Hadith Explorer em português مكتشف الحديث باللغة الإنجليزية
 
Hadith   1144   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان إذا استَوَى على بعيره خارجا إلى سفر، كَبَّرَ ثلاثا، ثم قال: «سبحان الذي سخَّر لنا هذا وما كنا له مُقْرِنِينَ وإنا إلى ربنا لـمُنْقَلِبُون...»


Tema:

رسول اللہ ﷺ سفر میں جانے کے لیے جب اپنے اونٹ پر سوار ہو جاتے، تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: ”سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ...

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان إذا استَوَى على بَعِيره خارجًا إلى سَفَر، كَبَّرَ ثلاثا، ثم قال: «سبحان الذي سخَّر لنا هذا وما كُنَّا له مُقْرِنِينَ وإنَّا إلى ربِّنا لـمُنْقَلِبُون، اللهم إنَّا نَسْأَلُك في سفرنا هذا البِرَّ والتَّقْوَى، ومن العمل ما تَرْضَى، اللهم هَوِّنْ علينا سفرنا هذا واطْوِ عنا بُعْدَه، اللهم أنت الصاحب في السفر، والخليفة في الأهل، اللهم إني أعوذ بك مِن وَعْثَاء السفر، وكآبة الـمَنْظر، وسوء الـمُنْقَلَب في المال والأهل والولد». وإذا رجع قالهن. وزاد فيهن «آيبون تائبون عابدون لِربنا حامدون».
وفي رواية: كان النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا قَفَل من الحج أو العمرة، كلما أَوْفَى على ثَنِيَّة أو فَدْفَدٍ كَبَّرَ ثلاثا، ثم قال: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، آيِبون، تائبون، عابدون، ساجدون، لربنا حامدون، صدَق الله وَعْدَه، ونصَر عَبْدَه، وهزَم الأحزابَ وحده». وفي لفظ: إذا قَفَل من الجيوش أو السَّرايا أو الحج أو العمرة.

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں جانے کے لیے جب اپنے اونٹ پر سوار ہو جاتے، تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: ”سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ اللّهُـمَّ إِنّا نَسْـأَلُكَ في سَفَـرِنا هذا البِـرَّ وَالتَّـقْوى، وَمِنَ الْعَمَـلِ ما تَـرْضى، اللّهُـمَّ هَوِّنْ عَلَـينا سَفَرَنا هذا وَاطْوِ عَنّا بُعْـدَه، اللّهُـمَّ أَنْـتَ الصّـاحِبُ في السَّـفَر، وَالْخَلـيفَةُ في الأهـلِ، اللّهُـمَّ إِنّـي أَعـوذُبِكَ مِنْ وَعْـثاءِ السَّـفَر، وَكَآبَةِ الْمَنْـظَر، وَسوءِ الْمُنْـقَلَبِ في المـالِ وَالأَهْـل والوَلَد“ (پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے بس میں کردیا حاﻻنکہ ہمیں اسے قابو کرنے کی طاقت نہ تھی، اور بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ اے اللہ ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری مانگتے ہیں اور ایسے کام کا سوال کرتے ہیں جسے تو پسند کرے۔ اے اللہ ! ہم پر اس سفر کو آسان کر دے اور اس کی مسافت کو ہم پر تھوڑا کر دے۔ اے اللہ تو ہی سفر میں رفیق سفر اور گھر میں نگران ہے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے سفر کی تکلیفوں اور رنج و غم سے اور اپنے مال اور اہل وعیال میں برے حال میں لوٹ کر آنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں) اور جب آپ ﷺ سفر سے واپس لوٹتے تو مذکورہ دعا پڑھتے اور اس میں اتنا اضافہ کرتے: ”آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ“ (ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے، اپنے رب کی عبادت کرنے والے اور اسی کی تعریف کرنے والے ہیں)۔
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب حج یا عمرہ سے واپس ہوتے، تو جب بھی کسی بلند جگہ یا سخت زمیں والی اونچی جگہ کا چڑھاؤ ہوتا، تو تین مرتبہ ”اللہ اكبر“ کہتے اور یہ دعا پڑھتے: ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ ،سَاجِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ“ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق ہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی اور تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، سجدہ کرنے والے اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد فرمائی اور کفار کے لشکروں کو اسی نے تنہا شکست دے دی)۔
بعض جگہوں میں یوں وارد ہے کہ: ”رسول اللہ ﷺ جب بڑے لشکروں یا چھوٹے دستوں ( کی مہموں) سے یا حج یا عمرے سے لوٹتے...“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين ابن عمر -رضي الله عنهما- في هذا الحديث أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان إذا أراد أن يسافر, وركب بعيره قال: الله أكبر ثلاث مرات, ثم قال هذا الدعاء العظيم, الذي يتضمن الكثير من المعاني الجليلة, ففيه تنزيه الله -عز وجل- عن الحاجة والنقص, واستشعار نعمة الله -تعالى- على العبد, وفيه البراءة من الحول والقوة, والإقرار بالرجوع إلى الله -تعالى-, ثم سؤاله -سبحانه- الخير والفضل والتقوى والتوفيق للعمل الذي يحبه ويتقبله, كما أن فيه التوكل على الله -تعالى- وتفويض الأمور إليه, كما اشتمل على طلب الحفظ في النفس والأهل, وتهوين مشقة السفر, والاستعاذة من شروره ومضاره, كأن يرجع المسافر فيرى ما يسوؤه في أهله أو ماله أو ولده.
وذكر ابن عمر -رضي الله عنهما- في الرواية الأخرى أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان إذا رجع من سفره قال هذا الدعاء, وزاد قوله: (آيبون) أي نحن معشر الرفقاء راجعون (تائبون) أي من المعاصي، (عابدون) من العبادة (لربنا حامدون) شاكرون على السلامة والرجوع, وأنه كان إذا كان بمكان عالٍ, قال: الله أكبر؛ فيتواضع أمام كبرياء الله -عز وجل-, ثم قال: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له..» إقرارًا بأنه -تعالى- المتفرد في إلهيته وربوبيته وأسمائه وصفاته, وأنه -جل وعلا- الناصر لأوليائه وجنده.
593;بد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما اس حدیث میں اس بات کی وضاحت فرما رہے ہیں کہ نبی ﷺ جب کبھی سفر کا ارادہ فرماتے اور اپنی سواری پر سوار ہو جاتے تو تین مرتبہ ”اللہ اکبر“ کہتے اور پھر اس عظیم دعا کو پڑھتے، جس میں متعدد عظیم الشان معانی شامل ہیں۔ چنانچہ اس دعا میں اللہ عز وجل کے محتاجی اور نقائص و عیوب سے پاک و منزہ ہونے کا ذکر کیا گیا، بندے میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا احساس و شعور بیدار کیا گیا، اس میں (بندے کی جانب سے اپنے اندر ہر قسم کی) طاقت و قوت کے نہ ہونے کا اعتراف پنہاں ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی جانب رجوع کرنے کا اقرار ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ہی کی بارگاہ سے خیر و بھلائی اور فضل و شرف اورتقویٰ اور اس کے نزدیک محبوب اور مقبول عمل کی توفیق طلب کی جارہی ہے۔ نیز اس میں اللہ تعالیٰ ہی پر توکل و اعتماد کرنےاور تمام امور (کے نتائج) کو اسی کے حوالے و سپرد کر دینے کا معنی پایا جاتا ہے۔ نیز اس میں اپنی جان اور اہل و عیال کے تحفظ، سفر کی محنت و مشقت کو ہلکا کرنے اور اس میں پائے جانے والے برے و بدتر حالات اور نقصانات سے پناہ طلب کرنے کی دعاکے معانی پائے جاتے ہیں کہ(کہیں ایسا نہ ہو کہ) مسافر اپنے سفر سے واپس لوٹے اور اس کو اپنے اہل و عیال یا مال یا اس کی اولاد میں کوئی بدتر منظر و حالت نظر آئے۔
ابن عمر رضی اللہ عنھما نے ایک دوسری روایت میں ذکر کیا کہ نبی ﷺ جب سفر سے واپس لوٹتے تو مذکورہ بالا دعا فرماتے اور اس میں یہ دعا اضافہ فرماتے: ”آيِبُونَ“ یعنی ہم رفقا سفر کی جماعت، ”تَائِبُونَ“اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے، ”عَابِدُونَ“ عبادت کرتے ہوئے ”لِرَبِّنَا حَامِدُونَ“ یعنی صحیح سلامت واپس ہونے پر شکرگزار ہیں۔
اور آپ ﷺ جب کبھی کسی اونچے مقام کی جانب چلتے تو ”اللہ اکبر“ کہتے اور اللہ عز وجل کی کبریا کے بالمقابل اپنے تواضع کا اظہار فرماتے اور پھر یہ کلمۂ شہادت پڑھتے: ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ“ جس میں اس بات کا اقرار پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنی الوہیت، اپنی ربوبیت اور اپنے اسما و صفات میں تنہا و یکتا ہے اور وہی صاحب جلال اور اعلی ذات، اپنے اولیا اور اپنے لشکروں کی نصرت و مدد کرنے والی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6003

 
 
Hadith   1145   الحديث
الأهمية: يا معشر المهاجرين والأنصار، إن من إخوانكم قومًا ليس لهم مال، ولا عشيرة، فلْيَضُمَّ أحدكم إليه الرَّجُلَيْنِ أو الثلاثة


Tema:

اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تمہارے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال ہے نہ کنبہ، تو ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شریک کر لے۔

عن جابر -رضي الله عنه- عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أنه أراد أن يغزو، فقال: «يا معشر المهاجرين والأنصار، إن من إخوانكم قومًا ليس لهم مال، ولا عشيرة، فلْيَضُمَّ أحدكم إليه الرَّجُلَيْنِ أو الثلاثة، فما لأحدنا مِن ظَهْر يَحْمِلُه إلا عُقْبَة كعُقْبَة». يعني: أحدهم، قال: فضَمَمْتُ إليَّ اثنين أو ثلاثة ما لي إلا عُقْبَة كعُقْبَة أحدهم من جَمَلي.

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جہاد کا ارادہ کیا تو فرمایا: ”اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تمہارے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال ہے نہ کنبہ، تو ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شریک کر لے، تو ہم میں سے بعض کے پاس سواری نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ ہم باری باری سوار ہوں“۔ تو میں نے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو لے لیا، میں بھی صرف باری سے اپنے اونٹ پر سوار ہوتا تھا، جیسے وہ ہوتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
المعنى: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أمر أصحابه -رضي الله عنهم- أن يَتَنَاوَب الرجلان والثلاثة على البعير الواحد حتى يكون الناس كلهم سواء.
605;طلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ حکم دیا کہ دو یا تین لوگ ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوں، تاکہ تمام لوگوں کو یکساں سواری کا موقع ملے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6005

 
 
Hadith   1146   الحديث
الأهمية: كانوا يَضْرِبُوننا على الشَّهادة والعَهْد ونحن صغار


Tema:

ہمارے بڑے بزرگ گواہی اور عہد کا لفظ زبان سے نکالنے پر ہمیں مارتے تھے۔

قال إبراهيم: "كانوا يَضْرِبُونَنا على الشَّهادة والعَهْد ونحن صِغار".

ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے بڑے بزرگ گواہی اور عہد کا لفظ زبان سے نکالنے پر ہمیں مارتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دل الأثر على أن بعض السلف يمنعون أولادهم من اعتياد التزام العهد حتى لا يتعرضون لنكثه فيأثموا بذلك، وكذا الأمر بالنسبة للشهادة لئلا يسهل عليهم أمرها.
740;ہ اثر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بعضِ سلف اپنے بچوں کو بکثرت عہد اور وعدہ کرنے سے منع فرماتے تھے تاکہ وہ اس عہد اور وعدے کی خلاف ورزی کے سبب گناہگار نہ ہو جائیں، اسی طرح گواہی کا مسئلہ ہے تاکہ گواہی کے متعلق بچے لاپرواہی نہ برتے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6007

 
 
Hadith   1147   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان إذا دخل على من يعوده قال: لا بأس طهور إن شاء الله


Tema:

نبیﷺ جب کسی کی عیادت کے لیے جاتے، تو آپ ﷺ کہتے ”لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ یعنی فکر کی کوئی بات نہیں، اِن شاء اللہ (یہ مرض) گناہوں سے پاک کرنے والا ہو گا۔

عن عبدالله بن عباس -رضي الله عنهما- أنّ النبي -صلى الله عليه وسلم- دخلَ على أعرابيٍّ يَعُودُه، وكان إذا دَخَلَ على مَن يَعودُه، قال: «لا بأس؛ طَهُور إن شاء الله».

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہ نبی ﷺ ایک اعرابی کی عیادت کرنے کے لیے گئے، اور نبیﷺ جب کسی کی عیادت کے لیے جاتے، تو آپ ﷺ کہتے ”لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ یعنی فکر کی کوئی بات نہیں، ان شاء اللہ (یہ مرض) گناہوں سے پاک کرنے والا ہو گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن ابن عباس -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- دخل على أعرابي يزوره في مرضه، وكان إذا دخل على مريض يزوره، قال: "لا بأس؛ طهور إن شاء الله"، يعني: لا شدة عليك ولا أذى، وأن يكون مرضك هذا مطهرا ًلذنبك، مكفراً لعيبك، وأيضًا سبباً لرفع الدرجات في العقبى.
575;بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک اعرابی کے بیمار ہونے پر اس کی عیادت کرنے کے لیے گئے اور نبی ﷺ جب کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتے، تو کہتے ”لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ یعنی کوئی سختی اور تکلیف کی بات نہیں اور تمہارا یہ مرض تمہارے گناہوں، عیبوں کو إن شاء اللہ پاک کرنے والا ہو گا، نیز آخرت میں بلندیٔ درجات کا سبب بھی بنے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6009

 
 
Hadith   1148   الحديث
الأهمية: دخلت على النبي -صلى الله عليه وسلم- وهو يوعك فمسسته


Tema:

میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، جب کہ آپ ﷺ کو سخت بخار تھا۔

عن ابن مسعود -رضي الله عنه- قال: دخلتُ على النبيِّ -صلى الله عليه وسلم- وهو يُوعَكُ، فَمَسَسْتُهُ، فقلتُ: إنّكَ لَتُوعَكُ وَعَكًا شَدِيدًا، فقالَ: «أجَلْ، إنِّي أُوعَكُ كما يُوعَكُ رَجُلانِ منكُم».

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، جب کہ آپ ﷺ کو سخت بخار تھا۔ میں نے آپ ﷺ کو چھو کر دیکھا اور کہا:آپ کو تو بہت تیز بخار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، مجھے تم میں سے دو آدمیوں کے برابر بخار ہوتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يذكر ابن مسعود -رضي الله عنه- أنه دخل على النبي -صلى الله عليه وسلم- وهو يتألم من شدة المرض، فمد يده فقال له: إنك ليشدد عليك في المرض يا رسول الله، فأخبره أنه يشدد عليه -صلى الله عليه وسلم- في المرض، كما يشدد على الرجلين منا؛ وذلك من أجل أن ينال -صلى الله عليه وسلم- أعلى درجات الصبر.
575;بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ شدید بیماری میں مبتلا تھے۔انھوں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر کہا: یا رسول اللہ! بیماری کے دوران آپ پر بہت سخت تکلیف آتی ہے۔ آپ ﷺ نے انھیں بتایا کہ آپ ﷺ کو بیماری کے دوران اتنی سخت تکلیف ہوتی ہے، جتنی ہم میں سے دو آدمیوں کو ہوتی ہے اور ایسا اس لیے ہوتا ہے؛ تاکہ آپ ﷺ صبر کے بلند مراتب کو پا سکیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6010

 
 
Hadith   1149   الحديث
الأهمية: دخلنا على خباب بن الأرت رضي الله عنه نعوده وقد اكتوى سبع كيات


Tema:

ہم خبّاب بن ارت رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کی عیادت کے لیے گئے۔انہوں نے (بغرضِ علاج) سات داغ لگوا رکھے تھے۔

عن قيس بن أبي حازم، قال: دخلنا على خباب بن الأرت - رضي الله عنه - نعودُه وقد اكْتَوى سبعَ كَيّات، فقال: إن أصحابنا الذين سَلفوا مضوا، ولم تَنقصهم الدنيا، وإنّا أصبنا ما لا نجد له مَوضعاً إلا التراب ولولا أن النبي - صلى الله عليه وسلم - نهانا أن ندعوَ بالموت لدعوتُ به. ثم أتيناه مرة أخرى وهو يبني حائطاً له، فقال: إن المسلم ليُؤجَر في كل شيء يُنفقه إلا في شيء يجعلُه في هذا التراب.

قيس بن حازم رحمہ اللہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ہم خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کی عیادت کے لیے گئے۔ انہوں نے (بغرضِ علاج) سات داغ لگوا رکھے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ ہمارے ساتھی جو پہلے وفات پا چکے وہ اس حال میں رخصت ہوئے کہ دنیا ان کا اجر و ثواب کچھ نہ گھٹا سکی اور ہم نے (مال و دولت) اتنی پائی کہ جس کے خرچ کرنے کے لیے ہمیں مٹی کے علاوہ اور کوئی جگہ نہیں ملتی۔ اگر نبی کریم ﷺ نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی دعا کرتا۔ پھر ہم ان کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے تو وہ اپنی دیوار بنا رہے تھے۔ انہوں نے کہا: مسلمان کو ہر اس چیز پر ثواب ملتا ہے جسے وہ خرچ کرتا ہے ماسوا اس خرچ کرنے کے جو وہ مٹی پر کرتا ہے (عمارتیں وغیرہ بنواتا ہے۔)

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في الحديث أن خباب بن الأرت -رضي الله عنه- كُوِي سبع كيات ثم جاءه أصحابه يعودونه فأخبرهم أن الصحابة الذين سبقوا ماتوا ولم يتمتعوا بشيء من ملذات الدنيا، فيكون ذلك منقصاً لهم مما أُعدَ لهم في الآخرة. وإنه أصاب مالاً كثيرا ًلا يجد له مكانًا يحفظه فيه إلا أن يبني به، وقال: ولولا أن رسول الله نهانا أن ندعو بالموت لدعوت به، إلا عند الفتن في الدين فيدعو بما ورد. ثم قال: إن الإنسان يؤجر على كل شيء أنفقه إلا في شيء يجعله في التراب يعني: في البناء؛ لأن البناء إذا اقتصر الإنسان على ما يكفيه، فإنه لا يحتاج إلى كبير نفقة، ، فهذا المال الذي يجعل في البناء الزائد عن الحاجة لا يؤجر الإنسان عليه، اللهم إلا بناء يجعله للفقراء يسكنونه أو يجعل غلته في سبيل الله أو ما أشبه ذلك، فهذا يؤجر عليه، لكن بناء يسكنه، هذا ليس فيه أجر.
والنهي الذي جاء عن الكي هو لمن يعتقد أن الشفاء من الكي، أما من اعتقد أن الله عز وجل هو الشافي فلا بأس به، أو ذلك للقادر على مداواة أخرى وقد استعجل ولم يجعله آخر الدواء.
581;دیث میں بیان ہے کہ خباب بن ارت کو سات دفعہ (بطور علاج) داغ لگایا گیا تھا۔ ان کے کچھ دوست احباب ان کی عیادت کو آئے تو انہوں نے انہیں بتایا کہ وہ صحابہ جو ان سے پہلے وفات پا چکے ہیں انہوں نے دنیا کی لذات سے کچھ فائدہ اٹھایا ہی نہیں کہ اس کی وجہ سے ان کے لیے جو آخرت میں اجر و ثواب تیار کر کے رکھا گیا ہے اس میں کچھ کمی ہو۔ جب کہ انہیں بہت زیادہ مال ملا ہے جسے محفوظ کرنے کے لیے انہیں سوائے اس کے کوئی جگہ نہیں ملتی کہ اس سے عمارتیں بنائیں۔ انہوں نے مزید فرمایا: اگر اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں موت کی دعا مانگنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور موت کی دعا کرتا۔ سوائے اس وقت کے جب دین کے سلسلے میں فتنوں میں پڑ جانے کا اندیشہ ہو، اس صورت میں آدمی موت کی دعا کر سکتا ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ پھر فرمایا کہ انسان جو کچھ خرچ کرتا ہے اس پر اسے اجر ملتا ہے ماسوا اس خرچ کے جو وہ مٹی پر کرتا ہے یعنی عمارت کی تعمیر پر۔ کیونکہ عمارت کے سلسلے میں اگر انسان صرف بقدر کفایت پر انحصار کر لے تو اسے زیادہ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ جب کہ یہ مال جو وہ زائد از ضرورت عمارت پر خرچ کرتا ہے اس پر انسان کو کوئی اجر نہیں ملتا ماسوا اس عمارت کے جسے وہ فقراء کے لئے بناتا ہے تاکہ وہ اس میں سکونت اختیار کریں یا پھر وہ عمارت جس کی آمدن کو وہ اللہ کے راستے میں وقف کر دیتا ہے یا اس طرح کی کوئی عمارت۔ صرف اس صورت میں اسے اجر ملتا ہے۔تاہم ایسی عمارت جسے وہ خود اپنی سکونت کے لیے بنائے اس میں اسے کوئی اجر نہیں ملتا۔
داغ لگوانے کے سلسلے میں جو نہی وارد ہوئی ہے وہ اس شخص کے لئے ہے جو یہ عقیدہ رکھے کہ داغ لگوانے میں شفاء ہے۔ اس کے برعکس جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ شفاء دینے والی ذات اللہ عزوجل کی ہے تو اس کے داغ لگوانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یا پھر یہ ممانعت اس شخص کے لیے ہے جو کسی اور طریقۂ علاج کو اختیار کرنے پر قادر ہو لیکن جلد بازی کرے اور اسے آخری طریقہ علاج کے طور پر استعمال نہ کرے۔   --  [صحیح]+ +[یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6011

 
 
Hadith   1150   الحديث
الأهمية: رجلان من أصحاب -محمد صلى الله عليه وسلم- كلاهما لا يألو عن الخير


Tema:

محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ايسے ہيں جو نيکی ميں پيچھے نہيں رہتے ہیں۔

عن أبي عطية، قال: دخلت أنا ومسروق على عائشة -رضي الله عنها-، فقالَ لها مسروقٌ: رجلانِ من أصحابِ محمدٍ -صلى الله عليه وسلم- كِلاَهُمَا لا يَألُو عَنِ الخَيْرِ؛ أحَدُهُمَا يُعَجِّلُ المَغْرِبَ وَالإفْطَارَ، وَالآخر يؤخِّر المغرب وَالإفْطَارَ؟ فَقَالَتْ: مَنْ يُعَجِّلُ المَغْرِبَ وَالإفْطَار؟ قالَ: عبدُ اللهِ -يعني: ابن مسعود- فقالتْ: هَكذا كانَ رسولُ اللهِ يَصْنَعُ.

ابو عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور مسروق دونوں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مسروق نے ان سے عرض کیا: محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ايسے ہيں جو نيکی ميں پيچھے نہيں رہتے ہیں؛ ان میں سے ایک افطاری میں جلدی کرتا ہے اور نماز مغرب میں بھی جلدی کرتا ہے، اور دوسرا ساتھی افطاری میں تاخیر کرتا ہے اور نماز مغرب میں بھی تاخیر کرتا ہے؟ تو عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: ان میں سے وہ کون ہیں جو افطاری میں جلدی کرتے ہیں اور نماز مغرب بھی جلدی پڑھتے ہیں؟ ابوعطیہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ وہ عبداللہ یعنی ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سأل أبو عطية ومسروق أم المؤمنين عائشة -رضي الله عنها- عن رجلين من أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أحدهما: يؤخر الفطر ويؤخر صلاة المغرب، والثاني: يعجل الفطر ويعجل صلاة المغرب، أيهما أصوب؟ فقالت عائشة: من هذا؟ أي: الذي يعجل؟ قالوا: ابن مسعود -رضي الله عنه-، فقالت: هكذا كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يفعل، يعني: يعجل الفطر ويعجل صلاة المغرب، فهذه سنة فعلية منه –صلى الله عليه وسلم- تدل على أن الأفضل تقديم الإفطار.
575;بو عطیہ اور مسروق نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا کہ محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ہیں: ان میں سے ایک ساتھی افطاری میں تاخیر کرتا ہے اور نماز مغرب میں بھی تاخیر کرتا ہے اور دوسرا افطاری میں جلدی کرتا ہے اور نماز مغرب میں بھی جلدی کرتا ہے، ان میں سے کس کا عمل زیادہ درست ہے؟ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دریافت کیا: ان میں سے وہ کون ہیں جو جلدی کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے، يعنی اللہ کے رسول ﷺ افطاری میں جلدی کرتے تھے اور نماز مغرب بھی جلدی پڑھتے تھے۔ يہ اللہ کے رسول ﷺ کی عملی سنت ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ افطاری ميں جلدی کرنا بہتر وافضل ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6013

 
 
Hadith   1151   الحديث
الأهمية: رغم أنف رجل ذكرت عنده فلم يصل علي


Tema:

اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم: «رَغِمَ أنْفُ رجل ذُكِرْتُ عنْده فلم يُصَلِّ عَلَي».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث بيان أمر مهم وهو وجوب الصلاة على النبي على النبي -صلى الله عليه وسلم-، بحيث دعا -عليه الصلاة والسلام- على من سمع اسمه الكريم ولم يصل عليه أن يلتصق أنفه بالرغام وهو التراب، كناية على هوانه وحقارته لما ترك الصلاة على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مع قدرته على ذلك.
575;س حديث ميں ايک بہت ہی اہم بات بیان کی گئي ہے۔ اور وہ نبی ﷺ پر درود بھيجنے کی فرضيت (کا بیان) ہے۔ چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے اس شخض کےلیے، جو آپ ﷺ کا با عزت نام سنے اور آپ ﷺ پر درود نہ بھيجے، یہ بد دعا کی ہے کہ اس کی ناک خاک آلود ہو۔ یہ اس کی حقارت وتوہین سے کنایہ ہے، کیوں کہ اس نے قدرت رکھنے کے باوجود رسول اللہ ﷺ پر درود پڑھنے سے گریز کیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6014

 
 
Hadith   1152   الحديث
الأهمية: سبوح قدوس رب الملائكة والروح


Tema:

نہايت ہی پاک، بڑا مقدس ہے فرشتوں اور جيريل عليہ السلام کا رب

عن عائشة -رضي الله عنها- أنّ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- كانَ يقول في ركوعه وسجودِه: «سبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ المَلاَئِكَةِ وَالرُّوحِ».

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع وسجود میں ”سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوحِ“ (نہايت ہی پاک، بڑا مقدس ہے فرشتوں اور جيريل عليہ السلام کا رب) پڑھا کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن عائشة -رضي الله عنها- قالت كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يقول في ركوعه وسجوده: "سبوح قدوس رب الملائكة والروح"، يعني: أنت سبوح قدوس، وهذه مبالغة في التنزيه، وأنه جل وعلا سبوح قدوس، "رب الملائكة"، وهم جند الله -عز وجل- عالم لا نشاهدهم، "والروح"، هو جبريل وهو أفضل الملائكة، فينبغي للإنسان أن يكثر في ركوعه وسجوده، من قوله: "سبوح قدوس رب الملائكة والروح".
القدوس من أسماء الله الحسنى، وهو مأخوذ من قدّس، بمعنى: نزّهه وأبعده عن السوء مع الإجلال والتعظيم.
والسبوح من أسماء الله الحسنى، أي المسبَّح.
593;ائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے روايت ہے کہ بے شک اللہ کے رسول ﷺ اپنے رکوع اورسجدوں ميں ”سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوحِ“ پڑھا کرتے تھے يعني اے اللہ تو نہايت ہی پاک، بڑا مقدس ہے۔ یہ پاکی بیان کرنے میں مبالغہ ہے، اور یہ کہ اللہ جل وعلا بہت ہی پاکیزہ اور انتہائی مقدس ہے۔ ”فرشتوں کا رب ہے“ فرشتے اللہ کی ايسی فوج ہیں جن کا ہم مشاہدہ نہيں کرتے اور ”روح“ سے مراد جيريل عليہ السلام ہیں جو کہ فرشتوں ميں سب سے افضل ہيں۔ لھٰذا انسان کو چاہيے کہ اپنے رکوع اور سجود ميں کثرت سے ”سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوحِ“ پڑھے۔
”قُدُّوسٌ“ اللہ رب العزت کے اچھے ناموں ميں سے ايک ہے جو کہ قدَّسَ سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے: اس نے اللہ رب العالمين کی تعظيم اور بڑائی کے ساتھ اسے ہر طرح کی برائی سے پاک قرار ديا
اسی طرح ”سُبُّوحٌ“ بھی اللہ کے اچھے ناموں ميں سے ہے اور اس کا معنی ہے جس کی پاکی بيان کی جائے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6015

 
 
Hadith   1153   الحديث
الأهمية: صوم ثلاثة أيام من كل شهر صوم الدهر كله


Tema:

ہر مہینے کے تین دن کا روزہ پوری زندگی کے روزے کے برابر ہے۔

عن عبد الله بن عمرو بن العاص -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «صَوْمُ ثلاثةِ أيامٍ من كُلِّ شهرٍ صَومُ الدَّهرِ كُلِّه».

عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر مہینے کے تین دن کا روزہ پوری زندگی کے روزے کے برابر ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان الصحابي الجليل عبد الله بن عمرو -رضي الله عنهما- قد أخذ بالعزيمة في الصوم وأراد أن يستمر عليها، فأرشده النبي -عليه الصلاة والسلام- أن يصوم من كل شهر ثلاثة أيام؛ لأنه يعدل صيام سنة كاملة في الأجر، وذلك لأن الحسنة بعشرة أمثالها، فتكون ثلاثين يوماً، فإذا صام من كل شهر ثلاثة أيام فكأنه صام الدهر كله.
580;لیل القدر صحابئ رسول عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے مسلسل روزے رکھنے کا پختہ عزم کر لیا اور اس بات کا ارادہ کیا کہ ہمیشہ اس عزم پر قائم رہیں گے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انھیں ہدایت فرمائی کہ ہر ماہ کے تین دن روزے رکھیں؛ کیوں کہ یہ تین روزے، اجر و ثواب کے اعتبار سے سال بھر روزے رکھنے کے برابر ہیں۔ یہ اس طرح کہ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا دیا جاتا ہے اور اس طرح تین دن، تیس کے برابر ہوئے، چنانچہ اگر ہر ماہ کے تین دن روزہ رکھ لے تو گویا اس نے سال بھر کے روزے رکھ لیے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6017

 
 
Hadith   1154   الحديث
الأهمية: ضع يدك على الذي يألم من جسدك


Tema:

تمہارے بدن کے جس حصہ میں درد ہے وہاں اپنا ہاتھ رکھ کر۔

عن أبي عبد الله عثمان بن أبي العاص -رضي الله عنه-: أنه شكا إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وَجَعاً، يجده في جسده، فقال له رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «ضعْ يدك على الذي يَألم مِن جَسَدِك وقُل: بسم الله ثلاثا، وقُل سبعَ مرات: أعوذُ بعزة الله وقُدرتِه من شَرِّ ما أجد وأُحاذر».

ابو عبد اللہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درد کی شکایت کی جو وہ اپنے جسم میں محسوس کررہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے بدن کے جس حصہ میں درد ہے وہاں اپنا ہاتھ رکھ کر (پہلے) تین مرتبہ ”بِسْمِ اللَّهِ“ پڑھو اور (پھر) سات مرتبہ یہ پڑھو ”أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ“ (اللہ کے نام سے میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں)۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
حديث عثمان بن أبي العاص أن النبي -صلى الله عليه وسلم- سأله عثمان أنه يشكو من مرض في جسده، فأمره النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يقول هذا الدعاء: "بسم الله ثلاثاً، ويضع يده على موضع الألم، ثم يقول: أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر"، يقولها سبع مرات، فهذا من أسباب الشفاء أيضاً، فينبغي للإنسان إذا أحس بألم أن يضع يده على موضع هذا الألم، ويقول: بسم الله ثلاثاً أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر، يقولها سبع مرات، إذا قالها موقناً بذلك مؤمناً به، وأنه سوف يستفيد من هذا، فإنه يسكن الألم بإذن الله عز وجل، وهذا أبلغ من الدواء الحسي كالأقراص والشراب والحقن؛ لأنك تستعيذ بمن بيده ملكوت السماوات والأرض الذي أنزل هذا المرض هو الذي يجيرك منه.
وأمره بوضع اليد على موضع الألم إنما هو أمر على جهة التعليم والإرشاد إلى ما ينفع من وضع يد الراقي على المريض ومسحه بها، ولا ينبغي للراقي العدول عنه للمسح بحديد وملح ولا بغيره، فإنه لم يفعله النبي -صلى الله عليه وسلم- ولا أصحابه.
593;ثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے مرض کی شکایت کی جو ان کے جسم میں موجود تھا نبی ﷺ نے یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا کہ تین دفعہ ”بِسْمِ اللَّهِ“ کہو اپنا ہاتھ درد والی جگہ پر رکھو اور سات مرتبہ”أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ“ پڑھو۔ یہ ان اسباب میں سے ہے جن سے شفا حاصل ہوتی ہے۔ پس جب انسان درد محسوس کرے تو اسے چاہیے اپنا ہاتھ درد والی جگہ پر رکھے اور تین دفعہ بِسْمِ اللہِ پڑھ کر سات مرتبہ ’’أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ‘‘ پڑھے۔ اگر انسان یقین اور ایمان کے ساتھ اسے پڑھ لے تو عنقریب اس سے مستفید ہوگا اور اللہ کے حکم سے درد ختم ہوجائے گا۔ یہ ظاہری دوا جیسے گولیاں، سیرپ اور حجامہ سے زیادہ پُر اثر ہے۔ اس لیے کہ اس میں آپ اس ذات کی پناہ مانگتے ہیں جس کے ہاتھ میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے، جس نے یہ بیماری نازل کی ہے اور وہی اس سے بچانے والا ہے۔
آپ ﷺ نے درد کی جگہ پر ہاتھ رکھنے کا حکم دیا، یہ تعلیم اور ارشاد کے طور پر فرمایا کہ دم پڑھنے والے کا ہاتھ مریض کو چھوئے گا اور اس پر پھیرے گا تو اسے نفع ہوگا۔ دم کرنے والے کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ اس سے ہٹ کر لوہے، نمک وغیرہ کو مریض کے جسم پر مَلے اس لیے کہ ایسا آپ ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے نہیں کیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6018

 
 
Hadith   1155   الحديث
الأهمية: ليس لك عليه نفقة


Tema:

اب تمہارا خرچ اس کے ذمے نہیں۔

عن فاطمة بنت قيس- رضي الله عنها- «أن أبا عمرو بن حفص طلقها البَتَّةَ، وهو غائب (وفي رواية: "طلقها ثلاثا")، فأرسل إليها وكيله بشعير، فسخطته. فقال: والله ما لك علينا من شيء. فجاءت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فذكرت ذلك له، فقال: ليس لك عليه نفقة (وفي لفظ: "ولا سكنى") فأمرها أن تَعْتَدَّ في بيت أم شريك؛ ثم قال: تلك امرأة يَغْشَاهَا أصحابي؛ اعتدي عند ابن أم مكتوم. فإنه رجل أعمى تضعين ثيابك، فإذا حَلَلْتِ فآذِنِيني.
قالت: فلما حللت ذكرت له: أن معاوية بن أبي سفيان وأبا جهم خطباني. فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أما أبو جهم: فلا يَضَعُ عصاه عن عاتقه. وأما معاوية: فصعلوك لا مال له. انكحي أسامة بن زيد. فكرهته ثم قال: انكحي أسامة بن زيد. فنكحته، فجعل الله فيه خيرا، واغْتَبَطْتُ به».

فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص نے انہیں طلاق بتّہ ( تیسری طلاق) دے دی، اور وہ خود غیر حاضر تھے، (اور ایک روایت میں ہے کہ انھوں نے تین طلاقیں دے دیں) ان کے وکیل نے ان کی طرف سے کچھ جَو بھیجے، تو وہ اس پر ناراض ہوئیں، اس (وکیل) نے کہا : اللہ کی قسم ! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، اور یہ بات آپ کو بتائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب تمہارا خرچ اس کے ذمے نہیں“۔ اور آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں عدت گزاریں، پھر فرمایا: ”اس عورت کے پاس میرے صحابہ آتے جاتے ہیں، تم ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزار لو، وہ نابینا آدمی ہیں، تم اپنے کپڑے بھی اتار سکتی ہو۔ تم جب عدت گزار لو تو مجھے بتانا۔“ جب میں (عدت سے) فارغ ہوئی، تو میں نے آپ ﷺ سے بتایا کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم رضی اللہ عنہم دونوں نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابوجہم تو اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں اتارتے، اور رہے معاویہ تو وہ بہت فقیر ہیں، اس کے پاس کوئی مال نہیں، تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو“۔ میں نے اسے ناپسند کیا، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”اسامہ سے نکاح کرلو“۔ تو میں نے ان سے نکاح کرلیا، اللہ نے اس میں خیر ڈال دی اور اس کی وجہ سے مجھ پر رشک کیا جانے لگا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بَتَّ أبو عمرو بن حفص طلاق زوجته فاطمة بنت قيس. وهي آخر طلقة لها منه، والمبتوتة ليس لها نفقة على زوجها، ولكنه أرسل إليها بشعير، فظنت أن نفقتها واجبة عليه ما دامت في العدة، فاستقلت الشعير وكرهته، فأقسم أنه ليس لها عليه شيء.
فشكته إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأخبرها أنه ليس لها نفقة عليه ولا سكنى، وأمرها أن تعتد في بيت أم شريك.
ولما ذكر صلى الله عليه وسلم أن أم شريك يكثر على بيتها تردد الصحابة، أمرها أن تعتد عند ابن أم مكتوم لكونه رجلا أعمى، فلا يبصرها إذا وضعت ثيابها، وأمرها أن تخبره بانتهاء عدتها.
فلما اعتدت خطبها (معاوية) و (أبو جهم) فاستشارت النبي صلى الله عليه وسلم في ذلك.
بما أن النصح واجب -لا سيما للمستشير- فإنه لم يُشرْ عليها بواحد منهما؛ لأن أبا جهم شديد على النساء ومعاوية فقير ليس عنده مال، وأمرها بنكاح أسامة، فكرهته لكونه مَوْلَى.
و لكنها امتثلت أمر النبي صلى الله عليه وسلم، فقبلته، فاغتبطت به، وجعل الله فيه خيراً كثيراً.
575;بو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی فاطمۃ بنت قیسرضی اللہ عنہا کو طلاقِ بتّہ دی، یہ ان کی طرف سے اپنی بیوی کو آخری طلاق تھی۔ اور مبتوتہ (جس عورت کو شوہر نے طلاقِ بتّۃ دی ہو) کے لیے شوہر پر نفقہ واجب نہیں ہوتا، پھر بھی ابوعمرو رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے جَو بھیجا، فاطمہ رضی اللہ عنہا کا خیال تھا کہ عدت کے دوران ابو عمرو پر ان کا نفقہ واجب ہے، اس لیے انہوں نے اس جَو کو کم سمجھا اور ناپسند کیا۔ وکیل نے قسم کھائی ہم پر آپ کا کوئی حق لازم نہیں ہے۔
چنانچہ انھوں نے اس کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کی تو آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ ابو عمرو پر تمہارا نہ تو نفقہ (خرچ) ہے اور نہ ہی رہائش کی ذمہ داری ہے، اور انہیں حکم دیا کہ وہ ام شریک کے گھر میں عدت گزاریں۔
جب نبی ﷺ کو یہ بات یاد آئی کہ ام شریک کے یہاں تو صحابہ کا آنا جانا لگا رہتا ہے تو انہیں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے یہاں عدت گزارنے کو کہا کیوں کہ وہ نابینا ہیں، ان کا اپنے کپڑے نکال رکھنے کو نہیں دیکھیں گے، اور انہیں یہ حکم دیا کہ عدت کے ختم ہوجانے پر آپ ﷺ کو خبر دیں۔
جب انھوں نے اپنی عدت گزار لی تو معاویہ اور اور ابو جہم رضی اللہ عنہما نے انھیں نکاح کا پیغام بھیجا چنانچہ انھوں نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق مشورہ کیا۔ چوں کہ جس سے مشورہ لیا جائے اُسے مشورہ لینے کے حق میں خیر خواہ ہونا چاہیے اس لیے آپ ﷺ نے دونوں میں کسی سے بھی شادی کرنے کا مشورہ نہیں دیا اس لیے ابوجہم عورتوں پر بہت سخت گیر تھے اور معاویہ رضی اللہ عنہ فقیر تھے اُن کے پاس مال نہیں تھا، اس لیے آپ ﷺ نے انھیں اسامہ سے نکاح کرنے کا مشورہ دیا جسے پہلی دفعہ انھوں نے ناپسند کیا، اس لیے کہ اسامہ ایک آزاد کردہ غلام تھے، تاہم انھوں نے نبی ﷺ کا حکم مانتے ہوئے اس رشتے کو بالآخر منظور کر لیا، جس کی برکت کے نتیجہ میں (لوگ) ان پر رشک کرنے لگے، اور اللہ تعالی نے ان (کے نکاح) میں خیرِ کثیر رکھ دیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6020

 
 
Hadith   1156   الحديث
الأهمية: إن أحق الشروط أن توفوا به: ما استحللتم به الفروج


Tema:

وہ شرطیں جن کے ذریعہ تم نے عورتوں کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے، پوری کی جانے کی سب سے زیادہ مستحق ہیں۔

عن عقبة بن عامر -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إن أحَقَّ الشُّروط أن تُوفُوا به: ما استحللتم به الفروج».

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شرطیں جن کے ذریعہ تم نے عورتوں کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے، پوری کی جانے کی سب سے زیادہ مستحق ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لكل واحد من الزوجين مقاصد وأغراض في إقدامه على عقد النكاح، فيشترط على صاحبه شروطًا ليتمسك بها ويطلب تنفيذها، وتسمى الشروط في النكاح، وهي زائدة على شروط النكاح التي لا يصح بدونها.
وجاء التأكيد على الوفاء بها؛ لأن الشروط في النكاح عظيمة الحرمة قوية اللزوم؛ لكونها استحق بها استحلال الاستمتاع بالفروج.
606;کاح کی طرف اقدام کرنے میں میاں بیوی کے اغراض و مقاصد ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ شرائط طے کرتا ہے، تاکہ وہ اس کو پورا کرے اور ان پر عمل کرے۔ ان شروط کے علاوہ جو عقدِ نکاح کے مقتضیات میں سے ہوتی ہیں۔
اس لیے کہ نکاح کی شرائط بہت ہی محترم ہوتی ہیں اور ان کا پورا کرنا لازمی ہوتا ہے، کیوں کہ ان کے ذریعے انسان شرمگاہ سے فائدہ اٹھانے کو حلال کرتا ہے۔ صاحبِ شریعت، حکمت والی دانا اور عادل ذات نے اسے پورا کرنے پر زور دیا۔ اس لیے کہ جو شرطیں سب سے زیادہ پوری کی جانے کے قابل ہیں وہ ایسی شرطیں ہے جن کے ذریعے انسان شرمگاہ کو حلال کیا جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6021

 
 
Hadith   1157   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أعتق صفية، وجعل عتقها صداقها


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے صفیّہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرکے ان کی آزادی کو ان کا مہر بنا دیا۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أعتق صفية، وجعل عِتْقَهَا صَدَاقَهَا.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفیّہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرکے ان کی آزادی کو ان کا مہر بنا دیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كانت صفية بنت حُيي -وهو أحد زعماء بنى النضير- زوجة كنانة بن أبي الحقيق، فقتل يوم خيبر، وفتح النبي -صلى الله عليه وسلم- خيبر، وصار النساء والصبيان أرقاء للمسلمين، ومنهم صفية، ووقعت في نصيب دِحْيةَ بن خليفة الكلبي -رضي الله عنه-، فعوضه عنها غيرها واصطفاها لنفسه، جبراً لخاطرها، ورحمة بها لعزها الذاهب.
ومن كرمه إنه لم يكتف بالتمتع بها أمة ذليلة، بل رفع شأنها، بإنقاذها من ذُل الرقِّ، وجعلها إحدى أمهات المؤمنين،
لأنه أعتقها، وتزوجها، وجعل عتقها صداقها.
589;فیہ بنت حُيی کے والد بنو نضیر کے سردار تھے۔ ان کی بیٹی صفیّۃ كنانة بن ابی حقيق کی بیوی تھیں۔ ان کا شوہر خیبر کی لڑائی میں مارا گیا اور آپ ﷺ نے خیبر کو فتح کر لیا۔ عورتیں اور بچے مسلمانوں کے غلام بن گئے۔ ان میں صفیۃ بھی تھیں۔ وہ دِحیہ بن خلیفہ الكلبي رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں۔ آپ ﷺ نے انھیں صفیہ کے بدلے میں دوسری باندی دے دی اور ان (صفیہ) کی دل دہی نیز شوہر کے انتقال پر شفقت کا برتاؤ کرتے ہوئے انھیں اپنے لیے چن لیا۔
آپ ﷺ کی شرافت و احسان مندی تھی کہ آپ نے انھیں ایک حقیر باندی کی حیثیت سے فائدہ نہیں اٹھایا؛ بلکہ غلامی کی ذلت سے بچایا۔ عزت افزائی کی اور امہات المؤمنین میں شامل کر لیا۔ اس لیے کہ آپ نے انہیں آزاد کرکے ان سے شادی کی اور آزادی ہی کو ان کا مہر بنایا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6022

 
 
Hadith   1158   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- عامل أهل خيبر بشطر ما يخرج منها من تمر أو زرع


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں سے کھجور اور غلہ کی نصف پیداوار کے بدلے (بٹائی کا) معاملہ کیا۔

عن عبدالله بن عمر -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- عامل أهل خيبر بِشَطْرِ ما يخرج منها من ثَمَرٍ أو زرع.

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں سے کھجور اور غلہ کی نصف پیداوار کے بدلے (بٹائی کا) معاملہ کیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بلدة خيبر بلدة زراعية، كان يسكنها طائفة من اليهود.
فلما فتحها النبي -صلى الله عليه وسلم- في السنة السابعة من الهجرة، وقسم أراضيها ومزارعها بين الغانمين، وكانوا مشتغلين عن الحراثة والزراعة بالجهاد في سبيل الله والدعوة إلى الله -تعالى-، وكان يهود "خيبر" أبصر منهم بأمور الفلاحة أيضاً، لطول معاناتهم وخبرتهم فيها، لهذا أقر النبي -صلى الله عليه وسلم- أهلها السابقين على زراعة الأرض وسقْي الشجر، ويكون لهم النصف، مما يخرج من ثمرها وزرعها، مقابل عملهم، وللمسلمين النصف الآخر، لكونهم أصحاب الأصل.
582;یبر کا شہر کاشتکاری کا شہر تھا، کچھ یہودی اس میں آباد تھے۔
جب آپ ﷺ نے سن سات (7) ہجری میں خیبر کو فتح کیا اور اس کی زمینیں اور کھیتیاں غنیمت حاصل کرنے والوں کے درمیان تقسیم کردیں، مسلمان کھیتی باڑی اور زراعت کے بجائے اللہ کے راستے میں جہاد اور دعوت وتبلیغ میں مصروف تھے اور خیبر کے یہودی ایک طویل عرصے سے مشقت اٹھانے اور تجربے کی وجہ سے زراعت کے کاموں کو زیادہ بہتر جانتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے خیبر کے گزشتہ مالکوں کو اسی زراعت اور درختوں کی دیکھ بال پر قائم رکھا، اس شرط پر کہ وہ اپنے کام کے عوض آدھے پھل اور کھیتی کی پیداوار میں سے آدھی پیداوار لیں گے اور دوسرا نصف حصہ اصل مالک ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کو دیں گے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6023

 
 
Hadith   1159   الحديث
الأهمية: أن رجلا رمى امرأته، وانتفى من ولدها في زمن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فأمرهما رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فتلاعنا، كما قال الله تعالى، ثم قضى بالولد للمرأة، وفرق بين المتلاعنين


Tema:

ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور اس کے بچہ کو اپنا بچہ ماننے سے انکار کر دیا تو نبی کریم ﷺ نے دونوں کو حکم دیا تو ان دونوں نے لعان کیا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے بیٹے کا فیصلہ عورت کے حق میں کیا اور دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کرا دی۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنها-: أن رجلا اتهم امرأته بالزنا، ونفى كون ولدها منه في زمن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فأمرهما رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فتلاعنا، كما قال الله تعالى، ثم قضى بالولد للمرأة، وفرق بين المتلاعنين

عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور اس کے بچہ کو اپنا بچہ ماننے سے انکار کر دیا تو نبی کریم ﷺ نے دونوں کو حکم دیا تو ان دونوں نے لعان کیا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے بیٹے کا فیصلہ عورت کے حق میں کیا اور دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کرا دی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث يروي عبد الله بن عمر -رَضيَ الله عنهما-: أن رجلًا قذف زوجته بالزنا، وانتفى من ولدها، وبرئ منه فكذبته في دعواه ولم تُقِرَّ على نفسها.
فتلاعنا، بأن شهد الزوج بالله -تعالى- أربع مرات أنه صادق في قذفها، ولعن نفسه في الخامسة.
ثم شهدت الزوجة بالله أربع مرات أنه كاذب، ودعت على نفسها بالغضب في الخامسة.
فلما تمَّ اللعان بينهما، فرق بينهما النبي -صلى الله عليه وسلم- فرقة دائمة، وجعل الولد تابعا للمرأة، منتسبا إليها، منقطعا عن الرجل، غير منسوب إليه.
575;س حدیث میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی اور اس کے بچے کے نسب کا انکار کیا اور اس سے براءت ظاہر کی، عورت نے اس کے دعوے میں اس کی تکذیب کی اور زنا کا اقرار نہیں کیا۔
دونوں نے لعان کیا یعنی شوہر نے اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر چار مرتبہ یہ کہا کہ وہ اس تہمت لگانے میں سچا ہے اور پانچویں دفعہ اپنے اوپر لعنت کی۔ پھر بیوی نے اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر چار مرتبہ کہا کہ شوہر جھوٹا ہے اور پانچویں دفعہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے غصے کا دعویٰ کیا۔
جب ان کے درمیان لعان پوری ہوگئی، تو اللہ کے نبی ﷺ نے ان کے درمیان ہمیشہ کے لیے جدائی کرا دی اور بچے کا نسب عورت سے ثابت کرتے ہوئے اس کے تابع بنایا اور مرد سے نسب ختم کر دیا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6024

 
 
Hadith   1160   الحديث
الأهمية: لا سبيل لك عليها، قال: يا رسول الله، مالي؟ قال: لا مال لك: إن كنت صدقت عليها فهو بما استحللت من فرجها، وإن كنت كذبت فهو أبعد لك منها


Tema:

تمہارا اب اس عورت پر کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرا مال؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا کوئی مال نہیں۔ اگر تم اس کے معاملہ میں سچے ہو تو وه تمہارے اس کی شرم گاہ کو حلال کرنے کے بدلے ميں ہے اور اگر تم نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو وہ (مال) تمہارے ليے اس عورت سے اور بھی زيادہ دور ہے۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- مرفوعاً: «أن فلان بن فلان قال: يا رسول الله، أرأيت أن لو وجد أحدنا امرأته على فاحشة، كيف يصنع؟ إن تكلم تكلم بأمر عظيم، وإن سَكَتَ سَكَتَ على مثل ذلك.
قال: فسكت النبي -صلى الله عليه وسلم- فلم يُجبه.
فلما كان بعد ذلك أتاه فقال: إن الذي سألتك عنه قد ابتليت به. فأنزل الله -عز وجل- هؤلاء الآيات في سورة النور ?والذين يرمون أزواجهم...? فتلاهن عليه ووعظه وذكره. وأخبره أن عذاب الدنيا أهون من عذاب الآخرة. فقال: لا، والذي بعثك بالحق، ما كذبتُ عليها. ثم دعاها، فوعظها، وأخبرها: أن عذاب الدنيا أهون من عذاب الآخرة. فقالت: لا، والذي بعثك بالحق، إنه لكاذب. فبدأ بالرجل؛ فشهد أربع شهادات بالله: إنه لمن الصادقين، والخامسة: أن لعنة الله عليه إن كان من الكاذبين. ثم ثَنَّى بالمرأة. فشهدت أربع شهادات بالله: إنه لمن الكاذبين، والخامسة: أن غضب الله عليها إن كان من الصادقين. ثم فرق بينهما.
ثم قال: إن الله يعلم أن أحدكما كاذب فهل منكما تائب؟ -ثلاثا-»، وفي لفظ «لا سبيل لك عليها. قال: يا رسول الله، مالي؟ قال: لا مال لك: إن كنت صدقت عليها فهو بما استحللت من فرجها، وإن كنت كذبت فهو أبعد لك منها».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: فلان بن فلان نے كہا: اے اللہ کے رسول! یہ بتائیں کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو زنا کرتا ہوا پا لےتو اسے کیا کرنا چاہیے؟ اگر وہ کچھ بولے گا تو اس کا بولنا بہت بڑی بات ہو گی اور اگر چپ رہے گا تو اتنی ہی بری بات پر خاموش رہے گا؟
راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہ دیا۔
بعد ازاں وہ شخص دوبارہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے جو بات آپ سے پوچھی تھی میں خود اس میں مبتلا ہو چکا ہوں۔ اس پر اللہ عز و جل نے سورۂ نور کی یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُم...الخ﴾ ”جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں...مکمل آیت“ آپ ﷺ نے یہ آیات اس کے سامنے تلاوت فرمائی اور اسے وعظ و نصیحت کیا اور بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ (اس لیے اگر تم نے جھوٹ بولا ہے تو تسلیم کرلو اور تہمت کی سزا برداشت کر لو)۔ لیکن اس نے جواب دیا کہ: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں نے اس پر بہتان نہیں لگایا۔ پھر آپ ﷺ نے اس عورت کو بلایا اور اسے نصیحت کی اور بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ وہ کہنے لگی: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! یہ شخص جھوٹا ہے۔ آپ ﷺ نے مرد سے شروع کیا اور اس نے اللہ کی قسم اٹھا کر چار دفعہ گواہی دی کہ وہ سچا ہے اور پانچویں دفعہ اس نے کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس کے بعد آپ ﷺ عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور اس نے بھی چار دفعہ اللہ کی قسم اٹھاتے ہوئے گواہی دی کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں دفعہ اس نے کہا کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب ہو۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ان دونوں کے مابین جدائی کرا دی۔
پھرفرمایا: اللہ تعالی جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ تو کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کرنا چاہتا ہے؟ آپ ﷺ نے ایسا تین دفعہ فرمایا۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: تمہارا اب اس عورت پر کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرا مال؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا کوئی مال نہیں۔ اگر تم اس کے معاملہ میں سچے ہو تو وه تمہارے اس کی شرم گاہ کو حلال کرنے کے بدلے ميں ہے اور اگر تم نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو وہ (مال) تمہارے ليے اس عورت سے اور بھی زيادہ دور ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء الإسلام باللعان ليكون حلًّا لمشكلة اجتماعية، وهي إذا رأى الزوج من يفعل الفاحشة بزوجته وليس له شهود، فإنه يلجأ إلى اللعان، ولكن ليس في حال الشك والوساوس، بل إذا رأى بعينه، فإن الوعيد في اللعان عظيم، وصاحب هذه القصة كأنه أحسَّ من زوجه ريبةً، وخاف أن يقع منها على فاحشة، فحار في أمره، لأنه إن قذفها ولم يأت ببينة، فعليه الحد، وإن سكت فهي الدياثة والعار، وأبدى هذه الخواطر للنبي -صلى الله عليه وسلم-، فلم يجبه كراهة لسؤال قبل أوانه، ولأنه من تعجل الشر والاستفتاح به، بالإضافة إلى أن الرسول -صلى الله عليه وسلم- لم ينزل عليه في ذلك شيء.
بعد هذا رأى هذا السائل الفاحشة التي خافها فأنزل الله في حكمه وحكم زوجه، هذه الآيات من سورة النور {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أزواجهم} (النور: 60) الآيات.
فَتلاهن عليه النبي -صلى الله عليه وسلم-، وذكَّره ووعظه إن كان كاذبا في قذفه لامرأته بأن عذاب الدنيا -وهو حَد القذف- أهون من عذاب الآخرة.
فأقسم أنه لم يكذب بِرَمْيهِ امرأته بالزنا.
ثم وعظ الزوجة كذلك وأخبرها أن عذاب الدنيا -وهو حدُّ الزنا بالرَّجم- أهون من عذاب الآخرة.
فأقسمت أيضا: إنه لمن الكاذبين.
حينئذ بدأ النبي -صلى الله عليه وسلم- بما بدأ الله به، وهو الزوج، فشهد أربع شهادات بالله: إنه لمن الصادقين فيما رماها به، وفي الخامسة أن لعنة الله عليه إن كان من الكاذبين.
ثم ثنى بالمرأة، فشهدت أربع شهادات بالله، إنه لمن الكاذبين، والخامسة أن غضب الله عليها إن كان من الصادقين في دعواه. ثم فرق بينهما فرقة مؤبدة.
وبما أن أحدهما كاذب، فقد عرض عليهما النبي -صلى الله عليه وسلم- التوبة.
فطلب الزوج صداقه، فقال: ليس لك صداق، فإن كنت صادقًا في دعواك زناها، فالصداق بما استحللت من فرجها، فإن الوطء يقرر الصداق.
وإن كنت كاذبا عليها، فهو أبعد لك منها، إذ رميتها بهذا البهتان العظيم.
575;سلام نے لعان کو ایک معاشرتی مسئلے کا حل پیش کرنے کے لیے مشروع کیا ہے، اور وه مسئلہ یہ ہے کہ اگر شوہر كسی کو دیکھےكہ اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر رہا ہے اور اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو وہ لعان کا سہارا لے گا۔ لیکن محض شک اور وسوسے کی صورت میں وہ ایسا نہیں کرے گا، بلکہ ایسا اس وقت ہوگا جب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ اس لیے کہ لعان کے بارے میں بڑی وعید آئی ہے۔ جس شخص کا یہ قصہ ہے اسے گویا اپنی بیوی کی حالت مشکوک ومشتبہ محسوس ہوئی اور اسے اندیشہ لاحق ہوا کہ اس سے بدکاری کا ارتکاب نہ ہو جائے۔ چنانچہ وہ اپنے معاملے میں تذبذب کا شکار ہوگیا۔ کیونکہ اس پر تہمت لگانے کی صورت میں اگر وہ گواہ نہ لا سکا تو اس پر حد لاگو ہوتی اور اگر چپ رہتا تو یہ دیوثیت اور باعث عار بات تھی۔ چنانچہ اس نے اپنے ان خیالات کا اظہار نبی ﷺ کے سامنے کیا۔ آپ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ آپ ﷺ کو یہ ناپسند تھا کہ کسی شے کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس کے بارے میں پوچھا جائے اور دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ یہ برائی میں جلدی کرنے اور اس کی ابتداء کرنے کی قبیل سے تھا اور مزید یہ کہ نبی ﷺ پر اس معاملے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔
بعدازاں اس سائل کو اپنی بیوی سے جس زنا کا اندیشہ تھا اسے اس نے دیکھ لیا تو اس کے حکم اور اس کی بیوی کے حکم کے بارے میں اللہ تعالی نے سورۂ نور کی یہ آیات نازل فرمائی: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُم﴾ ”جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں“ (النور: 60)۔ نبی ﷺ نے ان آیات کو اس شخص پر تلاوت فرمائی اور اسے وعظ و نصیحت کی کہ اگر وہ اپنی بیوی پر تہمت لگانے میں جھوٹا ہے تو جان لے کہ دنیا کا عذاب - جو کہ حدِ قذف ہے -، آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔
اس شخص نے قسم اٹھائی کہ اس نے اپنی بیوی پر زنا کا جھوٹا الزام نہیں لگایا۔
پھر آپ ﷺ نے اس کی بیوی کو بھی نصیحت فرمائی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب - جو کہ حدِ زنا یعنی رجم ہے - وہ آخرت کےعذاب سے ہلکا ہے۔
اس نے بھی قسم اٹھائی کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے۔
اس پر نبی ﷺ نے دونوں میں سے اس سے ابتدا کی جس سے اللہ نے ابتدا کی ہے یعنی شوہر سے۔ چنانچہ اس نے چار دفعہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ اس نے اس عورت پر جو الزام لگایا ہے اس میں وہ سچا ہے اور پانچویں بار میں اس نے کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
پھر آپ ﷺ عورت کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس نے بھی چار دفعہ اللہ کی قسم اٹھا کر گواہی دی کہ وہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں بار میں اس نے کہا کہ اگروہ اپنے دعوے میں سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ان دونوں کے مابین ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدائی کرا دی۔
چوں کہ ان میں سے ایک جھوٹا تھا اس لیے نبی ﷺ نے انہیں توبہ کرنے کی پیش کش کی۔
شوہر نے اپنا حق مہر طلب کیا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: تمہیں حق مہر واپس نہیں ملے گا۔ اگر تم اپنے اس دعوی میں سچے ہو کہ اس عورت نے زنا کیا ہے تو یہ حق مہر تمہارا اس کی شرم گاہ کو حلال کرنے کے عوض ہو جائے گا کیونکہ وطی سے حق مہر ثابت ہو جاتا ہے۔
اور اگر تم نے اس پر جھوٹا الزام دھرا ہے تو پھر حق مہر تمہاری دسترس سے اس عورت سے اور بھی زیادہ دور ہے کیونکہ تم نے اس پر یہ بہتان عظیم لگایا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6025

 
 
Hadith   1161   الحديث
الأهمية: دخل علي رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وعندي رجل، فقال: يا عائشة، من هذا؟ قلت: أخي من الرضاعة، فقال: يا عائشة: انظرن من إخوانكن؟ فإنما الرضاعة من المجاعة


Tema:

رسول الله ﷺ میرے پاس تشریف لائے، جب کہ میرے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: اے عائشہ! یہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا کہ یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس بات کو دیکھ بھال لیا کرو کہ تمھارا رضاعی بھائی کون ہو سکتا ہے؟ رضاعت کا تعلق بھوک کے ساتھ ہے۔

عن عائشة- رضي الله عنها- قالت: «دخل علي رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وعندي رجل، فقال: يا عائشة، من هذا؟ قلت: أخي من الرضاعة، فقال: يا عائشة: انظرن من إخوانكن؟ فإنما الرضاعة من المجاعة».

عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ رسول الله ﷺ میرے پاس تشریف لائے، جب کہ میرے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: اے عائشہ! یہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا کہ یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس بات کو دیکھ بھال لیا کرو کہ تمھارا بھائی کون ہو سکتا ہے؟۔ رضاعت کا تعلق بھوک کے ساتھ ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دخل النبي -صلى الله عليه وسلم- على عائشة، فوجد عندها أخاها من الرضاعة -وهو لا يعلم عنه- فتغير وجهه -صلى الله عليه وسلم-، كراهةً لتلك الحال، وغَيْرَةً على محارمه.
فعلمت السببَ الذي غيَّر وجهه، فأخبرته: أنه أخوها من الرضاعة.
فقال: يا عائشة انظرْن وتثبتنَ في الرضاعة، فإن منها ما لا يسبب المحرمية، فلا بد من رضاعة ينبت عليها اللحم وتشتد بها العظام، وذلك أن تكون من المجاعة، حين يكون الطفل محتاجا إلى اللبن، فلا يتقوت بغيره، فيكون حينئذ كالجزء من المرضعة، فيصير كأحد أولادها، فّتثبت المحرمية، والمحرمية أن يكون محرمًا للمرضعة وعائلتها، فلا تحتجب عنه، ويخلو بها، ويكون محرمها في السفر، وهذا يشمل المرضعة وزوجها صاحب اللبن، وأولادهما وإخوانهما وآباءهما وأمهاتهما.
606;بی ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے، تو دیکھا کہ ان کے پاس ان کا رضاعی بھائی بیٹھا ہوا ہے، -جسے آپ ﷺ نہیں جانتے تھے-۔ اس صورت حال کی ناپسندیدگی اور اپنی محرم عورتوں پر غیرت کی وجہ سے آپ ﷺ کا چہرۂ انور متغیر ہو گیا۔
عائشہ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے چہرۂ انور کے متغیر ہونے کا سبب جان کر آپ ﷺ کو بتایا کہ وہ ان کا رضاعی بھائی ہے۔
اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: رضاعت کے معاملے میں خوب غور اور تحقیق کر لیا کرو۔ رضاعت بسا اوقات ایسی ہوتی ہے، جس سے عورت مرد کی محرم نہیں بنتی۔ رضاعت ایسی ہونی چاہیے کہ اس کی وجہ سے گوشت پیدا ہو اور ہڈیوں کو مضبوطی ملے اور ایسا تب ہی ہوتا ہے، جب رضاعت بھوک مٹانے کا کام کرتی ہو، جب بچے کو دودھ کی ضرورت ہو اور وہ کسی اور شے کو بطور غذا استعمال نہ کرتا ہو۔ ایسے میں بچہ دودھ پلانے والی عورت کے جز کی اور اس کے کسی اولاد کی طرح ہوجاتا ہے اور اس سے محرمیت پیدا ہوجاتی ہے۔ محرمیت سے مراد یہ ہے کہ بچہ دودھ پلانے والی عورت اور اس کے اہل خانہ کے لیے محرم بن جاتا ہے۔ چنانچہ دودھ پلانے والی عورت اس سے پردہ نہیں کرتی۔ دودھ پینے والا اس کے ساتھ تنہائی میں بھی بیٹھ سکتا ہے اور سفر میں بطور محرم اس کے ساتھ جا سکتا ہے۔ اس میں دودھ پلانے والی عورت، اس کا وہ شوہر جس کی وجہ سے اس کا دودھ اترا ہو، ان کی اولاد، ان کے بھائی اور ان کے باپ اور مائیں سب شامل ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6027

 
 
Hadith   1162   الحديث
الأهمية: إنما جعل الإمام ليؤتم به، فلا تختلفوا عليه، فإذا كبر فكبروا، وإذا ركع فاركعوا، وإذا قال: سمع الله لمن حمده، فقولوا: ربنا ولك الحمد، وإذا سجد فاسجدوا، وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا أجمعون


Tema:

امام اس لیے بنایاجاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے اس کی مخالفت نہ کرو۔ جب وہ تکبیر کہے تو تکبیر کہو، جب رکوع کرے تو رکوع کرو، جب ”سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہتے تو کہو: ”رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ“ جب سجدہ کرے تو سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إنما جُعِلَ الإمام ليِؤُتَمَّ به، فلا تختلفوا عليه، فإذا كبر فكبروا، وإذا ركع فاركعوا، وإذا قال: سمع الله لمن حمده، فقولوا: ربنا ولك الحمد. وإذا سجد فاسجدوا، وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا أجمعون».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام اس لئے ہوتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے چنانچہ اس کی مخالفت نہ کرو۔ جب وہ تکبیر کہے تو تکبیر کہو، جب رکوع کرے تو رکوع کرو، جب ”سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہتے تو کہو: ”رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ“ اور جب سجدہ کرے تو سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أرشد النبي -صلى الله عليه وسلم- المأمومين إلى الحكمة من جعل الإمام وهي أن يقتدي به المصلون في صلاتهم، ولا يختلفون عليه بعمل من أعمال الصلاة، وإنما تراعى تَنَقلاته بنظام فإذا كبر للإحرام، فكبروا أنتم كذلك، وإذا رَكع فاركعوا بعده، وإذا ذكركم أن الله مجيب لمن حمده بقوله: "سمع الله لمن حمده" فاحمدوه -تعالى- بقولكم:
"ربنا لك الحمد"، وكذلك ما ورد من صيغ أخرى مثل: "ربنا ولك الحمد" "اللهم ربنا ولك الحمد" "اللهم ربنا لك الحمد"، وإذا سجد فتابعوه واسجدوا، وإذا صلى جالساً لعجزه عن القيام -فتحقيقاً للمتابعة- صلوا جلوساً، ولو كنتم قادرين على القيام.
606;بی ﷺ مقتدیوں کو امام متعین کرنے کی حکمت کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔ حکمت یہ ہے کہ نمازی اپنی نماز میں امام کی پیروی کریں اور نماز کے کسی بھی عمل میں اس کی مخالفت نہ کریں۔ منظم انداز میں امام کی حرکات کا خیال رکھے۔ بایں طور کہ جب وہ تکبیر تحریمہ کہے تو تم بھی اسی طرح تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو اس کے پیچھے تم بھی رکوع کرو، جب وہ ”سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہہ کر تمہیں یاد دلائے کہ اللہ کی ذات اس شخص کی بات سنتی ہے، جو اس کی حمد کرتا ہے، تو اس پر تم ”رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ“ کہتے ہوئے اس کی حمد بیان کرو۔ یا اس کی جگہ پر حدیثوں میں وارد ہونے والے دیگر الفاظ کہو۔ جیسے: ”رَبَّنَا ولَكَ الْحَمْدُ“، ”اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ“ اور ”اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ“۔ جب وہ سجدہ کرے، تو اس کی اتباع میں تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ کسی وجہ سے کھڑا ہونے سے عاجز ہو اور بیٹھ کر نماز پڑھے، تو تم بھی اس کی پیروی میں بیٹھ کر ہی نماز پڑھو، اگرچہ تم کھڑے ہونے کی قدرت بھی رکھتے ہو۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6029

 
 
Hadith   1163   الحديث
الأهمية: كانت المرأة إذا توفي عنها زوجها: دخلت حفشا، ولبست شر ثيابها، ولم تمس طيبا ولا شيئا حتى تمر بها سنة، ثم تؤتى بدابة -حمار أو طير أو شاة- فتفتض به!


Tema:

(زمانہ جاہلیت میں) جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک تنگ وتاریک کوٹھڑی میں چلی جاتی،اور گھٹیا قسم کے کپڑے پہنتی، وہ نہ خوشبو لگاتی اورنہ ہی زیب وزینت کی کوئی اور چیز استعمال کرتی یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ایک سال گزر جاتا۔ پھر کسی جانور - گدھے، یا پرندے یا بکری - کو اس کے پاس لایا جاتا اور وہ اس کے ساتھ اپنا جسم رگڑتی

عن أم سلمة -رضي الله عنها- مرفوعاً: «جاءت امرأة إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقالت: يا رسول الله، إن ابنتي توفي عنها زوجها، وقد اشتكت عينها أفَنَكْحُلُها؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: لا -مرتين، أو ثلاثا-، ثم قال: إنما هي أربعة أشهر وعشر، وقد كانت إحداكن في الجاهلية ترمي بالبَعْرَةِ على رأس الحول».
فقالت زينب: كانت المرأة إذا توفي عنها زوجها: دخلت حفشا، ولبست شر ثيابها، ولم تَمَسَّ طيبا ولا شيئا حتى تمر بها سنة، ثم تؤتى بدابة -حمار أو طير أو شاة- فتَفْتَضُّ به! فقلما تفتض بشيء إلا مات! ثم تخرج فتُعطى بعرة؛ فترمي بها، ثم تراجع بعد ما شاءت من طيب أو غيره».

ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میری بیٹی کا خاوند وفات پا گیا ہے اور اس کی آنکھ دکھتی ہے، کیا ہم اس کی آنکھ میں سر مہ لگا سکتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں، آپ ﷺ نے ایسا دو یا تین دفعہ کہا، اور پھر فرمایا: ”یہ صرف چار ماہ اور دس دن ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں تو تم عورتيں سال کے اختتام پر مینگنی پھینکا کرتی تھيں“۔ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: (زمانہ جاہلیت میں) جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک تنگ وتاریک کوٹھڑی میں چلی جاتی،اور گھٹیا قسم کے کپڑے پہنتی، وہ نہ خوشبو لگاتی اورنہ ہی زیب وزینت کی کوئی اور چیز استعمال کرتی یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ایک سال گزر جاتا۔ پھر کسی جانور - گدھے، یا پرندے یا بکری - کو اس کے پاس لایا جاتا اور وہ (عدت سے باہر آنے کے لیے) اس کے ساتھ اپنا جسم رگڑتی۔ ایسا کم ہوتا تھا کہ وہ جس سے اپنا جسم رگڑتی تھی وہ مر نہ جائے! پھر وہ باہر آتی اور اسے ایک مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی۔ اس کے بعد وہ خوشبو یا جو بھی شے چاہتی استعمال کرتی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء الإسلام وأزال عن الناس أعباء الجاهلية، وخاصة المرأة، فقد كانوا يسيئون معاملتها ويظلمونها، فحفظ الإسلام حقها.
ففي هذا الحديث جاءت امرأة تستفتي النبي صلى الله عليه وسلم، فتخبره أن زوج ابنتها توفي، فهي حاد عليه، والحادُّ تجتنب الزينة، ولكنها اشتكت وجعا في عينيها فهل من رخصة لها في استعمال الكحل؟
فقال صلى الله عليه وسلم: لا- مكرراً ذلك، مؤكدا.
ثم قلَّل صلى الله عليه وسلم المدة، التي تجلسها حادًّا لحرمة الزوج وهي أربعة أشهر وعشرة أيام، أفلا تصبر هذه المدة القليلة التي فيها شيء من السعة.
وكانت النساء في الجاهلية، تدخل الحاد منكن بيتًا صغيراٍ كأنه جحر وحش، فتتجنب الزينة، والطيب، والماء، ومخالطة الناس، فتراكم عليها أوساخها وأقذارها، معتزلة الناس، سنة كاملة.
فإذا انتهت منها أعطيت بعرة، فرمت بها، إشارة إلى أن ما مضى عليها من ضيق وشدة وحرج لا يساوي -بجانب القيام بحق زوجها- هذه البعرة.
فجاء الإسلام فأبدلهن بتلك الشدة نعمة، وذلك الضيق سعة، ثم لا تصبر عن كحل عينها، فليس لها رخصة، لئلا تكون سُلَّماً إلى فتح باب الزينة للحادِّ.
575;سلام نے آ کر لوگوں کو بارِ جاہلیت سے چھٹکارا دلایا، خاص طور پر عورت کو۔ زمانۂ جاہلیت میں لوگ عورت کے ساتھ بہت برا سلوک کرتے اور اس پر ظلم ڈھاتے تھے۔چنانچہ اسلام نے عورت کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا۔
اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ سے ایک مسئلہ میں شرعی حکم دریافت کرنے کے لئے آئی۔ اس نے آپ ﷺ کو بتایا کہ اس کی بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا اور وہ اس کی وفات پر سوگ میں بیٹھی ہے۔ سوگ میں بیٹھی عورت زیب و زنیت سے گریز کرتی ہے، لیکن اس کی آنکھوں میں درد ہے۔ تو کیا اس کے لیے سرمہ استعمال کرنے کی رخصت ہے؟
آپ ﷺنے فرمایا: نہیں۔ آپ ﷺ نے بطور تاکید بار بار ایسا فرمایا۔
پھر آپ ﷺ نے اس مدت میں کمی فرما دی جس میں عورت کا اپنے خاوند کی حرمت کے پیش نظر سوگ میں بیٹھنا ضروری ہے، اور وہ چار ماہ اور دس دن ہیں۔ تو کیا وہ اس تھوڑی سی مدت بھی صبر نہیں کر سکتی جس میں کچھ آسانی ہے۔
حالانکہ زمانۂ جاہلیت میں عورتوں کا یہ حال تھا کہ تم میں سے جو عورت سوگ میں ہوتی وہ جنگلی جانور کی بل کی طرح کے ایک چھوٹے سے گھر میں گھس جاتی اور زیب و زینت، خوشبو، پانی کے استعمال اور لوگوں کے ساتھ میل جول سے گریز کرتی تھی۔ اس کی وجہ سے اس پر تہ در تہ میل کچیل اور گندگیاں جم جاتیں۔ وہ پورے ایک سال لوگوں سے الگ تھلگ رہتی۔
جب اس سے وہ فارغ ہوتی تو اسے ایک مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینک دیتی۔ یہ اس بات کا اشارہ ہوتا کہ اس پر جو تنگی و سختی اور پریشانی آئی ہے وہ خاوند کے حق کے مقابلے میں اس مینگنی کے بھی برابر نہیں۔
اسلام نے آکر اس سختی کو ان کے لیے نعمت اور تنگی کو کشادگی میں بدل دیا۔ کیا اب وہ اپنی آنکھ میں سرمہ لگانے سے صبر نہیں کر سکتی۔ چنانچہاس کے لیے کوئی رخصت نہیں تاکہ کہیں سوگ پر بیٹھی عورت کے لیے اس کی وجہ سے زیب و زینت کا دروازہ نہ کھل جائے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6030

 
 
Hadith   1164   الحديث
الأهمية: يا رسول الله، إني أصبت أرضا بخيبر، لم أصب مالا قط هو أنفس عندي منه، فما تأمرني به؟ فقال: إن شئت حبست أصلها، وتصدقت بها


Tema:

اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس جیسا مال مجھے کبھی نہیں ملا اور میرے نزدیک وہ سب سے محبوب چیز ہے۔ آپ مجھے اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو اصل زمین اپنے پاس روک رکھو اور اس کی پیداوار صدقہ کردو۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- قال: «قد أصاب عمر أرضًا بخيبر. فأتى النبي -صلى الله عليه وسلم- يستأمره فيها. فقال: يا رسول الله، إني أصبت أرضًا بخيبر، لم أُصِبْ مالًا قَطُّ هو أنفس عندي منه، فما تأمرني به؟ فقال: إن شِئْتَ حَبَّسْتَ أصلها، وتصدقت بها.
قال: فتصدق بها، غير أنه لا يُباع أصلها، ولا يوهب، ولا يورث.
قال: فتصدق عمر في الفقراء، وفي القربى، وفي الرقاب، وفي سبيل الله، وابن السبيل، والضيف. لا جناح على من وليها أن يأكل منها بالمعروف، أو يطعم صديقًا، غير مُتَمَوِّلٍ فيه»، وفي لفظ: «غير مُتَأثِّلٍ».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیبر میں زمین ملی تو وہ نبی ﷺ کے پاس اس کے بارے میں مشورہ کرنے کے لیے حاضر ہوئے اورعرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس جیسا مال مجھے کبھی نہیں ملا اور میرے نزدیک وہ سب سے محبوب چیز ہے۔آپ ﷺ مجھے اس بارے میں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر تم چاہو تو اصل زمین اپنے پاس روک رکھو اور اس کی پیداوار صدقہ کردو‘‘ ۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے اس شرط پر وقف کیا کہ اس کی ملکیت نہ فروخت کی جائے نہ خریدی جائے اور نہ میراث بنے اور نہ ہبہ کی جائے۔ فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے فقرا اور رشتہ داروں اور غلام آزاد کرنے میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافروں میں، مہمانوں میں صدقہ کردیا اور جو اس کا منتظم ہو وہ اس میں سے نیکی کے ساتھ (جائز بھر) کھائے یا اپنے دوستوں کو کھلائے تو کوئی حرج نہیں ، لیکن اس سے مال جمع نہ کرے۔ اور ایک دوسرے لفظ میں (غیر متاثل) ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أصاب عمر بن الخطاب رضى الله عنه أرضا بخيبر، قدرها مائة سهم، هي أغلى أمواله عنده، لطيبها وجودتها: وقد كانوا- رضى الله عنهم- يتسابقون إلى الباقيات الصالحات، فجاء رضي اللَه عنه إلى النبي صلى الله عليه وسلم طمعا في البر المذكور في قوله تعالى: {لَنْ تَنَالوا البِرً حَتًى تُنْفِقُوا مِمًا تُحِبونَ} يستشيره في صفة الصدقة بها لوجه الله تعالى.
فأشار عليه بأحسن طرق الصدقات، وذلك بأن يحبس أصلها ويقفه، ففعل عمر ذلك وصارت وقفا فلا يتصرف به ببيع، أو إهداء، أو إرث أو غير ذلك من أنواع التصرفات، التي من شأنها أن تنقل الملك ، أو تكون سببا في نقله، ويصدق بها في الفقراء والمساكين، وفي الأقارب والأرحام، وأن يَفُك منها الرقاب بالعتق من الرق، أو بتسليم الديات عن المستوجبين، وأن يساعد بها المجاهدين في سبيل الله لإعلاء كلمته ونصر دينه، وأن يطعم المسافر الذي انقطعت به نفقته في غير بلده، ويطعم منها الضيف أيضا، فإكرام الضيف من الإيمان بالله تعالى.
بما أنها في حاجة إلى من يقوم عليها ويتعاهدها بالري والإصلاح، مع رفع الحرج والإثم عمن وليها أن يأكل منها بالمعروف، فيأكل ما يحتاجه، ويطعم منها صديقا غير متخذ منها مالا زائدا عن حاجته، فهي لم تجعل إلا للإنفاق في طرق الخير والإحسان، لا للتمول والثراء.
تنبيه:
الوقف أن يتصدق المسلم بمال له عائد على جهة من جهات الخير، فيُصرف العائد على تلك الجهة ويبقى أصل المال، مثاله أن يقف مزرعة على الفقراء، فالثمار والزروع التي تنتجها هذه المزرعة تعطى للفقراء وتبقى المزرعة محبوسة.
593;مر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، اس کی مقدار سو سہم (حصے) تھی۔ یہ آپ کے مال میں سے سب سے مہنگا مال تھا، اس لیے کہ یہ بہت عمدہ زمین تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نیکیوں میں آگے بڑھتے تھے۔ قرآن کریم کی آیت {لَنْ تَنَالوا البِرً حَتًى تُنْفِقُوا مِمًا تُحِبونَ } کے پیشِ نظر نیکی کی لالچ کرتے ہوئے آپ ﷺ کے پاس آئے تاکہ اس کو اللہ کی رضا کے لیے صدقہ کرنے کے بارے میں مشورہ کریں۔
آپ ﷺ نے صدقہ کرنے کا سب سے اچھا مشورہ دیا یعنی اصل زمین کو پاس رکھ کر اس کی پیداوار کو صدقہ کردو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، وہ زمین وقف ہوگئی، اس کو نہ بیچا جا سکتا تھا، نہ ہدیہ کیا جاسکتا تھا اور نہ ہی اس میں وراثت یا کوئی اور ایسا تصرف ہو سکتا تھا جس کی وجہ سے اس کی ملکیت کسی اور کی طرف منتقل ہو یا انتقالِ ملکیت کا سبب بنے۔ اس کو فقیروں و مسکینوں، عزیز و اقارب، غلام کو چھڑانے، جن پر دیت واجب ہو ان کی طرف سے دیت کی ادائیگی کے لیے، اللہ کے دین کی مدد اور دین کی سربلندی کے لیے لڑنے والے مجاہدین کے تعاون کے لیے، وہ مسافر جو اپنے شہر سے دور ہو اور اس کا زادِ راہ ختم ہو گیا ہو نیز مہمانوں کو کھلانے کے لیے وقف کردیا۔ مہمان کا اکرام کرنا اللہ تعالیٰ پر ایمان کا حصہ ہے۔
یہ ضروت مند کی ضرورت کو بھی پورا کرتا ہے اور نیکی اور بھلائی کے کام کی نگرانی بھی ہے اور ساتھ ساتھ مالکِ زمین سے حرج اور گناہ کو دور کرنا ہے کہ وہ اچھے طریقے سے خود بھی اپنی ضرورت کے مطابق اس سے کھا سکتا ہے اور اس دوست کو بھی کھلا سکتا ہے جس کے پاس ضرورت سے زیادہ مال نہ ہو۔ یہ خیر اور احسان کے راستے میں مال کا خرچ کرنا ہے۔ نہ کہ مال جمع کرکے مالدار ہونا مقصود ہو۔
تنبیہ:
وقف یہ ہے کہ مسلمان اپنے مال کو صدقہ کر کے اس کی پیداوار کو بھلائی کے جس کام میں چاہے استعمال کرسکتا ہے، پیداوار کو اسی مصرف میں خرچ کرکے اصل مال کو باقی رکھا جائے گا۔ اس کی مثال یہ ہے کھیتی فقراء پر وقف کردے، تو پھل اور پیدا ہونے والی فصل فقراء کو دے دی جائے گی اور کھیتی ان کے پاس باقی رہے گی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6031

 
 
Hadith   1165   الحديث
الأهمية: يا رسول الله تزوجت امرأة، فقال: «ما أصدقتها؟» قال: وزن نواة من ذهب قال: «بارك الله لك، أولم ولو بشاة»


Tema:

یا رسول اللہ! میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: تو نے اسے بطور مہر کیا دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ایک گٹھلی کے ہم وزن سونا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی سے کیوں نہ ہو۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- رأى عبد الرحمن بن عوف، وعليه ردَعْ ُزَعفَرَان. فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «مَهْيَمْ؟ فقال: يا رسول الله تزوجت امرأة، فقال: ما أصدقتها؟ قال: وَزْنُ نواة من ذهب قال: بارك الله لك، أَوْلِمْ ولو بشاة».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ کو دیکھا کہ ان پر زعفرانی رنگ چڑھا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: تو نے اسے بطور مہر کیا دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ایک گٹھلی کے ہم وزن سونا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی سے کیوں نہ ہو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
رأى النبي -صلى الله عليه وسلم- على عبد الرحمن بن عوف -رضي الله عنه- شيئًا من أثر الزعفران، وكان الأولى بالرجال أن يتطيبوا بما يظهر ريحه، ويخفي أثره، فسأله- بإنكار- عن هذا الذي عليه، فأخبره أنه حديث عهد بزواج، فقد يكون أصابه من زوجه، فرخص له في ذلك.
ولما كان صلى الله عليه وسلم حَفِيا بهم، عطوفاً عليهم، يتفقد أحوالهم ليقرهم على الحسن منها، وينهاهم عن القبيح، سأله عن صداقه لها.
فقال: ما يعادل وزن نواة من ذهب.
فدعا له صلى الله عليه وسلم بالبركة، وأمره أن يولم من أجل زواجه ولو بشاة.
606;بی ﷺ نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر کچھ زعفران کا نشان لگا دیکھا۔ جب کہ مردوں کے لیے وہ خوشبو اچھی ہوتی ہے جس کی مہک تو خوب پھیلے لیکن اس کا نشان مخفی رہے، (جب کہ زعفران میں یہ خوبی نہیں ہوتی اور وہ عورتوں کی خوشبو مانی جاتی ہے)۔آپ ﷺ نے ناپسندیدگی کے انداز میں ان پر لگے اس زعفرانی رنگ کے نشان کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ ان کی نئی نئی شادی ہوئی ہے اور ان پر یہ رنگ ان کی بیوی سے لگ گیا ہے۔چنانچہ اس پر آپ ﷺ انہیں رخصت دے دی۔ چونکہ آپ ﷺ صحابہ پر بہت شفقت اور مہربانی فرمایا کرتے تھے اس لیے آپﷺ ان کے احوال پر نظر رکھا کرتے تھے تاکہ انہیں اچھی حالت پر باقی رہنے دیں اور بری حالت سے انہیں منع کریں۔ آپ ﷺ نے ان سے اپنی بیوی کو دیے گئے مہر کے بارے میں پوچھا۔
انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے کھجور کی ایک گٹھلی برابر سونا بطور مہر دیا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی اور انہیں اپنی شادی کی وجہ سے ولیمہ کرنے کا حکم دیا اگرچہ ایک بکری ہى سے ہو۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6032

 
 
Hadith   1166   الحديث
الأهمية: أوه، أوه، عين الربا، عين الربا، لا تفعل، ولكن إذا أردت أن تشتري فبع التمر ببيع آخر، ثم اشتر به


Tema:

توبہ توبہ یہ تو عین سود ہے، یہ تو بعینہ سود ہے۔ ایسا نہ کیا کرو البتہ (اچھی کھجور) خریدنے کا ارادہ ہو تو (ردی) کھجور بیچ کر (اس کی قیمت سے) عمدہ خرید لیا کرو۔

عن أبي سعيد الخدري- رضي الله عنه-: جاء بلال إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بتمر بَرْنِيٍّ، فقال له النبي -صلى الله عليه وسلم-: «من أين لك هذا؟» قال بلال: كان عندنا تمر رديء، فبعتُ منه صاعين بصاع ليطعم النبي -صلى الله عليه وسلم-. فقال النبي -صلى الله عليه وسلم- عند ذلك: «أَوَّهْ، أَوَّهْ، عَيْنُ الربا، عين الربا، لا تفعل، ولكن إذا أردت أن تشتري فَبِعِ التمرَ ببيع آخر، ثم اشتر به».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس برنی کھجوریں لے کر آئے۔ تو نبی ﷺ نے اُن سے کہا تمہیں یہ کہاں سے ملیں؟ بلال رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہمارے پاس ردی کھجوریں تھیں، اس کے دو صاع کو برنی (اچھی کھجوروں) کے ایک صاع کے بدلے میں دے کر میں اسے لایا ہوں۔ تاکہ میں یہ آپ کو کھلاؤں آپ ﷺ نے فرمایا: توبہ توبہ یہ تو عین سود ہے، یہ تو بعینہ سود ہے۔ ایسا نہ کیا کرو البتہ (اچھی کھجور) خریدنے کا ارادہ ہو تو (ردی) کھجور بیچ کر (اس کی قیمت سے) عمدہ خرید لیا کرو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء بلال -رضي الله عنه- إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- بتمر برني جيد، فتعجب النبي -صلى الله عليه وسلم- من جودته وقال: من أين هذا؟
قال بلال: كان عندنا تمر، فبعت الصاعين من الردي بصاع من هذا الجيد، ليكون مطعم النبي -صلى الله عليه وسلم- منه.
فعظم ذلك على النبي -صلى الله عليه وسلم- وتأوه، لأن المعصية عنده هي أعظم المصائب.
وقال: عملك هذا، هو عين الربا المحرم، فلا تفعل، ولكن إذا أردت استبدال رديء، فبع الرديء بدراهم، ثم اِشتر بالدراهم تمرًا جيدًا. فهذه طريقة مباحة تعملها، لاجتناب الوقوع في المحرم.
576;لال رضی اللہ عنہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے ہاں برنی اچھی کھجوریں لے کر آئے، آپ ﷺ نے اس کی عمدگی پر حیرانگی فرمائی اور کہا کہاں سے لائے ہو؟ بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمارے پاس ردی کھجوریں تھی، میں نے دو صاع ردی کھجوروں کے بدلے ایک صاع اچھی کھجوریں لے لیں، تاکہ آپ ﷺ اس کو تناول فرمالیں۔ یہ آپ ﷺ پر ناگوار گزرا اور’’توبہ توبہ‘‘ فرمایا، اس لیے کہ یہ گناہ آپ ﷺ کے ہاں عظیم گناہوں میں سے ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا یہ کام بعینہٖ سود ہے جو کہ حرام ہے، ایسا نہ کرو۔ ہاں جب تم ردی کھجوروں کو تبدیل کرنا چاہو، تو ردی کھجوروں کو درھم کے بدلے بیچ دو، پھر درھم کے عوض اچھی کھجوریں خریدو۔ یہ جائز طریقہ ہے، حرام سے بچنے کے لیے اس طرح تم کر سکتے ہو۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6033

 
 
Hadith   1167   الحديث
الأهمية: إذا أوى أحدكم إلى فراشه فَليَنْفُضْ فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إزَارِهِ فإنَّهُ لا يدري ما خلفه عليه


Tema:

جب تم میں سے کوئی شخص بستر پر ليٹنے كا اراده كرے تو پہلے اپنا بستر اپنی ازار کے اندرونی کنارے سے جھاڑ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے (اس کی بے خبری میں) کیا چیز اس پر آ گئی ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إذا أوى أحدكم إلى فراشه فَليَنْفُضْ فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إزَارِهِ فإنَّهُ لا يدري ما خلفه عليه، ثم يقول: باسمك ربي وضعت جنبي، وبك أرفعه، إن أمسكت نفسي فارحمها، وإن أرسلتها، فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص بستر پر ليٹنے كا اراده كرے تو پہلے اپنا بستر اپنی ازار کے اندورنی کنارے سے جھاڑ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے (اس کی بے خبري میں) کیا چیز اس پر آ گئی ہے۔ پھر یہ دعا پڑھے: ”بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ“ اے میرے پالنے والے! تیرے نام سے میں نے اپنا پہلو رکھا ہے اور تیرے ہی نام سے اٹھاؤں گا۔ اگر تو نے میری جان کو روک لیا تو اس پر رحم کرنا اور اگر چھوڑ دیا (زندگی باقی رکھی) تو اس کی اس طرح حفاظت کرنا جس طرح تو صالحین کی حفاظت کرتا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يدور معنى هذا الحديث حول بيان أذكار النوم، وهي اللحظة التي يسلم الإنسان فيها روحه لربه في لحظة لا يملك فيها حولا ولا قوة، فيتركها في يد خالقها يحفظها ، ويردها مع تمام التفويض لله تعالى.
قال أهل العلم: وحكمة الذكر والدعاء عند النوم واليقظة أن تكون خاتمة أعماله على الطاعة، وأول أفعاله على الطاعة.
وفي هذا الحديث المبارك يبين لنا النبي صلى الله عليه وسلم ما يسن على العبد فعله وقوله عند النوم، فأرشدنا النبي صلى لله عليه سلم إلى الجانب الفعلي، فقال: «إذا أوى أحدكم إلى فراشه فَليَنْفُضْ" وهذا لأن العرب كانوا يتركون الفراش بحاله، فلربما دخل الفراش بعد مغادرة العبد له بعض الحشرات المؤذية، أو تلوث بالغبار ونحوه، فأمر النبي صلى الله عليه سلم بنفض الفراش قبل النوم، ثم بين النبي صلى الله عليه وسلم آلة النفض والتنظيف فقال: "فلينفض فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إزَارِهِ" والإزار: هو ما يلبس على أسفل البدن، والمقصود أي: بطرف الثياب الداخلي، لأنه أسهل للنفض، وحتى لا يصيب ظاهر الإزار شيء من القذر ونحوه، كما انه أستر للعورة، والغالب على العرب أنه لم يكن لهم ثوب غير ما هو عليهم من إزار ورداء، فالمهم هو نفض الفراش سواء كان النفض بملابس متصلة (يرتديها الشخص) أم منفصلة (لا يرتديها)، أو بما ينفض به الفراش غير ذلك.
ثم يبين النبي صلى الله عليه وسلم العلة من هذا النفض والتنظيف: "فإنَّهُ لا يدري ما خلفه عليه" وهذا يدل على حرص الشريعة على سلامة الأبدان، لأن بالأبدان قوام الأديان، وهكذا انتهت هنا السنة الفعلية مع بيان علتها.
ثانيا: السنة القولية.
ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم: "ثم يقول: باسمك ربي" أي: باسم الله العلي العظيم أضع هذا الجسد الهامد على الفراش، وهذا يدل على استحباب مداومة الإنسان لذكر ربه في كل وقت، ثم يقول: "وضعت جنبي وبك أرفعه" أي: أني لا أضع هذا الجسد ولا أرفعه إلا مستصحبا فيها ذكرك.
ثم قال صلى الله عليه وسلم : "إن أمسكت نفسي فارحمها" كناية عن الموت.   قوله صلى الله عليه وسلم: "وإن أرسلتها" كناية عن الحياة.
وقوله صلى الله عليه وسلم: "فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين" أي أن تحفظ نفسي وروحي بما تحفظ به عبادك، وهو حفظ عام من سائر الآثام والموبقات والشرور ، كقوله صلى الله عليه وسلم: "احفظ الله يحفظك" فهذا حفظ عام  ولذا خصه بالصالحين فإن حفظ الرب تعالى لا ينال إلا بالصلاح، فليس للمفرط والمضيع حظ من حفظ الله الحفظ الخاص الذي يوليه الله تعالى لأوليائه، ولكن قد يناله شيء من الحفظ العام.
575;س حدیث میں سوتے وقت کے اذکار کا بیان ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان اپنی روح کو اپنے رب کے حوالے کر دیتا ہے جب کہ اس کے بس میں اس سلسلے میں کوئی طاقت و قوت نہیں رہتی۔ پس وہ اسے اس کے خالق کے سپرد کر دیتا ہے کہ وہی اس کی حفاظت کرے۔چنانچہ وہ پورے طور پر اسے اللہ کے حوالے کر دیتا ہے۔
علماء کہتے ہیں کہ سونے اور جاگنے کے اوقات میں ذکر اور دعا کرنے کی حکمت یہ ہے کہ انسان کے اعمال کا خاتمہ بھی اطاعت کے ساتھ ہو اور ان کا آغاز بھی اطاعت ہی کے ساتھ ہو۔
اس حدیث شریف میں نبی ﷺ اس بات کی وضاحت فرما رہے ہیں جس کا کرنا اور کہنا سوتے وقت بندے کے لیے مسنون ہے۔ نبی ﷺ نے عملی پہلو کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ ”تم میں سے جب کوئی شخص سونے کے ارادے سے اپنے بستر پر جائے تو اسے جھاڑ لے“۔ آپ ﷺ نے ایسا اس لیے فرمایا کیوں کہ عرب لوگ بستر کو اسی حالت میں بچھا ہوا چھوڑ دیا کرتے تھے۔ چنانچہ احتمال ہے کہ آدمی کے بستر کو چھوڑ جانے کے بعد اس میں موذی حشرات الارض گھس جائیں یا پھر وہ گرد و غبار وغیرہ سے آلودہ ہو جائے۔ اس لیے نبی ﷺ نے سونے سے قبل بستر کو جھاڑ لینے کا حکم دیا۔
پھر آپ ﷺ نے اس شے کی وضاحت فرمائی جس کے ساتھ جھاڑا اور صاف کیا جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اپنی ازار کے اندرونی حصے سے اپنے بستر کو جھاڑ لے“۔ ازار سے مراد وہ کپڑا ہے جو بدن کے نچلے حصے میں پہنا جاتا ہے۔ مراد یہ کہ کپڑے کی اندرونی کنارے کی جانب سے وہ صاف کر لے کیونکہ اس سے جھاڑنا آسان ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بھی حکمت ہے کہ ازار کے بیرونی حصے پر گندگی وغیرہ نہ لگے اور یہ کہ ایسا کرنے میں زیادہ ستر پوشی ہے۔ عام طور پر عرب کے پاس ان کے اپنے جسم پر موجود ازار اور چادر کے علاوہ کوئی اور کپڑا نہیں ہوا کرتا تھا، بہر حال اہم یہ ہے کہ بستر کو جھاڑ لیا جائے پھر چاہے یہ اپنے جسم پر موجود کپڑے کے ذریعہ ہو یہ پھر کسی اور کپڑے یا کسی اور چیز کے ذریعہ جس کو بستر جھاڑنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔
پھر آپ ﷺ بستر کو جھاڑنے اور اُس کی صفائی کی علت بیان کر رہے ہیں کہ ”اسے نہیں معلوم کہ اس کے بعد اس بستر پر کون آیا رہا“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت جسمانی حفاظت پر بھی زور دیتی ہے کیونکہ جسمانی سلامتی ہی سے دینی امور کی تکمیل ہوتی ہے۔
یہاں تک تو عملی سنت اور اس کی علت کا بیان تھا۔
ثانیا: قولی سنت:
پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر وہ سونے والا کہے ”بِاسْمِكَ رَبِّي“ یعنی اللہ کے نام کے ساتھ جو بلند و برتر اور عظیم ہے، میں یہ ناتواں جسم بستر پر رکھتا ہوں۔ اس میں اس بات کے استحباب کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کو ہر وقت ہمیشہ اللہ کے ذکر میں مشغول رہنا چاہئے۔پھر کہے:" وضعت جنبي وبك أرفعه"۔ یعنی میں تیرے ذکر کے ساتھ اس جسم کو رکھتا اور اٹھاتا ہوں۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ (یوں کہے) ”إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا“ اس سے یہاں کنایۃً موت مراد ہے۔
اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان کہ ”وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا“ سے کنایۃً زندگی مراد ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا ”فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ“ یعنی میری جان و روح کی ویسے ہی حفاظت کرنا جیسے تو اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اس سے تمام گناہوں، ہلاکت میں ڈالنے والی اور تمام بری اشیاء سے عمومی طور پر حفاظت مراد ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اللہ (کے اوامر و نواہی) کی حفاظت کرتے رہو وہ تمہاری حفاظت کرے گا۔
یہ عمومی حفاظت ہے۔ اسی لیے اسے نیکو کار لوگوں کے ساتھ خاص کیا۔ اللہ تعالی کی حفاظت نیکی ہی کے ساتھ حاصل ہوا کرتی ہے۔ اس شخص کو اللہ تعالی کی اپنے اولیاء کو دی جانے والی خصوصی حفاظت میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا جو اللہ تعالی کے حقوق میں تفریط سے کام لیتا ہے اور انہیں ضائع کرتا ہے۔ تاہم عمومی حفاظت اسے بھی حاصل رہتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6034

 
 
Hadith   1168   الحديث
الأهمية: فلا تُشْهدني إذًا؛ فإني لا أشهد على جور


Tema:

پھر مجھے گواہ نہ بناؤ، میں ظلم کے کام پر گواہ نہیں بنتا۔

عن النعمان بن بشير-رضي الله عنهما- قال: تصدق علي أبي ببعض ماله، فقالت أمي عَمْرَة بنت رَوَاحَة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فانطلق أبي إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ليُشْهِد على صدقتي فقال له رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أفعلت هذا بولدك كلهم؟ قال: لا، قال: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم، فرجع أبي، فرد تلك الصدقة».
وفي لفظ: «فلا تُشْهدني إذًا؛ فإني لا أشهد على جَوْرٍ».
وفي لفظ: «فأشهد على هذا غيري».

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے اپنا کچھ مال مجھے ہبہ کیا۔ میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے کہا: میں تب تک راضی نہیں ہوں گی جب تک کہ تم اللہ کے رسول ﷺ کو گواہ نہ بناؤ۔ میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تاکہ آپ ﷺ کو مجھے کیے گئے ہبہ پرگواہ بنائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: "کیا تم نے ایسا اپنے سب بچوں کے ساتھ کیا ہے؟" انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں کے مابین عدل کیا کرو“، چنانچہ میرے والد واپس آئے اور وہ ہبہ واپس لے لیا۔
ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں: پھر مجھے گواہ نہ بناؤ، میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔
ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں: پھر اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكر النعمان بن بشير الأنصاري: أن أباه خصه بصدقة من بعض ماله فأرادت أُمه أن توثقها بشهادة النبي -صلى الله عليه وسلم- إذ طلبت من أبيه أن يُشهد النبي -صلى الله عليه وسلم- عليها.
فلما أتى به أبوه إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- ليتحمل الشهادة، قال له النبي -صلى الله عليه وسلم-: أتصدقت مثل هذه الصدقة على ولدك كلهم؟ قال: لا.
وتخصيص بعض الأولاد دون بعض، أو تفضيل بعضهم على بعض عمل مناف للتقوى وأنه من الجور والظلم، لما فيه من المفاسد، إذ يسبب قطيعة المفضَّل عليهم لأبيهم وابتعادهم عنه، ويسبب عداوتهم وبغضهم لإخوانهم المفضلين.
لما كانت هذه بعض مفاسده قال النبي -صلى الله عليه وسلم- له: "اتقوا الله واعدلوا بين أولادكم ولا تشهدني على جور وظلم" ووبخه ونفَّره عن هذا الفعل بقوله: أشهد على هذا غيري.
فما كان من بشير -رضى اللَه عنه- إلا أن أرجع تلك الصدقة كعادتهم في الوقوف عند حدود الله -تعالى-.
606;عمان بن بشیر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے بطورِ خاص انہیں اپنا کچھ مال دیا۔ ان کی والدہ یہ چاہتی تھیں کہ نبی ﷺ کی گواہی کے ذریعے اس کی تاکید کرالیں چنانچہ ان کی والدہ نے ان کے والد سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ہبہ شدہ مال پر نبی ﷺ کو گواہ بنائیں۔
چنانچہ جب ان کے والد انہیں لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ ﷺ اس کے گواہ بن جائیں تو آپﷺ نے ان سے پوچھا: کیا تم نے اس طرح کا ہبہ اپنی ساری اولاد کو کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔
اولاد میں سے کچھ کو خاص کر لینا اور باقی کو چھوڑ دینا یا پھر انہیں ایک دوسرے پر فضیلت دینا تقوی کے منافی رویہ ہے اور زیادتی اور ظلم ہے کیونکہ اس میں بہت سے مفاسد مضمر ہیں۔ اس کی وجہ سے جس اولاد پر دوسروں کو ترجیح دی گئی ہوتی ان کی اپنے باپ سے قطع تعلقی ہو جاتی ہے اور وہ اس سے دور ہو جاتے ہیں اور ان کے جن بھائیوں کو ان پر ترجیح دی گئی ہوتی ہے ان سے ان کی دشمنی اور نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔
یہ کچھ ایسے مفاسد ہیں (جو اس طرح کی بے انصافی سے جنم لیتے ہیں)۔ اس وجہ سے نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے مابین عدل کرو اور مجھے ظلم و جور کے کام پر گواہ نہ بناؤ۔آپ ﷺ نے یہ کہتے ہوئے اس عمل پر ان کی توبیخ کی اور انہیں اس سے نفرت دلائی کہ اس کام پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔بشیر رضی اللہ عنہ نے لوٹتے ہی وہ ہبہ شدہ مال واپس لے لیا جیسا کہ صحابہ کرام کا طرز عمل ہوا کرتا تھا کہ وہ اللہ کی قائم کردہ حدود کی پاسداری کیا کرتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[متعدد روایات کے ساتھ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6035

 
 
Hadith   1169   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- نهى عن ثمن الكلب، ومهر البغي، وحلوان الكاهن


Tema:

رسو ل اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، فاحشہ کی اجرت اور کاہن کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔

عن أبي مسعود -رضي الله عنه- «أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- نهى عن ثمن الكلب، ومَهْرِ البغي، وحُلْوَانِ الكَاهِنِ».

ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، فاحشہ کی اجرت اور کاہن کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لطلب الرزق طرق كريمة شريفة طيبة، جعلها الله عوضا عن الطرق الخبيثة الدنيئة.
فلما كان في الطرق الأولى كفاية عن الثانية، ولما كانت مفاسد الثانية عظيمة لا يقابلها ما فيها من منفعة، حَرَّم الشرع الطرق الخبيثة التي من جملتها، هذه المعاملات الثلاث.
1- بيع الكلب: فإنه خبيث رجس.
2- وكذلك ما تأخذه الزانية مقابل فجورها، الذي به فساد الدين والدنيا.
3- ومثله ما يأخذه أهل الدجل والتضليل، ممن يدعون معرفة الغيب والتصرف في الكائنات، ويخيلون على الناس-بباطلهم- ليسلبوا أموالهم، فيأكلوها بالباطل.
كل هذه طرق خبيثة محرمة، لا يجوز فعلها، ولا تسليم العوض فيها، وقد أبدلها اللَه بطرق مباحة شريفة.
585;وزی تلاش کرنے کے بہت سے عمدہ، معزز اور پاکیزہ راستے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے خبیث اور رذیل کے مقابلہ بنایا ہے۔
چونکہ پہلے(پاکیزہ) راستے دوسرے راستوں کے بنسبت کفایت گزار ہیں، نیز ان غلط راستوں کے نقصانات اول الذکر راستوں کے بالمقابل زیادہ ہیں، چنانچہ شریعت نے ان ناپاک راستوں کوحرام قرار دیا۔ ذیل کے تینوں اقسام کے معاملات انہی ناپاک راستوں میں سے ہیں۔
1- کتے کا بیچنا۔ اس لیے کہ یہ ناپاک اور خبیث ہے۔
2- بعینہ فاحشہ عورت کا اپنے گناہ کے بدلے اجرت لینا، جس سے دین و دنیا دونوں برباد ہوتے ہیں۔
3- اسی میں جھوٹ اور گمراہ کرنے والے لوگ کی (ٹھگی کرکے) کمائی کرنا بھی شامل ہے، جن کا دعویٰ ہے کہ وہ غیب جانتے ہیں، کائنات میں تصرف کرتے ہیں اور لوگوں کے ذہنوں میں غلط خیالات ڈال کر ان کے اموال حاصل کرکے انہیں باطل طریقے سے کھاتے ہیں۔
یہ تمام خبیث راستے ناجائز اور حرام ہیں اور ان کا اختیار کرنا اور ان کی کمائی لینا بھی حرام ہے۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ نے جائز اور اچھے راستے فراہم کيے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6036

 
 
Hadith   1170   الحديث
الأهمية: ثمن الكلب خبيث، ومهر البغي خبيث، وكسب الحجام خبيث


Tema:

کتے کی قمیت خبیث ہے، فاحشہ کی مہر (خرچی) خبیث ہے اور پچھنے لگانے والے کی کمائی خبیث ہے۔

عن رافع بن خديج -رضي الله عنهما- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «ثمن الكلب خبيث، ومهر البغي خبيث، وكسب الحجام خبيث».

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کتے کی قمیت خبیث ہے، فاحشہ کی مہر (خرچی) خبیث ہے اور پچھنے لگانے والے کی کمائی خبیث ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين لنا النبي -صلى الله عليه وسلم- المكاسب الخبيثة والدنيئة لنتجنبها، إلى المكاسب الطيبة الشريفة، ومنها ثمن الكلب، وأجرة الزانية على زناها، وكسب الحجام.
606;بی کریم ﷺ نے ہمیں ناپاک اور نجس کمائی کے متعلق آگاہ فرمایا تاکہ ہم انہیں چھوڑ کر پاکیزہ ذرائع اختیار کریں۔ خبیث ذرائع آمدنی میں سے کتے کی قیمت، فاحشہ کے زنا کی کمائی اور پچھنے لگانے والے کی کمائی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6037

 
 
Hadith   1171   الحديث
الأهمية: أتراني ماكستك لآخذ جملك؟ خذ جملك ودراهمك، فهو لك


Tema:

کیا تم نے یہ سمجھا تھا کہ میں نے تم سے تمھارا اونٹ لینے کے لیے بھاؤ تاؤ کیا تھا؟ اپنا اونٹ بھی لے لو اور درہم بھی۔ یہ سب تیرا ہے۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما-: «أنه كان يسير على جمل فأعيا، فأراد أن يُسَيِّبَهُ. فلحقني النبي -صلى الله عليه وسلم- فدعا لي، وضربه، فسار سيرا لم يَسِرْ مثله. ثم قال: بِعْنِيهِ بأُوقية. قلتُ: لا. ثم قال: بِعْنِيه. فَبِعْتُهُ بأوقية، واستثنيت حُمْلَانَهُ إلى أهلي. فلما بلغت: أتيته بالجمل. فنقدني ثمنه. ثم رجعت. فأرسل في إثري. فقال: أتَرَانِي مَاكستُكَ لآخذ جملك؟ خذ جملك ودراهمك، فهو لك».

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک اونٹ پر سوار ہو کر جا رہے تھے، جو بہت تھک چکا تھا۔ انھوں نے ارادہ کیا کہ اسے چھوڑ دیں۔ نبی ﷺ پیچھے سے میرے ساتھ آن ملے۔ آپ ﷺ نے میرے لیے دعا کی اور اونٹ کو مارا، تو وہ ایسے چلنے لگا کہ اس طرح کبھی نہ چلا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اسے مجھے ایک اوقیہ میں بیچ دو۔ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: اس کو مجھے فروخت کر دو! تو میں نے اسے آپ ﷺ کو ایک اوقیہ کے عوض فروخت کردیا اور اس پر سوار ہو کر اپنے اہل وعیال تک جانے کا استثنا کرلیا۔ جب میں پہنچا تو آپ ﷺ کے پاس وہ اونٹ لے کر حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے مجھے اس کی قیمت ادا کر دی۔ پھر میں واپس آگیا۔ آپ ﷺ نے میرے پیچھے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا: ”کیا تم نے یہ سمجھا تھا کہ میں نے تم سے تمھارا اونٹ لینے کے لیے بھاؤ تاؤ کیا تھا؟ اپنا اونٹ بھی لے لو اور درہم بھی۔ یہ سب تیرا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان جابر بن عبد اللّه -رضي الله عنهما- مع النبي -صلى الله عليه وسلم- في إحدى غزواته، وكان راكباً على جمل قد هزل فتعب عن السير ومسايرة الجيش حتى إنه أراد أن يطلقه فيذهب لوجهه، لعدم نفعه. وكان النبي -صلى الله عليه وسلم- من رأفته بأصحابه وبأمته يمشي في مؤخرة الجيوش، رِفْقاً بالضعيف، والعاجز، والمنقطع، فلحق جابراً وهو على بعيره الهزيل، فدعا له وضرب جمله، فصار ضربه الكريم الرحيم قوةً وعوناً للجمل العاجز، فسار سيراً لم يسر مثله. فأراد -صلى الله عليه وسلم- من كرم خلقه ولطفه تطييب نفس جابر ومجاذبته الحديث المعين على قطع السفر، فقال: بعنيه بأوقية. فطمع جابر -رضي الله عنه - بفضل الله وعَلِمَ أن لا نقص على دينه من الامتناع من بيعه للنبي -صلى الله عليه وسلم- لأن هذا لم يدخل في الطاعة الواجبة، إذ لم يكن الأمر على وجه الإلزام، ومع هذا فإن النبي -صلى الله عليه وسلم- أعاد عليه الطلب فباعه إياه بالأوقية واشترط أن يركبه إلى أهله في المدينة، فقبل -صلى الله عليه وسلم- شرطه، فلما وصلوا أتاه بالجمل، وأعطاه النبي -صلى الله عليه وسلم- الثمن، فلما رجع أرسل في أثره فرجع إليه وقال له: أتظنني بايعتك طمعا في جملك لآخذه منك؟ خذ جملك ودراهمك فهما لك. وليس هذا بغريب على كرمه وخلقه ولطفه، فله المواقف العظيمة -صلى الله عليه وسلم-.
580;ابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما ایک غزوے میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ وہ ایک اونٹ پر سوار تھے، جو لاغر و کمزور ہونے کی وجہ سے چلنے اور لشکر والوں کی ہمراہی سے قاصر تھا۔ یہاں تک کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دینے کا ارادہ کر لیا کہ وہ جہاں چاہے چلا جائے؛ کیوںکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں رہ گیا تھا۔ یہ نبی ﷺ کی اپنے صحابہ اور امت کے ساتھ شفقت کا ایک مظہر تھا کہ آپ ﷺ کمزور و ناتواں اور الگ ہو جانے والے افراد کا خیال کرتے ہوئے لشکر کے پیچھے پیچھے چلا کرتے تھے۔ آپ ﷺ پیچھے سے جابر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آن ملے جو کہ اپنے لاغر اونٹ پر سوار تھے۔ آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی اور ان کے اونٹ کو مارا۔ آپ ﷺ کی اس پرشفقت مار نے لاغر و کمزور اونٹ میں طاقت بھر دی، اسے اس سے مدد ملی اور وہ ایسے چلنے لگا، جیسے وہ کبھی چلا ہی نہیں تھا۔ آپ ﷺ چوں کہ گرم گستر اور لطف و مہربانی کے پیکر تھے، اس لیے جابر رضی اللہ کا دل بہلانے اور انہیں باتوں میں لگانے کا فیصلہ کیا، تاکہ سفر آسانی سے کٹ جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ اونٹ ایک اوقیہ کے عوض بیچ دو۔ جابر رضی اللہ عنہ اللہ کے فضل کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے اورانھیں یہ علم تھا کہ اس اونٹ کو نبی ﷺ کے ہاتھوں نہ بیچنے سے ان کے دین میں کوئی کمی نہیں آنی ہے۔ کیوںکہ یہ نبی کی واجب اطاعت میں داخل نہیں۔ دراصل یہ حکم ایسا نہیں تھا کہ اس کی پابندی ضروری ہو۔ اس کے باوجود نبی ﷺ نے ان سے دوبارہ بیچنے کو کہا، تو انہوں نے اسے ایک اوقیہ کے بدلے آپ ﷺ کو بیچ دیا اور شرط لگائی کہ وہ مدینے میں موجود اپنے اہل خانہ تک اس پر سوار ہو کر جائیں گے۔ نبی ﷺ نے ان کی شرط قبول کر لی۔ جب وہ پہنچ گئے تو وہ آپ ﷺ کے پاس اونٹ لے کر آئے اور نبی ﷺ نے انھیں قیمت ادا کر دی۔ جب وہ واپس پلٹے تو آپ ﷺ نے ان کے پیچھے ایک شخص کو بھیجا۔ وہ واپس آئے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ میں نے تمھارے اس اونٹ کو لینے کی لالچ میں تم سے خرید و فروخت کا معاملہ کیا تھا؟۔ اپنا اونٹ لے لو اور دراہم بھی۔ دونوں تمھارے ہیں۔ آپ ﷺ کے فضل و کرم اور آپ ﷺ کے اخلاق اور لطف و مہربانی کو دیکھا جائے تو یہ کوئی انوکھی بات محسوس نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں تو آپ ﷺ سے بہت سے بڑے بڑے واقعات منقول ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6038

 
 
Hadith   1172   الحديث
الأهمية: سألت رافع بن خديج عن كراء الأرض بالذهب والورق؟ فقال: لا بأس به


Tema:

میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے زمین کو سونے اور چاندی کے عوض کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔

عن حنظلة بن قيس قال: سألت رافع بن خديج عن كراء الأرض بالذهب والورق؟ فقال: لا بأس به، إنما كان الناس يؤاجرون على عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بما على المَاذَيَاناتِ، وأَقْبَالِ الجَدَاوِلِ، وأشياء من الزرع؛ فيهلك هذا، ويسلم هذا، ولم يكن للناس كراء إلا هذا؛ ولذلك زجر عنه، فأما شيء معلوم مضمون؛ فلا بأس.

حنظلہ بن قیس انصاری سے روایت ہے کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے زمین کو سونے اور چاندی کے عوض کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نہر کے کناروں اور نالیوں کے سروں پر زمین کرایہ پر دیتے تھے تو بعض اوقات اس زمین کی تباہی ہوتی اور دوسری سلامت رہتی اور بعض دفعہ یہ سلامت رہتی اور وہ برباد ہوجاتی اور لوگوں میں سے بعض کو بچے ہوئے کے علاوہ کچھ کرایہ وصول نہ ہوتا اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا، ہاں! اگر کرایہ کے بدلے کوئی معین اور ضمانت شدہ چیز ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكر رافع بن خديج أن أهله كانوا أكثر أهل المدينة مزارع وبساتين.
فكانوا يؤاجرون الأرض بطريقة جاهلية، فيعطون الأرض لتزرع، على أن لهم جانباً من الزرع، وللمزارع، الجانب الآخر، فربما أثمر هذا، وتلف ذاك.
وقد يجعلون لصاحب الأرض، أطايب الزرع، كالذي ينبت على الأنهار والجداول، فيهلك هذا، ويسلم ذاك، أو بالعكس.
فنهاهم النبي -صلى الله عليه وسلم- عن هذه المعاملة، لما فيها من الغرر والجهالة والظلم، فلابد من العلم بالعوض، كما لابد من التساوي في المغنم والمغرم.
فإن كانت جزء منها، فهي شركة مبناها العدل والتساوي في غنْمِهَا وغُرْمِهَا، وبالنسبة المعلومة كالربع والنصف.
وإن كانت بعوض، فهي إجارة لابد فيها من العلم بالعوض، وهي جائزة سواء أكانت بالذهب والفضة، أم بالطعام مما يخرج من الأرض أو من جنسه أو من جنس آخر؛ لأنها إجارة للأرض أو مساقاة أو مزارعة، ولعموم الحديث [ فأما شيء معلوم مضمون، فلا بأس به].
585;افع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ ان کے خاندان والے مدینے والوں میں سب سے زیادہ کھیتی باڑی اور باغبانی کرتے تھے۔ یہ جاہلیت کے طریقے کے مطابق زمین کو اجارہ پر دیتے تھے، زمین کھیتی باڑی کرنے کے لیے اس شرط پر دیتے تھے کہ ایک طرف کی پیداوار ان کی ہوتی تھی اور دوسری طرف کی کسان کی ہوتی، کبھی ایک کے حصے میں پیداوار ہوتی اور دوسرے کا حصہ ضائع ہو جاتا تھا۔
کبھی زمین کے مالک کو اچھی پیداوار مل جاتی جیسے نہروں اور نالوں والی جگہوں کی زمینوں کی پیداوار، تو کبھی یہ پیداوار خراب ہوجاتی اور دوسری محفوظ رہتی اور کبھی اس کے برعکس ہوتا تھا۔چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اس میں غرر، جہالت اور ظلم کی وجہ سے ایسی بٹائی سے منع فرما دیا۔ اس لیے کہ عوض کا معلوم ہونا ضروری ہے بعینہ نفع اور نقصان میں بھی برابری ضروری ہے۔
اگر اس کے ایک حصے کو اجرت پر دیا جارہا ہے تو یہ شراکت داری ہوئی جس کی بنیاد نفع اور نقصان میں انصاف اور برابری کا تقاضہ کرتی ہے یا یہ کہ متعین تناسب کا معاملہ طے پائے جیسے چوتھائی یا آدھے حصے پر نفع تقسیم ہو۔ اور اگر زمین عوض کے بدلے ہو تو یہ اجارہ ہے۔ اس میں عوض کا معلوم ہونا ضروری ہے۔ یہ جائز ہے خواہ سونے کے بدلے ہو یا چاندی کے یا زمین سے ہونے والی پیداوار میں سے کھانے کے بدلے ہو خواہ کھانا اسی فصل کی جنس سے ہو یا دوسری جنس سے۔ اس لیے کہ یہ زمین کو اجارہ پر دینا ہے یا یہ درختوں میں مساقاۃ ہے یا پیداوار کے بدلے زمین دے کر مزارعت ہے۔ اور (اس کے جائز ہونے کی ایک وجہ) یہ ہے کہ اُس حدیث میں عموم ہے جس میں مذکور ہے کہ متعین اور قابلِ ضمانت چیز کے بدلے زمین دینے میں کوئی حرج نہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6039

 
 
Hadith   1173   الحديث
الأهمية: تعوذوا بالله من جهد البلاء، وَدَرَكِ الشقاء، وسوء القضاء، وشماتة الأعداء


Tema:

اللہ سے پناہ مانگا کرو آزمائش کی مشقت، بدبختی کی پستی، برے خاتمے اور دشمن کے ہنسنے سے۔

عن أبي هريرة-رضي الله عنه- مرفوعاً: «تعوذوا بالله من جَهْدِ البلاء، وَدَرَكِ الشقاء، وسوء القضاء، وشماتة الأعداء». وفي رواية قال سفيان: أشك أني زدت واحدة منها.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے پناہ مانگا کرو آزمائش کی مشقت، بدبختی کی پستی، برے خاتمے اور دشمن کے ہنسنے سے“۔
ایک روایت میں ہے، سفیان رحمہ اللہ نے کہا: مجھے شک ہے کہ میں نے ان میں سے ایک بات زیادہ بیان کی ہے۔ (معلوم نہیں وہ کون سی ہے)۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث من جوامع الكلم؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم استعاذ من أربعة أمور، إذا سلم منها العبد سلمت له دنياه وأخراه، وهذا هو الفوز المبين، والفلاح العظيم؛ وجوامع الكلم اختصار المعاني الكثير في كلمات يسيرة.
فقد استعاذ النبي صلى الله عليه وسلم من أربعة امور، وهي:
"من جهد البلاء": أي شدة البلاء والجهد فيه- والعياذ بالله- لأن البلاء إذا اشتد فالإنسان لا يأمن نفسه من التبرم والضجر من أقدار الله تعالى، فيخسر بذلك العبد الدنيا والآخرة.
"ودرك الشقاء": أي اللحاق بالشقاء، وهو عام ويدخل فيه شقاء الآخرة دخولا أوليا ، لأنه الشقاء الذي لا يعقبه هناء، بخلاف شقاء الدنيا فالأيام دول، يوم لك تسر به، ويوم عليك تشقي به.
"وسوء القضاء": أي يقدر ويقع على العبد فيما لا يسره، وهو عام في كل شؤون الدنيا من: مال وولد وصحة وزوجة وغيرها، وشؤون الآخرة والمعاد.
والمراد بالقضاء هنا: المقضي، لأن قضاء الله وحكمه كله خير .
"وشماتة الأعداء": فهذا مما يتأثر به الإنسان أن يجد عدوه فرحا بمصابه، فدخول عدو الدين هو دخولا أصليا، وعدو الدنيا  دخولاً ثانوياً.
740;ہ حدیث جوامع الکلم میں سے ہے۔ اس لیے کہ آپ ﷺ نے چار چیزوں سے پناہ مانگی، اگر انسان ان چار چیزوں سے محفوظ رہا تو وہ دنیا و آخرت میں محفوظ رہے گا اور یہی حقیقی کامیابی ہے اور بڑی نجات ہے۔ جوامع الکلم ایسی باتوں کو کہتے ہیں جو کم لفظوں میں زیادہ معانی سمائے ہوں۔
آپ ﷺ نے چار چیزوں سے پناہ مانگی، وہ چار چیزیں درج ذیل ہیں:
”مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ“ یعنی مصیبتوں کی سختی اور مشقت سے (اللہ کی پناہ) اس لیے کہ جب مصیبت سخت ہو جائے، تو اللہ تعالیٰ کی مضبوط اور محکم تقدیر پر وہ اپنے آپ کو زد کوب سے نہیں بچا سکتا جس کی وجہ سے وہ دنیا اور آخرت میں وہ خسارہ اٹھاتا ہے۔
”وَدَرَكِ الشَّقَاءِ“ یعنی بدبختی کا لاحق ہونا۔ یہ عام ہے اس میں آخرت کی بدبختی ترجیحی بنیاد پر شامل ہے جس کے بعد سُکھ نہیں بخلافِ دنیا کی بدبختی کے کہ دن تو ادلتے بدلتے رہتے ہیں کہ کبھی کوئی دن آپ کی خوشی کا ہوگا اور دوسرا دن بدبختی کا۔
”وَسُوءِ الْقَضَاءِ“ یعنی جو مقدر میں ہو وہ ہوگا، جو انسان کو ناخوش حالات میں ڈال دے۔ یہ دنیا کے تمام امور کو عام ہے جیسے مال، اولاد، صحت اور بیوی وغیرہ۔ اسی طرح اُخروی امور کو بھی شامل ہے۔
یہاں پر قضاء سے مُراد حاصل شدہ امر ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور حکم سب کے سب خیر ہیں۔
”وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ“ دُشمنوں کی ہنسی سے یعنی جس سے انسان متاثر ہوتا ہے جیسے دشمن کا تمہیں مصیبت میں دیکھ کر خوش ہونا، دینی دشمنوں کا اس حدیث میں داخل ہونا حقیقی ہے اور دنیا کے دشمنوں کا داخل ہونا ثانوی ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6040

 
 
Hadith   1174   الحديث
الأهمية: ذكر العزل لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: ولم يفعل ذلك أحدكم؟ فإنه ليست نفس مخلوقة إلا الله خالقها


Tema:

آپ ﷺ کے سامنے عزل کا ذکر کیا گیا، تو فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟ اس لیے کہ جس بھی جان کو اللہ کو پیدا کرنا ہے وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه-: «ذُكِرَ َالعزل لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: ولم يفعل ذلك أحدكم؟ -ولم يقل: فلا يفعل ذلك أحدكم؟-؛ فإنه ليست نفس مخلوقة إلا الله خالقها».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ کے سامنے عزل کا ذکر کیا گیا، تو فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟ یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے۔ اس لیے کہ جس بھی جان کو اللہ کو پیدا کرنا ہے وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكر العزل عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وأنه يفعله بعض الرجال في نسائهم وإمائهم. فاستفهم منهم النبي -صلى الله عليه وسلم- عن السبب الباعث على ذلك بصيغة الإنكار.
ثم أخبرهم -صلى الله عليه وسلم- عن قصدهم من هذا العمل بالجواب المقنع المانع عن فعلهم. وذلك بأن الله -تعالى- قد قدر المقادير، فليس عملكم هذا براد لنسمة قد كتب الله خلقها وقدر وجودها، لأنه مقدر الأسباب والمسببات، فإذا أراد خلق النطفة من ماء الرجل، سرى من حيث لا يشعر، إلى قراره المكين.
570;پ ﷺ کے سامنے عزل کا ذکر ہوا کہ بعض لوگ اپنی بیویوں اور باندیوں کے ساتھ عزل کرتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے استفہامِ انکاری کے طور پر ان سے اس کے کرنے کا سبب دریافت کیا۔
پھر آپ ﷺ نے انہیں اس کام کے کرنے کی وجہ سے باخبر کیا ایک اطمئنان بخش جواب کی شکل میں جس میں انہیں اس سے روکا گیا ہے کہ اللہ نے ہر چیز کو اندازے سے مقرر کر دیا ہے۔ اس لیے تمہارے اس طرح کرنے سے وہ انسان رُک نہیں سکتا جس کی تخلیق اور وجود بخشنا اللہ نے لکھ رکھا ہے، وہ اسباب اور مسببات کو پیدا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی آدمی کی منی سے نطفے کو پیدا کرنا چاہے تو لاشعوری طور پر اس کو اپنی مقرر جگہ لے جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6041

 
 
Hadith   1175   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- رخص في بيع العرايا، في خمسة أوسق أو دون خمسة أوسق


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے بیعِ عرایا میں اجازت و رخصت عنایت فرما دی، (بایں صورت کہ تازہ کھجوروں کو خشک کے عوض اندازے سے فروخت کر لیا جائے) جب کہ یہ پانچ وسق کی مقدار سے کم ہوں، یا پھر پانچ وسق ہوں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-: «أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- رخص في بيع العرايا، في خمسة أوَسْقُ ٍأو دون خمسة أوسق».

ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ’بیع عرایا‘ میں اجازت و رخصت عنایت فرما دی، (بایں صورت کہ تازہ کھجوروں کو خشک کے عوض اندازے سے فروخت کر لیا جائے) جب کہ یہ پانچ وسق کی مقدار سے کم ہوں، یا پھر پانچ وسق ہوں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
العرايا جمع عرية، ومعناها أن يرغب إنسان في أكل الرطب في وقت ظهوره، ولكنه لا يقدر على ذلك لفقره، وعنده تمر يابس، فيشتري الرطب على رؤوس النخل بالتمر اليابس، على أن يُقدَّر وزن الرطب بخمسة أوسق؛ لأنه لما كانت مسألة "العرايا" مباحة للحاجة من أصل محرم، اقتصر على القدر المحتاج إليه غالباً، فرخص فيما قدره خمسة أوسق فقط أو ما دون ذلك؛ لأنه في هذا القدر تحصل الكفاية للتفكه بالرطب، والأصل المحرم هو ربا الفضل، قال -صلى الله عليه وسلم- لما سئل عن بيع الرطب بالتمر: (أينقص الرطب إذا جف) قالوا: نعم، قال: (فلا إذًا) حديث صحيح رواه الخمسة.

Esin Hadith Caption Urdu


’عرايا‘ جمع ہے ’عرية‘ کی، اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کھجوریں پکنے کے وقت اس کے کھانے میں رغبت رکھے، لیکن اپنے فقر کی وجہ سے کھانے کی طاقت نہ رکھتا ہو، تاہم اس کے پاس خشک کھجوریں ہیں، چنانچہ وہ پانچ وسق خشک کھجوروں کے بدلے درخت پر لگی کھجوروں کا اندازہ کرکے خرید لے۔ چونکہ ’عرایا‘ جو کہ اصل میں حرام تھا لیکن ضرورت کی وجہ سے اسے جائز قرار دیا گیا، اس لیے ضرورت کی مقدار پر اکتفاء کرنا چاہیے، اس لیے کہ صرف پانچ وسق یا اس سے کم میں جائز ہے۔ اس لیے کہ تر کھجوریں لذّت کے طور پر کھانا اس مقدار میں کافی ہو جاتا ہے۔ اصل حرمت ’ربا الفضل‘ کی ہے۔ آپ ﷺ سے جب تر کھجوروں کو خشک کھجوروں کے بدلے بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:کیا تر کھجور سوکھ جانے کے بعد (وزن میں) کم ہو جاتی ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6042

 
 
Hadith   1176   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- رخص لصاحب العرية: أن يبيعها بخرصها


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے صاحبِ عریہ کو اس کی اجازت دی کہ اپنا عریہ اس کے اندازے سے برابر میوے کے بدلے میں بیچ ڈالے۔

عن زيد بن ثابت -رضي الله عنه-: «أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- رخص لصاحب العَرِيَّةِ: أن يبيعها بِخَرْصِهَا».   ولمسلم: «بخرصها تمرا، يأكلونها رُطَبَاً».

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صاحبِ عریہ کو اس کی اجازت دی کہ اپنا عریہ اس کے اندازے سے برابر میوے کے بدلے میں بیچ ڈالے۔
صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں ”بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا“ یعنی اندازے سے خشک کھجور دے کر کھانے کے لیے تازہ کھجوریں حاصل کرلیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بيع الرطب على رؤوس النخيل بتمر محرم، ويسمى المزابنة، لما فيه من الجهل بتساوي النوعين الربويين، ولكن استثني منه العرايا، وهي مبادلة بيع الرطب على رؤوس النخيل بتمر بشروط معينة، منها أن يكون في أقل من خمسة أوسق، فقد كانت النقود كالدنانير والدراهم قليلة في الزمن الأول، فيأتي زمن الرطب والتفكه به، في المدينة والناس محتاجون إليه، وليس عند بعضهم ما يشترى به من النقود، فرخص لهم أن يشتروا ما يتفكهون به من الرطب بالتمر الجاف ليأكلوها رطبة مراعين في ذلك تساويهما لو آلت ثمار النخل إلى الجفاف، وهو الخرص، فالعرايا استثناء من تحريم المزابنة.
583;رخت پر لگے تازہ کھجوروں کے بدلے تازہ کھجوروں کی بیع حرام ہے، اسے ’مزابنہ‘ کہتے ہیں۔ اس لیے کہ اس میں طرفَین سے سودی اشیاء (وہ اشیاء جن میں سود کا حکم ہوتا ہے، جیسے سونا، چاندی وغیرہ) کی (مقدار میں) برابر ہونے میں جہالت پائی جاتی ہے۔ لیکن بیع عرایا کو شریعت نے اس (حکم) سے مستثنی قرار دیا ہے، بیع عرایا یہ ہے کہ درخت پر موجود تازہ کھجوروں کے عوض خشک کھجور دیے جائیں، اس کی کچھ شرطیں ہیں جیسے اس کی مقدار پانچ وسق سے کم ہو وغیرہ۔
پہلے زمانے میں درہم و دینار کی طرح رقم کم ہوتی تھی۔ کھجور پکنے کا زمانہ آتا، مدینہ کے لوگوں کو اس کی ضرورت ہوتی تھی، لیکن ان کے پاس یہ خریدنے کے لیے نقد رقم نہیں ہوتی تھی۔ اسی لیے آپ ﷺ نے خشک کھجوروں کے بدلے تر کھجوریں کھانے کی اجازت دی، جب کہ وہ طرفَین سے برابری کو ملحوظ رکھے یعنی اگر درخت کے کھجور سوکھ جائیں تو کتنے ہوں گے۔ اس کو خرص یعنی اندازہ کہتے ہیں۔ ’بیع عرايا‘، ’بیع مزابنہ‘ کی حرمت سے مستثنیٰ ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6043

 
 
Hadith   1177   الحديث
الأهمية: رد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- على عثمان بن مظعون التبتل، ولو أذن له لاختصينا


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بغیر شادی کے زندگی گزارنے کی اجازت نہیں دی، اگر آپ انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے۔

عن سعد بن أبي وقاص -رضي الله عنه- قال: رد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- على عثمان بن مظعون التَّبَتُّلَ، ولو أذن له لاختَصَيْنَا.

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بغیر شادی کے زندگی گزارنے کی اجازت نہیں دی، اگر آپ انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
روى سعد بن أبي وقاص -رضي الله عنه-: أن عثمان بن مظعون من شدة رغبته في الإقبال على العبادة، أراد أن يتفرغ لها ويهجر ملاذَ الحياة.
فاستأذن النبي -صلى الله عليه وسلم- في أن ينقطع عن النساء ويقبل على طاعة الله -تعالى- فلم يأذن له، لأن ترك ملاذّ الحياة والانقطاع للعبادة، من الغُلو في الدين والرهبانية المذمومة.
وإنما الدين الصحيح هو القيام بما لله من العبادة مع إعطاء النفس حظها من الطيبات، ولذا فإن النبي -صلى الله عليه وسلم- لو أذن لعثمان، لاتبعه كثير من المُجدّين في العبادة.
587;عد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے عبادت میں زیادہ رغبت رکھنے کی وجہ یہ عبادت کے لیے اپنے آپ کو فارغ کرنا چاہا اور دنیا کی لذتوں سے اپنے آپ کو چھڑانا چاہا۔ تو آپ ﷺ سے بیویوں سے الگ رہنے کی اجازت مانگی، تاکہ اللہ کی عبادت کی طرف متوجہ ہو، آپ ﷺ نے اجازت نہ دی۔ اس لیے کہ دنیا کی خواہشات کو چھوڑ کر عبادت کے لیے اپنے آپ کو فارغ کرنا دین میں غلو ہے اور رہبانیت ہے جس کی شریعت نے مذمت کی ہے۔
صحیح دین یہ ہے کہ نفس کو پاک اشیاء کی شکل میں اس کا حق دیتے ہوئے اللہ تعالی کا حق عبادت ادا کرنا ہے۔
اسی وجہ سے اگر آپ ﷺ عثمان رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دیتے، تو بہت سارے لوگ جو اللہ کی عبادت کرکے مشقت برداشت کرتے ہیں وہ بھی ان کی اتباع کرتے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6044

 
 
Hadith   1178   الحديث
الأهمية: زوجتكها بما معك من القرآن


Tema:

میں نے تمہاری شادی اس عورت سے ان سورتوں کے بدلے کر دی جو تمہیں یاد ہے

عن سهل بن سعد الساعدي -رضي الله عنهما- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- جاءته امرأة فقالت: إني وَهَبْتُ نفسي لك: فقامت طويلا، فقال رجل: يا رسول الله، زَوِّجْنِيهَا، إن لم يكن لك بها حاجة. فقال: هل عندك من شيء تُصْدِقُهَا؟ فقال: ما عندي إلا إِزَارِي هذا. فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: إِزَارُكَ إن أَعْطَيْتَهَا جلست ولا إِزَارَ لك، فالْتَمِسْ شيئا قال: ما أجد. قال: الْتَمِسْ ولو خَاتَمًا من حَدِيدٍ. فالْتَمَسَ فلم يجد شيئا. فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- هل معك شيء من القرآن؟ قال: نعم. فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: زَوَّجْتُكَهَا بما معك من القرآن».

سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت نے آکر عرض کیا کہ میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا۔ پھر وہ کافی دیر کھڑی رہی (اور آپ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا) تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو اس کی حاجت نہ ہو تو اس سے میری شادی کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کوئی چیز ہے؟، اس نے عرض کیا: میرے پاس میرے اس تہبند کے سوا کچھ نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اپنا تہبند اسے دے دو گے تو تم بغیر تہبند کے رہ جاؤ گے، لہذا تم کوئی اور چیز تلاش کرو، اس نے عرض کیا: میں کوئی چیز نہیں پا رہا ہوں۔ آپ نے (پھر) فرمایا: تم تلاش کرو، بھلے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔ چناں چہ اس نے تلاش کیا لیکن اسے کوئی چیز نہیں ملی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟، اس نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہاری شادی اس عورت سے ان سورتوں کے بدلے کر دی جو تمہیں یاد ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
خُص النبي -صلى الله عليه وسلم- بأحكام ليست لغيره.
منها: تزوجه من تهب نفسها له بغير صداق، فجاءت امرأة واهبة له نفسها، لعلها تكون إحدى نسائه.
فنظر إليها فلم تقع في نفسه، ولكنه لمْ يردها، لئلا يخجلها، فأعرض عنها، فجلست، فقال رجل: يا رسول الله، زَوجْنيهَا إن لم يكن لك بها حاجة.
وبما أن الصداق لازم في النكاح، قال له: هل عندك من شيء تصدقها؟.
فقال: ما عندي إلا إزاري.
وإذا أصدقها إزاره يبقى عريانا لا إزار له، فلذلك قال له: "التمس، ولو خاتَماً من حديد".
فلما لم يكن عنده شيء قال: "هل معك شيء من القرآن؟" قال: نعم.
قال -صلى الله عليه وسلم-: زوجتكها بما معك من القرآن، تعلمها إياه، فيكون صداقها.
705;چھ احکام نبی ﷺ کے ساتھ مخصوص ہیں جو دوسروں کے لئے جائز نہیں:
انہیں میں سے آپ ﷺ کا نکاح کرنا بغیر کسی مہر کے اس عورت سے جو خود سے اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کر دیے، چناں چہ آپ ﷺ کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور اس نے اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کر دیا اس امید میں کہ شاید وہ آپ کی ایک بیوی بن سکے۔
آپ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا لیکن وہ آپ کے دل میں جگہ نہ بنا سکی، لیکن آپ ﷺ نے اسے واپس نہیں کیا تاکہ وہ شرمندہ نہ ہو، لھذا آپ ﷺ نے اس سے اعراض کیا، تو وہ بیٹھ گئی تو ایک شخص کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو حاجت نہیں تو اس سے میرا نکاح کرا دیجئے۔
چوں کہ نکاح میں مہر ضروری ہے اس لئے آپ ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا: کیا تمہارے پاس اسے مہر میں ادا کرنے کے لئے کچھ ہے؟
وہ بولا: میرے اس تہبند کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔
اور اگر وہ اپنا ازار اسے مہر میں دے دیتا تو ننگا بچتا، اس کے پاس کوئی ازار نہیں رہتا، اسی لئے آپ ﷺ نے فرمایا: ”تلاش کرو چاہے لو ہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو“۔
جب اس کے پاس(تلاش کرنے کے باوجود) کچھ نہ ملا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تجھے کچھ قرآن یا د ہے؟“ کہنے لگا: ہاں۔
آپ ﷺ نے اس سے کہا: جو کچھ تجھے قرآن یاد ہے اسی کے یا د کرانے کے بدلے میں نے اس کے ساتھ تیرا نکاح کر دیا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6045

 
 
Hadith   1179   الحديث
الأهمية: حديث سُبيعة الأسلمية في العِدَّة


Tema:

عدت کے بارے میں سُبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث۔

عن سبيعة الأسلمية -رضي الله عنها- أنها كانت تحت سعد بن خولة -وهو من بني عامر بن لؤي، وكان ممن شهد بدرا- فتوفي عنها في حجة الوداع، وهي حامل. فلم تنشب أن وضعت حملها بعد وفاته.
فلما تعلت من نفاسها؛ تجملت للخطاب، فدخل عليها أبو السنابل بن بعكك -رجل من بني عبد الدار- فقال لها: ما لي أراك متجملة؟ لعلك ترجين النكاح؟ والله ما أنت بناكح حتى يمر عليك أربعة أشهر وعشر.
قالت سبيعة: فلما قال لي ذلك: جمعت علي ثيابي حين أمسيت، فأتيت رسول -صلى الله عليه وسلم- فسألته عن ذلك؟ فأفتاني بأني قد حللت حين وضعت حملي، وأمرني بالتزويج إن بدا لي».
وقال ابن شهاب: ولا أرى بأسا أن تتزوج حين وضعت -وإن كانت في دمها-، غير أنه لايقربها زوجها حتى تطهر.

سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، جو کہ قبیلۂ بنو عامر بن لؤی سے تعلق رکھتے تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے جنگ بدر میں شرکت کی تھی۔ حجۃ الوداع کے سال ان کا انتقال ہو گیا جب کہ وہ حاملہ تھیں۔ ان کی وفات کے کچھ بعد ہی انہوں نے اپنا بچہ جن دیا۔
جب وہ اپنی مدتِ نفاس سے فارغ ہو گئیں تو انہوں نے شادی کے پیغامات آنے کے خیال سے بناؤ سنگھار کیا (اور زیب وزینت کے ساتھ رہنے لگیں)۔ ان کے پاس قبیلۂ بنی عبد الدار کے ایک آدمی ابو سنابل بن بعکک (رضی الله عنہ) آئے اور کہنے لگے: کیا بات ہے میں تمہیں بنی سنوری دیکھ رہاں ہوں؟ لگتا ہے تم شادی کرنا چاہ رہی ہو؟ اللہ کی قسم! تم اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتى جب تک کہ چار مہینہ دس دن (كى عدت) مکمل نہ ہو جائے۔
سبیعہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: جب انہوں نے مجھے ایسی بات کہی تو شام کے وقت میں اپنے کپڑے اوڑھ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی اور آپ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے مجھے فتوی دیا کہ: جس وقت میں نے بچہ جنا تھا اسی وقت سے میں حلال ہو چکی ہوں اور آپ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ اگر چاہوں تو شادی کرلوں۔‘‘
ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ وہ بچہ جننے کے (فوراً) بعد شادی کر لے، اگرچہ اس کا خون ابھی جاری ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن نفاس سے پاک ہونے سے پہلے اس کا شوہر اس کے قریب نہیں جائے گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
توفي سعد بن خولة عن زوجته سبيعة الأسلمية وهي حامل، فلم تمكث طويلا حتى وضعت حملها.
فلما طَهُرَت من نِفَاسها تجملَّت، وكانت عالمة أنها بوضع حملها قد خرجت من عدتها وحلَّت للأزواج.
فدخل عليها أبو السنابل، وهي متجملة، فعرف أنها متهيئة للخُطَّاب، فأنكر عليها بناء على اعتقاده أنه لم تنته عدتها، وأقسم أنه لا يحل لها النكاح حتى يمر عليها أربعة أشهر وعشر، أخذا من قوله -تعالى-: (والذِين يُتَوَفوْن منكم ويذرون أزْواجاً يتَرَبصْنَ بِأنفُسِهن أربعة أشهُر وعشراً) وكانت غير متيقنة من صحة ما عندها من العلم، والداخل أكَّدَ الحكم بالقسم.
فأتت النبي -صلى الله عليه وسلم-، فسألته عن ذلك، فأفتاها بحلها للأزواج حين وضعت الحمل، فإن أحبت الزواج، فلها ذلك، عملا بقوله -تعالى-: (وَأولاتُ الأحمال أجلُهُن أن يضَعْنَ حَمْلَهُن).
فالمتوفى عنها زوجها وهي حامل تنتهي عدتها بالولادة، فإلم تكن حاملًا فعدتها أربعة أشهر وعشرة أيام.
587;عد بن خولہ رضی اللہ عنہ وفات پاگئے جب کہ ان کی بیوی سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا حاملہ تھیں۔ زیادہ عرصہ نہ گزرا کہ انہوں نے اپنے بچے کو جن دیا۔
جب وہ اپنے نفاس سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے بناؤ سنگھار کیا۔ انہیں علم تھا کہ وضع حمل کے ساتھ ہی وہ اپنی عدت سے نکل چکی ہیں اور ان کے لیے دوسرے مردوں سے شادی کرنا جائز ہو گیا ہے۔
ایسے میں ابو السنابل رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے۔ انہیں بنی سنوری دیکھ کر وہ سمجھ گئے کہ وہ شادی کا پیغام بھیجنے والوں کے لئے تیاری كی ہوئی ہیں۔ انہوں نے اپنے اس خیال کی بنیاد پر ان کے اس عمل پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا کہ ان کی عدت ابھی ختم نہیں ہوئی اور انھوں نے قسم کھا کر کہا کہ ان کے لیے چار ماہ دس دن گزرنے سے پہلے نکاح کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ ”تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وه عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس (دن) عدت میں رکھیں“۔ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے علم کی صحت پر یقین نہیں تھا، جب کہ اس آنے والے شخص نے اپنی بات کی تاکید قسم اٹھا کر کی تھی۔
چنانچہ وہ نبی صلی اللہ عليہ وسلم ﷺ کے پاس آئیں اور آپ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا۔ آپ ﷺ نے انہیں فتوی دیا کہ وہ وضع حمل کے ساتھ ہی شادی کے لیے حلال ہو گئی تھیں۔ لھٰذا اگر وہ شادی کرنا چاہیں تو ان کو اجازت ہے، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَأولاتُ الأحمال أجلُهُن أن يضَعْنَ حَمْلَهُن﴾ ”اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل ہے“۔
چنانچہ جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے اور وہ حاملہ ہو اس کی عدت بچہ جننے کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے اور اگر وہ حاملہ نہ ہو تو پھر اس کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6046

 
 
Hadith   1180   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يقول: اللهم إني أعوذ بك مِنَ البَرَصِ، والجُنُونِ، والجُذَامِ، وَسَيِّيءِ الأسْقَامِ


Tema:

نبی ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں برص، پاگل پن، کوڑھ کی بیماری اور تمام بری بیماریوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال: كَانَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُولُ: «اللهم إني أعوذ بك من  البَرَصِ، والجُنُونِ، والجُذَامِ، وَسَيِّئِ الأسْقَامِ».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں برص، پاگل پن، کوڑھ کی بیماری اور تمام بری بیماریوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في الحديث كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يستعيذ من أمراض معينة، وهذا يدل على خطرها، وعظيم أثرها، ثم سأل السلامة والعافية من قبيح الأمراض عموما، فقد تضمن هذا الدعاء: التخصيص والإجمال، فقال:" اللهم إني أعوذ بك من البرص"، وهو بياض يظهر في الجسم، يُوَلِّدُ نُفرة الخلق عن الإنسان، فيورث الإنسان العزلة التي قد تودي به إلى التسخط والعياذ بالله.
"والجنون": وهو ذهاب العقل، فالعقل هو مناط التكليف وبه يعبد الإنسان ربه، وبه يتدبر ويتفكر في خلائق الله -تعالى-، وفي كلامه العظيم، فذهاب العقل ذهاب بالإنسان.
و"الجذام": وهو مرض تتآكل منه الأعضاء حتى تتساقط -والعياذ بالله– .
"وسيء الأسقام": أي قبيح الأمراض: وهي العاهات التي يصير المرء بها مُهاناً بين الناس، تنفرُ عنه الطباع، كالشلل والعمى والسرطان، ونحو ذلك؛ لأنها أمراض شديدة تحتاج إلى كلفة مالية، وصبر قوي لا يتحمله إلا من صبره الله -تعالى- وربط على قلبه.
وهنا تظهر عظمة هذا الدين الذي يحافظ ويرعى بدن المسلم ودينه.
575;س حدیث میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ نبی ﷺ کچھ مخصوص امراض سے پناہ مانگا کرتے تھے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ امراض بہت ہی خطرناک ہیں اور ان کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ پھر نبیﷺ نے عمومی طور پر کئی برے امراض سے سلامتی اور عافیت طلب کی۔ اس حدیث میں تخصیص بھی ہے اور اجمال بھی۔
نبی ﷺ نے پناہ مانگتے ہوئے کہتے: ”اللَّهمَّ إِنِّي أَعُوُذُ بِكَ مِنَ الْبرَصِ“ ’برص‘ سے مراد وہ سفیدی ہے جو بدن میں ظاہر ہوتی ہے اور اس سے لوگ انسان سے گھن کھانا لگتے ہیں جس کی وجہ سے انسان بالکل الگ تھلگ ہو کر رہ جاتا ہے جو بسا اوقات ڈیپریشن (ذہنی دباؤ) کا سبب بن جاتا ہے۔ العیاذ باللہ۔
”وَالجُنُونِ“ اس کا معنی ہے عقل کا زائل ہو جانا۔ عقل ہی کی وجہ سے انسان مکلف ہوتا ہے اور اسی کی وجہ سے وہ اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اور اسی کی وجہ سے وہ اللہ تعالی کی پیدا کردہ اشیاء اور اس کے کلام عظیم میں غور و فکر کرتا ہے۔ عقل کا ختم ہو جانا گویا انسان ہی کا ختم ہوجانا ہے۔
”والجُذَامِ“ یہ ایک ایسا مرض ہے جس کی وجہ سے اعضاء جسم بوسیدہ ہو جاتے ہیں اور کٹ کر گرنے لگتے ہیں۔ العیاذ باللہ۔
”وسّيءِ الأَسْقامِ“ یعنی بُرے امراض سے۔ اس سے مراد وہ جسمانی آفات ہیں جن کی وجہ سے انسان لوگوں کے مابین حقیر ہو کر رہ جاتا ہے اور لوگ طبعی طور پر اس سے دور رہنا شروع کر دیتے ہیں جیسے فالج، اندھا پن اور سرطان وغیرہ کیونکہ یہ بہت سخت قسم کے امراض ہیں جن کے علاج میں کافی پیسے خرچ ہوتے ہیں نیز اُن کا سامنا کرنے کے لیے قوی ترین صبر ہونا چاہیے۔ انہیں صرف وہی برداشت کر پاتا ہے جسے اللہ تعالی صبر دے دے اور اس کا دل باندھ دے۔
اس دعا سے اُس دین کی عظمت عیاں ہوتی ہے جو مسلمان کے جسم اور دین دونوں ہی کا لحاظ رکھتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6047

 
 
Hadith   1181   الحديث
الأهمية: سئل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن لقطة الذهب، أو الورق؟ فقال: اعرف وكاءها وعفاصها، ثم عرفها سنة، فإن لم تُعرَف فاستنفقها، ولتكن وديعة عندك فإن جاء طالبها يوما من الدهر؛ فأدها إليه


Tema:

اللہ کے رسول سے سونے اور چاندی کی شکل میں ملنے والی گری پڑی چیز کے بارے میں پوچھا گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا، اس کی ڈوری اور کپڑے کی تشہیر کرو۔ پھر ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، پھر اگر تم نے اسے خرچ کر لیا، تو وہ تمہارے پاس ودیعت ہوگی۔ جب کبھی بھی اس کا مالک آئے، تمہیں ادا کرنا پڑے گا۔

عن زيد بن خالد الجهني -رضي الله عنه-: «سئل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن لُقَطَة الذهب، أو الوَرِق؟ فقال: اعرف وكِاَءَهَا وعِفَاصَهَا، ثم عَرِّفْهَا سَنَةً، فإن لم تُعرَف فاستنفقها، ولتكن وديعة عندك فإن جاء طالبها يوما من الدهر؛ فأدها إليه.
وسأله عن ضالة الإبل؟ فقال: ما لك ولها؟ دَعْهَا فإن معها حِذَاَءَهَا وسِقَاءَهَا، تَرِدُ الماء وتأكل الشجر، حتى يجدها رَبُّهَا.
وسأله عن الشاة؟ فقال: خذها؛ فإنما هي لك، أو لأخيك، أو للذئب».

زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی کے گرے یا بھولے ہوئے سونے اور چاندی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”اس کے بٹوے اور (باندھنے کی) رسی کی شناخت کرلو، پھر ایک سال اس کی تشہیر کرو، اگر (کچھ بھی) نہ جان پاؤ تو اسے خرچ کرلو اور وہ تمہارے پاس امانت ہوگی، اگر کسی بھی دن اس کا طلب کرنے والا آ جائے تو اسے اس کی ادائیگی کر دو“۔
اس شخص نے آپ ﷺ سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”تمہارا اس سے کیا واسطہ ؟ اس کا جوتا اور مشکیزہ اس کے ساتھ ہے، وہ مالک کے پالینے تک (خود ہی) پانی پر آتا اور درخت کھاتا ہے“۔
اس نے آپ ﷺ سے بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”اسے پکڑ لو، وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سأل رجل النبي صلى الله عليه وسلم عن حكم المال الضال عن ربه، من الذهب، و الفضة، والإبل، والغنم.
فبين له صلى الله عليه وسلم حكم هذه الأشياء لتكون مثالا لأشباهها، من الأموال الضائعة، فتأخذ حكمها.
فقال عن الذهب والفضة: اعرف الرباط الذي شدت به، والوعاء الذي جعلت فيه، لتميزها من بين مالك، ولتخبر بعلمك بها من ادعاها.
فإن طابق وصفه صفاتها، أعطيه إياها، وإلا تبين لك عدم صحة دعواه .
وأمره أن يعرفها سنة كاملة بعد التقاطه إياها.
ويكون التعريف في مجامع الناس كالأسواق ، وأبواب المساجد. والمجمعات العامة، وفي مكان التقاطها.
ثم أباح له- بعد تعريفها سنة، وعدم العثور على صاحبها أن يستنفقها، فإذا جاء صاحبها في أي يوم من أيام الدهر، أداها إليه.
وأما ضالة الإبل ونحوها، مما يمتنع بنفسه، فنهاه عن التقاطها؛ لأنها ليست بحاجة إلى الحفظ، فلها من طبيعتها حافظ، لأن فيها القوة على صيانة نفسها من صغار السباع، ولها من أخفافها ما تقطع به المفاوز، ومن عنقها ما تتناول به الشجر والماء، ومن جوفها ما تحمل به الغذاء، فهي حافظة نفسها حتى يجدها ربها الذي سيبحث عنها في مكان ضياعها.
وأما ضالة الغنم ونحوها من صغار الحيوان، فأمره أن يأخذها حفظا لها من الهلاك وافتراس السباع، وبعد أخذها يأتي صاحبها فيأخذها، أو يمضي عليها حول التعريف فتكون لواجدها .
575;یک شخص نے آپ ﷺ سے کسی کے گم شدہ مال جیسے سونا، چاندی، اونٹ اور بکریوں کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ ﷺ نے ان تمام چیزوں کا حکم بیان فرمایا تاکہ یہ ان جیسی گم شدہ چیزوں کے لیے مثال بنے اور اُن کا حکم معلوم ہو۔
سونے اور چاندی کے بارے میں کہا: اس ڈوری کی پہچان کرو جس سے وہ باندھی ہوئی ہے اور اس بٹوے کو بھی جس میں وہ چیز رکھی ہوئی ہے تاکہ مالکوں کے درمیان تمییز کر سکو ہو اور اپنے علم کے مطابق اس کے مدعی کو بتا سکو جو اس کا دعوے دار ہے۔
اگر مدعی کی بیان کردہ صفت اس کی صفات کے موافق ہوں تو اسے دے دو ورنہ اس کے دعوے کا جھوٹا ہونا تم پر ظاہر ہو جائے گا۔
آپ ﷺ نے چیز ملنے کے بعد مکمل ایک سال تک اس کی پہچان کروانے (تشہیر) کا حکم دیا۔
تشہیر لوگوں کے عمومی مجموعے میں ہوگی جیسے بازار، مسجد کے دروازے، عام اجتماعات اور ملنے کی جگہ میں۔
ایک سال تشہیر اور مالک کے نہ ملنے کے بعد اس کے استعمال کو حلال قرار دے دیا اور اگر زندگی میں کسی بھی وقت اس کا مالک آ گیا تو اسے وہ لوٹا دیا جائے۔
جہاں تک گم شدہ اونٹ وغیرہ کا تعلق ہے یعنی جو اپنے آپ کو سنبھال سکے، اس کے لینے سے منع فرمایا، اس لیے کہ اس کی حفاظت کی ضرورت نہیں، وہ خود اپنا محافظ ہے۔ اس لیے کہ اس میں اپنے آپ کو چھوٹے درندوں سے بچانے کی طاقت موجود ہے، اس کے پاؤں ہے جس کے ذریعے وہ صحراؤں کو عبور کرسکتا ہے اور وہ اپنی گردن سے درخت چرسکتا ہے اور پانی پی سکتی ہے، اور اس کا پیٹ بہت ساری غذا جمع کر سکتا ہے۔ مالک کے ملنے تک وہ اپنی حفاظت خود کرے گا کہ وہ گم شدگی کی جگہ میں اسے ڈھونڈے گا۔
جہاں تک گم شدہ بکری اور چھوٹے جانوروں کا تعلق ہے۔ تو اسے ہلاکت اور درندوں کی چیر پھاڑ سے بچانے کے لیے اسے حفاظت کی خاطر پکڑنے کا حکم دیا، پکڑنے کے بعد اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو یا اس کی پہچان کروانے کا سال مکمل ہو جائے تو وہ ملنے والے کا ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6048

 
 
Hadith   1182   الحديث
الأهمية: أكبر الكبائر: الإشراك بالله، والأمن من مكر الله، والقنوط من رحمة الله، واليأس من روح الله


Tema:

سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، اللہ کی رحمت ونعمت سے مایوس ہوجانا، اس کی پوشیدہ تدبیر سے بے خوف ہو جانا۔

عن عبد الله بن مسعود -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: "أكبر الكبائر: الإشراك بالله، والأمن من مَكْرِ الله، والقُنُوطُ من رحمة الله، واليَأْسُ من رَوْحِ الله".

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، اللہ کی رحمت ونعمت سے مایوس ہوجانا، اس کی پوشیدہ تدبیر سے بے خوف ہو جانا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكر رسول الله -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- في هذا الحديث ذنوبًا تعتبر من كبائر الذنوب، وهي: أن يُجعل لله -سبحانه- شريكٌ في ربوبيته أوعبوديته وبدأ به؛ لأنه أعظم الذنوب، وقطع الرجاء والأمل من الله؛ لأن ذلك إساءة ظنٍّ بالله وجهل بسعة رحمته، والأمن من استدراجه للعبد بالنعم حتى يأخذه على غفلة، وليس المراد بهذا الحديث حصر الكبائر فيما ذكر؛ لأن الكبائر كثيرة، لكن المراد بيان أكبرها.
575;س حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے ان گناہوں کا ذکر کیا جو کبیرہ گناہ شمار ہوتے ہیں اوروہ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت یا عبودیت میں اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، اس کو پہلے ذکر کیا اس لئے کہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہونا،اس لئے کہ یہ اللہ کے بارے میں بدگمانی ہے اور اس کی وسیع رحمت سے نا واقفیت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے بندے کو نعمتوں کے ذریعہ ڈھیل دینے اور حالت غفلت میں اچانک پکڑلینے سے بے خوف رہنا۔ اس حدیث سے مُراد یہ نہیں کہ کبیرہ گناہ صرف یہی ہیں۔ اس لئے کہ کبیرہ گناہ بہت ہیں۔ تاہم یہاں ان میں سے سب سے بڑے گناہوں کا ذکر کیا ہے۔   --  [اس حدیث کی سند صحیح ہے۔]+ +[اسے امام عبد الرزّاق نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6049

 
 
Hadith   1183   الحديث
الأهمية: صفة صلاة الخوف كما رواها جابر


Tema:

خوف كى نماز کا طریقہ جیسا كہ جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔

عن جابر بن عبد الله الأنصاري -رضي الله عنهما- قال: «شَهِدْتُ مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صلاة الخوف فَصَفَفْنَا صَفَّيْنِ خلف رسول الله -صلى الله عليه وسلم- والعدو بيننا وبين القبلة، وكَبَّرَ النبي -صلى الله عليه وسلم- وكَبَّرنا جميعا، ثم ركع ورَكَعْنا جميعا، ثم رفع رأسه من الركوع ورفعنا جميعا، ثم انحدر بالسجود والصف الذي يليه، وقام الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ في نَحْرِ الْعَدُوِّ، فلما قضى النبي -صلى الله عليه وسلم- السجود، وقام الصفّ الذي يليه انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بالسجود، وقاموا، تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ, وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، ثم ركع النبي -صلى الله عليه وسلم- وركعنا جميعا، ثم رفع رأسه من الركوع ورفعنا جميعا، ثم انحدر بالسجود، والصفّ الذي يليه -الذي كان مُؤَخَّرا في الركعة الأولى- فقام الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ، فلما قضى النبي -صلى الله عليه وسلم- السجود والصف الذي يليه: انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بالسجود، فسجدوا ثم سلَّم -صلى الله عليه وسلم- وسَلَّمْنا جميعا، قال جابر: كما يصنع حَرَسُكُمْ هؤلاء بأُمرائهم».
وذكر البخاري طرفا منه: «وأنه صلى صلاة الخوف مع النبي -صلى الله عليه وسلم- في الغزوة السابعة، غزوة ذات الرِّقَاعِ».

جابر بن عبد الله انصارى - رضی اللہ عنہما- فرماتے ہیں کہ میں خوف کی نماز پڑھتے وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر تھا، دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان حائل تھا ہم لوگوں نے نبی ﷺ کے پیچھے دو صفیں بنائیں نبی ﷺ نے تکبیر کہی ہم نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ تکبیر کہی پھر آپ ﷺ نےرکوع کیا اور ہم سب نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ رکوع کیا پھر جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھایا تو ہم سب نے بھی سر اٹھایا پھر آپ ﷺ سجدہ میں چلے گیے تو آپ ﷺ کے ساتھ صرف پہلی صف والوں نے سجدہ کیا جب کہ دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی جب نبی ﷺ اور پہلی صف کے لوگ کھڑے ہوئے تو پچھلی صف والوں نے سجدہ کیا اور پھر کھڑے ہو گیے اس کے بعد پچھلی صف کے لوگ آگے آگیے اور اگلی صف کے لوگ پیچھےچلے گیے، پھر نبی ﷺ نے رکوع کیا اور ہم سب نے اکٹھے ہی رکوع کیا پھر آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھایا اور ہم سب بھی اکٹھے رکوع سے سر اٹھایا اور پھر آپ ﷺ سجدہ میں چلے گئے تو آپ ﷺ کے ساتھ صرف پہلی صف والوں نے سجدہ کیا- جو كہ پہلےپچھلی صف میں تھے- جب کہ دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی جب نبی ﷺ اور پہلی صف کے لوگ کھڑے ہوئے تو پچھلی صف والوں نے سجدہ کیا اور تو اب پہلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو ہم سب نے اکٹھے سلام پھیرا جابر رضی اللہ عنہ کہتےہیں: جیسے آج کل تمہارے حفاظتی دستے اپنے امراء کے ساتھ کرتے ہیں۔
(امام مسلم نے یہ روایت مکمل ذکر کی ہے)، امام بخاری نے اس کا کچھ حصہ ہی ذکر کیا ہے کہ انھوں (جابر رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ساتویں غزوے ’ذات الرقاع‘ میں نمازِ خوف پڑھی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث صفةٌ من صفات صلاة الخوف وهذه الصفة فيما إذا كان العدو في جهة القبلة حيث قسم النبي -صلى الله عليه وسلم- الجيش فرقتين، فرقة تكون صفاً مقدماً وفرقة تكون صفاً ثانيًا، ثم يصلى بهم فيكبر بهم جميعاً ويقرأون جميعًا ويركعون جميعًا ويرفعون من الركوع جميعًا ثم يسجد ويسجد معه الصف الذي يليه ثم إذا قام للركعة الثانية سجد الصف المؤخر الذي كان يحرس العدو فإذا قاموا تقدم المؤخر وتأخر المقدم مراعاة للعدل حتى لا يكون الصف الأول في مكانه في كل الصلاة، وفعل في الركعة الثانية كما فعل في الأولى وتشهد بهم جميعًا وسلم بهم جميعًا.
وهذه الكيفية المفصلة في هذا الحديث عن صلاة الخوف، مناسبة للحال التي كان عليها النبي -صلى الله عليه وسلم- وأصحابه حين ذاك، من كون العدو في جهة القبلة، ويرونه في حال القيام والركوع، وقد أمنوا من كمين يأتي من خلفهم.
575;س حدیث میں خوف کی نماز کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ذکر کیا گیا ہے۔ خوف کی نماز کے اس طریقے میں دشمن قبلے کی جانب ہے، آپ ﷺ نے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کیا، ایک حصہ پہلی صف میں اور دوسرا دوسری صف میں ہے، پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی، جس میں تمام لوگ ایک ساتھ تکبیر ، ایک ساتھ قرأت ، ایک ساتھ رکوع اور ایک ساتھ رکوع سے اٹھتے ہیں، پھر سجدہ کرتے اور آپ کے ساتھ ساتھ والی صف بھی سجدہ کرتی، پھر جب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے تو پچھلی صف جو کہ دشمن کے سامنے پہرا دے رہی تھی سجدہ کرتی، جب کھڑے ہوئے تو برابری کی رعایت کرتے ہوئے پچھلی صف آگے اور اگلی صف پیچھے ہوجاتی کہ پوری نماز میں پہلی صف اپنی جگہ پر نہیں رہتی، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا جیسا پہلی صف میں کیا، پھر تمام کو تشہّد کروائی اور سب کے لیے سلام پھیرا۔
اس حدیث میں نمازِ خوف کی یہ کیفیت تفصیل سے ذکر ہوئی، یہ اس واقع حال کے مناسبت سے تھی جو آپ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو درپیش تھی کہ دشمن قبلے کی جانب ہے، وہ دشمن کو قیام اور رکوع کی حالت میں دیکھ رہے ہیں اور پچھلی جانب سے دشمن کے حملے سے محفوظ ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6050

 
 
Hadith   1184   الحديث
الأهمية: طعام الاثنين كافي الثلاثة، وطعام الثلاثة كافي الأربعة


Tema:

دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کے لیے اور تین کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "طعام الاثنين كافي الثلاثة، وطعام الثلاثة كافي الأربعة".
وفي رواية لمسلم عن جابر -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "طعام الواحد يكفي الاثنين، وطعام الاثنين يكفي الأربعة، وطعام الأربعة يكفي الثمانية".

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کے لیے اور تین کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے“۔
صحیح مسلم کی حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کی نبی ﷺ نے فرمایا: ”ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے، دو کا کھانا چار کے لیے اور چار کا کھانا آٹھ آدمیوں کے لیے کافی ہوتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في الحديث الحث على المواساة في الطعام، وأنه وإن كان قليلاً حصلت منه الكفاية المقصودة، ووقعت فيه بركة تعم الحاضرين عليه، وهو حث منه عليه الصلاة والسلام على الإيثار يعني أنك لو أتيت بطعامك الذي قدرت أنه يكفيك، وجاء رجل آخر فلا تبخل عليه، وتقول هذا طعامي وحدي؛ بل أعطه منه حتى يكون كافياً للاثنين.
581;دیث میں کھانے کے معاملے میں ایک دوسرے سے ہمدردی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس بات کا بیان ہے کہ کھانا اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہو یہ پورا آجاتا ہے اور اس میں ایسی برکت پیدا ہوجاتی ہے جس سے سب حاضرین بہرہ مند ہوتے ہیں۔ یہ نبی ﷺ کی طرف سے ایثار کی ترغیب ہے۔ یعنی اگر آپ اپنا کھانا لائیں جس کے بارے میں آپ کا خیال ہو کہ وہ آپ کے لیے کافی ہے اور اسی اثناء میں کوئی اور آدمی آجائے تو بخل سے کام نہ لیں کہ یوں سوچنے لگ جائیں کہ یہ صرف میرا کھانا ہے بلکہ اسے بھی اس کھانے میں شریک کرلیں جو دونوں کے لیے کافی ہوجائے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6057

 
 
Hadith   1185   الحديث
الأهمية: اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار، وعذاب النار، ومن شر الغنى والفقر


Tema:

اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے فتنے سے، آگ کے عذاب سے نیز مال داری اور محتاجی کے شر سے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يدعو بهذه الكلمات: «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار، وعذاب النار، ومن شر الغنى والفقر».

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کلمات کے ساتھ دعا مانگا کرتے تھے ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ شَرِّ الْغِنَى، وَالْفَقْرِ“ اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے فتنے سے، آگ کے عذاب سے نیز مال داری اور محتاجی کے شر سے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي المختار -عليه الصلاة والسلام- يستعيذ من أمور أربعة:
فقوله: (اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار) أي فتنة تؤدي إلى النار، ويحتمل أن يراد بفتنة النار سؤال الخَزَنَة على سبيل التوبيخ، وإليه الإشارة بقوله تعالى: (كلما ألقي فيها فوج سألهم خزنتها ألم يأتكم نذير).
وقوله: (وعذاب النار) أي أعوذ بك من أن أكون من أهل النار، وهم الكفار فإنهم هم المعذبون، وأما الموحدون فإنهم مؤدبون ومهذبون بالنار لا معذبون بها.
(ومن شر الغنى): وهو البطر والطغيان وتحصيل المال من الحرام وصرفه في العصيان، والتفاخر بالمال والجاه والحرص على جمع المال وأن يكسبه من غير حله ويمنعه من إنفاقه في حقوقه.
و(الفقر) أي وشر الفقر، وهو الفقر الذي لا يصحبه صبر ولا ورع؛ حتى يتورط صاحبه بسببه فيما لا يليق بأهل الدين والمروءة، ويصحبه الحسد على الأغنياء والطمع في أموالهم والتذلل بما يدنس العِرْض والدين وعدم الرضا بما قسم الله له وغير ذلك مما لا تحمد عاقبته.
606;بیٔ مختار ﷺ چار امور سے پناہ مانگا کرتے تھے:
”اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے فتنے سے“ یعنی وہ فتنہ جو آگ کی طرف لے جانے والا ہو، یہ بھی احتمال ہے کہ آگ کے فتنے سے مُراد زجر اور توبیخ کے لیے جہنم کے داروغے کا وہ سوال کرنا ہو جس کی طرف اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں اشارہ کیا گیا ہے: ﴿كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ﴾ ”کہ جب کبھی اس میں کوئی گروه ڈاﻻ جائے گا اس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے واﻻ کوئی نہیں آیا تھا؟“۔
”آگ کے عذاب سے“ یعنی میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ میں جہنمیوں میں سے ہو جاؤں۔ جہنمی لوگ کافر ہیں جنہیں عذاب دیا جائے گا۔ جہاں تک موحد لوگوں کا تعلق ہے تو انہیں آگ سے عذاب نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کی تادیب و تہذیب کی جائے گی۔
”مالداری کے شر سے“ یعنی اکڑ، سرکشی، حرام طریقے سے مال کا حصول، نافرمانی میں اس کا خرچ کرنا، مال و منصب پر فخر و نمود، مال کو جمع کرنے کی حرص، اسے حلال طریقہ سے حاصل نہیں کرنا اور جہاں خرچ کرنا ہے وہاں مال خرچ کرنے سے روکے رکھنا ہے۔
”فقیری اور محتاجی کے شر سے“ یعنی وہ محتاجی ہے جس کے ساتھ صبر اور تقویٰ نہ ہو اور اپنے فقر کی وجہ سے وہ ایسی چیزوں میں پھنس جائے جو دیندار اور صاحبِ مروّت لوگوں کے شایانِ شان نہیں۔ ساتھ ہی مال داروں سے حسد کرنا، ان کے مال کی لالچ رکھنا، اس طرح اپنے آپ کو گرا دینا جو عزت و دین کے منافی ہے، اللہ کی تقسیم پر راضی نہ ہونا اور اس کے علاوہ وہ ساری چیزیں جن کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6072

 
 
Hadith   1186   الحديث
الأهمية: لا تَشْتَرِهِ، ولا تعد في صدقتك؛ فإن أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ؛ فإن العَائِدَ في هِبَتِهِ كالعَائِدِ في قَيْئِهِ


Tema:

اسے نہ خریدو اور اپنا صدقہ واپس نہ لو، اگرچہ وہ شخص تمھیں وہ گھوڑا ایک درہم میں ہی کیوں نہ دے۔ کیوںکہ کسی کا بطور ہبہ دی گئی شے کو واپس لینا ایسے ہی ہے، جیسے کوئی قے کر کے اسے چاٹ لے۔

عن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- قال: «حَمَلْتُ على فرس في سبيل الله، فأضاعه الذي كان عنده، فأردت أن أشتريه، وظننت أنه يبيعه بِرُخْصٍ، فسألت النبي -صلى الله عليه وسلم-؟ فقال: لا تَشْتَرِهِ، ولا تعد في صدقتك؛ فإن أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ؛ فإن العَائِدَ في هِبَتِهِ كالعَائِدِ في قَيْئِهِ».

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے راستے میں (جہاد کےلیے) ایک گھوڑا کسی کو سواری کے لیے دیا اور جسے دیا تھا، اس نے اس کی حالت بالکل ہی بگاڑ دی ۔ اس لیے میرا ارادہ ہوا کہ میں اسے واپس خرید لوں۔ میرا خیال تھا کہ وہ شخص اسے سستے داموں میں بیچ دے گا۔ اس کے متعلق میں نے نبی ﷺ سے جب پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے نہ خریدو اور اپنا صدقہ واپس نہ لو، اگرچہ وہ شخص تمھیں وہ گھوڑا ایک درہم میں ہی کیوں نہ دے۔ کیوںکہ کسی کا بطور ہبہ دی گئی شے کو واپس لینا ایسے ہی ہے، جیسے کوئی قے کر کے اسے چاٹ لے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أعان عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- رجلا على الجهاد في سبيل الله، فأعطاه فرسا يغزو عليه، فقصر الرجل في نفقة ذلك الفرس، ولم يحسن القيام عليه، وأتعبه حتى هزل وضعف، فأراد عمر أن يشتريه منه وعلم أنه سيكون رخيصًا لهزاله وضعفه، فلم يقدم على شرائه حتى استشار النبي -صلى الله عليه وسلم- عن ذلك، ففي نفسه من ذلك شيء، فنهاه النبي -صلى الله عليه وسلم- عن شرائه ولو بأقل ثمن، لأن هذا شيء خرج لله -تعالى- فلا تتبعه نفسك ولا تعلق به، ولئلا يحابيك الموهوب له في ثمنه، فتكون راجعاً ببعض صدقتك، ولأن هذا خرج منك، وكفر ذنوبك، وأخرج منك الخبائث والفضلات، فلا ينبغي أن يعود إليك، ولهذا سمى شراءه عوداً في الصدقة مع أنه يشتريه بالثمن، وشبهه بالعود في القيء، وهو ما يخرج من البطن عن طريق الفم، والعود فيه أن يأكله بعد خروجه، وهذا للتقبيح والتنفير عن هذا الفعل.
593;مر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جہاد فی سبیل اللہ میں کسی شخص کی معاونت کرتے ہوئے اسے ایک گھوڑا دیا؛ تاکہ وہ اس پر بیٹھ کر لڑسکے۔ اس شخص نے اس گھوڑے پر خرچ کرنے میں کوتاہی برتی اور اچھے انداز میں اس کی دیکھ بھال نہیں کی اور اس سے اتنا کام لیا کہ وہ نحیف اور کمزور ہو گیا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ ا س سے وہ گھوڑا خرید لیں۔ انھوں نے کہ گھوڑا نحیف اور لاغر ہونے کی وجہ سے سستا میں مل جاۓ گا۔ تاہم نبی ﷺ سے مشورہ لینے سے پہلے انھوں نے اسے خریدنے کی بات نہیں چلائی؛ کیونکہ ان کے دل میں اس سلسلے میں کچھ کھٹکا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انھیں اسے خریدنے سے منع فرما دیا، اگرچہ وہ کم قیمت پر ہی مل رہا ہو؛ کیوںکہ یہ اللہ کی راہ میں دی گئی شے تھی۔ (اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ) اس کے پیچھے نہ لگو اور نہ ہی اس سے کوئی واسطہ رکھو، تاکہ کہیں یہ نہ ہو کہ جسے وہ گھوڑا بطور ہبہ دیا گیا تھا، وہ اس کی قیمت میں تمھارے لیے کچھ کمی کر دے اور اس طرح تم اپنے دیے گئے صدقے کے کچھ حصے کو واپس لینے والے بن جاؤ۔ چوںکہ یہ شے تمھاری ملکیت سے نکل چکی ہے اور اس کی وجہ سے تمھارے گناہ معاف ہوئے اور اس نے تمھیں بہت سی برائیوں اور گندگیوں سے چھٹکارا دیا، اس لیے مناسب نہیں کہ وہ لوٹ کر دوبارہ تمھارے پاس آئے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے اسے خریدنے کو صدقہ دے کر واپس لینے کا نام دیا، حالاںکہ وہ اسے قیمت کے ساتھ خرید رہے تھے۔ اور اسے قے کر کے چاٹنے سے تشبیہ دی ہے، قے یعنی پیٹ میں موجود چیز منہ کے راستہ سے باہر آئے، قے کو دوبارہ لوٹانے سے مراد اسے چاٹنا ہے، اس قسم کی تشبیہ دینے کا مقصد اس فعل سے نفرت پیدا کرنا اور اس کی قباحت کو بیان کرنا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6073

 
 
Hadith   1187   الحديث
الأهمية: العائد في هبته، كالعائد في قيئه


Tema:

اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لینے والا ایسا ہے جیسے اپنی کی ہوئی قے کو چاٹنے والا ہو۔

عن عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما- مرفوعاً: "العائد في هِبَتِهِ، كالعائد في قَيْئِهِ". br>وفي لفظ: "فإن الذى يعود في صدقته: كالكلب يَقِئ ُثم يعود في قيئه".

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لینے والا ایسا ہے جیسے اپنی کی ہوئی قے کو چاٹنے والا ہو“۔
دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: ”جو شخص صدقہ کرکے واپس لیتا ہے وہ اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے پھر چاٹ جاتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ضرب النبي -صلى الله عليه وسلم- مثلًا للتنفير من العود في الهدية بأبشع صورة وهى أن العائد فيها، كالكلب الذي يقىء ثم يعود إلى قيئه فيأكله مما يدل على بشاعة هذه الحال وخستها، ودناءة مرتكبها.
570;پ ﷺ نے ہدیہ واپس لینے سے نفرت دلانے کے لیے بہت بُری مثال بیان فرمائی ہے کہ ہدیہ دے کر واپس لینے والا اس کُتے کی طرح ہے جو قے کرے اور اس کی طرف لوٹ کر اسے چاٹتا ہے۔ یہ مثال اس کی بُرائی، شناعت اور اوچھے پن پر دلالت کرتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6074

 
 
Hadith   1188   الحديث
الأهمية: صلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في بيته وهو شَاكٍ


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ بیماری کی حالت میں اپنے گھر میں نماز پڑھی۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: صلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في بيته وهو شَاكٍ، صلى جالسا، وصلى وراءه قوم قِيَامًا، فأشار إليهم: أنِ اجْلِسُوا، لما انْصَرَفَ قال: إنما جُعِلَ الإمامُ لِيُؤْتَمَّ به: فإذا ركع فاركعوا، وإذا رفع فارفعوا، وإذا قال: سمع الله لمن حمده فقولوا: ربنا لك الحمد، وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا أجمعون».

عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ بیماری کی حالت میں اپنے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھی، کچھ لوگ آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو آپ ﷺ نے انھیں اشارہ کیا کہ وہ بیٹھ جائیں۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے، تو فرمایا: ”امام اس لیے بنایاجاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ رکوع میں جائے، تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وہ سر اٹھائے، تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہے، تو تم رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے، تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث صلاة النبي -صلى الله عليه وسلم- جالسًا لمرضه، وفيه بيان صفة اقتداء المأموم بالإمام، ومتابعته له.
فقد أرشد النبي -صلى الله عليه وسلم- المأمومين إلى الحكمة من جعل الإمام وهي أن يقتدي به ويتابع، فلا يختلف عليه بعمل من أعمال الصلاة، وإنما تراعى تَنَقلاته بنظام فإذا كبر للإحرام، فكبروا أنتم كذلك، وإذا رَكع فاركعوا بعده، وإذا ذكركم أن الله مجيب لمن حمده بقوله: "سمع الله لمن حمده" فاحمدوه تعالى بقولكم:
"ربنا لك الحمد"، وإذا سجد فتابعوه واسجدوا، وإذا صلى جالساً لعجزه عن القيام؛ -فتحقيقاً للمتابعة- صلوا جلوساً، ولو كنتم على القيام قادرين.

فقد ذكرت عائشة أن النبي -صلى الله عليه وسلم- اشتكى من المرض فصلى جالساً، وكان الصحابة يظنون أن عليهم القيام لقدرتهم عليه؛ فصلوا وراءه قياما فأشار إليهم: أن اجلسوا.
فلما انصرف من الصلاة أرشدهم إلى أن الإمام لا يخالف، وإنما يوافق؛ لتحقق المتابعة التامة والاقتداء الكامل، بحيث يصلى المأموم جالساً مع قدرته على القيام لجلوس إمامه العاجز، وهذا إن ابتدأ بهم الصلاة جالساً صلوا خلفه جلوسًا، وإن ابتدأ بهم الإمام الراتب الصلاة قائماً، ثم اعتل في أثنائها فجلس أتموا خلفه قياماً وجوباً؛ عملا بحديث صلاة النبي -صلى الله عليه وسلم- بأبي بكر والناس حين مرِض مرَض الموت.

575;س حدیث میں بیماری کی وجہ سے آپ ﷺ کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ذکر ہے اور اس بات کا بیان ہے کہ مقتدی کیسے امام کی اقتدا اور اتباع کرے۔
نبی ﷺ نے مقتدیوں کو امام متعین کرنے کی حکمت کی طرف توجہ دلائی کہ امام اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی اقتدا اور اتباع کی جائےاور نماز کے اعمال میں سے کسی بھی عمل میں اس کی مخالفت نہ کی جائے، بلکہ ایک منظم انداز میں اس کی حرکات و سکنات کا خیال رکھا جائے۔ چنانچہ جب وہ تکبیر تحریمہ کہے، تو تم بھی ایسے ہی کہو، جب وہ رکوع کرے، تو اس کے بعد تم بھی رکوع کرو، جب وہ ”سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہہ کر تمھیں یاد دہانی کرائے کہ اللہ تعالی اس شخص کی سنتا ہے، جو اس کی حمد بیان کرتا ہے، تو تم ”رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ“ کہہ کر اللہ کی حمد بیان کرو، جب وہ سجدے میں جائے، تو اس کی اتباع میں تم بھی سجدے میں چلے جاو اور جب امام کھڑا ہونے سے قاصر ہو اور بیٹھ کر نماز پڑھے، تو اس کی اتباع میں تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اگرچہ تم میں کھڑے ہونے کی قدرت موجود ہو۔
اس لیے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ مرض میں مبتلا تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ صحابۂ کرام نے یہ سوچا کہ چوںکہ انھیں قیام پر قدرت حاصل ہے، اس لیے ان پر قیام کرنا واجب ہے۔ چنانچہ انھوں نے آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا شروع کر دی۔ اس پر نبی ﷺ نے انھیں اشارہ کیا کہ وہ بیٹھ جائیں۔
جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہو کر واپس مڑے، تو ان کی راہ نمائی فرمائی کہ امام کی مخالفت نہیں کی جانی چاہیے، بلکہ اس کی موافقت ہونی چاہیے؛ تاکہ اس کی پوری طرح سے اتباع اور کامل طور پر اقتدا ہو سکے، بایں طور کہ مقتدی قیام کی قدرت رکھنے کے باوجود بیٹھ کر نماز پڑھے؛ کیونکہ اس کا امام بیٹھا ہوا ہے اور قیام نہیں کر سکتا۔ یہ اس وقت ہو گا، جب کہ امام انھیں نماز پڑھانے کا آغاز ہی بیٹھ کر کرے، اس صورت میں وہ اس کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھیں گے۔ وه امام جو مسجد میں ہمیشہ نماز پڑھاتا ہے، وہ اگر کھڑے ہو کر لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کرے، لیکن دوران نماز کسی علت کے لاحق ہونے پر بیٹھ جائے، تو اس صورت میں مقتدیوں کا اس کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پوری کرنا واجب ہے۔ اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے، جس میں مرض الموت میں نبی ﷺ کے ابو بکر رضی اللہ عنہ اور لوگوں کو نماز پڑھانے کا ذکر ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6075

 
 
Hadith   1189   الحديث
الأهمية: إِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا -أَوْ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا- فَكَبِّرا ثَلاَثًا وَثَلاثِينَ، وَسَبِّحَا ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، واحْمِدا ثَلاثًا وَثَلاثِينَ


Tema:

جب تم دونوں اپنے بستر پر جاؤ، یا فرمایا: جب تم سونے کے لیے جاؤ تو تینتیس (33) مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس (33) مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس (33) مرتبہ الحمد للہ پڑھ لینا۔

عن علي بن أبي طالب -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال له ولفاطمة: «إذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا -أَوْ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا- فَكَبِّرا ثَلاَثًا وَثَلاثِينَ، وَسَبِّحَا ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، واحْمِدا ثَلاثًا وَثَلاثِينَ» وفي روايةٍ: التَّسْبيحُ أرْبعًا وثلاثينَ، وفي روايةٍ: التَّكْبِيرُ أرْبعًا وَثَلاَثينَ.

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ان سے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”جب تم دونوں اپنے بستر پر جاؤ، یا فرمایا کہ جب تم سونے کے لیے جاؤ تو تینتیس (33) مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ (33) سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ (33) الحمد للہ پڑھ لینا“۔
ایک دوسری روایت میں ہے تسبیح (سبحان اللہ) چونتیس (34) مرتبہ پڑھنے کا ذکر ہے جب کہ ایک روایت میں تکبیر (اللہ اکبر) چونتیس (34) مرتبہ پڑھنے کا ذکر ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اشتكت فاطمة إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- ما تجده من الرحى (أداة لطحن الحب) وطلبت من أبيها خادما فقال صلى الله عليه وسلم: "ألا أدلكما على ما هو خير من الخادم؟" ثم أرشدهما إلى هذا الذكر: أنهما إذا أويا إلى فراشهما وأخذا مضجعيهما: يسبحان ثلاثة وثلاثين، ويحمدان ثلاثة وثلاثين، ويكبران أربعة وثلاثين. ثم قال -عليه الصلاة والسلام-: فهذا خير لكما من الخادم؛ وعلى هذا: فيسن للإنسان إذا أخذ مضجعه لينام أن يسبح ثلاثة وثلاثين، ويحمد ثلاثة وثلاثين، ويكبر أربعة وثلاثين فهذه مائة مرة، فإن هذا مما يعين الإنسان في قضاء حاجاته كما أنه أيضا إذا نام فإنه ينام على ذكر الله -عز وجل-.
601;اطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے چکّیْ پیسنے کی تکلیف کی شکایت کی اور اپنے والد سے ایک خادم مانگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
کیا میں تم دونوں کو ایسی چیز نہ بتاؤں جو خادم سے بہتر ہے؟ پھر اس ذکر کی طرف دونوں کی رہنمائی فرمائی۔ بایں طور کہ جب تم اپنے بستر پر آؤ اور سونے لگو تو تینتیس (33) مرتبہ سبحانَ اللہ، تینتیس (33) مرتبہ الحمدُ للہ اور چونتیس (34) مرتبہ اللہُ اَکبر کہہ لیا کرو۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔ اسی لیے انسان جب سونے کے لیے بستر پر جائے تو اس کے لیے تینتیس (33) بار سبحانَ اللہ، تینتیس (33) بار الحمدللہ اور چونتیس (34) بار اللہُ اکبر -یہ کُل 100 بار - کہنا مسنون ہے۔ یہ انسان کی ضروریات پوری کرنے میں ممد ومعاون ہیں ساتھ ہی یہ سوتے وقت بھی مفید ہیں کہ انسان اللہ کا ذکر کرکے سوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6076

 
 
Hadith   1190   الحديث
الأهمية: إنها لو لم تكن ربيبتي في حجري، ما حلت لي؛ إنها لابنة أخي من الرضاعة، أرضعتني وأبا سلمة ثويبةُ؛ فلا تعرضن علي بناتكن ولا أخواتكن


Tema:

اگر وہ میری ربیبہ نہ ہوتی (یعنی میری بیوی کی بیٹی نہ ہوتی) جب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔ مجھ کو اور ابوسلمہ دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ چنانچہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو میرے سامنے نکاح کے لیے پیش نہ کرو۔

عن أم حبيبة بنت أبي سفيان -رضي الله عنهما- قالت: قلت يا رسول الله، انكح أختي ابنة أبي سفيان. قال: أو تحبين ذلك؟ فقلت: نعم؛ لست لك بمُخْلِيَةٍ، وأحَبُّ من شاركني في خير أختي. فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: إن ذلك لا يحل لي. قالت: إنا نُحَدَّثُ أنك تريد أن تنكح بنت أبي سلمة. قال: بنت أم سلمة؟! قالت: قلت: نعم، قال: إنها لو لم تكن ربيبتي في حَجْرِي، ما حلت لي؛ إنها لابنة أخي من الرضاعة، أرضعتني وأبا سلمة ثويبةُ؛ فلا تعرضن علي بناتكن ولا أخواتكن.
قال عروة: وثويبة مولاة لأبي لهب أعتقها، فأرضعت النبي -صلى الله عليه وسلم-، فلما مات أبو لهب رآه بعض أهله بشرِّ حِيبة، فقال له: ماذا لقيت؟ قال أبو لهب: لم ألق بعدكم خيرًا، غير أني سقيت في هذه بعتاقتي ثويبة.

ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میری بہن یعنی ابوسفیان کی بیٹی سے نکاح کر لیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں یہ پسند ہے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، مجھے پسند ہے۔ اگر میں اکیلی آپ کی بیوی ہوتی تو پسند نہ کرتی۔ مجھے یہ زیادہ اچھا لگتا ہے کہ بھلائی میں (کسی اور کی بجائے) میرے ساتھ میری بہن شریک ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! لوگ کہتے ہیں کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں؟ آپ ﷺ نے پوچھا: ام سلمہ کی بیٹی سے؟! ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ میری ربیبہ نہ ہوتی (یعنی میری بیوی کی بیٹی نہ ہوتی) جب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔ مجھ کو اور ابوسلمہ، دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ چنانچہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو میرے سامنے نکاح کے لیے پیش نہ کرو۔ راوی حدیث عروہ کا بیان ہے کہ ثویبہ ابولہب کی لونڈی تھی۔ ابولہب نے اس کو آزاد کر دیا تھا۔ پھر اس نے آپ ﷺ کو دودھ پلایا تھا۔ جب ابولہب مر گیا تو اس کے کسی عزیز نے مرنے کے بعد اس کو خواب میں برے حال میں دیکھا، تو اس سے پوچھا کہ تم پر کیا گزری؟ وہ کہنے لگا: جب سے میں تم سے جدا ہوا ہوں، کبھی کوئی اچھائی نہیں ملی، سوائے اس کے کہ مجھے اس میں ثویبہ کو آزاد کرنے کے بدلے میں کچھ پانی پلا دیا جاتا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أم حبيبة بنت أبي سفيان هي إحدى أمهات المؤمنات -رضي الله عنهن- وكانت حظية وسعيدة بزواجها من رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وحُقَّ لها ذلك، فالتمست من النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يتزوج أختها.
فعجب -صلى الله عليه وسلم-، كيف سمحت أن ينكح ضرة لها، لما عند النساء من الغيرة الشديدة في ذلك، ولذا قال -مستفهمًا متعجبًا-: أو تحبين ذلك؟ فقالت: نعم أحب ذلك.
ثم شرحت له السبب الذي من أجله طابت نفسها بزواجه من أختها، وهو أنه لابد لها من مشارك فيه من النساء، ولن تنفرد به وحدها، فليكن المشارك لها في هذا الخير العظيم هو أختها.
وكأنها غير عالمة بتحريم الجمع بين الأختين، ولذا فإنه أخبرها -صلى الله عليه وسلم- أن أختها لا تحل له.
فأخبرته أنها حدثت أنه سيتزوج بنت أبي سلمة.
فاستفهم منها متثبتاً: تريدين بنت أم سلمة؟ قالت: نعم.
فقال مبينا كذب هذه الشائعة: إن بنت أم سلمة لا تحل لي لسببين.
أحدهما: أنها ربيبتي التي قمت على مصالحها في حجري، فهي بنت زوجتي.
والثاني: أنها بنت أخي من الرضاعة، فقد أرضعتني، وأباها أبا سلمة، ثويبة -وهي مولاة لأبي لهب- فأنا عمها أيضاً، فلا تعرضْنَ علي بناتِكن وأخواتكن، فأنا أدرى وأولى منكن بتدبير شأني في مثل هذا.
575;م حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا امہات المومنین رضی اللہ عنہن میں سے ہیں۔ وہ اس حوالے سے خوش قسمت اور نیک بخت تھیں کہ ان کی شادی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوئی تھی اور وہ اس سعادت کی سزاوار بھی تھیں۔ انہوں نے نبی ﷺ سے التماس کیا کہ آپ ﷺ ان کی بہن سے شادی کر لیں۔
نبی ﷺ کو اس پرحیرت ہوئی کہ انہوں نے کیسے اس بات کی اجازت دے دی کہ آپ ﷺ ان پر ایک سوکن کو بیاہ کر لے آئیں۔ کیوںکہ عورتیں تو اس معاملے میں بہت غیرت والی ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے تعجب بھرے انداز میں ان سے دریافت کیا کہ کیا تمہیں یہ پسند ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہاں مجھے پسند ہے۔
پھر ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے وہ سبب بیان کیا، جس کی وجہ سے انہیں یہ پسند تھا کہ آپ ﷺ کی شادی ان کی بہن سے ہو جائے۔ در اصل وہ جانتی تھی کہ آپ ﷺ کی ذات میں ان کے ساتھ عورتوں کا شریک رہنا ناگزیر ہے۔ وہ تنہا آپ ﷺ کی بیوی ہو نہیں سکتیں۔ تو پھر کیوں نہ اس خیر عظیم میں ان کی بہن ان کی شریک بن جائے؟
گویا انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ دو بہنوں کا ایک شخص کے نکاح میں ایک ساتھ رہنا جائز نہیں ہے۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ ان کی بہن آپ ﷺ کے لیے حلال نہیں ہے۔
پھر انہوں نے نبی ﷺ کو بتایا کہ انہیں خبر پہنچی ہے کہ آپ ﷺ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے شادی کر رہے ہیں!
آپ ﷺ نے اس افواہ کے جھوٹے پن کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ام سلمہ کی بیٹی سے نکاح دو وجوہات کی بنا پر ان کے لیے جائز نہیں ہے:
پہلی وجہ: یہ کہ وہ میری ربیبہ ہے۔ وہ میری پرورش میں ہے اور میں اس کے مصالح کا خیال رکھتا ہوں۔ وہ میری بیوی کی بیٹی ہے۔
دوسری وجہ: وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ مجھے اور اس کے والد یعنی ابو سلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا، جو ابو لہب کی آزاد کردہ باندی تھیں۔ چنانچہ میں اس کا چچا بھی ہوتا ہوں۔ اس لیے تم مجھ پر اپنی بیٹیاں اور بہنیں نکاح کے لیے پیش نہ کیا کرو۔ اس طرح کے امور میں مجھے کیا کرنا ہے، اسے میں تم سے زیادہ بہتر جانتا ہوں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6077

 
 
Hadith   1191   الحديث
الأهمية: ما بال أقوام قالوا كذا؟ لكني أصلي وأنام وأصوم وأفطر، وأتزوج النساء؛ فمن رغب عن سنتي فليس مني


Tema:

لوگوں کو کیا ہو گیا کہ وہ ایسے کہنے لگے ہیں؟ میں تو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، کبھی روزہ رکھتا ہوں اور کبھی نہیں رکھتا اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ جس نے میری سنت سے گریز کیا اس کا مجھ سےکوئی تعلق نہیں۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- أن نفرًا من أصحاب النبي -صلى الله عليه وسلم- سألوا أزواج النبي -صلى الله عليه وسلم- عن عمله في السر؟ فقال بعضهم: لا أتزوج النساء. وقال بعضهم: لا آكل اللحم. وقال بعضهم: لا أنام على فراش. فبلغ ذلك النبي -صلى الله عليه وسلم- فحمد الله وأثنى عليه، وقال: «ما بال أقوام قالوا كذا؟ لكني أصلي وأنام وأصوم وأفطر، وأتزوج النساء؛ فمن رغب عن سنتي فليس مني».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ نے نبی ﷺ کی ازواجِ مطہرات سے نبی ﷺ کی تنہائی میں معمول کے بارے میں پوچھا۔ (آپ ﷺ کی عبادت کا معمول سن کر) ان میں سے کسی نے کہا کہ میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا، کسی نے کہا کہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا اور کسی نے کہا کہ میں بستر پر نہیں سوؤں گا۔ نبی ﷺ تک جب یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ نے اللہ تعالی کے حمد و ثناء کے بعد فرمایا کہ کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا کہ وہ ایسے کہنے لگے ہیں؟ میں تو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، کبھی روزہ رکھتا ہوں اور کبھی نہیں رکھتا اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ جس نے میری سنت سے گریز کیا اس کا مجھ سےکوئی تعلق نہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بنيت هذه الشريعة السامية على السماح واليسر، وإرضاء النفوس بطيبات الحياة وملاذِّها المباحة، وعلى كراهية العنت والشدة والمشقة على النفس، وحرمانها من خيرات هذه الدنيا.
ولذا فإن نفرا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم حملهم حب الخير والرغبة فيه إلى أن يذهبوا فيسألوا عن عمل النبي -صلى الله عليه وسلم- في السر الذي لا يطلع عليه غير أزواجه فلما علموه استقلوه، وذلك من نشاطهم على الخير وَجَدهم فيه.
فقالوا : وأين نحن من رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، قد غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر ؟! فهو- في ظنهم- غير محتاج إلى الاجتهاد في العبادة.
فَهَمَّ بعضهم في ترك النساء، ليفرغ للعبادة، ومال بعضهم إلى ترك أكل اللحم، زهادةً في ملاذ الحياة، وصمم بعضهم على أنه سيقوم الليل كله، تَهَجُّدا أو عبادة.
فبلغت مقالتهم من هو أعظمهم تقوى، وأشدهم خشية، وأعرف منهم بالأحوال والشرائع -صلى الله عليه وسلم-.
فخطب الناس، وحمد الله، وجعل الوعظ والإرشاد عاما، جريًا على عادته الكريمة.
فأخبرهم أنه يعطى كل ذي حق حقه، فيعبد الله -تعالى-، ويتناول ملاذ الحياة المباحة، فهو ينام ويصلى، ويصوم ويفطر، ويتزوج النساء، فمن رغب عن سنته السامية، فليس من أتباعه، وإنما سلك سبيل المبتدعين.
575;س بلند پایہ شریعت کی بنیاد کشادگی وآسانی اور اس بات پر ہے کہ نفوس کو زندگی کی پاکیزہ اشیاء اور جائز لذات سے لطف اندوز ہونے کا موقع دے کر خوش رکھا جائے۔ اس بات کو ناپسند کیا گیا ہے کہ نفس کو خواہ مخواہ کی تنگی و سختی اور مشقت میں مبتلا کیا جائے اور اسے اس دنیا کی بھلائیوں سے محروم رکھا جائے۔
نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں کو نیکی کی محبت اور اس کی رغبت نے اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ نبی ﷺ کی ازواج کے پاس جا کر آپ ﷺ کی تنہائی کے عمل کے بارے میں دریافت کریں جنہیں ان کے علاوہ کوئی اور نہیں جان سکتا تھا۔ جب انہیں آپ ﷺ کے عمل کا علم ہوا تو انہوں نے اسے تھوڑا سمجھا کیونکہ نیکی کے معاملے میں ان میں بہت چستی اور محنت کا جذبہ پایا جاتا تھا۔
وہ کہنے لگے کہ ہماری رسول اللہ ﷺ کے سامنے کیا حیثیت۔ ان کی تو اللہ تعالی نے اگلی پچھلی سب خطائیں معاف کر رکھی ہیں۔ ان کے خیال میں آپ ﷺ کو بہت زیادہ عبادت کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
ان میں سے کسی نے یہ ارادہ کیا کہ وہ عورتوں کو چھوڑ دے گا تاکہ ہر طرف سے یکسو ہو کر عبادت کر سکے۔
کسی نے دنیاوی لذات سے کنارہ کش ہوتے ہوئے گوشت کھانے کو چھوڑ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔
کسی نے یہ عزم کیا کہ وہ ساری ساری رات تہجد اور عبادت میں گزار دیا کرے گا۔
ان کی یہ باتیں نبی ﷺ تک پہنچی جو تقوی میں ان سے بڑھ کر تھے اور خشیت بھی ان سے زیادہ رکھتے تھے اور آپ ﷺ کو حالات و شرعی امور کا بھی ان سے زیادہ علم تھا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا، اللہ تعالی کی حمد بیان کی اور عمومی انداز میں وعظ و ارشاد فرمایا جیسا کہ آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی۔
آپ ﷺ نے لوگوں کو بتایا کہ آپ ﷺ ہر حق دار کو اس کا حق دیتے ہیں۔آپ ﷺ اللہ کی بھی عبادت کرتے ہیں اور زندگی کی جائز لذات سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ آپ ﷺ سوتے بھی ہیں اور نماز بھی پڑھتے ہیں۔روزہ بھی رکھ لیتے ہیں اور نہیں بھی رکھتے۔ آپ ﷺ عورتوں سے نکاح کرتے ہیں۔ جس نے آپ ﷺ کی عظیم الشان سنت سے اعراض کیا وہ آپ ﷺ کے پیروکاروں میں سے نہیں ہے بلکہ وہ بدعتی لوگوں کے راستے پر گامزن ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6078

 
 
Hadith   1192   الحديث
الأهمية: من أسلف في شيء فليسلف في كيل معلوم، ووزن معلوم، إلى أجل معلوم


Tema:

جسے کسی چیز کی بیعِ سلم کرنی ہو وه اسے مقررہ پیمانے اور مقرره وزن اور متعينہ مدت تک کے لیے روک کر رکھے۔

عن عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما- قال: قدم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- المدينة، وهم يُسلفون في الثمار: السنة والسنتين والثلاث، فقال: «من أسلَفَ في شيء فليُسلف في كيل معلوم، ووزن معلوم، إلى أجل معلوم».

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ اہلِ مدینہ پھلوں میں ایک، دو اور تین سالوں کے لیے بیعِ سلف (بیع سلم) کرتے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: جسے کسی چیز کی بیع سلم کرنی ہو وه اسے مقررہ پیمانے اور مقرره وزن اور متعينہ مدت تک کے لیے روک کر رکھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قدم النبي -صلى الله عليه وسلم- للمدينة مهاجرًا من مكة كما هو معلوم، فوجد أهل المدينة -لأنهم أهل زروع وثمار- يسلفون، وذلك بأن يقدموا الثمن ويؤجلوا المثمن -المسلم فيه- من الثمار، مدة سنة، أو سنتين، أو ثلاث سنين، أو أقل أو أكثر لأن هذه المدد للتمثيل، فأقرهم -صلى الله عليه وسلم- على هذه المعاملة ولم يجعلها من باب بيع ما ليس عند البائع المفضي إلى الغرر؛ لأن السلف متعلق بالذمم لا الأعيان، ولكن بين -صلى الله عليه وسلم- لهم في المعاملة أحكاما تبعدهم عن المنازعات والمخاصمات التي ربما يجرها طول المدة في الأجل فقال: من أسلف في شيء فليضبط قدره بمكياله أو ميزانه المعلومين، وليربطه بأجل معلوم، حتى إذا عرف قدره وأجله انقطعت الخصومة والمشاجرة، واستوفى كل منهما حقه بسلام.
606;بی ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ مدینہ کے باشندے جو کھیتیوں اور باغات کے مالک تھے بیع سلم کیا کرتے تھے بایں طور کہ وہ قیمت کو پہلے ہی ادا کر دیا کرتے تھے اور پھلوں کی ادائگی کو ایک سال یا دو سال یا تین سال تک موخر رکھتے۔ نبی ﷺ نے انہیں اس معاملے کی اجازت دی اور اسے بیع کی اس قسم میں سے نہیں گردانا جس میں بائع ایسی شے فروخت کرتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی اور جو غرر تک لے جاتی ہے۔ کیونکی بیع سلم کا تعلق ذمہ کے ساتھ ہوتا ہے نہ کہ اشیاء کے ساتھ۔ تاہم نبی ﷺ نے اس معاملے کے کچھ احکامات کی وضاحت فرما دی جو لوگوں کو ان لڑائی جھگڑوں سے بچاتے ہیں جو بعض اوقات مدت کے لمبا ہونے کی وجہ سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جو کسی شے میں بیع سلم کرے اسے چاہئے کہ وہ شرعی طور پر معروف کیل اور وزن کے آلات کے ذریعے اس کی مقدار کا پوری طرح تعین کرے اور اسے ایک مقررہ مدت تک رکھے تاکہ اس کی مقدار اور مدت معلوم ہونے کی وجہ سے لڑائی جھگڑا کا احتمال نہ رہے اور خریدار اپنا حق پوری طرح سے وصول کر لے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6079

 
 
Hadith   1193   الحديث
الأهمية: قضى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بالعمرى لمن وهبت له


Tema:

نبی کریم ﷺ نے عمر بھر کے لیے ہبہ کئے گئے مکان کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ اسی کا ہے جس کے لئے وہ ہبہ کیا گیا ہے۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- قال: «قضى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بالعُمْرَى لمن وهبت له».
وفي لفظ: «من أُعمِر عمرى له ولعقبه؛ فإنها للذي أعطيها، لا ترجع إلى الذي أعطاها؛ لأنه أعطى عطاء وقعت فيه المواريث».
وقال جابر: «إنما العمرى التي أجازها رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، أن يقول: "هي لك ولعقبك"، فأما إذا قال: "هي لك ما عشت"؛ فإنها ترجع إلى صاحبها».
وفي لفظ لمسلم: «أمسكوا عليكم أموالكم ولا تفسدوها، فإنه من أُعمِر عمرى فهي للذي أُعمِرها حيًّا وميتًا ولعقبه».

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عمر بھر کے لیے ہبہ کیے گئے مکان کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ وہ اسی کا ہے جس کے لیے وہ ہبہ کیا گیا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ جس کو کوئی مکان عمر بھر کے لیے دیا گیا وہ اس کا ہے اور اس کی اولاد کا۔ بے شک وہ اسی کا ہے جس کے لیے وہ ہبہ کیا گیا وہ اس شخص کی طرف نہیں لوٹایا جائے گا جس نے وہ دیا ہے کیونکہ یہ ایسا عطیہ ہے جس میں موہوب لہ کا ورثہ جاری ہو چکا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بھر کے لیے دیا گیا مکان جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے اجازت دی کہ ہبہ کرنے والا انسان کسی سے کہہ دے کہ یہ چیز آپ کی اور آپ کی اگلی نسل کی ہوگئی ہے اور اگر یہ شخص یہ کہتا ہے یہ صرف آپ کی زندگی تک کے لیے ہے آپ کی ہوگئی تو وہ چیز مالک کے پاس لوٹ جائے گی۔
مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ (نبی ﷺ نے فرمایا) اپنے مال اپنے قبضے میں رکھو اسے ضائع نہ کرو، جس نے عمر بھر کے لیے مکان دے دیا وہ زندگی میں اسی کا ہے جسے وہ دیا گیا اور مرنے کے بعد اس کی اولاد کا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
العُمْرى ومثلها الرُّقْبى: نوعان من الهبة، كانوا يتعاطونهما في الجاهلية، فكان الرجل يعطى الرجل الدار أو غيرها بقوله: أعمرتك إياها أو أعطيتكها عمرك أو عمري.
فكانوا يرقبون موت الموهوب له، ليرجعوا في هبتهم.
فأقر الشرع الهبة، وأبطل الشرط المعتاد لها، وهو الرجوع، لأن العائد في هبته، كالكلب، يقيئ ثم يعود في قيئه، ولذا قضى النبي -صلى الله عليه وسلم- بالعمرى لمن وهبت له ولعقبه من بعده.
ونبههم -صلى الله عليه وسلم- إلى حفظ أموالهم بظنهم عدم لزوم هذا الشرط وإباحة الرجوع فيها فقال: "أمسكوا عليكم أموالكم ولا تفسدوها، فإنه من أعمر عمرى فهي للذي اعمِرَها، حياً وميتا، ولعقبها".

Esin Hadith Caption Urdu


”عُمرى“ اور اسی کی طرح ”رُقبى“ ہبہ کی دو قسمیں ہیں، زمانۂ جاہلیت میں لوگ اس طرح كا ہبہ کیا کرتے تھے، ایک شخص دوسرے کو گھر وغیرہ ان الفاظ میں دیتا جیسے ”میں نے وہ گھر تجھے عمر بھر کے لیے ہبہ کیا“ یا ”میں نے تمہاری عمر بھر یا اپنی عمر بھر میں وہ گھر آپ کو دے دیا“۔
لوگ موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا گیا ہے۔) کے مرنے کا انتظار کرتے، تاکہ وہ اپنا ہبہ واپس کردے۔
شریعت نے ہبہ کو برقرار رکھا اور اس کی مروّجہ شرط یعنی لوٹانے کو باطل قرار دیا۔ اس لیے کہ ہبہ کو واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے واپس نگلتا ہے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے عمر بھر کے ہبہ کا فیصلہ موہوب لہ اور اس کے بعد اس کے پسماندگان کے لیے کیا۔
آپ ﷺ نے لوگوں کو اپنے اموال کی حفاظت کرنے کی تنبیہ فرمائی تاکہ لوگ اپنے گمان میں اس شرط کو لازم قرار نہ دیں اور اس چیز کو واپس لینے کو جائز جانیں۔ چنانچہ فرمایا ”اپنے مال اپنے قبضے میں رکھو اسے ضائع نہ کرو، جس نے عمر بھر کے لیے مکان دے دیا وہ زندگی میں اسی کا رہے گا جسے وہ دیا گیا ہو اور مرنے کے بعد اس کی اولاد کا ہوجائے گا“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6080

 
 
Hadith   1194   الحديث
الأهمية: قضى النبي -صلى الله عليه وسلم- بالشفعة في كل ما لم يقسم، فإذا وقعت الحدود، وصرفت الطرق، فلا شفعة


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے ہر اس چیز میں شُفعہ کا فیصلہ فرمایا تھا جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو۔ لیکن جب حدود مقرر ہو گئیں اور راستے بدل دیے گئے تو پھر حقِ شفعہ باقی نہیں رہتا۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- قال: (جعل وفي لفظ: قضى) النبي -صلى الله عليه وسلم- بالشُّفْعة في كل ما لم يقسم، فإذا وقعت الحدود، وصُرِّفَتِ الطرق؛ فلا شفعة).

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر اس چیز میں شفعہ کا حق دیا تھا (ایک روایت کے میں فیصلہ فرمایا تھا) جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو۔ لیکن جب حدود مقرر ہو گئیں اور راستے بدل دیے گئے تو پھر حق شفعہ باقی نہیں رہا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذه الشريعة الحكيمة جاءت لإحقاق الحق والعدل ودفع الشر والضر، ولهذا فإنه لما كانت الشركة في العقارات يكثر ضررها ويمتد شررها وتشق القسمة فيها، أثبت الشارع الحكيم الشفعة للشريك.
بمعنى أنه إذا باع أحد الشريكين نصيبه من العقار المشترك بينهما، فللشريك الذي لم يبع أخذ النصيب من المشترى بمثل ثمنه، دفعاً لضرره بالشراكة.
هذا الحق، ثابت للشريك ما لم يكن العقار المشترك قد قسم وعرفت حدوده وصرفت طرقه.
أما بعد معرفة الحدود وتميزها بين النصيبين، وبعد تصريف شوارعها فلا شفعة، لزوال ضرر الشراكة والاختلاط الذي ثبت من أجله استحقاق انتزاع المبيع من المشتري.
740;ہ حکیمانہ شریعت حق و عدالت کو ثابت کرنے اور شر اور نقصان کو دور کرنے کے لیے آئی ہے۔ اسی وجہ سے جب زمینوں میں شراکت ضرر کا باعث بنے اور شراکت کا نقصان طول پکڑے اور تقسیم گراں گزرے، تو صاحبِ شریعت حکمت والی ذات (اللہ) نے حصے دار کو شفعہ کرنے کا حکم دیا۔ یعنی جب ایک شریک مشترک زمین میں سے اپنا حصہ بیچے، تو شریعت شراکت کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو دور کرنے کے لیے دوسرے شریک کو خریدار سے قیمت کے بدلے اس کا حصہ لینے کا حق دیتی ہے۔
یہ حق شریک کو اس وقت تک رہتا ہے جب تک زمین تقسیم نہ ہو، اس کی حدبندی نہ ہو اور اس کے راستے نہ بنے۔
حدبندی اور دوسروں کے حصوں میں تمییز اور راستے بننے کے بعد کوئی شفعہ نہیں۔ کیونکہ اب شراکت کی وجہ سے وہ نقصان ختم ہو گیا جس کی وجہ دوسرے شریک کو خریدار سے مبیع (بیچی جانے والی شے) لینے کا حق تھا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6081

 
 
Hadith   1195   الحديث
الأهمية: اقرأ: قل هو الله أحد، والمُعَوِّذَتَيْنِ حين تمسي وحين تصبح، ثلاث مرات تكفيك من كل شيء


Tema:

صبح و شام تین تین بار قل هو الله أحد اور معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) پڑھا کرو۔ ایسا کرنا تمہارے لیے ہر چیز سے کافی ہو جائے گا۔

عن عبد الله بن خُبَيْب -رضي الله عنه- قال: قال لي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «اقرأ: قل هو الله أحد، والمُعَوِّذَتَيْنِ حين تمسي وحين تصبح، ثلاث مرات تكفيك من كل شيء».

عبد اللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”صبح و شام تین تین بار قل هو الله أحد اور معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) پڑھا کرو۔ ایسا کرنا تمہارے لیے ہر چیز سے کافی ہو جائے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء هذا الحديث بهذا التوجيه النبوي الفريد، والذي يحث المسلم على الاعتصام بذكر الله -تعالى-، فمن حفظ الله -تعالى- حفظه الله ، فهنا يرشد النبي -صلى الله عليه وسلم- عبد الله بن خبيب -رضي الله عنه- وأمته كلها من خلفه أن من حافظ على قراءة سورة الإخلاص والمعوذتين ثلاث مرات حين يصبح وحين يمسي فإن الله -تعالى- يكفيه كل شيء، وفي هذا الحديث فضيلة عظيمة، ومنقبة جليلة لكل مؤمن يسعى لتحصين نفسه من سائر الشرور والمؤذيات، وقد تضمن هذا الحديث الكلام على ثلاث سور عظيمة، وهي:
أ‌- سورة الإخلاص {قل هو الله أحد} التي أخلصها الله -تعالى- لنفسه فلم يذكر فيها شيئا إلا يتعلق بنفسه -جل وعلا- كلها مخلصة لله -عز وجل- ثم الذي يقرأها يكمل إخلاصه لله -تعالى- فهي مُخْلَصة ومُخَلِّصة، تخلص قارئها من الشرك، وقد بين النبي -صلى الله عليه وسلم- أنها تعدل ثلث القرآن ولكنها لا تجزئ عنه.
ب- سورة الفلق، وقد تضمنت الاستعاذة من شر ما خلق الله -تعالى-، والاستعاذة من شر الليل وما حوى من المؤذيات، ومن شر السحرة والحسد، فجمعت أغلب ما يستعيذ منه المسلم ويحذره.
ج- سورة الناس، وقد استوعبت أقسام التوحيد {رب الناس} توحيد الربوبية {ملك الناس} الأسماء والصفات؛ لأن الملك لا يستحق أن يكون ملكا إلا بتمام أسمائه وصفاته {إله الناس} الألوهية {من شر الوسواس الخناس الذي يوسوس في صدور الناس من الجنة والناس} فختمت بالاستعاذة من شر وساوس الشيطان.
575;س حدیث میں یہ منفرد نبوی رہنمائی ہے جو مسلمان کو اللہ تعالی کے ذکر میں لگے رہنے کی ترغیب دیتی ہے۔ جو شخص اللہ (کے اوامر و نواہی) کی حفاظت کرتا ہے تو اللہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔ نبی ﷺ اس حدیث میں عبد اللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ اور آپ ﷺ کے بعد آنے والی پوری امت کی اس جانب رہنمائی فرما رہے ہیں کہ جو شخص پابندی کے ساتھ صبح شام تین تین بار سورہ اخلاص اور معوذتین پڑھتا ہے تو ہر چیز میں اللہ تعالی اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ اس حدیث میں ہر اس مومن کے لیے ایک بہت بڑی فضیلت و منقبت کا بیان ہے جو اپنے آپ کو ہر قسم کی برائیوں اور اذیت دہ امور سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس حدیث میں تین عظیم سورتوں کا بیان ہے جو کہ یہ ہیں:
ا۔ سورہ اخلاص (قل هو الله أحد): یعنی وہ سورت جسے اللہ تعالی نے خالصتا اپنے لیے خاص کیا ہے اور اس میں صرف وہی اشیاء ذکر کی ہیں جن کا تعلق اس کی ذات پاک کے ساتھ ہے۔ یہ سب خالصتاً اللہ عز وجل کے لیے ہیں۔ جو شخص اس سورت کو پڑھتا ہے وہ اللہ کے لیے اپنے اخلاص کو کامل کر دیتا ہے۔ یہ سورت خالص بھی ہے اور مخلص (نجات دینے والی اور خالص بنانے والی) بھی بایں طور کہ یہ اپنے پڑھنے والے کو شرک سے نجات دیتی ہے۔ نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ یہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے تاہم یہ بات نہیں کہ اس کی وجہ سے بقیہ قرآن کی ضرورت نہیں رہتی۔
ب۔ سورۃ الفلق: اس میں ہر اس چیز سے پناہ طلب کی گئی ہے جسے اللہ تعالی نے پیدا فرمایا ہے اور اسی طرح رات اور اس میں موجود تکلیف دہ چیزوں اور جادو گروں اور حسد کے شر سے بھی پناہ مانگی گئی ہے۔ چنانچہ اس میں وہ اکثر امور موجود ہیں جن سے مسلمان پناہ مانگتا ہے اور ان سے بچتا ہے۔
ج۔ سورۃ الناس: اس میں توحید کی جملہ اقسام موجود ہیں۔ رب الناس میں توحید ربوبیت ہے، ملک الناس میں توحید اسماء و صفات ہے کیونکہ مالک اپنے تمام اسماء و صفات کے ساتھ ہی مالک ہوا کرتا ہے۔ إلٰہِ الناس میں توحید الوہیت کا ذکر ہے۔ {من شر الوسواس الخناس الذي يوسوس في صدور الناس من الجنة والناس}۔ سورت کا اختتام شیطان کے وسوسوں کی بُرائی سے پناہ مانگنے کے ساتھ ہوا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6082

 
 
Hadith   1196   الحديث
الأهمية: كنا أكثر الأنصار حقلا، وكنا نكري الأرض، على أن لنا هذه، ولهم هذه، فربما أخرجت هذه، ولم تخرج هذه فنهانا عن ذلك، فأما بالورق: فلم ينهنا


Tema:

انصار میں سب سے زیادہ کھیت ہمارے تھے۔ ہم اس شرط پر زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے کہ اِن کھیتوں کی پیداوار ہماری اور اُن کھیتوں کی پیداوار اُن کی (بٹائی پر لینے والوں کی)۔ بعض اوقات ایسا ہوتا کہ یہ زمین تو پیداوار دے دیتی، لیکن اس زمین سے کچھ بھی پیداوار نہ ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسا کرنے سے منع فرما دیا۔ تاہم آپ ﷺ نے چاندی (دراہم) کے عوض میں (زمین بٹائی پر دینے سے) منع نہیں فرمایا۔

عن رافع بن خديج -رضي الله عنه- قال: «كنا أكثر الأنصار حقلًا، وكنا نكري الأرض، على أن لنا هذه، ولهم هذه، فربما أخرجت هذه، ولم تخرج هذه فنهانا عن ذلك، فأما بالورق: فلم ينهنا».

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ انصار میں سب سے زیادہ کھیت ہمارے تھے۔ ہم اس شرط پر زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے کہ ان کھیتوں کی پیداوار ہماری اور اُن کھیتوں کی پیداوار اُن کی (بٹائی پر لینے والوں کی)۔ بعض اوقات ایسا ہوتا کہ یہ زمین تو پیداوار دے دیتی، لیکن اس زمین سے کچھ بھی پیداوار نہ ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسا کرنے سے منع فرما دیا۔ تاہم آپ ﷺ نے چاندی (دراہم) کے عوض میں (زمین بٹائی پر دینے سے) منع نہیں فرمایا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث بيان وتفصيل للمزارعة الصحيحة والفاسدة، فقد ذكر رافع بن خديج أن أهله كانوا أكثر أهل المدينة مزارع وبساتين.
فكانوا يزارعون بطريقة جاهليةً، فيعطون الأرض لتزرع، على أن لهم من الزرع ما يخرج في جانب من الأرض، وللمزارع الجانب الآخر، فربما جاء هذا وتلف ذاك.
فنهاهم النبي -صلى الله عليه وسلم- عن هذه المعاملة، لما فيها من الغرر والجهالة، فلابد من العلم بالعوض، كما لابد من التساوي في المغنم والمغرم.
فإن كان المقابل جزءًا من الخارج من الأرض فهي مزارعة أو مساقاة، مبناها العدل والتساوي في غنْمِهَا وغُرْمِهَا، بأن يكون لكل واحد نسبة معلومة من الربع أو النصف ونحو ذلك.
وإن كانت بعوض، فهي إجارة لابد فيها من العلم بالعوض.
وهى جائزة سواء أكانت بالذهب والفضة، وهذه إجارة، أم كانت بما يخرج من الأرض، وهذه مزارعة؛ لعموم الحديث: [أما شيء معلوم مضمون، فلا بأس به].
581;دیث میں زمین بٹائی پر دینے کی صحیح اور غلط صورتوں کی تفصیل ہے۔ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مدینے کے باشندوں میں سب سے زیادہ کھیت اور باغات ان کے خاندان کے تھے۔
وہ زمانۂ جاہلیت سے رائج طریقے پر زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے۔ وہ کاشت کاری کی غرض سے اس شرط پر زمین دیا کرتے تھے کہ زمین کے ایک طرف کے حصے سے حاصل ہونے والی پیداوار ان کی ہوگی اور دوسری طرف سے حاصل ہونے والی پیدوار کاشت کار کی ہو گی۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ زمین کے اس حصے سے تو پیداوار ہو جاتی، جب کہ دوسرے حصے کی پیداوار تلف ہو جاتی۔
نبی ﷺ نے انھیں اس انداز میں معاملہ کرنے سے منع فرما دیا؛ کیوں کہ اس میں دھوکہ اور جہالت (عدم صراحت) ہے۔ عوض کا علم ہونا بہت ضروری ہے اور اسی طرح نفع اور نقصان کے مابین بھی برابری ہونی چاہیے۔
اگر زمین کی پیداوار کے ایک حصے کے بدلے میں اسے بٹائی پر دیا جائے، تو اس قسم کے معاملے کو مزارعت یا مساقات کہا جاتا ہے۔ یہ انصاف اور نفع و نقصان میں برابری کی بنیاد پر مبنی معاملہ ہونا چاہیے، بایں طور کہ ہر ایک کو پیداوار کی ایک مخصوص شرح ملے۔ یعنی چوتھائی یا نصف وغیرہ۔
اگرزمین کسی عوض کے بدلے میں بٹائی پر دی جائے، تو اسے اجارہ کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے معاملے میں عوض کا معلوم ہونا ضروری ہوا کرتا ہے۔
یہ جائز ہے؛ چاہے سونے یا چاندی کے بدلے ہو، جسے اجارہ کہا جاتا ہے۔ یا زمین کی پیداوار کے عوض میں، جسے مزارعت کہا جاتا ہے؛ کیوں کہ حدیث کا عموم اسی کا تقاضا کرتا ہے (شے معلوم اور یقینی ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں)۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6083

 
 
Hadith   1197   الحديث
الأهمية: كنا نعزل والقرآن ينزل، قال سفيان: لو كان شيئا ينهى عنه؛ لنهانا عنه القرآن


Tema:

ہم نزولِ قرآن کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں کہ اگر یہ کوئی قابل ممانعت بات ہوتی تو قرآن ہمیں اس سے منع کر دیتا۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- قال: "كنا نعزل والقرآن ينزل".
قال سفيان: لو كان شيئا ينهى عنه؛ لنهانا عنه القرآن.

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”ہم نزول قرآن کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے“۔
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر یہ کوئی قابلِ ممانعت بات ہوتی تو قرآن ہمیں اس سے منع کر دیتا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما-: أنهم كانوا يعزلون من نسائهم وإمائهم على عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، ويقرهم على ذلك، ولو لم يكن مباحا ما أقرهم عليه.
فكأنه قيل له: لعله لم يبلغه صنيعكم؟
فقال: إذا كان لم يبلغه فإن الله -تبارك وتعالى- يعلمه، والقرآن ينزل، ولو كان مما ينهى عنه، لنَهى عنه القرَان، ولما أقرنا عليه المشرع.
توفيق بين النصوص:
حديث جابر يدل على جواز العزل ولكن وردت أحاديث أخرى يفهم منها عدم جواز العزل، مثل ما رواه مسلم عن جُذَامة بنت وهب قالت: حضرت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في أناس، فسألوه عن العزل فقال: "ذلك الوأد الخفي"، فكيف يمكن التوفيق بين هذه النصوص؟
الجواب عن ذلك:
 الأصل الإباحة كما في حديث جابر وأبي سعيد، -رضي الله عنهما-، وحديث جذامة يحمل على ما إذا أراد بالعزل التحرز عن الولد، ويدل له قوله: "ذلك الوأد الخفي"، أو يكون العزل مكروهًا لا محرمًا.
580;ابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ وہ لوگ اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے دور میں عزل کیا کرتے تھے اور آپ ﷺ انہیں اس سے منع نہیں فرمایا کرتے تھے۔ اگر ایسا کرنا جائز نہ ہوتا تو آپ ﷺ انہیں ایسا نہ کرنے دیتے۔
گویا کہ ان سے کہا گیا کہ ہو سکتا ہے کہ آپ لوگوں کے اس عمل کی خبر آپ ﷺ تک نہ پہنچی ہو؟ (اس وجہ سے آپ ﷺ نے اس سے منع نہ کیا ہو۔)
اس پر انہوں نے کہا کہ: اگر نبی ﷺ تک اس بات کی خبر نہیں پہنچی تو اللہ تبارک و تعالی تو اسے جانتا تھا۔ قرآن بھی نازل ہو رہا تھا۔ اگر یہ کوئی ممنوع عمل ہوتا تو قرآن اس سے منع کر دیتا اور اللہ تعالی ہمیں اس عمل کو جاری نہ رکھنے دیتا۔
نصوص کے مابین باہم موافقت کا طریقہ کار:
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث عزل کے جائز ہونے پر دلالت کرتی ہے تاہم ایسی احادیث بھی آئی ہیں جن سے عزل کے عدم جواز کا علم ہوتا ہے۔ مثلا صحیح مسلم میں جذامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں موجود تھیں۔ لوگوں نے آپ ﷺ سے عزل کے حکم کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو پوشیدہ طور پر زندہ گاڑ دینا ہے۔ ان (بظاہر متعارض) نصوص کے مابین مطابقت کیسے پیدا کی جائے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اصل تو یہی ہے کہ عزل کی اجازت ہے جیسا کہ جابر اور ابو سعید رضی اللہ عنہما سے مروی احادیث میں آیا ہے۔جب کہ جذامہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث کو اس صورت پر محمول کیا جائے گا جب عزل سے مقصد بچوں سے احتراز ہو۔ اسی معنی پر آپ ﷺ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے کہ ”یہ تو پوشیدہ طورپر زندہ گاڑنا ہے“۔
یا پھر یہ کہا جائے گا کہ عزل کرنا مکروہ ہے نہ کہ حرام ۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6084

 
 
Hadith   1198   الحديث
الأهمية: لا تحد امرأة على الميت فوق ثلاث، إلا على زوج: أربعة أشهر وعشرا، ولا تلبس ثوبا مصبوغا إلا ثوب عصب، ولا تكتحل، ولا تمس طيبا إلا إذا طهرت: نبذة من قسط أو أظفار


Tema:

کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوائے اپنے شوہر کے مرنے پر کہ اس پر چار مہینے دس دن تک سوگ کرے اور (ان ایام یعنی زمانہ عدت میں) عصب کے علاوہ نہ تو کوئی رنگین کپڑا پہنے، نہ سرمہ ڈالے اور نہ خوشبو لگائے۔ البتہ حیض سے پاک ہوتے وقت تھوڑا سا قسط یا اظفار استعمال کرے تو قباحت نہیں۔

عن أم عطية -رضي الله عنها- مرفوعاً: «لا تُحِدُّ امرأة على الميت فوق ثلاث، إلا على زوج: أربعة أشهر وعشرًا، ولا تلبس ثوبًا مَصْبُوغا إلا ثوب عَصْبٍ، ولا تكتحل، ولا تَمَسُّ طيبًا إلا إذا طهرت: نبُذة من قُسط أو أظْفَار».

ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوائے اپنے شوہر کے مرنے پر کہ اس پر چار مہینے دس دن تک سوگ کرے اور (ان ایام یعنی زمانۂ عدت میں) عصب کے علاوہ نہ تو کوئی رنگین کپڑا پہنے، نہ سرمہ ڈالے اور نہ خوشبو لگائے۔ البتہ حیض سے پاک ہوتے وقت تھوڑی سی عود ہندی یا مشک استعمال کرے تو کوئی قباحت نہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- المرأة أن تُحِدَّ على ميت فوق ثلاث لأن الثلاث كافية للقيام بحق القريب والتفريج عن النفس الحزينة، ما لم يكن الميت زوجها، فلا بد من الإحداد عليه أربعة أشهر وعشراً، قياما بحقه الكبير، وتصوُّنا في أيام عدته.
والإحداد هو ترك الزينة من الطيب والكحل والحلي والثياب الجميلة، على المرأة المتوفى عنها زوجها أو قريبها، فلا تستعمل شيئًا من ذلك، لكن لا يجب الإحداد إلا على الزوج، أما غير الزوج فلها أن تحد عليه ثلاثة أيام إن شاءت.
أما لبس المحدة الثياب المصبوغة لغير الزينة، فلا بأس بها من أي لون كان.
وكذلك تجعل في فرجها إذا طهرت قطعة يسيرة من الأشياء المزيلة للرائحة الكريهة، وليست طيبا مقصوداً في هذا الموضع الذي ليس محلًّا للزينة.
575;س حدیث میں نبی ﷺ نے عورت کو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع فرمایا کیونکہ تین دن قریبی رشتہ دار کے حق کی ادائیگی اورغم زدہ دل کے غم کو دور کرنے کے لیے کافی ہیں جب کہ مرنے والا اس کا شوہر نہ ہو۔ البتہ شوہر کی وفات پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرنا ضروری ہے تا کہ اس کا اس پر جو بہت بڑا حق ہے اسے پورا کر سکے اور اس کی عدت کے ایام میں اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکے۔
”اِحداد“ کا معنی ہے عورت جس کا خاوند یا کوئی قریبی رشتہ دار فوت ہو گیا ہو اس کا زینت جیسے خوشبو، سرمہ اور خوبصورت کپڑوں کے استعمال کو چھوڑ دینا۔ چنانچہ وہ ان میں سے کوئی بھی شے استعمال نہیں کرے گی۔ تاہم سوگ کی فرضیت صرف شوہر کی وفات پر ہے۔ شوہر کے علاوہ کسی اور پر وہ اگر چاہے تو تین دن سوگ منا سکتی ہے۔ سوگ کرنے والی عورت کی نیت اگر زینت نہ ہو تو پھر وہ رنگ دار کپڑے پہن سکتی ہے۔ اس صورت میں ایسے کپڑے پہننے میں کوئی حرج نہیں چاہے ان کا رنگ کوئی بھی ہو۔ اسی طرح وہ اپنی شرم گاہ میں حیض سے پاک ہونے پر ایسی اشیاء میں سے کسی شے کا چھوٹا سا ٹکڑا رکھ سکتی ہے جو بدبو کو زائل کرتی ہیں۔ اس جگہ پر جو کہ زینت کا محل نہیں ہے خوشبو بذات خود مقصود نہیں (بلکہ اس کا مقصد بدبو کو زائل کرنا ہے۔)

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6086

 
 
Hadith   1199   الحديث
الأهمية: لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا مثلا بمثل، ولا تشفوا بعضها على بعض، ولا تبيعوا الورق بالورق إلا مثلا بمثل، ولا تشفوا بعضها على بعض، ولا تبيعوا منها غائبا بناجز


Tema:

سونا سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، اور ان میں سے ایک کا دوسرے پر اضافہ نہ کرو، اور چاندی کے بدلے چاندی مت بیچو مگر برابر برابر اور ان میں سے کسی کو نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو۔

عن أبي سعيد الخدري- رضي الله عنه- مرفوعاً: «لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا مثِلْاً بمثل، ولا تُشِفُّوا بعضها على بعض، ولا تبيعوا الوَرِقَ بالوَرِقِ إلا مثلا بمثل، ولا تُشفوا بعضها على بعض، ولا تبيعوا منها غائبا بناجز».
وفي لفظ «إلا يدا بيد».
وفي لفظ «إلا وزنا بوزن، مثلا بمثل، سواء بسواء».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، نہ ہی ان میں سے ایک کا دوسرے پر اضافہ نہ کرو اور چاندی کے بدلے چاندی مت بیچو مگر برابر برابر نیز ان میں سے کسی کو نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو“۔
دوسری روایت کے الفاظ ہیں: ہاتھ در ہاتھ (نقد ہی بیچو)۔
اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: ہم وزن، ہم مثل اور برابر برابر۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث الشريف ينهى النبي -صلى الله عليه وسلم- عن الربا بنوعيه: الفضل، والنسيئة.
فهو ينهى عن بيع الذهب بالذهب، سواء أكانا مضروبين، أم غير مضروبين، إلا إذا تماثلا وزناً بوزنْ، وأن يحصل التقابض فيهما، في مجلس العقد، إذ لا يجوز بيع أحدهما حاضراً، والآخر غائبا.
كما نهى عن بيع الفضة بالفضة، سواء أكانت مضروبة أم غير مضروبة، إلا أن تكون متماثلة وزناً بوزن، وأن يتقابضا بمجلس العقد.
فلا يجوز زيادة أحدهما عن الآخر، ولا التفرُّق قبل التقابض.
575;س حدیث میں آپ ﷺ نے سود کی دو قسموں یعنی فضل اور نسیئہ دونوں کو حرام قرار دیا ہے۔
چنانچہ آپ ﷺ نے سونے کو سونے کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، خواہ وہ ڈھلے ہوئے ہوں یا نہ ہوں، تاہم جب دونوں طرف سے وزن برابر ہو اور مجلسِ عقد ہی میں قبضہ ہو، تو بیچ سکتے ہیں۔ اس لیے کہ ایک کو نقد اور دوسرے کو ادھار بیچنا جائز نہیں۔
اسی طرح آپ نے چاندی کو چاندی کے بدلے بیچنے سے بھی منع فرمایا، خواہ چاندی ڈھلی ہوئی ہو یا نہ ہو۔ تاہم اگر دونوں طرف سے چاندی برابر ہو اور مجلسِ عقد میں دونوں چیزوں پر قبضہ ہو جائے تو جائز ہے۔ ایک طرف سے زیادتی جائز نہیں اور نہ ہی قبضے سے پہلے فریقین کا جُدا ہونا جائز ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6087

 
 
Hadith   1200   الحديث
الأهمية: لا تنكح الأيم حتى تستأمر، ولا تنكح البكر حتى تستأذن، قالوا: يا رسول الله، فكيف إذنها قال: أن تسكت


Tema:

بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے امر (حکم) حاصل نہ کرلیا جائے۔ اور کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے اجازت نہ لے لی جائے۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ: اے اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی اجازت یہ ہے کہ وہ (اجازت طلب کرنے پر) خاموش رہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «لا تنُكْحَ ُالأيُّم حتى تُستأمر، ولا تنكح البكر حتى تُستَأذن، قالوا: يا رسول الله، فكيف إذنها قال: أن تسكت».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے امر (حکم) حاصل نہ کرلیا جائے۔ اور کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے اجازت نہ لے لی جائے۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ: اے اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی اجازت یہ ہے کہ وہ (اجازت طلب کرنے پر) خاموشی اختیار کرے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عقد النكاح عقد خطير، يستبيح به الزوج أشد ما تحافظ عليه المرأة، هو: بضعها، وتكون بهذا العقد أسيرة عند زوجها، لهذا جعل لها الشارع العادل الرحيم الحكيم أن تختار شريك حياتها، وأن تصطفيه بنظرها، فهي التي تريد أن تعاشره، وهى أعلم بميولها ورغبتها.
فلهذا نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- أن تزوج الثيب حتى يؤخذ أمرها فتأمر.
كما نهى عن تزويج البكر حتى تستأذن في ذلك أيضا فتأذن.
ولأنه يغلب الحياء على البكر اكتفى منها بما هو أخف من الأمر، وهو الإذن، كما اكتفى بسكوتها، دليلا على رضاها.
593;قد نکاح کی بہت زیادہ اہمیت ہے جس کی وجہ سے شوہر کے لئے وہ شے حلال ہو جاتی ہے جس کی عورت سب سے زیادہ حفاظت کرتی ہے یعنی اس کی شرم گاہ۔ اس عقد کی وجہ سے وہ اپنے شوہر کی قید میں چلی جاتی ہے۔ اس لئے اس عادل و رحیم اور حکیم شارع نے اجازت دی ہے کہ وہ اپنے شریک حیات کو دیکھ کر اس کا انتخاب کرے کیونکہ اس کے ساتھ اسی کو زندگی گزارنی ہے اور وہ اپنی رغبتوں اور خواہشات کو زیادہ اچھے انداز میں جانتی ہے۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے ثیبہ عورت کا صریح انداز میں حکم دیے بنا اس کا نکاح کرنے سے منع کیا ہے۔ اسی طرح کنواری لڑکی سے متعلق بھی منع فرمایا کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح کیا جائے۔ چونکہ کنواری لڑکی پر حیا غالب ہوتی ہے اس وجہ سے اس کے سلسلے میں اس کے کہنے سے کم تر چیز کافی ہے یعنی اس کی اجازت اور اس سلسلے میں بھی اس کی خاموشی کافی ہے جو اس کی رضا کی دلیل ہوتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6088

 
 
Hadith   1201   الحديث
الأهمية: أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تذوقي عسيلته، ويذوق عسيلتك


Tema:

کیا تم رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہو؟ نہیں، تم اس وقت تک اس کے پاس نہیں جاسکتی، جب تک تم اس کا مزہ نہ چکھ لو اور وہ تمھارا مزہ نہ چکھ لے۔

عن عائشة- رضي الله عنها- مرفوعاً: «جاءت امرأة رفاعة القرظي إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فقالت: كنت عند رفاعة القرظي فطلقني فَبَتَّ طلاقي، فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزَّبير، وإنما معه مثل هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فتبسم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وقال: أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تَذُوقي عُسَيْلَتَهُ، ويذوق عُسَيْلَتَكِ، قالت: وأبو بكر عنده، وخالد بن سعيد بالباب ينتظر أن يؤذن له، فنادى: يا أبا بكر، ألا تسمع إلى هذه: ما تَجْهَرُ به عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم-».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس رفاعہ القرظی کی بیوی آئی اور کہا: میں رفاعہ قرظی کے حرم میں تھی، اس نے مجھے طلاق دی اور طلاقِ بتّہ دی، اس کے بعد میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کی۔ لیکن ان کے پاس تو (شرم گاہ) اس کپڑے کی گانٹھ کی طرح ہے۔ آپ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: کیا تم رفاعہ کے ہاں واپس جانا چاہتی ہو؟ ایسا نہیں ہو سکتا، جب تک تم اس (عبد الرحمن) کا مزا نہ چکھ لو اور وہ تمھارا مزا نہ چکھ لے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس تھے اور خالد بن سعید دروازے پر اپنے لیے اجازت ملنے کا انتظار کر رہے تھے۔ تو انھوں نے (ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے)کہا: ابوبکر! آپ سن رہے ہیں نا جو یہ زور زور سے رسول اللہ ﷺ سے کہہ رہی ہے؟

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاءت امرأة رفاعة القرظي شاكية حالها إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فأخبرته أنها كانت زوجاً لرفاعة، فبتَّ طلاقها بالتطليقة الأخيرة، وهي الثالثة من طلقاتها، وأنها تزوجت بعده عبد الرحمن بن الزَّبِير، فادعت أنه لم يستطع أن يمسها لأن ذكرَه ضعيف رِخْو، لا ينتشر.
فتبسم النبي صلى الله عليه وسلم من جهرها وتصريحها بهذا الذي تستحي منه النساء عادة، وفهم أن مرادها، الحكم لها بالرجوع إلِى زوجها الأول رفاعة. حيث ظنت أنها بعقد النكاح من عبد الرحمن قد حلت له.
ولكن النبي صلى الله عليه وسلم أبى عليها ذلك، وأخبرها بأنه لابد لحل رجوعها إلى رفاعة من أن يطأها زوجها الأخير.
وكان عند النبي صلى الله عليه وسلم أبو بكر، وخالد بن سعيد، بالباب ينتظر الإذن بالدخول فنادى خالد أبا بكر، متذمرا من هذه المرأة التي تجهر بمثل هذا الكلام عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، كل هذا، لما له في صدورهم من الهيبة والإجلال له صلى الله عليه وسلم ورضي اللَه عنهم وأرضاهم، ورزقنا الأدب معه، والاتباع له.
585;فاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی آپ ﷺ کے پاس اپنی حالت کی شکایت لے کر آئی اور کہا کہ میں رفاعہ کے حرم میں تھی۔ اس نے مجھے آخری طلاق یعنی طلاقِ بتّہ دے دی، یہ ان کی تیسری طلاق تھی۔ اس کے بعد انھوں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کی، لیکن وہ ان کا حق ادا نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے کہ ان کا آلۂ تناسل کمزور لٹکا ہوا تھا اور اس میں تناؤ نہیں تھا۔ آپ ﷺ ان کی اونچی آواز سے گفتگو کرنے اور ایک ایسے مسئلے کی صراحت کرنے پر مسکر اٹھے، جسے بیان کرنے سے عام طور پر عورتیں شرماتی ہیں۔ آپ ﷺ ان کا ارادہ سمجھ گئے۔ یعنی وہ اپنے پہلے شوہر رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی تھیں۔ ان کے خیال میں عبدالرحمٰن کے ساتھ نکاح کرنے سے یہ رفاعہ کے لئے حلال ہو چکی ہیں۔ لیکن آپ ﷺ نے ان کی بات کا انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ رفاعہ کے لیے حلال ہونے کے لیے دوسرے شوہر کے ساتھ جماع کرنا ضروری ہے۔ آپ ﷺ کے پاس ابو بکر رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے اور خالد بن سعید دروازے پر کھڑے اجازت ملنے کا انتظار کر رہے تھے۔ خالد رضی اللہ عنہ نے اس عورت پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے، جو اس طرح کی گفتگو رسول اللہ ﷺ کے پاس کر رہی تھی، ابو بکر رضی اللہ عنہ کو آواز دی۔ یہ اس لیے کہ ان کے دلوں میں آپ ﷺ کا رعب اور جلال تھا۔ اللہ ان سے راضی ہو اور انھیں اپنے سے راضی کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی آپ ﷺ کے آداب کی رعایت اور اتباع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6089

 
 
Hadith   1202   الحديث
الأهمية: لا يجمع بين المرأة وعمتها، ولا بين المرأة وخالتها


Tema:

کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «لا يجُمَعُ بين المرأة وعمتها، ولا بين المرأة وخالتها».

ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاءت هذه الشريعة المطهرة بكل ما فيه الخير والصلاح وحاربت كل  ما فيه الضرر والفساد، ومن ذلك أنها حثت على الألفة والمحبة والمودة، ونهت عن التباعد، والتقاطع، والبغضاء.
فلما أباح الشارع تعدد الزوجات لما قد يدعو إليه من المصالح، وكان- غالبا- جمع الزوجات عند رجل، يورث بينهن العداوة والبغضاء، لما يحصل من الغيرَةِ، نهى أن يكون التعدد بين بعض القريبات، خشية أن تكون القطيعة بين الأقارب.
فنهى أن تنكح الأخت على الأخت، وأن تنكح العمة على بنت الأخ وابنة الأخت على الخالة وغيرهن، مما لو قدر إحداهما ذكراً والأخرى أنثى، حرم عليه نكاحها في النسب. فإنه لا يجوز الجمع والحال هذه. وهذا الحديث يخصص عموم قوله تعالى: (وأحِلَّ لكم ما وَرَاءَ ذلِكم).
588;ریعتِ مطہرہ خیر اور بھلائی لے کر آئی ہے اور ہر اس چیز کو دور کیا جس میں نقصان اور فساد ہو۔ اسی میں سے یہ بھی ہےکہ اس نے الفت، محبت اور ہمدردی کرنے پر ابھارا اور ایک دوسرے سے دوری، قطع تعلقی اور بغض سے منع فرمایا۔
جب شارع (اللہ تعالی) نے تعددِ ازدواج کو مصلحتوں کے پیش نظر جائز قرار دیا - چونکہ عام طور پر ایک سے زائد بیویاں آدمی کے پاس آپس میں غیرت کی وجہ سے بغض وعداوت کا باعث ہوتی ہیں چنانچہ قطع تعلقات کا اندیشہ رکھتے ہوئے باہم ایک دوسری کی قریبی رشتے دار عورتوں کے درمیان تعدد ازدواج (انہیں نکاح میں جمع کرنے) سے منع فرمایا ہے۔
چنانچہ بیوی کی بہن سے نکاح کرنے سے منع فرمایا، بھتیجی کے ہوتے ہوئے پھوپھی سے، بھانجی کے ہوتے ہوئے خالہ سے نکاح کرنے سے منع فرمایا، اس کے علاوہ ہر وہ دو عورتیں کہ جن میں سے ایک مرد تصور کرلیا جائے اور دوسری کو عورت تو نسبی رشتوں مین ایک کا دوسرے سے نکاح حرام ہو، ان کو ایک ساتھ اور ایک وقت میں زوجیت میں رکھنا جائز نہیں۔ یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے قول: وأحِلَّ لكم ما وَرَاءَ ذلِكم۔ (اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لیے حلال کی گئیں) کے عموم میں تخصیص پیدا کرتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6090

 
 
Hadith   1203   الحديث
الأهمية: لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاث، إلا على زوج: أربعة أشهر وعشرًا


Tema:

کوئی بھی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں، سوائے شوہر کے کہ اس کا (سوگ) چارماہ دس دن ہے۔

عن زينب بنت أبي سلمة قالت: تُوُفِّيَ حَمِيْمٌ لأم حبيبة، فدعت بصُفْرَةٍ، فَمَسحَتْ بذراعيها، فقالت: إنما أصنع هذا؛ لأني سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تُحِدَّ على ميت فوق ثلاث، إلا على زوج: أربعة أشهر وعشرًا».

زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ایک قریبی رشتہ دار فوت ہو گئے۔ انہوں نے زرد رنگ کی ایک خوشبو منگوائی اور اسے اپنے بازوؤں پر مل لیا اور کہا کہ میں یہ اس لیے کر رہی ہوں کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی بھی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں، سوائے شوہر کے کہ اس کا (سوگ) چار ماہ دس دن ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
توفي والد أم حبيبة وكانت قد سمعت النهْيَ عن الإحداد فوق ثلاث إلا على زوج، فأرادت تحقيق الامتثال، فدعت بطيب مخلوط بصفرة، فمسحت ذراعيها، وبيَّنت سبب تطيبها، وهو أنها سمعت النبي -صلى الله عليه وسلم- يقول: "لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، أن تحد على ميت فوق ثلاث، إلا على زوج أربعة أشهر وعشراً".
575;م حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد وفات پا گئے۔ انہوں نے نبی ﷺ سے سن رکھا تھا کہ آپ ﷺ نے ماسوا شوہر کے کسی اور کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ سے منع فرمایا ہے۔ اسی حکم کی بجا آوری میں انہوں نے ایک زرد رنگ ملی خوشبو منگوائی اور اسے اپنے بازوؤں پر مَلْ لیا اورخوشبو لگانے کا سبب بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”کوئی بھی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیےکسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں، سوائے شوہر کے کہ اس کا (سوگ) چار ماہ دس دن ہے“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6091

 
 
Hadith   1204   الحديث
الأهمية: قلت يا رسول الله، أتنزل غدا في دارك بمكة؟ قال: وهل ترك لنا عقيل من رباع؟


Tema:

میں نے کہا اے اللہ کے رسول! کیا آپ کل مکہ میں اپنے گھر اتریں گے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہے؟

عن أسامة بن زيد- رضي الله عنه- مرفوعاً: «قلت ُيا رسول الله، أتنزل غدا في دارك بمكة؟ قال: وهل ترك لنا عقيل من رِبَاعٍ؟
ثم قال: لا يَرِثُ الكافر المسلم، ولا المسلم الكافر

اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا آپ کل مکہ میں اپنے گھر اتریں گے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہے؟ پھر فرمایا: کافر مسلمان کا اور مسلمان کافر کا وارث نہیں بنتا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لما جاء النبي صلى الله عليه وسلم لفتح مكة سأله أسامة بن زيد: هل سينزل صبيحة دخوله فيها داره؟
فقال صلى الله عليه وسلم: وهل ترك لنا عقيل بن أبي طالب من رباع نسكنها؟
وذلك أن أبا طالب توفي على الشرك، وخلف أربعة أبناء: طالبًا وعقيلًا وجعفرًا وعليًّا.
فجعفر وعلي أسلما قبل وفاته، فلم يرثاه، وطالب وعقيل بقيا على دين قومهما فورثاه، ففقد طالب في غزوة بدر، فرجعت الدور كلها لعقيل فباعها.
ثم بيَّن حكماً عامًّا يين المسلم والكافر فقال: "لا يرث المسلم الكافر، ولا يرث الكافر المسلم"؛ لأن الإرث مبناه على الصلة والقربى والنفع، وهي منقطعة ما دام الدين مختلفاً لأنه الصلة المتينة، والعروة الوثقى، فإذا فقدت هذه الصلة، فقد معها كل شيء حتى القرابة، وانقطعت علاقة التوارث بين الطرفين، لأن فصمها أقوى من وصل النسب والقرابة.
601;تحِ مکہ کے موقع پر جب آپ ﷺ آئے تو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا آپ مکہ میں داخل ہو نے کے بعد صبح کو اپنے گھر میں جائیں گے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ کیا عقیل بن ابی طالب نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہے جس میں ہم رہیں؟۔ کیونکہ ابو طالب شرک کی حالت میں فوت ہوگیا تھا، اس نے اپنے پیچھے چار بیٹے چھوڑے۔طالب، عقیل، جعفر اور علی۔
جعفر اور علی تو ابوطالب کی وفات سے پہلے مسلمان ہو گئے تھے، اس لیے وہ ان کے وارث نہیں بنے اور طالب اور عقیل اپنی قوم والوں کے دین پر قائم رہے، اس لیے وہ ابوطالب کے وارث بنے۔ پھر طالب غزوۂ بدر میں فوت ہوگئے، تو سارے گھر عقیل کے حصے میں آئے، اس نے وہ سب بیچ دیے۔
پھر اللہ کے نبی ﷺ نے مسلمان اور کافروں کے درمیان ایک عمومی حکم بیان کیا اور کہا کہ مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا۔ اس لیے کہ وراثت کی بنیاد رشتہ داری قرابت اور نفع ہے اور جب دین مختلف ہوں تو یہ تعلق باقی نہیں رہتا، اس لیے کہ دین ایک مضبوط رشتہ اور مضبوط کڑا ہے۔ لہٰذا یہ تعلق باقی نہ رہا تو اس کے ساتھ ہر چیز مفقود ہوگئی حتیٰ کہ رشتہ داری بھی مفقود ہوگئی اور جانبین میں وراثت کا تعلق بھی ختم ہوگیا۔ اس لیے کہ دین کا تفاوت نسب اور رشتہ داری کے تعلق سے زیادہ قوی ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6092

 
 
Hadith   1205   الحديث
الأهمية: ما من عبد يقول في صباح كل يوم ومساء كل ليلة: بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم، ثلاث مرات، إلا لم يضره شيء


Tema:

جو بندہ ہر دن صبح اور شام تین بار یہ پڑھ لے اسے کوئی شے نقصان نہیں پہنچا سکتی: ”بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ“ میں اس اللہ کے نام کے ذریعہ سے پناہ مانگتا ہوں جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔

عن عثمان بن عفان -رضي الله عنه- مرفوعاً: «ما من عبد يقول في صباح كل يوم ومساء كل ليلة: بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم، ثلاث مرات، إلا لم يَضُرَّهُ شيء».

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بندہ ہر دن صبح اور شام تین بار یہ پڑھ لے اسے کوئی شے نقصان نہیں پہنچا سکتی: ”بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ“ میں اس اللہ کے نام کے ذریعہ سے پناہ مانگتا ہوں جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ما من عبد يقول في صباح كل يوم ومساء كل ليلة أي بعد طلوع الفجر وبعد غروب الشمس، وفي رواية أحمد: "قال في أول يومه أو في أول ليلته ": (بسم الله) أي: أذكر اسمه على وجه التعظيم والتبرك، (الذي لا يضر مع اسمه) أي: مع ذكره باعتقاد حسن ونية خالصة، (لم يضره شيء) كائن (في الأرض ولا في السماء) أي: من البلاء النازل منها (وهو السميع) أي: بأقوالنا (العليم) أي: بأحوالنا.
وفي الحديث دليل على أن هذه الكلمات تدفع عن قائلها كل ضر كائنًا ما كان، روى هذا الحديث عن عثمان بن عفان –رضي الله عنه- ابنه أبان وهو من ثقات التابعين، وكان أبان قد أصابه الفالج (شلل) فجعل الرجل الذي سمع منه الحديث ينظر إليه متعجبًا، فقال له أبان: مالك تنظر إلي فوالله ما كذبت على عثمان ولا كذب عثمان على النبي -صلى الله عليه وسلم-، ولكن اليوم الذي أصابني غضبت فنسيت أن أقولها"، ويستفاد من ذلك ما يلي: أ‌- الغضب آفة تحول بين المرء وعقله. ب‌- إذا أراد الله إنفاذ قدره صرف العبد عما يحول بينه وبين ذلك. ت‌- الدعاء يرد القضاء. ث‌- قوة يقين السلف الأول بالله وتصديقهم بما أخبر به رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.
580;و بندہ ہر دن صبح اور شام یعنی طلوعِ فجر اور غروبِ آفتاب کے بعد یہ دعا پڑھتا ہے۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ جس نے دن کے آغاز اور رات کی ابتداء میں یہ دعا پڑھی۔
”بسم اللہ“ یعنی بیان عظمت اور حصول برکت کے لیے اس کا نام لیتا ہوں، ” جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی“ یعنی یقین کامل اور خالص نیت کے ساتھ اس کا نام لینے سے، ”اسے کوئی شے نقصان نہیں پہنچا سکتی“ یعنی چاہے وہ کوئی بھی چیز ہو، ” زمین و آسمان کی کوئی چیز“ یعنی آسمان سے نازل ہونے والی مصیبت۔ ”وہ سننے والا ہے“ یعنی ہمارے اقوال کو سننے والا ہے۔ ”جاننے والا ہے“ یعنی ہمارے احوال کو جاننے والا ہے۔ حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کلمات اپنے پڑھنے والے سے ہر قسم کے نقصان کا دفاع کرتے ہیں چاہے وہ کسی بھی قسم کا ہو۔
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو انکے فرزند ابان رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے جن کا شمار ثقہ تابعین میں ہوتا ہے۔ ابان رحمہ اللہ فالج کے مرض میں مبتلا تھے چناچہ اس شخص نے جو اس حدیث کو سن رہا تھا ابان رحمہ اللہ کی طرف تعجب سے دیکھنے لگا، چنانچہ ابان رحمہ اللہ نے اس سے کہا: کیا بات ہے تم میری طرف تعجب سے دیکھ رہے ہو؟ اللہ کی قسم میں نے عثمان رضی اللہ عنہ پر جھوٹ نہیں باندھا ہے اور نہ ہی عثمان رضی اللہ عنہ نے نبیﷺ پر جھوٹ باندھا ہے، البتہ جس دن مجھے یہ مرض لاحق ہوا اس دن میں غصہ میں تھا اور اس دعا کو پڑھنا بھول گیا۔
اس واقعہ سے مذکورہ فوائد حاصل ہوتے ہیں:
1- غصہ ایک آفت ہے جو انسان اور اس کی عقل کے درمیان حائل ہوجاتی ہے۔
2- جب اللہ تعالی تقدیر کے کسی فیصلہ کا ارادہ فرماتا ہے تو تقدیر اور بندے کے درمیان حائل ہونے والی چیز کو دور کردیتا ہے۔
3- دعا تقدیر کو پھیر سکتی ہے۔
4- متقدیمنِ سلف کے یقین کی مضبوطی جو کہ انہیں اللہ سبحانہ وتعالی پر تھا اور نبیﷺ کی بتائی ہوئی باتوں کے متعلق ان کی تصدیق۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6093

 
 
Hadith   1206   الحديث
الأهمية: لا يمنعن جارٌ جارَه: أن يغرز خشبه في جداره، ثم يقول أبو هريرة: ما لي أراكم عنها معرضين؟ والله لأرمين بها بين أكتافكم


Tema:

کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے نہ روکے۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں اس سے منہ پھیرنے والا پاتا ہوں؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے تمہارے شانوں کے درمیان ڈال ہی کر رہوں گا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أنّ رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «لا يمَنَعَنَّ جارٌ جاره: أن يغرِزَ خَشَبَهُ في جداره، ثم يقول أبو هريرة: ما لي أراكم عنها مُعْرِضِين؟ والله لَأرْميَنّ َبها بين أكتافكم».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے نہ روکے۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں اس سے منہ پھیرنے والا پاتا ہوں؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے تمہارے شانوں کے درمیان ڈال ہی کر رہوں گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
للجار على جاره حقوق تجب مراعاتها، فقد حث النبي -صلى الله عليه وسلم- على صلة الجار، وذكر أن جبريل مازال يوصيه به حتى ظن أنه سيورثه من جاره، لعظم حقه، وواجب بره.
فلهذا تجب بينهم العشرة الحسنهَ، والسيرة الحميدة، ومراعاة حقوق الجيرة، وأن يكف بعضهم عن بعض الشر القولي والفعلي.
ومن حسن الجوار ومراعاة حقوقه أن يبذل بعضهم لبعض المنافع التي لا تعود عليهم بالضرر الكبير مع نفعها للجار.
ومن ذلك أن يريد الجار أن يضع خشبة في جدار جاره، فإن وجدت حاجة لصاحب الخشب، وليس على صاحب الجدار ضرر من وضع الخشب، فيجب على صاحب الجدار أن يأذن له في هذا الانتفاع الذي ليس عليه منه ضرر مع حاجة جاره إليه، ويجبره الحاكم على ذلك إن لم يأذن.
فإن كان هناك ضرر أو ليس هناك حاجة فالضرر لا يزال بضرر مثله، والأصل في حق المسلم المنع، فلا يجب عليه أن يأذن.
ولذا فإن أبا هريرة -رضي الله عنه-، لما علم مراد المشرع الأعظم من هذه السنة الأكيدة، استنكر منهم إعراضهم في العمل بها، وتوعدهم بأن يلزمهم بالقيام بها، فإن للجار حقوقا فرضها اللَه -تعالى- تجب مراعاتها والقيام بها.
وقد أجمع العلماء على المنع من وضع خشب الجار على جدار جاره مع وجود الضرر إلا بإذنه لقوله -عليه الصلاة والسلام-: " لا ضرر ولا ضرار ".
729;مسائے کے اپنے ہمسائے پر بہت سے حقوق ہوتے ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ نبی ﷺ نے ہمسائے کے ساتھ تعلق بحال رکھنے کی ترغیب دی اور فرمایا کہ جبرائیل امین اس کی مسلسل تلقین فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو گمان ہونے لگا کہ وہ عنقریب ہمسائے کو وراثت میں حصہ دار ٹھہرا دیں گے کیونکہ اس کا حق بہت زیادہ ہے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا واجب ہے۔ اسی وجہ سے ضروری ہے کہ پڑوسیوں کے مابین اچھا رہن سہن اور اچھا میل جول ہو اور وہ باہم ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں اور ایک دوسرے کو قولی و فعلی طور پر تکلیف پہنچانے سے گریز کریں۔ یہ بات ہمسایہ گیری اور ہمسایہ کے حقوق کا خیال رکھنے میں آتی ہے کہ پڑوسی ایک دوسرے کو وہ منافع پہنچائیں جن کا فائدہ ان کے پڑوسی کو پہنچتا ہو اور اس سے ان کو کچھ نقصان نہ ہوتا ہو۔ انہی میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی پڑوسی اپنے ہمسائے کی دیوار پر لکڑی رکھنا چاہے۔ اگر لکڑی رکھنے والے کو اس کی ضرورت ہو اور دیوار والے کو لکڑی رکھنے سے کوئی نقصان نہ ہوتا ہو تو اس صورت میں دیوار والے کو چاہیے کہ وہ اسے وہ فائدہ اٹھانے دے جس سے اس کو کوئی نقصان نہیں ہوتا ہے خصوصاً جب اس کے ہمسائے کو اس کی ضرورت بھی ہے۔اگر وہ اس کی اجازت نہ دے تو حکمران اسے ایسا کرنے پر مجبور کرے گا۔
لیکن اگر اس سے کوئی نقصان ہوتا ہو یا پھر اس کی کوئی ضرورت نہ ہو تو پھر نقصان کو اسی طرح کے نقصان سے زائل نہیں کیا جائے گا۔ اصل کے اعتبار سے تو مسلمان کو منع کرنے کا حق ہے۔ چنانچہ اس صورت میں اس پر اجازت دینا واجب نہیں۔
چونکہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس سنت سے جس پر بہت زور دیا گیا ہے شارع اعظم ﷺ کی مراد کو جانتے تھے چنانچہ لوگوں کی طرف سے اس پر عمل سے اعراض برتنے پر انہوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور انہیں دھمکی دی کہ وہ ان سے اس پر ضرور عمل کروا کر چھوڑیں گے۔ ہمسائے کے کچھ حقوق ہیں جنہیں اللہ تعالی نے فرض کیا ہے اور جن کا خیال کرنا اور پورا کرنا واجب ہے۔ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ ہمسائے کا اپنے ہمسائے کی دیوار پر اس کی اجازت کے بغیر لکڑی رکھنا ممنوع ہے جب کہ اس کی وجہ سے کوئی نقصان ہوتا ہو کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ اور نہ خود نقصان اٹھاؤ۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6094

 
 
Hadith   1207   الحديث
الأهمية: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا قال: سمع الله لمن حمده: لم يحن أحد منا ظهره حتى يقع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ساجدًا، ثم نقع سجودًا بعده


Tema:

رسول اللہ ﷺ جب ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہتے تو ہم میں سے کوئی بھی اس وقت تک اپنی پیٹھ نہیں جھکاتا تھا جب تک کہ آپ ﷺ سجدہ میں نہ چلے جاتے۔ ہم پھر آپ ﷺ کے بعد سجدے میں جاتے تھے۔

عن عبد الله بن يزيد الخطمي الأنصاري -رضي الله عنه- قال: حدثني البراء -وهو غير كَذُوبٍ- قال: «كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا قال: سمع الله لمن حمده: لم يَحٍنِ أحدٌ منا ظهره حتى يقع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ساجدًا، ثم نقع سجودًا بعده».

عبد اللہ ابن یزید خطمی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں براء رضی اللہ عنہ (جو جھوٹے نہیں ہیں) نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ جب ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہتے تو ہم میں سے کوئی بھی اس وقت تک اپنی پیٹھ نہیں جھکاتا تھا جب تک کہ آپ ﷺ سجدہ میں نہ چلے جاتے۔ ہم پھر آپ ﷺ کے بعد سجدے میں جاتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يذكر هذا الصحابي الصدوق البراء -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يؤم أصحابه في الصلاة فكانت أفعال المأمومين تأتي بعد أن يتم فعله، بحيث كان -صلى الله عليه وسلم- إذا رفع رأسه من الركوع وقال: "سمع الله لمن حمده" رفع أصحابه بعده وإذا هبط ساجدا ووصل إلى الأرض يقعون ساجدين بعده.
740;ہ صدوق (سچے) صحابی براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ آپ ﷺ نماز میں اپنے صحابہ کی امامت کیا کرتے تھے۔ مقتدیوں کے اعمال آپ ﷺ کا عمل پورا ہو جانے کے بعد ہوتے تھے بایں طور کہ آپ ﷺ جب رکوع سے اپنا سر مبارک اٹھاتے تو کہتے ’’سمع اللہُ لِمَنْ حمِدَہ‘‘۔ آپ ﷺ کے صحابہ آپ ﷺ کے بعد اپنے سر اٹھاتے اور جب آپ ﷺ سجدے کے لیے نیچے جاتے اور زمین تک پہنچ جاتے تو صحابہ اس کے بعد سجدے میں جایا کرتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6097

 
 
Hadith   1208   الحديث
الأهمية: عليك بتقوى الله والتكبير على كل شرف


Tema:

اللہ کے تقوی کو اپنائے رکھو اور ہر بلند جگہ پر اللہ اکبر کہو۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-: أنّ رجلًا قال: يا رسول الله، إني أُريد أن أُسافرَ فأَوْصِني، قال: «عليك بتقوى الله، والتَّكبير على كلِّ شَرَفٍ» فلمّا ولَّى الرجلُ، قال: «اللهم اطْوِ له البُعدَ، وهَوِّنْ عليه السفر».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سفر پر جانا چاہتا ہوں چنانچہ مجھے کوئی نصیحت فرما دیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا تقوی اختیار کرو اور ہر بلند جگہ پر اللہُ أکبر کہو۔ جب وہ شخص واپس ہو لیا تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی: اے اللہ! اس کے لیے مسافت کو لپیٹ دے اور اس کے لیے سفر آسان کردے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أراد رجل أن يسافر فقال: يا رسول الله أوصني، فأوصاه النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يلتزم تقوى الله -عز وجل-، وأن يكبر الله -عز وجل- في كل علوّ ومرتفع، فلما أدبر الرجل دعا له النبي -صلى الله عليه وسلم- بأن يتيسر له من النشاط، وحسن الدواب ما يصل به مستريحًا، وأن يُسَهل عليه السفر بدفع مؤذياته عنه.
575;یک شخص نے سفر کا ارادہ کیا اور (نبی کریم ﷺ سے) کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی نصیحت فرما دیں۔ آپ ﷺ نے اسے نصیحت کی کہ وہ اللہ عز و جل کا تقوی اختیار کرو اور ہر بلند اور اونچی جگہ پر ’’اللہُ اکبر‘‘ کہے۔ جب وہ شخص واپس ہوا تو نبی ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی کہ اسے چستی حاصل ہو اور اس کی سواری اچھے سے اس طرح چلے کہ آرام سے اُسے منزل تک پہنچا دے اور یہ کہ اللہ تکلیف دہ اشیاء کو اس سے دور کر کے اس کا سفر اس کے لیے آسان کردے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6102

 
 
Hadith   1209   الحديث
الأهمية: عودوا المريض وأطعموا الجائع وفكوا العاني


Tema:

مریض کی عیادت کرو، بھوکےکو کھانا کھلاؤ اور قیدی کو آزاد کراؤ۔

عن أبي موسى -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «عُودُوا المريضَ، وأطْعِمُوا الجَائِعَ، وفُكُّوا العَانِي».

ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مریض کی عیادت کرو، بھوکےکو کھانا کھلاؤ اور قیدی کو آزاد کراؤ“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أمر النبي -صلى الله عليه وسلم- بزيارة المريض، وإطعام الجائع، وأن إذا اختطف الكفار رجلًا مسلمًا وجب على المسلمين أن يفكوا أسره.
606;بی ﷺ نے مریض کی عیادت کرنے، بھوکے کو کھانا کھلانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر کفار کسی مسلمان شخص کو قیدی بنا کر لے جائیں تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ اسے قید سے رہا کرائیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6103

 
 
Hadith   1210   الحديث
الأهمية: فصل ما بين صيامنا وصيام أهل الكتاب أكلة السحر


Tema:

ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے۔

عن عمرو بن العاص -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وصِيَامِ أهْلِ الكِتَابِ، أكْلَةُ السَّحَرِ».

عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر النبي -عليه الصلاة والسلام- في هذا الحديث عن الفارق المميز بين صيامنا وصيام اليهود والنصارى، وهو الطعام الذي يأكله المسلمون وقت  السحور، لأنَّ أهل الكتاب لا يتسحرون، والمسلمون يستحب لهم السحور؛ مخالفة لأهل الكتاب وتحقيقاً للسنة وفيه بركة وخير كما ثبت في السنة، وأهل الكتاب يصومون من نصف الليل، فيأكلون قبل منتصف الليل ولا يأكلون في السحر، والتمييز بين المسلمين والكفار أمر مطلوب في الشرع.
575;س حدیث میں رسول اللہ ﷺ ہمارے اور یہود و نصاریٰ کے روزوں کے درمیان پایا جانے والا فرق و امتیاز اس کھانے کو قرار دے رہے ہیں، جو مسلمان سحری کے وقت کھاتے ہیں؛ کیوں کہ اہل کتاب سحری نہیں کرتے اور مسلمانوں کے لیے سحری کرنا مستحب اور پسندیدہ عمل ہے۔ اس لیے کہ اس میں ایک جانب یہود و نصاریٰ کی مخالفت ہے، تو دوسری جانب اس میں سنت کی مکمل پیروی کا مظاہرہ، جس میں برکت اور خیر ہی مضمر ہے، جیسا کہ سنت سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ جب کہ اہل کتاب کا روزہ نصف شب سے شروع ہوتا ہے، اس لیے وہ نصف شب سے پہلے ہی کھا لیتے ہیں اور سحری کے وقت نہیں کھاتے۔ چنانچہ شریعت یہ چاہتی ہے کہ مسلمانوں اور کفار کے درمیان حد فاصل قائم کی جائے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6105

 
 
Hadith   1211   الحديث
الأهمية: فضل العالم على العابد كفضلي على أدناكم


Tema:

عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پر ہے۔

عن أبي أمامة الباهلي -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «فضل العالم على العابد كفضلي على أدناكم»، ثم قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إن الله وملائكته وأهل السماوات والأرض حتى النملة في جحرها وحتى الحوت ليصلون على معلمي الناس الخير».

ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے، جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پر ہے“، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنی سوراخ میں اور مچھلیاں اس شخص کے لیے دعائيں کرتی ہیں، جو نیکی و بھلائی کی تعلیم دیتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سيق هذا الحديث لبيان فضل العلم والعالم بالعلوم الشرعية مع القيام بفرائض العبادات وبما يتيسر له من النوافل، "على العابد"، أي: على المتفرغ للعبادة "كفضلي على أدناكم"، أي: نسبة شرف العالم إلى شرف العابد؛ كنسبة شرف الرسول -صلى الله عليه وسلم- إلى أدنى الصحابة شرفا ومنزلة، فإن المخاطبين بقوله: "أدناكم" الصحابة، ثم قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- : "إن الله وملائكته وأهل السماوات والأرض"، أي: أهل الأرض من الإنس والجن وجميع الحيوانات، "حتى النملة في جحرها" أي ثقبها الذي تسكنه "وحتى الحوت ليصلون على معلمي الناس الخير"، أراد بالخير هنا علم الدين وما به النجاة في الدنيا والآخرة، والصلاة من الله -تعالى- ثناؤه على عبده في الملأ الأعلى، ومن الملائكة بمعنى الاستغفار، ولا رتبة فوق رتبة من تشتغل الملائكة وجميع المخلوقات بالاستغفار والدعاء له إلى يوم القيامة ولهذا كان ثوابه لا ينقطع بموته.
575;س حدیث میں علم اور اس شرعی علوم کے حامل شخص کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جو فرض عبادات کی ادائیگی کے ساتھ حتی المقدور نوافل کا بھی اہتمام کرتا ہے۔
”عابد“ یعنی خود کو عبادت کے لیے وقف کردینے والے پر۔
”جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنی شخص پر“ یعنی عالم کا فضل و شرف، عابد کے مقابلے میں ویسا ہی ہے، جیسا رسول اللہ ﷺ کا فضل و شرف ایک ادنی صحابی کے مقابلے میں۔ ادنی صحابی رسول، مراد لینے کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت آپ کےاس قول”ادناکم“ کے مخاطب صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم ہی تھے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا:”یقینا اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور آسمانوں اور زمین میں بسنے والے“ یعنی زمین پر رہنے والے تمام انسان، جنات اور تمام حیوانات، یہاں تک کہ بلوں یعنی سوراخوں میں رہنے والی چیونٹیاں اور مچھلیاں بھی لوگوں کو خیر کی تعلیم دینے والوں کے حق میں خیر و برکت کی دعائیں کرتی ہیں۔ یہاں خیر سے مراد علم دین اور وہ چیزیں ہیں، جن سے دنیا و آخرت کی نجات وابستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے صلاۃ سے مراد، اس کے مقرب فرشتوں کے گروہ کے روبرو، بندے کی تعریف و ستائش ہے اور فرشتوں کی جانب سے صلاۃ سے مراد بندے کے حق میں استغفار ہے۔ اس شخص سے بڑھ کر کسی کا کوئی مقام نہیں ہوسکتا، جس کے حق میں روزقیامت تک فرشتے اور تمام مخلوقات، استغفار اور دعا میں مصروف ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے اجر وثواب کا سلسلہ منقطع نہیں ہوتا۔   --  [حَسَن لغيره]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6106

 
 
Hadith   1212   الحديث
الأهمية: قال الله -عز وجل- العز إزاري، والكبرياء ردائي، فمن نازعني بشيء منهما عذبته


Tema:

اللہ عز وجل نے فرمایا: عزت میری ازار اور کبریائی (بڑائی) میری چادر ہے چنانچہ جو شخص ان دونوں میں سے کوئی شے مجھ سے کھینچے گا میں اسے عذاب دوں گا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قَال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «العز إزاري، والكبرياء ردائي، فمن نازعني بشيء منهما عذبته».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (کہ اللہ تعالی فرماتا ہے): ”عزت میری ازار اور کبریائی (بڑائی) میری چادر ہے چنانچہ جو شخص ان دونوں میں سے کوئی شے مجھ سے کھینچے گا میں اسے عذاب دوں گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
العزّ والكبرياء صفتان مختصتان بالله لا يشاركه فيهما غيره؛ كما لا يشارك الرجل في ردائه وإزاره اللذين هما لباساه غيره، فجعل الله -تعالى- هاتين الصفتين ملازمتين له، ومن خصائصه التي لا تقبل أن يشاركه فيها أحد، فمن ادعى العزة والكبرياء فقد نازع الله في ملكه، ومن نازع الله عذبه.
593;زت و کبریائی دو ایسی صفات ہیں جو اللہ کے ساتھ خاص ہیں اور ان دونوں میں اس کا کوئی شریک نہیں جیسے آدمی کی چادر اور تہبند جو اس کا لباس ہوتی ہیں ان میں کوئی اس کا شریک نہیں ہوتا۔ اللہ تعالی نے ان دونوں صفات کو اپنے لئے لازم کر لیا اورانہیں اپنی ان خصوصیات میں سے شمار کیا ہے جن میں کسی کی شرکت نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ جو بھی عزت و کبریائی کا دعوی کرتا ہے وہ گویا اللہ کی مملوکہ چیزوں میں اس سے جھگڑتا ہے اور جو اللہ سے جھگڑتا ہے اسے اللہ عذاب میں جھونک دیتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6107

 
 
Hadith   1213   الحديث
الأهمية: قال رجل يا رسول الله الرجل منا يلقى أخاه أو صديقه أينحني له؟ قال: لا، قال: أَفَيَلْتَزِمُهُ ويُقبِّلُهُ؟ قال: لا، قال: فيأخذ بيده ويصافحُهُ؟ قال: نعم.


Tema:

ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسولﷺ! ہم میں سے کوئی اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملے، تو کیا وہ اس کے سامنے جھک جائے؟ آپ نے فرمایا: نہیں! اس نے پوچھا: کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں! اس نے کہا : پھر تو وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے؟ آپ نے فرمایا: ہاں!

عن أنس -رضي الله عنه- قال: قال رجلٌ: يا رسول الله، الرجلُ مِنّا يَلقى أخاه، أو صديقَه، أَيَنْحَني له؟ قال: «لا»، قال: أَفَيَلْتَزِمُهُ ويُقبِّلُهُ؟ قال: «لا» قال: فيأخذ بيده ويصافحُهُ؟ قال: «نعم».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم میں سے کوئی جب اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملے، تو کیا وہ اس کے سامنے جھک جائے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں!، اس نے پوچھا: کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں!، اس نے کہا: تو پھر وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے؟ آپ نے فرمایا: ہاں!۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سئل النبي -صلى الله عليه وسلم- عن الانحناء عند لقاء المرء أخاه، قال: لا ينحني له، قال السائل: أيضمه إليه ويعانقه ولا ينحني له؟ قال: لا، قال السائل: هل يصافحه؟ قال: نعم.
575;نسان کے اپنے (مسلمان) بھائی سے ملاقات کے وقت جھکنے کے متعلق نبی ﷺ سے سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: اس کے لیے جھکا نہیں جائے گا۔ پوچھنے والے نے کہا: کیا جھکنے کی بجائے اس سے چمٹ جائے اور معانقہ کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں! پھر سائل نے پوچھا: کیا مصافحہ کرے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6108

 
 
Hadith   1214   الحديث
الأهمية: قل لا إله إلا الله وحده لا شريك له الله أكبر كبيرًا


Tema:

یہ پڑھا کرو: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا

عن سعد بن أبي وقاص -رضي الله عنه- قال: جاء أعرابي إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: عَلِّمْنِي كلامًا أقوله. قال: «قل: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، الله أكبر كبيرًا، والحمد لله كثيرًا، وسبحان الله رب العالمين، ولا حول ولا قوة إلا بالله العزيز الحكيم» قال: فهؤلاء لربي، فما لي؟ قال: «قل: اللهم اغفر لي وارحمني واهدني وارزقني».

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے ایسا کلام سکھائیے، جسے میں پڑھتا رہوں۔ آپ نے فرمایا: یہ کہا کرو: ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ“ (اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ بڑائی میں سب سے بڑا ہے اور بے حد و حساب تعریف اللہ کی ہے، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، جو کہ تمام جہانوں کو پالنے والا ہے، گناہ سے بچنے اور نیکی کے کام کرنے کی طاقت اللہ ہی سے مل سکتی ہے، جو غالب حکمت والا ہے) اس شخص نے کہا: ان سب کلمات کا تعلق تو میرے رب سے ہے، میرے لیے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کہو: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي“ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما)۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء أعرابي إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: "علمني كلاماً" أي: ذكراً، "أقوله" أي: أذكره ورداً في أي وقت "قال: قل: لا إله إلا الله وحده لا شريك له" بدأ بشهادة التوحيد، ومعناها لا معبود بحق إلا الله  "الله أكبر" أي: من كل شيء، "كبيراً" توكيد للتكبير: كبرت كبيراً أو يجوز أن يكون حالاً مؤكدة، "والحمد لله كثيراً" أي: حمداً كثيراً، "وسبحان الله رب العالمين" أي: جميع الخلائق، وقوله: "لا حول ولا قوة إلا بالله العزيز الحكيم"  أي لا تحول من حال إلى حال إلا بتوفيق من الله وحكمته، "قال الأعرابي: فهؤلاء" أي: الكلمات، "لربي" أي: موضوعة لذكره تعالى وتعظيمه، "فمالي؟" أي: من الدعاء لنفسي، "فقال: قل: اللهم اغفر لي" أي: بمحو السيئات، "وارحمني" أي: بتوفيق الطاعات في الحركات والسكنات، "واهدني" أي: لأحسن الأحوال، "وارزقني" أي: المال الحلال والصحة وكل خير.
575;یک اعرابی صحابی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: مجھے ایسا کلام یعنی ذکر سکھادیجیے، جسے میں پڑھتا رہوں یعنی جسے میں بطور ورد کسی بھی وقت پڑھتا رہوں۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ذکر پڑھا کرو: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ آغاز توحید کی گواہی سے فرمایا۔ اس کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
اللَّهُ أَكْبَرُ یعنی وہ ذات ہر چیز سے بڑی ہے۔ كَبِيرًا یہ لفظ تکبیر کے معنی میں مزید تاکید و زور پیدا کرنے کے مقصد سے لایا گیاہے یا پھر یہ حال بھی ہوسکتا ہے، جو تاکید کے لیے لایا گیا ہے۔
وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا یعنی میں اس کی بے پناہ حمد و ثنا بیان کرتا ہوں۔ وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ یعنی تمام مخلوقات کا پروردگار ہے۔
وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ یعنی ایک حالت سے دوسری حالت میں بدلنے کی طاقت و قوت کسی میں نہیں مگر یہ کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی توفیق اور حکمت شامل ہوجائے۔ اعرابی نے کہا:
فَهؤلاء یعنی یہ کلمات۔ لِرَبِّي یعنی اللہ تعالی کے ذکر اور اس کی تعظیم کے لیے وضع ہوئے ہیں۔ فَما لِي یعنی میری ذات کی خاطر مانگنےکے لیے کون سی دعا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایاکہ تم یہ دعاء پڑھو: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي یعنی میری خطاؤں اور لغزشوں کو مٹاکر۔ وَارْحَمْنِي میری تمام حرکات و سکنات میں طاعتوں و فرماں برداریوں کی توفیق عطا کرکے۔ وَاهْدِنِي یعنی بہتر احوال کی طرف۔ وَارْزُقْنِي یعنی حلال مال و دولت، صحت و تندرستی اور ہر قسم کی خیر و بھلائی سے نواز دے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6112

 
 
Hadith   1215   الحديث
الأهمية: بِسمِ اللهِ، تُرْبَةُ أرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى بِهِ سَقِيمُنَا، بإذْنِ رَبِّنَا


Tema:

اللہ کے نام سے، یہ ہمارے زمین کی مٹی ہے، اس کے ساتھ ہم میں سے کسی کا لعاب لگا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ہمارے رب کی اجازت سے ہمارا مریض شفایاب ہوگا۔

عن عائشة -رضي الله عنها-: أنَّ النَّبيَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إِذَا اشْتَكى الإنْسَانُ الشَّيْءَ مِنْهُ، أَوْ كَانَتْ بِهِ قَرْحَةٌ أَوْ جُرْح، قالَ النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- بأُصبعِهِ هكذا - ووضع سفيان بن عيينة الراوي سبابته بالأرض ثم رفعها- وقالَ: «بِسمِ اللهِ، تُرْبَةُ أرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى بِهِ سَقِيمُنَا، بإذْنِ رَبِّنَا».

عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ جب کسی شخص کے بدن کے کسی حصے میں بیماری لاحق ہوتی یا اس میں کوئی پھوڑا یا زخم وغیرہ ہوتا، تو نبی ﷺ اپنی انگلی سے ایسے کرتے (راوی حدیث سفیان بن عیینہ نے عملی طور پر دکھانے کے لیے اپنی انگشت شہادت کو زمین پر رکھا، پھر اسے اٹھا لیا) اور فرماتے: ”بِسمِ اللهِ، تُرْبَةُ أرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى بِهِ سَقِيمُنَا، بإذْنِ رَبِّنَا“ اللہ کے نام کے سے، یہ ہمارے زمین کی مٹی ہے، اس کے ساتھ ہم میں سے کسی کا لعاب لگا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ہمارے رب کی اجازت سے ہمارا مریض شفایاب ہوگا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا مرض إنسان، أو كان به جرح أو شيء يأخذ من ريقه على أصبعه السبابة، ثم يضعها على التراب، فيعلق بها منه شيء، فيمسح به على الموضع الجريح أو العليل، ويقول «بِاسْمِ اللهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى بِهِ سَقِيمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا».
580;ب کوئی شخص بیمار ہو جاتا، اسے کوئی زخم لگ جاتا یا کچھ اور ہوتا، تو نبی ﷺ اپنی شہادت کی انگلی پر اپنا کچھ لعاب مبارک لگاتے اور انگلی کو مٹی پر رکھ دیتے۔ یوں اس کے ساتھ کچھ مٹی لگ جاتی۔ پھر آپ ﷺ اسے اس جگہ پھیر دیتے، جہاں زخم یا بیماری ہوتی اور کہتے: ”بِاسْمِ اللهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى بِهِ سَقِيمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا“ اللہ کے نام کے سے، یہ ہمارے زمین کی مٹی ہے، اس کے ساتھ ہم میں سے کسی کا لعاب لگا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ہمارے رب کی اجازت سے ہمارا مریض شفایاب ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6113

 
 
Hadith   1216   الحديث
الأهمية: مطل الغني ظلم، وإذا أُتبعَ أحدكم على مليء فليتبع


Tema:

مالدار شخص كا (قرض كی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور اگر تم میں سے کسی کو (قرض کی وصولی کے لیے) کسی مالدار شخص کی طرف منتقل کر دیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اس منتقلی کو قبول کر لے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «مَطْلُ الغني ظلم، وإذا أُتْبِعَ أحدكم على مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مالدار شخص كا (قرض كی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور اگر تم میں سے کسی کو (قرض کی وصولی کے لیے) کسی مالدار شخص کی طرف منتقل کر دیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اس منتقلی کو قبول کر لے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث الشريف أدب من آداب المعاملة الحسنة.
فهو -صلى الله عليه وسلم- يأمر المدين بحسن القضاء، كما يرشد الغريم إلى حسن المطالبة.
فبين -صلى الله عليه وسلم- أن الغريم إذا طلب حقه، أو فهم منه الطلب بإشارة أو قرينة، فإن تأخير حقه عند الغني القادر على الوفاء، ظلم له، أنه دون حقه بلا عذر.
وهذا الظلم يزول إذا أحال المدين الغريم على مليء يسهل عليه أخذ حقه منه، فَلْيَقْبَل الغريم الحوالة حينئذ.
ففي هذا حسن الاقتضاء منه، وتسهيل الوفاء، كما أن فيه إزالة الظلم بما لو بقي الدين بذمة المدين المماطل.
575;س حدیث شریف میں اچھے انداز سے باہمی معاملہ کرنے کے آداب میں سے ایک ادب کی تعلیم دی گئی ہے۔ نبی ﷺ قرض دار کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ اچھے انداز میں قرض کی ادائیگی کرے اور قرض خواہ کو تلقین فرما رہے ہیں کہ وہ اچھے انداز میں قرض کا مطالبہ کرے۔
نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ قرض خواہ جب قرض کا مطالبہ کرے یا پھر اشارے کنائے یا قرینہ سے معلوم ہو کہ وہ قرض کی ادائیگی چاہ رہا ہے تو اس صورت میں اس مالدار شخص کا ٹال مٹول کرنا جو قرض کی ادائیگی کی قدرت رکھتا ہے سرا سر اس قرض خواہ کے ساتھ ظلم ہے اور بلا عذر اس کی حق کی ادائیگی میں آڑے آنا ہے۔
یہ ظلم اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب قرض دار، اپنے قرض خواہ کو کسی ایسے مال دار آدمی کی طرف منتقل کر دے جس سے اپنا حق وصول کرنا اس کے لیے آسان ہو۔ اس صورت میں قرض خواہ کو چاہیے کہ وہ اس منتقلی کو قبول کر لے۔ یہ اس کی طرف سے حسن تقاضا ہے اور اس میں قرض کی ادائیگی میں بھی آسانی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس سے وہ ظلم بھی دور ہو رہا ہے جو ٹال مٹول کرنے والے قرض دار کے ذمہ قرض باقی رہنے کی وجہ سے ہوتا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6141

 
 
Hadith   1217   الحديث
الأهمية: ليس من رجل ادعى لغير أبيه -وهو يعلمه- إلا كفر، ومن ادعى ما ليس له، فليس منا وليتبوأ مقعده من النار، ومن دعا رجلا بالكفر، أو قال: عدو الله، وليس كذلك، إلا حار عليه


Tema:

جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کے اپنا باپ ہونے کا دعوی کیا تو اس نے کفر کیا۔ اور جس شخص نے کسی ایسی شے کا دعوی کیا جو اس کے پاس نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ اور جس کسی نے دوسرے شخص کو کافر کہہ کر پکارا، یا یہ کہا کہ اے اللہ کے دشمن۔ اور وہ شخص حقیقت میں ایسا نہیں ہے تو اس کا یہ کہنا اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔

عن أبي ذر-رضي الله عنه- مرفوعًا: (ليس من رجل ادَّعَى لغير أبيه -وهو يعلمه- إلا كفر، ومن ادعى ما ليس له، فليس منا وَلَيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ من النار، ومن دعا رجلا بالكفر، أو قال: عدو الله، وليس كذلك، إلا حَارَ عليه).

ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کے اپنا باپ ہونے کا دعوی کیا تو اس نے کفر کیا، جس شخص نے کسی ایسی شے کا دعوی کیا جو اس کے پاس نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے بعینہ جس کسی نے کسی دوسرے شخص کو کافر کہہ کر پکارا، یا یہ کہا کہ: او اللہ کے دشمن۔ اور وہ شخص حقیقت میں ایسا نہیں ہے تو اس کا یہ کہنا اس کی طرف لوٹ آتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث وعيد شديد وإنذار أكيد، لمن ارتكب عملا من هذه الثلاثة، فما بالك بمن عملها كلها؟
أولها: أن يكون عالمًا أباه، مثبتًا نسبه فينكره ويتجاهله، مدّعيًا النسب إلى غير أبيه، أو إلى غير قبيلته.
وثانيها: أن يدعي "وهو عالم" ما ليس له من نسب، أو مال، أو حق من الحقوق، أو عمل من الأعمال، أو علم من العلوم، أو يزعم صفة فيه يستغلها ويصرف بها وجوه الناس إليه، وهو كاذب فهذا عذابه عظيم، إذ تبرأ منه النبي -صلى الله عليه وسلم-، وأمره أن يختار له مقرا في النار؛ لأنه من أهلها.
وثالثها: أن يرمِىَ بريئا بالكفر، أو اليهودية، أو النصرانية، أو بأنه من أعداء الله.
فمثل هذا يرجع عليه ما قال؛ لأنه أحق بهذه الصفات القبيحة من المسلم الغافل عن أعمال السوء وأقواله.
575;س حدیث میں اس شخص کے لیے سخت وعید اور شدید ڈراوا ہے جو ان تینوں اعمال میں سے کسی کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو ان تینوں ہی کا مرتکب ہو؟۔
اول: جو شخص اپنے حقیقی باپ کو جانتا ہو اور جس کا نسب ثابت شدہ ہو لیکن پھر بھی وہ اس کا انکار کرے اور اس سے انجان بنے اور اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے یا پھر اپنے قبیلے کے بجائے کسی اور قبیلے کی طرف اپنی نسبت کرے۔
دوم: یا پھر جانتے بوجھتے ہوئے کسی ایسے نسب، مال، حق، عمل یا علم کا دعوی کرے یا پھر اپنے آپ میں کسی ایسی صفت ہونے کا مدعی ہو جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے حالانکہ وہ اس میں جھوٹا ہو۔ ایسا کرنے کا عذاب بہت بڑا ہے کیونکہ نبی ﷺ نے اس سے اظہار برأت کیا ہے اور اسے حکم دیا ہے کہ وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے کیونکہ وہ جہنمی ہے۔
سوم: کسی برے شخص پر کفر یا یہودیت یا نصرانیت کا الزام لگائے اور یہ کہے کہ وہ اللہ کے دشمنوں میں سے ہے۔
ایسا کہنا اسی شخص ہی پر لوٹ آتا ہے کیونکہ وہ ان قبیح صفات کا اس مسلمان سے زیادہ حق دار ہے جو برائی اور اس کے برے اقوال سے غافل ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6144

 
 
Hadith   1218   الحديث
الأهمية: من السنة إذا تزوج البكرَ على الثيب: أقام عندها سبعا ثم قسم. وإذا تزوج الثيب: أقام عندها ثلاثا ثم قسم


Tema:

یہ مسنون ہے کہ جب کوئی شخص ثیبہ کی موجودگی میں کسی باکرہ (کنواری) کو بیا ہ لائے، تو اس کے ہاں سات رات تک قیام کرے اور پھر باریاں مقرر کرے اور اگر کسی ثیبہ (غیر کنواری) سے شادی کرے، تو اس کے ہاں تین رات تک قیام کرے اور پھر باریاں طے کرے۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال: «من السنة إذا تَزَوَّجَ البِكْرَ على الثَّيِّبِ: أقام عندها سبعا ثم قَسَمَ. وإذا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ: أقام عندها ثلاثا ثم قَسَمَ».
قال أبو قلابة:" ولو شِئْتُ لَقُلْتُ: إنَّ أَنَسًا رَفَعَهُ إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-».

انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ یہ مسنون ہے کہ جب کوئی شخص ثیبہ کی موجودگی میں کسی باکرہ (کنواری) کو بیاہ لائے، تو اس کے ہاں سات رات تک قیام کرے اور پھر باریاں مقرر کرے اور اگر کسی ثیبہ (غیر کنواری) سے شادی کرے، تو اس کے ہاں تین رات تک قیام کرے اور پھر باریاں طے کرے۔
ابو قلابہ کہتے ہیں کہ اگر میں چاہتا تو کہہ سکتا تھا کہ انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی ﷺ سے نقل کی ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من السنة أنه إذا تزوج البكر على الثيب، أقام عندها سبعًا يؤنسها، ويزيل وحشتها وخجلها، لكونها حديثة عهد بالزواج، ثم قسم لنسائه بالسوية.
وإذا تزوج الثيب أقام عندها ثلاثًا، لكونها أقل حاجة إلى هذا من الأولى.
وهذا الحكم الرشيد، جَاء في هذا الحديث الذي له حكم الرفع، لأن الرواة إذا قالوا: من السنة، فلا يقصدون إلا سنة النبي -صلى الله عليه وسلم-، فقال أبو قلابة الراوي عن أنس: "لو شئت لقلت إن أنسًا رفعه"؛ لأنه عندي مرفوع فهو عندي بلفظ: "من السنة" وبلفظ صريح في الرفع.
والرفع والحديث المرفوع معناه المضاف إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-، مثل قول الراوي: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كذا.
740;ہ سنت ہے کہ آدمی اگر کسی ثیبہ کی موجودگی میں کسی کنواری سے شادی کرے، تو اس سے انس والفت پیدا کرنے اور اس کے خوف و گھبراہٹ اور شرم کو دور کرنے کے لیے سات رات تک اس کے ساتھ رہے؛ کیوںکہ اس کی نئی نئی شادی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کے بعد پھر اپنی سب بیویوں کے مابین يکساں طور پر باریاں مقرر کرے۔
اور اگر شوہر دیدہ خاتون سے شادی کرے، تو پھر اس کے ہاں تین رات تک قیام کرے؛ کیوںکہ پہلی کی بہ نسبت اسے اس کی کم ضرورت ہوتی ہے۔
یہ راہ نمائی اس حدیث میں آئی ہے، جو مرفوع حدیث کے حکم میں ہے؛ کیوںکہ راوی جب کہیں کہ ”یہ سنت ہے“ تو اس سے ان کی مراد نبی ﷺ کی سنت ہی ہوتی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے راوی ابو قلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر میں چاہتا تو کہہ سکتا تھا کہ انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی ﷺ سے نقل کی ہے، اس لیے کہ یہ حدیث میرے نزدیک مرفوع کے حکم میں ہے کیوں کہ یہ حدیث میرے پاس ”مِنَ السُّنَّۃ“ (یہ سنت ہے) کے الفاظ کے ساتھ منقول ہے جو کہ نبیﷺ کی طرف منسوب کرنے کے صریح الفاظ ہیں۔
حدیثِ مرفوع سے مراد وہ حدیث ہے جس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف ہو۔ مثال کے طور پر راوی کہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح فرمایا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6145

 
 
Hadith   1219   الحديث
الأهمية: إنما الولاء لمن أعتق


Tema:

حق ’وِلاء‘ اسے حاصل ہوگا جو آزاد کرے۔

عن عائشة بنت أبي بكر-رضي الله عنهما- قالت: كانت في بريرة ثلاث سنن:
خُيِّرَتْ على زوجها حين عتقت.
وأُهْدِيَ لها لحم، فدخل علي رسول الله -صلى الله عليه وسلم- والبُرْمَةُ على النار، فدعا بطعام، فَأُتِيَ بخبز وأُدْمٌ من أدم البيت، فقال: ألم أَرَ البرمة على النار فيها لحم؟ قالوا: بلى، يا رسول الله، ذلك لحم تُصدِّق به على بريرة، فكرهنا أن نطعمك منه، فقال: هو عليها صدقة، وهو منها لنا هدية.
وقال النبي -صلى الله عليه وسلم- فيها: إنما الوَلاء لمن أعتق».

عائشہ بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے تین شرعی احکام جاری ہوئے:ایک یہ کہ وہ آزاد ہوئیں تو انہیں اپنے خاوند کی بابت اختیار دیا گیا۔ دوسرا یہ کہ انہیں بطور صدقہ کہیں سے گوشت آیا۔ رسول اللہﷺ تشریف لائے تو ہنڈیا آگ پررکھی تھی۔ آپ ﷺ نے کھانا مانگا تو آپ ﷺ کو روٹی کے ساتھ گھر والا سالن دے دیا گیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا آگ پر رکھی ہنڈیا میں گوشت نہیں پک رہا تھا؟گھر والوں نے کہا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! لیکن وہ تو وہ گوشت ہے جو بریرہ کو بطور صدقہ دیا گیا ہے اس لئے ہم نے درست نہیں سمجھا کہ آپ کو اس میں سے کھلائیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ اس کے لئے صدقہ تھا لیکن اس کی طرف سے ہمارے لئے تحفہ ہو گا۔ تیسرا یہ کہ رسول اللہﷺ نے ان کے بارے میں ہی فرمایا تھا کہ: حق ولاء اسے حاصل ہوگا جو آزاد کرے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تذكر عائشة رضي الله عنها من بركة مولاتها بريرة متيمنة بتلك الصفقة، التي قربتها منها، إذ أجرى الله تعالى من أحكامه الرشيدة في أمرها ثلاث سنن، بقيت تشريعاً عاماً على مر الدهور.
فالأولى: أنها عتقت تحت زوجها الرقيق (مغيث) فخُيِّرت بين الإقامة معه على نكاحهما الأول، وبين مفارقته واختيارها نفسها؛ لأنه أصبح لايكافئها في الدرجة، إذ هي حرة وهو رقيق، والكفاءة هنا معتبرة، فاختارت نفسها، وفسخت نكاحها، فصارت سنة لغيرها.
والثانية: أنه تُصدقَ عليها بلحم وهي في بيت مولاتها عائشة فدخل النبي صلى الله عليه وسلم واللحم يطبخ في البرمة، فدعا بطعام فأتوه بخبز وأدم من أدم البيت الذي كانوا يستعملونه في عادتهم الدائمة، ولم يأتوه بشيء من اللحم الذي تصدق به على بريرة، لعلمهم أنه لا يأكل الصدقة. فقال: ألم أر البرمة على النار فيها لحم؟ فقالوا: بلى، ولكنه قد تصدق به على بريرة، وكرهنا إطعامك منه.
فقال: هو عليها صدقة، وهو منها لنا هدية.
والثالثة: أن أهلها لما أرادوا بيعها من عائشة، اشترطوا أن يكون ولاؤها لهم لينالوا به الفخر حينما انتسب إليهم الجارية وربما حصلوا به نفعا ماديًّا، من إرث ونصرة وغيرهما فقال النبي صلى الله عليه وسلم: (إنما الولاء لمن أعتق). وليس للبائع ولا لغيره.
والولاء علاقة بين السيد المالك والعبد المملوك بعد عتقه وريته، فيرث السيد العبد إذا لم يكن له وارث أو بقي شيء بعد أن يأخذ أصحاب الفروض نصيبهم من الميراث.
593;ائشہ رضی اللہ عنہا اپنی آزاد کردہ باندی کی برکت بیان کر رہی ہیں اور اس با برکت سودے کا ذکر کررہی جس نے اسے ان کے قریب کر دیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت پر مشتمل اپنے احکامات میں سے تین کو ان کے بارے میں جاری فرمایا جو رہتے زمانے تک شرعی احکامات بن گئے۔
اول: وہ تب آزاد ہوئیں جب وہ اپنے غلام شوہر مغیث کے نکاح میں تھیں۔ انہیں اختیار دیا گیا کہ چاہے تو وہ اپنے پہلے نکاح پر ان کے ساتھ رہیں یا پھر انہیں چھوڑ دیں اور اپنے آپ کو الگ کر لیں۔ کیونکہ وہ مرتبے کے اعتبار سے اب ان کے ہم پلہ نہیں رہے تھے کیونکہ یہ آزاد تھیں اور وہ غلام اور اس معاملے میں برابری کا خیال رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے الگ ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے نکاح کو فسخ کر دیا۔ ان کا یہ عمل دوسروں کے لئے سنت بن گیا۔
دوم: ان کو بطور صدقہ گوشت دیا گیا جب کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھیں جنہوں نے انہیں آزاد کیا تھا۔ نبی ﷺ گھر آئے تو ہنڈیا میں گوشت پک رہا تھا۔ آپ ﷺ نے کھانا مانگا تو گھر والوں نے آپ ﷺ کو روٹی اور گھر کا وہ سالن دے دیا جو وہ عموما استعمال کیا کرتے تھے اور بریرہ رضی اللہ عنہا کو جو صدقے کا گوشت آیا تھا اس میں سے آپ ﷺ کو کچھ بھی نہ دیا کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ آپ ﷺ صدقہ نہیں کھاتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آگ پر چڑھی ہنڈیا میں گوشت نہیں تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ: جی بالکل ہے۔ لیکن وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو بطور صدقہ آیا ہے اس وجہ سے ہم نے اسے آپ کو کھلانا مناسب نہیں سمجھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: وہ ان کے لئے صدقہ ہے اور ان کے طرف سے ہمارے لئے ہدیہ ہو گا۔
سوم: بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکان نے جب انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیچنا چاہا تو انہوں نے شرط لگائی کہ آزاد کرنے پر حق ولاء انہی کے پاس رہے گا کیونکہ جب باندی ان کی طرف منسوب ہو گی تو یہ ان کے لئے فخر کا باعث ہو گا اور ہو سکتا ہے کہ اس سے انہیں کوئی مادی فائدہ بھی حاصل ہو جیسے وراثت اور نصرت وغیرہ۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایا: ولاء اسی کا حق ہے جس نے آزاد کیا۔ یہ بیچنے والے یا کسی اور کو نہیں ملتا۔ ولاء در اصل مالک آقا اور مملوک غلام کے مابین اس کے آزاد ہو جانے کے بعد قائم رہنے والا ایک تعلق ہے۔ اگر غلام کا کوئی وارث نہ ہو یا پھر ذوی الفروض کے میراث میں سے اپنا حصہ لے چکنے کے بعد کچھ باقی بچ جائے تو وہ آقا کو بطور میراث مل جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6159

 
 
Hadith   1220   الحديث
الأهمية: الولد للفراش، وللعاهر الحجر


Tema:

بچہ اسی کا ہوتا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے حصہ میں صرف پتھر آتے ہیں۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: «اخْتَصَمَ سعد بن أبي وقاص، وعبد بن زَمْعَةَ في غلام: فقال سعد: يا رسول الله، هذا ابن أخي عتبة بن أبي وقاص، عهد إلي أنه ابنه، انظر إلى شبهه، وقال عبد بن زمعة: هذا أخي يا رسول الله، وُلِدَ على فِرَاشِ أبي من وَلِيدَتِهِ، فنظر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إلى شَبَهِهِ، فرأى شَبَهًا بَيِّنًا بعتبة، فقال: هو لك يا عبد بن زمعة، الولدُ لِلْفِرَاشِ ولِلْعَاهِرِ الحَجَرُ. واحْتَجِبِي منه يا سَوْدَةُ. فلم يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ».

عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا ایک بچے کے بارے میں جھگڑا ہو گیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے۔ اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا بیٹا ہے۔ آپ خود میرے بھائی سے اس کی مشابہت دیکھ لیں۔ لیکن عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو میرا بھائی ہے۔ میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے اور اس کی باندی کے پیٹ کا ہے۔ آپ ﷺ نے بچے کی صورت دیکھی تو صاف عتبہ سے ملتی تھی۔ لیکن آپ ﷺ نے یہی فرمایا کہ اے عبد بن زمعہ! یہ بچہ تیرے ہی ساتھ رہے گا؛ کیوںکہ بچہ اسی کا ہوتا ہے، جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے حصہ میں صرف پتھر آتے ہیں۔ اور اے سودہ ! تو اس لڑکے سے پردہ کیا کر۔ چنانچہ اس لڑکے نے پھر کبھی سودہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كانوا في الجاهلية يضربون على الإماء ضرائب يكتسبنها من فجورهن، ويلحقون الولد بالزاني إذا ادعاه، فزنا عتبة بن أبي وقاص بأمة لزمعة بن الأسود، فجاءت بغلام، فأوصى عتبة إلى أخيه سعد بأن يلحق هذا الغلام بنسبه، فلمَّا جاء فتح مكة، ورأى سعد الغلام، عرفه بشبهه بأخيه، فأراد استلحاقه، أي أن يلحقه بأخيه، فاختصم عليه هو وعبد بن زمعة، فأدلى سعد بحجته وهي: أن أخاه أقر بأنه ابنه، وبما بينهما من شبَه، فقال عبد بن زمعة: هو أخي، ولد من وليدة أبي، يعني: أبوه سيد الأمة التي ولدته، فهو صاحب الفراش، فنظر النبي -صلى الله عليه وسلم- إلى الغلام، فرأى فيه شبها بَيِّنًا بعتبة، وقضى به لزمعه وقال: الولد للفراش، وللعاهر الزاني الخيبة والخسار، فهو بعيد عن الولد؛ لأن الأصل أنَّه تابع لمالك الأمة الذي يستحقه، وطأها بطريقة صحيحة، ولكن لما رأى شبه الغلام بعتبة، تورع -صلى الله عليه وسلم- أن يستبيح النظر إلى أخته سودة بنت زمعة بهذا النسب، فأمرها بالاحتجاب منه؛ احتياطا وتورُعاً، فالشبه والقرائن لا يلتفت لها مع وجود الفراش.
586;مانہ جاہلیت میں لوگ اپنی باندیوں پر کچھ رقم دینا لازم کر دیتے تھے جسے وہ بدکاری کرکے کماتی تھیں اور ان سے پیدا ہونے والے بچے کا اگر زانی دعوے دار ہوتا تو بچہ اس کی طرف منسوب کر دیتے تھے۔
عتبہ بن ابی وقاص نے زمانہ جاہلیت میں زمعہ بن اسود کی باندی کے ساتھ زنا کیا۔ اس سے ایک لڑکا پیدا ہو۔ عتبہ نے اپنے بھائی سعد رضی اللہ عنہ کو وصیت کی کہ وہ اس لڑکے کا نسب ان کے ساتھ ملا دیں۔ جب مکہ فتح ہوا اور سعد رضی اللہ عنہ نے اس بچے کو دیکھا تو اپنے بھائی کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے اسے پہچان گئے اور اس کے نسب کو اپنے بھائی کے ساتھ جوڑنا چاہا لیکن اس پر ان کے اور عبد بن زمعہ کے مابین جھگڑا ہو گیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی دلیل دی کہ ان کے بھائی نے یہ اقرار کیا تھا کہ وہ اس کا بیٹا ہے اور ساتھ ہی ان کے مابین موجود مشابہت(بھی اس کی دلیل ہے)۔
عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی اولاد میں سے ہے، یعنی ان کے باپ (زمعہ بن اسود) اس باندی کے مالک ہیں جس نے اس بچہ کو جنا ہے، چنانچہ وہ صاحب فراش ہوئے۔
اس پر نبی ﷺ نے لڑکے کی طرف دیکھا تو آپ ﷺ کو اس کے اور عتبہ کے مابین صاف مشابہت نظر آئی۔ لیکن آپ ﷺ نے فیصلہ فرما دیا کہ یہ زمعہ کا بیٹا ہے کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ باندی کے پیٹ سے پیدا ہونے والا بچہ اس کے مالک کے تابع ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بچہ بستر کی طرف منسوب ہوتا ہے جب کہ بدکاری کرنےوالے زناکار کے حصے میں محض محرومی اور خسارہ آتا ہے اور بچہ اس کی پہنچ سے دور رہتا ہے۔ تاہم آپ ﷺ کو اس لڑکےمیں جو عتبہ کی مشابہت نظر آئی تھی اس کی وجہ سے آپ ﷺ نے اس بات سے احتیاط کی کہ وہ اس نسب کی بنا پر اپنی بہن سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے بطور احتیاط اور ازراہِ تورع سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو اس سے حجاب کرنے کا حکم دیا۔
چنانچہ معلوم ہوا کہ ہم بستر ہونے کی موجودگی میں شباہت اور قرائن کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6160

 
 
Hadith   1221   الحديث
الأهمية: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في بنت حمزة: لا تحل لي، يحرم من الرضاع: ما يحرم من النسب، وهي ابنة أخي من الرضاعة


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے بارے میں فرمایا: وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ رضاعت کی وجہ سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں اور وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔

قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في بنت حمزة: «لَا تَحِلُّ لِي يَحْرُمُ من الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ من النَّسَبِ وهي ابنة أَخِي من الرَّضاعة».

رسول اللہ ﷺ نے حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے بارے میں فرمایا: وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ رضاعت کی وجہ سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں اور وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
رَغِبَ علي بن أبي طالب -رضي الله عنه-، من النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يتزوج بنت عمهما حمزة، فأخبره -صلى الله عليه وسلم- أنها لا تحل له، لأنها بنت أخيه من الرضاعة، فإنه -صلى الله عليه وسلم-، وعمه حمزة رضعا من (ثويبة) وهى مولاة لأبي لهب، فصار أخاه من الرضاعة، فيكون عم ابنته، ويحرم بسبب الرضاع، ما يحرم مثله من الولادة.
593;لی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے یہ چاہا کہ آپ ﷺ حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرلیں جو ان دونوں کے چچا تھے۔ نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ وہ ان کے لیے حلال نہیں ہے کیونکہ وہ آپ ﷺ کے رضاعی بھائی کی بیٹی ہیں۔ آپ ﷺ اور آپ کے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ دونوں نے ثویبہ کا دودھ پیا تھا جو ابو لہب کی آزاد کردہ باندی تھیں۔ چنانچہ اس طرح سے آپ ﷺ حمزہ کے رضاعی بھائی اور ان کی بیٹی کے چچا ہوئے۔ اور (قاعدہ یہ ہے کہ) رضاعت کی وجہ سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6162

 
 
Hadith   1222   الحديث
الأهمية: قلت: يا رسول الله، علمني دعاء، قال: قل: اللهم إني أعوذ بك من شر سمعي، ومن شر بصري، ومن شر لساني، ومن شر قلبي، ومن شر منيي


Tema:

میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی دعا سکھا دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي“ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے اور اپنی شرم گاہ کے شر سے۔

عن شكل بن حميد -رضي الله عنه- قال: قلت: يا رسول الله، عَلِّمْنِي دعاء، قال: (قل: اللهم إني أعوذ بك من شر سمعي، ومن شر بصري، ومن شر لساني، ومن شر قلبي، ومن شر مَنِيِّي).

شکَل بن حمید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی دعا سکھا دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي“ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے اور اپنی شرم گاہ کے شر سے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث يذهب شكل بن حميد -رضي الله عنه- إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- باحثًا عن خيري الدنيا والآخرة، إنه لم يطلب من النبي -صلى الله عليه وسلم- دنيا فانية، ولا حفنة من مال، ولا صاعا من طعام، ولكنه ذهب يطلب الدعاء، يريد من النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يعلمه دعاء ينتفع به في دينه ودنياه، فهذه هي حقيقة الصحابة يبتغون فضلا من الله ورضوانا، فأرشده النبي -صلى الله عليه وسلم- إلى هذا الدعاء العظيم الجليل، فقال له: "قل: اللهم إني": دعا الله -تعالى- وتوجه إليه باسمه الجامع لكل أسماء الله الحسنى "الله"، "أعوذ بك من شر سمعي": أعوذ أي: أحتمي بالله -تعالى- من شر السمع، وهو ما يقع فيه سمع الإنسان من المحرمات: كشهادة الزور، وكلام بالكفر والبهتان، والانتقاص من الدين وسائر ما يصل إلى سمع الإنسان من المحرمات، "ومن شر بصري": وهو أن يستعمله في النظر إلى المحرمات من الأفلام الخليعة ، والمناظر القبيحة، "ومن شر لساني": أي ومن كل محرم قد يخرج من اللسان كشهادة الزور، والسب، واللعن، والانتقاص من الدين وأهله، أو التكلم فيما لا يعني الإنسان، أو ترك الكلام فيما يعنيه، "ومن شر قلبي": وهو أن يعمر القلب بغير ذكر الله -تعالى-، أو أن يتوجه إلى غير الله -تعالى- بالعبادات القلبية من الرجاء والخوف، والرهبة، والتعظيم، أو يترك ما يجب عليه من صرف العبادات القلبية للرب -سبحانه وتعالى-، "ومن شر منيي": أي ومن شر الفرج وهو أن يقع فيما حرم الله عليه ، أو يوقعني في مقدمات الزنى من النظر، واللمس، والمشي، والعزم، وأمثال ذلك، فهذا الدعاء المبارك فيه حفظ الجوارح والتي هي من نعم الله -تعالى-، والنبي -صلى الله عليه وسلم- إنما أمره هنا أن يستعيذ بالله من شر هذه النعم ، ولم يأمره أن يستعيذ من هذه النعم كأن يقول: "أعوذ بالله من سمعي"، لأن هذه نعم ، وبها يعبد الله -تعالى-، فليست هي شر محض حتى يستعاذ منها ولكن يستعاذ من الشر الذي قد يتولد عنها، وحفظها يكون برعاية ما خلقت له، و أن لا يباشر بها معصية، ولا ينشر بها رذيلة، لأنه مسؤول يوم القيامة عن هذه النعم مصداقا لقوله -تعالى-: {وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا} [الإسراء: 36].
575;س حدیث میں ہے کہ شکل بن حمید رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس دنیا و آخرت کی بھلائی کی تلاش میں آتے ہیں۔ وہ نبی ﷺ سے نہ تو اس دنیائے فانی کی کسی شے کا سوال کرتے ہیں اور نہ مٹھی بھر مال یا غلے کا ایک صاع مانگتے ہیں، بلکہ دعا کے بارے میں پوچھنے کے لیے آتے ہیں۔ وہ نبی ﷺ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ ﷺ انھیں کوئی ایسی دعا سکھا دیں، جو انھیں ان کے دین و دنیا میں فائدہ دے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ایسے ہی ہوا کرتے تھے۔ وہ اللہ تعالی کے فضل اور اس کی رضا کے جویا رہا کرتے تھے۔ نبی ﷺ نے ان کی راہ نمائی اس عظیم الشان دعا کی طرف فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہو: ”اللهم“ اس میں اللہ کے اس نام سے دعا مانگی جارہی ہے اور اس کی طرف متوجہ ہوا جا رہا ہے، جو اس کے تمام اسمائے حسنی کو جامع ہے، یعنی اللہ۔
”أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي“ 'أعوذ' یعنی میں اللہ تعالی کے ذریعے سماعت کے شر سے اپنے آپ کو بچاتا ہوں۔ اس سے مراد وہ تمام حرام باتیں ہیں، جو انسان کے کان میں پڑتی ہیں، جیسے جھوٹی گواہی، کفر و بہتان پر مشتمل کلام اور دین کی تحقیر اور وہ ساری حرام باتیں جو انسان کی سماعت سے ٹکراتی ہیں۔
”وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي“ آنکھ کے شر سے مراد یہ ہے کہ انسان اسے حرام اشیا کو دیھکنے میں لگائے، جیسے حیا باختہ فلمیں اور برے مناظر۔
”وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي“ یعنی زبان سے نکلنے والی ہر حرام بات سے، جیسے جھوٹی گواہی، گالی گلوج، لعنت، دین اور دین دار لوگوں کی توہین و تحقیر، لایعنی باتوں میں لگنا اور سود مند باتوں کو چھوڑنا وغیرہ۔
”وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي“ دل کے شر سے مراد یہ ہے کہ انسان) دل کو اللہ کے ذکر کی بجائے دوسری اشیا سے آباد کرے یا پھر قلبی عبادات جیسے امید و بیم اور خوف و تعظیم کے ساتھ اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کا رخ کرے یا پھر رب تعالی کے حضور جن قلبی عبادات کا بجا لانا اس پر واجب ہو انھیں ادا نہ کرے۔ "ومن شر منيي": یعنی شرم گاہ کے شر سے۔ مراد یہ کہ کسی ایسی شے میں واقع ہونے سے (اللہ کی پناہ مانگنا) جسے اللہ نے اس کے لیے حرام کیا ہو یا (پھر معنی یہ ہیں کہ) مجھے زنا کے مقدمات جیسے دیکھنا، چھونا، اس کی طرف چل کر جانا اور ارادہ کرنا وغیرہ سے محفوظ رکھ۔
اس دعا میں اعضا کی حفاظت کا سوال ہے، جو کہ اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں۔ نبی ﷺ نے انھیں یہاں اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالی سے اس نعمت کے شر سے پناہ مانگیں، نہ کہ خود اس نعمت سے، بایں طور کہ وہ یوں کہیں کہ میں اللہ سے اپنی سماعت کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ کیوں کہ یہ اعضا تو نعمتیں ہیں اور انہی کے ذریعے اللہ کی عبادت ہوتی ہے۔ یہ کوئی شر محض نہیں کہ ان سے پناہ مانگی جائے، بلکہ پناہ تو ان سے جنم لینے والے شر سے مانگی جائے گی۔ (واضح رہے کہ) ان کی حفاظت اس طرح سے ہوتی ہے کہ ان امور کی رعایت کی جائے جن کے لیے انھیں پیدا کیا گیا ہے، ان سے نہ کوئی معصیت کا کام کیا جائے اور نہ ان کے ذریعے سے کسی برائی کو فروغ دیا جائے۔ کیوں کہ روز قیامت انسان سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا، اللہ تعالی کے اس فرمان کے بمصداق کہ :﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا﴾ ”جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو، اس کے پیچھے مت پڑ۔ کیوں کہ کان، آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے“۔ (سورہ بنی اسرائیل: 36)

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6163

 
 
Hadith   1223   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ، وَضَعَ يَدَهُ اليُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ قِني عذابك يوم تبعث عبادك


Tema:

رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال مبارک کے نیچے رکھتے اور پھر کہتے: ”اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ اے اللہ! مجھے اس دن اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔

عن حذيفة بن اليمان -رضي الله عنهما- وحفصة بنت عمر بن الخطاب -رضي الله عنهما- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم-كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ، وَضَعَ يَدَهُ اليُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ، ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ قِني عذابك يوم تبعث عبادك». وفي رواية: أنه كان يقوله ثلاث مرات.

حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال مبارک کے نیچے رکھتے اور پھر کہتے: ”اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ اے اللہ! مجھے اس دن اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ ایسا تین دفعہ کہا کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث يتناول سنة فعلية وقولية من سنن النبي -صلى الله عليه وسلم-، وكلا السنتين من سنن النوم.
فالسنة الفعلية هي هيئة نوم النبي -صلى الله عليه وسلم-، فقد وصف لنا حذيفة -رضي الله عنه- هيئة نوم رسول الله فقال: "كان إذا أراد أن يرقد وضع يده اليمنى تحت خده" فيه دليل على نوم النبي -صلى الله عليه وسلم- على جنبه الأيمن، لأنه إذا وضع يده اليمنى تحت خده كان نائمًا على جنبه الأيمن لا محالة، ويدل على ذلك الروايات الأخرى.
ولكن هذا الحديث زاد وضع اليد تحت الخد، فمن قدر على فعله فعله تأسيًا، ومن اكتفى بالنوم على الشق الأيمن فإنه يكفيه، ويدل على ذلك أن بعض الروايات إنما وردت بنومه -صلى الله عليه وسلم- على جنبه الأيمن بدون ذكر وضع اليد تحت الخد، فلربما كان يفعله النبي -صلى الله عليه وسلم- أحيانًا، ويشير إليه ذكر بعض الصحابة له وعدم ذكر البعض الآخر، ولكن جميع الروايات اتفقت على النوم على الشق الأيمن فدل على أنّ هذا هو السنة المتعينة.
"ثم يقول" ثم تدل على الترتيب والتراخي، وهو الملائم لحال من أراد النوم، فكان يضطجع أولا على شقه الأيمن، ويضع يده اليمنى تحت خده الأيمن، ثم يقول الذكر بعد ذلك ولا يشترط أن يقول الإنسان هذا الذكر مباشرة عقب الاضطجاع لأن "ثم" تدل على التراخي، فلو تكلم الإنسان مع زوجته ثم قال الذكر بعد ذلك فلا بأس.
"اللهم قني عذابك يوم تبعث عبادك" احفظني من العذاب يوم البعث، ولفظ "قني" يشمل الوقاية من الله تفضلا وإحسانًا، وتوفيق العبد لفعل ما يوجب الجنة والنجاة من العذاب؛ لأن العموم هو الأصل ولا يصار للتخصيص إلا لدليل، واللفظ يستوعب المعنيين.
وقوله "عذابك" يعم كل ألوان عذاب ذلك اليوم، ويدخل فيه عذاب النار دخولًا أوليًّا، وهذا اليوم سماه الله -تعالى- بيوم القارعة والصاخة والطامة والقيامة، مما يدل على هوله وشدته فكان المناسب دعاء الله -تعالى- النجاة من عذاب هذا اليوم، وقوله "عذابك" أضاف العذاب إلى الله -تعالى- ليدل على هوله وشدته وعظمته، وأيضًا فيه معنى التفويض إذ الرب -سبحانه- هو المتصرف في العبيد، وفي هذا العذاب تصرف المالك المسيطر، واللفظ يشمل المعنيين.
وانظر إلى المناسبة اللطيفة بين النوم الذي هو أخو الموت أو الموتة الصغرى والبعث الذي يعقب الموت، فالحديث فيه مناسبة لطيفة دقيقة تجمع بين الشيء وتابعه، وهذا من جلال وجمال ألفاظ النبي -صلى الله عليه وسلم-.
575;س حدیث میں نبی ﷺ کی سنتوں میں سے ایک فعلی اور قولی سنت کا بیان ہے اور دونوں سنتیں نیند سے متعلق سنتوں میں سے ہیں۔فعلی سنت: اس سے مراد وہ ہیئت ہے جس پر نبی ﷺ سویا کرتے تھے۔حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی ﷺ کے سونے کے انداز کے بارے میں بتایا کہ آپ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار مبارک کے نیچے رکھ لیا کرتے تھے۔ اس میں آپ ﷺ کے دائیں پہلو پر سونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ جب اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار تلے رکھتے تھے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ لامحالہ اپنے دائیں پہلو پر سوتے تھے اور دیگر روایات بھی اس پر دلالت کرتی ہیں(کہ آپ ﷺ دائیں پہلو پر سویا کرتے تھے)۔ تاہم اس حدیث میں ایک بات زائد ہے کہ آپ ﷺ رخسار تلے اپنا ہاتھ رکھا کرتے تھے۔چنانچہ جو شخص ایسا کرسکتا ہو وہ آپ ﷺ کی پیروی میں ایسا کرے اور جو شخص دائیں پہلو کے بل لیٹنے پر اکتفاء کر لے تو یہ بھی اس کے لیے کافی ہو گا کیونکہ بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ ﷺ اپنے دائیں پہلو پر سویا کرتے تھے اور ان میں رخسار کے نیچے ہاتھ رکھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ شاید نبی ﷺ ایسا بعض اوقات کیا کرتے تھے۔ اس کی طرف اشارہ اس بات سے ہوتا ہے کہ کچھ صحابہ نے اسے ذکر کیا ہے اور بعض نے اسے ذکر نہیں کیا۔ تاہم تمام روایات کا دائیں پہلو کے بل سونے پر اتفاق ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی عین سنت ہے۔
”پھر آپ ﷺ فرماتے“ یہاں ثم کا لفظ ترتیب اور تراخی پر دلالت کرتا ہے اور یہ اس شخص کی حالت سے مناسبت رکھتا ہے جس کا سونے کا ارادہ ہو۔ ایسا شخص پہلے اپنے داہنے پہلو پر لیٹے گا اور اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں گال کے نیچے رکھے گا پھر اس کے بعد دعا پڑھے گا۔ یہ شرط نہیں ہے کہ انسان لیٹنے کے فورا بعد یہ دعا کرے کیونکہ ”ثم“ کا لفظ تاخیر پر دلالت کرتا ہے۔ چنانچہ اگر انسان اپنی بیوی کے ساتھ بات چیت کرتا رہے اور پھر اس کے بعد دعا پڑھے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ”اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ یعنی قیامت کے دن مجھے عذاب سے محفوظ رکھنا۔ لفظ ”قنی“ میں اللہ کے فضل و احسان کی بدولت حفاظت کا معنی ہے یا یہ لفظ بندے کو ایسے فعل کی توفیق دینے پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے اور عذاب سے نجات مل جاتی ہے۔ کیونکہ اصل عموم ہی ہوتا ہے اور تخصیص کی طرف صرف اسی وقت جایا جاتا ہے جب کوئی دلیل ہو اور جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں یہ لفظ دونوں ہی معانی کا احاطہ کرتا ہے۔ " عذابك "۔ یہ عذاب کی تمام اقسام کو شامل ہے۔ اس میں جہنم کا عذاب بدرجہ اول داخل ہے۔ تاہم اس دن کو اللہ نے القارعة، الصاخة، الطامة اور القیامۃ جیسے ناموں سے موسوم کیا ہے۔ اور یہ بات اس کی ہولناکی اور سختی پر دلالت کرتی ہے چنانچہ مناسب یہ ہے کہ اللہ سے اس دن کے عذاب سے نجات کی دعا کی جائے۔
”عذابك“ اس میں نبی ﷺ نے عذاب کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کی تاکہ اس سے اس کی ہولناکی، شدت او عظمت کی نشاندہی ہو سکے۔ اسی طرح اس میں سپردگی کا معنی بھی ہے کیونکہ بندوں میں صرف اللہ ہی کا اختیارِ تصرف چلتا ہے اور اس عذاب پر اس غالب و مالک کا تصرف ہے۔ لفظ دونوں ہی معانی (عذاب کی سختی اورسپردگی) کو شامل ہے۔
اس لطیف مناسبت پر غور کریں جو نیند جو کہ موت کی بہن یا چھوٹی موت ہے اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے مابین ہے۔ حدیث میں شے (موت) اور اس کے تابع (بعث بعد الموت) کے مابین بہت ہی لطیف اور باریک قسم کی مناسبت کا بیان ہے اور یہ بات نبی ﷺ کے الفاظ کی عظمت و جمال کی دلیل ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6167

 
 
Hadith   1224   الحديث
الأهمية: كان إذا رأى الهلال قال اللهم أهله علينا بالأمن والإيمان


Tema:

نبی اکرم ﷺ جب چاند دیکھتے، تو یہ دعا پڑھتےتھے: ”اللّهمَّ أهِلَّهُ عليْنا بالأمْن والإيمان“ اے اللہ! اس چاند کو ہم پر، امن اور ایمان کے ساتھ طلوع فرما۔

عن طلحة بن عبيد الله -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كانَ إذا رأى الهلالَ، قال: «اللّهمَّ أهِلَّهُ عليْنا بالأمْن والإيمان، وَالسَّلامَةِ وَالإسلامِ، ربِّي وربُّكَ اللهُ، هِلالُ رُشْدٍ وخيرٍ».

طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب چاند دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: ”اللّهمَّ أهِلَّهُ عليْنا بالأمْن والإيمان، وَالسَّلامَةِ وَالإسلامِ، ربِّي وربُّكَ اللهُ، هِلالُ رُشْدٍ وخيرٍ“ اے اللہ! اس چاند کو ہم پر، امن اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ طلوع فرما۔ (اے چاند!) میرا اور تیرا رب اللہ ہی ہے۔ اے اللہ! یہ ہدایت اور بھلائی کا چاند ہو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر طلحة بن عبيدالله -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان إذا رأى الهلال من الليلة الأولى أوالثانية أوالثالثة, قال هذا الدعاء الجليل, الذي يشتمل على سؤال الله -تعالى- أن يطلعه بالأمن من المخاوف الدينية والدنيوية، ودوام الإيمان وثباته، ودفع ما يزيغ عنه، كما يشتمل على سؤال الله تعالى السلامة والإسلام، منبِّها بذكر الأمن والسلامة على طلب دفع كل مضرة، وبالإيمان والإسلام على جلب كل منفعة، ثم يختتم هذا الدعاء مخاطبا الهلال بقوله: "ربي وربك الله"، إشارة إلى تنزيه الخالق عن مشاركة غيره له في تدبير خلقه، داعيًا الله -تعالى- أن يكون هلال هدى وخير.
591;لحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ نبی ﷺ جب کبھی پہلی یا دوسری یا تیسری رات کا چاند دیکھتے، تو اس اہم دعا کو پڑھتے، جس میں اللہ سے یہ مانگا گیا ہے کہ وہ اس چاند کو اس طرح طلوع فرمائے کہ دینی اور دنیوی تشویش ناک امور سے امن و امان نصیب ہو، ایمان قائم و دائم رہے اور ان تمام امور کا خاتمہ ہوجائے جو ایمان میں کج روی کا باعث بنیں، نیز اس میں یہ بھی مانگا گیا ہے کہ سلامتی اور اسلام کی دولت سے نوازدے۔ امن و سلامتی کے ذکر سے ہر قسم کے ضرر کو دور کرنے کی دعا اور ایمان و اسلام کے ذکر سے ہر نفع بخش چیز کے حصول کی جانب توجہ مبذول کرائی جارہی ہے۔ پھر دعا کے آخر میں چاند سے خطاب کرتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ ”میرا اور تیرا پروردگار ایک اللہ ہی ہے“، جس میں اس بات کا اشارہ پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ، اپنی مخلوق کی تدبیر میں غیر اللہ کی شراکت و ساجھے داری کے تمام عیوب و نقائص سے منزہ و پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا مانگی جارہی ہے کہ یہ چاند ہدایت اور بھلائی کا باعث بنے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6177

 
 
Hadith   1225   الحديث
الأهمية: كان رجل يقرأ سورة الكهف، وعنده فرس مربوط بشطنين


Tema:

ایک صحابی رسول سورہ کھف کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کے نزدیک ایک گھوڑا دو رسیوں میں بندھا ہوا تھا۔

عن البراء بن عازب –رضي الله عنهما- قال: كانَ رجلٌ يَقرَأُ سُورةَ الكهفِ، وعندَه فَرَسٌ مَربُوطٌ بِشَطَنَيْنِ، فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدْنُو، وجَعلَ فَرَسُه يَنفِرُ منها، فلمّا أصبحَ أتَى النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكرَ ذلك له، فقالَ: «تِلكَ السَّكِينةُ تَنَزَّلَتْ للقُرآنِ».

براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک صحابی سورہ کھف کی تلاوت کررہے تھے اور ان کے نزدیک ایک گھوڑا دو رسیوں میں بندھا ہوا تھا۔ چنانچہ انھیں ایک بادل نے ڈھانپ لیا اور ان کے نزدیک سے نزدیک تر ہونے لگا۔ ان کا گھوڑا اس کی وجہ سے بدکنے لگا۔ پھر جب صبح ہوئی، تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ 'سكينت' تھی، جو تلاوت قرآن مجید کی وجہ سے اتری تھی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكر البراء بن عازب -رضي الله عنهما- قصة عجيبة حصلت زمن النبي -صلى الله عليه وسلم-، حيث كان رجل يقرأ سورة الكهف وإلى جانبه فرس مربوطة بحبل، فغطَّاه شيء مثل الظلة؛ وجعل يقترب منه ويقترب، ففزعت الفرس مما رأته ونفرت، فلما أصبح الرجل أتى النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- فذكر ذلك، فبيَّن له النبي -صلى الله عليه وسلم- أن تلك السكينة تنزلت عند قراءة القرآن، كرامة لهذا الصحابي الذي كان يقرأ، وشهادة من الله -تعالى- أن كلامه حق.
والرجل هو أُسيد بن حُضير -رضي الله عنه-.
576;راء بن عازب رضی اللہ عنہ، عہد نبوی ﷺ میں وقوع پذیر ہونے والے ایک تعجب خیز قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ایک صحابی، سورہ کھف کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کے ایک جانب گھوڑا رسی سے بندھا ہوا تھا کہ اچانک سایہ جیسی کسی چیز نے انھیں ڈھانک لیا اور ان کے قریب تر ہونے لگی۔ اس کو دیکھ، ان کا گھوڑا خوف زدہ ہو کر بدکنے لگا۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو یہ صحابی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعے کا تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ نے انھیں بتایا کہ قرآن مجید کی تلاوت کے موقع پر نازل ہونے والی یہ سکینت تھی، جو قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے صحابی کے فضل و شرف اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس بات کی گواہی کےاظہار کے طور پر نازل ہوئی کہ اس کا نازل کردہ کلام (قرآن مجید) برحق ہے۔ وہ صحابی اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ تھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6178

 
 
Hadith   1226   الحديث
الأهمية: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أجود الناس


Tema:

رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے۔

عن عبدالله بن عباس -رضي الله عنهما- قال: «كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أَجْوَدَ الناسِ، وكان أَجْوَدَ ما يكونُ في رمضانَ حِينَ يَلْقاهُ جبريلُ، وكان يَلْقاهُ في كلِّ ليلة مِن رمضانَ فَيُدارِسُه القرآن، فَلَرسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- أجْوَدُ بالخير من الريح المُرسَلة».

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوتے تھے جب جبریل عليہ السلام آپ ﷺ سے ملاقات کرتے،اور جبریل عليہ السلام آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے تھے اور قرآن کا دور کراتے تھے،تو اس وقت رسول اللہ ﷺ خير کے کاموں میں تيز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتےتھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أجود الناس"، أي: أكثرهم جوداً، بماله وبدنه وعلمه ودعوته ونصيحته وكل ما ينفع الخلق، "وكان أجود ما يكون في رمضان"؛ لأن رمضان شهر الجود، يجود الله فيه على العباد، والعباد الموفقون يجودون على إخوانهم،"حين يلقاه جبريل"، أي: وقت لقائه إياه، وقوله: "وكان جبريل يلقاه في كل ليلة من رمضان فيدارسه القرآن"، وكان النبي -صلى الله عليه وسلم- ينزل عليه جبريل في رمضان كل ليلة يدارسه القرآن من أجل أن يثبته في قلبه، وأن يحصل الثواب بالمدارسة بينه وبين جبريل، فكان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حين يلقاه جبريل فيدارسه القرآن أجود بالخير من الريح المرسلة، أي: أنه يسارع إلى الخير -عليه الصلاة والسلام- ويجود به حتى إنه أسرع من الريح المرسلة، يعني: التي أرسلها الله -عز وجل- فهي سريعة عاصفة، ومع ذلك فالرسول -صلى الله عليه وسلم- أجود بالخير من هذه الريح في رمضان.

Esin Hadith Caption Urdu


” رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے“ یعنی آپ ﷺ اپنے جسم ،مال، علم، دعوت، نصيحت وخيرخواہی اور دوسروں کو فائدہ پہونچانے والی ہر چيز ميں سب سے زیادہ سخی تھے۔ '”اور آپ سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوتے تھے“ کيونکہ رمضان سخاوت کا مہينہ ہے، اس میں اللہ اپنے بندوں پر سخاوت کرتا ہے اور توفیق یافتہ بندے اپنے بھائيوں پر سخاوت کرتے ہيں۔ ”جبریل عليہ السلام آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے تھے اور قرآن کا دور کراتے تھے“ يعنی رمضان کے مہينے ميں ہر رات کو جبریل عليہ السلام نبی ﷺ کے پاس آکر آپ کو قرآن کا دور کراتے تھے تاکہ قرآن آپ کے دل ميں راسخ ہو جائے اور قرآن کے پڑ ھنے پڑھانے سے ثواب بھی حاصل ہوجائے، تو جب جبریل عليہ السلام آپ ﷺ سے ملاقات کرتے تو آپ ﷺ خير کے کاموں میں تيز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔ يعنی آپ ﷺ بھلائی کے کاموں کی طرف سبقت کرتے اور خوب سخاوت کرتے تھے حتی کہ اللہ کی طرف سے بھيجی ہوئی ہوا سے بھی زيادہ تيز ہوتے تھے۔ حالانکہ يہ ہوا بہت تيز وتند ہوتی ہے، ليکن باوجود اس کے رسول اللہ ﷺ رمضان کے مہينے ميں خير کے کاموں میں تيز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6179

 
 
Hadith   1227   الحديث
الأهمية: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أحسن الناس خلقًا


Tema:

رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق کے حامل تھے۔

عن أنس -رضي الله عنه- قَالَ: كَانَ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- أحسنَ النَّاس خُلُقاً.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق کے حامل تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بيان ما كان النبي -صلى الله عليه وسلم- عليه من حسن الخلق وكرم الشمائل والتواضع، لحيازته جميع المحاسن والمكارم وتكاملها فيه.
740;ہ نبی ﷺ کے حسن اخلاق اور آپ ﷺ کی عمدہ صفات و تواضع کا بیان ہے کیونکہ آپ ﷺ کی شخصیت تمام محاسن اور عمدہ صفات کو جامع تھی اور ان میں درجہ کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6180

 
 
Hadith   1228   الحديث
الأهمية: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا ذهب ثلث الليل قام فقال يا أيها الناس اذكروا الله


Tema:

جب ایک تہائی رات گزر جاتی تو رسول اللہ ﷺ اٹھتے اور فرماتے: اے لوگو! اللہ کا ذکر کرو۔

عن أبي بن كعب -رضي الله عنه-: كان رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- إذا ذَهَبَ ثُلثُ الليلِ قامَ، فقال: "يا أيها الناسُ، اذكروا اللهَ، جاءت الرَّاجِفَةُ، تَتْبَعُها الرَّادِفَةُ، جاءَ الموتُ بما فيه، جاءَ الموتُ بما فيه"، قلتُ: يا رسول الله، إني أُكْثِرُ الصلاةَ عليكَ، فكم أجعلُ لكَ من صلاتِي؟ فقالَ: "ما شِئتَ"، قلتُ: الرُّبُعَ؟، قالَ: "ما شئتَ، فإنْ زِدتَ فهو خيرٌ لكَ"، قلتُ: فالنّصفَ؟، قالَ: "ما شئتَ، فإن زِدتَ فهو خيرٌ لكَ"، قلتُ: فالثلثين؟ قالَ: "ما شئتَ، فإن زدتَ فهو خيرٌ لكَ"، قلتُ: أجعلُ لكَ صلاتِي كُلَّها؟ قالَ: "إذاً تُكْفى هَمَّكَ، ويُغْفَرَ لكَ ذَنبُكَ".

ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ایک تہائی رات گزر جاتی تو رسول اللہ ﷺ اٹھتے اور فرماتے: اے لوگو! اللہ کا ذکر کرو۔ بھونچال آیا ہی چاہتا ہے، اس کے پیچھے ایک اور بھونچال آئے گا۔موت اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ آنے کے لیے تیار کھڑی ہے، موت اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ آنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں آپ پر کثرت کے ساتھ درود بھیجتا ہوں۔ میں اپنی دعا کا کتنا حصہ آپ پر درود کے لیے مخصوص کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جتنا تم چاہو۔ میں نے پوچھا: چوتھائی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جتنا تم چاہو، اگر تم زیادہ کر دو تو یہ تمہارے لیے اچھا ہو گا۔ میں نے پوچھا: نصف؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: جتنا تم چاہو۔ اگر تم زیادہ کر دو تو تمہارے لیے بہتر ہو گا۔ میں نے پوچھا: دو تہائی؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: جتنا تم چاہو۔ اگر تم زیادہ کر دو تو تمہارے لیے بہتر ہو گا۔ میں نے پوچھا کہ: میں اپنی پوری دعا ہی آپ پر درود کے لیے مخصوص کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (اگر تم ایسا کرو گے ) تو پھر یہ تمہارے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوجائے گا اور تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكر في أول الحديث أن النبي –صلى الله عليه وسلم- كان إذا قام من ثلث الليل، قال منبهاً لأمته من الغفلة، محرضاً لها على ما يوصلها لمرضاة الله سبحانه من كمال رحمته "يا أيها الناس اذكروا اللّه"، أي: باللسان والجنان ليَحمِل ما يحصل من ثمرة الذكر على الإكثار من عمل البرّ وترك غيره.
وفي الحديث أيضاً أن السائل قد يكون له دعاء يدعو به لنفسه، فيمكن أن يجعل ثُلثَه دعاءً للنبي -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- ، ويمكن أن يجعل له شَطْرَه، ويمكن أن يكون جميعُ دعائِه دعاءً للنبي، مثل أن يُصلِّي عليه بدلَ دعائه. وقد ثبتَ أنه: "من صلَّى عليه مرة صلَّى الله عليه عشراً" أخرجه مسلم من حديث أبي هريرة، فيكون أجر صلاته كافياً له، ولهذا قال: "يَكفِيْ همَّك ويَغفِر ذنبَك"، أي: إنك إنما تطلب زوالَ سبب الضرر الذي يُعقِب الهمَّ ويُوجب الذنب، فإذا صليتَ علي بدل دعائك حصل مقصودك، ويحتمل هذا الحديث أن المراد أن يشركه معه في الدعاء، فكأنه قال: كلما دعوت لنفسي صليت عليك، ولا يدل على الاكتفاء بالصلاة عن الدعاء، بل يجمع بينهما عملًا بجميع النصوص.
581;دیث کے آغاز میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی ﷺ رات کے تہائی حصے میں جب اٹھتے تو اپنی امت کو غفلت سے بیدار کرنے کے لیے اور انہیں اس عمل کے ترغیب دینے کے لیے جو اللہ کی خوشنودی اور اس کی رحمت کاملہ کا باعث ہوتا ہے فرماتے: اے لوگو! اللہ کا ذکر کرو۔یعنی دل و زبان سے اللہ کا ذکر کرو تاکہ ذکر کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ عمل خیر کرنے کی انگیخت ملے اوربرے اعمال چھوٹ جائیں۔
حدیث میں اس بات کا بھی بیان ہے کہ دعا مانگنے والا بعض اوقات اپنے لیے دعا کرتا ہے۔ چنانچہ اس کے لیے ممکن ہے کہ وہ اپنی دعا کا تہائی یا نصف حصہ نبی ﷺ پر درود بھیجنے کے لیے مخصوص کر دے یا پھر اپنی ساری دعا ہی کو نبی ﷺ کے لیے درود بنا دے۔ مثلا دعا کرنے کے بجائے آپ ﷺ پر درود بھیجے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: جو آپ ﷺ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالی اس پر دس دفعہ رحمت کا نزول فرماتا ہے۔ (صحیح مسلم)۔ اس کے اس درود بھیجنے کا اجر اس کے لیے کافی ہوجائے گا۔ اسی لیے فرمایا: ”يَكفِيْ همَّك ويَغفِر ذنبَك“ یعنی تم اس ضرر رساں شے کو دور کرنا چاہتے ہو جو غم زدہ کرتی ہے اور گناہ کا باعث ہوتی ہے۔ جب تم اپنی دعا کے بجائے میرے اوپر درود بھیجو گے تو تمہیں تمہارا مقصد حاصل ہوجائے گا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس حدیث کا مقصد آپ ﷺ کو اپنی دعا میں شریک کرنا ہو۔ گویا کہ ان کا کہنا تھا کہ: میں جب بھی دعا کروں گا آپ پر درود بھیجوں گا۔ اس میں اس معنی پر دلالت نہیں ہے کہ دعا کے بجائے صرف درود ہی پر اکتفاء کیا جائے بلکہ تمام نصوص پر عمل کرتے ہوئے دعا اور درود دونوں کو جمع کیا جائے گا۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6181

 
 
Hadith   1229   الحديث
الأهمية: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يتحرى صوم الإثنين والخميس


Tema:

اللہ کے رسول ﷺ سوموار اور جمعرات کا روزہ خاص اہتمام سے رکھتے تھے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: كانَ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- يَتَحرّى صومَ الإثنينِ والخميسِ.

عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ سوموار اور جمعرات کا روزہ خاص اہتمام سے رکھتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر  أم المؤمنين عائشة -رضي الله عنها- عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أنه كان يجتهد ويتقصد صوم الاثنين والخميس؛ لأن الأعمال تعرض فيهما على الله -تعالى-، فأحبَّ -صلى الله عليه وسلم- أن يُعرض عمله وهو صائم, ولأنه -تعالى- يغفر فيهما لكل مسلم إلا المتشاحنين كما ورد في الأحاديث الأخرى.
575;م المؤمنين عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ کے رسول صلی اللہ عليه وسلم کے بارے میں خبر دے رہی ہیں کہ سوموار اور جمعرات کے روزے کا آپ ﷺ بطور خاص اہتمام فرماتے تھے۔ کيوںکہ ان دنوں ميں اعمال اللہ کے ہاں پيش کیے جاتے ہيں، لہٰذا آپ ﷺ کو يہ پسند تھا کہ آپ کے اعمال اللہ کے ہاں اس حالت میں پيش ہوں کہ آپ روزے سے ہوں، نیز اللہ تعالیٰ ان دنوں ميں ہر مسلمان کو معاف کرديتا ہے سواے ان دو آدمیوں کے جو آپس میں بغض وکينہ رکھنے والے ہوں، جیساکہ دوسری احادیث میں اس کا ذکر آیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6183

 
 
Hadith   1230   الحديث
الأهمية: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعوذ من الجان، وعين الإنسان


Tema:

رسول اللہ ﷺ جنوں اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- قال: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يَتَعَوَّذُ مِنَ الجَانِّ، وعَيْنِ الإنسان، حتى نَزَلَتْ المُعَوِّذتان، فلمَّا نَزَلَتا، أخذ بهما وتركَ ما سواهما.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ، جنوں اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، یہاں تک کہ معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) نازل ہوئیں۔ جب یہ سورتیں نازل ہو گئیں، تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو اختیار کر لیا اور ان کے علاوہ دوسری چیزوں کے ذریعہ سے پناہ مانگنا چھوڑ دیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يفيد الحديث أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان  يعتصم بالله -تعالى- من شر الجان وعين الإنسان الحاسد، عن طريق الأدعية والأذكار، بأن يقول: أعوذ بالله من الجان وعين الإنسان، حتى نزلت المعوذتان، فلما نزلتا أخذ بهما في التعوذ غالبًا، وترك ما سواهما من التعاويذ والرقيات؛ لاشتمالهما على الجوامع في المستعاذ به، والمستعاذ منه.
575;س حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ دعاؤں اور ذکر و اذکار کا اہتمام کرتے ہوئے جنات کی شرانگیزیوں اور انسانوں کی حاسدانہ نظروں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب فرماتے تھے اور یوں فرمایا کرتے تھے کہ: میں جنات اور انسانوں کی نظر بد سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں، تا آں کہ معوذتین کا نزول ہوگیا۔ جب یہ نازل ہو گئیں، تو آپ ﷺ پناہ طلب کرنے میں بیش تر انھیں کو اختیار فرما لیا اور ان کے علاوہ دیگر تمام تعاویذ اور جھاڑ پھونک کے طور پر پڑھی جانے والی دعاؤں اور اذکار کو چھوڑ دیا؛ کیوں کہ ان سورتوں میں ان تمام دعاؤں اور اذکار کو شامل کردیا گیاہے، جن کے ذریعے پناہ طلب کی جاسکتی ہے اور جن سے پناہ طلب کرنا ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6184

 
 
Hadith   1231   الحديث
الأهمية: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يفطر قبل أن يصلي على رطبات


Tema:

رسول اللہ ﷺ نماز (مغرب) ادا کرنے سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار کرتے تھے۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال: كان رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- يُفطِر قبْل أن يصلي على رُطَبات, فإن لم تكنْ رُطَباتٌ فَتُمَيْراتٌ, فإن لم تكنْ تُمَيْراتٌ, حَسَا حَسَواتٍ مِن ماء.

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز (مغرب) ادا کرنے سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار کرتے تھے۔ اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں، تو چند خشک کھجوروں سے اور اگر خشک کھجوریں بھی میسر نہ ہوتیں، تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أنس -رضي الله عنه- في هذا الحديث أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان يفطر -إذا كان صائماً-، على رطبات قبل أن يصلي المغرب، فإن لم يجد رطبات، فإنه يفطر على تمرات، فإن لم تكن عنده  تمرات، شرب شربات من ماء، وبدايته -عليه الصلاة والسلام- بالتمر أو الماء مناسب لأن الصائم تكون معدته خالية فلا يبدأ بالطعام الدسم لئلا يتضرر.
575;نس بن مالک رضی اللہ عنہ اس حدیث میں یہ خبر دے رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب روزہ سے ہوتے، تو نماز مغرب سے قبل چند تر کھجوروں سے افطار فرمایا کرتے تھے۔ اگر تر کھجور میسر نہ ہوتیں، تو خشک کھجور سے افطار فرماتے اور اگر وہ بھی میسر نہ ہوتیں، تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔ کھجور اور پانی سے روزہ افطار کرنے میں رسول اللہ ﷺ کی اختیار کردہ ترتیب نہایت موزوں اور مناسب ہے؛ اس لیے کہ روزے دار کا معدہ خالی ہوتا ہے۔ چنانچہ اسے چاہیے کہ وہ مرغن عذا سے کھانے کی شروعات نہ کرے؛ تاکہ وہ کسی ضرر و نقصان کا شکار نہ ہونے پائے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6185

 
 
Hadith   1232   الحديث
الأهمية: كان غلام يهودي يخدم النبي -صلى الله عليه وسلم-


Tema:

ایک یہودی لڑکا نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔

عن أنس -رضي الله عنه- قال: كَانَ غُلاَمٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبيَّ -صلى الله عليه وسلم- فَمَرِضَ، فَأتَاهُ النَّبيُّ -صلى الله عليه وسلم- يَعُودُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأسِهِ، فَقَالَ لَه: «أسْلِمْ» فَنَظَرَ إِلَى أبِيهِ وَهُوَ عِنْدَهُ؟، فَقَالَ: أَطِعْ أَبَا القَاسِمِ، فَأسْلَمَ، فَخَرَجَ النَّبيُّ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ يَقُول: «الحَمْدُ للهِ الَّذِي أنْقَذَهُ منَ النَّارِ».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ: ایک یہودی لڑکا نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بیمار ہو گیا تو آپ ﷺ اس کی عیادت کے لئے تشریف لائے۔ آپ ﷺ اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا: اسلام قبول کرلو۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے پاس ہی تھا۔ اس نے کہا: ابو القاسم کی اطاعت کرو۔ اس پر اس لڑکے نے اسلام قبول کر لیا۔ اس پر آپ ﷺ یہ کہتے ہوئے باہر تشریف لے آئے کہ: تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے اس کو جہنم سے نجات دے دی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في الحديث أن فتى صغيرا من اليهود الذين كانوا في المدينة كان يخدم النبي -صلى الله عليه وسلم-، فمرض فزاره النبي -صلى الله عليه وسلم- فعرض عليه أن يُسلم، فأسلم الغلام فقال: "الحمد لله الذي أنقذه من النار".
581;دیث میں ہے کہ مدینہ کے یہودیوں میں سے ایک چھوٹا بچہ آپ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بیمار ہو گیا تو نبی کریم ﷺ اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اسے اسلام کی دعوت دی جس پر وہ مسلمان ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے اسے جہنم سے نجات دی“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6186

 
 
Hadith   1233   الحديث
الأهمية: كان لأبي بكر الصديق -رضي الله عنه- غلام يخرج له الخراج وكان أبو بكر يأكل من خراجه


Tema:

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو انہیں کچھ خراج دیا کرتا تھا اور آپ اس کا خراج کھانے کے کام میں لاتے تھے۔

عن عائشةَ -رضي الله عنها-، قالت: كانَ لأبي بكرٍ الصديق -رضي الله عنه- غُلامٌ يُخرِجُ له الخَرَاجَ، وكانَ أبو بكرٍ يأكلُ من خراجِهِ، فجاءَ يوماً بشيءٍ، فأكلَ منه أبو بكرٍ، فقالَ له الغلامُ: تَدرِي ما هذا؟ فقالَ أبو بكرٍ: وما هُو؟ قالَ: كُنتُ تَكَهَّنْتُ لإنسانٍ في الجاهليةِ وما أحسِنُ الكهانَةَ، إلا أني خدعتُهُ، فلَقِيَني، فأعطَانِي لِذلك، هذا الذي أَكَلْتَ منه، فأدخلَ أبو بكرٍ يدَهُ فقاءَ كلَّ شيءٍ في بطنِهِ.

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو انہیں کچھ خراج دیا کرتا تھا اور آپ اس کا خراج کھانے کے کام میں لاتے تھے۔ ایک دن وہ کوئی چیز لایا تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے کھا لیا۔ ان سے غلام نے کہا: آپ کو معلوم ہے یہ کیا چیز تھی؟ آپ نے فرمایا کیا تھی؟ اس نے کہا میں نے زمانہ جاہلیت میں آئندہ ہونے والی بات (کہانت) ایک آدمی کو بتادی تھی حالانکہ میں کہانت سے کوئی شد بد نہیں رکھتا تھا بلکہ میں نے اسے یونہی دھوکہ دیا تھا۔ تو (آج) وہ مجھ سے ملا اور (یہ چیز) اس نے مجھے اسی کے عوض دی ہے اور اسی کو آپ نے کھایا ہے۔اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی انگلی منہ میں ڈال کر پیٹ کی ہر چیز کو قے کر کے نکال دیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الغلام لأبي بكر قد خارجه على شيء معين يأتي به إليه كل يوم، وفي يوم من الأيام قدم هذا الغلام طعاماً لأبي بكر فأكله فقال: أتدري ما هذا ؟ قال: وما هو ؟ قال: هذا عوض عن أجرة كهانة تكهنت بها في الجاهلية وأنا لا أحسن الكهانة، لكني خدعت الرجل فلقيني فأعطاني إياها, وعوض الكهانة حرام، سواء كان الكاهن يحسن صنعة الكهانة أو لا يحسن لأن النبي -عليه الصلاة والسلام-: نهى عن حلوان الكاهن، أخرجه البخاري ومسلم.
فلما قال لأبي بكر هذه المقالة أدخل أبو بكر يده في فمه فقاء كل ما أكل وأخرجه من بطنه لئلا يتغذى بطنه بحرام وهذا مال حرام لأنه عوض عن حرام، فالأجرة على فعل الحرام حرام.
575;بوبکر رضی اللہ نے اپنے اس غلام کے ساتھ یہ طے کیا کہ وہ آپ کو روزانہ کچھ خوراک دیا کرے گا۔ ایک دن یہ غلام ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے کچھ کھانا لے کر آیا جسے آپ نے کھا لیا۔ وہ غلام کہنے لگا: کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کیسا کھانا تھا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یہ کیسا کھانا تھا؟۔ اس نے جواب دیا کہ یہ اس کہانت کی اجرت ہے جو میں نے زمانہ جاہلیت میں کی تھی حالانکہ مجھے کہانت اچھی طرح نہیں آتی تھی اور میں نے اس آدمی کو دھوکہ دیا تھا۔ وہ مجھے آج ملا تو اس نے مجھے یہ کھانا دیا۔ کہانت کا عوض حرام ہے چاہے کاہن کو فن کہانت اچھی طرح آتا ہو یا نہ آتا ہو کیونکہ نبی ﷺ نے کہانت کی اجرت سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)
جب اس نے یہ بات ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہی تو آپ نے اپنے ہاتھ کو منہ میں ڈال کر اپنے پیٹ میں موجود وہ سب کچھ نکال دیا جو آپ نے کھایا تھا تاکہ آپ کے پیٹ میں حرام غذا نہ جائے۔ یہ حرام مال تھا کیونکہ یہ حرام شے کا عوض تھا۔ حرام فعل کی اجرت لینا بھی حرام ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6187

 
 
Hadith   1234   الحديث
الأهمية: من أذكار أدبار الصلوات


Tema:

نماز کے بعد کے کچھ اذکار

عن عبد الله بن الزبير -رضي الله تعالى عنهما- أنّه كانَ يقول: في دبر كل صلاة حين يُسلِّم «لا إله إلا الله وحده لا شريكَ له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيءٍ قديرٌ، لا حولَ ولا قوةَ إلا بالله، لا إله إلا الله، ولا نعبد إلا إيَّاه، له النِّعمة وله الفضل، وله الثَّناء الحَسَن، لا إله إلا الله مخلصين له الدِّين ولو كَرِه الكافرون» وقال: «كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يُهَلِّل بهن دُبُر كلِّ صلاة».

عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے كہ وه ہر نماز کے بعد، جس وقت سلام پھیرتے، یہ پڑھتے:”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ وَلَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ“ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے ليے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قدرت صرف اللہ کی توفیق سے ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں، ہر نعمت کا مالک وہی ہے اور سارا فضل اسی کی ملکیت ہے اور اسی کے لیے بہترين تعريف ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم خالص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں اگرچہ کافر ناپسند کریں) اور فرماتے تھے کہ نبی ﷺ بھی ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہا کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان عبد الله بن الزبير-رضي الله عنهما- حين يسلِّم من صلاة الفرض يقول هذا الذكر العظيم, والذي فيه الكثير من المعاني الجليلة من إثبات العبودية الحقة لله -تعالى- وحده, ونفي وجود شريك معه في ذلك -سبحانه-، وإثبات تفرده بالملك الظاهر والباطن, واستحقاقه الحمد في كل الأحوال, وإثبات القدرة المطلقة له -سبحانه-، كما أن فيه اعترافا من العبد لربه بعجزه وتقصيره, وبراءته من حوله وقوته وإقراره بأن لا حول له في دفع شر، ولا قوة في تحصيل خير إلا بالله -تعالى-، كما تضمّن هذا الذكر المبارك إضافة النعمة إلى مسديها -سبحانه-، وإضافة الكمال المطلق والذكر الحسن الجميل له -جل وعز- على ذاته وصفاته وأفعاله ونعمه وعلى كل حال،  ثم خُتم هذا الذكر بكلمة التوحيد "لا إله إلا الله"، مذكرا  بالإخلاص لله في العبادة، ولو كره الكافرون جميعهم.
ثم ذكر عبد الله بن الزبير-رضي الله عنهما- أن رسول الله –صلى الله عليه وسلم- كان إذا سلم من صلاته، تكون ألفاظ تهليله بهذه الصيغة، وكان يرفع صوته بهذا تعليماً لمن حضر معه من الملأ.
593;بداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب فرض نماز کے بعد سلام پھیر تے تھے تو يہ عظيم ذكر پڑھتے تھے، جو بڑے عظيم معانی پر مشتمل ہے، جیسے تنہا اللہ کے ليے حقيقى عبوديت کا اثبات، اس کے ساتھ کسی کے شريک ہونے کا انکار اور ظاہری وباطنی بادشاہت میں اس کی انفرادیت کا اثبات، ہر حال ميں اس كے لیے سبهى تعريفوں كا استحقاق اور اللہ سبحانہ وتعالىٰ کے ليے مطلق قدرت كا اثبات. اسى طرح اس ميں بندے کا اپنے رب سے اپنی بے بسى اور کمی وکوتاہی كا اعتراف، اپنی طاقت وقوت سے براءت اور يہ اعتراف ہے كہ اللہ تعالیٰ كى توفيق کے بغير اس کے اندر برائى كو دور كرنے کى طاقت ہے نہ بهلائى حاصل كرنے كى قدرت۔ اور اسی طرح يہ دعا تمام نعمتوں كى نسبت اس کے منعمِ حقيقى كى طرف كرنے، اوراللہ عزوجل کے ليے اس کی ذات وصفات، اس کے افعال اور اس كى نعمتوں اور ہر حال پر کمال مطلق كى نسبت كرنے اور بہترين ذکرِ جميل کو شامل ہے. پھر اس ذکر کو، عبادت ميں الله کے ليے اخلاص كى ياد دهانی كراتے ہوئے، کلمہ توحيد ”لا إله إلا الله“ (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں) پر ختم كياگیا ہے، اگر چہ سارے کفار اس کو نا پسند کريں۔ پھر عبداللہ بن زبير رضي اللہ عنہما نے فرمايا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے سلام پهيرتے تو ان کلمات کے ذریعہ اللہ کی توحید وعظمت بیان کرتے تھے، اور آپ ﷺ اسے پڑھتے ہوئے اپنی آواز کو بلند کرتے تھے تاکہ آپ کے پاس موجود دوسرے لوگ بھی سيکھ ليں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6203

 
 
Hadith   1235   الحديث
الأهمية: كانت ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم العضباء لا تسبق


Tema:

نبی کریم ﷺ کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا۔ کوئی اونٹنی اس سے آگے نہیں بڑھتی تھی۔

عن أنس -رضي الله عنه- قَالَ: كَانَتْ ناقةُ رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- العضْبَاءُ لاَ تُسْبَقُ، أَوْ لاَ تَكَادُ تُسْبَقُ، فَجَاءَ أعْرَابيٌّ عَلَى قَعودٍ لَهُ، فَسَبَقَهَا، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حَتَّى عَرَفَهُ، فَقَالَ: "حَقٌّ عَلَى اللهِ أنْ لاَ يَرْتَفِعَ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ وَضَعَهُ".

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا۔ کوئی اونٹنی اس سے آگے نہیں بڑھتی تھی یا (راوی نے) یوں کہا وہ پیچھے رہ جانے کے قریب نہ ہوتی پھر ایک دیہاتی اپنے ایک توانا اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور آپ ﷺ کی اونٹنی سے اس کا اونٹ آگے نکل گیا۔ مسلمانوں پر یہ بڑا شاق گزرا یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ کو اس کا علم ہو گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی بلند ہوتی ہے اسے وہ (کبھی نہ کبھی) پست کردیتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في الحديث أن ناقة النبي -صلى الله عليه وسلم- العضباء كان الصحابة -رضي الله عنهم- يرون أنها لا تسبق أو لا تكاد تسبق، فجاء هذا الأعرابي بقعوده فسبق العضباء، فكأن ذلك شق على الصحابة -رضي الله عنهم-، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم- لما عرف ما في نفوسهم: "حق على الله ألا يرتفع شيء من الدنيا إلا وضعه"، فكل ارتفاع يكون في الدنيا فإنه لابد أن يؤول إلى انخفاض، فإن صحب هذا الارتفاع ارتفاع في النفوس وتعاظم فإن الوضع إليه أسرع؛ لأن الوضع يكون عقوبة، أما إذا لم يصحبه شيء فإنه لابد أن يرجع ويوضع، وفي قوله عليه الصلاة والسلام: "من الدنيا" دليل على أن ما ارتفع من أمور الآخرة فإنه لا يضعه الله، فقوله: (يرفع الله الذين آمنوا منكم والذين أوتوا العلم درجات)، فهؤلاء لا يضعهم الله -عز وجل- ما داموا على وصف العلم والإيمان، فإنه لا يمكن أن يضعهم الله، بل يرفع لهم الذكر، ويرفع درجاتهم في الآخرة.
581;دیث میں ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ کی اونٹنی ’عضباء‘ کے بارے میں صحابہ سے منقول ہے کہ اس سے کوئی سواری آگے نہیں بڑھتی تھی یا وہ پیچھے نہیں رہ جاتی تھی، یہ اعرابی اپنی سواری پر آیا اور عضباء سے آگے بڑھ گیا، یہ صحابہ کرام پر گراں گزرا۔ آپ ﷺ نے جب صحابۂ کرام کی کیفیت کو محسوس کیا، تو فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی بلند ہوتی ہے اسے وہ گراتا بھی ہے“ یعنی دنیا میں بلند ہونے والی ہر چیز کو زوال ہے۔ اگر یہ بلندی دلوں میں ہو تو اسے پستی بہت جلد آتی ہے، اس لیے کہ پستی اس کی سزا ہے۔ لیکن اگر یہ ارتفاع مزاج کا حصہ نہ بنی ہو تو وہ ضرور واپس لوٹتی ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان "من الدنيا" اس بات پر دلیل ہے کہ آخرت کے کاموں میں سے جو چیز بلند ہوتی ہے اللہ اسے نہیں گراتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿يَرْفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾ ”اللہ تعالیٰ تم میں سے جو لوگ ایمان ﻻئے ہیں اور جو علم دیے گئے ہیں، اُن کے درجات بلند کر دے گا“۔ آیت میں مذکور یہ لوگ جب تک اپنے علمی اور ایمانی صفات سے متصف ہوں گے ایسا ممکن نہیں کہ اللہ انہیں رسوا کرے۔ اس لیے کہ اللہ ان کو ذلیل نہیں کرتا بلکہ ان کا نام بلند کرتا ہے اور آخرت میں ان کے درجات بلند کرتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[امام بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6204

 
 
Hadith   1236   الحديث
الأهمية: كنا إذا صعدنا كبرنا، وإذا نزلنا سبحنا


Tema:

جب ہم (کسی بلندی پر) چڑھتے، تو ”الله اكبر“ کہتے اور جب (کسی نشیب میں) اترتے، تو ”سبحان الله“ کہتے تھے۔

عن جابر -رضي الله عنه- قَالَ: كُنَّا إِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا، وَإِذَا نَزَلْنَا سَبَّحْنَا. 
عن ابن عمر -رضي الله عنهما- قالَ: كانَ النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- وجيُوشُهُ إِذَا عَلَوا الثَّنَايَا كَبَّرُوا، وَإِذَا هَبَطُوا سَبَّحُوا.

Esin Hadith Text


جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب ہم (کسی بلندی پر) چڑھتے، تو ”الله اكبر“ کہتے اور جب (کسی نشیب میں) اترتے، تو ”سبحان الله“ کہتے تھے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کا لشکر جب وادی پر چڑھتا، تو تکبیر کہتا اور جب (کسی نشیب میں) اترتا، تو تسبیح پڑھتا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
مناسبة التكبير عند الصعود إلى المكان المرتفع أن الاستعلاء والارتفاع محبوب للنفوس لما فيه من استشعار الكبرياء، فيستعظم نفسه فلذا يقول: الله أكبر، يعني: يرد نفسه إلى الاستصغار، أما كبرياء الله -عز وجل-، فشرع لمن تلبس بالارتفاع أن يذكر كبرياء الله تعالى، وأنه أكبر من كل شيء، فيكبره ليشكر له ذلك، فيزيده من فضله، ومناسبة التسبيح عند الهبوط لكون المكان المنخفض محل ضيق فيشرع فيه التسبيح؛ لأنه من أسباب الفرج، كما وقع في قصة يونس -عليه السلام- حين سبح في الظلمات فنجي من الغم، والنزول أيضاً سفول ودنو وذل، فيقول: سبحان الله، يعني: أنزه الله سبحانه وتعالى عن السفول والنزول؛ لأنه سبحانه وتعالى فوق كل شيء.
كذلك الطائرة عند ارتفاعها تكبر، وعند نزولها المطار تسبح؛ لأنه لا فرق بين الصعود في الهواء، والنزول منه، أو على الأرض، والله الموفق.
575;ونچی جگہ چڑھتے ہوئے تکبیر کہنے کی مناسبت یہ ہے کہ بلندی اور اونچائی دلوں کو محبوب ہوتی ہے، اس لیے کہ اس میں بڑائی محسوس ہوتی ہے۔ چوں کہ انسان اپنے کو بڑا محسوس کرتا ہے، اس وجہ سے ”اللہ اکبر“ کہے یعنی اپنی نسبت چھوٹے ہونے کی طرف کرے۔ جہاں تک اللہ کی کبریا کی بات ہے تو شریعت نے یہ حکم دیاہے کہ جو شخص بلندی کی طرف چڑھے، وہ اللہ تعالیٰ کی بڑائی کو یاد کرے اور دل میں رکھے کہ وہ ہر چیز سے بڑا ہے، پس اس کے شکر کے طور پر تکبیر کہے، تاکہ اس کے فضل میں اضافہ ہو۔ اور اُترتے وقت تسبیح کہنے کی مناسبت یہ ہے کہ نیچی جگہ تنگی کا باعث ہوا کرتی ہے۔ چنانچہ شریعت نے اس میں تسبیح کا حکم دیا؛ کیوںکہ تسبیح فراخی کا سبب ہے۔ جیسا کہ یونس علیہ السلام کے قصے میں ہے کہ انھوں نے تاریکیوں میں تسبیح کہی، تو انھیں مصیبت سے نجات مل گئی۔ اسی طرح کسی جگہ سے اترنا بھی ایک طرح سے ذلت ہے، اس لیے ”سبحان اللہ“ کہے یعنی اللہ تعالیٰ اسے ذلت اور پستی سے بچاۓ؛ کیوں کہ وہ پاک ذات ہر چیز کے اوپر ہے۔
اسی طرح جہاز کے اوپر چڑھتے وقت تکبیر کہنی چاہیے اور اس کے ہوائی اڈے پراُترتے وقت تسبیح کہنی چاہیے، اس لیے کہ ہوا میں چڑھنے اور اُترنے یا زمین پر چڑھنے اور اُترنے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اور اللہ تعالی ہی توفیق دینے والا ہے۔   --  [یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6206

 
 
Hadith   1237   الحديث
الأهمية: يا أيها الناس، ارْبَعُوا على أنفسكم، فإنكم لا تدعون أصمَّ ولا غائباً، إنَّه معكم، إنَّه سميع قريب


Tema:

اے لوگو ! اپنی جانوں پر رحم کھاؤ ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو ۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہی ہے ۔ بے شک وہ بہت سننے والا اور بہت قریب ہے۔

عن أبي موسى الأشعري -رضي الله عنه- قال: كنا مع النبي -صلى الله عليه وسلم- في سفر، فكنا إذا أشْرَفْنَا على واد هَلَّلْنَا وكبَّرْنَا وارتفعت أصواتنا، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «يا أيها الناس، ارْبَعُوا على أنفسكم، فإنكم لا تدعون أصمَّ ولا غائباً، إنَّه معكم، إنَّه سميع قريب».

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ جب ہم کسی وادی میں اترتے تو ”لا الہ الا اﷲ اور اﷲ اکبر“ کہتے اور ہماری آواز بلند ہو جاتی اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو ! اپنی جانوں پر رحم کھاؤ ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو ۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہی ہے، بے شک وہ بہت سننے والا اور بہت قریب ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
حديث أبي موسى الأشعري -رضي الله عنه- أنهم كانوا مع النبي -صلى الله عليه وسلم- في سفر، فكانوا يهللون ويكبرون ويرفعون أصواتهم، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "أيها الناس اربعوا على أنفسكم" -يعني: هونوا عليها، ولا تشقوا على أنفسكم في رفع الصوت؟- "فإنكم لا تدعو أصم ولا غائباً"، إنما تدعون سميعاً مجيباً قريباً"، وهو الله عز وجل لا يحتاج أن تجهدوا أنفسكم في رفع الصوت عند التسبيح والتحميد والتكبير؛ لأن الله -تعالى- يسمع ويبصر وهو قريب جل وعلا، مع أنه فوق السماوات لكنه محيط بكل شيء -جل وعلا-.
قوله: "تدعون سميعاً بصيراً قريباً"، وهذه صيغ مبالغة لله؛ لأن له -تعالى- تمام الكمال من هذه الصفات، فلا يفوت سمعه أي حركة وإن خفيت، فيسمع دبيب النملة على الصفاة الصماء في ظلمة الليل، وأخفى من ذلك، كما أنه -تعالى- لا يحجب بصره شيء من الحوائل، فهو يسمع نغماتكم وأصوات أنفاسكم وجميع ما تتلفظون به من كلمات، ويبصر حركاتكم، وهو معكم قريب من داعيه، وهو أيضاً مع جميع خلقه باطلاعه وإحاطته، وهم في قبضته، ومع ذلك هو على عرشه عال فوق جميع مخلوقاته، ولا يخفى عليه خافية في جميع مخلوقاته مهما كانت.
والسمع والبصر والقرب صفات ثابتة لله -عز وجل- على الوجه اللائق به، من غير تكييف ولا تمثيل ولا تحريف ولا تأويل.
575;بو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ وہ لوگ ایک سفر میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھے۔ وہ بہ آواز بلند تہلیل وتکبیر کر رہے تھے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”أيها الناس اربعوا على أنفسكم“ یعنی اپنے آپ پر کچھ نرمی برتو اور آواز بلند کرکے اپنے آپ کو مشقت میں نہ ڈالو۔ تم کسی ایسی ذات کو تو پکار نہیں رہے ہو جو بہری اور غیر موجود ہو بلکہ تم تو ایک سمیع و مجیب اور قریب ذات کو پکار رہے ہو یعنی اللہ عزّ وجلّ کو جسے اس بات کی کوئی حاجت نہیں کہ تم تسبیح و تحمید اور تکبیر کہتے ہوئے آواز بلند کرکے اپنے آپ کو مشقت میں ڈالو۔ کیونکہ اللہ سنتا بھی اور دیکھتا بھی اور وہ قریب بھی ہے اگرچہ وہ آسمانوں سے اوپر ہے تاہم وہ ہر شے کو محیط ہے۔ عزوجل۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”تدعون سميعاً بصيراً قريباً“ یہ اللہ تعالی کے لیے مبالغے کے صیغے ہیں کیونکہ اللہ تعالی میں یہ صفات بدرجہ اتم موجود ہیں چنانچہ کوئی بھی جنبش چاہے وہ کتنی بھی مخفی ہو اس کی سماعت سے نہیں چوکتی۔ وہ رات کے اندھیرے میں چکنے سخت پتھر پر چلتی ہوئی چیونٹی کے رینگنے کی آواز کو بھی سنتا ہے بلکہ اس سے بھی مخفی آوازوں کو سنتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی کی آنکھوں کے سامنے کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔ وہ تمہاری سُروں اور تہمارے سانس کی آوازوں اور ہر ان کلمات کو سنتا ہے جو تم بولتے ہو اور تمہاری حرکات کو دیکھتا ہے۔ وہ اپنے پکارنے والے کے قریب ہوتا ہے۔ وہ تمام مخلوق سے آگاہ ہے اور ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ سب اس کے قبضہ میں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے عرش پر ہے اور اپنی تمام مخلوقات سے بالاتر ہے۔ اپنی تمام مخلوقات میں سے اس پر کوئی شے پوشیدہ نہیں چاہے وہ کوئی بھی ہو۔
سمع و بصر اور قرب اللہ کی صفات ہیں جو اس کے لیے بلا تکییف و تمثیل اور بلا تحریف و تاویل اس انداز میں ثابت ہیں جو اس کی ذات کے شایانِ شان ہے۔   --  [صحیح]+ +[یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6207

 
 
Hadith   1238   الحديث
الأهمية: لا تجعلوا بيوتكم مقابر، إن الشيطان ينفر من البيت


Tema:

اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، بے شک شیطان اس گھر سے دور بھاگتا ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «لا تجعلوا بيوتكم مَقَابر، إنَّ الشيطان يَنْفِرُ من البيت الذي تُقْرَأُ فيه سورةُ البقرة».

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، یقینا شیطان اس گھر سے دور بھاگتا ہے جہاں، سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أبو هريرة –رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- نهى عن جعل البيوت مقابر بأن تكون مثلها في عدم اشتغال من فيها بالصلاة والقراءة، وإنما سمى البيوت في حال عدم الصلاة فيها مقابر؛ لأن المقبرة لا تصح الصلاة فيها، ثم أخبر -صلى الله عليه وسلم- أن الشيطان ينفر من البيت الذي يقرأ فيه أهله سورة البقرة، ليأسه من إغوائهم وإضلالهم ببركة قراءتها وامتثالهم لما فيها.
575;بو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے گھروں کو قبرستان بنانے سے منع فرمایا۔ قبرستان بنانا اس معنی میں ہے کہ ان گھروں میں نمازوں کا اہتمام نہ کیا جائے اور قرآن مجید کی تلاوت سے غفلت برتی جائے۔ گھروں میں نمازوں کا اہتمام نہ کرنے کی بنا پر انھیں قبرستان قرار دیا گیا؛ کیوں کہ قبرستان میں نماز پڑھنی درست نہیں ہے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ خبر دی کہ شیطان اس گھر سے دور بھاگتا ہے، جس گھر کے مکین اس میں سورۃ بقرہ کی تلاوت کرتے ہیں؛ کیوں کہ اس سورت کی تلاوت اور اس میں پائے جانے والے فرامین و احکام کی اتباع و پیروی کی صورت میں حاصل ہونے والی برکتوں کی بنا پر وہ اس بات سے مایوس و ناامید ہوچکا ہے کہ انھیں صراط مستقیم سے دور کرے یا انھیں گمراہی میں مبتلا کرے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6208

 
 
Hadith   1239   الحديث
الأهمية: لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر


Tema:

وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہوگا۔

عن عبد الله بن مسعود -رضي الله عنه- عن النبيِّ -صلى الله عليه وسلم-، قَالَ: «لا يدخلُ الجنةَ مَن كان في قلبه مِثقال ذرةٍ من كِبر» فقال رجل: إنّ الرجلَ يحب أن يكون ثوبه حسنا، ونَعله حسنة؟ قال: «إنّ الله جميلٌ يحب الجمالَ، الكِبر: بَطَرُ الحق وغَمْطُ الناس».

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہوگا“، ایک شخص نے دریافت کیا کہ: آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جوتے عمدہ ہوں۔(کیا یہ بھی تکبر کے زمرے میں آتا ہے)؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: ”اللہ خوبصورت ہے اور وہ خوبصورتی کو پسند کرتا ہے، تکبر کا مطلب ہے: حق کو ہٹ دھرمی کے ساتھ نہ ماننا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن ابن مسعود -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر"، وهذا الحديث من أحاديث الوعيد وتحتاج إلى تفصيل حسب الأدلة الشرعية، فالذي في قلبه كبر، إما أن يكون كبراً عن الحق وكراهة له، فهذا كافر مخلد في النار ولا يدخل الجنة، لقول الله -تعالى-: (ذلك بأنهم كرهوا ما أنزل الله، فأحبط أعمالهم) ،  وأما إذا كان كبراً على الخلق وتعاظماً على الخلق، لكنه لم يستكبر عن عبادة الله فهذا جاء فيه هذا الوعيد فلا يدخل الجنة  مع أول زمرة، ولما حدث النبي -صلى الله عليه وسلم- بهذا الحديث قال رجل يا رسول الله: الرجل يحب أن يكون ثوبه حسناً ونعله حسنة يعني فهل هذا من الكبر ؟ فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "إن الله جميل يحب الجمال" جميل في ذاته جميل في أفعاله جميل في صفاته كل ما يصدر عن الله -عز وجل- فإنه جميل وليس بقبيح.
وقوله: "يحب الجمال" أي يحب التجمل بمعنى أنه يحب أن يتجمل الإنسان في ثيابه وفي نعله وفي بدنه وفي جميع شؤونه؛ لأن التجمل يجذب القلوب إلى الإنسان ويحببه إلى الناس بخلاف التشوه الذي يكون فيه الإنسان قبيحاً في شعره أو في ثوبه أو في لباسه.
575;بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہو گا“ یہ حدیث وعید پر مشتمل احادیث میں سے ہے اور شرعی دلائل کی روشنی میں کچھ محتاج تفصیل ہے۔ جس شخص کے دل میں تکبر ہوتا ہے اس کی وجہ یا تو حق سے روگردانی ہوتی ہے یا حق کی ناپسند یدگی۔ ایسا شخص کافر ہے جو ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ کیوں کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ﴾ ”یہ اس لیے کہ وه اللہ کی نازل کرده چیز سے ناخوش ہوئے، پس اللہ تعالیٰ نے (بھی) ان کے اعمال ضائع کر دیے“۔
تاہم تکبر اگر مخلوق پر ہو اور اس میں مخلوق پر بڑائی جتلائی جاتی ہو لیکن وہ شخص اللہ کی عبادت سے روگردانی نہ کر رہا ہو تو اس کے بارے میں یہ وعید ہے کہ وہ سب سے پہلے گروہ کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ جب آپ ﷺ نے یہ حدیث بیان فرمائی تو ایک شخص نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! آدمی کو یہ بات پسند ہوتی ہے کہ وہ اچھا کپڑا اور عمدہ جوتا پہنے، کیا یہ بھی تکبر میں شمار ہوتا ہے؟۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ خوبصورت ہے اور وہ خوبصورتی کو پسند کرتا ہے“ یعنی اللہ اپنی ذات، اپنے افعال اور اپنی صفات کے اعتبار سے خوبصورت ہے ۔ اللہ تعالی سے جس بات کا بھی صدور ہوتا ہے وہ خوبصورت ہی ہوتی ہے لہذا اس میں کوئی قباحت نہیں۔
آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ: ”وہ خوبصورتی کو پسند کرتا ہے“ تو اس کا معنی یہ ہے کہ: وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ انسان اپنے کپڑوں، اپنے جوتوں، اپنے جسم اور اپنے تمام امور میں خوبصورتی کو ملحوظ رکھے۔ کیوں کہ خوبصورتی کو اختیار کرنا دلوں کو انسان کی طرف کھینچتا ہے اور اسے لوگوں کے ہاں پسندیدہ بنا دیتا ہے بخلاف بدصورتی اختیار کرنے کے، جس کی وجہ سے انسان کے بالوں، اس کے کپڑوں اور اس کے لباس میں بگاڑ آجاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6209

 
 
Hadith   1240   الحديث
الأهمية: لأن أقول سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر


Tema:

یہ کہ میں کہوں: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لَأَنْ أَقُولَ: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، أَحَبُّ إلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عليْه الشمسُ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ساری کائنات سے کہ جس پر سورج طلوع ہوتا ہے، مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں یہ کہوں: ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ“، اللہ پاک ہے اورتمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں اور اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث فيه الحث على ذكر الله -تعالى- بتنزيهه وحمده وتعظيمه وتوحيده وتكبيره, وهذه الأذكار خير من الدنيا وما فيها؛ لأنها من أعمال الآخرة, وهي الباقيات الصالحات, وثوابها لايزول, وأجرها لا ينقطع, بينما الدنيا صائرة إلى زوال وآيلة إلى فناء.
575;س حدیث میں اللہ کی پاکی، تعریف، تعظیم، توحید اور تکبیر کے ذریعے اللہ تعالی کے ذکر کی ترغیب ہے۔ ذکر کے یہ کلمات دنیا اور اس میں موجود چیزوں سے بہتر ہیں؛ کیوں کہ یہ آخرت کے اعمال میں سے ہیں، یہی باقیاتِ صالحات ہیں، ان کا ثواب ختم نہیں ہوگا، ان کا اجر وبدلہ منقطع نہیں ہوگا، جب کہ دنیا کی ساری چیزوں کو زوال و فنا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6211

 
 
Hadith   1241   الحديث
الأهمية: لقد أوتيت مزمارا من مزامير آل داود


Tema:

تمھیں آل داود کی خوش الحانیوں میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے۔

عن أبي موسى الأشعري -رضي الله عنه-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال له: «لقد أُوتيتَ مِزْمَاراً من مزامير آل داود».
وفي رواية لمسلم: أنّ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال له: «لو رَأيتَنِي وأنا أستمع لقراءتك البارحة».

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تمھیں آل داود کی خوش الحانیوں (اچھی آوازوں) میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے“۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ مروی ہیں کہ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اگر تم مجھے دیکھ لیتے، جب کہ گزشتہ رات میں تمھاری قراءت سن رہا تھا!“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن أبي موسى الأشعري -رضي اللّه عنه- أن رسول اللّه -صلى الله عليه وسلم- قال له لما سمع قراءته الجميلة المرتلة: (لقد أوتيت مزمارا من مزامير آل داود)، وقوله: "لقد أوتيت"، أي: أعطيت، : "مزماراً من مزامير آل داود"، أي داود نفسه، وداود عنده صوت حسن جميل رفيع، حتى قال الله -تعالى-: "يا جبال أوّبي معه والطير، وألنّا له الحديد" [سبأ: 10]، وآل فلان قد يطلق على الشخص  نفسه؛ لأن أحداً منهم لم يُعطَ من حسن الصوت ما أعطيه داود.
575;بو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےجب ان کی ترتیل کے ساتھ پڑھی گئی دل کش و دل نشین تلاوت سماعت فرمائی، تو ان سے فرمایا:" تمھیں آل داود کی خوش الحانیوں(اچھی آوازوں)میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے۔" یعنی خود داؤد علیہ السلام ہی کی خوش الحانی۔ در اصل داؤد علیہ السلام کو بہت بلند، دل لبھانے والی عمدہ ترین آواز عطا کی گئی تھی، حتی کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ ۖ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ﴾ ”اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کردیا“۔ (سورہ سبا:10) 'آل فلان' کا اطلاق کبھی خود اسی شخص پر ہوتا ہے؛ کیوں کہ آل داؤد میں سے کسی کو بھی وہ دل کش و دل نشین آواز عطا نہیں کی گئی، جو داؤد علیہ السلام کو عطا کی گئی تھی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6212

 
 
Hadith   1242   الحديث
الأهمية: لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم يصوم من شهر أكثر من شعبان


Tema:

نبی کریم ﷺ شعبان سے زیادہ اور کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: لم يكن النبي -صلى الله عليه وسلم- يصوم مِنْ شهر أكثر من شعبان، فإنّه كان يصوم شعبان كله.
وفي رواية: كان يصوم شعبان إلا قليلا.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ شعبان سے زیادہ اور کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے۔ شعبان کے پورے دنوں میں آپ ﷺ روزہ سے رہتے۔
ایک اور روایت میں ہے: نبی ﷺ اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریبا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: لم يكن النبي -صلى الله عليه وسلم- يصوم من شهر أكثر من شعبان، فإنه كان يصوم شعبان كله. وفي رواية: كان يصوم شعبان إلا قليلاً. الثاني تفسير للأول وبيان أن قولها: كله، أي: غالبه، وقيل: كان يصومه كله في وقت، ويصوم بعضه في سنة أخرى، وقيل: كان يصوم تارة من أوله، وتارة من آخره، وتارة بينهما، وما يخلي منه شيئاً بلا صيام لكن في سنين، فلهذا ينبغي للإنسان أن يكثر من الصيام في شهر شعبان أكثر من غيره؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يصومه، والحكمة من ذلك أنه يكون بين يدي رمضان كالرواتب بين يدي الفريضة، وقيل: في تخصيص شعبان بكثرة الصوم لكونه ترفع فيه أعمال العباد، كما دلت عليه السنة.
575;م المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ ماہ شعبان سے زیادہ کسی اور مہینے مین روزے سے نہیں رہتے۔ یقینا آپ ﷺ شعبان کا پورا مہینہ روزہ سے رہتے۔ ایک اور روایت میں ہے: چند دنوں کو چھوڑ کر آپ پورا شعبان ہی روزے رکھتے۔ یہ دوسری روایت، پہلی روایت کی تفسیر اور عائشہ رضی اللہ عنھا کے پہلے قول ”سارا مہینہ“ کی وضاحت ہے کہ سارا مہینہ سے مراد مہینے کا بیش تر حصہ ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ کسی سال آپ ﷺ سارا مہینہ روزہ رکھتے اور کسی سال اس ماہ میں کچھ روزے رکھتے۔ ایک قول یہ ہے کہ کسی سال اس ماہ کی ابتدا میں، کبھی اس کے آخر میں اور کبھی اس ماہ کے درمیانی دنوں میں روزے سے رہتے اور عموما اس ماہ کو بلا روزہ نہ چھوڑتے۔ البتہ کبھی کبھی کچھ دن چھوڑ بھی دیتے۔ لہٰذا مناسب یہی ہے کہ انسان دیگر مہینوں کی بہ نسبت ماہ شعبان میں بکثرت روزوں کا اہتمام کرے؛ کیوں کہ نبی ﷺ اس ماہ میں روزوں کا بہت اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ رمضان المبارک کا یہ پیش رو مہینہ ہوتا ہے؛ ویسے ہی، جیسے جس طرح فرض کا پیش رو سنن رواتب ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے کو اس لیے خصوصیت دی گئی ہے کہ اس ماہ میں بندوں کے اعمال آسمان دنیا پر چڑھائے جاتے ہیں، جیسا کہ سنت سے اس کی دلیل ملتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6213

 
 
Hadith   1243   الحديث
الأهمية: لما جاء أهل اليمن قَالَ رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم-: قَدْ جَاءكُمْ أهْلُ اليَمَنِ


Tema:

جب یمن والے آئے تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں۔

عن أنس -رضي الله عنه- قَالَ: لَمَّا جَاءَ أهْلُ اليَمَنِ، قَالَ رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم-: "قَدْ جَاءكُمْ أهْلُ اليَمَنِ" وَهُمْ أوَّلُ مَنْ جَاءَ بِالمُصَافَحَة.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یمن والے آئے تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں‘‘، اور یہی وہ لوگ ہیں جو پہلے پہل مصافحہ کرنے کا طریقہ لائے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قوله: "قد جاءكم أهل اليمن" تنويه بشأنهم، وإظهار لفضلهم، ومنهم الأشعريون قوم أبي موسى الأشعري -رضي الله عنهم-، ويدل عليه ما أخرجه أحمد في مسنده (3/155) عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يقدم عليكم غداً أقوام هم أرق قلوباً للإسلام منكم" قال: فقدم الأشعريون فيهم أبو موسى الأشعري، فلما دنوا من المدينة جعلوا يرتجزون يقولون:
         غداً نلقى الأحبه             محمداً وحزبه
فلما أن قدموا تصافحوا فكانوا هم أول من أحدث المصافحة.
570;پ ﷺ کا فرمان: ”تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں“ یہ اہلِ یمن کی شان کو بلند کرنا اور ان کی فضیلت کو ظاہر کرنا ہے۔ انہی میں سے اشعری لوگ بھی ہیں جو کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے قبیلہ کے لوگ ہیں۔ اس فضیلت کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جسے امام احمد نے اپنی مسند (3/155) میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کل تمہارے پاس ایسے لوگ آئیں گے جن کے دل اسلام کے لیے تم سے زیادہ نرم ہوں گے“۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: چنانچہ اشعری لوگ آئے، ان میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب وہ لوگ مدینہ طیبہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے:
غداً نلقى الأحبه ...محمداً وحزبه
یعنی کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔
جب یہ لوگ آئے تو انہوں نے مصافحہ کیا۔ چنانچہ یہی وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے مصافحہ کا رواج ڈالا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6214

 
 
Hadith   1244   الحديث
الأهمية: لن يَلِجَ النارَ أحدٌ صَلَّى قبلَ طلوعِ الشمسِ وقبلَ غروبها


Tema:

جو شخص سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا، وہ ہرگز جہنم کی آگ میں داخل نہ ہو گا۔

عن أبي زهير عمارة بن رؤيبة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم-: «لن يَلِجَ النار أحد صلى قبل طلوع الشمس وقبل غروبها».
عن جرير بن عبد الله البجلي -رضي الله عنه- قال: كنا عند النبي -صلى الله عليه وسلم- فنظر إلى القمر ليلة البدر، فقال: «إنكم سترون ربكم كما تَرَوْنَ هذا القمر، لا تُضَامُونَ في رؤيته، فإن استطعتُمْ أنْ لا تُغْلَبُوا على صلاة قبل طلوع الشمس وقبل غروبها، فافْعَلُوا».
وفي رواية: «فنظر إلى القمر ليلة أربع عشرة».

ابو زھیر عمارہ بن رؤیبہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا، وہ ہرگز جہنم کی آگ میں داخل نہ ہو گا“۔
جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے، آپ ﷺ نے چاند کی طرف نظر اٹھائی جو بدر کامل تھا۔ پھر فرمایا کہ تم لوگ اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے، جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو اور تمھیں اس کے دیدار میں مطلق تکلیف نہ ہوگی۔ لہٰذا اگر ہو سکے، تو سورج کے طلوع اور غروب سے پہلے (فجر اور عصر) کی نمازوں کے پڑھنے میں کوتاہی نہ کرو۔
ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں:”پس آپ ﷺ نے چاند کی طرف نظر اٹھائی، جو چودھویں رات کا تھا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى حديث عمارة -رضي الله عنه- أنه لن يدخل النار أحد -أصلاً للتعذيب أو على وجه التأبيد- صلى قبل طلوع الشمس، وقبل غروبها، يعني: الفجر والعصر، أي: داوم على أدائهما؛ لأن وقت الصبح يكون عند النوم ولذته، ووقت العصر يكون عند الاشتغال بأعمال النهار وتجارته وتهيئة العشاء، ففيه دليل على خلوص النفس من الكسل ومحبتها للعبادة، ويلزم من ذلك إتيانها ببقية الصلوات الخمس، وأنها إذا حافظت عليهما كانت أشد محافظة على غيرهما، ومن هو كذلك حريّ أن لا يرتكب كبيرة ولا صغيرة، وإن فعل تاب، أو أن صغائره المتعلقة باللّه -تعالى- تقع مكفرة؛ ثوابًا له على مواظبته، فحينئذ هو لا يلج النار أبداً، والله أعلم.
وعن جرير بن عبد الله البجلي -رضي الله عنه- أنهم كانوا مع النبي -صلى الله عليه وسلم- فنظر إلى القمر ليلة البدر -ليلة الرابع عشر-، فقال -صلى الله عليه وسلم-: "إنكم سترون ربكم كما ترون هذا القمر" يعني: يوم القيامة يراه المؤمنون في الجنة كما يرون القمر ليلة البدر، ليس المعنى أن الله مثل القمر؛ لأن الله ليس كمثله شيء، بل هو أعظم وأجل -عز وجل-، لكن المراد من المعنى تشبيه الرؤية بالرؤية، فكما أننا نرى القمر ليلة البدر رؤية حقيقية ليس فيها اشتباه، فإننا سنرى ربنا -عز وجل- كما نرى هذا القمر رؤية حقيقية بالعين دون اشتباه، واعلم أن ألذ نعيم وأطيب نعيم عند أهل الجنة هو النظر إلى وجه الله فلا شيء يعدله، فيقول رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لما ذكر أننا نرى ربنا كما نرى القمر ليلة البدر: "فإن استطعتم ألا تغلبوا على صلاة قبل طلوع الشمس وصلاة قبل غروبها، فافعلوا" والمراد من قوله: "استطعتم ألا تغلبوا على صلاة" أي: على أن تأتوا بهما كاملتين، ومنها: أن تصلي في جماعة إن استطعتم ألا تغلبوا على هذا، "فافعلوا"، وفي هذا دليل على أن المحافظة على صلاة الفجر وصلاة العصر من أسباب النظر إلى وجه الله -عز وجل-.
593;مارہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا مفہوم: ”وہ ہرگز جہنم کی آگ میں داخل نہ ہوگا“ یعنی اس کو کبھی عذاب نہیں دیا جائے گا یا یہ کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں نہیں رہے گا، "جو آفتاب کے طلوع اور غروب سے قبل نماز ادا کرے" یعنی فجر اور عصر کی نمازوں کی ادائیگی پر ہمیشگی و مستقل مزاجی اختیار کرے؛ کیوں کہ صبح کے وقت انسان میٹھی نیند میں ہوتا ہے اور عصر کے وقت دن بھر کے کاموں ،اپنی تجارتی مصروفیات اور شام کے کھانے کی تیاری میں مشغول ہوتا ہے۔ اس عمل کی پابندی سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ بندۂ مومن کا نفس سستی و کاہلی سے پاک اور عبادت کی محبت سے سرشار ہے۔ اس عبادت کی بجا آوری کا لازمہ یہ ہے کہ وہ دیگر پانچوں نمازوں کو ادا کرتا ہی ہوگا، جب وہ ان دونوں نمازوں کی حفاظت کرلیتا ہے، تو بدرجۂ اولی دیگر نمازوں پر استقامت اختیار کرنے والا ہوگا۔ اور جس کا معاملہ یوں ہوگا، اس سے اسی بات کی توقع کی جاتی ہے کہ اس کی ذات سے کسی چھوٹے بڑے گناہ کا صدور نہ ہوگا، اگر کسی گناہ کا ارتکاب کر بھی بیٹھا، تو توبہ و استغفار کو اپناتا ہوگا۔ اس طرح یہ نمازیں اور توبہ و استغفار، اللہ تعالیٰ کے حقوق سے متعلق تمام چھوٹے گناہوں کا کفارہ ہوجائیں گے بطور ثواب کہ جن پر یہ مداومت کرتا تھا، چنانچہ وہ کبھی جہنم میں داخل نہ ہوگا۔ واللہ اعلم
دوسری روایت میں جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم، نبی ﷺ کے ہم راہ تھے کہ آپ ﷺ نے چودھویں رات کے کامل چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا:”تم عن قریب اپنے پروردگار کا دیدار اسی طرح کروگے، جس طرح اس چاند کا مشاہدہ کر رہے ہو“ یعنی قیامت کے روز مؤمنین، جنت میں اپنے پروردگار کو اسی طرح دیکھیں گے، جس طرح دنیا میں چودھویں رات کے چاند کو دیکھتے ہیں۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، چاند کی طرح ہے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ جیسی کوئی چیز نہیں، بلکہ وہ سب سے زیادہ عظیم اور صاحب جلال ہے۔ یہاں ایک رؤیت کی دوسری رؤیت سے تشبیہ مقصود ہےکہ جس طرح ہم چودھویں رات کے چاند کا اپنی حقیقی آنکھوں سے اس طرح مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی رؤیت میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہوتا، اسی طرح ہم اپنے پروردگار عز وجل کا دیدار بغیر کسی شک و شبہ کے اس چاند کو اپنی حقیقی آنکھوں سے دیکھنے کی طرح کریں گے۔ ذہن نشیں رہے کہ اہل جنت کے نزدیک سب سے زیادہ لذیذ اور عمدہ ترین نعمت، اللہ تعالیٰ کا دیدار ہی ہوگا۔ کوئی دوسری شے اس کا متبادل و مساوی نہیں ہوسکتی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس عظیم نعمت ”جس طرح ہم اس چودھویں رات کے چاند کا نظارہ کررہے ہیں، اسی طرح اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے“ کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ”لہٰذا اگر تم سے سورج کے طلوع اور غروب سے پہلے (فجر اور عصر) کی نمازوں کے پڑھنے میں کوتاہی نہ ہو سکے، تو ایسا ضرور کرو“ اس سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں نمازوں کو کامل طریقے سے ادا کرو اور انھیں کامل طریقے سے ادا کرنے کی صورتوں میں سے ایک یہ ہے کہ انھیں باجماعت ادا کیا جائے اور ہو سکے تو اس معاملے میں سستی و کوتاہی کو غالب آنے نہ دیا جائے۔ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ نماز فجر اور نماز عصر کی محافظت اور ان کی ادائیگی میں استقامت کے سبب، اللہ عز وجل کا دیدار نصیب ہوگا۔   --  [یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6215

 
 
Hadith   1245   الحديث
الأهمية: لو دعيت إلى كراع أو ذراع لأجبت


Tema:

اگر مجھے پائے یا دست (کھانے) کی دعوت دی جائے تو میں یقیناً قبول کروں گا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «لو دُعِيتُ إلى كُرَاعٍ أو ذِرَاعٍ لأَجَبتُ، ولو أُهدِيَ إليّ ذِرَاعٌ أو كُرَاعٌ لقَبِلتُ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے پائے یا دست (کے گوشت کھانے کی) کی دعوت دی جائے تو میں یقیناً قبول کروں گا اور اگر مجھے دست یا پایا بطورِ تحفہ بھیجاجائے تو میں اسے ضرور قبول کروں گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث دليل على حسن خلقه -صلى الله عليه وسلم- وتواضعه وجبره لقلوب الناس، وعلى قبول الهدية وإن كانت قليلة، وإجابة من يدعو الرجل إلى منزله ولو علم أن الذي يدعوه إليه قليل؛ لأن القصد من قبول الهدية وإجابة الدعوة تأليف الداعي وإحكام التحابب، وبالرد وعدم الموافقة يحدث النفور والعداوة .
وخص الذراع والكراع بالذكر ليجمع بين الحقير والخطير؛ لأن الذراع كانت أحب إليه –صلى الله عليه وسلم- من غيرها، والكراع لا قيمة له.
575;س حدیث میں نبی ﷺ کے حسن خلق، آپ کی تواضع و خاکساری اور اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کی دل جوئی کرتے تھے، اوریہ کہ معمولی تحفہ بھی قبول کرنا چاہیے، نیز جو کسی آدمی کو اپنے گھر دعوت دے اسے قبول کرنا چاہیےاگرچہ یہ معلوم ہو کہ وہ معمولی چیز کے لیےدعوت دے رہا ہے۔ کیونکہ ہدیہ اور دعوت قبول کرنے کا مقصد دعوت دینے والے کی دل جوئی کرنا اور باہمی محبت کو مضبوط کرنا ہے، جبکہ دعوت رد کردینے اور اسے قبول نہ کرنے سے نفرت و عداوت جنم لیتی۔
آپ ﷺ نے خاص طور پر دست اور پائے کا اس لیے ذکر کیا ہےتاکہ معمولی اور اہم دونوں چیزیں یکجا کردیں؛ کیونکہ دست کا گوشت آپ ﷺ کو زیادہ پسند تھا، جبکہ پائے کی کوئی قیمت نہیں ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6216

 
 
Hadith   1246   الحديث
الأهمية: لئن بقيت إلى قابل لأصومن التاسع


Tema:

اگر میں اگلے سال زندہ رہا، تو (محرم کی) نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا۔

عن عبدالله بن عباس -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لَئِن بَقِيتُ إلى قابلٍ لأصومنّ التاسِع».

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں اگلے سال زندہ رہا، تو (محرم کی) نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لئن بقيت"، أي: لئن عشت، "إلى قابل"، أي عشت إلى المحرم الآتي، "لأصومن"، اليوم "التاسع" مع عاشوراء؛ مخالفة لليهود، فلم يأت المحرم القابل حتى مات، فيسن صومه وإن لم يصمه -عليه الصلاة والسلام-؛ لأن ما عزم عليه فهو سنة، والسبب في صوم التاسع مع العاشر أن لا يتشبه باليهود في إفراد العاشر، وقيل: للاحتياط في تحصيل عاشوراء، والأول أولى فقد جاء النص في ذلك، والله أعلم.

Esin Hadith Caption Urdu


”لَئِنْ بَقِيتُ“ کے معنی ہیں اگر میں زندہ رہا۔ ”إِلى قَابِلٍ“ یعنی آئندہ محرم تک زندہ رہا۔ ”لأَصومَنَّ التَّاسِعَ“ تو یہود کی مخالفت کرتے ہوئے عاشورا کے ساتھ نویں دن کا بھی روزہ رکھوں گا۔ تاہم آئندہ سال کی آمد سے قبل ہی نبی ﷺ اس دار فانی سے وفات فرما گئے۔ لہٰذا نویں دن کا روزہ رکھنا بھی مسنون ہے، گرچہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو وہ دن میسر نہ آیا۔ اس لیے کہ آپ ﷺ کی جانب سے روزہ رکھنے کا پختہ عز م ہی اس کے سنت ہونے کی دلیل ہے اور دسویں دن کے ساتھ نویں دن کا روزہ رکھنے کا سبب بھی موجود ہے کہ محض دسویں کا روزہ رکھنے کی صورت میں یہود کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ عاشورا کا روزہ پانے میں احتیاط کا تقاضا یہی ہے۔ تاہم پہلا قول ہی راجح ہے؛ کیوں کہ اس سلسلے میں نص شرعی وارد ہے۔ واللہ اعلم   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6217

 
 
Hadith   1247   الحديث
الأهمية: ما أذن الله لشيء ما أذن لنبي حسن الصوت


Tema:

اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی پسندیدگی سے نہیں سنتا، جتنی خوش الحان نبی کی زبان سے قرآن سنتا ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «ما أذنَ الله لشيء ما أَذِنَ لنبي حسن الصوت يَتَغَنَّى بالقرآن يجهر به».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی پسندیدگی سے نہیں سنتا، جتنی خوش الحان نبی کی زبان سے قرآن سنتا ہے، جو اسے خوش الحانی کے ساتھ بلند آواز سے پڑھتا ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث الحث على تحسين الصوت عند قراءة القرآن في الصلاة وغيرها، بحيث  أنه يحسّن به صوته جاهرًا به، مترنمًا على طريق التحزن، مستغنيًا به عن غيره من الأخبار، طالبًا به غنى النفس، راجيًا به غنى اليد، والمقصود بالتغني في الحديث هو التحسين وليس جعله مثل إيقاعات الأغاني الموسيقية.
575;س حدیث میں نماز وغیرہ میں قرآن مجید کی تلاوت کے موقع پر اچھی آواز سے تلاوت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے؛ اس طور پر کہ قرآن مجید کو بلند آواز سے، خوب دل نشین انداز میں، ترنم کے ساتھ، رقت آمیز انداز میں، دیگر ماضی کے واقعات سے بے نیازی اختیار کرتے ہوئے، اسی کے ذریعے نفس کی بے نیازی طلب کرتے ہوئے اور دنیاداروں کی مال داری سے بے نیازی کا امیدوار ہوکر اسے پڑھے۔ حدیث میں مذکور تغنی (سر آمیزی) سے مقصود دل کش و دل نشین انداز میں پڑھنا ہے، موسیقانہ نغموں کے آہنگوں کے مطابق پڑھنا نہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6218

 
 
Hadith   1248   الحديث
الأهمية: ما بعث الله نبيًّا إلا رعى الغنم


Tema:

اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چَرائی ہوں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبيِّ -صلى الله عليه وسلم- قال: "ما بَعَثَ اللهُ نبياً إلا رَعَى الغَنَمَ"، فقالَ أصحابُهُ: وأنتَ؟، قال: "نعم، كُنتُ أرعَاها على قَرَارِيطَ لأهلِ مكةَ".

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چَرائی ہوں“۔ اس پر آپ ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے پوچھا کیا آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں؟ فرمایا کہ ہاں! کبھی میں بھی مکہ والوں کی بکریاں چند قیراط کے عوض چَرایا کرتا تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كل الأنبياء رعوا الغنم في حياتهم، وظاهر الحديث أن ذلك قبل النبوة، لذلك قال العلماء: الحكمة من ذلك أن يتمرن الإنسان على رعاية الخلق وتوجيههم إلى ما فيه الصلاح؛ لأن الراعي للغنم تارة يوجهها للمرعى وتارة يبقيها واقفة وتارة يردها إلى المراح، فالنبي -عليه الصلاة والسلام- سيرعى الأمة ويوجهها إلى الخير عن علم وهدى وبصيرة كالراعي الذي عنده علم بالمراعي الحسنة، وعنده نصح وتوجيه للغنم إلى ما فيه خيرها، وما فيه غذاؤها وسقاؤها.
واختيرت الغنم لأن صاحب الغنم متصف بالسكينة والهدوء والاطمئنان بخلاف الإبل، فإن أصحابها في الغالب عندهم شدة وغلظة، لأن الإبل كذلك فيها الشدة والغلظة، فلهذا اختار الله -سبحانه وتعالى- لرسله أن يرعوا الغنم حتى يتعودوا ويتمرنوا على رعاية الخلق.
578;مام انبیاء نے اپنی زندگی میں بکریاں چرائی ہیں۔ ظاہرِ حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے نبوت سے پہلے بکریاں چَرائی ہیں۔ اس کی حکمت کے بارے میں علماء نے فرماتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہے تاکہ اُن نبیوں کو لوگوں کی نگرانی کرنے اور ان کو نیکی کی طرف متوجہ کرنے کی مشق ہو۔ کیونکہ بکریوں کا چرواہا کبھی ان کو چراگاہ کی طرف لے جاتا ہے اور کبھی ایسے ہی چھوڑ دیتا ہے اور کبھی گھاٹ میں پانی پلانے لے جاتا ہے۔ نبی بھی اپنی امت کی رہنمائی کرتا ہے اور انہیں علم، ہدایت اور بصیرت ے عبارت خیر کی طرف متوجہ کرتا ہے اس چرواہے کی طرح جسے اچھی چراگاہ کے بارے میں علم ہوتا ہے اور اسے اس چیز کا بھی علم ہوتا ہے جس میں بکریوں کے لیے بہتری اور ان کے کھانے پینے کا سامان ہوتا ہے۔
اس کام کے لیے بکریوں کو اس لیے چُنا گیا کہ بکری والے سکون، ٹھہراؤ اور اطمینان کے ساتھ متصف ہوتے ہیں برخلاف اونٹوں کے، اس لیے کہ اونٹوں والوں میں اکثر سختی اور شدت پائی جاتی ہے۔اس لیے کہ بذاتِ خود اونٹوں میں بھی سختی پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بکریاں چرانے کے لیے چُنا تاکہ ان میں ان کی عادت آ جائے اور لوگوں کی رہنمائی کرنے کی مشق ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6219

 
 
Hadith   1249   الحديث
الأهمية: ما كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يصنع في بيته؟ قالَتْ: كانَ يَكونُ في مِهنَةِ أهلِهِ -يَعني: خِدمَة أهلِهِ- فإذا حَضَرَتِ الصلاةُ، خَرَجَ إلى الصلاةِ


Tema:

نبی كريم ﷺ اپنے گھر میں کیا کام کرتے تھے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی خدمت ميں لگے رہتے تھے، اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے ليے تشريف لے جاتے۔

عن الأسود بن يزيد، قال: سُئِلَتْ عائشةُ -رضي الله عنها- ما كانَ النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- يَصْنَعُ في بَيتِهِ؟، قالَتْ: كانَ يَكونُ في مِهنَةِ أهلِهِ -يَعني: خِدمَة أهلِهِ- فإذا حَضَرَتِ الصلاةُ، خَرَجَ إلى الصلاةِ.

اسود بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: نبی كريم ﷺ اپنے گھر میں کیا کام کرتے تھے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی خدمت ميں لگے رہتے تھے، اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے ليے تشريف لے جاتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من تواضع النبي -عليه الصلاة والسلام- أنه كان في بيته في خدمة أهله، يحلب الشاة يصلح النعل، يخدمهم في بيتهم، لأن عائشة سئلت ماذا كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يصنع في بيته؟، قالت: كان في مهنة أهله يعني في خدمتهم -عليه الصلاة والسلام-، وهذا من أخلاق النبيين والمرسلين عليهم السلام التواضع والتذلل في أفعالهم، والبعد عن الترفه والتنعم.
606;بی کريم ﷺ کے تواضع و خاکساری کی ایک جھلک یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ اپنے گھر میں اہلِ خانہ کی خدمت کرتے تھے، بکری کا دودھ نکالتے، جوتی ٹھیک کرتے، گھر میں گھر والوں کی خدمت کرتے۔ کیوں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ نبی کريم ﷺ اپنے گھر ميں کيا کام کرتے تھے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمايا کہ آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی خدمت ميں لگے رہتے تھے۔ یہ انبیاء اور مرسلین کے اخلاق میں سے ہے کہ وہ اپنے اعمال میں تواضع و خاکساری اختیار کرتے تھے، آسائش پسندی اور ناز ونعمت کی زندگی گزارنے سے دور رہتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6220

 
 
Hadith   1250   الحديث
الأهمية: ما مسست ديباجًا ولا حريرًا ألين من كف رسول الله -صلى الله عليه وسلم-


Tema:

میں نے کبھی رسول اللہ ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم کوئی موٹا اور باریک ریشم نہیں چھوا۔

عن أنس -رضي الله عنه-، قَالَ: مَا مَسِسْتُ دِيبَاجاً وَلاَ حَرِيراً ألْيَنَ مِنْ كَفِّ رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-، وَلاَ شَمَمْتُ رَائِحَةً قَطُّ أطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-، وَلَقَدْ خدمتُ رسول اللهِ -صلى الله عليه وسلم- عَشْرَ سنين، فما قَالَ لي قَطُّ: أُفٍّ، وَلاَ قَالَ لِشَيءٍ فَعَلْتُهُ: لِمَ فَعَلْتَه؟، وَلاَ لشَيءٍ لَمْ أفعله: ألاَ فَعَلْتَ كَذا؟.

انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے کبھی رسول اللہ ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم کوئی موٹا اور باریک ریشم نہیں چھوا، اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کی خوشبو سے زیادہ عمدہ کوئی خوشبو سونگھی۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کی دس سال خدمت کی۔ آپ ﷺ نے کبھی مجھے اُف تک نہ کہا اور نہ ہی میرے کسی کیے گئے کام کے بارے میں مجھ سے یہ پوچھا کہ یہ تم نے کیوں کیا ہے؟ اور نہ ہی جس کام کو میں نے نہیں کیا اس پر آپ ﷺ نے یہ کہا کہ تم نے یہ کیوں نہیں کیا؟

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان أنس بن مالك قد خدم النبي صلى الله عليه وسلم عشر سنين، فكانت يده -صلى الله عليه وسلم- لينة، وكذلك أيضاً رائحته -صلى الله عليه وسلم- ما شم طيباً قط أحسن من رائحة النبي -صلى الله عليه وسلم-. ويقول: ولقد خدمت النبي -صلى الله عليه وسلم- عشر سنين، فما قال لي: أف قط، يعني: ما تضجر منه أبداً عشر سنوات يخدمه ما تضجر منه ولا قال لشيء فعلته: لم فعلت كذا؟، حتى الأشياء التي يفعلها أنس اجتهاداً منه ما كان الرسول -صلى الله عليه وسلم- يؤنبه أو يوبخه أو يقول لم فعلت كذا؟ مع أنه خادم، وكذلك ما قال لشيء لم أفعله: لِمَ لَم تفعل كذا وكذا؟، وهذا من حسن خلقه -عليه الصلاة والسلام-.
575;نس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی دس سال خدمت کی، آپ ﷺ کے ہاتھ مبارک گداز تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ کی خوشبو بھی خوشگوار ہوتی تھی۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی خوشبو سے عمدہ کوئی خوشبو کبھی نہیں سونگھی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی دس سال تک خدمت کی، آپ ﷺ نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا۔ یعنی خدمت کے دس سال کے دوران آپ ﷺ کبھی کبھی انہیں اُف تک نہ کہا یعنی انہیں کبھی ڈانٹا نہیں اور نہ ہی کسی کیے جانے والے کام کے بارے میں یہ پوچھا کہ یہ تم نے کیوں کیا ہے۔؟ حتی کہ وہ اشیاء جو انس بن مالک خود کرتے تھے اس پر بھی آپ ﷺ نہ تو ان کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے اور نہ یہ کہتے کہ تم نے ایسا کیوں کیا ہے؟ حالانکہ وہ ایک خادم تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے انہیں کسی نہ کیے جانے والے کام پر یہ بھی نہ کہا کہ تم نے یہ اور یہ کیوں نہیں کیا؟۔ یہ آپ ﷺ کے حسنِ اخلاق کا ایک مظہر ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6221

 
 
Hadith   1251   الحديث
الأهمية: ما من أحد يسلم علي إلا رد الله علي روحي حتى أرد عليه السلام


Tema:

مجھ پر جب بھی کوئی سلام بھیجتا ہے، تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «ما من أحد يُسَلِّمُ عليَّ إلا ردَّ الله عليَّ روحي حتى أرُدَّ عليه السلام».

Esin Hadith Text


ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ پر جب بھی کوئی سلام بھیجتا ہے، تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ما من أحد يُسلم على النبي إلا رَدَّ اللهُ عليه روحه حتى يرد السلام، فإذا سلمت على النبي -صلى الله عليه وسلم- رَدَّ الله عليه روحه فرد عليك السلام، والظاهر أن هذا فيمن كان قريباً منه؛ كأن يقف على قبره، ويقول: السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، ويحتمل أن يكون عاماً، والله على كل شيء قدير.
606;بیﷺ پر جب بھی کوئی سلام بھیجتا ہے، تو اللہ تعالیٰ آپﷺ کی روح لوٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ آپﷺ اس کے سلام کا جواب دیتے ہیں، چنانچہ آپ جب بھی نبی ﷺ پر سلام بھیجیں گے، اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی روح کو واپس لوٹاتا دے گا؛ تاکہ آپ ﷺ سلام کا جواب دے سکیں۔ اس کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ یہ ان افراد کے حق میں ہے، جو آپﷺ سے نزدیک ہوں۔ مثلا کوئی آپ کی قبر کے پاس کھڑے ہوکر یوں کہے: السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته (اے نبی ﷺ آپ پر سلامتی اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں)۔ نیز اس میں عمومی معنی کا بھی احتمال ہے؛ کیوں کہ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔   --  [اس حديث کی سند حَسَنْ ہے۔]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6222

 
 
Hadith   1252   الحديث
الأهمية: ما من امرئ مسلم تحضره صلاة مكتوبة فيحسن وضوءها


Tema:

جس مسلمان کی فرض نماز کا وقت ہوجائے، پھر وہ اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے۔

عن عثمان بن عفان -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "ما منْ امْرِئٍ مسلم تَحْضُرُهُ صلاة مكتوبة فَيُحْسِنُ وضوءها؛ وخشوعها، وركوعها، إلا كانت كفَّارة لما قبلها من الذنوب ما لم تُؤتَ كبيرة، وذلك الدهر كلَّه".

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس مسلمان کی فرض نماز کا وقت ہوجائے، پھر وہ اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے، اچھی طرح خشوع سے اسے ادا کرے اور احسن انداز سے رکوع کرے، تو یہ نماز اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گی، تاوقتے کہ وہ کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کرے۔ اور یہ (فضیلت) ہمیشہ کے لیے رہتی ہے“۔

Esin Hadith Caption Urdu


"ما من امرئ مسلم"، ومثله المرأة المسلمة، "تحضره صلاة مكتوبة"، أي: يدخل وقتها وهو مخاطب بأدائها  "فيحسن وضوءها"، فيؤديه على الوجه المشروع  "وخشوعها وركوعها "، أي: وسائر أركانها بأن أتى بكل من ذلك على أكمل هيئاته من فرض وسنة، فإحسان الوضوء: الإتيان به جامع الفرائض والسنن والآداب، وإحسان الخشوع: كمال الإقبال والتوجه، "إلا كانت"، هذه الصلاة، "كفارة"، أي: مكفرة، "لما قبلها من الذنوب"، أي: المعاصي الصغائر، "ما لم تُؤتَ كبيرةٌ"، أي: لم يعمل كبيرة من كبائر الذنوب، "وذلك"، أي: تكفير ما ذكر من الذنوب بحسن الوضوء والخشوع "الدهر كله"، تنبيهاً على تعميم تكفير الطاعات للصغائر كل زمن، وأن ذلك غير مقصور على أشرف الأزمنة من عصره -صلى الله عليه وسلم- وعصر الصحابة -رضي اللّه عنهم-؛ بل عام لسائر الأعصار

Esin Hadith Caption Urdu


”جس مسلمان مرد“ اس حکم میں مسلمان خاتون بھی برابر کی شریک ہے۔
”فرض نماز کاوقت ہوجائے“ یعنی نماز کا وقت شروع ہو جائے اور وہ اس کی ادائیگی کا مکلف ہو۔
”پھر وہ اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے“ یعنی مکمل شرعی آداب کا لحاظ کرتے ہوئے وضو کرے۔
”وخشوعها وركوعها“ یعنی نماز کے تمام ارکان کواس طور پر ادا کرے کہ اس کے تمام فرائض اور سنتوں کو ان کی کامل ہیئتوں کے ساتھ ملحوظ خاطر رکھے۔
اچھی طرح سے وضو کرنا یہ ہے کہ اس کو اس کے تمام فرائض، سنن اور آداب کی رعایت کرتے ہوئے انجام دیا جائے۔ اچھی طرح خشوع سے نماز ادا کرنا یہ ہے کہ مکمل حضور قلبی اور یکسوئی اختیار ساتھ نماز ادا کی جائے۔
تو یہ نماز کفارہ یعنی گناہوں کو مٹانے والی بن جاتی ہے۔
” پچھلے گناہوں“ یعنی صغیرہ گناہوں کو۔
”تاوقتے کہ وہ کسی کبیرہ گناہ نہ کرے“ یعنی کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے۔
یہ عمدہ طریقہ سے وضو کرنے اور خشوع کے ساتھ نماز پڑھنے کی بنا پر گناہوں کے مٹائے جانے کا عمل۔
”الدهر كله“ اس میں یہ نشان دہی ہے کہ نیکیوں کے ذریعے صغیرہ گناہوں کے مٹائے جانے کا معاملہ رسول اکرم ﷺ اور صحابۂ کرام کے اشرف ترین زمانوں کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ سارے زمانوں کے لیے عام ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6254

 
 
Hadith   1253   الحديث
الأهمية: ما من أيام العمل الصالح فيها أحب إلى الله من هذه الأيام


Tema:

ان دنوں میں کیے جانے والے اعمال سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو کسی اور دن کا عمل صالح محبوب نہیں۔

عن عبدالله بن عباس -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «ما من أيام العمل الصالح فيها أحب إلى الله من هذه الأيام» يعني أيام العشر. قالوا: يا رسول الله، ولا الجهاد في سبيل الله؟ قال: «ولا الجهاد في سبيل الله، إلا رجل خرج بنفسه وماله، فلم يَرْجِعْ من ذلك بشيء»

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ان دنوں میں کیے جانے والے اعمال سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو کسی اور دن کا عمل صالح محبوب نہیں“۔ یعنی ذی الحجہ کے دس دن۔ لوگوں نے پوچھا :اے اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں، سوائے اس مجاہد کے جو اپنی جان اور مال دونوں لے کر اللہ کی راہ میں نکلا، پھر کسی چیز کے ساتھ واپس نہیں آیا“۔

Esin Hadith Caption Urdu


"ما من أيام العمل الصالح فيها أحب إلى الله من هذه الأيام" يعني: أيام عشر ذي الحجة، قالوا: يا رسول الله ولا الجهاد في سبيل الله ؟ قال: "ولا الجهاد في سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء"، فقوله: "العمل الصالح"، يشمل الصلاة والصدقة والصيام والذكر والتكبير وقراءة القرآن وبر الوالدين وصلة الأرحام والإحسان إلى الخلق وحسن الجوار وغير ذلك من الأعمال الصالحة، فيُسن صيام أيام العشر عشر ذي الحجة الأول لدخولها في عموم العمل الصالح، والمراد ما عدا يوم العاشر؛ للنهي عن صيام العيد.
وفي هذا دليل على فضيلة العمل الصالح في أيام العشر الأولى من شهر ذي الحجة، وفيه دليل أيضاً على أن الجهاد من أفضل الأعمال، ولهذا قال الصحابة: "ولا الجهاد في سبيل الله"، وفيه دليل على فضيلة هذه الحال النادرة أن يخرج الإنسان مجاهداً في سبيل الله بنفسه وماله -وماله يعني: سلاحه ومركوبه- ثم يقتل ويؤخذ سلاحه ومركوبه يأخذه العدو، فهذا فقد نفسه وماله في سبيل الله فهو من أفضل المجاهدين، فهذا أفضل من العمل الصالح في أيام العشر، وإذا وقع هذا العمل في أيام العشر تضاعف فضله

Esin Hadith Caption Urdu


”ان دنوں میں کئے جانے والے اعمال سے زیادہ، اللہ تعالیٰ کو، کسی اور دن کا عمل صالح محبوب نہیں“ یعنی ذی الحجہ کے دس دن۔ لوگوں نے پوچھا :اے اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں، سوائے اس مجاہد کے جو اپنی جان اور مال، دونوں لے کر اللہ کی راہ میں نکلا، پھر کسی چیز کے ساتھ واپس نہیں آیا“۔ آپ ﷺ کے قول ”عمل صالح“ میں نماز، صدقہ، روزہ، ذکر و اذکار، تکبیر، قرآن مجید کی تلاوت، والدین کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی، مخلوق کے ساتھ اچھا سلوک اور پڑوسیوں کے ساتھ خوش اخلاقی جیسے تمام اعمال صالحہ شامل ہیں۔ اسی بنا پر ماہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں کا روزہ رکھنا مسنون ہے؛ کیوں کہ یہ عمل صالح کے عموم میں شامل ہے۔ البتہ یہاں دسویں دن کا روزہ چھوڑ کر مراد ہے؛ کیوں کہ عید کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت ہے۔
اس حدیث سے ماہ ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں میں عمل صالح کرنے کی فضیلت کی دلیل ملتی ہے۔ نیز اس بات کی دلیل ملتی ہے کہ جہاد افضل ترین اعمال میں سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنھم نے دریافت کیا کہ ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں؟“ اور اس میں اس کم یاب حالت کی فضیلت کی بھی دلیل ہے کہ جس میں ایک شخص اپنی جان اور مال ( اپنے ہتھیار اور سواری)کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے لیے نکل پڑتا ہے، پھر شہادت کے مرتبے کو پالیتا ہے اور دشمن اس کے اسلحے اور سواری پر قابض ہوجاتا ہے۔ اپنی جان اور مال کو اللہ عز وجل کی راہ میں نچھاور کرنے والا یہ شخص افضل ترین مجاہدین میں شمار ہوگا اور یہ جہاد، ذی الحجہ کے دس دنوں میں کیے جانے والے اعمال سے افضل ہوگا، اور جب یہ جہاد، ان دس دنوں میں وقوع پذیر ہوجائے تو اس کی دوچند فضیلت کے کیا کہنے!۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6255

 
 
Hadith   1254   الحديث
الأهمية: ما من مسلم يعود مسلما غدوة إلا صلى عليه سبعون ألف ملك


Tema:

جب کوئی مسلمان صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرے، تو ستر ہزار فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔

عن علي -رضي الله عنه- قال: سمعتُ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- يقول: « مَا مِنْ مُسْلِم يَعُودُ مُسْلِماً غُدْوة إِلاَّ صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ ألْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِي، وَإنْ عَادَهُ عَشِيَّةً إِلاَّ صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ ألْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبحَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ في الْجَنَّةِ».

علی رضی الله عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب کوئی مسلمان صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرے، تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی شام کے وقت کسی مسلمان کی عیادت کرے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہو گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى هذا الحديث أن الإنسان إذا عاد أخاه المريض فهو في خرفة الجنة -أي: في جناها- وفضل الله واسع، فهو يدل على فضيلة عيادة المريض، وأنه إذا كان في الصباح فله هذا الأجر، وإذا كان في المساء فله هذا الأجر.
581;دیث کا مفہوم یہ ہے کہ انسان جب اپنے مریض مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کی کیاری یعنی جنت کے باغ میں ہوگا۔ اللہ کا فضل وسیع ہے۔ یہ حدیث مریض کی عیادت کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔ اگر وہ صبح عیادت کرے تو اس کے لیے یہ اجر ہے اور شام کو عیادت کرے تو بھی اس کے لیے یہ اجر ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6256

 
 
Hadith   1255   الحديث
الأهمية: ما من مسلمين يلتقيان فيتصافحان إِلاَّ غُفِرَ لَهُمَا قَبلَ أنْ يَفْتَرِقَا


Tema:

جو دو مسلمان بھی آپس میں ملاقات کریں اور مصافحہ کریں، تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ہی انھیں بخش دیا جاتا ہے۔

عن البراء -رضي الله عنه- قَالَ: قَالَ رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم-: "مَا مِنْ مُسْلِمَينِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ إِلاَّ غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أنْ يَفْتَرِقَا".

براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو دو مسلمان بھی آپس میں ملاقات کریں اور مصافحہ کریں، تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ہی انھیں بخش دیا جاتا ہے۔‘‘

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قوله: "ما من مسلمين يلتقيان فيتصافحان"، أي: عقب الملاقاة مباشرة "إلا غفر لهما"، والذي يكفر بالأعمال الصالحة صغائر الذنوب المتعلقة بحق اللّه -سبحانه-، وقوله: "قبل أن يتفرقا"، ففيه تأكيد أمر المصافحة والحث عليها، نعم يستثنى من الحديث المصافحة المحرمة كمصافحة المرأة الأجنبية.
570;پ ﷺ کا فرمان: ”جو دو مسلمان بھی آپس میں ملاقات کریں اور مصافحہ کریں“ یعنی ملاقات کے فوراً بعد مصافحہ کریں۔
”انھیں بخش دیا جاتا ہے“ نیک اعمال کے ذریعے صرف وہ صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں جو اللہ سبحانہ کے حق سے متعلق ہوتے ہیں۔
”ان کے جدا ہونے سے پہلے“ اس میں مصافحہ کرنے کی تاکید ہے اور اس پر زور دیا گیا ہے۔ لیکن اس حدیث سے حرام مصافحہ مستثنیٰ ہے جیسے کہ اجنبی عورت سے مصافحہ کرنا۔   --  [یہ حدیث اپنے تمام طُرُقْ اور شواہِد کی بنا پر صحیح یا کم از کم حَسَنْ درجہ کی ہے۔]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6257

 
 
Hadith   1256   الحديث
الأهمية: مثل المؤمن الذي يقرأ القرآن مثل الأترجة ريحها طيب وطعمها طيب


Tema:

اس مؤمن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، چکوترے جیسی ہے، جس کی خوش بو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہے۔

عن أبي موسى الأشعري -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «مثَلُ المؤمن الذي يقرأ القرآن مَثَلُ الأُتْرُجَّةِ: ريحها طيب وطعمها طيب، ومَثَل المؤمن الذي لا يقرأ القرآن كمَثَلِ التمرة: لا ريح لها وطعمها حُلْوٌ، وَمَثل المنافق الذي يقرأ القرآن كمثل الريحانَة: ريحها طيب وطعمها مُرٌّ، وَمَثَل المنافق الذي لا يقرأ القرآن كمثل الحَنْظَلَةِ: ليس لها ريح وطعمها مُرٌّ».

ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس مؤمن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، چکوترے جیسی ہے، جس کی خوش بو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہے اور اس مؤمن کی مثال جو قرآن نہ پڑھتا ہو،کھجور جیسی ہے، جس میں کوئی خوش بو نہیں ہوتی، لیکن مٹھاس ہوتی ہے اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، ریحانہ (پھول) جیسی ہے، جس کی خوش بو تو اچھی ہوتی ہے، لیکن مزہ کڑوا ہوتا ہے اور جو منافق قرآن بھی نہیں پڑھتا، اس کی مثال اندرائن جیسی ہے، جس میں کوئی خوش بو نہیں ہوتی اور جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے“۔

Esin Hadith Caption Urdu


"مثل المؤمن الذي يقرأ القرآن" أي: صفته العجيبة ذات الشأن من حيث طيب قلبه لثبات الإيمان، واستراحته بقراءة القرآن، واستراحة الناس بصوته وثوابهم بالاستماع إليه والتعلم منه، فالمؤمن الذي يقرأ القرآن كله خير في ذاته وفي غيره، وعبر بقوله: "يقرأ" لإفادة تكريره ومداومته عليها حتى صارت دأبه وعادته، وقوله: "مثل الأترجة ريحها طيب وطعمها طيب" فيستلذ الناس بطعمها ويستريحون بريحها، وخصت لأنها من أفضل ما يوجد من الثمار في سائر البلدان، مع ما اشتملت عليه من الخواص الموجودة فيها مع حسن المنظر وطيب الطعام ولين الملمس، و"مثل المؤمن الذي لا يقرأ القرآن كمثل التمرة لا ريح لها وطعمها حلو"، فاشتماله على الإيمان كاشتمال التمرة على الحلاوة، بجامع أن كلاّ  منهما أمر باطني، وعدم ظهور ريح لها يستريح الناس لشمه لعدم ظهور قراءة منه يستريح الناس بسماعها، فالمؤمن القارئ للقرآن أفضل بكثير من الذي لا يقرأ القرآن، ومعنى لا يقرؤه يعني: لم يتعلمه.
quot;ومثل المنافق الذي يقرأ القرآن" من حيث تعطل باطنه عن الإيمان مع استراحة الناس بقراءته؛ لأن المنافق في ذاته خبيث لا خير فيه، -والمنافق هو الذي يظهر أنه مسلم ولكن قلبه كافر-، والعياذ بالله، ويوجد منافقون يقرؤون القرآن قراءة طيبة مرتلة مجودة، لكنهم منافقون والعياذ بالله، وقوله: "مثل الريحانة ريحها طيب وطعمها مرّ" فريحها الطيب أشبه قراءته، وطعمها المرّ أشبه كفره، وذلك لخبث طويتهم وفساد نيتهم، وقوله: "ومثل المنافق لا يقرأ القرآن" من حيث تعطل باطنه عن الإيمان، وظاهره عن سائر المنافع مع تلبسه بالمضار، وقوله: "كمثل الحنظلة ليس لها ريح وطعمها مرّ" فسلب ريحها أشبه سلب ريحه لعدم قراءته، فليس معه قرآن ينتفع الناس به، وسلب طعمها الحلو أشبه سلب إيمانه.
ضرب النبي -صلى الله عليه وسلم- أمثلة للمؤمن والمنافق، وبيّن أقسام الناس بالنسبة لكتاب الله -عز وجل-، فاحرص أخي المسلم على أن تكون من المؤمنين الذين يقرؤون القرآن، ويتلونه حق تلاوته حتى تكون كمثل الأترجة ريحها طيب وطعمها حلو، والله الموفق

Esin Hadith Caption Urdu


”قرآن پڑھنے والے مؤمن کی مثال“ یعنی اس کی شخصیت غیر معمولی اوصاف کی حامل ہوتی ہے؛ دل کی پاکیزگی، ایمانی پختگی ،قرآن مجید کی تلاوت سے سکون وراحت کا احساس، نیز لوگوں کا اس کی آواز سے راحت کا احساس، اس کی سماعت سے ثواب حصول اور اس سے فیض یابی (یہ سب اس کی شخصیت کے شان دار پہلو ہیں)۔ اس لیے قرآن پڑھنے والا مؤمن سراپا خیر ہے؛ اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔ آپ ﷺ نے اپنے قول : ”يقرأ“ یعنی پڑھتا ہے کے لفظ کا انتخاب یہ بتانے کے لیے کیا کہ وہ قرآن اس طرح بار بار اور لگاتار پڑھتا ہے کہ یہ اس کی اس کی عادت و فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔
اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”چکوترے جیسی ہے، جس کی خوش بو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہے“ چنانچہ لوگ اس کی مٹھاس و شیرینی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور اس کی خوش بو سے سکون و راحت محسوس کرتے ہیں۔ یہاں بطور خاص 'چکوترے' کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ یہ تمام ممالک میں پائے جانے والے بہترین پھلوں میں سے ایک ہے۔ یہ اور بات ہے کہ یہ دل کشی، عمدہ و پاکیزہ غذائیت اور چھونے میں گدازپن جیسی گوناگوں خوبیوں و خاصیتوں کا حامل ہے۔
”اور اس مؤمن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا، کھجور جیسی ہے، جس میں خوش بو تو نہیں ہوتی، لیکن ذائقہ میٹھا ہوتا ہے“ چنانچہ اس مؤمن کا ایمان کے وصف سے متصف ہونا ایسے ہے، جیسے کھجور کا مٹھاس سے۔ دونوں کا وصف جامع باطنی چیز ہے کہ کھجور میں خوش بو نہیں ہوتی جسے سونگھ کر لوگ لطف اندوز ہوں اور یہ مؤمن بھی قراءت قرآن مجید کا اہتمام نہیں کرتا، جس کی سماعت سے لوگ لذت و سرور محسوس کریں۔ لہٰذا قرآن مجید کی قراءت کرنے والا مؤمن اس سے بدرجہا بہتر ہے، جو قرآن نہیں پڑھتا۔ ”نہیں پڑھتا“ یعنی اسے سیکھتا نہیں ہے۔
”اور اس منافق کی مثال جو قرآن مجید کی قراءت کرتا ہے“ جب کہ اس کا باطن، ایمان کی دولت سے خالی و بے بہرہ ہوتا ہے،تاہم لوگ، اس کی قراءت سے محظوظ ہوتے ہیں؛ کیوں کہ منافق کی شخصیت ہی سراپا گندگی ہوتی ہے، اس میں کوئي خیر نہیں ہوتی۔-منافق اس شخص کو کہتے ہیں جوخود کو مسلمان ظاہر کرے، لیکن اپنے دل میں کفر کی تاریکیاں چھپائے پھرے- والعیاذ باللہ! کچھ منافق ایسے ہوتے ہیں، جو قرآن مجید کی ترتیل و تجوید کے ساتھ بہترین تلاوت کرتے ہیں، لیکن ان کے دلوں میں نفاق بھرا رہتا ہے۔ العیاذ باللہ۔
اور آپﷺ کے قول " اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، ریحانہ (پھول) جیسی ہے، جس کی خوش بو تو اچھی ہوتی ہے، لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے" کے معنی یہ ہیں کہ اس پھول کی عمدہ خوش بو، اس کی قراءت کے مشابہ ہےاور اس کے کڑواہٹ، اس کے کفر کے مشابہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ باطن کی خباثتوں اور فاسد نیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔
اور آپ ﷺکے قول ”اور جو منافق قرآن بھی نہیں پڑھتا“ کے معنی یہ ہے کہ اس کا باطن، ایمان کی دولت سے خالی، اس کا ظاہر ہر قسم کے منافع سے بے بہرہ اور اس میں ہر قسم کا شر و ضرر موجود ہوتا ہے۔
اور آپ ﷺ کے قول ”اس کی مثال اندرائن جیسی ہے، جس میں کوئی خوش بو نہیں ہوتی اور جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے“ میں اندرائن کی خوش بو کی نفی کو منافق میں خوش بو کی نفی سے مشابہت دی گئی ہے؛ کیوں کہ اسے قرآن مجیدکی تلاوت بھی نصیب نہیں کہ جس سے (کم از کم) دیگر لوگ لطف اندوز ہوں۔ اس کے شیرین ذائقے کی نفی کو اس کے ایمان کی نفی سے تشبیہ دی گئی ہے۔
الغرض اس حدیث میں نبی ﷺ نے مؤمن اور منافق کے لیے مثالیں بیان فرمائیں اور اللہ عز وجل کی کتاب کی نسبت پائے جانے والے لوگوں کی مختلف اقسام واضح فرمائیں۔ اس لیے اے میرے مسلم بھائی! اس بات کی خوب حرص و طمع رکھو کہ تمھارا ان مؤمنین میں شمار ہوجائے، جو قرآن مجید کی قرات میں مشغول رہتے ہیں اور اور اس کا بھرپورحق ادا کرتے ہوئے، اس کی تلاوت کرتے ہیں؛ تاکہ آپ بھی اس چکوترے کی مثال کے حق دار ہوجائیں، جس کی خوش بو عمدہ ہوتی ہے اور اس کا ذائقہ بھی شیریں ہوتا ہے۔ واللہ المؤفق۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6258

 
 
Hadith   1257   الحديث
الأهمية: معقبات لا يخيب قائلهن أو فاعلهن دبر كل صلاة مكتوبة


Tema:

نمازوں کے بعد کہے جانے والے کچھ کلمات ہیں، جنھیں ہر فرض نماز کے بعد کہنے والا یا ان پر عمل کرنے والا کبھی ناکام و نامراد نہیں ہو سکتا۔

عن كعب بن عجرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «مُعَقِّباتٌ لا يخيب قائلهنَّ -أو فاعلهنَّ- دُبُرَ كل صلاة مكتوبة: ثلاث وثلاثون تسبيحة، وثلاث وثلاثون تحميدة، وأربع وثلاثون تكبيرة».

کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نمازوں کے بعد کہے جانے والے کچھ کلمات ہیں، جنھیں ہر فرض نماز کے بعد کہنے والا یا ان پر عمل کرنے والا کبھی ناکام و نامراد نہیں ہو سکتا؛ 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمد للہ، اور 34 مرتبہ اللہ اکبر“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث مشروعية قول هذه الأذكار عقب الصلوات الخمسة، وحكمته أن وقت الفرائض تفتح فيه الأبواب وترفع فيه الأعمال فالذكر حينئذ أرجى ثواباً وأعظم أجراً.
575;س حدیث سے پانچوں نمازوں کے بعد ان اذکار کے پڑھنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ فرائض کے اوقات میں (خیر و بھلائی کے) دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اعمال آسمانوں پر اٹھائے جاتے ہیں؛ لہٰذا ان اوقات میں ذکر زیادہ اجر و ثواب کا حامل ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6259

 
 
Hadith   1258   الحديث
الأهمية: من القرآن سورة ثلاثون آية شفعت لرجل حتى غفر له


Tema:

قرآن کریم کی تیس آیتوں پر مشتمل ایک سورت نے ایک شخص کی شفاعت (سفارش) کی، تو اسے بخش دیا گیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «مِنَ القُرْآنِ سُورَةٌ ثَلاثُونَ آيَةً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتَّى غُفِرَ لَهُ، وَهِي: تبارك الذي بيده الملك». وفي رواية أبي داود: «تشفع».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ”قرآن مجید کی تیس آیتوں پر مشتمل ایک سورت نے ایک شخص کی شفاعت (سفارش) کی، تو اسے بخش دیا گیا۔ یہ سورت ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾ ہے۔
ابوداؤد کی ایک روایت میں ”تَشْفَعُ“ (پڑھنے والے کے حق میں سفارش کرے گی ) کا لفظ وارد ہے۔

610;بين رسول اللّه –صلى الله عليه وسلم- أن هناك سورة من القرآن تتكون من ثلاثين آية شفعت لرجل حتى غفر الله له، حيث كان يقرؤها ويعتني بها, فلما مات شفعت له حتى دفع عنه عذابه، وأبهم ذكرها في بداية الحديث, ثم بينها في آخره؛ ليكون أوقع في شرفها وفخامتها، وأبلغ في المواظبة على قراءتها.
585;سول اللہ ﷺ اس حدیث میں یہ وضاحت فرمارہے ہیں کہ قرآن مجید میں تیس آیات پر مشتمل ایک ایسی سورت ہے، جو اپنے قاری کی اس وقت تک سفارش کرتی رہی، جب تک اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت نہ فرمادی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دنیا میں اس کی تلاوت کرتا تھا اور اس کا خاص اہتمام کیا کرتا تھا۔ اس لیے جب اس کی وفات ہوگئی، تو اس سورت نے اس کی سفارش کی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے عذاب دور کردیا۔نبی ﷺ نے آغاز حدیث میں اس سورت کا ذکر غیر واضح اسلوب میں فرمایا اور پھر آخر حدیث میں اس کی وضاحت فرمائی؛ تاکہ یہ اسلوب، اس سورت کے شرف و عظمت اوراس کی بڑائی و شوکت کے بیان میں زیادہ مؤثر و کارگر ثابت ہو اور اس کی تلاوت میں پائیداری و ثبات قدمی اختیار کرنے کی راہ میں بھرپور ترغیب کا ذریعہ بن جائے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6260

 
 
Hadith   1259   الحديث
الأهمية: من ترك صلاة العصر فقد حبط عمله


Tema:

جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کا عمل ضائع و رائیگاں ہو گیا۔

عن بريدة بن الحصيب -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «من تَرَكَ صلاةَ العصرِ فقد حَبِطَ عَمَلُهُ».

بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کا عمل ضائع و رائیگاں ہو گیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد الحديث عقوبة من ترك صلاة العصر متعمداً، وخص العصر لأنها مظنة التأخير بالتعب من شغل النهار؛ ولأن فوتها أقبح من فوت غيرها؛ لكونها الصلاة الوسطى المخصوصة بالأمر بالمحافظة عليها في قوله -تعالى-: (حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى) [البقرة: 238]، والعقوبة المترتبة على ذلك حبوط عمل من تركها, ببطلان ثوابه، وقيل: المراد مَنْ تركها مستحلاً لذلك، أو جاحداً لوجوبها، فيكون المراد بحبوط العمل الكفر، واستدل بهذا بعض العلماء على أن من ترك صلاة العصر كفر؛ لأنه لا يحبط الأعمال إلا الردة، وقيل: هو وارد على سبيل التغليظ؛ أي: من تركها فكأنما حبط عمله، وهذا من فضائل صلاة العصر خاصة أن من تركها فقد حبط عمله؛ لأنها عظيمة.
575;س حدیث میں نماز عصر کو جان بوجھ کر چھوڑنے والے کی سزاء کا بیان مستفاد ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے نماز عصر کا خاص طور پر اس لئے ذکر فرمایا کہ دن بھر کے مشاغل کی بناء پر ہونے والی تھکان سے اس نماز میں ٹال مٹول وتاخیر کا زیادہ امکان پایا جاتا ہے؛ نیز دیگر دوسری نمازوں کے فوت و ضائع ہونے کی بنسبت اس نماز کا فوت ہونا زیادہ قبیح و بدتر ہے کیونکہ یہ دن کی وہ درمیانی نماز ہے جس کی محافظت کا خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں حکم فرمایا ہے:﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ﴾ ”نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی“۔ (سورہ بقرہ: 238) اس ضیاع نماز کے نتیجہ میں مرتب ہونے والی سزاء یہ ہے کہ اس نماز کے چھوڑنے والے کے اعمال،اس کے(عظیم) ثواب سے محرومی کی بناء پر ضائع و رائیگاں ہوجاتے ہیں، نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ جس نے اس نماز کے چھوڑنے کو حلال وجائز سمجھایا اس کے وجوب کا انکار کیا تو ایسی صورت میں ضیاع عمل سے مراد کفر کا ارتکاب ہوگا اور بعض علماء نے اس دلیل کی روشنی میں یہ فتویٰ دیا کہ نماز عصر کا چھوڑنے والا کفر کا مرتکب ہوگا کیونکہ اعمال کا ضیاع، ارتداد ہی کی صورت میں ہوتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہاں تغلیظ (اس عمل کی قباحت و برائی بیان کرنا) کے طور پر ضیاع عمل کے الفاظ وارد ہوئے ہیں؛ یعنی جس نے یہ نماز چھوڑدی تو گویا اس کے عمل ضائع ہوگئے۔ نماز عصر کے خصوصی فضائل میں سے یہ ہے کہ جس نے اس کو چھوڑ دیا تو اس کے عمل ضائع و برباد ہوگئے کیونکہ یہ نماز بہت ہی اہمیت کی حامل ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6261

 
 
Hadith   1260   الحديث
الأهمية: من تعلم علما مما يبتغى به وجه الله


Tema:

جس نے ایسا علم صرف دنیاوی مقصد کے لیے سیکھا، جس سے اللہ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل کی جاتی ہے

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «مَنْ تعلَّم علْمًا ممَّا يُبْتَغى به وَجْهُ الله -عز وجل- لا يَتَعلَّمُه إلا لِيُصِيبَ به عَرَضًا من الدنيا، لمْ يَجِدْ عَرْفَ الجنة يومَ القيامة».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایسا علم صرف دنیاوی مقصد کے لیے سیکھا، جس سے اللہ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل کی جاتی ہے، تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوش بو تک نہیں پائے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يدل هذا الحديث على أن من تعلم علمًا من العلوم التي يراد بها وجه الله -وهي العلوم الشرعية وما يساندها من علوم عربية ونحوها-، وما أراد من ذلك إلا الحصول على متاع دنيوي، كالمال أو الجاه دون أن يكون قصده وجه الله والدار الآخرة, فإن الله -تعالى- يعاقبه يوم القيامة بأن لا يجد ريح الجنة؛ وذلك لأنه طلب الدنيا بعمل الآخرة؛ وحرمانه من رائحة الجنة مبالغة في تحريم الجنة؛ لأن من لا يجد ريح الشيء لا يتناوله قطعًا, وهذا محمول على أنه يستحق ألا يدخل الجنة, والآثم أمره إلى الله -تعالى-، كأمر صاحب الذنوب إذا مات على الإيمان.
740;ہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہےکہ جو شخص شرعی علوم اور ان کے فہم و تفہیم میں معاون علوم، جیسے علوم عربیہ وغیرہ حاصل کرے، جن سے اللہ تعالیٰ کی خوش نودی طلب کی جاتی ہے، لیکن اس کا مقصد اللہ کی خوش نودی اور آخرت کی بجائے، محض دنیوی مال و متاع، جیسے دولت یا جاہ و منصب ہو، تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو قیامت کے دن ایسی سخت سزا دے گا کہ اس کو جنت کی خوش بو بھی نصیب نہ ہوگی؛ اس کی وجہ یہ ہے اس نے آخرت کے لیے کیا جانے والا عمل دنیا طلبی کے لیے انجام دیا۔ جنت کی خوش بو سے محرومی کی تعبیر، جنت سے محرومی کے معنی میں مبالغہ و شدت پیدا کرتی ہے؛ کیوںکہ جس کو کسی چیز کی خوش بو بھی میسر نہ آئے، تو قطعی طور پر اسے وہ چیز حاصل نہیں ہوسکتی۔ اس وعید کو اس مفہوم میں لیا جائے گا کہ ایسا شخص ایسی سزا کا مستحق ہے کہ اس کو جنت میں داخل نہ کیا جائے، تاہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسے گناہ گار کا معاملہ عام گناہ گار جیسا ہی ہوگا، شرط یہ کہ وہ ایمان کی حالت میں مرے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6262

 
 
Hadith   1261   الحديث
الأهمية: من توضأ فأحسن الوضوء، خرجت خطاياه من جسده


Tema:

جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے، اس کے جسم سے گناہ نکل جاتے ہیں۔

عن عثمان بن عفان -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «من توضَّأ فَأَحْسَن الوُضُوءَ، خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ حَتَّى تَخْرُج مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِه».

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے، اس کے جسم سے گناہ نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے دونوں ہاتھ کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکلتے ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يدل الحديث على أن الوضوء من أفضل العبادات، ومن فضائله التي جاءت في هذا الحديث أن من توضأ فأحسن الوضوء, بحيث حافظ على سننه وآدابه، كان وضوؤه هذا سببًا لخروج ما اقترفه من صغائر الذنوب المتعلقة بحق الله -تعالى-, حتى تخرج هذه الذنوب والخطايا من أدق مكان وهو ما تحت الأظفار، وعلى هذا ينبغي للإنسان أن ينوي بوضوئه التقرب إلى الله -عز وجل-، ويستشعر بأنه يمتثل أمر الله في قوله: "إذا قمتم إلى الصلاة، فاغسلوا وجوهكم" المائدة: 6، ويستشعر أيضاً أنه متبع لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- في وضوئه، ويستحضر أيضاً أنه يريد الثواب، وأنه يثاب على هذا العمل حتى يتقنه ويحسنه.
740;ہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وضو افضل ترین عبادتوں میں سے ہے۔ اس حدیث میں وارد وضو کے فضائل میں سے ایک یہ ہے کہ جس نے وضو کی سنتوں اور اس کے آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے خوب اچھی طرح وضو کیا، اس کے حقوق اللہ سے متعلق تمام چھوٹے گناہ نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ یہ گناہ ناخنوں کے نیچے موجود جسم کے باریک ترین حصوں سے بھی نکل جاتے ہیں ۔اسی لیے بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے وضو کے ذریعہ اللہ عز وجل کا تقرب حاصل کرنے کی نیت کرےاور ذہن میں یہ بات رکھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ﴾ ”اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو، تو اپنے منہ کو، اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو“ (سورہ مائدہ: 6) کی تعمیل میں ہے۔ یہ احساس بھی ہونا چاہیے کہ وہ اپنے وضو کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کی اتباع و پیروی کررہا ہے اور اسے اس عمل کا ثواب عطا کیا جائے گا؛ تاکہ وہ اسے بہتر طور پر انجام دے سکے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6263

 
 
Hadith   1262   الحديث
الأهمية: من توضأ هكذا غفر له ما تقدم من ذنبه


Tema:

جو کوئی اس طرح وضو کرے، اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔

عن عثمان بن عفان -رضي الله عنه- قال: رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- توضأ مِثل وُضوئي هذا، ثم قال: «مَنْ تَوَضَّأ هكَذَا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَكَانَتْ صَلاَتُهُ وَمَشْيُهُ إِلَى المَسْجدِ نَافِلَةً».

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو میرے اس وضو کی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی اس طرح وضو کرے، اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جائیں گے اور اس کی نماز اور مسجد کی جانب اس کا جانا مزید ثواب کا باعث ہوگا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين هذا الحديث أن عثمان بن عفان -رضي الله عنه- بعد أن أتى بالوضوء على كماله المشروع، ذكر أنه رأى رسول اللّه -صلى الله عليه وسلم- توضأ مثل وضوئه، ثم أخبر -أي النبي صلى الله عليه وسلم- أن من توضأ مثل هذا الوضوء، تفضَّل الله -تعالى- عليه وغفر له الذي تقدم من ذنوبه الصغائر المتعلقة بحق اللّه -تعالى-، وكانت صلاته ومشيه إلى المسجد أجرًا زائدًا على مغفرة الذنوب.
وصفة الوضوء المشار إليه جاء عن حمران، مولى عثمان أنه رأى عثمان دعا بإناء فأفرغ على كفيه ثلاث مرار فغسلهما، ثم أدخل يمينه في الإناء فمضمض واستنثر، ثم غسل وجهه ثلاث مرات ويديه إلى المرفقين ثلاث مرات، ثم مسح برأسه، ثم غسل رجليه ثلاث مرات.
575;س حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کامل مشروع طریقے سے وضو کرنے کے بعد فرمایا کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو ان کے وضو کرنے کی طرح وضو کرتے ہوۓ دیکھا، پھر نبی کریمﷺ نے یہ خوش خبری سنائی کہ جو شخص اس طرح وضو کرے، اللہ تعالیٰ اس پر اپنا فضل و کرم نازل فرماتا ہے اور حقوق اللہ سے تعلق رکھنے والے اس کے گذشتہ معمولی نوعیت کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ اس کا نماز پڑھنااور مسجد کی جانب چل کر جانا ،گناہوں کی بخشش کے علاوہ زائد اجر و ثواب کا باعث ہوتا ہے۔
مذکورہ وضو کی صفت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے حمران نامی غلام سے مروی حدیث میں مذکور ہے کہ انھوں نے دیکھا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے پانی کا برتن منگوایا اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر تین مرتبہ پانی ڈال کر انھیں دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا۔ کلی کی۔ ناک جھاڑی۔ پھر اپنا چہرہ اور کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر تین مرتبہ اپنے پاؤں دھوئے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6264

 
 
Hadith   1263   الحديث
الأهمية: من حفظ عشر آيات من أول سورة الكهف، عصم من الدجال


Tema:

جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیتیں یاد کر لیں وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔

عن أبي الدرداء –رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم-: «مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الكَهْفِ، عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ». وفي رواية: «مِنْ آخِرِ سُورَةِ الكَهْف».

ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیتیں یاد کر لیں، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا“۔
ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جس نے سورۃ الکہف کی آخری آیتیں یاد کیں...“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من حفظ عن ظهر قلب عشر آيات من أول سورة الكهف, أو من آخرها, على روايتين، حفظه الله -تعالى- من شر الدجال، وفتنته، فلا يتسلط عليه ولا يضره بإذن الله -تعالى-.
580;س نے سورۃ الکھف کی ابتدائی یا اس کی آخری دس آیات (دونوں روایات کے مطابق) کو حفظ کر لیا تو اللہ تعالیٰ اس کو دجال کے شر اور اس کے فتنے و آزمائش سے محفوظ کردے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نہ اس پر مسلط و حاوی ہوپائے گا اور نہ اس کو کسی قسم کا نقصان و ضرر پہنچا سکے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6265

 
 
Hadith   1264   الحديث
الأهمية: من خير معاش الناس لهم رجل ممسك عنان فرسه في سبيل الله


Tema:

لوگوں کے لیے زندگی کے بہترین طریقوں میں سے یہ ہے کہ آدمی اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے گھوڑے کی لگام پکڑ رکھی ہو۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- أنه قالَ: "مِن خَيرِ مَعَاشِ النّاسِ لهم رَجُلٌ مُمْسِكٌ عِنَانَ فَرسِهِ في سبيلِ اللهِ، يَطيرُ على مَتنِهِ كُلَّما سَمِعَ هَيْعَةً أو فَزعَةً، طَارَ عَليه يَبْتَغِي القَتْلَ، أو المَوتَ مَظانَّه، أو رَجلٌ في غُنَيمَةٍ في رأسِ شَعفَةٍ من هذه الشَّعَفِ، أو بطنِ وادٍ من هذه الأوديةِ، يُقيمُ الصلاةَ، ويُؤتِي الزكاةَ، ويَعبدُ ربَّهُ حتى يَأتِيَه اليقينُ، ليسَ من النَّاسِ إلا في خيرٍ".

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کے لیے زندگی کے بہترین طریقوں میں سے یہ ہے کہ آدمی اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے گھوڑے کی لگام تھامے رکھے، اس کی پیٹھ پر (بیٹھ کر) اللہ کی راہ میں اڑتا (تیزی سے حرکت کرتا) پھرے، جب بھی (دشمن کی) آہٹ یا (کسی کے) ڈرنے کی آواز سنے، اڑ کر وہاں پہنچ جائے، ہر اس جگہ قتل اور موت کو تلاش کرتا ہو، جہاں اس کے ہونے کا گمان ہو۔ یا پھر وہ آدمی جو بکریوں کے چھوٹے سے ریوڑ کے ساتھ ان چوٹیوں میں سے کسی ایک چوٹی پر یا ان وادیوں میں سے کسی وادی میں ہو، نماز قائم کرتا ہو، زکاۃ دیتا ہو اور اپنے رب کی عبادت میں لگا ہوا ہو، یہاں تک کہ موت آ جا   ‎
ۓ۔ وہ اچھائی کے معاملات کے سوا لوگوں سے کوئی تعلق نہ رکھتا ہو۔

601;ي الحديث بيان أن من خير أحوال عيش الناس رجل ممسك عنان فرسه، وقوله -صلى الله عليه و سلم-: "يطير على متنه كلما سمع هيعة أو فزعة طار على متنه يبتغي القتل والموت مظانه"، معناه :يسارع على ظهره وهو متنه، كلما سمع هيعة وهى الصوت عند حضور العدو، والفزعة وهي النهوض إلى العدو، يبتغي القتل مظانه يطلبه في مواطنه التي يرجى فيها؛ لشدة رغبته في الشهادة.
وفيه أيضاً دليل على أن العزلة خير ومن كان في مكان من الأودية والشعاب منعزلاً عن الناس، يعبد الله -عز وجل- ليس من الناس إلا في خير فهذا فيه خير.
581;دیث میں اس بات کی وضاحت ہے کہ زندگی گزارنےکی سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ بندے نے گھوڑے کی لگام تھام رکھی ہو۔ (یعنی ہروقت راہ جہاد میں نکلنے کے لیے تیار رہتاہو۔)
آپ ﷺ کا فرمان: ”اس کی پیٹھ پر (بیٹھ کر) اللہ کی راہ میں اڑتا (تیزی سے حرکت کرتا) پھرے، جب بھی (دشمن کی) آہٹ یا (کسی کے) ڈرنے کی آواز سنے، اڑ کر وہاں پہنچ جائے، ہر اس جگہ قتل اور موت کو تلاش کرتا ہو“ یعنی جب بھی اسے (دشمن کی) کوئی آہٹ سنائی دے یا دشمن کی طرف بڑھنے کی آواز سنائی دے تو وہ شوق شہادت میں جلدی سے گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہو کر ان جگہوں اور مقامات پر قتل ہونے کی تمنا لئے ہوۓ چل دے، جہاں پر قتل ہونے کا گمان ہو۔
اس حدیث میں اس بات کی بھی دلیل ہے گوشہ نشینی بہت اچھی بات ہے اور جو شخص لوگوں سے الگ تھلگ کسی وادی یا گھاٹی میں اللہ کی عبادت کررہا ہو اور وہ لوگوں سے صرف اچھائی ہی کا تعلق رکھتا اس شخص میں خیر ہی خیر ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6266

 
 
Hadith   1265   الحديث
الأهمية: من سلك طريقًا يبتغي فيه علمًا سهل الله له طريقًا إلى الجنة


Tema:

جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے

عن أبي الدرداء -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «مَنْ سَلَكَ طَريقا يَبْتَغي فيه عِلْما سَهَّل الله له طريقا إلى الجنة، وإنَّ الملائكةَ لَتَضَعُ أجْنِحَتها لطالب العلم رضًا بما يَصنَع، وإنَ العالم لَيَسْتَغْفِرُ له مَنْ في السماوات ومَنْ في الأرض حتى الحيتَانُ في الماء، وفضْلُ العالم على العَابِدِ كَفَضْلِ القمر على سائِرِ الكواكب، وإنَّ العلماء وَرَثَة الأنبياء، وإنَّ الأنبياء لم يَوَرِّثُوا دينارا ولا دِرْهَماً وإنما وَرَّثُوا العلم، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بحَظٍّ وَافِرٍ».

ابوالدرداء رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:”جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے۔ بے شک فرشتے طالب علم کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ اور یقینا عالم کے لیے آسمانوں و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں، یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی۔ اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے، جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر۔ بے شک علما، انبیا کے وارث ہیں اور انبیا نے کسی کو دینار اور درہم کا وارث نہیں بنایا، بلکہ انھوں نے علم کا وارث بنایا ہے۔ اس لیے جس نے یہ علم حاصل کر لیا، اس نے (علم نبوی اور وراثت نبوی سے) پورا پورا حصہ لیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء هذا الحديث ليوضح بعض فضائل طلب العلم:
فمنها أن من مشى في طريق يريد بسيره فيه الذهاب لطلب العلم أو بحث عن العلم ولو في بيته جازاه الله -سبحانه- بأن يسهل له طريقاً إلى الجنة، وسلوكُ طريق العلم يشمل الطريق الحسي الذي يمشي فيه الإنسان برجله، كما يشمل الطريق المعنوي، بأن يلتمس العلم من مجالسة  العلماء، ومن بطون الكتب، وذلك أن الذي يراجع الكتب للعثور على حكم مسألة شرعية، أو يجلس إلى شيخ يتعلم منه، فإنه قد سلك طريقًا يلتمس فيه علمًا ولو كان جالسًا.
ومن الفضائل المذكورة في هذا الحديث أن العلماء يستغفر لهم أهل السماء والأرض، حتى الحيتان في البحر، وحتى الدواب في البر.
ومن فضائله أن الملائكة الذين كرمهم الله -عز وجل- تضع أجنحتها لطالب العلم رضا بما يصنع, تواضعًا وتعظيمًا للعلم وأهله.
ومن الفضائل التي ذكرها النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث أن العلماء ورثة الأنبياء، حيث ورثوا منهم العلم والعمل، وورثوا الدعوة إلى الله -عز وجل- وهداية الخلق ودلالتهم على الله -تعالى- وعلى دينه.
ومن فضائله أن مزية العالم على العابد كمزية القمر ليلة البدر على بقية الكواكب؛ لأن نور العبادة وكمالها ملازم للعابد لا يتخطاه، فهو كنور الكواكب, أما نور العلم وكماله فهو يتعدى إلى الغير فيستضيء به غير العالم.
وذكر -عليه الصلاة والسلام- أن الأنبياء لم يورثوا لمن بعدهم الدنيا، فلم يورثوا درهمًا ولا دينارًا،  وأن أعظم ميراث تركوه هو العلم، فمن أخذه أخذ بنصيب وافر كثير، وهو الإرث الحقيقي النافع.
ولا يظن المسلم أنَّ العالم المفضَّل عارٍ عن العمل، ولا العابد عن العِلم، بل إن علم ذاك غالب على عمله، وعمل هذا غالب على علمه، ولذلك جعل العلماء ورثة الأنبياء الذين فازوا بالحسنيين، العلم والعَمل وحازوا الفضيلتين، الكمال، والتكميل، وهذه طريقة العارفين بالله وسبيل السائرين إلى الله -تعالى-.
591;لب علم کے بعض فضائل کی توضیح و تشریح کے ضمن میں یہ حدیث وارد ہوئی ہے:
ان فضائل میں سب سے پہلی فضیلت یہ ہے کہ جو شخص کسی راہ پر نکل پڑے اوراس راہ پر نکلنے کا مقصد محض طلب علم یا علم کی تحقیق ہو؛ چاہے وہ طالب علم گھر ہی میں کیوں نہ ہو، اللہ سبحانہ وتعالیٰ اسے طلب علم کا بدلہ عنایت فرمائے گا۔ یعنی اس کے لیے جنت کی راہ آسان کردے گا۔ علمی راہ اپنانے میں جس طرح حسی راستہ شامل ہے، جس میں انسان اپنے قدموں کے ذریعے چل کر جاتا ہے، اسی طرح اس میں معنوی راستہ بھی شامل ہے۔ مثلا انسان علما کی مجالس اور کتابی ذخیروں سے علم حاصل کرے۔ کیوں کہ جو شخص کسی شرعی مسئلے کا حکم جاننے کی غرض سے کتابوں کی تحقیق و مراجعہ کرتا ہے یا کسی شیخ کی مجلس میں بیٹھ کر اس سے استفادہ کرتا ہے،وہ بھی طلب علم کی راہ طے کر رہا ہوتا ہے، گرچہ وہ بیٹھا ہوا ہی کیوں نہ ہو۔
اس حدیث میں مذکور فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین کی ساری مخلوقات یہاں تک کہ سمندر میں موجود مچھلیاں اورخشکی میں پائے جانے والے چوپائے بھی ان علما کے حق میں مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔
طلب علم کے فضائل میں یہ بھی ہے کہ اللہ عز وجل کی مکرم ومعزز مخلوق فرشتے بھی طالب علم کو علمی مشاغل میں مصروف دیکھتے ہوئے خوشی سے علم اور اہل علم کے روبرو اپنی فروتنی اور ان کی عظمت کے اعتراف میں اپنے پنکھ بچھا دیتے ہیں۔
اس حدیث میں نبی ﷺ کے ذکرکردہ فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ علما، انبیا کے وارث و جانشین ہوتے ہیں۔ یہ اس طرح سے کہ انھیں انبیا سے علم اور عمل کی دولت وراثت میں حاصل ہوئی۔ نیز دعوت الی اللہ اور انسانوں کی اللہ اور اس کے دین کی طرف رہ نمائی کا فریضہ بھی انھیں وراثت میں ملا ہے۔
اس میں یہ فضیلت بھی بیان کی گئی ہے کہ عابد پر عالم دین کو ایسے ہی امتیاز و برتری حاصل ہے، جیسے رات کے وقت کامل چاند کو دیگر سارے ستاروں پر حاصل ہوتی ہے؛ کیوں کہ عبادت کا نوراور اس کا کمال محض عابد تک محدود رہتا ہے، جس میں عابد کے علاوہ کوئی دوسرا شریک نہیں ہوسکتا اور اس نور کی حیثیت محض کسی ستارے جیسی ہے۔ جب کہ علم کانور اور اس کا کمال یہ ہے کہ وہ عالم کے علاوہ دیگر انسانوں کو بھی مستفید ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اس بات کا بھی ذکر فرمایا کہ انبیا نے اپنے جانشینوں کے لیے دنیا کی کوئی بھی چیز وراثت میں نہ رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے دنیا میں درہم و دینار کی بجائے علم جیسی انتہائی عظیم میراث باقی رکھی۔ لہٰذا جس شخص نے اس علمی ورثے کو لے لیا، تو حقیقتا اس نے بھرپور انداز میں انبیا کی میراث پائی اور یہی حقیقی اور نفع بخش میراث ہے۔
یہاں مسلمان کو اس غلط فہمی میں نہ رہنا چاہیے کہ فضیلت یافتہ عالم کی زندگی عمل سے اور عابد کی زندگی علم سے خالی ہو سکتی ہے؛ بلکہ اگر عابد کا دامن علم سے بھر جائے، تو وہ اپنے عمل میں قوی ہوجائے گا اور اگر عالم اپنے علم پر عمل پیرا ہوجائے، تو وہ اپنے علم میں قوی ہوگا۔ اسی بنا پر انہی علما کو انبیا کا وارث قرار دیا گیا، جو علم اور عمل کی اعلی خوبیوں کے حامل ہوں گے اور کمال (علم) اور تکمیل (اس کے مطابق عمل) کی فضیلتوں کو حرز جاں بنائے ہوئے ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھنے والوں اور اس کی راہ کے راہ گیروں کا یہی طریقہ و منہج رہا ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6267

 
 
Hadith   1266   الحديث
الأهمية: من سئل عن علم فكتمه ألجم يوم القيامة بلجام من نار


Tema:

جس شخص سے علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپالیا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «مَنْ سُئِلَ عن عِلْمٍ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ يوم القيامةِ بِلِجَامٍ مِنْ نارٍ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص سے علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپالیا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث فيه التحذير الشديد من كتمان العلم, وأن من سُئل عن علم يحتاج إليه السائل في أمر دينه، ويلزم المسؤول عنه بيانه، فلم يبيِّن ذلك العلم بعدم الجواب, أو بمنع الكتاب، عاقبه الله تعالى يوم القيامة بأن يدخل في فمه لجاما من نار؛ مكافأة له حيث ألجم نفسه بالسكوت، والجزاء من جنس العمل, والوعيد في هذا الحديث يلحق من عَلم أن السائل يسأل للاسترشاد، أما إذا علم من السائل أنه يسأل امتحاناً وليس بقصد أن يسترشد فيعلم ويعمل، فالمسؤول بالخيار بين الإجابة وعدمها, ولا يلحقه الوعيد الوارد في الحديث.
575;س حدیث میں علم کو چھپانے پر سخت ترین تنبیہ وارد ہوئی ہے۔ جس شخص سے کوئی علمی مسئلہ دریافت کیا گیا اور دریافت کنندہ کو اس علمی مسئلہ سے واقفیت حاصل کرنے کی دینی ضرورت ہو، تو مسئول پر لازم ہے کہ وہ اس مسئلے کی وضاحت کرے، لیکن اگر اس نے جواب نہ کر یا نہ لکھ کر اس مسئلے کی وضاحت نہہیں کی، تو جیسے کو تیسا کے مطابق، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام ڈال دے گا۔ جس طرح اس نے جواب نہ دیتے ہوئے اپنےمنہ پر لگام لگا رکھی تھی۔ یقینا بدلہ عمل کی جنس سے ہی ملے گا۔ اس حدیث میں وارد وعید کے مستحق وہ لوگ ہوں گے، جو اس بات سے واقف ہو ں کہ سائل اپنے سوال سے رشد و ہدایت کا طلب گار ہے، لیکن جب مسئول کو پتہ چل جائے کہ سائل کا مقصد اس کا امتحان ہے، اس کا مقصد علم حاصل کرکے اس پر عمل کرنا نہیں ہے، تو مسئول کو اختیار ہےکہ چاہے تو اس کے سوال کا جواب دے یا نہ دے۔ ایسا شخص اس حدیث میں وارد وعید کا سزاوار نہ ہو گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6268

 
 
Hadith   1267   الحديث
الأهمية: من صلى الصبح فهو في ذمة الله


Tema:

جس نے فجر پڑھ لی وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے۔

عن جندب بن سفيان البجلي -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: «مَنْ صلَّى الصبحَ فهو في ذِمَّةِ اللهِ، فانظُرْ يا ابنَ آدمَ، لا يَطْلُبَنَّكَ اللهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيء».

جندب بن سفیان البجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے فجر پڑھ لی وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے۔ اس لیے اے آدم کے بیٹے! اس بات کو دھیان میں رکھ کہ کہیں اللہ تعالیٰ تجھ سے اپنی امان کی بابت کسی قسم کی باز پرس نہ کرے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين هذا الحديث فضل صلاة الصبح وأن مصليها في ذمة اللّه، أي: في كلاءته وحفظه، وفي عهده وأمانته، وفي رواية لأبي نعيم في مستخرجه (2/ 252) ح1467: (في جماعة)، ثم حذَّر الإنسان من التعرض لمن هو كذلك، فخاطبه منبِّهًا محذرًا: فلا يحاسبنك الله بسبب تعرضك بأذى لمن هو في ذمة الله, فإن ذلك سبب لعقوبة الله -تعالى-، ودخول النار والعياذ بالله. أو أن معنى قوله: "لا يطلبنك اللّه من ذمته بشيء"، يعني: لا تفرطوا في صلاة الفجر، أولا تعملوا عملاً سيئاً، فيطالبكم الله -تعالى- بما عهد به إليكم، وهذا دليل على أن صلاة الفجر كالمفتاح لصلاة النهار، بل لعمل النهار كله، وأنها كالمعاهدة مع الله بأن يقوم العبد بطاعة ربه -عز وجل- ممتثلاً لأمره مجتنبًا لنهيه.
575;س حدیث میں نماز فجر کی فضیلت کا بیان ہے اور یہ کہ اس نماز کا ادا کرنے والا اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں ہو جاتا ہے یعنی اس کی حفاظت و نگہبانی اور اس کی ضمانت میں آجاتا ہے اور اس کو وہ اپنے امان میں داخل فرمالیتا ہے۔ ابی نعیم کی مستخرج (252/2، حدیث نمبر:1467) میں موجود ایک روایت میں ”جماعت کے ساتھ“ کے الفاظ مذکور ہیں۔ نیز نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کو خبردار کردیا، جو اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں رہنے والے ان نمازیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی جرات کرتے ہیں اور سخت تنبیہ و دھمکی کے اسلوب میں ان سے خطاب فرمایاکہ:اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں رہنے والوں کو تکلیف پہنچاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط گمان و خیال میں نہ رہنا (کہ وہ تمھیں چھوڑ دے گا) بلکہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی سخت سزا اور جہنم میں داخلے-والعیاذ باللہ- کا سبب ہوگی۔ آپ کے قول: ”کہیں، اللہ تعالیٰ تجھ سے اپنے امان کی بابت کسی قسم کی باز پرس نہ کرے“ کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ نماز فجرمیں کوتاہی نہ کرو یا کوئی برا عمل نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ تمھاری حفاظت کا وعدہ واپس لے لے۔!! یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نماز فجر، دن کی نماز کی کنجی و کلید ہے، بلکہ دن بھر کے عمل کی کلید ہے اور یہ گویا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس بات کا عہد و پیمان ہے کہ بندۂ مومن اپنے رب عز و جل کی اطاعت و فرماں برداری، اس کے اوامر کی پیروی اور اس کی منع کردہ باتوں سے اجتناب کرتے ہوئے انجام دے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6269

 
 
Hadith   1268   الحديث
الأهمية: من عاد مريضًا لم يحضره أجله، فقال عنده سَبعَ مراتٍ: أسأل الله العظيم، ربَّ العرشِ العظيم، أن يَشفيك، إلا عافاه الله من ذلك المرض


Tema:

جب کوئی شخص کسی ایسے مريض کی عیادت کرے، جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا پڑھے:”أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ“ (میں عظمت والے اللہ جو عرش عظیم کا مالک ہے، سے دعا کرتا ہوں کہ تم کو شفا دے)، تو اللہ اسے اس مرض سے شفاء دے گا۔

عن عبدالله بن عباس -رضي الله عنهما- مرفوعاً: «مَن عادَ مَريضا لم يحضُرهُ أجلُه، فقال عنده سَبعَ مراتٍ: أسأل الله العظيم، ربَّ العرشِ العظيم، أن يَشفيك، إلا عافاه الله من ذلك المرض».

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص کسی ایسے مريض کی عیادت کرے، جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا پڑھے:”أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ“ (میں عظمت والے اللہ جو عرش عظیم کا مالک ہے، سے دعا کرتا ہوں کہ تم کو شفا دے)، تو اللہ اسے اس مرض سے شفاء دے گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
حديث ابن عباس -رضي الله عنهما- معناه أن الإنسان إذا زار مريضاً، لم يحضر أجله أي: ليس الذي فيه مرض الموت، فقال: "أسأل الله العظيم، رب العرش العظيم، أن يشفيك سبع مرات إلا شفاه الله من هذا المرض"، هذا إذا لم يحضر الأجل أما إذا حضر الأجل، فلا ينفع الدواء ولا القراءة؛ لأن الله تعالى قال: "لكل أمة أجل، فإذا جاء أجلهم لا يستأخرون ساعة، ولا يستقدمون" الأعراف: 34.
575;بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث یہ بتاتی ہے کہ انسان جب کسی ایسے مریض کی عیادت کرتا ہے، جس کی موت کا وقت ابھی نہ پہنچا ہو، یعنی اس مرض میں اس کی موت مقرر نہ ہو، اور اس مریض کو سات مرتبہ یہ دعا دے ”أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَكَ“ اللہ تعالیٰ اسے اس بیماری سے شفاء دے گا۔ یہ اس وقت ہے، جب مریض کی موت کا وقت نہ آیا ہو۔ لیکن اگر اسی بیماری میں اس کی موت مقدر ہو، تو اسے دوا یا کسی چیزکا پڑھنا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ﴾ ”اور ہر گروه کے لیے ایک وقت معین ہے، سو جس وقت ان کا معین وقت آجائے گا، اس وقت ایک ساعت نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے“۔ (سورہ اعراف: 34)

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6270

 
 
Hadith   1269   الحديث
الأهمية: من فطر صائمًا كان له مثل أجره


Tema:

جس نے کسی روزے دار کو افطار کرایا، اسے روزے دار کے برابر ثواب ملے گا۔

عن زيد بن خالد الجهني -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: «مَنْ فَطَّرَ صائمًا، كان له مِثْلُ أجْرِهِ، غَيْرَ أنَّهُ لاَ يُنْقَصُ مِنْ أجْرِ الصَّائِمِ شَيْءٌ».

زید بن خالد الجھنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”جس نے کسی روزے دار کو افطار کرایا، اسے روزے دار کے برابر ثواب ملے گا اور روزے دار کے اجر وثواب میں سے کوئی کمی نہ ہو گی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث بيان لفضل تفطير الصائم, والندب إلى ذلك والترغيب فيه, وأن من فعل ذلك يُكتب له مثل أجر الصائم من غير أن ينقص شيء من أجر الصائم, وهذا من فضل الله -تعالى- على عباده, لما في ذلك من التعاون على البر والتقوى, وإيجاد المحبة والتكافل بين المسلمين, وظاهر الحديث أن الإنسان لو فطر صائماً ولو بتمرة واحدة فإنه له مثل أجره، ولهذا ينبغي للإنسان أن يحرص على إفطار الصائمين بقدر المستطاع لاسيما مع حاجة الصائمين وفقرهم, أو حاجتهم لكونهم لا يجدون من يقوم بتجهيز الفطور لهم.
575;س حدیث میں روزے دار کو افطار کرانے کی فضیلت ، اس کے مستحب ہونے کا بیان اور اس عمل کی ترغیب موجود ہے۔ جو اس عمل کو انجام دے گا، اس کے لیے روزے دار کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا اور روزے دار کے اجر و ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ در اصل یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے بندوں پر برسنے والے فضل و احسان کا ایک مظہر ہے؛ کیوں کہ اس عمل کے نتیجے میں نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں باہمی تعاون، محبت پیدا کرنے اور مسلمانوں کے مابین باہمی مفادات کو ملحوظ رکھنے، جیسے جذبات جنم لیتے ہیں۔ حدیث کا ظاہری مطلب یہی ہے کہ اگر کوئی انسان کسی روزے دار کو ایک کھجور ہی سے افطار کرائے، تو اس کو اس روزے دار کے برابر اجر و ثواب عطا کیا جائے گا۔ اس لیے بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت و طاقت کے اعتبار سے روزے داروں کو افطار کرائے۔ اس عمل کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے، جب روزے دار محتاج و ضرورت مند ہوں یا انھیں افطار کرانے والے والے میسر ہی نہ ہوں۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6271

 
 
Hadith   1270   الحديث
الأهمية: من قال حين يسمع المؤذن: أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأنَّ محمداً عبده ورسولُه، رضيتُ بالله رباً وبمحمدٍ رسولاً وبالإسلام دِينا، غُفِرَ له ذَنْبُه


Tema:

جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا: ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا“ تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔

عن سعد بن أبي وقاص -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: "من قال حين يسمع المؤذن: أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأنَّ محمداً عبده ورسولُه، رضيتُ بالله رباً وبمحمدٍ رسولاً وبالإسلام دِينا، غُفِرَ له ذَنْبُه".

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا: ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا“ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میں اللہ کے رب ہونے، محمد ﷺ کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں) تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں“۔

Esin Hadith Caption Urdu


"من قال حين يسمع المؤذن" أي: يسمع أذانه "أشهد أن لا إله إلا الله وحده" أي: أقر وأعترف وأُخبِر أنه لا معبود بحق إلا الله، وقوله: "لا شريك له" زيادة تأكيد، "وأن محمدا عبده" قدمه إظهاراً للعبودية وتواضعاً، وقوله: "ورسوله" أظهره تحدثاً بالنعمة، "رضيت بالله رباً" أي: بربوبيته وألوهيته وأسمائه وصفاته، وقوله: "وبمحمد رسولاً" أي: بجميع ما أرسل به، وبلغه إلينا، وقوله: "وبالإسلام" أي: بجميع أحكام الإسلام من الأوامر والنواهي، قوله: "ديناً" أي: اعتقاداً وانقياداً، قوله: "غفر له ذنبه" أي: من الصغائر، فهذا الذكر يقال إذا قال المؤذن: اشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمداً رسول الله، ويمكن أن يقال بعد الأذان؛ لأن الحديث يحتمل الأمرين.

580;س نے مؤذن کی اذان سن کر یہ کہا ”أشهد أن لا إله إلا الله وحده“ یعنی میں اس بات کا اقرار و اعتراف اور اعلان کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔
”لَا شَرِيکَ لَهُ“ میں اس شہادت کے معنی کی تاکید و زور پایا جاتا ہے۔
”وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ“ میں عبدیت کو مقدم کیا؛ تاکہ عبودیت اور انکساری کے مفہوم کو خوب واضح کیا جاسکے۔
”وَرَسُولُهُ“ میں تحدیث نعمت کا ا ظہار ہے۔
”رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا“ یعنی میں اس کی ربوبیت، الوہیت اور اس کے اسما و صفات کے اعتبار سےاس کے رب ہونے پر راضی ہوں۔
”وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا“ کے معنی یہ ہیں کہ میں آپ ﷺ کی ان تمام باتوں کو مانتا ہوں، جن کے ساتھ آپ کو رسول بنا کر بھیجا گیااور جن باتوں کو آپ ﷺ نے ہم تک پوری طرح پہنچا دیا۔
”وَبِالْإِسْلَامِ کے معنی یہ ہیں کہ اسلامی احکام کے تمام اوامر اور منھیات کو،
”دِينًا“ یعنی عقیدہ اور فرماں برداری کے اعتبار سے تسلیم کرتا ہوں۔
”غُفِرَ له ذَنْبُه“ کے معنی یہ ہیں کہ اس کے صغیرہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔
یہ دعا اس وقت پڑھی جائے گی، جب مؤذن کہے: ”اشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمداً رسول الله“ اور اذان ختم ہونے کے بعد بھی اس ذکر کو پڑھا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ اس حدیث میں دونوں باتوں کا احتمال ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6272

 
 
Hadith   1271   الحديث
الأهمية: من قال: لا إله إلا الله والله أكبر. صدقه ربه فقال: لا إله إلا أنا وأنا أكبر


Tema:

جو شخص ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے) کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے (ہاں) میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں ہی سب سے بڑا ہوں۔

عن أبي سعيد الخدري وأبي هريرة -رضي الله عنهما- أَنهُما شَهِدَا عَلَى رسول اللَّه -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم- أَنه قالَ: «من قال: لا إله إلا الله والله أكبر، صَدَّقه ربه، فقال: لا إله إلا أنا وأنا أكبر. وإذا قال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، قال: يقول: لا إله إلا أنا وَحدِي لا شريك لي. وإذا قال: لا إله إلا الله له الملك وله الحمد، قال: لا إله إلا أنا لي الملك ولي الحمد. وإذا قال: لا إله إلا الله ولا حول ولا قوة إلا بالله، قال: لا إله إلا أنا ولا حول ولا قوة إلا بي» وكان يقول: «من قالها في مرضه ثم مات لم تَطْعَمْهُ النار».

ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ“ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے) کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے (ہاں) میرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، میں ہی سب سے بڑا ہوں، اور جب ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَہ‘‘ (اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے) کہتا ہے، تو آپ نے فرمایا ”اللہ کہتا ہے (ہاں) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور جب کہتا ہے ’’ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ‘‘ (اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں) تو اللہ کہتا ہے، (ہاں) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میرا کوئی شریک نہیں ہے، اور جب کہتا ہے ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے) تو اللہ کہتا ہے ’’کوئی معبود برحق نہیں مگر میں، میرے لیے ہی بادشاہت ہے اور میرے لیے ہی حمد ہے ‘‘ اور جب کہتا ہے ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اور گناہ سے بچنے اور بھلے کام کرنے کی طاقت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے) تو اللہ کہتا ہے (ہاں) میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور گناہوں سے بچنے اور بھلے کام کرنے کی قوت نہیں ہے مگر میری توفیق سے، اور آپ فرماتے تھے جو ان کلمات کو اپنی بیماری میں کہے اور مر جائے تو (جہنم کی) آگ اسے نہ کھائے گی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن أبي هريرة وأبي سعيد الخدري -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- في أن الله -سبحانه وتعالى- يصدق العبد إذا قال: لا إله إلا الله، الله أكبر. قال الله: إنه لا إله إلا أنا وأنا أكبر، وإذا قال: الله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله، كذلك يصدقه الله، فمن قال هذا: لا إله إلا الله، ولا حول ولا قوة إلا بالله، ثم مات مع بقية الذكر، فإنه لا تطعمه النار أي: يكون ذلك من أسباب تحريم الإنسان على النار، فينبغي للإنسان أن يحفظ هذا الذكر، وأن يكثر منه في حال مرضه، حتى يختم له بالخير إن شاء الله -تعالى-.
575;بوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب بندہ ’’لا إله إلا الله، الله أكبر‘‘ کہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’بے شک میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں سب سے بڑا ہوں‘‘۔ جب بندہ کہتا ہے ’’الله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله‘‘، اس پر بھی اللہ تعالی اس کی تصدیق کرتا ہے۔پس جو شخص ’’لا إله إلا الله، ولا حول ولا قوة إلا بالله‘‘ کہہ کر بقیہ ذکر کے ساتھ مر جائے، جہنم کی آگ اسے نہیں کھاتی یعنی یہ انسان پر جہنم کی آگ کے حرام ہونے کا ایک سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اس ذکر (دُعا) کو یاد رکھے اور اپنی بیماری کی حالت میں کثرت سے اسے پڑھتا رہے کہ ان شاء اللہ اس کا خاتمہ بالخیر ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6273

 
 
Hadith   1272   الحديث
الأهمية: من قرأ بالآيتين من آخر سورة البقرة في ليلة كفتاه


Tema:

جو شخص رات کو سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لیتا ہے اسے یہ کافی ہو جاتی ہیں۔

عن أبي مسعود البدري -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «مَنْ قَرَأَ بِالآيَتَيْنِ مِنْ آخر سُورَةِ البَقَرَةِ في لَيْلَةٍ كَفَتَاه».

ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص رات کو سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لیتا ہے اسے یہ کافی ہو جاتی ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر النبي عليه الصلاة والسلام أن من قرأ الآيتين الأخيرتين من سورة البقرة في الليل قبل نومه فإن الله يكفيه الشر والمكروه، وقيل في معنى كفتاه:  أي عن قيام الليل، أو كفتاه عن سائر الأوراد، أو أراد أنهما أقل ما يجزىء من القراءة في قيام الليل، وقيل غير ذلك، وكل ما ذكر صحيح يشمله اللفظ.
606;بی ﷺ بتا رہے ہیں کہ جو شخص رات کو سونے سے قبل سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لیتا ہے اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شر اور ناپسندیدہ امور سے اسے محفوظ رکھنے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ ایک اور قول کی رو سے ”یہ دونوں آیتیں اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں“ سے مراد یہ ہے کہ یہ دونوں آیتیں اس شخص کو قیام اللیل یا پھر دیگر ہر قسم کے اذکار کی جگہ کافی ہو جاتی ہیں۔ یا پھر آپ ﷺ کی اس فرما ن سے مراد یہ تھی کہ یہ دو آیتیں وہ کم ترین مقدار ہے جو قیام اللیل میں کفایت کرتی ہے۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے اقوال ہیں۔بہرحال مذکورہ تمام اقوال درست ہیں کیونکہ حدیث کے الفاظ ان تمام معانی کو شامل ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6274

 
 
Hadith   1273   الحديث
الأهمية: من قرأ حرفاً من كتاب الله فله حسنة والحسنة بعشر أمثالها


Tema:

جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر اس طرح کی دس نیکیوں کے برابر ہوتا ہے۔

عن ابن مسعود -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «مَنْ قَرَأ حَرْفاً مِنْ كِتاب الله فَلَهُ حَسَنَة، والحَسَنَة بِعَشْرِ أمْثَالِها، لا أقول: ألم حَرفٌ، ولكِنْ: ألِفٌ حَرْفٌ، ولاَمٌ حَرْفٌ، ومِيمٌ حَرْفٌ».

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر اس طرح کی دس نیکیوں کے برابر ہوتا ہے۔ میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے؛ بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يروي  ابن مسعود -رضي اللّه عنه- في هذا الحديث أن رسول اللّه -صلى الله عليه وسلم- أخبر أن كل مسلم يقرأ حرفاً من كتاب اللّه فجزاؤه عن الحرف الواحد عشر حسنات، وقوله: "لا أقول الم حرف" أي: لا أقول إن مجموع الأحرف الثلاثة حرف، بل ألف حرف ولام حرف وميم حرف، فيثاب قارئ ذلك ثلاثين حسنة، وهذه نعمة عظيمة وأجر كبير، فينبغي على الإنسان أن يكثر من تلاوة كتاب الله -عز وجل-.
575;س حدیث میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے بتایا کہ ہر وہ مسلمان جو کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھتا ہے اسے ایک حرف کے بدلے میں دس نیکیاں ملتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں یہ نہیں کہتا کہ الٓم ایک حرف ہے“ یعنی میں یہ نہیں کہتا کہ ان تینوں حروف کا مجموعہ ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ چنانچہ اسے پڑھنے والے کو تیس نیکیاں ملتی ہیں۔ یہ ایک عظیم نعمت اور بہت بڑا اجر ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ کثرت کے ساتھ اللہ عز وجل کی کتاب کی تلاوت کرے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6275

 
 
Hadith   1274   الحديث
الأهمية: من لم يتغن بالقرآن فليس منا


Tema:

جو قرآن کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

عن أبي لبابة بشير بن عبد المنذر -رضي الله عنه-: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «مَن لَم يَتَغنَّ بِالقُرآنِ فَليسَ مِنَّا».

ابو لبابہ بشیر بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو قرآن کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
حث النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث على التغني بالقرآن، وهذه الكلمة لها معنيان؛ الأول: من لم يتغن به، أي: من لم يحسن صوته بالقرآن فليس من أهل هدينا وطريقتنا, والمعنى الثاني: من لم يستغن به عن غيره بحيث يطلب الهدى من سواه فليس منا، ولا شك أن من طلب الهدى من غير القرآن أضله الله والعياذ بالله، فيدل الحديث على أنه ينبغي للإنسان أن يحسن صوته بالقرآن، وأن يستغنى به عن غيره.
606;بی ﷺ نے اس حدیث میں قرآن کو سریلی آواز میں پڑھنے کی ترغیب دی۔ اس لفظ (تغنی بالقرآن)کے دو معانی ہیں:
پہلا معنی یہ کہ جو شخص اسے سریلی آواز میں نہیں پڑھتا یعنی قرآن کو اچھی آواز میں نہیں پڑھتا وہ ہماری سنت اور ہمارے طریقہ کار پر کاربند نہیں۔
دوسرا معنی یہ ہے کہ جو شخص قرآن پر تکیہ کرتے ہوئے دوسری ہر شے سے مستغنی نہیں ہو جاتا بایں طور کہ کسی اور شے سے بھی ہدایت چاہتا ہے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص قرآن کے علاوہ کسی اور شے سے ہدایت چاہتا ہے اسے یہ شے گمراہ کر دیتی ہے، العیاذ باللہ۔ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اچھی آواز میں قرآن پڑھے اور اس کی موجودگی میں دیگر تمام اشیاء سے بے نیاز ہو جائے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6276

 
 
Hadith   1275   الحديث
الأهمية: إن الله محسن يحب الإحسان إلى كل شيء، فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، وليحد أحدكم شفرته، وليرح ذبيحته


Tema:

بے شک اللہ تعالیٰ احسان کرنے والا ہے اور ہر چیز کے ساتھ احسان و بھلائی کرنے کو پسند فرماتا ہے تو جب بھی تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو اور جب بھی تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے جانور کو آرام پہنچائے۔

عن شداد بن أوس -رضي الله عنه- قال: حفِظتُ من رسول الله -صلى الله عليه وسلم- اثنتين قال: «إن الله مُحسنٌ يحبُّ الإحسانَ إلى كلِّ شيء، فإذا قتلتم فأحسِنوا القِتْلة، وإذا ذبحتم فأحسنوا الذَّبحَ، وليُحِدَّ أحدُكم شَفْرَتَه، وليُرِح ذبيحتَه».

شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی دو باتوں کو یاد کر رکھا ہے آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ احسان کرنے والا ہے اور ہر چیز کے ساتھ احسان و بھلائی کرنے کو پسند فرماتا ہے تو جب بھی تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو اور جب بھی تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور تم میں سے ایک کو چاہیے کہ وہ اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے جانور کو آرام پہنچائے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر شداد بن أوس -رضي الله عنه- أنه تعلم من النبي -صلى الله عليه وسلم- أمرين الأول: قوله -صلى الله عليه وسلم-: «إن الله مُحسنٌ يحبُّ الإحسانَ إلى كلِّ شيء» فمن أسمائه -تعالى- المحسن، أي المتفضِّل المنعم الرحيم الرؤوف، فهو -سبحانه- يحب التفضل والإنعام والرحمة والرأفة في كل شيء. أما الأمر الثاني وهو مترتب على الأمر الأول فهو قوله -صلى الله عليه وسلم-: «فإذا قتلتم فأحسِنوا القِتْلة، وإذا ذبحتم فأحسنوا الذَّبحَ، وليُحِدَّ أحدُكم شَفْرَتَه، وليُرِح ذبيحتَه» أي إذا قتلتم نفسًا من النفوس التي يُباح قتلها من كافر حربي أو مرتد أو قاتل أو غير ذلك، فيجب عليكم أن تُحسنوا صورة القتل وهيئته، كذلك إذا ذبحتم الحيوانات يجب عليكم أن تُحسنوا ذبحها بإراحة الذبيحة وإحداد السكين وتعجيل إمرارها وغير ذلك، ويستحب أن لا يسن السكين بحضرة الذبيحة، وأن لا يذبح واحدة بحضرة أخرى، ولا يجرها إلى مذبحها.
588;داد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے آپ ﷺ سے دو چیزیں سیکھیں۔ پہلی چیز: ”بے شک اللہ تعالیٰ احسان کرنے والا ہے اور ہر چیز کے ساتھ احسان و بھلائی کرنے کو پسند فرماتا ہے“ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں ایک نام ’المحسن‘ ہے یعنی فضل و احسان کرنے والا، انعام کرنے والا، رحم کرنے والا اور مہربان۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز میں مہربانی، انعام، رحمت اور نرمی کو پسند کرتے ہیں۔دوسری چیز کا حکم دینا پہلے جملہ پر لاگو ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو جب بھی تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو اور جب بھی تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور تم میں سے ایک کو چاہیے کہ وہ اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے جانور کو آرام پہنچائے“ یعنی اگر تم کسی ایسے شخص کو قتل کرو جس کو قتل کرنا جائز ہے جیسے حربی، مرتد کافر یا قاتل وغیرہ، تمہارے لیے لازم ہے کہ اس کو قتل کرنے میں احسان کا معاملہ کرو، اسی طرح جب تم کسی جانور کو ذبح کرنا چاہو تو ذبح کرنے میں بھی جانور کو راحت پہنچا کر، چُھری تیز کرکے اور جلدی پھیرتے ہوئے احسان کا معاملہ کرو، اسی طرح ذبیحہ کے سامنے چُھری تیز نہ کرنا مستحب ہے، نہ ہی دوسرے جانور کی موجودگی میں ذبح کرو اور نہ اس کو ذبح کے جگہ کی طرف کھینچتے لے جاؤ۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام عبد الرزّاق نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6326

 
 
Hadith   1276   الحديث
الأهمية: قال الله: كذبني ابن آدم ولم يكن له ذلك


Tema:

ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «قال الله: كذَّبني ابنُ آدم ولم يكن له ذلك، وشتمني ولم يكن له ذلك، فأمَّا تكذيبُه إيَّايَ فقوله: لن يعيدَني، كما بدأني، وليس أولُ الخلق بأهونَ عليَّ من إعادتِه، وأما شتمُه إيَّايَ فقوله: اتَّخذَ اللهُ ولدًا، وأنا الأحدُ الصمد، لم ألِدْ ولم أولَد، ولم يكن لي كُفْؤًا أحدٌ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ”ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا۔ اس نے مجھے گالی دی حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تھا۔ مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ (ابن آدم) کہتا ہے کہ میں اس کو دوبارہ نہیں پیدا کروں گا حالانکہ میرے لیے دوبارہ پیدا کرنا اس کے پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل نہیں۔ اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ کہتا ہے کہ اللہ نے اپنا بیٹا بنایا ہے حالانکہ میں ایک ہوں۔ بےنیاز ہوں نہ میری کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں اور نہ ہی کوئی میرے برابر ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا حديث قدسي، يخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- عن ربه -عز وجل- أنه قال: «كذَّبني ابنُ آدم ولم يكن له ذلك» أي كذبني طائفة من بني آدم، والمراد بهم المنكرون للبعث من مشركي العرب وغيرهم من عُبَّاد الأوثان والنصارى كما سيأتي في بقية الحديث، وما كان ينبغي لهم أن يكذبوا الله، وما كان ينبغي لله أن يُكذَّب. «وشتمني ولم يكن له ذلك» الشتم توصيف الشيء بما هو إزراء ونقص فيه، والمراد أن بعض بني آدم قد وصفوا الله بما فيه نقص، وهم من أثبتوا لله ولدا كما سيأتي، وما كان ينبغي لهم أن يشتموا الله، وما كان ينبغي لله أن يُشتم. ثم فصَّل ما أجمله قائلا: «فأما تكذيبه إياي فقوله: لن يعيدني كما بدأني» أي: فأما تكذيب العبد لربه فزعمه أن الله لن يحييه بعد موته كما خلقه أول مرة من عدم، وهذا كفر وتكذيب، ثم ردَّ عليهم بقوله: «وليس أول الخلق بأهون عليَّ من إعادته» أي: وليس بدء الخلق من عدم بأسهل عليَّ من الإحياء بعد الممات، بل هما يستويان في قدرتي، بل الإعادة أسهل عادة؛ لوجود أصل البنية وأثرها، وقوله: «وأما شتمه إياي فقوله: اتخذ الله ولدا» أي: أثبتوا له ولدا،{وقالت اليهود عزيز ابن الله وقالت النصارى المسيح ابن الله} وقالت العرب: الملائكة بنات الله. وهذا شتم لله تعالى وتنقص منه، وإنزاله منزلة المخلوقين، ثم رد عليهم بقوله: «وأنا الأحد» المنفرد المطلق ذاتا وصفات، المنزه عن كل نقص والمتصف بكل كمال، «الصمد» الذي لا يحتاج إلى أحد، ويحتاج إليه كل أحد غيره، الذي قد كمل في أنواع الشرف والسؤدد. «لم ألِد» أي: لم أكن والدا لأحد «ولم أولد» أي: ولم أكن ولدا لأحد؛ لأنه أول بلا ابتداء كما أنه آخر بلا انتهاء «ولم يكن لي كفؤًا أحد» يعني: وليس لي مثلا ولا نظيرا، ونفي الكفء يعم الوالدية والولدية والزوجية وغيرها.
740;ہ حدیثِ قدسی ہے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا“ یعنی کچھ لوگوں نے مجھے جھٹلایا۔اس سے مُراد عرب کے مشرکین، بتوں کو ماننے والے اور عیسائی ہیں جو دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرتے ہیں جیسا کہ حدیث کے بقیہ حصے میں آئے گا۔ لوگوں کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ اللہ کو جھٹلائیں اور نہ ہی اللہ کو جھٹلانا اس کے شایانِ شان ہے۔ ”اس نے مجھے گالی دی حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تھا“ گالی دینا یعنی کسی کو ایسی صفت کے ساتھ متصف کرنا جو اس میں عیب اور نقص بتاتا ہو۔ اس سے مُراد یہ ہے کہ بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو ایسی چیز کے ساتھ متصف کیا ہے جو اللہ کی ذات میں نقص ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹے کو ثابت کیا ہے۔ ان کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو گالی دیں اور نہ اللہ تعالیٰ کو گالی دینا روا ہے۔ پھر اس اجمال کی تفصیل یہ کہتے ہوئے بیان فرمائی ”مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ (ابن آدم) کہتا ہے کہ میں اس کو دوبارہ نہیں پیدا کروں گا“ یعنی بندے کا اللہ تعالیٰ کو جھٹلانا یہ ہے کہ وہ اللہ کے بارے میں یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے موت کے بعد پہلی طرح دوبارہ زندہ نہیں کرے گا۔ یہ تو کفر اور تکذیب ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی ”حالانکہ میرے لیے دوبارہ پیدا کرنا اس کے پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل نہیں“ یعنی مخلوق کو ابتداءً پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے آسان نہیں ہے، بلکہ میرے قدرت میں تو دونوں یکساں ہیں، عام طور پر دوبارہ پیدا کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے، اس لیے کہ اس کی اصل اور بنیادی ڈھانچہ موجود ہے۔ ”اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ کہتا ہے کہ اللہ نے اپنا بیٹا بنایا ہے“ یعنی اللہ کے لیے بیٹے کو ثابت کرتے ہیں، جیسے قرآن میں ہے ﴿وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّـهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّـهِ﴾ ”یہود کہتے ہیں عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانی کہتے ہیں مسیح اللہ کا بیٹا ہے“۔ عرب کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کو گالی دینا ہے، اس کی تنقیص ہے اور اسے مخلوق کی جگہ پر اتارنا ہے۔ ان کی اس قول کا جواب دیتے ہوئے اللہ نے فرمایا ”وأنا الأحد“ میں بالکل اکیلا ہوں اپنی ذات اور صفات میں، ہر طرح کے نقص سے پاک ہوں، تمام صفاتِ کمال کے ساتھ متصف ہوں۔ ”الصمد“ جو کسی کا محتاج نہیں، اس کے علاوہ ہر ایک اس کا محتاج ہے، وہ ذات جو شرافت اور بادشاہت میں کامل ہے۔ ”لم ألِد“ یعنی میں کسی کا باپ نہیں ہوں۔ ولم أولد“ نہ میں کسی کا بیٹا ہوں، اس لیے کہ وہ اول ہے اس کی کوئی ابتداء نہیں، اسی طرح وہ آخر ہے اس کی کوئی انتہاء نہیں۔ ”ولم يكن لي كفئا أحد“ یعنی میرا کوئی ہم مثل اور نظیر نہیں۔ ہمسری کی نفی کرنا باپ ہونے، بیٹا ہونے اور بیوی ہونے وغیرہ تمام چیزوں کو شامل ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6327

 
 
Hadith   1277   الحديث
الأهمية: وَكَّلَ الله بالرحم ملكًا، فيقول: أي رب نطفة، أي رب علقة، أي رب مضغة، فإذا أراد الله أن يقضي خلقها، قال: أي رب، أذكر أم أنثى، أشقي أم سعيد، فما الرزق؟ فما الأجل؟ فيكتب كذلك في بطن أمه


Tema:

اللہ کی طرف سے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر ہے، جو کہتا ہے کہ اے رب! یہ نطفہ ہے۔ اے رب! اب یہ علقہ (جما ہوا خون) بن گیا ہے۔ اے رب! اب مضغہ (گوشت کا ٹکڑا) بن گیا ہے۔ پھر جب اللہ تعالی چاہتا ہے کہ اس کی پیدائش پوری كر دے، تو وہ پوچھتا ہے: اے رب! یہ لڑکا ہو گا یا لڑکی؟ بدبخت ہو گا یا نیک بخت؟ اس کا رزق کتنا ہے؟ اس کی عمر کتنی ہو گی؟ اس طرح یہ سب باتیں اس کی ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دی جاتی ہیں۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- مرفوعاً: «وكَّلَ اللهُ بالرَّحِم مَلَكًا، فيقول: أيْ ربِّ نُطْفة، أيْ ربِّ عَلَقة، أيْ ربِّ مُضْغة، فإذا أراد اللهُ أن يقضيَ خَلْقَها، قال: أيْ ربِّ، أذكرٌ أم أنثى، أشقيٌّ أم سعيدٌ، فما الرزق؟ فما الأَجَل؟ فيكتب كذلك في بطن أُمِّه».

انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی طرف سے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر ہے، جو کہتا ہے کہ اے رب! یہ نطفہ ہے۔ اے رب! اب یہ علقہ (جما ہوا خون) بن گیا ہے۔ اے رب! اب مضغہ (گوشت کا ٹکڑا) بن گیا ہے۔ پھر جب اللہ تعالی چاہتا ہے کہ اس کی پیدائش پوری كر دے تو وہ پوچھتا ہے: اے رب! یہ لڑکا ہو گا یا لڑکی؟ بدبخت ہو گا یا نیک بخت؟ اس کا رزق کتنا ہے؟ اس کی عمر کتنی ہو گی؟ اس طرح یہ سب باتیں اس کی ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دی جاتی ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يقول النبي -صلى الله عليه وسلم-: «إن الله -تعالى- وكّل بالرحم ملكًا» أي: إن الله -تعالى- جعل ملَكا من الملائكة قائمًا بأمر الرحم، وهو المكان الذي ينشأ فيه الولد في بطن أمه، فيقول: «أي ربّ نطفة» أي: يا رب هذه نطفة، والنطفة هي ماء الرجل، ومثله ما بعده من قوله: «أي ربّ علقة» أي: يا رب هذه علقة والعلقة: هي الدم الغليظ، ثم يقول: «أي ربّ مضغة» أي: يا رب هذه مضغة، والمضغة: قطعة من لحم، وقد بُيِّن في رواية أخرى أن مدة كل واحد من هذه الأطوار أربعين يومًا، ثم قال -صلى الله عليه وسلم-: «فإذا أراد الله أن يقضي خلقها» أي المضغة لأنها آخر الأطوار، والمراد بالقضاء إمضاء خلقها وذلك بنفخ الروح فيها كما بينته رواية أخرى وذلك بعد مائة وعشرين يومًا، قال الملك: «أي رب أذكر أم أنثى» أي يارب هل هو ذكر فأكتبه أم أنثى؟ «أشقي أم سعيد» أي: أهو شقي من أهل النار فأكتبه، أو سعيد من أهل الجنة فأكتبه كذلك؟ «فما الرزق» أي: قليل أو كثير، وما مقداره؟ «فما الأجل»أي: فما عمره؟ طويل أم قصير؟ «فيكتب كذلك في بطن أمه» أي: فيكتب ما ذكر كما أمره الله به حال كون الولد في بطن أمه.
606;بی ﷺ فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے۔ یعنی اللہ کی طرف سے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ رحم مادر کے امور کو سنبھالتا ہے۔ رحم سے مراد وہ جگہ ہے، جہاں ماں کے پیٹ میں بچہ پرورش پاتا ہے۔ وہ فرشتہ کہتا ہے: ”أي ربّ نطفة“ یعنی یہ نطفہ ہے۔ نطفہ سے مراد مرد کا مادہ منویہ ہے۔ یہی مفہوم اس کے بعد والے جملے کا بھی ہے کہ: ”أي ربّ علقة“ یعنی اے رب! یہ علقہ بن چکا ہے۔ علقہ سے مراد گاڑھا خون ہے۔ پھر وہ کہتا ہے: ”أي ربّ مضغة“ یعنی اے رب یہ مضغہ بن چکا ہے۔ مضغہ گوشت کے ٹکڑے کو کہا جاتا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ان ادوار میں سے ہر ایک کی مدت چالیس دن ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ اس کی پیدائش کو مکمل کرنا چاہتا ہے“ یعنی اس مضغہ کی پیدائش کو، کیوںکہ ان ادوار میں سے آخری دور یہی ہوتا ہے۔ 'القضاء' سے مراد ہے اس کی پیدائش کو پورا کرنا، بایں طور کہ اس میں روح پھونک دی جائے۔ جیسا کہ اس کی وضاحت ایک اور روایت سے ہوتی ہے۔ ایسا ایک سو بیس دن کے مکمل ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ پھر فرشتہ پوچھتا ہے: ”أي رب أذكر أم أنثى“ یعنی اے رب! میں اسے مرد لکھوں یا عورت؟ ”أشقي أم سعيد“ یعنی آیا میں اسے اہل دوزخ میں سے ایک بدبخت لکھوں یا پھر جنتیوں میں سے ایک خوش بخت؟ ”فما الرزق“ یعنی اس کا رزق کم ہے یا زیادہ اور کتنا ہے؟ ”فما الأجل“ یعنی اس کی عمر کتنی ہے، لمبی ہے یا مختصر؟ ”فيكتب كذلك في بطن أمه“ یعنی بچہ ابھی ماں کے پیٹ میں ہی ہوتا ہے کہ یہ سب ذکر کی گئی اشیا اللہ تعالی کے حکم کے مطابق لکھ دی جاتی ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6328

 
 
Hadith   1278   الحديث
الأهمية: إذا أراد الله بقوم عذابا، أصاب العذاب من كان فيهم، ثم بعثوا على أعمالهم


Tema:

اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو عذاب دینا چاہتا ہے، تو وہ عذاب ہر اس شخص کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے جو اس قوم میں ہوتا ہے اور پھر آخرت میں لوگوں کو ان کے اعمال کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «إذا أراد اللهُ بقومٍ عذابًا، أصابَ العذابُ من كان فيهم، ثم بُعِثوا على أعمالهم».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو عذاب دینا چاہتا ہے، تو اُس کا عذاب ہر اس شخص کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے جو اس قوم میں ہوتا ہے اور پھر آخرت میں لوگوں کو ان کے اعمال کے ساتھ اٹھایا جائے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن الله -عز وجل- إذا أراد أن يعذِّب قومًا عقوبة لهم على سيئ أعمالهم «أصابَ العذابُ من كان فيهم» أي: من كان فيهم ممن ليس هو على رأيهم، فيهلك الله جميع الناس عند ظهور المنكر والإعلان بالمعاصى «ثم بُعِثوا على أعمالهم» أي: بُعِث كل واحد منهم على حسب عمله إن كان صالحا فعقباه صالحة وإلا فسيئة، فيكون ذلك العذاب طهرة للصالحين ونقمة على الفاسقين، وبعثهم على أعمالهم حكم عدل؛ لأن أعمالهم الصالحة إنما يجازون بها في الآخرة وأما في الدنيا فمهما أصابهم من بلاء كان تكفيرا لما قدَّموه من عمل سيء، فكان العذاب المرسَل في الدنيا على الذين ظلموا يتناول من كان معهم ولم يُنكِر عليهم، فكان ذلك جزاء لهم على مداهنتهم، ثم يوم القيامة يُبعث كل منهم فيجازى بعمله.
606;بی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ان کے بُرے اعمال کی وجہ سے سزا کے طور پر عذاب دینا چاہتا ہے۔ ”أصابَ العذابُ من كان فيهم“ یعنی اس قوم میں موجود ہر شخص پر عذاب بھیجتا ہے اگرچہ کوئی ایسا بھی ہو جو بقیہ قوم کی روش پر نہ چلتا ہو، اللہ تعالیٰ ظاہری اور علی الاعلان گناہ کی وجہ سے تمام لوگوں کو ہلاک کرتا ہے۔ ”ثم بُعِثوا على أعمالهم“ یعنی پھر ہر ایک کو اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے گا، اگر اس کے اعمال اچھے ہوں تو اس کا انجام بھی اچھا ہوگا اور اگر اعمال بُرے ہوں تو انجام بھی بُرا ہوگا۔ یہ عذاب نیک لوگوں کی پاکی کا ذریعہ ہوگا اور گناہ گاروں کے لیے عذاب اور زحمت ہوگا۔ اور ان کو اپنے اعمال کے مطابق اٹھانا عدل و انصاف کے تقاضے پر مبنی ہے، اس لیے کہ ان کے نیک اعمال کا بدلہ آخرت میں دیا جائے گا، دنیا میں جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ ان کے گناہوں کے کفارے کے طور پر ہوتی ہے۔ لہٰذا دنیا میں گناہ گاروں پر آنے والا عذاب دوسرے لوگوں پر بھی آتا ہے جو انہیں گناہ کرنے سے باز نہیں رکھتے تھے۔ یہ ان کی مداہنت کا بدلہ ہوگا، پھر قیامت کے دن ان میں سے ہر ایک کو اٹھایا جائے گا اور اپنے عمل کے مطابق انہیں بدلہ دیا جائے گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6329

 
 
Hadith   1279   الحديث
الأهمية: الكرسي موضع القدمين، والعرش لا يقدر أحد قدره


Tema:

کرسی قدم رکھنے کی جگہ ہے اور عرش کی وسعت کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- موقوفًا عليه: «الكُرسِيُّ مَوْضِع القَدَمَين، والعَرْش لا يَقْدِرُ أحدٌ قَدْرَه».

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفا روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں: کرسی (اللہ کے دونوں) قدم رکھنے کی جگہ ہے اور عرش کی وسعت کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔

Esin Hadith Caption Urdu


«الكُرسِيُّ مَوْضِع القَدَمَين» أي: الكرسي الذي أضافه الله إلى نفسه هو موضع قدميه -تعالى-، وهذا المعنى الذي ذكره ابن عباس -رضي الله عنهما- في الكرسي هو المشهور بين أهل السنة، وهو المحفوظ عنه، وما رُوي عنه أن الكرسي هو العلم؛ فغير محفوظ، وكذلك ما رُوي عن الحسن أن الكرسي هو العرش؛ ضعيف لا يصح عنه، وفي ذلك إثبات صفة القدمين لله -تعالى- على ما يليق بعظمته دون تكييف أو تمثيل أو تأويل أو تعطيل، «والعَرْش لا يَقْدِرُ أحدٌ قَدْرَه» أي: العرش الذي استوى الله -تعالى- عليه مخلوق عظيم، وأما مقدار حجمه وسعته فلا يعلمها إلا الله -تعالى-.

Esin Hadith Caption Urdu


”الكُرسِيُّ مَوْضِع القَدَمَين“ یعنی وہ کرسی جسے اللہ تعالی نے اپنی طرف منسوب کیا ہے، وہ اللہ تعالی کے دونوں قدم رکھنے کا مقام ہے۔ کرسی کے بارے یہ معنی جسےابن عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا ہے، یہی اہل سنت کے مابین معروف ہے اور یہی معنی ان سے محفوظ طریقے سے مروی ہے۔ باقی رہا ان سے مروی یہ معنی کہ کرسی سے مراد علم ہے تو وہ غیر محفوظ ہے۔ اسی طرح حسن رضی اللہ عنہ سے مروی یہ معنی کہ کرسی سے مراد عرش ہے، ضعیف ہے اور صحیح سلسلۂ سند سے ان سے مروی نہیں ہے۔ اس حدیث میں اللہ سبحانہ وتعالی کے لیے دو قدموں کی صفت کا اثبات ہے، یہ صفت اللہ تعالی کے لیے بغیر کیفیت، تمثیل، تاویل اور تعطیل کے ویسے ہی ثابت ہے جیسا کہ اللہ تعالی کی عظمت وکبریائی کے شایان شان ہے۔ ”والعَرْش لا يَقْدِرُ أحدٌ قَدْرَه“ یعنی عرش جس پر اللہ تعالی مستوی ہیں وہ ایک عظیم مخلوق ہے۔ اس کے حجم اور وسعت کو اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ خزیمہ نے اپنی کتاب ”التوحید“ میں روایت کیا ہے۔ - اسے عبد الله بن احمد نے اپنی کتاب ”السنة“ میں روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6330

 
 
Hadith   1280   الحديث
الأهمية: إن قلوب بني آدم كلها بين إصبعين من أصابع الرحمن، كقلب واحد، يصرفه حيث يشاء


Tema:

بنی آدم کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ایسے ہیں جیسے وہ سب ایک ہی دل ہو اور وہ جیسے چاہتا ہے ان کو پلٹ دیتا ہے۔

عن عبد الله بن عمرو بن العاص -رضي الله عنهما- أنه سمع رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، يقول: «إنَّ قلوبَ بني آدم كلَّها بين إصبعين من أصابعِ الرحَّمن، كقلبٍ واحدٍ، يُصَرِّفُه حيث يشاء» ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اللهم مُصَرِّفَ القلوبِ صَرِّفْ قلوبَنا على طاعتك».

عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بنی آدم کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ایسے ہیں جیسے وہ سب ایک ہی دل ہو اور وہ جیسے چاہتا ہے ان کو پلٹتا رہتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ دعا فرمائی ”اللهم مُصَرِّفَ القلوبِ صَرِّفْ قلوبَنا على طاعتك“ اے اللہ! اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیرے رکھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن الله -سبحانه وتعالى- متصرِّف في قلوب عباده وغيرها كيف شاء، لا يمتنع عليه منها شيء ولا يفوته ما أراده، فقلوب العباد كلها بين أصابعه سبحانه، يوجِّهها إلى ما يريد بالعبد بحسب القدر الذي كتبه الله عليه، ثم دعا النبي -صلى الله عليه وسلم-: «اللهم مُصَرِّفَ القلوبِ صَرِّفْ قلوبَنا على طاعتك» أي: يا من تُقَلِّب القلوب وتوجِّهها حيث تشاء، وجِّه قلوبنا إلى طاعتك، وثبتها على هذه الطاعة، ولا يجوز تأويل الأصابع إلى القوة ولا القدرة ولا غيرها، بل يجب إثباتها صفة لله -تعالى- من غير تحريف ولا تعطيل ومن غير تكييف ولا تمثيل.
606;بی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے بندوں اور دیگر مخلوقات کے دلوں میں جس طرح چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ اس کی راہ میں اللہ کے سامنے کوئی شے بھی رکاوٹ نہیں بنتی اور نہ ہی جس کام کے کرنے کا وہ ارادہ رکھتا ہے وہ اس کی دسترس سے باہر ہوتا ہے۔چنانچہ بندوں کے دل سارے کے سارے اللہ تعالی کی انگلیوں کے مابین ہیں۔ وہ بندے کے نوشتہ تقدیر کے مطابق اس سے جو چاہ رہا ہوتا ہے اس کی طرف اسے پھیر دیتا ہے۔ پھر نبی ﷺ نے یہ دعا مانگی ”اللهم مُصَرِّفَ القلوبِ صَرِّفْ قلوبَنا على طاعتك“ اے اللہ! اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیرے رکھ۔ یعنی اے وہ ذات جو دلوں کو پھیرتی ہے اور انہیں جس طرف کرنا چاہتی ہے کر دیتی ہے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت میں لگا دے اور انہیں اس اطاعت پر ثابت قدم رکھ ۔ انگلیوں کی قوت، قدرت یا کسی اور معنی کے ساتھ تاویل کرنا جائز نہیں ہے بلکہ بغیر کسی تحریف و تعطیل اور بنا کسی تکییف و تمثیل کے اُس کا اللہ تعالی کی صفت کے طور پر اثبات کرنا واجب ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6331

 
 
Hadith   1281   الحديث
الأهمية: اللهم إني أسألك فعل الخيرات، وترك المنكرات، وحب المساكين، وأن تغفر لي وترحمني، وإذا أردت فتنة في قوم فتوفني غير مفتون، وأسألك حبك وحب من يحبك، وحب عمل يقرب إلى حبك


Tema:

اے اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں اور ( میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ) تو مجھے معاف کر دے اور مجھ پر اپنی رحمت فرما اور جب تو کسی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہے تو مجھے فتنے ميں مبتلا کئے بغير موت دے دینا۔ میں تجھ سے تیری محبت، ہر اس شخص کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور ہر اس عمل سے محبت کی توفیق طلب کرتا ہوں جو تیری محبت کے قريب کردے۔

عن معاذ بن جبل -رضي الله عنه- قال: احتَبسَ عنَّا رسولُ الله صلى الله عليه وسلم ذات غداة من صلاة الصُّبح حتى كِدْنا نتراءى عينَ الشمس، فخرج سريعًا فثوَّب بالصلاة، فصلَّى رسول الله صلى الله عليه وسلم وتجوَّز في صلاته، فلمَّا سلَّم دعا بصوته فقال لنا: «على مَصَافِّكم كما أنتم» ثم انْفَتَل إلينا فقال: «أمَا إني سأحدِّثكم ما حبسني عنكم الغداة: إني قمتُ من الليل فتوضَّأت فصلَّيتُ ما قُدِّر لي فنعَستُ في صلاتي فاستثقلتُ، فإذا أنا بربي تبارك وتعالى في أحسن صورة، فقال: يا محمد قلت: لبَّيك ربِّ، قال: فيمَ يختصم الملأُ الأعلى؟ قلتُ: لا أدري ربِّ، قالها ثلاثا قال: «فرأيتُه وضع كفِّه بين كتفيَّ حتى وجدتُ بَردَ أنامله بين ثدييَّ، فتجلَّى لي كلُّ شيء وعرفتُ، فقال: يا محمد، قلتُ: لبَّيك ربِّ، قال: فيمَ يختصم الملأُ الأعلى؟ قلتُ: في الكَفَّارات، قال: ما هن؟ قلتُ: مشيُ الأقدام إلى الجماعات، والجلوسُ في المساجد بعد الصلوات، وإسباغُ الوضوء في المكروهات، قال: ثم فيمَ؟ قلت: إطعامُ الطعام، ولِينُ الكلام، والصلاةُ بالليل والناس نِيام. قال: سَلْ. قلت: اللهم إني أسألك فِعْلَ الخيرات، وتَرْكَ المنكرات، وحبَّ المساكين، وأن تغفر لي وترحمني، وإذا أردتَ فتنةً في قوم فتوفَّني غير مفتون، وأسألُك حبَّك وحبَّ مَن يحبُّك، وحبَّ عَمَلٍ يُقرِّب إلى حبِّك»، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنها حقٌّ فادرسوها ثم تعلَّموها».

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بيان کرتے ہيں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں ہمارے پاس تشريف لانے ميں اتنی تاخير کردی کہ قریب تھا کہ سورج کی ٹکیہ کو ہم دیکھ لیتے۔ پھر آپ ﷺ تیزی سے باہر تشریف لائے اور نماز کی طرف بلایا۔ آپ ﷺ نے مختصر نماز پڑھائی۔ جب آپﷺ نے سلام پھیرا تو خود پکار کر ہم سے فرمایا: تم جیسے اپنی صفوں میں بیٹھے ہو ویسے ہی بیٹھے رہو۔ پھر آپ ﷺ ہماری طرف مڑے اور فرمایا: میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کیا بات تھی جس کی وجہ سے میں آج تمہارے پاس آنے سے رکا رہا۔ میں رات کو اٹھا اور وضو کرکے جس قدر میرے نصیب میں تھی میں نے نماز پڑھی۔ پھر میں نماز میں ہی اونگھنے لگا یہاں تک کہ گہری نیند سو گیا۔اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے رب تبارک و تعالی کے پاس ہوں جو بہترین صورت میں ہے۔ رب تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد!۔ میں نے جواب دیا: اے میرے رب! میں حاضر ہوں۔ پوچھا: ملأ اعلی (فرشتوں کی اونچے مرتبے والی جماعت) کس بات پر جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا: اے میرے رب! میں تو اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ اللہ تعالی نے یہ بات تین دفعہ پوچھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ اللہ نے اپنی ہتھیلی میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دی یہاں تک کہ مجھے اپنے سینے پر اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک محسوس ہونے لگی۔ تو میرے لیے ہر شے واضح ہو گئی اور میں جان گیا۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا: اے محمد!۔ میں نے جواب دیا: اے میرے رب! میں حاضر ہوں۔ فرمایا: ملأِ اعلی کا کس بات پر جھگڑا ہو رہا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ: (گناہوں کا ) کفارہ بننے والے اعمال میں۔ فرمایا: کفارہ بننے والے اعمال کیا ہیں؟ میں نے جواب دیا: باجماعت نمازوں کے لیے پیدل چل کر جانا، نمازوں کے بعد مساجد میں بیٹھنا، ناگوار حالات ميں کامل اور اچھے طریقے سے وضو کرنا۔ پوچھا: اور کس چیز میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا: کھانا کھلانے، نرم گفتاری اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو اس وقت نماز پڑھنے کے متعلق۔ پھر اللہ تعالی نے فرمایا: مانگو۔ میں نے کہا: اے اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں اور ( میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ) تو مجھے معاف کر دے اور مجھ پر اپنی رحمت فرما اور جب تو کسی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہے تو مجھے فتنے ميں مبتلا کئے بغير موت دے دینا۔ میں تجھ سے تیری محبت، ہر اس شخص کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور ہر اس عمل سے محبت کی توفیق طلب کرتا ہوں جو تیری محبت کے قريب کردے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ حق ہے، اس پر غور کرو اور اسے سیکھو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر معاذ بن جبل رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم في بعض الأيام تأخر في الخروج إليهم لصلاة الفجر، حتى كادت الشمس أن تطلع، فخرج إليهم مسرعًا، فأمر بإقامة الصلاة، ثم صلى بهم وخفَّف، فلما انتهى من صلاته، أمرهم أن يظلوا في مواضعهم من الصفوف، ثم أخبرهم عن سبب تأخره عن صلاة الفجر، أنه قام بالليل فتوضأ، ثم صلى ما شاء الله من الركعات، فنام في صلاته، فرأى ربه تعالى في المنام في أحسن صورة، فسأله: في أي شيء يتحدَّث الملائكة المقربون؟ فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: لا أدري. حدَث هذا السؤال وهذا الجواب ثلاث مرات، فوضع الرب سبحانه وتعالى كفه بين كتفي النبي صلى الله عليه وسلم، حتى أحسَّ النبيُّ صلى الله عليه وسلم ببرد أصابعه تعالى في صدره. ووَصْفُ النبي صلى الله عليه وسلم لربه عز وجل بما وصفه به حق وصدق، يجب الإيمان والتصديق به كما وصف الله عز وجل به نفسه مع نفي التمثيل عنه، ومن أشكل عليه فهمُ شيء من ذلك واشتبه عليه فليقل كما مدح الله تعالى به الراسخين في العلم وأخبر عنهم أنهم يقولون عند المتشابه: {آمنّا به كُلٌّ من عند ربِّنا} ولا يتكلَّف ما لا علم له؛ فإنه يُخشى عليه من ذلك الهلكة، فكلما سمع المؤمنون شيئاً من هذا الكلام قالوا: هذا ما أخبرنا الله ورسوله وصدقَ الله ورسولُه وما زادَهُم إلاّ إيمانًا وتسليمًا.
ولما وضع الرب سبحانه وتعالى كفه بين كتفي النبي صلى الله عليه وسلم انكشف له كل شيء وعرف الجواب فقال: يتحدثون ويتناقشون ويختصمون في الخصال التي من شأنها أن تُكَفِّر الخطيئة، واختصامهم عبارة عن تبادرهم إلى إثبات تلك الأعمال والصعود بها إلى السماء، أو تحدثهم في فضلها وشرفها، وهذه الخصال هي: المشي إلى صلاة الجماعة، والجلوس في المسجد بعد انتهاء الصلوات للذكر والقراءة وسماع العلم وتعليمه، وإتمام الوضوء وإبلاغه مواضعه الشرعية في الحالات التي تكره النفس فيها الوضوء كالبرد الشديد.
ثم قال له الرب: ثم في أي شيء يختصم الملائكة المقربون؟ فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: إطعام الناس الطعام، والكلام مع الناس بالكلام الطيب اللين، وصلاة قيام الليل والناس نائمون. فقال له الرب سبحانه: اسألني ما شئت. فسأله النبي صلى الله عليه وسلم أن يوفِّقه لفعل كل خير وترك كل شر، وأن يحببه في المساكين والفقراء، وأن يغفر له ويرحمه، وإذا أراد الله أن يفتن قومًا ويضلهم عن الحق، أن يتوفاه غير مفتون ولا ضال، وأن يرزقه حبَّه وحبَّ من يحب الله، وحب كل عمل يقربه إلى الله. ثم أخبر النبي صلى الله عليه وسلم أصحابه أن هذه الرؤيا حق، وأمرهم أن يدرسوها ويتعلموا معانيها وأحكامها.
605;عاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ ایک دن نماز فجر کے لیے نبی کريم ﷺ نے نکلنے میں تاخير کردی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ تیزی کے ساتھ باہر تشریف لائے اور اقامتِ نماز کا حکم دیا۔ آپ ﷺ نے انہیں مختصر نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ کو حکم دیا کہ وہ صفوں میں اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے رہیں۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں بتلايا کہ آپ ﷺ کو کس وجہ سے نماز فجر میں تاخیر ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ رات کو نماز تہجد کے لیے اٹھے، وضو فرمایا اور جتنی رکعتیں اللہ کو منظور تھیں اتنی ادا کیں اور پھر اپنی نماز کے دوران ہی سو گئے۔ خواب میں آپ ﷺ نے اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ مقرب فرشتے کس شے کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: میں تو کچھ نہیں جانتا۔ یہ سوال و جواب تین دفعہ ہوا۔ پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی نبی ﷺ کے دونوں شانوں کے مابین رکھ دی یہاں تک کہ آپ ﷺ کو اپنے سینے میں اللہ تعالیٰ کی انگلیوں کی ٹھنڈک محسوس ہونے لگی۔ نبی ﷺ نے جن اوصاف سے اپنے رب عز و جل کو متصف کیا ہے وہ حق اورسچ ہيں اور اللہ تعالی نے جن اوصاف سے اپنے آپ کو متصف کیا ہے ان پر جوں کا توں بغیر کسی تمثیل کے ایمان لانا اور ان کی تصدیق کرنا واجب ہے۔ جسے اسے سمجھنے میں کچھ اشکال یا اشتباہ ہو تو وہ ویسے ہی کہہ دے جیسے وہ پختہ علم والے لوگ کہتے ہیں جن کی اللہ تعالی نے تعریف فرمائی اور ان کے بارے میں بتایا کہ ان کے سامنے جب کوئی مشتبہ بات آتی ہے تو وہ کہتے ہیں: (آمنّا به كُلٌّ من عند ربِّنا۔) ترجمہ: ’’ہم اس پر ایمان لائے۔ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔‘‘ اس شخص کو چاہیے کہ جس بات کا اسے علم نہ ہو اس کے درپے نہ ہو، کیونکہ اس سے اس کے ہلاکت میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔ مومن لوگ تو جب بھی اس طرح کی بات سنتے ہیں وہ کہہ دیتے ہیں کہ ایسا اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں بتلایا ہے اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ ہی کہا ہے۔ ایسا کہنا ان کے ایمان اورجذبۂ اطاعت گزاری میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی نبی ﷺ کے کندھوں کے مابین رکھی تو آپ ﷺ کے سامنے ہر بات کھل گئی اور آپ ﷺ کو جواب کا علم بھی ہو گیا چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ فرشتے ایسی خصلتوں کے بارے میں گفتگو، بحث اور جھگڑا کر رہے ہیں جو گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں۔ ان کےجھگڑنے سے مراد یہ ہے کہ وہ ان اعمال کے اثبات اور انہیں لے کر آسمان کی طرف چڑھنے میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر اس سے مراد ان کا ان کی فضیلت اور شرف کے بارے میں گفتگو کرنا ہے۔ یہ خصلتیں یہ ہیں: نماز باجماعت کے لیے پیدل چل کر جانا، نمازوں کے ختم ہو جانے کے بعد ذکر، تلاوتِ قرآن اورعلم سیکھنے اور سکھانے کے لیے مساجد میں بیٹھنا، پورے طریقے سے وضو کرنا اور وضو کے پانی کوان تمام جگہوں تک پہنچانا جہاں تک پہنچانا شرعاً ضروری ہو، ان حالات میں بھی جن ميں وضو کرنا ناگوار محسوس ہوتا ہو جیسے سخت سردی میں۔ رب تعالی شانہ نے پھر پوچھا: مقرب فرشتے اور کن باتوں میں جھگڑ ا کرتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کھانا کھلانے میں، لوگوں سے اچھے انداز اور نرم لہجے میں بات کرنے میں اور رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق جب کہ لوگ سو رہے ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مجھ سے جو چاہتے ہو مانگو۔ اس پر نبی ﷺ نے اللہ سے دعا کی کہ وہ اسے ہر نیکی کو کرنے، ہر برائی کو ترک کرنے اور فقراء اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق دے اور یہ کہ اللہ آپ کو بخش دے اور آپ پر رحم فرمائے اور جب اللہ کا کسی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنے اور انہیں راہ حق سے گمراہ کرنے کا ارادہ ہو تو وہ آپ ﷺ کو فتنے اور گمراہی سے بچاتے ہوئے اس سے پہلے ہی موت دے دے اور یہ کہ اللہ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ سے اور ہر اس شخص سے محبت کرنے کی توفیق دے جو اللہ سے محبت کرتا ہو اور ہر اس عمل کو آپ ﷺکے لیے محبوب بنا دے جو اللہ کی قربت کا ذريعہ ہو۔ پھر نبی ﷺ نے اپنے صحابۂ کرام کو بتایا کہ یہ خواب برحق ہے اور انہیں حکم دیا کہ وہ اس پر غور کریں اور اس کے معانی اور احکامات کو سیکھیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6332

 
 
Hadith   1282   الحديث
الأهمية: أن يهوديًّا جاء إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-، فقال: يا محمد، إن الله يمسك السموات على إصبع، والأرضين على إصبع، والجبال على إصبع، والشجر على إصبع، والخلائق على إصبع، ثم يقول: أنا الملك


Tema:

ایک یہودی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد! اللہ تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا، تمام زمینوں کو ایک انگلی پر روک لے گا، تمام پہاڑوں کو ایک انگلی پرروک لے گا، تمام درختوں کو ایک انگلی پر روک لے گا اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر روک لے گا اور پھر کہے گا: میں بادشاہ ہوں۔

عن عبد الله بن مسعود -رضي الله عنه-: أنَّ يهوديًّا جاء إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-، فقال: يا محمد، إنَّ اللهَ يُمسك السمواتِ على إصبع، والأرضين على إصبع، والجبالَ على إصبع، والشجرَ على إصبع، والخلائقَ على إصبع، ثم يقول: أنا المَلِكُ. «فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بَدَتْ نواجِذُه»، ثم قرأ: {وما قدروا اللهَ حقَّ قَدْرِه}.

عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد! اللہ تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا، تمام زمینوں کو ایک انگلی پر روک لے گا، تمام پہاڑوں کو ایک انگلی پرروک لے گا، تمام درختوں کو ایک انگلی پر روک لے گا اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر روک لے گا اور پھر کہے گا: میں بادشاہ ہوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ﴾ ”انہوں نے اللہ کی ویسے قدر نہ کی جیسے قدر کرنے کا حق تھا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث يدل على عظمة الله -تعالى- حيث يضع السموات كلها على إصبع من أصابع يده الكريمة العظيمة، وعدَّد المخلوقات المعروفة للخلق بالكبر والعظمة، وأخبر أن كل نوع منها يضعه -تعالى- على إصبع، لو أراد -تعالى- لوضع السماوات والأرضين ومن فيهن على إصبع واحدة من أصابع يده -جل وعلا-.
وهذا من العلم الموروث عن الأنبياء المتلقَّى عن الوحي من الله -تعالى-، ولهذا صدَّق رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كلام اليهودي بل وأعجبه ذلك وسُرَّ به، ولهذا ضحك حتى بدت نواجذه، تصديقاً له، كما قال عبد الله بن مسعود في رواية أخرى عنه، وقرأ -صلى الله عليه وسلم- قوله -تعالى-: {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ} والتي فيها إثبات اليدين لله تعالى، تأكيدًا وتثبيتًا لما قاله اليهودي.
ولا التفات إلى قول من تبنَّى التعطيل، ونفى صفة الأصابع لله، زاعمًا أن إثباتها لله تشبيه له بخلقه، ولا يعلم هذا المعطِّل أن إثبات هذه الصفة لله -تعالى- لا يقتضي التشبيه، كما أننا نثبت له -تعالى- حياة وقدرة وقوة وسمعًا وبصرًا، ولا يقتضي هذا تشبيهًا له بخلقه، إذ إنه سبحانه {ليس كمثله شيء وهو السميع البصير}.
740;ہ حدیث اللہ تعالی کی عظمت پر دلالت کرتی ہے۔ کیوںکہ اللہ تعالی تمام آسمانوں کو اپنے بزرگی والے عظیم ہاتھ کی انگلیوں میں سے ایک انگلی پر رکھ لیں گے۔ یہودی نے ان مخلوقات کا ذکر کیا جو بڑے حجم اور عظمت کے لحاظ سے معروف ہیں اور بیان کیا کہ ان میں سے ہر ایک کو اللہ تعالی ایک انگلی پر رکھ لیں گے۔ اگر اللہ تعالی چاہیں تو تمام آسمانوں اور زمینوں کو اور ان میں موجود جو مخلوقات ہیں، انہیں اپنے ہاتھ کی صرف ایک ہی انگلی پر رکھ لیں۔
یہ بطریق وحی انبیا علیہم السلام سے ملنے والے علم میں سے ہے۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے یہودی کے کلام کی تصدیق کی، بلکہ آپ ﷺ کو اس کی بات پسند آ‏ئی اور آپ ﷺ اس سے خوش ہوئے۔ یہی وجہ ہے ک آپ ﷺ ہنس دیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ یہ ایک طرح سے آپ ﷺ کی طرف سے اس کی بات کی تصدیق تھی، جیسا کہ ایک اور روایت میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے اللہ تعالی کے اس فرمان کی تلاوت فرمائی:﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ ”اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی، ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے، وه پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے، جسے لوگ اس کا شریک بنائیں“۔
اس آیت میں اللہ تعالی کے لیے دو ہاتھوں کا اثبات ہے۔ آپ ﷺ نے اسے یہودی نے جو بات کہی تھی، اس کی تاکید اور اثبات کے لیے تلاوت کیا۔ اس لیے اس سلسلے میں ان لوگوں کے قول کی طرف چنداں توجہ نہیں کی جائے گی جو مذہب تعطیل کے قائل ہیں اور اللہ تعالی کے لیے انگلیوں کی صفت کی نفی کرتے ہیں، اس گمان میں کہ اللہ کے لیے انگلیوں کے اثبات کی وجہ سے اس کی مخلوق کے ساتھ تشبیہہ لازم آتی ہے۔ حالاںکہ یہ تعطیل کرنے والا شخص یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالی کے لیے اس صفت کے اثبات سے تشبیہہ لازم نہیں آتی۔ بالکل ایسے ہی، جیسے ہم اللہ تعالی کے لیے حیات، قدرت، قوت، سماعت اور بصارت جیسی صفات کا اثبات کرتے ہیں اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے مخلوق سے مشابہہ ہے۔ کیوںکہ اللہ سبحانہ تعالی تو. ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ ہے یعنی ”اس جیسی کوئی چیز نہیں، وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6333

 
 
Hadith   1283   الحديث
الأهمية: احتجت الجنة والنار، فقالت الجنة: يدخلني الضعفاء والمساكين، وقالت النار: يدخلني الجبارون والمتكبرون، فقال للنار: أنت عذابي أنتقم بك ممن شئت، وقال للجنة: أنت رحمتي أرحم بك من شئت


Tema:

جنت اور دوزخ نے آپس میں جھگڑا کیا تو جنت نے کہا کہ میرے اندر کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے اور دوزخ کہنے لگی کہ میرے اندر بڑے بڑے سرکش اور متکبر لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: اے دوزخ! تو میرا عذاب ہے۔ تیرے ذریعے میں جس سے چاہوں گا انتقام لوں گا۔ اور جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے۔ تیرے ساتھ میں جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «احتجَّت الجنةُ والنارُ، فقالت الجنةُ: يدخلني الضعفاءُ والمساكينُ، وقالت النار: يدخلني الجبَّارون والمتكبِّرون، فقال للنار: أنتِ عذابي أنتقم بك ممَّن شئتُ، وقال للجنة: أنتِ رحمتي أرحمُ بك مَن شئتُ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت اور دوزخ نے آپس میں جھگڑا کیا تو جنت نے کہا کہ میرے اندر کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے اور دوزخ کہنے لگی: میرے اندر بڑے بڑے سرکش اور متکبر لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: اے دوزخ! تو میرا عذاب ہے۔ تیرے ذریعے میں جس سے چاہوں گا انتقام لوں گا۔ اور جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے۔ تیرے ساتھ میں جس پر چاہوں گا رحم کروں گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن الجنة والنار احتجتا عند ربهما، أي: أن كل واحدة منهما أظهرت حجج التفضيل، فكل واحدة تدعي الفضل على الأخرى، وهذا من الأمور الغيبية، التي يجب علينا أن نؤمن بها حتى وإن استبعدتها العقول، فالجنة احتجت على النار، فقالت: إن فيها ضعفاء الناس وفقراء الناس، فهم في الغالب الذين يلينون للحق وينقادون له، واحتجت النار بأن فيها الجبارين وهم أصحاب الغلظة والقسوة، والمتكبرين وهم أصحاب الترفع والعلو، والذين يحتقرون الناس ويردُّون الحق، فأهل الجبروت وأهل الكبرياء هم أهل النار والعياذ بالله؛ لأنهم في الغالب لا ينقادون للحق، فقضى الله -عز وجل- بينهما فقال للنار: أنتِ عذابي أعذب بك من أشاء، وأنتقم بك ممن أشاء، وقال للجنة: أنت رحمتي أرحم بك من أشاء، يعني: أنها الدار التي نشأت من رحمة الله، وليست رحمته التي هي صفته؛ لأن رحمته التي هي صفته وصف قائم به، لكن الرحمة هنا مخلوق، أنت رحمتي يعني خلقتك برحمتي، أرحم بك من أشاء، فأهل الجنة هم أهل رحمة الله، وأهل النار هم أهل عذاب الله -تعالى-.
606;بی ﷺ بتا رہے ہیں کہ جنت اور دوزخ نے اپنے رب کے سامنے ایک دوسرے سے جھگڑا کیا۔ یعنی ان میں سے ہر ایک نے اپنی فضیلت اور برتری کے دلائل پیش کیے۔ ان میں سے ہر ایک کا دعوی تھا کہ وہ دوسری سے برتر ہے۔ یہ سب کچھ غیبی امور سے تعلق رکھتا ہے جس پر ایمان لانا ہم پر واجب ہے اگرچہ عقل انہیں بعید ہی کیوں نہ جانے۔ جنت نے دوزخ کے خلاف دلیل دیتے ہوئے کہا کہ میرے اندر کمزور اور فقیر قسم کے لوگ آئیں گے۔ یہ عموما وہ لوگ ہوتے جو حق کے معاملے میں نرم خو اور اس کے تابع ہوتے ہیں۔ دوزخ نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ اس میں سرکش یعنی سخت اور درشت مزاج اور متکبر قسم کے لوگ یعنی اپنی بڑائی اور برتری جتلانے والے آئیں گے جو لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حق کو جھٹلاتے ہیں۔چنانچہ سرکشی اور تکبر سے متصف لوگ دوزخی ہوں گے۔ العیاذ باللہ کیونکہ ایسے لوگ عموما حق کے پیرو نہیں بنتے۔ اللہ تعالی نے جنت و دوزخ کے مابین فیصلہ کرتے ہوئے دوزخ سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے جس کے ذریعے میں جسے چاہوں گا عذاب دوں گا اور تیرے ذریعے سے میں جس سے چاہوں گا انتقام لوں گا۔ اور جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے۔ میں تیرے ذریعے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔یعنی جنت ایک ایسا مقام ہے جس کا وجود اللہ کی رحمت کا مرہون منت ہے۔ اس کا یہ مفہوم ہر گز نہیں کہ جنت وہ رحمت ہے جو اللہ کی صفت ہے کیونکہ اللہ کی رحمت تو اس کے ساتھ قائم ایک صفت ہے۔ اس حدیث میں جس رحمت کا ذکر ہے وہ مخلوق ہے۔ ”تو میری رحمت ہے“ سے مراد یہ ہے کہ میں نے اپنی رحمت کی بدولت تجھے پیدا کیا ہےاور تیرے ذریعے میں جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔ جنت والے اللہ کی رحمت کے مستحقین ہوں گے اور دوزخ والے اللہ کے عذاب سے دوچار ہونے والے لوگ ہوں گے۔   --  [صحیح]+ +[معنی کے لحاظ سے یہ حدیث متفق علیہ ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6334

 
 
Hadith   1284   الحديث
الأهمية: كان أبو صالح يأمرنا إذا أراد أحدنا أن ينام أن يضطجع على شقه الأيمن


Tema:

ابوصالح ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص سونے کا ارادہ کرے تو بستر پر دائیں کروٹ لیٹے۔

عن سهيل، قال: كان أبو صالح يأمرنا، إذا أراد أحدُنا أن ينامَ، أن يضطجعَ على شِقِّه الأيمن، ثم يقول: «اللهم ربَّ السماواتِ وربَّ الأرض وربَّ العرش العظيم، ربَّنا وربِّ كلِّ شيء، فالقَ الحَبِّ والنَّوى، ومُنْزِلَ التوراة والإنجيل والفُرقان، أعوذ بك من شرِّ كل شيء أنت آخذٌ بناصيتِه، اللهم أنت الأولُ فليس قبلك شيء، وأنت الآخرُ فليس بعدك شيء، وأنت الظاهرُ فليس فوقك شيء، وأنت الباطن فليس دونك شيء، اقضِ عنَّا الدِّينَ، وأغنِنا من الفقر» وكان يروي ذلك عن أبي هريرة، عن النبي -صلى الله عليه وسلم-.

سہیل کہتے ہیں کہ ابوصالح ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص سونے کا ارادہ کرے تو بستر پر دائیں کروٹ لیٹے، پھر یہ دعا پڑھے:”اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَيْئٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَی وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ شَيْئٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَکَ شَيْئٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَکَ شَيْئٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَکَ شَيْئٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَکَ شَيْئٌ اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنْ الْفَقْرِ“ اے اللہ ! اے آسمانوں کے رب اور زمین کے رب اور عرش عظیم کے رب، اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب، دانے اور گٹھلیوں کو چیر (کر پودے اور درخت اگا) دینے والے ! تورات، انجیل اور فرقان کو نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے، اے اللہ ! تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کوئی شے نہیں، اے اللہ ! تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کوئی شے نہیں ہے، تو ہی ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی شے نہیں ہے، تو ہی باطن ہے، تجھ سے پیچھے کوئی شے نہیں ہے، ہماری طرف سے (ہمارا) قرض ادا کر اور ہمیں فقر سے بے نیازی عطا فرما۔ وہ اس حدیث کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ (آگے) اسے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي صلى الله عليه وسلم يأمر أصحابه، إذا أراد أحدهم أن ينام أن يضع جنبه الأيمن على فراشه ثم يقول: «اللهم ربَّ السماواتِ وربَّ الأرض وربَّ العرش العظيم، ربَّنا وربِّ كلِّ شيء» أي: اللهم يا رب السماوات والأرض وخالقهما ومالكهما ومربِّي أهلهما، ورب العرش العظيم وخالقه ومالكه، وخالق الناس أجمعين ومالكهم ومربيهم، ورب كل شيء «فالقَ الحَبِّ والنَّوى» يعني: يا من شقهما فأخرج منهما الزرع والنخيل، والتخصيص لفضلهما أو لكثرة وجودهما في ديار العرب «ومُنْزِلَ التوراة والإنجيل والفُرقان»   ويا من أنزل التوراة على موسى والإنجيل على عيسى والقرآن على محمد صلى الله عليه وسلم «أعوذ بك من شرِّ كل شيء أنت آخذٌ بناصيتِه» أي: أعتصم وألتجأ بك من شر كل شيء من المخلوقات؛ لأنها كلها في سلطانك وفي قبضتك وتصرفك «اللهم أنت الأولُ فليس قبلك شيء، وأنت الآخرُ فليس بعدك شيء، وأنت الظاهرُ فليس فوقك شيء، وأنت الباطن فليس دونك شيء» وقد فسر النبي صلى الله عليه وسلم هذه الاسماء الأربعة تفسيرًا واضحًا: فالأول: يدل على أن كل ما سواه حادث كائن بعد أن لم يكن، ويوجب للعبد أن يلحظ فضل ربه في كل نعمة دينية أو دنيوية؛ إذ السبب والمسبب منه تعالى. والآخر: يدل على أنه الباقي ومن عداه سيفنى، وأنه الصمد الذي تتوجه إليه المخلوقات بتألُّهها، ورغبتها، ورهبتها، وجميع مطالبها. والظاهر: يدل على عظمة صفاته، واضمحلال كل شيء عند عظمته من ذوات وصفات، ويدل على علوه على جميع مخلوقاته علوًّا حقيقيًّا. والباطن: يدل على اطلاعه على السرائر، والضمائر، والخبايا، والخفايا، ودقائق الأشياء، كما يدل على كمال قربه ودُنُوِّه، ولا يتنافى الظاهر والباطن؛ لأن الله ليس كمثله شيء في كل النعوت، فهو العلي في دُنُوِّه القريب في عُلُوِّه. «اقضِ عنَّا الدِّينَ، وأغنِنا من الفقر» ثم سأل الله عز وجل أن يقضي عنه دينه وأن يغنيه من الفقر.
606;بی ﷺ اپنے صحابہ کو حکم دیا کرتے تھے کہ جب ان میں سے کوئی سونے کا ارادہ کرے تو اپنی دائیں کروٹ پر سوئے اور پھر یہ دعا کہے ”اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَيْئٍ“ یعنی اے آسمانوں اور زمین کے رب، ان کو پیدا کرنے والے اور ان کے مالک اور اس میں رہنے والوں کو پالنے والے اور اے بہت بڑے عرش کے رب، اس کے خالق اور مالک، تمام لوگوں کے خالق، مالک اور ان کے پالنہار اور ہر چیز کے رب۔
”فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَی“ یعنی دانے اور گھٹلی کو پھاڑ کر ان سے کھیتی اور کھجور نکالنے والی ذات۔ دانے اور گھٹلی کو خصوصیت کے ساتھ یا تو ان کی فضیلت کی وجہ سے خاص کیا ہوگا یا عرب ممالک میں اس کے زیادہ پائے جانے کی وجہ سے کیا۔
”وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ“ یعنی اے وہ ذات جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر، انجیل عیسیٰ علیہ السلام پر اور قرآنِ کریم محمد ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔
”أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ شَيْئٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ“ یعنی مخلوقات میں سے ہر چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اس لیے کہ یہ سب تیری بادشاہت، قبضے اور تصرف میں ہے۔
”اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَکَ شَيْئٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَکَ شَيْئٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَکَ شَيْئٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَکَ شَيْئٌ“ آپ ﷺ نے ان چار اسماء کی تفسیر وضاحت کے ساتھ کی ہے۔
”الأول“: یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ کے سوا ہر چیز حادث اور عدم سے وجود میں آئی ہے، انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ دینی اور دنیوی ہر طرح کی نعمت میں اپنے رب کے فضل کو تسلیم کرے، اس لیے کہ سبب اور مسبب دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔
”الآخر“: یہ اسم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ باقی اور اس کے علاوہ ہر چیز فانی ہے۔ اور یہ کہ وہ بے نیاز ہے اس کی طرف تمام مخلوقات اپنی عبادت، رغبت، رہبت اور تمام مطالبات لے کر متوجہ ہوتی ہیں۔
”الظاهر“: یہ اسم اللہ تعالیٰ کی صفات کی عظمت اور اس کی ذات و صفات کی عظمت کے سامنے ہر چیز کے ختم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔اسی طرح یہ نام تمام مخلوقات پر اللہ تعالیٰ کی حقیقی بلندی پر دلالت کرتی ہے۔
”الباطن“: یہ اسم تمام رازوں، پوشیدہ و مخفی چیزوں اور اشیاء کی باریکیوں پر اللہ تعالیٰ کے مطّلع ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اسی طرح یہ اللہ تعالیٰ کے قُرب اور نزدیکی پر بھی دلالت کرتا ہے، یہ ظاہر اور باطن کے منافی نہیں۔ اس لیے کہ تمام صفات میں اللہ تعالیٰ کا کوئی مثل نہیں، وہ اپنے قُرب میں بلند اور اپنی بلندی میں قریب ہے۔
”اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنْ الْفَقْرِ“ اس کے بعد آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے اپنے قرض کی ادائیگی اور فقر سے بے نیازی کا سوال کیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6335

 
 
Hadith   1285   الحديث
الأهمية: ما توطن رجل مسلم المساجد للصلاة والذكر، إلا تبشبش الله له، كما يتبشبش أهل الغائب بغائبهم إذا قدم عليهم


Tema:

جب كوئي مسلمان شخص نماز اور ذكر كے لیے مساجد میں پابندی کے ساتھ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسے خوش ہوتا ہے جیسے کسی غیر موجود شخص کی آمد پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «ما توطَّنَ رجلٌ مسلمٌ المساجدَ للصلاة والذِّكر، إلا تَبَشْبَشَ اللهُ له، كما يَتَبَشْبَشُ أهلُ الغائب بغائبهم إذا قَدِمَ عليهم».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب كوئي مسلمان شخص نماز اور ذكر كے لیے مساجد میں پابندی کے ساتھ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسے خوش ہوتا ہے جیسے کسی غیر موجود شخص کی آمد پر اس کے اہلِ خانہ خوش ہوتے ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
المسلم الذي يلتزم حضور المساجد للصلاة والذِّكر فيها ويداوم على ذلك، فإن الله -تعالى- يتبشبش له، ويفرح به، كما يفرح أهل الغائب بقدوم غائبهم، ولا يجوز تأويل صفة البشبشة إلى الرأفة أو الرحمة أو غيرها، بل يجب إثباتها صفة لله تعالى من غير تحريف ولا تعطيل ومن غير تكييف ولا تمثيل، هذا مع العلم أن البشبشة من لوازمها الرأفة والرحمة، والله أعلم.
605;سلمان جو پابندی کے ساتھ مساجد میں نماز اور ذکر کے لیے آتا ہے اور ہمیشہ ایسا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ایسے مسرور اور خوش ہوتا ہے جیسے کسی غیر موجود شخص کے آنے پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔ يہاں بشاشت کی صفت کی تاویل شفقت اور رحمت وغیرہ جیسے معانی سے کرنا درست نہیں ہے بلکہ اس کا بغیر تحریف و تعطیل اور بنا تکییف و تمثیل کے اللہ عز وجل کے لیے اثبات کرنا واجب ہے تاہم اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ شفقت و رحمت صفتِ بشاشت کے لوازمات میں سے ہیں۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6336

 
 
Hadith   1286   الحديث
الأهمية: إن الله قال: من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب، وما تقرب إلي عبدي بشيء أحب إلي مما افترضت عليه، وما يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه


Tema:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس شخص نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میرا اس کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ اور میرا بندہ جن چیزوں سے مجھ سے قریب ہوتا ہے ان میں سب سے محبوب وہ چیزیں ہیں جو میں نے اس پر فرض قراردی ہیں۔ اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إنَّ اللهَ قال: مَن عادى لي وليًّا فقد آذنتُه بالحرب، وما تقرَّب إليَّ عبدي بشيء أحب إليَّ مما افترضتُ عليه، وما يزال عبدي يتقرَّب إليَّ بالنوافل حتى أحبَّه، فإذا أحببتُه: كنتُ سمعَه الذي يسمع به، وبصرَه الذي يُبصر به، ويدَه التي يبطش بها، ورجلَه التي يمشي بها، وإن سألني لأعطينَّه، ولئن استعاذني لأُعيذنَّه، وما تردَّدتُ عن شيء أنا فاعلُه تردُّدي عن نفس المؤمن، يكره الموتَ وأنا أكره مساءتَه».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس شخص نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میرا اس کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ اور میرا بندہ جن چیزوں سے مجھ سے قریب ہوتا ہے ان میں سب سے محبوب وہ چیزیں ہیں جو میں نے اس پر فرض قراردی ہیں۔ اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ اور جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو پھر (اس کے نتیجے میں) مَیں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پیر بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے کسی چیز کا سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں، اور اگر وہ کسی چیز سے میری پناہ چاہتا ہے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں اور کسی چیز کے کرنے میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا تردد مومن کی روح قبض کرنے پر ہوتا ہے جو موت کو ناپسند کرتا ہے اور مجھے اسے غمگین کرنا نا پسند ہوتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قوله -تعالى-: «من عادى لي وليًّا، فقد آذنته بالحرب» يعني: من آذى وليًّا لله تعالى -وهو المؤمن التقي المتبع لشرع الله تعالى- واتخذه عدوًّا، فقد أعلمته بأني محارب له، حيث كان محاربًا لي بمعاداة أوليائي.
وقوله: «وما تقرَّب إليَّ عبدي بشيء أحب إليَّ مما افترضتُ عليه، وما يزال عبدي يتقرَّب إليَّ بالنوافل حتى أحبَّه» : لما ذكر أن معاداة أوليائه محاربة له، ذكر بعد ذلك وصف أوليائه الذين تحرم معاداتهم، وتجب موالاتهم، فذكر ما يُتقرَّب به إليه، وأصل الولاية القرب، وأصل العداوة البعد، فأولياء الله هم الذين يتقربون إليه بما يُقرِّبهم منه، وأعداؤه الذين أبعدهم عنه بأعمالهم المقتضية لطردهم وإبعادهم منه، فقسَّم أولياءه المقرَّبين قسمين: أحدهما: مَن تقرب إليه بأداء الفرائض، ويشمل ذلك فعل الواجبات، وترك المحرَّمات؛ لأن ذلك كله من فرائض الله التي افترضها على عباده. والثاني: مَن تقرَّب إليه بعد الفرائض بالنوافل، وإذا أدام العبد التقرُّب بالنوافل أفضي ذلك إلى أن يحبه الله.
قوله: «فإذا أحببتُه: كنتُ سمعَه الذي يسمع به، وبصرَه الذي يُبصر به، ويدَه التي يبطش بها، ورجلَه التي يمشي بها» والمراد بهذا الكلام: أن من اجتهد بالتقرُّب إلى الله بالفرائض، ثم بالنوافل، قرَّبه الله إليه، وكان مسدَّدًا له في هذه الأعضاء الأربعة؛ في السمع، يُسدِّده في سمعه فلا يسمع إلا ما يرضي الله، كذلك أيضًا بصره، فلا ينظر إلا إلى ما يحب الله النظر إليه، ولا ينظر إلى المحرم، ويده؛ فلا يعمل بيده إلَّا ما يرضي الله، وكذلك رجله؛ فلا يمشي إلَّا إلى ما يرضي الله؛ لأن الله يسدِّده، فلا يسعى إلَّا إلى ما فيه الخير، فهذا هو المراد بقوله: «كنت سمعه الذي يسمع به، وبصره الذي يبصر به، ويده التي يبطش بها، ورجله التي يمشي بها» وليس فيه حجة لأهل الحلول والاتحاد الذين يقولون: إن الرب حَلَّ في العبد أو اتحد به، تعالى الله عن ذلك علوًّا كبيرا؛ فإن هذا كفر عياذًا بالله، والله ورسوله بريئان منه.
قوله: «وإن سألني لأعطينَّه، ولئن استعاذني لأُعيذنَّه» يعني أن هذا المحبوب المقرَّب إلى الله، له عند الله منزلة خاصة تقتضي أنه إذا سأل الله شيئًا، أعطاه إياه، وإن استعاذ به من شيء، أعاذه منه، وإن دعاه، أجابه، فيصير مجاب الدعوة لكرامته على الله -عز وجل-.
وقوله: «وما تردَّدتُ عن شيء أنا فاعلُه تردُّدي عن نفس المؤمن، يكره الموتَ وأنا أكره مساءتَه» المراد بهذا أن الله تعالى قضى على عباده بالموت، كما قال تعالى: {كل نفس ذائقة الموت} والموت هو مفارقة الروح للجسد، ولا يحصل ذلك إلا بألم عظيم جدًّا، فلما كان الموت بهذه الشدة، والله تعالى قد حتمه على عباده كلهم، ولا بد لهم منه، وهو -تعالى- يكره أذى المؤمن ومساءته، سُمِّي ذلك تردَّدًا في حق المؤمن.
قال الشيخ ابن باز -رحمه الله-:
والتردد وصف يليق بالله -تعالى- لا يعلم كيفيته إلا هو سبحانه وليس كترددنا، والتردد المنسوب لله لا يشابه تردد المخلوقين بل هو تردد يليق به سبحانه كسائر صفاته -جل وعلا-.
575;للہ تعالیٰ کا فرمان ہے:”جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی مول لی اس کے خلاف میرا اعلان جنگ ہے“ یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کے کسی ولی یعنی مومن و متقی اور اللہ کی شریعت کے پابند شخص کو تکلیف دی اور اس سے دشمنی کی، اسے میں بتاتا ہوں کہ میں اس سے جنگ کرنے والا ہوں کیونکہ میرے اولیا سے دشمنی کر کے اس نے مجھ سے جنگ مول لی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور میں نے جو چیزیں بندے پر فرض کی ہیں ان سے زیادہ مجھے کوئی چیز محبوب نہیں ہے جس سے وہ میرا قرب حاصل کرے۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتی کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں“ جب اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا کہ اس کے اولیاء سے دشمنی اس کے ساتھ جنگ ہے تو اس کے بعد اپنے ان اولیاء کا حال بیان کیا جن کے ساتھ دشمنی کرنا حرام ہے اور جن سے دوستی رکھنا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو بیان کیا جس سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ ولایت کی حقیقت قرب ہے اور دشمنی کی حقیقت دوری ہے۔ اللہ کے اولیاء وہ ہیں جو ان باتوں کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں جو انہیں اللہ کے قریب کرتی ہیں اور اللہ کے دشمن وہ لوگ ہیں جنہیں وہ ان کے ایسے اعمال کی وجہ سے اپنے آپ سے دور کر دیتا ہے جن کا تقاضا ہی یہ ہوتا ہے کہ انہیں دھتکار دیا جائے اور اللہ سے دور کر دیا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب اولیاء کی دو اقسام بیان کیں:
پہلی قسم: جو فرائض ادا کر کے اس کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ اس میں واجبات کو بجا لانا اور حرام امور کو چھوڑ دینا بھی شامل ہے۔کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے ان فرائض میں سے ہیں جنہیں اس نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے۔
دوسری قسم: جو فرائض کے بعد نوافل کے ساتھ اس کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ اور جب بندہ مسلسل نوافل کے ذریعے قرب حاصل کرتا رہتا ہے تو اس کے نتیجے میں اللہ اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو پھر (اس کے نتیجے میں) میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پیر بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے“ اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص فرائض کے ذریعے اور بعد ازاں نوافل کے ساتھ اللہ کی قربت حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے اسے اللہ اپنی قربت عطا کرتا ہے اور اس کے ان چاروں اعضاء کو راستگی پر لگا دیتا ہے۔ اس کی سماعت کو درست کر دیتا ہے چنانچہ وہ وہی کچھ سنتا ہے جس سے اللہ راضی ہوتا ہے، اسی طرح اس کی بصارت کو بھی درست کر دیتا ہے چنانچہ وہ صرف اسی شے کی طرف دیکھتا ہے جس کی طرف دیکھنا اللہ کو پسند ہوتا ہے اور حرام کی طرف نہیں دیکھتا۔ اسی طرح اس کے ہاتھ کو بھی راستگی پر لگا دیتا ہے بایں طور کہ وہ شخص اپنے ہاتھ سے وہی کام کرتا ہے جس میں اللہ کی خوشنودی ہوتی ہے۔ اسی طرح اس کے پاؤں کو بھی راست رو کر دیتا ہے چنانچہ وہ اسی شے کی طرف چل کر جاتا ہے جس میں اللہ کی رضا ہوتی ہے۔ چونکہ اللہ نے اسے راست روی دی ہوتی ہے اس لیے وہ صرف اسی کام میں لگتا ہے جس میں خیر ہوتی ہے۔ اللہ تعالی کے اس قول سے یہی مراد ہے کہ: ”میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پیر بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے“۔
اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے کوئی حجت نہیں جو حلول اور اتحاد کے قائل ہیں۔ جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے بندے میں حلول کر لیا ہے یا اس کے ساتھ اس کا اتحاد ہو گیا ہے۔ اللہ تعالی ان باتوں سے بہت ہی بلند و بالا تر ہے۔ یہ تو کفر ہے۔ العیاذ باللہ۔ اوراللہ اوراس کے رسول اس سے بری ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اگر وہ مجھ سے کسی چیز کا سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں اور اگر وہ کسی چیز سے میری پناہ چاہتا ہے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں“ یعنی اللہ کے اس محبوب و مقرَّب بندے کا اللہ کے ہاں خاص مقام ہے جو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اگر وہ اللہ سے کچھ مانگے تو اللہ اسے وہ شے دے اور اگر وہ کسی شے سے اللہ کی پناہ چاہے تو وہ اسے پناہ دے اور اگر اس سے دعا کرے تو وہ اس کی دعا کو قبول کرے۔ چنانچہ یہ شخص اللہ کی بارگاہ میں صاحب عزت ہونے کی وجہ سے مستجاب الدعوات ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور کسی چیز کے کرنے میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا تردد مومن کی روح قبض کرنے پر ہوتا ہے جو موت کو ناپسند کرتا ہے اور مجھے اسے غمگین کرنا ناپسند ہوتا ہے“ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو موت دینے کا حتمی فیصلہ کر رکھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾ ”ہر جاندارکو موت کا ذائقہ چکھنا ہے“، موت روح کے جسم کو چھوڑ جانے کا نام ہے اور ایسا بہت تکلیف کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب موت اتنی سخت چیز ہے اور اللہ نے اسے اپنے تمام بندوں کے لیے حتمی کر رکھا ہے اور ان پر اس کے آئے بغیر چارہ نہیں اور اللہ کو مومن کو تکلیف دینا اور اس کا دل دکھانا ناپسند ہے اس لیے اسے مومن کے حق میں تردد کا نام دیا گیا۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں: تردد اللہ کے شایان شان ایک صفت ہے جس کی کیفیت معلوم نہیں ہو سکتی۔ تاہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا تردد ہمارے تردد کی طرح نہیں۔ اللہ کی طرف منسوب تردد انسانوں کے تردد سے مشابہ نہیں ہے بلکہ وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے شایان شان تردد ہے جیسا کہ اس کی باقی تمام صفات ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6337

 
 
Hadith   1287   الحديث
الأهمية: لما صور الله آدم في الجنة تركه ما شاء الله أن يتركه، فجعل إبليس يطيف به، ينظر ما هو، فلما رآه أجوف عرف أنه خلق خلقا لا يتمالك


Tema:

جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت بنا لی، تو اپنی مشیت کے بقدر ان (کے جسد) کو وہاں رکھا۔ ابلیس اس کے اردگرد گھوم کر دیکھنے لگا کہ وہ کیسا ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ (جسم) اندر سے کھوکھلا ہے تو اس نے جان لیا کہ اسے اس طرح پیدا کیا گیا کہ یہ خود پر قابو نہیں رکھ سکتا۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «لما صوَّرَ اللهُ آدمَ في الجنة تركه ما شاء الله أن يتركه، فجعل إبليسُ يُطيفُ به، ينظر ما هو، فلما رآه أجوفَ عَرف أنه خُلِقَ خَلْقًا لا يَتَمالَك».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت بنا لی، تو اپنی مشیت کے بقدر ان (کے جسد) کو وہاں رکھا۔ ابلیس اس کے اردگرد گھوم کر دیکھنے لگا کہ وہ کیسا ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ (جسم) اندر سے کھوکھلا ہے تو اس نے جان لیا کہ اسے اس طرح پیدا کیا گیا کہ یہ خود پر قابو نہیں رکھ سکتا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لما خلق الله آدم في الجنة وشكَّل صورته، تركه مدة لم ينفخ فيه الروح، فجعل إبليس يدور حوله، وينظر إليه؛ ليعرف ما هو هذا الشيء، فلما رأى داخله خاليًا، وله جوف، عرف أنه مخلوق ضعيف لا يملك دفع الوسوسة عنه، أو علم أنه يؤتى من قِبَل جوفه بالذنب؛ فإنه أُتي من الأكل من الشجرة، أو كان قد عَلم أن الخلق المجوَّف ضعيف. وقد استشكل بعض الناس قوله: «في الجنة» مع ما ورد من أنه تعالى خلق آدم من أجزاء الأرض، وأُجيب بأنه يحتمل أنه تُرِك كذلك حتى مرَّت عليه الأطوار واستعدَّت صورته لقبول نفخ الروح فيها، ثم حُمِلت إلى الجنة ونُفِخ روحه فيها.
580;ب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جنت میں پیدا کیا اور ان کی شکل بنائی، تو انہیں کچھ عرصہ ایسا ہی چھوڑے رکھا، اس میں روح نہیں پھونکی۔ ابلیس ان کے گرد گھومنے لگا اور دیکھتا رہا تاکہ یہ معلوم کرے کہ یہ کیا چیز ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ یہ اندر سے خالی ہے اور درمیان سے کھوکھلی ہے، تو وہ جان گیا کہ یہ کمزور مخلوق ہے اور اپنے آپ سے وسوسے دور نہیں کرسکتا یا یہ جان لیا کہ یہ پیٹ کی طرف سے گناہ کرسکتا ہے، تو اس نے اسے درخت کھانے پر لگا دیا یا اسے علم ہوا کہ اندر سے خالی مخلوق کمزور ہوتی ہے۔ یہاں بعض لوگ ”في الجنة“ کے الفاظ پر اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تو آدم علیہ السلام کو زمین کے اجزاء سے پیدا کیا ہے (وہ جنت میں کیسے پہنچ گئے؟!)۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں یہ احتمال ہے کہ انہیں ایسا چھوڑا گیا، جب کچھ عرصہ ایسا ہی گزرا اور روح پھونکنے کے لیے شکل تیار کی گئی، پھر انہیں جنت لے جا کر روح پھونکی گئی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6338

 
 
Hadith   1288   الحديث
الأهمية: اثنتان في الناس هما بهم كفر: الطعن في النسب، والنياحة على الميت


Tema:

لوگوں میں دو چیزیں کفر ہیں: نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال، قال: رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «اثنتان في الناس هما بهم كفر: الطعن في النسب، والنياحة على الميت».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو چیزیں لوگوں میں ایسی ہیں جو ان کے کفر کا باعث ہیں: نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أنه سيستمر في الناس خصلتان من خصال الكفر، لا يسلم منهما إلا من سلَّمه الله -تعالى-.
الأولى: عيب الأنساب وتنقصها.
الثانية: رفع الصوت عند المصيبة تسخطاً على القدر.
وهذا كفر أصغر، وليس من قام به شعبةٌ من شعب الكفر يكون كافرا الكفر المخرج من الملة حتى يقوم به حقيقة الكفر الأكبر.
606;بی ﷺ بتا رہے ہیں کہ لوگوں میں کفر کی خصلتوں میں سے دو خصلتیں باقی رہیں گی۔ ان سے صرف وہی بچے گا جسے اللہ تعالی محفوظ رکھے۔
اول: نسبوں میں عیب جوئی کرنا اور نقص نکالنا۔
دوم: کسی مصیبت کے آنے پر تقدیر پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے زور زور سے چیخنا۔
یہ کفر اصغر ہے۔ اور جس شخص میں کفر کے شعبوں میں سے کوئی شعبہ پایا جائے وہ ایسا کافر نہیں ہو جاتا جو اسے ملت اسلام ہی سے خارج کردے، جب تک کہ اس کے اندر کفر اکبر کی حقیقت نہ پائی جائے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6361

 
 
Hadith   1289   الحديث
الأهمية: انزعها فإنها لا تزيدك إلا وهنا، فإنك لو مت وهي عليك ما أفلحت أبدا


Tema:

اسے اتار دو، کیوں کہ یہ تمہاری کمزوری میں اضافہ ہی کرے گا۔ اگر اسے پہنے ہوئے تم مر گئے تو کبھی فلاح یاب نہیں ہوگے۔

عن عمران بن حصين -رضي الله عنه- "أن النبي -صلى الله عليه وسلم- رأى رجلا في يده حَلْقَةٌ من صُفْرٍ، فقال: ما هذا؟ قال من الوَاهِنَةِ، فقال: انزعها فإنها لا تَزيدك إلا وَهْنًا؛ فإنك لو مُتَّ وهي عليك ما أفلحت أبدًا".

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے ہاتھ میں پیتل کا ایک چھلہ پہن رکھا تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اس نے اسے مرض کی وجہ سے پہن رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اتار دو، کیوں کہ یہ تمہاری کمزوری میں اضافہ ہی کرے گا۔ اگر اسے پہنے ہوئے تم مر گئے تو کبھی فلاح یاب نہیں ہوگے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يذكر لنا عمران بن حصين -رضي الله عنهما- موقفًا من مواقف رسول الله -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- في محاربة الشرك وتخليص الناس منه، ذلك الموقفُ: أنه أبصر رجلا لابسًا حلقة مصنوعة من النحاس الأصفر، فسأله عن الحامل له على لبسها؟ فأجاب الرجل أنه لبسها لتعصِمه من الألم، فأمر بالمبادرة بطرحها، وأخبره أنها لا تنفعه بل تضره، وأنها تزيد الداء الذي لبست من أجله، وأعظم من ذلك لو استمرتْ عليه إلى الوفاة حُرم الفلاح في الآخرة أيضا.
593;مران بن حصین رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے شرک کا مقابلہ کرنے اور لوگوں کو اس سے نجات دلانے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے ایک طرز عمل کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس نے پیتل کا ایک کڑا پہن رکھا تھا۔ آپ ﷺ نے اس سے دریافت کیا کہ اسے کس بات نے اس کے پہننے پر آمادہ کیا؟ اس آدمی نے جواب دیا کہ اس نے اسے اس لئے پہن رکھا ہے تا کہ وہ اسے درد سے محفوظ رکھے۔ آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ فوراسے اتار پھینکے اور اسے بتایا کہ یہ اس کے لئے فائدہ مند نہیں بلکہ نقصان دہ ہے اور یہ اس بیماری کو اور زیادہ بڑھائے گا جس کے لیے اسے پہنا گیا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اگر مرنے کے وقت تک اس نے اسے پہنے رکھا تو وہ آخرت کی فلاح سے بھی محروم ہو جائے گا۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6362

 
 
Hadith   1290   الحديث
الأهمية: دَخَلتُ أنا وأبي علَى أبي بَرزَة الأسلمي، فقال له أبي: كيف كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يصلي المَكْتُوبَة؟


Tema:

میں اور میرے والد دونوں ابو بَرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو میرے والد نے ان سے پوچھا کہ نبی ﷺ فرض نماز کیسے (یعنی کب) پڑھتے تھے؟

عن أبي المنهال سيار بن سلامة قال: (دَخَلتُ أنا وأبي علَى أبي بَرزَة الأسلمي، فقال له أبي: كيف كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يصلي المَكْتُوبَة؟ فقال: كان يُصَلِّي الهَجِير -التي تدعونها الأولى- حِينَ تَدحَضُ الشَّمسُ. ويُصَلِّي العَصرَ ثم يَرجِعُ أَحَدُنَا إلى رَحلِه في أَقصَى المدينة والشَّمسُ حَيَّة، ونَسِيتُ ما قال في المَغرب. وكان يَسْتَحِبُّ أن يُؤَخِّر من العِشَاء التي تَدعُونَها العَتَمَة، وكان يَكرَه النَّوم قَبلَهَا، والحديث بَعدَها. وكان يَنْفَتِلُ من صَلَاة الغَدَاة حِين يَعرِفُ الرَّجُل جَلِيسَه، وكان يَقرَأ بِالسِتِّين إلى المائة).

ابو منھال سیار بن سلامہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: میں اور میرے والد دونوں ابوبَرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو میرے والد نے ان سے پوچھا کہ نبی ﷺ فرض نماز کیسے (یعنی کب) پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا : آپ ﷺ ظہر جسے تم لوگ پہلی نماز کہتے ہو اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا، اور آپ ﷺ عصر پڑھتے تھے پھر ہم میں سے ایک آدمی (نماز پڑھ کر) مدینہ کے آخری کونے پر واقع اپنے گھر کو لوٹ آتا اور سورج تیز رہتا، اور انہوں نے مغرب کے بارے میں جو کہا میں (اسے) بھول گیا، اور کہا کہ آپ ﷺ عشاء جسے تم لوگ عتمہ کہتے ہوتا خیر سے پڑھنے کو پسند کرتے تھے، اور اس سے قبل سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے، اور آپ ﷺ فجر سے اس وقت فارغ ہوتے جب آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا، آپ ﷺ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكر أبو برزة -رضي الله عنه- أوقات الصلاة المكتوبة، فابتدأ بأنه كان -صلى الله عليه وسلم- يصلى صلاة الظهر، حين تزول الشمس أي تميل عن وسط السماء إلى جهة المغرب، وهذا أول وقتها.
ويصلى العصر، ثم يرجع أحد المصلين إلى منزله في أبعد مكان بالمدينة والشمس ما تزال حية، وهذا أول وقتها.
أما المغرب فقد نسي الراوي ما ورد فيها، ودلت النصوص والإجماع على أن دخول وقتها بغروب الشمس.
وكان -صلى الله عليه وسلم- يستحب أن يؤخر العشاء، لأن وقتها الفاضل هو أن تصلى في آخر وقتها المختار، وكان يكره النوم قبلها خشية أن يؤخرها عن وقتها المختار أو يفوت الجماعة فيها، ومخافة الاستغراق في النوم وترك صلاة الليل وكان يكره الحديث بعدها خشية التأخر عن صلاة الفجر في وقتها، أو عن صلاتها جماعة. كما ينصرف من صلاة الفجر، والرجل يعرف من جلس بجانبه، مع أنه يقرأ في صلاتها من ستين آية إلى المائة، مما دل على أنه كان يصليها بغلس.
575;بو بَرزہ رضی اللہ عنہ نے فرض نمازوں کے اوقات کا ذکر فرمایا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ نبی ﷺ زوالِ شمس کے بعد ظہر کی نماز پڑھتے تھے۔ یعنی جب سورج بیچ آسمان سے مغرب کی طرف مائل ہو جاتا۔ یہ ظہرکا اوّل وقت ہے۔
اور عصرکی نماز ایسے وقت میں پڑھتے کہ نماز سے فارغ ہوکر کوئی نمازی مدینے سے کافی دور پر واقع اپنے گھر کو لوٹ آتا اور سورج میں تپش باقی رہتی۔ یہ عصر کا اوّل وقت ہے۔
رہا مغرب کا وقت تو مذکورہ روایت کے راوی مغرب کا وقت بھول گئے۔ شریعت کے نصوص اور اجماع اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مغرب کا وقت غروبِ شمس سے شروع ہوتا ہے۔
آپ ﷺ عشا کو تاخیر سے پڑھنا پسند کرتے تھے؛ کیوں کہ عشا کا افضل وقت اسے اس کا آخری مختار وقت ہے۔
اور آپ ﷺ عشا سے قبل سونے کو ناپسند کرتے تھے؛ اس ڈر سے کہ کہیں بہتر وقت سے مؤخر نہ ہوجائے، سونے کی وجہ سے جماعت فوت نہ ہو جائے یا نیند میں استغراق کی وجہ سے رات کی نماز نہ چھوٹ جائے۔ اور عشا کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے کہ کہیں نمازِ فجر اپنے وقت سے مؤخر نہ ہو جائے یا جماعت نہ چھوٹ جائے۔
اور آپ ﷺ جب فجر کی نماز سے فارغ ہوتے، تو آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا، باوجودیکہ آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ اسے غلس یعنی اندھیرے میں پڑھتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6365

 
 
Hadith   1291   الحديث
الأهمية: أَيُّكُم خَلَفَ الخَارِجَ في أهْلِه وماله بخَير كان له مِثل نِصَفِ أَجْر الخَارجِ


Tema:

تم میں سے جو شخص جہاد پر جانے والے کے اہل خانہ اور اس کے مال میں بھلائی کے ساتھ اس کی جانشینی کرے گا اس کو جہاد میں جانے والے کا نصف اجر ملے گا۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بَعَث إلى بني لَحْيَان، فقال: «لَيَنْبَعِث مِن كُلِّ رَجُلَين أَحَدُهُما، والأجرُ بَينَهُمَا».
وفي رواية: «لَيَخْرُجَ مِنْ كُلِّ رَجُلَين رَجُل» ثم قال للقاعد: «أَيُّكُم خَلَفَ الخَارِجَ في أهْلِه وماله بخَير كان له مِثل نِصَفِ أَجْر الخَارجِ».

ابو سعيد خدري رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی لحیان کی طرف لشکر بھیجنے کا ارادہ کیا تو فرمایا: ”ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی جہاد کے لئے نکلے اور اجر ان دونوں کے مابین مشترک ہو گا“۔
ایک اور روایت میں ہے: ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی (جہاد کے لئے) نکلے، پھر آپ ﷺ نے بیٹھنے والے کے لیے فرمایا: تم میں سے جو شخص جہاد پر جانے والے کے اہل خانہ اور اس کے مال میں بھلائی کے ساتھ اس کی جانشینی کرے گا اس کو جہاد میں جانے والے کا نصف اجر ملے گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء في حديث أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أراد أن يبعث جيشاً إلى بني لحيان، وهم من أشهر بطون هذيل.
واتفق العلماء على أن بني لحيان كانوا في ذلك الوقت كفاراً، فبعث إليهم بعثاً يغزوهم (فقال) لذلك الجيش: (لينبعث من كل رجلين أحدهما)، مراده من كل قبيلة نصف عددها، (والأجر) أي: مجموع الحاصل للغازي والخالف له بخير (بينهما)، فهو بمعنى قوله في الحديث قبله: «ومن خلف غازياً فقد غزا»، وفي حديث مسلم: «أيكم خلَّف الخارج في أهله وماله بخير كان له مثل نصف أجر الخارج»، بمعنى أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أمرهم أن يخرج منهم واحد، ويبقى واحد يخلف الغازي في أهله ويكون له نصف أجره؛ لأنَّ النصف الثاني للغازي.
575;بو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی لحیان کی طرف لشکر بھیجنے کا ارادہ فرمایا جو کہ قبیلہ ہذیل کی مشہور شاخوں میں سے ہے۔
علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بنی لحیان اس وقت کافر تھے،آپ ﷺ نے ان سے جہاد کرنے کے لئے ان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا اور اس لشکر والوں سے فرمایا: ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی جہاد پر جانے کے لئے اٹھے۔ آپ ﷺ کی مراد ہر قبیلے سے اس کی نصف تعداد تھی، (والأجر) یعنی مجموعی اجر مجاہد اور بھلائی کے ساتھ اس کی جانشینی کرنے والے کے مابین مشترک ہو گا۔ اس کا مفہوم وہی ہے جو پچھلی حدیث کا ہے کہ جس نے كسی مجاہد کا اس کے گھر میں بھلائی کے ساتھ جانشین بنا یقیناً اس نے (بھی) جہاد کیا۔ اور صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے: تم میں سے جو شخص جہاد پر جانے والے کے اہل خانہ اور اس کے مال میں بھلائی کے ساتھ اس کی جانشینی کرے گا اس کو جہاد میں جانے والے کا نصف اجر ملے گا۔ مطلب یہ کہ نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ان میں سے ایک آدمی جہاد کے لئے نکلے اور ایک جہاد پر جانے والے کے اہل و عیال کی نگہبانی اور دیکھ بھال کرے اور اس کے لئے اس کا آدھا اجر ہو گا۔کیونکہ بقیہ آدھا جہاد پر جانے والے کو ملے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6366

 
 
Hadith   1292   الحديث
الأهمية: النَّاسُ مَعَادِن كَمَعَادِن الذَّهَب وَالفِضَّة، خِيَارُهُم فِي الجَاهِلِيَّة خِيَارُهُم فِي الإِسْلاَم إِذَا فَقُهُوا، والأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَة، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ


Tema:

انسان، کانوں کی طرح ہیں جیسے سونا اور چاندی کی کانیں ہوتی ہیں، جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہتر اور اچھی صفات کے مالک تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات والے ہیں بشرطیکہ وہ دین کا علم بھی حاصل کریں۔ روحوں کے جھنڈ کے جھنڈ الگ الگ تھے۔ پھر وہاں جن روحوں میں آپس میں پہچان تھی، ان میں یہاں بھی محبت ہوتی ہے اور جو وہاں غیر تھیں یہاں بھی وہ ایک دوسرے سے نا آشنا رہتی ہیں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «النَّاسُ مَعَادِن كَمَعَادِن الذَّهَب وَالفِضَّة، خِيَارُهُم فِي الجَاهِلِيَّة خِيَارُهُم فِي الإِسْلاَم إِذَا فَقُهُوا، والأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَة، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ».
وعن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم:
«تَجِدُون النَّاسَ مَعَادِن: خِيَارُهُم فِي الجَاهِليَّة خِيَارُهُم فِي الإِسْلاَم إِذَا فَقِهُوا، وَتَجِدُون خِيَار النَّاس فِي هَذَا الشَّأْن أَشَدُّهُم كَرَاهِيَة لَه، وَتَجِدُون شَرَّ النَّاس ذَا الوَجْهَين، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَء بِوَجه، وَهَؤُلاَء بِوَجْه».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ”انسان کانوں کی طرح ہیں جیسے سونا اور چاندی کی کانیں ہوتی ہیں، جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہتر اور اچھی صفات کے مالک تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات والے ہیں بشرطیکہ وہ دین کا علم بھی حاصل کریں۔ روحوں کے جھنڈ کے جھنڈ الگ الگ تھے۔ پھر وہاں جن روحوں میں آپس میں پہچان تھی، ان میں یہاں بھی محبت ہوتی ہے اور جو وہاں غیر تھیں یہاں بھی وہ ایک دوسرے ناآشنا رہتی ہیں“۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم انسانوں کو کان کی طرح پاؤ گے، جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہتر اور اچھی صفات کے مالک تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات والے ہیں بشرطیکہ وہ دین کا علم بھی حاصل کریں۔ اور تم حکومت اور سرداری کے لائق اس کو پاؤ گے جو حکومت اور سرداری کو بہت ناپسند کرتا ہو، اور آدمیوں میں سب سے برا اس کو پاؤ گے جو دورخہ (دوغلا) ہو، جو کچھ لوگوں کے سامنے ایک رخ سے آتا ہے اور دوسروں کے سامنے دوسرے رخ سے جاتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تشبيه رسول الله -صلى الله عليه وسلم- للناس بالمعادن فيه الإشارة إلى عدة دلالات منها: اختلاف طباع الناس وصفاتهم الخُلقية والنفسية، ويُفهم هذا من تفاوت المعادن، ومنها الإشارة إلى تفاوت الناس في تقبلهم للإصلاح، فمنهم السهل، ومنهم من يحتاج إلى صبر، ومنهم من لا يقبل كما هو حال المعادن، والتشبيه بالمعادن فيه الإشارة أيضًا إلى تفاوت الناس في كرم الأصل وخِسَّتِه، ويُفهم ذلك من تفاوت المعادن في نفاستها، فمنها الغالي كالذهب والفضة، ومنها الرخيص كالحديد والقصدير، والتشبيه بالمعادن فيه الإشارة إلى قوة التحمل كالمعادن، فمعادن العرب يعني أصولهم وأنسابهم.
وقوله: "خيارهم في الجاهلية خيارهم في الإسلام إذا فقهوا" يعني: أنَّ أكرم النَّاس من حيث النَّسَب والمعادن والأصول، هم الخيار في الجاهلية، لكن بشرط أن يفقهوا، فمثلاً بنو هاشم خيار قريش في الجاهلية  من حيث النسب والأصل، بنص الحديث الصحيح، وكذلك في الإسلام لكن بشرط أن يفقهوا في دين الله، وأن يتعلموا من دين الله، فان لم يكونوا فقهاء فانهم -وإن كانوا من خيار العرب معدناً- فإنَّهم ليسو أكرم الخلق عند الله، وليسوا خيار الخلق.
ففي هذا دليل على أنَّ الإنسان يَشْرفُ بنسبه، لكن بشرط أن يكون لديه فقه في دينه، ولا شك أنَّ النسب له أثر، ولهذا كان بنو هاشم أطيب الناس وأشرفهم نسبا،ً ومن ثم كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الذي هو أشرف الخلق (الله أعلم حيث يجعل رسالته)، فلولا أنَّ هذا البطن من بني آدم أشرف البطون، ما كان فيه النبي -صلى الله عليه وسلم-، فلا يُبعَث الرسول -صلى الله عليه وسلم- إلاَّ في أشرفِ البُطُون وأعلى الأنساب.
وهذه الجملة من الحديث اشترك فيها الحديثان.
والحديث الأول خُتِم بقوله -صلى الله عليه وسلم-: "والأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَة، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ" فيحتمل أن يكون في هذا الإشارة إلى معنى التشاكل في الخير والشرّ، فالخَيِّر يَحِنُّ إلى شكله والشرير إلى نظيره، فتعارف الأرواح بحسب الباعث التي جُبِلَت عليها من خير أو شر، فإذا اتفقت تعارفت وإن اختلفت تناكرت، ويحتمل أن يراد الإخبار عن بدء الخلق في حال الغيب على ما جاء: إنَّ الأرواح خُلِقَت قبل الأجسام فكانت تلتقي وتلتئم، فلمَّا حَلَّت بالأجسام تعارفت بالأمر الأول، فصار تعارفها وتناكُرُها على ما سبَق من العهد المتقدم، فتمِيل الأخيار إلى الأخيار والأشرار إلى الأشرار.
وقال ابن عبد السلام: المراد بالتعارف والتناكر التقارب في الصفات والتفاوت فيها؛ لأنَّ الشخص إذا خَالَفَتْكَ صفاته أنكَرته، والمجهول يُنكَر لِعَدم العِرفان، فهذا من مجاز التشبيه، شبَّه المنكر بالمجهول والملائم بالمعلوم.
والحديث الثاني خُتِم بقوله -صلى الله عليه وسلم-: "وَتَجِدُون خِيَار النَّاس فِي هَذَا الشَّأْن أَشَدُّهُم كَرَاهِيَة لَه، وَتَجِدُون شَرَّ النَّاس ذَا الوَجْهَين، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَء بِوَجه، وَهَؤُلاَء بِوَجْه".
ففي قوله: (وتجدون خيار الناس في هذا الشأن) أي: في الخلافة والإِمارة، أي: خير الناس في تعاطي الأحكام، من لم يكن حريصًا على الإِمارة، فإذا ولي سُدَّد ووفق، بخلاف الحريص عليها.
وأما شرُّ النَّاس فهو ذو الوجهين: هو الذي يأتي هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه، كما يفعل المنافقون: (وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ)، وهذا يوجد في كثير من الناس والعياذ بالله وهو شعبة من النفاق، تجده يأتي إليك يتمَلَّق ويُثنِي عليك وربما يغلو في ذلك الثناء، ولكنَّه إذا كان من ورائك عَقَرَك وذمَّك وشتَمَك وذكَر فيك ما ليس فيك، فهذا والعياذ بالله من كبائر الذنوب؛ لأنَّ النبي -صلى الله عليه وسلم- وصَف فاعله بأنَّه شرُّ الناس.
585;سول اللہ ﷺ کا لوگوں کو معادن (کانوں) سے تشبیہ دینے میں کئی دلالتوں کی طرف اشارہ موجود ہے، جن میں سے کچھ یہ ہیں کہ لوگوں کی طبیعتیں اور ان کی اخلاقی اور نفسیاتی خوبیاں مختلف قسم کی ہوتی ہیں اور اس بات کو کانوں (معادن) کے فرق سے سمجھا جاسکتا ہے نیز یہاں اس جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اصلاح و درستگی کو قبول کرنے میں لوگوں کے مابین فرق پایا جاتا ہے، چنانچہ بعض لوگ آسانی سے اصلاحی باتوں کو قبول کرلیتے ہیں جب کہ بعض کے تئیں صبر و تحمل کی ضرورت پیش آتی ہے اور بعض میں تو اصلاح کو قبول کرنے کا مادہ ہی نہیں ہوتا اور یہی حال کانوں کا ہوتا ہے، کانوں سے تشبیہ دینے میں اس پہلو پر بھی توجہ دلائی جارہی ہے کہ لوگ، اپنے نسب کے اشرف و افضل ہونے اور اس کے گھٹیا ہونے کے اعتبار سے بھی مختلف ہوتے ہیں اور یہ بات معادن کی نفاست و عمدگی کے فرق سے سمجھی جاسکتی ہے، چنانچہ بعض سونا اور چاندی جیسے قیمتی نوعیت کے حامل ہوتے ہیں اور بعض لوہا اور قلعی شدہ ٹین جیسے معمولی قیمت رکھتے ہیں۔ معادن سے تشبیہ دینے میں اس پہلو پرتوجہ مبذول کی جارہی ہے کہ معادن کی طرح لوگوں میں کسی امر کو اپنانے کی قوت بھی جداگانہ ہوتی ہے، پس عرب کے معادن سے مُراد ان کی اصل اور ان کےحسب و نسب ہیں۔ آپ ﷺ کا فرمان: ”جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہتر اور اچھی صفات کے مالک تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات والے ہیں بشرطیکہ وہ دین کا علم بھی حاصل کریں“ یعنی زمانۂ جاہلیت میں حسب و نسب، خاندان اور اصل کے نقطہ نظر سے سب سے زیادہ قابلِ عزت لوگ ہی بہتر اور اچھی صفات کے مالک ہیں بشرطیکہ وہ دین میں بھی خوب سمجھ بوجھ حاصل کریں، جیسے خاندانِ بنی ہاشم ، نسب اور اصل کے اعتبار سے زمانہ جاہلیت میں قریش کا سب سے زیادہ بہترین قبیلہ رہا جیسا کہ صحیح حدیث کی نص اس بات پر دلالت کرتی ہے، اسی طرح وہ اسلام میں بھی بدستور سب سے بہترین رہیں گے بشرطیکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کا تفقہ حاصل کریں اور اس دین کا علم حاصل کریں، اگر اُن میں دین کی سمجھ نہ ہو تو بہترین عربی النسل ہونے کے باوجود، اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی مکرم مخلوق کا درجہ نہیں پاسکتے اور نہ ہی بہترین مخلوق ہوسکتے ہیں۔
اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ انسان، اپنے نسب کی بنیاد پر اشرف و افضل اسی شرط پر ہوتا ہے کہ اس کو دین کی سوجھ بوچھ حاصل ہو، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ نسب کی بڑی تاثیر ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ نسب کے اعتبار سے بنوہاشم لوگوں میں سب سے زیادہ پاکیزہ اور شرف والی قوم تھی اور انھیں میں سے ساری مخلوق میں اشرف و افضل ذات گرامی، رسول اللہ ﷺ ﴿اللَّـهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ﴾ ”اس موقع کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ کہاں وه اپنی پیغمبری رکھے؟“ کی پیدائش ہوئی، اگر آدم علیہ السلام کی اولاد میں یہ قبیلہ سب سے زیادہ شرف کا حامل نہ ہوتا تو اس سے نبی ﷺ نہیں آتے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ کی بعثت، انتہائی شریف قبیلے اور اعلی ترین نسب ہی میں ہوئی۔
حدیث کے اس خلاصہ میں دونوں حدیثیں برابر کی شریک ہیں۔
پہلی حدیث کا اختتام آپ ﷺ کے فرمان: ”اور روحوں کے جھنڈ کے جھنڈ الگ الگ تھے۔ پھر وہاں جن روحوں میں آپس میں پہچان تھی، ان میں یہاں بھی محبت ہوتی ہے اور جو وہاں غیر تھیں، یہاں بھی وہ ایک دوسرے سے ناآشنا رہتی ہیں“ پر ہوتا ہے، اور احتمال ہے کہ اس میں یہ اشارہ ہوکہ لوگوں میں خیر و شر والی مختلف اشکال ہوتی ہيں ۔ لہذا بہترین قسم کے لوگ، اپنے جیسے بھلے لوگوں کی جانب متوجہ ہوتے ہیں اور شریر و اوباش قسم کے لوگ، اپنی ہی طرح کے شریر لوگوں کی طرف میلان رکھتے ہیں تو روحوں کی باہمی پہچان، خیر یا شر کے مطابق پیدا کردہ جبلی و فطری تقاضوں کے مطابق ہوتی ہے اور جب ان فطری تقاضوں میں اتفاق قائم ہو تو وہ ایک دوسرے سے متعارف ہوجاتے ہیں اور اگر ان کے فطری تقاضے مختلف ہوئے تو وہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوجاتے ہیں۔ اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ عالم غیب میں ہوئے ابتدائے آفرینش کے تئیں خبر ہو، کہ روحوں کو جسموں سے قبل پیدا کردیا گیا اور وہ ایک دوسرے سے ملتی جلتی رہیں اور جب انھیں اجسام میں ڈالا گیا تو اس پہلے تعارف کی بناء پر ان کے مابین تعارف ہوا اور عالم غیب کے اس گزرے ہوئے زمانہ کے مطابق، ان کے مابین ایک دوسرے کی پہچان اور علیحدگی قائم ہوئی اور اس طرح اچھے لوگ، اچھے افراد کی جانب اور برے، بروں کی جانب مائل ہوئے۔
ابن عبدالسلام کہتے ہیں کہ باہمی پہچان اور اختلاف سے مراد، لوگ اپنی صفات میں ایک دوسرے کی قربت یا تفاوت ہے کیونکہ اگر کسی شخص کی صفات، تم سے میل نہ کھاتی ہوں تو تم اس شخص سے نفرت کا معاملہ کروگے اور کسی انجان شخص سے عدمِ شناسائی کی بنا پر نفرت و ناپسندیدگی کے ساتھ پیش آیا جاتا ہے اور اس کا تعلق تشبیہِ مجازی سے ہے کہ جس میں ناپسندیدہ شخص کو ناشناسا شخص سے اور مانوس شخص کو ایک معروف و شناسا شخص سے تشبیہ دی گئی۔
دوسری حدیث کا اختتام، رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان پر ہوتا ہے کہ ”اور حکومت اور سرداری کے لائق اس کو پاؤ گے جو حکومت اور سرداری کو بہت ناپسند کرتا ہو، اور آدمیوں میں سب سے برا اس کو پاؤ گے جو دورخہ (دوغلا) ہو؛ جو کچھ لوگوں کے سامنے ایک رخ سے آتا ہو اور دوسروں کے سامنے دوسرے رخ سے جاتا ہو“، چنانچہ آپ ﷺ کے قول: (اس معاملے میں تم لوگوں میں سب سے بہتر پاؤگے ) یعنی خلافت اور سرداری میں مطلب احکام کی باہمی تعمیل میں سرگرداں رہنے والے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو سرداری کے لالچی و حریص نہیں ہوتے اور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں اگر اختیار و اقتدار آجائے تو انہیں راست روی کی رہنمائی اور اصلاحِ قوم کی توفیق میسر ہوتی ہے، جب کہ امارت و سرداری کی حرص و طمع رکھنے والے کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔
بُرے لوگ دو رخے و دوغلے ہوتے ہیں، جیسا کہ منافقین کا ایسا ہی طرز عمل ہوتا ہے، قرآن کہتا ہے ہے: ﴿وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ﴾ ”اور جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان والے ہیں اور جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں ہم تو ان سے صرف مذاق کرتے ہیں“۔ اور بیشتر افراد میں اس قسم کی بری عادات پائی جاتی ہیں، ایسےکردار سےاللہ تعالیٰ کی پناہ! کیوں کہ اس کا نفاق کے ایک شعبہ سے تعلق ہے۔ آپ ایسے شخص کو دیکھیں گے کہ وہ آپ کے پاس آکر چاپلوسی کرتا ہے اور آپ کی تعریفیں کرتا ہے اور بسااوقات اس تعریف میں مبالغہ آرائی سے بھی کام لیتا ہے، لیکن جب آپ کے پیٹھ پیچھے ہوتا ہے تو آپ کی کردار کشی کرتا ہے، آپ کی مذمت کرتا ہے، آپ کو گالی گلوچ دیتا ہے اورآپ کے بارے میں ایسی ایسی باتیں بیان کرتا ہے جو آپ میں نہیں ہوتیں۔ ایسے کردار سے اللہ تعالیٰ کی پناہ! یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے کیوں کہ نبی ﷺ نے اس کردار کے حامل کو لوگوں میں سب سے بدترانسان قرار دیا۔   --  [یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔]+ +[اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6367

 
 
Hadith   1293   الحديث
الأهمية: عليك السمع والطاعة في عسرك ويسرك، ومنشطك ومكرهك، وأثرة عليك


Tema:

تنگی اور آسانی، نشاط اور سستی اور دوسروں کو تم پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی تم امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا اپنے اوپر لازم کرلو۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «عليك السمع والطاعة في عُسْرِكَ ويُسرك، ومَنْشَطِكَ ومَكْرَهِكَ، وأثَرَة ٍعليك».

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تنگی اور آسانی، نشاط اور سستی اور دوسروں کو تم پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی تم امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا اپنے اوپر لازم کرلو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث أنه يجب على المسلم السمع والطاعة للحكام على كل حال، ما لم يُؤمر بمعصية أو يُكلف بما لا يطيق، ولو كان في ذلك مشقة عليه أحياناً، أو ضياع لبعض حقوقه، تقديما للمصلحة العامة على المصلحة الخاصة.
575;س حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ مسلمان پر ہر حال میں اپنے حاکموں کو سن کر ان کی اطاعت کرنا کرنا لازم ہے، جب تک وہ اسے گناہ کا حکم نہ دیں یا ایسی چیز کا مکلف نہ بنائیں جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو، اگرچہ یہ اس پر کسی وقت گراں گزرے یا اس کے کسی حق کے ضائع ہونے کے سبب بنے، اس لیے کہ عمومی مصلحت خصوصی مصلحت پر مقدم ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6368

 
 
Hadith   1294   الحديث
الأهمية: كنا إذا بايعنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- على السمع والطاعة، يقول لنا: فيما استطعتم


Tema:

ہم جب رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر سمع و طاعت کی بیعت کرتے تو آپ ﷺ فرماتے: جتنی تم میں استطاعت ہے اس کے بقدر۔

عن ابن عمر-رضي الله عنهما- قال: كنا إذا بايعنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- على السمع والطاعة، يقول لنا: «فيما استطعتم».

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ: ہم جب رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر سمع و طاعت کی بیعت کرتے تو آپ ﷺ فرماتے: جتنی تم میں استطاعت ہے اس کے بقدر۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر ابن عمر -رضي الله عنهما- أنهم إذا بايعوا النبي -صلى الله عليه وسلم- أمرهم بالسمع والطاعة، وقيد الطاعة بالاستطاعة، وأنه إذا كُلف المسلم بما لا يستطيع من ولي أمره فلا طاعة عليه، (لا يكلف الله نفسًا إلا وسعها).
575;بن عمر رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ جب وہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرتے تو آپ ﷺ انہیں سمع و طاعت کا حکم دیتے اور فرماں برداری کو استطاعت کے ساتھ مقید کر دیتے، کیوںکہ جب مسلمان پر ایسے کام کی ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے، جسے اٹھانے کی استطاعت اس میں نہیں ہوتی، تو اس صورت میں اطاعت کرنا اس پر واجب نہیں ہوتا۔ ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ ”اللہ کسی جان پر اس کی بساط سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا“

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6369

 
 
Hadith   1295   الحديث
الأهمية: على المرء المسلم السمع والطاعة فيما أحب وكره، إلا أن يُؤمر بمعصية، فإذا أُمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة


Tema:

بندہ مسلم پر لازم ہے کہ وہ (حکمران کی بات) سنے اور اطاعت کرے خواہ وہ بات اسے پسند ہو یا نا پسند الا یہ کہ اسے گناہ کا حکم دیا جائے۔ چنانچہ جب اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو پھر نہ سنے اور نہ اطاعت کرے

عن ابن عمر -رضي الله عنهما- مرفوعاً: «على المرء المسلم السمع والطاعة فيما أحب وكَرِهَ، إلا أن يُؤمر بمعصية، فإذا أُمِرَ بمعصية فلا سمع ولا طاعة».

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلم بندہ پر (حکمران کی بات) سننا اور ماننا لازم ہےخواہ وہ بات اسے پسند ہو یا نا پسند، الا یہ کہ اسے معصیت (گناہ) کا حکم دیا جائے۔ چنانچہ جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر نہ سنے اور نہ اطاعت کرے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث بيان وجوب السمع والطاعة للحاكم فيما يأمر به، سواء كان أمره مما نحب أو نكره، إلا أن نُؤمر بمعصية فإنه لا سمع ولا طاعة في هذه المعصية فقط.
575;س حدیث میں حکمران جن باتوں کا حکم دے اس میں اس کی سمع و طاعت کے وجوب کا بیان ہے چاہے اس کا حکم ہمیں پسند ہو یا ناپسند، ماسوا اس صورت کے کہ وہ کسی معصیت (گناہ کرنے) کا حکم دے۔ تو صرف اس معصیت (گناہ) کے سلسلے میں اس کی کوئی سمع و طاعت نہیں ہو گی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6370

 
 
Hadith   1296   الحديث
الأهمية: من أهان السلطان أهانه الله


Tema:

جو شخص بادشاہ کی توہین کرے گا تو اللہ تعالی اس شخص کو ذلیل کرے گا۔

عن أبي بكرة -رضي الله عنه- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «من أهان السلطان أهانه الله».

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ كو فرماتے ہوئے سنا:”جو شخص بادشاہ کی توہین کرے گا تو اللہ تعالی اس شخص کو ذلیل کرے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذ الحديث تحريم الاستخفاف بأوامر السلطان؛ لما يترتب عليه من الوعيد الشديد من إذلال الله له في الدنيا والآخرة، والجزاء من جنس العمل.
575;س حدیث میں بادشاہ کے احكامات کی تحقير و توہین كرنے کی حرمت آئی ہے، كيونکہ اس پر سخت وعید مترتب ہوتی ہے كہ اللہ تعالی ايسا كرنے والے كو دنیا وآخرت میں ذلت ورسوائى سے دوچار کرے گا، اور بدلہ عمل ہی کے جنس سے ملتا ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6371

 
 
Hadith   1297   الحديث
الأهمية: كنت مع أنس بن مالك -رضي الله عنه- عند نفر من المجوس؛ فجيء بفالوذج على إناء من فضة، فلم يأكله


Tema:

میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ مجوس کے چند افراد کے پاس (بیٹھا ہوا) تھا کہ اسی دوران چاندی کے ایک برتن میں فالودہ لایا گیا، تو آپ نے اسے تناول نہیں فرمایا۔

عن أنس بن سيرين، قال: كنت مع أنس بن مالك -رضي الله عنه- عند نفر من المجوس؛ فجيء بفَالُوذَجٍ على إناء من فضة، فلم يأكله، فقيل له: حوله، فحوله على إناء من خَلَنْجٍ وجيء به فأكله.

انس بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ مجوس کے چند افراد کے پاس (بیٹھا ہوا) تھا کہ اسی دوران چاندی کے ایک برتن میں فالودہ لایا گیا، تو آپ نے اسے تناول نہیں فرمایا، ان سے کہا گیا: اسے دوسرے برتن میں ڈلوا لیں، چناں چہ انہوں نے اسے لکڑی کے برتن میں ڈلوایا اور پھر آپ کے پاس لایا گیا اور آپ ﷺ نے اسے تناول فرمایا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان أنس بن مالك -رضي الله عنه- عند قوم من المجوس فجيء له بنوع من الحلوى اسمه الفالوذج على إناء من فضة فلم يأكله، فحولوه له على إناء من خشب فأكله.
575;نس بن مالک رضی اللہ عنہ مجوس کی ایک جماعت کے پاس تھے اسی دوران ان کے لئے چاندی کے ایک برتن میں ایک قسم کا حلوہ لایا گیا جس کا نام فالودہ ہے انہوں نے اسے تناول نہیں فرمایا۔ چنانچہ ان لوگوں نے اسے بدل کر لکڑی کے برتن میں اسے پیش کیا تو آپ ﷺ نے اسے تناول فرمایا۔   --  [اس حديث کی سند حَسَنْ ہے۔]+ +[اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6372

 
 
Hadith   1298   الحديث
الأهمية: نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يتزعفر الرجل


Tema:

نبی ﷺ نے مرد کو زعفران لگانے سے منع فرمایا۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال: نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يَتَزَعْفَرَ الرجلُ.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مرد کو زعفران لگانے سے منع فرمایا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يصبغ الرجل جسده أو ثيابه بالزعفران، وكان ذلك من طيب النساء، فنهي  الرجال عن ذلك منعًا من التشبه.
606;بی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ مرد اپنے جسم یا کپڑوں پر زعفران ملے۔ یہ عورتوں کے لگانے کی خوشبو تھی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں کی عورتوں سے مشابہت روکنے کے لیے اس سے منع فرما دیا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6373

 
 
Hadith   1299   الحديث
الأهمية: لا يتم بعد احتلام، ولا صمات يوم إلى الليل


Tema:

بلوغت کے بعد یتیمی نہیں رہتی اور نہ دن بھر رات کی آمد تک خاموش رہنا جائز ہے۔

عن علي بن أبي طالب -رضي الله عنه- مرفوعاً: «لاَ يُتْمَ بَعْدَ احْتِلاَمٍ، وَلاَ صُمَاتَ يوم إلى الليل».

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلوغت کے بعد یتیمی نہیں رہتی اور نہ دن بھر رات کے آنے تک خاموش رہنا جائز ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أولًا: لا يعتبر الشخص يتيمًا إذا بلغ.
ثانيًا: كانوا في الجاهلية يدينون لله -عز وجل- بالصمت، فيظل يومه ساكتًا ولا يتكلم حتى تغيب الشمس، فنهى المسلمون عن ذلك؛ لأن هذا يؤدي إلى ترك التسبيح والتهليل والتحميد والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر وقراءة القرآن وغير ذلك، وأيضا هو من فعل الجاهلية فلذلك نهي عنه.
662;ہلی بات: جب کوئی شخص بالغ ہوجائے تو اسے یتیم نہیں شمار کیا جائے گا۔
دوسری بات: زمانہ جاہلیت میں لوگ خاموش رہ کر اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ چنانچہ آدمی سارا دن چپ رہتا اور کوئی بات نہ کرتا یہاں تک کی سورج غروب ہوجاتا۔ مسلمانوں کو اس سے منع کیا گیا کیوں کہ اس سے تسبیح و تہلیل، تحمید، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور قرآن کی قراءت وغیرہ جیسے اعمال چھوٹ جاتے ہیں اور اس سے اس لئے بھی منع کیا گیا ہے کہ یہ زمانۂ جاہلیت کا ایک عمل ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6374

 
 
Hadith   1300   الحديث
الأهمية: دخل أبو بكر الصديق -رضي الله عنه- على امرأة من أحمس يقال لها: زينب، فرآها لا تتكلم


Tema:

ابوبکر رضی اللہ عنہ قبیلۂ احمس کی ایک عورت سے ملے، اس کا نام زینب تھا۔ آپ نے دیکھا کہ وہ بات ہی نہیں کرتی.

عن قيس بن أبي حازم، قال: دخل أبو بكر الصديق -رضي الله عنه- على امرأة من أَحْمَسَ يقال لها: زينب، فرآها لا تتكلم. فقال: ما لها لا تتكلم؟ فقالوا: حَجَّتْ مصمِتةً ، فقال لها: تكلمي، فإن هذا لا يحل، هذا من عمل الجاهلية، فتكلمت.

قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ قبیلۂ احمس کی ایک عورت سے ملے،اس کا نام زینب تھا۔ آپ نے دیکھا کہ وہ بات ہی نہیں کرتی۔ دریافت فرمایا: کیا بات ہے، یہ بات کیوں نہیں کرتی؟ لوگوں نے بتایا کہ مکمل خاموشی کے ساتھ حج کرنے کی منت مانی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: بات کرو؛ اس طرح حج کرنا تو جاہلیت کی رسم ہے۔ چنانچہ اس نے بات کی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دخل أبو بكر -رضي الله عنه- على امرأة من قبيلة أحمس اسمها زينب، فوجدها لا تتكلم، فسألهم: لماذا لا تتكلم، فقالوا: حجت ساكتة، فقال لها: تكلمي، فإن ترك الكلام بالكلية لا يجوز؛ فإنه كان من عبادات الجاهلية ثم حرمه الإسلام، ودخول الرجل على المرأة من غير ريبة ولا خلوة كما فعل الصديق -رضي الله عنه- جائز.
575;بوبکر رضی اللہ عنہ قبیلۂ احمس کی ایک عورت سے ملے، جس کا نام زینب تھا۔ آپ نے اسے پایا کہ وہ بات ہی نہیں کرتی، لوگوں سے دریافت فرمایا: یہ بات کیوں نہیں کرتی؟ لوگوں نے بتایا کہ مکمل خاموشی کے ساتھ حج کرنے کی منت مانی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: بات کرو؛ کیوں کہ مکمل گفتگو نہ کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ جاہلیت کی عبادتوں میں سے ہے۔ اسلام نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ عورت کے پاس شک وشبہ اور خلوت وتنہائی کے بغیر مرد کا آنا جائز ہے، جیسا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6375

 
 
Hadith   1301   الحديث
الأهمية: من ادعى إلى غير أبيه -وهو يعلم أنه غير أبيه-، فالجنة عليه حرام


Tema:

جو شخص اپنے آپ کو اپنے باپ کی بجائے کسی دوسرے شخص کی طرف منسوب کرے اور وہ یہ جانتا بھی ہو کہ یہ میرا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔

عن سعد بن أبي وقاص -رضي الله عنه- مرفوعاً: «من ادعى إلى غير أبيه -وهو يعلم أنه غير أبيه-، فالجنة عليه حرام».

سعد ابن وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”جو شخص اپنے آپ کو اپنے باپ کے بجائے کسی دوسرے شخص کی طرف منسوب کرے اور وہ یہ جانتا بھی ہو کہ یہ میرا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ورد الحديث لبيان التحذير من أمر كان يفعله أهل الجاهلية وهو الانتساب إلى غير الوالد، فالإنسان يجب عليه أن ينتسب إلى أهله أبيه جده و جد أبيه، وما أشبه ذلك ولا يحل له أن ينتسب إلى غير أبيه وهو يعلم أنه ليس بأبيه، فمثلًا إذا كان أبوه من القبيلة الفلانية ورأى أن هذه القبيلة فيها نقص عن القبيلة الأخرى فانتمى إلى قبيلة ثانية أعلى حسبًا لأجل أن يزيل عن نفسه عيب قبيلته فإن هذا متوعد بالحرمان من الجنة.
581;دیث میں اس کام کی ممانعت کا بیان ہے جسے زمانہ جاہلیت میں لوگ کیا کرتے تھے یعنی اپنے حقیقی باپ کے بجائے کسی اور کے ساتھ اپنا نسب جوڑ دینا۔ انسان پر واجب ہے کہ وہ اپنے اہلِ خاندان یعنی اپنے باپ، داد اور پردادا وغیرہ کی طرف نسبت کرے اور اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے حقیقی باپ کے بجائے کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے حالاں کہ اسے یہ بخوبی علم ہو کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے۔ مثلاً اس کا باپ فلاں قبیلہ سے تعلق رکھتا ہو اور وہ دیکھے کہ اس قبیلے میں دوسرے قبیلے کے مقابلے میں یہ نقص پایا جاتا ہے چنانچہ اس کی وجہ سے وہ دوسرے قبیلے کی طرف اپنی نسبت کر لے جو حسب کے اعتبار سے اعلی ہے تاکہ اپنے آپ سے اپنے قبیلے کے عیب کو دور کر سکے۔ ایسا کرنے والے شخص کے متعلق وعید ہے کہ وہ جنت سے محروم رہے گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6376

 
 
Hadith   1302   الحديث
الأهمية: لا ترغبوا عن آبائكم، فمن رغب عن أبيه، فهو كفر


Tema:

اپنے باپ سے منہ نہ پھیرو (یعنی اپنے نسب کا انکار نہ کرو)، جس نے اپنے باپ سے منہ پھیرا، اس نے کفر کیا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لا تَرْغَبُوا عن آبائكم، فمن رغب عن أبيه، فهو كفر».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے باپ سے منہ نہ پھیرو (یعنی اپنے نسب کا انکار نہ کرو)، جس نے اپنے باپ سے منہ پھیرا، اس نے کفر کیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من رَغِبَ عن نسب أبيه عالمًا مختارًا، فهو كفر أصغر، وليس المراد حقيقة الكفر، الذي يخلد صاحبه في النار، بل هو كفر دون كفر، وهذا تأكيد وتشديد لتحريم هذا الفعل وتقبيحه.
580;و شخص جان بوجھ کر حقیقی باپ سے اپنے نسب کا انکار کرتا ہے، وہ کفر اصغر کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس سے مراد حقیقی کفر نہیں ہے، جس کا مرتکب ہمیشہ دوزخ میں رہے گا؛ بلکہ یہ حقیقی کفر سے فروتر کفر ہے۔ اس پیرائے میں اس فعل کے حرام ہونے اوراس کی سخت قباحت کا بیان ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6377

 
 
Hadith   1303   الحديث
الأهمية: من حلف فقال في حلفه: باللات والعزى، فليقل: لا إله إلا الله، ومن قال لصاحبه: تعال أقامرك فليتصدق


Tema:

جس نے قسم کھائی اور کہا کہ ”لات و عزیٰ کی قسم“ تو اسے پھر کلمہ لا الہ الا ﷲ کہہ لینا چاہیے اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے چاہیے کہ (بطور کفارہ) صدقہ کرے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «من حَلَفَ فقال في حَلِفِهِ: بِاللاَّتِ وَالْعُزَّى، فليقل: لا إله إلا الله، ومن قال لصاحبه: تعال أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قسم کھائی اور کہا کہ ”لات و عزیٰ کی قسم“ تو اسے پھر کلمہ ’’لا الہ الا ﷲ‘‘ کہہ لینا چاہیے اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے چاہئے کہ (بطور کفارہ) صدقہ کرے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أمر النبي -صلى الله عليه وسلم- من حلف بغير الله -تعالى- كاللات والعزى أو غيرها أن يقول: لا إله إلا الله، ومن قال لصاحبه: أراهنك أن هذا كذا وكذا؛ أن يتصدق.
606;بی ﷺ نے حکم دیا کہ جس نے غیرُ اللہ جیسے لات و عزّی یا کسی اور کی قسم کھائی اسے چاہیے کہ وہ ’’لا إله إلا الله‘‘ کہے اور جس نے اپنے ساتھی کو کہا کہ میں تم سے اس اس بات پر شرط لگاتا ہوں تو اسے چاہیے کہ وہ صدقہ کرے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6379

 
 
Hadith   1304   الحديث
الأهمية: ذكر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الدجال ذات غداة، فخفض فيه ورفع حتى ظنناه في طائفة النخل


Tema:

ایک صبح رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا تو اس طرح اس کی ذلت و حقارت اور اس کے فتنے کی بڑائی بیان کی کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے جھنڈ میں ہے۔

عن النواس بن سمعان -رضي الله عنه- قال: ذكر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الدجال ذات غداة، فخفض فيه ورفع حتى ظنناه في طائفة النخل. فلما رحنا إليه، عرف ذلك فينا، فقال: «ما شأنكم؟» قلنا: يا رسول الله، ذكرت الدجال الغداة، فخفضت فيه ورفعت، حتى ظنناه في طائفة النخل. فقال «غيرُ الدجال أخوفُني عليكم، إن يخرج وأنا فيكم فأنا حَجِيجُهُ دونكم، وإن يخرج ولستُ فيكم فامرؤ حجيج نفسه، والله خليفتي على كل مسلم. إنه شاب قَطَطٌ عينه طافية، كأني أُشَبِّهُهُ بعبد العُزَّى بن قَطَن، فمن أدركه منكم، فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف؛ إنه خارج خَلَّةً بين الشام والعراق، فَعَاثَ يمينا وعاث شمالا، يا عباد الله فاثبتوا» قلنا: يا رسول الله، وما لبثه في الأرض؟ قال: «أربعون يوما: يوم كسنة، ويوم كشهر، ويوم كجمعة، وسائر أيامه كأيامكم» قلنا: يا رسول الله، فذلك اليوم الذي كسنة أتكفينا فيه صلاة يوم؟ قال: «لا، اقدروا له قدره». قلنا: يا رسول الله، وما إسراعه في الأرض؟ قال: «كالغيث استدبرته الريح، فيأتي على القوم، فيدعوهم فيؤمنون به ويستجيبون له، فيأمر السماء فتمطر، والأرض فتنبت، فتروح عليهم سارحتهم أطول ما كانت ذرى. وأسبغه ضروعا، وأمده خواصر، ثم يأتي القوم فيدعوهم، فيردون عليه قوله، فينصرف عنهم، فيصبحون مُمْحِلِينَ ليس بأيديهم شيء من أموالهم، ويمر بالخربة، فيقول لها: أخرجي كنوزك، فتتبعه كنوزها كَيَعَاسِيبِ النحل، ثم يدعو رجلا ممتلئا شبابا فيضربه بالسيف، فيقطعه جزلتين رمية الغرض، ثم يدعوه، فيقبل، ويتهلل وجهه يضحك، فبينما هو كذلك إذ بعث الله تعالى المسيح ابن مريم -صلى الله عليه وسلم- فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مَهْرُودَتَيْنِ ، واضعا كفيه على أجنحة ملكين، إذا طأطأ رأسه قطر، وإذا رفعه تحدر منه جمان كاللؤلؤ، فلا يحل لكافر يجد ريح نفسه إلا مات، ونفسه ينتهي إلى حيث ينتهي طرفه، فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله، ثم يأتي عيسى -صلى الله عليه وسلم- قوما قد عصمهم الله منه، فيمسح عن وجوههم ويحدثهم بدرجاتهم في الجنة، فبينما هو كذلك إذ أوحى الله تعالى إلى عيسى -صلى الله عليه وسلم-: أني قد أخرجت عبادا لي لا يَدَانِ لأحد بقتالهم، فحَرِّزْ عبادي إلى الطُّور. ويبعث الله يأجوج ومأجوج وهم من كل حَدَبٍ يَنْسِلُون، فيمر أوائلهم على بحيرة طَبَرِيَّةَ فيشربون ما فيها، ويمر آخرهم فيقولون: لقد كان بهذه مرة ماء، ويحصر نبي الله عيسى -صلى الله عليه وسلم- وأصحابه حتى يكون رأس الثور لأحدهم خيرا من مئة دينار لأحدكم اليوم، فيرغب نبي الله عيسى -صلى الله عليه وسلم- وأصحابه -رضي الله عنهم- إلى الله تعالى، فيرسل الله تعالى عليهم النَّغَفَ في رِقَابهم، فيُصبحون فَرْسَى كموت نفس واحدة، ثم يهبط نبي الله عيسى -صلى الله عليه وسلم- وأصحابه -رضي الله عنهم- إلى الأرض، فلا يجدون في الأرض موضع شِبْرٍ إلا ملأه زَهَمُهُمْ ونَتَنُهُم، فيرغب نبي الله عيسى -صلى الله عليه وسلم- وأصحابه -رضي الله عنهم- إلى الله تعالى، فيرسل الله تعالى طيرا كأعناق البُخْتِ ، فتحملهم، فتطرحهم حيث شاء الله، ثم يرسل الله -عز وجل- مطرا لا يكن منه بيت مَدَرٍ وَلا وَبَرٍ ، فيغسل الأرض حتى يتركها كَالزَّلَقَةِ ، ثم يقال للأرض: أنبتي ثمرتك، وردي بركتك، فيومئذ تأكل العِصَابَةُ من الرمانة، ويستظلون بِقَحْفِهَا ، ويبارك في الرسل حتى أن اللقحة من الإبل لتكفي الفئام من الناس؛ واللقحة من البقر لتكفي القبيلة من الناس، واللَّقْحَة من الغنم لتكفي الفَخِذَ من الناس؛ فبينما هم كذلك إذ بعث الله تعالى ريحا طيبة فتأخذهم تحت آباطهم. فتقبض روح كل مؤمن وكل مسلم؛ ويبقى شرار الناس يَتَهَارَجُونَ فيها تهارج الحمر، فعليهم تقوم الساعة».

606;واس بن سمعان رضي اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا تو اس طرح اس کی ذلت و حقارت اور اس کے فتنے کی بڑائی بیان کی کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے جھنڈ میں ہے۔ چنانچہ جب ہم (بعد میں) آپ ﷺ کے پاس گئے، تو آپ ﷺ ہمارے اندر موجود اضطراب کو بھانپ گئے۔ پس آپ ﷺ نے پوچھا: تمھارا کیا حال ہے؟ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! صبح آپ نے دجال کے فتنے کا ذکر کیا اور اسے حقیر اور خطرناک کرکے بیان کیا، یہاں تک کہ ہم نے اس کی بابت یہ گمان کیا کہ وہ یہاں کھجوروں کے جھنڈ میں ہی موجود ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: دجال کے علاوہ اور چیزوں سے مجھے تمھاری بابت زیادہ شدید اندیشہ ہے، اگر دجال میری موجودگی میں نکلا تو تمھاری جگہ میں خود اس سے نمٹ لوں گا۔ اور اگر میری زندگی کے بعد نکلا تو ہر آدمی خود اپنے نفس کا دفاع کرے گا۔ اور اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر میرا جانشین ہے (میری بجائے اللہ نگران ہے)۔ وہ دجال نوجوان اور گھنگریالے بالوں والا ہوگا۔ اس کى ایک آنکھ ابھری ہوئی ہوگی۔ گویا کہ میں اسے عبد العزی بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں۔ اگر تم میں سے کوئی اسے پائے، تو اس پر سورت کہف کی ابتدائی آیات پڑھے۔ وہ شام اور عراق کے درمیانی راستے پر نکلے گا۔ اور پھر دائیں بائیں (ہرطرف) فساد برپا کرے گا، اے اللہ کے بندوں! (اس وقت) ثابت قدم رہنا۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ وہ کتنی مدت زمین پر ٹھہرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: چالیس دن: ایک دن ایک سال کے برابر، ایک دن ایک ماہ کے برابر اورایک دن جمعے (یعنی ایک ہفتے) کے برابر، اور اس کے باقی دن تمہارے عام دنوں کی طرح ہوں گے۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول وہ دن جو سال کے برابر ہوگا کیا اس میں ہمارے لیے ایک دن کی نماز کافی ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، تم اس کا اندازہ کر کرکے پڑھنا۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! زمین میں اس کی تیز رفتاری کس قدر ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بارش کی طرح، جس کو ہوا پیچھے کی طرف سے دھکیل رہی ہو۔ وہ لوگوں کے پاس آئے گا اور انہیں دعوت دے گا۔ چنانچہ وہ اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کے حکم کو مانیں گے۔ تب وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین کو حکم دے گا تو وہ درخت اگائے گی۔ شام کو ان کے جانور اس حالت میں لوٹیں گے کہ ان کے کوہان پہلے سے کہیں زیادہ لمبے، اور تھن کامل طور پر بھرے ہوں گے، اور ان کی کوکھیں زیادہ کشادہ ہوں گی۔ پھر وہ کچھ اور لوگوں کے پاس آ ئے گا اور انہیں اپنے ماننے کی دعوت دے گا۔ وہ لوگ اس کی بات کو رد کر دیں گے۔ پس وہ ان سے واپس لوٹے گا تو وہ قحط سالی کا شکار ہو جائیں گے،ان کے اموال میں سے ان کے پاس کچھ نہیں رہ جائے گا۔ اور وہ کسی ویرانے سے گذرے گا تو اسے کہے گا: اپنے خزانے نکال دے۔ تو اس کے خزانے شہد کی سردار مکھیوں کی طرح اس کے پیچھے چل پڑیں گے۔ پھر وہ ایک بھرپور جوان کو بلائے گا اور اس پر تلوار سے وار کرے گا، جو اس کے دو ٹکڑے کر دے گا، جیسے نشانے پر تیر مارا جاتا ہے۔ پھر اسے بلائے گا تو وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کا چہرہ چمک رہا ہوگا اور وہ ہنس رہا ہوگا۔ پس دجال اسی حال میں ہوگا کہ اللہ تعالی مسیح ابن مریم ﷺ کو بھیج دے گا۔ چنانچہ وہ (آسمان سے) دمشق کی مشرقی جانب سفید مینار پر زرد رنگ کا جوڑا پہنے ہوئے، اپنی ہتھیلیاں دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے اتریں گے۔ جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو پانی کے قطرے گریں گے اور جب اپنا سر اٹھائیں گے تو موتی کی طرح چاندی (یعنی پانی) کی بوندیں گریں گی۔ جس کافر کو بھی ان کے سانس کی بھاپ پہنچے گی وہ مر جائے گا۔ اور ان کی سانس وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر جائے گی۔ چنانچہ عیسیٰ عليہ السلام دجال کو تلاش کریں گے یہاں تک کہ اسے باب لد کے پاس پالیں گے اور اسے قتل کر دیں گے۔ پھر عیسی علیہ السلام ایسے لوگوں کے پاس آئيں گے جن کو اللہ نے دجال سے محفوظ رکھا ہوگا۔ پس عیسی علیہ السلام ان کے چہروں پر ہاتھ پھیریں گے اور انہیں جنت میں ملنے والے ان کے درجات بتائیں گے۔ پس وہ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ عیسی ﷺ کی طرف وحی کرے گا کہ میں نے اپنے کچھ بندے ایسے نکالے ہیں جن سے لڑنے کی کسی میں طاقت نہیں۔ لہٰذا تو میرے بندوں کو کوہ طور پر لے جا کر ان کی حفاظت فرما۔ اور اللہ تعالیٰ یاجوج اور ماجوج کو بھیجے گا، وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے، ان کا پہلا گروہ بحیره طبريہ سے گزرے گا اور اس کا پورا پانی پی جائے گا۔ اور ان کا آخری گروہ وہاں سے گزرے گا تو وہ کہے گا کہ یہاں کبھی پانی ہوا کرتا تھا۔ عیسیٰ عليہ السلام اور آپ کے ساتھی محصور ہوں گے یہاں تک کہ ان کو بیل کی سری (بھوک کی وجہ سے) تمہارے آج کے سو دینا سے بہتر معلوم ہوگی۔ پس اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا جس کی وجہ سے وہ سب دفعتاً ایک جان کی طرح مر جائیں گے۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی زمین پر اتریں گے تو زمین میں ایک بالشت جگہ بھی ایسی نہیں پائیں گے جو ان کی (لاشوں کی) گندگی اور بدبو سے خالی ہو۔ لہٰذا اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ سے دعا مانگیں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں کے مثل بڑے پرندے بھیجے گا جو ان کی لاشوں کو اٹھائیں گے اور جہاں اللہ کو منظور ہوگا، وہاں پھینک دیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش برسائے گا جو ہر گھر اور خیمہ تک پہنچے گی اور ساری زمین کو دھو کر آئینہ کی طرح صاف وشفاف کردے گی۔ پھر زمین سے کہا جائے گا: اپنے پھل اگا اور اپنی برکت واپس لا۔ پس اس وقت ایک گروہ ایک انار سے کھائے گا اور اس کے چھلکے سے سایہ حاصل کرے گا، اور دودھ میں اتنی برکت ڈال دی جائے گی کہ ایک دودھ والی اونٹنی ایک جماعت کو کافی ہو جائے گی، ایک دودھ والی گائے لوگوں کے ایک قبیلہ کو کافی ہوگی اور ایک دودھ والی بکری لوگوں کے ایک گھرانے کو کافی ہوگی۔ پس وہ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو ان لوگوں کو ان کی بغلوں کے نیچے سے لگے گی، پس وہ ہر مومن اور مسلمان کی روح قبض کرلے گی۔ (اس کے بعد) صرف بد ترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو اس زمین پر گدھوں کی طرح علانیہ لوگوں کے سامنے عورتوں سے جماع کریں گے۔ لہٰذا انہی لوگوں پر قیامت قائم ہوگی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من علامات الساعة الكبرى خروج الدجال، وهو ما ذكر في الحديث فهي من أمور الغيب التي يجب الإيمان والتصديق بها كما أخبر بها نبي الله صلى الله عليه وسلم، فذكرت أوصافه كاملة حتى لا تخفى على المسلم من أمره، وقد أعطاه الله من القدرات العجيبة والخوارق امتحاناً واختباراً للناس، ويمر على الأرض جميعاً إلا مكة والمدينة، ويكون نهاية أمره على نبي الله عيسى عليه الصلاة والسلام، ثم يظهر يأجوج ومأجوج ويملؤن الأرض فساداً، وهم من علامات الساعة أيضاً، ويتضرع نبي الله عيسى والمؤمنون إلى الله تعالى حتى يخلصهم الله منهم، وتقوم الساعة بعد هذه الأحداث والوقائع الكبرى وقد قبض الله تعالى أرواح عباده المؤمنين، وتقوم القيامة على شرار الخلق.
583;جال کا خروج قيامت کی بڑى نشانيوں ميں سے ايک نشانی ہے، جيسا کہ حديث ميں بيان کيا گيا ہے۔ اور يہ ان غيبی أمور ميں سے ہے جس پر رسول اللہ ﷺ کی دی ہوئی خبر کے مطابق ايمان لانا اور اس کی تصديق کرنا واجب ہے۔ اسی لیے دجال کی مکمل صفت بيان کر دی گئی ہے تاکہ مسلمانوں پر اس کا معاملہ واضح رہے۔ لوگوں کی آزمائش کے لئے اللہ رب العالمين نے اسے بہت سے اختيارات اورخوارق سے نوازا ہے، مکہ اور مدينہ کو چھوڑ کر وہ ساری دنيا کا چکر لگائے گا اور اس کا خاتمہ عيسیٰ عليہ السلام کے ہاتھوں ہوگا۔ پھر اس کے بعد قيامت کی ايک اور نشانی کے طور پر ياجوج ماجوج کا ظہور ہوگا، جو دنيا کو فتنہ وفساد سے بھر ديں گے۔ عيسیٰ عليہ السلام اور مومنين اللہ رب العالمين سے گريہ وزاری ميں لگ جائيں گے يہاں تک کہ اللہ رب العالمين انھیں ان سے نجات د ے گا۔ اور ان بڑی بڑی نشانيوں کے بعد قیامت قائم ہوگی، جب کہ اللہ رب العالمين مومنين کی روحوں کوقبض کر لیا ہوگا اور قيامت برے لوگوں پر قائم ہوگی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6380

 
 
Hadith   1305   الحديث
الأهمية: المدينة حرم ما بين عير إلى ثور، فمن أحدث فيها حدثًا، أو آوى محدثًا، فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفًا ولا عدلًا


Tema:

مدینہ حرمت والا اور قابل احترام ہے، جس شخص نے اس کے اندر کوئی بدعت ایجاد کی یا کسی بدعتی کو پناہ دیا تو اس پر اللہ تعالی کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس کا کوئی فرض یا نفلی عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔

عن يزيد بن شريك بن طارق، قال: رأيت عليًّا -رضي الله عنه- على المنبر يخطب، فسمعته يقول: لا والله ما عندنا من كتاب نقرؤه: إلا كتاب الله، وما في هذه الصَّحِيفَةِ، فنشرها؛ فإذا فيها:
أَسْنَانُ الإبل، وأشياء من الجِرَاحَاتِ.
وفيها: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «المدينة حَرَمٌ ما بين عَيْرٍ إلى ثَوْرٍ، فمن أحدث فيها حَدَثًا، أو آوى مُحْدِثًا؛ فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل الله منه يوم القيامة صَرْفًا ولا عَدْلًا.
ذِمَّةُ المسلمين واحدة، يسعى بها أَدْنَاهُم، فمن أَخْفَرَ مسلما، فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل الله منه يوم القيامة صَرْفًا ولا عَدْلًا.

ومن ادعى إلى غير أبيه، أو انتمى إلى غير مواليه، فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين؛ لا يقبل الله منه يوم القيامة صَرْفًا ولا عَدْلًا».
یزید بن شریک بن طارق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، چنانچہ میں نے انھیں یہ فرماتے سنا: ”اللہ کی قسم! ہمارے پاس کوئی اور کتاب نہیں جسے ہم پڑھتے ہوں، سوائے اللہ کی کتاب کے اور ان احکام کے جو اس صحیفے میں موجود ہیں“، پھر انھوں نے اسے کھولا تو اس میں دیت میں دیے جانے والے اونٹوں کی عمروں کا بیان اور کچھ زخموں کی دیت سے متعلق احکام تھے۔
اور اس صحیفے میں یہ بھی تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’مدینہ‘ عیر سے ثور تک حرم ہے، جس کسی نے اس میں بدعت ایجاد کی، یا کسی بدعتی کو پناہ دی، تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ تعالٰی اس شخص کی نہ تو توبہ قبول کرے گا اور نہ ہی فدیہ۔
مسلمانوں کا عہد و امان ایک ہے اس کا ذمہ دار ان میں سب سے ادنیٰ مسلمان بھی ہوسکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کے عہد کو توڑ دیا، تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ تعالٰی اس شخص کی نہ تو توبہ قبول کرے گا اور نہ ہی فدیہ۔
اور جس نے اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کی، یاجس نے اسے آزاد کیا اس کے علاوہ کسی اور کی طرف آزادی کی نسبت کی، تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اللہ تعالٰی اس شخص کی نہ تو توبہ قبول کرے گا اور نہ ہی فدیہ۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال علي -رضي الله عنه- وهو يخطب على المنبر: والله ليس عندنا كتاب نقرؤه غير كتاب الله -عز وجل- إلا هذا الكتاب، فبسطه فإذا فيها دية أسنان الإبل، ومسائل الجراحات وأحكامها، وفيها أخبر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن المدينة حرام كمكة، ما بين جبل عير إلى جبل ثور، فمن ابتدع فيها بدعة في الدين أو تسبب لإِحداث أذى المسلمين من جرم أو ظلامة، أو آوى محدثا فعليه لعنة الله بمنعه له من الرحمة، وسؤال الملائكة والناس أجمعين ذلك من الله -تعالى-، ولا يقبل الله منه يوم القيامة فريضة ولا نافلة ولا توبة ولا فداء.
وأن أمان المسلم للكافر صحيح بشروطه المعروفة، فإذا وجدت حرم التعرض له، فمن نقض أمان مسلم وتعرض للكافر الذي أمَّنه فعليه لعنة الله بمنعه له من الرحمة وسؤال الملائكة والناس أجمعين ذلك من الله -تعالى-، ولا يقبل الله منه يوم القيامة فريضة ولا نافلة ولا توبة ولا فداء.
ومن انتسب إلى غير أبيه أو انتمى معتق إلى غير مواليه فعليه لعنة الله بمنعه له من الرحمة وسؤال الملائكة والناس أجمعين ذلك من الله تعالى، ولا يقبل الله منه يوم القيامة فريضة ولا نافلة ولا توبة ولا فداء؛ لما فيه من كفر النعمة، وتضييع حقوق الإِرث والولاء والعقل وغير ذلك، مع ما فيه من القطيعة والعقوق.
593;لی رضی اللہ عنہ نےمنبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اللہ کی قسم! ہمارے پاس کوئی اور کتاب نہیں جسے ہم پڑھتے ہوں، سوائے اللہ عزوجل کی کتاب (قرآن) کے، مگر یہ کتاب، اور آپ نے صحیفے کو کھولا تو اس میں اونٹوں کی عمریں اور کچھ زخموں کے متعلق احکام و مسائل تھے، اور اس صحیفے میں یہ بھی تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مدینہ طیبہ بھی مکہ کی طرح حرم ہے، جبلِ عیر سے جبلِ ثور تک۔ پس یہاں جس کسی نے دین میں کوئی بدعت ایجاد کی، یا کسی بدعتی کو پناہ دی، یا وہ فتنہ وفساد اور ظلم و زیادتی سے کسی مسلمان کو تکلیف پہنچانے کا سبب بنا تو اس پر اللہ کی لعنت ہو اس کی رحمت سے دوری کی شکل میں اور فرشتوں اور تمام لوگوں کا اس کے حق میں اللہ تعالی سے اسی لعنت پر مبنی بددعا بھی ہو، اور اللہ تعالٰی قیامت والے دن اس شخص کے فرض، نفل، توبہ اور فدیہ کو قبول نہیں فرمائے گا۔
مسلمان کا کسی کافر کو عام شرائط کا خیال رکھتے ہوئے امان دینا صحیح یے، جب یہ شروط پائی جائیں تو اس میں رکاوٹ ڈالنا حرام ہے۔ جس نے کسی مسلمان کے عہد کو توڑ دیا اور اس کافر کو تکلیف پہنچایا جسے امان دیا گیاتھا تو اس پر اللہ کی لعنت ہو اس کی رحمت سے دوری کی شکل میں اور فرشتوں اور تمام لوگوں کا اس کے حق میں اللہ تعالی سے اسی لعنت پر مبنی بددعا بھی ہو۔ اللہ تعالٰی قیامت والے دن اس شخص کے فرض، نفل، توبہ اور فدیہ کو قبول نہیں فرمائے گا۔
اور جس نے اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کی، یا جس نے اسے آزاد کیا اس کے بجائےکسی اور کی طرف آزادی کی نسبت کی، تو اس پر اللہ کی لعنت ہو اس کی رحمت سے دوری کی شکل میں اور فرشتوں اور تمام لوگوں کا اس کے حق میں اللہ تعالی سے اسی لعنت پر مبنی بددعا ہو۔ اللہ تعالٰی قیامت والے دن اس شخص کے فرض، نفل، توبہ اور فدیہ کو قبول نہیں فرمائے گا کیوں کہ اس میں نعمت کی نا شکری، وراثت، ولاء اور دیت وغیرہ کے حقوق کی تضییع و بربادی ہے، اور رشتے ناطے سے بے تعلقی و نافرمانی بھی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6381

 
 
Hadith   1306   الحديث
الأهمية: اسمعوا وأطيعوا، وإن استعمل عليكم عبد حبشي، كأن رأسه زبيبة


Tema:

سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تم پر کسی حبشی غلام ہی کو حاکم مقرر کر دیا جائے، جس کا سر کشمش کی طرح (چھوٹا سا) ہو

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «اسمعوا وأطيعوا، وإن استعمل عليكم عبد حبشي، كأن رأسه زبيبة».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تم پر کسی حبشی غلام ہی کو حاکم مقرر کر دیا جائے، جس کا سر کشمش کی طرح (چھوٹا سا) ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الزموا السمع والطاعة لولاة الأمور، حتى لو استعمل عليكم عبد حبشي أصلًا وفرعًا وخلقةً، كأن رأسه زبيبة، وهذا من باب المبالغة في كون هذا العامل عبدًا حبشيًا أصلاً وفرعًًا، قوله: ((وإن استعمل)) يشمل الأمير الذي هو أمير السلطان، وكذلك السلطان.
فلو فرض أن سلطانا غلب الناس واستولى وسيطر وليس من العرب؛ بل كان عبدًا حبشيًا فإن علينا أن نسمع ونطيع.
فهذا الحديث يدل على وجوب طاعة ولاة الأمور إلا في معصية الله، لما في طاعتهم من الخير والأمن والاستقرار وعدم الفوضى وعدم اتباع الهوى. أما إذا عصي ولاة الأمور في أمر تلزم طاعتهم فيه؛ فإنه تحصل الفوضى، ويحصل إعجاب كل ذي رأي برأيه، ويزول الأمن، وتفسد الأمور، وتكثر الفتن.
581;کمرانوں کی اطاعت کرو اگرچہ تم پر نسب اور شکل و صورت کے اعتبار سے ایک ایسا حبشی غلام امیر مقرر دیا جائے جس کا سر کشمش کی طرح ہو، اس پیرائے میں مبالغہ کا معنی ہے کہ چاہے یہ حاکم نسب کے اعتبار سے سیاہ فام غلام ہی کیوں نہ ہو۔
”اگر حاکم مقرر کر دیا جائے“ اس کا اطلاق حکمران کی طرف سے مقرر کردہ گورنر پر بھی ہوتا ہے اور خود حکمران پر بھی۔
ولو بالفرض اگر کوئی حاکم لوگوں پر غلبہ حاصل کرلے، اور ان پر قبضہ واقتدار جمالے اور وہ عرب میں سے نہ ہو، بلکہ ایک سیاہ فام غلام ہو تو پھر بھی ہم پر فرض ہے کہ ہم اس کی بات کو سنیں اور اس کی اطاعت کریں۔
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حکمرانوں کی اطاعت کرنا فرض ہے ماسوا ان امور کے جن میں اللہ کی معصیت ہو۔ کیونکہ ان کی اطاعت کرنے میں خیر و بھلائی، اور امن و استقرار ہے اور اس کی وجہ سے انارکی نہیں پھیلتی اور ہوائے نفس کی پیروی نہیں ہوتی۔ لیکن اگر کسی معاملے میں حکمرانوں کی نافرمانی کی جائے جس میں ان کی اطاعت لازم ہے، تو انارکی پھیلے گی اور ہر کوئی اپنی من مرضی پر چلنا شروع کر دے گا، امن و امان ختم ہوجائے گا، معاملات بدعنوانی کا شکار ہوجائیں گے، اور فتنوں کی کثرت ہو جائے گی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6382

 
 
Hadith   1307   الحديث
الأهمية: من أطاعني فقد أطاع الله، ومن عصاني فقد عصى الله، ومن يطع الأمير فقد أطاعني، ومن يعص الأمير فقد عصاني


Tema:

جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «من أطاعني فقد أطاع الله، ومن عصاني فقد عصى الله، ومن يطع الأمير فقد أطاعني، ومن يعص الأمير فقد عصاني».

ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بيَّن النبي -صلى الله عليه وسلم- أن طاعته من طاعة الله، والنبي -عليه الصلاة والسلام- لا يأمر إلا بالشرع الذي شرعه الله -تعالى- له ولأمته، فإذا أمر بشيء؛ فهو شرع الله -سبحانه وتعالى-، فمن أطاعه فقد أطاع الله، ومن عصاه فقد عصى الله.
والأمير إذا أطاعه الإنسان فقد أطاع الرسول -صلى الله عليه وسلم-، وإذا عصاه فقد عصى الرسول -صلى الله عليه وسلم-؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- هو الذي أمر بذلك في أكثر من حديث؛ إلا أن يأمر بمعصية.
575;للہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آپ ﷺ کی اطاعت کرنا ایسا ہے، جیسے اللہ کی اطاعت کرنا۔ اور نبی ﷺ اسی کام کا حکم دیتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کی امت کے لیے مشروع فرمایا۔ لہٰذا آپ ﷺ کسی چیز کا حکم دیں، تو وہ اللہ کی طرف سے مشروع ہوتا ہے۔ چنانچہ جو آپ ﷺ کی اطاعت کرے گا، وہ اللہ کی اطاعت کرے گا اور جو آپ کی نافرمانی کرے گا، وہ اللہ کی نافرمانی کرنے والا ہوگا۔
اور جب انسان امیر کی اطاعت کرتا ہے، تو گویا اس نے اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کی اور جب وہ امیر کی نافرمانی کرتا ہے، تو گویا اس نے اللہ کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی۔ کیوںکہ اللہ کے رسول ﷺ نے کئی ساری احادیث میں امیر کی اطاعت کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ الا یہ کہ امیر نافرمانی کا حکم دے۔ ( تو اس معصیت میں امیر کی اطاعت جائز نہیں)۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6383

 
 
Hadith   1308   الحديث
الأهمية: خيار أئمتكم الذين تحبونهم ويحبونكم، وتصلون عليهم ويصلون عليكم. وشرار أئمتكم الذين تبغضونهم ويبغضونكم، وتلعنونهم ويلعنونكم


Tema:

تمہارے بہترین حکمراں وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کريں، تم ان کے حق ميں دعائے خير کرو اور وہ تمہارے حق ميں دعائے خير کریں۔ اور تمہارے بدترین حکمراں وہ ہیں جنہیں تم ناپسند کرو اور وہ تمہیں ناپسند کريں، تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔

عن عوف بن مالك -رضي الله عنه- مرفوعاً: «خِيَارُ أئمتكم الذين تحبونهم ويحبونكم، وتُصَلُّون عليهم ويصلون عليكم. وشِرَارُ أئمتكم الذين تبُغضونهم ويبغضونكم، وتلعنونهم ويلعنونكم!»، قال: قلنا: يا رسول الله، أفلا نُنَابِذُهُم؟ قال: «لا، ما أقاموا فيكم الصلاة. لا، ما أقاموا فيكم الصلاة».

عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہارے بہترین حکمراں وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کريں، تم ان کے حق ميں دعائے خير کرو اور وہ تمہارے حق ميں دعائے خير کریں۔ اور تمہارے بدترین حکمراں وہ ہیں جنہیں تم ناپسند کرو اور وہ تمہیں ناپسند کريں، تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں“۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہم ان کی بيعت توڑ کر ان کے خلاف بغاوت نہ کريں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں‘ جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں۔ نہیں‘ جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دلَّ هذا الحديث على أنَّ مِن حكام المسلمين مَن هم أهل صلاح ومنهم مَن هم أهل فسق وقلة ديانة، ومع ذلك لا يجوز الخروج عليهم ما داموا محافظين على إقامة شعائر الإسلام وآكدها الصلاة.
740;ہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمان حکمرانوں میں سے کچھ تو نیک ہوں گے اور کچھ فاسق اور بے دین ہوں گے۔ اس کے باوجود جب تک وہ شعائرِ اسلام کی حفاظت کرتے رہيں جس میں نمازسب سے اہم ہے، ان کے خلاف خروج وبغاوت جائز نہیں ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6384

 
 
Hadith   1309   الحديث
الأهمية: ستفتح عليكم أرضون، ويكفيكم الله، فلا يعجز أحدكم أن يلهو بأسهمه


Tema:

عنقریب تمہارے لیے بہت سی سر زمینیں فتح ہو جائیں گی اور اللہ تعالی تمہارے لیے کافی ہو جائے گا۔ لہذا کسی شخص کو اپنے تیروں میں مشغول ہونے سے عاجز نہیں آنا چاہئے۔

عن عقبة بن عامر -رضي الله عنه- سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «سَتُفْتَحُ عليكم أَرَضُونَ، ويكفيكم الله، فلا يعجز أحدكم أن يلَهْوُ بأَسْهُمِهِ».

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب علاقے تمہارے لئے فتح کردیئے جائیں گے اور(دشمنوں کے مقابلے میں) اللہ تمہارے لئے کافی ہو جائے گا چنانچہ تم میں سے کوئی بھی اپنے تیروں سے کھیلنے میں سستی نہ کرے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث حث المسلم على تعلم الرمي، والتمرن عليه ولو في غير وقت الحاجة إليه؛ لأن ذلك من أسباب تحقيق النصر من الله، وحصول الكفاية والرزق للمسلمين.
575;س حدیث میں مسلمانوں کو تیر اندازی سیکھنے اور اس کی مشق کرنے پر ابھارا گیا ہے۔ اگرچہ اس کی ضرورت نہ بھی ہو۔ اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حصولِ مدد اور مسلمانوں کے لیے کفایت اور رزق کے حصول کا ذریعہ ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6385

 
 
Hadith   1310   الحديث
الأهمية: ذهبنا نتلقى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مع الصبيان إلى ثنية الوداع


Tema:

ہم آپ ﷺ سے ملاقات کرنے بچوں کے ساتھ ثنية الوداع گئے۔

عن السائب بن يزيد -رضي الله عنهما- قال: «لما قدم النبي -صلى الله عليه وسلم- من غزوة تبوك تلقَّاه الناس، فتلقيته مع الصبيان على ثَنِيَّةِ الوداع». 
وفي رواية قال: «ذهبنا نَتَلَقَّى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مع الصبيان إلى ثَنِيَّةِ الوداع».

سائب بن یزید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ غزوۂ تبوک سے واپس آئے، تو لوگوں نے آپ ﷺ کا استقبال کیا۔ میں نے بھی بچوں کے ساتھ ثنية الوداع پر آپ ﷺ سے ملاقات کی۔
ایک دوسری روایت میں ہے: ”ہم آپ ﷺ سے ملاقات کرنے بچوں کے ساتھ ثنية الوداع گئے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر السائب أنه لما قدم النبي -صلى الله عليه وسلم- مع الصحابة راجعين من غزوة تبوك خرجوا لاستقبالهم  بثنية الوداع وهو موضع بقرب المدينة، وذلك لما فيه من التأنيس لهم والتطييب لخاطرهم، والترغيب لمن كان قاعداً في الغزو.
587;ائب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ ﷺ صحابۂ کرام کے ساتھ غزوۂ تبوک سے واپس آ رہے تھے، لوگ ان کے استقبال کے لیے ثنية الوداع تک گئے۔ یہ مدینے کے قریب ایک جگہ ہے۔ مقصد تھا آنے والوں سے محبت کا اظہار، ان کی دل دہی اور جنگ میں شریک نہ ہونے والوں کی ترغیب۔   --  [یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6386

 
 
Hadith   1311   الحديث
الأهمية: قَفْلَةٌ كَغَزْوَةٍ


Tema:

جہاد سے لوٹنا بھی جہاد ہی کی طرح ہے۔

عن عبد الله بن عمرو بن العاص -رضي الله عنهما- مرفوعاً: « قَفْلَةٌ كَغَزْوَةٍ ».

عبد الله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد سے لوٹنا بھی جہاد ہی کی طرح ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث بيان فضل الله -تعالى- على عباده عند أدائهم العبادات فكما أنهم يؤجرون عند السعي إليها؛ كذلك يؤجرون عند الرجوع من أدائها، لذلك أخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن العائد من الغزو كمن يغزو، فهما في الأجر سواء، كما يكتب أثر الماشي إلى المسجد، ورجوعة إلى أهله.
575;س حدیث میں اللہ تعالی کے اس فضل کا بیان جو وہ اپنے بندوں پر کرتا ہے جب وہ عبادات کی ادائیگی کرتے ہیں۔ جیسے انہیں اس وقت ثواب ملتا ہے جب وہ ان میں کوشاں ہوتے ہیں بالکل اسی طرح انہیں اس وقت بھی ثواب ملتا ہے جب وہ انہیں ادا کر کے واپس لوٹ رہے ہوتے ہیں۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جہاد سے واپس آنے والا بھی ایسے ہی ہے جیسے جہاد کرنے والا۔ یہ دونوں افراد اجر کے لحاظ سے برابر ہیں جیسا کہ مسجد کی طرف جانے والے کا اجر لکھا جاتا ہے (اسی طرح) وہاں سے اپنے اہل کی طرف لوٹنے کا اجر بھی لکھا جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6387

 
 
Hadith   1312   الحديث
الأهمية: للعبد المملوك المصلح أجران


Tema:

غلام جو کسی کی ملکیت میں ہو اور نیکو کار ہو تو اسے دو ثواب ملتے ہیں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «للعبد المملوك المصلح أجران»، والذي نفس أبي هريرة بيده لولا الجهاد في سبيل الله والحج، وبر أمي، لأحببت أن أموت وأنا مملوك.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نیکوکار مملوک غلام کے لیے دوہرا اجر ہے“۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے، اگر جہاد فی سبیل اللہ، حج اور اپنی ماں کی خدمت میرے سامنے نہ ہوتی تو مجھے یہ پسند ہوتا کہ میں غلامی کی حالت میں مروں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال أبو هريرة -رضي الله عنه-: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: للعبد المملوك الناصح لسيده والقائم بحق ربه أجران؛ لقيامه بحق الله -تعالى- من العبادات وقيامه بحق سيده من الخدمة.
ثم أخبر أبو هريرة -رضي الله عنه- أنه لولا أن المملوك لا جهاد عليه، ولولا قيامه ببر أمه بالنفقة والخدمة، لأحب أن يموت وهو مملوك لما فيه من أجر.
575;بو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسے غلام کے لیے دُہرا اجر ہے جو اپنے مالک کا خیر خواہ اور اپنے رب کے حقوق کو قائم کرنے والا ہو، ایک عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی وجہ سے اور دوسرے آقا کی خدمت کرکے اس کا حق ادا کرنے کی وجہ سے۔
پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر غلام پر جہاد ہوتا اور مجھ پر اپنی والدہ کے خرچے اور خدمت کی ذمہ داری نہ ہوتی تو مجھے غلام رہ کر مرنا زیادہ پسند تھا اس پر ملنے والے اجر کی خاطر۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6388

 
 
Hadith   1313   الحديث
الأهمية: يسر الدين وسماحة


Tema:

دین میں آسانی اور سہولت ہے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- مرفوعاً: ما خُيِّر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بين أمرين قط إلا أخذ أيسرهما، ما لم يكن إثما، فإن كان إثما، كان أبعد الناس منه، وما انتقم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لنفسه في شيء قط، إلا أن تُنْتهَك حرمة الله، فينتقم لله -تعالى-.

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا، تو آپ ﷺ ہمیشہ دونوں میں آسان کا انتخاب کرتے، بشرطے کہ وہ آسان کام گناہ نہ ہوتا۔ اگر وہ گناہ ہوتا، تو آپ ﷺ اس سے سب سے زیادہ دور رہتے۔ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی شے کے سلسلے میں اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا، ما سوا اس کے کہ اللہ کی حرمات میں سے کسی حرمت کو پامال کیا جائے، اس صورت میں آپ ﷺ اللہ تعالی کے لیے انتقام لیا کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث أنَّ النبي -صلى الله عليه وسلم- من خلاله التي ينبغي أن يقتدي به فيها المسلم أنه إذا خُيِّر بين أمرين من أمور الدين والدنيا يختار أيسرهما ما لم يكن فيه معصية، وأنه لا يغضب لنفسه فينتقم ممن أغضبه، بل يغضب لله -تعالى-.
575;س حدیث میں بیان ہے کہ نبی ﷺ کی صفات میں سے، جن کی مسلمان کو اقتدا کرنی چاہیے، ایک یہ تھی کہ آپ ﷺ کو جب بھی دین و دنیا سے متعلق دو امور میں سے کسی ایک امر کو اختیار کرنا ہوتا، تو آپ ﷺ آسان تر کو چنا کرتے تھے، بشرطے کہ اس میں کوئی معصیت نہ ہوتی اور یہ کہ آپ ﷺ کبھی اپنی ذات کے لیے غصے میں نہیں آیا کرتے تھے، بلکہ آپ ﷺ کا غصہ صرف اور صرف اللہ تعالی کے لیے ہوا کرتا تھا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6389

 
 
Hadith   1314   الحديث
الأهمية: ما زالت الملائكة تظله بأجنحتها


Tema:

ابھی تک فرشتوں نے ان پر اپنے پروں سے سایہ کر رکھا ہے۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- قال : جِيءَ بأبي إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- قد مُثِّل به، فوُضِع بين يديه؛ فذهبت أكشف عن وجهه فنهاني قومي، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «ما زالت الملائكة تظله بأجنحتها».

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: میرے والد (کی لاش) کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا اس حال میں کہ ان کا مثلہ کردیا گیا تھا۔ انہیں آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا گیا۔ میں نے ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانا چاہا تو میری قوم کے لوگوں نے مجھے منع کردیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ابھی تک فرشتے ان پر اپنے پروں سے سایہ کئے ہوئے ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جيء بوالد جابر وهو عبد الله بن عمرو بن حرام الأنصاري -رضي الله عنه- إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-، وذلك يوم أحد وقد مثل الكفار بقتلى المسلمين، بتشويه أجسامهم، فوضع بين يديه فأراد جابر أن يكشف عن وجهه متوجعاً له مما مثل به الكفار فنهاه قومه عن ذلك فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "ما زالت الملائكة تظله بأجنحتها" تشريفاً له وتكريماً.
580;ابر رضی اللہ عنہ کے والد یعنی عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری جابر بن عبداللہ - رضی اللہ عنہما - (کی لاش) کو جنگ احد کے دن نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا۔ کفار نے مسلمانوں کے مقتولین کے جسموں کو بگاڑ کر ان کا مثلہ کر دیا تھا۔ انہیں آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا گیا۔ کفار نے ان کا جو مثلہ کیا تھا اس پر دکھی ہو کر جابر رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ وہ ان کے چہرے سے کپڑا ہٹائیں لیکن ان کی قوم والوں نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ نبی ﷺ نے اس موقع پر فرمایا: فرشتوں نے ان کی تعظیم و تکریم میں ابھی تک ان پر اپنے پروں سے سایہ کر رکھا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6390

 
 
Hadith   1315   الحديث
الأهمية: ما ضرب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- شيئا قط بيده، ولا امرأة ولا خادما، إلا أن يجاهد في سبيل


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔ نہ ہی کسی عورت کو، نہ ہی کسی خادم کو، اِلاّ یہ کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ کر رہے ہوں۔

عن عائشة -رضي الله عنها- مرفوعاً: «ما ضرب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- شيئا قَطُّ بيده، ولا امرأة ولا خادما، إلا أن يجاهد في سبيل الله، وما نيِل منه شيء قَطُّ فينتقم من صاحبه، إلا أن ينتهك شيء من محارم الله تعالى، فينتقم لله تعالى».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔ نہ ہی کسی عورت کو، نہ ہی کسی خادم کو۔ اِلاّ یہ کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ کر رہے ہوں۔ کبھی ایسے نہیں ہوا کہ آپ ﷺ کو کوئی نقصان پہنچایا گیا ہو اور آپ ﷺ نے اس پر انتقام لیا ہو مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کی خلاف ورزی پر آپ ﷺ اللہ کے لیے انتقام لیا کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من أخلاق النبي -عليه الصلاة والسلام- أنه ما ضرب  شيئاً من الحيوانات ولا من غيرها في أي زمن من الأزمنة، لا امرأة ولا خادماً؛ لأن عادة أغلب الناس ضربهما، وإذا لم يضربهما النبي -صلى الله عليه وسلم- مع جريان العادة بذلك فغيرهما ممن لم يعتد ضربه أولى، إلا أن يجاهد في سبيل الله لإعلاء كلمة الله تعالى، وما نال أحد منه شيئاً فانتقم منه، كما وقع من شج الكفار لرأسه في أحد وكسر رباعيته وغير ذلك مما وقع من إساءتهم، ومع ذلك يعفو ويصفح ويحلم، ولا ينتقم، إلا إذا انتهكت محارم الله فإنه لا يقر أحدا على ذلك.
606;بی ﷺ کی اخلاقی صفات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ آپ ﷺ نے کبھی نہ تو جانوروں کو ہاتھ سے مارا تھا اور نہ ہی کسی عورت یا نوکر کو۔اکثر لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ عورت یا نوکر کو مارتے ہیں۔باوجود عمومی عادت کے جب آپ ﷺ نے ان دونوں کو نہیں مارا تو معلوم ہوا کہ ان کے علاوہ دوسری اشیاء کو تو بدرجۂ اولی نہیں مارنا چاہیے جنہیں عام طور پر نہیں مارا جاتا۔ تاہم آپ ﷺ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کیا کرتے تھے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے آپ ﷺ کو نقصان پہنچایا ہو اور آپ ﷺ نے اس سے انتقام لیا ہو۔ جیسے جنگ احد میں کفار نے آپ ﷺ کے سر مبارک کو زخمی کیا اور آپ کے سامنے کے دندان مبارک شہید کردیے لیکن آپ ﷺ پھر بھی ان کے ساتھ معافی و درگزر اور بردباری ہی کا معاملہ کرتے رہے۔ لیکن جب اللہ کی حدود کی خلاف ورزی ہوتی تھی تو یوں نہیں ہوتا تھا کہ کسی کو آپ ﷺ ایسا کرتے رہنے دیں۔ (بلکہ آپ ﷺ بزور اسے روکتے تھے۔)

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6391

 
 
Hadith   1316   الحديث
الأهمية: ما من غازيَةٍ أو سَرِيَّةٍ تغزو فَتَغْنَم وَتَسْلَمُ إلا كانوا قد تَعَجَّلُوا ثُلُثَي أُجُورِهِمْ، ومَا من غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تُخْفِقُ وَتُصَابُ إِلاَّ تم أُجُورُهُمْ


Tema:

جہاد کرنے والی جس جماعت یا جہاد کرنے والے جس لشکر نے جہاد کیا اور مالِ غنیمت لے کر صحیح و سالم واپس آگیا اس کو اس کا دو تہائی اجر جلدی (یعنی اسی دنیا میں ) مل گیا اور جہاد کرنے والی جس جماعت یا جہاد کرنے والے جس لشکر نے جہاد کیا اور نہ صرف یہ کہ اس کو مال غنیمت نہیں ملا بلکہ اس جماعت و لشکر کے لوگ زخمی ہوئے یا شہید کر دیے گیے تو ان کا اجر پورا باقی رہا۔

عن عبد الله بن عمرو بن العاص -رضي الله عنهما- مرفوعاً: «ما من غازيَةٍ أو سَرِيَّةٍ تغزو فَتَغْنَم وَتَسْلَمُ إلا كانوا قد تَعَجَّلُوا ثُلُثَي أُجُورِهِمْ، ومَا من غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تُخْفِقُ وَتُصَابُ إِلاَّ تم أُجُورُهُمْ».

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد کرنے والی جس جماعت یا جہاد کرنے والے جس لشکر نے جہاد کیا اور مال غنیمت لے کر صحیح و سالم واپس آگیا اس کو اس کا دو تہائی اجر جلدی (یعنی اسی دنیا میں ) مل گیا اور جہاد کرنے والی جس جماعت یا لشکر نے جہاد کیا اور نہ صرف یہ کہ اس کو مال غنیمت نہیں ملا بلکہ اس جماعت و لشکر کے لوگ زخمی ہوئے یا شہید کر دیے گیے تو ان کا پورا اجر باقی رہا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
للحديث احتمالان:
الأول: أن كل سَرِيَّة قاتلت الأعداء ثم سلمت منهم وغنمت فإن أجرها أقلّ من سرية أخرى لم تَسلم، أو سلمت ولم تَغْنم، كما رجحه النووي رحمه الله.
الثاني: الحديث دليل على حل الغنيمة وليست منقصة للأجر، إنما فيه تعجيل بعض الأجر مع التسوية فيه للغانم وغير الغانم إلا أن الغانم عجل له ثلثا أجره وهما مستويان في جملته وقد عوض الله من لم يغنم في الآخرة بمقدار ما فاته من الغنيمة والله يضاعف لمن يشاء، كما قال ابن عبد البر رحمه الله.
581;دیث میں دو احتمال ہیں:
پہلا احتمال: ہر وہ لشکر جس کی دشمنوں سے جنگ ہوئی اور وہ اس میں بچا رہا اور مال غنیمت بھی حاصل کیا تو اس کا اجر اس لشکر سے کم ہوگا جو صحیح سالم نہیں رہا یا اگرصحیح سالم رہا بھی تو اسے مال غنیمت حاصل نہ ہوا۔ امام نووی نے اسی احتمال کو ترجیح دی ہے۔
دوسرا احتمال: یہ حدیث غنیمت کے حلال ہونے اور اس بات کی دلیل ہے تاہم اس سے اجر میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ بس اس میں ہوتا یہ ہے کہ اجر کا کچھ حصہ جلدی مل جاتا ہے۔ باقی مال غنیمت حاصل کرنے والے یا حاصل نہ کرنے والے دونوں برابر ہیں تاہم مال غنیمت پانے والے کو اس کا دو تہائی اجر جلدی مل جاتا ہے جب کہ کل کے اعتبار سے وہ دونوں برابر ہیں۔ اللہ تعالی اس شخص کو جسے مال غنیمت نہیں ملتا اسے اتنا اجر بطور عوض عطا فرمائے گا جتنی مقدار میں وہ غنیمت سے محروم رہا ہوگا اور اللہ جسے چاہتا ہے بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔ ابن عبد البر رحمہ اللہ کی یہی رائے ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6392

 
 
Hadith   1317   الحديث
الأهمية: ما يجد الشهيد من مس القتل إلا كما يجد أحدكم من مس القَرْصَة


Tema:

شہید کو قتل سے اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی کہ تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «ما يجد الشهيد من مَسِّ القتل إلا كما يجد أحدكم من مَسِّ القَرْصَة».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شہید کو اپنے قتل سے صرف اتنی ہی تکلیف محسوس کرتا ہے جتنی تکلیف تم میں سے کوئی چیونٹی کے کاٹنے سے محسوس کرتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث بشارة النبي -صلى الله عليه وسلم- للشهيد حينما يصاب في المعركة، فإنه لا يشعر بألم إصابته إلا كما يشعر أحدنا بألم قرصة النملة.
575;س حدیث میں آپ ﷺ شہید کو دورانِ جنگ پہنچنے والی تکلیف کے بارے میں خوشخبری دے رہے ہیں کہ اسے صرف اتنی تکلیف محسوس ہوتی ہے جتنی تکلیف کوئی شخص چیونٹی کے کاٹنے سے محسوس کرتا ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6394

 
 
Hadith   1318   الحديث
الأهمية: من احتبس فرسًا في سبيل الله، إيمانًا بالله، وتصديقًا بوعده، فَإِنَّ شِبَعَهُ وَرِيَّهُ وَرَوْثَهُ وَبَوْلَه في ميزانه يوم القيامة


Tema:

جس شخص نے اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کى راه میں گھوڑا پالا، تو يقيناً اس (گھوڑے) کا چارہ، اس کا پانی، اس کی لید اور اس كا پیشاب قیامت والے دن اس کے پلڑے ميں ہوں گے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «من احْتَبَسَ فرسًا في سبيل الله، إيمانًا بالله، وتصديقًا بوعده، فَإِنَّ شِبَعَهُ وَرِيَّهُ وَرَوْثَهُ وَبَوْلَه في ميزانه يوم القيامة».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کى راه میں گھوڑا پالا، تو يقيناً اس (گھوڑے) کا چارہ، اس کا پانی، اس کی لید اور اس كا پیشاب قیامت والے دن اس کے پلڑے ميں ہوں گے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد الحديث أن من أوقف فرساً للجهاد في سبيل الله -تعالى- وابتغاء مرضاته لكي يحارب الغزاةُ عليه، ابتغاءً لوجه الله تعالى، وتصديقاً بوعده الذي وعد به، حيث قال: (وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ) فإن الله يثيبه عن كل ما يأكله أو يشربه أو يخرجه من بول أو روث حتى يضعه له في كفة حسناته يوم القيامة، وعن تميم الداري أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "من ارتبط فرساً في سبيل الله، ثم عالج علفه كان له بكل حبة حسنة". أخرجه ابن ماجه.
575;س حدیث سے معلوم ہوا کہ جس شخص نے اللہ کى راہ میں جہاد کی غرض سے خوشنودیِ الٰہی کے لیے گھوڑا وقف کیا، تاکہ مجاہدین اس پر سوار ہو کر جنگ کريں، اللہ کی رضا کی خاطر اور اس کے اس وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے جو اس نے کیا ہے، جیساکہ ارشاد فرمایا: ﴿وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ﴾ ”جو کچھ بھی اللہ کی راه میں صرف کرو گے وه تمہیں پورا پورا دیا جائے گا“۔ تو اللہ تعالیٰ اسے ہر اس چیز کا بدلہ دے گا جو وہ گھوڑا کھاتا یا پیتا ہے، یا وہ جو پیشاب یا لید خارج کرتا ہے یہاں تک کہ ان تمام چیزوں کو قیامت کے دن اس کی نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دے گا۔ تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پیغمبر ﷺ نے فرمایا: “جس نے اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) گھوڑا پالا، پھر اس کو چارہ کھلایا، اسے ہر دانے کے بدلے ایک نیکی ملے گی۔” اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6395

 
 
Hadith   1319   الحديث
الأهمية: من أعتق رقبة مسلمة أعتق الله بكل عضو منه، عضوًا منه في النار، حتى فرجه بفرجه


Tema:

جو شخص کسی مسلمان بردہ (غلام یا لونڈی) کو غلامی سے نجات دے گا، اللہ تعالٰی اس کے ہر عضو کو اس بردہ کے ہر عضو کے بدلے دوزخ کی آگ سے نجات دے گا۔ یہاں تک کہ اس کی شرم گاہ کو اس بردہ کی شرم گاہ کے بدلے ( نجات دے گا )۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «من أعتق رقبة مسلمة أعتق الله بكل عضو منه، عضوًا منه في النار، حتى فرجه بفرجه».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان بردہ (غلام یا لونڈی) کو غلامی سے نجات دے گا، اللہ تعالٰی اس کے ہر عضو کو اس بردہ کے ہر عضو کے بدلے، دوزخ کی آگ سے نجات دے گا۔ یہاں تک کہ اس کی شرم گاہ کو اس بردہ کی شرم گاہ کے بدلے (نجات دے گا)“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث بيان فضل تحرير الرقاب المسلمة، وأنَّ من أعتق رقبة فكأنما أعتق كل بدنه من النار، وأنَّ في تحرير الرقاب تحقيقُ العزة للمسلمين بإزالة ذلّ العبودية عنهم.
575;س حدیث میں مسلمان غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ جو شخص کسی مسلمان غلام یا لونڈی کو آزاد کرے گا، وہ اپنا پورا بدن جہنم کی آگ سے آزاد کرا لے گا۔ نیز واضح ہو کہ مسلمان غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کرنے میں مسلمانوں کی عزت ہے، بایں طور کہ ان سے غلامی کی ذلت دور ہو جاتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6396

 
 
Hadith   1320   الحديث
الأهمية: من أنفق نفقة في سبيل الله كُتِبَ لَهُ بِسَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ


Tema:

جو شخص اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کرتا ہے، اس کے لئے سات سو گنا ثواب لکھا جاتا ہے۔

عن أبي يحيى خريم بن فاتك -رضي الله عنه- مرفوعاً: «من أنفق نفقة في سبيل الله كُتِبَ لَهُ بِسَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ».

ابو یحییٰ خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کرتا ہے، اس کے لئے سات سو گنا ثواب لکھا جاتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث فضل الإنفاق في سبيل الله، وأنَّ المنفق له بمثل ما أنفق سبعمائة ضعف، وهذا موافق لقوله -تعالى-: (مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ).
575;س حدیث میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے, اور یہ کہ خرچ کرنے والے کو جو کچھ بھی وه خرچ کرتا ہےاس کا سات سو گنا ملتا ہے۔ یہ اللہ تعالی کے اس فرمان کے مطابق ہے: ﴿مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾ ”جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں، اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے اور اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6397

 
 
Hadith   1321   الحديث
الأهمية: من صام يوماً في سبيل الله جعل الله بينه وبين النار خندقا كما بين السماء والأرض


Tema:

جو شخص اللہ کے راستے ميں ايک دن کا روزہ رکھتا ہے، اللہ تعالی اس کے اور جہنم کی آگ کے درميان آسمان اور زمين کے درمیانی فاصلے کے بقدر خندق ڈال ديتا ہے۔

عن أبي أمامة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «من صام يوماً في سبيل الله جعل الله بينه وبين النار خَنْدَقًا كما بين السماء والأرض».

ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے راستے ميں ايک دن کا روزہ رکھتا ہے، اللہ تعالی اس کے اور جہنم کی آگ کے درميان آسمان اور زمين کے درمیانی فاصلے کے بقدر خندق ڈال ديتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث بيان فضل من صام يوما ًخالصاً لوجه الله، حيث ينجيه الله من النار ويبعده عنها كبعد السماء عن الأرض.
575;س حدیث میں اس شخص کی فضیلت کا بیان ہے جو محض اللہ کی رضا کے لیے روزہ رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے نجات دیتے ہوئے اسے جہنم سے اتنا دور کردے گا جتنا کہ آسمان, زمین سے دور ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6399

 
 
Hadith   1322   الحديث
الأهمية: من عَلِمَ الرمي، ثم تركه، فليس منا، أو فقد عصى


Tema:

جس نے تیر اندازی کا فن سیکھا، پھر اس نے اسے چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں، یا (فرمایا:) اس نے یقیناً نافرمانی کی.

عن عقبة بن عامر -رضي الله عنه- مرفوعاً: «من عَلِمَ الرمي، ثم تركه، فليس منا، أو فقد عصى».

عقبہ ابن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے تیر اندازی کا فن سیکھا، پھر اس نے اسے چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں،یا (فرمایا:) اس نے یقیناً نافرمانی کی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن من تعلم الرمي بالسهام ومثله الرمي بآلات الجهاد الحديثة كالرصاص، ثم تركه وأهمله، فقد عرض نفسه للإثم والبعد عن الهدي النبوي "فليس منا"، أي: ليس من أهل هدينا وسنتنا. "أو قد عصى" وهذا شك من الراوي، هل قال -صلى الله عليه وسلم-: "فليس منا أو فقد عصى".
581;دیث کا مفہوم: جس نے تیراندازی یا پھر جدید آلات جنگ جیسے بندوق وغیرہ کے ذریعے سے نشانہ بازی سیکھی اور پھر اس نے اسے چھوڑ دیا اور اس سلسلے میں لاپرواہی برتی تو اس نے اپنے آپ کو گناہ میں ملوث کردیا اور نبیﷺ کی سنت سے دور ہوگیا۔
”وہ ہم میں سے نہیں ہے“ یعنی وہ ہمارے طرزِعمل اور ہمارے طریقے پر قائم نہیں ہے۔ ”یا اس نے نافرمانی کی“ راوی کو اس میں شک ہے کہ آپ ﷺ نے وہ ہم میں سے نہیں ہے کہا تھا یا پھر اس نے نافرمانی کی کہا تھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6401

 
 
Hadith   1323   الحديث
الأهمية: من غسل ميتا فكتم عليه، غفر الله له أربعين مرة


Tema:

جو شخص کسی میت کو غسل دے، اور اس کی پردہ پوشی کرے تو اللہ تعالی اسے چالیس مرتبہ معاف فرمائے گا۔

عن أبي رافع -رضي الله عنه- مرفوعاً: «من غسَّل ميتاً فكتم عليه، غفر الله له أربعين مرة».

ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی میت کو غسل دے اور اس کی پردہ پوشی کرے تو اللہ تعالی اسے چالیس مرتبہ معاف فرمائے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث بيان فضل من غسَّل ميتاً فرأى منه عيباً فكتمه، والذي يرى من الميت من المكروهات نوعان: النوع الأول: ما يتعلق بحاله، النوع الثاني: ما يتعلق بجسده، فالأول: لو رأى مثلاً أن الميت تغير وجهه واسودَّ وقبح فهذا قد يكون دليلًا على سوء خاتمته نسأل الله العافية فلا يحل له أن يقول للناس إني رأيت هذا الرجل على هذه الصفة لأن هذا كشف لعيوبه والرجل قدم على ربه وسوف يجازيه بما يستحق من عدل أو فضل، والثاني: كأن يرى عيبًا في ظهره كان يستره عن الناس في حياته، والساتر  له بذلك الأجر العظيم من الغفران أربعين مرة.
575;س حدیث میں اس شخص کی فضیلت کا بیان ہے جو میت کو غسل دیتا ہے اور اس کے کسی عیب کو دیکھ کر اس پر پردہ ڈالتا ہے۔ میت کی کسی ناپسندیدہ حالت کو دیکھنا دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ جو اس کی حالت سے تعلق رکھے اور دوسرے وہ جو اس کے جسم اور بدن سے تعلق رکھے۔ پہلی قسم جیسے نہلانے والا دیکھے کہ میت کا چہرہ تبدیل ہوگیا ہے، کالا اور بدصورت ہوگیا ہے، عموماً یہ اس کے بُرے خاتمے کی علامت سمجھی جاتی ہے، اللہ کی پناہ، سو نہلانے والوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ لوگوں کو یہ کہتا پھرے کہ میں نے اس شخص کو اس حالت میں دیکھا، اس لیے کہ یہ اس کے عیوب کو بیان کرنا ہے، حالانکہ یہ میت اپنے رب کے ہاں چلا گیا ہے اور عنقریب وہ اپنے عدل و فضل کے مطابق اسے بدلہ دے گا۔ دوسرے یہ کہ نہلانے والا میت کی پیٹھ پر کوئی عیب دیکھے جسے وہ اپنی زندگی میں لوگوں سے چھُپاتا رہا، تو اس عیب کو چُھپانے والے کے لیے اجرِ عظیم چالیس مرتبہ معافی کی صورت میں ملے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6402

 
 
Hadith   1324   الحديث
الأهمية: مَنْ لَمْ يَغْزُ أَوْ يُجَهِّزْ غَازِيًا أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا في أهله بخير، أصابه الله بقارعة قبل يوم القيامة


Tema:

جس نے جہاد نہیں کیا یا کسی جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم نہیں کیا یا کسی مجاہد کے اہل و عیال کی بھلائی کے ساتھ خبر گیری نہ کی تو اللہ روز قیامت سے پہلے اسے کسی سخت مصیبت سے دو چار کرے گا۔

عن أبي أمامة -رضي الله عنه- مرفوعاً: « مَنْ لَمْ يَغْزُ أَوْ يُجَهِّزْ غَازِيًا أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا في أهله بخير، أصابه الله بقارعة قبل يوم القيامة ».

ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”'جس نے جہاد نہیں کیا یا کسی جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم نہیں کیا یا کسی مجاہد کے اہل و عیال کی بھلائی کے ساتھ خبر گیری نہ کی تو اللہ روز قیامت سے پہلے اسے کسی سخت مصیبت سے دو چار کرے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث الحث على الغزو، وبيان العقوبة  الشديدة من الله -تعالى- في الدنيا قبل الآخرة على من ترك الجهاد في سبيل الله أو ترك إعانة المجاهدين بالمال أو بمساعدتهم في رعاية أهليهم والحفاظ عليهم من بعدهم، فمن ترك القيام بهذه الأمور أصابته المصائب العظام جراء تقصيره في نصرة دين الله -تعالى-.
575;س حدیث میں جہاد پر نکلنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس شخص کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے آخرت سے پہلے دنیا ہی میں سخت سزا کی وعید ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کو چھوڑ دیتا ہے یا پھر مجاہدین کی مال کی صورت میں اعانت نہیں کرتا یا ان کے اہل و عیال کی خبرگیری اور ان کی حفاظت کرکے ان کی مدد نہیں کرتا۔ جو شخص ان تمام امور کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ اللہ تعالی کے دین کی نصرت میں کوتاہی کرنے کی وجہ سے سخت مصائب میں مبتلا ہوتا ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6403

 
 
Hadith   1325   الحديث
الأهمية: مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْز وَلَمْ يُحَدِّث نَفْسَهُ بِالْغَزْو مَاتَ عَلَى شُعْبَة مِنْ نِفَاق


Tema:

جو شخص مر گیا اور اس نے نہ جہاد کیا اور نہ ہی کبھی اس کی نیت کی تو وہ نفاق کی قسموں میں سے ایک قسم پر مرا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «من مات ولم يَغْزُ، ولم يُحدث نفسه بالغزو، مات على شُعْبَةٍ من نِفَاقٍ»

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مر گیا اور اس نے نہ جہاد کیا اور نہ ہی کبھی اس کی نیت کی تو وہ نفاق کی قسموں میں سے ایک قسم پر مرا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كل رجل قادر على الغزو يبلغه الأجل ولم يغز ولم يحدث نفسه بذلك أي لم يكلم بالغزو نفسه، والمعنى لم يعزم على الجهاد ففيه شيء من النفاق، ومن علاماته في الظاهر إعداد آلة الغزو، قال تعالى: (ولو أرادوا الخروج لأعدوا له عدة).
وقوله: (مات على شعبة من نفاق): أي: نوع من أنواع النفاق ، أي: من مات على هذا فقد أشبه المنافقين والمتخلفين عن الجهاد، ومن تشبه بقوم فهو منهم، فيجب على كل مؤمن أن ينوي الجهاد.
وكونه يغزو أي: بشروط الغزو والجهاد، فإذا توفرت عُمل به وإلا بقيت النية موجودة إلى حين توفر دواعي الجهاد.
729;ر وہ شخص جو جہاد کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور اس کی اس حال میں موت آ جائے کہ اس نے کبھی جہاد نہ کیا ہو اور نہ اس کا خیال ہی اس کے دل میں گزرا ہو یعنی کبھی اس نے جہاد کا ارادہ نہ کیا ہو تو جان لینا چاہیے کہ اس میں نفاق کے کچھ اثرات ہیں۔ ظاہری طور پر جہاد کے ارادے کی علامت یہ ہے کہ جنگ کے آلات کو تیار کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً﴾ ”اوراگر وہ نکلنے کا ارادہ رکھتے تو اس کے لیے سامان تیارکرتے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مَاتَ عَلى شُعْبَةٍ مِن نِفَاقٍ“ یعنی نفاق کی ایک نوع پر مرا۔ یعنی جو اس حال میں مرا، (اس کا مطلب یہ ہے کہ) یہ منافقین اور جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں سے مشابہت رکھتا ہے اور جو کسی قوم سے مشابہت رکھتا ہے وہ انہی میں سے ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر مومن پر یہ واجب ہے کہ وہ جہاد کی نیت کرے۔ جہاد کرنے سے مراد جہاد کے تمام شروط پائے جانے پر جہاد کرنا ہے ورنہ مومن اپنی نیت بر باقی رہے گا جب تک کہ اسے جہاد میں جانے کے لیے تمام شروط متوفر نہ ہو جائیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6404

 
 
Hadith   1326   الحديث
الأهمية: هذه رحمة جعلها الله -تعالى- في قلوب عباده، وإنما يرحم الله من عباده الرحماء


Tema:

یہ تو اللہ کی رحمت ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے (نیک) بندوں کے دلوں میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے ان رحم دل بندوں پر رحم فرماتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔

عن أسامة بن زيد -رضي الله عنهما- قال: رُفع إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم -  ابن ابنته وهو في الموت، ففاضت عينا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال له سعد: ما هذا يا رسول الله؟! قال: «هذه رحمة جعلها الله -تعالى- في قلوب عباده، وإنما يرحم الله من عباده الرحماء».

اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ کے پاس ان کے نواسے کو اس وقت لایا گیا، جب وہ موت کے کشمکش میں تھے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ سعد رضی اللہ عنہ بول اٹھے کہ یا رسول اللہ!یہ رونا کیسا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو اللہ کی رحمت ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے (نیک) بندوں کے دلوں میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے ان رحم دل بندوں پر رحم فرماتا ہے، جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر أسامة بن زيد الذي كان يلقب بحِب رسول الله صلى الله عليه وسلم أن إحدى بنات الرسول صلى الله عليه وسلم أرسلت إليه رسولا، تقول له إن ابنها قد احتضر، أي: حضره الموت. وأنها تطلب من النبي صلى الله عليه وسلم أن يحضر، فبلغ الرسولُ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ((مرها فلتصبر ولتحتسب، فإن لله ما أخذ وله ما أعطى، وكل شيء عنده بأجل مسمى)): أمر النبي عليه الصلاة والسلام الرجل الذي أرسلته ابنته أن يأمر ابنته -أم هذا الصبي- بهذه الكلمات:
قوله: ((فإن لله ما أخذ وله ما أعطى)) هذه الجملة عظيمة؛ إذا كان الشيء كله لله، إن أخذ منك شيئا فهو ملكه، وإن أعطاك شيئا فهو ملكه، فكيف تسخط إذا أخذ منك ما يملكه هو؟
ولهذا يسن للإنسان إذا أصيب بمصيبة أن يقول ((إنا لله وإنا إليه راجعون)) يعني: نحن ملك لله يفعل بنا ما يشاء، وكذلك ما نحبه إذا أخذه من بين أيدينا فهو له- عز وجل- له ما أخذ وله ما أعطى، حتى الذي يعطيك أنت لا تملكه، هو لله، ولهذا لا يمكن أن تتصرف فيما أعطاك الله إلا على الوجه الذي أذن لك فيه؛ وهذا دليل على أن ملكنا لما يعطينا الله ملك مؤقت.
قوله: ((بأجل مسمى)) أي: مُعيَّن، فإذا أيقنت بهذا؛ إن لله ما أخذ وله ما أعطي، وكل شيء عنده بأجل مسمي؛ اقتنعت. وهذه الجملة الأخيرة تعني أن الإنسان لا يمكن أن يغير المكتوب المؤجل لا بتقديم ولا بتأخير، كما قال الله: (لكل أمة أجل إذا جاء أجلهم فلا يستأخرون ساعة ولا يستقدمون) (يونس: من الآية49) فلا فائدة من الجزع والتسخط؛ لأنه وإن جزعت أو تسخطت لن تغير شيئا من المقدور.
ثم إن الرسول أبلغ بنت النبي صلى الله عليه وسلم ما أمره أن يبلغه إياها، ولكنها أرسلت إليه تطلب أن يحضر، فقام عليه الصلاة والسلام هو وجماعة من أصحابه، فوصل إليها، فرفع إليه الصبي ونفسه تتقعقع؛ أي تضطرب، تصعد وتنزل، فبكى الرسول عليه الصلاة والسلام ودمعت عيناه. فقال سعد بن عبادة وكان معه- هو سيد الخزرج-: ما هذا؟ ظن أن الرسول صلي الله عليه وسلم بكى جزعا، فقال النبي عليه الصلاة والسلام: ((هذه رحمة)) أي بكيت رحمة بالصبي لا جزعا بالمقدور، ثم قال عليه الصلاة والسلام: ((إنما يرحم الله من عباده الرحماء)) ففي هذا دليل على جواز البكاء رحمة بالمصاب.
575;سامہ بن زید رضی اللہ عنھما جو ”حُبُّ رسولِ اللہ (ﷺ)“ کے لقب معروف تھے، بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کی ایک صاحب زادی نے آپ کے پاس قاصد بھیج کر کہلوایا کہ ان کا بیٹا قریب المرگ ہے۔ اور ان کی خواہش ہے کہ نبی کریم ﷺ تشریف لائیں۔ قاصد آپ کے پاس پہنچا تو آپ نے اس سے کہا: ”ان سے کہو کہ صبر کریں اور ثواب کی امید رکھیں۔ جو اللہ نے لے لی، وہ اسی کی تھی اور جو اس نے دی تھی، وہ بھی اسی کی تھی اور ہر چیز کا اس کے پاس ایک وقت مقرر ہے“۔ یعنی نبی ﷺ نے اس شخص کو جسے آپ ﷺ کی بیٹی نے بھیجا تھا، حکم دیا کہ وہ آپ ﷺ کی بیٹی، جو اس بچے کی ماں تھیں، ان سے یہ الفاظ کہے۔
آپ ﷺ کا فرمان: ” جو اللہ نے لے لی، وہ اسی کی تھی اور جو اس نے دی تھی، وہ بھی اسی کی تھی“ بہت ہی معنی خیز جملہ ہے۔ جب ہر شے اللہ کی ہے، بایں طور کہ اگر آپ سے اللہ کوئی شے لے لے، تو وہ بھی اس کی ملکیت ہے اور اگر کوئی شے دے، تو وہ بھی اسی کی ملکیت ہے، تو پھر اگر اپنی مملوکہ شے کو وہ لے لے، تو اس پر ناراضگی کا اظہار کیا معنی رکھتا ہے؟
اس لیے انسان کے لیے یہ سنت ہے کہ جب کوئی مصیبت لاحق ہو تو یہ دعا پڑھے:”إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“ ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ یعنی ہم سب اللہ کی ملکیت ہیں اور وہ ہمارے ساتھ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ چنانچہ اگر وہ ہم سے ہماری کوئی پسندیدہ شے لے لے تو (جان رکھنا چاہیے کہ) جس شے کو وہ لیتا ہے یا جس شے کو وہ دیتا ہے، سب اسی کا ہے۔ حتی کہ جو شے اللہ تعالی آپ کو دیتا ہے آپ اس کے مالک نہیں ہوتے بلکہ وہ اللہ ہی کی ہوتی ہے۔ اسی لیے جو اشیا اللہ آپ کو دیتا ہے وہ آپ کی ملکیت نہیں بلکہ وہ اللہ کی ہیں۔ اس لیے ان میں آپ اسی طرح سے تصرف کر سکتے ہیں جس طرح سے اللہ اجازت دے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی عطا کردہ اشیا پر ہماری ملکیت ناقص ملکیت ہےاور ان میں ہم تصرف مطلق نہیں کر سکتے۔
آپ ﷺ کا فرمان: ”بأجل مسمى" یعنی معین مدت ہے۔ جب آپ کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ اللہ جو کچھ لیتا یا جو کچھ دیتا ہے، سب اسی کا ہے اور یہ کہ اس کے یہاں ہر شے کا ایک وقت مقرر ہے، تو آپ مطمئن ہو جاتے ہیں۔ اس آخری جملے کا معنی یہ ہے کہ جس شے کا واقع ہونا معینہ وقت پر لکھ دیا گیا ہو، اس میں انسان تبدیلی نہیں کر سکتا، بایں طور کہ نہ تو اسے آگے کر سکتا ہے اور نہ ہی پیچھے۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ إِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَلا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلا يَسْتَقْدِمُونَ﴾ ”ہر امت کے لیے ایک معین وقت ہے، جب ان کا وه معین وقت آپہنچتا ہے، تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے سرک سکتے ہیں“۔ (یونس: 49) اگر ہر شے متعین ہے اور آگے پیچھے نہیں ہو سکتی تو پھر بے صبری کرنے اور نالاں ہونےمیں کوئی فائدہ نہیں۔ کیوںکہ بے صبری کر کے اور نالاں ہو کر آپ جو شے مقدر ہو، اس میں تبدیلی نہیں کرسکتے۔
اس پیغام لانے والے نے نبی ﷺ کی صاحبزادی تک وہ بات پہنچا دی جسے پہنچانے کا آپ ﷺ نے حکم دیا تھا۔ لیکن انہوں نے دوبارہ پیغام بھیجا کہ آپ ﷺ تشریف لائیں۔ اس پر آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت اٹھ کھڑی ہوئی۔ آپ ﷺ جب ان کے پاس پہنچے تو بچے کو آپ ﷺ کے پاس لایا گیا،اس حال میں کہ اس کی سانس اوپر نیچے ہو رہی تھی۔ اس پر رسول اللہ ﷺ رو دیے اور آپ ﷺ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سمجھے کہ رسول اللہ ﷺ صبر نہ کر سکنے کی وجہ سے رو پڑے ہیں۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو رحمت ہے“ یعنی میں تقدیر پر بے صبرا ہو کر نہیں، بلکہ بچے پر رحم کی وجہ سے رویا ہوں۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اپنے بندوں میں سے انہی پر رحم کرتے ہیں اور جو رحم دل ہوتے ہیں۔ اس میں دلیل ہے کہ رحم دلانہ جذبات کے ساتھ کسی مصیبت زدہ پر از راہ رحمت رونا جائز ہے“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6405

 
 
Hadith   1327   الحديث
الأهمية: هل أتى عليك يوم كان أشد من يوم أحد؟ قال: لقد لقيت من قومك، وكان أشد ما لقيت منهم يوم العقبة


Tema:

کیا آپ پر کوئی دن اُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت گزرا ہے؟ آپ ﷺ نے اس پر فرمایا کہ تمہاری قوم (قریش) کی طرف سے میں نے کتنی مصیبتیں اٹھائی ہیں لیکن اس سارے دور میں عقبہ کا دن مجھ پر سب سے زیادہ سخت تھا۔

عن عائشة - رضي الله عنها- أنها قالت للنبي - صلى الله عليه وسلم - : هل أتى عليك يوم كان أشد من يوم أُحُدٍ ؟ قال: «لقد لقيت من قومك، وكان أشد ما لقيت منهم يوم العقبة، إذ عرضت نفسي على ابن عبد يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، فلم يجبني إلى ما أردت، فانطلقت وأنا مهموم على وجهي، فلم أستفق إلا وأنا  بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ، فرفعت رأسي، وإذا أنا بسحابة قد أظلتني، فنظرت فإذا فيها جبريل - عليه السلام - فناداني، فقال: إن الله تعالى قد سمع قول قومك لك، وما ردوا عليك، وقد بعث إليك ملك الجبال لتأمره بما شئت فيهم. فناداني ملك الجبال، فسلم علي، ثم قال: يا محمد إن الله قد سمع قول قومك لك، وأنا ملك الجبال، وقد بعثني ربي إليك لتأمرني بأمرك، فما شئت، إن شئت أطبقت عليهم  الْأَخْشَبَيْنِ».

نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا، کیا آپ پر کوئی دن اُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت گزرا ہے؟ آپ ﷺ نے اس پر فرمایا کہ تمہاری قوم (قریش) کی طرف سے میں نے کتنی مصیبتیں اٹھائی ہیں لیکن اس سارے دور میں عقبہ کا دن مجھ پر سب سے زیادہ سخت تھا یہ وہ موقع تھا جب میں نے (طائف کے سردار) کنانہ بن عبد یا لیل بن عبد کلال کے ہاں اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔ لیکن اس نے (اسلام کو قبول نہیں کیا اور) میری دعوت کو رد کر دیا۔ میں وہاں سے انتہائی رنجیدہ ہو کر واپس ہوا۔ پھر جب میں قرن الثعالب پہنچا، تب مجھ کو کچھ ہوش آیا، میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بدلی کا ایک ٹکڑا میرے اوپر سایہ کئے ہوئے ہے اور میں نے دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اس میں موجود ہیں، انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں آپ کی قوم کی باتیں سن چکا اور جو انہوں نے رد کیا ہے وہ بھی سن چکا۔ آپ کے پاس اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے، آپ ان کے بارے میں جو چاہیں اس کا اسے حکم دے دیں۔ اس کے بعد مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی، انہوں نے مجھے سلام کیا اور کہا کہ اے محمد ﷺ! اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں آپ کی قوم کی باتیں سن چکا، میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں، اللہ تعالی نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ جو چاہیں (اس کا مجھے حکم فرمائیں) اگر آپ چاہیں تو میں دونوں طرف کے پہاڑ ان پر لا کر ملا دوں (جن سے وہ چکنا چور ہو جائیں)۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال النبي -صلى الله عليه وسلم- لعائشة لما سألته: هل مر عليك يوم أشد من يوم أحد؟ قال: نعم، وذكر لها قصة ذهابه إلى الطائف؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- لما دعا قريشاً في مكة، ولم يستجيبوا له خرج إلى الطائف؛ ليبلغ كلام الله -عزّ وجلّ-، ودعا أهل الطائف لكن كانوا أسفه من أهل مكة، بل جعلوا يرمونه بالحجارة، يرمونه بالحصى حتى أدموا عَقِبه -صلى الله عليه وسلم- وعرض نفسه على ابن عبد ياليل بن عبد كلال من كبار أهل الطائف من ثقيف، فلم يجبه إلى ما أراد فخرج مغموماً مهموماً، ولم يفق -صلى الله عليه وسلم- إلا وهو في مكان يدعى قرن الثعالب، فأظلّته غمامة فرفع رأسه، فإذا في هذه الغمامة جبريل -عليه السلام-، وقال له: هذا ملك الجبال يقرؤك السلام فسلم عليه وقال: إن ربي أرسلني إليك، فإن شئت أن أطبق عليهم -يعني الجبلين- فعلت. ولكن النبي -صلى الله عليه وسلم- لحلمه وبُعد نظره وتأنيه في الأمر قال: لا؛ لأنه لو أطبق عليهم الجبلين هلكوا، فقال: ((لا، وإني لأرجو أن يخرج الله من أصلابهم من يعبد الله وحده لا يشرك به شيئاً)) .
وهذا الذي حدث؛ فإن الله -تعالى- قد أخرج من أصلاب هؤلاء المشركين الذين آذوا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- هذه الأذية العظيمة أخرج من أصلابهم من يعبد الله وحده ولا يشرك به شيئاً.
575;م المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب آپ ﷺ سے پوچھا کہ کیا اُحُد سے بھی زیادہ سخت دن آپ پر گزرا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں اور طائف کی طرف جانے کا واقعہ ذکر فرمایا۔ کہ جب آپ ﷺ نے مکہ میں قریش کو دعوت دی اور انہوں نے انکار کیا، تو آپ طائف کی طرف نکلے تاکہ ان کو اللہ کا پیغام پہنچائیں، طائف والوں کو دعوت دی لیکن وہ مکہ والوں سے زیادہ بے وقوف نکلے، بلکہ انہوں نے آپ ﷺ کو پتھروں سے مارا اور کنکریاں پھینکیں، یہاں تک کہ آپ کی ایڑی لہو لہان ہو گئی۔ آپ نے قبیلہ ثقیف کے سردار ابن عبد یالیل بن عبد کلال پر اسلام پیش کیا، اس نے اسلام قبول نہیں کیا، آپ ﷺ غمزدہ اور پریشان لوٹے، جب تک آپ قرن الثعالب نہیں پہنچے تھے آپ کو افاقہ نہ ہوا، وہاں بادل نے آپ پر سایہ کیا، آپ نے سر اٹھایا، تو بادل جبرائیل علیہ السلام تھے، جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے کہا، یہ پہاڑوں کا فرشتہ آپ کو سلام کہتا ہے، پھر فرشتے نے سلام کیا اور کہا کہ میرے رب نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، اگر آپ چاہے ان پر دونوں پہاڑوں کو ملا دوں۔آپ ﷺ نے اپنے حلم و بُردباری اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا نہیں۔ اس لیے کہ اگر ان پر دونوں پہاڑوں کو ملایا جاتا تو وہ ہلاک ہوجاتے چنانچہ فرمایا: ”مجھے تو اس کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسی اولاد پیدا کرے گا جو اکیلے اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گی“۔
اور ایسا ہی ہوا، اللہ نے آپ ﷺ کو اتنی سخت تکلیف دینے والے ان مشرکین کی نسلوں میں سے ایسے لوگوں کو پیدا کیا جو ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6406

 
 
Hadith   1328   الحديث
الأهمية: إنك امرؤ فيك جاهلية هم إِخْوَانُكُمْ وخَوَلُكُمْ جعلهم الله تحت أيديكم، فمن كان أخوه تحت يده، فليطعمه مما يأكل، وليلبسه مما يلبس، ولا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ


Tema:

بیشک تجھ میں ابھی کچھ زمانہ جاہلیت کا اثر باقی ہے۔ تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دے رکھا ہے۔ اس لیے جس کا بھی کوئی بھائی اس کے قبضہ میں ہو اسے وہی کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔لیکن اگر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالو تو پھر ان کی خود مدد بھی کر دیا کرو۔

عن المعرور بن سويد، قال: رأيت أبا ذر -رضي الله عنه- وعليه حلة وعلى غلامه مثلها، فسألته عن ذلك، فذكر أنه قد سابَّ رجلا ًعلى عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فَعَيَّره بأمه، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «إنك امْرُؤٌ فيك جاهلية هم إِخْوَانُكُمْ وخَوَلُكُمْ جعلهم الله تحت أيديكم، فمن كان أخوه تحت يده، فليُطعمه مما يأكل، وليُلْبِسْهُ مما يلبس، ولا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ ».

معرور بن سوید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے بدن پر بھی ایک جوڑا تھا اور ان کے غلام کے بدن پر بھی اسی قسم کا ایک جوڑا تھا۔ ہم نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ عہد رسالت میں ایک دفعہ میری ایک صاحب سے کچھ گالی گلوچ ہو گئی تھی، چنانچہ انہوں نے ان کی ماں کی طرف سے عار دلائی۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تجھ میں ابھی کچھ زمانہ جاہلیت کا اثر باقی ہے۔ تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دے رکھا ہے۔ اس لیے جس کا بھی کوئی بھائی اس کے قبضہ میں ہو اسے وہی کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔ لیکن اگر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالو تو پھر ان کی خود مدد بھی کر دیا کرو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث الحث على معاملة المماليك معاملة حسنة خاصة في الملبس والمأكل، وألا يكلفوهم فوق طاقتهم إلا إذا ساعدوهم في هذا التكليف، وفيه الوعيد الشديد لمن يعيرهم ويحقرهم؛ لأنهم إخوان لنا في الدين.
575;س حدیث میں غلاموں کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے پر زور دیا گیا ہے خاص کر ان کے لباس اور کھانے کے معاملے میں اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ان کو ان کی طاقت سے زیادہ انہیں مکلف نہ بنایا جائے، تاہم سونپ بھی دیا تو اس کام میں ان کی مدد کرے۔ اور اس حدیث میں اس شخص کے لیے سخت وعید ہے جو دوسرے کو عار دلائے اور ان کو حقیر جانے، اس لیے کہ وہ ہمارے دینی بھائی ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6407

 
 
Hadith   1329   الحديث
الأهمية: يا أم حارثة إنها جنان في الجنة، وإن ابنك أصاب الفردوس الأعلى


Tema:

اے ام حارثہ! جنت کے کئی درجات ہیں، تیرے بیٹے نے تو فردوس اعلی پائی ہے۔

عن أنس -رضي الله عنه-: أن أم الربيع بنت البراء وهي أم حارثة بن سراقة، أتت النبي -صلى الله عليه وسلم- فقالت: يا رسول الله، ألا تُحَدِّثُني عن حارثة -وكان قتل يوم بدر- فإن كان في الجنة صَبَرْتُ، وإن كان غير ذلك اجتهدت عليه في البكاء، فقال: «يا أم حارثة إنها جنان في الجنة، وإن ابنك أصاب الفردوس الأعلى».

انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ام ربیع بنت براء جو حارثہ بن سراقہ کی والدہ تھیں، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ! آپ مجھے حارثہ کے بارے نہیں بتائیں گے (کہ وہ کس حال میں ہے)، وہ جنگ بدر میں شہید ہو گئے تھے، اگر تو وہ جنت میں ہے، تو میں صبر کروں اور اگر جنت میں نہیں، تو میں اس پر خوب رؤوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام حارثہ! جنت کے کئی درجات ہیں، تیرے بیٹے نے تو فردوس اعلی پائی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاءت أم حارثة -رضي الله عنها- تسأل عن حال ابنها بعد أن انتهى القتال فإن كان قد أصاب الجنة صبرت واحتسبتُ الأجرَ عند الله، وإن كان غير ذلك اجتهدتُ عليه في البكاء كما يفعل غالب النساء، فبشرها النبي -عليه الصلاة والسلام- بأنه في الجنة، وأنه أصاب الفردوس الأعلى منها.
575;م حارثہ رضی اللہ عنہا لڑائی ختم ہونے کے بعد اپنے بیٹے کے بارے پوچھنے کے لیے آئیں کہ اگر وہ جنت میں گیا ہے تو میں صبر کروں گی اور اللہ سے اجر کی امید رکھوں گی اور اگر ایسا نہیں تو پھر خوب روؤں جیسے عام طور پر عورتیں کیا کرتی ہیں۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے انہیں خوشخبری سنائی کہ وہ جنت میں ہے اور جنت کے بھی اس درجے میں جسے فردوسِ اعلی کہا جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6408

 
 
Hadith   1330   الحديث
الأهمية: أَتَدْرُونَ مَنِ المُفْلِسُ


Tema:

کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے؟

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «أتدرون من المفلس؟» قالوا: المفلس فينا من لا دِرْهَمَ له ولا متاع، فقال: «إن المفلس من أمتي من يأتي يوم القيامة بصلاة وصيام وزكاة، ويأتي وقد شتم هذا، وَقَذَفَ هذا، وأكل مال هذا، وسَفَكَ دم هذا، وضرب هذا، فيعطى هذا من حسناته، وهذا من حسناته، فإن فنيت حسناته قبل أن يقضى ما عليه، أخذ من خطاياهم فطُرِحَتْ عليه، ثم طرح في النار».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے؟ صحابہ نے جواب دیا: ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس کوئی روپیہ پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوۃ جیسے اعمال لے کر آئے گا۔ تاہم اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت دھری ہو گی، کسی کا مال (ناحق) کھایا ہو گا اور کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا۔چنانچہ اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں اور اس پر واجب الاداء حقوق ابھی باقی رہے تو ان لوگوں کے گناہ لے کر اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يسأل النبي -صلى الله عليه وسلم- الصحابة -رضوان الله عليهم- فيقول: أتدرون من المفلس؟ فأخبروه بما هو معروف بين الناس، فقالوا: هو الفقير الذي ليس عند نقود ولا متاع.
فأخبرهم النبي -صلى الله عليه وسلم- أن المفلس من هذه الامة من يأتي يوم القيامة بحسنات عظيمة، وأعمال صالحات كثيرة من صلاة وصيام وزكاة، فيأتي وقد شتم هذا، وضرب هذا، وأخذ مال هذا، وقذف هذا، وسفك دم هذا، والناس يريدون أن يأخذوا حقهم؛ فما لا يأخذونه في الدنيا يأخذونه في الآخرة، فيقتص لهم منه، فيأخذ هذا من حسناته، وهذا من حسناته، وهذا من حسناته بالعدل والقصاص بالحق، فإن فنيت حسناته أخذ من سيئاتهم فطرحت عليه، ثم طرح في النار.
606;بی ﷺ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے؟۔ انہوں نے آپ ﷺ کو مفلس کا وہی معنی بتایا جو لوگوں کے مابین معروف ہے یعنی وہ فقیر شخص جس کے پاس نہ تو کچھ نقدی ہو اور نہ سامان۔ نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ اس امت میں سے مفلس وہ ہے جوقیامت کے دن بڑی بڑی نیکیاں لے کر آئے گا اور نماز، روزہ اور زکوۃ کی شکل میں اس کے بہت سے نیک اعمال ہوں گے لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی کو مارا ہو گا، کسی کا مال ناحق بٹورا ہوگا، کسی پر تہمت لگائی ہو گی اور کسی کا خون بہایا ہو گا اور لوگ اس سے اپنا بدلہ لینا چاہیں گے۔ جو وہ دنیا میں نہ لے سکے اسے آخرت میں وصول کریں گے۔ چنانچہ اللہ تعالی اس سے ان کا بدلہ لے گا اور یوں یہ لوگ پورے انصاف کے ساتھ بطور بدلہ اس کی نیکیاں لے لیں گے۔ اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو پھر ان کے گناہ لے کر اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6454

 
 
Hadith   1331   الحديث
الأهمية: والذي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الجَنَّةِ وذَلِكَ أَنْ الجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إلا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وما أنتم في أهل الشرك إلا كالشعرة البيضاء في جلد الثور الأسود


Tema:

قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے! مجھے امید ہے کہ اہلِ جنت میں سے آدھے تم ہو گے کیونکہ جنت میں وہی جائے گا جو مسلمان ہے اور تم مشرکوں کے اندر ایسے ہو جیسے ایک سفید بال سیاہ بیل کی کھال میں ہو یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک سرخ بیل کی کھال میں ایک سیاہ بال ہو۔

عن ابن مسعود -رضي الله عنه- قال: كنا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في قُبَّةٍ نحوا من أربعين، فقال: «أترضون أن تكونوا ربع أهل الجنة؟» قلنا: نعم، قال: «أترضون أن تكونوا ثلث أهل الجنة؟» قلنا: نعم، قال: «والذي نفس محمد بيده، إني لأرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة وذلك أن الجنة لا يدخلها إلا نفس مسلمة، وما أنتم في أهل الشرك إلا كالشعرة البيضاء في جلد الثور الأسود، أو كالشعرة السوداء في جلد الثور الأحمر».

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ ایک خیمے میں چالیس کے قریب افراد بیٹھے ہوئے تھے، نبی ﷺ نے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش اور راضی ہو کہ تم تمام اہلِ جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہو؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں۔ پھر پوچھا: کیا تم ایک تہائی حصہ ہونے پر خوش ہو؟ ہم نے پھر اثبات میں جواب دیا، فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم تمام اہل جنت کا نصف ہوگے، کیونکہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہوسکے گا جو مسلمان ہو۔ اور اہلِ شرک کے ساتھ تمہاری نسبت ایسی ہی ہے جیسے سیاہ بیل کی کھال میں سفید بال یا سرخ بیل کی کھال میں سیاہ بال ہوتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جلس النبي -صلى الله عليه وسلم- مع أصحابه في خيمة صغيرة، وكانوا قرابة أربعين رجلا، فسألهم -صلى الله عليه وسلم-: هل ترضون أن تكونوا ربع أهل الجنة؟ قالوا: نعم، فقال: هل ترضون أن تكونوا ثلث أهل الجنة؟ قالوا: نعم، فأقسم النبي -صلى الله عليه وسلم- بربه ثم قال: إن لأرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة، والنصف الآخر من سائر الأمم، فإن الجنة لا يدخلها إلا مسلم فلا يدخلها كافر، وما أنتم في أهل الشرك من سائر الأمم إلا شيء يسير جدا، مثل به بالشعرة الواحدة المتميزة لونا في جلد الثور المليء بالشعر".
575;للہ کے رسول ﷺ تقريبا جاليس صحابہ کرام کے ساتھ ايک چھو ٹے سے خيمہ ميں بيٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم اس بات پر خوش اور راضی ہو کہ تم تمام اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہو؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ پھر فرمايا: کیا تم اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہونے پر خوش ہو؟ انہوں نے پھر اثبات میں جواب دیا، تو اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا کر کہا کہ مجھے امید ہے کہ تم تمام اہل جنت کا نصف ہوگے اور دوسرا نصف باقی ساری امتوں سے ہوں گے۔کیونکہ جنت میں صرف مسلمان داخل ہوں گے، اس میں کوئی کافر نہیں جائے گا۔ اور اہلِ شرک کے ساتھ تمہاری نسبت ایسی ہی ہے جیسے سیاہ بیل کی کھال میں سفید بال یا سرخ بیل کی کھال میں سیاہ بال ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6455

 
 
Hadith   1332   الحديث
الأهمية: إذا أَحَبَّ اللهُ -تعالى- العَبْدَ، نَادَى جِبْرِيلَ: إنَّ اللهَ تعالى يُحِبُّ فلانا، فَأَحْبِبْهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، فَيُنَادِي في أَهْلِ السَّمَاءِ: إنَّ اللهَ يًحِبُّ فلانا، فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ القَبُولُ في الأرض


Tema:

اللہ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہےتو جبریل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں فُلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور آسمان والوں میں اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’اللہ فُلاں سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو‘‘ چنانچہ اس سے آسمان والے بھی محبت کرنے لگتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعًا: «إذا أحب الله تعالى العبد، نادى جبريل: إن الله تعالى يحب فلانا، فأحْبِبْهُ، فيحبه جبريل، فينادي في أهل السماء: إن الله يحب فلاناً، فأحبوه، فيحبه أهل السماء، ثم يوضع له القَبُولُ في الأرضِ».
وفي رواية لمسلم: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إنَّ اللهَ تعالى إذا أحب عبدًا دعا جبريل، فقال: إني أحب فلانا فَأَحْبِبْهُ، فيحبه جبريل، ثم ينادي في السماء، فيقول: إن الله يحب فلاناً فأحبوه، فيحبه أهل السماء، ثم يوضع له القَبُولُ في الأرضِ، وإذا أبغض عبدا دعا جبريل، فيقول: إني أبغض فلاناً فأبغضه. فيبغضه جبريل، ثم ينادي في أهل السماء: إن الله يبغض فلاناً فأبغضوه، ثم تُوضَعُ له البَغْضَاءُ في الأرض».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالی کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو پکار کر فرماتا ہے کہ اللہ تعالی فلاں بندے سے محبت کرتا ہے اس لیے تو بھی اس سے محبت رکھ۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور اہلِ آسمان میں اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے اس لیے تم سب بھی اس سے محبت کرو چنانچہ آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور زمین میں اس کے لیے مقبولیت لکھ دی جاتی ہے“۔
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور آسمان میں اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ فُلاں سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ اس سے آسمان والے بھی محبت کرنے لگتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں مقبولیت لکھ دی جاتی ہے۔ اور جب رب تعالیٰ کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر کہتا ہے کہ میں فُلاں سے نفرت کرتا ہوں تم بھی اس سے نفرت کرو۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے نفرت کرتے ہیں، پھر آسمان والوں میں اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ فلاں سے نفرت کرتا ہے اس لیے تم لوگ بھی اس سے نفرت کرو۔ پھر زمین میں اس کے لیے نفرت لکھ دی جاتی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن الله -تعالى- إذا أحب شخصًا نادى جبريل، وهذا تفضيل له على الملائكة، إني أحب فلانًا فأحبه، فيحبه جبريل، ثم ينادي جبريل في أهل السماء: إن الله يحب فلانًا فأحبوه، فيحبه أهل السماء، وهم الملائكة، ثم يوضع له القبول في الأرض فيحبه أهل الأرض من أهل الإيمان والدين،
وإذا أبغض الله أحدًا فمقته وكرهه نادى جبريل: إني أبغض فلانًا فأبغضه، فيُبغضه جبريل، تبعًا لبغض الله له، ثم ينادي جبريل في أهل السماء: إن الله يبغض فلانًا فأبغضوه، فيبغضه أهل السماء، ثم يوضع له البغضاء في الأرض، فيبغضه ويكرهه أهل الأرض.
580;ب اللہ تعالی کسی شخص سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو بلا کر کہتا ہے کہ:میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو۔ اس میں فرشتوں پر اس کی فضیلت کا بیان ہے۔ چنانچہ جبریل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں اور آسمان والوں میں پکار کر کہتے ہیں کہ: اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں جو کہ فرشتے ہیں۔ پھر زمین میں بھی اس کے لئے قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ چنانچہ زمین میں موجود اہل ایمان اور دین دار لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔
اور جب اللہ کسی سے نفرت کرتا اور اس پر ناراض ہوتا اور اسے ناپسند کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو بلا کر کہتا ہے: میں فلاں سے نفرت کرتا ہوں، تم بھی اس سے نفرت کرو۔ چنانچہ اللہ کی اس سے نفرت کے واسطے جبریل علیہ السلام بھی اس سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں۔ پھر جبریل علیہ السلام آسمان والوں میں پکار کر کہتے ہیں:اللہ فلاں سے نفرت کرتا ہے، تم بھی اس سے نفرت کرو۔ چنانچہ آسمان والے بھی اس سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں۔ پھر زمین میں بھی اس کے لئے نفرت رکھ دی جاتی ہے۔ چنانچہ زمین والے اس سے نفرت کرتے ہیں اور اسے ناپسند کرتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6458

 
 
Hadith   1333   الحديث
الأهمية: إِذَا أَنْفَقَ الرجلُ على أَهْلِهِ نَفَقَةً يَحْتَسِبُهَا فهي له صَدَقَةٌ


Tema:

جب آدمی اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ شمار ہوتا ہے۔

عن أبي مسعود البدري -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إذا أَنْفَقَ الرجلُ على أهله نَفَقَةً يَحْتَسِبُهَا فهي له صَدَقَةٌ».

ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب آدمی اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ شمار ہوتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا أنفق الرجل على أهله الذين تلزمه نفقتهم كزوجه وولده، وغيرهم كذلك، وهو يتقرب بذلك إلى الله -تعالى- ويحتسب عنده أجر ما ينفق فإنه يُجزى بهذه النفقة كأجر الصدقة على الفقراء ونحوهم من وجوه البر.
580;ب بندہ اپنے اہل و عیال پر مال خرچ کرتا ہے جن پر خرچ کرنا اس پر لازم ہےجیسے بیوی بچے وغیرہ، اور اس سے اس کی نیت اللہ کی خوشنودی اور اجر کا حصول ہوتا ہے تو اسے اس پر فقرا ومساکین وغیرہ پر خرچ کرنے کی مانند صدقے کا اجر ملتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6460

 
 
Hadith   1334   الحديث
الأهمية: إذا تَقَرَّب العبدُ إليَّ شِبْرا تَقَرَّبْتُ إليه ذِرَاعًا، وإذا تَقَرّبَ إليَّ ذِرَاعًا تَقَرّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وإذا أتاني يَمْشِي أَتَيْتُه هَرْوَلَةً


Tema:

جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے، تو میں اُس سے ایک ہاتھ (گز) قریب ہوتا ہوں اور جب بندہ ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں، جب بندہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔

عن أنس بن مالك وأبي هريرة -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- فيما يرويه عن ربه -عز وجل- قال: «إذا تَقَرَّبَ العبدُ إليَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إليه ذِرَاعًا، وإذا تَقَرَّبَ إليَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وإذا أتاني يمشي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً».

انس بن مالک اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے رب سے روایت کیا ہے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے، تو میں اُس سے ایک ہاتھ (گز) قریب ہوتا ہوں اور جب بندہ ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں، جب بندہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من تقرَّب إلى الله بشيء من الطاعات ولو قليلًا قابله الله بأضعاف من الإِثابة والإِكرام، وكلما زاد في الطاعة زاده في الثواب، وأسرع برحمته وفضله، وهذا التفسير بناءً على أن الحديث ليس من أحاديث الصفات كما هو مذهب جمع من أهل السنة والجماعة المثبتين للصفات، ومنهم ابن تيمية، وعند طائفة أخرى إثبات صفة الهرولة لله تعالى دون الخوض في كيفيتها.
580;و شخص نیکیوں کے ذریعے اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اگرچہ وہ کم ہی کیوں نہ ہوں اللہ تعالیٰ اسے کئی گنا زیادہ ثواب و اکرام سے نوازتا ہے اور جب جب وہ نیکی میں بڑھتا جاتا ہے تو وہ اس کے ثواب میں اضافہ کرتا ہے اور فوری طور پر اس پر اپنی رحمت اور فضل نچھاور کرتا ہے۔ اور یہ تفسیر اس اعتبار سے ہے کہ یہ حدیث صفات کی احادیث میں سے نہیں ہے، جیسا کہ اہل سنت و جماعت کے ایک بڑے گروہ کا مذہب ہے جو صفات کو ثابت کرتے ہیں اور انہی میں سے ابن تیمیہ ہیں اور ایک دوسری جماعت نے صفتِ ھرولۃ ’دوڑ کر آنے کی صفت‘ کو بغیر اس کی کیفیت میں کلام کیے اللہ تعالی کے لیے اثبات کیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6461

 
 
Hadith   1335   الحديث
الأهمية: إذا كان يَوْمُ القِيَامَةِ دَفَعَ اللهُ إلى كُلِّ مُسْلِمٍ يَهُودِيًّا أو نَصْرَانِيًّا، فيقول: هذا فِكَاكُكَ مِنَ النَّارِ


Tema:

روزِ قیامت اللہ ہر مسلمان کے حوالے ایک یہودی یا عیسائی کرے گا اور کہے گا کہ یہ جہنم سے چھٹکارے کے لیے تیرا تاوان ہے۔

عن أبي موسى الأشعري -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إذا كان يومُ القيامة دفع اللهُ إلى كل مسلم يهوديا أو نصرانيا، فيقول: هذا فِكَاكُكَ من النار».
وفي رواية: «يجيء يومَ القيامة ناسٌ من المسلمين بذنوبٍ أمثالِ الجبال يغفرها الله لهم».

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”روزِ قیامت اللہ ہر مسلمان کے حوالے ایک یہودی یا عیسائی کرے گا اور کہے گا کہ یہ جہنم سے چھٹکارے کے لیے تیرا تاوان ہے“۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”قیامت کے دن مسلمانوں میں سے کچھ لوگ پہاڑوں کی مانند گناہ لے کر آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے یہ گناہ معاف کر دے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
مَعنَاهُ مَا جَاءَ في حديث أَبي هريرة - رضي الله عنه: «لِكُلِّ أَحَدٍ مَنْزلٌ في الجَنَّةِ، وَمَنْزِلٌ في النَّارِ، فَالمُؤْمِنُ إِذَا دَخَلَ الجَنَّةَ خَلَفَهُ الكَافِرُ في النَّارِ؛ لأنَّهُ مُسْتَحِقٌّ لِذَلِكَ بِكفْرِهِ» ومعنى «فِكَاكُكَ»: أنَّكَ كُنْتَ مُعَرَّضًا لِدُخُولِ النَّارِ، وَهَذَا فِكَاكُكَ؛ لأنَّ الله تَعَالَى، قَدَّرَ للنَّارِ عَدَدًا يَمْلَؤُهَا، فَإذَا دَخَلَهَا الكُفَّارُ بِذُنُوبِهِمْ وَكُفْرِهِمْ، صَارُوا في مَعنَى الفِكَاك للمُسْلِمِينَ، والله أعلم".
575;س حدیث کا مفہوم وہی ہے جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ہر کسی کا جنت میں بھی ایک ٹھکانہ ہے اور جہنم میں بھی۔ مومن جب جنت میں جاتا ہے تو جہنم میں اس کی جگہ کافر چلا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے کفر کی وجہ سے اس کا مستحق ہے۔ ”فِکاک“ کا معنیٰ یہ ہے کہ تو جہنم میں داخل ہونے والا تھا، اب یہ تیرا تاوان ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کے لیے لوگوں کی اتنی مقدار متعین کر رکھی ہے جو اسے بھر دے گی۔ جب کافر لوگ اپنے گناہوں اور کفر کی بدولت اس میں جائیں گے تو وہ گویا مسلمانوں کے لیے تاوان بن جائیں گے۔ واللہ اعلم۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6462

 
 
Hadith   1336   الحديث
الأهمية: كنا قعودا حول رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ومعنا أبو بكر وعمر -رضي الله عنهما- في نفر، فقام رسول الله -صلى الله عليه وسلم- من بين أظهرنا فأبطأ علينا


Tema:

ہم رسول اللہ ﷺ کے اردگرد ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے، ہمارے ساتھ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، اچانک رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان سے اٹھ کر چلے گئے اور دیر تک ہمارے پاس تشریف نہ لائے

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: كنا قعودا حول رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ومعنا أبو بكر وعمر -رضي الله عنهما- في نفر، فقام رسول الله -صلى الله عليه وسلم- من بين أظهرنا فأبطأ علينا، وخشينَا أَنْ يُقْتَطَعَ دوننا وفزعنا فقمنا، فكنت أول من فزع، فخرجت أبتغي رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حتى أتيت حائطا للأنصار لبني النجار، فَدُرْتُ به هل أجد له بابا؟ فلم أجد! فإذا ربيع يدخل في جوف حائط من بئر خارجه - والربيع: الجدول الصغير - فاحتفرت، فدخلت على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: «أبو هريرة؟» فقلت: نعم، يا رسول الله، قال: «ما شأنك؟» قلت: كنت بين أَظْهُرِنَا فقمت فأبطأت علينا، فخشينا أنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا، ففزعنا، فكنت أول من فزع، فأتيت هذا الحائط، فاحتفرت كما يحتفر الثعلب، وهؤلاء الناس ورائي. فقال: «يا أبا هريرة» وأعطاني نعليه، فقال: «اذهب بِنَعْلَيَّ هَاتَيْنِ، فمن لقيت من وراء هذا الحائط يشهد أن لا إله إلا الله مُسْتَيْقِنًا بها قلبه، فبَشِّرْهُ بالجنة...وذكر الحديث بطوله

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے اردگرد ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے، ہمارے ساتھ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، اچانک رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان سے اٹھ کر چلے گئے اور دیر تک ہمارے پاس تشریف نہ لائے۔ تو ،ہم ڈر گئے کہ ہماری غیر موجودگی میں آپ کو قتل نہ کر دیا گیا ہو۔ اس لیے ہم گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور میں سب سے پہلے گھبرانے والا تھا۔ میں رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلا، یہاں تک کہ میں انصار کے قبیلے بنو نجار کے باغ تک پہنچ گیا۔ میں اسکے چاروں طرف گھوما کہ مجھے کوئی دروازہ مل جائے مگر مجھے کوئی دروازہ نہ ملا۔ اتفاقاً ایک چھوٹا سا نالہ دکھائی دیا جو ایک بیرونی کنویں سے باغ کے اندر جارہا تھا۔ - ربیع چھوٹے سے نالے کو کہتے ہیں -، میں اسی نالہ میں سمٹ کر داخل ہوا اور آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :”ابوہریرہ؟“ میں نے عرض کیا :جی ہاں، اے اللہ کے رسول ﷺ! فرمايا: ”کيا بات ہے؟“ ميں نے عرض کيا کہ آپ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے اور اچانک اٹھ کر چلے گئے اور ہمارے پاس واپس آنے میں آپ کو دیر ہوگئی تو ہمیں ڈر محسوس ہوا کہ کہیں ہماری غیر موجودگی میں آپ کو قتل نہ کر دیا گیا ہو۔ اس لیے ہم گھبرا اٹھے۔ گھبرانے والوں میں سب سے پہلا آدمی میں تھا۔ اس لیے (تلاش کرتے ہوئے) میں اس باغ تک پہنچ گیا اور لومڑی کی طرح سمٹ کر (نالہ کے راستہ سے) اندر آگیا اور لوگ میرے پیچھے ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنے نعلین مبارک مجھے دے کر فرمایا :”اے ابو ہریرہ! میری یہ دونوں جوتیاں (بطور نشانی) لے کے جاؤ اور اس باغ کے باہر جو بھی ملے، جو دل کے یقین کے ساتھ لا الٰہ الّا اللہ کی گواہی ديتا ہو تو اسے جنت کی بشارت دے دو۔ اور پوری حديث ذکر کی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- جالسا في أصحابه في نفر منهم، ومعه أبو بكر وعمر، فقام النبي -صلى الله عليه وسلم- ثم أبطأ عليهم، فخشوا أن يكون أحد من الناس أخذه  دونهم وتأذى؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- مطلوب من جهة المنافقين، ومن جهة غيرهم من أعداء الدين، فقام الصحابة -رضي الله عنهم- فزعين، فكان أول من فزع أبو هريرة -رضي الله عنه- حتى أتى حائطًا لبني النجار، فجعل يطوف به لعله يجد باباً مفتوحًا فلم يجد، ولكنه وجد فتحة صغيرة في الجدار يدخل منها الماء، فضم جسمه حتى دخل فوجد النبي -صلى الله عليه وسلم-، فقال له: "أبو هريرة؟"، قال: نعم. فأعطاه نعليه عليه الصلاة والسلام أمارة وعلامة أنه صادق فيما سيخبر به، وقال له: "اذهب بنعلي هاتين، فمن لقيت من وراء هذا الحائط يشهد أن لا إله إلا الله مستيقنا به قلبه، فبشره بالجنة". لأن الذي يقول هذه الكلمة مستيقنًا بها قلبه لابد أن يقوم بأوامر الله، ويجتنب نواهي الله؛ لأنه يقول: لا معبود بحق إلا الله، وإذا كان هذا معنى هذه الكلمة العظيمة فإنه لابد أن يعبد الله عز وجل وحده لا شريك له؛ أما من قالها بلسانه ولم يوقن بها قلبه فإنها لا تنفعه.
606;بی ﷺ اپنے بعض اصحاب کے ساتھ تشريف فرما تھے۔ مجلس ميں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے۔ اچانک رسول اللہ ﷺ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے اور دیر تک تشریف نہ لائے۔صحابۂ کرام کو خوف لاحق ہواکہ کہيں ان کی غیر موجودگی میں کوئی آپ کو پکڑ نہ لیا ہو اور آپ کو تکليف پہونچی ہو۔ کيونکہ آپ ﷺ منافقوں اور دوسرے اسلام کے دشمنوں کی آنکھوں ميں کھٹکتے تھے۔ اس لیے صحابہ کرام گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے، سب سے پہلے ابو ہريرہ رضی اللہ عنہ کو گھبراہٹ ہوئی، (وہ رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلے)یہاں تک کہ بنو نجار کے باغ تک پہنچ گئےاور اس کا چکر لگانے لگے تاکہ کوئی دروازہ کھلا ہوا پاجائيں مگر انھیں نہیں ملا۔ ليکن انہوں نے پانی کے داخل ہونے کے لیے دیوار میں ايک چھوٹا ساراستہ کھلا ہوا پايا تو اپنے جسم کو سميٹ کر اندر داخل ہونے ميں کامياب ہو گئے۔ چنانچہ نبی ﷺ کو وہاں پر موجود پايا۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمايا:”ابو ہريرہ؟“، انہوں نے عرض کيا :جی ہاں،تو آپ ﷺ نے انھیں اپنی جوتياں ديں جو اس بات کی علامت اور نشانی کے طور پر تھی کہ ابو ہريرہ جو خبر دينے والے ہیں اس ميں سچے ہیں، اور فرمایا: ”میری یہ دونوں جوتیاں لےجاؤ اور اس باغ کے باہر جو بھی ملے، جو دل کے یقین کے ساتھ لا الٰہ الّا اللہ کی گواہی ديتا ہو تو اسے جنت کی بشارت دے دو۔‘‘ کيونکہ سچے دل سے اس کلمے کی گواہی دينے والا ضرور اللہ کے احکام کی بجا آوری کرےگا اور اللہ کی منع کردہ چيزوں ٍٍٍسے بچے گا۔ اس لیے کہ وہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہ ہونے کا اقرار کر تا ہے۔ جب اس عظيم الشان کلمے کا يہ معنیٰ ہے تو ہر صورت ميں وہ شخص اللہ عزوجل ہی کی عبادت کرے گا جس کا کوئی شريک وساجھی نہيں۔ ليکن وہ شخص جو صرف زبان سے اس کلمے کی ادائيگی کرتا ہے اور سچے دل سے اس پر يقين نہيں رکھتا، تو اسے اس سے کوئی فائدہ نہيں حاصل ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6464

 
 
Hadith   1337   الحديث
الأهمية: انطلقَ ثلاثةُ نَفَرٍ ممن كان قبلكم حتى آواهم المبِيتُ إلى غَارٍ فدخلوه، فانحدَرَتْ صخرةٌ من الجبل فسَدَّتْ عليهم الغار


Tema:

سابقہ امتوں میں سے ایک امت کے تین افراد کہیں سفر میں جا رہے تھے۔ رات ہونے پر رات گزارنے کے لیے انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں پناہ لی اور اس کے اندر داخل ہو گئے۔ اتنے میں پہاڑ سے ایک چٹان لڑھکی اور اس نے غار کا منہ بند کر دیا۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «انطلق ثلاثة نفر ممن كان قبلكم حتى آواهم المبيت إلى غار فدخلوه، فانحدرت صخرة من الجبل فسدت عليهم الغار، فقالوا: إنَّهُ لاَ يُنْجِيكُمْ من هذه الصخرة إلا أن تدعوا الله بصالح أعمالكم.
قال رجل منهم: اللهُمَّ كان لي أبوان شيخان كبيران، وكنتُ لاَ أَغْبِقُ قبلهما أهلا، ولا مالا فنأى بي طلب الشجر يوما فلم أَرِحْ عليهما حتى ناما، فحلبت لهما غَبُوقَهُمَا فوجدتهما نائمين، فكرهت أن أوقظهما وأَنْ أغْبِقَ قبلهما أهلا أو مالا، فلبثت -والقدح على يدي- أنتظر استيقاظهما حتى بَرِقَ الفَجْرُ والصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْن عند قدمي، فاستيقظا فشربا غَبُوقَهُما، اللَّهُمَّ إن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك فَفَرِّجْ عنا ما نحن فيه من هذه الصخرة، فانفرجت شيئا لا يستطيعون الخروج منه.
قال الآخر: اللَّهُمَّ إنَّهُ كانت لي ابنة عم، كانت أحب الناس إليَّ -وفي رواية: كنت أحبها كأشد ما يحب الرجال النساء- فأردتها على نفسها فامتنعت مني حتى أَلَمَّتْ بها سَنَةٌ من السنين فجاءتني فأعطيتها عشرين ومئة دينار على أنْ تُخَلِّيَ بيني وبين نفسها ففعلت، حتى إذا قدرت عليها -وفي رواية: فلما قعدت بين رجليها- قالتْ: اتَّقِ اللهَ ولاَ تَفُضَّ الخَاتَمَ إلا بحقه، فانصرفت عنها وهي أحب الناس إليَّ وتركت الذهب الذي أعطيتها، اللَّهُمَّ إنْ كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافْرُجْ عَنَّا ما نحن فيه، فانفرجت الصخرة، غير أنهم لا يستطيعون الخروج منها.
وقال الثالث: اللَّهُمَّ استأجرت أُجَرَاءَ وأعطيتهم أجرهم غير رجل واحد ترك الذي له وذهب، فَثمَّرْتُ أجره حتى كثرت منه الأموال، فجاءني بعد حين، فقال: يا عبد الله، أدِّ إِلَيَّ أجري، فقلت: كل ما ترى من أجرك: من الإبل والبقر والغنم والرقيق، فقال: يا عبد الله، لا تَسْتَهْزِىءْ بي! فقلت: لاَ أسْتَهْزِئ بك، فأخذه كله فاستاقه فلم يترك منه شيئا، الَلهُمَّ إنْ كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافْرُجْ عَنَّا ما نحن فيه، فانفرجت الصخرة فخرجوا يمشون».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سابقہ امتوں میں سے ایک امت کے تین افراد کہیں سفر میں جا رہے تھے۔ رات ہونے پر رات گزارنے کے لیے انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں پناہ لی اور اس کے اندر داخل ہو گئے۔ اتنے میں پہاڑ سے ایک چٹان لڑھکی اور اس نے غار کا منہ بند کر دیا۔ سب نے کہا کہ اب اس غار سے تمہیں کوئی چیز نکالنے والی نہیں، سوائے اس کے کہ تم سب، اپنے اعمالِ صالحہ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔
اس پر ان میں سے ایک شخص نے اپنی دعا شروع کی کہ اے اللہ! میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے اور میں روزانہ ان سے پہلے گھر میں کسی کو بھی دودھ نہیں پلاتا تھا، نہ اپنے بال بچوں کو، نہ ہی اپنے غلام وغیرہ کو۔ ایک دن مجھے ایک چیز کی تلاش میں رات ہو گئی اور جب میں گھر واپس ہوا تو وہ (میرے ماں باپ) سو چکے تھے۔ پھر میں نے ان کے لیے شام کا دودھ نکالا۔ جب ان کے پاس لایا تو وہ سوئے ہوئے تھے۔ مجھے یہ بات ہرگز اچھی نہیں لگی کہ ان سے پہلے اپنے بال بچوں یا اپنے کسی غلام کو دودھ پلاؤں، اس لیے میں ان کے سرہانے کھڑا رہا۔ دودھ کا پیالہ میرے ہاتھ میں تھا اور میں ان کے جاگنے کا انتظار کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ صبح ہو گئی ــــــــــــ اور بچے میرے قدموں پر بھوک سے بلبلا رہے تھے ــــــــــــ اب میرے ماں باپ جاگے اور انہوں نے اپنا شام کا دودھ اس وقت پیا، اے اللہ! اگر میں نے یہ کام محض تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو اس چٹان کی آفت کو ہم سے ہٹا دے۔ اس دعا کے نتیجہ میں وہ غار تھوڑا سا کھل گیا۔ مگر نکلنا اب بھی ممکن نہ تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پھر دوسرے نے دعا کی، اے اللہ! میرے چچا کی ایک لڑکی تھی۔ جو سب سے زیادہ مجھے محبوب تھی، میں نے اس کے ساتھ برا کام کرنا چاہا، لیکن اس نے نہ مانا۔ اسی زمانہ میں ایک سال قحط پڑا۔ تو وہ میرے پاس آئی میں نے اسے ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیئے کہ وہ خلوت میں مجھے سے برا کام کرائے۔ چنانچہ وہ راضی ہو گئی۔ اب میں اس پر قابو پا چکا تھا۔ لیکن اس نے کہا کہ تمہارے لیے میں جائز نہیں کرتی کہ اس مہر کو تم حق کے بغیر توڑو۔یہ سن کر میں اپنے برے ارادے سے باز آ گیا اور وہاں سے چلا آیا۔حالانکہ وہ مجھے سب سے بڑھ کر محبوب تھی اور میں نے اپنا دیا ہوا سونا بھی واپس نہیں لیا۔ اے اللہ! اگر یہ کام میں نے صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے۔ چنانچہ چٹان ذرا سی اور کھسکی، لیکن اب بھی اس سے باہر نہیں نکلا جا سکتا تھا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور تیسرے شخص نے دعا کی۔ اے اللہ! میں نے چند مزدور رکھے تھے۔ پھر سب کو ان کی مزدوری پوری دے دی، مگر ایک مزدور ایسا نکلا کہ وہ اپنی مزدوری ہی چھوڑ گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کو کاروبار میں لگا دیا اور بہت کچھ نفع حاصل ہو گیا پھر کچھ دنوں کے بعد وہی مزدور میرے پاس آیا اور کہنے لگا اللہ کے بندے! مجھے میری مزدوری دیدے، میں نے کہا یہ جو کچھ تو دیکھ رہا ہے۔ اونٹ، گائے، بکری اور غلام یہ سب تمہاری مزدوری ہی ہے۔ وہ کہنے لگا اللہ کے بندے! مجھ سے مذاق نہ کر۔ میں نے کہا میں مذاق نہیں کرتا، چنانچہ اس شخص نے سب کچھ لیا اور اپنے ساتھ لے گیا۔ایک چیز بھی اس میں سے باقی نہیں چھوڑی۔ تو اے اللہ! اگر میں نے یہ سب کچھ تیری رضا مندی حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو، تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے۔ چنانچہ وہ چٹان ہٹ گئی اور وہ سب باہر نکل کر چلے گئے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
انطلق ثلاثة رجال، فدفعهم طلب البيات إلى أن يلجأوا إلى الكهف، فانحدَرَتْ صخرةٌ من الجبل فسَدَّتْ عليهم الكهف، ولم يستطيعوا أن يزحزحوها؛ لأنها صخرة كبيرة، فرأوا أن يتوسلوا إلى الله -سبحانه وتعالى- بصالح أعمالهم.
أما الأول فذكر أن له أبوين شيخين كبيرين وكان له غنم، فكان يسرح فيها ثم يرجع في آخر النهار، ويحلب الغنم، ويعطي أبويه- الشيخين الكبيرين- ثم يعطي بقية أهله وماله، فيقول: بعد بي طلب الشجر الذي يرعاه. فرجع، فوجد أبويه قد ناما، فنظر، هل يسقي أهله وماله قبل أبويه، أو ينتظر حتى برق الفجر، فاختار أن ينتظر حتى يطلع الفجر -وهو ينتظر استيقاظ أبويه-، فلما استيقظا وشربا اللبن سقى أهله وماله، ثم قال: اللهم إن كنت مخلصاً في عملي هذا- فعلته من أجلك- فافرج عنا ما نحن فيه، انفرجت الصخرة، لكن انفراجًا لا يستطيعون الخروج منه.
أما الثاني: فتوسل إلى الله عز وجل بالعفة التامة، وذلك أنه كان له ابنة عم، وكان يحبها حبًّا شديدًا كأشد ما يحب الرجال النساء "فأرادها على نفسها"، أي أرادها- والعياذ بالله- بالزنا؛ ليزني بها، ولكنها لم توافق وأبت، ثم أصابها فقر وحاجة فاضطرت إلى أن تجود بنفسها في الزنا من أجل الضرورة، وهذا لا يجوز، ولكن على كل حال، هذا الذي حصل، فجاءت إليه، فأعطاها مائة وعشرين دينارا من أجل أن تمكنه من نفسها، ففعلت من أجل الحاجة والضرورة، فلما جلس منها مجلس الرجل من امرأته على أنه يريد أن يفعل بها، قالت له هذه الكلمة العجيبة العظيمة: "اتق الله، ولا تفض الخاتم إلا بحقه"، فقام عنها وهي أحب الناس إليه، لكن أدركه خوف الله -عز وجل- وترك لها الذهب الذي أعطاها، ثم قال: "اللهم إن كنت فعلت هذا لأجلك فافرج عنا ما نحن فيه، فانفرجت الصخرة، إلا أنهم لا يستطيعون الخروج".
وأما الثالث: فتوسل إلى الله -سبحانه وتعالى- بالأمانة والإصلاح والإخلاص في العمل، فإنه يذكر أنه استأجر أجراء على عمل من الأعمال، فأعطاهم أجورهم، إلا رجلًا واحدًا ترك أجره فلم يأخذه، فقام هذا المستأجر فثمر المال، فصار يتكسب به بالبيع والشراء وغير ذلك، حتى نما وصار منه إبل وبقر وغنم ورقيق وأموال عظيمة. فجاءه بعد حين، فقال له: يا عبد الله أعطني أجري، فقال له: كل ما ترى فهو لك، من الإبل والبقر والغنم والرقيق، فقال: لا تستهزئ بي، الأجرة التي لي عندك قليلة، كيف لي كل ما أرى من الإبل والبقر والغنم والرقيق؟ لا تستهزيء بي. فقال: هو لك، فأخذه واستاقه كله ولم يترك له شيئًا، ثم قال: "اللهم إن كنت فعلت ذلك من أجلك فافرج عنا ما نحن فيه، فانفرجت الصخرة، وانفتح الباب، فخرجوا يمشون"؛ لأنهم توسلوا إلى الله بصالح أعمالهم التي فعلوها إخلاصاً لله -عز وجل-.
578;ین آدمی سفر پر نکلے۔ رات گزارنے کے لیے وہ ایک غار میں آ گئے۔ اتنے میں پہاڑ سے ایک چٹان لڑھک کر نیچے آئی اور غار سے ان کے نکلنے کا راستہ بند کر دیا۔ وہ اسے ہٹا نہ سکے؛ کیوں کہ چٹان بہت بڑی تھی۔ انھوں نے سوچا کہ اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے اللہ سے دعا کی جائے۔ پہلے نے بیان کیا کہ اس کے بوڑھے ماں باپ تھے اور اس کے پاس بھیڑ بکریاں تھیں۔ وہ انھیں چرانے کے لیے لے کر نکل جاتا اور شام کو واپس آ جاتا۔ بکریوں کا دودھ دوہتا، اپنے بوڑھے ماں باپ کو پیش کرتا اور ان کے بعد باقی گھر والوں اور غلاموں کو دیتا۔ وہ کہتا ہے کہ ایک دفعہ وہ چرانے کے لیے درختوں کی تلاش میں ذرا دور نکل گیا۔ جب واپس لوٹا تو اس کی والدین سو چکے تھے۔ اس نے سوچا کہ کیا وہ اپنے ماں باپ سے پہلے گھر والوں اور غلاموں وغیرہ کو پلا دے یا پھر صبح ہونے تک وہ ان کا انتظار کرے؟۔ آخر اس نے یہی طے کیا کہ صبح ہونے تک ان کا انتظار کرے گا۔ چنانچہ اپنے والدین کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا۔ جب دونوں اٹھے اور انھوں نے دودھ پی لیا، تو اس نے اپنے گھر والوں اور غلاموں کو دودھ پلایا۔ (یہ عمل ذکر کرنے کے بعد) اس شخص نے کہا کہ اے اللہ! اگر میں اپنے اس عمل میں مخلص تھا کہ میں نے اسے تیری رضا کے لیے کیا تھا، تو ہم پر پڑی یہ مصیبت دور کر دے۔ چنانچہ چٹان کچھ سرک گئی، تاہم اس سے وہ غار سے نکل نہیں سکتے تھے۔
دوسرے نے مکمل پاک بازی کو رب کے حضور بطور وسیلہ پیش کیا۔ وہ اس طرح کہ اس کی ایک چچا کی بیٹی تھی۔ وہ اس سے اس حد تک محبت کرتا تھا، جتنا مرد عورتوں سے کرسکتا ہے۔ اس نے اس سے زنا کا ارادہ کیا-اللہ کی پناہ- تاہم وہ تیار نہ ہوئی اور انکار کر دیا۔ پھر یوں ہوا کہ وہ غربت کا شکار ہو گئی۔ مجبور ہو کر اپنے ساتھ زنا کرانے پر بھی راضی ہو گئی۔ حالاں کہ یہ جائر نہیں ہے، لیکن بہرحال ایسا ہی ہوا۔ وہ اس کے پاس آ گئی۔ اس نے اسے ایک سو بیس دینار دیے اس شرط پر کہ وہ اسے زنا کرنے دے گی۔ اس نے ضرورت اور حاجت کی وجہ سے اس کی ہامی بھر لی۔ جب وہ شخص بدکاری کرنے کے لیے ویسے بیٹھ گیا، جیسے آدمی اپنی بیوی کے ساتھ جماع کے وقت بیٹھتا ہے، تو اس نے اسے یہ عجیب اور بڑی بات کہی کہ اللہ سے ڈر اور مہر کو ناحق نہ توڑ !! یہ بات سن کر وہ اس کے پاس سے اٹھ گیا، حالاں کہ وہ اسے سب لوگوں سے زیادہ محبوب تھی۔ لیکن اس پر اللہ کا خوف طاری ہو گیا۔ چنانچہ اس نے جو سونا اسے دیا تھا، وہ بھی اسی کے پاس رہنے دیا۔ (اس عمل کو ذکر کرنے کے بعد اس شخص نے کہا کہ) اے اللہ! اگر میں نے یہ سب تیری رضا کے لیے کیا تھا، تو ہم سے یہ مصیبت ٹال دے، جس میں ہم گرفتار ہیں۔ اس پر وہ چٹان کچھ اور سرک گئی، تاہم وہ اب بھی اس سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔
تیسرے آدمی نے امانت داری، اصلاح اور خلوص کو اللہ کی بارگاہ میں پیش کیا۔ وہ ذکر کرتا ہے کہ اس نے کسی کام کے لیے کچھ مزدور اجرت پر لیے۔ اس نے سب کو ان کی اجرت دے دی، لیکن ایک آدمی اپنی اجرت لیے بغیر ہی چلا گیا۔ چنانچہ مستاجر نے اس مال کو کاروبار میں لگا دیا اور خرید و فروخت اور دوسرے ذرائع سے اسے بڑھاتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ بہت بڑھ گیا اور اس سے بہت سے اونٹ، گائیں، بھیڑ بکریاں، غلام اور ڈھیر سارے اموال ہو گئے۔ کچھ عرصہ بعد مزدور اس کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے بندے! مجھے میری اجرت دے دو۔ اس نے اس سے کہا: جو کچھ تم اونٹ، گائیں، بھیڑ بکریاں اور غلام دیکھ رہے ہو، سب تمھارے ہیں۔ اس نے کہا: مجھ سے مذاق نہ کرو۔ میری اجرت جوتم پر باقی ہے بہت تھوڑی ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ اونٹ، گائے، بکریاں اور غلام جنھیں میں دیکھ رہا ہوں، میری ملکیت ہیں؟ مجھ سے مذاق نہ کرو۔ اس پر اس نے جواب دیا کہ: یہ سب کچھ واقعی تمھارا ہے۔ چنانچہ اس شخص نے سب کچھ لے لیا اور اسے ہانک کر لے گیا اور اس میں سے کچھ بھی نہ چھوڑا۔ (اس عمل کا ذکر کرنے کے بعد وہ کہنے لگا): اے اللہ! اگر میں نے یہ سب تیری وجہ سے کیا تھا، تو ہم سے یہ مصیبت دور کر دے۔ اس پر چٹان پوری طرح سرک گئی اور باہر نکلنے کا راستہ کھل گیا۔ چنانچہ وہ اس سے نکل کر چلے گئے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا، کیوں کہ انھوں نے اللہ کے حضور اپنے ایسے نیک اعمال پیش کر کے دعا کی تھی، جو انھوں نے خالصتا اللہ ہی کے لیے کیے تھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6465

 
 
Hadith   1338   الحديث
الأهمية: واللهِ لو تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ولَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، ومَا تَلَذَّذْتُمْ بالنِّسَاءِ عَلَى الفُرُشِ، ولَخَرَجْتُمْ إلى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إلى اللهِ تَعَالَى


Tema:

اللہ کی قسم! اگر تم وہ کچھ جانتے ہوتے، جو میں جانتا ہوں، تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہو پاتےاور اللہ سےفریادیں کرتے ہوئے گلیوں چوراہوں میں نکل آتے۔

عن أبي ذر -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إِنِّي أرى ما لا ترون، أَطَّتِ السماء وحُقَّ لها أَنْ تَئِطَّ، ما فيها موضع أربع أصابع إلا وملك واضع جبهته ساجداً لله -تعالى- والله لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلاً ولبكيتم كثيراً، وما تلذذتم بالنساء على الفُرُشِ، ولخرجتم إلى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إلى الله تعالى».

ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں وہ کچھ دیکھتا ہوں، جو تم نہیں دیکھتے۔ آسمان سے چرچرانے کی آواز نکلتی ہے اور اس کا ایسی آواز دینا بالکل بجا ہے۔ آسمان میں چار انگشت کے برابر بھی جگہ نہیں، جہاں کوئی فرشتہ اللہ کے سامنے سجدہ ریز نہ ہو۔ اللہ کی قسم! اگر تم وہ کچھ جانتے ہوتے، جو میں جانتا ہوں، تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہو پاتےاور اللہ سےفریادیں کرتے ہوئے گلیوں چوراہوں میں نکل آتے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: إني أبصر وأعلم ما لا تبصرون ولا تعلمون، حصل للسماء صوت كصوت الرحل إذا رُكب عليه، ويحق لها ذلك؛ فما فيها موضع أربع أصابع إلا وفيه ملك واضع جبهته ساجداً لله -تعالى-، والله لو تعلمون ما أعلم من عظم جلال الله -تعالى- وشدة انتقامه ومن أمور الغيب، لضحكتم قليلاً ولبكيتم كثيراً خوفاً من سطوته -سبحانه وتعالى-، وما تلذذتم بالنساء على الفرش من شدة الخوف، ولخرجتم إلى الطرقات ترفعون أصواتكم بالاستغاثة إلى الله -تعالى-.
585;سول اللہ ﷺ نے فرمایا:میں وہ کچھ دیکھتا اورجانتا ہوں، جو تم نہیں دیکھتے اور نہ جانتے ہو۔ آسمان سے ایسی آواز نکلتی ہے جیسی آواز کجاوے سے اس پر سوار ہوتے وقت نکلتی ہے اور اس سے یہ آواز نکلنا بجا بھی ہے۔ آسمان میں چار انگشت کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں، جہاں کوئی فرشتہ اپنی پیشانی ٹکائے اللہ کے سامنے سجدہ ریز نہ ہو۔ اللہ کی قسم! اگر تم اللہ تعالی کی عظمت، اس کے انتقام کی شدت اور غیبی امور کو جان لو، تو اس کی پکڑ کے خوف سے ہنسو کم اور روؤ زیادہ، ڈر کی شدت کی وجہ سے اپنی عورتوں سے ہم بستری سے بھی لطف اندوز نہ ہو سکو اور بلند آواز سے اللہ کی مدد طلب کرتے ہوئے گلیوں چوراہوں میں نکل آؤ۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6466

 
 
Hadith   1339   الحديث
الأهمية: الإيمانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أو بِضْعٌ وسِتُونَ شُعْبَة


Tema:

ایمان کی ستّر سے زائد شاخیں ہیں، یا فرمایا: ایمان کی ساٹھ سے کچھ زائد شاخیں ہیں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-، أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «الإيمانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أو بِضْعٌ وسِتُونَ شُعْبَةً: فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ: لا إله إلا الله، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: ”ایمان کی ستّر سے زائد شاخیں ہیں، یا فرمایا: ایمان کی ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں جن میں سے سب سے افضل لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے کمتر راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو اٹھانا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الإيمان ليس خصلة واحدة، أو شعبة واحدة، ولكنه شعب كثيرة، بضع وسبعون، أو بضع وستون شعبة، ولكن أفضلها كلمة واحدة: وهي لا إله إلا الله، وأيسرها إزالة كل ما يؤذي المارين، من حجر، أو شوك، أو غير ذلك من الطريق، والحياء شعبة من الإيمان.
575;یمان صرف ایک ہی خصلت یا ایک ہی شعبے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے بہت سے شعبہ جات ہیں، ستّر سے اوپر یا ساٹھ سے کچھ زائد شعبہ جات ہیں۔ تاہم ان میں سے افضل ترین کلمہ لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے کمتر شعبہ ہر اس چیز کو راستے سے ہٹانا ہے جس سے راہ گیروں کو تکلیف پہنچے جیسے پتھر، کانٹا وغیرہ جیسی اشیاء۔ اور حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6468

 
 
Hadith   1340   الحديث
الأهمية: مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَجَرَةٍ عَلَى ظَهْرِ طَرِيقٍ، فقالَ: واللهِ لأُنَحِّيَنَّ هَذَا عَنِ المسلمينَ لَا يُؤْذِيهِمْ، فَأُدْخِلَ الجَنَّةَ


Tema:

ایک آدمی راستے میں پڑے درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گزر اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسے ضرور ہٹاؤں گا تاکہ یہ مسلمانوں کو تکلیف نہ دے۔ اس نیکی کی وجہ سے وہ جنت میں داخل کر دیا گیا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لقد رأيت رجلا يَتَقَلَّبُ في الجنة في شجرة قطعها من ظهر الطريق كانت تؤذي المسلمين».
وفي رواية: «مر رجل بغصن شجرة على ظهر طريق، فقال: والله لأُنَحِّيَنَّ هذا عن المسلمين لا يؤذيهم، فَأُدْخِلَ الجنة».
وفي رواية: «بينما رجل يمشي بطريق وجد غصن شوك على الطريق فأخَّرَهُ فشكر الله له، فغفر لهُ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ایک شخص کو جنت میں اس وجہ سے گھومتے پھرتے دیکھا کہ اس نے بیچ راہ میں اُگے ایک درخت کو کاٹ کر ہٹا دیا تھا جو لوگوں کو تکلیف دے رہا تھا“۔
ایک اور روایت میں ہے کہ: ”ایک شخص کا راہ گزر میں پڑی درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گزر ہوا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسے ضرور ہٹاؤں گا تاکہ یہ مسلمانوں کو تکلیف نہ دے۔ اس نیکی کی وجہ سے وہ جنت میں داخل کر دیا گیا“۔
ایک اور روایت میں ہے کہ: ”ایک شخص راستے میں چلا جا رہا تھا۔ اسے راستے میں ایک شاخ پڑی ہوئی ملی۔ اس نے اسے دور ہٹا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدردانی کرتے ہوئے اس کی بخشش کردی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
رأى النبي -صلى الله عليه وسلم- رجلًا في الجنة يتنقل فيها بسبب شجرة قطعها كانت تؤذي المسلمين، وغفر الله له بسبب غصن أزاله عن طريق المسلمين، سواء كان هذا الغصن من فوق، يؤذيهم من عند رؤوسهم، أو من أسفل يؤذيهم من جهة أرجلهم؛ أبعده ونحاه، فشكر الله له ذلك، وأدخله الجنة.
606;بی ﷺ نے جنت میں ایک آدمی کو گھومتے پھرتے دیکھا اس وجہ سے کہ اس نے ایک ایسے درخت کو کاٹ کر ہٹا دیا تھا جو مسلمانوں کو تکلیف دے رہا تھا۔ اسے اللہ تعالیٰ نے ایک ٹہنی کو مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دینے کے سبب بخش دیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ٹہنی اوپر سے (لٹک کر) ان کے سروں پر لگ کر انہیں تکلیف دے رہی ہو یا پھر نیچے سے ان کے پاؤں کی جانب سے ان کے لیے اذیت کا باعث بن رہی ہو۔ بہرحال اس آدمی نے اسے ایک طرف کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدر دانی فرمائی اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔   --  [صحیح]+ +[اس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6469

 
 
Hadith   1341   الحديث
الأهمية: قصة إسلام عمرو بن عبسة وتعليم النبي -صلى الله عليه وسلم- الصلاة والوضوء له


Tema:

عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ اور نبی ﷺ کا انہیں نماز اور وضو سکھانے کا بیان۔

عن عمرو بن عَبَسة -رضي الله عنه- قال: كنت وأنا في الجاهلية أظن أن الناس على ضَلالة، وأنهم لَيْسُوا على شيء، وهم يَعبدون الأوثان،  فسمعت برجل بمكة يُخبر أخبارًا، فَقَعَدتُ على راحلتي، فقدِمتُ عليه، فإذا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مُسْتَخْفِيًا ، جُرَءآءٌ عليه قومه، فتَلطَّفتُ حتى دخلت عليه بمكة، فقلت له: ما أنت؟ قال: «أنا نَبيٌّ» قلت: وما نَبِيٌّ؟ قال: «أرسلني الله» قلت: وبِأَيِّ شيء أرسلك؟ قال: «أرسلني بصلة الأرحام، وكسر الأوثان، وأن يُوَحَّد الله لا يُشرك به شيءٌ»، قلت: فمن معك على هذا؟ قال: «حُرٌّ وعَبْدٌ»، ومعه يومئذ أبو بكر وبلال -رضي الله عنهما-، قلت: إني مُتَّبِعُكَ، قال: «إنك لن تستطيع ذلك يَوْمَك هذا، ألا ترى حالي وحال الناس؟ ولكن ارجع إلى أهلك، فإذا سمعت بِي قد ظهرت فأتني». قال: فذهبت إلى أهلي، وقدم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- المدينة حتى قدم نَفرٌ من أهلي المدينة، فقلت: ما فعل هذا الرجل الذي قَدِم المدينة؟ فقالوا: الناس إليه سِرَاعٌ، وقد أراد قومُه قتلَه، فلم يستطيعوا ذلك، فقدمت المدينة، فدخلت عليه، فقلت: يا رسول الله أَتَعْرِفُني؟ قال: «نعم، أنت الذي لَقَيْتَنِي بمكة» قال: فقلت: يا رسول الله، أخبرني عما عَلَّمَك الله وأَجْهَلُهُ، أخبرني عن الصلاة؟ قال: «صَلِّ صلاةَ الصبح، ثم اقْصُرْ عن الصلاة حتى ترتفع الشمس قِيْدَ رمح، فإنها تَطْلُعُ حين تَطلُعُ بين قرني شيطان، وحينئذ يَسجدُ لها الكفار، ثم صلِ فإن الصلاة مشهُودةٌ محضُورةٌ حتى يَسْتَقِلَّ الظِّلُ بالرُّمْح، ثم اقْصُرْ عن الصلاة، فإنه حينئذ تُسْجَرُ جهنم، فإذا أقبل الفيء فَصَلِّ، فإن الصلاة مشهُودةٌ محضُورةٌ حتى تُصلي العصر، ثم اقْصُرْ عن الصلاة حتى تغرب الشمس، فإنها تَغْرُبُ بين قَرْنَيْ شيطان، وحينئذ يسجدُ لها الكفار» قال: فقلت: يا نبي الله، فالوضوء حدثني عنه؟ فقال: «ما مِنكم رجلٌ يُقَرِّبُ وضوءه، فيتمضمض ويستنشق فيستنثر، إلا خرَّت خطايا وجهه من أطراف لحيته مع الماء، ثم يغسل يديه إلى المرفقين، إلا خرَّت خطايا يديه من أنامله مع الماء، ثم يمسح رأسه، إلا خرَّت خطايا رأسه من أطراف شعره مع الماء، ثم يغسل قدميه إلى الكعبين، إلا خرَّت خطايا رجليه من أنامله مع الماء، فإن هو قام فصلى، فحمد الله -تعالى-، وأثنى عليه ومجَّدَه بالذي هو له أهل، وفرَّغَ قلبه لله -تعالى-، إلا انصرف من خطيئته كهيئته يومَ ولدَتْه أمه». فحدث عمرو بن عبسة بهذا الحديث أبا أمامة صاحب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال له أبو أمامة: يا عمرو بن عبسة، انظر ما تقول! في مقام واحد يُعطى هذا الرجل؟ فقال عمرو: يا أبا أُمَامة، لقد كَبِرَتْ سِنِّي، ورقَّ عظمي، واقترب أجلي، وما بِي حاجة أن أَكْذِبَ على الله -تعالى-، ولا على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لو لم أسمعه من رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إلا مرة أو مرتين أو ثلاثًا -حتى عدَّ سبع مرات- ما حدَّثْت أبدًا به، ولكني سمعته أكثر من ذلك.

عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں زمانۂ جاہلیت میں خیال کرتا تھا کہ لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اور وہ کسی دین پر نہیں ہیں اور بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ پھر میں نے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ مکہ میں کچھ خبریں بیان کرتا ہے۔ چنانچہ میں اپنی سواری پر بیٹھا اور اس شخص کے پاس (مکہ) آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ چھپ کر اپنا دعوتی کام کر رہے ہیں اور آپ کی قوم آپﷺ پر دلیر ہے۔ بہرحال میں نے نرمی سے کام لیتے ہوئے آپﷺ سے ملنے کی تدبیر کی یہاں تک کہ میں مکے میں آپﷺ کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے آپﷺ سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپﷺ نے جواب دیا: میں نبی ہوں۔ میں نے کہا: نبی کون ہوتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: (جسے اللہ اپنے احکام دے کر بھیجے اور) مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔ میں نے دریافت کیا: آپ کو اللہ نے کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اس نے مجھے صلہ رحمی کا حکم دینے، بتوں کو توڑنے اور اس بات کا پیغام دے کر بھیجا ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی چيز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ میں نے عرض کیا کہ اس کام پر آپ کے ساتھ اور کون ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ایک آزاد شخص اور ایک غلام۔ (راوی کا کہنا ہے کہ) اس وقت آپﷺ کے ساتھ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ میں نے عرض کیا: میں (بھی) آپ کا پیروکار ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم آج اس کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے۔ کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھ رہے؟ لھٰذا تم (ابھی) اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ، جب تم میری بابت سنو کہ میں غالب آ گیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آگیا اور رسول اللہ ﷺ (بالآخر مکہ چھوڑ کر) مدینہ تشریف لے آئے۔ ایسے میں میرے اہل خانہ میں سے کچھ لوگ مدینہ آئے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جو شخص مدینہ آیا ہے اس کا کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ لوگ تو بہت تیزی سے اس کی طرف راغب ہو رہے ہیں جب کہ خود اس کی اپنی قوم اسے قتل کر دینا چاہتی تھی لیکن وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ لہذا میں مدینہ آ گیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں، تم وہی ہو جو مجھے مکہ میں ملے تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وہ باتیں بتلائیں جو اللہ نے آپ کو سکھلائی ہیں اور میں ان سے ناواقف ہوں۔ مجھے نماز کے بارے میں بتائیں۔ آپﷺنے فرمایا: تم صبح کی نماز پڑھو اور اس کے بعد نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج ایک نیزے کی مقدار کے برابر بلند ہو جائے۔ کیونکہ سورج جب طلوع ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے مابین طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں۔ پھر تم نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ سایہ نیزے کے برابر ہو جائے۔ پھر (اس وقت) نماز پڑھنے سے رک جاؤ کیونکہ اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے۔ پھر جب سایہ بڑھنے لگے تو نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو۔ پھر سورج کے غروب ہونے تک نماز سے رکے رہو کیونکہ یہ شیطان کے دوسینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! وضو کے بارے میں بھی مجھے بتائیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: تم میں سے جو بھی آدمی وضو کے پانی کو اپنے قریب کرکے کلی کرتا ہے اورناک میں پانی ڈال کر اسے جھاڑتا ہے تو اس کے چہرے کے سارے گناہ اس کی داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ اس کی انگلیوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ نکل کر گر جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ اس کے بالوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے دونوں پیر ٹخنوں تک دھوتا ہے تو اس کے دونوں پیروں کے گناہ پانی کے ساتھ اس کی انگلیوں سے نکل کر گر جاتے ہیں۔ چنانچہ (اس کے بعد) اگروہ کھڑا ہوا اور نماز پڑھی، پس اللہ کی اس کے شایانِ شان حمد و ثنا اور بزرگی بیان کی اور اپنے دل کو اللہ کے لیے فارغ کرلیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو کر نکلتا ہے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ کے صحابی ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا تو ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے عمرو بن عبسہ! دیکھو تم کیا بیان کر رہے ہو۔ ایک ہی جگہ پر اس آدمی کو اتنا ثواب مل جائے گا؟ اس پر عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے: اے ابو امامہ! میری عمر بڑی ہو گئی، میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور میری موت قریب آگئی ہے، اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ پر اور اللہ کے رسولﷺ پر جھوٹ بولوں۔ اگر میں نے یہ حديث رسول اللہ ﷺ سے ایک مرتبہ، دو مرتبہ، تین مرتبہ، حتی کہ سات مرتبہ تک نہ سنی ہوتی تو میں کبھی یہ حدیث بیان نہ کرتا، لیکن میں نے تو اسے اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنی ہے۔

يخبرنا عمرو بن عبسة السلمي رضي الله عنه كيف كان حاله في الجاهلية، وكيف هداه الله إلى الإسلام.
فكان -وهو في الجاهلية- عنده نور في قلبه يبين له أن هؤلاء الناس على باطل وعلى شرك وضلالة، ولم يكن يعتقد ما يعتقدون  ثم إنه سمع أن شخصا في مكة خرج في هذا الزمن يخبر أخبارًا. فاستقل راحلته رضي الله عنه وقدم على النبي صلى الله عليه وسلم ، فوجده متخفيا في دعوته خشية الأذى من كفار قريش.
قال عمرو بن عبسة: (فتلطفت حتى دخلت عليه بمكة فقلت: ما أنت؟ قال: أنا نبي، قال: قلت: وما نبي؟ قال: أرسلني الله، قال: قلت: وبأي شيء أرسلك؟ قال: أرسلني بصلة الأرحام، وكسر الأوثان، وأن يوحد الله ولا يشرك به شيئا).
هنا دعا إلى الله عز وجل، وبين محاسن هذا الدين العظيم، وأهم شيء هو توحيد الله عز وجل، ومكارم الأخلاق، فذكر له صلى الله عليه وسلم ما يعرفه الناس بعقولهم من أن هذه الأصنام باطلة، ولذلك هذا الرجل قبل أن يدخل في الإسلام كان يعرف أن هذا الذي عليه المشركون من عبادة باطل،  فهو يبحث عن الحق رضي الله تبارك وتعالى عنه، فلما ذهب إلى النبي صلى الله عليه وسلم ذكر له أن الله أرسله بذلك قال: (أرسلني بصلة الأرحام) فهذه مكارم الأخلاق؛ لأن أهل مكة كانوا يشيعون على النبي صلى الله عليه وسلم أنه جاء بقطع الأرحام، فكذبهم النبي صلى الله عليه وسلم، وأنه إنما جاء بصلة الأرحام لا بقطعها.   ( وكسر الأوثان ) كسر ما يعبد من دون الله سبحانه تبارك وتعالى،  ( وأن يوحد الله ولا يشرك به شيئا ) ، قال: قلت: " فمن معك على هذا؟ " أي: من دخل في هذا الدين معك ؟ قال: ( حر وعبد )، الحر: أبو بكر رضي الله عنه، والعبد: بلال رضي الله عنه.   (إني متبعك، قال: إنك لن تستطيع ذلك يومك هذا)  وإنما المعنى: أنه إذا اتبعه وترك قومه ليكون مع النبي صلى الله عليه وسلم في مكة فإن النبي صلى الله عليه وسلم لا يستطيع أن يدفع عنه هؤلاء الكفار، فقال له: امكث في قومك مسلما حتى يظهر هذا الدين فتأتي وتكون معنا، فهذا من رأفته ورحمته وشفقته صلى الله عليه وسلم، فإن هذا الرجل ضعيف، فقال صلى الله عليه وسلم للرجل: ( إنك لن تستطيع ذلك يومك هذا، ألا ترى حالي وحال الناس؟) يعني: الناس كثرة وهم يؤذونني، ولا أقدر عليهم، فكيف أدفع عنك؟! (فقال: ولكن ارجع إلى أهلك، فإذا سمعت بي قد ظهرت فأتني).
والمعنى : استمرّ على إسلامك ، حتى تعلم بأني قد ظهرت، فأتني.
 
قال: ( فذهبت إلى أهلي وقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وكنت في أهلي، فجعلت أتخبر الأخبار) لأن الإسلام دخل في قلب الرجل، يقول: ( وأسأل الناس حين قدم المدينة، حتى قدم نفر من أهلي من المدينة، فقلت: ما فعل هذا الرجل الذي قدم المدينة؟ ) وكأنه كان يخفي إسلامه، ولم يظهره خوفا من قومه، ( قال: فقالوا: الناس إليه سراعًا، وقد أراد قومه قتله فلم يستطيعوا ذلك، قال: فقدمت المدينة، فدخلت عليه فقلت: يا رسول الله! أتعرفني؟ قال: نعم أنت الذي لقيتني بمكة )


( قال: فقلت: يا رسول الله! أخبرني عما علمك الله وأجهله )، فهو الآن يسأل النبي صلى الله عليه وسلم: ما هي أحكام الإسلام التي نزلت عليك؟ علمني مما علمك الله وأجهله، أخبرني عن الصلاة؟، فقال: ( صل صلاة الصبح ) أي: في وقتها، (ثم اقْصُرْ عن الصلاة حتى ترتفع الشمس) والمعنى: صلاة الصبح ليس هناك صلاة بعدها، فاقْصُر عن الصلاة حتى تطلع الشمس، وهل عندما تطلع الشمس يصلي نافلة ؟ يقول له صلى الله عليه وسلم: ( ثم اقْصُرْ عن الصلاة حتى ترتفع الشمس قيد رمح )

610;عني: في نظر الناظر إليها، (فإنها تطلع حين تطلع بين قرني شيطان)، وقت طلوع الشمس هذا هو وقت يسجد الكفار فيه للشمس، فلا يجوز للمسلم أن يؤخر الفرض إلى هذا الوقت باختياره، ولا يجوز له أن يصلي النافلة وقت طلوع الشمس حتى ترتفع، وتجد في التقويم ( وقت الشروق ) فهذا الوقت المقصود.
قال صلى الله عليه وسلم: ( فإنها تطلع حين تطلع بين قرني شيطان، وحينئذ يسجد لها الكفار ) فنهانا أن نتشبه بهم.
قال: (ثم صل فإن الصلاة مشهودة محضورة)، أي : تحضرها ملائكة النهار لتكتبها وتشهد بها لمن صلاها فهي بمعنى رواية مشهودة مكتوبة.
قال: ( حتى يستقل الظل بالرمح، ثم اقْصُرْ عن الصلاة ) أي: عند الزوال، وذلك عندما تكون الشمس في كبد السماء فوق رأس الإنسان، ويكون الظل كله تحت قدميه فيقول له: لا تصل في هذا الوقت، وهو وقت يسير يقدر بركعتين تقريبا، فهذا الوقت لا يجوز له أن يصلي فيه؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ( فإنه حينئذ تسجر جهنم ) ، فهذا هو الوقت الذي تحرم فيه الصلاة، فالذي يدخل ينتظر حتى يؤذن لصلاة الظهر.
قال: (فإذا أقبل الفيء) أي: الظل، كان الظل يتقلص ويتقلص حين صار تحت قدميك، وابتدأ ينتقل بعد ذلك إلى الناحية الأخرى منك، فيكون الظل عند وقت أذان الظهر قد بدأ يتحول من المغرب إلى المشرق.
قال: (فإذا أقبل الفيء فصل، فإن الصلاة مشهودة محضورة حتى تصلي العصر) أي: فصل الفريضة والنافلة حتى وقت العصر فهو وقت مفتوح، فصل فيه ما شئت من نوافل، وليس هناك كراهة.
قال صلى الله عليه وسلم: (ثم اقْصُرْ عن الصلاة حتى تغرب الشمس) أي: فإذا صليت العصر فلا تصل نافلة حتى تغرب الشمس.
 (ثم اقْصُرْ عن الصلاة حتى تغرب الشمس) فقبيل غروب الشمس يرجع وقت التحريم مرة أخرى مثل وقت طلوع الشمس، والعلة هنا أنها تغرب بين قرني شيطان، فلا يجوز للمسلم أن يؤخر صلاة العصر إلى قبيل الغروب اختيارا؛ لأنه يتشبه بعباد الشمس من الكفار، والمسلم كأنه بفعله هذا يقلد هؤلاء الكفار فيؤخر صلاة العصر إلى هذا الوقت، وسماها النبي صلى الله عليه وسلم صلاة المنافقين؛ لأن المنافق يرقب الشمس حتى إذا اصفرت قام فنقرها أربعا لا يذكر الله فيها إلا قليلا، فاحذر أن تتشبه بالكفار أو تتشبه بالمنافقين وتؤخر صلاة العصر اختيارا إلى وقت اصفرار الشمس.
وقال صلى الله عليه وسلم: ( فإنها تغرب بين قرني شيطان، وحينئذ يسجد لها الكفار ).
قال عمرو فقلت: ( يا نبي الله! فالوضوء حدثني عنه؟ قال صلى الله عليه وسلم: ما منكم رجل يقرب وضوءه فيتمضمض ويستنشق فينتثر إلا خرت خطايا وجهه وفيه وخياشيمه) أي أن الإنسان عندما يتوضأ تتساقط الذنوب مع آخر قطر الماء، فعندما يغسل وجهه، فإن ذنوب الفم والأنف والوجه والعينين تنزل كلها مع الماء.
ثم إن عمرو بن عبسة رضي الله عنه حدث بهذا الحديث أبا أمامة رضي الله عنه فقال له أبو أمامة: ( يا عمرو بن عبسة انظر ما تقول! في مقام واحد يُعطى هذا الرجل؟!).
يعني: كأنه استكثر أن كل هذا يُعطاه العبد في مقام واحد، أنه إذا توضأ هذا الوضوء خرت الخطايا كلها منه، ثم يدخل في الصلاة فيخرج منها كيوم ولدته أمه، ليس عليه ذنب، يقول له: تذكر جيدا أن تكون قد نسيت شيئا مما ذكره النبي صلى الله عليه وسلم.
فكان جواب عمرو رضي الله عنه أنه قال: ( يا أبا أمامة! لقد كبرت سني، ورق عظمي، واقترب أجلي، ومالي حاجة أن أكذب على الله تعالى )، وحاشا لأصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أن يكذبوا على النبي صلى الله عليه وسلم أو على ربهم سبحانه.
قال: ( ولا على رسول الله صلى الله عليه وسلم لو لم أسمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا مرة أو مرتين أو ثلاثا حتى عد سبع مرات ما حدثت بهذا أبدا ).
يعني: هذا الحديث لم يقله النبي صلى الله عليه وسلم مرة واحدة، بل قاله سبع مرات، والعدد (سبعة) يذكره العرب بمعنى: الكثرة، ولعله قالها أكثر من ذلك، قال: ( ولكني سمعته أكثر من ذلك ).
593;مرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ بيان فرما رہے ہیں کہ ان کا زمانۂ جاہلیت میں کیا حال تھا اور کیسے اللہ تعالی نے اسلام کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی۔زمانۂ جاہلیت ہی میں ان کے دل میں ایک روشنی موجود تھی جس کی وجہ سے ان پر واضح ہو گیا تھا کہ یہ لوگ باطل پر اور شرک و گمراہی پر ہیں۔ چنانچہ وہ اس عقیدہ کے حامل نہیں تھے جو ان لوگوں کا عقیدہ تھا۔ پھر انہوں نے سنا کہ مکہ میں اس زمانے ميں ایک شخص کا ظہور ہوا ہے جو خبریں دیتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور نبی ﷺ کے پاس آئے، تو دیکھا کہ نبی ﷺ کفارِ قریش کی اذیت کےخوف سے چھپ کر اپنی دعوت دے رہے ہیں۔ عمر و بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: بہرحال میں نے نرمی سے کام لیتے ہوئے آپﷺ سے ملنے کی تدبیر کی یہاں تک کہ میں مکے میں آپﷺ کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے آپ ﷺ سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپﷺ نے جواب دیا: میں نبی ہوں۔ میں نے کہا: نبی کون ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (جسے اللہ اپنے احکام دے کر بھیجے اور) مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔ میں نے دریافت کیا: آپ کو اللہ نے کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے مجھے صلہ رحمی کا حکم دینے، بتوں کو توڑنے اور اس بات کا پیغام دے کر بھیجا ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی چيز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔
آپﷺ نے ان الفاظ کے ذریعے اللہ عز وجل کی طرف دعوت دی اور اس عظیم دین کی خوبیوں کو بیان کیا۔ ان میں سب سے اہم اللہ عز و جل کی توحید اور مکارمِ اخلاق ہیں۔ آپ ﷺ نے اس کے سامنے ان باتوں کا ذکر کیا جو لوگوں کو اپنی عقل کی بنا پر بھی معلوم ہو جاتی ہیں کہ ان بتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ اسی لیے یہ صحابی اسلام قبول کرنے سے پہلے ہی یہ جانتے تھے کہ مشرکین کا طریقۂ عبادت باطل ہے اور وہ حق کے متلاشی تھے، اللہ تبارک وتعالی ان سے راضی ہو۔ چنانچہ جب وہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ اللہ تعالی نے ان باتوں کے ساتھ آپﷺ کو مبعوث فرمايا ہے۔ اور فرمایا: اللہ نے مجھے صلہ رحمی کا حکم دینےکے لیے بھیجا ہے۔ صلہ رحمی مکارم اخلاق میں سے ہے۔ اہل مکہ یہ باتیں پھیلا رہے تھے کہ نبیﷺ قطع رحمی کا مقصد لے کر آئے ہیں۔ آپﷺ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ قطع رحمی کے ليے نہیں بلکہ صلہ رحمی کا حکم لے کر آئے ہیں۔
اور بتوں کو توڑنے کے لیے۔ یعنی اس چيز کو توڑنے کے لیے جس کی اللہ کو چھوڑ کر پوجا کی جاتی ہے۔ اوریہ کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی چيز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپﷺ سے پوچھا: اس کام پر آپ کے ساتھ اور کون ہے؟ یعنی آپ کے ساتھ اور کون ہے جو اس دین میں داخل ہوچکا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ایک آزاد شخص اور ایک غلام۔ آزاد شخص ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے جب کہ غلام بلال رضی اللہ عنہ تھے۔
میں (بھی) آپ کا پیروکار ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم آج اس کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر وہ آپﷺ کی اتباع کرتے اور آپ ﷺ کے ساتھ مکہ میں رہنے کے لیے اپنی قوم کو چھوڑ دیتے تو آپﷺ انہیں کفار سے نہ بچا سکتے چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے کہا: مسلمان ہو کر اپنی قو م میں ہی رہو یہاں تک کہ یہ دین غالب آجائے۔ اس وقت تم آکر ہمارے ساتھ شامل ہو جانا۔ آپﷺ نے ایسا ہمدردی اور از راہِ شفقت و رحمت فرمایا کیونکہ یہ شخص کمزور تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: اس وقت تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھ رہے؟ یعنی یہ لوگ بہت زیادہ ہیں اور ہمیں اذیت دے رہے ہیں اور میرا ان پر کوئی بس نھیں چلتا، تو میں تمہارا دفاع کیسے کر سکوں گا؟! آپﷺ نے فرمایا: لھٰذا تم (ابھی) اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ، جب تم میری بابت سنو کہ میں غالب آ گیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا۔
معنی یہ ہے کہ اپنے اسلام پر قائم رہو یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ میں غالب آ گیا ہوں تو اس وقت میرے پاس آنا۔
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے اہل خانہ کے پاس آگیا اور رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لے آئے اور میں اپنے اہل خانہ میں تھا۔ چنانچہ میں نے خبروں کی جستجو شروع کردی۔ کیونکہ اسلام ان کے دل میں گھر کر چکا تھا۔ وہ کہتے ہیں: اور جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لے آئے تو میں (آپ کی بابت) لوگوں سے پوچھتا رہتا۔ یہاں تک کہ ہمارے خاندان کے کچھ لوگ مدینہ سے آئے تو میں نے ان سے پوچھا: مدینہ آنے والے اس آدمی کا کیا ہوا؟ گویا کہ وہ اپنے اسلام کو پوشیدہ رکھ رہے تھے اور اپنی قوم کے ڈر کی وجہ سے اسے ظاہر نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: لوگ تو اس آدمی کی طرف بہت تیزی سے راغب ہو رہے ہیں ليكن خود اس کی اپنی قوم اسے قتل کر دینا چاہتی تھی لیکن وہ ایسا نہیں كر سکے۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ چلا آیا اور آپﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں۔ تم وہی ہو جو مجھے مکہ میں ملے تھے؟
وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپﷺ سے عرض کيا کہ اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وہ باتیں بتلائیں جو اللہ نے آپ کو سکھلائی ہیں اور میں ان سے ناواقف ہوں۔ وہ نبیﷺ سے پوچھ رہے ہیں کہ اسلام کے وہ کون سے احکام ہیں جو آپ پر نازل ہوئے ہیں۔ مجھے وہ کچھ سکھائیں جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے اور جس سے میں ناواقف ہوں۔ مجھے نماز کے بارے میں بتائیں؟ آپﷺ نے فرمایا: صبح کی نماز پڑھو۔ یعنی اس کے وقت میں اسے ادا کرو۔ پھر نماز سے رکے رہو۔ یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے۔ یعنی صبح کی نماز کے بعد کوئی نماز نہیں ہے۔ اس وقت تک نماز نہ پڑھو جب تک کہ سورج طلوع نہ ہوجائے۔ تاہم آیا جب سورج طلوع ہو رہا ہو تو اس وقت آدمی نفل نماز پڑھ سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اس وقت تک نماز سے رکے رہو جب تک کہ سورج ایک نیزے کے بقدر بلند نہ ہو جائے۔ یعنی دیکھنے والے کی نگاہ ميں۔
سورج شیطان کے دو سینگوں کے مابین طلوع ہوتا ہے۔ سورج کے طلوع ہونے کے اس وقت میں کفار سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔ لھٰذا مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بالارادہ اس وقت تک نماز کو موخر کرے اور نہ ہی سورج کے طلوع ہونے کے وقت اس کے لیے نفل نماز پڑھنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے۔ جنتری میں آپ کو وقت الشروق لکھا ہوا ملے گا۔ یہاں مراد یہی وقت ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: سورج جس وقت طلوع ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے مابین طلوع ہوتا ہے اور کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ نبی ﷺ نے ہمیں کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا۔
آپﷺ نے فرمایا: پھر تم نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں۔ یعنی دن کے فرشتے اس نماز میں حاضر ہوتے ہیں تاکہ اسے لکھ سکیں اور جس نے نماز پڑھی ہو اس کے حق میں گواہی دے سکیں۔ چنانچہ اس کا معنی وہی ہے جو ایک دوسری روایت کا ہے جس میں مشهودة مكتوبة کے الفاظ ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: یہاں تک کہ سایہ (کم ہو کر) نيزے کے برابر ہو آجائے تو اس وقت نماز سے رک جاو۔ یعنی بوقت زوال جب سورج آسمان کے بالکل درمیان میں انسان کے سر کے عین اوپر آجاتا ہے اور سارا سایہ اس کے پاؤں تلے ہوجاتا ہے تو اس وقت کے بارے میں آپ ﷺ ان سے فرما رہے ہیں کہ اس میں نماز نہ پڑھو۔ یہ تقریبا اتنا وقت ہوتا ہے جس میں دو رکعتیں پڑھی جاسکتی ہیں۔ اس وقت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ نبیﷺ نے فرمایا: اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جس میں نماز پڑھنا حرام ہے۔ اس وقت میں آدمی کو انتظار کرنا چاہیے یہاں تک کہ نماز ظہر کے لیے اذان دے دی جائے۔
آپﷺ نے فرمایا: جب سایہ بڑھنے لگے۔ سایہ گھٹتا اور کم ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ آپ کے قدموں تلے آجاتا ہے اور پھر اس کے بعد آپ کے دوسری جانب منتقل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ظہر کی اذان کے وقت یہ سایہ مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہونے لگتا ہے۔
آپﷺ نے فرمایا: جب سایہ بڑھنے لگے تو اس وقت نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو۔ یعنی عصر کے وقت تک فرض نماز بھی پڑھو اور نفل بھی۔ نماز پڑھنے کے لیے یہ وقت کھلا ہے اور اس میں آپ جتنی چاہیں نفل نماز پڑھیں۔ اس میں کوئی کراہت نہیں تاہم جب آپ عصر پڑھ لیں تو اس کے بعد سورج کے غروب ہو جانے تک نفل نماز نہ پڑھیں۔
پھر نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔ سورج غروب ہونے سے کچھ دیر قبل ایک دفعہ پھر سے وہ وقت آجاتا ہے جس میں نماز پڑھنا حرام ہے جیسا کہ سورج کے طلوع ہونے کے وقت تھا۔ یہاں حرمت کی علت یہ ہے کہ سورج جب غروب ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے مابین غروب ہوتا ہے۔ چنانچہ مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ نماز عصر کو جان بوجھ کر مغرب سے کچھ دیر پہلے تک موخر کرے، کیونکہ ایسا کرنے سے اس کی سورج پرست کفار کے ساتھ مشابہت ہو گی اور مسلمان ایسا کرنے یعنی نماز عصر کو اس وقت تک موخر کرنے کی صورت میں گویا کفار کی تقلید کرے گا۔ نبی ﷺ نے اسے منافقین کی نماز کا نام دیا ہے۔ کیونکہ منافق ہی ایسا کرتا ہے کہ سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب وہ زرد ہوجاتا ہے تو جلدی جلدی ٹھونگ مار کر چار رکعت پڑھ لیتا ہے اور اس میں بہت کم اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ چنانچہ کفار اور منافقین کی مشابہت سے بچیں اور نماز کو جان بوجھ کر سورج کے زرد پڑ جانے تک موخر کرنے سے پرہیز کریں۔
آپﷺ نے فرمایا: یہ شیطان کے دو سینگوں کے مابین غروب ہوتا ہے اور اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔
عمر و بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! وضو کے بارے میں بھی مجھے بتائیں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص بھی وضو کے پانی کو اپنے قریب کرکے کلی کرتا ہے اورناک میں پانی ڈال کر اسے جھاڑتا ہے،تو اس کے چہرے، منہ اور ناک کے سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ یعنی جب انسان وضو کرتا ہے تو پانی کا آخری قطرہ گرنے کے ساتھ اس کے گناہ بھی جھڑ جاتے ہیں۔ پھر عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو سنائی تو ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے عمرو بن عبسہ! دیکھو تم کیا بیان کر رہے ہو۔ ایک ہی جگہ پر اس آدمی کو اتنا ثواب مل جائے گا؟
یعنی انہیں یہ بہت زیادہ لگا کہ آدمی کو ایک ہی جگہ پر اتنا کچھ دے دیا جائے کہ جب وہ وضو کرے تو اس کے ساتھ اس کے سارے گناہ جھڑ جائیں اور پھر نماز پڑھ کر جب وہ فارغ ہو تو وہ اس طرح گناہوں سے پاک صاف ہو جائے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا کہ اس پر کوئی گناہ نہیں تھا۔ وہ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے ہیں کہ اچھی طرح سے یاد کرو کہ کہیں نبیﷺ کی فرمائی ہوئی کوئی بات تم بھول نہ گئے ہو۔
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے اس پر یہ جواب دیا کہ: اے ابو امامہ! میری عمر بڑی ہو گئی، میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور میری موت قریب آگئی ہے، اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ پر اور اللہ کے رسول ﷺ پر جھوٹ بولوں؟ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ نبیﷺ کے صحابہ آپﷺ پر یا اپنے رب سبحانہ وتعالی پر کوئی جھوٹی بات کہیں۔
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور نہ ہی مجھے اس بات کی کوئی ضرورت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھوں۔ اگر میں نے یہ حديث رسول اللہ ﷺ سے ایک مرتبہ، دو مرتبہ، تین مرتبہ،حتی کہ سات مرتبہ تک نہ سنی ہوتی تو میں کبھی یہ حدیث بیان نہ کرتا۔
یعنی آپﷺ نے یہ بات ایک دفعہ نہیں بلکہ سات دفعہ فرمائی۔ عربوں کے ہاں سات کا عدد کثرت پر دلالت کرتا ہے اور شاید نبیﷺ نے اس سے بھی زیادہ دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: لیکن میں نے تو اسے اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6610

 
 
Hadith   1342   الحديث
الأهمية: ما مِن صاحب ذَهب ولا فِضَّة لا يُؤَدِّي منها حقَّها إلا إذا كان يوم القيامة صُفِّحَتْ له صَفَائِحُ من نار، فَأُحْمِيَ عليها في نار جهنَّم، فيُكْوى بها جَنبُه وجَبينُه وظهرُه


Tema:

جو شخص سونے اور چاندی (کے نصاب) کا مالک ہو اور اس کا حق ( زکوۃ) ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کے لئے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی۔ وہ تختیاں دوزخ کی آگ میں گرم کی جائیں گی اور ان سے اس شخص کے پہلو، اس کی پیشانی اور اس کی پشت داغی جائے گی۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «ما مِن صاحب ذَهب، ولا فِضَّة، لا يُؤَدِّي منها حقَّها إلا إذا كان يوم القيامة صُفِّحَتْ له صَفَائِحُ من نار، فَأُحْمِيَ عليها في نار جهنَّم، فيُكْوى بها جَنبُه، وجَبينُه، وظهرُه، كلَّما بَرَدَت أُعِيْدَت له في يوم كان مِقداره خمسين ألف سنة، حتى يُقْضَى بين العِباد فَيَرى سَبِيلَه، إما إلى الجنة، وإما إلى النار». قيل: يا رسول الله، فالإبْل؟ قال: «ولا صَاحِبِ إِبل لا يُؤَدِّي منها حَقَها، ومن حقِّها حَلْبُهَا يوم وِرْدِهَا، إلا إذا كان يوم القيامة بُطِح لها بِقَاعٍ قَرْقَرٍ. أوْفَرَ ما كانت، لا يَفْقِد منها فَصِيلا واحِدَا، تَطَؤُهُ بِأخْفَافِهَا، وتَعَضُّه بِأفْوَاهِهَا، كلما مَرَّ عليه أُولاَها، رَدَّ عليه أُخْرَاها، في يوم كان مِقْداره خمسين ألف سنة، حتى يُقضى بين العباد، فَيَرَى سَبِيلَه، إما إلى الجنة، وإما إلى النار». قيل: يا رسول الله، فالبقر والغنم؟ قال: «ولا صاحب بقر ولا غَنَم لاَ يُؤَدِّي منها حقها، إلا إذا كان يوم القيامة، بُطِح لها بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، لا يَفْقِد منها شيئا، ليس فيها عَقْصَاء، ولا جَلْحَاء، ولا عَضْبَاءُ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِها، وتَطَؤُهُ بِأظْلاَفِهَا، كلَّمَا مَرَّ عليه أُولاَها، رَدَّ عليه أُخْرَاها، في يوم كان مِقداره خمسين ألف سنة حتى يُقضى بين العِباد، فَيَرَى سَبيلَه، إما إلى الجنة، وإما إلى النار». قيل: يا رسول الله فالخيل؟ قال: «الخَيل ثلاثة: هي لرَجُلٍ وِزْرٌ، وهي لرَجُل سِتْر، وهي لِرَجُلٍ أجْرٌ. فأمَّا التي هي له وِزْرٌ فَرَجُلٌ ربَطَهَا رِيَاءً وَفَخْرًا وَنِوَاءً على أهل الإسلام، فهي له وِزْرٌ، وأما التي هي له سِتْرٌ، فرَجُل ربَطَها في سبيل الله، ثم لم يَنْس حَقَّ الله في ظُهورها، ولا رقَابِها، فهي له سِتْرٌ، وأما التي هي له أَجْرٌ، فرَجُل ربَطَها في سبيل الله لأهل الإسلام في مَرْج، أو رَوْضَةٍ فما أكلت من ذلك المَرْجِ أو الرَّوْضَةِ من شيء إلا كُتِبَ له عَدَدَ ما أكَلَتْ حسنات وكتب له عَدَد أرْوَاثِهَا وَأبْوَالِهَا حسنات، ولا تَقْطَعُ طِوَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفا أو شَرَفَيْنِ إلا كَتَب الله له عَدَد آثَارِهَا، وَأرْوَاثِهَا حسنات، ولا مَرَّ بها صَاحِبُها على نَهْر، فشَربَت منه، ولا يُريد أن يَسْقِيهَا إلا كَتَب الله له عَدَد ما شَرَبت حسنات» قيل: يا رسول الله فالحُمُرُ؟ قال: «ما أُنْزِل عليَّ في الحُمُر شيء إلا هذه الآية الفَاذَّة الجَامعة: ?فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره? [الزلزلة: 7 - 8]».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص سونے اور چاندی (کے نصاب) کا مالک ہو اور اس کا حق ( زکوۃ) ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کے ليے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی۔ وہ تختیاں دوزخ کی آگ میں گرم کی جائیں گی اور ان سے اس شخص کے پہلو، اس کی پیشانی اور اس کی پشت کو داغا جائے گا اور جب بھی وہ (تختیاں) ٹھنڈی ہو جائیں گی، انھیں دوبارہ آگ میں گرم کیا جائے گا (اور ان سے داغا جائے گا۔) حساب کتاب کے اس دن میں یہ عمل برابر جاری رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی، یہاں تک کہ بندوں کے درميان فيصلہ کرديا جائے گا۔ پھر اسے اس کا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دکھا دیا جائے گا۔ عرض کیا گيا: اے اللہ کے رسول! اونٹوں کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اونٹوں کا مالک ہو اور وہ ان کا حق (زکوۃ) ادا نہ کرے اور ان کا حق یہ بھی ہے کہ ان کو پانی پلانے کے دن (ضرورت مندوں اور مسافروں کے لیے) ان کا دودھ دوہا جائے، تو قیامت کے دن اس شخص کو اونٹوں کے سامنے ایک ہموار میدان میں منہ کے بل اوندھا ڈال دیا جائے گا اور اس کے سارے اونٹ پہلے سے بھی زیادہ فربہ حالت میں وہاں موجود ہوں گے اور ان میں سے اونٹ کا ایک بچہ تک بھی کم نہ ہوگا۔ يہ اونٹ اپنے کھروں سے اس شخص کو روندیں گے اور اپنے مونہوں سے اسے کاٹیں گے۔ ان میں سے جب ان کا پہلا اونٹ گزر جائے گا تو اس پر پھر ان کا آخر ی اونٹ دوبارہ لوٹا دیا جائے گا۔ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا۔ پس وہ شخص جنت یا دوزخ کی طرف اپنی راہ لے گا۔ عرض کیا گيا: اے اللہ کے رسول! گائے اور بکریوں کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص گایوں اور بکریوں کا مالک ہو اور ان کا حق ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اسے ایک ہموار میدان میں اس کی گایوں اور بکریوں کے سامنے اوندھے منہ ڈال دیا جائے گا، ان میں سے کوئی بھی کم نہیں ہوگی، کسی کا سینگ نہ مڑا ہوگا، نہ ٹوٹا ہوگا اور نہ کوئی بلا سینگ ہوگی۔ وه اپنے سينگوں سے اسے ماریں گی اور اپنے کھروں سے اسے کچلیں گی اور جب ایک قطار اسے مار کچل کر چلی جائے گی تو اس کے پیچھے دوسری قطار آجائے گی، ايک ايسے دن ميں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ شخص جنت یا دوزخ کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے گا۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! گھوڑوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں: ایک تو وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے بوجھ (گناہ کا باعث) ہوتے ہیں، دوسرے وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے پردہ ہوتے ہیں اور تیسرے وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے ثواب کا باعث بنتے ہیں۔ چنانچہ جو اس کے لیے گناہ کا باعث ہوتے ہیں یہ وہ گھوڑے ہیں جنہیں وہ ریاکاری، اظہارِ فخر اور اہل اسلام کے خلاف مقابلے کے ليے رکھتا ہے۔ یہ اس کے لیے گناہ کا باعث ہوتے ہیں۔ اور جو اس کے لیے پردہ بنتے ہیں یہ وہ ہیں جنہیں آدمی اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے باندھتا ہے اور ان کی پیٹھ اور گردنوں کے بارے میں اللہ کے حق کو نہیں بھولتا۔ تو یہ اس کے لیے پردہ بنتے ہیں۔ اور جو اس کے لیے اجر کا باعث ہوتے ہیں، یہ وہ گھوڑے ہیں جنہیں آدمی اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے مسلمانوں کے لیے چراگاہ یا باغ میں باندھے۔ وہ گھوڑے اس چراگاہ یا باغ میں سے جو کچھ بھی کھاتے ہیں ان کے کھانے کے بقدر اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ان کی لید اور پیشاب کے بقدر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اور اگر وہ اپنی رسی کو تڑوا کر ایک ٹیلے یا دو ٹیلوں پر دوڑ کر چڑھ جائیں تو ان کے پاؤں کے نشانات کے بقدر اور اس دوران گرنے والی لید پر بھی اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔ پھر اگر ان کا مالک انہیں کسی نہر پر لے جائے اور وہ اس میں سے پانی پی لیں حالانکہ اس کا انہیں پانی پلانے کا ارادہ نہ ہو تو پھر بھی وہ جتنا پانی پیتے ہیں اس کے بقدر الله تعالى اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔ آپ ﷺ سے دریافت کیا گیاـ اے اللہ کے رسول! گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: گدھوں کے بارے میں مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں ہوا تاہم یہ منفرد اور جامع آیت موجود ہے (جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر گدھوں کو نیک کام کے لئے رکھا تو اس پر بھی اجر ملے گا): ﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ ”پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا“۔ (سورہ زلزال: 7-8)

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لا يوجد صاحب ذهب ولا فضة لا يؤدي منها زكاتها إلا إذا كان يوم القيامة صفحت له صفائح من نار فأُحمي عليها في نار جهنم فيكوى بتلك الصفائح جَنْبُه وجَبِينه وظهره، كلما بردت أعيدت في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة حتى يقضى بين العباد، ثم يرى سبيله إما إلى الجنة وإما إلى النار، فالذهب والفضة تجب الزكاة في أعيانهما في كل حال، فإن لم يفعل فجزاؤه ما ذكره النبي -صلى الله عليه وسلم-.
قال: "ولا صاحب إبل لا يؤدي منها حقها" فإذا امتنع صاحب الإبل مما أوجب الله عليه فيها من زكاتها وحلبها يوم ورودها على الماء؛ بأن تُحْلب ويسقى من ألبانها المارة والواردين للماء "إلا إذا كان يوم القيامة بُطِح لها بِقَاعٍ قَرْقَرٍ أوْفَرَ ما كانت.." ، وفي رواية لمسلم : "أعظم ما كانت" أي في الدنيا، زيادة في عقوبته بكثرتها وقوتها وكمال خَلْقِها فتكون أثقل في وطْئِها " كلما مَرَّ عليه أُولاَها، رُدَّ عليه أُخْرَاها"، وفي رواية مسلم: "كلما مَرَّ عليه أُخْراها رُدَّ عليه أولاها" والمعنى أنه سيظل يعذب بها خمسين ألف سنة، حتى يقضى بين العباد، ثم يرى سبيله، إما إلى الجنة وإما إلى النار. 
602;يل: يا رسول الله، فالبقر والغنم؟ قال: «ولا صاحب بقر ولا غَنَم لاَ يُؤَدِّي منها حقها، إلا إذا كان يوم القيامة، بُطِح لها بِقَاعٍ قَرْقَرٍ.." يقال فيمن امتنع من زكاة البقر والغنم ما قيل فيمن امتنع من إخراج زكاة الإبل، كما أن ذوات القرون تكون بقرونها ليكون أنكى وأصوب لطعنها ونطحها.
"قيل: يا رسول الله فالخيل؟ قال: «الخَيل ثلاثة: هي لرَجُلٍ وِزْرٌ، وهي لرَجُل سِتْر، وهي لِرَجُلٍ أجْرٌ" يعنى أن الخيل ثلاثة أصناف ، الصنف الأول بينه بقوله : "فأمَّا التي هي له وِزْرٌ فَرَجُلٌ ربَطَهَا رِيَاءً وَفَخْرًا وَنِوَاءً على أهل الإسلام، فهي له وِزْرٌ" فهذا الرجل الذي أعَدَّ خيله رياء وسمعة وتفاخرا ومعاداة لأهل الإسلام، فهذه تكون عليه وزر يوم القيامة.
وأما الصنف الثاني بَيَّنه -عليه الصلاة والسلام- بقوله: "وأما التي هي له سِتْرٌ، فرَجُل ربَطَها في سَبِيل الله، ثم لم يَنْس حَقَّ الله في ظُهورها، ولا رقَابِها، فهي له سِتْرٌ" والمعنى: أن الخيل التي أعَدَّها صاحبها لحاجته، ينتفع بِنَتَاجها ولبنها والحَمل عليها وتأجيرها؛ ليَّكُف بها وجهه عن سؤال الناس كان عمله ذلك في طاعة الله -تعالى- وابتغاء مرضاته، فهي له سِتْر؛ لأنَّ  سؤال الناس أموالهم  وعند الإنسان كفاية مُحَرَّم "ثم لم يَنْس حق الله في ظُهُورها ولا رقابها" بأن يَرَكبها في سبيل الله -تعالى- أو عند الحاجات ولا يَحْمِل عليها ما لا تُطِيقه، ويتعهدها بما يصلحها ويدفع ضررها عنها فهذه سِتْر لصاحبها من الفَقْر.
الصنف الثالث: ذكرها بقوله -صلى الله عليه وسلم-: "وأما التي هي له أَجْرٌ، فرَجُل ربَطَها في سبيل الله لأهل الإسلام في مَرْج، أو رَوْضَةٍ فما أكلت من ذلك المَرْجِ أو الرَّوْضَةِ من شيء إلا كُتِبَ له عَدَدَ ما أكَلَتْ حسنات وكتب له عَدَد أرْوَاثِهَا وَأبْوَالِهَا حسنات، ولا تَقْطَعُ طِوَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفا أو شَرَفَيْنِ إلا كَتَب الله له عَدَد آثَارِهَا، وَأرْوَاثِهَا حسنات، ولا مَرَّ بها صَاحِبُها على نَهْر، فشَربَت منه، ولا يُريد أن يَسْقِيهَا إلا كَتَب الله له عَدَد ما شَرَبت حسنات" أي: جهزها للجهاد في سبيل الله، سواء كان يجاهد بنفسه عليها أو أوقفها في سبيل الله -تعالى- ليجاهد بها الكفار، وقد قال -صلى الله عليه وسلم-: (من جهز غازيًا فقد غزا)، فهذا الرجل الذي أعَدَّ خَيْله في سبيل الله -تعالى- لإعلاء كلمة الله، كان له بكل ما تأكله من نَبَات الأرض حسنات، حتى بولها وروثها يُكتب له حسنات، (ولا يظلم ربك أحدًا).
"ولا تَقْطَعُ طِوَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفا أو شَرَفَيْنِ إلا كَتَب الله له عَدَد آثَارِهَا، وَأرْوَاثِهَا حسنات"، حتى لو قطعت طولها، أي: الحبل التي تُربط به لأجل أن تَرْعى في مكانها، فإذا قطعت الحبل وذهبت ترعى في غير مكانها، كان لصاحبها أجر عَدد آثارها، التي قطعتها، وكذا بولها وأرواثها.


"ولا مَرَّ بها صَاحِبُها على نَهْر، فشَربَت منه، ولا يُريد أن يَسْقِيهَا إلا كَتَب الله له عَدَد ما شَرَبت حسنات"
والمعنى: أن صاحب الخيل يؤجر على شربها من النهر أو الساقية ولو لم يَنوِ سَقْيها، وله بكل ما شربته حسنات، مع أنه لم يرد سقيها؛ وذلك اكتفاء بالنية السابقة، وهي: نية إعدادها في سبيل الله -تعالى-، فلا يشترط أن تكون النية مصاحبة لجميع العمل من أوله إلى آخره، ما لم يَنْقض نيته بالخروج من ذلك العمل.
" قيل: يا رسول الله فالحُمُرُ؟ "
أي: ما هو حكمها، هل تأخذ حكم بهيمة الأنعام في وجوب الزكاة فيها ، أو كالخيل؟
" قال: "ما أُنْزِل عليَّ في الحُمُر شيء " أي لم يُنْزِل عليَّ فيها نَصٌ بعينها، لكن نزلت هذه الآية الفَاذَّة الجَامعة" أي العامة المتناولة لكل خير ومعروف.
(فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره). متفق عليه، وهذه الآية عامة للخير والشر كله؛ لأنه إذا رأى مثقال الذرة، التي هي أحقر الأشياء، وجوزي عليها، فما فوق ذلك من باب أولى وأحرى، كما قال -تعالى-: (يوم تجد كل نفس ما عملت من خير محضرًا وما عملت من سوء تَوَدُّ لو أن بينها وبينه أمدا بعيدا).
580;و شخص بھی سونے و چاندی کا مالک ہو لیکن وہ ان کی زکوۃ ادا نہ کرے تو روز قیامت اس کے لیے آگ کی تختیاں بنائى جائیں گی جنہیں آگ میں تپايا جائے گا اور ان تختیوں سے اس کے پہلو، پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا اور جوں ہی یہ ٹھنڈی ہوں گی انہیں دوبارہ آگ میں تپایا جائے گا۔ یہ سب ایک ایسے دن میں ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی، یہاں تک کہ اللہ تعالی بندوں کے مابین فیصلہ کر دے گا اور پھر وہ شخص جنت يا دوزخ کی طرف اپنی راہ ديکھے گا۔ تو سونے اور چاندی کی ذات ميں ہر حال میں زکوۃ واجب ہے۔ اگر آدمی زکوۃ نہ نکالے تو پھر اس کی سزا وہی ہوگی جو نبی ﷺ نے ذکر کی ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: اونٹوں کا مالک جو ان کا حق ادا نہیں کرتا۔” چنانچہ اگر اونٹوں کا مالک ان میں سے اللہ کی طرف سے واجب کردہ زکوۃ نہ نکالے اور جس دن وہ پانی پیتے ہیں اس دن ان کا دودھ دوہ کر راہ گیروں اور گھاٹ پر آنے والوں کو نہ پلائے، تو قیامت کے دن اسے ایک ہموار میدان میں ان اونٹوں کے سامنے اوندھا ڈال دیا جائے گا جو گنتی میں پورے اور پہلے سے بھی موٹے تازے ہوں گے۔ مسلم شریف کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ: یہ پہلے سے بھی بڑے ہوں گے۔ یعنی دنیا میں جتنے بڑے تھے اس سے زیادہ بڑے ہوں گے۔ ایسا اس کی سزا میں اضافہ کرنے کے لیے ہوگا بایں طور کہ وہ بہت زیادہ، طاقتور اور پورے ڈیل ڈول والے ہوں گے اور یوں روندنے میں بہت بھاری ہوں گے۔
جب بھی آگے والے اس پر سے گزر کر نکل جائیں گے تو پیچھے والے آجائیں گے۔ مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے: جب ان کے آخر والے اس پر سے گزر چکیں گے تو پہلے والے اس پر دوبارہ لوٹا دیے جائيں گے۔
مطلب یہ کہ اسے پچاس ہزار سال تک برابر عذاب دیا جاتا رہے گا، یہاں تک کہ بندوں کے مابین فیصلہ کرديا جائے، پھر وہ شخص جنت یا جہنم کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے گا۔
پوچھا گیا کہ : اے اللہ کے رسول! گائے اور بھیڑ بکریوں کا معاملہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص گایوں اور بکریوں کا مالک ہو اور ان کا حق ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اسے ایک ہموار میدان میں اوندھے منہ ڈال دیا جائے گا۔
جو بندہ گائے اور بکریوں کی زکوۃ ادا نہیں کرتا اس کے بارے میں بھی وہی کچھ کہا جائے گا جو اس شخص کے بارے میں کہا گیا جو اونٹوں کی زکوۃ نہیں دیتا۔ اسی طرح وہ جانور جن کے سینگ ہوتے ہیں وہ اپنے سینگوں سمیت وہاں ہوں گے تاکہ خوب زخمی کریں اور صحیح طور پر ٹکر مار سکیں
آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ: اے اللہ کے رسول! گھوڑوں کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو آدمی کے لیے گناہ کا موجب اور بوجھ ہوتے ہیں، دوسرے وہ جو اس کے لیے پردہ ہوتے ہیں اور تیسرے وہ جو اس کے لیے اجر کا باعث ہوتے ہیں۔
یعنی گھوڑوں کی تین قسميں ہیں: پہلی قسم کی وضاحت آپ ﷺ نے یہ فرما کر کی کہ: رہے وہ جو اس کے لیے گناہ کا باعث اور بوجھ ہوتے ہیں، تو یہ وہ گھوڑے ہیں جنہیں وہ ریاکاری، اظہارِ فخر اور اہل اسلام سے دشمنی کے لیے پالتا ہے۔ یہ اس کے لیے گناہ کا باعث ہوتے ہیں۔
یہ شخص جو اپنے گھوڑوں کو ریاکاری، دکھاوے، اظہار فخر اور مسلمانوں کی عداوت کی غرض سے پالتا ہے وہ روزِ قيامت اس کے لیے بوجھ ہوں گے۔
دوسری قسم کی تفصیل آپ ﷺ نے ان الفاظ میں فرمائی: اور رہے وہ گھوڑے جو اس کے لیے پردہ بنتے ہیں، تو یہ وہ ہیں جنہیں آدمی اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے باندھے اور ان کی پشت اور گردنوں کے بارے میں اللہ کے حق کو فراموش نہ کرے۔ تو یہ اس کے لیے پردہ اور آڑ بنتے ہیں۔
یعنی وہ گھوڑے جسے ان کے مالک نے اپنی ضرورت کے لیے پالا بایں طور کہ ان سے پیدا ہونے والے بچوں اور ان کے دودھ سے اس نے فائدہ اٹھایا، ان پر بوجھ لادے اور اسے کرایہ پر دیے تاکہ (ان سے حاصل ہونے والی آمدن کی وجہ سے وہ اپنی ضروریات پوری کرے اور) اسے لوگوں کے سامنے دست سوال دراز نہ کرنا پڑے تو اس کا یہ عمل اللہ کی اطاعت اور اس کی خوشنودی کے لیے متصور ہوگا اور یہ اس کے لیے آڑ بنیں گے کیونکہ اس وقت لوگوں سے کچھ مانگنا، جب کہ بندے کے پاس بقدر کفایت مال موجود ہو، حرام ہے۔ “پھر اس کے ساتھ ساتھ وہ ان کی پیٹھ اور گردنوں کے بارے میں اللہ کے حق کو بھی نہیں بھولتا۔” بایں طور کہ اللہ کے راستے میں جہاد کی غرض سے یا دیگر ضروریات کے لیے ان پر سوار ہوتا ہے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں لادتا، ان کا اچھے انداز میں خیال رکھتا اور دیکھ بھال کرتا ہے اور نقصان دہ چیزوں سے ان کو بچاتا ہے تو یہ اس شخص کے ليے فقر و محتاجگی سے پردہ بن جاتے ہیں۔
تیسری قسم کے گھوڑوں کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: البتہ جو اس کے لیے اجر کا باعث ہوتے ہیں، یہ وہ گھوڑے ہیں جنہیں آدمی اللہ کے راستے میں جہاد کی غرض سے مسلمانوں کے لیے چراگاہ یا باغ میں باندھ رکھتا ہے۔ وہ گھوڑے اس چراگاہ یا باغ میں سے جو کچھ بھی کھائیں گے ان کے کھانے کے بقدر اس کے لیے نیکیاں لکھی جائیں گی اور ان کی لید اور پیشاب کے بقدر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جائیں گی۔ پھر اگر ان کا مالک انہیں کسی نہر پر لے جائے اور وہ اس میں سے پانی پی لیں حالانکہ اس کا انہیں پانی پلانے کا ارادہ نہ ہو تو پھر بھی وہ جتنا پانی پیتے ہیں اس کے بقدر اس کے لیے نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں۔
یعنی اس نے انہیں اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے تیار کیا ہو چاہے وہ ان پر خود جہاد کرتا ہو یا پھر اس نے انہیں اللہ کے راہ میں اس مقصد کے لیے وقف کردیا ہو کہ ان پر بیٹھ کر کفار سے جہاد کیا جائے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: جس نے کسی مجاہد کو جہاد کے لیے (سامان جہاد فراہم کر کے اسے) تیار کیا اس نے گویا بذات خود جہاد کیا۔
یہ شخص جس نے اپنے گھوڑے اللہ کی راہ میں اس کے دین کی سر بلندی کے لیے تیار کئے اس کے لیے ہر اس شے کے بدلے میں نیکیاں لکھی جاتی ہیں جسے وہ زمین کے سبزے میں سے کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کے پیشاب اور لید کے بدلے میں بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں اورتمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔
اور اگر وہ اپنی رسی کو توڑ کر ایک ٹیلے یا دو ٹیلوں پر دوڑ کر چڑھ جائیں تو ان کے پاؤں کے نشانات اور اس دوران گرنے والی لید پر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ یعنی وہ رسی جس سے اسے باندھا جاتا ہے تاکہ یہ اپنی جگہ پر چرتے رہیں انہیں توڑ کر وہ کسی اور جگہ چرنے نکل جائیں تو اس صورت میں ان کے مالک کو ان کے پاؤں کے نشانات کی تعداد کے برابر اجر ملتا ہے جن پر وہ چل کر گئے ہوں گے اور اسی طرح اس کے پیشاب اور لید پر بھی اجر ملتا ہے۔
پھر اگر ان کا مالک انہیں کسی نہر پر لے جائے اور وہ اس میں سے پانی پی لیں حالانکہ اس کا انہیں پانی پلانے کا ارادہ نہ ہو تو پھر بھی وہ جتنا پانی پیتے ہیں اس کے بقدر اس کے لئے نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں۔
یعنی یہ اگر نہر یا رہٹ سے پانی پئیں تو اس پر بھی ان کے مالک کو اجر دیا جاتا ہے، اگرچہ انہیں پانی پلانے کی اس کی نیت نہ بھی ہو۔ وہ جس قدر پانی پیئں گے اسی قدر ان کے مالک کو نیکیاں ملیں گی، حالانکہ اس کا انہیں پانی پلانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ (اجر کا مستحق ہونے کے لیے) اس کی سابقہ نیت ہی کافی ہے۔ یعنی اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے انہیں تیار کرنے کی نیت، سارے عمل کے ساتھ شروع سے لے کر آخر تک ہمہ وقت ہونا ضروری نہیں ہے، جب تک کہ آدمی اس عمل سے نکل کر نیت ختم نہ کردے۔
آپ ﷺ سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! گدھوں کا کیا حکم ہے؟
یعنی زکوۃ کے واجب ہونے کے بارے میں ان کا حکم وہی ہے جو چوپایوں کا ہے یا پھر یہ گھوڑوں کی مانند ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: گدھوں کے بارے میں مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں ہوا ہے۔
یعنی ان کے بارے میں کوئی معین نص نازل نہیں ہوئی ہے، تاہم یہ منفرد اور جامع آیت ضرور نازل ہوئی ہے جو عام ہے اور ہر خیر اور نیکی کے عمل کو شامل ہے:
﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ ”پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا“۔ (متفق علیہ)
یہ آیت تمام قسم کے خیر وشر کے ليے عام ہے۔ کیونکہ جب آدمی ذرہ برابر بھی عمل دیکھے گا جو بہت ہی معمولی اور حقير شے ہوتی ہے اور اس پر اسے بدلہ ملے گا تو اس سے بڑی چیزوں پر تو اسے بطریق اولی جزا وسزا ملے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا﴾ ”جس دن ہر نفس (شخص) اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا، آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6611

 
 
Hadith   1343   الحديث
الأهمية: كان ابن لأبي طلحة -رضي الله عنه- يشتكي، فخرج أبو طلحة، فقبض الصبي


Tema:

ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا لڑکا بیمار تھا۔ وہ کہیں باہر گئے ہوئے تھے کہ بچے کا انتقال ہو گیا۔

عن أنس -رضي الله عنه- قال: كان ابن لأبي طلحة -رضي الله عنه- يشتكي، فخرج أبو طلحة، فَقُبِضَ الصَّبي، فلما رجع أبو طلحة، قال: ما فعل ابني؟ قالت أم سليم وهي أم الصَّبي: هو أسْكَن ما كان، فَقَرَّبَت إليه العشاء فتَعَشَّى، ثم أصاب منها، فلما فَرَغ،َ قالت: وارُوا الصَّبي فلما أصبح أبو طلحة أتى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فأخبره، فقال:«أعَرَّسْتُمُ اللَّيلَةَ؟» قال: نعم، قال: «اللَّهُمَّ بارِك لهما»، فولدت غلامًا، فقال لي أبو طلحة: احْمِلْهُ حتى تأتي به النبي -صلى الله عليه وسلم- وبعث معه بتمرات، فقال: «أمَعَه شيء؟» قال: نعم، تَمَرات، فأخذها النبي -صلى الله عليه وسلم- فمَضَغَها، ثم أخذها من فِيه فجعلها في فِيِّ الصَّبي، ثم حَنَّكَهُ وسماه عبد الله.
وفي رواية: قال ابن عيينة: فقال رجل من الأنصار: فرأيت تِسْعَة أولاد كلهم قد قرؤوا القرآن، يعني: من أولاد عبد الله المولود.
وفي رواية: مات ابن لأبي طلحة من أم سليم، فقالت لأهلها: لا تُحَدِّثوا أبا طلحة بابْنِهِ حتى أكون أنا أُحدِّثه، فجاء فَقَرَّبَتْ إليه عشاء فأكَل وشرب، ثم تَصَنَّعَتْ له أحْسَن ما كانت تصنع قبل ذلك، فَوَقَع بها. فلمَّا أن رأت أنه قد شَبِع وأصاب منها، قالت: يا أبا طلحة، أرأيت لو أن قومًا أعَارُوا عَارِيَتَهُم أهل بيت فطَلَبوا عَارِيَتَهُم، ألهم أن يَمْنَعُوهُم؟ قال: لا، فقالت: فَاحْتَسِبْ ابنك، قال: فغضِب، ثم قال: تَرَكْتِني حتى إذا تَلطَّخْتُ، ثم أخبرتني بابني؟! فانطلق حتى أتى رسول الله -صلى  الله عليه وسلم- فأخبره بما كان فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «بارك الله في لَيْلَتِكُمَا»، قال: فَحَمَلَتْ. قال: وكان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في سَفَر وهي معه، وكان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا أتى المدينة من سَفر لا يَطْرُقُهَا طُرُوقًا فَدَنَوا من المدينة، فضَرَبَها المَخَاض، فَاحْتَبَسَ عليها أبو طلحة، وانطلق رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: يقول أبو طلحة: إنك لَتَعْلَمُ يَا رَبِّ أنه يُعْجِبُنِي أن أخرج مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا خرج وأدخل معه إذا دخل وقد احْتَبَسْتُ بما ترى، تقول أم سليم: يا أبا طلحة، ما أجِدُ الذي كنت أجِدُ، انطلق، فانطلقنا وضربها المَخَاض حين قَدِما، فولدت غلامًا. فقالت لي أمي: يا أنس، لا يُرْضِعْهُ أحدٌ حتى تَغْدُو به على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فلمَّا أصبح احتَمَلْتُه فانْطَلَقتُ به إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ... وذكر تمام الحديث.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا لڑکا بیمار تھا۔ وہ کہیں باہر گئے ہوئے تھےکہ بچے کا انتقال ہوگیا۔ ابوطلحہ واپس آئے تو بیوی سے پوچھا کہ بچہ کیسا ہے؟ بچے کی ماں ام سلیم نے کہا کہ وہ پہلے سے زیادہ پرسکون حال میں ہے۔ پھر بیوی نے ان کے سامنے شام کا کھانا رکھا۔ ابوطلحہ کھانے سے فارغ ہوگئے۔ اس کے بعد بیوی سے ہم بستری کی۔ جب وہ فارغ ہوگئے، توام سلیم نے کہا کہ بچے کو دفن کردو! صبح ہوئی تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوۓ اور آپ کو سارے واقعہ سنایا۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تم نے رات کو ہم بستری کی ہے؟ انھوں نے عرض کیا: جی ہاں! نبی ﷺ نے یہ دعا دی: ”اے اللہ! ان دونوں کو برکت عطا فرما“۔ پھر ان کے یہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ اس بچے کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے جاؤ اور ساتھ ہی کچھ کھجوریں بھیجیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ ساتھ میں کوئی چیز بھی ہے؟ انھوں نے جواب میں کہا کہ جی ہاں کچھ کھجور ہیں! نبی کریم ﷺ نے ان کھجوروں کو لیا۔ اپنے منہ میں چبایا۔ پھر اس کو اپنے منہ سے نکال کر بچے کے منہ میں ڈال دیا۔ بچے کی تحنیک کی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔
ایک اور روایت میں ابن عیینۃ فرماتے ہیں: ایک انصاری شخص کا کہنا ہے کہ میں نے نو لڑکے دیکھے؛ سب کے سب قرآن مجید کے قاری تھے۔ یعنی اس نومولود عبداللہ کی اولاد میں سے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک لڑکے کا انتقال ہوگیا، جو ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے اہل خانہ کو تاکید کردی کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بیٹے کے مرنے کی خبر نہ دینا، یہاں تک کہ میں خود انھیں بتادوں، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آئے۔ ام سلیم رضی اللہ عنھا نے انھیں شام کا کھانا پیش کیا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کھانے پینے سے فارغ ہوئے۔ پھر ام سلیم رضی اللہ عنھا نے ان کے لیے اس سے بہتر بناؤ سنگھار کیا جو اس سے قبل کیا کرتی تھیں۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ہم بستری کی۔ جب ام سلیم نے دیکھا کہ وہ کھانے سے بھی سیر ہوگئے اور ان کے ساتھ بھی وقت گزار لیا، تو انھوں نے کہا:ابوطلحہ! ذرا یہ تو بتاؤ کہ اگر کچھ لوگ ایک گھرانے کو ادھار دی جانے والی کوئی چیز ادھار دیں، پھر وہ اپنی چیز واپس مانگ لیں، تو کیا ان کو حق ہے کہ ان کو منع کریں؟ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا:نہیں۔ ام سلیم رضی اللہ عنھا نے کہا:تو پھر اپنے بیٹے (کی وفات) پر صبر کیجیے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ یہ سن کر غصہ میں آگئے اور کہا:تم نے مجھے بے خبر رکھا، یہاں تک کہ میں آلودہ ہوگیا، پھرتم نے مجھے میرے بیٹے کے بارے میں بتایا!! پھر وہ چل پڑے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو ساری باتیں بتادیں۔ رسول اللہ ﷺ نے دعا دیتے ہوئے فرمایا: ”تمھاری گزرنے والی رات میں اللہ تعالیٰ تمھیں برکت عطا فرمائے!“ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ام سلیم رضی اللہ عنہا حاملہ ہوگئیں۔ وہ آگے بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے اور ام سلیم آپ ﷺ کے ہم راہ تھیں، رسول اللہ ﷺ جب سفر سے مدینہ لوٹتے تو رات کو آکر مدینہ میں دستک نہیں دیتے تھے۔ سب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دردزِہ نے آلیا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس رکنا پڑا اور رسول اللہ ﷺ چل پڑے۔ ( انس رضی اللہ عنہ) کہہتے ہيں:(اس وقت) ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے:میرے پروردگار!مجھے یہی اچھا لگتا ہے کہ میں بھی تیرے رسول کے ساتھ باہر نکلوں، جب آپ (مدینہ سے) باہر نکلیں، اور جب آپ (مدینہ کے) اندر آئیں تو میں بھی آپ کے ساتھ اندر آؤں،(لیکن) میں اس بات کی وجہ سے روک دیا گیا ہوں جو تو دیکھ رہا ہے، (انس رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں:تو ام سلیم رضی اللہ عنھا کہنے لگیں:ابوطلحہ! جو (درد) مجھے محسوس ہورہا تھا، اب محسوس نہیں ہورہا ہے، لہذا چلیے! چنانچہ ہم چل پڑے۔ (انس رضی اللہ عنہ ) بیان کرتے ہیں: جب دونوں (مدینہ) آگئے تو ام سلیم کو (دوبارہ) درد شروع ہوگیا اور ایک بیٹے کو جنم دیا۔ میری ماں (ام سلیم) نے مجھ سے کہا:اسے کوئی بھی دودھ نہیں پلائے گا، یہاں تک کہ صبح تم اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لےجاؤگے۔ جب صبح ہوئی، تو میں نے اسے اٹھالیا، اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا۔ پھر انھوں نے مکمل حدیث بیان فرمائی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
حديث أنس بن مالك عن أبي طلحة أنه كان له ابن يشتكي، يعني مريضا، وأبو طلحة كان زوج أم أنس بن مالك رضي الله عنهم، تزوج بها بعد والد أنس، فخرج أبو طلحة لبعض حاجاته،  فمات الصبي، فلما رجع سأل أمه عنه فقال: كيف ابني؟ قالت: هو أسكن ما يكون. وصدقت في قولها، هو أسكن ما يكون؛ لأنه مات، وأبو طلحة ـرضي الله عنهـ فهم أنه أسكن ما يكون من المرض، وأنه في عافية، فقدمت له العشاء فتعشى على أن أبنه برئ. ثم أصاب منها، يعني جامعها، فلما انتهى قالت: واروا الصبي. أي: ادفنوا الصبي؛ فإنه قد مات، -على الرواية الأولى- فلما أصبح أبو طلحة -رضي الله عنه- وارى الصبي وعلم بذلك النبي صلي الله عليه وسلم، وسأل: (هل أعرستم الليلة؟) قال: "نعم"، فدعا لهما -عليه الصلاة والسلام- بالبركة فولدت -رضي الله عنها- غلاما مباركًا. قال أنس: فقال لي أبو طلحة: احمله حتى تأتي به النبيّ -صلى الله عليه وسلم- وبعث معه بتمرات ليحنكه بها، ليكون أو ل ما ينزل في جوف الصبي ريق النبي -صلى الله عليه وسلم-، فتحل عليه البركة.
فلما أتى به النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: (أمعه شيء؟) أي: مما يحنك به ، فأجابه أنس -رضي الله عنه- بأن معه تمرات فأخذها النبي -صلى الله عليه وسلم- فمضغها؛ لتختلط بريقه الشريف ويقدر الصبي على إساغتها، فيكون أول ما يدخل جوفه الممتضغ بريق المصطفى -صلى الله عليه وسلم- فيسعد ويبارك فيه، ثم أخرج النبي -صلى الله عليه وسلم- التمرات الممضوغات من فيه فجعلها في فم الصبي، ثم دلكها بحنكه وسماه عبد الله، وكان لهذا الغلام تسعة من الولد كلهم يقرأون القرآن ببركة دعاء النبي ـصلى الله عليه وسلم-
وأما على رواية مسلم : فقالت لأهلها: "لا تُحَدِّثُوا أبا طلحة بابنه حتى أكون أنا من أخبره الخبر" ، فلما دخل جاء أبو طلحة ، قربت له العشاء فأكل وشرب، ثُم تجملت له وتطيبت وتصنعت، فوقع عليها ولما فرغ من جماعها ضربت له مثلا لابنه بالعارية التي تُرد إلى أصحابها فقالت له : يا أبا طلحة، أرأيت لو أن قوما أعاروا عاريتهم أهل بيت، ثم طلبوا عاريتهم ألهم أن يمنعوهم؟ قال : لا. فقالت: فاحتسب ابنك، فلما سمع منها ما سمع غضب -رضي الله عنه-، ثم قال: تَرَكْتِنِي حتى إذا تَلَطَّخْتُ ثم أخبرتني بابني؟! فانطلق إلى النبي -صلى الله عليه سلم- شاكيا زوجته وما كان منها ، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- داعياً لهما بما يعود نفعه عليهما الجميل فعلهما: (بارك الله لكما في ليلتكما) أي فيما فعلتماه فيها؛ بأن يجعله نتاجاً طيباً وثمرة حسنة.
ثم حملت -رضي الله  عنها- بعد ذلك وكانت هي وزوجها مع النبي -صلى الله عليه وسلم- في بعض أسفاره، فلما أرادوا دخول المدينة ضربها المخاض، أي : شعرت رضي الله عنها بآلام الولادة، وكان من عادته -صلى الله عليه وسلم- لا يدخل المدينة ، حتى يُرسل رسولا يخبرهم بقدوم القافلة، فَاحْتُبِسَ عَلَيْهَا أبو طلحة -رضي الله عنه- عند ذلك لاشتغاله بشأنها، وانطلق رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.
ثم دعا أبو طلحة ربه بقوله: إنك لَتَعْلَمُ يا رب أنه يعجبني أن أخرج مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا خرج وأدخل معه إذا دخل وَقَدِ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرَى، فقالت له أم سليم -رضي الله عنها-: يا أبا طلحة، ما أجد الذي كنت أجد. أي: ما أجد ألم الوضع الذي كنت أجده من قبل، ثم قالت له: انطلق.
فلما قدموا المدينة ضربها المخاض، فولدت غلامًا ، ثم أمرت أنسًا -رضي الله عنه- أن يذهب به إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- وأن لا يرضعه أحد من المرضعات ؛ ليكون أول ما ينزل في جوفه ريق النبي -صلى الله عليه وسلم- فيعود عليه بخير الدارين، وقد ظهر أثره في هذا الغلام بتكثير بنيه الصالحين الأتقياء الفالحين. 
ومما يختم به هذا الشرح أن التبرك بما انفصل من الجسد من خصائص النبي -صلى الله عليه وسلم-، التي لا يشركه أحد من هذه الأمة، وأكبر دليل على ذلك أن الصحابة -رضي الله عنهم- الذين شاهدوا التنزيل ووقفوا على حقائق الدين، لم يتبركوا بالخلفاء الراشدين، ولا بغيرهم من أهل العشرة.
575;نس بن مالک رضی اللہ عنہ، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے تعلق سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ ان کا بیٹا بیمار تھا۔ دراصل ابوطلحہ رضی اللہ عنہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ (ام سلیم رضی اللہ عنہا) کےشوہر تھے۔ انھوں نے انس رضی اللہ عنہ کے والد کے بعد انھیں اپنی زوجیت میں لے لیا تھا۔ ابوطلحہ اپنے کسی کام کے سلسلے میں باہر نکلےاور اس دوران بچے کی وفات ہوگئی۔ جب وہ واپس لوٹے تو بچے کی ماں سے اس کے متعلق دریافت کیا کہ میرے بیٹے کی صحت کیسی ہے؟ بیوی نے جواب دیا کہ وہ پہلے سے زیادہ پرسکون حالت میں ہے۔ در حقیقت انھوں نے سچ ہی کہا تھا کہ وہ اپنی سابقہ حالت سے زیادہ پرسکون ہے؛ کیوں کہ بچے کی وفات ہوچکی تھی۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ بچہ، بیماری سے صحت یاب ہو کر پرسکون حالت میں ہوگا اور اس کی بیماری دور ہوچکی ہوگی۔ بیوی نے ابوطلحہ کے سامنے شام کا کھانا پیش کردیا اور انھوں نے اس اطمینان کے ساتھ شام کا کھانا کھا لیا کہ بیٹا صحت یاب ہوچکا ہے۔ اس کے بعد اپنی بیوی سے ہم بستری یعنی جماع بھی کیا۔ جب فارغ ہو گئے تو بیوی نے کہا کہ بچے کو دفنا دیجیے؛ کیوں کہ اس کی وفات ہوچکی ہے! -یہ پہلی روایت کے مطابق ہے- جب صبح ہوئی، تو بچے کو دفن کیا اور نبی کریم ﷺ کو اس بات کی اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا کہ تم نے رات میں ہم بستری کی ہے؟ ابوطلحہ نے جواب دیا کہ جی ہاں! آپ ﷺ نے دونوں کے حق میں برکت کی دعا فرمادی، چنانچہ ان کے یہاں ایک بابرکت لڑکے کی ولادت ہوئی۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے ابوطلحہ نے کہا کہ اس بچے کو نبی کریم ﷺ کے پاس لے جاؤ۔ ساتھ ہی انھوں نے کچھ کھجوریں بھی بھیجیں؛ تاکہ ان سے آپ ﷺ تحنیک فرمادیں۔ بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے نبی ﷺ کے لعاب دہن کے ساتھ چبائی ہوئی شے داخل ہو اور اس بچے کی زندگی میں برکتیں نازل ہوں۔
جب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اس بچے کو حاضر کیا گیا، تو آپ نے دریافت کیا کہ اپنے ساتھ کچھ لائے ہو؟ یعنی جس کے ذریعہ آپ تحنیک فرمائیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ کچھ کھجوریں ان کے پاس ہیں۔ آپ ﷺ نے کھجور لے کر اپنے منہ میں چبایا؛ تاکہ اپنے بابرکت لعاب دہن کے ساتھ اسے ملادیں اور بچے کے لیے اس کا نگلنا آسان ہوجاۓ۔ اس طرح بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے نبی مصطفیٰ ﷺ کے لعاب دہن کے ساتھ چبائی ہوئی کھجور داخل ہو، جو اس بچے کی نیک بختی کا باعث ہو اور اس کی زندگی میں برکتیں نازل ہوتی رہیں۔ اس کے بعد نبی ﷺ نے اپنے منہ سے چبائی ہوئی کھجور نکال کر بچے کے منہ میں ڈال دی۔ انھیں بچے کے منہ میں پھیرا اور اس کانام عبداللہ رکھا۔ اس بچے کے ہاں نو لڑکے ہوئے اورنبی کریم ﷺ کی دعا کی برکت سے وہ سب کے سب قرآن مجید کے قاری نکلے۔
صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق، ام سلیم رضی اللہ عنھا نے اپنے گھر والوں کو تاکید کردی تھی کہ"ابوطلحہ کو ان کے فرزند کے بارے میں اطلاع نہ دینا، تاآں کہ میں ہی انھیں اس کے بارے میں بتلاؤں۔"جب ابوطلحہ رضی اللہ عنہ گھر تشریف لائے، انھیں رات کا کھانا پیش کیا۔ وہ کھانے پینے سے فارغ ہوگئے۔ پھر ام سلیم نے ان کے لیے بناؤ سنگھار کیا۔ خود کو خوش بو سے معطر کرلیا اور سج سنور گئیں۔ پھر ابوطلحہ نے ان سے ہم بستری کی اور جب جماع سے فارغ ہوئے تو بیوی نے اپنے بیٹے کی نسبت ادھار کے طور پر لی گئی شے سے مثال بیان کی، جسے اس کے مالک کے حوالہ کردیا جاتا ہے اور ان سے پوچھا کہ اے ابوطلحہ! ذرا یہ تو بتائیے کہ اگر کچھ لوگ اپنے گھر کی کوئی چیز کسی گھرانے کو ادھار کے طور پردیں اور پھر ان سے اپنی چیز واپس مانگ لیں، تو کیا لینے والے کے لیے درست ہے کہ وہ ادھار دینے والوں کو ان کی چیز واپس کرنے سے انکار کردیں؟ ابوطلحہ نے جواب میں کہا کہ نہیں! تب بیوی نے کہا کہ تو پھر اپنے فرزند کے تئیں اللہ تعالیٰ سے امید رکھو۔ ابوطلحہ یہ سن کر غصے میں آگئے اور کہا:تم نے مجھے اس بات سے اس حد تک بے خبر رکھا کہ میں (کھانے،پینے اور جماع جیسے امور میں پوری طرح) آلودہ ہوگیا اور ان سب کے بعد تم میرے بیٹے کے انتقال کی خبردے رہی ہو؟! پھر نبی کریم ﷺ سے اپنی بیوی کی شکایت کرنے اور ان کے ساتھ پیش آئے سارے ماجرے کو بیان کرنے کے لیے نکل پڑے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے ان دونوں کے حق میں ایسی دعا دی کہ ان دونوں کے اس عمل کا بہترین نتیجہ برآمد ہوا۔ فرمایا: "تمھاری گزرنے والی رات میں اللہ تعالیٰ تمھیں برکت عطا فرمائے!"یعنی اس رات تم دونوں کی ہم بستری کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ تمھیں پاکیزہ اولاد اور بہترین نسل سے نواز دے۔
بعدازاں وہ حاملہ ہوئیں۔ وہ اور ان کے شوہر رسول اللہ ﷺ کے کسی سفر میں ہم راہ تھے۔ جب مدینے میں داخل ہونے والے تھے کہ انھیں دردزہ نے آلیا، یعنی ولادت کی تکلیف محسوس ہونی شروع ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ سفر سے لوٹتے تو اہل مدینہ کو قافلے کی آمد کی خبر دینے کے لیے کسی قاصد کوروانہ فرماتے اور اس سے قبل مدینے میں داخل نہ ہوتے۔ اپنی بیوی کی زچگی کے امور میں مشغول ہونے کی وجہ سے ابوطلحہ کو وہیں رک جانا پڑا اور رسول اللہ ﷺ چل پڑے۔
ابوطلحہ اپنے رب سے یوں گویا ہوئے کہ اے میرے پروردگار! تو بخوبی جانتا ہے کہ مجھے بس یہی اچھا لگتا ہے کہ جب کبھی رسول اللہ ﷺ باہر نکلیں، تو میں بھی تیرے رسول کے ساتھ نکلوں اور جب آپ مدینہ واپس آئیں تو میں بھی آپ کے ہم راہ اندر آؤں، لیکن تو دیکھ رہا ہے کہ مجھے کس وجہ سےروک دیا گیا ہے۔ چنانچہ ام سلیم رضی اللہ عنھا نے ان سے کہا کہ اے ابوطلحہ! مجھے اب وہ درد محسوس نہیں ہورہا ہے، جو پہلے ہورہا تھا۔ یعنی مجھے اب دردزہ کی وہ تکلیف محسوس نہیں ہورہی ہے، جو اس سے پہلے ہورہی تھی۔ پھر ان سے کہا کہ اب چلیے۔
جب یہ لوگ مدینہ پہنچ گئے، تو زچگی کا وقت آگیا۔ انھوں نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ ام سلیم رضی اللہ عنھا نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ بچے کو نبی ﷺ کے پاس لے جاؤ۔ اس بات کی بھی تاکید کی کہ اس کو کوئی دودھ نہ پلائے۔ تاکہ بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے نبی ﷺ کا لعاب دہن داخل ہو اور اس کے نتیجے میں دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں اس کی زندگی میں آجائیں۔ اس عمل کا نتیجہ اس لڑکے میں ظاہر ہو گیا کہ اس کی نسل میں نیکوکار، پرہیزگار اور فلاح و کامرانی سے ہم کنار ہونے والے لڑکوں کی بہتات ہوئی۔
اس حدیث کی شرح کے اختتام پر یہ جاننا ازحد ضروری ہے کہ جسم سے نکلنے والی چیز سے تبرک حاصل کرنا صرف اور صرف نبی ﷺ کی خصوصیات سے تعلق رکھتا ہے، جس میں اس امت کا کوئی فرد کبھی شریک و حصہ دار نہیں ہوسکتا۔ اس بات کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ نزول وحی کا راست مشاہدہ کرنے والے اور دینی حقائق سے بھرپور واقفیت و آگہی رکھنے والے صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین نے خلفاے راشدین اور ان کے علاوہ عشرۂ مبشرہ میں سے کسی کے ذریعہ کبھی تبرک حاصل نہیں کیا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6612

 
 
Hadith   1344   الحديث
الأهمية: قد سمعت صوت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ضعيفًا أعرف فيه الجُوع، فهل عندك من شيء؟ فقالت: نعم


Tema:

میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز میں کمزوری محسوس کی ہے۔ میرے خیال میں آپ ﷺ بھوکے ہیں۔ تو کیا تمہارے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں۔

عن أنس قال: قال أبو طَلحَة لأم سليم: قد سمعت صوت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ضعيفًا أعرف فيه الجُوع، فهل عندك من شيء؟ فقالت: نعم، فَأَخْرَجَت أَقْرَاصًا من شَعير، ثم أَخَذْتْ خِمَارًا لها، فَلفَّت الخُبْزَ  بِبَعْضِه، ثم دسَّتْهُ تحت ثوبي ورَدَّتني ببعضِه، ثم أرسَلَتني إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فَذَهَبَتُ به، فوجدت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- جالسًا في المسجد، ومعه الناس، فَقُمتُ عليهم، فقال لي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أرسلك أبو طلحة؟» فقلت: نعم، فقال: « أَلِطَعَام؟» فقلت: نعم، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «قوموا» فانْطَلَقُوا وانطَلَقتُ بين أيديهم حتى جئت أبا طَلَحة فَأَخْبَرتُهُ، فقال أبو طلحة: يا أم سليم، قد جاء رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بالناس وليس عندنا ما نُطعِمُهُم؟ فقالت: الله ورسوله أعلم. فانطلق أبو طلحة حتى لقي رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فأقبل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- معه حتى دخلا، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: « هَلُمِّي ما عندك يا أم سليم» فأتت بذلك الخبز، فأمر به رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فَفُتَّ، وَعَصَرَتْ عليه أم سليم عُكَّةً فَآدَمَتْهُ ، ثم قال فيه رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ما شاء الله أن يقول، ثم قال: «ائْذن لعشرة» فَأَذِنَ لَهُم فأكلوا حتى شَبِعُوا ثم خرجوا، ثم قال: «ائْذَن لعشرة» فأذن لهم حتى أكل القُوم كلُّهم وشَبِعُوا والقوم سبعون رجلا أو ثمانون. متفق عليه. وفي رواية: فما زال يَدخُل عشرة، ويخرج عشرة حتى لم يبق منهم أحد إلا دخل، فأكل حتى شَبِع، ثم هَيَّأهَا فإذا هي مِثْلُهَا حين أكلوا منها. وفي رواية: فأكلوا عشرة عشرة، حتى فعل ذلك بثمانين رجلا، ثم أكل النبي -صلى الله عليه وسلم- بعد ذلك وأهل البيت، وتركوا سُؤْرَا. وفي رواية: ثم أفْضَلُوا ما بَلَغُوا جِيرانهم. وفي رواية عن أنس، قال: جئت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يوما، فوجدته جالسا مع أصحابه، وقد عَصَبَ بَطنه، بِعُصَابة، فقلت لبعض أصحابه: لِم عَصَبَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بطنه؟ فقالوا: من الجُوع، فذهبت إلى أبي طلحة، وهو زوج أم سليم بنت مِلْحَان، فقلت: يا أبَتَاه، قد رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عَصَبَ بطنه بِعِصَابَة، فسألت بعض أصحابه، فقالوا: من الجُوع. فدخل أبو طلَحَة على أمي، فقال: هل من شيء؟ قالت: نعم، عندي كِسَرٌ من خُبزٍ وتمرات، فإن جاءنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وحده أشْبَعنَاه، وإن جاء آخر معه قَلَّ عنهم... وذكر تمام الحديث.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روايت ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ام سلیم (انس کی والدہ) سے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز میں کمزوری محسوس کی ہے۔ میرے خیال میں آپ ﷺ بھوکے ہیں۔ توکیا تمہارے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز ہے؟ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا ہاں ہے۔ یہ کہہ کر ام سلیم نے جو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر اپنا دوپٹا لیا اور اس کے ایک کنارے میں ان روٹیوں کو لپیٹا اور میرے کپڑے کے نیچے چھپا دیا اور اس دوپٹے کا کچھ حصہ میرےاوپر لپیٹ دیا، اس کے بعد مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا۔ چنانچہ میں اسے لے کر گیا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں بيٹھے ہوئےپايا۔ آپ ﷺ کے ہمراہ اور لوگ بھی تھے۔ میں ان کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:”کیا تم کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کیا :جی ہاں! پھر دریافت کیا :”کيا کھانے کے ليے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ ﷺ نے (تمام لوگوں سے) فرمایا کہ اٹھو۔ پس سب لوگ چل ديےاور ميں ان کے آگے آگے چلا یہاں تک کہ ابوطلحہ کے پاس پہنچ کر خبر دی تو ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی ﷺ اپنے ساتھیوں سمیت ہمارے پاس تشریف لا رہے ہیں۔ اور ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں کہ ہم ان (سب) کو کھلا سکیں۔ ام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کےرسول بہتر جانتے ہیں۔ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر سے باہر نکل کر چلے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی۔ پھر رسول اللہ ﷺ ان کے ہمراہ تشریف لائے یہاں تک کہ دونوں گھر میں داخل ہوئے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا:”ام سلیم جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ“۔ ام سلیم وہی روٹیاں جو ان کے پاس تھیں لے آئیں۔ رسول اللہ ﷺ کے حکم سے ان روٹیوں کو توڑا گیا اور ام سلیم نے ان پر گھی کی کپّی نچوڑ دی جس نے ان کو سالن بنا دیا (یعنی وہ سالن کا کام دیا)۔ پھر رسول اللہ ﷺ نےجو کچھ اللہ نے چاہا،اس میں پڑھا (یعنی خیر و برکت کی دعا کی) اور فرمایا: ”دس آدمیوں کو (کھانے کی) اجازت دو“۔ چنانچہ ابو طلحہ نے انھیں جازت دی۔ انہوں نے کھانا کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، پھر چلے گئے۔ آپ نے پھر فرمایا: ”دس آدمیوں کو (کھانے کی) اجازت دو“۔ ابو طلحہ نے اجازت دی، انہوں نے بھی کھانا کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، پھر چلے گئے۔ یہ سب ستر یا اسّی آدمی تھے۔ (متفق عليہ) ايک روايت ميں ہے کہ دس دس لوگ داخل ہوتے رہے اور نکلتے رہے يہاں تک کہ کوئی نہيں بچا جو داخل ہوکر پيٹ بھر کھانا نہ کھایا ہو۔ پھر اس کھانے کو اکٹھا کيا گيا تو وہ ويسے ہی باقي تھا جيسے شروع ميں تھا۔ ايک اور روايت ميں ہےکہ دس دس کر کے اسّی لوگوں نے کھايا۔ اس کے بعد نبی ﷺ اور گھر والوں نے کھايا اور (پھر بھی) بچا ہوا کھانا چھوڑا۔ ايک روايت ميں ہے: پھر انہوں نے اتنا کھانا بچاديا کہ وہ پڑوسيوں کو بھی پہنچایا۔ ايک اور روايت ميں ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں: ميں ایک دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا تو آپ ﷺ کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف فرما پایا اور آپ ﷺ کے پیٹ پر ایک پٹی بندھی ہوئی تھی، میں نے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پیٹ پر پٹی کیوں باندھی ہوئی ہے؟ وہ کہنے لگے کہ بھوک کی وجہ سے، تو میں ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا جو کہ ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شوہر تھےاور ان سے عرض کیا :اے ابا جان! میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنے پیٹ پر پٹی باندھی ہوئی ہے، میں نے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس پٹی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے اپنی بھوک کی وجہ سے ایسا کیا ہے ۔ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری والدہ کے پاس تشریف لائے اور ان سے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ ام سلیم نے کہا: جی ہاں، میرے پاس روٹی کے کچھ ٹکڑے اور چند کھجوریں ہیں۔ اگر رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اکیلے تشریف لائیں تو ہم آپ ﷺ کو سیراب کر دیں گے اور اگر آپ ﷺ کے ساتھ دوسرے لوگ بھی آئے گا تو ان کے ليے کم پڑ جائے گا...پھر پوری حدیث ذکر کی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى هذا الحديث: أنه عليه الصلاة والسلام قد اشتد به الجوع، فَعَلِم أبو طلحة رضي الله عنه بحال النبي صلى الله عليه وسلم من خلال ضعف صوته فأخبر زوجته  أم سليم رضي الله عنها، بحال النبي صلى الله عليه وسلم وسألها: هل عندكم شيء؟ فقالت : نعم، أي عندنا ما نَسُدُّ به جوع النبي صلى الله عليه وسلم فأخرجت أقْرَاصًا من شعِير، ثم أخذت خِمَارا لها فَلَفَت الخبز ببعضه، وجعلته تحت ثوب أنس رضي الله عنه وأخذت باقي الخِمار وجعلته رداء عليه لتستره. فلما قدم أنس على النبي صلى الله عليه وسلم وجده بين أصحابه ، فقام عليهم، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أرسلك أبو طلحة؟" فقلت: نعم، فقال: "ألِطعام؟" أي: هل أرسلك لأجل طعام تدعونا له؟ فقلت: نعم. لم يستطع أنس رضي الله عنه أن يَدفع الطعام إلى النبي صلى الله عليه وسلم؛ لكثرة من عنده من الصحابة ولعلمه أن النبي صلى الله عليه وسلم من عادته ألا يُؤثِر نفسه على أصحابه، فما كان منه إلا أن قال له: نعم. فأظهر له الدعوة ليقوم معه وحده إلى بيت أبي طلحة، فيحصل المقصود من إطعامه. فعند ذلك: قال النبي صلى الله عليه وسلم لأصحابه: "قوموا". فانْطَلَقُوا قال أنس: فانْطَلَقْتُ بين أيديهم، وفي رواية: وأنا حَزِين لكثرة من جاء معه. قال: حتى جئتُ أبا طلحة وأخبرته، فقال أبو طلحة: يا أم سليم، قد جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناس وليس عندنا ما نُطعِمُهُم؟ فقالت: الله ورسوله أعلم. فأم سليم رضي الله عنها أرجَعت الأمر إلى الله وإلى رسوله، كأنها عرفت أنه عليه الصلاة والسلام فعل ذلك عمداً لتظهر له الكرامة في تكثير الطعام وهذا من فطنتها ورجحان عقلها، فانطلق أبو طلحة حتى لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم فأقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم معه حتى دخلا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "هَلُمِّي"
وفي رواية: فاستقبله أبو طلحة فقال يا رسول الله ما عندنا إلا قُرْصٌ عملته أم سليم .وفي رواية: فقال أبو طلحة: إنما هو قُرْصٌ فقال: "إن الله سَيُبَارك فيه" وفي رواية فقال أبو طلحة: يا رسول الله إنما أرسلت أنسا يدعوك وحدك ولم يكن عندنا ما يُشْبِعُ من أرى فقال: "ادخل فإن الله سَيُبَارك فيما عندك"
فلما دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم بيت أبي طلحة قال: "هَلُمِّي ما عندك يا أم سليم" فأتت بذلك الخبز، فأمر به رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فَفُتَّ، وَعَصَرَتْ عليه أم سليم ما خرج من العُكَّة من سَمْنٍ إدَامَا للمَفْتُوت،  ثم قال فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم ما شاء الله أن يقول  يعني : دعا بأن الله تعالى يبارك في هذا الطعام القليل، وفي رواية: " فجئت بها ففتح رِبَاطَها ثم قال: "بسم الله اللهم أعْظِمْ فيها البركة" ثم قال: "ائْذَنْ لعشرة" فأذن لهم فأكلوا حتى شَبِعُوا ثم خرجوا، ثم قال: "ائْذَن لعشرة" فأذن لهم حتى أكل القوم كلُّهم وشَبِعُوا والقوم سبعون رجلا أو ثمانون. متفق عليه.
وفي رواية: فما زال يَدخُل عشرة، ويخرج عشرة حتى لم يبق منهم أحد إلا دخل، فأكل حتى شَبِع، ثم هَيَّأهَا فإذا هي مِثْلَهَا حين أكلوا منها. وفي رواية: فأكلوا عشرة عشرة، حتى فعل ذلك بثمانين رجلا، ثم أكل النبي صلى الله عليه وسلم بعد ذلك وأهل البيت، وتركوا سُؤْرَاً. وفي رواية: ثم أفْضَلُوا  ما بَلَغُوا جيرانهم.
575;س حديث کا مفہوم يہ ہے کہ آپ ﷺ سخت بھوک کی حالت ميں تھے۔ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی کمزور آواز سن کر حالت سے باخبر ہوگئے۔ چنانچہ اپنی بيوی ام سلیم سے نبی ﷺ کے بارے ميں بتلايا اور پوچھا کہ كيا تم لوگوں کے پاس کچھ ہے؟ ام سليم رضی اللہ عنہا نے جواب ديا کہ ہاں، يعنى ہمارے پاس ايسی چيز ہے جس سے آپ ﷺ کی بھوک مٹ جائے گی،پھرجو کی روٹی کے چند ٹکڑے نکالے، پھر اپنا دوپٹا لیا اور اس کے ایک کنارے میں ان روٹیوں کو لپیٹ کر انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے کے نيچے چھپاديا اورباقی دوپٹے کو ان کے اوپر بطور چادر ڈال ديا تاکہ ڈھک جائے۔ جب انس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ کو اپنے اصحاب کے درميان تشريف فرما پايا. پس میں ان کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا۔ (وه كہتے ہيں) تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: "کیا تم کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟"میں نے عرض کیا:جی ہاں! پھردریافت کیا :"کيا کھانے کے ليے؟" يعني کيا ابو طلحہ نےتم کو ہميں کھانے کي دعوت دينے کے ليے بھيجا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ انس رضی اللہ عنہ آپ کو کھانا نہيں دے سکے کيونکہ کئی صحابہ آپ ﷺ کے پاس بيٹھے ہوئے تھےاور وہ آپ کی عادت مبارکہ سے واقف تھے کہ آپ اپنے آپ کو اپنے ساتھيوں پر ترجيح نہيں ديتے ہيں. اس ليے انس رضی اللہ عنہ کے ليے "ہاں" کہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ انھوں نے آپ کی دعوت کا اظہار کيا تاکہ ان کے ساتھ تنہا ابو طلحہ کے گھر چلے جائيں اور نبی ﷺ کو کھلانے کا مقصد حاصل ہو جائے۔ چنانچہ اس وقت آپ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ اٹھو چلو. پس سب لوگ چل ديے۔ انس رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے آگے آگے چلے۔ ايک روايت ميں ہے: ميں رسول ﷺ کے ساتھ آنے والے لوگوں کى كثرت سے غمزدہ تھا۔ انس کہتے ہيں: يہاں تک کہ ميں ابوطلحہ کے پاس پہنچا اورانهيں خبردار كيا. تو ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی ﷺ لوگوں کو لے کر تشريف لا رہے ہيں اور ہمارے پاس اتنا كهانا نہیں کہ ہم ان (سب ) کوکھلا سکیں۔ اس پرام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زيادہ جانتے ہيں۔ ام سليم رضی اللہ عنہا نے معاملہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد کرديا، گويا ان کو معلوم ہو گيا تھا کہ آپ ﷺ نے ايسا جان بوجھ کر کيا ہے تاکہ کھانے کی زيادتی ميں آپ کی کرامت ظاہر ہو، يہ ان کی عقل مندی اور زيركى ہے۔ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (استقبال کے ليے) گھر سے باہر نکلے اور رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی۔ پھر رسول اللہ ﷺ ان کے ہمراہ تشریف لائے یہاں تک کہ دونوں اندر داخل ہوئےتو رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ“، ايک روايت ميں ہے کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ كا استقبال کيا تو عرض کيا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے پاس صرف روٹی کے چند ٹکڑے ہيں،جسے ام سليم نے بنايا ہے۔ اور ايک روايت ميں ہے: ابوطلحہ نے کہا کہ صرف روٹی کے چند ٹکڑے ہيں توآپ ﷺ نے فرمايا: ”يقينا اللہ اس ميں برکت دےگا“، ايک اور روايت ميں ہے کہ ابو طلحہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ميں نے انس کو صرف آپ کو بلانے کے ليے بھيجا تھا کيونکہ ہمارے پاس کوئی ايسی چيز نہيں ہے جو ان تمام حاضرين کو آسودہ کرسکے. تو آپ ﷺ نے فرمايا: ”(گھر ميں) داخل ہو، جو کچھ تمہارے پاس ہے يقينا اللہ اس ميں برکت دے گا“۔جب رسول الله ﷺ ابو طلحه کے گھر ميں داخل هوئے تو فرمایا: ”ام سلیم جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ“، ام سلیم وہی روٹیاں جو ان کے پاس تھیں لے آئیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان روٹیوں کے توڑنے کا حکم دیا۔ چنانچہ ان کو ریزہ ریزہ کیا گیا اور ام سلیم نے کپّی میں سے گھی نچوڑا جو ان ٹکڑوں كے ليے سالن ہو گیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ اللہ نے چاہا، اس ميں پڑھا، يعنی آپ ﷺ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس تھوڑے سے کھانے ميں برکت نازل کر دے۔ ايک روايت ميں ہے: چنانچہ ميں اس کو لے کرآئی تو آپ ﷺ نےاس کے بندھن کو کھولا، پھر کہا: ”بسم الله اللهم أعْظِمْ فيها البركة“ (اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ تواس ميں برکت كو زياده كردے) اس کے بعد آپ ﷺ نےفرمایا: ”دس آدمیوں کو (کھانے کی) اجازت دو“، چنانچہ ابو طلحہ نے انھیں جازت دی۔ انہوں نے کھانا کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، پھر چلے گئے۔ آپ نے پھر فرمایا: ”دس آدمیوں کو (کھانے کی) اجازت دو“، ابو طلحہ نے اجازت دی۔ انہوں نے بھی کھانا کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، پھر چلے گئے۔ یہ سب ستر یا اسّی آدمی تھے۔(متفق عليہ) ايک روايت ميں ہے کہ دس دس لوگ داخل ہوتے رہے اور نکلتے رہے يہاں تک کہ کوئی نہيں بچا جو داخل ہوکر پيٹ بھر کھانا نہ کھایا ہو۔ پھر اس کھانے کو اکٹھا کيا گيا تو وہ ويسے ہی باقي تھا جيسے شروع ميں تھا۔ ايک اور روايت ميں ہےکہ دس دس کر کے اسّی لوگوں نے کھايا۔ اس کے بعد نبی ﷺ اور گھر والوں نے کھايا اور (پھر بھی) بچا ہوا کھانا چھوڑا۔ ايک روايت ميں ہے: پھر انہوں نے اتنا کھانا بچاديا کہ وہ پڑوسيوں کو بھی پہنچایا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6613

 
 
Hadith   1345   الحديث
الأهمية: التحذير من الانشغال بالدنيا عن أمور الآخرة


Tema:

دنیا میں مشغول ہو کر آخر سے غافل ہو جانے سے ڈرانے کا بیان

عن عبد الله بن مسعود -رضي الله عنه- مرفوعاً: «لا تَتخِذوا الضَّيْعَةَ فترغَبُوا في الدنيا».

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جائیداد مت بناؤ، یہ نہ ہو کہ اس کی وجہ سے دنیا میں رغبت پیدا ہو جائے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
حذر النبي -صلى الله عليه وسلم- من الانشغال بالدنيا، والسعي ورائها وجمع الأموال بأنواع التجارات والصناعات والعقارات؛ فيؤدي ذلك إلى الانصراف التام عن أمور الآخرة، التي من أجلها خلقوا.
606;بی ﷺ نے دنیا میں مشغول ہو جانے، اس کے لیے بھاگ دوڑ کرنے اور طرح طرح کے تجارتی ذرائع، صنعتوں اور جائیدادوں کے ذریعے مال ودولت جمع کرنے سے ڈرایا ہے۔ یہ ساری چیزیں انسان کو امورِ آخرت سے بالکل بے گانہ کر دیتی ہیں جن کے لیے انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6614

 
 
Hadith   1346   الحديث
الأهمية: اتَّقُوا النَّار ولو بِشِقِّ تمرة


Tema:

آگ سے بچو خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر ہی سہی۔

عن عَدِي بن حاتم -رضي الله عنه- قال: سمعت النبي -صلى الله عليه وسلم- يقول: «اتَّقُوا النَّار ولو بِشِقِّ تمرة». وفي رواية لهما عنه، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «ما منكم من أحد إلا سَيكَلِّمُه رَبُّه ليس بينه وبينه تُرْجُمان، فينظر أيْمَن منه فلا يرى إلا ما قَدَّم، وينظر أَشْأَمَ منه فلا يَرى إلا ما قَدَّم، وينظر بين يديه فلا يرى إلا النار تَلقاء وجهه، فاتقوا النار ولو بِشقِّ تمرة، فمن لم يجد فبِكَلمة طيِّبة».

عدي بن حاتم رضی الله عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”آگ سے بچو، خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر ہی سہی“۔
اور بخاری ومسلم ہی کی روایت میں عدي بن حاتم رضي الله عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” تم میں سے کوئی شخص ایسا نہ ہوگا کہ جس سے اس کا پروردگار ہم کلام نہ ہوگا، اس وقت اس کے اور پروردگار کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، جب بندہ اپنی داہنی طرف نظر ڈالے گا تو اس کو وہ چیز نظر آئے گی جو اس نے آگے بھیجی ہوگی اور جب بائیں جانب دیکھے گا تو اس کو وہ چیز نظر آئے گی جو اس نے آگے بھیجی ہوگی اور جب وہ اپنے آگے دیکھے گا تو اس کو اپنے منہ کے سامنے آگ نظر آئے گی، پس تم آگ سے بچو، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی سے کیوں نہ ہو، اگر وہ بھی نہ ملے تو اچھی بات کے ذریعے (آگ) سے بچو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن الله -سبحانه وتعالى- سيكلم كل إنسان على حدة يوم القيامة، بدون مترجم، فينظر عن يمينه فلا يرى إلا ما قدم من العمل، وينظر عن يساره فلا يرى إلا ما قدم من العمل، وينظر بين يديه فلا يرى إلا النار تلقاء وجهه، فقال النبي -عليه الصلاة والسلام-: فاتقوا النار ولو أن تصدقوا بنصف تمرة أو أقل، فإن لم يجد نصف تمرة يتصدق بها ويتقي بها النار، فليتق النار بكلمة طيبة؛ لأن العمل الصالح يقي صاحبه النار.
576;ے شک اللہ تعالی قیامت کے دن ہر انسان سے الگ کسی ترجمان کے بغیر گفتگو فرمائے گا، پس بندہ اپنی داہنی طرف دیکھے گا اسے اس کے وہ اعمال جو اس نے اپنی زندگی میں کیے تھے اس کے سوا کچھ دکھائی نہ دے گا اور وہ اپنی بائیں طرف دیکھے گا اسے اس کے وہ اعمال جو اپنی زندگی میں کیے تھے اس کے سوا کچھ دکھائی نہ دے گا، وہ اپنے سامنے دیکھے گا اسے اس کے منہ کے سامنے صرف آگ ہی دکھائی دے گی! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آگ سے بچو، خواہ کھجور کا آدھا ٹکڑا یا اس سے بھی کم ہی دے کر ہر سہی، اور اگر وہ آدھا کھجور بھی نہ ملے جسے صدقہ کرکے وہ آگ سے بچ جائے تو اُسے چاہیے کہ اچھی بات کے ذریعہ ہی آگ سے بچنے کی کوشش کرے، اس لیے کہ نیک عمل اُس شخص کو آگ سے بچاتا ہے جو اُسے انجام دیتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6615

 
 
Hadith   1347   الحديث
الأهمية: إذا أرسلتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ وذكرتَ اسْمَ الله، فَكُلْ ما أمسك عليك


Tema:

اگر تو نے سکھائے ہوئے کتے کو بسم اللہ پڑھ کر چھوڑا، تو وہ جو شکار روک کر رکھے، اسے کھاؤ۔

عن عديّ بن حاتم -رضي الله عنه- قال: قلتُ: يا رسول الله، إني أُرسلُ الكلاب المعلَّمة، فيُمسِكنَ عليّ، وأذكرُ اسم الله؟ فقال: "إذا أرسلتَ كلبَكَ المعلَّمَ، وذكرتَ اسمَ الله، فكُلْ ما أمسكَ عليك"، قلت: وإن قتلنَ؟ قال: "وإن قَتلْنَ، ما لم يَشْرَكْها كلبٌ ليس منها"، قلتُ له: فإني أرمي بالمِعْراض الصيدَ فأُصُيبُ؟ فقال: "إذا رميتَ بالمعراضِ فخزَقَ فكلْهُ، وإن أصابَه بعَرْضٍ  فلا تأكلْهُ".
وحديث الشعبي، عن عدي نحوه، وفيه: "إلا أن يأكل الكلب، فإن أكل فلا تأكل؛ فإني أخاف أن يكون إنما أمسك على نفسه، وإن خالطها كلاب من غيرها فلا تأكل؛ فإنما سميت على كلبك، ولم تسم على غيره".
وفيه: "إذا أرسلت كلبك المكلب فاذكر اسم الله، فإن أمسك عليك فأدركته حيا فاذبحه، وإن أدركته قد قتل ولم يأكل منه فكله، فإنَّ أخْذَ الكلبِ ذَكَاته".
وفيه أيضا: "إذا رميت بسهمك فاذكر اسم الله".
وفيه: "فإن غاب عنك يوما أو يومين -وفي رواية: اليومين والثلاثة- فلم تجد فيه إلا أثر سهمك، فكل إن شئت، فإن وجدته غريقا في الماء فلا تأكل؛ فإنك لا تدري الماء قتله، أو سهمك؟

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! میں سکھائے ہوئے کتوں کو بسم اللہ پڑھ کر( شکار پر )چھوڑتا ہوں اور وہ شکار کو روک کر رکھتے ہیں۔ (تو اس بارے آپ ﷺ کا کیا خیال ہے؟)آ پ نے فرمایا: اگر تم نے سکھائے ہوئے کتے کو بسم اللہ پڑھ کر چھوڑا، تو وہ جو شکار روک کر رکھے اسے کھاؤ، میں نے عرض کیا: اگر کتے شکار کو مار ڈالیں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ( ہاں ) اگر چہ مار ڈالیں۔ جب تک اس کے ساتھ (شکار کرنے میں) دوسرا کتا شریک نہ ہو۔ میں نے عرض کیا کہ ہم بے پر کے تیر یا لکڑی سے شکار کرتے ہیں۔ (اس کے بارے کیا خیال ہے؟) آپ نے فرمایا کہ اگر ان کی دھاراس کو زخمی کرکے پھاڑ ڈالے، تو کھاؤ، لیکن اگر ان کے عرض سے شکار مارا جائے، تو اسے نہ کھاؤ۔ (یعنی وہ مر دار ہے۔) عدی سے شعبی کی روایت بھی اسی جیسی ہے۔ اس میں ہے: الا یہ کہ کتا اس میں سے کھالے، اگر اس نے کھالیا، تو پھر نہ کھاؤ؛ کیوں کہ یہاں یہ ڈر ہے کہ اس نے وہ شکار اپنے لیے روکا ہو۔ اسی طرح اگر اس کے ساتھ دیگر کتے بھی مل جائیں، تو بھی نہ کھاؤ؛ کیوں کہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے، باقیوں پر نہیں۔
اسی روایت میں یہ بھی ہے: اگر تمنے اپنے سکھائے ہوئے کتے کو بسم اللہ پڑھ کر چھوڑا اور اس نے تمھارے لیے شکارے روکے رکھا اور تم نے اسے زندہ پایا، تو اس کو ذبح کر لو اور اگر اس حالت میں پاؤ کہ کتے نے اس نے مار دیا ہو، لیکن اس میں سے کھایا نہ ہو، تو بھی اس کو کھا لو؛ کیوں کہ کتے کا پکڑنا ذبح کرنے کے حکم میں ہے۔
اس میں یہ بھی ہے: جب تیر چلاؤ تو بسم اللہ پڑھ لو۔
اس میں یہ بھی ہے: اگر وہ (شکار) تم سے ایک یا دو دن -اور ایک روایت کے مطابق دو یا تین دن- غائب رہا - اور اس پر تمھارے تیر کے نشان کے علاوہ کوئی نشان نہ ہو، تو اگر چاہو تو کھا سکتے ہو۔ البتہ اگر اسے پانی میں ڈوبا ہوا پاؤ تو نہ کھاؤ؛ کیوں کہ تجھے یہ معلوم نہیں کہ اسے پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے موت آئی ہے یا تیرا تیر لگنے سے؟

سأل عدي بن حاتم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن الاصطياد بالكلاب المعلَّمة، التي علمها صاحبها الصيد، فقال له: كل مما أمسكن عليك إذا ذكرت اسم الله عليها عند الإرسال ما لم تجد معها كلباً آخر، فإن وجدت معها كلباً آخر فلا تأكل فإنك إنما سميت على كلبك ولم تسم على كلب غيرك، وكذلك إذا رميت بالمعراض وهو الرمح وخزق أي دخل في الصيد وأسال منه الدم فكله بشرط التسمية، وإن أصابه بعرضه فقتله بذلك فلا تأكل، فإنه مات بالصدم فأصبح كالمتردية والنطيحة، وإذا أرسل كلبه ووجد الصيد حيًّا لم تقتله الكلاب فإنه يجب عليه أن يذكيه حينئذ ويكون حلالًا ولو شاركه كلب آخر، وسأله عن الرمي بالسهم إذا ذكر اسم الله عليه فأمره أن يأكل مما أصاب فإن غاب عنه يوم أو يومان ولم يجد فيه إلا أثر سهمه فإنه يجوز له الأكل منه فإن وجده غريقاً في الماء فلا يأكل فإنه لا يدري الماء قتله أم سهمه.

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سدھائے ہوئےکتوں کے شکار کے بارے میں پوچھا، جن کو مالک نے شکار کے لیے سدھا رکھا ہو، تو آپﷺ نے فرمایا کہ اگر ان کو چھوڑتے وقت 'بسم اللہ' پڑھی تھی اور ان کے ساتھ (شکار کے عمل میں) کوئی دوسرا کتا شریک نہیں ہوا، تو ان کے پکڑے ہوئے شکار کو کھا لو۔ اگر ان کے ساتھ کوئی اور کتا شریک ہو گیا، تو نہ کھاؤ؛ کیوں کہ تم نے اپنے کتے پر 'بسم اللہ' پڑھی تھی، دوسرے پر نہیں۔ اسی طرح اگر تیر چلاؤ اور اس کا پھل شکار کے جسم میں داخل ہو جائے اور خون بہنے لگے، تو اس کو بھی کھا لو؛ لیکن شرط یہ ہے کہ اس کو 'بسم اللہ' پڑھ کر چھوڑا گیا ہو۔ البتہ اگر تیر چوڑائی میں لگے اور شکار مر جائے، تو مت کھاؤ، کیوں کہ وہ چوٹ لگنے سے مرنے کی وجہ سے 'متردیہ' (اوپر سے گر کر مرنے والا جانور) اور نطیحہ (سینگ لگ کر مرنے والا جانور) کے حکم میں ہوگا۔ جب کسی نے شکار کے پیچھے کتا دوڑایا اور شکار کو زندہ پایا، اسے کتے نے جان سے نہیں مارا تھا، تو ذبح کرنا ضروری ہوگا اور شکار حلال ہوگا، گرچہ اسے پکڑنے میں دوسرا کتا بھی شریک رہا ہو۔ انھوں نے 'بسم اللہ' کہہ کر تیر سے شکار کرنے کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ نے اس کے شکار کو کھانے کا حکم دیا۔ اگر شکار ایک یا دو دن غائب رہنے کے بعد ملے اور اس کے جسم پر اس کے تیر کے نشان کے علاوہ اور کوئی نشان نہ ہو، تو اس کا کھانا جائز ہوگا۔ اگر اسے پانی میں ڈوبا ہوا پائے، تو نہ کھائے، کیوں کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ پانی میں ڈوبنے سے مرا ہے یا تیر لگنے سے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6636

 
 
Hadith   1348   الحديث
الأهمية: إنَّ الله -عَزَّ وَجَلَّ- قد حَبَسَ عن مكَّةَ الْفِيلَ، وسَلَّطَ عليها رسولَهُ والمؤمنين، وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَلا تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي، وإنما أُحِلَّتْ لي ساعة من نهارٍ، وإِنَّها ساعتي هذهِ حرام


Tema:

اللہ عزوجل نے مکہ کو ہاتھی والوں سے روک دیا، اور وہاں کے باشندوں پر اپنے رسول اور مومنوں کو مسلط کردیا۔ یہ نہ تو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال تھا، اور نہ میرے بعد کسی (کی دراندازی) کے لیے حلال ہو گا۔ یہ دن کے تھوڑے سے وقت کے لیے میں میرے لیے حلال ہوا اور اس وقت وہ پہلے کی طرح حرام ہے۔

عن أبي هُريرة -رضي الله عنه- قال: «لَمَّا فَتَحَ الله -تَعَالَى- عَلَى رَسُولِهِ مَكَّةَ قَتَلَتْ خزاعةُ رَجُلاً مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِقَتِيلٍ كَانَ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَامَ النبي -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ: إنَّ الله عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَلا تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ: حَرَامٌ، لا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلا يُخْتَلَى خَلاهَا، وَلا يُعْضَدُ شَوْكُهَا، وَلا تُلْتَقَطُ سَاقِطَتُهَا إلاَّ لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ: فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إمَّا أَنْ يَقْتُلَ، وَإِمَّا أَنْ يُودِيَ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ- يُقَالُ لَهُ: أَبُو شَاهٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ الله، اُكْتُبُوا لِي فَقَالَ رَسُولُ الله: اُكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ، ثُمَّ قَامَ الْعَبَّاسُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ الله، إلاَّ الإذْخِرَ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ رَسُولُ الله: إلاَّ الإِذْخِرَ».

575;بوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ کو مکہ پر فتح دی تو قبیلہ خزاعہ نے بنی لیث کے ایک آدمی (ابن اثوع) کو جاہلیت کے خون کے بدلے میں قتل کردیا۔اس پر رسول ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا اللہ نے مکہ کو ہاتھی والوں سے روک دیا اور وہاں کے باشندوں پر اپنے رسول اور مومنوں کو مسلط کردیا۔ یہ نہ تو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال تھا، نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا۔ یہ دن کے تھوڑے سے وقت کے لیے میرے لیے حلال ہوا اور اس وقت وہ پہلے کی طرح حرام ہے۔چنانچہ نہ تو اس کا درخت کاٹا جائے، نہ اس کا گھاس کاٹا جائے اور نہ ہی اس کا کوئی کانٹا ہی اکھاڑا جائے اور نہ کوئی یہاں کی گری پڑی ہوئی چیز اٹھائے ماسوا اس شخص کے جو اعلان کرنے کے اٹھائے۔اور جس کا کوئی آدمی قتل ہوجائے تو اس کو دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے کہ یا تو قاتل کو بطور قصاص قتل کیا جائے یا پھر وہ خون بہا ادا کردے۔ اہلِ یمن میں سے ایک شخص جس کا نام ابوشاہ تھا، کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! یہ ہمارے لیے لکھوادیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابوشاہ کے لیے لکھ دو۔ پھر عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہو ئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اِذخر گھاس کو مستثنی کر دیجیے کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سوائے اِذخر کے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أبو هريرة -رضي الله عنه- أنه لما فُتحت مكة قتل رجلٌ من خُزاعة رجلاً من بني هُذيل بقتيلٍ لهم كان في الجاهلية وأن النبي -صلى الله عليه وسلم- قام فخطب بما ذكر في الحديث حيث بيَّن حرمة مكة وأن الله حبس عنها أهلَ الفيل وأباحَها لنبيه ساعة من نهار، وليس المراد بالساعة هي الساعة المحدودة، ولكن المراد وقتاً من نهارِ يوم الفتح إذ إنها أبيحت لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- من صبيحة ذلك اليوم إلى العصر، وأخبر أن حرمتها عادت بعد ذلك كما هي لا يعضد شوكها ولايختلى خلاها، أي لا يقطع شجرها ولا يجز حشيشها النابت في حدود الحرم إلا الإذخر، ولاتحل ساقطتها إلا لمنشد.
575;بوہریرہ رضی اللہ خبر دے رہے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو خزاعہ قبلیہ کے ایک آدمی نے قبیلہ ہذیل کے ایک آدمی کو جاہلیت میں قتل ہونے والے ایک شخص کے بدلے میں قتل کردیا ۔ اس پر نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور وہ باتیں ارشاد فرمائیں جن کا حدیث میں ذکر ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے مکہ کی حرمت بیان کی اور وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالی نے مکہ کو ہاتھی والوں کی دسترس سے دور رکھا اور اسے اپنے نبی کے لیے دن کی صرف ایک مختصر سی گھڑی کے لیے مباح کیا۔ یہاں گھڑی سے مراد کوئی معین گھڑی نہیں ہے بلکہ اس سے مراد فتح مکہ کے دن کا کوئی تھوڑا سا وقت ہے کیونکہ اس دن صبح سے لے کر عصر کے وقت تک نبی ﷺ کے لیے مکہ کو مباح کر دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت کے بعد اس کی حرمت پھر سے ویسے ہی لوٹ آئی ہے جیسے وہ پہلے تھی بایں طور کہ اب نہ تو اس کا کوئی کانٹا ہی اکھاڑا جائے گا اور نہ اس کی گھاس کاٹی جائے گی یعنی نہ تو اس کا کوئی درخت اور نہ ہی حدود حرم میں اگی ہوئی گھاس کاٹی جائے گی ماسوا اذخر کے اور نہ ہی گری پڑی شے کو اٹھایا جائے گا سوائے اس شخص کے لیے جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6637

 
 
Hadith   1349   الحديث
الأهمية: وَاَلَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ الله، الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ رَدٌّ عَلَيْك وَعَلَى ابْنِك جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ. وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ- لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ- عَلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا


Tema:

اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمھارا فیصلہ کتاب اللہ ہی کے مطابق کروں گا۔ باندی اور بکریاں تمھیں واپس ملیں گی اور تمھارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ اچھا، سنو انیس! (قبیلۂ بنو اسلم کے ایک شخص) تم اس عورت کے یہاں جاؤ۔ اگر وہ بھی (زنا کا) اقرار کر لے، تو اسے رجم کر دو۔

عن أبي هريرة، وزيد بن خالد الجهني -رضي الله عنهما-، أنهما قالا: «إن رجلا من الأعراب أتى رسول -صلى الله عليه وسلم- فقال: يا رسول الله, أَنْشُدُكَ اللهَ إلا قضيتَ بيننا بكتاب الله. فقال الخَصْمُ الآخر -وهو أفْقه منه-: نعم, فاقْضِ بيننا بكتاب الله, وأْذَنْ لي. فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: قل. فقال: إنَّ ابني كان عَسِيفًا على هذا فزنى بامرأته, وإني أُخبرتُ أن على ابني الرَّجْمَ, فافْتَدَيْتُ منه بمائة شاة ووَلِيدَةٍ, فسألتُ أهل العلم فأخبروني أنما على ابني جَلْدُ مائة وتَغْرِيبُ عام, وأنَّ على امرأة هذا الرَّجْمَ. فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: والذي نفسي بيده لأَقْضِيَنَّ بينكما بكتاب الله, الوَلِيدَةُ والغنم رَدٌّ عليك، وعلى ابنك جَلْدُ مائة وتَغْرِيبُ عام. واغْدُ يا أُنَيْسُ -لرجل مِن أَسْلَم- على امرأة هذا, فإن اعترفتْ فارْجُمْهَا, فَغَدَا عليها فاعترفتْ, فأَمَرَ بها رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فرُجِمَتْ».

ابو ہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! میں آپ سے اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ دوسرے فریق نے جو اس سے زیادہ سمجھ دار تھا، کہا کہ جی ہاں! کتاب اللہ کے مطابق ہی ہمارا فیصلہ فرمائیے، اور مجھے (اپنا مقدمہ پیش کرنے کی) اجازت دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پیش کر۔ اس نے بیان کرنا شروع کیا کہ میرا بیٹا ان صاحب کے یہاں مزدور تھا۔ پھر وہ ان کی بیوی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کر بیٹھا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ (زنا کی سزا میں) میرے لڑکے کو سنگسارکر دیا جائے گا، تو میں نے اس کے بدلے میں سو بکریاں اور ایک باندی دے دی۔ پھر اہل علم سے اس کے بارے میں دریافت کیا، تو پتہ چلا کہ میرے لڑکے کو (غیر شادی شدہ ہونے کی وجہ سے زنا کی سزا میں) سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کر دیا جائے گا۔ البتہ اس کی بیوی رجم کر دی جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمھارا فیصلہ کتاب اللہ ہی کے مطابق کروں گا۔ باندی اور بکریاں تمھیں واپس ملیں گی اور تمھارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ اچھا، سنو انیس! (قبیلۂ بنو اسلم کے ایک شخص) تم اس عورت کے یہاں جاؤ۔ اگر وہ بھی (زنا کا) اقرار کر لے، تو اسے رجم کر دو“۔ چنانچہ انیس رضی اللہ عنہ اس عورت کے یہاں گئے اور اس نے اقرار بھی کر لیا۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے حکم سے اس خاتون کو سنگسار کردیا گیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أفاد الحديث أن رجلًا كان أجيرًا عند آخر فزنى بامرأته, وسمع والد الزاني أن كل من زنى فعليه الرجم, فافتدى من زوج المرأة بمائة شاة وأمة, ثم سأل بعض أهل العلم فأخبروه أنه ليس على ابنه الرجم, بل الرجم على المرأة، وعلى ابنه جلد مائة وتغريب عام، فلذلك ذهب زوج الزانية ووالد الزاني  إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ليقضي بينهم بكتاب الله، فرد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- المائة شاة والأمة على والد الزاني, وأخبره أن على ابنه جلد مائة وتغريب عام؛ لأنه بكر لم يتزوج، وأمر بالتأكد من الزانية, فاعترفت بالجريمة فرجمها؛ لأنها محصنة أي متزوجة.
740;ہ حدیث بتا رہی ہے کہ ایک شخص نے کسی کے ہاں مزدوری کی اور صاحب خانہ کی بیوی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کر بیٹھا۔ زانی کے والد نے یہ بات سن رکھی تھی کہ ہر زانی کی سزا رجم (سنگسار کرنا) ہے؛ لہٰذا اس نے خاتون کے شوہر کو سو بکریاں اور ایک باندی فدیہ میں دے دی۔ پھر بعض اہل علم سے دریافت کرنے پر انھیں پتہ چلا کہ ان کے بیٹے پر نہیں، بلکہ اس خاتون پر رجم کی سزا نافذ ہوگی اور ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے اس کو جلا وطنی کی زندگی گذارنی ہوگی۔ لہٰذا زانیہ خاتون کا شوہر اور زانی شخص کے والد، دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ آپ ﷺ ان کے مابین کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ صادر فرمائیں۔ آپ ﷺ نے زانی کے والد کی سو بکریاں اور باندی واپس کرنے کا حکم دیا اور انھیں اس بات سے مطلع فرمایا کہ ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کردیا جائے گا؛ کیوںکہ وہ تاحال غیر شادی شدہ تھا اور زانیہ خاتون کے تئیں حکم دیا کہ اس سے بھی اس امر کا تیقن حاصل کرلیا جائے کہ اس نے اس بدکاری کا ارتکاب کیا ہے۔ لہٰذا اقرار جرم کے بعد اس خاتون کو سنگسار کردیا گیا؛ کیوں کہ وہ شادی شدہ تھیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6760

 
 
Hadith   1350   الحديث
الأهمية: أنه كان مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في بعض أسفاره، فأرسل رسولا أن لا يبقين في رقبة بعير قلادة من وتر -أو قلادة- إلا قطعت


Tema:

وہ کسی سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے یہ اعلان کرنے کے لیے ایک قاصد بھیجا کہ کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا ہار (گنڈا) (یا فرمایا کہ: ہار) کاٹے بنا نہ رہ جائے۔

عن أبي بشير الأنصاري -رضي الله عنه- "أنه كان مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في بعض أسفاره، فأرسل رسولا أن لا يَبْقَيَنَّ في رقبة بَعِيرٍ قِلادَةٌ من وَتَرٍ (أو قلادة) إلا قطعت".

ابو بشیر انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ وہ کسی سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے یہ اعلان کرنے کے لیے ایک قاصد بھیجا کہ کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا ہار (گنڈا) (یا فرمایا کہ: ہار) کاٹے بنا نہ رہ جائے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن النبي -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بعث في بعض أسفاره من ينادي في الناس بإزالة القلائد التي في رقاب الإبل التي يُراد بها دفع العين ودفع الآفات، لأن ذلك من الشرك الذي تجب إزالته.
606;بی ﷺ نے اپنے کسی سفر میں ایک شخص کو بھیجا کہ وہ لوگوں میں منادی کرا دے کہ اونٹوں کی گردنوں میں موجود قلادوں کو ہٹا دیا جائے، جنھیں نظر بد اور آفات سے تحفظ کے لیے باندھا جاتا تھا؛ کیوں کہ یہ شرک ہے، جس کا ازالہ کرنا واجب ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6761

 
 
Hadith   1351   الحديث
الأهمية: من تعلق تميمة فلا أتم الله له، ومن تعلق ودعة فلا ودع الله له


Tema:

جس نے تعویذ لٹکایا، اللہ اس کی مراد پوری نہ کرے، اور جس نے سیپ لٹکائی اللہ اسے آرام و سکون نہ دے۔

عن عقبة بن عامر -رضي الله عنه- مرفوعاً: "من تَعَلَّقَ تَمِيمَةً فلا أَتَمَّ الله له، ومن تَعَلَّقَ وَدَعَةً فلا وَدَعَ الله له"
وفي رواية: "من تَعَلَّقَ تَمِيمَةً فقد أَشْرَكَ".

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے تعویذ لٹکایا، اللہ اس کی مراد پوری نہ کرے، اور جس نے سیپ لٹکائی اللہ اسے آرام و سکون نہ دے۔‘‘ اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:’’جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دل الحديث على أن من استعمل التمائم يعتقد فيها دفع الضرر فإنه داخل في دعاء النبي -صلى الله عليه وسلم- عليه بأن يعكس الله قصده ولا يتم له أموره، كما أنه -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يدعو على من استعمل الودع لنفس القصد السابق أن لا يتركه الله في راحة واطمئنان، بل يحرك عليه كل مؤذٍ -وهذا الدعاء يقصد منه التحذير من الفعل- كما أنه يخبر -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- في الحديث الثاني أن هذا العمل شرك بالله.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ جو شخص تعویذات کو استعمال کرتا ہے اور عقیدہ رکھتا ہے کہ یہ نقصان سے بچاتے ہیں تو وہ نبی ﷺ کی اس کے متعلق کی جانے والی اس بد دعا کی زد میں آتا ہے کہ اللہ تعالی اس کے ارادے کو الٹ دے اور اس کے کام پورے نہ ہوں۔ اسی طرح نبی ﷺ نے سابق الذکر ارادے کے ساتھ سیپ کو استعمال کرنے والے پر بھی بد دعا فرمائی ہے کہ اللہ تعالی اسے راحت و سکون میں نہ رکھے بلکہ ہر تکلیف دہ شے کو اس کے خلاف متحرک کر دے۔ اس دعا سے مقصود اس فعل کے کرنے سے ڈرانا ہے، جیسا کہ نبی ﷺ ایک دوسری حدیث میں فرماتے ہیں کہ یہ عمل اللہ کے ساتھ شرک ہے۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6762

 
 
Hadith   1352   الحديث
الأهمية: من تعلق شيئا وُكل إليه


Tema:

جس نے (اللہ کو چھوڑ کر) کسی اور چیز سے امید لگائی، وہ اسی چیز کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔

عن عبد الله بن عكيم -رضي الله عنه- مرفوعاً: «مَنْ تَعَلَّقَ شيئا وُكِلَ إليه».

عبد اللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے (اللہ کو چھوڑ کر) کسی اور چیز سے امید لگائی، وہ اسی چیز کے سپرد کر دیا جاتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من التفت بقلبه أو فعله أو بهما جميعا إلى شيء يرجو منه النفع أو دفع الضر وكله الله إلى ذلك الشيء الذي تعلَّقه، فمن تعلَّق بالله كفاه ويسَّر له كل عسير، ومن تعلق بغيره وكله الله إلى ذلك الشيء وخذله.
580;و اپنے دل یا اپنے عمل یا پھر دونوں ہی کے ساتھ کسی چیز کی طرف متوجہ ہوا اور اس سے حصولِ منفعت یا دفعِ مضرت کی امید لگائی، اللہ تعالیٰ اسے اسی چیز کے سپرد کر دیتا ہے جس سے اس نے تعلق جوڑا ہو۔ پس جس نے اللہ سے ناطہ جوڑا، اس کے لیے اللہ کافی ہو جاتا ہے اور ہر مشکل کو اس کے لیے آسان کر دیتا ہے اور جو اللہ کو چھوڑ کر کسی اور سے تعلق جوڑتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اسی چیز کے حوالے کر دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6763

 
 
Hadith   1353   الحديث
الأهمية: يا رويفع، لعل الحياة ستطول بك فأخبر الناس أن من عقد لحيته، أو تقلد وترا، أو استنجى برجيع دابة أو عظم، فإن محمدا بريء منه


Tema:

اے رویفع! شاید تمھاری زندگی دراز ہو، لہٰذا تم لوگوں کو بتا دینا کہ جس آدمی نے اپنی ڈاڑھی میں گرہ لگائی یا تانت کا ہار پہنا اور ڈالا یا جانور کی نجاست یا ہڈی سے استنجا کیا، تو محمد (ﷺ) اس سے بری ہیں۔

عن رويفع قال: قال لي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يا رُوَيْفِعُ، لعل الحياة ستطول بك فأخبر الناس أن من عَقَدَ لِحْيَتَهُ، أو تَقَلَّدَ وَتَرًا، أو اسْتَنْجَى برَجِيعِ دابة أو عَظْمٍ، فإن محمدًا بريءٌ منه".

اے رویفع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے رویفع! شاید تمھاری زندگی دراز ہو، لہٰذا تم لوگوں کو بتا دینا کہ جس آدمی نے اپنی ڈاڑھی میں گرہ لگائی یا تانت کا ہار پہنا اور ڈالا یا جانور کی نجاست یا ہڈی سے استنجا کیا تو محمد ( ﷺ) اس سے بری ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أن هذا الصحابي سيطول عمرُه حتى يدرك أناساً يخالفون هديه -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- في اللحى الذي هو توفيرُها وإكرامُها إلى العبث بها على وجهٍ يتشبهون فيه بالأعاجم أو بأهل الترف والميوعة.
أو يُخلُّون بعقيدة التوحيد باستعمال الوسائل الشركية فيلبسون القلائد أو يُلبسونها دوابَّهم يستدفعون بها المحذور.
أو يرتكبون ما نهى عنه نبيهم من الاستجمار بروث الدواب والعظام.
فأوصى النبي -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- صاحبه أن يبلغ الأمة أن نبيها يتبرأ ممن يفعل شيئًا من ذلك.
606;بی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اس صحابی کی عمر لمبی ہو گی، یہاں تک کہ وہ ایسے لوگوں کو پائیں گے، جو داڑھیوں کے معاملے میں آپ ﷺ کے طرز عمل، یعنی انھیں بڑھانے اور ان کے احترام کی بجائے وہ عجمی و عیش پروردہ اور احمق لوگوں کی طرح ان کے ساتھ مذاق شروع کر دیں گے۔
یا پھر شرکیہ ذرائع کے استعمال کی وجہ وہ عقیدۂ توحید میں خلل انداز ہوں گے، بایں طور کہ کسی آفت کے دفعیہ کے لیے خود تانت کے ہار پہنیں گے یا پھر اپنے چوپایوں کو یہ پہنائیں گے۔
یا پھر ایسے امور کا ارتکاب کریں گے، جن سے نبی ﷺ نے منع فرمایا۔ مثلا چوپایوں کے گوبر اور ہڈیوں سے استنجا کرنا۔
نبی ﷺ نے اپنے صحابی کو وصیت فرمائی کہ وہ امت تک یہ بات پہنچا دیں کہ ان کے نبی ﷺ اس شخص سے بری ہیں، جو یہ کام کرتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6764

 
 
Hadith   1354   الحديث
الأهمية: مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مَنْ دُونِ اللهِ، حَرُمَ مَالُهُ، وَدَمُهُ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ


Tema:

جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اللہ کے سوا جس بھی چیز کی پوجا کی جاتی ہے اس کا انکار کیا تو اس کا مال اور خون حرام ہو گئے اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔

عن طارق بن أشيم الأشجعي مرفوعاً: "من قال لا إله إلا الله، وكَفَرَ بما يُعْبَدُ من دون الله حَرُمَ مالُه ودمُه وحِسابُه على الله".

طارق بن اشیم اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اللہ کے سوا جس چیز کی بھی پوجا کی جاتی ہے اس کا انکار کیا تو اس کا مال اور خون حرام ہو گئے اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- في هذا الحديث أنه لا يحرُم قتلُ الإنسان وأخذُ ماله إلا بمجموع أمرين:
الأول: قول لا إله إلا الله -تعالى-.
الثاني: الكفر بما يُعبد من دون الله -تعالى-، فإذا وُجد هذان الأمران وجب الكفُّ عنه ظاهرًا وتفويضُ باطنه إلى الله -تعالى-، ما لم يأت بما يستحل دمه كالردة أو ماله كمنع الزكاة أو عرضه كالمماطلة في دفع الدين.
606;بی ﷺ اس حدیث میں اس بات کی وضاحت فرما رہے ہیں کہ کسی انسان کو قتل کرنا اور اس کا مال لے لینا صرف اس صورت میں حرام ہوتا ہے جب اس میں دو باتیں پائی جائیں:
اول: لا الہ الا اللہ کہنا۔
دوم: اللہ تعالی کے سوا جن جن اشیاء کی عبادت کی جاتی ہے ان کا انکار کرنا۔ جب یہ دونوں باتیں پائی جائیں تو اس صورت میں اس سے ظاہری طور پر باز رہنا واجب ہو جاتا ہے اور اس کے باطن کا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد ہو جاتا ہے جب تک کہ وہ کوئی ایسا عمل نہ کر لے جس سے اس کا خون بہانا جائز ہو جائے جیسے مرتد ہونا یا پھر اس کا مال حلال ہو جائے جیسے زکوۃ نہ دینا یا پھر اس کی ہتک عزت جائز ہو جائے جسے مالداری کے باوجود اس کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6765

 
 
Hadith   1355   الحديث
الأهمية: نضر الله امرأ سمع منا شيئا فبلغه كما سمعه


Tema:

اللہ اس شخص کو سرسبز و شاداب رکھے جو ہم سے کوئی بات سنے اور پھر اسے ویسے ہی آگے پہنچا دے جیسے اس نے سنی ہو۔

عن ابن مسعود -رضي الله عنه- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «نَضَّرَ اللهُ امْرَأً سَمِع مِنَّا شيئا، فَبَلَّغَهُ كما سَمِعَهُ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أوْعَى مِن سَامِعٍ».

ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ اس شخص کو سرسبز و شاداب رکھے جو ہم سے کوئی بات سنے اور پھر اسے ویسے ہی آگے پہنچا دے جیسے اس نے سنی کیونکہ بعض وہ لوگ جنہیں کوئی بات پہنچائی جائے وہ اسے سننے والے سے زیادہ یاد رکھتے ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دعا النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث للإنسان الذي يسمع حديثاً عنه -صلى الله عليه وسلم- فيبلغه كما سمعه من غير زيادة ولا نقص أن يحسن الله -تعالى- وجهه يوم القيامة، ثم علل ذلك بأنه "رب مبلغ أوعى من سامع"؛ لأن الإنسان ربما يسمع الحديث ويبلغه فيكون المبلَّغ أفقه وأفهم وأشد عملاً من الإنسان الذي سمعه وأداه، وهذا كما قال النبي -صلى الله عليه وسلم- معلوم تجد مثلاً من العلماء من هو راوية يروي الحديث يحفظه ويؤديه، لكنه لا يعرف معناه فيبلغه إلى شخص آخر من العلماء يعرف المعنى ويفهمه ويستنتج من أحاديث الرسول -صلى الله عليه وسلم- أحكاماً كثيرة فينفع الناس.
575;س حدیث میں نبی ﷺ نے روزِ قیامت اس شخص کے لیے خوش رو ہونے کی دعا فرمائی جو آپ ﷺ سے حدیث کو سن کر اس میں کمی بیشی کیے بغیر جیسے سنی ویسے ہی آگے پہنچا دیتا ہے۔ اس کی علت بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ "بعض اوقات جسے کوئی بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والے سے زیادہ اسے یاد رکھتا ہے"۔ کیونکہ بعض اوقات انسان حدیث کو سن کر آگے پہنچا دیتا ہے اور جس تک پہنچائی گئی ہوتی ہے وہ اس شخص سے زیادہ فقیہ اور سمجھ دار ہوتا ہے اور زیادہ سختی سے اس پر عمل پیرا ہوتا ہے جس نے اسے سن کر آگے منتقل کیا ہوتا ہے اور واقعتا ہے بھی ایسا ہی جیسے نبی ﷺ نے فرمایا ہے۔ مثلا آپ دیکھیں گے کہ کوئی عالم بہت بڑا راویٔ حدیث ہوتا ہے اور وہ حدیث کو یاد کر کے اسے آگے بیان تو کر دیتا ہے لیکن اس کے مفہوم سےواقف نہیں ہوتا چنانچہ وہ اس حدیث کو علماء میں سے کسی ایسے شخص تک پہنچا دیتا ہےجو اس کے مفہوم سے آگاہ ہوتا ہے اور اسے سمجھتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث سے بہت سے احکام اخذ کر کے لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6820

 
 
Hadith   1356   الحديث
الأهمية: خطَّ النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- خُطُوطاً، فقال: هذا الإنسان وهذا أجله فبينما هو كذلك إذ جاء الخط الأقرب


Tema:

نبی کریم ﷺ نے چند لکیریں کھینچیں اور فرمایا کہ یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے، انسان اسی حالت میں رہتا ہے کہ قریب والی لکیر (موت) اس تک پہنچ جاتی ہے۔

عن أنس -رضي الله عنه- قال: خطَّ النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- خُطُوطاً، فقال: "هذا الإنسان، وهذا أجَلُهُ، فبينَما هو كذلكَ إذ جاءَ الخَطُّ الأقْرَبُ".
عن ابن مسعود -رضي الله عنه- قال: خطَّ النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- خطاً مربعاً، وخطَّ خطاً في الوسطِ خارجاً منه، وخطَّ خططاً صغاراً إلى هذا الذي في الوسطِ من جانبِه الذي في الوسطِ، فقال: «هذا الإنسانُ، وهذا أجلُهُ محيطاً بِه -أو قد أحاطَ بِه- وهذا الذي هو خارجٌ أملُهُ، وهذه الخُطَطُ الصِّغَارُ الأعْرَاضُ، فإن أخطَأهُ هذا، نَهَشَهُ هذا، وإن أخطَأهُ هذا، نَهَشَهُ هذا».

انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے چند خطوط (لکیریں) کھینچے اور فرمایا:" یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے، انسان اسی حالت میں رہتا ہے کہ قریب والی لکیر (موت) اس تک پہنچ جاتی ہے"۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے چوکھٹا لکیریں کھینچیں۔ پھر ان کے درمیان ایک لکیر کھینچی، جو چوکھٹے کے درمیان میں تھی۔ اس کے بعد درمیان والی لکیر کے اس حصے میں، جو چوکھٹے کے درمیان میں تھی، چھوٹی چھوٹی بہت سی لکیریں کھینچیں اور پھر فرمایا:"یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے، جو اسے گھیرے ہوئے ہے -یا یہ کہا کہ اسے گھیر رکھا ہے-اور یہ جو (بیچ کی) لکیر باہر نکلی ہوئی ہے، اس کی امید ہے اور چھوٹی چھوٹی لکیریں اس کی دنیاوی مشکلات ہیں۔ پس انسان جب ایک (مشکل) سے بچ کر نکلتا ہے، تو دوسری میں پھنس جاتا ہے اور دوسری سے نکلتا ہے، تو تیسری میں پھنس جاتا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في الحديثين مثال أمل الإنسان وأجله والأعراض التي تعرض عليه، وموته عند واحد منها، فإن سلم منها فيأتيه الموت عند انقضاء أجله، وهذه الخطوط الآفات العارضة له فإن سلم من هذا لم يسلم من هذا، وإن سلم من الجميع ولم تصبه آفة من مرض أو فقد مال أو غير ذلك بغته الأجل، والحاصل إن من لم يمت بالسبب مات بالأجل، فبينما الإنسان كذلك في هذه الآفات "إذ جاءه الخط الأقرب" وهو الأجل.
وفيه إشارة إلى الحض على قصر الأمل والاستعداد لبغتة الأجل، وعبر بالنهش وهو لدغ ذات السم مبالغة في الإصابة والإهلاك.
575;ن دونوں حدیثوں میں انسان کی امیدوں، اس کی موت اور اسے درپیش مصیبتوں کی مثال بیان کی گئی ہے، جن میں سے کسی سے بھی اس کی موت ہو سکتی ہے، اگر وہ ان سے بچ نکلتا ہے، تو اس کا وقت پورا ہونے پر اسے موت آ جائے گی۔ حدیث میں مذکور خطوط سے مراد درپیش مصائب ہیں، آدمی ان میں سے ایک سے بچ نکلے تو دوسرے سے بچ نہیں پاتا اور اگر سب سے بچ جاۓ، اسے کوئی آفت جیسے بیماری، مالی تباہی وغیرہ لاحق نہ ہو، تو بالآخر موت آ گھیرے گی۔ خلاصہ یہ کہ جو شخص کسی سبب سے نہ مرے، وہ مقررہ وقت پر مرے گا، انسان یوں ہی مصیبتوں میں گھرا ہوا ہوگا کہ اسے قریبی لکیر یعنی موت آ پہنچے گی۔
اس حدیث میں امید کم کرنے اوراچانک آنے والی موت کی تیاری میں لگے رہنے کی طرف اشارہ ہے۔ حدیث میں "النهش" کا لفظ استعمال کیا گیا۔ جس کے معنیٰ ہیں زہریلا ڈنک۔ یہ تکلیف اور ہلاکت میں مبالغہ سے کنایہ ہے۔   --  [یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6821

 
 
Hadith   1357   الحديث
الأهمية: يؤتى يوم القيامة بالقرآن وأهله الذين كانوا يعملون به في الدنيا


Tema:

قیامت کے دن قرآن اور اس کے پڑھنے والوں کو لایا جائے گا جو اس پر دنیا میں عمل کرتے تھے۔

عن النواس بن سمعان -رضي الله عنه- قال: سمعتُ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- يقولُ:  «يُؤتى يوم القيامة بالقرآن وأهلِه الذين كانوا يعملون به في الدنيا، تَقْدُمُه سورةُ البقرة وآلِ عمران، تُحاجَّانِ عن صاحِبِهِما».

نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن قرآن اور اس کے پڑھنے والوں کو لایا جائے گا جو اس پر دنیا میں عمل کرتے تھے۔ قرآن کے آگے آگے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران ہوں گی جو اپنے پڑھنے والے کی طرف سے حجت قائم کر رہی ہوں گی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
حديث النواس بن سمعان -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "يؤتي يوم القيامة بالقرآن، وأهله الذين كانوا يعملون به في الدنيا تقدمه سورة البقرة وآل عمران تحاجان عن صاحبهما"، ولكن الرسول -صلى الله عليه وسلم- قيد في هذا الحديث قراءة القرآن بالعمل به؛ لأن الذين يقرءون القرآن ينقسمون إلى قسمين؛ قسم: لا يعمل به، فلا يؤمنون بأخباره، ولا يعملون بأحكامه هؤلاء يكون القرآن حجة عليهم، وقسم آخر: يؤمنون بأخباره ويصدقون بها، ويعملون بأحكامه، فهؤلاء يكون القرآن حجة لهم يحاج عنهم يوم القيامة، وفي هذا دليل على أن أهم شيء في القرآن العمل به، ويؤيد هذا قوله تعالى: "كتاب أنزلناه إليك مبارك ليدبروا آياته، وليذكر أولوا الألباب"، "ليدبروا آياته"، أي: يتفهمون معانيها، "وليذكر أولوا الألباب"، يعني: ويعملون بها، وإنما أخر العمل عن التدبر؛ لأنه لا يمكن العمل بلا تدبر إذا إن التدبر يحصل به العلم والعمل فرع عن العلم، فالمهم أن هذا هو الفائدة من إنزال القرآن أن يتلى ويعمل به يؤمن بأخباره يعمل بأحكامه يمتثل أمره يجتنب نهيه، فإذا كان يوم القيامة فإنه يحاج عن أصحابه.
606;واس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:"قیامت کے دن قرآن اور اس کے پڑھنے والوں کو لایا جائے گا جو اس پر دنیا میں عمل کرتے تھے۔ قرآن کے آگے آگے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران ہوں گی جو اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑ رہی ہوں گی۔" تاہم رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں قرآن پڑھنے کو اس پر عمل کرنے کے ساتھ مقید کیا ہے کیونکہ جو لوگ قرآن پڑھتے ہیں ان کی دو اقسام ہیں۔ ایک قسم تو وہ ہے جو اس پر عمل نہیں کرتے اور نہ ہی اس میں دی گئی خبروں پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ اس کے احکام کو بجا لاتے ہیں۔ قرآن ان کے خلاف حجت ہو گا۔ اور دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو اس میں دی گئی خبروں پر ایمان رکھتے ہیں، ان کی تصدیق کرتے ہیں، اس کے احکام پرعمل کرتے ہیں۔ ان کے لیے قرآن پاک حجت ہو گا اور روزِ قیامت ان کی طرف سے جھگڑے گا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کے سلسلے میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس پر عمل کیا جائے۔اس کی تائید اللہ تعالی کے اس قول سے ہوتی ہے: ﴿كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾ (سورۂ ص: 29) ”یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ پر اس لیے نازل فرمائی ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں“۔
”لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ“ یعنی وہ اس کے معانی کو سمجھیں۔
”وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ“ یعنی اس پر عمل کریں۔ اللہ تعالی نے عمل کو تدبرکے بعد ذکر کیا کیونکہ غور و فکر کے بغیر عمل کیا ہی نہیں جا سکتا کیونکہ غور و فکر سے علم حاصل ہوتا ہے اور عمل، علم ہی کی ایک شاخ ہے۔ بہرحال اہم بات یہ ہے کہ قرآن کے نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسے پڑھا جائے، اس پر عمل کیا جائے، اس کی خبروں پر ایمان رکھا جائے اور اس کے احکام کو بجا لایا جائے بایں طور کہ اللہ کے حکم کی پیروی کی جائے اور اس کی منع کردہ شے سے اجتناب کیا جائے۔ جب قیامت کا دن ہو گا تو اس دن قرآن اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کرے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6828

 
 
Hadith   1358   الحديث
الأهمية: يوشك أن يكون خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال


Tema:

عنقریب مسلمان کا سب سے بہترین مال بکریاں ہوں گی جنہیں لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلا جائے گا۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- قالَ: قالَ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-: "يُوشَكُ أنْ يكونَ خيرَ مالِ المسلمِ غَنَمٌ يَتَّبعُ بها شَعَفَ الجبالِ، ومواقعَ القطرِ يَفِرُّ بدينِهِ من الفتنِ".

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب مسلمان کا سب سے بہترین مال بکریاں ہوں گی جنہیں لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات (سرسبز جگہوں) کی طرف چلا جائے گا تاکہ اپنے دین کو فتنوں سے محفوظ رکھ سکے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في الحديث فضل العزلة في أيام الفتن إلا أن يكون الإنسان ممن له قدرة على إزالة الفتنة، فإنه يجب عليه السعي في إزالتها إما فرض عين وإما فرض كفاية بحسب الحال والإمكان، وأما في غير أيام الفتنة فاختلف العلماء في العزلة والاختلاط أيهما أفضل؟، والمختار: تفضيل الخلطة لمن لا يغلب على ظنه الوقوع في المعاصي.
"يفر بدينه من الفتن" يعني: يهرب خشية على دينه من الوقوع في الفتن، ولهذا أمر الإنسان أن يهاجر من بلد الشرك إلى بلد الإسلام، ومن بلد الفسوق إلى بلد الاستقامة، فكذلك إذا تغير الناس والزمان.
575;س حدیث میں فتنوں کے دور میں عزلت نشینی کی فضیلت کا بیان ہے ماسوا اس کے کہ اس بندے میں فتنے کو دور کرنے کی طاقت ہو۔اس صورت میں اس پر واجب ہے کہ وہ فتنے کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔ ایسا کرنا اس پر یا تو فرض عین ہو گا یا پھرحالات و امکانات کے لحاظ سے فرض کفایہ ہوگا۔ تاہم فتنے کے علاوہ دیگر دنوں کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ ان میں انسان کے لیے عزلت نشینی اور لوگوں سے گھل مل کر رہنے میں سی کون سی صورت افضل ہے؟ زیادہ پسندیدہ قول یہی ہے کہ انسان لوگوں کے ساتھ گھل مل کر رہے اگر اسے غالب گمان ہو کہ وہ گناہوں میں مبتلا نہیں ہو گا۔
"يفر بدينه من الفتن" یعنی اس اندیشے کے تحت بھاگ جائے گا کہ کہیں دین کے معاملے میں وہ فتنوں کا شکار نہ ہو جائے۔ اسی وجہ سے انسان کو حکم دیا گیا ہے کہ جن علاقوں میں شرک عام ہو وہ وہاں سے ہجرت کر کے ان علاقوں میں آ جائے جہاں اسلام کا غلبہ ہو اور اسی طرح جن علاقوں میں فسق و فجور کا دور دورہ ہو انہیں چھوڑ کر ان علاقوں میں آ جائے جہاں (اسلام پر) استقامت کا غلبہ ہو۔ لوگوں اور وقت کے تغیر کے ساتھ ایسے ہی کرنا چاہیے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6829

 
 
Hadith   1359   الحديث
الأهمية: إن هذا اخْتَرَطَ عليَّ سَيفِي وأنا نائم فاستيقظت وهو في يده صَلتًا، قال: من يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قلت: الله -ثلاثا-


Tema:

اس شخص نے مجھ پر میری تلوار کھینچی تھی، جب کہ میں سویا ہوا تھا میں بیدار ہوا تو یہ اس کے ہاتھ میں سونتی ہوئی تھی، اس نے کہا: اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ

عن جابر -رضي الله عنه-: أنه غزا مع النبي -صلى الله عليه وسلم- قِبَل نَجْد، فلما قَفل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قفل معهم، فأدركتهم القَائِلَةُ في وَادٍ كثير العِضَاه، فنزل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وتفرق الناس يَسْتَظِلُّونَ بالشجر، ونَزل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- تحت سَمُرَة فعلق بها سيفه وَنِمْنَا نومةً، فإذا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يدْعونا وإذا عنده أعرابي، فقال: «إن هذا اخْتَرَطَ عليَّ سَيفِي وأنا نائم فاستيقظت وهو في يده صَلتًا، قال: من يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قلت: الله -ثلاثا-» ولم يُعاقِبْهُ وجلس، متفق عليه.
وفي رواية قال جابر: كنَّا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بذَاتِ الرِّقَاعِ، فإذا أَتَيْنَا على شجرة ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- فجاء رجُل من المشركين وسيف رسول الله -صلى الله عليه وسلم- معَلَّقٌ بالشجرة فَاخْتَرطَهُ، فقال: تَخَافُنِي؟ قال: «لا»، فقال: فمن يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قال: «الله».
وفي رواية أبي بكر الإسماعيلي في «صحيحه»، قال: من يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قال: «الله»، قال: فسقط السيف مِن يَدهِ، فأخذ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - السيف، فقال: « من يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟»، فقال: كُنْ خَيرَ آخِذٍ، فقال: «تَشهد أن لا إله إلا الله وَأَنِّي رسول الله؟» قال: لا، ولكني أُعَاهِدُكَ أن لا أُقَاتِلَكَ، ولا أكُون مع قوم يُقَاتِلُونَكَ، فَخَلَّى سَبيلَهُ، فأتى أصحابه، فقال: جئتُكُمْ من عندِ خير الناسِ.

جابر رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جہاد کے ليے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نجد کا سفر کیا، جب رسول اللہ ﷺ یہاں سے لوٹے، تو وہ بھی آپ ﷺ کے ہمراہ لوٹے وہ لوگ دوپہر کے وقت گھنے خار دار درختوں کی ایک وادی میں پہونچے، رسول ﷺ یہاں اتر پڑے، (صحابہ بھی اتر گئے) اور تمام لوگ سایہ کی تلاش میں پھیل گئے، رسول اللہ ﷺ کیکر کے ایک درخت کے نیچے فرو کش ہوئے اور آپ ﷺ نے اپنی تلوار اس سے لٹکا دی، ہم لوگ تھوڑی دیر ہی سوئے تھے کہ یکایک رسول اللہ ﷺ ہمیں پکارنے لگے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک اعرابی (بدو) آپ ﷺ کے پاس ہے، آپ نے فرمایا: اس شخص نے مجھ پر میری تلوار کھینچی تھی، جب کہ میں سویا ہوا تھا میں بیدار ہوا تو یہ اس کے ہاتھ میں سونتی ہوئی تھی، اس نے کہا: اب آپ (ﷺ) کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ، اور تین مرتبہ کہا کہ اللہ بچائے گا۔ آپ ﷺ نے اس دیہاتی کو کوئی سرزنش نہیں کی اور بیٹھ گئے۔ (متفق علیہ)۔
ايک دوسری روايت ميں جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں: جنگ ذات الرقاع میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے پس جب ہم ایک گھنے سائے والے درخت کے پاس آئے تو ہم نے اسے رسول اللہ ﷺ کے ليے چھوڑ دیا، مشرکین میں سے ایک شخص آیا اور رسول اللہ ﷺ کی درخت سے لٹکی ہوئی تلوار کھینچ لی اور کہا: تو مجھ سے ڈرتا ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: نہیں، اس نے کہا: تجھے آج مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ!‘‘
اور صحیح ابو بکر اسماعیلی کی روايت میں اس طرح ہے: ديہاتی نے کہا: تجھ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمايا:اللہ، راوی کہتے ہیں ( اتنا سننا تھا) کہ کافر کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی، آپ ﷺ نے تلوار اٹھالی اور فرمايا: (تو بتلا) تجھے، مجھ سے کون بچاے گا؟، کافر کہنے لگا: آپ بہتر تلوار پکڑنے والے ہوئیے (یعنی احسان کیجیے)، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: کيا تو اس بات کی گواہی ديتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہيں اور ميں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے جواب ديا: نہيں، البتہ میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ میں آپ سے لڑوں گا نہ آپ سے لڑنے والوں کا ساتھ دوں گا۔ آپ ﷺ نے اس کا راستہ چھوڑ ديا، وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور کہا: میں تمہارے یہاں سب سے اچھے انسان کے پاس سے آ رہا ہوں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث: يخبر جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- أنه غزا مع النبي -صلى الله عليه وسلم- وكانت هذه الغزوة معروفة عند أهل السير بعزوة ذات الرقاع، وفي أثناء رجوعهم من غزوتهم نزل النبي -صلى الله عليه وسلم- في وقت الظهيرة في موضع تكثر فيه أشجار الشوك، وتفرق الناس عن النبي -صلى الله عليه وسلم- يبحثون عن أماكن يستظلون بها من حر الشمس، ونزل -عليه الصلاة والسلام- تحت شجرة ظليلة يقال لها: السمرة، فعلَّق بها سيفه، ثم نام ونام الناس، ثم تسلل إليهم أعرابي، ممن قاتلهم النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذه الغزوة ولم يشعروا به، فأخذ سيف النبي -صلى الله عليه وسلم- على وجه الخفية، فاستيقظ -عليه الصلاة والسلام-، فأخذ الأعرابي السيف وصار يتقوى به على النبي -صلى الله عليه وسلم-، وهو يقول: "من يمنعك مني إذا أردت قتلك؟ فرد عليه النبي -صلى الله عليه وسلم- "الله"، فكررها ثلاث مرات، والمعنى: أن الله تعالى سيحمينا منك، فقالها -عليه الصلاة والسلام-، وهو الواثق بالله، المتوكل عليه، المتيقن لوعده، فسقط السيف من يد الكافر، فأخذه رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقال له -عليه الصلاة والسلام-: "من يمنعك مني؟" أي: إذا أردت قتلك، فرد الكافر بقوله: (كنْ خير آخذ)، والمراد به العفو والصفح ومقابل السيئة بالحسنة.
فقال له النبي -صلى الله عليه وسلم-: (تشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله) فقال: لا، لكنه عاهد النبي -صلى الله عليه وسلم- بعدم مقاتلته ولا يكون مع قوم يقاتلونه، فخلى -عليه الصلاة والسلام- سبيله، فعاد هذا الرجل إلى أصحابه، فقال: (جئتكم من عند خير الناس)، والأمر على ما قاله هذا الكافر، فإن النبي -صلى الله عليه وسلم- أفضل الناس خلقًا، ويكفي ذلك تزكية الله له بقوله: (وإنك لعلى خلق عظيم).
575;س حديث ميں جابر رضي اللہ عنہ بيان فرما رہے ہيں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کیا، اور يہ جنگ سيرت لکھنے والوں کے يہاں ذات الرقاع کے نام سے معروف ومشہور ہے۔ جنگ سے لوٹتے وقت، آپ ﷺ دوپہر ميں ایسی جگہ اترے، جہاں گھنے کانٹے دار درخت تھے، اور لوگ بھی نبی ﷺ سے الگ ہوکر ایسی جگہ تلاشنے لگے جہاں سورج کی تپش سے بچ کر سایہ حاصل کر سکیں، اور رسول اللہ ﷺ ایک سایہ دار درخت کے نیچے فرو کش ہوئے جسے سمرۃ یعنی کیکر کہا جاتا ہے، اور آپ ﷺ نے اپنی تلوار اسی درخت سے لٹکا دی اور سو گئے، صحابۂ کرام بھي سو گئے پھر جن لوگوں سے اس غزوہ میں جنگ ہوئی تھی انہیں ميں سے ايک ديہاتی چپکے سے آپ کے پاس آيا اور لوگوں کو اس کی بھنک بھی نہ پڑی، اس نے آپ کی تلوار نہایت خاموشی سے اٹھا لی، آپ ﷺ جاگ گئے، تلوار اس کے ھاتھ میں تھی اور وہ آپ ﷺ کو ڈراتے ہوے کہہ رہا تھا: ’’اگر ميں تم کو قتل کرنا چاہوں تو تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمايا: ’’اللہ‘‘، اور يہ جملہ تین مرتبہ فرمايا، اس کا مطلب يہ ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ مجھے تجھ سے بچالے گا۔ آپ ﷺ نے يہ جملہ پورے اعتماد و توکل اور بھروسہ کے ساتھ کہا آپ کو اللہ کے وعدہ پر یقین تھا، کافر کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کر گر گئی، آپ ﷺ نے تلوار اٹھالی اور فرمايا: ’’اب تجھے‘ مجھ سے کون بچاے گا؟‘‘ یعنی اگر میں تجھے قتل کرنا چاہوں۔ کافر کہنے لگا: (آپ اچھی طرح پکڑنے والے ہوئیے)، اس سے مراد عفو و در گذراور برائی کا بدلہ بھلائی سے دينے کے ہیں۔
اس پر آپ ﷺ نے فرمايا: کيا تو اس بات کی گواہی ديتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہيں اور ميں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے جواب ديا: نہيں، ليکن اس نے آپ سے نہ لڑنے اور اسی طرح آپ سے جنگ کرنے والوں کا ساتھ نہ دینے کا وعدہ کيا، آپ ﷺ نے اسے اس کی راہ پر چھوڑ ديا، اور وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس جاکر ان سے کہا: ميں آج (دنيا کے) سب سے افضل وبہتر شخص کے پاس سے آيا ہوں۔ اور حقيقت بھی يہی ہے کيوں کہ نبی ﷺ اخلاق و کردار میں سب سے بہتر تھے، اور اللہ نے بھی اپنے اس فرمان کے ذریعہ اس بات کی گواہی دی ہے: ’’اے نبی تم سب سے بڑے اور عمدہ اخلاق پر ہو۔‘‘

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6967

 
 
Hadith   1360   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بَلَغَهُ أن بني عمرو بن عوف كان بينهم شَرٌّ، فخرج رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يصلح بينهم في أناس معه


Tema:

رسول کریم ﷺ کو خبر ملی کہ عمرو بن عوف کی اولاد کےدرمیان کچھ جھگڑا ہے۔ چنانچہ رسول ﷺ چند لوگوںکے ساتھ ان کے درمیان مصالحت کرانے کی غرض سے تشریف لے گئے۔

عن سهل بن سعد الساعدي -رضي الله عنهما- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بَلَغَهُ أن بني عمرو بن عوف كان بينهم شَرٌّ، فخرج رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يصلح بينهم في أناس معه، فحُبِس رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وحَانتِ الصلاة، فجاء بلال إلى أبي بكر -رضي الله عنهما-، فقال: يا أبا بكر، إن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قد حُبِس وحَانت الصلاة فهل لك أن تَؤُمَّ الناس؟ قال: نعم، إن شِئت، فأقام بلال الصلاة، وتقدم أبو بكر فكبَّر وكبَّر الناس، وجاء رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يمشي في الصفوف حتى قام في الصفِّ، فأخذ الناس في التَّصْفيقِ، وكان أبو بكر -رضي الله عنه- لا يَلْتَفِتُ في الصلاة، فلما أكثر الناس في التَّصْفيقِ الْتَفَتَ، فإذا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فأشار إليه رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فرفع أبو بكر -رضي الله عنه- يَدَهُ فحمد الله، ورجع القَهْقَرَى وراءه حتى قام في الصف، فتقدم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فصلى للناس، فلما فرغ أقبل على الناس، فقال: «أيها الناس، ما لكم حين نَابكم شيء في الصلاة أخذتم في التصفيق؟! إنما التصفيق للنساء. من نَابه شيء في صلاته فليَقُل: سبحان الله، فإنه لا يسمعه أحد حين يقول: سبحان الله، إلا التَفَتَ، يا أبا بكر: ما مَنَعَك أن تصلي بالناس حين أشَرْتُ إليك؟»، فقال أبو بكر: ما كان ينبغي لابن أبي قُحافة أن يصلي بالناس بين يدي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.

587;ہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ کو خبر ملی کہ عمرو بن عوف کی اولاد کےدرمیان کچھ جھگڑا ہے۔ چنانچہ رسول ﷺ چند لوگوںکے ساتھ ان کے درمیان مصالحت کرانے کی غرض سے تشریف لے گئے، رسول کریم ﷺ وہاں کچھ رکنا پڑا اور نماز کا وقت ہوگیا۔ تو بلال رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے ابوبکر! رسول اللہ ﷺ وہاں رک گئے ہيں اور نماز کا وقت ہوگیا ہے، تو کيا آپ لوگوں کی امامت کرائیں گے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں اگر تم چاہتے ہو۔ بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے ليے اقامت کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور تکبير تحریمہ کہہ کر نیت باندھی اور لوگوں نے بھی تکبیر کہی۔ اتنے میں رسول کریم ﷺ صفوں کے درميان چلتے ہوئےتشریف لے آئے يہاں تک کہ (اگلی)صف ميں کھڑے ہوگئے۔ لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کر دیں لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ بحالت نماز کسی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے۔ جب لوگوں کی تالیاں زیادہ ہوگئیں تو متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ رسول کریم ﷺ کھڑے ہیں۔ رسول ﷺ نے ان کی جانب اشارہ فرمایا (کہ نماز پڑھاتے رہيں)، ليکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اٹھايا، اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور الٹے پاؤں پیچھے چلے آئے یہاں تک کہ صف میں کھڑے ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: لوگو! تمھیں کیا ہے کہ جب تمہيں نماز میں کوئی نئی چیز پيش آتی ہے تو تم تالیاں بجانا شروع کرديتے ہو؟ تالیاں بجانا تو خواتین کے ليے (مشروع) ہے، جب نماز میں کسی کو کوئی نئی چیز پيش آئے تو وہ سبحان اللہ کہے اس لیے کہ جو بھی اسے سبحان اللہ کہتے ہوئے سنے گا تو اس کی طرف متوجہ ہوگا۔ (پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا:) ’’اے ابو بکر! تمھیں جب میں نے اشارہ کر دیا تھا (کہ نماز پڑھاتے رہو) تو پھر تمھیں لوگوں کو نماز پڑھانے سے کس چیز نے روکا؟‘‘ تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ابو قحافہ کے بيٹے (ابو بکر) کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کی موجودگی میں لوگوں کو نماز پڑھائے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بلغ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن بني عمرو بن عوف كان بينهم خلاف، حتى وصل إلى الاقتتال، فخرج رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ومعه بعض أصحابه، فتأخر عندهم ودخل وقت الصلاة: وهي صلاة العصر، كما صرح به البخاري في روايته ولفظه "فلما حضرت صلاة العصر أذن وأقام وأمر أبا بكر فتقدم" ثم جاء بلال إلى أبي بكر -رضي الله عنه- فقال: يا أبا بكر إن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قد حُبِسَ وحانت الصلاة فهل لك أن تؤم الناس؟ قال: "نعم إن شئت"، فأقام بلال وتقدم أبو بكر فكبر وكبر الناس، ثم جاء رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يمشي في الصفوف، زاد البخاري في رواية: "يشقها شقاً" حتى قام في الصف الأول، كما في رواية مسلم: "فخرق الصفوف حتى قام عند الصفّ المقدم"، ولما علم الناس بوجود النبي -صلى الله عليه وسلم- معهم أخذوا في التصفيق؛ لمحبتهم الصلاة خلف رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فأبو بكر رضي عنه سمع تصفيقهم لكن لم يدر ما السبب، وكان -رضي الله عنه- لا يلتفت لعلمه بالنهي عن الالتفات في الصلاة وأنه خلسة من الشيطان يختلسها من صلاة العبد كما جاء ذلك عند الترمذي وغيره، لكن لما أكثر الناس في التصفيق التفت -رضي الله عنه- فرأى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قد حضر إلى الصلاة فأشار إليه -عليه الصلاة والسلام- بالبقاء على ما هو عليه من إمامة الناس  كما في رواية للبخاري: "فأشار إليه أن امكث مكانك" فرفع أبو بكر يده وحمد الله تعالى، على ما رآه من تعامل النبي -صلى الله عليه وسلم- معه، ثم رجع يمشي خطوات إلى الخلف حتى قام في صف المأمومين فتقدم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فصلى بالناس إمامًا، فلما فرغ -عليه الصلاة والسلام- من صلاته أقبل على الناس بوجهه، وقال: "يا أيها الناس، ما لكم حين نَابكم شيء في الصلاة أخذتم في التصفيق؟ إنما التصفيق للنساء" ثم بين لهم ما يسن لهم فعله فيما إذا نابهم شيء في الصلاة، فقال: (من نابه شيء في صلاته فليَقُل: سبحان الله، فإنه لا يسمعه أحد حين يقول: سبحان الله، إلا التَفت).
ثم قال: (يا أبا بكر: ما منعك أن تصلي بالناس حين أشرت إليك؟)، فقال أبو بكر: ما كان ينبغي لابن أبي قحافة أن يصلي بالناس بين يدي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وهذا من حبه وتعظيمه وإجلاله -رضي الله عنه- لرسول الله -صلى الله عليه وسلم-.
585;سول کریم ﷺ کو خبر ملی کہ عمرو بن عوف کی اولاد کےدرمیان کچھ اختلاف ہے۔ اور بات لڑائی جھگڑے تک پہنچ گئی ہے۔ آپ ﷺ بعض صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے، تو وہاں تاخير ہوگئي اور نماز کا وقت ہوگيا۔ وہ عصر کی نماز تھی جيسا کہ بخاری نے اپنی روايت ميں اس کی صراحت کی ہے۔ صحيح بخاری کی روايت کے الفاظ يہ ہيں: ”جب نماز عصر کا وقت ہوا، تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے (نماز پڑھانے کے ليے) کہا تو وہ آگے بڑھے“۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے ابوبکر! رسول اللہ ﷺ وہاں رک گئے ہيں اور نماز کا وقت ہوگیا ہے، تو کیا آپ لوگوں کی امامت کرائیں گے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں اگر تم چاہتے ہو۔ بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے ليے اقامت کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور تکبير تحریمہ کہہ کر نیت باندھی اور لوگوں نے بھی تکبیر کہی۔ اتنے میں رسول کریم ﷺ صفوں کے درميان چلتے ہوئے تشریف لے آئے۔ بخاري نے ایک روايت ميں یہ اضافہ کیا ہے: ”صفوں کو چيرتے ہوئے تشريف لائے“، يہاں تک کہ پہلی صف ميں کھڑے ہوگئے جيسا کہ صحيح مسلم کی روايت ميں ہے کہ صفوں کو چيرتے ہوئے آئے يہاں تک کہ اگلی صف ميں کھڑے ہوگئے، جب لوگوں کو نبی کريم ﷺ کی موجودگی کا علم ہوا تو وہ تالياں بجانے لگے کیونکہ وہ نبی کريم ﷺ کے پيچھے نماز پڑھنا پسند کرتے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کی تالياں سن رہے تھے ليکن اس کی وجہ کیا تھی؟ اس سے بے خبر تھے۔ اور وہ ادھر اُدھر متوجہ نہيں ہوتے تھے، کیونکہ انہيں علم تھا کہ نماز میں ادھر ادھر متوجہ ہونا ممنوع ہے اور يہ شيطان کا بندے کی نماز ميں سے اچک لينا ہے جيسا کہ ترمذي وغيرہ ميں اس کا ذکر ہے، ليکن جب لوگوں نے بہت زیادہ تالیاں بجائیں تو ابو بکر رضی اللہ عنہ متوجہ ہوئے اور ديکھا کہ رسول کریم ﷺ تشریف لا چکے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے ان کی جانب اشارہ کیا کہ لوگوں کی امامت کراتے رہيں،جيسا کہ صحيح بخاری کی روايت ميں ہے کہ آپ ﷺ نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر برقرار رہيں، ليکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اٹھايا اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ جو حسن معاملہ فرمايا تھا، اس پراللہ تعالیٰ کی حمد بيان کی، پھر وہ الٹے پاؤں چند قدم پیچھے آگئے یہاں تک کہ مقتديوں کی صف میں شامل ہوگئے، اور رسول اللہ ﷺ نے آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب اپنا رخ کیا اور ارشاد فرمایا: اےلوگو! تمھیں کیا ہے کہ جب تمہيں نماز میں کوئی نئی چیز پيش آتی ہے تو تم تالیاں بجانا شروع کرديتے ہو؟ تالیاں بجانا تو خواتین کے ليے (مشروع) ہے۔ پھر آپ ﷺ نے ان کے لیے وضاحت فرمائی کہ اگر نماز میں انھیں کوئی چیز پیش آجائے تو ان کے لیے کیا کرنا مسنون ہے، چنانچہ فرمايا: ”جب نماز میں کسی کو کوئی نئی چیز پيش آئے تو وہ سبحان اللہ کہے اس لیے کہ جو بھی اسے سبحان اللہ کہتے ہوئے سنے گا تو اس کی طرف متوجہ ہوگا“۔ پھر فرمایا: ”اے ابو بکر! تمھیں جب میں نے اشارہ کر دیا تھا (کہ نماز پڑھاتے رہو) تو پھر تمھیں لوگوں کو نماز پڑھانے سے کس چیز نے روکا؟“ تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ابو قحافہ کے بيٹے (ابو بکر) کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کی موجودگی میں لوگوں کو نماز پڑھائے۔ يہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کا اللہ کے رسول ﷺ سے محبت اور آپ کی تعظيم وتوقير اظہار تھا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6973

 
 
Hadith   1361   الحديث
الأهمية: أَفْرَى الفِرَى أن يُرِيَ الرجل عينيه ما لم تَرَيَا


Tema:

بدترین جھوٹ یہ ہے کہ انسان ایسی شے کے (خواب یا بیداری میں) دیکھنے کا دعوی کرے، جو اس کی آنکھوں نے نہ دیکھی ہو۔

عن ابن عمر -رضي الله عنهما- قال: قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «أَفْرَى الفِرَى أن يُرِيَ الرجل عينيه ما لم تَرَيَا».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بدترین جھوٹ یہ ہے کہ انسان ایسی شے کے (خواب یا بیداری میں) دیکھنے کا دعوی کرے، جو اس کی آنکھوں نے نہ دیکھی ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين النبي -صلى الله عليه وسلم- أن من أكذب الكذب أن يدّعي الإنسان أنه رأى شيئًا في منامه أو يقظته وهو في الحقيقة كاذب في دعواه هذه؛ لأنه لم ير شيئًا، والكذب في رؤيا المنام أعظم من الكذب في رؤيا اليقظة؛ لأن ما يراه الإنسان في منامه من الرؤى إنما هو من الله -تعالى- إذا كانت رؤيا، وذلك بواسطة الملك، فالكذب في هذه الحالة كذب على الله -تعالى-، أما الأحلام فتكون من الشيطان، وحديث النفس من النفس، فما يراه النائم على هذه الأنواع الثلاثة.
606;بی ﷺ وضاحت فرما رہے ہیں کہ سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ انسان یہ دعوی کرے کہ اس نے کسی شے کو خواب میں یا حالت بیداری میں دیکھا ہے، جب کہ وہ اپنے اس دعوی میں جھوٹا ہو، کیوںکہ اس نے کوئی شے دیکھی ہی نہیں۔ نیند کی حالت میں دیکھنے سے متعلق جھوٹ حالت بیداری میں دیکھنے سے متعلق جھوٹ سے زیادہ بڑا ہے۔ کیوںکہ انسان خواب میں جو کچھ دیکھتا ہے، وہ دراصل فرشتہ کے واسطے سے اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ چنانچہ اس حالت میں جھوٹ بولنا درحقیقت اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ رہے پراگندہ خواب تو یہ شیطان اور انسان کے اپنے نفس کی جانب سے ہوتے ہیں۔ پس خواب کی یہ تین قسمیں ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6979

 
 
Hadith   1362   الحديث
الأهمية: إنا ندخل على سلاطيننا فنقول لهم بخلاف ما نتكلم إذا خرجنا من عندهم، قال: كنا نعد هذا نفاقاً على عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-


Tema:

ہم اپنے بادشاہوں کے پاس جاتے ہيں تو ان سے ايسی باتيں کرتے ہيں جو ان باتوں کے بر خلاف ہوتی ہيں جو ہم ان کے پاس سے باہر نکل کر کرتے ہیں۔ عبداللہ بن عمر ـ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم نبی ﷺ کے زمانے ميں اسے نفاق شمار کرتے تھے۔

عن محمد بن زيد: أن نَاسًا قالوا لجده عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما-: إنا ندخل على سَلاطِينِنَا فنقول لهم بخلاف ما نتكلم إذا خرجنا من عندهم، قال: كنا نَعُدُّ هذا نفاقا على عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.

محمد بن زيد بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے ان کے دادا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ہم اپنے بادشاہوں کے پاس جاتے ہيں تو ان سے ايسی باتيں کرتے ہيں جو ان باتوں کے بر خلاف ہوتی ہيں جو ہم ان کے پاس سے باہر نکل کر کرتے ہیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم نبی ﷺ کے زمانے ميں اسے نفاق شمار کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- أن أناسًا جاءوا إليه وقالوا: إننا ندخل على سلاطيننا فنقول لهم قولاً ولكن إذا خرجنا من عندهم قلنا بخلافه، فقال: كنا نعد ذلك نفاقاً على عهد النبي -صلى الله عليه وسلم-، وذلك لأنهم حدثوا فكذبوا وخانوا ما نصحوا، فالواجب على من دخل على السلاطين من الأمراء والوزراء والرؤساء والملوك الواجب عليه أن يتكلم بالأمر على حقيقته.
593;بداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ ان کے پاس آئےاورکہا :جب ہم لوگ اپنے بادشاہوں کے پاس جاتے ہيں تو ان سے کوئی بات کہتے ہيں اور جب ان کے پاس سے باہر نکلتے ہيں تو اس کے برعکس بات کہتے ہيں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نبی ﷺ کے زمانے ميں اسے نفاق سمجھتے تھے۔ايسا اس ليے کہ ان لوگوں نے گفتگو ميں جھوٹ بولا اور خير خواہی کرنے کے بجائےخيانت کی۔ لہٰذا امراء، وزيروں، سلاطين اور بادشاہوں کے پاس آنے والے شخص پر واجب ہےکہ وہ حقيقت بيانی سے کام لے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6980

 
 
Hadith   1363   الحديث
الأهمية: من حدَّث عني بحديث يُرَى أنه كذب فهو أحد الكاذِبَين


Tema:

جس نے میری طرف منسوب کر کے کوئی حدیث بیان کی حالانکہ لگ رہا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ہو گا۔

عن سَمُرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «من حدَّث عني بحديث يُرَى أنه كَذِبٌ فهو أحد الكاذِبَين».

سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میری طرف منسوب کر کے کوئی حدیث بیان کی حالانکہ لگ رہا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ہو گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يحذر هذا الحديث الشريف من رواية شيء عن النبي- صلى الله عليه وسلم- وهو يعلم أو يظن أن هذا الحديث الذي يرويه وينقله عن النبي- صلى الله عليه وسلم- أنه كذب عليه، يحذره أنه إذا فعل ذلك فهو بمنزلة من تعمد الكذب على النبي- صلى الله عليه وسلم-.
575;س حدیث شریف میں نبی ﷺ کی طرف منسوب کر کے کسی حدیث کو روایت کرنے سے ڈرایا جا رہا ہے جب کہ اس شخص کو پوری طرح علم ہو یا پھر اس کا گمان ہو کہ یہ حدیث جو وہ نبی ﷺ کی طرف منسوب کر کے روایت یا نقل کر رہا ہے وہ جھوٹ موٹ آپ ﷺ کی طرف منسوب کی گئی ہے۔ آپ ﷺ ڈرا رہے ہیں کہ اگر اس نے ایسا کیا تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا جس نے جان بوجھ کر نبی ﷺ پر جھوٹ باندھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6982

 
 
Hadith   1364   الحديث
الأهمية: المتشبع بما لم يعط كلابس ثوبي زور


Tema:

جو چیز اس کو نہیں دی گئی، اس کا جھوٹ موٹ اظہار کرنے والا، جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے

عن أسماء -رضي الله عنها-: أن امرأة قالت: يا رسول الله، إن لي ضَرَّةً فهل علي جُناح إن تشبَّعْتُ من زوجي غير الذي يعطيني؟ فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «المُتَشَبِّعُ بما لم يُعطَ كلابس ثَوْبَي زُورٍ».

اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک سوکن ہے، تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا اگر میں (اس پر) یہ ظاہر کروں کہ مجھے خاوند کی طرف سے خوب مل رہا ہے جب کہ وہ مجھے چیزیں نہیں دیتا؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز اس کو نہیں دی گئی، اس کا جھوٹ موٹ اظہار کرنے والا، جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قالت امرأة للنبي -صلى الله عليه وسلم-: إن لها زوجة أخرى مع زوجها، وتحب أن تقول: إن زوجي أعطاني كذا وأعطاني كذا وهي كاذبة، لكن تريد أن تغيظ ضرتها، فهل عليها في ذلك إثم؟ فأخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن المتزين بما ليس عنده يتكثر بذلك، فهو صاحب زور وكذب.
575;يک عورت نے نبی ﷺ سے عرض کيا کہ: اس کی ايک سوکن ہے، اور وہ چاہتی ہے کہ اپنے سوکن سے کہے: ميرے شوہر نے مجھے فلاں فلاں چيزیں دی ہیں حالانکہ وہ اپنی بات میں جھوٹی ہے، لیکن اس سے اپنی سوکن کو تکلیف دے کر غصہ دلانا چاہتی ہے، تو کيا اس عمل کی وجہ سے اس پر کوئی گناہ ہے؟ تو نبی ﷺ نے بتلایا کہ: جس کے پاس کوئی چيز نہیں ہے اور وہ اسے بڑھا چڑھا کر بيان کرے تو وہ جھوٹھا اور دروغ گو ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6983

 
 
Hadith   1365   الحديث
الأهمية: لا ينبغي لصِدِّيق أن يكون لعّانًا


Tema:

صدّیق کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ بہت زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «لا ينبغي لصِدِّيق أن يكون لعَّانًا».

ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صدّیق کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ بہت زیادہ لعنت کرنے والا ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن الإكثار من اللعن ينافي كمال درجة الصديقية، وهي مرتبة تلي النبوة، فهي من أعلى المراتب التي يمكن أن يصل إليها المؤمن عند الله -تعالى-، ومن وسائل تحقيقها اجتناب اللعن.
576;ہت زیادہ لعنت کرنا صدیقیت کے درجے کے منافی ہے جو کہ نبوت کے بعد سب سے بلند ترین درجہ ہے جس سے بندۂ مومن اللہ تعالی کے قریب جا سکتا ہے، لعن وطعن سے بچنا اس درجہ کو پانے کے وسائل میں سے ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6984

 
 
Hadith   1366   الحديث
الأهمية: لا تلاعنوا بلعنة الله، ولا بغضبه، ولا بالنار


Tema:

آپس میں ایک دوسرے کے لیے نہ تو اللہ کی لعنت کی بد دعا کرو اور نہ اللہ کے غضب کی اور نہ جہنم میں جانے کی بد دعا کرو۔

عن سمرة بن جندب -رضي الله عنه- مرفوعاً: «لا تَلاعَنُوا بلعنة الله، ولا بغضبه، ولا بالنار»

سمرہ بن جنب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آپس میں ایک دوسرے کے لیے نہ تو اللہ کی لعنت کی بد دعا کرو اور نہ اللہ کے غضب کی اور نہ جہنم میں جانے کی بد دعا کرو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ينهى الحديث الشريف المؤمنين على أن يدعو بعضهم على بعض بأنواع من الدعاء، وهي لعنة الله وغضب الله وبالنار، ذلك لعظم شأن هذه الأدعية عند الله -تعالى-.
740;ہ حدیث مومنوں کو اس بات سے منع کر رہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف طرح طرح کی بدعائیں کریں یعنی اللہ کی لعنت بھیجیں اور دوسرے پر اللہ کے غضب کے نزول اور اس کے دوزخ میں جانے کی دعا کریں کیونکہ اللہ کے ہاں یہ بد دعائیں بہت بڑی ہیں۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6985

 
 
Hadith   1367   الحديث
الأهمية: إن العبد إذا لعن شيئا، صعدت اللعنة إلى السماء، فتغلق أبواب السماء دونها، ثم تهبط إلى الأرض، فتغلق أبوابها دونها، ثم تأخذ يمينا وشمالا، فإذا لم تجد مساغا رجعت إلى الذي لعن، فإن كان أهلا لذلك، وإلا رجعت إلى قائلها


Tema:

بندہ جب کسی شے پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف جاتی ہے۔ آسمان کے دروازے اس کے سامنے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر یہ زمین کی طرف اترتی ہے اور اس کے دروازے بھی اس کے لیے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر یہ دائیں بائیں جاتی ہے اور اگر کسی طرف اسے راہ نہ ملے تو پھر اس کی طرف لوٹ آتی ہے جس پر کی گئی ہو، اگر وہ اس لعنت کا سزاوار ہو تو ٹھیک وگرنہ لعنت کرنے والے ہی کی طرف لوٹ آتی ہے۔

عن أبي الدرداء -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إن العبد إذا لعن شيئًا، صَعَدَتِ اللعنةُ إلى السماء، فَتُغْلَقُ أبوابُ السماء دونها، ثم تَهْبِطُ إلى الأرض، فَتُغْلَقُ أبوابُها دونها، ثم تأخذ يمينًا وشمالاً، فإذا لم تجد مَسَاغًا رجعت إلى الذي لُعِنَ، فإن كان أهلا لذلك، وإلا رجعت إلى قائِلها»

ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بندہ جب کسی شے پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف جاتی ہے۔ آسمان کے دروازے اس کے سامنے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر یہ زمین کی طرف اترتی ہے اور اس کے دروازے بھی اس کے لیے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر یہ دائیں بائیں جاتی ہے اور اگر کسی طرف اسے راہ نہ ملے تو پھر اس کی طرف لوٹ آتی ہے جس پر کی گئی ہو، اگر وہ اس لعنت کا سزاوار ہو تو ٹھیک ورنہ لعنت کرنے والے ہی کی طرف لوٹ آتی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
العبد إذا لعن شيئا بلسانه فإن لعنته هذه تصعد إلى السماء، لكن أبواب السماء تغلق عندها،فترجع إلى الأرض، وتغلق أبواب الأرض أيضا عندها فلا تدخلها، ثم تذهب يمينًا وشمالاً، فإن لم تجد طريقًا أو مستقرًا، رجعت للشيء الملعون، فإن كان يستحق اللعنة استقرت عنده، وإلا رجعت لصاحبها اللاعن فأصابته.
576;ندہ جب اپنی زبان کے ذریعے لعنت کرتا ہے تو اس کی یہ لعنت آسمان کی طرف جاتی ہے لیکن آسمان کے دروازے اس پر بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر یہ زمین کی طرف لوٹتی ہے لیکن زمین کے دروازے بھی اس پر بند کر دیے جاتے ہیں اور یہ اس میں داخل نہیں ہو پاتی۔ پھر یہ دائیں بائیں جاتی ہے اور اگر کوئی راستہ اور ٹھکانہ نہ ملے تو اس شے کی طرف لوٹ آتی ہے جس پر لعنت کی گئی ہو۔اگر یہ شے لعنت کی مستحق ہو تو یہ اس پر پڑ جاتی ہے ورنہ لعنت کرنے والے کی طرف لوٹ جاتی ہے اور اس پر واقع ہو جاتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6986

 
 
Hadith   1368   الحديث
الأهمية: خذوا ما عليها ودعوها؛ فإنها ملعونة


Tema:

اس اونٹنی پر جو کچھ ہے اسے لے لو اور اسے چھوڑ دو، کیونکہ وہ لعنت زدہ ہے۔

عن عمران بن الحصين -رضي الله عنهما-، قال: بينما رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- في بعض أَسْفَارِه، وامرأة من الأنصار على ناقة، فضَجِرَتْ فلَعَنَتْهَا، فسمع ذلك رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: «خُذُوا ما عليها ودَعُوهَا؛ فإنها مَلْعُونَةٌ»، قال عمران: فكَأَنِّي أراها الآن تمشي في الناس ما يَعْرِضُ لها أحد".

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے کسی سفر میں تھے اور انصار کی ایک عورت اونٹنی پر سوار تھی، تو (اچانک) وہ اونٹنی بدکنے لگی تو اس عورت نے اس پر لعنت بھيجی۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے سن کر فرمایا: ”اس اونٹنی پر جو کچھ ہے اسے لے لو اور اسے چھوڑ دو، کیونکہ وہ ملعونہ (لعنت زدہ) ہے“۔ عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : گویا کہ میں اب بھی اس اونٹنی کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ لوگوں کے درمیان چل رہی ہے اور کوئی آدمی اس سے تعرض نہیں کر رہا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن عمران بن حصين -رضي الله عنهما- أن: امرأة من الأنصار كانت على بعير لها فتعبت منها وسأمت فقالت: لعنك الله، فسمع ذلك النبي -صلى الله عليه وسلم- فأمر أن يؤخذ ما عليها من الرحل والمتاع، ثم تصرف، فإنها قد لعنت.   قال عمران -رضي الله عنه-: فلقد رأيتها أي الناقة تمشي في الناس لا يتعرض لها أحد؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- أمر أن تصرف.
593;مران بن حصین رضی اللہ عنہ بيان کر تے ہيں کہ انصار کی ایک عورت اپنی اونٹنی پر سوار تھی تو وہ عورت اس اونٹنی کی وجہ سے تھک گئی اور اکتا گئی۔ چنانچہ اس عورت نے کہا کہ تجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے سن لیا تو آپ ﷺ نے حکم ديا کہ اس اونٹنی پر جو کجاوہ اور سامان ہےاسے لے ليا جائے، پھر اسے چھوڑ ديا جائے، کیونکہ اس پر لعنت بھیجی گئی ہے۔ عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس اونٹنی کو ديکھا کہ وہ لوگوں کے درمیان چل رہی ہے اور کوئی آدمی اس سے تعرض نہیں کر رہا ہے، کيونکہ نبی ﷺ نے حکم دے ديا تھا کہ اسے چھوڑ ديا جائے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6987

 
 
Hadith   1369   الحديث
الأهمية: لا تصاحبنا ناقة عليها لعنة


Tema:

ہمارے ساتھ وہ اونٹنی نہ چلے، جس پر لعنت کی گئی ہے

عن أبي بَرْزَةَ نَضْلَةَ بن عبيد الأَسلمي -رضي الله عنه- قال: بينما جاريةٌ على ناقة عليها بعض مَتَاعِ القوم، إذ بَصُرَتْ بالنبي -صلى الله عليه وسلم- وتَضَايَقَ بهم الجبل فقالت: حَلْ، اللهم الْعَنْهَا، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «لا تُصَاحِبْنَا ناقةٌ عليها لَعْنَةٌ».

ابو برزہ نضلہ بن عبید اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ایک دفعہ ایک نوجوان لڑکی اونٹنی پر سوار تھی، اس پر لوگوں کا کچھ سامان تھا، اچانک اس نے نبی ﷺ کی طرف دیکھا، اس وقت لوگوں سے پہاڑ تنگ پڑ گیا تھا۔ چنانچہ اس لڑکی نے کہا:حَلْ (اونٹ کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے کلمۂ زجر) اے اللہ! اس پر لعنت فرما! تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ اونٹنی ہمارے ساتھ نہ رہے، جس پر لعنت کی گئی ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كانت فتاة صغيرة السن على ناقة عليها بعض الأمتعة والأغراض، فرأت النبي -صلى الله عليه وسلم-، وقد تضايق بالقوم الذين فيهم النبي -صلى الله عليه وسلم- الجبل، فأرادت أن تسرع الناقة، فقالت لها: حل -وهي كلمة زجر للإبل- لتسرع في السير، ثم لعنتها، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: لا تسير معنا ناقة عليها لعنة.
575;یک کم سن دوشیزہ ایک اونٹنی پر سوار تھی، جس پر کچھ ساز و سامان تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو دیکھا، جب کہ نبی ﷺ کے ساتھیوں کی وجہ سے پہاڑ تنگ ہو گیا تھا، تو اس نے اونٹنی کی رفتار کو تیز کرنا چاہا۔ اس نے اونٹنی سے کہا: حَلْ (اونٹ کو تیز رفتار کرنے کے لئے کلمۂ زجر) تاکہ تیز رفتاری سے چلنے لگے، پھر اس پر لعنت کر ڈالی، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ہمارے ساتھ وہ اونٹنی نہ چلے، جس پر لعنت کی گئی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 6988






© EsinIslam.Com Designed & produced by The Awqaf London. Please pray for us