عن عبد الله بن مسعود -رضي الله عنه-
قال: علمنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- خطبة الحاجة: إن الحمد لله،
نستعينه ونستغفره، ونعوذ به من شرور أنفسنا، من يهد الله، فلا مضل له، ومن
يضلل، فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله،
" يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ
نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا
كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ والأرحام
إن الله كان عليكم رقيبا} [النساء: 1] , {يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله
حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون} [آل عمران: 102] , {يا أيها الذين
آمنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا (70) يصلح لكم أعمالكم ويغفر لكم
ذنوبكم ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزا عظيما} [الأحزاب:70 - 71].
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان
کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ حاجت سکھایا جو یہ ہے: إِنَّ
الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ
بِهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ،
وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا
اللَّهَ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ﴿يَا أَيُّهَا
النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ
وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءَ
وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ والأرْحامَ إن اللهَ كانَ
عليكم رقيبا﴾ (النساء: 1)، ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا
اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ﴾
(آل عمران: 102)، ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ
وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا، يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ
لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ
فَوْزًا عَظِيمًا﴾ (الأحزاب:70 - 71)۔ ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ ہم
اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ اور (اپنے گناہوں کی) معافی چاہتے ہیں اور اپنے نفس
کی شرارتوں سے اس کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے وہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں
کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اور میں
گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ اور میں گواہی
دیتا ہوں کہ محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ ۔”اے لوگو جو ایمان
لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس کے واسطے سے تم سوال کرتے ہو، اور
رشتے ناتے توڑنےسے بچو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے“۔(النساء: 1)
”اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس سے ڈرو جیسا کہ اس سے
ڈرنے کا حق ہے اور تم پر موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو“۔ (آل
عمران: 102) ”اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور بات ہمیشہ صاف
سیدھی کیا کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال درست فرما دے گا، تمہاری خطائیں
معاف کر دے گا اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی بلاشبہ وہ عظیم
کامیابی سے ہمکنار ہوا“۔ (الأحزاب:70 - 71)
Explicação Hadith بيان الحديث
دل حديث ابن مَسْعُود -رضي الله عنه-
عَلَى مشروعية هذه الخطبة الجامعة لمحامد الله، وطلب عونه، والالتجاء إليه
من الشرور، وتلاوة تلك الآيات الكريمات، وينبغي للإنسان أن يقدمها بين يدي
مخاطبة الناس بالعلم من تعليم الكتاب والسنة، والفقه، وموعظة الناس، فهي لا
تخص النكاح وحده، وإنما هي خطبة لكل حاجة؛ لتحلها البركة، وليكون لها الأثر
الطيب فيما تقدمته، فهي سنَّةٌ مؤكَّدة.
575;بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث
اس خطبے کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہے جو اللہ کی تعریفات کو جامع ہے اور جس
میں اس سے مدد طلب کی گئی ہے اور برائیوں سے اس کی پناہ مانگی گئی ہے اور
ان آیات کریمہ کی تلاوت ہے۔ چنانچہ انسان کو چاہیے کہ وہ کتاب و سنت اور
فقہ کی تعلیم دینے یا پھر لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے کی غرض سے جب ان سے
مخاطب ہو تو پہلے یہ خطبہ پڑھے۔ یہ خطبہ صرف نکاح کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ
یہ ہر قسم کی حاجت کے لیے ہے تاکہ اس میں برکت پیدا ہو اور جس چیز سے بھی
پہلے اسے پڑھا جائے اس میں اس کے پاکیزہ اثرات آئیں۔اس کا پڑھنا سنت موکدہ
ہے۔ -- [صحیح]+ +[اسے ابنِ
ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی
نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے
روایت کیا ہے۔]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58060
|
|
Hadith 1927 الحديث
الأهمية: إذا خطب أحدكم المرأة، فإن استطاع أن
ينظر إلى ما يدعوه إلى نكاحها فليفعل
Tema:
جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح
کا پیغام دے تو ہو سکے تو وہ اس چیز (خوبی) کو دیکھ لے جو اسے اس (عورت) سے
نکاح کی طرف راغب کر رہی ہے۔ |
عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسول
الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا خطبَ أحدُكم المرأة، فإن استطاع أن ينظر
إلى ما يدعوه إلى نِكاحها فَلْيَفْعَلْ". فخطبتُ جارية فكنت أتَخَبَّأُ
لها، حتى رأيتُ منها ما دَعاني إلى نِكاحها فتزَوجتُها.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے
ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا
پیغام دے تو ہو سکے تو وہ اس چیز کو دیکھ لے جو اسے اس (عورت) سے نکاح کی
طرف راغب کر رہی ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایک لڑکی کو نکاح کاپیغام
دیا تو میں اسے چھپ چھپ کر دیکھتا تھا یہاں تک کہ میں نے وہ خوبی دیکھ ہی
لی جس نے مجھے اس کے نکاح کی طرف راغب کیا تھا اورمیں نے اس سے شادی کر لی۔
Explicação Hadith بيان الحديث
دل الحديث على استحباب تقديم النظر إلى
التي يُراد نِكاحها، والنظر يباح إلى الوجه والكفين، لأنه يستدل بالوجه على
الجمال أو ضده، وبالكفين على خصوبة البدن أو عدمها، وهذا مذهب الأكثر، ولا
يشترط رضا المرأة بذلك النظر، بل له أن يفعل ذلك في غفلتها، ومن غير تقدم
إعلام كما فعله الصحابي جابر -رضي الله عنه-, وإذا لم يمكنه النظر استحب له
أن يبعث امرأة يثق بها تنظر إليها وتخبره بصفتها, إنما شُرع ذلك لأنه أولى
وأرغب أن يُؤلف بينهما, لأن زواجهما إذا كان بعد معرفة فلا يكون بعدها
غالبا ندامة.
575;س حدیث میں نکاح سے پہلے اس خاتون کو
دیکھنے کا استحباب ثابت ہوتا ہے جس سے نکاح کرنا مقصود ہو۔ خیال رہے کہ
(منگیتر کا) چہرہ اور ہتھیلیاں ہی دیکھنی مباح ہے اس لیے کہ چہرہ، خوبصورتی
وجمال پر یا پھر اس کی ضد (بدصورتی) پر دلالت کرتا ہے اور ہتھیلیاں، عورت
کے بدن کی لاغری یا اس کے برعکس بدن کی زرخیزی و صحت مندی پر دلالت کرتی
ہيں اور یہی جمہور علماء کا مذہب ہے۔دیکھنے میں عورت کی رضامندی کی شرط
نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ اس خاتون کو اس کی بے توجہی
میں اور اس کو اطلاع دیے بغیر دیکھے، جیسا کہ صحابیٔ رسول ﷺ جابر رضی اللہ
عنہ نے کیا اور اگر مرد کے لیے دیکھنا ممکن نہ ہو تو اس کے لیے مستحب ہے کہ
وہ کسی قابلِ اعتماد خاتون کو اس منگیتر کے پاس بھیجے جو اسے دیکھے اور اس
کی صفات سے مطلع کرے۔ دیکھنے کی مشروعیت کی وجہ یہ ہے کہ دونوں کے مابین
الفت و محبت پیدا کرنے کایہ انتہائی موزوں اور مرغوب ذریعہ ہوگا اور واقفیت
کے بعد ہونے والے نکاح میں غالباً بعد میں چل کر ندامت و شرمندگی نہیں
اٹھانی پڑتی ہے۔ -- [حَسَنْ]+ +[اسے امام
ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58061
|
|
Hadith 1928 الحديث
الأهمية: اذهب فانظر إليها، فإنه أجدر أن يؤدم
بينكما
Tema:
جاؤ اسے دیکھ لو کیوں کہ یہ تمہارے
باہمی رشتے کی پائیداری کے لیے نہایت مناسب ہے۔ |
عن المغيرة بن شعبة، قال: أتيتُ النبي
-صلى الله عليه وسلم فذكرت له امرأةً أخطِبُها، فقال: «اذهب فانظر إليها،
فإنه أجدرُ أن يُؤدمَ بينكما»، فأتيت امرأة من الأنصار، فخطَبتُها إلى
أبَويها، وأخبرتهما بقول النبي -صلى الله عليه وسلم-، فكأنهما كرِها ذلك،
قال: فسمعت ذلك المرأة، وهي في خِدرها، فقالت: إن كان رسول الله -صلى الله
عليه وسلم- أمرك أن تنظر، فانظر، وإلا فأنشدُك، كأنها أَعْظَمت ذلك، قال:
فنظرتُ إليها فتزوجتُها، فذكر من موافقتها.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے ذکر کیا کہ میں ایک عورت کو نکاح کا پیغام
دے رہا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اسے دیکھ لو کیوں کہ یہ تمہارے باہمی رشتے
کی پائیداری کے لیے نہایت مناسب ہے، چنانچہ میں ایک انصاریہ عورت کے پاس
آیا اور اس کے ماں باپ کے ذریعہ سے اسے پیغام دیا اور نبی اکرم ﷺ کا فرمان
سنایا، لیکن ایسا معلوم ہوا کہ اس کو یہ بات پسند نہیں آئی، اس عورت نے پس
پردہ یہ بات سنی تو کہا اگر رسول اللہ ﷺ نے دیکھنے کا حکم دیا ہے، تو تم
دیکھ لو، ورنہ میں تم کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دلاتی ہوں، گویا کہ اس نے اس
چیز کو بہت بڑا سمجھا، مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس عورت کو
دیکھا اور اس سے شادی کر لی، پھر انھوں نے اس کا ہم مزاج ہونا ذکر کیا ۔
Explicação Hadith بيان الحديث
دل الحديث على استحباب نظرِ الرجلِ إلى
من يريد أن يتزوجها، وأن ذلك أقرب إلى الوفاق والاتفاق بينهما؛ لأنَّ النظر
إليها أولى بالإصلاح وإيقاع الألفة والوفاق بينهما، فيكون تزوجها عن معرفة،
فلا يكون بعده ندامة غالبًا، ولهذا جاء المغيرة -رضي الله عنه- يستشير
النبي -صلى الله عليه وسلم- في نكاح امرأة فأمره بالنظر إليها ليتأكد
التوافق بينهما. ودل
على أنه يجب قبول ما جاء عن النبي -صلى الله عليه وسلم- دون أدنى حرج؛ لأنه
لا يأمر -صلى الله عليه وسلم- إلا بما فيه خير وصلاح.
575;س حدیث میں مرد کے لیے اس خاتون کو
دیکھنے کا استحباب ثابت ہوتا ہے جس سے وہ نکاح کا امیدوار ہو اور یہ عمل
دونوں کےمابین باہمی موافقت اور اتفاق پیدا کرنے کا سب سے انتہائی قریب
ترین ذریعہ ہے اور اس کو دیکھنا، دونوں میں باہمی اصلاح قائم کرنے اور الفت
و موافقت پیدا کرنے کا موزوں ترین عمل ہے نیز اس کے بعد ہونے والا نکاح علم
و آگہی کے ساتھ ہوگا اورعموماً اس کے بعد ندامت و شرمندگی کا سامنا نہیں
ہوتا، یہی وجہ ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے نکاح کرنے
کے سلسلہ میں نبی ﷺ سے مشورہ طلب کیا تو آپ ﷺ نے انہیں اس خاتون کو دیکھنے
کی ہدایت فرمائی تاکہ دونوں کے مابین موافقت کا حصول یقینی ہوجائے۔ نیز اس
حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ نبی ﷺ سے وارد ہونے والے ہر بات کو ذرہ برابر
تامل کیے بغیر قبول کرنا واجب ہے کیوں کہ آپ ﷺ کے فرامین میں خیر و بھلائی
اور درستگی و نیکی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ -- [صحیح]+ +[اسے ابنِ
ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی
نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58062
|
|
Hadith 1929 الحديث
الأهمية: إذا ألقى الله في قلب امرئ خطبة امرأة،
فلا بأس أن ينظر إليها
Tema:
جب اللہ تعالیٰ کسی مرد کے دل میں کسی
عورت کو نکاح کا پیغام دینے کا خیال پیدا کرے، تو اس عورت کو دیکھنے میں
کوئی حرج نہیں ہے۔ |
عن محمد بن مسلمة، قال: خطبت امرأة،
فجعلتُ أتَخَبّأُ لها، حتى نظرتُ إليها في نَخْلٍ لها، فقيل له: أتفعلُ هذا
وأنت صاحب رسول الله -صلى الله عليه وسلم-؟ فقال: سمعت رسول الله -صلى الله
عليه وسلم- يقول: «إذا ألقى الله في قلب امرئ خِطبة امرأة، فلا بأس أن ينظر
إليها».
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے ایک عورت کو شادی کا پیغام دیا تو میں اسے دیکھنے کے لیے چھپنے لگا،
یہاں تک کہ میں نے اسے اسی کے باغ میں دیکھ لیا، لوگوں نے ان سے کہا: آپ
ایسا کرتے ہیں جب کہ آپ صحابی رسولﷺ ہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ میں نے رسول
اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی مرد کے دل میں کسی عورت کو
نکاح کا پیغام دینے کا خیال پیدا کرے، تو اس عورت کو دیکھنے میں کوئی حرج
نہیں ہے۔
Explicação Hadith بيان الحديث
دل الحديث على أن محمد بن مسلمة -رضي
الله عنه- أراد خطبة امرأة فكان يتخبأ لها لينظر إليها، فرآه التابعي
فاستغرب هذا الفعل منه، فأخبره بأن فعله هذا استند إلى أمر النبي -صلى الله
عليه وسلم- بأن أحدًا إذا أراد أن يخطب امرأة وجعل الله في قلبه الميل إلى
نكاحها فلينظر إليها، فدل على استحباب النظر الى المخطوبة ولو بغير علمها,
حتى لو اضطر الخاطب إلى أن يتخبأ لها, وهذا إنما أُبيح للحاجة والضرورة.
575;س حدیث میں یہ دلیل ہے کہ محمد بن
مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کسی خاتون کو نکاح کا پیغام دینے کا ارادہ کیا اور
وہ اس کو چھپ چھپ کر دیکھنے لگے تو تابعی نے انھیں ایسا کرتے دیکھ لیا
اورانھیں ان صحابی کا یہ فعل عجیب و غریب لگا تو صحابی رسول نے انھیں بتایا
کہ ان کے اس عمل کی دلیل، نبی ﷺ کے حکم سے ماخوذ ہے کہ اگر کوئی مرد، کسی
خاتون کو پیغام نکاح دینے کا خواہشمند ہو اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے
دل میں اس خاتون سے نکاح کرنے کا میلان بھی پایا جاتا ہو تو اسےچاہیے کہ وہ
اس کو دیکھ لے، چنانچہ اس حدیث میں منگیتر کو دیکھنے کے استحباب کی دلیل
ملتی ہے، چاہے اس خاتون کو اس مرد کے دیکھنے کا علم بھی کیوں نہ ہو، یہاں
تک کہ نکاح کرنے والا مجبوری میں چھپ کر اسے دیکھ سکتا ہے اور یہ اباحت محض
حاجت وضرورت کی حد تک محدود ہے ۔ -- [صحیح]+ +[اسے ابنِ
ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58063
|
|
Hadith 1930 الحديث
الأهمية: أعلنوا النكاح
Tema:
نکاح کا اعلان کرو |
عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن
أبيه، أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "أعْلِنُوا النِّكاح".
عامر بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد سے
روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”نکاح کا اعلان کرو“۔
Explicação Hadith بيان الحديث
دل الحديث على مشروعية إعلان الزواج
وإشهاره ونشر خبره بين الناس، إظهارًا للسرور وتمييزًا له عن نكاح
السِّرِّ، وضابط الإعلان العرف، ومن وسائل الإعلان الوليمة والإشهاد وتشييع
الزوج وقت الذهاب بزوجته وضرب الدف ونحو ذلك.
740;ہ حدیث شادی کے اعلان و تشہیر اور
لوگوں میں اس کے خبر کی تنشیر کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہے، یہ خوشی کے
اظہار اور پوشیدہ شادی سے ممتاز کرنے کے لیے ہے، اعلان کا ضابطہ عرف ہے،
وسائلِ اعلان میں سے ولیمہ، لوگوں کی حاضری، رخصتی کے وقت شوہر کا بیوی کی
ہمراہی اختیار کرنا، دف بجانا اور گاڑیوں کی آوازیں (ہارن) وغیرہ ہیں۔ -- [حَسَنْ]+ +[اسے امام
احمد نے روایت کیا ہے۔]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58065
|
|
Hadith 1931 الحديث
الأهمية: لا نكاح إلا بولي
Tema:
ولی (کی اجازت) کے بغیر نکاح نہیں ہے۔ |
عن أبي موسى الأشعري -رضي الله عنه- عن
النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لا نِكاح إلا بِوَلِيّ».
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“۔
Explicação Hadith بيان الحديث
دل الحديث على اعتبار الولي في عقد
النكاح وأنه شرط لصحته، فلا يصح النكاح إلاَّ بولي، يتولى عقد النكاح،
ويشترط في الولي: التكليف، والذكورية، والرشد في معرفة مصالح النكاح،
واتفاق الدين بين الولي والمولى عليها، فمن لم يتَّصف بهذه الصفات فليس
أهلاً للولاية في عقد النكاح، فإن تعسر فوليها السلطان.
740;ہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ
عقدِ نکاح میں ولی کا اعتبار ہوگا اور نکاح کی صحت کے لیے ولی کا ہونا شرط
ہے۔ چنانچہ ولی کے بغیر نکاح صحیح نہیں ہوگا۔ ولی عقدِ نکاح کی تولیت کرے
گا۔ البتہ ولی میں یہ شروط ہونے چاہییں: مکلف ہو، مرد ہو، مصالحِ نکاح سے
با خبر ہو اور ولی و مولیٰ (جس کا وہ ولی ہے) کا دین میں ایک ہو۔ پس جو ان
صفات سے متصف نہ ہو، وہ نکاح میں ولایت کا اہل نہیں ہوگا۔ اگر کوئی مشکل
پیش آجائے، تو عورت کا ولی سلطان (حاکم وقت) ہوگا۔ -- [صحیح]+ +[اسے ابنِ
ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو
داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی
نے روایت کیا ہے۔]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58066
|
|
Hadith 1932 الحديث
الأهمية: أيما امرأة نكحت بغير إذن مواليها،
فنكاحها باطل
Tema:
جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح
کرے، اس کا نکاح باطل ہے۔ |
عن عائشة -رضي الله عنها- مرفوعًا:
«أيُّما امرأةِ نَكَحَت بغير إذن مَواليها، فنِكاحها باطل»، ثلاث مرات «فإن
دخلَ بها فالمهرُ لها بما أصاب منها، فإن تَشاجروا فالسلطان وَلِيُّ مَنْ
لا وَلِيَّ له».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے، اس کا
نکاح باطل ہے۔ آپ (ﷺ) نے یہ بات تین بار فرمائی۔ (پھر فرمایا) اگر مرد نے
ایسی عورت سے دخول کرلیا، تو اس دخول کے عوض عورت کے لیے اس کا مہر ہے اور
اگر ولی آپس میں اختلاف کریں، تو بادشاہ (حاکم وقت) اس کا ولی ہے، جس کا
کوئی ولی نہ ہو۔
Explicação Hadith بيان الحديث
في هذا الحديث بين النبي -صلى الله عليه
وسلم- اشتراط إذن الولي في صحة النكاح, وأن المرأة إذا تزوجت بغير إذن
وليها, بحيث باشرت عقد النكاح بنفسها, فنكاحها غير صحيح, فإن حصل وطء في
هذا الزواج فُرِّق بين الرجل والمرأة, واستحقت المرأة المهر بذلك الوطء, ثم
بين النبي -صلى الله عليه وسلم- أن الأولياء إذا تنازعوا في تزويج المرأة,
أو اختلفت هي مع أوليائها انتقل أمرها إلى السلطان, وأن السلطان يعتبر ولي
من لا ولي له.
575;س حدیث میں نبی ﷺ نے نکاح کی صحت کے
لیے ولی کی اجازت کو شرط قرار دیا ہے۔ اگر عورت ولی کی اجازت کے بغیر شادی
کرتی ہے، اس طرح کہ خود عقدِ نکاح کرے، تو اس کا نکاح صحیح نہیں ہے۔ اگر اس
طرح کی شادی میں وطی و ہم بستری ہو جاتی ہے، تو مرد و عورت کے درمیان تفریق
کرا دی جائے گی اور اس ہم بستری کی وجہ سے عورت مہر کی مستحق ہوگی۔ پھر نبی
ﷺ نے بیان کیا کہ اگر عورت کے ولی شادی سے متعلق اختلاف کریں یا خود عورت
اپنے ولیوں سے اختلاف کرے، تو اس کا معاملہ سلطان کی طرف منتقل ہو جائے گا
اور جس کا ولی نہ ہو سلطان اس کا ولی ہوگا۔ -- [صحیح]+ +[اسے ابنِ
ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو
داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی
نے روایت کیا ہے۔]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58067
|
|
Hadith 1933 الحديث
الأهمية: الثيب أحق بنفسها من وليها، والبكر
تستأمر، وإذنها سكوتها
Tema:
شادی شدہ لڑکی، اپنے نفس کی اپنے ولی سے
زیادہ حق دار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور
اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے۔ |
عن ابن عباس -رضي الله عنهما- أن النبي
-صلى الله عليه وسلم- قال: «الثَّيِّب أحقُّ بنفسها مِن وَلِيِّها، والبِكر
تُسْتَأمَر، وإذْنُها سُكُوتها».
ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ
نبی ﷺ نے فرمایا کہ شادی شدہ لڑکی، اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حق دار
ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی
ہی اس کی اجازت ہے۔
Explicação Hadith بيان الحديث
دل الحديث على أن الثيب أحق بنفسها من
وليها في الإذن بمعنى أنه لا يزوجها حتى تأذن له بالنطق لأنها أحق منه
بالعقد فإن لم ترض فليس للولي مع الثيب أمر, والبكر البالغ يستأذنها وليها
في تزويجها, وإذنها سكوتها, وسكوتها إقرارها ولا يجوز إجبارها.
575;س حدیث میں اس مسئلہ کی رہنمائی ملتی
ہے کہ شادی شدہ لڑکی اپنی شادی کی اجازت کے تئیں اپنے ولی کے مقابلہ میں
ازخود زیادہ حق دار ہے اور یہ اس معنی میں کہ اس کے زبانی اقرار کے بغیر اس
کا نکاح نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ ولی سے زیادہ اپنا نکاح کرنے کا حق
رکھتی ہے اور اگر وہ نکاح کے لیے راضی نہ ہو تو اس شادی شدہ کے ساتھ ولی کو
کوئی اختیار نہیں رہتا اور بالغ کنواری لڑکی سے اس کا ولی، اس کے نکاح کی
اجازت طلب کرے گا اور اس کی خاموشی ہی اس کی جانب سے اجازت اور اس کا اقرار
ہے اور خیال رہے کہ اس کا نکاح بھی زبردستی کرنا جائز نہیں۔ -- [صحیح]+ +[اسے امام
مسلم نے روایت کیا ہے۔]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58068
|
|
Hadith 1934 الحديث
الأهمية: لا تزوج المرأة المرأة، ولا تزوج المرأة
نفسها، فإن الزانية هي التي تزوج نفسها
Tema:
عورت، عورت کا نکاح نہ کرائے اور نہ
عورت خود اپنا نکاح کرے، اس لیے کہ بدکار عورت ہی اپنا نکاح خود کرتی ہے۔ |
عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال
رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا تُزوِّجُ المرأةُ المرأةَ، ولا تُزوج
المرأةُ نفسَها، فإنَّ الزَّانية هي التي تُزوجُ نفسَها».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ
کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورت، عورت کا نکاح نہ کرائے اور نہ
عورت خود اپنا نکاح کرے، اس لیے کہ بدکار عورت ہی اپنا نکاح خود کرتی ہے“۔
Explicação Hadith بيان الحديث
دل الحديث على أن المرأة لا يثبت لها
ولاية في النكاح لا لنفسها، ولا لغيرها, وأن النكاح الذي زوّجت فيه المرأةُ
نفسها هو نكاح باطل، وأما قوله: (فإن الزانية هي التي تزوج نفسها) فهو من
كلام أبي هريرة -رضي الله عنه-, ويريد من ذلك أن مباشرة المرأة للعقد من
شأن الزانية فلا ينبغي أن يقع النكاح إلا بولي.
740;ہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ
نکاح میں عورت کو ولایت کا حق حاصل نہیں ہے؛ نہ اپنے لیے اور نہ دوسری کسی
عورت کے لیے۔ نیز ہر وہ نکاح جس میں عورت خود شادی کرتی ہے، باطل ہے۔ اور
یہ قول: ”اس لیے کہ بدکار عورت ہی اپنا نکاح خود کرتی ہے“، ابوہریرہ رضی
اللہ عنہ کا ذاتی کلام ہے۔ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ عورت کا از خود نکاح
کرنا زانیہ کی پہچان ہے۔ چنانچہ بغیر ولی کے نکاح نہیں ہونا چاہیے۔ -- [صحیح]+ +[اسے ابنِ
ماجہ نے روایت کیا ہے۔]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58069
|
|
Hadith 1935 الحديث
الأهمية: أن جارية بكرا أتت النبي -صلى الله عليه
وسلم- فذكرت أن أباها زوجها وهي كارهة، فخيرها النبي -صلى الله عليه وسلم-
Tema:
ایک کنواری لڑکی نبی ﷺ کے پاس آئی اور
اس نے یہ بیان کیا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کردیا ہے جسے وہ ناپسند کرتی
ہے چناچہ نبی کریم ﷺ نے اسے اختیار دے دیا۔ |
عن ابن عباس، أن جَاريةً بِكْراً أتَتِ
النبي -صلى الله عليه وسلم- فذكرت «أنَّ أباها زَوَّجَها وهي كارهة،
فَخَيَّرَهَا النبي -صلى الله عليه وسلم-».
ابن عباس (رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے
کہ ایک کنواری لڑکی نبی ﷺ کے پاس آئی اور اس نے یہ بیان کیا کہ اس کے باپ
نے اس کا نکاح کردیا ہے جسے وہ ناپسند کرتی ہے چناچہ نبی کریم ﷺ نے اسے
(نکاح کو باقی رکھنے یا فسخ کردینے کا) اختیار دے دیا۔
Explicação Hadith بيان الحديث
أفاد هذا الحديث أن شابة صغيرة السن لم
تزل بكارتها بنكاح سابق، جاءت فأخبرت النبي -عليه الصلاة والسلام- أن أباها
أراد أن يزوجها من رجل بغير رضاها ولا إذنها، فخيرها النبي -عليه الصلاة
والسلام- بين أن تبقى تحت ذمة هذا الزوج إنفاذًا لتزويج أبيها، أو تفسخ هذا
النكاح وترده؛ وذلك لأن إذنها معتبر في الشرع، فلا يزوجها الولي إلا بإذنها
ورضاها, ولو كانت بكراً وهي عاقلة بالغة، فلها أن تختار أو ترفض. والقول
باعتبار رأي البكر البالغة, وعدم جواز إجبارها اختيار اللجنة الدائمة
للبحوث العلمية والإفتاء بالمملكة العربية السعودية.
740;ہ حدیث اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ ایک
نوجوان کم سن دوشیزہ جس کی بکارت ابھی کسی نکاحِ سابق سے زائل نہیں ہوئی
تھی، نبی ﷺ کے پاس آئی اور بیان کیا کہ اس کے باپ نے اس کی شادی اس کی
رضامندی واجازت کے بغیر کسی شخص سے کرنے کا ارادہ کیا ہے، تو نبی ﷺ نے اسے
اس بات کا اختیار دیا کہ وہ اپنے باپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس شوہر کے
عقد میں رہے یا اس نکاح کو فسخ کرتے ہوئے اس کو رد کردے، کیوں کہ شریعت میں
اس (لڑکی) کی اجازت کا اعتبار کیا گیا ہے، لہذا ولی اس کی اجازت اور
رضامندی کے بغیر اس کی شادی نہیں کراسکتا۔ اور اگر وہ باکرہ ہو اور عقل مند
و بالغہ ہو تو اسے ولی کی بات ماننے یا انکار کرنے کا حق حاصل ہے۔ باکرہ اور
بالغہ لڑکی کی رائے کے اعتبار کرنے اور اسے مجبور نہ کرنے کے قول کو سعودی
عرب کی مستقل کمیٹی برائے افتاء نے اختیار کیا ہے۔ -- [صحیح]+ +[اسے ابنِ
ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام
احمد نے روایت کیا ہے۔]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58070
|
|
Hadith 1936 الحديث
الأهمية: أيما عبد تزوج بغير إذن مواليه، فهو
عاهر
Tema:
جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر
نکاح کر لے، وہ زانی ہے۔ |
عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما-
عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «أَيُّما عَبْدٍ تَزَوَّج بغَيْر إذْن
مَوَالِيهِ، فهو عاهِرٌ».
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے
روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر
لے، وہ زانی ہے“۔
Explicação Hadith بيان الحديث
معنى الحديث أن العبد إذا تزوج
بدون إذن سيده فزواجه غير صحيح، وعقده فاسد، وحكمه حكم الزاني,
وبناءً على ذلك يجب فسخ نكاحه، والتفريق بينه وبين من عقد عليها؛ لأن العبد
لا يمكن أن يزوج نفسه.
581;دیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر غلام اپنے
مالک کی اجازت کے بغیر شادی کر لے، تو اس کی شادی صحیح نہیں ہے، بلکہ اس کا
عقد فاسد اور اس کا حکم زانی کا حکم ہے۔ اسی وجہ سے اس کا نکاح فسخ کر دینا
اور جس سے عقد ہوا ہے، اس کے اور غلام دونوں کے درمیان تفریق کر دینا واجب
ہے؛ کیوں کہ غلام کے لیے خود سے شادی کرنا ممکن نہیں ہے۔ -- [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ
ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو
داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی
نے روایت کیا ہے۔]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58072
|
|
Hadith 1937 الحديث
الأهمية: تزوج النبي -صلى الله عليه وسلم- ميمونة
وهو محرم، وبنى بها وهو حلال، وماتت بسرف
Tema:
جب نبی کریم ﷺ نے ام المؤمنین میمونہ
رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ حالتِ احرام میں تھے اور جب ان سے خلوت کی
تو آپ احرام کھول چکے تھے اور ان کا انتقال بھی مقام سرف میں ہوا۔ |
عن ابن عباس، قال: "تَزَوَّج النبيُّ
-صلى الله عليه وسلم- مَيْمُونَة وهو مُحْرِمٌ، وبَنَى بِها وهو حَلالٌ،
وماتَتْ بِسَرِف".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان
کیا کہ جب نبی کریم ﷺ نے اُمّ المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا
تو آپ محرم (حالتِ احرام میں) تھے اور جب ان سے خلوت کی تو آپ احرام کھول
چکے تھے اور ان کا انتقال بھی مقام سرف میں ہوا۔
Explicação Hadith بيان الحديث
يفيد هذا الحديث الذي رواه ابن عباس
-رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- عقَد على أم المؤمنين
ميمونة وهو متلبس بالإحرام, وأنه دخل بها وهو متحلل غير محرم, وأنها -رضي
الله عنها- ماتت بمكان بين مكة والمدينة اسمه سرف, وهو المكان الذي دخل بها
فيه، وبيَّن العلماء أن ما ذكره ابن عباس-رضي الله عنهما- في هذا الحديث
-مِن كون النبي صلى الله عليه وسلم تزوج ميمونة وهو محرم- وَهمٌ منه -رضي
الله عنه-؛ لأنه انفرد برواية ذلك وحده، وخالفه أكثر الصحابة، وممن خالفه
ميمونة وأبو رافع -رضي الله عنهما-، وهما أعلم بالقصة؛ لأنهما المباشران
لها, فقد قال أبو رافع -رضي الله عنه- : "كنتُ السفير بين النبي -صلى الله
عليه وسلم- وميمونة، فتزوَّجها وهو حلال، وبنى بها حلالًا" وكانت أم
المؤمنين ميمونة -رضي الله عنها- تقول: "تزوجني وهو حلال". ولعل ابن
عباس -رضي الله عنهما- لم يطلع على زواجه -صلى الله عليه وسلم- بميمونة إلا
بعد أن أحرم- صلى الله عليه وسلم-, فظن أنه تزوجها وهو محرم, وحمل بعض أهل
العلم حديث ابن عباس على أنه تزوجها في الحرم وهو حلال.
593;بداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی
اس حدیث سے یہ فوائد مستفاد ہوتے ہیں کہ جس وقت نبی ﷺ نے ام المؤمنین
میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے نکاح فرمایا تو آپ احرام کا لباس زیب تن
کیے ہوئے تھے اور ان سے خلوت فرمائی تو احرام کھول کر حلال ہوچکے تھے۔ مکہ
اور مدینہ کے درمیان واقع 'سرف' نامی مقام پر اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنھا
کی وفات ہوئی اور یہی وہ مقام ہے جہاں آپ ﷺ نے ان سے خلوت فرمائی۔ ابن عباس
رضی اللہ عنھما کی ذکر کردہ اس حدیث کے تئیں کہ نبی ﷺ نے میمونہ رضی اللہ
عنھا سے حالتِ احرام میں نکاح کیا، علماء نے یہ وضاحت کی کہ ابن عباس رضی
اللہ عنھما کو وہم ہوگیا؛ کیوں کہ اس روایت کے وہی منفرد راوی ہیں اور
جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے ان کی مخالفت ثابت ہے اور اس قصہ کا سب
سے زیادہ علم رکھنے والی شخصیات میمونہ رضی اللہ عنھا اور ابورافع رضی اللہ
عنہ سےان کی مخالفت مروی ہے، کیوں کہ ان دونوں سے اس قصہ کا براہ راست تعلق
رہا۔ ابورافع رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ میں نبی ﷺ اور میمونہ رضی اللہ
عنھا کے مابین سفیر کی حیثیت سے تھا اور آپ ﷺ نے ان سے حالت حلال ہی میں
نکاح فرمایا اور حالت حلال ہی میں خلوت فرمائی۔ خود ام المؤمنین میمونہ رضی
اللہ عنھا فرمایا کرتی تھیں آپ ﷺ نے مجھ سے حالت حلال ہی میں نکاح فرمایا۔ یہ ہوسکتا
ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کو نبی ﷺ کے میمونہ رضی اللہ عنھا سے نکاح
کا علم، آپ ﷺ کے حالتِ احرام میں آنے کے بعد ہوا ہو اور انھیں یہ گمان
ہوگیا کہ آپ ﷺ نے حالت احرام میں ان سے نکاح فرمایا۔ بعض اہلِ علم نے ابن
عباس رضی اللہ عنھما کی حدیث کو اس بات پر محمول کیا کہ آپ ﷺ نے میمونہ رضی
اللہ عنھا سے حدود حرم میں نکاح فرمایا اور آپ اس وقت حلال تھے۔ -- [اس حدیث
کی سند صحیح ہے۔]+ +[متفق
علیہ]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58073
|
|
Hadith 1938 الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم-
تزوجها وهو حلال
Tema:
رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی تو آپ اس
وقت حلال تھے۔ |
عن يَزِيد بن الأصمِّ قال: حدَّثَتْني
مَيْمونَة بنت الحارث -رضي الله عنها- «أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم-
تَزَوَّجها وهو حلال»، قال: «وكانت خالَتي، وخالةَ ابنِ عباس».
یزید بن اصم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں
کہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول
اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی تو آپ ﷺ اس وقت حلال تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میمونہ
رضی اللہ عنہا میری بھی خالہ تھیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بھی۔
Explicação Hadith بيان الحديث
ذكر يزيد بن الأصم أن أم المؤمنين
ميمونة بنت الحارث -رضي الله عنها- أخبرته أن رسول الله -صلى الله عليه
وسلم- تزوجها وهو متحلل من إحرامه, فلم يكن أثناء زواجه بها محرمًا بحج أو
عمرة, ثم ذكر قرابته بميمونة -رضي الله عنها- وأنها كانت خالته, كما كانت
خالة ابن عباس -رضي الله عنهما-، مما يدل على قربه من صاحبة القصة، وأنه لم
يكن محرمًا كما قال ابن عباس.
740;زید بن اصم نے یہ بات ذکر فرمائی کہ ام
المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنھا نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے
ان سے نکاح کیا تو اس وقت آپ ﷺ احرام کھول کر حلال ہوچکے تھے اور آپ ﷺ نے
ان سے نکاح کے دوران کسی حج یا عمرہ کا احرام نہیں پہنا تھا۔ پھر یزید بن
اصم، میمونہ رضی اللہ عنھا سے اپنی رشتہ داری کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں
کہ جس طرح وہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی خالہ تھیں، ان کی بھی خالہ تھیں،
جس سے یہ دلیل ملتی ہے کہ وہ قصہ بیان کرنے والی ام المؤمنین رضی اللہ عنھا
کے قریبی رشتہ دار تھے اور آپ ﷺ احرام میں نہیں تھے،جیسا کہ ابن عباس رضی
اللہ عنھما کا خیال ہے (کہ آپ احرام میں تھے)۔ -- [صحیح]+ +[اسے امام
مسلم نے روایت کیا ہے۔]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58074
|
|
Hadith 1939 الحديث
الأهمية: رخص رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عام
أوطاس، في المتعة ثلاثا، ثم نهى عنها
Tema:
رسول اللہ ﷺ نے (غزوۂ) اوطاس کے سال
تین (دن) کے لیے متعہ کی رخصت دی اور پھر اس سے منع فرما دیا۔ |
عن إياس بن سلمة، عن أبيه، قال:
«رَخَّصَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عَامَ أَوْطَاسٍ، في المُتْعَة
ثلاثا، ثم نَهَى عنها».
ایاس بن سلمہ اپنے والد سلمہ سے روایت
کرتے ہیں، انھوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے (غزوۂ) اوطاس کے سال تین (دن) کے
لیے متعہ کی رخصت دی اور پھر اس سے منع فرما دیا۔“
Explicação Hadith بيان الحديث
سَن الشارع النكاح لقصد الاجتماع
والدوام والألفة وبناء الأسرة, ولذا كان كل قصد أو شرط يخالف هذه الحكمة من
النكاح باطلا, ومن هنا حرم نكاح المتعة، وهو أن يتزوج الرجل المرأة إلى
أجل، وقد وقع الترخيص فيه سنة غزوة أوطاس, وذلك في شوال من عام ثمانية من
الهجرة مدة ثلاثة أيام فقط؛
لداعي الضرورة, ثم حرَّمه النبي -صلى الله عليه وسلم- تحريمًا مؤبدًا؛ لما
فيه من المفاسد، من اختلاط في الأنساب؛ واستئجار للفروج، ومجافاة للذوق
السليم والطبيعة المستقيمة.
588;ارع نے اجتماع و ہمیشگی، الفت و محبت
اور خاندان بنانے کی غرض سے نکاح کو مسنون قرار دیا ہے۔ اس لیے ہر وہ غرض و
شرط جو نکاح کی اس حکمت کے خلاف ہو، باطل ہے؛ یہی وجہ ہے کہ نکاحِ متعہ
حرام ہے۔ نکاح متعہ یہ ہے کہ آدمی عورت سے ایک مقررہ مدت تک کے لیے شادی
کرے۔ اس سلسلے میں غزوۂ اوطاس کے سال رخصت دی گئی۔ یہ شوال آٹھ ہجری میں
پیش آیا اور ضرورت کے تحت صرف تین دن کی اجازت دی گئی۔ پھر نبی ﷺ نے ہمیشہ
کے لیے اسے حرام قرار دے دیا۔ کیوں کہ اس میں بہت سے مفاسد و خرابیاں پائی
جاتی ہیں۔ مثلا نسبوں کا اختلاط، شرم گاہوں کو کرایے پر لینا اور ذوقِ سلیم
اور طبیعت مستقیمہ کے لیے اذیت ناکی۔ -- [صحیح]+ +[اسے امام
مسلم نے روایت کیا ہے۔]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58075
|
|
Hadith 1940 الحديث
الأهمية: لعن الله المحلل والمحلل له
Tema:
حلالہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں
پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے۔ |
عن علي -رضي الله عنه- أن النبي -صلى
الله عليه وسلم- قال: «لَعَنَ اللهُ المُحَلِّل، والمُحَلَّلَ له».
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے
فرمایا کہ حلالہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں پر اللہ نے لعنت کی ہے۔
Explicação Hadith بيان الحديث
لما كانت المطلقة ثلاثاً لا تحل لزوجها
الأول حتى ينكحها زوج غيره, ويطأها, فإن البعض قد يلجأ للتحايل على الأحكام
الشرعية, فيتفق مع رجل آخر على أن يتزوج هذه المرأة زواجاً صورياً ثم
يطلقها, ليس بقصد الزواج الشرعي, ولكن بغرض تحليلها للزوج الأول, ولما في
ذلك من التحايل على الشرع, وخسة النفس, وقلة الحمية والمروءة, حرَّم النبي
-صلى الله عليه وسلم- هذا النكاح, ودعا على المحلل والمحلل له بالطرد
والإبعاد من رحمة الله -تعالى-.
578;ین طلاق شدہ خاتون اپنے پہلے شوہر کے
لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتی جب تک اس مطلقہ خاتون سے کوئی دوسرا مرد
نکاح کرتے ہوئے اس کے ساتھ ہمبستری نہ کرلے، اس کے باوجود بعض لوگ شرعی
احکام میں باہمی حیلہ سازی کا سہارا لیتے ہیں اور ایسا شخص دوسرے کے ساتھ
یہ معاہدہ کرتا ہے کہ وہ اس خاتون سے مصنوعی و حیلہ پر مبنی نکاح کرے، پھر
اس کو طلاق دے ، اس سے شرعی نکاح مقصود نہیں ہوتا بلکہ یہ پہلے شوہر کے لیے
اس خاتون کو حلال کرنے کی غرض سے کیا جاتا ہے۔ دراصل اس میں شریعت کے تئیں
باہمی حیلہ سازی اختیار کرنے، گھٹیا نفسانی صفت، نخوت اور انسانی اخلاق کی
کمی پائی جاتی ہے، اسی لیے نبی ﷺ نے اس نکاح کو حرام قرار دیا اور حلالہ
کرنے والے اور کرانے والے دونوں پر لعنت فرمائی اور لعنت میں اللہ تعالیٰ
کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کیے جانے کا مفہوم ہے۔ -- [صحیح]+ +[اسے ابنِ
ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو
داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58076
|
|
Hadith 1941 الحديث
الأهمية: لا ينكح الزاني المجلود إلا مثله
Tema:
کوڑے کھایا ہوا زناکار اپنے جیسی عورت
ہی سے شادی کرے۔ |
عن أبي هريرة -رضي الله عنه-، قال: قال
رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا يَنْكِحُ الزَّاني المَجْلود إلا
مثْلَه».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول
اللہ ﷺنے فرمایا کہ کوڑے کھایا ہوا زناکار اپنے جیسی عورت ہی سے شادی کرے۔
Explicação Hadith بيان الحديث
الحديث فيه بيان لنوع من أنواع الأنكحة
الباطلة, وهو نكاح الزاني الذي لم يتب من الزنى؛ وثبت زناه لا يجوز له أن
يتزوج مسلمة عفيفة, إذ لا يُقْدِم على نكاحه من النساء إلاَّ أنثى زانيةٌ
مثله، يُناسب حاله حالها, وهذا الحكم إذا لم يتب من هذا الذنب العظيم, كما
أن الزانية التي ارتكبت هذه الفاحشة لا يجوز للمسلم أن يتزوجها وهي غير
تائبة من الزنى, ووصف الزاني بالمجلود وصف أغلبي؛ لأن الغالب أن من ثبت
زناه جلد, وإلا فالحكم يشمل الزاني الذي لم يجلد, فإن حصل عقد في الحالين
فهو عقد باطل، وقال -تعالى-: (الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية
لا ينكحها إلا زان أو مشرك).
575;س حدیث میں باطل و ناجائز نکاحوں کی
ایک قسم بیان کی گئی ہے اور یہ وہ نکاح ہے جس میں زانی، اپنی زناکاری سے
تائب نہ ہو اور اس کا زناکار ہونا ثابت ہو تو ایسے شخص کے لیے جائز نہیں کہ
وہ کسی پاکباز مسلمان خاتون سے نکاح کرے کیونکہ اس سے نکاح کے لیے اسی جیسی
زناکار خاتون ہی آگے آسکتی ہے اور جن کی حالت ایک دوسرے سے مناسبت رکھتی ہے
اور یہ حکم اس وقت جاری ہوگا جب وہ اس عظیم گناہ سے توبہ نہ کرے۔ نیز یہ کہ
بدکاری کی مرتکب اس زناکار خاتون سے بھی کسی مسلمان کا نکاح کرنا جائز نہیں
جو زناکاری سے تائب نہ ہوئی ہو۔ زناکار کو کوڑے کھانے والے سے متصف کرنا،
غلبہ صفت کی بناء پر ہے کیونکہ اکثر یہی ہوتا ہے کہ جس کا زناکار ہونا ثابت
ہوجائے تو اس کو کوڑے لگائے جاتے ہیں، ورنہ اس حکم میں وہ زناکار بھی شامل
ہے جس کو کوڑے نہیں لگائے گئے ہوں۔اگر ان دونوں حالات میں نکاح ہوجائے تو
ایسا نکاح باطل ہوگا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿الزَّانِي لَا يَنكِحُ
إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا
زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ ”زانی مرد
بجز زانیہ یا مشرکہ عورت کے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں کرتا اور زناکار
عورت بھی بجز زانی یا مشرک مرد کے کسی اور مرد سے نکاح نہیں کرتی اور ایمان
والوں پر یہ حرام کردیا گیا“۔ -- [صحیح]+ +[اسے امام
ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58077
|
|
Hadith 1942 الحديث
الأهمية: لا، حتى يذوق الآخر من عسيلتها ما ذاق
الأول
Tema:
نہیں، یہاں تک کہ دوسرا یعنی شوہرِ ثانی
اس کا مزہ چکھے جیسا کہ پہلے نے مزہ چکھا تھا |
عن عائشة -رضي الله عنها-، قالت: طلَّق
رجل امرأَته ثلاثا، فَتَزوَّجها رجل، ثم طلَّقها قَبْل أن يَدْخُل بها،
فَأَراد زوجها الأول أن يتزوَّجها، فسُئِل رسول الله -صلى الله عليه وسلم-
عن ذلك، فقال: «لا، حتى يَذُوَق الآخرُ مِنْ عُسَيْلَتِها ما ذَاقَ
الأوَّل».
عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے وہ کہتی
ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیں، تو اس سے ایک دوسرے
آدمی نے شادی کرلی پھر اس نے صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دی، اب اس کے
پہلے خاوند نے اس سے شادی کا ارادہ کیا اور رسول ﷺ سے اس کے بارے میں سوال
کیا گیا، نبی ﷺ نے فرمایا: نہیں، یہاں تک کہ دوسرا یعنی شوہرِ ثانی اس کا
مزہ چکھے جیسا کہ پہلے نے مزہ چکھا تھا۔
Explicação Hadith بيان الحديث
جاءت امرأة رفاعة القرظي شاكية حالها
إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-, فأخبرته أنها كانت زوجًا لرفاعة، فبتَّ
طلاقها بالتطليقة الأخيرة، وهي الثالثة من طلقاتها، وأنها تزوجت بعده عبد
الرحمن بن الزَّبِير -بفتح الزاي- فلم يستطع أن يمسها, فطلقها، فَأَراد
زوجها الأول أن يتزوَّجها، فسألت النبي -صلى الله عليه وسلم- عن ذلك, فمنعه
ونهى عنه، وأخبرها بأنه لابد لحل رجوعها إلى رفاعة من أن يطأها زوجها
الأخير.
585;فاعہ قرظی کی بیوی اپنی حالت کی شکایت
لے کر نبی ﷺ کے پاس آئیں، انہوں نے بتایا کہ وہ رفاعہ کی زوجیت میں تھیں
کہ انہوں نے انہیں آخری طلاق طلاقِ بتہ دے دیا، یعنی تینوں طلاق دے دی،
اور انہوں نے عبدالرحمان بن زَبِیر سے شادی کرلی، انہوں نے انہیں چھوا بھی
نہیں اور طلاق دے دی، اب ان کے پہلے شوہر نے ان سے شادی کرنی چاہی تو انہوں
نے اس کے بارے میں نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا، آپ ﷺ نے منع فرمایا اور اس
سے روک دیا۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ رفاعہ کی جانب رجوع کے جواز کے لیے
ضروری تھا کہ دوسرے شوہر نے ان سے وطی کیا ہو۔ -- [صحیح]+ +[متفق
علیہ]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58078
|
|
Hadith 1943 الحديث
الأهمية: يا بني بياضة أنكحوا أبا هند وأنكحوا
إليه
Tema:
بنی بیاضہ کے لوگو! ابوہند سے تم (اپنی
بچیوں کی) شادی کرو اور (ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے) تم انہیں نکاح
کا پیغام دو۔ |
عن أبي هريرة -رضي الله عنه-، أن أبا
هِنْد، حَجَمَ النبي -صلى الله عليه وسلم- في اليَافُوخ، فقال النبي -صلى
الله عليه وسلم-: «يا بَنِي بَيَاضَةَ، أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ،
وَانْكِحُوا إلَيْهِ» وقال: «وإنْ كان في شيء مِمَّا تَدَاوُون به خيرٌ
فَالحِجَامة».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ابوہند نے نبی اکرم ﷺ کے سر کی تالو میں پچھنا لگایا تو آپ نے فرمایا: بنی
بیاضہ کے لوگو! ابوہند سے تم (اپنی بچیوں کی) شادی کرو اور (ان کی بچیوں سے
شادی کرنے کے لیے) تم انہیں نکاح کا پیغام دو اور فرمایا اگر تمہاری دواؤں
میں سے کسی میں خیر ہے تو وہ پچھنا لگانے ہی میں ہے۔
Explicação Hadith بيان الحديث
هذا الحديث فيه أن النبي -صلى الله عليه
وسلم- احتجم عند أبي هند -رضي الله عنه- في رأسه, وهو يدل على عدم اعتبار
الكفاءة لا في النسب، ولا في المهنة؛ وذلك أنَّ النَّبيَّ -صلى الله عليه
وسلم- أمر إحدى قبائل الأنصار، وهم القبيلة القحطانية الأزدية العربية أن
يُنكِحُوا أبا هند، وأن يخطبوا إليه بناته, وهو من موالي بني بياضة
المذكورين، وكان مع ما مسَّه من الرق حجَّامًا، والحجامة عند العرب صناعة
دنيئة, فلم يعتبر الكفاءة في النسب أو المهنة, وتدل النصوص الأخر على
اعتبار الكفاءة في الدين والخلق. ثم ذكر أن
الحجامة من خير ما يتداوى به المرء.
575;س حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ نبی ﷺ
نے ابوہند رضی اللہ عنہ کے ہاں اپنے سر میں پچھنا لگوایا، یہ اس بات کی
دلیل ہے کہ (نکاح کے لیے) حسب و نسب اور پیشے میں کفؤ (برابری) کا اعتبار
نہیں ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے ایک انصاری قبیلہ (عرب کا ازدی قحطانی النسل
قبیلہ) کو حکم دیا کہ وہ ابوہند سے (اپنی بچیوں کی) شادی کریں اور ان کی
بچیوں سے شادی کرنے کے لیے انہیں نکاح کا پیغام دیں اور ابوہند بنی بیاضہ
کے آزاد کردہ غلاموں میں سے تھے اور وہ غلامی کی وجہ سے لاحق ایذا و مصیبت
کے ساتھ پیشہ کے اعتبار سے حجام (پچھنا لگانے کا کام کرتے) تھے اور عرب کے
نزدیک پچھنا لگانا بہت حقیر و گھٹیا پیشہ متصور تھا، چنانچہ آپ ﷺ نے حسب و
نسب یا پیشہ میں کفو و برابری کا اعتبار نہ کیا اور دیگر نصوص میں یہ دلیل
ملتی ہے کہ دینداری اور اچھے اخلاق میں کفو کو ملحوظ رکھا جائے۔ پھر آپ ﷺ
نے فرمایا کہ انسان کے علاج معالجہ میں سب سے بہتر علاج، پچھنا لگانا ہے۔ -- [حَسَنْ]+ +[اسے امام
ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58080
|
|
Hadith 1944 الحديث
الأهمية: الولاء لمن ولي النعمة
Tema:
ولاء (میراث) کا حق دار ولی نعمت (آزاد
کرانے والا) ہوتا ہے |
عن عائشة -رضي الله عنها- أنها اشترتْ
بَريرَة مِنْ أُناسٍ من الأنصار واشْتَرَطوا الوَلاء، فقال رسول الله -صلى
الله عليه وسلم-: «الوَلاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَة»، وخَيَّرَهَا رسول
الله -صلى الله عليه وسلم- وكان زوْجُها عبْدا، وأهدَتْ لعائشة لحْما، فقال
رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لو صَنَعْتُم لنا من هذا اللحم»، قالت
عائشة: تُصُدِّقَ به على بَرِيرَة، فقال: «هو لها صدَقة ولنا هديَّة».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
انھوں نے بریرہ کو کچھ انصاریوں سے خریدا، جنھوں نے (اپنے لیے) ولاء
(میراث) کی شرط رکھی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولاء (میراث) کا حق دار
ولی نعمت (آزاد کرانے والا) ہوتا ہے“۔ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ رضی اللہ عنہا
کو (نکاح کو باقی رکھنے کے متعلق) اختیار دیا۔ ان کے شوہر غلام تھے۔ بریرہ
رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو گوشت کا ہدیہ بھیجا، تو رسول اللہ
ﷺ نے فرمایا: ”اس گوشت میں ہمارے لیے بھی تو حصہ رکھنا تھا“۔ عائشہ رضی
اللہ عنہا نے کہا: وہ گوشت بریرہ کے پاس صدقہ آیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
”وہ بریرہ کے لیے صدقہ تھا؛ لیکن ہمارے لیے (صدقہ نہیں) ہدیہ ہے“۔
Explicação Hadith بيان الحديث
أفاد الحديث أن أم المؤمنين عائشة -رضي
الله عنها- اشترت بريرة وأعتقتها فأراد أصحابها أن يكون ولاؤها لهم,
فأخبرها -عليه الصلاة والسلام- بأن هذا الشرط
لا يصح، وأن من أنعم بالعتق على العبد يكون ولاؤه له، و وبريرة كانت
زوجة لعبد اسمه مغيث، فلما
تحررت وملكت نفسها خيَّرها
-عليه الصلاة والسلام- بين أن تبقى تحته, أو تفارقه؛ لأنها صارت أعلى منه
رتبة بحريتها، ثم إنه أهدي لها لحم, فأرسلت لعائشة منه, فأراد -عليه الصلاة
والسلام- أن يأكل منه, فأخبرته عائشة -رضي الله عنها- بأنه صدقة أعطيت
لبريرة, وهو -عليه الصلاة والسلام- لا يأكل الصدقة, فأخبرها -عليه الصلاة
والسلام- بأن بريرة ملكته عن طريق الصدقة, وينتقل إلى النبي -عليه الصلاة
والسلام- بطريق الهدية, فيتغير حكمه, ويصير هدية وهبة, فلا يحرم عليه ولا
على أهل بيته.
575;س حدیث سے معلوم ہوا کہ ام المومنین
عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خرید کر آزاد کر دیا، تو ان کے مالکوں نے
ولاء (وراثت) کا حق اپنے لیے چاہا۔ اس پر نبی ﷺ نے بتایا کہ یہ شرط درست
نہیں ہے۔ یہ حق غلام آزاد کرانے والے کو حاصل ہے۔ بریرہ مغیث نامی ایک غلام
کی بیوی تھیں۔ جب وہ آزاد ہوئیں اور اپنی ذات کی مالک ہو گئیں، تو نبی ﷺ نے
انھیں اپنے شوہر کے ساتھ رہنے یا ان سے جدا ہو جانے کی اجازت مرحمت فرمادی؛
کیوں کہ وہ آزادی کی وجہ سے شوہر کی بہ نسبت اعلیٰ مرتبہ پر فائز ہو چکی
تھیں۔ پھر انھیں گوشت کا ہدیہ دیا گیا، تو اس میں سے کچھ انھوں نے عائشہ
رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، جس میں سے نبی ﷺ نے بھی کھانے کا ارادہ کیا۔
عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ وہ صدقہ ہے، جو بریرہ کو دیا گیا تھا اور
آپ ﷺ صدقہ نہیں کھاتے تھے۔ لیکن آپ ﷺ نے بتایا کہ بریرہ صدقے کی راہ سے اس
کی مالک ہوچکی ہیں اور اس نے اسے ہدیے کے طور پر نبی ﷺ کی طرف منتقل کیا
ہے؛ اس لیے اس کا حکم بدل گیا اور وہ ہدیہ اور تحفہ ہو گیا؛ بنا بریں وہ آپ
پر اور آپ کے اہل بیت پر حرام نہیں ہے۔ -- [صحیح]+ +[متفق
علیہ]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58081
|
|
Hadith 1945 الحديث
الأهمية: طلق أيتهما شئت
Tema:
ان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو۔ |
عن الضحاك بن فيروز، عن أبيه قال: قلت:
يا رسول الله، إني أسلمت وتحتي أختان؟، قال: «طَلِّق أيتَهُما شِئتَ».
ضحاک بن فیروز رضی اللہ عنہ اپنے والد
سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے
اسلام قبول کر لیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان
دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو۔
Explicação Hadith بيان الحديث
فيروز الديلمي -رضي الله عنه- صحابي من
أهل اليمن أسلم وعنده زوجتان، هما أختان، وقد كان أهل الجاهلية يتزوجون
الأختين معا لا يرون بذلك بأساً، فأمره النبي -صلى الله عليه وسلم- أن
يختار منهما واحدة، لتبقى له زوجة، ويطلق الأخرى؛ لأنَّه لا يجوز الجمع بين
الأختين في الإسلام.
575;ہلِ یمن سے تعلق رکھنے والے صحابی رسول
ﷺ ، فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو اس وقت ان کی دو بیویاں
تھیں جوسگی بہنیں تھیں اور اہل جاہلیت کے ہاں دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح
کرنے کا رواج تھا، وہ اس کوکوئی گناہ نہیں سمجھتے تھے،چنانچہ نبی ﷺ نے
انھیں حکم دیا کہ وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کریں تاکہ ان کے
ہاں ایک بیوی رہے اور وہ دوسری کو طلاق دے دیں؛کیونکہ دین اسلام میں دو سگی
بہنوں کو نکاح میں ایک ساتھ رکھنا، جائز نہیں ہے۔ -- [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ
ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو
داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58082
|
|
Hadith 1946 الحديث
الأهمية: أن غيلان بن سلمة الثقفي أسلم وله عشر
نسوة في الجاهلية، فأسلمن معه، فأمره النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يتخير
أربعًا منهن
Tema:
غیلان بن سلمہ ثقفی نے اسلام قبول کیا
اور جاہلیت میں ان کی دس بیویاں تھیں، وہ سب بھی ان کے ساتھ اسلام لے
آئیں، تو نبی اکرمﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے کسی چار کو منتخب کر
لیں۔ |
عن ابن عمر، أن غَيْلَانَ بن سَلَمَةَ
الثقفي أَسْلَمَ وله عشر نِسْوَةٍ في الجاهلية، فَأَسْلَمْنَ معه، «
فَأَمَرَهُ النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يَتَخَيَّرَ أربعا مِنْهُنَّ».
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت
ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی نے اسلام قبول کیا اور جاہلیت میں ان کی دس
بیویاں تھیں، وہ سب بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں
حکم دیا کہ وہ ان میں سے کسی چار کو منتخب کر لیں۔
Explicação Hadith بيان الحديث
الحديث يبين صورة من صور الأنكحة التي
كانت موجودة في الجاهلية، حيث كان أحدهم يجمع بين أعداد كبيرة من النساء،
ولا يتقيدون بعدد معين, فجاء هذا الصحابي وقد أسلم وكان له عشر نسوة فأسلمن
معه جميعًا، فأمره النبي -عليه الصلاة والسلام- أن يختار منهن أربعًا
ويفارق البواقي؛ لأن الشرع حدد الجمع في النكاح بأربع فقط, وهو إجماع من
المسلمين.
575;س حدیث میں زمانۂ جاہلیت میں پائے
جانے والے نکاح کے طور طریقوں میں سے ایک کی وضاحت کی گئی ہے کہ بعضوں کے
نکاح میں بیک وقت عورتوں کی بڑی تعداد ہوا کرتی تھی اور وہ متعین تعداد کے
پابند نہ تھے، چنانچہ یہ صحابی تشریف لائے اور وہ اسلام لاچکے تھے اور ان
کی دس بیویاں تھیں اور شوہر کے ساتھ وہ سب بھی مسلمان ہوگئیں، چنانچہ نبی ﷺ
نے انہیں حکم دیا کہ ان میں سے کسی چار کو اپنالیں اور باقی کو طلاق دے دیں
کیونکہ اسلامی شریعت نے مرد کے نکاح میں صرف چار خواتین کو رکھنے کی حد
قائم کردی ہے اور تمام مسلمانوں کا اس امر پر اجماع ہے۔ -- [صحیح]+ +[اسے ابنِ
ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد
نے روایت کیا ہے۔]
Referência: Enciclopédia Hadith @ 58083
|
|
Hadith 1947 الحديث
الأهمية: ملعون من أتى امرأته في دبرها
Tema:
وہ شخص ملعون ہے، جس نے عورت سے اس کے
دبر میں جماع کیا۔ |
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله -صلى
الله عليه وسلم-: «ملعون من أتى امرأته في دُبُرِها».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص ملعون ہے، جس نے عورت سے اس کے دبر میں
جماع کیا“۔
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|