُسْتَأمَر، وإذْنُها سُكُوتها».

ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ شادی شدہ لڑکی، اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دل الحديث على أن الثيب أحق بنفسها من وليها في الإذن بمعنى أنه لا يزوجها حتى تأذن له بالنطق لأنها أحق منه بالعقد فإن لم ترض فليس للولي مع الثيب أمر, والبكر البالغ يستأذنها وليها في تزويجها, وإذنها سكوتها, وسكوتها إقرارها ولا يجوز إجبارها.
575;س حدیث میں اس مسئلہ کی رہنمائی ملتی ہے کہ شادی شدہ لڑکی اپنی شادی کی اجازت کے تئیں اپنے ولی کے مقابلہ میں ازخود زیادہ حق دار ہے اور یہ اس معنی میں کہ اس کے زبانی اقرار کے بغیر اس کا نکاح نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ ولی سے زیادہ اپنا نکاح کرنے کا حق رکھتی ہے اور اگر وہ نکاح کے لیے راضی نہ ہو تو اس شادی شدہ کے ساتھ ولی کو کوئی اختیار نہیں رہتا اور بالغ کنواری لڑکی سے اس کا ولی، اس کے نکاح کی اجازت طلب کرے گا اور اس کی خاموشی ہی اس کی جانب سے اجازت اور اس کا اقرار ہے اور خیال رہے کہ اس کا نکاح بھی زبردستی کرنا جائز نہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58068

 
 
Hadith   1934   الحديث
الأهمية: لا تزوج المرأة المرأة، ولا تزوج المرأة نفسها، فإن الزانية هي التي تزوج نفسها


Tema:

عورت، عورت کا نکاح نہ کرائے اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے، اس لیے کہ بدکار عورت ہی اپنا نکاح خود کرتی ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا تُزوِّجُ المرأةُ المرأةَ، ولا تُزوج المرأةُ نفسَها، فإنَّ الزَّانية هي التي تُزوجُ نفسَها».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورت، عورت کا نکاح نہ کرائے اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے، اس لیے کہ بدکار عورت ہی اپنا نکاح خود کرتی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دل الحديث على أن المرأة لا يثبت لها ولاية في النكاح لا لنفسها، ولا لغيرها, وأن النكاح الذي زوّجت فيه المرأةُ نفسها هو نكاح باطل، وأما قوله: (فإن الزانية هي التي تزوج نفسها) فهو من كلام أبي هريرة -رضي الله عنه-, ويريد من ذلك أن مباشرة المرأة للعقد من شأن الزانية فلا ينبغي أن يقع النكاح إلا بولي.
740;ہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نکاح میں عورت کو ولایت کا حق حاصل نہیں ہے؛ نہ اپنے لیے اور نہ دوسری کسی عورت کے لیے۔ نیز ہر وہ نکاح جس میں عورت خود شادی کرتی ہے، باطل ہے۔ اور یہ قول: ”اس لیے کہ بدکار عورت ہی اپنا نکاح خود کرتی ہے“، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذاتی کلام ہے۔ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ عورت کا از خود نکاح کرنا زانیہ کی پہچان ہے۔ چنانچہ بغیر ولی کے نکاح نہیں ہونا چاہیے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58069

 
 
Hadith   1935   الحديث
الأهمية: أن جارية بكرا أتت النبي -صلى الله عليه وسلم- فذكرت أن أباها زوجها وهي كارهة، فخيرها النبي -صلى الله عليه وسلم-


Tema:

ایک کنواری لڑکی نبی ﷺ کے پاس آئی اور اس نے یہ بیان کیا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کردیا ہے جسے وہ ناپسند کرتی ہے چناچہ نبی کریم ﷺ نے اسے اختیار دے دیا۔

عن ابن عباس، أن جَاريةً بِكْراً أتَتِ النبي -صلى الله عليه وسلم- فذكرت «أنَّ أباها زَوَّجَها وهي كارهة، فَخَيَّرَهَا النبي -صلى الله عليه وسلم-».

ابن عباس (رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی ﷺ کے پاس آئی اور اس نے یہ بیان کیا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کردیا ہے جسے وہ ناپسند کرتی ہے چناچہ نبی کریم ﷺ نے اسے (نکاح کو باقی رکھنے یا فسخ کردینے کا) اختیار دے دیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد هذا الحديث أن شابة صغيرة السن لم تزل بكارتها بنكاح سابق، جاءت فأخبرت النبي -عليه الصلاة والسلام- أن أباها أراد أن يزوجها من رجل بغير رضاها ولا إذنها، فخيرها النبي -عليه الصلاة والسلام- بين أن تبقى تحت ذمة هذا الزوج إنفاذًا لتزويج أبيها، أو تفسخ هذا النكاح وترده؛ وذلك لأن إذنها معتبر في الشرع، فلا يزوجها الولي إلا بإذنها ورضاها, ولو كانت بكراً وهي عاقلة بالغة، فلها أن تختار أو ترفض.
والقول باعتبار رأي البكر البالغة, وعدم جواز إجبارها اختيار اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء بالمملكة العربية السعودية.
740;ہ حدیث اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ ایک نوجوان کم سن دوشیزہ جس کی بکارت ابھی کسی نکاحِ سابق سے زائل نہیں ہوئی تھی، نبی ﷺ کے پاس آئی اور بیان کیا کہ اس کے باپ نے اس کی شادی اس کی رضامندی واجازت کے بغیر کسی شخص سے کرنے کا ارادہ کیا ہے، تو نبی ﷺ نے اسے اس بات کا اختیار دیا کہ وہ اپنے باپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس شوہر کے عقد میں رہے یا اس نکاح کو فسخ کرتے ہوئے اس کو رد کردے، کیوں کہ شریعت میں اس (لڑکی) کی اجازت کا اعتبار کیا گیا ہے، لہذا ولی اس کی اجازت اور رضامندی کے بغیر اس کی شادی نہیں کراسکتا۔ اور اگر وہ باکرہ ہو اور عقل مند و بالغہ ہو تو اسے ولی کی بات ماننے یا انکار کرنے کا حق حاصل ہے۔
باکرہ اور بالغہ لڑکی کی رائے کے اعتبار کرنے اور اسے مجبور نہ کرنے کے قول کو سعودی عرب کی مستقل کمیٹی برائے افتاء نے اختیار کیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58070

 
 
Hadith   1936   الحديث
الأهمية: أيما عبد تزوج بغير إذن مواليه، فهو عاهر


Tema:

جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے، وہ زانی ہے۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «أَيُّما عَبْدٍ تَزَوَّج بغَيْر إذْن مَوَالِيهِ، فهو عاهِرٌ».

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے، وہ زانی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث أن العبد إذا تزوج  بدون إذن سيده فزواجه غير صحيح، وعقده فاسد، وحكمه حكم الزاني, وبناءً على ذلك يجب فسخ نكاحه، والتفريق بينه وبين من عقد عليها؛ لأن العبد لا يمكن أن يزوج نفسه.
581;دیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر شادی کر لے، تو اس کی شادی صحیح نہیں ہے، بلکہ اس کا عقد فاسد اور اس کا حکم زانی کا حکم ہے۔ اسی وجہ سے اس کا نکاح فسخ کر دینا اور جس سے عقد ہوا ہے، اس کے اور غلام دونوں کے درمیان تفریق کر دینا واجب ہے؛ کیوں کہ غلام کے لیے خود سے شادی کرنا ممکن نہیں ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58072

 
 
Hadith   1937   الحديث
الأهمية: تزوج النبي -صلى الله عليه وسلم- ميمونة وهو محرم، وبنى بها وهو حلال، وماتت بسرف


Tema:

جب نبی کریم ﷺ نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ حالتِ احرام میں تھے اور جب ان سے خلوت کی تو آپ احرام کھول چکے تھے اور ان کا انتقال بھی مقام سرف میں ہوا۔

عن ابن عباس، قال: "تَزَوَّج النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- مَيْمُونَة وهو مُحْرِمٌ، وبَنَى بِها وهو حَلالٌ، وماتَتْ بِسَرِف".

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ نے اُمّ المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ محرم (حالتِ احرام میں) تھے اور جب ان سے خلوت کی تو آپ احرام کھول چکے تھے اور ان کا انتقال بھی مقام سرف میں ہوا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يفيد هذا الحديث الذي رواه ابن عباس -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- عقَد على أم المؤمنين ميمونة وهو متلبس بالإحرام, وأنه دخل بها وهو متحلل غير محرم, وأنها -رضي الله عنها- ماتت بمكان بين مكة والمدينة اسمه سرف, وهو المكان الذي دخل بها فيه، وبيَّن العلماء أن ما ذكره ابن عباس-رضي الله عنهما- في هذا الحديث -مِن كون النبي صلى الله عليه وسلم تزوج ميمونة وهو محرم- وَهمٌ منه -رضي الله عنه-؛ لأنه انفرد برواية ذلك وحده، وخالفه أكثر الصحابة، وممن خالفه ميمونة وأبو رافع -رضي الله عنهما-، وهما أعلم بالقصة؛ لأنهما المباشران لها, فقد قال أبو رافع -رضي الله عنه- : "كنتُ السفير بين النبي -صلى الله عليه وسلم- وميمونة، فتزوَّجها وهو حلال، وبنى بها حلالًا" وكانت أم المؤمنين ميمونة -رضي الله عنها- تقول: "تزوجني وهو حلال".
ولعل ابن عباس -رضي الله عنهما- لم يطلع على زواجه -صلى الله عليه وسلم- بميمونة إلا بعد أن أحرم- صلى الله عليه وسلم-, فظن أنه تزوجها وهو محرم, وحمل بعض أهل العلم حديث ابن عباس على أنه تزوجها في الحرم وهو حلال.
593;بداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی اس حدیث سے یہ فوائد مستفاد ہوتے ہیں کہ جس وقت نبی ﷺ نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے نکاح فرمایا تو آپ احرام کا لباس زیب تن کیے ہوئے تھے اور ان سے خلوت فرمائی تو احرام کھول کر حلال ہوچکے تھے۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع 'سرف' نامی مقام پر اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنھا کی وفات ہوئی اور یہی وہ مقام ہے جہاں آپ ﷺ نے ان سے خلوت فرمائی۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی ذکر کردہ اس حدیث کے تئیں کہ نبی ﷺ نے میمونہ رضی اللہ عنھا سے حالتِ احرام میں نکاح کیا، علماء نے یہ وضاحت کی کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کو وہم ہوگیا؛ کیوں کہ اس روایت کے وہی منفرد راوی ہیں اور جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے ان کی مخالفت ثابت ہے اور اس قصہ کا سب سے زیادہ علم رکھنے والی شخصیات میمونہ رضی اللہ عنھا اور ابورافع رضی اللہ عنہ سےان کی مخالفت مروی ہے، کیوں کہ ان دونوں سے اس قصہ کا براہ راست تعلق رہا۔ ابورافع رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ میں نبی ﷺ اور میمونہ رضی اللہ عنھا کے مابین سفیر کی حیثیت سے تھا اور آپ ﷺ نے ان سے حالت حلال ہی میں نکاح فرمایا اور حالت حلال ہی میں خلوت فرمائی۔ خود ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنھا فرمایا کرتی تھیں آپ ﷺ نے مجھ سے حالت حلال ہی میں نکاح فرمایا۔
یہ ہوسکتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کو نبی ﷺ کے میمونہ رضی اللہ عنھا سے نکاح کا علم، آپ ﷺ کے حالتِ احرام میں آنے کے بعد ہوا ہو اور انھیں یہ گمان ہوگیا کہ آپ ﷺ نے حالت احرام میں ان سے نکاح فرمایا۔ بعض اہلِ علم نے ابن عباس رضی اللہ عنھما کی حدیث کو اس بات پر محمول کیا کہ آپ ﷺ نے میمونہ رضی اللہ عنھا سے حدود حرم میں نکاح فرمایا اور آپ اس وقت حلال تھے۔   --  [اس حدیث کی سند صحیح ہے۔]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58073

 
 
Hadith   1938   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- تزوجها وهو حلال


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی تو آپ اس وقت حلال تھے۔

عن يَزِيد بن الأصمِّ قال: حدَّثَتْني مَيْمونَة بنت الحارث -رضي الله عنها- «أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- تَزَوَّجها وهو حلال»، قال: «وكانت خالَتي، وخالةَ ابنِ عباس».

یزید بن اصم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی تو آپ ﷺ اس وقت حلال تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میمونہ رضی اللہ عنہا میری بھی خالہ تھیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بھی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكر يزيد بن الأصم أن أم المؤمنين ميمونة بنت الحارث -رضي الله عنها- أخبرته أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- تزوجها وهو متحلل من إحرامه, فلم يكن أثناء زواجه بها محرمًا بحج أو عمرة, ثم ذكر قرابته بميمونة -رضي الله عنها- وأنها كانت خالته, كما كانت خالة ابن عباس -رضي الله عنهما-، مما يدل على قربه من صاحبة القصة، وأنه لم يكن محرمًا كما قال ابن عباس.
740;زید بن اصم نے یہ بات ذکر فرمائی کہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنھا نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح کیا تو اس وقت آپ ﷺ احرام کھول کر حلال ہوچکے تھے اور آپ ﷺ نے ان سے نکاح کے دوران کسی حج یا عمرہ کا احرام نہیں پہنا تھا۔ پھر یزید بن اصم، میمونہ رضی اللہ عنھا سے اپنی رشتہ داری کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس طرح وہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی خالہ تھیں، ان کی بھی خالہ تھیں، جس سے یہ دلیل ملتی ہے کہ وہ قصہ بیان کرنے والی ام المؤمنین رضی اللہ عنھا کے قریبی رشتہ دار تھے اور آپ ﷺ احرام میں نہیں تھے،جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا خیال ہے (کہ آپ احرام میں تھے)۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58074

 
 
Hadith   1939   الحديث
الأهمية: رخص رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عام أوطاس، في المتعة ثلاثا، ثم نهى عنها


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے (غزوۂ) اوطاس کے سال تین (دن) کے لیے متعہ کی رخصت دی اور پھر اس سے منع فرما دیا۔

عن إياس بن سلمة، عن أبيه، قال: «رَخَّصَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عَامَ أَوْطَاسٍ، في المُتْعَة ثلاثا، ثم نَهَى عنها».

ایاس بن سلمہ اپنے والد سلمہ سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے (غزوۂ) اوطاس کے سال تین (دن) کے لیے متعہ کی رخصت دی اور پھر اس سے منع فرما دیا۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سَن الشارع النكاح لقصد الاجتماع والدوام والألفة وبناء الأسرة, ولذا كان كل قصد أو شرط يخالف هذه الحكمة من النكاح باطلا, ومن هنا حرم نكاح المتعة، وهو أن يتزوج الرجل المرأة إلى أجل، وقد وقع الترخيص فيه سنة غزوة أوطاس, وذلك في شوال من عام ثمانية من الهجرة مدة ثلاثة أيام فقط؛  لداعي الضرورة, ثم حرَّمه النبي -صلى الله عليه وسلم- تحريمًا مؤبدًا؛ لما فيه من المفاسد، من اختلاط في الأنساب؛ واستئجار للفروج، ومجافاة للذوق السليم والطبيعة المستقيمة.
588;ارع نے اجتماع و ہمیشگی، الفت و محبت اور خاندان بنانے کی غرض سے نکاح کو مسنون قرار دیا ہے۔ اس لیے ہر وہ غرض و شرط جو نکاح کی اس حکمت کے خلاف ہو، باطل ہے؛ یہی وجہ ہے کہ نکاحِ متعہ حرام ہے۔ نکاح متعہ یہ ہے کہ آدمی عورت سے ایک مقررہ مدت تک کے لیے شادی کرے۔ اس سلسلے میں غزوۂ اوطاس کے سال رخصت دی گئی۔ یہ شوال آٹھ ہجری میں پیش آیا اور ضرورت کے تحت صرف تین دن کی اجازت دی گئی۔ پھر نبی ﷺ نے ہمیشہ کے لیے اسے حرام قرار دے دیا۔ کیوں کہ اس میں بہت سے مفاسد و خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ مثلا نسبوں کا اختلاط، شرم گاہوں کو کرایے پر لینا اور ذوقِ سلیم اور طبیعت مستقیمہ کے لیے اذیت ناکی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58075

 
 
Hadith   1940   الحديث
الأهمية: لعن الله المحلل والمحلل له


Tema:

حلالہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے۔

عن علي -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لَعَنَ اللهُ المُحَلِّل، والمُحَلَّلَ له».

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حلالہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں پر اللہ نے لعنت کی ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لما كانت المطلقة ثلاثاً لا تحل لزوجها الأول حتى ينكحها زوج غيره, ويطأها, فإن البعض قد يلجأ للتحايل على الأحكام الشرعية, فيتفق مع رجل آخر على أن يتزوج هذه المرأة زواجاً صورياً ثم يطلقها, ليس بقصد الزواج الشرعي, ولكن بغرض تحليلها للزوج الأول, ولما في ذلك من التحايل على الشرع, وخسة النفس, وقلة الحمية والمروءة, حرَّم النبي -صلى الله عليه وسلم- هذا النكاح, ودعا على المحلل والمحلل له بالطرد والإبعاد من رحمة الله -تعالى-.
578;ین طلاق شدہ خاتون اپنے پہلے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتی جب تک اس مطلقہ خاتون سے کوئی دوسرا مرد نکاح کرتے ہوئے اس کے ساتھ ہمبستری نہ کرلے، اس کے باوجود بعض لوگ شرعی احکام میں باہمی حیلہ سازی کا سہارا لیتے ہیں اور ایسا شخص دوسرے کے ساتھ یہ معاہدہ کرتا ہے کہ وہ اس خاتون سے مصنوعی و حیلہ پر مبنی نکاح کرے، پھر اس کو طلاق دے ، اس سے شرعی نکاح مقصود نہیں ہوتا بلکہ یہ پہلے شوہر کے لیے اس خاتون کو حلال کرنے کی غرض سے کیا جاتا ہے۔ دراصل اس میں شریعت کے تئیں باہمی حیلہ سازی اختیار کرنے، گھٹیا نفسانی صفت، نخوت اور انسانی اخلاق کی کمی پائی جاتی ہے، اسی لیے نبی ﷺ نے اس نکاح کو حرام قرار دیا اور حلالہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں پر لعنت فرمائی اور لعنت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کیے جانے کا مفہوم ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58076

 
 
Hadith   1941   الحديث
الأهمية: لا ينكح الزاني المجلود إلا مثله


Tema:

کوڑے کھایا ہوا زناکار اپنے جیسی عورت ہی سے شادی کرے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا يَنْكِحُ الزَّاني المَجْلود إلا مثْلَه».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ کوڑے کھایا ہوا زناکار اپنے جیسی عورت ہی سے شادی کرے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث فيه بيان لنوع من أنواع الأنكحة الباطلة, وهو نكاح الزاني الذي لم يتب من الزنى؛ وثبت زناه لا يجوز له أن يتزوج مسلمة عفيفة, إذ لا يُقْدِم على نكاحه من النساء إلاَّ أنثى زانيةٌ مثله، يُناسب حاله حالها, وهذا الحكم إذا لم يتب من هذا الذنب العظيم, كما أن الزانية التي ارتكبت هذه الفاحشة لا يجوز للمسلم أن يتزوجها وهي غير تائبة من الزنى, ووصف الزاني بالمجلود وصف أغلبي؛ لأن الغالب أن من ثبت زناه جلد, وإلا فالحكم يشمل الزاني الذي لم يجلد, فإن حصل عقد في الحالين فهو عقد باطل، وقال -تعالى-: (الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك).
575;س حدیث میں باطل و ناجائز نکاحوں کی ایک قسم بیان کی گئی ہے اور یہ وہ نکاح ہے جس میں زانی، اپنی زناکاری سے تائب نہ ہو اور اس کا زناکار ہونا ثابت ہو تو ایسے شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی پاکباز مسلمان خاتون سے نکاح کرے کیونکہ اس سے نکاح کے لیے اسی جیسی زناکار خاتون ہی آگے آسکتی ہے اور جن کی حالت ایک دوسرے سے مناسبت رکھتی ہے اور یہ حکم اس وقت جاری ہوگا جب وہ اس عظیم گناہ سے توبہ نہ کرے۔ نیز یہ کہ بدکاری کی مرتکب اس زناکار خاتون سے بھی کسی مسلمان کا نکاح کرنا جائز نہیں جو زناکاری سے تائب نہ ہوئی ہو۔ زناکار کو کوڑے کھانے والے سے متصف کرنا، غلبہ صفت کی بناء پر ہے کیونکہ اکثر یہی ہوتا ہے کہ جس کا زناکار ہونا ثابت ہوجائے تو اس کو کوڑے لگائے جاتے ہیں، ورنہ اس حکم میں وہ زناکار بھی شامل ہے جس کو کوڑے نہیں لگائے گئے ہوں۔اگر ان دونوں حالات میں نکاح ہوجائے تو ایسا نکاح باطل ہوگا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ ”زانی مرد بجز زانیہ یا مشرکہ عورت کے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں کرتا اور زناکار عورت بھی بجز زانی یا مشرک مرد کے کسی اور مرد سے نکاح نہیں کرتی اور ایمان والوں پر یہ حرام کردیا گیا“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58077

 
 
Hadith   1942   الحديث
الأهمية: لا، حتى يذوق الآخر من عسيلتها ما ذاق الأول


Tema:

نہیں، یہاں تک کہ دوسرا یعنی شوہرِ ثانی اس کا مزہ چکھے جیسا کہ پہلے نے مزہ چکھا تھا

عن عائشة -رضي الله عنها-، قالت: طلَّق رجل امرأَته ثلاثا، فَتَزوَّجها رجل، ثم طلَّقها قَبْل أن يَدْخُل بها، فَأَراد زوجها الأول أن يتزوَّجها، فسُئِل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن ذلك، فقال: «لا، حتى يَذُوَق الآخرُ مِنْ عُسَيْلَتِها ما ذَاقَ الأوَّل».

عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیں، تو اس سے ایک دوسرے آدمی نے شادی کرلی پھر اس نے صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دی، اب اس کے پہلے خاوند نے اس سے شادی کا ارادہ کیا اور رسول ﷺ سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا، نبی ﷺ نے فرمایا: نہیں، یہاں تک کہ دوسرا یعنی شوہرِ ثانی اس کا مزہ چکھے جیسا کہ پہلے نے مزہ چکھا تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاءت امرأة رفاعة القرظي شاكية حالها إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-, فأخبرته أنها كانت زوجًا لرفاعة، فبتَّ طلاقها بالتطليقة الأخيرة، وهي الثالثة من طلقاتها، وأنها تزوجت بعده عبد الرحمن بن الزَّبِير -بفتح الزاي- فلم يستطع أن يمسها, فطلقها، فَأَراد زوجها الأول أن يتزوَّجها، فسألت النبي -صلى الله عليه وسلم- عن ذلك, فمنعه ونهى عنه، وأخبرها بأنه لابد لحل رجوعها إلى رفاعة من أن يطأها زوجها الأخير.
585;فاعہ قرظی کی بیوی اپنی حالت کی شکایت لے کر نبی ﷺ کے پاس آئیں، انہوں نے بتایا کہ وہ رفاعہ کی زوجیت میں تھیں کہ انہوں نے انہیں آخری طلاق طلاقِ بتہ دے دیا، یعنی تینوں طلاق دے دی، اور انہوں نے عبدالرحمان بن زَبِیر سے شادی کرلی، انہوں نے انہیں چھوا بھی نہیں اور طلاق دے دی، اب ان کے پہلے شوہر نے ان سے شادی کرنی چاہی تو انہوں نے اس کے بارے میں نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا، آپ ﷺ نے منع فرمایا اور اس سے روک دیا۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ رفاعہ کی جانب رجوع کے جواز کے لیے ضروری تھا کہ دوسرے شوہر نے ان سے وطی کیا ہو۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58078

 
 
Hadith   1943   الحديث
الأهمية: يا بني بياضة أنكحوا أبا هند وأنكحوا إليه


Tema:

بنی بیاضہ کے لوگو! ابوہند سے تم (اپنی بچیوں کی) شادی کرو اور (ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے) تم انہیں نکاح کا پیغام دو۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-، أن أبا هِنْد، حَجَمَ النبي -صلى الله عليه وسلم- في اليَافُوخ، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «يا بَنِي بَيَاضَةَ، أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ، وَانْكِحُوا إلَيْهِ» وقال: «وإنْ كان في شيء مِمَّا تَدَاوُون به خيرٌ فَالحِجَامة».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوہند نے نبی اکرم ﷺ کے سر کی تالو میں پچھنا لگایا تو آپ نے فرمایا: بنی بیاضہ کے لوگو! ابوہند سے تم (اپنی بچیوں کی) شادی کرو اور (ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے) تم انہیں نکاح کا پیغام دو اور فرمایا اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں خیر ہے تو وہ پچھنا لگانے ہی میں ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث فيه أن النبي -صلى الله عليه وسلم- احتجم عند أبي هند -رضي الله عنه- في رأسه, وهو يدل على عدم اعتبار الكفاءة لا في النسب، ولا في المهنة؛ وذلك أنَّ النَّبيَّ -صلى الله عليه وسلم- أمر إحدى قبائل الأنصار، وهم القبيلة القحطانية الأزدية العربية أن يُنكِحُوا أبا هند، وأن يخطبوا إليه بناته, وهو من موالي بني بياضة المذكورين، وكان مع ما مسَّه من الرق حجَّامًا، والحجامة عند العرب صناعة دنيئة, فلم يعتبر الكفاءة في النسب أو المهنة, وتدل النصوص الأخر على اعتبار الكفاءة في الدين والخلق.
ثم ذكر أن الحجامة من خير ما يتداوى به المرء.
575;س حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ نبی ﷺ نے ابوہند رضی اللہ عنہ کے ہاں اپنے سر میں پچھنا لگوایا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ (نکاح کے لیے) حسب و نسب اور پیشے میں کفؤ (برابری) کا اعتبار نہیں ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے ایک انصاری قبیلہ (عرب کا ازدی قحطانی النسل قبیلہ) کو حکم دیا کہ وہ ابوہند سے (اپنی بچیوں کی) شادی کریں اور ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے انہیں نکاح کا پیغام دیں اور ابوہند بنی بیاضہ کے آزاد کردہ غلاموں میں سے تھے اور وہ غلامی کی وجہ سے لاحق ایذا و مصیبت کے ساتھ پیشہ کے اعتبار سے حجام (پچھنا لگانے کا کام کرتے) تھے اور عرب کے نزدیک پچھنا لگانا بہت حقیر و گھٹیا پیشہ متصور تھا، چنانچہ آپ ﷺ نے حسب و نسب یا پیشہ میں کفو و برابری کا اعتبار نہ کیا اور دیگر نصوص میں یہ دلیل ملتی ہے کہ دینداری اور اچھے اخلاق میں کفو کو ملحوظ رکھا جائے۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کے علاج معالجہ میں سب سے بہتر علاج، پچھنا لگانا ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58080

 
 
Hadith   1944   الحديث
الأهمية: الولاء لمن ولي النعمة


Tema:

ولاء (میراث) کا حق دار ولی نعمت (آزاد کرانے والا) ہوتا ہے

عن عائشة -رضي الله عنها- أنها اشترتْ بَريرَة مِنْ أُناسٍ من الأنصار واشْتَرَطوا الوَلاء، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «الوَلاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَة»، وخَيَّرَهَا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وكان زوْجُها عبْدا، وأهدَتْ لعائشة لحْما، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لو صَنَعْتُم لنا من هذا اللحم»، قالت عائشة: تُصُدِّقَ به على بَرِيرَة، فقال: «هو لها صدَقة ولنا هديَّة».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے بریرہ کو کچھ انصاریوں سے خریدا، جنھوں نے (اپنے لیے) ولاء (میراث) کی شرط رکھی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولاء (میراث) کا حق دار ولی نعمت (آزاد کرانے والا) ہوتا ہے“۔ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو (نکاح کو باقی رکھنے کے متعلق) اختیار دیا۔ ان کے شوہر غلام تھے۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو گوشت کا ہدیہ بھیجا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس گوشت میں ہمارے لیے بھی تو حصہ رکھنا تھا“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ گوشت بریرہ کے پاس صدقہ آیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ بریرہ کے لیے صدقہ تھا؛ لیکن ہمارے لیے (صدقہ نہیں) ہدیہ ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد الحديث أن أم المؤمنين عائشة -رضي الله عنها- اشترت بريرة وأعتقتها فأراد أصحابها أن يكون ولاؤها لهم, فأخبرها -عليه الصلاة والسلام- بأن هذا الشرط  لا يصح، وأن من أنعم بالعتق على العبد يكون ولاؤه له، و وبريرة كانت زوجة لعبد  اسمه مغيث، فلما تحررت وملكت نفسها  خيَّرها -عليه الصلاة والسلام- بين أن تبقى تحته, أو تفارقه؛ لأنها صارت أعلى منه رتبة بحريتها، ثم إنه أهدي لها لحم, فأرسلت لعائشة منه, فأراد -عليه الصلاة والسلام- أن يأكل منه, فأخبرته عائشة -رضي الله عنها- بأنه صدقة أعطيت لبريرة, وهو -عليه الصلاة والسلام- لا يأكل الصدقة, فأخبرها -عليه الصلاة والسلام- بأن بريرة ملكته عن طريق الصدقة, وينتقل إلى النبي -عليه الصلاة والسلام- بطريق الهدية, فيتغير حكمه, ويصير هدية وهبة, فلا يحرم عليه ولا على أهل بيته.
575;س حدیث سے معلوم ہوا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خرید کر آزاد کر دیا، تو ان کے مالکوں نے ولاء (وراثت) کا حق اپنے لیے چاہا۔ اس پر نبی ﷺ نے بتایا کہ یہ شرط درست نہیں ہے۔ یہ حق غلام آزاد کرانے والے کو حاصل ہے۔ بریرہ مغیث نامی ایک غلام کی بیوی تھیں۔ جب وہ آزاد ہوئیں اور اپنی ذات کی مالک ہو گئیں، تو نبی ﷺ نے انھیں اپنے شوہر کے ساتھ رہنے یا ان سے جدا ہو جانے کی اجازت مرحمت فرمادی؛ کیوں کہ وہ آزادی کی وجہ سے شوہر کی بہ نسبت اعلیٰ مرتبہ پر فائز ہو چکی تھیں۔ پھر انھیں گوشت کا ہدیہ دیا گیا، تو اس میں سے کچھ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، جس میں سے نبی ﷺ نے بھی کھانے کا ارادہ کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ وہ صدقہ ہے، جو بریرہ کو دیا گیا تھا اور آپ ﷺ صدقہ نہیں کھاتے تھے۔ لیکن آپ ﷺ نے بتایا کہ بریرہ صدقے کی راہ سے اس کی مالک ہوچکی ہیں اور اس نے اسے ہدیے کے طور پر نبی ﷺ کی طرف منتقل کیا ہے؛ اس لیے اس کا حکم بدل گیا اور وہ ہدیہ اور تحفہ ہو گیا؛ بنا بریں وہ آپ پر اور آپ کے اہل بیت پر حرام نہیں ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58081

 
 
Hadith   1945   الحديث
الأهمية: طلق أيتهما شئت


Tema:

ان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو۔

عن الضحاك بن فيروز، عن أبيه قال: قلت: يا رسول الله، إني أسلمت وتحتي أختان؟، قال: «طَلِّق أيتَهُما شِئتَ».

ضحاک بن فیروز رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
فيروز الديلمي -رضي الله عنه- صحابي من أهل اليمن أسلم وعنده زوجتان، هما أختان، وقد كان أهل الجاهلية يتزوجون الأختين معا لا يرون بذلك بأساً، فأمره النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يختار منهما واحدة، لتبقى له زوجة، ويطلق الأخرى؛ لأنَّه لا يجوز الجمع بين الأختين في الإسلام.
575;ہلِ یمن سے تعلق رکھنے والے صحابی رسول ﷺ ، فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو اس وقت ان کی دو بیویاں تھیں جوسگی بہنیں تھیں اور اہل جاہلیت کے ہاں دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنے کا رواج تھا، وہ اس کوکوئی گناہ نہیں سمجھتے تھے،چنانچہ نبی ﷺ نے انھیں حکم دیا کہ وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کریں تاکہ ان کے ہاں ایک بیوی رہے اور وہ دوسری کو طلاق دے دیں؛کیونکہ دین اسلام میں دو سگی بہنوں کو نکاح میں ایک ساتھ رکھنا، جائز نہیں ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58082

 
 
Hadith   1946   الحديث
الأهمية: أن غيلان بن سلمة الثقفي أسلم وله عشر نسوة في الجاهلية، فأسلمن معه، فأمره النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يتخير أربعًا منهن


Tema:

غیلان بن سلمہ ثقفی نے اسلام قبول کیا اور جاہلیت میں ان کی دس بیویاں تھیں، وہ سب بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں، تو نبی اکرمﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے کسی چار کو منتخب کر لیں۔

عن ابن عمر، أن غَيْلَانَ بن سَلَمَةَ الثقفي أَسْلَمَ وله عشر نِسْوَةٍ في الجاهلية، فَأَسْلَمْنَ معه، « فَأَمَرَهُ النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يَتَخَيَّرَ أربعا مِنْهُنَّ».

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی نے اسلام قبول کیا اور جاہلیت میں ان کی دس بیویاں تھیں، وہ سب بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے کسی چار کو منتخب کر لیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث يبين صورة من صور الأنكحة التي كانت موجودة في الجاهلية، حيث كان أحدهم يجمع بين أعداد كبيرة من النساء، ولا يتقيدون بعدد معين, فجاء هذا الصحابي وقد أسلم وكان له عشر نسوة فأسلمن معه جميعًا، فأمره النبي -عليه الصلاة والسلام- أن يختار منهن أربعًا ويفارق البواقي؛ لأن الشرع حدد الجمع في النكاح بأربع فقط, وهو إجماع من المسلمين.
575;س حدیث میں زمانۂ جاہلیت میں پائے جانے والے نکاح کے طور طریقوں میں سے ایک کی وضاحت کی گئی ہے کہ بعضوں کے نکاح میں بیک وقت عورتوں کی بڑی تعداد ہوا کرتی تھی اور وہ متعین تعداد کے پابند نہ تھے، چنانچہ یہ صحابی تشریف لائے اور وہ اسلام لاچکے تھے اور ان کی دس بیویاں تھیں اور شوہر کے ساتھ وہ سب بھی مسلمان ہوگئیں، چنانچہ نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ان میں سے کسی چار کو اپنالیں اور باقی کو طلاق دے دیں کیونکہ اسلامی شریعت نے مرد کے نکاح میں صرف چار خواتین کو رکھنے کی حد قائم کردی ہے اور تمام مسلمانوں کا اس امر پر اجماع ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58083

 
 
Hadith   1947   الحديث
الأهمية: ملعون من أتى امرأته في دبرها


Tema:

وہ شخص ملعون ہے، جس نے عورت سے اس کے دبر میں جماع کیا۔

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «ملعون من أتى امرأته في دُبُرِها».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص ملعون ہے، جس نے عورت سے اس کے دبر میں جماع کیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث الوعيد الشديد لمن يجامع زوجته في دبرها؛ حيث يترتب على ذلك الطرد من رحمة الله -تعالى-، وهذا دليل على أنه كبيرة من كبائر الذنوب فلا يحل لمسلم أن يفعله.
575;س حدیث کے اندر بیوی کے دبر میں مجامعت سے متعلق شدید وعید آئی ہے؛ کیوں کہ ایسا کرنے پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دھتکارے جانے کی سزا مرتب ہوتی ہے یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ یہ انتہائی بڑے گناہوں میں سے ہے اور مسلمان کے لیے ایسا کرنا حلال نہیں ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58090

 
 
Hadith   1948   الحديث
الأهمية: لا ينظر الله إلى رجل أتى رجلا أو امرأة في دبر


Tema:

اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا جو کسی مرد یا کسی عورت کی دبر میں صحبت (ہمبستری) کرے۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا ينظر الله إلى رجل أَتَى رجلًا أو امرأةً في دُبُرٍ».

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا جو کسی مرد یا کسی عورت کی دبر میں صحبت (ہمبستری) کرے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث يدل على حرمة من أتى رجلًا بحيث فعل اللواط وهو إتيانه من دبره، وكذلك من يأتي امرأة في دبرها سواء كانت زوجته أو غيرها، فعقوبتهما أن الله لا ينظر إليهما نظر شفقة ورحمة ورأفة، وذلك لوقوعهما في كبيرة من كبائر الذنوب، ولما في فعلهما هذا من المفاسد العظيمة.
575;س حدیث میں عمل لواطت کے طور پر کسی مرد کے ساتھ بدفعلی کرنے والے کی حرمت کی دلیل ہے اور لواطت کا عمل یہ ہے کہ مرد کے دبر (سرین) میں صحبت کی جائے، اسی طرح اس حرمت میں وہ شخص بھی داخل ہے جو کسی عورت کے دبر میں صحبت کرے، چاہے وہ اس کی بیوی ہو یا کوئی دوسری عورت ہو، چنانچہ ان دونوں کی سزا یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں پر اپنی شفقت، رحمت اور نرمی کی نظر بھی نہ ڈالے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا، نیز یہ کہ ان کی اس بدفعلی میں بڑے مفاسد پائے جاتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58091

 
 
Hadith   1949   الحديث
الأهمية: أن تطعمها إذا طعمت، وتكسوها إذا اكتسيت -أو اكتسبت- ولا تضرب الوجه، ولا تقبح، ولا تهجر إلا في البيت


Tema:

یہ کہ جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب پہنو یا یوں فرمایا کہ جب تم کماؤ تو اسے بھی پہناؤ ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو اور گھر کے علاوہ کسی اور جگہ اس سے علاحدگی اختیار نہ کرو ۔

عن حكيم بن معاوية القشيري، عن أبيه، قال: قلت: يا رسول الله، ما حَقُّ زوجة أحَدِنَا عليه؟، قال: «أن تُطْعِمَهَا إذا طَعِمْتَ، وَتَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ -أو اكْتَسَبْتَ- ولا تضرب الوجه، ولا تُقَبِّحْ، ولا تَهْجُرْ إلا في البيت».

حکیم بن معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم پر ہماری بیوی کے کیا حق ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب پہنو یا یوں فرمایا: جب تم کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو اور گھر کے علاوہ کسی اور جگہ اس سے علاحدگی اختیار نہ کرو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سأل معاوية القشيري -رضي الله عنه- رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن الحقوق الواجبة للزوجة, فبين له أن الواجب من ذلك إطعامها وكسوتها, بقدر سعته وطاقته, ثم نهاه عن ضرب الزوجة في الوجه, وعن سبها وشتمها, وعن هجرها إلا في البيت, فلا يكون هجره لها -إن أراد عقوبتها- إلا في المضجع, ولا يتحول عنها إلى دار أخرى, ولا يحولها إلى دار أخرى.
605;عاویہ قشیری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے بیوی کے لازمی حقوق کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے انہیں بتایا کیا کہ اس کے لازمی حقوق میں یہ ہے کہ شوہر، اپنی گنجائش اور طاقت کے مطابق، اس کو کھلائے اور پہنائے۔ پھر آپ نے شوہر کو اس بات سے باز رہنے کی تاکید فرمائی کہ وہ بیوی کو چہرہ پر مارے اور اس کے ساتھ سخت گالی گلوچ کرےاور اس سے جدائی اختیار نہ کرے مگر اسی کے گھر میں اور بیوی سے اس کی یہ علاحدگی (بشرطیکہ اس کو سزا و سرزنش کرنا مقصود ہو) صرف بستر سے الگ کرنے تک محدود رہے گی۔ نہ ہی وہ کسی اور مکان میں منتقل ہوگا اور نہ ہی بیوی کو کسی اور گھر میں منتقل کرے گا۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58093

 
 
Hadith   1950   الحديث
الأهمية: كانت اليهود تقول: إذا جامعها من ورائها جاء الولد أحول، فنزلت: {نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم}


Tema:

یہودی کہتے تھے کہ اگر عورت سے ہمبستری کے لیے کوئی پیچھے سے آئے گا تو بچہ بھینگا پیدا ہو گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، سو اپنے کھیت میں آؤ جدھر سے چاہو“۔

عن جابر -رضي الله عنه- قال: "كانت اليهود تقول: إذا جَامَعَها مِن وَرَائِها جاء الولد أَحْوَلَ، فنزلت: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ}، [البقرة: 223]".

جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی کہتے تھے کہ اگر عورت سے ہمبستری کے لیے کوئی پیچھے سے آئے گا تو بچہ بھینگا پیدا ہو گا۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، سو اپنے کھیت میں آؤ جدھر سے چاہو“۔ (سوره بقرہ:223)

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان اليهود يضيِّقون في هيئة الجماع، من غير استنادٍ إلى علم، وكان الأوس والخزرج يأخذون عنهم أقوالهم وأحوالهم؛ لأنَّهم أهل كتاب، وكان من جملة افتراء اليهود قولهم: إذا أتى الرجل امرأته من دبرها في قبلها، كان الولد المقدر من ذلك الجِماع أحول، فأنزل الله -تعالى-: (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُم). تكذيباً لهم، وبياناً بأن الله أباح ذلك بشرط أن يكون في القبل.
740;ہود بغیر کسی علمی استناد کے ہیئتِ جماع سے متعلق تنگ نظری کا شکار تھے اور اوس وخزرج کے لوگ ان کے اقوال و احوال کو ان کے اہلِ کتاب ہونے کی وجہ سے لیتے تھے، یہودیوں کی منجملہ افترا پردازیوں میں سے ان کا یہ قول بھی تھا: اگر عورت سے ہمبستری کے لیے کوئی پیچھے سے آئے گا تو بچہ بھینگا پیدا ہو گا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے اور یہ بیان کرتے ہوئے کہ یہ مباح ہے بشرطیکہ جماع قُبل میں ہو یہ آیت نازل فرمائی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، سو اپنے کھیت میں آؤ جدھر سے چاہو“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58097

 
 
Hadith   1951   الحديث
الأهمية: إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان عليها لعنتها الملائكة حتى تصبح


Tema:

اگر کسی مرد نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا، لیکن اس نے آنے سے انکار کر دیا اور مرد نے اس پر غصہ ہو کر رات گزاری، تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فَأَبَتْ فَبَاتَ غَضْبَانَ عليها لَعَنَتْهَا الملائكة حتى تصبح».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” اگر کسی مرد نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا، لیکن اس نے آنے سے انکار کر دیا اور مرد نے اس پر غصہ ہو کر رات گزاری، تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث دلالة أنَّ على المرأة إذا دعاها الرجل إلى حاجته في الجماع أن تجيبه، وإلا عرضت نفسها للعن الملائكة، لكن هذا مقيدٌ بما إذا غضب الزوج كما ورد في رواية البخاري، أما إذا رضي بذلك فلا بأس، وكذلك إذا كان هناك عذر شرعي كما لو كانت مريضة لا تستطيع معاشرته أو كان عليها عذر يمنعها من الحضور إلى فراشه فهذا لا بأس به، وإلا فإنه يجب عليها أن تحضر وأن تجيبه وإذا كان هذا في حق الزوج على الزوجة فكذلك ينبغي للزوج إذا رأى من أهله أنهم يريدون التمتع فإنه ينبغي أن يجيبهم ليعاشرها كما تعاشره فإن الله -تعالى- قال: (وعاشروهن بالمعروف).
575;س حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو ہم بستری کی غرض سے بلائے تو بیوی پر لازم ہے کہ وہ اس کی اس ضرورت پوری کرے ورنہ خود کو فرشتوں کی لعنت کے حوالے کردے۔ لیکن یہ وعید اس شرط کے ساتھ مقید ہے کہ شوہر غصے کی حالت میں رہے جیسا کہ بخاری کی روایت میں یہ بات وارد ہے، تاہم اگر شوہر اس سے مطمئن و راضی ہو تو کوئی حرج نہیں، اسی طرح اگر کوئی شرعی عذر ہو جیسے اگر وہ اس قدر بیمار ہو کہ اس کی ازدواجی ضرورت پوری کرنے کے قابل نہ ہو یا اس کو ایسا عذر لاحق ہو جس کی بناء پر وہ ہمبستری نہ کرسکتی ہو تب بھی کوئی حرج نہیں، بصورت دیگر بیوی پر واجب ہے کہ وہ ہمبستری کے لیے تیار ہوجائے اور اس کی دعوت پر لبیک کہے اور اگر بیوی پر شوہر کا یہ حق ہو تو شوہر پر بھی ضروری ہے کہ جب وہ اپنی بیوی کی جانب سے محسوس کرے کہ وہ ازدواجی ضرورت کی خواہشمند ہے تو وہ بھی اس کی اس خواہش کو پوری کرے تاکہ وہ بھی اس کے ساتھ حُسنِ معاشرت کا وہی برتاؤ پیش کرے جو بیوی نے اس کے ساتھ کیا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ ”ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58098

 
 
Hadith   1952   الحديث
الأهمية: لعن النبي -صلى الله عليه وسلم- الواصلة والمستوصلة، والواشمة والمستوشمة


Tema:

نبی ﷺ نے مصنوعی بال جوڑنے والیوں اور جڑوانے والیوں اور گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر لعنت کی ہے

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- قال: «لعن النبي -صلى الله عليه وسلم- الوَاصِلَةَ والمُسْتَوْصِلَةَ، والوَاشِمَةَ والمُسْتَوشِمَةَ».

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مصنوعی بال جوڑنے والیوں اور جڑوانے والیوں اور گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر لعنت کی ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث دلَّ على تحريم وصل المرأة شعرها  بشعرٍ آخر، وكذلك تحريم الوشم، طلبا للزينة والجمال، لأنَّ هذه الأعمال من كبائر الذنوب؛ لما فيها من الغش والتشبه باليهود، وكذلك الوشم لما فيه من تغيير خلق الله -تعالى-؛ لأنهم أول من فعل الوصل، وعليه فالفاعل لهذه الأمور والمفعول به يشملهما اللعن.
740;ہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت کا اپنے بالوں کے ساتھ دوسرے بال کا جوڑنا حرام ہے ایسے ہی زینت و خوبصورتی کے لیے گودنا گدوانا حرام ہے اور یہ سارے اعمال کبیرہ گناہوں میں سے ہیں؛ کیوں کہ اس میں دھوکہ اور یہود کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے، نیز گودنے میں اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنا پایا جاتا ہے۔ اس لیے کہ یہ (یہودی) سب سے ہلے جوڑا لگانے والے ہیں۔ اسی بنا پر ان امور کے ارتکاب کرنے والے یعنی فاعل اور مفعول ( جوڑنے والی اور جوڑوانے والی) دونوں لعنت میں شامل ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58099

 
 
Hadith   1953   الحديث
الأهمية: لقد هممت أن أنهى عن الغيلة، فنظرت في الروم وفارس، فإذا هم يغيلون أولادهم، فلا يضر أولادهم ذلك شيئًا


Tema:

میں نے ارادہ کیا تھا کہ غیلہ (ایام رضاعت یاحمل میں جماع )کرنے سے لوگوں کو منع کردوں، پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے۔

عن جُذَامَةَ بنت وهب، أخت عكاشة، قالت: حَضَرْتُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، في أناس وهو يقول: «لقد هَمَمْتُ أن أنهى عن الْغِيلَةِ، فَنَظَرْتُ في الروم وفارس، فإذا هم يُغِيلُونَ أولادهم، فلا يضر أولادهم ذلك شيئا»، ثم سألوه عن الْعَزْلِ؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «ذلك الْوَأْدُ الخفي»، زاد عبيد الله في حديثه: عن المقرئ، وهي: {وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ}.

عکاشہ رضی اللہ عنہ کی بہن ، جُذامہ بنت وہب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں کچھ لوگوں کے ہمراہ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ میں نے ارادہ کیا تھا کہ غیلہ (ایامِ رضاعت یاحمل میں جماع )کرنے سےلوگوں کو منع کردوں، پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے۔ پھر صحابہ کرام نے آپ ﷺ سے ”عزل“ کے متعلق پوچھا ، آپ ﷺ نے فرمایا:وہ تو خفیہ طور پر زندہ گاڑ دینا ہے۔ عبیداللہ نے مقری سے اپنی روایت میں ﴿وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ﴾ ”اور جب زنده گاڑی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا“ کا اضافہ کیا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد الحديث أنَّ النبي -صلى الله عليه وسلم- أراد أن ينهى الزوج عن قرب زوجته وجماعها أثناء الرضاع؛ لما اشتهر عند العرب أنه يضرّ بالولد، ثم رجع عن ذلك حين تحقق عنده عدم الضرر في بعض الناس كفارس والروم، ثم سئل عن الزوج الذي يُنزل منيَّه خارج الفرج فشبَّه هذا العمل بعمل أهل الجاهلية الذين كانوا يدفنون بناتهم وهنَّ أحياء، والفرق بين العملين أنّ الأول يُعمل خفية، والثاني علانية.
575;س حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ نبی ﷺ نے شوہر کو زمانۂ رضاعت میں بیوی کے قریب جانے اور اس سے ہمبستری کرنے سے منع کردینے کا ارادہ فرمایا کیونکہ عرب میں یہ بات مشہور تھی کہ پیدا ہونے والی اولاد کو اس کی وجہ سے نقصان پہنچتا ہے، پھر آپ ﷺ نے اس ارادہ کو اُس وقت ترک کردیا جب فارس اور روم جیسے بعض لوگوں میں اس کا نقصاندہ نہ ہونا، آپ ﷺ کے نزدیک ثابت ہوگیا۔
پھر آپ ﷺ سے اُس شوہر کے بارے میں دریافت کیا گیا جو (انزال کے وقت) اپنی منی کو بیوی کی شرمگاہ کے باہر خارج کردیتا ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے اس عمل کو ان اہلِ جاہلیت کے عمل سے تشبیہ دی جو اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کیا کرتے تھے اور دونوں اعمال میں فرق یہ ہے کہ پہلا عمل خفیہ طور پر اور دوسرا علی الاعلان کیا جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58100

 
 
Hadith   1954   الحديث
الأهمية: إن اليهود تحدث أن العزل موءودة الصغرى قال: «كذبت يهود لو أراد الله أن يخلقه ما استطعت أن تصرفه»


Tema:

یہودی کہتے ہیں کہ عزل کرنا چھوٹے انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” یہودی غلط کہتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کرنا چاہے گا تو ، تو اسے ٹال نہیں سکتا۔

عن أبي سعيد الخدري، أن رجلًا قال: يا رسول الله، إن لي جارية وأنا أَعْزِلُ عنها وأنا أكره أن تحمل، وأنا أريد ما يريد الرجال، وإن اليهود تحدث أن العَزْلَ المَوْؤُودَةُ الصغرى قال: «كَذَبَتْ يَهُودُ لو أراد الله أَنْ يَخْلُقَهُ مَا اسْتَطَعْتَ أَنْ تَصْرِفَهُ».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! میری ایک لونڈی ہے اور میں اس سے عزل کرتا ہوں اور اس کا حاملہ ہونا مجھے پسند نہیں ہے اور میں وہی چاہتا ہوں جو مرد چاہتے ہیں۔ مگر یہودی کہتے ہیں کہ عزل کرنا چھوٹے انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہودی غلط کہتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کرنا چاہے گا تو، تو اسے ٹال نہیں سکتا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث إبطال لما زعمته اليهود من أنَّ العزل لا يُتصور معه الحمل أصلاً، وجعلوه بمنزلة قطع النسل بالوأد، فأكذبهم النبي -صلى الله عليه وسلم-، وأخبر أنَّه لا يُمنع الحمل إذا شاء الله خلقه، وإذا لم يُرد خلقه، لم تكن وأدًا حقيقة، ولهذا أجاز لهذا الصحابي العزل عن جاريته وَرَدَّ دعوى اليهود.
575;س حدیث میں یہود کے اس خیال کا رد کیا جا رہا ہے کہ عزل کی وجہ سے سرے سے حمل کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور انہوں نے اس کو زندہ درگور کر کے قطع نسل کے درجہ میں رکھا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کوجھوٹا قراردیا اور یہ بتایا کہ اگر اللہ کسی کی تخلیق چاہتا ہے تو کوئی بھی اس حمل کو روک نہیں سکتا۔ اور اگر اللہ تخلیق کا ارادہ نہیں رکھتا تو وہ حقیقتاً اس کو درگور نہیں کررہا۔ اس لیے صحابی کو اپنی لونڈی سے عزل کی اجازت دی اور یہود کے دعویٰ کا رد بھی کیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58101

 
 
Hadith   1955   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يطوف على نسائه بغسل واحد


Tema:

نبی ﷺ ایک ہی غسل میں سبھی بیویوں کا چکر لگا لیتے تھے۔

عن أنس: «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يطوف على نسائه بِغُسْلٍ واحد».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک ہی غسل میں تمام بیویوں کا چکر لگا لیتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث حسن عشرة النبي -صلى الله عليه وسلم- لأزواجه، حيث كان يجامعهنَّ في ليلة واحدة تطييباً لخاطرهنَّ، ويغتسل مرة واحدة؛ لأنَّ الْغُسْل لا يجب بين الْجِمَاعَيْنِ سَوَاء كَانَ لِتِلْكَ الْمُجَامَعَة أَوْ لِغَيْرِهَا، كما علم من هذا الحديث.
575;س حدیث میں نبی ﷺ کی اپنی بیویوں کے تئیں حسنِ معاشرت کا نمونہ پایا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی بیویوں کی تسکین قلب کے لیے (کبھی کبھی) ایک ہی رات میں ان سب کے ساتھ ہم بستری کیا کرتے تھے اور پھر ایک مرتبہ غسل فرماتے کیونکہ دو جماع کے درمیان غسل واجب نہیں ہے چاہے وہ اسی ہمبستری کی وجہ سے کیا جائے یا اس کے علاوہ دوسری ہمبستری کی وجہ سے، جیسا کہ اس حدیث سے یہ مسئلہ معلوم ہوا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58102

 
 
Hadith   1956   الحديث
الأهمية: سئلت عائشة: كم كان صداق رسول الله -صلى الله عليه وسلم-؟ قالت: «كان صداقه لأزواجه ثنتي عشرة أوقية ونشا»


Tema:

میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کا مہر کتنا ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ اپنی بیویوں کے لیے آپ ﷺ کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نَش تھا۔

عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، أنه قال: سألت عائشة زوج النبي -صلى الله عليه وسلم-: كم كان صَداقُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم-؟ قالت: «كان صَدَاقُهُ لأزواجه ثِنْتَيْ عشرة أُوقِيَّةً ونَشَّاً»، قالت: «أتدري ما النَّشُّ؟» قال: قلت: لا، قالت: «نصف أُوقِيَّةٍ، فتلك خمسمائة درهم، فهذا صَدَاقُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لأزواجه».

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتےہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی اہلیہ اُمُّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ ﷺکی بیویوں کا مہر کتنا ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: اپنی بیویوں کے لیے آپ کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نَش تھا۔ پھر انہوں نے پوچھا: جانتے ہو نش کیا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا: آدھا اوقیہ، بایں ہمہ یہ کل 500 درہم بنتے ہیں اور یہی اپنی بیویوں کے لیے رسول اللہ ﷺکا مہر تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
موضوع الحديث استحباب تخفيف الصداق، وأنَّ ذلك هو المشروع؛ فخير الصداق أيسره، وخير النِّساء أيسرهن مؤنة, وفيه أن صداق النبي -صلى الله عليه وسلم- لزوجاته غالبًا اثنتا عشرة أوقية ونصف الأوقية، وهو -صلى الله عليه وسلم- القدوة الكاملة في العادات والعبادات، والأوقية أربعون درهمًا، فيكون خمسمائة درهم، وهذا خلاف ما يفعله الناس اليوم من المغالاة في المهور، والتفاخر بما يدفعون إلى المرأة وأوليائها، سواء أكان الزوج غنيًا أم فقيرًا، فهو يريد أن لا ينقص عن غيره في هذا المجال، مما أدى لتأخير الزواج.
581;دیث کا موضوع حق مہر میں تخفیف کا استحباب ہے۔ حق مہر اگرچہ مشروع ہے لیکن بہترین حق مہر وہی ہے جس کی ادائیگی آسان ہو اور وہ عورتیں بھی بہترین ہیں جو تھوڑے حق مہر پر رضا مند ہو جاتی ہیں۔ اس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی بیویوں کو زیادہ سے زیادہ ساڑھے بارہ اوقیہ حق مہر دیا ہے۔ رسول اللہﷺ عادات و عبادات میں کامل نمونہ ہیں۔
ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، اس حساب سے یہ ساڑھے پانچ سو درہم بنتے ہیں۔ یہ آج کے لوگوں کے بالکل برعکس ہے جو لمبے چوڑے حق مہر باندھتے ہیں اور عورت نیز اس کے ورثاء کو جو مال ودولت دیتے ہیں اس پر فخر کرتے ہیں، خواہ خاوند غریب ہو یا امیر وہ یہی چاہتا ہے کہ اس معاملے میں وہ کسی سے پیچھے نہ رہے اور یہی شادی میں تاخیر کا سبب بن جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58103

 
 
Hadith   1957   الحديث
الأهمية: أن عليًّا قال: تزوجت فاطمة -رضي الله عنها-، فقلت: يا رسول الله، ابن بي، قال: «أعطها شيئًا» قلت: ما عندي من شيء. قال: «فأين درعك الحطمية؟»


Tema:

علی رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا مجھے ملنے کا موقع عنایت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا اسے کچھ (تحفہ) دو، میں نے کہا میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے! آپ نے فرمایا تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے؟

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- أن عليًّا قال: تزوجتُ فاطمةَ -رضي الله عنها-، فقلتُ: يا رسول الله، ابْنِ بِي، قال: «أَعْطِها شيئًا» قلت: ما عندي مِن شيء، قال: «فأينَ دِرْعُكَ الحُطَمِيَّة؟» قلت: هي عندي، قال: «فأعطها إياه».

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا مجھے ملنے کا موقع عنایت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کچھ (تحفہ) دو“، میں نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے! آپ نے فرمایا: ”تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے؟“، میں نے کہا یہ تو میرے پاس ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا ”وہی اسے دے دو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث أن علي بن أبي طالب -رضي الله عنه- وهو ابن عم النبي -صلى الله عليه وسلم-، زوَّجه النبي -صلى الله عليه وسلم- ابنتَه فاطمة -رضي الله عنها-، فأمره النَّبيَّ -صلى الله عليه وسلم- أنْ يُعطي زوجه صداقًا، جبرًا لخاطرها، وإشعارًا لها بالرغبة والقَدْر, ولمَّا لم يجد شيئًا، سأله عن درعه وهو اللباس الذي يلبس في الحرب للوقاية؛ ليُصْدقها إيَّاها، فيكون مهرًا لها -رضي الله عنها- رغم قلته.
وقوله: (الحطمية) أي المنسوبٌ إلى قبيلة حُطمة بن محارب، بطنٌ من عبد القيس، كانوا يصنعون الدروع.
575;س حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے چچازاد بھائی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنھا کا نکاح کیا اور انھیں اس بات کا حکم دیا کہ مہر کے طور پر اپنی بیوی کو کچھ دیں تاکہ ان کی دلجوئی کا سامان رہے اور انھیں چاہت اور قدردانی کا احساس ہو اور جب انھیں کوئی چیز نہیں ملی تو آپ ﷺ نے ان کی زرہ کے تعلق سے پوچھا تاکہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کو مہر کے طور پر وہی زرہ دے دیں اور اس کے معمولی ہونے کے باوجود وہ چیز ان کا مہر ہوجائے۔
”الحُطَمِيَّة“ یہ قبلیۂ حُطمہ بن محارب کی جانب منسوب ہے جو کہ عبد القیس قبلیہ کی شاخ ہے یہ لوگ زرہ بناتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58104

 
 
Hadith   1958   الحديث
الأهمية: أتي عبد الله بن مسعود -رضي الله عنه- في رجل تزوج امرأة ولم يفرض لها، فتوفي قبل أن يدخل بها، فقال عبد الله: سلوا هل تجدون فيها أثرا؟ قالوا: يا أبا عبد الرحمن، ما نجد فيها -يعني أثرًا- قال: أقول برأيي فإن كان صوابا فمن الله


Tema:

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسے شخص کا معاملہ پیش کیا گیا جس نے ایک عورت سے شادی تو کی لیکن اس کا مہر متعین نہ کیا اور اس سے خلوت سے پہلے مر گیا، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں سے پوچھو کہ کیا تم لوگوں کے سامنے (رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں) ایسا کوئی معاملہ پیش آیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمٰن! ہم کوئی ایسی نظیر نہیں پاتے۔تو انہوں نے کہا : میں اپنی عقل و رائے سے کہتا ہوں اگر درست ہو تو سمجھو کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔

عن علقمة، والأسود، قالا: أُتِيَ عبد الله في رجل تَزوجَ امرأة ولم يَفرض لها، فتُوفي قبل أن يَدخل بها، فقال عبد الله: سَلُوا هل تجدون فيها أثرا؟ قالوا: يا أبا عبد الرحمن، ما نجد فيها - يعني أثرا - قال: أقول برأيي فإن كان صوابا فمن الله، «لها كمَهْرِ نسائها، لا وَكْسَ ولا شَطَطَ، ولها الميراث، وعليها العِدَّة»، فقام رجل، من أشجع، فقال: في مثل هذا قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم فينا، في امرأة يقال لها بِرْوَع بنت وَاشِقٍ تزوجت رجلا، فمات قبل أن يَدخل بها، «فقضى لها رسول الله صلى الله عليه وسلم بمِثل صَداق نسائها، ولها الميراث، وعليها العِدَّة» فرفع عبد الله يَديْهِ وكبَّر.

علقمہ اور اسود سے روایت ہے، دونوں کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسے شخص کا معاملہ پیش کیا گیا، جس نے ایک عورت سے شادی تو کی، لیکن اس کا مہر متعین نہہیں کیا اور اس سے خلوت سے پہلے مر گیا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں سے پوچھو کہ کیا تم لوگوں کے سامنے (رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں) ایسا کوئی معاملہ پیش آیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اے ابوعبد الرحمٰن! ہم کوئی ایسی نظیر نہیں پاتے۔ توانھوں نے کہا: میں اپنی عقل ورائے سے کہتا ہوں؛ اگردرست ہو تو سمجھو کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ ”اسے مہر مثل دیا جائے گا؛ نہ کم اور نہ زیادہ۔ اسے میراث میں اس کا حق وحصہ دیا جائے گا اور اسے عدت بھی گزارنی ہو گی“۔ (یہ سن کر) اشجع (قبیلے) کا ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: ہمارے یہاں کی ایک عورت بِرْوع بنت واشق کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی فیصلہ دیا تھا۔ اس عورت نے ایک شخص سے نکاح کیا، وہ شخص اس کے پاس جانے سے پہلے انتقال کر گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے خاندان کی عورتوں کے مہر کے مطابق اس کے مہر کا فیصلہ کیا اور (بتایا کہ) اسے میراث بھی ملے گی اور یہ عدت بھی گزارے گی۔ (یہ سن کر) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیے اور اللہ اکبر کہا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دل الحديث على أن المرأة تستحق بموت زوجها بعد العقد قبل فرض الصداق جميع المهر، وإن لم يقع منه دخول ولا خلوة, وإن كانت لم يسمَّ لها مهر -أي لم يحدد- فلها مهر مثلها من قراباتها, ودل الحديث أيضا أن َعليها العِدَّة بما أنَّه قد حصل عقد النكاح، فإذا توفي زوجها، فعليها عدة الوفاة والإحداد، ولو لم يحصل دخول ولا خلوة, كما أنها ترث منه؛ لأنَّها زوجة بعصمة زوجها.
740;ہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت شادی کے بعد مہر متعین ہونے سے پہلے شوہر کے فوت ہو جانے سے مکمل مہر کی مستحق ہوگی؛ اگرچہ دخول و خلوت نہ حاصل ہوئی ہو۔ اگر مہر متعین نہیں کیا گیا ہے تو خاندان کی دیگر عورتوں کے مہر کے مطابق اس کا مہر متعین کیا جائے گا۔ یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ایسی عورتوں پرعدت ہے؛ کیوں کہ اس کا نکاح ہوچکا ہے، اگر شوہر کی وفات ہو جائے تو اس پر وفات وسوگ کی عدت واجب ہوگی، گرچہ دخول وخلوت نہ ہوئی ہو۔ اسی طرح وہ میراث کی مستحق ہوگی؛ کیوں کہ وہ بیوی ہے، شوہر کے اس سے شادی کرنے کی وجہ سے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58106

 
 
Hadith   1959   الحديث
الأهمية: خير النكاح أيسره


Tema:

سب سے بہتر نکاح وہ ہے جس میں آسانی زیادہ ہو۔

عن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «خير النكاح أيْسَرُه»، وقال النبي -صلى الله عليه وسلم- لرجل: أتَرضى أن أُزَوِّجَكَ فُلانة «قال: نعم، قال لها: أترْضَين أن أُزوِّجَكِ فلانا» قالت: نعم، فزوجها رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، ولم يَفرض صداقًا، فدخل بها، فلم يُعطها شيئًا، فلما حضرتْهُ الوفاة قال: إن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- زوجني فلانة، ولم أُعطها شيئًا، وقد أعطيتها سَهمي من خَيبر، فكان له سهم بخيبر فأخذتْهُ فباعتْهُ فبلغ مائة ألف.

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "سب سے بہتر نکاح وہ ہے جس میں آسانی زیادہ ہو"۔ نبی ﷺ نے ایک آدمی سے پوچھا: کیا تم اس بات پر رضامند ہو کہ میں فلاں عورت سے تمہارا نکاح کردوں؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں۔ پھر آپ ﷺ نے اس عورت سے پوچھا کہ کیا تمہیں یہ بات قبول ہے کہ میں فلاں شخص سے تمہاری شادی کردوں؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اس کی شادی کر دی اور حق مہر مقرر نہ کیا۔ اس شخص نے اس عورت سے جماع کر لیا لیکن (بطور حق مہر) اسے کچھ نہ دیا۔ اپنی وفات کے وقت کہنے لگا کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں عورت سے میری شادی کرائی تاہم (بطور حق مہر) میں نے اسے کچھ نہیں دیا۔ اب میں خیبر کی زمین سے میرا جو حصہ بنتا ہے وہ اسے دیتا ہوں۔ خیبر کی زمین میں سے اس شخص کا ایک حصہ تھا جو اس عورت نے لے کر بیچ دیا اور جس کی قیمت ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكر عقبة بن عامر -رضي الله عنه- في هذا الحديث أن النبي -صلى الله عليه وسلم- حث على تيسير النكاح, وبين أن أفضلية النكاح تكون مع قلة المهر، وأنَّ الزواج بمهر قليل مندوب إليه؛ وأنَّ الكثرة في المهر على خلاف الأفضل، وإن كان ذلك جائزًا, لأن المهر إذا كان قليلًا لم يستصعب النكاح من يريده فيكثر الزواج المرغب فيه، ويقدر عليه الفقراء ويكثر النسل الذي هو أهم مطالب النكاح، ثم ذكر عقبة -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- عرض على رجل أن يزوِّجه امرأة, ثم عرض ذلك على المرأة, فلما وافق الطرفان زوَّجهما النبي -صلى الله عليه وسلم-, ولم يسم الرجل للمرأة صداقًا، ودخل بها دون أن يُعطيها شيئًا، فلما حضرتْهُ الوفاة أعطاها أرضًا له من غنائم خيبر مهرًا لها, فأخذتْهُ المرأة وباعتْهُ فبلغ ثمنه مائة ألف.
593;قبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اس حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے نکاح کو آسان بنانے پر ابھارا اور وضاحت فرمائی کہ نکاح کی افضلیت حق مہر کم ہونے کے ساتھ ہے اور یہ کہ کم حق مہر کے عوض نکاح کرنا مستحب ہے اور بہت زیادہ حق مہر خلافِ افضل ہے اگرچہ یہ جائز ضرور ہے۔ کیونکہ جب حق مہر کم ہو گا تو جو شخص نکاح کرنا چاہے گا اس کے لئے اس میں دشوار ی نہیں ہو گی اور یوں نکاح کی کثرت ہو گی جو کہ ایسا عمل ہے جس کی ترغیب دی گئی ہے اور غریب لوگ بھی شادی کر سکیں گے اور اس سے نسل انسانی میں اضافہ ہو گا جو کہ نکاح کا اہم مقصد ہے۔ پھر عقبہ رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کے سامنے یہ بات رکھی کہ آپ ﷺ اس کی شادی ایک عورت سے کر ديتے ہیں اور پھر یہی بات عورت کے سامنے بھی رکھی۔ جب دونوں اطراف نے رضامندی کا اظہار کر دیا تو نبی ﷺ نے ان کی شادی کرا دی ۔ مرد نے عورت کے لیے حق مہر مقرر نہ کیا اور (بطور حق مہر) اسے کچھ دیے بغیر ہی اس سے مباشرت کر لی۔ جب اس شخص کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنی غنیمت میں ملنے والی خیبر کی زمین میں سے ایک حصہ اسے بطور مہر دے دیا۔ عورت نے اسے لے کر بیچ دیا جس کی قیمت ایک لاکھ ہوئی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58110

 
 
Hadith   1960   الحديث
الأهمية: إذا دعي أحدكم إلى الوليمة فليأتها


Tema:

جب تم میں سے کسی کو دعوتِ ولیمہ پر بلایا جائے، تو وہ اس میں ضرور شریک ہو۔

عن ابن عمر -رضي الله عنهما- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «إذا دُعِيَ أحدكم إلى الوَلِيمَة فَلْيَأْتِهَا».

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو دعوتِ ولیمہ پر بلایا جائے، تو وہ اس میں ضرور شریک ہو“ـ

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد الحديث أن المسلم إذا دعي إلى الطعام الذي يصنع في الزفاف -سواء قبل الدخول أو معه أو بعده- فعليه أن يجيب دعوة أخيه المسلم تطييبًا لخاطره ومشاركة منه لفرح أخيه، وقد قال جمهور العلماء بوجوبها؛ لأنه ورد في أحاديث أخرى تسمية تارك إجابة الدعوة عاصيًا لله ورسوله -صلى الله عليه وسلم-، ولا يكون ذلك إلا على ترك واجب.
575;س حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مسلمان کو اس کھانے کی دعوت دی جائے، جس کا اہتمام شب زفاف کے موقعے پر رکیا جاتا ہے، خواہ دخول سے قبل ہو، دخول کے ساتھ ہو یا دخول کے بعد، تو اس پر واجب ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کی دل جوئی اور اس کی خوشی میں شریک ہونے کی خاطر اس کی دعوت قبول کرے۔ جمہور علماء اس دعوت کو واجب کہتے ہیں؛ کیوں کہ دیگر احادیث میں اس دعوت کے چھوڑنے والے کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا عاصی و نافرمان کہا گیا ہے اور ایسا ایک واجب کو ترک کرنے کی بنا پر ہی ہوسکتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58112

 
 
Hadith   1961   الحديث
الأهمية: شر الطعام طعام الوليمة، يدعى لها الأغنياء ويترك الفقراء، ومن ترك الدعوة فقد عصى الله ورسوله -صلى الله عليه وسلم-


Tema:

ولیمہ کا وہ کھانا بدترین کھانا ہے جس میں صرف مال داروں کو اس کی دعوت دی جائے اور محتاجوں کو نہ کھلایا جائے اور جس نے ولیمہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أنه كان يقول: «شر الطعامِ طعامُ الوليمة، يُدعى لها الأغنياء ويُترك الفقراء، ومن تَرك الدعوة فقد عصى الله ورسوله -صلى الله عليه وسلم-».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ولیمہ کا وہ کھانا بدترین کھانا ہے جس میں صرف مال داروں کو اس کی دعوت دی جائے اور محتاجوں کو چھوڑ دیا جائے اور جس نے ولیمہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی‘‘۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد هذا الأثر عن أبي هريرة -رضي الله عنه، والذي له حكم الرفع كما أنه قد روي من قوله -عليه الصلاة والسلام- أن شر الطعام هو طعام الوليمة الذي يصنع للزفاف لكنه مخصوص بدعوة الأغنياء فقط دون الفقراء، وذلك احتقارًا لهؤلاء الفقراء، وكون القصد من دعوة هؤلاء الأغنياء هو الرياء والسمعة وطلب الشهرة، فلهذا صارت بهذا القصد من شر الطعام، لكن لو شملت الدعوة الفريقين زالت الشرية عنها، وإلا فأصل الوليمة مشروع إظهارا لشكر الله على نعمة النكاح، ثم أفاد الحديث أن من ترك إجابة دعوة الوليمة من غير عذر كان عاصيًا لله ورسوله، لأنَّ الأمر بها متحتم لما في إجابتها من المصالح.
575;بو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اس اثر ــــــــــ جو کہ مرفوع کے حکم میں ہے جیسے یہ قول خود نبی ﷺ ہی سے یہ قول مروی ہو ــــــــــ سے یہ فوائد مستفاد ہوتے ہیں کہ یقیناً بدترین کھانا، اس ولیمہ کا کھانا ہے جو دلہن کی زفاف کے موقعہ پر تیار کیا جاتا ہے لیکن یہ (وعید) اسی صورت میں ہے جب اس میں محض صاحبِ حیثیت افراد ہی کو مدعو کیا جائے اور محتاجوں و فقیروں کو پوچھا بھی نہ جائے۔ کیونکہ ایسا کرنے میں ان محتاجوں و فقیروں کو حقیر و کمتر سمجھا جاتاہے اور ان مال داروں کو دعوت دینے کا مقصود محض دکھاوا، نام و نمود اور شہرت طلبی ہوتا ہے لہذا اس مقصد کے تحت کھلایا جانے والا کھانا بدترین ہوگا لیکن اگر اس دعوت میں دونوں فریق بھی شریک ہوجائیں تو اس ولیمہ سے بدترین ہونے کی صفت ختم ہوجائے گی، ورنہ ولیمہ کی اصل یہ ہے کہ وہ مشروع و جائز عمل ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نکاح کی اس نعمت پر شکر کا اظہار ہو۔ نیز اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ جس نے بلاکسی عذر، ولیمہ کی دعوت کو قبول نہ کیاتو وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا نافرمان ہوگا، کیونکہ دعوت کو قبول کرنے میں پائے جانے والی مصلحتوں کی بناء پر یہ حکم حتمی نوعیت (وجوب) کا حامل ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58113

 
 
Hadith   1962   الحديث
الأهمية: إذا دعي أحدكم، فليجب، فإن كان صائمًا، فليصل، وإن كان مفطرًا، فليطعم


Tema:

جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنی چاہیے، اگر وہ روزہ سے ہو تو اس کے حق میں دعا کرے اور اگر روزہ سےنہ ہو تو کھا لے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إذا دُعِيَ أحدكم فليُجب، فإن كان صائما فليُصَلِّ، وإن كان مُفْطِرا فليَطْعَمْ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنی چاہیے، اگر وہ روزہ سے ہو تو اس (دعوت دینے والے) کے حق میں دعا کرے اور اگر روزہ سےنہ ہو تو کھا لے۔"

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يفيد الحديث أن المسلم إذا دعاه أخوه إلى وليمة العرس فعليه أن يجيب دعوته تطييبًا لخاطره ومشاركة منه لفرح أخيه، فإن كان صائمًا صوم فريضة كالقضاء والنذر فإنه يحضر ولا يأكل، لكن  فليدعُ لهم بالخير والبركة، وإن كان صومه نفلاً فإن شاء أفطر وأكل مع صاحب الدعوة وإن شاء أكمل صومه، إلا أنه يتعين عليه أن يخبر صاحب الدعوة بحاله من صوم أو فطر حتى لا يحرجه، لكن ذهابه وحضوره للدعوة مؤكد مفطراً أو صائماً.
575;س حدیث سے یہ فوائد مستفاد ہوتے ہیں کہ جب مسلمان کو اس کا بھائی، نکاح کے ولیمہ کی دعوت دے تو اس پر ضروری ہے کہ وہ اس کی دعوت کو قبول کرے تاکہ اس کی خوب دلجوئی کا سامان ہو اور اپنے اس بھائی کی خوشی و مسرت کے اس موقع پر باہم شریک ہوسکے اور اگر وہ قضاء اور نذر جیسا کوئی فرض روزہ رکھ رہا ہو تو دعوت میں حاضر تو ہوجائے تاہم کھانے میں شریک نہ ہو، البتہ ان کے حق میں خیر اور برکت کی دعاء کرے اور اگر نفلی روزہ سے ہو تو روزہ توڑ کر دعوت دینے والے کے ساتھ کھانا سکتا ہے یا چاہے تو اپنا روزہ مکمل کرسکتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ میزبان کو اپنے روزہ سے رہنے یا نہ رہنے کی خبر پہنچادے تاکہ اس کے لیے تنگی و پریشانی کا باعث نہ ہو، لیکن دعوت میں اس کا جانا اور شرکت کرنا ایک تاکیدی حکم کی حیثیت رکھتا ہے چاہے وہ روزہ سے نہ ہو یا روزے ہی سے ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58114

 
 
Hadith   1963   الحديث
الأهمية: أولم النبي -صلى الله عليه وسلم- على بعض نسائه بمدين من شعير


Tema:

نبی ﷺ نے اپنی کسی بیوی کا ولیمہ دو مُد جو سے کیا تھا۔

عن صفية بنت شيبة -رضي الله عنها- قالت: «أَوْلَمَ النبي صلى الله عليه وسلم على بعض نسائه بِمُدَّيْنِ من شعير».

صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ "نبی ﷺ نے اپنی کسی بیوی کا ولیمہ دو مُد جو سے کیا تھا"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد الحديث أن النبي صلى الله عليه وسلم تزوج إحدى أمهات المؤمنين، وأقام لها وليمة ،وكانت وليمته عليها -عليه الصلاة والسلام-  أن جعل طبيخها بمدين من شعير لم يجد غيرهما، مما يدل على قلة ذات يد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ومع ذلك لم يترك هذه السنة ولم يهملها مع صعوبة ظروفه وعيشه -عليه السلام-، وهو دليل على أن الوليمة تصح بأقل من شاة، وأن ما تيسر من الطعام يصح أن تكون به الوليمة؛ فهي على قدر استطاعة الإنسان.
581;دیث میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے امہات المومنین میں سے کسی سے شادی کی اور ان کے لیے ولیمہ کیا۔ ان کے ولیمہ میں آپ ﷺ نے جَو کھانا پکوایا وہ دو مد جَو سے تیار کیا تھا، جَو کے علاوہ آپ ﷺ کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہےکہ آپ ﷺ تنگ دست تھے لیکن باجود مشکل اور سخت حالات کے آپ ﷺ نے ولیمہ کی یہ سنت نہ چھوڑی اور نہ ہی اس میں کچھ اہمال برتا۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ ایک بکری سے کم پر بھی ولیمہ کرنا صحیح ہے اور یہ کہ جو کھانا بھی سہولت کےساتھ میسر ہو اسی سے ولیمہ ہو جاتا ہے۔ اس کا دار ومدار انسان کی طاقت و وسعت پر ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58116

 
 
Hadith   1964   الحديث
الأهمية: أقام النبي -صلى الله عليه وسلم- بين خيبر والمدينة ثلاث ليال يبنى عليه بصفية


Tema:

نبی ﷺ نے مدینہ اور خیبر کے درمیان تین دن تک قیام فرمایا اور وہیں صفیہ رضی اللہ عنہا سے خلوت فرمائی۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال: أقام النبي -صلى الله عليه وسلم- بين خيبر والمدينة ثلاث ليال يُبْنَى عليه بصفية، فدعوتُ المسلمين إلى وليمته، وما كان فيها من خبز ولا لحم، وما كان فيها إلا أن أمر بلالا بالأنْطَاعِ فَبُسِطَتْ، فألقى عليها التمر والأقِطَ والسَّمْنَ، فقال المسلمون: إحدى أمهات المؤمنين، أو ما مَلَكَتْ يمينه؟ قالوا: إن حَجَبَهَا فهي إحدى أمهات المؤمنين، وإن لم يحجبها فهي مما ملكت يمينه، فلما ارتحل وَطَّأَ لها خَلْفَهُ، ومَدَّ الحِجَابَ.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مدینہ اور خیبر کے درمیان تین دن تک قیام فرمایا اور وہیں صفیہ رضی اللہ عنہا سے خلوت کی تھی۔ پھر میں نے نبی ﷺ کی طرف سے مسلمانوں کو ولیمہ کی دعوت دی۔ آپ ﷺ کے ولیمے میں نہ روٹی تھی اور نہ گوشت تھا؛ صرف اتنا ہوا کہ آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور وہ بچھا دیا گیا۔ پھراس پر کھجور، پنیر اور گھی (کا ملیدہ) رکھ دیا گیا۔ مسلمان آپس میں کہنے لگے کہ صفیہ رضی اللہ عنہا امہات المؤمنین میں سے ہیں یا باندی ہیں؟ کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر نبی ﷺ نے انھیں پردے میں رکھا، تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہوں گی اور اگر آپ نے انھیں پردے میں نہیں رکھا، تو پھر یہ اس بات کی علامت ہو گی کہ وہ باندی ہیں۔ آخر جب کوچ کا وقت ہوا، تو نبی ﷺ نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے بیٹھنے کی جگہ بنائی اوران کے لیے پردہ پھیلایا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
خرج النبي -صلى الله عليه وسلم- في سفر بين خيبر والمدينة، وبقي ثلاثة أيام بلياليها مع أم المؤمنين صفية -رضي الله عنها- حين تزوجها، فأقام -عليه الصلاة والسلام- وليمة لها فأمر أنسًا -رضي الله عنه- أن يدعو الناس إليها ليأكلوا، ولم يكن فيها لحم ولا خبز لقلة حال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، ولكن بسطت  البسط من الجلد فجعل فيها التمر والأقط ونحو ذلك فأكل الناس منها، ثم  إنهم تساءلوا فقالوا: إن جعل النبي -عليه الصلاة والسلام- الحجاب على صفية فهي من أمهات المؤمنين لأن الحجاب فرض عليهن، وإن لم يحجبها فهي جارية من الجواري، فلما ضرب عليها الحجاب ووسع لها في المركب خلفه أيقنوا أنها من أمهات المؤمنين.
606;بی ﷺ خیبر و مدینے کے درمیان سفر کے لیے نکلے اور ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے بعد ان کے ساتھ تین دن اور رات گزاری۔ نبی ﷺ نے ولیمے کا انتظام کیا۔ آپ نے انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو کھانے کے لیے بلائیں۔ اس ولیمے میں نبی ﷺ کی خستہ حالی کی وجہ سے گوشت اور روٹی نہیں تھا؛ لیکن چمڑے کا دسترخوان لگایا گیا اور اس پر کھجور و پنیر وغیرہ پھیلایا گیا۔ لوگوں نے اس سے کھایا۔ پھر لوگ آپس میں سوال کرتے ہوئے کہنے لگے: اگر نبی ﷺ نے ان کا پردہ کرایا، تو وہ امہات المومنین میں سے ہیں؛ کیوں کہ ان پر پردہ کرنا فرض تھا اور اگر پردہ نہیں کرایا، تو وہ باندیوں میں سے ایک باندی ہیں۔ پس نبی ﷺ نے ان کے اوپر پردہ ڈالا اور اپنے پیچھے سواری میں ان کے لیے جگہ بنائی۔ اس سے لوگوں کو یقین ہو گیا کہ وہ امہات المومنین میں سے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58117

 
 
Hadith   1965   الحديث
الأهمية: لا آكل وأنا متكئ


Tema:

میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔

عن أبي جُحَيْفَة -رضي الله عنه- قال: كنتُ عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال لرجل عنده: «لا آكُلُ وأنا مُتَّكِئ».

ابوجُحَیْفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ ﷺ نے ایک صحابی سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا کہ "میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أبو جحيفة وهب بن عبد الله السوائي -رضي الله عنه- في هذا الحديث أن النبي -صلى الله عليه وسلم- لم يكن من هديه أن يأكل متكئًا, بأن يعتمد على أحد جنبيه بمتكإ من وسادة أو غيرها، أو بأن يضع إحدى يديه على الأرض ويعتمد عليها, بل كان -عليه الصلاة والسلام- يتوقى هذه الجلسة, لأن هذه الهيئة تستدعي كثرة الأكل الذي يوجب الثقل وعدم النشاط, ولما يترتب عليها من المضار الجسمية؛ لأنه إذا أكل متكئًا يكون مجرى الطعام متمايلًا ليس مستقيمًا, فلا يكون على طبيعته فربما حصل ضرر من ذلك, كما أن الاتكاء أثناء الأكل من الهيئات التي تدل على الكبر وتنافي التواضع.
575;بو جحیفہ وھب بن عبداللہ سوائی رضی اللہ عنہ، اس حدیث میں یہ خبر دے رہے ہیں کہ نبی ﷺ کا یہ طریقہ نہیں تھا کہ آپ ٹیک لگا کر اس طرح کھائیں کہ کسی تکیہ یا تکیہ لگانے کی کوئی اور چیز کا سہارا لیے اپنے ایک پہلو پر ٹیک لگائیں یا اس طرح کہ اپنا ایک ہاتھ زمین پر رکھیں اور اسی پر ٹیک لگائیں بلکہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام اس طرح کی بیٹھک سے بچا کرتے تھے کیونکہ یہ حالت و کیفیت، بسیارخوری وخوب کھانے کی موجب بنتی ہے اور زیادہ کھانا، سستی وبوجھل پن اور چستی کا خاتمہ کرنے والی چیز ہے، نیز بسیار خوری کے جسمانی صحت پر مضر اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں، اس لیے کہ اگر وہ ٹیک لگا کر کھائے گا تو کھانے کی گزرگاہ، سیدھی رہنے کے بجائے ایک جانب ہوجائے گی اور وہ اپنی فطری حالت میں نہ رہے گی بلکہ بسااوقات اس کی وجہ سے بھاری نقصان کا سامنا ہوتا نیز یہ کہ کھانے کے دوران ٹیک لگانا، ان حالتوں میں سے ہے جو تکبر پر دلالت کرتی ہیں اور تواضع و انکساری کے منافی ہوتی ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58119

 
 
Hadith   1966   الحديث
الأهمية: يا غلام، سم الله، وكل بيمينك، وكل مما يليك


Tema:

اے بچے! بسم اللہ پڑھ لیا کرو، داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور برتن میں وہاں سے کھایا کرو، جو جگہ تجھ سے نزدیک ہو۔

عن عمر بن أبي سلمة قال: كنتُ غُلاما في حَجْرِ رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وكانتْ يَدِي تَطِيشُ في الصَّحْفَة، فقالَ لِي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «يا غُلامُ، سمِّ اَلله، وكُلْ بِيَمِينِك، وكُلْ ممَّا يَلِيكَ» فما زَالَتْ تِلك طِعْمَتِي بَعْدُ.

عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں بچہ تھا اور رسول اللہ ﷺ کی پرورش میں تھا۔ (کھاتے وقت) میرا ہاتھ برتن میں چاروں طرف گھوما کرتا تھا۔ اس لیے آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”بچے! بسم اللہ پڑھ لیا کرو، داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور برتن میں وہاں سے کھایا کرو، جو جگہ تجھ سے نزدیک ہو“ چنانچہ اس کے بعد میں ہمیشہ اسی ہدایت کے مطابق کھاتا رہا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان عمر بن أبي سلمة -رضي الله عنهما- ابنَ زوجة النبي -صلى الله عليه وسلم- أم سلمة -رضي الله عنها-, وكان في تربيته وتحت رعايته, وقد ذكر من حاله في هذا الحديث أنه كان أثناء الأكل يحرك يديه في جوانب القصعة ليلتقط الطعام, فعلَّمه النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث ثلاثة آداب من آداب الأكل:
أولها: قول "بسم الله" في بداية الأكل.
وثانيها: الأكل باليمين.
وثالثها: الأكل مما يليه؛ لأن أكله من موضع يد صاحبه سوء أدب, قال العلماء: إلا أن يكون الطعام أنواعًا مثل أن يكون فيه قرع وباذنجان ولحم وغيره, فلا بأس أن تتخطى يدك إلى هذا النوع أو ذاك, وكذلك لو كان الإنسان يأكل وحيدًا فلا حرج أن يأكل من الطرف الآخر لأنه لا يؤذي أحدًا في ذلك.
593;مر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہیں۔ یہ آپ کی تربیت ونگرانی میں تھے۔ اس حدیث میں انھوں نے اپنی حالت کا ذکر فرمایا ہے کہ وہ کھانے کے دوران لقمہ اٹھانے کے لیے اپنے ہاتھ کو برتن کے چاروں طرف حرکت دیا کرتے تھے، تو نبی ﷺ نے انھیں کھانے کے آداب کے متعلق تین باتیں سکھلائیں:
اوّل:کھانے کے شروع میں ”بسم اللہ“ کہنا۔
دوم:دائیں ہاتھ سے کھانا۔
سوم:اپنے سامنے سے کھانا، کیوںکہ اپنے ساتھی کے ہاتھ کی جگہ سے کھانا بے ادبی ہے۔ علما کہتے ہیں: مگر یہ کہ دسترخوان پر مختلف قسم کے کھانے ہوں، جیسے کدو، بیگن اور گوشت وغیرہ، تو ایک نوع سے دوسرے نوع کی طرف ہاتھ بڑھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی طرح انسان اکیلا کھا رہا ہو، تو کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ سامنے کے علاوہ دوسری طرف سے بھی کھائے؛ کیوں کہ اس کے عمل سے کسی کو تکلیف نہیں ہونی ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58120

 
 
Hadith   1967   الحديث
الأهمية: البركة تنزل وسط الطعام، فكلوا من حافتيه، ولا تأكلوا من وسطه


Tema:

برکت، کھانے کے بیچ میں نازل ہوتی ہے، اس لیے تم لوگ اس کے کنارے سے کھاؤ، بیچ سے مت کھاؤ۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «البَرَكة تنْزِلُ وَسَطَ الطَّعام، فَكُلُوا مِن حافَّتَيْه، ولا تأكلوا مِنْ وَسَطِه».

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”برکت، کھانے کے بیچ میں نازل ہوتی ہے، اس لیے تم لوگ اس کے کنارے سے کھاؤ، بیچ سے مت کھاؤ“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث يبين أدبًا من آداب الطعام حال الاجتماع على قصعة أو صحن ونحو ذلك, حيث أمر فيه النبي -صلى الله عليه وسلم- بالأكل من جوانب الإناء، وأن لا يؤكل من وسطه؛ لأنَّ بركة الله وخيره على هذا الطعام تنزل في وسطه, ومن بركة الطعام: أن يكون الطعام قليلًا فيكفي الكثير, ومنها: استمراء الطعام, ومنها: أنَّه إذا بقي بقية من الطعام، فإنَّها تبقى نظيفة لم تمسها يد، فيستفيد منها من يأتي بعد الآكلين، أما البدء من الوسط: فإنَّه يُفسد الطعام ويقذره على من بعده، فيُلقى، ولو كان كثيرًا.
575;س حدیث میں کسی بڑے برتن ('قصعۃ' دس افراد کے کھانے کے بڑےبرتن کو کہتے ہیں) یا کھانے کے بڑے قاب وغیرہ میں اجتماعی طور پر بیٹھ کر کھانے کے آداب میں سے ایک اہم ادب کی جانب رہنمائی کی گئی ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے برتن کے اطراف و اکناف سے کھانے کی ہدایت فرمائی اور برتن کے بیچ سے کھانے سے منع فرمایا کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کھانے کے بیچ میں برکت اور خیر نازل ہوتا ہے اور کھانے کی برکت یہ ہے کہ کھانا، مقدار میں کم ہونے کے باوجود سب کے لیے کافی ہوجاتا ہے، اور کچھ برکت اور خیر کے پہلو یہ بھی ہیں کہ کھانے میں پسندیدگی و شکم سیری کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور اگر کچھ کھانا باقی رہ بھی جائے تو کسی کا ہاتھ نہ لگنے کے سبب، وہ حصہ صاف ستھرا رہے گا اور کھانے سے فارغ ہوجانے والوں کے بعد دیگر آنے والےافراد بھی اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں، اگر کھانے کے بیچ سے کھانا شروع کیا جائے تو سارے کھانے کی حالت ابتر ہوجائے گی اور وہ بعد میں آنے والوں کے کھانے لائق نہ رہے گا اور نتیجہ میں کوڑے دان کی نذر ہوگا، چاہے وہ وافر مقدار ہی میں کیوں نہ ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58121

 
 
Hadith   1968   الحديث
الأهمية: إذا أكل أحدكم فليأكل بيمينه، وإذا شرب فليشرب بيمينه فإن الشيطان يأكل بشماله، ويشرب بشماله


Tema:

جب تم میں سے کوئی شخص کھائے تو اسے چاہیے کہ دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب پیئے تو دائیں ہاتھ سے پیئے، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے۔

عن ابن عمر -رضي الله عنهما- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «إذا أَكَلَ أحدُكم فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِه، وإذا شَرِب فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِه فإنَّ الشيطان يأكلُ بِشِمَالِه، ويَشْرَب بِشِمَالِه».

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھائے تو اسے چاہیے کہ دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب پیئے تو دائیں ہاتھ سے پیئے، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث فيه الأمر بالأكل باليمين، والشرب باليمين؛ والنهي عن الأكل والشرب بالشمال, وفيه بيان سبب الحكم, وهو أن الشيطان يأكل ويشرب بشماله, وهذا يدل على أنَّ الأمر هنا للوجوب، وأن الأكل والشرب بالشمال محرم, لأنه علل ذلك بأنه فعل الشيطان وخُلُقُهُ, والمسلم مأمور بتجنب طريق أهل الفسوق, فضلًا عن الشيطان, ومن تشبَّه بقومٍ فهو منهم.
575;س حدیث میں دائیں ہاتھ سے کھانے اور دائیں ہاتھ ہی سے پینے کا حکم دیا گیا اور کھانے اور پینے میں بائیں ہاتھ کو استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے اور اس حکم کے سبب کی وضاحت بھی کردی گئی کہ شیطان کا معمول ہے کہ وہ اپنے بائیں ہاتھ ہی سے کھاتا اور پیتا ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں بیان کردہ حکم، وجوب کے لیے ہے اور بائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا دونوں ہی حرام ہے کیوں کہ اس کی یہ علت و وجہ بتائی گئی ہے کہ یہ شیطانی کام اور اس کی عادتیں ہیں اور مسلمان کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ فاسق لوگوں کی راہ سے اجتناب کرے، چہ جائیکہ وہ شیطان کی راہ اختیار کرے اور جس کسی نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انھیں میں سے شمار کیا جائے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58122

 
 
Hadith   1969   الحديث
الأهمية: نهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن يتنفس في الإناء، أو ينفخ فيه


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے ممانعت فرمائی ہے۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- قال: «نهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أنْ يُتَنَفَّسَ في الإناء، أو يُنْفَخَ فيه».

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔

هذا الحديث فيه بيان أدب من آداب الأكل والشرب, وهو النهي عن التنفس والنفخ في الإناء الذي يؤكل أو يشرب منه, فأما النهي عن التنفس في الإناء فلما في ذلك من المضار: كتقذير الإناء؛ والشراب على الشارب، بعد المتنفس، كما أنَّه يتنفس ويشرب في آنٍ واحد، فربَّما سبَّب له الاختناق، فالشرب -كما جاء في السنة- من ثلاثة أنفاس خارج الإناء أمرأُ، وألذُّ، وأهنأُ, وفي هذا الحديث أيضا النهي عن النفخ في الطعام والشراب لأي سبب كسخونة, أو لإزالة شيء؛ وذلك حمايةً للطعام والشراب؛ لئلا يتقذر به من البزاق, أو أثر رائحة كريهة تعلق بالماء.

اس حدیث میں کھانے اور پینے کے آداب میں سے ایک ادب کی وضاحت کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس برتن میں سانس لینا اور پھونک مارنا منع ہے جس میں سے کھایا یا پیا جاتا ہے۔ برتن میں سانس لینے سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں کئی نقصانات پائے جاتے ہیں جیسے سانس چھوڑ کر پینے والے کے بعد (دوسرے) پینے والے کے لیے وہ برتن اور اس کا مشروب مکدر ہو جاتا ہے جیسے کوئی شخص بیک وقت سانس لیتا ہے اور پیتا بھی ہے تو اکثر اوقات اس کی وجہ سے دم گھٹنے کی شکایت ہوتی ہے، لہذا سنت سے ثابت ہے کہ برتن کے باہر تین سانس لیتے ہوئے پانی پینے میں، بہت زیادہ حفاظت، بہت خوشگواری اور بہت زیادہ لطف اندوزی کا باعث ہوتا ہے۔ نیز کھانےاور پینے میں پائی جانے والی گرمی کے سبب یا اس میں پائی جانے والی کسی چیز کو دور کرنے کے لئے پھونک مارنے کی ممانعت بھی اس حدیث میں موجود ہے۔ یہ اس لیے کہ کھانے اور پینے کی اشیاء کا تحفظ کیا جائےتاکہ تھوک یا پانی سے متعلق کسی بدبو کے اثر سے وہ مکدر نہ ہونے پائے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58123

 
 
Hadith   1970   الحديث
الأهمية: من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشِقُّه مائل


Tema:

جس کی دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو تو وہ قیامت کے دن اِس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا۔

عن أبي هريرة، عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «مَنْ كانت له امرأتان فَمَالَ إلى إحْداهُما جاء يومَ القيامةِ وشِقُّهُ مَاِئلٌ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس کی دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا، کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين هذا الحديث أنَّ القَسْمَ واجب على الرجل بين زوجتيه أو زوجاته، وأن الميل إلى إحداهنَّ عن الأخرى محرم، كما وضَّح جزاء من حاد مع إحدى زوجاته في القسمة, وجار في حق غيرها, وأن الله يعاقبه بأن يفضحه يوم القيامة, فيأتي للحشر وجنبه مائل جزاء وفاقا, والجزاء من جنس العمل.   والعدل بين الزوجات واجب فيما يقدر عليه الرجل من النفقة، والمبيت، وحسن المقابلة، ونحو ذلك, أما ما لا يقدر عليه مما يتعلَّق بالقلب من المحبة، والميل القلبي، فليس بواجب لأن هذه الأمور ليست في طوق الإنسان.
575;س حدیث میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ شوہر پر اپنی دو یا دو سے زائد بیویوں کے درمیان (عدل وانصاف کے ساتھ ایام کی) تقسیم کرنا واجب ہے اور دیگر بیویوں کے بالمقابل، کسی ایک کی جانب جھکاؤ رکھنا حرام ہے جیسا کہ آپ ﷺ نےایسے شخص کی سزا واضح فرمادی جو ایام کی تقسیم میں اپنی کسی ایک بیوی کی جانب مکمل میلان و جھکاؤ کا رویہ اپناتا ہو اور دوسری بیویوں کے اس حق میں ظلم و زیادتی کا مرتکب ہو ۔ یقینا اللہ تعالیٰ، اس شخص کا یہ حشر کرے گا کہ روزِ قیامت اس کو ذلیل و رسوا کرے گا اور وہ میدانِ حشر میں ایسے آئے گا کہ پورے پورے بدلہ کے طور پر، اس کا ایک پہلو ایک جانب جھکا ہوا ہوگا اور عمل کی جزا اسی قبیل کے عمل سے دی جاتی ہے۔ ہر شخص پر اس کی طاقت کے بقدر خرچ کرنے، رہائش گاہ کی فراہمی، عمدہ باہمی میل جول قائم رکھنے وغیرہ امور میں اپنی بیویوں کے مابین عدل و انصاف قائم رکھنا واجب ہے اور جہاں تک قلبی محبت اور دلی لگاؤ کا تعلق ہے تو اس امر میں عدل و انصاف قائم کرنا واجب نہیں کیونکہ یہ امور، انسانی دسترس سے باہر ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58125

 
 
Hadith   1971   الحديث
الأهمية: من السنة إذا تزوج الرجل البكر على الثيب أقام عندها سبعًا وقسم، وإذا تزوج الثيب على البكر أقام عندها ثلاثًا ثم قسم


Tema:

سنت یہ ہےکہ جب کوئی شخص پہلے سے شادی شدہ بیوی کی موجودگی میں کسی کنواری عورت سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے اور جب کسی کنواری بیوی کی موجودگی میں پہلے سے شادی شدہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے ساتھ تین دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے۔

عن أنس -رضي الله عنه- قال: «من السُّنَّة إذا تزوَّج الرجل البِكْرَ على الثَّيِّب أقام عندها سبْعا وقَسَم، وإذا تزوَّج الثَّيِّب على البِكْر أقام عندها ثلاثا ثم قَسَم» قال أبو قِلابة: ولو شئتُ لقلتُ: إنَّ أنَسًا رَفَعَه إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-.

انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سنت یہ ہے کہ جب کوئی شخص پہلے سے شادی شدہ بیوی کی موجودگی میں کسی کنواری عورت سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے اور جب کسی کنواری بیوی کی موجودگی میں پہلے سے شادی شدہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے ساتھ تین دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً بیان کی ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين هذا الحديث السنة الثابتة عن النبي -صلى الله عليه وسلم- فيمن تزوج زوجة جديدة على زوجة أخرى أو أكثر, وأن هذه الزوجة الجديدة إن كانت بكرًا أقام عندها سبع ليال, ثم قسم بينها وبين بقية زوجاته, وإن كانت ثيبًا أقام عندها ثلاث ليال, ثم قسم, وهذه التفرقة بين البكر والثيب؛ لأن البكر بحاجة إلى من يؤنسها ويزيل وحشتها وخجلها؛ لكونها حديثة عهد بالزواج, بخلاف الثيب فهي أقل حاجة لذلك؛ ولأن رغبة الرجل في البكر أكثر من رغبته في الثيب, فأعطاه الشارع هذه المدة حتى تطيب نفسه ويشبع رغبته.
583;وسری بیوی یا دو سے زائد بیویوں کے ہوتے ہوئے نیا نکاح کرنے والوں کے تئیں اس حدیث میں نبی ﷺ سے ثابت شدہ سنت کی وضاحت کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر نئی بیوی کنواری ہو تو وہ اس کے ہاں سات راتیں گزارے، پھر اس کے اور اپنی دیگر بیویوں کے مابین باریاں طے کرے اور اگر نئی بیوی غیر کنواری (شادی شدہ) ہو تو اس کے ہاں تین راتیں قیام کرے، پھر باریاں تقسیم کرے ۔ کنواری اور شادی شدہ بیویوں کے درمیان یہ تقسیم ہوگی کیونکہ کنواری خاتون کے ساتھ زیادہ انسیت پیدا کرنے اور اس کی اجنبیت کا خوف اور اس کےاحساس شرم و حیاکو زائل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ اس کے نکاح کا بالکل ابتدائی زمانہ ہوتا ہے۔ شادی شدہ خاتون کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے،اس لیے اس کو ان چیزوں کی بہت کم ضرورت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ مرد کو شادی شدہ کے بالمقابل، کنواری خاتون کی جانب زیادہ رغبت و خواہش ہوتی ہے، چنانچہ شارع نے اس کو اتنی مدت عنایت فرمائی کہ اس کی دلی خوشی کا سامان ہو اور اس کی جنسی خواہش کو سیرابی میسر آجائے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58126

 
 
Hadith   1972   الحديث
الأهمية: إنه ليس بك على أهلِكِ هوانٌ، إن شئتِ سَبَّعتُ لك، وإن سبعت لكِ، سبعت لنسائي


Tema:

تم اپنے شوہر کے نزدیک بے وقعت نہیں ہو، اگر چاہو تو میں تمہارے پاس تک رہ سکتا ہوں لیکن اگر میں تمہارے پاس سات دن رہوں تو دوسری بیویوں کے پاس بھی سات دن رہوں گا۔

عن أمَّ سَلَمَة -رضي الله عنها- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لمَّا تزوَّجها أقام عندها ثلاثا، وقال: «إنه ليس بِكِ على أَهْلِكِ هَوَانٌ، إنْ شئْتِ سَبَّعْتُ لكِ، وإنْ سَبَّعْتُ لكِ، سَبَّعْتُ لِنِسائي».

ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان سے شادی کی تو ان کے پاس تین رات قیام فرمایا اور کہنے لگے: تم اپنے شوہر کے نزدیک بے وقعت نہیں ہو، اگر چاہو تو میں تمہارے پاس تک رہ سکتا ہوں لیکن اگر میں تمہارے پاس سات دن رہوں تو دوسری بیویوں کے پاس بھی سات دن رہوں گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تذكر أم سلمة -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- لما تزوجها خيَّرها, بين أن يقيم عندها سبع ليال، ثم يقيم عند كل واحدة من نسائه كذلك، وإن شاءت اكتفت بالثلاث، ودار على نسائه كل واحدة في ليلتها فقط, وقبل أن يخيرها قال لها -تمهيدا للعذر من الاقتصار على التثليث-: (إنه ليس بك على أهلك هوان) أي ليس بك شيء من الحقارة والنقص عندي، بل أنت عندي عزيزة غالية, فإذا قسمت بعد الثلاث فليس هذا لنقص فيك, ولكن لأن هذا هو الحق.
575;م سلمہ رضی اللہ عنہا اس وقت کی بات ذکر کر رہی ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی تو انہیں اس بات کا اختیار دیا کہ ان کے پاس سات رات قیام فرمائیں، پھر ہر ایک بیوی کے پاس ایسے ہی سات رات قیام فرمائیں، اور اگر چاہیں تو تین رات قیام فرمائیں، اور ہر بیوی کے پاس اس کی باری ہی میں جائیں، اس سے پہلے کہ انہیں تین رات کے قیام پر اقتصار کے لیے اختیار دیں، معذرت کے لیے تمہید باندھی اور فرمایا: ”تم اپنے شوہر کے نزدیک بے وقعت نہیں ہو“ یعنی اس میں کسی قسم کی کوئی حقارت نہیں اور نہ تم میرے نزدیک کم ہو بلکہ میرے نزدیک تم بیش قیمتی اور اہمیت کی حامل ہو، لہذا اگر تین رات مکمل قیام کے بعد باری مقرر کی تو اس میں آپ کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایسا اس لیے کہ یہی صحیح ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58127

 
 
Hadith   1973   الحديث
الأهمية: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقسم لعائشة يومين، يومها ويوم سودة


Tema:

رسول اللہ ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری میں ان کے لیے دو دن مختص کیا کرتے تھے، ایک ان کا اپنا دن اور ایک سودہ رضی اللہ عنہا کا دن۔

عن عائشة قالت: ما رأيتُ امرأةً أَحَبَّ إليَّ أنْ أكون في مِسْلَاخِها مِنْ سَوْدَة بنتِ زَمْعَة، مِنِ امرأةٍ فيها حِدَّةٌ، قالت: فلما كبِرتْ، جعلتْ يومَها مِنْ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لعائشة، قالت: يا رسول الله، قد جعلتُ يوْمِي مِنْكَ لعائشة، «فكان رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، يِقْسِمُ لعائشة يومين، يومَها ويومَ سَوْدَة».

عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ کوئی بھی ایسی عورت پسند نہیں جس کے بارے میں میری خواہش ہو کہ وہ عورت میں ہوتی، وہ ایک ایسی خاتون تھیں جن کی طبیعت میں کچھ حدت تھی۔ جب وہ بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے باری میں ملنے والا اپنا دن عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! آپ کی طرف سے آنے والا اپنا دن میں نے عائشہ کو دے دیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری میں ان کے لیے دو دن مختص کیا کرتے تھے، ایک ان کا اپنا دن اور ایک سودہ رضی اللہ عنہا کا دن۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث الذي ترويه عائشة -رضي الله عنها- فيه شيء من خبر أم المؤمنين سَودة بنت زمعة -رضي الله عنها-, فقد ذكرت عائشة أنها كانت من خيار النساء, وأن عائشة تمنت أن تكون مثلها, وذكرت من صفاتها أنها كانت امرأة فيها قوة نفس.
وذكرت من خبرها -أيضًا- أنها لما كبرت وخشيت أن يُفارقها النبي -صلى الله عليه وسلم- أرادت أن تبقى في عصمته وأن تظفر بهذا الشرف والفضل, وهو كونها أمًّا للمؤمنين وزوجة من زوجات سيد المرسلين -صلى الله عليه وسلم-، فقالت: إني أهب نوبتي لـعائشة, فقبل ذلك رسول الله -صلى الله عليه وسلم-, وكان يبيت عند عائشة ليلتين ليلتها وليلة سودة.
593;ائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی جانے والی اس حدیث میں اُم المومنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بتایا گیا ہے۔عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ ایک بہترین خاتون تھیں اور یہ کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خواہش تھی کہ وہ بھی ان کی طرح ہوتیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی صفت بیان کی کہ وہ ایک قوی النفس خاتون تھیں۔
عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں یہ بھی بتایا کہ جب وہ سن رسیدہ ہو گئیں اور انہیں یہ اندیشہ لاحق ہوگیا کہ نبی ﷺ ان سے علیحدگی اختیار کر لیں گے تو انہوں نے چاہا کہ وہ آپ ﷺ کی زوجیت میں باقی رہیں اور یہ شرف و فضیلت ان کو حاصل رہے۔ یعنی وہ اُمّ المومنین رہیں اور سید المرسلین ﷺ کی ازواج میں ان کا شمار ہوتا رہے۔ چنانچہ وہ کہنے لگیں کہ میں اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیتی ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے قبول فرما لیا اور آپ ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں دو راتیں گزارتے، ایک ان کی اپنی رات اور ایک سودہ رضی اللہ عنہا کی رات۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58128

 
 
Hadith   1974   الحديث
الأهمية: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لا يُفضِّل بعضَنا على بعض في القسم، من مكثه عندنا، وكان قل يوم إلا وهو يطوف علينا جميعا، فيدنو من كل امرأة من غير مسيس، حتى يبلغ إلى التي هو يومها فيبيت عندها


Tema:

رسول اللہ ﷺ ہم ازواجِ مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔ ایسا دن کم ہی گزرتا تھا کہ آپ ﷺ ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں اور بجز جماع کے ہر ایک سے قریب ہوئے بغیر اپنی اس بیوی کے پاس چلے جاتے اور شب باشی کرتے ہوں، جس کی باری ہوتی۔

عن عروة قال: قالت عائشة -رضي الله عنها-: «يا ابن أختي كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لا يُفضِّل بعضنا على بعض في القَسْم، مِنْ مُكْثِه عندنا، وكان قَلَّ يومٌ إلا وهو يَطُوف عليْنا جميعًا، فَيَدْنُو مِنْ كلِّ امرأة مِنْ غَيْر مَسِيسٍ، حتى يَبْلُغ إلى التي هو يومُها فَيَبِيتُ عندها» ولقد قالت سَوْدة بنت زَمْعَة: حِينَ أسَنَّتْ وفَرِقَتْ أنْ يُفارِقَها رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: يا رسول الله، يَوْمِي لعائشة، فَقَبِل ذلك رسول الله -صلى الله عليه وسلم- منها، قالت: نَقول في ذلك أَنْزَل الله -تعالى- وفي أَشْبَاهِها أُراه قال: {وإن امرأة خافت من بعلها نشوزًا} [النساء: 128].

عروہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”میرے بھانجے! رسول اللہ ﷺ ہم ازواجِ مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔ ایسا دن کم ہی گزرتا تھا کہ آپ ﷺ ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں اور بجز جماع کے ہر ایک سے قریب ہوئے بغیر اپنی اس بیوی کے پاس چلے جاتے اور شب باشی کرتے ہوں، جس کی باری ہوتی۔“، اور کہتی ہیں کہ جب سودہ بنت زمعہ (رضی اللہ عنہا) عمر رسیدہ ہو گئیں اور انھیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ انھیں الگ کر دیں گے، تو کہنے لگیں :اے اللہ کے رسول ! میری باری عائشہ کے لیے رہے گی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی یہ بات قبول فرما لی۔ عائشہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں: ہم کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلے میں یا اسی جیسی اور چیزوں کے سلسلے میں آیتِ کریمہ: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا﴾ ”اور اگر عورت کو اپنے شوہر کی بد مزاجی کا خوف ہو“ (سورۃ النساء :
۱۲۸)   نازل فرمائی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث فيه بيان عدله -صلى الله عليه وسلم- في القسم بين زوجاته, حيث لم يفضل بعضهن على بعض فيه, فقد ذكرت فيه عائشة -رضي الله عنها- أنه كان غالبًا ما يطوف كل يوم على نسائه كلهن، فيلاطفهن ويداعبهن، من غير جماع لطمأنة أنفسهن، وحسن عشرته معهن، ثم كان يخص التي هو في يومها بالمبيت عندها, ولما كبرت سودة بنت زمعة -رضي الله عنها-, وخشيت أن يفارقها النبي -صلى الله عليه وسلم- أرادت أن تبقى في عصمته وأن تظفر بهذا الشرف والفضل, وهو كونها أمًّا للمؤمنين وزوجة من زوجات سيد المرسلين -صلى الله عليه وسلم-، فقالت: إني أهب نوبتي لـعائشة, فقبل ذلك رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.
ثم ذكرت عائشة -رضي الله عنها- أن قوله -تعالى-: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا} نزلت في مثل هذه الحال, وأشباهها.
575;س حدیث میں آپ ﷺ کا اپنی بیویوں کے مابین باری سے متعلق عدل و انصاف کا بیان ہے، اس طرح کہ کسی کو کسی پر فوقیت نہیں دیتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ تقریبا ہر روز آپ اپنی تمام بیویوں کے پاس جاتے تھے اور ان کے ساتھ حسنِ معاشرت اور ان کے دلوں کی طمانیت کے لیے جماع کے سوا ہر طرح کی ملاطفت و مداعبت فرماتے تھے، پھر جس کے یہاں رات گزارنی ہوتی وہاں جاتے۔ جب سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہو گئیں، تو انھیں خوف دامن گیر ہوا کہ نبی ﷺ انھیں الگ کر دیں گے۔ انھوں نے آپ کی زوجیت میں باقی رہنا اور اس شرف و فضل سے سرفراز رہنا چاہا اور یہ شرف و فضل تمام مومنین کی ماں اور سید المرسلین ﷺ کی بیوی ہونا ہے، اس لیے انھوں نے کہا: میں اپنی باری عائشہ کو ہبہ کرتی ہوں اور نبی ﷺ نے اسے قبول فرمایا۔
پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا﴾ ”اور اگر عورت کو اپنے شوہر کی بد مزاجی اور بے پروائی کا خوف ہو تو دونوں آپس میں صلح کر لیں اس میں کسی پر کوئی گناہ نہیں“ ذکر کیا کہ یہ اسی حالت یا اسی طرح کی چیزوں کے لیے نازل ہوئی۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58129

 
 
Hadith   1975   الحديث
الأهمية: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يحب الحلواء والعسل، فكان إذا صلى العصر دار على نسائه، فيدنو منهن، فدخل على حفصة، فاحتبس عندها أكثر مما كان يحتبس


Tema:

رسول اللہ ﷺ شہد اور میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے۔ آپ ﷺ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اور بعض سے قریب بھی ہوتے تھے۔ ایک دن آپ ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور معمول سے زیادہ دیر ان کے گھر ٹھہرے۔

عن عائشة، قالت: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يحِبُّ الحَلْواء والعسل، فكان إذا صلَّى العصر دارَ على نسائه، فَيَدْنُو منهنَّ، فدَخَل على حفصة، فَاحْتَبَسَ عندها أكثرَ ممَّا كان يحْتَبِس، فسألتُ عن ذلك، فقيل لي: أهْدَتْ لها امرأة من قومها عُكَّةً من عسل، فسَقَتْ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- منه شرْبة، فقلتُ: أمَا والله لنَحْتالَنَّ له، فذكرتُ ذلك لسَوْدَة، وقلتُ: إذا دخل عليكِ، فإنه سَيَدْنُو منكِ، فقولي له: يا رسول الله، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فإنه سيقول لك: «لا»، فقولي له: ما هذه الرِّيح؟ وكان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يشْتَدُّ عليه أنْ يوجد منه الريح، فإنه سيقول لك: «سَقَتْني حفصة شربة عسل»، فقولي له: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ, وسأقول ذلك له، وقولِيه أنتِ يا صفية، فلما دخَل على سودة قالت: تقول سودة: والذي لا إله إلا هو لقد كدتُ أن أبادئه بالذي قلتِ لي، وإنه لعلى البابِ فرقًا منكِ، فلما دَنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، قالت: يا رسول الله، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ قال: «لا»، قالت: فما هذه الريح؟ قال: «سَقَتْني حفصة شربة عسل»، قالت: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ, فلما دخل عليَّ، قلتُ له: مثل ذلك، ثم دخل على صفية، فقالت بمثل ذلك، فلما دخل على حفصة، قالت: يا رسول الله، ألا أسْقِيك منه؟ قال: «لا حاجةَ لي به»، قالت: تقول سودة: سبحان الله، والله لقد حَرَمْنَاهُ، قالت: قلتُ لها: اسْكُتِي.

عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ شہد اور میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے، نبی ﷺ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر جب واپس آتے تو اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اور اُن سے قریب بھی ہوتے تھے- ایک دن آپ ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور معمول سے زیادہ دیر ان کے گھر ٹھہرے رہ گیے۔ (مجھے اس پر غیرت آئی) اور میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ حفصہ کو ان کی قوم کی کسی خاتون نے انہیں شہد کا ایک ڈبہ دیا ہے اور انہوں نے اسی کا شربت نبی ﷺ کے لیے پیش کیا ہے- میں نے اپنے جی میں کہا : اللہ کی قسم ! میں تو ایک حیلہ کروں گی، پھر میں نے سودہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ ﷺ تمہارے پاس آئیں گے اور جب آئیں تو کہنا کہ کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ نے مغافیر کھا رکھا ہے؟ ظاہر ہے کہ آپ ﷺ نفی میں جواب دیں گے- اس وقت کہنا کہ پھر یہ بو کیسی ہے؟ اور آپ ﷺ (مغافیر کی) بو کو ناپسند کرتے تھے۔ اس پر نبی ﷺ کہیں گے کہ حفصہ نے شہد کا شربت مجھے پلایا ہے۔ تم کہنا کہ غالباً اس شہد کی مکھی نے مغافیر کے درخت کا عرق چوسا ہو گا! میں بھی آپ ﷺ سے یہی کہوں گی اور صفیہ تم بھی یہی کہنا- عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سودہ کہتی تھیں کہ اللہ کی قسم ! نبی ﷺ جوں ہی دروازے پر آ کر کھڑے ہوئے تو تمہارے خوف سے میں نے ارادہ کیا کہ نبی ﷺ سے وہ بات کہوں جو تم نے مجھ سے کہی تھی۔چنانچہ جب نبی ﷺ سودہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں تو! انہوں نے کہا، پھر یہ بو کیسی ہے جو میں آپ کے منہ سے محسوس کرتی ہوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے۔ اس پر سودہ رضی اللہ عنہا بولیں کہ اس شہد کی مکھی نے مغافیر کے درخت کا عرق چوسا ہو گا۔ پھر جب نبی ﷺ میرے یہاں تشریف لائے تو میں نے بھی یہی بات کہی اس کے بعد جب صفیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی اسی کو دہرایا۔ اس کے بعد جب پھر نبی ﷺ حفصہ کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا : اے اللہ رسول! وہ شہد پھر نوش فرمائیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس پر سودہ رضی اللہ عنہا بولیں، سبحان اللہ! اللہ کی قسم ہم آپ ﷺ کو روکنے میں کامیاب ہو گئے، میں نے ان سے کہا (ابھی) چپ رہو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكرت عائشة -رضي الله عنها- في هذا الحديث أن رسول الله -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- كان يحب كل شيء حلو من الأطعمة, وأنه كان يحب العسل, وأنه كان إذا انصرف  من صلاة العصر دخل على نسائه, فيقرب من إحداهن بأن يقبّلها ويباشرها من غير جماع, وأنه دخل مرة على حفصة -رضي الله عنها-, فأقام عندها أكثر من العادة, فسألتْ عن ذلك, وعرفت أن قريبة لحفصة أهدت لها قربة صغيرة من عسل, وأنها كانت تسقي رسول الله -صلى الله عليه وسلم- منها, فغارت -رضي الله عنها-, واتفقت مع سودة وصفية على أنه إذا دخل على إحداهن أن تسأله إن كان أكل مغافير, وهو صمغ كريه الرائحة, وكان النبي -صلى الله عليه وسلم- يكره أن توجد منه ريح غير طيبة, فلما دخل على حفصة عرضت عليه العسل فرفضه, وفي رواية: أنه حلف أن ألا يشربه مرة أخرى.
واختلفت الروايات في المرأة التي سقت النبي -صلى الله عليه وسلم- العسل, فقيل إنما شربه عند زينب، وقيل سودة, وبعض أهل العلم رجح أن صاحبة العسل زينب, وأن التي تظاهرت مع عائشة حفصة, وحمله بعضهم على تعدد القصة إذ لا يمتنع تعدّد السبب للشيء الواحد, فتكون قصة أخرى.
575;س حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کھانے میں میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے اور یہ کہ آپ ﷺ شہد کو پسند کرتے تھے، جب آپ ﷺ عصر کی نماز سے واپس آتے تو اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اور ان میں سے کسی کسی کو بوسہ دیتے اور جماع کے بغیر ان سے بغل گیر ہوتے۔ ایک مرتبہ آپ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گیے تو ان کے پاس کچھ زیادہ ہی دیر رُک گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا، معلوم ہوا کہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے چھوٹے ڈبے میں شہد ہدیہ کیا ہے جس میں سے آپ ﷺ پیتے ہیں، تو عائشہ رضی اللہ عنہا کو غیرت آئی اور انہوں نے سودہ و صفیہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا کہ جب آپ ﷺ کسی کے پاس آئیں تو وہ آپ ﷺ سے پوچھے کہ کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ مغافیر ایک قسم کے بدبو دار گوند کو کہتے ہیں اور نبی ﷺ خوشبو کے علاوہ کسی اور چیز کے بو کو ناپسند کرتے تھے، پھر جب آپ ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے شہد پیش کیا لیکن آپ ﷺ نے انکار کر دیا۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے دوبارہ نہ پینے کی قسم کھالی۔
روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی کس بیوی کے یہاں شہد پیا، کہا گیا ہے کہ زینب رضی اللہ عنہا کے یہاں آپ نے شہد پیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سودہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آپ نے شہد پیا، بعض علماء نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ آپ ﷺ نے زینب کے یہاں شہد پیا تھا اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حفصہ رضی اللہ عنہا مخالفت کرنے والی تھیں اور بعض لوگوں نے اسے تعددِ واقعہ پر محمول کیا ہے اس لیے کہ ایک ہی چیز کے لیے تعددِ سبب کا ہونا مانع نہیں ہے، اس طرح یہ دوسرا واقعہ ہوسکتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58130

 
 
Hadith   1976   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان يسأل في مرضه الذي مات فيه، يقول: «أين أنا غدا، أين أنا غدا» يريد يوم عائشة، فأذن له أزواجه يكون حيث شاء


Tema:

مرض الموت میں رسول اللہ ﷺ پوچھتے رہتے تھے کہ ”کل میرا قیام کہاں ہو گا، کل میرا قیام کہاں ہو گا؟“ آپ ﷺ عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی باری کے منتظر تھے، پھر آپ کی بیویوں نے آپ کی چاہت کے مطابق آپ کو اُن کے ہاں قیام کی اجازت دے دی۔

عن عائشة -رضي الله عنها- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان يَسْأَلُ في مرضه الذي مات فيه، يقول: «أيْن أنا غَدًا، أيْن أنا غَدًا» يُريد يوم عائشة، فأَذِنَ له أزواجه يكون حيث شاء، فكان في بيْت عائشة حتى مات عندها، قالت عائشة: فمات في اليوم الذي كان يدور عليَّ فيه، في بيتي، فَقَبَضَه الله وإنَّ رأسه لَبَيْنَ نَحْري وسَحْري، وخَالَطَ رِيقُه رِيقِي، ثم قالت: دخَل عبد الرحمن بن أبي بكر ومعَه سِواك يَسْتَنُّ به، فنظر إليه رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقلت له: أعْطِني هذا السواك يا عبد الرحمن، فَأَعْطَانِيه، فَقَضَمْتُه، ثم مَضَغْتُه، فأعْطَيته رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فاسْتَنَّ به، وهو مُسْتَنِد إلى صدري.

Esin Hadith Text


عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ مرض الموت میں رسول اللہ ﷺ پوچھتے رہتے تھے کہ ”کل میرا قیام کہاں ہو گا، کل میرا قیام کہاں ہو گا؟“ آپ ﷺ عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی باری کے منتظر تھے، پھر آپ کی بیویوں نے آپ کی چاہت کےمطابق قیام کی اجازت دے دی، پھر آپ ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کے ہاں مقیم رہے یہاں تک کہ انہیں کے پاس آپ ﷺ نے وفات پائی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آپ ﷺ کی وفات اسی دن ہوئی جس دن قاعدہ کے مطابق میرے یہاں آپ کے قیام کی باری تھی، وفات کے وقت سرِ مبارک میرے گردن و پیٹ کے درمیان یعنی سینے پر تھا اور میرا لعاب آپ ﷺ کے لعاب کے ساتھ ملا تھا۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن ابو بکر داخل ہوئے اور ان کے ساتھ (ہاتھ میں) مسواک تھی جس سے وہ مسواک کر رہے تھے۔ آپ نے ان کی طرف دیکھا تو میں نے کہا: اے عبدالرحمٰن! یہ مسواک مجھے دے دو۔انہوں نے مسواک مجھے دے دی۔ میں نے اسے تراشا پھر اچھی طرح چبا کر (نرم کیا) اور آپ ﷺ کو دی، پھر آپ ﷺ نے اس کے ذریعہ مسواک کیا، اس وقت آپ ﷺ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر عائشة -رضي الله عنها- عن الأيام الأخيرة في حياة رسول الله -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-, وأنه كان في مرضه الذي مات فيه يسأل, ويقول: (أين أنا غدًا أين أنا غدًا؟) وهذا الاستفهام تعريض للاستئذان من أزواجه أن يكون عند عائشة, ولذا فهمن ذلك فأذن له, فبقي فيه حتى مات, وذكرت عائشة -رضي الله عنها- أنه مات في نوبتها, في بيتها, وأن الله -تعالى- قبضه ورأسه على صدرها, بين سحرها -أي رئتها أو أسفل بطنها-, ونحرها -أي موضع القلادة من العنق-, ثم ذكرت أن ريقها خالط ريق رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بسبب السواك؛ وذلك أن عبد الرحمن بن أبى بكر-رضي الله عنه أخا عائشة- دخل على النبي -صلى الله عليه وسلم- في حال النزع ومعه سواك رطب، يدلك به أسنانه, فلما رأى النبي -صلى الله عليه وسلم- السواك مع عبد الرحمن مد إليه بصره، كالراغب فيه، ففطنت عائشة -رضي الله عنها- فأخذت السواك من أخيها، وقصت رأس السواك المنقوض، ونقضت له رأساً جديداً ومضغته ولينته, ثم ناولته النبي -صلى الله عليه وسلم-، فاستاك به, فكانت عائشة -رضي الله عنها- مغتبطة، وحُق لها ذلك، بأنه -صلى الله عليه وسلم- توفي ورأسه على صدرها.
593;ائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے آخری ایام کو بیان کر رہی ہیں کہ آپ ﷺ اس مرض میں تھے جس میں آپ کی وفات ہوئی تھی، آپ ﷺ سوال کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ”کل میرا قیام کہاں ہو گا؟، کل میرا قیام کہاں ہو گا؟“یہ سوال اپنی بیویوں سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانے کے لیے اجازت لینے کا اشارہ تھا، یہی وجہ ہے کہ وہ یہ بات سمجھ گئیں اور آپ ﷺ کو اس کی اجازت دے دی، آپ ﷺ انہیں کے حجرے میں رہے یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی روح قبض کرلی اس حال میں کہ آپ ﷺ کا سر ان کے سینے پر تھا، (بین سحرھا) یعنی سینہ کے بالائی یا پیٹ کے نچلے حصے کے مابین اور ”ونحرھا“ یعنی گردن میں ہار پہننے کی جگہ، پھر انہوں نے بیان کیا ہے کہ مسواک کے ذریعہ ان کا تھوک رسول اللہ ﷺ کے تھوک کے ساتھ مل گیا تھا، وہ اس طرح کہ اسی وقت حالتِ نزع میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عبد الرحمٰن بن ابو بکر نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور ان کے پاس ایک تر مسواک تھا، جس سے اپنے دانتوں سے رگڑ رہے تھا، جب نبی ﷺ نے عبد الرحمٰن کے ہاتھ میں مسواک دیکھا تو اس جانب نگاہ اٹھائی گویا اس کی رغبت رکھتے ہوں، عائشہ رضی اللہ عنہ اسے سمجھ گئیں اور اپنے بھائی سے مسواک کو لے لیا، اور مسواک کے بنے ہوئے سرے کو تراشا، اور نیا سرا بنایا، اسے چبا کر خوب نرم کیا، پھر نبی ﷺ کو پیش کیا جس سے آپ ﷺ نے مسواک کیا، تو گویا عائشہ رضی اللہ عنہا قابل رشک اور خوش قسمت تھیں اور ان کے لیے یہ لازم تھا، کہ نبی ﷺ کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ ﷺ کا سر مبارک ان کے سینے پر تھا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58131

 
 
Hadith   1977   الحديث
الأهمية: كان النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا أراد أن يخرج أقرع بين نسائه، فأيتهن يخرج سهمها خرج بها النبي -صلى الله عليه وسلم-


Tema:

جب نبی ﷺ باہر تشریف لے جانا چاہتے (سفر کے لیے) تو اپنی ازواجِ مطہرات میں قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکل آتا انہیں آپ ﷺ اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: «كان النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا أراد أَنْ يَخْرُج أَقْرَعَ بَيْن نِسائه، فأيَّتُهُنَّ يَخْرُج سَهْمُها خَرَج بها النبي -صلى الله عليه وسلم-، فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا في غَزْوَةٍ غَزَاها، فَخَرج فيها سَهْمِي، فخَرَجْتُ مع النبي -صلى الله عليه وسلم- بَعْد ما أُنْزِلَ الحِجابُ».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ باہر تشریف لے جانا چاہتے (سفر کے لیے) تو اپنی ازواجِ مطہرات میں قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکل آتا انہیں آپ ﷺ اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ ایک غزوہ کے موقع پر آپ ﷺ نے ہمارے درمیان قرعہ اندازی کی تو اس مرتبہ میرا نام آیا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ گئی، یہ پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر عائشة -رضي الله عنها- في هذا الحديث أن النبي -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- من كمال عدله بين نسائه كان إذا أراد أن يمضي إلى سفر يقرع بينهن تطييبًا لقلوبهن, فإذا خرج نصيب امرأة منهن أخذها معه, وأنه أقرع بين زوجاته في إحدى غزواته, وهي غزوة بني المصطلق, فخرج سهمها -أي عائشة- فسافرت معه, ثم ذكرت أن هذه الحادثة حصلت بعد أن أنزل الله -تعالى- الأمر بالحجاب.
ومعلوم أنه في السفرة التالية يقرع بين بقية نسائه؛ لأن من خرج سهمها في المرة السابقة أخذت حقها، فإذا لم يبق إلا واحدة تعين خروجها في السفرة الأخيرة دون اقتراع.
575;س حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ نبی ﷺ اپنی بیویوں کے درمیان کمالِ عدل سے کام لیتے تھےچنانچہ جب کسی سفر کا اردہ فرماتے تو ان کے دلوں کی تسکین کے لیے ان کے مابین قرعہ اندازی کرتے تھے اور جس کے نام قرعہ نکلتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ ایسے ہی غزوۂ بنی مصطلق کے وقت آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کے مابین قرعہ اندازی کی اور قرعہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نام نکلا چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ سفر کیا، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ واقعہ اللہ تعالی کی جانب سے پردے کے احکام نازل ہونے کے بعد کا ہے۔
اور یہ بات معلوم ہی ہے کہ دوسرے سفر میں اپنی بقیہ دوسری بیویوں کے مابین قرعہ اندازی کرتے کیوں کہ پہلے سفر میں جس کے نام قرعہ نکلتا وہ اپنا حق پا چکی ہوتیں، اس طرح جب ایک ہی باقی بچتیں تو اگلے سفر میں بغیر قرعہ اندازی کے انہیں اپنے ساتھ سفر میں لے جاتے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58132

 
 
Hadith   1978   الحديث
الأهمية: اقبل الحديقة وطلقها تطليقة


Tema:

باغ قبول کرلو اور اسے ایک طلاق دے دو۔

عن ابن عباس أن امرأة ثابت بن قيس أتت النبي -صلى الله عليه وسلم- فقالت: يا رسول الله، ثابت بن قيس، ما أعْتِبُ عليه في خُلُقٍ ولا دِيْنٍ، ولكني أكره الكفر في الإسلام، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أتردين عليه حديقته؟» قالت: نعم، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «اقبل الحديقة وطلقها تطليقة».

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! مجھے ثابت بن قیس کے اخلاق اور دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں ہے، البتہ میں اسلام میں کفر کو پسند نہیں کرتی۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا تم ان کا باغ (جو انہوں نے مہر میں دیا تھا) واپس کر سکتی ہو؟۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے (ثابت رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: باغ قبول کر لو اور اسے ایک طلاق دے دو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد هذا الحديث أن امرأة ثابت بن قيس -رضي الله عنه وعنها- وكان ثابت من خيار الصحابة: جاءت إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وأخبرته أنها لا تنكر من أمر ثابت -رضي الله عنه- خُلُقًا ولا دينًا، فهو من أحسن الصحابة خلقًا وديانةً، ولكنها كرهت إن بقيت معه أن يحصل منها كفران العشير بالتقصير في حقه، وكفران العشير مخالف لشرع الله، و كان سبب كراهتها له دَمَامَةُ خِلْقَتِهِ -رضي الله عنه- كما في بعض الروايات، فلم يكن جميلاً، فعرض -عليه الصلاة والسلام- على ثابت أن ترد عليه امرأته الحديقة التي أعطاها إياها مهرًا، ويطلقها تطليقة تكون بها بائنًا، ففعل -رضي الله عنه-، وهذا الحديث أصل في باب الخلع عند الفقهاء -رحمهم الله-.
575;س حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ جو اکابرِ صحابہ میں سے تھے، ان کی بیوی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ ﷺ کو بتایا کہ ثابت رضی اللہ عنہ میں انہیں ان کے اخلاق یا دین کے اعتبار سے کوئی بھی بات ناپسند نہیں ہے ۔اخلاقی اور دینی لحاظ سے وہ بہترین صحابہ میں سے ہیں تاہم انہیں یہ ناپسند ہے کہ اگر وہ ان کے ساتھ رہیں تو کہیں ان کے حق میں کوتاہی کی وجہ سے وہ خاوند کی نافرمانی کی مرتکب نہ ہو جائیں جب کہ خاوند کی نافرمانی اللہ کی شریعت کے مخالف ہے۔ ان كی ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو ناپسند کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ جسمانی طور پر بدنما تھے اور خوبصورت نہیں تھے جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ثابت رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات رکھی کہ ان کی بیوی انہیں وہ باغ واپس کر دیتی ہے جو انہوں نے اسے بطور مہر دیا تھا اور وہ انہیں ایک طلاق دے دیں جس سے وہ ان سے الگ ہو جائے۔ ثابت رضی اللہ عنہ نے ایسا کر لیا۔ فقہاء رحمہم اللہ کے ہاں یہ حدیث خلع کے باب میں بنیادی دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58133

 
 
Hadith   1979   الحديث
الأهمية: أن امرأة ثابت بن قيس اختلعت من زوجها على عهد النبي -صلى الله عليه وسلم- فأمرها النبي -صلى الله عليه وسلم- أن تعتد بحيضة


Tema:

نبی ﷺ کے دور میں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے اپنے شوہر سے خلع لے لیا تو نبی ﷺ نے انہیں ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- «أن امرأة ثابت بن قيس اخْتَلَعَت من زوجها على عهد النبي -صلى الله عليه وسلم- فأمرها النبي -صلى الله عليه وسلم- أن تَعْتَدَّ بحَيْضَة».

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے دور میں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے اپنے شوہر سے خلع لے لیا تو نبی ﷺ نے انہیں ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث تابع لقصة الخلع التي حدثت بين ثابت بن قيس -رضي الله عنه- وامرأته، وقد أفادت هذه الرواية أنها بعد طلاقها من ثابت أمرها النبي -صلى الله عليه وسلم- أن تعتد بحيضة واحدة، وليس ثلاث حيضات، والحكمة من ذلك أن المرأة المطلقة جُعِلَتْ حيضتها ثلاث حيض لتطول؛ لأنه ربما راجعها زوجها وندم على طلاقها فله فرصة في هذه المدة الطويلة ليرجعها، بخلاف الخلع فإن الفرقة صارت بينهما برضاهما ولا رجعة فيها، فيكفي في معرفة براءة رحمها حيضة واحدة، والحديث دليل لكثير من العلماء على أن الخلع فسخ وليس بطلاق، لأن الطلاق عدته ثلاث حيض.
740;ہ حدیث خلع سے متعلق اس قصہ کے تابع ہے جو ثابت بن قیس اور ان کی بیوی کے درمیان واقع ہوا، اور یہ روایت اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ ثابت (رضی اللہ عنہ) سے طلاق کے بعد ان کی بیوی کو نبی ﷺ نے ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا، نہ کہ تین حیض۔ اس میں یہ حکمت ہے کہ مطلقہ عورت کی عدت تین حیض اس لیے قرار پائی کہ اس کی مدت طویل ہو، ممکن ہے کہ اس کا خاوند اس سے رجوع کر لے اور طلاق دینے پر شرمندہ وپشیمان ہو اس طرح اس طویل مدت میں اسے رجوع کرنے کا موقع میسر ہوگا، جب کہ اس کے بر خلاف خلع ایسی فرقت و جدائی ہے جو میاں بیوی کی رضامندی سے طے ہوتی ہے اور اس میں رجوع و واپسی کا اختیار نہیں رہتا ہے، چنانچہ براءتِ رحم کی معرفت و جانکاری کے لیے (مدتِ عدت) ایک حیض کافی ہے، بیشتر علماء کے نزدیک یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ خلع فسخِ نکاح ہے طلاق نہیں ہے، اس لیے کہ طلاق کی عدت تین حیض ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58134

 
 
Hadith   1980   الحديث
الأهمية: مره فليراجعها، ثم ليمسكها حتى تطهر، ثم تحيض ثم تطهر، ثم إن شاء أمسك بعد، وإن شاء طلق قبل أن يمس، فتلك العدة التي أمر الله أن تطلق لها النساء


Tema:

اسے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے اوراسے اپنے نکاح میں باقی رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اسے حیض آئے اور پھر وہ پاک ہو جائے تو اس کے بعد اگر چاہے تو اسے اپنے نکاح میں رکھے اور چاہے تو اس سے ہم بستری سے پہلے اسے طلاق دے دے ۔ یہی وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالی نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما-: أنه طَلَّق امرأته وهي حائض، على عَهْد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فسأل عمر بن الخطاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن ذلك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مُرْهُ فليُرَاجِعْهَا، ثم ليُمْسِكْهَا حتى تَطْهُر، ثم تحيض ثم تَطْهُر، ثم إن شاء أَمسَكَ بَعْدُ، وإن شاء طلق قَبْل أن يَمَسَّ، فتلك العِدَّةُ التي أمر الله أن تُطَلَّقَ لها النساء».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ كے زمانہ میں اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" اسے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے اور اسے اپنے نکاح میں باقی رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اسے حیض آئے اور پھر وہ پاک ہو جائے تو اس کے بعد اگر چاہے تو اسے اپنے نکاح میں رکھے اور چاہے تو اس سے ہم بستری سے پہلے اسے طلاق دے دے ۔ یہی وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالی نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد الحديث أن ابن عمر -رضي الله عنهما- طلق امرأته، -وقيل إن اسمها آمنة بنت غفار- حال الحيض، وأثناء العادة الشهرية، فذهب والده عمر -رضي الله عنه- إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- يخبره ويستفتيه، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "مره فليراجعها" يعني فأمر النبي -صلى الله عليه وسلم- عمر أن يأمر عبد الله بمراجعة زوجته، وإعادتها إلى عصمته، لأن الطلاق أثناء الحيض طلاق بدعي، وإنما أمر النبي -صلى الله عليه وسلم- بمراجعتها في تلك الحالة لئلا تطول عليها العدة؛ لأن الحيضة التي طُلِّقت فيها لن تحسب من الحيضات الثلاث التي تنقضي بها العدة، قال: "ثم ليمسكها"  أي عليه أن يبقيها في عصمته "حتى تطهر" من الحيضة التي طلقها فيها "ثم تحيض ثم تطهر" أي ثم تحيض حيضة أخرى ثم تطهر من الحيضة الثانية "ثم إن شاء أمسك بعد، وإن شاء طلق" أي إن شاء أبقاها في عصمته بعد الحيضة الثانية وإن شاء طلقها "قبل أن يمسَّ" أي قبل أن يجامع "فتلك" أي فالطلاق حال الطهر الذي لم يجامعها فيه: هو "العدة التي أمر الله أن تطلق لها النساء" أي هو الطلاق للعدة التي أذن الله أن تطلّق لها النساء في قوله تعالى: (إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ) أي عند إقبال العدة.
581;دیث میں اس بات کا بیان ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں دورانِ ماہواری طلاق دے دی۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی اس بیوی کا نام آمنہ بنت غفار تھا۔ اس پر ان کے والد عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو اس کے بارےمیں بتا کر آپ ﷺ سے اس کا حکم دریافت کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "اسے کہو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے"۔ یعنی نبی ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ وہ عبد اللہ کو حکم دیں کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر کے اسے اپنی زوجیت میں لوٹا لے کیونکہ دورانِ حیض دی جانے والی طلاق، طلاقِ بدعت ہوتی ہے ۔ نبی ﷺ نے اس حالت میں اس سے رجوع کرنےکا حکم اس لیے دیا تاکہ اس کی عدت لمبی نہ ہو کیونکہ وہ حیض جس میں طلاق دی گئی اس کا شمار ان تین حیض میں نہیں ہو گا جن کے گزرنے پر عدت پوری ہو تی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "پھرچاہے تو اسے اپنے نکاح میں رکھے" یعنی اسے اپنی زوجیت میں رکھے ۔ یہاں تک کہ وہ اس حیض سے پاک ہو جائے جس میں اس نے اسے طلاق دی ۔ "پھر اسے حیض آئے اور پھر وہ پاک ہو جائے" یعنی اسے ایک اور حیض آئے اور اس دوسرے حیض سے بھی وہ پاک ہو جائے۔ "پھر چاہے تو اس کے بعد اسے نکاح میں رکھے اور چاہے تو طلاق دے دے"۔ یعنی دوسرے حیض کے بعد چاہے تو اسے اپنی زوجیت میں رکھے اور چاہے تو اس سے مجامعت سے پہلے اسے طلاق دے دے۔ "فتلک" یعنی اس طُہر میں دی جانے والی طلاق جس میں اس نے اپنی بیوی سے جماع نہ کیا ہو یہی وہ عدت ہے جس کےشروع ہونے کے موقع پراللہ نے اپنے اس فرمان میں عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے: إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدّ َتِهِنَّ (الطلاق:1)۔
ترجمہ: اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے موقع پر طلاق دو۔‘‘یعنی جب عدت شروع ہونے والی ہو۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58137

 
 
Hadith   1981   الحديث
الأهمية: كان الطلاق على عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وأبي بكر، وسنتين من خلافة عمر، طلاق الثلاث واحدة


Tema:

عہد رسالت مآبﷺ اور ابو بکر و عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی دورِ خلافت کے ابتدائی دو سالوں تک (ایک مجلس کی) تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس معاملے (طلاق) میں لوگوں کو سوچ وبچار سے کام لینا چاہیے تھا اس میں وہ جلد بازی سے کام لینے لگے ہیں، لہٰذا ہم کیوں نہ اسے نافذ کر دیں، چنانچہ آپ نے اس کو ان پر لاگو کر دیا۔

عن ابن عباس، قال: "كان الطلاق على عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وأبي بكر، وسنتين من خلافة عمر، طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر بن الخطاب: إن الناس قد استعجلوا في أمر قد كانت لهم فيه أَنَاةٌ، فلو أَمْضَيْنَاهُ عليهم، فَأَمْضَاهُ عليهم".

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ عہد رسالت مآب ﷺ اور ابو بکر و عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت کے ابتدائی دو سالوں تک (ایک مجلس کی) تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس معاملے (طلاق) میں لوگوں کو سوچ وبچار سے کام لینا چاہیے تھا اس میں وہ جلد بازی سے کام لینے لگے ہیں، لہٰذا ہم کیوں نہ اسے نافذ کر دیں، چنانچہ آپ نے اس کو ان پر لاگو کر دیا‘‘۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد هذا الحديث أن إيقاع الطلاق ثلاثًا زمن النبي -صلى الله عليه وسلم- وخلافة أبي بكر وسنتين من خلافة عمر -رضي الله عنه- كانت الثلاث المجموعة تحسب واحدة، وهي قول الرجل لامرأته: أنتِ طالق أنتِ طالق أنتِ طالق. أما قوله: أنت طالق ثلاثا. بحيث يجمعها في اللفظ فقط فالصحيح أنه لغو ولا عبرة به ويحسب طلقة واحدة، لكن لما استعجل الناس في الطلاق وأكثروا من الوقوع فيه وصار منهم تلاعب بهذا الأمر أراد عمر -رضي الله عنه- أن يوقف الناس عن الاستعجال فيه فجعل الثلاث التي تحسب واحدة ثلاثا.
قال العلماء: إن الطلاق الموقع في زمن عمر ثلاثا كان يوقع قبل ذلك واحدة؛ لأنهم كانوا لا يستعملون الثلاث أصلا، وكانوا يستعملونها نادرا، وأما في زمن عمر فكثر استعمالهم لها فأمضاه عليهم، و جعله ثلاثا.
575;س حدیث میں یہ بتایا گیا کہ طلاق رسول اللہﷺ کے زمانہ میں اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں نیز عمر رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت کے ابتدائی دو برس تک ایسا تھا کہ جب کوئی ایک بارگی تین طلاق دیتا تھا تو وہ ایک ہی شمار کی جاتی تھی اور وہ اس طور پر کہ کوئی آدمی کہے تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے اور اگر کوئی یہ کہے کہ تجھے تین طلاق ہے، یعنی تینوں کو ایک ساتھ جمع کر کے تو صحیح بات یہ ہے کہ یہ لغو ہے، اور اس کا کوئی اعتبار نہیں، بلکہ یہ ایک طلاق ہی ہو گی، لیکن جب لوگوں نے طلاق میں جلدی کرنا شروع کر دیا، اور کثرت سے طلاق دینے لگے اور اس معاملے میں کھلواڑ کرنے لگے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ لوگوں کو جلد بازی سے روکا جائے، چنانچہ انہوں نے ان تین طلاقوں کو جسے ایک سمجھا جاتا تھا اسے تین بنا دیا۔ علماء کہتے ہیں کہ تین طلاقیں جو عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تین واقع ہونے لگیں ان سے پہلے صرف ایک ہی طلاق واقع ہوتی تھی، کیونکہ وہ لوگ پہلے تین کا استعمال کرتے ہی نہیں تھے، اور شاذ ونادر ہی اس کا استعمال کرتے تھے لیکن عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ اس کا استعمال کثرت سے کرنے لگے اس لیے انہوں نے لوگوں پر اس حکم کو جاری کر دیا اور اسے تین بنا دیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58138

 
 
Hadith   1982   الحديث
الأهمية: طلق عبد يزيد -أبو ركانة وإخوته- أم ركانة، ونكح امرأة من مزينة، فجاءت النبي -صلى الله عليه وسلم-، فقالت: ما يغني عني إلا كما تغني هذه الشعرة


Tema:

عبد بن یزید نے جو رُکانہ اور اس کے بھائیوں کا باپ تھا ـــــــ اُم رکانہ کو طلاق دے دی اور ایک عورت جو مزینہ کے قبیلے میں سے تھی اس سے نکاح کیا، وہ عورت رسول اللہﷺ کے پاس آئی اور بولی یا رسول اللہﷺ! ابو رکانہ میرے کسی کام کے نہیں سوائے اس بال کے برابر۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما-: طلق عبد يزيد -أبو رُكَانَةَ وإخوته- أم رُكَانَةَ، ونكح امرأة من مُزَيْنَة، فجاءت النبي -صلى الله عليه وسلم-، فقالت: ما  يُغْنِي عني إلا كما تُغْنِي هذه الشعرة، لشعرة أخذتها من رأسها، ففرق بيني وبينه، فأخذت النبي -صلى الله عليه وسلم- حَمِيَّة، فدعا بركانة وإخوته، ثم قال لجلسائه: «أترون فلانا يُشْبِهُ منه كذا وكذا؟ من عبد يزيد، وفلانا يشبه منه كذا وكذا؟» قالوا: نعم، قال النبي -صلى الله عليه وسلم- لعبد يزيد: «طَلِّقْهَا» ففعل، ثم قال: «راجع امرأتك أم ركانة وإخوته؟» قال: إني طلقتها ثلاثا يا رسول الله، قال: «قد علمت راجِعْها» وتلا: {يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: 1]

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عبد بن یزید (جو رکانہ اور اس کے بھائیوں کے والد ہیں) نے ام رکانہ کو طلاق دے دی، اور ایک عورت جو مزینہ کے قبیلے میں سے تھی اس سے نکاح کیا۔ وہ عورت رسول اللہﷺ کے پاس آئی اور بولی یارسول اللہﷺ ابو رُکانہ میرے کام کا نہیں مگر اس بال کے برابر اور ایک بال اس نے اپنے سر کا پکڑا یعنی میری حاجت روائی اس سے نہیں ہو سکتی۔ لہذا میرے اور اس کے درمیان جدائی کرادیں، رسول اللہﷺ یہ سن کر گرم ہوئے اور رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلا بھیجا پھر آپﷺ نے لوگوں سے فرمایا کیا تم فلاں لڑکے کو دیکھتے ہو کتنا مشابہ ہے ابو رکانہ سے؟ لوگوں نے کہا ہاں پھر آپﷺ نے عبد بن یزید سے کہا اسے طلاق دے دے، اور اُم رکانہ سے رجوع کرلے۔ ابو رکانہ نے کہا کہ میں نے اس کو تین طلاق دی آپﷺ نے فرمایا: میں جانتا ہوں ، تو اس سے رجوع کر لے، اور اس آیت کی تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ...﴾ ”اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت میں انہیں طلاق دو...“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
طلق عبد يزيد أبو ركانة، وأبو إخوة ركانة أم ركانة، وتزوج امرأة من مزينة، فجاءت النبي -صلى الله عليه وسلم-، فقالت إن أبا ركانة عنين لايستطيع أن يجامع النساء، ففرِّق بيني وبينه في النكاح.
فأخذت النبي -صلى الله عليه وسلم- غيرة وغضب، فدعا بركانة وإخوته، ثم قال لجلسائه: أترون ركانة وإخوته متشابهين في الخلقة والصورة، فهم أولاده ولا شك في رجوليته، وليس كما زعمت امرأته المزنية. فقالوا: نعم هو كذلك، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم- لعبد يزيد: «طلقها» فطلقها.
ثم قال له: راجع امرأتك أم ركانة وأم إخوته، وذلك بإرجاعها زوجة، فقال: إني طلقتها ثلاثاً يا رسول الله في مجلس واحد ، فقال: أي قد علمت أنك طلقتها ثلاثاً ولكن الطلاق الثلاث في مجلس واحد واحدة فراجعها وتلا: (يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن).
ولفظ أحمد طلق ركانة امرأته في مجلس واحد ثلاثا فحزن عليها، فقال له رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: فإنها واحدة.
593;بد بن یزید نےجو رکانہ اور اس کے بھائیوں کا باپ تھا اپنی بیوی اُم رکانہ کو طلاق دے دی اور مزینہ کے قبیلے میں سے ایک عورت سے نکاح کیا وہ عورت رسول اللہ ﷺکے پاس آئی اور بولی یا رسول اللہﷺ! ابو رکانہ نامرد ہے اس کے پاس عورتوں سے ہمبستری کرنے کی طاقت نہیں۔ لہذا آپ میرے اور اس کے درمیان علیحدگی کرا دیں چنانچہ یہ سن کر رسول اللہﷺ بہت غصہ ہوئے اور آپ ﷺ کو غیرت آیا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلابھیجا، پھر آپﷺ نے لوگوں سے فرمایا:کیا تم رکانہ اور اس کے بھائیوں کو دیکھ رہے ہو شکل و صورت میں کس قدر مشابہ ہیں؟ یقیناً یہ سب اسی کی اولاد ہیں اور اس کی مردانگی میں کسی طرح کا شک و شبہہ نہیں جیسا کہ اُس کی قبیلہ مزینہ والی بیوی کا کہنا ہے۔ لوگوں نے کہا : ہاں ! آپ ﷺ نے عبد بن یزید سے کہا: اسے طلاق دے دو۔ اور ابو رکانہ سے آپ ﷺنےکہا کہ ام رکانہ اور رُکانہ کے بھائیوں کی ماں سے رجوع کرلو اس کو اپنی زوجیت میں واپس کر لو تو ابو رکانہ نے کہا کہ یا رسول اللہﷺ! میں نے اس کو ایک مجلس میں تین طلاق دی ہے، چنانچہ آپ ﷺنے فرمایا : میں جانتا ہوں اس کو ایک مجلس میں تین طلاق دی ہے، لیکن ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق ہوتی ہیں، لہذا تو اس سے رجوع کر لے، اور اس آیت کی تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ...﴾ ”اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت میں انہیں طلاق دو...“۔
اور مسند احمد میں ہے کہ رکانہ نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دیں، جس کی وجہ سے بہت غمگین ہوئے، چنانچہ آپ ﷺنے فرمایا کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق ہوتی ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58140

 
 
Hadith   1983   الحديث
الأهمية: ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد: النكاح والطلاق والرجعة


Tema:

تین کام ایسے ہیں کہ انھیں چاہے سنجیدگی سے کیا جائے یا ہنسی مذاق میں، ان کا اعتبار ہو گا؛ نکاح، طلاق اور رجعت۔

عن أبي هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "ثلاث جِدُّهُنَّ جِدٌّ، وهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: النكاح، والطلاق، والرَّجْعَةُ".

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا: ”تین کام ایسے ہیں کہ انھیں چاہے سنجیدگی سے کیا جائے یا ہنسی مذاق میں، ان کا اعتبار ہو گا؛ نکاح، طلاق اور رجعت“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يدل الحديث على أنَّ من تلفظ هازلاً بلفظ نكاح أو طلاق أو رجعة وقع منه ذلك، فالقصد والجد والمزح حكمهم واحد في هذه الأحكام، فمن عقد لموليَّته، أو طلَّق زوجته، أو أرجَعَها؛ نفذ ذلك من حين تلفظه بذلك، سواء كان جادًّا، أو هازلاً، أو لاعبًا؛ حيث إنه ليس لهذه العقود خيار مجلس ولا خيار شرط.
وهذه الأحكام الثلاثة عظيمة المنزلة في الشريعة، ولهذا لا يجوز اللعب بها ولا المزح، فمن تلفظ بشيء من أحكامها لزمته.
740;ہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ گر کوئی شخص الفاظ نکاح، طلاق یا رجعت کو مذاق کے طور پر کہے، تو یہ اس کی طرف سے واقع ہو جائيں گے؛ کیوں کہ ان احکام میں قصد وارادہ، سنجیدگی اور مذاق کا حکم ایک ہی ہے۔ چنانچہ جس ولی نے اپنے ما تحت کے کسی فرد کا عقد کرایا، اپنی بیوی کو طلاق دیا یا اس (طلاق) سے رجوع کیا، تو یہ ان (کلمات) کی ادائیگی کے وقت ہی سے نافذ ہوجائے گا، چاہے اسے سنجیدگی سےکہا ہو یا مذاق یا لہو ولعب کے طور پر کہا ہو؛ کیوں کہ ان عقود میں کوئی خیارِ مجلس اور خیارِشرط کی گنجائش نہیں ہے۔
یہ تینوں احکام شریعت کی نگاہ میں بہت ہی بلند مرتبہ کے حامل ہیں۔ چنانچہ ان میں کھلواڑ کرنا یا ان کے متعلق مذاق کرنا جائز نہیں۔ پس جس کسی نے ان احکام کے متعلق کوئی لفظ اپنی زبان سے نکالے گا، وہ اس پر لازم ہو جائے گی۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58142

 
 
Hadith   1984   الحديث
الأهمية: إن الله تجاوز عن أمتي ما حدثت به أنفسها، ما لم تعمل أو تتكلم


Tema:

اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان خیالات کو معاف کردیا، جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں، جب تک ان پر عمل نہ کرلیں یا زبان سے ادا نہ کر دیں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «إن الله تَجَاوَزَ عن أمتي ما حَدَّثَتْ به أَنْفُسَهَا، ما لم تَعْمَلْ أو تتكلم» قال قتادة: «إذا طَلَّقَ في نفسه فليس بشيء».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان خیالات کو معاف کردیا، جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں، جب تک ان پر عمل نہ کرلیں یا زبان سے ادا نہ کر دیں“۔
قتادہ (رحمہ اللہ) نے کہا: ”اگر کسی نے اپنے دل میں طلاق دے دی، تو اس کا اعتبار نہیں ہو گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث  بيان أن العبد لا يؤاخذ بحديث النفس والهواجس التي تمر في خاطره، قبل التكلم به والعمل به، وهو أيضًا حجة في أن الطلاق لا يقع بحديث النفس؛ لأنه ليس كلامًا، وهذه الأحكام مرتبة على اللفظ وليس على عمل القلب.
575;س حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ بندے کےدل میں آنے والے خیالات اور افکار پر اس وقت تک مواخذہ نہیں ہوگا، جب تک کہ وہ ان خیالات وافکار کو زبان پرنہ لے آئے اور ان پر عمل پیرا نہ ہو جائے۔ اور یہ اس بات کی بھی حجت و دلیل ہےکہ صرف دل میں کہنے سے طلاق نہیں واقع ہوگی؛ اس لیے کہ یہ کلام نہیں ہے، اور یہ احکام قلبی عمل پر نہیں، بلکہ زبان سے ادن کرنے پر مرتب ہوتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58144

 
 
Hadith   1985   الحديث
الأهمية: كان ابن عباس، يقول: «إذا حرَّم امرأته ليس بشيء» وقال: {لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة}


Tema:

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتےتھے کہ” جس کسی نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا اس پر کوئی حکم مترتب نہیں،، اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں عمدہ نمونہ ہے۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- أنه كان يقول: «إذا حَرَّمَ امرأته ليس بشيء» وقال: {لقد كان لكم في رسول الله أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: 21]

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہتے ہیں کہ” جس کسی نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا اس پر کوئی حکم مترتب نہیں،، اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ ”یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ ہے“۔ (الاحزاب: 21)

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الأثر أن الرجل إذا قال لزوجته: أنت علي حرام أو محرمة وما أشبه ذلك، فليس التحريم بطلاق، وإنما يكون يمينًا، فيه كفارة اليمين؛ كما قال -تعالى-: {ياأيها النبي لم تحرم ما أحل الله لك تبتغي مرضات أزواجك والله غفور رحيم * قد فرض الله لكم تحلة أيمانكم} [التحريم: 1 - 2]، أي: شرع الله لكم تحليل أيمانكم بأداء الكفارة المذكورة في سورة المائدة.
581;دیث کا معنی ہے کہ جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے یا ممنوع ہے یا اس جیسے الفاظ کہے تو یہ حرمت کے الفاظ طلاق کے حکم میں نہیں ہوں گے بلکہ یہ قسم ہو گا جس میں کفارہ دینا ہو گا جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ ۖ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ ۚ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ، قَدْ فَرَضَ اللَّـهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ﴾ ”اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کر دیا ہے آپ کیوں حرام کرتے ہیں؟ آپ اپنی بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے تحقیق کہ اللہ تعالی نے تمہارے لیے قسموں کو کھول دینا مقرر کیا ہے“۔ (التحریمھ 1-2) یعنی تمہارے لیے تمہارے قسموں سے پاک ہونے کا طریقہ فدیہ کی شکل میں ادا کرنا بتایا ہے جیسا کہ سورہ مائدہ میں مذکور ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58145

 
 
Hadith   1986   الحديث
الأهمية: لا نذر لابن آدم فيما لا يملك، ولا عتق له فيما لا يملك، ولا طلاق له فيما لا يملك


Tema:

ابن آدم کے لیے ایسی چیز میں نذر نہیں، جس کا وہ اختیار نہ رکھتا ہو، نہ اُسے ایسے شخص کو آزاد کرنے کا اختیار ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو اور نہ اُسے ایسی عورت کو طلاق دینے کا حق حاصل ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو۔

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا نَذْرَ لابن آدم فيما لا يملك، ولا عِتْقَ له فيما لا يملك، ولا طلاق له فيما لا يمْلِك».

عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم کے لیے ایسی چیز میں نذر نہیں، جس کا وہ اختیار نہ رکھتا ہو، نہ اُسے ایسے شخص کو آزاد کرنے کا اختیار ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو اور نہ اُسے ایسی عورت کو طلاق دینے کا حق حاصل ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث يبين النبي -صلى الله عليه وسلم- أنَّ التصرف لا يصح ولا ينفذ إلاَّ فيما يملكه الإنسان، أمَّا الشيء الذي ليس تحت تصرفه فلا يجوز ولا يصح تصرفه فيه؛ من ذلك النذر فلا يصح ولا ينعقد في شيء لا يملكه الناذر حين نذره، حتى ولو ملكه بعده فلا يلزمه الوفاء به، ولا كفارة عليه، وأيضًا العتق، فلا يصح أن يعتق رقيقًا لا يملكه؛ لأنَّ تصرفه لم يقع محله، وكذلك الطلاق لا يصح من رجل على امرأة أجنبية ليست زوجة له؛ فـ"إنَّما الطلاق لمن أخذ بالساق"، وقال -صلى الله عليه وسلم-: "لا طلاق فيما لا يملك".
575;س حدیث میں نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ انسان جس کا مالک نہ ہو، اس کے لیے اس میں تصرف اور اس کی تنفیذ درست اور صحیح نہیں ہے۔ وہ چیز جو آدمی کے تصرف میں نہ ہو، اس کے لیے اس کا تصرف جائز اور صحیح نہیں ہے۔ یہی حال نذر کا بھی ہے۔ چنانچہ وہ نذر صحیح اور قابل نفاذ نہیں ہے، جسے مانتے وقت نذر ماننے والا اس کا اختیار نہ رکھے، حتیٰ کہ اگر وہ بعد میں اس کا مالک ہو بھی جائے، تب بھی اسے پورا کرنا ضروری نہیں ہوگا اور نہ اس پر کفارہ واجب ہوگا۔ یہی معاملہ غلام آزاد کرنے کا ہے کہ آدمی جس غلام کا مالک نہ ہو، وہ اسے آزاد کر نہیں سکتا؛ کیوں کہ اس کا تصرف بجا نہیں ہے۔ نیز یہی حال طلاق کا ہے کہ آدمی کے لیے کسی اجنبی عورت کو، جو اس کی بیوی نہ ہو، طلاق دینا صحیح نہیں ہے؛ کیوں کہ ”طلاق کا اختیار اسی کو ہے، جو پنڈلی تھامے“ (یعنی شوہر) اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”(اس عورت کو )طلاق دینے کا حق نہیں ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو۔“

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58147

 
 
Hadith   1987   الحديث
الأهمية: رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ، وعن الصبي حتى يحتلم، وعن المجنون حتى يعقل


Tema:

تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے؛ سوئے ہوئے شخص سے، یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے اور دیوانے سے، یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے۔

عن علي -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "رُفِعَ الْقَلَمُ عن ثلاثة: عن النائم حتى يَسْتَيْقِظَ، وعن الصبي حتى يَحْتَلِمَ، وعن المجنون حتى يَعْقِلَ".

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، سوئے ہوئے شخص سے، یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے، یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے اور دیوانے سے، یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في الحديث دليل على أنَّ الصغر والنوم والجنون من أسباب فقد الأهلية، والأهلية صلاحية الشخص للحقوق المشروعة التي تثبت له أو عليه، وعلى هذا فهؤلاء الصغير والمجنون والنائم غير مكلفين بالأوامر والنواهي، وهذا من رحمة الله ولطفه بهم، ويزول عذر الصغير بالاحتلام أي البلوغ، والنائم بالاستيقاظ، والمجنون بالإفاقة والوعي.
581;دیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ چھوٹا ہونا، نیند اور دیوانگی اہلیت کو کھو دینے کے اسباب میں سے ہیں۔ اہلیت آدمی کی وہ شخصی صلاحیت ہے، جس کی بنا پر اس کے حق میں یا اس کے خلاف شرعی حقوق ثابت ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر کم سن، پاگل اور سونے والے واجبات و منہیات کے مکلف نہیں ہوتے۔ یہ ان کے ساتھ اللہ کا لطف و مہربانی ہے۔ کم سن کا عذر احتلام یعنی بلوغت سے ختم ہوجاتا ہے، سونے والے کا بیدار ہونے سے اور پاگل کا شعور وآگاہی کے بعد۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58148

 
 
Hadith   1988   الحديث
الأهمية: طَلَّقْتَ لغير سنة، وراجعتَ لغير سنة، أشهد على طلاقها، وعلى رجعتها، ولا تعد


Tema:

تم نے سنت کے خلاف طلاق دی ہے اور سنت کے خلاف رجعت کی ہے، اپنی طلاق اور رجعت دونوں کے لیے گواہ بناؤ اور پھر اس طرح نہ کرنا۔

عن عمران بن حصين -رضي الله عنهما- أنه سُئِلَ عن الرجل يُطلِّق امرأته، ثم يَقَعُ بها، ولم يُشْهِدْ على طلاقها، ولا على رَجْعَتِهَا، فقال: "طَلَّقْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ، وَرَاجَعْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ، أَشْهِدْ على طلاقها، وعلى رَجْعَتِهَا، ولا تَعُدْ".

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دے دے پھر اس کے ساتھ صحبت بھی کر لے اور اپنی طلاق اور رجعت کے لیے کسی کو گواہ نہ بنائے، تو انہوں نے کہا کہ ”تم نے سنت کے خلاف طلاق دی ہے اور سنت کے خلاف رجوع کیا ہے، اپنی طلاق اور رجعت دونوں کے لیے گواہ بناؤ اور پھر اس طرح نہ کرنا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث سئل عمران بن حصين -رضي الله عنهما- عن رجل طلق امرأته, ثم جامعها بعد أن راجعها, من دون أن يشهد على الطلاق ولا على الرجعة, فأجاب -رضي الله عنه- بأن هذا المطلق قد خالف السنة في الحالين, في طلاقها ابتداء حين لم يشهد, وفي رجعتها ثانيًا حين لم يشهد أيضًا, وأمَره  بالإشهاد على طلاقها, وعلى رجعتها, وأن لا يعود لمثل هذا العمل.
575;س حدیث میں ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور پھر رجوع کے بعد اس سے صحبت بھی کر لی، طلاق اور رجوع پر کسی کو گواہ بنائے بغیر، آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس طلاق دینے والے نے دونوں حالتوں میں سنت کی مخالفت کی ہے، پہلے تو اس نے طلاق دیتے وقت کسی کو گواہ نہیں بنایا اور دوسری مرتبہ رجعت کے وقت بھی کسی کو گواہ نہیں بنایا، اور آپ نے طلاق و رجعت پر گواہ بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ اس طرح کا عمل پھر نہ دہرانا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58149

 
 
Hadith   1989   الحديث
الأهمية: إذا مضت أربعة أشهر: يوقف حتى يطلق، ولا يقع عليه الطلاق حتى يطلق


Tema:

(ایلا کرنے کے بعد) جب چار مہینے گذر جائیں، تو ایلا کرنے والے کو روک دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ طلاق دے دے۔

عن ابن عمر قال: "إذا مَضَتْ أربعة أشهر: يُوقَفُ حتى يُطَلِّقَ، ولا يَقَعُ عليه الطلاق حتى يُطَلِّقَ".

ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”(ایلا کرنے کے بعد) جب چار مہینے گذر جائیں، تو ایلا کرنے والے کو روک دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ طلاق دے دے۔ اور طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی، جب تک طلاق نہ دی جائے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث يبين ابن عمر -رضي الله عنهما- أنَّ مدة الإيلاء المباح هي أربعة أشهر، وأن ما زاد عليها، فغير مأذون فيه، وإنما يجب على المولي أن يفيء أو يطلق، وأن الطلاق أو انفساخ النكاح، لا يكون بمجرد مضي أربعة أشهر قبل الفيئة، وإنما النكاح باقٍ، ولا يقع الطلاق حتى يطلق الزوج، ولو بإجباره من الحاكم؛ لأن هذا إكراهٌ بحقٍّ.
575;س حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مباح ایلا کی مدت بیان کی ہے کہ وہ چار ماہ ہے۔ اس مدت سے زیادہ کے ایلا کی اجازت نہیں ہے۔ بلکہ ایلا کرنے والے پر واجب ہوگا کہ یا تو رجوع کرے یا طلاق دے دے۔ نیز رجوع سے قبل محض چار ماہ گزر جانے سےطلاق یا فسخِ نکاح نہیں ہوگا، بلکہ نکاح باقی رہے گا اور جب تک شوہر طلاق نہ دے دے، طلاق واقع نہیں ہوگی۔ خواہ حاکم کے ذریعے بالجبر ہی کیوں نہ طلاق دلوائی جائے؛ کیوں کہ یہ حق کے لیے مجبور کےکرنے کے قبیل سے ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58151

 
 
Hadith   1990   الحديث
الأهمية: كان إيلاء أهل الجاهلية السنة والسنتين، ثم وقَّت اللهُ الإيلاءَ، فمن كان إيلاؤه دون أربعة أشهر فليس بإيلاء


Tema:

اہلِ جاہلیت کا ’ایلاء‘ سال یا دو سال کے لیے ہوا کرتا تھا۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے اس کی مدت معین کر دی۔ چنانچہ جس شخص کا ایلاء چار ماہ سے کم ہوا وہ ایلاء شمار نہیں ہو گا۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- أنه قال: «كان إيلاء أهل الجاهلية السنة والسنتين، ثم وَقَّتَ الله الإيلاء فمن كان إيلاؤُه دون أربعة أشهر فليس بإيلاء».

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ اہل جاہلیت کا ’ایلاء‘ سال یا دو سال کے لیے ہوا کرتا تھا۔ بعد ازاں اللہ تعالی نے اس کی مدت معین کر دی۔ چنانچہ جس شخص کا ’ایلاء‘ چار ماہ سے کم ہوا وہ ایلاء شمار نہیں ہو گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد هذا الأثر عن ابن عباس -رضي الله عنهما- أن أهل الجاهلية -وهم من كانوا قبل بعثة النبي -صلى الله عليه  وسلم- يوقعون الإيلاء على زوجاتهم بالسنة والسنتين،كما أنهم كانوا يطلقون أكثر من ثلاث، فكلما شارفت العدة على الانتهاء راجعها ثم يطلقها، وهكذا كان الإيلاء على هذا الوجه فيه مضرة شديدة على النساء، فجعل الله للأزواج مدة معلومة يعتبر بها الرجل مُولِيًا وهي أربعة أشهر، فمن زاد على ذلك فإما أن يطلق وإما أن يرجع إلى امرأته، وما كان دون أربعة أشهر فليس بإيلاء، بل يفعله الزوج مع أهله تأديبًا واستصلاحا لها ولا يأخذ حكم الإيلاء.
575;بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی اس اثر سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اہلِ جاہلیت یعنی نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے کے لوگ اپنی بیویوں سے ایک سال یا دو سال کے لیے ’ایلاء‘ کیا کرتے تھے بالکل ایسے ہی جیسے وہ طلاقیں بھی تین سے زیادہ دیا کرتے تھے۔ پھر جوں ہی عدت ختم ہونے کے قریب آتی تو آدمی اپنی بیوی سے رجوع کر لیتا اور پھر اسے طلاق دے دیتا۔ ’ایلاء‘ بھی اسی طرح تھا اور اس سے عورتوں کو بہت زیادہ تکلیف پہنچتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے لیے ایک معین مدت مقرر فرما دی یعنی چار ماہ جس میں آدمی ’ایلاء‘ کرنے والا سمجھا جائے گا ۔ جو شخص اس مدت سے زیادہ کے لیے ایلاء کرتا ہے وہ یا تو طلاق دے دے یا پھر اپنی بیوی سے رجوع کر لے اور جو چار ماہ سے کم کے لیے ایلاء کر تا ہے اس کا یہ ایلاء (شرعی) ایلاء نہیں ہو گا بلکہ یہ وہ ایلاء ہو گا جو شوہر اپنی بیوی کی تادیب اور اس کی اصلاح کے لیے کیا کرتا ہے اور اس کا وہ حکم نہیں ہوتا جو (شرعی و اصطلاحی) ایلاء کا ہوتا ہے۔   --  [مجھے (اس کے بارے میں) شیخ البانی رحمہ اللہ کا کوئی حکم نہیں ملا۔]<+ +[اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ - اسے سعید بن منصور نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58153

 
 
Hadith   1991   الحديث
الأهمية: أن رجلًا أتى النبي -صلى الله عليه وسلم- قد ظاهر من امرأته، فوقع عليها


Tema:

نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے اپنی بیوی سے ’ظِہار‘ کر رکھا تھا اور پھر اس کے ساتھ جماع کر بیٹھا۔

عن ابن عباس: أن رجلا أتى النبي -صلى الله عليه وسلم- قد ظَاهَرَ مِنْ امرأته، فَوَقَعَ عليها، فقال: يا رسول الله، إني قد ظَاهَرْتُ مِنْ زَوْجَتِي، فَوَقَعْتُ عليها قَبْلَ أَنْ أُكَفِّرَ، فقال: «وما حَمَلَكَ على ذلك يرحمك الله؟»، قال: رَأَيْتُ خَلْخَالَهَا في ضوء القمر، قال: «فلا تَقْرَبْهَا حتى تَفْعَلَ ما أَمَرَكَ الله به».

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے اپنی بیوی سے ظہار کر رکھا تھا اور پھر اس کے ساتھ جماع کر بیٹھا۔ اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کر رکھا ہے اور کفارہ ادا کرنے سے پہلے میں نے اس سے جماع کر لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تم پر رحم کرے، کس چیز نے تجھ کو اس پر آمادہ کیا؟“ اس نے کہا : میں نے چاند کی روشنی میں اس کی پازیب دیکھی (تو مجھ سے صبر نہ ہو سکا)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے قریب نہ جانا جب تک کہ وہ نہ کر لو جس کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد هذا الحديث أن هذا الصحابي كان كثير الوقاع لامرأته، وقد دخل عليه رمضان وخشي أن يجامعها وهو صائم، فظاهر منها، أي شبهها بمن تحرم عليه تحريمًا مؤبدًا من أم وأخت وعمة ونحو ذلك، إلا أنها كانت تخدمه في ليلة من الليالي، فظهر له شيء من حُلِيِّها في ساقها فأعجبته فجامعها، فندم على فعله وجاء إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- مستفتياً، فأمره النبي -صلى الله عليه وسلم- ألا يقربها بالجماع مرة أخرى حتى يكفر الكفارة التي أوجبها الله -عز وجل- على المظاهر من امرأته، وهذا الحديث أصل في باب الظهار.
740;ہ حدیث اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ مذکورہ صحابی اپنی بیوی سے بہت زیادہ صحبت کرنے والے تھے، رمضان آگیا اور انہیں خوف دامن گیر ہوا کہ کہیں وہ روزے کی حالت میں جماع نہ کر بیٹھیں، اس لیے انہوں نے بیوی سے ظہار کر لیا یعنی انہیں اپنی ماں، بہن اور بیٹی کے مشابہہ قرار دے کر اپنے اوپر دائمی حرام کر لیا، ایک رات وہ ان کی خدمت کر رہی تھیں کہ ان کی پنڈلی کا زیور ظاہر ہو گیا انہیں اچھا لگا اور وہ جماع کر بیٹھے، اپنے اس عمل سے وہ شرمندہ ہوئے اور نبی ﷺ کی خدمت میں مسئلہ دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوئے، تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ اپنی بیوی سے ظہار کرنے کی وجہ سے اللہ نے ان پر جو کفارہ واجب کیا ہے اسے پورا کیے بغیر دوبارہ جماع کے لیے اپنی بیوی کے قریب نہ ہوں، یہ حدیث ظہار کے باب میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58154

 
 
Hadith   1992   الحديث
الأهمية: حديث سلمة بن صخر -رضي الله عنه- في الظهار


Tema:

ظہار سے متعلق سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ کی حدیث

عن سلمة بن صخر -رضي الله عنه- قال: كُنْتُ امْرَأً أُصِيبُ من النساء ما لا يُصِيبُ غيري، فلما دخل شهر رمضان خِفْتُ أن أصيب من امرأتي شيئا يُتَابَعُ بي حتى أصبح، فَظَاهَرْتُ منها حتى يَنْسَلِخَ شهر رمضان، فَبَيْنَا هي تَخْدُمُنِي ذات ليلة، إذ تَكَشَّفَ لي منها شيء، فلم أَلْبَثْ أن نَزَوْتُ عليها، فلما أصبحت خرجت إلى قومي فأخبرتهم الخبر، وقلت امشوا معي إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، قالوا: لا والله. فانطلقت إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فأخبرته، فقال: «أنت بِذَاكَ يا سلمة؟»، قلت: أنا بذاك يا رسول الله -مرتين- وأنا صابر لأمر الله، فاحكم فيَّ ما أراك الله. قال: «حَرِّرْ رقبة»، قلت: والذي بعثك بالحق ما أملك رقبة غيرها، وضربت صَفْحَةَ رَقَبَتِي، قال: «فصم شهرين متتابعين»، قال: وهل أصبت الذي أصبت إلا من الصيام؟ قال: «فأطعم وَسْقًا من تمر بين ستين مسكينًا»، قلت: والذي بعثك بالحق لقد بِتْنَا وَحْشَيْنِ ما لنا طعام، قال: «فانطلق إلى صاحب صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْهَا إليك، فأطعم ستين مسكينًا وسقًا من تمر وكُلْ أنت وعِيَالُكَ بَقِيَّتَهَا»، فَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي، فقلت: وجدت عندكم الضِّيقَ، وَسُوءَ الرَّأْيِ، ووجدت عند النبي -صلى الله عليه وسلم- السَّعَةَ، وَحُسْنَ الرَّأْيِ، وَقَدْ أَمَرَنِي -أَوْ أَمَرَ لِي- بِصَدَقَتِكُمْ.

سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں ایک ایسا شخص تھا، جو بیوی کے ساتھ اتنی مرتبہ صحبت کیا کرتا تھا، جو عام طور پر لوگ نہیں کرتے۔ جب ماہ رمضان آیا، تو مجھے ڈر ہوا کہ اپنی بیوی کے ساتھ کوئی ایسی حرکت (جماع) نہ کر بیٹھوں، جس کی برائی صبح تک پیچھا نہ چھوڑے۔ چنانچہ میں نے ماہ رمضان کے ختم ہونے تک کے لیے اس سے ظہار کر لیا۔ ایک رات کی بات ہے، وہ میری خدمت کر رہی تھی کہ اچانک اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر آ گیا، تو میں اس سے صحبت کیے بغیر نہیں رہ سکا۔ جب میں نے صبح کی تو اپنی قوم کے پاس آیا اور سارا ماجرا سنایا۔ نیز ان سے درخواست کی کہ وہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کے پاس چلیں۔ وہ کہنے لگے:اللہ کی قسم یہ نہیں ہو سکتا! چنانچہ میں خود ہی آپ صلی اللہ علیہ سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: ”سلمہ! تم نے ایسا کر ڈالا ہے؟“ میں نے جواب دیا : ہاں اللہ کے رسول! مجھ سے یہ حرکت ہو گئی ہے، -دو بار اس طرح کہا- میں اللہ کا حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں۔ آپ میرے بارے میں حکم کیجیے جو اللہ آپ کو سجھائے۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: ”ایک گردن آزاد کر دو“۔ میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! اس کے علاوہ میں کسی اور گردن (غلام) کا مالک نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: ”تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو“۔ میں نے کہا: میں تو روزے ہی کے سبب اس صورتِ حال سے دوچار ہوا ہوں! آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: ”تو پھر ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ“۔ میں نے جواب دیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، ہم دونوں تو رات بھی بھوکے سوئے، ہمارے پاس کھانے کا کوئی سامان نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا :”بنی زریق کے صدقے والے کے پاس جاؤ، وہ تمھیں اسے دے دیں گے۔ ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور جو بچے اسے تم خود کھا لینا اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دینا“ اس کے بعد میں نے اپنی قوم کے پاس آ کر کہا: مجھے تمھارے پاس تنگی اور غلط رائے ملی، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کے پاس گنجائش اور اچھی رائے ملی۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے مجھے -یا میرے لیے- تمھارے صدقے کا حکم فرمایا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أراد الصحابي سلمة بن صخر -رضي الله عنه- الامتناع من جماع زوجه في رمضان لقوة شهوته فظاهر منها، خشية أن يستمر في جماعها فيطلع عليه الفجر وهو كذلك، إلا أنه رأى منها ليلة ما يدعوه إلى جماعها فجامعها، وخاف من تبعات هذه المعصية فأمر قومه أن يذهبوا معه لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- ويسألوا عن الحكم في هذه المسألة ويعتذروا عنه، فرفضوا الذهاب معه فذهب بنفسه وعرض مسألته على رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقال له أنت فاعل ذلك الفعل والمرتكب له، فأجاب بنعم، فأخبره النبي -عليه الصلاة والسلام- بما عليه من حكم الله في هذه المسألة، وهي أن يعتق رقبة، فإن لم يجد صام شهرين متتابعين، فإن لم يستطع أطعم ستين مسكينًا، فأخبره بضعف حاله وقلة ذات يده وعدم ملكه للرقبة ولا للطعام، فأمر له -عليه الصلاة والسلام- بصدقة قومه أن يدفعوا له تمرًا ليكفر به عن ظهاره ثم يطعم الباقي أهله وعياله.
589;حابیٔ رسول سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ نے رمضان میں اپنی شدتِ شہوت کی وجہ سے اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرنے سے رکنا چاہا۔ انھوں نے اس اندیشے کے تحت ان سے ظہار کر لیا کہ کہیں وہ اپنی بیوی کے ساتھ عملِ جماع میں مصروف ہوں اور فجر طلوع ہو جائے۔ مگر ایک رات انھوں نے جماع پر ابھارنے والی چیز دیکھی اور جماع کر بیٹھے اور اس گناہ کی زود اثری سے خائف ہو کر اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلیں اور اس مسئلے کا حکم دریافت کریں اور ان کا عذر پیش کریں۔ لوگوں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ اس لئے وہ خود گئے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کیا۔ آپ ﷺ نے کہا کہ کیا واقعی تم نے یہ کام کیا ہے اور اس کے مرتکب ہوئے ہو؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں! تو نبی ﷺ نے اس مسئلے کے سلسلے میں اللہ کا حکم انھیں بتلایا کہ وہ ایک گردن آزاد کریں اور یہ نہ پائیں تو مسلسل دو ماہ کا روزہ رکھیں اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں۔ انھوں نے اپنی کمزور حالی، قلاشی، غلام آزاد کرنے اورکھانا کھلانے کی عدمِ ملکیت سے باخبر کیا، تو اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں اپنی قوم سے صدقہ لینے کا حکم دیا کہ وہ انہیں کھجور دیں تاکہ اسے اپنے ظہار کا کفارہ بنائیں اور اس میں سے جو بچ رہے اسے اپنے اہل و عیال کو کھلائیں۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58155

 
 
Hadith   1993   الحديث
الأهمية: أبصروها، فإن جاءت به أبيض سبطًا قَضِيء العينين فهو لهلال بن أمية، وإن جاءت به أكحل جعدًا حمش الساقين فهو لشريك ابن سحماء


Tema:

اس عورت پر نظر رکھو۔ اگر وہ گورا چٹا، سیدھے بالوں اور سرخی مائل ڈھیلی آنکھوں والا بچا جنتی ہے تو وہ ہلال بن امیہ کا ہوگا اور اگر وہ سرمئی آنکھوں، گھنگھریالے بالوں اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنتی ہے تو وہ شریک بن سمحاء کا ہوگا ۔

إن هِلال بن أُمية قذف امرأته بشريك ابن سَحْماء، وكان أخا البراء بن مالك لأمه، وكان أول رجل لَاعَنَ في الإسلام، قال: فَلَاعَنَهَا، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أبصروها، فإن جاءت به أبيض سَبِطًا، قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ؛ فهو لهلال بن أمية، وإن جاءت به أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ؛ فهو لشريك بن سحماء»، قال: فأُنبِئْت أنها جاءت به أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ.

ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی کہ اس نے شریک بن سمحاء کے ساتھ زنا کیا ہے۔ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے اخیافی (ماں شریک) بھائی تھے اور اسلام میں لعان کرنے والے وہ پہلے آدمی تھے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی پر لعان کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس عورت پر نظر رکھو۔ اگر وہ گورا چٹا، سیدھے بالوں اور سرخی مائل ڈھیلی آنکھوں والا بچا جنتی ہے تو وہ ہلال بن امیہ کا ہوگا اور اگر وہ سرمئی آنکھوں، گھنگھریالے بالوں اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنتی ہے تو وہ شریک بن سمحاء کا ہو گا“۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”مجھے خبر دی گئی کہ اس نے سرمئی آنکھوں، گھنگھریالے بالوں اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد هذا الحديث أن الصحابي هلال بن أمية -رضي الله عنه- قذف امرأته بالزنا، بأنها زنت مع شريك بن سحماء وقد استبان حملها، فأراد أن ينفي عنه الولد باللعان، وهي شهادات بين الزوجين تكون مؤكدة بحلف ولعن بينهما لمن كان كاذباً، ثم إنه -عليه الصلاة والسلام- ذكر علامات يُعرف بها الولد هل هو لأبيه أو لمن كان سببا ًفي حملها من الزنا، فذكر أنه إن كان شعره مسترسلاً كامل الخِلْقَةِ؛ فهو لأبيه وذلك لوجود الشبه بينهما، وإن كان الولد أكحل العينين أي شديد سواد  منابت الأجفان، متجعد الشعر فيه التواء وتقبضٌ؛ فهو للذي زنا بها وهو شريك بن سحماء، فدل على مشروعية ملاعنة المرأة الحامل.
575;س حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صحابیٔ رسول ﷺ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی کہ اس نے شریک بن سمحاء کے ساتھ زنا کیا ہےجب کہ اس کا حمل بھی ظاہر ہو چکا تھا۔ چنانچہ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ لعان کر کے بچے کی اپنے نسب سے نفی کر دیں۔ لعان کچھ گواہیوں کا نام ہے جو میاں بیوی کے مابین ہوتی ہیں اور ان کی تاکید قسم اور ہر اس فریق پر لعنت کے ساتھ کی جاتی ہے جو جھوٹا ہو۔ پھر آپ ﷺ نے کچھ ایسی نشانیاں بتائیں جن کے ذریعے یہ معلوم ہو سکتا تھا کہ آیا وہ اپنے باپ کا بچہ ہے یا پھر اس شخص کا بچہ ہے جس کی وجہ سے وہ عورت حاملہ ہوئی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس کے بال سیدھے اور کامل ہوں تو وہ اپنے باپ کا بچہ ہو گا کیونکہ اس صورت میں ان دونوں کے مابین مشابہت ہو گی۔ اور اگر وہ سرمئی آنکھو ں والا ہوا یعنی اس کے پپوٹوں کی جڑیں بہت زیادہ کالی ہوئیں اور اس کے بال گھنگھریالے یعنی مڑے اور سکڑے ہوئے ہوں تو وہ اس شخص کا بچہ ہو گا جس نے اس عورت کے ساتھ زنا کیا ہےجو کہ شریک بن سمحاء تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاملہ عورت سے لعان کرنا جائز ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58156

 
 
Hadith   1994   الحديث
الأهمية: أن عويمرًا العجلاني جاء إلى عاصم بن عدي الأنصاري، فقال له: يا عاصم، أرأيت رجلا وجد مع امرأته رجلًا، أيقتله فتقتلونه، أم كيف يفعل؟ سل لي يا عاصم عن ذلك رسول الله -صلى الله عليه وسلم-


Tema:

عویمر عجلانی، عاصم بن عدی انصاری سے آ کر کہنے لگے: اے عاصم ! ذرا بتاؤ، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی (اجنبی) شخص کو پا لے تو کیا وہ اسے قتل کر دے، پھر اس کے بدلے میں تم اسے بھی قتل کر دو گے، یا وہ کیا کرے؟ میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھو۔

عن ابن شهاب، أن سهل بن سعد الساعدي أخبره: أن عُوَيْمِراً العجلاني جاء إلى عاصم بن عدي الأنصاري، فقال له: يا عاصم، أرأيت رجلاً وجد مع امرأته رجلاً، أيقتله فتقتلونه، أم كيف يفعل؟ سل لي يا عاصم عن ذلك رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فسأل عاصم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن ذلك، فكره رسول الله -صلى الله عليه وسلم- المسائل وعابها، حتى كبر على عاصم ما سمع من رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فلما رجع عاصم إلى أهله جاءه عويمر، فقال: يا عاصم، ماذا قال لك رسول الله -صلى الله عليه وسلم-؟ فقال عاصم لعويمر: لم تأتني بخير، قد كره رسول الله -صلى الله عليه وسلم- المسألة التي سألته عنها، فقال عويمر: والله لا أنتهي حتى أسأله عنها، فأقبل عويمر حتى جاء رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وسط الناس، فقال: يا رسول الله، أرأيت رجلاً وجد مع امرأته رجلًا، أيقتله فتقتلونه، أم كيف يفعل؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «قد أُنزِل فيك وفي صاحبتك، فاذهب فَأْتِ بها» قال سهل: فَتَلاعَنا وأنا مع الناس عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فلما فَرَغَا مِن تَلاعُنِهِما، قال عويمر: كذبت عليها يا رسول الله إنْ أَمْسَكْتُها، فطلقها ثلاثا، قبل أن يأمره رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، قال ابن شهاب: فكانت سُنَّة المُتلاعِنَيْن.

575;بن شہاب سے روایت ہے کہ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عویمر عجلانی، عاصم بن عدی انصاری سے آ کر کہنے لگے: اے عاصم ! ذرا بتاؤ- اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی (اجنبی) شخص کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر اس کے بدلے میں تم اسے بھی قتل کر دو گے، یا وہ کیا کرے؟ میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھو، چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے (بغیر ضرورت) اس طرح کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور اس کی اس قدر برائی کی کہ عاصم پر رسول اللہ ﷺ کی بات گراں گزری، جب عاصم گھر لوٹے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس آکر پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے تم سے کیا فرمایا؟ تو عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے تم سے کوئی بھلائی نہیں ملی جس مسئلہ کے بارے میں، میں نے سوال کیا اسے رسول ﷺ نے ناپسند فرمایا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا:اللہ کی قسم میں نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھ کر رہوں گا، وہ سیدھے آپ ﷺ کے پاس پہنچ گئے، اس وقت آپ ﷺ لوگوں کے بیچ تشریف فرما تھے، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بتائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ (اجنبی) آدمی کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے، پھر آپ لوگ اس کے بدلے میں اسے قتل کر دیں گے، یا وہ کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے اور تمہاری بیوی کے متعلق قرآن نازل ہوا ہے لہٰذا اسے لے کر آؤ“۔ سہل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ان دونوں نے لعان کیا، اس وقت میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، جب وہ (لعان سے) فارغ ہو گئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں اسے اپنے پاس رکھوں تو (گویا) میں نے جھوٹ کہا ہے، چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے پہلے ہی اسے تین طلاق دے دی۔ ابن شہاب (زہری) کہتے ہیں: تو یہی (ان دونوں کا معاملہ) لعان کرنے والوں کا طریقہ بن گیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد الحديث أن عويمرًا العجلاني -رضي الله عنه- جاء يسأل عن حكم من وجد مع امرأته رجلًا ماذا يفعل، فكره النبي -عليه الصلاة والسلام- مثل هذه المسائل لما فيها من التعرض للمكروه، فأصر على السؤال عن ذلك، وقد وقع به ما سأل عنه، ثم جاء إلى النبي -عليه الصلاة والسلام- يسأل عن حكم حالته، فأخبره النبي -صلى الله عليه وسلم- بأن الله أنزل في شأنه وشأن امرأته قرآنًا فيه حكم ما جرى لهما، فتلاعنا، ثم إنَّ عويمراً كان يظن أن اللعان لا يحرمها فبادر بطلاقها ثلاثا، فكان هذا أول لعان في الإسلام.
581;دیث یہ فائدہ دیتی ہے کہ عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس یہ مسئلہ دریافت کرنے آئے کہ کوئی اپنی بیوی کے پاس کسی اجنبی آدمی کو دیکھے تو کیا کرے، تو نبی ﷺ نے ان جیسے مسائل کو ناپسند فرمایا کیونکہ اس میں اپنے آپ کو کسی ناپسندیدہ شے میں مبتلا کرنا ہے، تو انہوں نے اس سوال پر اصرار کیا، اور سوال کیا گیا مسئلہ وقوع پذیر ہو چکا تھا، پھر وہ نبی ﷺ کے پاس اس حالت کا حکم دریافت کرنے کے لیے آئے، تو نبی ﷺ نے بتایا کہ ان کے اور ان کی بیوی کے بارے میں اللہ نے قرآن کی ایک آیت نازل فرمائی ہے جس میں اس کے متعلق حکم موجود ہے، ان دونوں نےلعان کیا، پھر عویمر رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ لعان نے بیوی کو حرام نہیں کیا اور آگے بڑھ کر تین طلاق دے دی، اس طرح یہ اسلام میں پہلا لعان تھا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58157

 
 
Hadith   1995   الحديث
الأهمية: إذا أقر الرجل بولده طرفة عين فليس له أن ينفيه


Tema:

جب بندہ پلک جھپکنے کی حد تک بھی کسی بچے سے اپنے نسب کا اقرار کرے تو پھر اس سے نفی کرنا جائز نہیں ہے۔

عن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- قال: "إذا أقرَّ الرجل بولده طَرْفَةَ عين فليس له أن ينفيه".

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب بندہ پلک جھپکنے کی حد تک بھی کسی بچے سے اپنے نسب کا اقرار کرے تو پھر اس سے نفی کرنا جائز نہیں ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد الأثر أن الرجل إذا اعترف بنسب ولد إليه لم يكن له أن ينفيه عنه ولا أن ينكر نسبه إليه؛ لأن هذا من حقوق العباد التي ثبتت بالإقرار فلا ينفع فيها الجحود ولا النكران.
575;س اثر میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب بندہ کسی بچے کے ساتھ اپنے نسب کا اعتراف کر لے تو پھر اس کی نفی اور انکار کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ ان حقوق العباد میں سے ہے جو اقرار سے ثابت ہوتے ہیں اور ان میں جھگڑنا اور انکار کرنا کوئی فائدے مند چیز نہیں۔   --  [اس حديث کی سند حَسَنْ ہے۔]+ +[اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58160

 
 
Hadith   1996   الحديث
الأهمية: أمرت بريرة أن تعتد بثلاث حيض


Tema:

بریرہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی عدت تین حیض پوری کرے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: "أُمِرَتْ بريرة أن تعتد بثلاث حِيَضٍ».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی عدت تین حیض پوری کرے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بريرة مولاة لعائشة -رضي الله عنها- عتقت من الرق، وهي تحت زوجها الرقيق مغيث، فكان لها الخيار بين بقائها معه، وبين أن تفسخ نكاحها؛ ففسخت نكاحها، ففي الحديث أنها اعتدت من زوجها بثلاث حيض، مع أنه فسخ، وليس بطلاق، وأنه فراق في الحياة، لا في الموت، وأن زوجها الذي اعتدت من فراقه لازال رقيقًا.
593;ائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی لونڈی بریرہ رضی اللہ عنہا کو اپنی غلامی سے آزاد کیا اور وہ اپنے غلام خاوند مغیث رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں۔ ان کو اس بات کا اختیار دیا گیا کہ چاہیں تو وہ ان کے ساتھ باقی رہیں اور چاہیں تو اپنے نکاح کو فسخ کر دیں تو انہوں نے اپنے نکاح کو فسخ کر دیا۔ اس حدیث میں یہ موجود ہے کہ انہوں نے تین حیض عدت مکمل کی۔ جب کہ وہ فسخ تھا نہ کہ طلاق، اور ان کی یہ علیحدگی زندگی میں ہی تھی مرنے کے ساتھ نہیں ہوئی تھی اور جس خاوند سے علیحدگی کی عدت گزاری تھی وہ ابھی غلام ہی تھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58161

 
 
Hadith   1997   الحديث
الأهمية: بلى فجدي نخلك، فإنك عسى أن تصدقي، أو تفعلي معروفًا


Tema:

کیوں نہیں، تم اپنی کھجوروں کا پھل توڑو، ممکن ہے کہ تم (اس سے) صدقہ کرو یا کوئی اور اچھا کام کرو۔

عن جابر بن عبد الله قال: طُلِّقَتْ خالتي، فأرادت أن تَجُدَّ نَخْلَهَا، فَزَجَرَهَا رجل أن تخرج، فأتت النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: «بلى فَجُدِّي نَخْلَكِ، فإنك عسى أن  تَصَدَّقِي، أو تفعلي معروفا».

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میری خالہ کو طلاق دی گئی، انہوں نے (دورانِ عدت) اپنی کھجوروں کا پھل توڑنے کا ارادہ کیا تو ایک آدمی نے انہیں باہر نکلنے پر ڈانٹا، تو وہ نبیﷺ کے پاس آئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، تم اپنی کھجوروں کا پھل توڑو، ممکن ہے کہ تم (اس سے) صدقہ کرو یا کوئی اور اچھا کام کرو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد  الحديث أن خالة جابر -رضي الله عنهما- طلقها زوجها، فأرادت في وقت العدة أن تجد نخلها  فمنعها رجل من ذلك، فسألت النبي -صلى الله عليه وسلم- فأخبرها بأنه لا حرج عليها في الخروج، وهذا يفيد أنَّ المطلقة طلاقًا بائنًا في عدتها ليست كالمتوفَّى عنها في عدة الوفاة، فلها الخروج لحاجتها متى شاءت، مع أنَّ الأفضل على وجه العموم: أنَّ بقاء المرأة في بيتها أفضل لها وأصون؛ فإنَّ النَّبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "بيوتهن خير لهن"، هذا في حق العبادة، والصلاة مع المسلمين، وسماع الخير؛ فكيف مع غير ذلك؟
575;س حدیث سے معلوم ہوا کہ جابر رضی اللہ عنہ کی خالہ کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی، انہوں نے دورانِ عدت میں اپنے کھجوروں کا پھل توڑنا چاہا تو ایک شخص نے انہیں اس سے منع کر دیا، پس انہوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے بتایا کہ ان کے نکلنے میں کوئی حرج و گناہ نہیں ہے، اور یہ اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ مطلقہ بائنہ اپنی عدت گزاری میں متوفیٰ عنہا (جس کا شوہر فوت ہو گیا ہو) کی عدت گزاری کی طرح نہیں ہے، مطلقہ جب چاہے اپنی ضرورت کے مطابق باہر نکل سکتی ہے، اسی کے ساتھ عمومی طور پر عورت کا اپنے گھر میں رہنا ہی زیادہ افضل و بہتر ہے اور ازحد حفاظت و صیانت کا باعث ہے، اس لیے کہ نبی ﷺکا فرمان ہے کہ ”عورتوں کا گھر ان کے لیے بہتر ہے“۔ یہ فرمان عبادت، مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے اور بھلائی کی باتیں سننے کے متعلق ہے، تو پھر اس کے ماسوا کے بارے میں کیا حکم ہو گا؟!

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58163

 
 
Hadith   1998   الحديث
الأهمية: امكثي في بيتك حتى يبلغ الكتاب أجله، قالت: فاعتددت فيه أربعة أشهرٍ وعشرًا


Tema:

اپنے اسی گھر میں رہو یہاں تک کہ قرآن کی بتائی ہوئی مدت (عدت) پوری ہو جائے، کہتی ہیں:پھر میں نے عدت کے چار مہینے دس دن اسی گھر میں پورے کیے۔

عن الفُرَيْعَةَ بنت مالك بن سنان، وهي أخت أبي سعيد الخدري -رضي الله عنهما- أنها جاءت إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- تسأله أن ترجع إلى أهلها في بني خُدْرَةَ، فإن زوجها خرج في طلب أَعْبُدٍ له أَبَقُوا، حتى إذا كانوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لحقهم فقتلوه، فسألت رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أن أرجع إلى أهلي، فإني لم يتركني في مسكن يملكه، ولا نفقة؟ قالت: فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «نعم»، قالت: فخرجت حتى إذا كنت في الحُجْرَةِ، أو في المسجد، دعاني، أو أمر بي، فَدُعِيتُ له، فقال: «كيف قلت؟»، فرددت عليه القصة التي ذكرت من شأن زوجي، قالت: فقال: «امْكُثِي في بيتك حتى يبلغ الكتاب أَجَلَهُ»، قالت: فاعتددت فيه أربعة أشهرٍ وعشرًا، قالت: فلما كان عثمان بن عفان أرسل إِلَيَّ فسألني عن ذلك، فأخبرته فَاتَّبَعَهُ، وقضى به.

فُرَیعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا (جو کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں) نے خبر دی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئیں، وہ آپ ﷺ سے پوچھ رہی تھیں کہ کیا وہ قبیلہ بنی خدرہ میں اپنے گھر والوں کے پاس جا کر رہ سکتی ہیں؟ کیوں کہ ان کے شوہر جب اپنے فرار ہو جانے والے غلاموں کے پیچھے تلاش میں نکلے تو وہ سب مقام قدوم کے اطراف میں تھے کہ میرے شوہر نے ان کو جا لیا مگر انہوں نے اس کو قتل کر ڈالا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : کیا میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤں؟ کیوں کہ انہوں نے مجھے جس مکان میں چھوڑا تھا وہ ان کی ملکیت میں نہ تھا اور نہ ہی خرچ کے لیے کچھ تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں (وہاں چلی جاؤ)“ فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: (یہ سن کر) میں نکل پڑی لیکن حجرے یا مسجد تک ہی پہنچ پائی تھی کہ آپ ﷺ نے مجھے بلا لیا، یا بلانے کے لیے آپ ﷺنے کسی سے کہا، (میں آئی) تو پوچھا: ” تم نے کیا کہا؟“ میں نے وہی قصہ دہرا دیا جو میں نے اپنے شوہر کے متعلق ذکر کیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ” اپنے اسی گھر میں رہو یہاں تک کہ عدت پوری ہوجائے“ فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر میں نے عدت کے چار مہینے دس دن اسی گھر میں پورے کیے، جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت آیا تو انہوں نے مجھے بلوایا اور اس مسئلے سے متعلق مجھ سے دریافت کیا، میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے اسی کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث بيان أنَّ هذه الصحابية توفي زوجها وأرادت أت تعتد في غير البيت الذي كانت فيه مع زوجها، فأخبرها النبي -عليه الصلاة والسلام- بأن الله فرض عليها أن تلازم بيتها حتى تنقضي عدتها، فهذا الحديث أصل في أن المتوفَّى يجب عليها أنْ تقضي عدتها وحدادها في البيت الذي توفي زوجها وهي تسكنه، وأنَّه لا يحل لها الانتقال منه حتى يبلغ الكتاب أجله بانقضاء عدتها وحدادها؛ وذلك بوضع الحمل إنْ كانت حاملًا، أو بإتمام أربعة أشهر وعشرة أيام لغير ذات الحمل.
575;س حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ اس صحابیہ کے شوہر انتقال کر گئے اور انہوں نے اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور گھر میں عدت پوری کرنی چاہی تو نبی ﷺ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض کیا ہے کہ وہ اسی گھر میں عدت گزاریں جہاں اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ یہ حدیث متوفیٰ عنہا کے متعلق اصل ہے کہ اس پر عدت گزارنا اور متعینہ مدت تک اس گھر میں رہنا واجب ہے جس گھر میں رہتے ہوئے اس کے شوہر کی وفات ہوئی اور اس کے لیے عدت اور اس کے محدّد وقت کو پورا کیے بغیر کسی اور مکان میں منتقل ہونا جائز نہیں ہے۔ اور یہ مدت حاملہ کے لیے وضعِ حمل اور غیر حاملہ کے لیے چار ماہ دس دن پورا کرنا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58164

 
 
Hadith   1999   الحديث
الأهمية: قول فاطمة بنت قيس: يا رسول الله، زوجي طلقني ثلاثًا، وأخاف أن يُقتحم علي، قال: «فأمرها، فتحولت»


Tema:

فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ یا رسول اللہ! میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے ہاں کوئی (چور یا فاجر و فاسق شخص) نہ گھس آئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا تو وہ وہاں سے (کسی اور جگہ ) منتقل ہو گئیں۔

عن فاطمة بنت قيس، قالت: قلت: يا رسول الله، زوجي طَلَّقَنِي ثلاثا، وأخاف أن يُقْتَحَمَ عَلَيَّ، قال: «فأمَرَها، فَتَحَوَّلَتْ».

فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے ہاں کوئی (چور یا فاجر و فاسق شخص) نہ گھس آئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا تو وہ وہاں سے (کسی اور جگہ ) منتقل ہو گئیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكرت فاطمة بنت قيس -رضي الله عنها- للنبي -صلى الله عليه وسلم- أنها تخشى على نفسها إن بقيت في المنزل الذي طلقها فيه زوجها وقت العدة، فربما دخل عليها بالقوة فاجر أو سارق ونحوهما, فأمرها النبي -صلى الله عليه وسلم- أن تنتقل منه إلى غيره, مع أنها ما زالت في عدة الطلاق، للحاجة.
601;اطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کو بتایا کہ اگر وہ دورانِ عدت اسی گھر میں رہیں جس میں ان کے شوہر نے انہیں طلاق دی ہے تو انہیں اندیشہ ہے کہ کہیں کوئی فاجر یا چور وغیرہ زبردستی ان کے ہاں نہ گھس آئے۔ اس پر نبی ﷺ نےانہیں حکم دیا کہ وہ وہاں سے کسی اور جگہ منتقل ہو جائیں حالانکہ وہ ہنوز طلاق کی عدت میں تھیں کیونکہ اس کی ضرورت تھی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58165

 
 
Hadith   2000   الحديث
الأهمية: لا تلبسوا علينا سنة نبينا عدة أم الولد، إذا توفي عنها سيدها، أربعة أشهر وعشر


Tema:

ہم پر ہمارے نبی ﷺ کی سنت کو خلط ملط نہ کرو، ام ولد کی عدت جب اس کے مالک کی وفات ہو جائےتو چار ماہ دس دن ہے۔

عن عمرو بن العاص قال: "لا تُلَبِّسُوا علينا سُنَّةَ نبيِّنا عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ، إذا تُوُفِّيَ عنها سَيِّدُهَا أربعة أشهر وعشر".

عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: ”ہم پر ہمارے نبی ﷺ کی سنت کو خلط ملط نہ کرو، ام ولد کی عدت، جب اس کے مالک کی وفات ہو جائےتو چار ماہ دس دن ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الأثر أنكر الصحابي الجليل عمرو بن العاص -رضي الله عنه- على من يتكلم في مسألة عدة أم الولد التي توفي سيدها من دون حجة وبرهان, وبين أن السنة في ذلك أن تمكث أربعة أشهر وعشرة أيام؛ كعدة الزوجة الحرة, سواء بسواء, والأثر وإن كان دل صراحة على هذا المعنى, ورجح كثير من أهل العلم أن عدة أم الولد التي توفي سيدها حيضة مثل بقية الإماء؛ لأدلة أخرى, وهو مذهب الجمهور.
575;س اثر میں جلیل القدر صحابی عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں پر نکیر فرمائی ہے جو بغیر دلیل وحجت کے اُس ام ولد کی عدت کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں جس کے مالک کی وفات ہو گئی ہو، آپ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس بارے میں سنت یہی ہے کہ وہ آزاد بیوی کی عدت کی طرح اسی کے برابر چار ماہ دس دن ٹھہرے گی، یہ اثر اگرچہ اپنے مفہوم میں صراحت سے دلالت کرتی ہے مگر اکثر علماء نے دوسرے دلائل کی بنا پر اس بات کو ترجیح دی ہے کہ متوفیٰ عنہا ام ولد کی عدت بقیہ لونڈیوں کی طرح ایک حیض ہے اور یہی جمہور کا مذہب ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58166

 
 
Hadith   2001   الحديث
الأهمية: أن عائشة زوج النبي -صلى الله عليه وسلم- انتقلت حفصةَ بنتَ عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق حين دخلت في الدم من الحيضة الثالثة


Tema:

عائشہ رضی اللہ عنہہا نے اپنی(بھتیجی) عبدالرحمٰن کی بیٹی حفصہ کو جب کہ (وہ تین طہر گزار چکیں) اور تیسرا حیض شروع ہوا تو حکم دیا کہ وہ مکان بدل لیں۔

عن عروة بن الزبير عن عائشة زوج النبي -صلى الله عليه وسلم- أنها انْتَقَلَتْ حفصةَ بنتَ  عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق، حين دَخَلَتْ في الدَّمِ من الحيضة الثالثة. قال ابن شهاب: فذُكر ذلك لِعَمْرَةَ بنت عبد الرحمن. فقالت: صدَق عروة. وقد جادلها في ذلك ناس، وقالوا: إن الله -تبارك وتعالى- يقول في كتابه: {ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ} [البقرة 2: 228]. فقالت عائشة: صدقتم، وتدرون ما  الأَقْرَاءُ؟. إنما الأَقْرَاءُ الأَطْهَارُ.

عروہ بن زبیر نبی ﷺ کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی (بھتیجی) عبدالرحمٰن کی بیٹی حفصہ کو جب کہ( وہ تین طہر گزار چکیں) اور تیسرا حیض شروع ہوا تو حکم دیا کہ وہ مکان بدل لیں۔ ابن شہاب کہتے ہیں عروہ رحمہ اللہ نے جب یہ روایت بیان کی تو عمرہ بنت عبدالرحمن نے (جو سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی دوسری بھتیجی ہیں) عروہ کی تصدیق کی اور فرمایا کہ لوگوں نے (اس سلسلے میں) عائشہ رضی اللہ عنہا پر اعتراض بھی کیا، اور کہا: بے شک اللہ تبارک وتعالی اپنی کتاب میں فرماتا ہے: ”تین قروء“ (البقرة: 228) تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم نے سچ کہا، لیکن کیا تمہیں اَقراء کا (مطلب) معلوم ہے؟ یقینًا اَقراء سے مراد طہر ہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الأثر يُخبر عروة بن الزبير أنَّ عائشة -رضي الله عنها- نقلت حفصة -بنت شقيقها عبد الرحمن- من بيت العدَّة لما طلقها زوجها المنذر بن العوّام حين نزل عليها الدم من الحيضة الثالثة، وذلك لتمام عدتها، وقد حصل بين عائشة وبين بعض الصحابة نزاع في معنى القرْء الوارد في الآية، عند قوله -تعالى-: {والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ}. فقالوا: هي الحِيض. فأجابتهم عائشة -رضي الله عنها-: أنكم أصبتم في قراءتكم القرآن، وأخطأتم التفسير؛ لأن معنى القرْء هو الطهر الذي يكون بين الحيضتين، والقرء من الأضداد، يقع على الطهر؛ وإليه ذهب مالك والشافعي، وعلى الحيض؛ وإليه ذهب أبو حنيفة وأحمد.
575;س اثر میں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے سگے بھائی عبد الرحمان کی بیٹی حفصہ کو جنہیں ان کے شوہر منذر بن عوام نے طلاق دے دیا تھا، تیسرا حیض آنے کے بعد عدت کے گھر سے منتقل کردیا اور ایسا عدت پورا ہونے کی وجہ سے کیا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾ ”طلاق والی عورتیں اپنےآپ کو تین قروء تک روکے رکھیں“ میں وارد لفظ ’قرْء‘ کے معنیٰ کے متعلق بعض صحابہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان نزاع تھا۔ صحابہ نے کہا قرء سے مراد حیض ہے۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کا جواب دیا کہ بیشک آپ لوگ قراءتِ قرآن میں تو درست اور صحیح ہیں مگر اس کی تفسیر میں خطا کر رہے ہیں کیوں کہ ’قرْء‘ کا مفہوم وہ طہر (پاکی) ہے جو دوحیض کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ لفظ قرء اضداد میں سے ہے یہ طہارت پر بھی دلالت کرتا ہے اس معنی کی طرف امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ گئے ہیں، اور یہ لفظ حیض پر بھی دلالت کرتا ہے اس معنی کی طرف امام ابو حنیفہ اور امام احمد رحمہما اللہ گئے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58167

 
 
Hadith   2002   الحديث
الأهمية: طلاق العبد الحرة تطليقتان وعدتها ثلاثة قروء, وطلاق الحر الأمة تطليقتان وعدتها عدة الأمة حيضتان


Tema:

غلام کی آزاد عورت کو طلاق دو طلاقیں ہیں اور اس عورت کی عدت تین حیض ہے جب کہ آزاد کی لونڈی کو طلاق دو طلاقیں ہیں اور لونڈی کی عدت دو حیض ہے۔

عن ابن عمر أنه كان يقول: «طَلَاقُ العبد الحُرَّةَ تطليقتان وَعِدَّتُهَا ثلاثة قُروء, وطلاق الحر الأَمَةَ تطليقتان وعِدَّتُهَا عِدَّةُ الأمَة حَيْضَتَانِ».

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ غلام کی آزاد عورت کو طلاق دو طلاقیں ہیں اور اس عورت کی عدت تین حیض ہے جب کہ آزاد کی لونڈی کو طلاق دو طلاقیں ہیں اور لونڈی کی عدت دو حیض ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الأثر يبين ابن عمر -رضي الله عنهما- أن العبد المملوك له طلقتان اتجاه زوجته الحرة أو الأمة لا يملك غيرهما، ثم إنَّ الحرة تعتد منه ثلاث حيض، وكذلك الحر له طلقتان اتجاه زوجته المملوكة لا يملك غيرهما، وهي تعتد منه حيضتين.
575;س اثر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما فرما رہے ہیں کہ مملوک غلام کی بیوی چاہے آزاد عورت ہو یا لونڈی ہو اس کی دو طلاقیں ہیں اس سے زائد اس کے پاس اختیار نہیں اور اگر آزاد عورت ہے تو اس کی عدت تین حیض ہے۔ اسی طرح آزاد مرد کے پاس دو طلاقوں کا اختیار ہے اگر اس کی بیوی لونڈی ہے اس کے علاوہ اس کے پاس اختیار نہیں اور اس (لونڈی) کی عدت دو حیض ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام عبد الرزّاق نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58168

 
 
Hadith   2003   الحديث
الأهمية: ألا لا يبيتن رجل عند امرأة ثيب، إلا أن يكون ناكحًا أو ذا محرم


Tema:

خبردار ! کوئی بھی آدمی کسی بیوہ عورت کے پاس رات نہ گزارے، ہاں مگر وہ اس سے نکاح کیا ہو، یا ایسا قریبی رشتہ دار ہو جس کے ساتھ اس کا نکاح جائز نہ ہو۔

عن جابر -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا يَبِيتَنَّ رجل عند امرأة ثيِّب، إلا أنْ يكون ناكِحًا أو ذا مَحْرَم».

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بھی آدمی کسی بیوہ عورت کے پاس رات نہ گزارے، ہاں مگر اُس نے اس سے نکاح کیا ہو، یا ایسا قریبی رشتہ دار ہو جس کے ساتھ اس کا نکاح جائز نہ ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ينهى -صلى الله عليه وسلم- الرجل عن البيات والمكوث ليلًا عند أي امرأة أجنبية عنه، وخص الثيب؛ لأنها التي يدخل عليها غالبًا، وأما البكر فهي متصونة في العادة مجانبة للرجال أشد مجانبة، ولأنه يعلم بالأولى أنه إذا نهى عن الدخول على الثيب التي يتساهل الناس في الدخول عليها فبالأولى البكر.
واستثنى الزوج ومن حرمت عليه بالنسب كالأم والبنت والأخت، أو بالرضاعة، كأمه من الرضاع، أو بالمصاهرة كأم زوجته.
ومفهوم قوله (لا يَبِيتَنَّ) غير مراد، وهو أنه يجوز له البقاء عند الأجنبية في النهار خلوة، أو غيرها؛ لأنه جاء في صحيح البخاري نهي عام دون تقييد بالليل.
لكن إن كان المحرم لايؤمن فلا بد من وجود نساء مع المرأة.
606;بی ﷺ نے آدمی کو کسی اجنبی عورت اور خاص طور پر ثیبہ یعنی شادی شدہ عورت کے پاس رات گزارنے سے منع فرمایا ہے، یہاں پر ثیبہ یعنی شادی شدہ عورت کو خاص کیا ہے، کیونکہ غالباً ایسی عورتوں کے پاس لوگوں کا آنا جانا ہوتا ہے بر خلاف باکرہ عورت کے یعنی غیرشادی شدہ عورت کے، کیونکہ عام طور پر ایسی عورتیں مردوں سے سخت دوری بنائے ہوتی ہیں، اور اس وجہ سے بھی کہ اولویت کی بنیاد پر تعلیم دی ہے، کہ جب ثیبہ عورت کے پاس داخل ہونے سے منع فرمایا تو باکرہ کے پاس جانا بدرجہ اولی منع ہوگا۔ آپ ﷺ نے شوہر کو اس سے مستثنیٰ کیا ہے نیز انہیں بھی جن پر وہ نسب کے ذریعہ حرام ہے جیسے ماں، بیٹی، اور بہن، یا رضاعت کے ذریعہ حرام ہو، جیسے اس کی رضاعی ماں، یا رشتہ مصاہرت کی وجہ سے جیسے اس کی بیوی کی ماں۔
’’لا يَبِيتَنَّ‘‘ رات نہ گزارے، اس قول کا مفہوم مخالف مراد نہیں، کہ دن میں کسی اجنبیہ یا اس کے علاوہ کسی دوسری عورت کے پاس خلوت کرنا جائز ہے، اس کے لیے صحیح بخاری میں نہی عام ہے۔ اس میں رات کی قید نہیں۔
تاہم اگر محرم سے بھی خوف ہو تو ایسی صورت میں اس عورت کے ساتھ دوسری عورتوں کی موجودگی ضروری ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58172

 
 
Hadith   2004   الحديث
الأهمية: لا توطأ حامل حتى تضع، ولا غير ذات حمل حتى تحيض حيضة


Tema:

کسی حاملہ عورت سے اس وقت تک صحبت نہ کی جائے جب تک کہ زچگی نہ ہو جائے اور غیر حاملہ سے بھی اس وقت تک صحبت نہ کی جائے جب تک کہ اس کو ایک حیض نہ آجائے۔

عن أبي سعيد -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال في سَبَايَا أَوْطَاس: «لا  تُوطَأُ حَامِلٌ حتى تَضَعَ، ولا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حتى تَحِيضَ حَيْضَةً».

ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ اوطاس میں گرفتار ہونے والی لونڈیوں کے بارے میں فرمایا: ”کسی حاملہ عورت سے اس وقت تک صحبت نہ کی جائے جب تک کہ اس کی زچگی نہ ہو جائے اور غیر حاملہ سے بھی اس وقت تک صحبت نہ کی جائے جب تک کہ اس کو ایک حیض نہ آجائے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر أبو سعيد الخدري -رضي الله عنه- بأنه في أوطاس -مكان قرب مكة- نهى النَّبي -صلى الله عليه وسلم- أنْ توطأ المرأة التي أخذت في الجهاد من الكفار حتى تُعْلَم براءة رحمها، بوضع حملها، وحتى تطهر من نفاسها، وأما السالمة من الحمل فلا توطأ حتى تحيض حيضة، لأنا لا نعلم براءة رحمها إلا بالحيض، وقيس على المسبية غيرها كالمشتراة والمتملكة من الإماء بأي وجه من وجوه التملك.
575;بو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ مکہ کے قریب واقع اوطاس کے مقام پر نبی ﷺ نے جہاد میں کفار سے گرفتار کی گئی کسی حاملہ عورت سے تب تک مباشرت سے منع فرمایا جب تک کہ بچہ جن دینے کے ساتھ اس کا استبراء رحم نہ ہو جائے اور وہ اپنے نفاس سے پاک نہ ہوجائے۔ جب کہ وہ عورت جو حاملہ نہ ہو اس سے اس وقت تک ہم بستری نہیں کی جائے گی جب تک کہ اسے ایک حیض نہ آ جائے۔ کیونکہ ہمیں اس کے پیٹ کے بچے سے خالی ہونے کا علم حیض ہی کے ذریعے ہوتا ہے۔ گرفتار شدہ باندی پر قیاس کرتے ہوئے خرید کردہ یا کسی بھی اور طریقے سے ملکیت میں آنے والی باندی کا بھی یہی حکم ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58173

 
 
Hadith   2005   الحديث
الأهمية: لا تحرم المصة والمصتان


Tema:

ایک یا دو بار دودھ چوسنے (پینے) سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا تُحَرِّمُ الْمَصَّة وَالْمَصَّتَان».

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا: ”ایک یا دو بار دودھ چوسنے (پینے) سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت نہیں ہوتی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر عائشة -رضي الله عنها- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- بأن مص الصبي لثدي امرأة غير أمه مرة أو مرتين لا يصيره ابنا من الرضاع لهذه المرأة، ولاتنتشر المحرمية بينه وبينها؛ وذلك لعدم اكتمال شروط التحريم، لأن الرضاع المحرِّم لا يحل للمرتضع أن يتزوج من المرضعة أو من محارمها أومحارم زوجها الذي له اللبن، ويجوز له الخلوة بهن، وأن يكون محرما لهن في السفر.
وعليه فإن هذا العدد القليل من الرضعات لا يحصل به التحريم في باب الرضاع، ولا بد من خمس رضعات كما في حديث عائشة الآخر في صحيح مسلم: (فنسخن بخمس معلومات).
575;ُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، نبی ﷺ سے یہ روایت بیان فرماتی ہیں کہ ماں کے علاوہ کسی اور خاتون کی پستان سےایک یا دو مرتبہ دودھ چوسنے (پینے) سے وہ بچہ، اس خاتون کا رضاعی بیٹا نہیں ہوگا اور نہ اس کے اور اس خاتون کے مابین رضاعی حرمت ثابت ہوگی، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں حرمتِ رضاعت کی شرائط مکمل نہیں ہیں کیونکہ حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت کی صورت میں رضاعی بیٹے کے لیے جائز نہیں کہ وہ رضاعی ماں یا اس سے ثابت ہونے والے محارم یا اس کے شوہر کے محارم سے نکاح کرے جو اس کے دودھ کی ملکیت رکھتا ہے، اس کا ان کے ساتھ خلوت وتنہائی میں رہنا جائز ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ سفر میں ان کا محرم بنے۔
اسی اعتبار سے دودھ چوسنے کی اتنی کم تعداد سے رضاعت کے باب میں حرمت ثابت نہیں ہوتی اور پانچ رضعات کا ثابت ہونا ضروری ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی دوسری حدیث ۔۔۔ (دس مرتبہ دودھ پینے سے حرمت رضاعت کا حکم منسوخ ہوکر پانچ بار دودھ پینے سے حرمت رضاعت کا حکم نازل ہوگیا)ـ ــــــ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58174

 
 
Hadith   2006   الحديث
الأهمية: أرضعيه تحرمي عليه، ويذهب الذي في نفس أبي حذيفة


Tema:

تم (سالم کو) دودھ پلا دو ، تم اس کے اوپر حرام ہو جاؤ گی اور وہ (کراہت) جو ابو حذیفہ کے دل میں ہے ختم ہو جائے گی۔

عن عائشة -رضي الله عنها- أن سالما مولى أبي حذيفة كان مع أبي حذيفة وأهله في بيتهم، فأتت -تعني ابنة سُهيل- النبي -صلى الله عليه وسلم- فقالت: إن سالما قد بلغ ما يبلغ الرجال. وعَقَل ما عقلوا. وإنه يدخل علينا. وإني أظن أن في نفس أبي حذيفة من ذلك شيئا. فقال لها النبي -صلى الله عليه وسلم- «أَرْضِعِيهِ، تَحْرُمِي عليه، ويذهب الذي في نفس أبي حذيفة» فرجعت فقالت: إني قد أرضعته. فذهب الذي في نفس أبي حذيفة.

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہتی ہیں کہ سالم مولی ابو حذیفہ، ابو حذیفہ کے ساتھ ان کے گھر میں رہتے تھے اور سہل کی بیٹی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ سالم حدِّ بلوغ کو پہونچ گیا ہے اور مردوں کی باتیں سمجھنے لگا اور وہ ہمارے گھر میں آتا ہے اور میں خیال کرتی ہوں کہ ابو حذیفہ کے دل میں اس سے کراہت ہے ، چنانچہ ان سے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم سالم کو دودھ پلا دو ، تم اس کے اوپر حرام ہو جاؤ گی اور وہ کراہت جو ابو حذیفہ کے دل میں ہے ختم ہو جائے گی، پھر وہ لوٹ کر نبی ﷺ کے پاس آئیں اور کہا کہ انہوں نے اسے دودھ پلا دیا ، چنانچہ ابو حذیفہ کے دل میں جو بات تھی وہ ختم ہو گئی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاءت سَهلة بنت سُهيل زوجة أبي حذيفة -رضي الله عنهما- تستفتي في سالم -وكان من أفاضل الصحابة رضي الله عنه- وكان أبوحذيفة قد تبنَّاه يوم أن كان التبني جائزا قبل أن ينسخ، وكان قد نشأ في حجر أبي حذيفة وزوجته نشأة الابن، فلمَّا أنزل الله -تعالى-: {ادعوهم لآبائهم} بطل حكم التبنِّي، وبقي سالم على دخوله على سهلة بحكم صغره، وصار يدخل عليهم وعلى سهلة ويراها، إلى أن بَلَغَ مبلغ الرجال، فوجد أبو حذيفة  في نفسه كراهة ذلك، وثَقُلَ عليهما أن يمنعاه الدخول؛ للإلْف السابق، إلى أن سألا عن ذلك رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقال لها رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أرضعيه تحرمي عليه، وتذهب الكراهة التي في نفس أبي حذيفة، فأَرْضعتْه، فكان ذلك.
وهذا حكم خاص، فمن ارتضع بعد الفطام من امرأة فإنها لا تكون بذلك أمه من الرضاع، كما أفتت به اللجنة الدائمة.
587;ہل کی بیٹی سہلہ جو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہما کی بیوی تھیں وہ آئیں، ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم کے بارے میں فتوی پوچھ رہی تھیں، سالم رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے، ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے انہیں گود لے لیا تھا جس وقت کہ گود لینا جائز تھا یہ واقعہ منسوخ ہونے سے پہلے کا ہے، ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی گود میں پلے بڑھے اور ان کی بیوی نے لڑکے کی طرح پرورش کی ، چنانچہ جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ﴾ یعنی ان کے باپوں کی طرف نسبت کر کے انہیں پکارو، جس کی بنا پر گود لینے کا حکم باطل ہو گیا، اور سالم بچپن کی طرح ان کے یہاں آتے جاتے رہے پھر وہ اسی طرح بدستور ان کے نیز اُن کی بیوی سہلہ کے پاس آیا جایا کرتے تھے اور انہیں دیکھتے تھے، یہاں تک کہ وہ بالغ ہو گئے، جس کی وجہ سے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کو نا گوار گزرتا تھا، اور سابقہ الفت کی بنا پر انہیں منع بھی نہیں کر سکتے تھے ،اسی وجہ سے ان دونوں نےنبی ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نےان سے فرمایا کہ تم سالم کو دودھ پلا دو ،تم اس کے اوپر حرام ہو جاؤ گی اور وہ کراہت جو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے دل میں ہے ختم ہو جائے گی، چنانچہ انہوں نے کہا کہ اسے دودھ پلا دیا اور ایسا ہی ہوا، یہ حکم خاص تھا ان کے لیے ، لہذا جس کسی نے مدت رضاعت ختم ہونے کے بعد کسی عورت کا دودھ پیا تو وہ اس کی رضاعی ماں نہیں ہوگی جیسا کہ لجنہ دائمہ(سعودی عرب) نے اس کا فتوی دیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58175

 
 
Hadith   2007   الحديث
الأهمية: كان فيما أنزل من القرآن: (عشر رضعات معلومات يحرمن)، ثم نسخن، بخمس معلومات، فتوفي رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وهن فيما يقرأ من القرآن


Tema:

قرآن کے اندر یہ بھی اتارا گیا تھا کہ (دس بار دودھ پلانا ثابت اور متحقق ہونے پر حرمت ثابت ہوگی), پھر اسے منسوخ کرکے پانچ بار کی بات اتاری گئی۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو اسے قرآن کے ساتھ پڑھا جا رہا تھا

عن عائشة، أنها قالت: "كان فِيمَا أُنْزِلُ من القرآن: (عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ)، ثم نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ الله -صلى الله عليه وسلم-، وهُنَّ فِيمَا يُقْرَأُ من القرآن".

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: "قرآن کے اندر یہ بھی اتارا گیا تھا کہ (دس بار دودھ پلانا ثابت اور متحقق ہونے پر حرمت ثابت ہوگ), پھر اسے منسوخ کرکے پانچ بار کی بات اتاری گئی۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو اسے قرآن کے ساتھ پڑھا جا رہا تھا"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث بيان أنَّ الرضاع المحرِّم كان في أول الأمر عشر رضعات نزل بها القرآن، فنسخ لفظه وحُكمه، إلى خمس رضعات يحرمن، وتوفي رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وهنَّ مما يقرأ، لتَأَخَّرَ إِنْزالُ الناسخ جدًّاً، حتى خفي على بعض الناس، وكان يقرأ الآية المنسوخة على انها من القرآن.
575;س حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ ابتدا میں دس بار دودھ پلانے کو حرمت ثابت کرنے والی رضاعت مانا گیا تھا اور اس کا ذکر قرآن میں موجود تھا۔ پھر اس کے لفظ اور حکم کو منسوخ کرکے پانچ بار دودھ پلانے سے حرمت کا حکم اتارا گیا۔ پھر اس کے الفاظ اور حکم کو اس قدر بعد میں منسوخ کیا گیا کہ بہت سے لوگوں کو اس کی خبر بھی نہ ہو سکی اور اس منسوخ آیت کو قرآن کا حصہ سمجھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات تک پڑھتے رہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58176

 
 
Hadith   2008   الحديث
الأهمية: لا يحرم من الرضاعة إلا ما فتق الأمعاء في الثدي، وكان قبل الفطام


Tema:

رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوتی ہےجب وہ (دودھ) انتڑیوں کو پھاڑ دے (یعنی آنتوں میں پہنچ کر غذا کا کام کرے) اوریہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہو۔

عن أم سلمة قالت: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا يُحَرِّمُ من الرَّضَاعَةِ إلا ما فَتَقَ الْأَمْعَاءَ في الثَّدْيِ، وكان قَبْلَ الْفِطَامِ».

ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ (دوودھ) انتڑیوں کوپھاڑ دے (یعنی آنتوں میں پہنچ کر غذا کا کام کرے) اور یہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث يدل على أنه لا يحرِّم من الرِّضاع إلاَّ ما وصل إلى الأمعاء ووسَّعها، أما القليل الذي لم ينفذ إليها ويفتقها ويوسعها -فلا يحرِّم، فكان الرضاع المؤثر في حال الصغر قبل الفطام.
581;دیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صرف وہی رضاعت باعثِ حرمت ہوتی ہے جس میں دودھ آنتوں تک پہنچ کر انہیں وسیع کر دے۔ باقی رہا وہ تھوڑا سا دودھ جو آنتوں تک نہ پہنچے اور نہ ہی انہیں کھول پائے اور کشادہ کر سکے تو اس طرح کی رضاعت حرمت کا باعث نہیں ہوتی ۔ چنانچہ مؤثر رضاعت وہی ہوتی ہے جو کمر عمری میں دودھ چھڑا لینے سے پہلے پہلے ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58177

 
 
Hadith   2009   الحديث
الأهمية: يد المعطي العليا، وابدأ بمن تعول: أمك، وأباك، وأختك، وأخاك، ثم أدناك، أدناك


Tema:

دینے والے کا ہاتھ برتر ہوتا ہے۔ خرچ کرنے کے معاملے میں اپنے اہل و عیال سے ابتداء کرو یعنی اپنے ماں باپ، بہن، بھائی اور پھر اُن لوگوں سے جو تمہارے قریب تر ہوں۔

عن طارق المُحَارِبِيِّ، قال: قَدِمْنَا المدينة فإذا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قَائِمٌ على المِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ وهو يقول: "يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ: أُمَّكَ وأَبَاكَ، وأُخْتَكَ وأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ".

طارق محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مدینہ آئے توآپ ﷺ منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ دینے والے کا ہاتھ برتر ہوتا ہے۔ خرچ کرنے کے معاملے میں اپنے اہل و عیال سے ابتداء کرو یعنی اپنے ماں باپ، بہن بھائی اور پھر اُن لوگوں سےجو درجہ بہ درجہ تمہارے قریب تر ہوں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث يدل على أنَّه ينبغي للإنسان أن تكون يده عليا بحيث يكون منفقًا محسنًا على قدر حاله واستطاعته، لا أن يكون آخذاً سائلاً؛ لأن البذل والإنفاق يجعل اليد عليا، كذلك عليه أن يبدأ بالإنفاق على أقاربه وأرحامه ويواسيهم بما يستطيع، وأن يبدأ بالأهم فالأهم، فيبدأ بالأم؛ لأنها مقَدَّمة في البدء على الأب، والأخت مقدمة على الأخ، وهكذا يراعي الأقرب فالأقرب من أقاربه إذا لم يكن عندهم ما يكفيهم.
581;دیث اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ انسان کو چاہیے کہ اس کا ہاتھ اوپر ہی رہے بایں طور کہ وہ اپنے حالات اور استطاعت کے بقدر خرچ کرنے اور احسان کرنےوالا بنے نہ کہ لینے اور مانگنے والا۔کیونکہ صرف و خرچ کرنا ہاتھ کو بالاتر کر دیتا ہے۔ اسی طرح انسان کو چاہیے کہ وہ خرچ کرنے میں اپنے عزیز و اقارب اور رحمی رشتہ داروں سے ابتدا کرے اور جیسے بھی ہو سکتا ہو ان کی دلجوئی کرے اور اس سلسلے میں اہم ترین رشتہ داری سے آغاز کرے۔ چنانچہ ماں سے شروع کرے کیونکہ وہ ابتداکے لحاظ سے باپ پر مقدم ہے اور بہن بھائی پر مقدم ہے۔ اسی طرح اس کے رشتہ داروں میں سے جو اس کے قریب ترین ہیں ان کے پاس اگر بقدرِ کفایت مال نہ ہو تو وہ ان کا خیال رکھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58181

 
 
Hadith   2010   الحديث
الأهمية: كفى بالمرء إثمًا أن يحبس عمن يملك قوته


Tema:

آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ اپنے ماتحت لوگوں کى خوراکی روک لے

عن خَيْثَمَةَ، قال: كنا جلوسًا مع عبد الله بن عمرو، إذ جاءه قَهْرَمَانٌ له فَدَخَلَ، فقال: أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ؟ قال: لا، قال: فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّنْ يَمْلِكُ قُوتَهُ».

Esin Hadith Text


خیثمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کا خزانچی اندر آیا، تو پوچھا کہ کیا تم نے غلاموں کو ان کى خوراکی دے دیا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں، تو فرمایا : جاو اور ان کو خوراکی دے دو۔ پھر کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم- نے فرمایا ہے : "آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ اپنے ماتحت لوگوں کى خوراکی روک لے"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث يبين عبد الله بن عمرو -رضي الله عنهما- عظم مسؤولية الإنسان عمن تلزمه نفقتهم، وذلك عندما علم أنَّ الخازن لم يعطِ المماليك نفقاتهم،  فذكر حديث النبي -صلى الله عليه وسلم- الذي فيه أنّ تضييع الإنسان وإهماله لمن تحت يده ببخله وإمساكه النفقة عنه من أكبر أسباب الإثم.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اس حديث میں عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایک انسان پر جن ماتحت لوگوں کا نان و نفقہ واجب ہو، ان کے بارے میں حساس رہنے کی کس قدر ضرورت ہے۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ ان کے خزانچی نے غلاموں کو ان کا نفقہ نہیں دیا ہے، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث سنا دی، جس میں بتایا گیا ہے کہ بخل کی بنا پر ماتحت لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں لاپرواہی سے کام لینا اور ان کے نفقے کو روکنا گناہ میں واقع ہونے کے بڑے اسباب میں سے ایک ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58183

 
 
Hadith   2011   الحديث
الأهمية: خير الصدقة ما كان عن ظهر غنًى، واليد العليا خير من اليد السفلى، وليبدأ أحدكم بمن يعول


Tema:

بہترین صدقہ وہ ہے جو بے نیازی سے ہو۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ اور تم میں سے ہر کسی کو چاہیے کہ وہ اُن لوگوں کو صدقہ دینے سے شروعات کرے جو اس کے زیرِ پرورش ہوں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "خير الصدقة ما كان عن ظَهْر غِنى، واليدُ العُليا خيرٌ مِن اليد السُّفلى، وليَبدأْ أحدُكم بِمَن يَعول". تقول امرأته: أنْفِقْ علَيَّ، وتقول أمُّ ولده: إلى مَن تَكِلُني، ويقول له عَبْدُه: أطْعِمْنِي واسْتَعْمِلْنِي.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جو بے نیازی سے ہو۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ اور تم میں سے ہر کسی کو چاہیے کہ وہ ان لوگوں سے صدقہ دینے کی شروعات کرے جو اس کے زیرِ پرورش ہوں،، (کہیں ایسا نہ ہو کہ) اس کی بیوی اس سے کہنے لگے تم میرے اوپر خرچ کرو اور ام ولد کہے کہ مجھے کس کے انحصار پرچھوڑ رہے ہواور اس کا غلام کہے مجھے کھلاؤ اور مجھ سے کام لو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بين الحديث أن أفضل الصدقات ما كان المتصدق به غير محتاج إليه لنفقةِ عياله وأهله, ولا يحتاجه لسداد دين عن نفسه، وأن الواجب على المُنفِق أن يبدأ بنفقات من يعول، كالزوجة والأولاد وما ملكت يمينه, وأنه لا ينبغي أن يحبس النفقة عنهم فيتصدق على البعيدين، ويترك الأقربين، ممن يعولهم وينفق عليهم.
وبين الحديث أنه إنْ فَضُل عنده ما يزيد على نفقة من هم تحت يده, فإنه يتصدق على الأبعدين من الفقراء والمحتاجين، ثم بين الحديث فضل الإنفاق بأنَّ يدَ المُعطي والمنفق هي العُليا على يد الآخذ حسًّا ومعنًى؛ وذلك بما أنفق من ماله، وبذل من إحسانه.
575;س حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ سب سے بہتر صدقہ وہ ہے کہ صدقہ کرنے والے کے اہل و عیال اس چیز کے محتاج نہ ہوں اور خرچ کرنے والا مقروض نہ ہو نیز خرچ کرنے والے پر واجب ہے کہ ان لوگوں سے صدقہ وخیرات دینے کی شروعات کرے جن کی وہ پرورش کرتاہے،، مثال کے طور پر جیسے اس کی بیوی اور اس کے لڑکے اور اس کی باندیاں ہیں۔ لہذا اس کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ ان پر خرچ کیے جانے والے اخراجات کو روکے اور دور والوں پر صدقہ وخیرات کرے اور رشتہ داروں کو چھوڑ دے جن کی پرورش اور نان ونفقہ کی ذمہ داری اس پر ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58185

 
 
Hadith   2012   الحديث
الأهمية: قلت يا رسول الله: من أبر؟ قال: "أمك، ثم أمك، ثم أمك، ثم أباك، ثم الأقرب، فالأقرب"


Tema:

میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیرا باپ، پھر درجہ بہ درجہ جو تمہارے قریبی لوگ ہیں۔

عن بهز بن حكيم، عن أبيه، عن جده، قال: قلتُ يا رسول الله: مَن أَبَرّ؟ قال: "أُمَّك، ثم أُمَّك، ثم أُمَّك، ثم أَباك، ثم الأقربَ، فالأقربَ".

بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیرا باپ، پھر درجہ بہ درجہ جو تمہارے قریبی لوگ ہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث فيه الحثٌّ على برِّ الأقارب والإحسان إليهم, وأن الأم أحقهم بذلك, ثم بعدها الأب, ثم الأقرب فالأقرب, وإنما كانت الأم أحقهم لكثرة تعبها وشفقتها وخدمتها؛ لأن لها فضيلة الحمل والرضاع والتربية, وفي الحمل التعب, ثم مشقة الوضع, قال -تعالى-: (حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا)، وإذا كانت الأم مقدمة على الأب فتقديمها على غيره من باب أولى, ومن بر الأم والأب الإنفاق عليهما.
575;س حدیث میں رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے ساتھ احسان کرنے پر ابھارا گیا ہے، اور ان سب میں سب سے زیادہ حق دار ماں کو بتایا گیا ہے پھر اس کے بعد اس کا باپ ہے پھر اس کےبعد جو زیادہ قریبی ہو پھر اس کے بعد جو زیادہ قریبی ہو، لیکن سب سے زیادہ حق دار ماں ہے اس کی وجہ اس کی اپنی اولاد کی تئیں کثرت سے پریشانی اور تکلیف اٹھانا نیز خدمت وشفقت ہے، اور اس لیے بھی کہ حمل ور ضاعت اور تربیت کی فضیلت بھی اسی کے ساتھ خاص ہے اور حمل میں تھکاوٹ ہے پھر اس کے بعد وضع حمل کی مشقت ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا﴾ ”اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور برداشت کر کے اسے جنا“۔ (سورہ احقاف: 15) اور جب ماں کا درجہ باپ سے مقدم ہے تو اس کے علاوہ دوسرے لوگوں پر بدرجہ اولی مقدم ہو گا، اور ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک میں سے یہ بھی ہے کہ ان پر خرچ کیا جائے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58188

 
 
Hadith   2013   الحديث
الأهمية: أنت أحق به ما لم تنكحي


Tema:

تو اس کی پرورش کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ تو کسی سے نکاح نہ کرے۔

عن عبد الله بن عمرو -رضي الله عنهما- أن امرأة قالت: يا رسول الله، إن ابني هذا كان بطني له وِعاء، وثَدْيِي له سِقاء، وحِجْري له حِواء، وإن أباه طَلَّقَني، وأراد أنْ يَنْتَزِعَه مِني، فقال لها رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أنتِ أحقُّ به ما لم تَنكحي».

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا یہ بیٹا ہے میرا پیٹ اس کے لیے برتن تھا، اور میری چھاتی اس کے لیے مشکیزہ، اور میری گود اس کے لیے جھولا ہے، اور اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ اسے مجھ سے چھین لے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کی پرورش کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ تو کسی سے نکاح نہ کرے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث أن امرأةً اشتكت إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- زوجَها حين طلقها وأراد أن يأخذ ابنها منها،
وذكرت هذه المرأة من الأوصاف ما يقتضي تقديمها عليه في بقائه عندها، فبطنها وعاؤه حينما كان جنينًا، وثديها سقاؤه بعد أن وُلِد، وحِجْرها هو المكان اللين الذي يحويه، وقد أقرَّ النبي -صلى الله عليه وسلم- المرأة على ما وصفته من نفسها, وقال لها أنتِ أحق به في الحضانة وهو لك ما لم تنكحي زوجًا آخر، فإذا نكحت فلا تكوني أحق به منه، بل يكون أبوه هو أحق, ووجه ذلك أن المرأة إذا تزوجت وبقي ابنها معها صار تحت حجر هذا الزوج الجديد فيمنُّ عليه أو يتعلق به الطفل أكثر مما يتعلق بأبيه، وربما وقعت مفاسد أخرى.
575;س حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے شکایت کی جب اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی، اور اس نے ارادہ کیا کہ اس کے لڑکے کو اس سے چھین لے، اس عورت نے کچھ ایسے اوصاف بیان کیے تاکہ وہ بچہ اس کے پاس رہ سکے، چنانچہ اس نےکہا کہ میرا یہ بیٹا ہے میرا پیٹ اس کے لئے برتن تھا جب وہ پیٹ کا بچہ تھا، اور اس کی چھاتی اس کی پیدائش کے بعد اس کے لیے مشکیزہ، اوراس کی گود جس جگہ اسے سمیٹ کر رکھتی تھی اس کے لیے جھولا تھا، چنانچہ نبیﷺ نے اس کی ان باتوں کا اقرار کیا، اور اس سے کہا ’’ تو اس کی پرورش کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ تو کسی سے نکاح نہ کرے،،۔اور جب تو کسی سے نکاح کرلے گی تو تمہارا حق اس پر نہیں رہے گا، بلکہ اس کا باپ اس کا زیادہ حق دار ہوگا،،۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت جب شادی کر لے گی اور اس کا بیٹا اس کے ساتھ رہے گا تو ایسی صورت میں اس نئے شوہر کے زیر پرورش ہو جائے گا، چنانچہ اس پر احسان کرے گا، جس کی وجہ سے یہ بچہ اس سے اپنے باپ کے مقابلے زیادہ وابستہ ہو جائے گا، اور بسا اوقات دوسری خرابیاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58189

 
 
Hadith   2014   الحديث
الأهمية: هذا أبوك، وهذه أمك فخذ بيد أيهما شئت


Tema:

یہ تیرا باپ ہے، اور یہ تیری ماں ہے، ان میں سے جس کا ہاتھ چاہے پکڑ لے۔

عن أبي ميمونة سلمى مولى من أهل المدينة رجلُ صِدق، قال: بينما أنا جالس مع أبي هريرة، جاءته امرأة فارِسَيّة معها ابنٌ لها فادَّعَيَاه، وقد طلَّقَها زوجُها، فقالت: يا أبا هريرة، ورَطَنَت له بالفارسية، زوجي يريد أن يذهب بابني، فقال أبو هريرة: اسْتَهِما عليه ورَطَنَ لها بذلك، فجاء زوجها، فقال: مَن يُحاقُّني في ولدي، فقال أبو هريرة: اللهم إني لا أقول هذا إلا أني سمعت امرأةً جاءت إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وأنا قاعد عنده، فقالت: يا رسول الله، إن زوجي يريد أن يذهب بابني، وقد سقاني من بِئر أبي عِنَبَة، وقد نفعني، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- اسْتَهِما عليه، فقال زوجها: من يُحَاقُّنِي في ولدي؟ فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «هذا أبوك، وهذه أمك فخُذْ بيدِ أيِّهما شِئت»، فأخذ بيد أمِّه، فانطلقت به.

ابو میمونہ سلمی جو مدینہ کے آزاد کردہ غلاموں میں سے ہیں، سچے آدمی ہیں کہتے ہیں کہ دریں اثناء کہ میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کےساتھ بیٹھا ہوا تھا فارس کی رہنے والی ایک عورت آئی، اس کے ساتھ اس کا بیٹا تھا ، اور اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی تھی، اس عورت نے فارسی میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے باتیں کیں وہ کہہ رہی تھی ، اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میرا شوہر میرے بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قرعہ ڈالو۔ اس کا شوہر آیا ، اور کہنے لگا میرے بیٹے کے بارے میں کون جھگڑتا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا اللہ یہ میں نہیں کہتا مگر میں رسول اللہ کے پاس بیٹھا تھا تو ایک عورت آپ کے پاس آئی کہا اے اللہ کے رسول میرا شوہر میرے بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے حالانکہ وہ مجھ کو نفع دیتا ہے، ابو عنبہ کے کنویں سے مجھے پانی پلاتا ہے، آپ نے فرمایا کہ قرعہ ڈالو، اس کے شوہر نے کہا کہ کون میرے بیٹے کے بارے میں جھگڑتا ہے؟ تو رسول نے فرمایا ’’یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے، ان میں سے جس کا ہاتھ چاہے پکڑ لے‘‘ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا، چنانچہ اسے لے کر وہ چلی گئی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث بيان وجوب تحقيق مصالح الطفل؛ وذلك أن هذه المرأة قد فارقت زوجها وبقي معها الطفل، وكأنه قد صار منها مانع يمنع استمرار الطفل في حضانتها مع حاجتها له، وهو أيضًا يحتاج إلى رعايتها وحفظها مع عدم قدرة الوالد عل فعل ذلك، فأخبر حينئذ أبو هريرة  بما سمعه من النبي -صلى الله عليه وسلم- في حق مثل هذه المرأة، فإنَّ الحضانة ولاية يقصد بها تربية الطفل، والقيام بمصالحه، فالصبي قبل سن التمييز يكون عند أمه، ما لم تتزوج، فإذا بلغ سن التمييز، واستقلَّ ببعض شئونه، وصار يستغني بنفسه في كثير من الأمور فحينئذٍ يستوي حق الأم والأب في حضانته؛ فيخير بين أبيه وأمه، فأيُهما ذهب إليه أخذه.
575;س حدیث میں بچے کے مفادات کا خیال کرنے کا بیان ہے اور ایسا اس وجہ سے کہ اس عورت کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی، اور اس کا بیٹا اس کے ساتھ رہا، اس عورت کی حاجت کے با وجود اس کا شوہر اس کے بیٹے کو لے جانا چاہتا تھا اور اس کی پرورش اور دیکھ بھال میں رکاوٹ بن رہا تھا، حالانکہ و ہ بچہ بھی باپ کی عدم قدرت کی بنا پر اس ماں کی حفاظت ونگرانی کا ضرورت مند تھا، تو اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دیا، جو نبی ﷺ سے سنا تھا، اسی جیسی عورت کے حق کے بارے میں ، کیونکہ پرورش ایسی ذمہ داری ہے جس کے ذریعہ بچے کی پرورش اور اس کے مفادات کا خیال کیا جاتا ہے، بچہ سنِ تمیز سے پہلے اپنی ماں کے پاس رہے گا، جب تک کہ اس کی ماں شادی نہ کر لے، جب سن تمیز کو پہنچ جائے اور اپنے بعض معاملات میں خود مختار ہو جائے، یعنی بہت سارے معاملات میں خود مختار ہو جائے، اس وقت ماں اور باپ اس کی پرورش میں برابر کے حق دار ہوں گے، ایسی صورت میں اس بچے کو اختیار دیا جائے گا، ان میں سے جس کسی کے پاس جانا چاہے وہ اسے لے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58190

 
 
Hadith   2015   الحديث
الأهمية: حديث رافع بن سنان في تخيير الصبي بين أبويه عند الفراق بالإسلام


Tema:

بوجہِ اسلام ماں باپ کے مابین جدائی ہونے کے موقع پر بچے کو اختیار دینے کے بارے میں رافع بن سنان رضی اللہ عنہ کی حدیث۔

عن رافع بن سنان أنه أسلَمَ وأَبَتْ امرأتُه أن تُسْلِم، فأتت النبي -صلى الله عليه وسلم-، فقالت: ابنتي وهي فَطِيمٌ أو شَبَهُهُ، وقال رافع: ابنتي، قال له النبي -صلى الله عليه وسلم-: «اقعد ناحية»، وقال لها: «اقعدي ناحية»، قال: «وأقعد الصَبِيَّةَ بينهما»، ثم قال «ادعواها»، فمَالت الصبية إلى أمها، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «اللهم اهدها»، فمالت الصبية إلى أَبيها، فأخذها.

رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے تو اسلام قبول کر لیا مگر ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ( جس کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی )۔ ان کی بیوی نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی "میری بیٹی نے ابھی ابھی دودھ چھوڑا ہے یا چھوڑنے کے قریب ہے" ۔ جب کہ رافع رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ "بیٹی میری ہے" ۔ نبی کریم ﷺ نے رافع سے کہا " ایک طرف بیٹھ جاؤ " اور اس عورت سے کہا کہ "تم دوسری طرف بیٹھ جاؤ"۔ رافع کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے بچی کو ان دونوں کے درمیان بٹھا دیا اور پھر ان سے فرمایا "تم دونوں اسے بلاؤ" ۔ ( انہوں نے بلایا ) تو بچی اپنی ماں کی طرف جھک گئی۔ نبی ﷺ نے دعا فرمائی کہ "اے اﷲ! اس بچی کو ہدایت دے" ۔ اس پر بچی اپنے باپ کی طرف جھک گئی اور انہوں نے اسے لے لیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء في هذا الحديث أن خصومةً متعلقة بالحضانة وقعت عند النبي -صلى الله عليه وسلم- بين أبوين, أحدهما مسلم وهو الأب, والثاني كافر وهي الأم, حيث اختصما عند النبي -صلى الله عليه وسلم- في شأن ابنتيهما, والنبي -صلى الله عليه وسلم- خيَّر الصبية بين الأبوين فاختارت الأم وهي كافرة, فالنبي -صلى الله عليه وسلم- قال: اللهم اهدها, أي دلها على الصواب, فاستجاب الله دعوة نبيه -صلى الله عليه وسلم- فاختارت الأب المسلم.
وهذا يفيد أنَّ بقاء الطفل تحت رعاية وحضانة الكافر خلاف هدي الله -تعالى-.
لأنَّ الغرض من الحضانة هي تربيته، ودفع الضرر عنه، وأنَّ أعظم تربيةٍ هي المحافظة على دينه، وأهم دفاع عنه هو إبعاد الكفر عنه.
وإذا كان في حضانة الكافر، فإنَّه يفتنه عن دينه، ويخرجه عن الإسلام بتعليمه الكفر، وتربيته عليه، وهذا أعظم الضرر، والحضانة إنما تثبت لحفظ الولد، فلا تشرع على وجه يكون فيه هلاكه، وهلاك دينه.
581;دیث میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی ﷺ کے پاس والدین کے مابین بچے کی حضانہ (پرورش سے متعلق نزاع) کا مسئلہ آیا جن میں سے ایک یعنی باپ مسلمان تھا ور دوسرا یعنی ماں کافر تھی۔ اپنی بیٹی کے بارے میں نبی ﷺ کے پاس ان دونوں کے مابین نزاع پیدا ہو گیا۔ نبی ﷺ نے بچی کو ماں باپ کے مابین اختیار دیا تو اس نے ماں کو اختیار کرنا چاہا جو کہ کافر تھی۔ اس پر نبی ﷺ نے دعا فرمائی کہ "اے اللہ! اس بچی کو ہدایت دے"۔ یعنی صحیح کی طرف اس کی راہنمائی فرما۔اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کی دعا کو قبول فرما لیا اور اس بچی نے مسلمان باپ کو چن لیا۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بچے کا کافر کی نگہداشت اور پرورش میں رہنا اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کے برخلاف ہے۔ کیونکہ پرورش میں دیے جانے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ بچے کی تربیت ہو اور ہر قسم کے ضرر کو اس سے دور رکھا جائے۔ جب کہ سب سے بڑی تربیت اس کے دین کی حفاظت ہے اور اس کا سب سے بڑا دفاع یہ ہے کہ اس سے کفر کو دور رکھا جائے۔
جب بچہ کافر کی پرورش میں ہوگا تو وہ اسے اس کے دین سے پھیر دے گا اور اسے کفر کی تعلیم و تربیت دے کر اسلام سے نکال دے گا جو کہ سب سے بڑا ضرر ہے ۔ پرورش تو ہوتی ہی بچے کی حفاظت کے لیے ہے چنانچہ اس کی کوئی بھی ایسی صورت جائز نہیں جس میں بچے کی ہلاکت ہو یا اس کے دین کا ضیا ع ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58191

 
 
Hadith   2016   الحديث
الأهمية: إذا أتى أحدكم خادمه بطعامه، فإن لم يجلسه معه، فليناوله لقمة أو لقمتين أو أكلة أو أكلتين، فإنه ولي علاجه


Tema:

جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے سامنے کھانا حاضر کرے، تو اگر اسے اپنے ساتھ نہیں بیٹھاتا تو اسے ایک دو لقمہ ضرور دے دے۔ کیونکہ اس نے اسے تیار کرنے کی ذمے داری نبھائی ہے

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «إذا أتى أحدَكم خادمُه بطعامِه، فإنْ لم يُجلِسْه معه، فلْيُناوِلْهُ لُقمةً أو لُقْمَتَيْنِ أو أُكْلَة أو أُكْلَتَين، فإنه وَلِيَ عِلاجَه».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے سامنے کھانا حاضر کرے، تو اگر اسے اپنے ساتھ نہیں بیٹھاتا تو اسے ایک دو لقمہ ضرور دے دے۔ کیونکہ اس نے اسے تیار کرنے کی ذمے داری نبھائی ہے"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث أن الخادم أو المملوك إذا أصلح طعاماً لسيده, فمن المروءة وحسن المعاملة أن  يُطعمَه سيده من هذا الطعام ولا يحرمُه منه وقد تعب فيه, وقد أصلحه وأحضره, فلا يليق بالمروءة والكرم وحُسن المعاملة أن هذا المملوك لا يذوق من الطعام, بل يعطيه منه ما يُطيِّبُ نفسَه ويردُّ تطلُّعه.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ خادم یا غلام جب اپنے آقا کے لیے کھانا تیار کرے، تو مروت اور حسن سلوک کا تقاضا یہ ہے کہ آقا اسے اس کھانے کا کچھ حصہ کھانے کو دے، اسے بالکل محروم نہ رکھے۔ یہ مروت، شرافت اور حسن اخلاق کی بات نہیں ہوگی کہ جس نے اسے محنت سے تیار کرکے حاضر کیا، وہ اسے چکھنے سے رہ جائے۔ اس لیے اس کا دل رکھنے اور خواہش پوری کرنے کی خاطر کـچھ ضرور دینا چاہیے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58192

 
 
Hadith   2017   الحديث
الأهمية: عُذَّبت امرأة في هرة سجنتها حتى ماتت، فدخلت فيها النار، لا هي أطعمتها ولا سقتها إذ حبستها، ولا هي تركتها تأكل من خَشَاش الأرض


Tema:

ایک عورت کو ایک بلی کى وجہ سے میں عذاب دیا گیا، جسے اس نے قید کر رکھا تھا یہاں تک کہ وہ مر گئی۔ تو وہ اس کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی، کیونکہ قید کرنے کے بعد نہ تو اسے کھانے کو دیا، نہ پینے کو دیا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑوں کو کھاتی

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- أنَّ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «عُذِّبت امرأة في هِرَّة سَجَنَتْها حتى ماتت، فدخلت فيها النار، لا هي أطعمتها ولا سَقتها، إذ حبستها، ولا هي تَركتْها تأكل مِن خَشَاشِ الأرض».

عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "ایک عورت کو ایک بلی کى وجہ سے عذاب دیا گیا، جسے اس نے قید کر رکھا تھا یہاں تک کہ وہ مر گئی۔ تو وہ اس کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی، کیونکہ قید کرنے کے بعد نہ اسے کھانے کو دیا، نہ پینے کو دیا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑوں کو کھاتی"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث عن امرأة دخلت النار -والعياذ بالله-, والسبب في ذلك أنها حبست قطة حتى ماتت, فلا هي أطعمتها وسقتها, ولا هي تركتها تأكل من حشرات الأرض تطلب رزقها لنفسها،
وإذا كان هذا الوعيد في البهائم، فكيف يكون الإثم بالإنسان المعصوم؛ ممن ولاَّهم الله إيَّاهم: من زوجةٍ، وولدٍ، وخادمٍ، وغيرهم؟!

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں ایک عورت کے بارے میں بتایا ہے، جو جہنم ( اللہ ہمیں اس سے بچائے!) میں داخل ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ اس نے ایک بلی کو باندھ کر رکھ دیا اور وہ بھوک پیاس سے بے تاب ہوکر مر گ‏ئی۔ اس نے نہ تو اسے کچھ کھانے کو دیا، نہ پینے کو دیا اور نہ چھوڑا کہ خود دوڑ بھاگ کرکے زمین کے کیڑے مکوڑوں کو کھا لیتی۔
جب جانوروں کے بارے میں یہ وعید ہے، تو بیوی، بچے اور نوکر چاکر وغیرہ جیسے بے گناہ ماتحت لوگوں کی ذمے داری ادا نہ کرنا کتنا بڑا گناہ ہو سکتا ہے؟
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58193

 
 
Hadith   2018   الحديث
الأهمية: لا يحل دم امرئ مسلم، يشهد أن لا إله إلا الله، وأن محمدًا رسول الله، إلا بإحدى ثلاث


Tema:

کسی بھی ایسے مسلمان کا خون بہاناجائز نہیں جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، سوائے تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا يَحِلّ دمُ امرئ مسلم، يشهد أن لا إله إلا الله، وأن محمدًا رسول الله، إلا بإحدى ثلاث: رجل زَنَى بَعْدَ إِحْصَان، فإنه يُرْجَم، ورجل خرج مُحاربًا لله ورسوله، فإنه يُقَتُل، أو يُصلَّبُ، أو يُنفى من الأرض، أو يَقتلَ نفسًا، فيُقتلُ بها".

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی بھی ایسے مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبودِ برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، سوائے تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں:
پہلی صورت یہ ہے کہ وہ شادی شدہ ہو اور زنا کا ارتکاب کربیٹھے۔ ایسے شخص کو سنگسار کیا جائے گا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرے۔ (اس جرم کی پاداش میں) اسے قتل کیا جائے گایا سولی پر چڑھایا جائے گا یا اسے جلاوطن کردیا جائے گا۔
تیسری صورت یہ ہے کہ وہ کسی کو قتل کردے تو اسے بھی (قصاصاً) قتل کر دیا جائے گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث فيه الدلالة على حرمة دماء المسلمين الذين يشهدون أن لا إله إلا الله وأن محمدًا رسول الله، ولم يظهر منهم ما يخالف الشهادتين من نواقض الإسلام؛ لأن الشارع الحكيم حرص على حفظ النفوس وأمْنِها، فجعل لها من شرعه حماية ووقاية، ثم إنه جعل أعظم الذنوب -بعد الإشراك بالله- قتل النفس التي حرم الله -تعالى- قتلها.
وحرم -هنا- قتل المسلم الذي أقر بالشهادتين إلا أن يرتكب واحدة من الخصال الثلاث:
الأولى: أن يزني وقد مَنّ الله عليه بالإحصان، وأعفّ فرجه بالنكاح الصحيح.
والثانية: أن يعمد إلى نفس معصومة، فيقتلها عدوانًا وظلمًا.
فالعدل والمساواة لمثل هذا، أن يلقى مثل ما صنع إرجاعًا للحق إلى نصابه وردعًا للنفوس الباغية عن العدوان.
والثالثة: الذي خرج على المسلمين محاربًا لله ورسوله، بقطع الطريق عليهم وإخافتهم وسلبهم وإيقاع الفساد فيهم, فهذا يقتل أو يُصلب أو يُنفى من الأرض, ليستريح الناس من شره وبغيه.
فهؤلاء الثلاثة يقتلون؛ لأن في قتلهم سلامة الأديان والأبدان والأعراض.
581;دیث میں اُن مسلمانوں کے خون کی حرمت کا اشارہ ہے جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جن سے نواقضِ اسلام میں سے کسی بھی ایسی بات کا ظہور نہیں ہوتا جو شہادتین کے برخلاف ہو۔ کیونکہ شارع حکیم (اللہ تعالی) نے جان کے تحفظ کو بہت اہمیت دی ہے اور اپنی شریعت کو اس کا پاسبان اور محافظ بنایا ہے اور اُس نے شرک باللہ کے بعد کسی بھی ایسی جان کے قتل کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہو ۔ اس حدیث میں شارع نے ہر اس مسلمان کے قتل کو حرام قرار دیا جو شہادتین کا اقرار کرتا ہو سوائے اس کے کہ وہ تین میں سے کسی ایک با ت کا مرتکب ہو:
اول: وہ زنا کرے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسے شادی کی نعمت سے نوازا ہو اور صحیح نکاح کے ذریعے اس کی شرمگاہ کو عفت بخشی ہو۔
دوم: زیادتی اور ظلم کا ارتکاب کرتے ہوئے وہ کسی معصوم جان پر دست دراز ہو کر اسے قتل کر دے۔ ایسے شخص کے حق میں عدل و مساوات کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو اس نے کیا تاکہ حق قائم ہو اور ظالم لوگوں کو سرکشی سے باز رکھا جا سکے۔
سوم: جو اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے نکل پڑے بایں طور کہ ان پر ڈاکہ زنی کرے، انہیں دہشت زدہ کرے، ان کا مال ان سے چھینے اور ان میں فساد برپا کرے۔اس طرح کے شخص کو یا تو قتل کر دیا جائے گا یا سولی پرچڑھا دیا جائے گا یا پھر جلا وطن کر دیا جائے گا تا کہ لوگ اس کے شر اور ظلم و زیادتی سے نجات پا سکیں۔
یہ وہ تین لوگ ہیں جنہیں قتل کر دیا جائے گا کیونکہ ان کے قتل کرنے میں دین و جان اور عزت و ناموس کی سلامتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58194

 
 
Hadith   2019   الحديث
الأهمية: سئل علي -رضي الله عنه-: هل عندكم شيء من الوحي إلا ما في كتاب الله؟ قال: لا والذي فلق الحبة، وبرأ النسمة، ما أعلمه إلا فهمًا يعطيه الله رجلا في القرآن، وما في هذه الصحيفة


Tema:

علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کے پاس قرآن کے علاوہ کچھ اور وحی بھی ہے؟ علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس اللہ کی قسم جس نے بیج کو اگایا اور انسانی جان کو پیدا فرمایا! میرے علم میں تو کوئی ایسی شے نہیں سوائے قرآن کی اس سمجھ بوجھ کے جو اللہ کسی شخص کو عنایت فرماتا دیتا ہے اور سوائے ان باتوں کے جو اس صحیفے میں ہیں۔

عن أبي جحيفة -رضي الله عنه- قال: قلت لعلي -رضي الله عنه-: هل عندكم شيء من الوحي إلا ما في كتاب الله؟ قال: «لا والذي فَلَقَ الحَبَّةَ، وبَرَأَ النَّسْمَةَ، ما أعلمه إلا فَهْمَاً يُعطيه الله رجلا في القرآن، وما في هذه الصحيفة»، قلت: وما في الصحيفة؟ قال: «العَقْلُ، وفِكَاكُ الأَسير، وأن لا يُقتَلَ مسلم بكافر».

ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس قرآن کے علاوہ کچھ اور وحی بھی ہے؟ علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس اللہ کی قسم جس نے بیج کو اگایا اور انسانی جان کو پیدا فرمایا! میرے علم میں تو کوئی ایسی شے نہیں سوائے اُس فہمِ قرآن کے جو اللہ کسی شخص کو عنایت فرماتا دیتا ہے اور سوائے ان باتوں کے جو اس صحیفے میں ہیں۔ میں نے پوچھا: صحیفے میں کیا ہے؟۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس میں دیت اور قیدیوں سے متعلق احکام ہیں اور یہ کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سأل أبوجحيفة -رضي الله عنه- عليًّا -رضي الله عنه-: هل خصكم النبي -صلى الله عليه وسلم- بعلم أو شيء مكتوب عندكم دون غيركم من الناس، وإنما سأله أبو جحيفة عن ذلك لأن جماعة من الشيعة كانوا يزعمون أن عند أهل البيت لا سيما عليًّا أشياء من الوحي خصهم النبي -صلى الله عليه وسلم- بها لم يطلع غيرهم عليها، وقد سأل عليًّا عن هذه المسألة غير واحد، فأجابه علي -رضي الله عنه- حالفًا يمينًا كانت تحلفه العرب، وهو الحلف بالله الذي خلق الإنسان وشق الحب، بأنه ليس عندهم شيء غير الفهم الذي يؤتيه الله عبده، غير كتاب كتبه عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فيه أحكام الديات وتخليص أسرى المسلمين من الأسر، وأن لا يقتل مسلم بكافر، وذلك لأن الكافر ليس كفؤاً للمسلم ليقتل به، بل هو دونه.
575;بو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ نے آپ کو بطورِ خاص کوئی ایسا علم یا تحریر دی ہے جو دوسرے لوگوں کو نہ دی ہو؟۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال اس لیے کیا کیونکہ شیعوں کے ایک گروہ کا یہ گمان تھا کہ اہلِ بیت اور خصوصاً علی رضی اللہ عنہ کے پاس وحی پر مشتمل کچھ ایسی چیزیں ہیں جو نبی ﷺ نے بطورِ خاص انہی کو عنایت فرمائی تھیں اور کسی اور کو اس کا علم نہیں۔ علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ایک سے زیادہ لوگوں نے کیا۔ اس پر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک ایسی قسم کھا کر جواب دیا جو عرب لوگ کھایا کرتے تھے کہ اس اللہ کی قسم جس نے انسان کو پیدا فرمایا اور بیج کو پھاڑ کر اگایا! ان کے پاس سوائے اس (قرآنی ) سمجھ بوجھ کے جو اللہ اپنے بندے کو عنایت فرما دیتا ہے اور سوائے اس نوشتہ کے کچھ بھی نہیں جس میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے منقول کچھ باتیں لکھ رکھی تھیں، جس میں دیت اور مسلمان قیدیوں کو قید سے نجات دلانے سے متعلق احکام مندرج تھیں اور یہ لکھا ہوا تھا کہ مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ کافر مسلمان کا ہم پلہ نہیں ہوتا ہے کہ اُس کے بدلے میں اِسے قتل کردیا جائے بلکہ وہ اِس سے کم تر ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58197

 
 
Hadith   2020   الحديث
الأهمية: أمر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- من كان به جرحٌ أن لا يستقيد حتى تبرأ جراحته، فإذا برئت جراحته استقاد


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جس کو بھی کوئی زخم آئے تو وہ اس وقت تک قصاص نہ لے جب تک اس کا زخم ٹھیک نہیں ہو جاتا۔ جب زخم ٹھیک ہو جائے تو اپنا بدلہ لے لے۔

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قضى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في رجل طعن رجلًا بِقَرْنٍ في رِجْلِهِ، فقال: يا رسول الله، أَقِدْنِي، فقال له رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا تعجل حتى يبرأ جرحك"، قال: فأبى الرجل إلا أن يَسْتَقِيدَ، فَأَقَادَهُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- منه، قال: فَعَرَجَ المُستَقيدُ، وبَرأ المُستقادُ منه، فأتى المُستَقِيدُ إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقال له: يا رسول الله، عَرَجْتُ، وبَرَأَ صاحبي؟ فقال له رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ألم آمرك ألا تستقيد، حتى يبرأ جرحك؟ فعصيتني فأبعدك الله، وبطل جرحك" ثم أمر رسول الله -صلى الله عليه وسلم، بعد الرجل الذي عرج- من كان به جرحٌ أن لا يستقيد حتى تبرأ جراحته، فإذا برئت جراحته استقاد.

عمرو بن شعیب اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک آدمی کے بارے میں فیصلہ کیا جس نے کسی شخص کو پاؤں پر کسی سینگ سے مارا تھا۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول(ﷺ)! مجھے قصاص چاہیے۔ رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا کہ جلدی نہ کرو پہلے اپنا زخم ٹھیک ہو لینے دو۔ اس نے انکار کیا اور قصاص کا مطالبہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو بدلہ دلوا دیا۔ بدلہ لینے والا اس پر چڑھا اور اپنا بدلہ پورا کر لیاپھر یہ قصاص لینے والا رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! میں لنگڑا ہو گیا اور میرا ساتھی ٹھیک ہو گیا؟رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اس وقت تک بدلہ نہ لو جب تک تمہارا زخم ٹھیک نہیں ہو جاتا؟ تم نے میری نافرمانی کی اللہ نے تجھے دور کر دیا اور تیرے زخم کو بگاڑ دیا۔اس آدمی کے بعد جو لنگڑا ہو گیا تھا، رسول اللہﷺ نے یہ حکم فرمایا کہ جس کو بھی کوئی زخم آئے تو وہ اس وقت تک قصاص نہ لے جب تک اس کا زخم ٹھیک نہیں ہو جاتا۔ جب زخم ٹھیک ہو جائے تو اپنا بدلہ لے لے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد هذا الحديث أن رجلًا ضرب آخر بقرن وهو العظم الذي يكون في رأس الدواب، فطلب من النبي -عليه الصلاة والسلام- إقامة القصاص على من ضربه، فأمره النبي -عليه الصلاة والسلام- أن ينتظر إلى أن يبرأ؛ لأنه لا يُدرى هل تندمل هذه الجراح أو تسري على العضو أو تسري على النفس ويموت الإنسان، فأبى إلا تعجيل القصاص، فأقامه النبي -عليه الصلاة والسلام- على الجاني، ثم إن الجاني بريء بعد إقامة القصاص عليه وطالبُ القصاص أصابه العرج، فجاء شاكيا إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-، فبين له بأنك تعجلت ولم ترضَ بالتأخير فذهب حقك في الدية، ودعا عليه من باب الزجر له على استعجاله وعدم امتثاله أمرَ النبي -صلى الله عليه وسلم-، وأمر -عليه الصلاة والسلام- بتأخير إقامة القصاص بعد ذلك في الجروح إلى البرء.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اس حدیث میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو سینگ سے مارا اور سینگ وہ ہڈی ہوتی ہے جو چوپایوں کے سر میں ہوتی ہے۔ اس نے نبی کریمﷺ سے اُس مار کا قصاص طلب کیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کو زخم کے مندمل ہونے تک انتظار کرنے کو کہا کیونکہ کوئی پتہ نہیں تھا کہ یہ زخم مندمل ہوتا ہے یا نہیں، یا عضو پر اثر انداز ہو جائے یا اس کی جان پر اثر انداز ہو جائے اور انسان مر جائے۔اس نے انکار کیا اور قصاص میں جلدی کی۔ رسول اللہﷺ نے مجرم پر حد قائم کروا دی۔ مجرم قصاص کے بعد ٹھیک ہو گیا جب کہ قصاص کا مطالبہ کرنے والا لنگڑا ہو گیا۔ وہ رسول اللہﷺ کے پاس شکایت لے کر آیا تو رسول اللہﷺ نے وضاحت کی کہ تو نے قصاص میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا اور تاخیر پر راضی نہیں ہوا تھا، اس لیے تیری جو دیت بنتی تھی وہ حق تو نے وصول کر لیا۔ اس کی جلد بازی اور نبی کریمﷺ کے حکم کی نافرمانی پر آپ ﷺ نے اس کو ڈانٹتے ہوئے اس بات پر زور دیا اور زخم کے ٹھیک ہونے تک قصاص لینے میں تاخیر کا حکم دیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58200

 
 
Hadith   2021   الحديث
الأهمية: إن من عباد الله من لو أقسم على الله لأبره


Tema:

کچھ اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کرقسم کھائیں تو اللہ ان کی قسم پوری کردیتا۔

عن أنس أن الرُّبَيِّعَ عمته كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جارية، فطلبوا إليها العفو فأبوا، فعرضوا الأرْشَ فأبَوْا، فأتوا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وأبوا إلا القصِاَصَ فأمر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بالقصاص، فقال أنس بن النضر: يا رسول الله أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ؟ لا والذي بعثك بالحق لا تُكسر ثنيتها. فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «يا أنسُ، كتابُ اللهِ القصاصُ». فرضي القومُ فَعَفَوْا، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إن من عباد الله من لو أقسم على الله لأبَرَّهُ».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی پھوپھی رُبَیِّع نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دیے، پھر اس لڑکی سے لوگوں نے معافی کی درخواست کی لیکن انہوں نے معافی سے انکار کر دیا ۔انہوں نے دیت کی پیشکش کی، انہوں نے اسے بھی ٹھکرا دیا اور رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قصاص کے سوا کسی دوسری چیز پر راضی نہیں تھے۔چنانچہ آپ ﷺ نے قصاص کا حکم دے دیا۔ اس پر انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا ربیع رضی اللہ عنہاکے دانت توڑ دیے جائیں گے؟ نہیں ، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، ان کے دانت نہیں توڑے جائیں گے! اس پر حضور ﷺ نے فرما یا ، انس ! کتابُ اللہ کا حکم قصاص کا ہی ہے۔ پھر لڑکی والے راضی ہوگئے اور انھوں نے معاف کردیا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کچھ اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کر قسم کھائیں تو اللہ ان کی قسم پوری کر ہی دیتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد الحديث أنَّ الربيع -رضي الله عنها- كسرت بعض مقدم أسنان جارية من الأنصار فأراد النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يقيم عليها القصاص، وهو أن تكسر ثنيتها، فقام أنس بن النضر-وهو أخوها- فسأل مُستفهمًا وليس منكرا لحكم الله، وحلف ألا تكسر ثنيتها -رضي الله عنها- إحسانًا للظن بالله -تعالى-، فذكره النبي -عليه الصلاة والسلام- بأن حكم الله قاضٍ بالقصاص، فلما رأى القوم ذلك رضوا بالدية وعفوا عن القصاص، فحينذاك أخبر -عليه الصلاة والسلام- أن من عباد الله من لو أقسم يمينًا لأتمها الله له، لصلاحه وثقته بالله -تعالى-.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اس حدیث میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ رُبَیِّع رضی اللہ عنہا نے انصار میں سے کسی بچی کے سامنے والے کچھ دانت توڑ دیے۔ رسولُ اللہ ﷺ نے ان پر قصاص لاگو کرنے کا ارادہ فرمایا اور وہ یہ تھا کہ ان کے بھی دانت توڑے جائیں۔ تو انس بن نضر رضی اللہ عنہ (جو کہ ان کے بھائی تھے) نے بطور استفہام نہ کہ اللہ کے حکم کا انکار کرتے ہوئے آپ ﷺ سے پوچھا۔ اور اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن رکھتے ہوئے یہ قسم اٹھائی کہ ان (رضی اللہ عنہا) کے دانت نہیں توڑے جائیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں بتایا کہ اللہ کا فیصلہ قصاص کے ساتھ مکمل ہو گا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ وہ دِیت دینے کے لیے راضی ہیں تو انہوں نے قصاص معاف کر دیا۔ اُس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھائیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کی درستگی اور اللہ سے امید کی مضبوطی کی وجہ اس کو مکمل کر دیتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58201

 
 
Hadith   2022   الحديث
الأهمية: مَن قُتِل في عِمِّيَّا، أو رِمِّيَّا يكون بينهم بحجر، أو بسوط، فعقله عقل خطإ، ومن قتل عمدا فقود يديه، فمن حال بينه وبينه فعليه لعنة الله، والملائكة والناس أجمعين


Tema:

جو شخص کسی اندھا دھند لڑائی جھگڑے میں مارا جائے ( اور قاتل دیکھا نہ گیا ہو) کہ ان کی آپس میں سنگباری ہوئی ہو یا ڈنڈے بازی ہوئی ہو تو اس کی دیّت قتلِ خطا والی ہو گی ۔ اور جو عمداً جان بوجھ کر قتل کیا گیا ہو تو اس میں قاتل کی جان سے قصاص ہے اور جو کوئی اس ( قصاص لینے) میں آڑے آئے تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔

عن ابن عباس، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «من قُتِلَ في عِمِّيّا، أو رِمِّيَاً يكون بينهم بحَجَرٍ، أو بِسَوْطٍ، فَعَقْلُهُ عَقْلُ خطإ، ومن قَتَلَ عَمْدَاً فَقَوَدُ يَدَيْهِ، فمن حَالَ بينه وبينه فعليه لعنة الله، والملائكة والناس أجمعين».

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”جو شخص کسی اندھا دھند لڑائی جھگڑے میں مارا جائے (اور قاتل دیکھا نہ گیا ہو) کہ ان کی آپس میں سنگباری ہوئی ہو یا ڈنڈے بازی ہوئی ہو تو اس کی دیّت قتلِ خطا والی ہو گی۔ اور جو عمداً جان بوجھ کر قتل کیا گیا ہو تو اس میں قصاص جان کے بدلے جان کی ہوگی اور جو کوئی اس (قصاص لینے) میں آڑے آئے تو اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد الحديث أن كل شخص قُتل بين قوم كانوا يترامون فيما بينهم أو في حالة غير مبينة و سبب غامض كالزحام ثم جهل قاتله فإنه يجعل قتله قتل خطأ وتكون ديته دية خطأ على بيت مال المسلمين، ومن قَتَل -بالبناء للفاعل- عمدا فقود يده أي فعليه قود نفسه، أو فحكم قتله قود نفسه، وعبر باليد عن النفس مجازا، أو المعنى: فعليه قود عمل يده الذي هو القتل، فأضيف القود إلى اليد مجازا، فمن حال بين القاتل  بين القود بمنع أولياء المقتول عن قتله، بعد طلبهم ذلك، فقد عرض نفسه للعنة الله فلا يقبل الله منه توبة ولا فرضاً ولا نفلا لعظيم جرمه.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اگر کوئی باہمی دھکم پیل، یا کسی غیر مبینہ حالت کی وجہ سے، یا کسی اور خفیہ سبب جیسے ہجوم وغیرہ کی وجہ سے مارا جائے اور اس کے قاتل کی نشاندہی نہ ہو سکے تو اس کو قتلِ خطا پر منحصر کیا جائے گا اور اس کی قتلِ خطا والی دیت مسلمانوں کے بیت المال سے ادا کی جائے گی۔ اور جس کو عمداً (قاتل کی نشاندہی کے ساتھ) قتل کیا گیا ہو تو اس کے ہاتھوں کو سزا دی جائے گی۔ یعنی اس کو جان سے مار کر قصاص لیا جائے گا یا اس کے قتل کا فیصلہ اس کی جان کو قصاص بنایا جائے گا۔ ہاتھ کی تعبیر جان سے مجازی طور پر کی گئی ہے۔ یا پھر اس کا یہ معنی بھی ہے کہ اس کے ہاتھ نے جو کام کیا ہے اس کی سزا ملے گی اور وہ قتل ہے بایں معنی قود (سزا) کی اضافت ید (ہاتھ) کی طرف مجازی طور پر کی گئی ہے۔ اور جو شخص قاتل اور سزا کے درمیان حائل ہو جب کہ مقتول کے ورثاء اس سے قصاص کے خواہش مند ہوں تو مانو اس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی لعنت کے لیے پیش کر دیا ہے۔ اس کے اس قبیح جرم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی نہ توبہ قبول کرتا ہےاور نہ ہی اس کا کوئی فرض اور نفل قبول کرتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58202

 
 
Hadith   2023   الحديث
الأهمية: من قتل مؤمنا متعمدًا دفع إلى أولياء المقتول، فإن شاءوا قتلوا، وإن شاءوا أخذوا  الدية، وهي ثلاثون حقة، وثلاثون جذعة، وأربعون خلفة، وما صالحوا عليه فهو لهم


Tema:

جس نے کسی مومن کوجان بوجھ کرقتل کیا اسے مقتول کے وارثوں کے حوالے کیا جائے گا، اگروہ چاہیں تو اسے قتل کردیں اورچاہیں تو اس سے دیت لیں، دیت کی مقدارتیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس خلفہ ہے اور جس چیز پر وارث مصالحت کرلیں وہ ان کے لیے ہے۔

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «مَنْ قَتَل مؤمِنا متعمِّدًا دُفِعَ إلى أولياء المَقْتول، فإنْ شاءوا قَتَلوا، وإنْ شاءوا أَخَذوا  الدِّيَة، وهي ثلاثون حِقَّة، وثلاثون جَذَعَة، وأَرْبعون خَلِفَة، وما صالحوا عليه فهو لهم، وذلك لتَشْدِيد العَقْل».

عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن کوجان بوجھ کرقتل کیا اسے مقتول کے وارثوں کے حوالے کیا جائے گا، اگروہ چاہیں تو اسے قتل کردیں اور چاہیں تو اس سے دیت لیں، دیت کی مقدار تیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس خلفہ ہے اور جس چیز پر وارث مصالحت کرلیں وہ ان کے لیے ہے اور یہ دیت کے سلسلہ میں سختی کی وجہ سے ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث يبين الأحكام المترتبة على قتل المؤمن عمدًا، وقد وضح أن أولياء المقتول من ورثته بالخيار بين أن يطالبوا بالقصاص فيقتله الحاكم جزاء من جنس عمله, وبين أن يرضوا بالدية المذكورة في الحديث, وهي ثلاثون حقة وثلاثون جذعة وأربعون ناقةً حاملًا في بطونها أولادها, كما جاء في الحديث أن لأولياء المقتول أن يأخذوا ما زاد على ذلك مما تصالحوا عليه, ثم بيَّن أن هذه الدية -وهي دية القتل العمد- دية مغلظة مشددة لما فيها من العمد, والقصد إلى القتل.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
یہ حدیث ان احکام کو بیان کر رہی ہے جو کسی مومن کو عمداً قتل کرنے کی وجہ سے لاگو ہوتے ہیں۔اس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ مقتول کے ورثاء کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قصاص کا مطالبہ کریں تو حاکم اس کو قتل کرے گا اور یہ اس کے عمل کی جنس کے حساب سے اس کی سزا ہو گی۔ یہاں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر وہ حدیث میں مذکور دیت پر راضی ہو جائیں (تو اس کے مطابق فیصلہ ہو گا)اور وہ دیت تیس حقہ،تیس جذعہ اور تیس حاملہ اونٹیاں ہوں گی کہ جن کے پیٹوں میں بچے موجود ہوں۔ اسی طرح حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ اگر مقتول کے ورثاء اس سے زائد کسی چیز کے ساتھ مصالحت پر راضی ہوں تو لے سکتے ہیں۔ اس حدیث میں جو دیت بیان کی گئی ہے (قتل عمد کی دیت) یہ انتہائی سخت دیت ہے کیونکہ اس میں قتل کی نیت اور ارادہ پایا جاتا ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58208

 
 
Hadith   2024   الحديث
الأهمية: إن أعتى الناس على الله -عز وجل- من قتل في حرم الله، أو قتل غير قاتله، أو قتل بذحول الجاهلية


Tema:

اللہ کے نزدیک سب سے سرکش وہ ہے, جواللہ کے حرم کے اندر قتل کرے, یا جو اپنے قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے یا جو زمانۂ جاہلیت کی عداوت وانتقام کی بنا پر قتل کرے

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-:"إن أعتى الناس على الله ثلاثة: من قَتَلَ فِي حَرَمِ اللهِ، أَوْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ، أَوْ قَتَلَ بِذُحُولِ الجاهلية".

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اللہ کے نزدیک سب سے سرکش وہ ہے, جواللہ کے حرم کے اندر قتل کرے, یا جو اپنے قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے یا جو زمانۂ جاہلیت کی عداوت وانتقام کی بنا پر قتل کرے"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر عبد الله بن عمرو أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أخبر بأن أشد الناس تمردًا وتجبرًا عند الله بالنسبة للقتل ثلاثة:
الأول: من قتل نفسًا محرمةً في حرم الله الآمن، والمقصود به مكة؛ لأن قتل النفس التي حرم الله أعظم الذنوب بعد الشرك، وهي في حرم الله أشد حرمة، وأعظم إثما؛ لقوله -تعالى-: {ومن  يُرِدْ فيه بإلحاد بظلم  نُذِقْهُ من عذاب أليم } [الحج].
وقد صح عنه -صلى الله عليه وسلم- قوله: "إن دماءكم، وأعراضكم، وأموالكم عليكم حرام، كحرمة شهركم هذا، في بلدكم هذا" [رواه مسلم (1218)].
الثاني: من قتل غير قاتله، قال تعالى: {ولا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أخرى} [الأنعام: 164].
وذلك بأن يقتل شخصًا آخر غير قاتله، أو يقتل معه غيره.
وكان الإسراف في القتل بهذه الأمور الثلاثة عادة جاهلية نهى الله -تعالى- عنها.
الثالثة: القتل من أجل عداوات الجاهلية وثاراتها التي قضى عليها الإسلام وأبطلها.
لكن استثنى العلماء من قتل دفاعًا عن نفسه؛ إن لم يندفع بغير القتل، وقتل من جنى في الحرم جناية تحل قتله كالقاتل عمدًا، حتى لا يكون الحرم ذريعة للجرائم.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عبد اللہ بن عمرو بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے کہ قتل کے معاملے میں اللہ کے نزدیک سب سے سرکش لوگ تین ہیں:
پہلا وہ جس نے اللہ کے پر امن حرم یعنی مکہ کے اندر کسی کو ناحق قتل کر دیا۔ کیونکہ کسی کو ناحق قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے اور قتل کی واردات جب حرم کے اندر ہو، تو اس کی حرمت اور گناہ اور بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : {ومن يُرِدْ فيه بإلحاد بظلم نُذِقْهُ من عذاب أليم } [الحج، آیت نمبر:25] یعنی جو بھی وہاں ظلم کے ساتھ الحاد کا ارادہ کرے گا، ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے۔
ساتھ ہی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث میں ہے : "بے شک تمھارا خون، تمھاری عزت و آبرو اور تمھارے اموال تمھارے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح تمھارے اس شہر میں تمھارا یہ مہینہ قابل احترام ہے"۔ [اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ حدیث نمبر : 1218]
دوسرا وہ آدمی، جو اپنے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کر دے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : {ولا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أخرى} [الأنعام: 164] یعنی کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ آدمی اپنے قاتل کو علاوہ کسی اور کا قتل کر دے یا اس کے ساتھ کسی اور کو بھی مار دے۔
دراصل ان تین وجوہات کی بنا پر کسی کا خون بہا دینا دور جاہلیت کی عادت تھی، جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔
تیسرا وہ آدمی، جو دور جاہلیت کی عداوتوں اور انتقاموں کی وجہ سے، جن کو اسلام نے کالعدم قرار دے دیا ہے، قتل کرے۔
لیکن علما نے دو لوگوں کو اس سے مستثنی قرار دیا ہے۔ ایک وہ شخص جو اپنے بچاو میں کسی کا قتل کر دے، جب قتل کے علاوہ کوئی صورت نہ بچی ہو اور دوسرا وہ شخص جو حرم کے اندر کوئی جرم کرے، جس سے اس کا قتل مباح ہو جائے، جیسے قتل عمد وغیرہ۔ ایسا اس لیے، تاکہ حرم جرائم کا ذریعہ نہ بن جائے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58209

 
 
Hadith   2025   الحديث
الأهمية: ألا إن كل مأثرة كانت في الجاهلية من دم أو مال تذكر وتدعى تحت قدمي، إلا ما كان من سقاية الحاج، وسدانة البيت


Tema:

خون و مال سے متعلق جاہلیت کی تمام قابل ذکر و بیان اقدار میرے پاؤں تلے ہیں سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اورخانۂ کعبہ کی دربانی کے۔

عن عبد الله بن عمرو -رضي الله عنهما- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- خطب يوم الفتح فقال: «ألا إن كل مَأْثُرَة كانت في الجاهلية من دم أو مال تُذْكَرُ وَتُدْعَى تحت قدمي، إلا ما كان من سِقَايَةِ الحاج، وسِدَانَة البيت» ثم قال: «ألا إن دِيَةَ الخطإ شِبْه العمد ما كان بالسَّوْطِ والعَصَا مِائة من الإبل: منها أربعون في بُطُونِهَا أولادُهَا».

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا: ”خون و مال سے متعلق جاہلیت کی تمام قابل ذکر و بیان اقدار میرے پاؤں تلے ہیں سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اورخانۂ کعبہ کی دربانی کے"۔ اس کے بعدآپ ﷺ نےفرمایا کہ " آگاہ ہو جاؤ کہ قتلِ خطا کی دیت قتلِ عمد کی سی ہےجو کہ کوڑے یا لاٹھی سے واقع ہو۔ اس کی دیت سو اونٹ ہیں جن میں سے چالیس اونٹنیاں ایسی ہونی چاہیے جن کے پیٹ میں ان کے بچے ہوں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر رسول الله -رسول الله صلى الله عليه وسلم- في خطبة يوم الفتح بأن كل ما يؤثر ويذكر من مكارم أهل الجاهلية ومفاخرهم باطل وساقط إلا ما كان من سقاية الحاج وخدمه البيت الحرام والقيام بأمره، أي فهما باقيان على ما كانا.
وكانت الحجابة في الجاهلية في بني عبد الدار والسقاية في بني هاشم فأقرهم رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.
ثم ذكر أن القتل شبه العمد وهو أن يقصد الضرب بآلة لا تقتل غالبا كالسوط والعصا ديته مغلظة، وهي مائة من الإبل، أربعون منها حوامل.
601;تحِ مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے آگاہ کیا کہ اہل جاہلیت کی تمام قابل ذکر و بیان فخریہ باتیں باطل و ساقط ہیں ماسوا حاجیوں کو پانے پلانے اور بیت اللہ کی خدمت اور اس کی دیکھ بھال کے۔ یعنی یہ دونوں ویسے ہی باقی ہیں جیسے تھیں۔
زمانۂ جاہلیت میں بیت اللہ کی دیکھ بھال بنو عبد الدار کے پاس تھی اور حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری بنو ہاشم کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس پر باقی رکھا۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ قتلِ شبہ عمد کی دیت بھی دیتِ مغلظہ ہے جو کہ سو اونٹ ہوتی ہے جن میں سے چالیس حاملہ ہوتے ہیں۔ قتلِ شبہ عمد سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی ایسے آلے سے مارے جس سے عموماً قتل واقع نہ ہوتا ہو جیسے کوڑا اور لاٹھی (اور اس طرح سے مارنے سے آدمی مر جائے)۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58210

 
 
Hadith   2026   الحديث
الأهمية: هذه وهذه سواء، يعني الخنصر والإبهام


Tema:

یہ اور یہ برابر ہیں، یعنی چھنگلی اور انگوٹھا۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «هذه وهذه سواءٌ». يعني: الْخِنْصَر وَالْإِبْهَام.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ اور یہ (دیت میں) برابر ہیں“ یعنی چھنگلی اور انگوٹھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اليدان فيهما عشرة أصابع، كل أصبع إذا قطعها الجاني ففيها عُشر الدية من الإبل، لا فرق بينها في ذلك، فالخنصر الصغير الذي في طرف الكف، والإبهام الكبير الذي عليه الاعتماد في القبض، والبطش وغير ذلك، كلاهما على حد سواء في قدر الدية، ومجموع الأصابع العشرة في اليدين فيها الدية كاملة.
والرجلان مثل اليدين والأصابع، وإن اختلفت، فكل واحد منها يؤدي دورًا لا يقوم به الأصبع الآخر، ولكن ديتها سواء، والله حكيم خبير.
583;ونوں ہاتھوں میں دس انگلیاں ہوتی ہیں۔ کسی کی انگلی کو اگر کوئی مجرم کاٹ دے، تو اس کی دیت کامل دیت کا دسواں حصہ (دس اونٹ) ہے۔ اس سلسلے میں انگلیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ پس چھوٹی چھنگلی جو ہتھیلی کے بغل میں ہوتی ہے اور انگوٹھا جس کا مٹھی باندھنے اور پکڑنے وغیرہ میں اہم کردار ہوتا ہے، دونوں دیت کی مقدار میں برابر ہیں اور دونوں ہاتھوں کی مجموعی دسوں انگلیوں پر کامل دیت (سو اونٹ) ادا کرنی ہوگی۔
اور دونوں پیر، دونوں ہاتھوں اور انگلیوں کی طرح ہیں۔ گرچہ ان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ چنانچہ ہر انگلی کا اپنا الگ کردار ہے، جو دوسری سے ادا نہیں ہو سکتا۔ لیکن سب کی دیت برابر ہے۔ سچ مچ اللہ حکیم و خبیر ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58211

 
 
Hadith   2027   الحديث
الأهمية: من تطبب، ولا يعلم منه طب، فهو ضامن


Tema:

جس نے طبیب ہونے کا دعوی کیا حالانکہ وہ طب کے بارے میں کچھ نہ جانتا تھا تو وہ (نقصان کی صورت میں) تاوان بھرے گا۔

عن عبد الله بن عمرو -رضي الله عنهما- قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ تَطَبَّبَ، ولا يُعْلَمُ مِنْهُ طِبٌّ، فهو ضامِنٌ»

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”جس نے طبیب ہونے کا دعوی کیا حالانکہ وہ طب کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تو وہ (نقصان کی صورت میں) تاوان بھرے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من ادَّعى علم الطب، وليس بعالم فيه، ولا يحسنه، فغرَّ النَّاس، وعالجهم، فأتلف بعلاجه نفسًا، فما دونها من الأعضاء، فهو ضامن؛ لأنَّه متعدٍ، حيث غرَّ النَّاس، وأعدَّ نفسه لما لا يعرفه.
و لا يعلم خلاف في أنَّ المعالج إذا تعدى، فتلف المريض كان ضامنًا، وكذا المتعاطي علمًا أو عملًا لا يعرفه، فهو متعدٍّ، فإن تولد من فعله التلف ضمن الدية، وسقط عنه القود؛ لأنَّه لم يستبد بذلك دون إذن المريض.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جو شخص علمِ طب رکھنے کادعوی کرے حالانکہ وہ اس سے بالکل بھی واقف نہ ہو اور نہ ہی اسے اچھی طرح سرانجام دے سکتا ہو اور یوں وہ لوگوں کو دھوکا دیتے ہوئے ان کا علاج کرے اور اپنے علاج کی وجہ سے وہ کسی کی جان لے لے یا پھر کسی عضو وغیرہ کو تلف کر دے تو وہ تاوان بھرے گا کیونکہ اس نے زیادتی کی بایں طور کہ لوگوں کو دھوکا دیا اور اپنے آپ کو ایسے کام پر آمادہ جسے وہ جانتا ہی نہیں تھا۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ علاج کرنے والا جب زیادتی کا مرتکب ہو اور مریض کی جان لے لے تو اس صورت میں وہ تاوان بھرے گا۔ یہی حکم اس شخص کا بھی ہے جو کسی بھی ایسے علم و عمل میں منہمک ہوتا ہے جس کی وہ کچھ بھی شُدْ بُدْ نہیں رکھتا۔ یہ شخص بھی زیادتی کرنے والا ہے اور اگر اس کے اس فعل سے کچھ تلف ہو گیا تو وہ دیت کا ضامن ہو گا تاہم اس پر قصاص نہیں آئے گا کیونکہ اس نے مریض کی اجازت کے بغیر ایسا نہیں کیا۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58212

 
 
Hadith   2028   الحديث
الأهمية: دية المعاهد نصف دية الحر


Tema:

مُعاہِد کی دیت آزاد (مسلمان) کی دیت کا نصف ہے۔

عن عبد الله بن عمرو -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «دِيَة المُعَاهِدِ نصف دِيَة الحُرِّ».

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مُعاہِد کی دیت آزاد (مسلمان) کی دیت کا نصف ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- بأن دية الكتابي نصف دية الحر المسلم؛ سواء كان ذميًّا أقر على الإقامة بديار المسلمين بعقد الذِّمة ببذل مال الجزية والتزام أحكام الملة، أو معاهَدًا أجري معه صلح وهو مستقر ببلده، أو مستأمنًا وهوكافر دخل بلاد المسلمين بأمان لتجارة أوغيرها؛ لاشتراكهم في وجوب حقن الدم.
وجراحاتهم من دياتهم، كجراحات المسلمين من دياتهم؛ لأنَّ الجرح تابع للقت،. فالرجل منهم بخمسين من الإبل والمرأة منهم بخمس وعشرين؛ لأن المرأة على النصف من الرجل في الدية.   وأما الكافر الحربي فلا يضمن لا بقصاص أو دية.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اہلِ کتاب میں سے کسی فرد کی دیت آزاد مسلمان کی دیت کا نصف ہوتی ہے چاہے وہ ذمی ہو جسے عقدِ ذمہ کے تحت اس شرط پر مسلمانوں کےعلاقے میں رہنے کی اجازت دی گئی ہو کہ وہ جزیہ ادا کرے گا اور دینِ اسلام کے احکام کی پاسداری کرے گا یا پھر وہ معاہِدْ ہو جس کے ساتھ صلح طے پا گئی ہو اور وہ اپنے علاقے میں رہائش پذیر ہو یا پھر مستامن ہو یعنی ایسا کافر ہو جو مسلمانوں کے علاقے میں حصولِ امان کے بعد تجارت وغیرہ کے لیے آیا ہو کیونکہ اس بات میں یہ سب شریک ہیں کہ ان کی جان کی حفاظت واجب ہے۔
ان کے جراحات کی بھی دیت ہوتی ہے جس طرح مسلمانوں کی جراحات کی دیت ہوتی ہے۔ کیونکہ جرح (زخم) قتل کا تابع ہوتا ہے۔چنانچہ اہل کتاب میں سے مرد کی دیت پچاس اونٹ اور عورت کی دیت پچیس اونٹ ہوں گے کیونکہ عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہوتی ہے۔
جب کہ حربی کافر کی نہ تو قصاص کی شکل میں کوئی ضمانت ہے اور نہ ہی دیت کی شکل میں۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58213

 
 
Hadith   2029   الحديث
الأهمية: عقل شبه العمد مغلظ مثل عقل العمد، ولا يقتل صاحبه، وذلك أن يَنْزُوَ الشيطان بين الناس، فتكون دماءٌ في عِمِّيَّا في غير ضغينة، ولا حمل سلاح


Tema:

قتل شبہِ عمد کی دیت بھی اتنی ہی سخت ہے جتنی قتلِ عمد کی ہے تاہم قتلِ شبہ عمد کے مرتکب کو قتل نہیں کیا جائے گا ۔ قتل شبہِ عمد یہ ہے کہ شیطان لوگوں کے مابین در آئے اور (اس کے اکساوے میں آ کر) بنا کسی دشمنی اور اسلحہ اٹھائے انجانے میں ہی خون بہہ جائے۔

عبد الله بن عمرو -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «عَقْل شِبْهِ العمد مُغَلَّظٌ مِثْلُ عَقْلِ العَمْدِ، ولا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ، وذلك أَنْ يَنْزُوَ الشَّيْطَانُ بين الناس، فتكون دماء في عِمِّيَّا في غير ضَغِينَة، ولا حَمْلِ سلاح».

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”قتل شبہِ عمد کی دیت بھی اتنی ہی سخت ہے جتنی قتلِ عمد کی ہے تاہم قتلِ شبہِ عمد کے مرتکب کو قتل نہیں کیا جائے گا ۔ قتل شبہِ عمد یہ ہے کہ شیطان لوگوں کے مابین در آئے اور (اس کے اکساوے میں آ کر) بنا کسی دشمنی اور اسلحہ اٹھائے انجانے میں ہی خون بہہ جائے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث بيان أن دية القتل شبه العمد -وهو أن يقصد الضرب بما لا يقتل غالبا كالعصا- مغلظة كدية القتل العمد, ومقدارها مائة من الابل: ثلاثون  جَذَعة -وهي الناقة التي أتمت السنة الرابعة ودخلت في الخامسة-, وثلاثون حِقة -وهي الناقة التي استكملت السنة الثالثة، ودخلت في الرابعة-, وأربعون خلفة -أي حاملا-, ويأتي القتل شبه العمد غالبا من غير عداوة ولا ضغينة، ولا حمل سلاح، وإنما قد يغري الشيطان بوساوسه بين الناس بسبب مزاح أو لعب، فتحصل المضاربة والقتل الذي لم يقصد، فتتكوَّن الدماء بين الناس.
575;س حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ قتلِ شبہ عمد کی دیت بھی اتنی ہی سخت ہے جتنی قتلِ عمد کی ہے۔ قتلِ شبہ عمد یہ ہے کہ قاتل کسی ایسی شے سے مارے جس سے عام طور پر آدمی مرتا نہیں ہے جیسے لاٹھی ۔ اس دیت کی مقدار سو اونٹ ہیں جن میں تیس جذعہ ہوں گی، جذعہ سے مراد وہ اونٹنی ہے جو چار سال کی ہو اور پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہو، تیس حقہ ہوں گی، حقہ سے مراد وہ اونٹنی ہے جو تین سال کی ہو اور چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہو اور چالیس خلفہ یعنی حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔ قتلِ شبہ عمد عموماً بنا کسی دشمنی و عداوت اور بغیر اسلحہ اٹھائے ہوتا ہے۔شیطان اپنے وسوسوں کے ذریعے بسا اوقات لوگوں کے مابین ہنسی مذاق ہی میں لڑائی کرا دیتا ہے جس سے باہم مار پیٹ اور قتل واقع ہو جاتا ہے جس کا ارادہ بھی نہیں ہوتا اور یوں لوگوں کے مابین خوں ریزی ہو جاتی ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58215

 
 
Hadith   2030   الحديث
الأهمية: من خرج من الطاعة، وفارق الجماعة فمات، مات ميتة جاهلية، ومن قاتل تحت راية عمية يغضب لعصبة، أو يدعو إلى عصبة، أو ينصر عصبة، فقتل، فقتلة جاهلية


Tema:

جو (امیر کی) اطاعت سے نکل گیا اور اس نے (مسلمانوں کی) جماعت چھوڑ دی اور اسی حال میں مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ اور جو شخص کسی جھنڈے تلے اندھی تقلید میں لڑے یا تعصب کی بنا پر غصہ کرے یا تعصب کی دعوت دے یا مدد بھی کرے اور پھر قتل کر دیا جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «من خرج من الطاعة، وفارق الجماعة فمات، مات  مِيتَةً جاهلية، ومن قاتل تحت راية عِمِّيَّة يغضب لِعَصَبَة، أو يدعو إلى عَصَبَة، أو ينصر عَصَبَة، فقتل، فَقِتْلَة جاهلية، ومن خرج على أمتي، يضرب برها وفاجرها، ولا  يَتَحَاشَى من مؤمنها، ولا يفي لذي عهد عهده، فليس مني ولست منه»،

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو (امیر کی) اطاعت سے نکل گیا اور اس نے (مسلمانوں کی) جماعت چھوڑ دی اور اسی حال میں مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ اور جو شخص کسی جھنڈے تلے اندھی تقلید میں لڑے یا تعصب کی بنا پر غصہ کرے یا تعصب کی دعوت دے یا اس میں تعاون کرے اور پھر قتل کر دیا جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا اور جو شخص میری امت کے خلاف بغاوت کرے اور نیک و بد ہر کسی کا قتل کرے ، نہ تو کسی مومن سے ہاتھ روکے اور نہ کسی معاہد کے عہد کا پاس رکھے تو اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى هذا الحديث أن مَن فارق الجماعة الذين اتفقوا على طاعة إمام انتظم به شملهم واجتمعت به كلمتهم وحاطهم عن عدوهم وخرج عن طاعة ولي أمر المسلمين فمات وهو كذلك فقد مات كميتة أهل الجاهلية من حيث إنهم فوضى لا إمام لهم، ومن قاتل تحت راية أمرها أعمى لا يستبين وجهه، كتقاتل القوم للعصبية والقبلية، يغضب لعصبة أو يدعو إلى عصبة أو ينصر عصبة، ومعناها أنه يقاتل لشهوة نفسه وغضبة لها وعصبيةٍ لقومه وهواه.
ومن خرج على الأمة يضرب الصالح والفاسق، المؤمن والمعاهد المقيم بدياره، والذمي المقيم بديار المسلمين مقابل الجزية، ولا يكترث بما يفعله فيها ولا يخاف وباله وعقوبته؛ فقد تبرأ منه النبي -صلى الله عليه وسلم-.
575;س حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے ان لوگوں کی جماعت چھوڑ دی جو کسی ایسے حکمران پر متفق ہو چکے ہوں جس سے ان کی اجتماعیت اور وحدت وابستہ ہو، ان کا کلمہ جمع ہو اور وہ انہیں ان کے دشمنوں سے محفوظ رکھتا ہو، چنانچہ وہ شخص مسلمانوں کے ولی الامر (حکمراں) کی اطاعت سے نکل جائے اور اسی حال میں وہ مر جائے تو وہ اہل جاہلیت کی موت مرے گا کہ وہ بھی غیر منظم تھے اوران کا کوئی سربراہ نہیں تھا۔ جس نے کسی ایسے جھنڈے تلے جنگ کی جس کا مقصد اور وجہ اوجھل اور غیر واضح ہو مثلاً کوئی قوم تعصب اور قبائلی عصبیت میں لڑے یا کوئی شخص تعصب کی وجہ سے غضبناک ہو، عصبیت ہی کی دعوت دے اور تعصب کی بنا پر ہی مدد کرے یعنی اپنے نفس کی شہوت و غضب، اپنی قومی عصبیت اور ہوائے نفس کی پیروی میں لڑے۔
جو شخص امت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے ہر نیک و بد نیز مومن اور ہر اس معاہد کو جو اُس ملک میں مقیم ہو اسی طرح ان ذمیوں کو جو جزیہ کے بدلے میں مسلمانوں کے علاقے میں سکونت پذیر ہوں، سب کو مارنا شروع کر دے اور اسے کچھ پرواہ نہ ہو کہ وہ ان کے ساتھ کیا کر رہا ہے نہ ہی اسے اپنے کردہ افعال کے وبال اور ان کی سزا کا خوف ہو تو ایسے شخص سے نبی ﷺ نے برأت کا اظہار کیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58218

 
 
Hadith   2031   الحديث
الأهمية: من أتاكم وأمركم جميع على رجل واحد، يريد أن يشق عصاكم، أو يفرق جماعتكم، فاقتلوه


Tema:

جب تمہارا نظام (حکومت) ایک شخص کے ذمہ ہو پھر کوئی تمہارے اتحاد کی لاٹھی کو توڑنے یا تمہاری جماعت کو منتشر کرنے کے ارادے سے آئے تو اس کو قتل کر دو۔

عن عرفجة -رضي الله عنه- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "من أتاكم وأمرُكُم جَمِيْعٌ على رجل واحد، يُريد أن يَشُقَّ عَصَاكُم، أو يُفَرِّقَ جَمَاَعَتَكُم، فاقتُلُوهُ".

عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتےہوئے سنا: ”جب تمہارا نظام (حکومت) کسی شخص کے ذمہ ہو پھر کوئی تمہارے اتحاد کی لاٹھی کو توڑنے یا تمہاری جماعت کو منتشر کرنے کے ارادے سے آئے تو اس کو قتل کر دو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
مضمون هذا الحديث في قتال أهل البغي ومن يريد تفريق كلمة المسلمين بعد اجتماعهم وإذعانهم لحاكم، وقد أفاد أنَّ المسلمين إذا اجتمعوا على خليفة واحد ثم جاءهم من يريد أن يعزِلَ إمامَهم الذي اتفقُوا على إمامته وجب عليهم وضع حد له ولو بقتله؛ دفعًا لشره وحقنًا لدماء المسلمين.
575;س حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کا کسی حاکم کو اجتماعی طور پر تسلیم کرنے کے بعد کوئی باغی گروہ ان کے مابین تفریق پیدا کرنے کی کوشش کرے تو اس کے ساتھ قتال کیا جائے گا۔اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مسلمان جب کسی ایک خلیفہ پر مجتمع ہو جائیں پھر ان میں سے کوئی ایک مسلمانوں کے ذریعہ متفقہ طور پر منتخب خلیفہ کو معزول کرنے کی کوشش کرے تو اس پر حد لاگو کرنا واجب ہو گی، چاہے اس کو قتل ہی کیوں نہ کرنا پڑے تاکہ اس کے شر کو روکا اور مسلمانوں کے خون کا تحفظ کیا جا سکے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58223

 
 
Hadith   2032   الحديث
الأهمية: من قتل دون ماله فهو شهيد، ومن قتل دون أهله، أو دون دمه، أو دون دينه فهو شهيد


Tema:

جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے ۔ اور جو اپنے گھر والوں کی حفاظت یا خون یا دین کے دفاع میں قتل ہو جائے وہ بھی شہید ہے۔

عن سعيد بن زيد، عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «من قُتِلَ دُون مَالِهِ فهو شَهيدٌ، ومن قُتِلَ دُون أهْلِهِ، أو دُونَ دَمِهِ، أو دُون دِيْنِهِ فهو شَهيدٌ».

سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے ۔ اور جو اپنے گھر والوں کی حفاظت یا خون یا دین کے دفاع میں قتل ہو جائے وہ بھی شہید ہے“۔

أفاد الحديث أنَّ من تعرّض له لصٌ أو غاصب ٌوحاول أخْذَ ماله منه غصباً قوةً واقتداراً بغير حق شرعي، فإنّ عليه أن يقاتله دفاعاً عن ماله، فإن قُتِلَ في الدفاع عن ماله فهو شهيد في حكم الله -تعالى- وثوابه، وليس القصد أنه كشهيد المعركة لا يغسل، وكذلك من قُتل دفاعاً عن نفسه، أو دفاعا عن عرضه ممن أراد بامرأته ومحارمه سوءاً مما حرمه الله فدافع عنهم فله عند الله -تعالى- أجر الشهداء، وهذا الحديث أصل عند الفقهاء فيما يسمى دفع الصائل وهو المعتدي.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہےکہ اگر کسی شخص کو چور، لٹیرے یا ایسے شخص کاسامنا ہو جو اس سے اس کا مال بغیر شرعی حق کے قوت و اختیار کے ساتھ لینا یا غصب کرنا چاہتا ہو تو اس شخص پر ضروری ہے کہ وہ اپنے مال کے دفاع میں اس سے لڑائی کرے۔ اگر وہ اپنے مال کے دفاع میں مارا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس کی موت کا ثواب شہید کی موت کی طرح ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس شہید کی طرح ہے جو میدان جنگ میں ہوتا ہے، جس کو غسل نہیں دیا جائے گا۔ اسی طرح جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا، یا عزت کا دفاع کرتے ہوئے مارا گیا جو اس کی بیوی یا کسی بھی محرم کے ساتھ برائی کا ارادہ رکھتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے چنانچہ وہ شخص ان کی طرف سے دفاع کرتے ہوئے مارا جائے تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں شہید کے اجر جیسا ہو گا۔ فقہاء کے نزدیک یہ حدیث ظالم حملہ آور کا دفاع کرنے کے سلسلے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58224

 
 
Hadith   2033   الحديث
الأهمية: لا تعذبوا بعذاب الله


Tema:

تم لوگ اللہ کے عذاب کے ذریعے عذاب مت دو

عن عكرمة أن عليا -رضي الله عنه- حَرَّقَ قوما، فبلغ ابن عباس فقال: لو كنت أنا لم أُحَرِّقْهُم لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لا تُعَذِّبُوا بعذاب الله»، ولَقَتَلْتُهُم كما قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «من بَدَّلَ دِينَهُ فاقتلوه».

عکرمہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو جلا دیا۔ جب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس کی اطلاع ملی، تو فرمایا : اگر میں ہوتا، تو ان کو نہ جلاتا، کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "تم لوگ اللہ کے عذاب کے ذریعے عذاب مت دو"۔ بلکہ میں ان کو قتل کر دیتا، جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "جو اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد الحديث أن عليًّا -رضي الله عنه- حرق قومًا من الزنادقة ظهر منهم ارتداد عن دين الله، فبلغ ذلك ابن عباس -رضي الله عنهما-، فقال: لو كنت مكانه لما حرقتهم لما ورد من نهيه -عليه الصلاة والسلام- عن التحريق بالنار، وأن حكم من غير دينه بعد أن كان مسلمًا أن يقتل دون تحريق، ولا فرق في ذلك بين ذكر وأنثى.
575;س حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ زندیق جب اللہ کے دین سے پھر گئے، تو علی رضی اللہ عنہ نے ان کو جلا دیا۔ اس کی اطلاع عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی، تو فرمایا: اگر میں ان کی جگہ پر ہوتا، تو ان کو نہ جلاتا، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ سے جلانے سے منع کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ کہ جو مسلمان ہونے کے بعد اپنا دین بدل لے اس کی سزا اسے جلانا نہیں، بلکہ قتل کر دینا ہے اور اس میں مرد اور عورت کے بیچ کوئی فرق نہیں ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58227

 
 
Hadith   2034   الحديث
الأهمية: إن الله قد بعث محمدًا -صلى الله عليه وسلم- بالحق، وأنزل عليه الكتاب، فكان مما أنزل عليه آية الرجم، قرأناها ووعيناها وعقلناها، فرجم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ورجمنا بعده


Tema:

بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی۔ اللہ نے آپ پر جو نازل کیا اس میں رجم کی آیت بھی تھی، ہم نے اسے پڑھا، یاد کیا اور سمجھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے بھی رجم کی سزا دی اور آپ ﷺ کےبعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی۔

عن عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما- أن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- قال وهو جالس على منبر رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن الله قد بعث محمدًا -صلى الله عليه وسلم- بالحق، وأنزل عليه الكتاب، فكان مما أُنْزِلَ عليه آية الرجم، قَرَأْنَاَهَا وَوَعَيْنَاَهَا وعَقِلْنَاَهَا، فَرَجَمَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، ورجمنا بعده، فأخشى إن طال بالناس زمان أن يقول قائل: ما نجد الرجم في كتاب الله فَيَضِلُّوا بترك فريضة أنزلها الله، وإن الرجم في كتاب الله حَقٌّ على من زنى إذا أَحْصَنَ من الرجال والنساء، إذا قامت البينة، أو كان الحَبَلُ، أو الاعتراف".

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ رسول اللہ ﷺکے منبر پر تشریف فرما تھے بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی، اللہ نے آپ پر جو نازل کیا اس میں رجم کی آیت بھی تھی، ہم نے اسے پڑھا، یاد کیا اور سمجھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے بھی رجم کی سزا دی اور آپ ﷺکے بعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی، مجھے ڈر ہے کہ لوگوں پر ایک لمبا زمانہ گزر جائے گا تو کوئی کہنے والا کہے گا: ہم اللہ کی کتاب میں رجم (کا حکم) نہیں پاتے، تو وہ لوگ ایسے فرض کو چھوڑنے سے گمراہ ہو جائیں گے جسے اللہ نے نازل کیا ہے اور بلاشبہ اللہ کی کتاب میں رجم (کا حکم) عورتوں اور مردوں میں سے ہر ایک پرجس نے زنا کیا، جب وہ شادی شدہ ہو برحق ہے۔ (یہ سزا اس وقت دی جائے گی،) جب شہادت قائم ہو جائے یا حمل ٹھہر جائے یا (زانی کی طرف سے) اعتراف ہو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
صعد عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- المنبر وخطب الناس، فكان مما قاله إن الله بعث محمدًا -صلى الله عليه وسلم- بدين الحق وهو الإسلام، وأنزل عليه خير الكتب وهو القرآن، فكان مما نزل فيه آية الرجم لمن زنى وهو محصن، إلا أنه نسخ لفظها من القرآن وبقي حكمها، وخشي -رضي الله عنه- إن تقادم عهد الناس عن القرآن أن ينكروا حكمها فذكرهم بها، وأنها حق، فكل من زنى وهو محصن وحصل منه نكاح صحيح، أو حصل الإقرار بالزنى والاعتراف به، أو وجد الحمل بغير زوج أو سيد من المرأة وهي محصنة فعليها الرجم، فبهذه الأمور يثبت حد الرجم في حق من زنى.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو دینِ حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اور وہ اسلام ہے۔ آپ ﷺ پر بہترین کتاب نازل فرمائی اور وہ قرآن ہے جس میں آیت رجم بھی نازل کی گئی جو کہ شادی شدہ زانی کے لیے تھی، اس کے الفاظ کو قرآن میں سے منسوخ کر دیا گیا جب کہ اس حکم کو باقی رکھا گیا۔ ان کو یہ ڈر پیدا ہوا کہ بعد میں آنے والے لوگ قرآن کریم کے اس حکم کے منکر نہ ہو جائیں اس لیے اس کو بیان کر دیا ۔اور یہ بالکل برحق ہے کہ کوئی بھی شادی شدہ شخص جب زنا کرے اور اس کا نکاح صحیح ثابت ہو جائے یا وہ اپنے زنا کا اقرار یا اعتراف کر لے یا پھر بغیر شادی کے حمل وجود میں آ جائے یا پھر عورتوں کے معاملات کا کوئی ماہر یہ بتا دے کہ یہ شادی شدہ ہے تو اس کی سزا رجم ہے۔ یہ وہ امور ہیں جو زانی کے لیے رجم کی سزا کو ثابت کرتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58231

 
 
Hadith   2035   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- ضرب وغَرَّبَ، وأن أبا بكر ضرب وغَرَّبَ، وأن عمر ضرب وغَرَّبَ


Tema:

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کوڑے لگائے اور جلا وطن کیا، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کوڑے لگائے اور جلا وطن کیا اور عمر رضی اللہ عنہ نے کوڑے لگائے اور جلا وطن کیا

عن ابن عمر أن النبي -صلى الله عليه وسلم- ضَرَبَ وَغَرَّبَ، وأن أبا بكر ضَرَبَ وَغَرَّبَ، وأن عمر ضَرَبَ وَغَرَّبَ.

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کوڑے لگائے اور جلا وطن کیا، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کوڑے لگائے اور جلا وطن کیا اور عمر رضی اللہ عنہ نے کوڑے لگائے اور جلا وطن کیا

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث يخبر ابن عمر -رضي الله عنهما- أنَّ النبي -صلى الله عليه وسلم- أقام حدّ الزاني البكر بجلده مائة جلدة ونفيه عن بلده مدة سنة كاملة، وأن أبا بكر وعمر -رضي الله عنهما- فعلا ذلك، فدلَّ على أنَّ التغريب تابع للحدِّ وأنه من تمام الحدّ، وأنه غير منسوخ؛ لأنه طُبِّق بعد وفاة النبي -صلى الله عليه وسلم-.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اس حدیث میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر شادی شدہ زانی کو حد کے طور پر سو کوڑے لگائے اور پورے ایک سال تک کے لیے شہر بدر کردیا اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اسی پر عمل کیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ شہر بدری حد کے تابع ہے، اس کا ایک حصہ ہے اور منسوخ نہیں ہے، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ و علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی اس پر عمل ہوتا رہا ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58237

 
 
Hadith   2036   الحديث
الأهمية: لعن النبي -صلى الله عليه وسلم- المخنثين من الرجال، والمترجلات من النساء، وقال: «أخرجوهم من بيوتكم»


Tema:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے اور فرمایا ہے : "انھیں اپنے گھروں سے نکال دو"

عن ابن عباس، قال: لَعَنَ النَّبِيُّ -صلى الله عليه وسلم- المُخَنَّثِينَ من الرجال، والمُتَرَجِّلاَتِ من النساء، وقال: «أخرجوهم من بيوتكم» قال: فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ -صلى الله عليه وسلم- فلانًا، وأَخْرَجَ عُمَرُ فلانًا.

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم- نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے اور فرمایا ہے : "انھیں اپنے گھروں سے نکال دو"۔ وہ کہتے ہیں : چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو اور عمر رضی اللہ عنہ- نے فلاں کو نکال دیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث يخبر ابن عباس -رضي الله عنهما- أنَّ النبي -صلى الله عليه وسلم- دعا على المتشبهين من الرجال بالنساء، والمتشبهات من النساء بالرجال، دعا عليهم باللعنة والطرد من رحمة الله، وذلك لما فيه من تغيير لخلق الله، ثم أمر النبي -صلى الله عليه وسلم- بإخراجهم من المساكن والبلدات إبعاداً لشرهم عن الناس، ومحافظة على طهارة البيوت وعفتها.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اس حدیث میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں کے حق میں اللہ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کیے جانے کی بد دعا کی ہے۔ کیونکہ ان کا یہ رویہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی لانے کے اندر داخل ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شر سے لوگوں کو بچانے اور گھروں کی پاکیزگی اور عفت کے تحفظ کے لیے انھیں گھروں اور شہروں سے نکال باہر کرنے کا حکم دیا ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58238

 
 
Hadith   2037   الحديث
الأهمية: اجتنبوا هذه القاذورة التي نهى الله عنها، فمَنْ أَلَمَّ فليستتر بستر الله وليتب إلى الله فإنه من يبدلنا صفحته نقم عليه كتاب الله -عز وجل-


Tema:

اس بدکاری سے بچو، جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔ لیکن جس سے یہ گناہ سرزد ہو جائے، وہ اللہ کے پردے میں چھپ جائے اور اللہ کے سامنے توبہ کرے۔ کیونکہ جو ہمارے سامنے اپنے گناہ کو ظاہر کرے گا، ہم اس پر اللہ عز وجل کی کتاب میں مذکور حد جاری کريں گے

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قام بعد أن رَجَمَ الْأَسْلَمِيَّ فقال: «اجْتَنِبُوا هذه الْقَاذُورَةَ التي نهى الله عنها فمن أَلَمَّ فَلْيَسْتَتِرْ بِسِتْرِ الله وَلِيَتُبْ إلى الله فإنه من يُبْدِ لْنَا صَفْحَتَهُ نُقِمْ عليه كتاب الله -عز وجل-».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ کو رجم کرنے کے بعد کھڑے ہوئے اور فرمایا : "اس بدکاری سے بچو، جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔ لیکن جس سے یہ گناہ سرزد ہو جائے، وہ اللہ کے پردے میں چھپ جائے اور اللہ کے سامنے توبہ کرے۔ کیونکہ جو ہمارے سامنے اپنے گناہ کو ظاہر کرے گا، ہم اس پر اللہ عز وجل کی کتاب میں مذکور حد جاری کريں گے"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث يُخبر ابن عمر -رضي الله عنهما- أنَّ النبي -صلى الله عليه وسلم- قامَ بعد أن رجم ماعزَ بن مالك الأسلمي -رضي الله عنه- فخطب بالناس وحذرَّهم من الوقوع في هذه الفاحشة وهي الزنا، وأنَّ من وقع في شيء منها فلا يفضح نفسه ويُظهر ما فعل، بل يستر نفسه بستر الله عليه، وعليه أن يبادر بالتوبة، والله يتوب على من تاب، وهذا أفضل له من إخبار الحاكم عن فعلته؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- أخبر أنه من أظهر المعصية وما حصل منه أقام عليه الحَدَّ الذي حَدَّهُ في كتابه.
575;س حدیث میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ کو رجم کرنے کے بعد کھڑے ہوئے، لوگوں سے خطاب کیا اور اس بد ترین گناہ میں پڑنے سے آگاہ کیا اور بتایا کہ جو اس گناہ میں پڑ جائے وہ اپنے گناہ کو سامنے لاکر اپنی رسوائی کا سامان نہ کرے، بلکہ اللہ نے جو پردہ ڈال دیا ہے، اسے پڑا رہنے دے۔ ہاں! فورا اس کے سامنے توبہ کرے۔ کیونکہ اللہ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔ یہ، اس بات سے بہتر ہے کہ وہ حاکم کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کرے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ جو اپنے گناہ کو سامنے لائے گا، ہم اس پر وہ جد جاری کریں گے، جو اللہ کی کتاب میں اس کے لیے بیان کی گئی ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58240

 
 
Hadith   2038   الحديث
الأهمية: قول عائشة -رضي الله عنها-: لما نزل عذري، قام النبي -صلى الله عليه وسلم- على المنبر، فذكر ذاك، وتلا القرآن، فلما نزل من المنبر، أمر بالرجلين والمرأة فضربوا حدهم


Tema:

عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب میری براءت کی آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم ﷺمنبر پر کھڑے ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا اور قرآن کی آیات تلاوت فرمائیں۔ جب منبر سے نیچے اترے تو آپ ﷺ نے دو مردوں اور ایک عورت کے متعلق حکم دیا اور انہیں حد لگائی گئی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: «لما نَزَلَ عُذْرِي، قام النبي -صلى الله عليه وسلم- على المِنْبَر، فَذَكَرَ ذَاكَ، وتَلَا -تعني القرآن-، فلما نَزَلَ من المِنْبَر، أَمَرَ بِالرَّجُلَيْنِ والمرأة فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب میری براءت کے متعلق آیتیں نازل ہوئیں تو نبی کریم ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا اور قرآن کی آیتیں تلاوت فرمائیں۔ جب منبر سے نیچے اترے تو آپ ﷺ نے دو مردوں اور ایک عورت کے متعلق حکم دیا اور انہیں حد لگائی گئی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث تخبر عائشة -رضي الله عنها- أنه لما نزلت براءتها مما رميت به من الإفك، قام النبي -صلى الله عليه وسلم- خطيبًا وأخبر المسلمين بذلك، وتلا القرآن النازل بالبراءة على المنبر، ثم نزل -عليه الصلاة والسلام-، فأُتي بالرجلين القاذفين: وهما حسَّان بن ثابت، ومسطح بن أثاثة، وبالمرأة وهي: حمنة بنت جحش، فأقام عليهم حد القذف -وهو ثمانون جلدة-؛ لثبوت كذبهم به.
575;س حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ جب ان پر لگائے گئے جھوٹے الزام سے برأت کی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور اس کے متعلق مسلمانوں کو اطلاع دی اور منبر پر آپ ﷺ نے قرآن کی ان آیات کی تلاوت فرمائی جو برأت کے لیے نازل ہوئیں تھیں۔ آپ ﷺ منبر سے نیچے اترے اور بہتان لگانے والے دو مردوں کو لایا گیا، ان میں سے ایک حسان بن ثابت اور دوسرے مسطح بن اثاثہ (رضی اللہ عنہما) تھے اور ایک عورت جو کہ حمنہ بنت جحش (رضی اللہ عنہا) تھی، ان کے جھوٹے ثابت ہونے کی وجہ سے ان پر بہتان کی حد قائم کی گئی(جو کہ اسّی کوڑے ہے)۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58241

 
 
Hadith   2039   الحديث
الأهمية: من قذف مملوكه، وهو بريء مما قال، جلد يوم القيامة، إلا أن يكون كما قال


Tema:

جس نے اپنے مملوک (غلام یا باندی) پر تہمت لگائی حالانکہ وہ اس تہمت سے بری تھا تو اسے قیامت کے دن کوڑے لگائے جائیں گے اِلاّ یہ کہ وہ ویسے ہی رہا ہو جیسے اس نے کہا تھا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: سمعت أبا القاسم -صلى الله عليه وسلم- يقول: «من قَذَفَ مَمْلُوكَهُ، وهو بَرِيءٌ مما قال جُلِد يوم القيامة إلا أن يكون كما قال».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو القاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اپنے مملوک (غلام یا باندی) پر تہمت لگائی حالانکہ وہ اس تہمت سے بری تھا تو اسے قیامت کے دن کوڑے لگائے جائیں گے اِلاّ یہ کہ وہ ویسے ہی رہا ہو جیسے اس نے کہا تھا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا قذف السيدُ مملوكَه فلا يقام عليه الحد في الدنيا؛ ذلك أنَّ الحدود كفارات لمن أقيمت عليه، وما دام أنَّه سيلحقه العذاب في الآخرة، ويحد لذلك، فإنَّه لا يحد في الدنيا، وعدم إقامة الحد عليه في الدنيا إجماع من العلماء. ولا يُحَدُّ السيد لأنه لا يقذف مملوكه إلا عن يقين وغلبة ظن غالبا؛ لأن قيمته ستنزل مع القذف وفي هذا ضرر عليه.
وفي هذا الحديث تخصيص لقوله -تعالى-: (والذين يرمون المحصنات ثم لم يأتوا بأربعة شهداء فاجلدوهم ثمانين جلدة).
580;ب آقا اپنے مملوک پر تہمت لگا دے تو دنیا میں اس پر حد نافذ نہیں کی جائے گی کیونکہ حدود کی سزائیں اس شخص کے لیے کفارہ ہوتی ہیں جس پر وہ نافذ کی جائیں اور اس شخص کو چونکہ آخرت میں عذاب ہوگا اوراس تہمت لگانے کی وجہ سے اس پر حد جاری کی جائے گی اس لیے دنیا میں اس پر حد نافذ نہیں کی جاتی۔ دنیا میں اس پر حد کے جاری نہ کیے جانے کے بارے میں علماء کا اجماع ہے۔ آقا پر حد اس لیے نہیں لگائی جاتی کیونکہ وہ عام طور پر اپنے مملوک پر تہمت صرف اسی وقت لگاتا ہے جب اسے یقین اور غالب گمان ہو جائے کیونکہ تہمت لگانے کی وجہ سے مملوک کی قیمت کم ہو جاتی ہے اور اس میں اسی کا نقصان ہوتا ہے۔
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تخصیص ہے کہ ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً﴾ ”اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لاتے تو انہیں اسّی دُرّے مارو“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58244

 
 
Hadith   2040   الحديث
الأهمية: لعن الله السارق، يسرق البيضة فتقطع يده، ويسرق الحبل فتقطع يده


Tema:

اللہ کی لعنت ہو چور پر، جو ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، ایک رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے

عن أبي هريرة عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لعن الله السارق، يسرق البَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يده، ويسرِقُ الحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : "اللہ کی لعنت ہو چور پر، جو ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، ایک رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد الحديث أن اللعن -أي الطرد والإبعاد عن رحمة الله- لمن يسرق؛ لأنه يسرق الشيء الحقير مثل البيضة والحبل، إلا أن سارق هذه الأشياء اليسيرة لما تعوَّد على أخذها جره ذلك إلى سرقة ما هو أعظم منها, فكان ذلك سببًا في قطع يده، واستحقاق الدعاء عليه باللعن أو الإخبار بوقوع اللعن عليه.
575;س حدیث میں چوری کرنے والے پر لعنت یعنی اسے اللہ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کیے جانے کی بات ہے؛ کیونکہ وہ انڈے اور رسی جیسی معمولی چیزیں چراتا ہے۔ لیکن چوں کہ یہ معمولی چیزیں چرانے والے کو جب چوری کی لت لگ جائے گی، تو وہ اس سے بڑی چیزیں چرانے لگے گا، اس لیے ان معمولی چیزوں کی چوری بھی چرانے والے کا ہاتھ کاٹے جانے اور اس کے لعنت کی بد دعا کے حق دار ہونے یا اس کے اوپر لعنت پڑنے کی اطلاع دینے کا سبب بن جاتی ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58245

 
 
Hadith   2041   الحديث
الأهمية: كنت نائمًا في المسجد علي خميصة لي ثمن ثلاثين درهمًا، فجاء رجل فاختلسها مني، فأخذ الرجل، فأتي به رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فأمر به ليقطع


Tema:

میں مسجد میں سویا ہوا تھا۔ میرے جسم کے اوپر میری ایک کالے رنگ کی چوخانہ چادر پڑی ہوئی تھی، جس کی قیمت تیس درہم تھی۔ اسی بیچ ایک آدمی آیا اور اسے جھپٹا مار کر لے اڑا۔ لیکن وہ پکڑا گیا۔ اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے حاضر کیا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا

عن صفوان بن أمية، قال: كنت نائما في المسجد عليَّ خَمِيْصَةٌ لي ثمن ثلاثين درهما، فجاء رجل فاخْتَلَسَهَا مِنِّي، فَأُخِذَ الرجل، فَأُتِيَ به رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فَأَمَرَ به لِيُقْطَعَ، قال: فأتَيْتُهُ، فقُلتُ: أَتَقْطَعُهُ من أجل ثلاثين درهما، أنا أبيعه وأُنْسِئُهُ ثمنها؟ قال: «فَهَلَّا كان هذا قبل أن تأتيني به».

صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں سویا ہوا تھا۔ میرے جسم کے اوپر میری ایک کالے رنگ کی چوخانہ چادر پڑی ہوئی تھی، جس کی قیمت تیس درہم تھی۔ اسی بیچ ایک آدمی آیا اور اسے جھپٹا مار کر لے اڑا۔ لیکن وہ پکڑا گیا۔ اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے حاضر کیا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ وہ کہتے ہیں: تب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : کیا آپ محض تیس درہم کی وجہ سے اس کا ہاتھ کاٹیں گے؟ میں اسے وہ چادر ادھار بیچ دیتا ہوں! اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "پھر اسے میرے سامنے لانے سے پہلے ہی تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا؟"

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان صفوان بن أمية -رضي الله عنه- نائمًا في المسجد وعليه رداء ذو مربعات، فجاء سارق فأخذه منه بسرعة وفر، فقبض على السارق فأُخِذ إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- ليقام عليه حد السرقة، فكأنَّ صفوان قد أشفق عليه من السرقة، فقال للنبي -عليه الصلاة والسلام-: أتقطعه من أجل ردائي الذي قيمته ثلاثون درهمًا فقط، فأنا أبيعه عليه وأجعل الثمن مؤخرًا حتى يتيسر حاله، فقال -عليه الصلاة والسلام-: فهلا كان عفوك عنه قبل أن يصل إليَّ، لأن الحدود إذا بلغت الحاكم لم ينفع فيها العفو.
589;فوان بن امیہ رضی اللہ عنہ مسجد میں سوئے ہوئے تھے اور ان کے جسم پر ایک کالے رنگ کی چوخانہ چادر پڑی ہوئی تھی۔ اسی بیچ ایک چور آیا اور سے جھپٹا مار کر لے بھاگا۔ پھر چور کو پکڑ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لایا گیا، تاکہ اس پر چوری کی حد جاری کی جا سکے۔ لیکن صفوان رضی اللہ عنہ کو اس پر رحم آ گیا، لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کیا آپ اس کا ہاتھ میری اس چادر کی وجہ سے کاٹ دیں گے، جس کی قیمت محض تیس درہم ہے؟ میں اسے یہ چادر ادھار بیچ دیتا ہوں اور قیمت وہ اپنی حالت بہتر ہونے پر ادا کر دے گا!! اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو تم نے اسے میرے پاس لائے جانے سے پہلے ہی معاف کیوں نہ کر دیا؟ کیونکہ حدود کے معاملے جب حاکم تک پہنچ جائیں، تو معاف کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58252

 
 
Hadith   2042   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أتي برجل قد شرب الخمر، فجلده بجريدتين نحو أربعين


Tema:

نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک ایسے شخص کوحاضر کیا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، آپ ﷺ نے اسے کھجور کی ٹہنی سے لگ بھگ چالیس ضربیں لگائیں۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- «أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أُتِيَ برجل قد شرب الخمر، فجلده بِجَرِيدَتَيْنِ نحو أربعين»، قال: وفعله أبو بكر، فلما كان عمر استشار الناس، فقال عبد الرحمن: أَخَفُّ الحدود ثمانين، «فأمر به عمر».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ نبی ﷺکے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی، تو آپ ﷺ نے اسے کھجور کی دو ٹہنیوں سے تقریباً چالیس ضربیں لگائیں۔ (انس رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا، جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا، انہوں نے لوگوں سے مشورہ لیا تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حدود میں سب سے ہلکی حد اسّی کوڑے ہے، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسّی کا حکم صادر کر دیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد الحديث أن النبي -صلى الله عليه وسلم- جلد في الخمر بسعف النخل شارب الخمر قريبًا من أربعين جلدة، ومثله الخليفة أبوبكر -رضي الله عنه-، فلما كثر شربه في الناس بعد فتح الشام وغيرها وكثرت الأعناب والبساتين، استشار عمر -رضي الله عنه- الصحابة في حده، فأشار عليه عبد الرحمن بن عوف -رضي الله عنه- أن يجعل حد شارب الخمر أخف الحدود -غير حد شرب الخمر- وهو ثمانين جلدة، فاستقر الأمر على ذلك عند أكثر الصحابة، وبه قال الجمهور من الفقهاء، وحد شرب الخمر ثابت في الأصل وليس محلا للاجتهاد، وإنما كان اجتهاد الصحابة -رضي الله عنهم- في الزيادة عليه لما كثر وفشا شرب الخمر ولم يرتدع الناس بما كان عليه ذلك العدد.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اس حدیث سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شرابی کو شراب کی حد کے طور پر کھجور کی ٹہنی سے چالیس ضربیں لگائیں۔خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا۔ شام وغیرہ کی فتح کے بعد انگور اور باغات کی کثرت کی وجہ سے جب لوگوں میں شراب نوشی زیادہ ہو گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی حد سے متعلق صحابہ سے مشورہ لیا۔ تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ شراب نوشی کی حد وہ مقرر کی جائے جو سب سے کم حد ہے (سوائے شراب کی حد کے) اور وہ اَسّی کوڑے ہے۔ کثیر صحابہ نے اس بات پر اتفاق کیا ۔ اسی لیے جمہور فقہاء نے یہ کہا ہے کہ شراب نوشی کی حد اَسّی کوڑے ہے اور یہ اصلاً ثابت ہے اجتہاد کے قبیل سے نہیں ہے۔ اور صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) نے اس میں زیادتی کا اجتہاد اس وقت کیا جب شراب نوشی کثرت سے عام ہو گئی جب کہ لوگ اس چیز سے ہار ماننے والے نہیں تھے کہ اس کی تعداد کیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58254

 
 
Hadith   2043   الحديث
الأهمية: إذا ضرب أحدكم أخاه فليجتنب الوجه


Tema:

جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مارے، تو چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے۔

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إذا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ أخاه فَلْيَجْتَنِب الوجْهَ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مارے، تو چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث أنه إذا ضرب أحدكم شخصاً تأديباً أو تعزيراً له أو في حد من حدود الله -تعالى- أو لخصومة أو غير ذلك فليحذر أن يضربه على وجهه، وليبتعد عن ذلك كل البعد، ولو في إقامة حد من حدود الله؛ لما لوجه بني آدم من الكرامة، فهو أشرف الأعضاء، وهو الَّذي تحصل به المواجهة، وضربه عليه إمَّا أن يتلف منه عضوًا، وإمَّا أنْ يُحْدِثَ فيه شَيْئًا؛ فالواجب اجتنابه، ويحرم الضرب فيه، سواء أكان الضرب بحقٍّ، أو عن طريق الاعتداء.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو تادیب وتعزیر کے لیے، اللہ تعالیٰ کے حدود میں سے کسی حد کی تنفیذ میں یا لڑائی وغیرہ میں کوئی کسی شخص کو مارے، تو وہ اس کے چہرے پر ہر حال میں دور رہے۔ چاہے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کی تنفیذ کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ بنو آدم کا چہرہ کرامت و بزرگی والا اور سب سے اچھا عضو ہے۔ چہرہ وہ جگہ ہے، جس کے ذریعے کسی سے سامنا ہوتا ہے اور اس پر مارنے سےیا تو اس کا کوئی حصہ تلف ہوگا یا اس کے کسی حصے میں بگاڑ پیدا ہوگا۔ اس لیے اس سے بچنا واجب اور چہرے پر مارنا حرام ہے؛ خواہ حق کے طور پر ہو یا ظلم کے طور پر ہو۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58257

 
 
Hadith   2044   الحديث
الأهمية: لقد أنزل الله الآية التي حرم الله فيها الخمر وما بالمدينة شراب يشرب إلا من تمر


Tema:

اللہ نے جب وہ آیت اتاری، جس میں شراب حرام کی گئی ہے، تو اس وقت مدینے میں جو بھی شراب پی جاتی تھی، سب کھجور سے بنتی تھی

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال: «لقد أَنْزَلَ الله الآية التي حَرَّمَ الله فيها الخمر، وما بالمدينة شَرَابٌ يُشْرَبُ إلا من تَمْرٍ».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: "اللہ تعالی نے جب وہ آیت اتاری، جس میں شراب حرام کی گئی ہے، تو اس وقت مدینے میں جو بھی شراب پی جاتی تھی، سب کھجور سے بنتی تھی"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث يخبر أنس -رضي الله عنه- أنه لما أنزل الله آية تحريم الخمر لم يكن في المدينة النبوية شراب يُصنع  منه الخمر سوى التمر، مما يدل على أن علة تحريم الخمر هي الإسكار دون النظر إلى المادة التي صنع منها.
575;س حدیث میں انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے شراب کی حرمت کی آیت نازل کی، اس وقت مدینہ منورہ میں جتنی طرح کی شراب بنتی تھی، سب کھجور سے بنتی تھی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ شراب کے حرام ہونے کی علت اس کا نشہ آور ہونا ہے، قطع اس سے کہ وہ کس چیز سے بنی ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58258

 
 
Hadith   2045   الحديث
الأهمية: كل مسكر خمر، وكل مسكر حرام، ومن شرب الخمر في الدنيا فمات وهو يدمنها لم يتب، لم يشربها في الآخرة


Tema:

ہر نشہ آور چیز 'خمر' (شراب) ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ جس نے دنیا میں شراب پی اور توبہ کیے بنا اس کی لت لے کر مر گیا، وہ آخرت میں اسے پینے سے محروم رہے گا

عن ابن عمر، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «كل مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وكل مُسْكِرٍ حرام، ومن شرِب الخمر في الدنيا فمات وهو يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ، لَمْ يَشْرَبْهَا في الآخرة».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "ہر نشہ آور چیز 'خمر' (شراب) ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ جس نے دنیا میں شراب پی اور توبہ کیے بنا اس کی لت لے کر مر گیا، وہ آخرت میں اسے پینے سے محروم رہے گا"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث يخبر ابن عمر -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- جعل كل شيء مسكر من أي نوع كان خمرًا يترتب على من تناوله ما يترتب على من شرب الخمر من الحرمة والعقوبة، ثمَّ بين -عليه الصلاة والسلام- أنَّ من أصرَّ على شرب الخمر في الدنيا فلم يتب منها فإن جزاءه أن يُحرم شربها في الآخرة عقوبة له, أو لأن الخمر من شراب الجنة فإذا لم يشربها في الآخرة لم يدخل الجنة، وقيل يدخل الجنة ويحرم عليه شربها فإنها من فاخر أشربة الجنة، فيحرمها هذا العاصي بشربها في الدنيا، وقيل: إنه ينسى شهوتها؛ لأن الجنة فيها كل ما تشتهي الأنفس، ويمكن أن يقيد الحرمان بمقدار مدة عيش العاصي في الدنيا أو المراد أنه لم يشربها في الآخرة مع الفائزين السابقين في دخول الجنة، أو لم يشربها شربا كاملا في الكمية والكيفية بالنسبة إلى التائبين.
575;س حدیث میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تمام نشہ آور اشیا کو، چاہے ان کی نوعیت جو بھی ہو، 'خمر' یعنی شراب قرار دیا ہے، جن کے استعمال سے وہی حرمت اور سزا وابستہ ہوگي، جو شراب کے استعمال سے ہے۔ پھر آپ نے بتایا کہ جو دنیا میں شراب پینے پر مصر رہے گا اور اس سے توبہ نہیں کرے گا، وہ سزا کے طور پر آخرت میں اسے پینے سے محروم رہے گا۔ یا پھر مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چونکہ شراب جنت کی ایک مشروب ہے، اس لیے آخرت میں اسے نہ پینے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جنت میں داخل ہوگا ہی نہیں۔ جب کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جنت میں داخل تو ہوگا، لیکن دنیا میں شراب کی لت کی وجہ سے اس طرح کے گنہگار آدمی جنت کی اس اہم ترین مشروب کو پینے سے محروم کر دیا جائے گا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس کی شراب کی اشتہا ختم کر دی جائے گی، کیونکہ جنت میں وہ ساری چیزیں میسر ہوں گی، جن کی دلوں میں خواہش پیدا ہوگی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ محرومی کو دنیا میں اس گنہگار انسان کی مدت حیات سے مقید کر دیا جائے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ آخرت میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں پی سکے گا، جن کو جنت میں داخلے کے معاملے میں سبقت حاصل ہوگی یا پھر توبہ کرنے والوں کی طرح کمیت اور کیفیت میں کامل طور پر پی نہیں سکے گا۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58259

 
 
Hadith   2046   الحديث
الأهمية: سئل النبي -صلى الله عليه وسلم- عن الخمر، فنهاه أن يصنعها، فقال: إنما أصنعها للدواء، فقال: «إنه ليس بدواء، ولكنه داء»


Tema:

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب بنانے کے بارے میں پوچھا گيا، تو آپ نے ان کو اسے بنانے سے منع کیا۔ اس پر انھوں نے کہا کہ میں تو بس دوا کے لیے شراب بناتا ہوں، تو آپ نے فرمایا : "وہ دوا نہیں، بلکہ بیماری ہے"

عن وائل الحضرمي أن طارق بن سويد الجعفي سأل النبي -صلى الله عليه وسلم- عن الخمر، فَنَهَاهُ -أو كره- أن يَصْنَعَهَا، فقال: إنما أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ، فقال: «إنه ليس بِدَوَاءٍ، ولكنه دَاءٌ».

وائل حضرمی سے روایت ہے کہ طارق بن سوید جعفی نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب بنانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے اس سے منع کیا یا اسے بنانے کو ناپسند کیا۔ اس پر انھوں نے کہا کہ میں تو بس دوا کے لیے شراب بناتا ہوں، تو آپ نے فرمایا : "وہ دوا نہیں، بلکہ بیماری ہے"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث أنَّ طارق بن سويد -رضي الله عنه- سأل النبي -صلى الله عليه وسلم- عن الخمر يصنعها للدواء وليس للشرب، فأخبره النبي -صلى الله عليه وسلم- أنها مرض لا شفاء فيها، فدل هذا على تحريم الخمر، وعلى أنها تورث المرض والأسقام، وأنها لا فائدة منها البتة، فيجب إتلافها وإراقتها.
575;س حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ طارق بن سوید رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پینے کی بجائے دوا کے لیے شراب بنانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے بتایا کہ یہ شفا نہيں بلکہ خود بیماری ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شراب حرام ہے اور کئی طرح کی بیماریاں پیدا کرتی ہے نیز اس میں کسی طرح کا کوئی فائدہ نہیں ہے، لہذا اسے تلف کر دینا اور بہا دینا ضروری ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58263

 
 
Hadith   2047   الحديث
الأهمية: يا خالد إنها ستكون بعدي أحداث وفتن واختلاف، فإن استطعت أن تكون عبد الله المقتول لا القاتل فافعل


Tema:

اے خالد! عنقریب میرے بعد بہت سارے نئے واقعات، فتنے اور اختلاف جنم لیں گے۔ اگر تم میں اللہ کے نزدیک قاتل کے بجائے مقتول بندہ بننے کی استطاعت ہو تو ایسا ہی کرنا۔

عن خالد بن عُرْفُطَةَ -رضي الله عنه- قال: قال لي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يا خالد إنها ستكون بَعْدِي أَحْدَاثٌ وفِتَنٌ واختلاف، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أن تكون عبد الله المقتول لا القاتل فَافْعَلْ".

خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے خالد! عنقریب میرے بعد بہت سارے نئے واقعات، فتنے اور اختلاف جنم لیں گے۔ اگر تم میں اللہ کے نزدیک قاتل کے بجائے مقتول بندہ بننے کی استطاعت ہو تو ایسا ہی کرنا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- خالد بن عرفطة بأن هناك اختلافًا وحروبًا وفتنًا ستكون في المستقبل, مثل أن لا يكون للأمة إمام يقودها، أصلا, أو بأن يكون في كل قطر والٍ، فتحدث بينهم فتن، وتقوم بينهم حروب، وأمره باعتزال الفتنة, وبالكف والقعود عنها، وعدم الدخول فيها، ولو قتل مظلومًا خير له من أن يَقتل مسلمًا, وذلك بأن يلزم بيته, أو أن يتحول من بلد الفتنة أصلًا، لكن دلت الأدلة أن له أن يدافع عن نفسه في الفتنة وعن أهله وعن ماله، وهو معذور إن قتل أو قتل إن لم يترتب فساد وفتنة، وأما إذا كانت كلمة المسلمين مجتمعة على إمام واحد؛ سواء كان عدلاً أو جائرًا، ثم خرج عليه خارجة لهم منعة، يريدون شق عصا الطاعة، والخروج على الوالي فهؤلاء يجب على ولي الأمر أن يراسلهم، فإذا راسلهم، وامتنعوا عن الطاعة، وأخافوا المسلمين، فيجب عليه قتالهم؛ ليكف شرهم، ويجب على الرعية القيام معه، وقتال هؤلاء الخارجين حتى يفيئوا ويعودوا إلى أمر الله، والطاعة سواء كانوا بغاة أو خوارج.
606;بی کریم ﷺ نے خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو بتایا ہے کہ عنقریب تمہیں بہت سارے اختلافات، جنگوں اور فتنوں کا سامنا ہو گا ۔ مثلاً امت کے پاس ان کی قیادت کے لیے کوئی حقیقی حکمران نہیں ہوگا، یا پھر ہر ریاست کا الگ الگ راجہ ہو گا، ان کے درمیان فتنے اور جنگیں رونما ہوں گی تو ایسے وقت میں انہیں فتنے سے الگ رہنے، اپنے آپ کو ان کا حصہ بننے سے بچائے رکھنا اور پیچھے بیٹھے رہنے اور ان کا ساتھی نہ بننے کا حکم دیا۔ اگر ظلماً ان کو قتل کر دیا جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی مسلم کو قتل کریں۔ بہتر یہی ہے کہ اپنے گھر میں رہیں یا پھر فتنے سے بچنے کے لیے علاقہ تبدیل کرلیں۔ لیکن دلیل اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انسان کو فتنے کے وقت میں اپنا، اپنے اہل وعیال اورمال ودولت کا دفاع کرنا چاہیے، فتنے کے وقت میں دفاع کرنا چاہیے اگر وہ قتل کردیتا ہے یا قتل کردیا جاتا ہے تو اس کو معذور سمجھا جائے گا بشرطیکہ فتنہ و فساد کے کھڑے ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ لیکن جب امت مسلمہ کسی ایک امام (کی حکمرانی) پر مجتمع ہو جائے چاہے وہ انصاف کے ساتھ ہو یا جبراً ، پھر اس کے خلاف خروج کرنا ممنوع ہے۔ ایسا کرنے والے اصل میں اطاعت کی لاٹھی کو توڑنا چاہتے ہیں۔ حکمران کے لیے ضروری ہے کہ اس کے خلاف خروج کرنے والوں سے مذاکرات کرے۔ اگر مذاکرات کے بعد بھی وہ اس کی اطاعت سے انکار کرتے ہیں اور مسلمانوں کو ڈراتے ہیں تو حکمران پر واجب ہے کہ ان کے خلاف قتال کرے تاکہ ان کے شر کو روکا جائے اور رعایہ پر بھی واجب ہے کہ وہ حکمران کا ساتھ دیں۔ اس وقت تک ان خروج کرنے والوں سے قتال کریں جب تک وہ باز نہ آ جائیں یا پھر اللہ کے حکم کی طرف لوٹ نہ آئیں۔ اطاعت سب کے لیے ایک جیسی ہے چاہے وہ باغی ہوں یا خارجی ہوں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58266






© EsinIslam.Com Designed & produced by The Awqaf London. Please pray for us